میاں طفیل محمد


تحریکِ اسلامی کے کارکنوں کو ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہم دین کا یہ کام دنیاوی کامیابی کی شرط کے ساتھ نہیں کررہے ہیں۔ ۱۹۴۱ء میں جن لوگوں نے اس کام کا آغاز کیا تھا، پورے غیرمنقسم برعظیم پاک و ہند میں ان کی کُل تعداد ۷۵ تھی۔ ان ۷۵ انسانوں نے اس شعور کے ساتھ اور اس بات کو پوری طرح سمجھ کر یہ کام شروع کیا تھا کہ چاہے ہماری تعداد ۷۵ سے بڑھ کر ۷۶ بھی نہیں ہوتی تو نہ ہو، یہی نہیں بلکہ ان میں سے بھی اگر کچھ آدمی ہمیں چھوڑ جاتے ہیں تو چھوڑ جائیں، بہرحال ہمیں ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ فریضہ ہرقیمت پر انجام دینا ہے۔

پھر دیکھیے کہ اگست ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کے بعد ہماری تنظیمی حالت اور عددی قوت کیا تھی؟ لیکن یہ حالت بھی ہمارے کام کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی اور ہم نے اسے اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہوئے پاکستان میں اسلامی دستور کا مطالبہ سامنے رکھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک ہم ہتھکڑیوں، زنجیروں، جیل کی سلاخوں، پھانسی کے پھندوں اور کتنے ہی مرحلوں سے گزرے ہیں، لیکن ہرمرحلے پر اللہ تعالیٰ نے اس دعوت کے مخالفوں کو رُسوا کیا، ہمارے قدم آگے بڑھے اور باری تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں دین کے فروغ کا ایک ذریعہ بننے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس لیے پہلی مشکلات اور آزمایشوں کے مقابلے میں موجودہ مراحل کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

اس چیز کو ایک اٹل اور فطری قاعدۂ کلیہ کی حیثیت سے ذہن نشین کرلیجیے کہ جب تک باربار آزمایشوں بلکہ شکستوں تک سے دوچار نہ کیا جائے، وہ قابلیت اور صلاحیت پیدا نہیں ہوسکتی جو اقامت دین کے کام کے لیے مطلوب ہے۔ مصائب سے گزرے بغیر ہم ذمہ داریوں کا بوجھ اُٹھانے کے قابل نہیں ہوسکتے۔ آزمایشوں کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ ہم پر کسی بھاری ذمہ داری کا بوجھ ڈالنا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ بار بار ہمیں ابتلا و آزمایش اور مصائب میں ڈال رہا ہے۔

۱۹۶۴ء میں جماعت پر پابندی پر جو ردعمل سامنے آیا، سیاسی جماعتوں، وکلا کی تنظیموں اور سیاسی شعور رکھنے والے لوگوں نے جس طرح اس اقدام کے خلاف زبردست احتجاج کیا، غیرممالک کے اہم ترین اخبارات نے جس طرح اس کے خلاف لکھا اور اندرون ممالک احتجاج کے علاوہ بیرون ملک سے جس طرح محضرنامے بھجوائے گئے، اس سے بجاطور پر جماعت کے وقار اور اس کے ٹھوس مقام کا پتا چلتا ہے۔ پھر جماعت کے خلاف کشمیر کے ’فتویٰ‘ سے لے کر صدرایوب خاں صاحب کے ایک وزیرداخلہ تک کے اعتراضات و الزامات کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح عدالت میں لانے کا بندوبست کیا اور اس سے سارے ملک پر یہ بات، ملک کی سب سے بڑی عدالت کی سند کے ساتھ واضح ہوگئی کہ قانون توڑنے والی جماعت نہیں ہے، خود حکمران ہیں۔ پھر قومی آفات کے موقعوں پر عوام نے جماعت اسلامی پر جس طرح اعتماد کا اظہار کیا ہے، اس سے بھی یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ عوام کی نظر میں مخالفین کی طرف سے جماعت پر لگائے گئے الزامات کی کیا حیثیت ہے۔ اسی طرح تبلیغی وفود نے عوام سے جو ملاقاتیں کی ہیں، ان سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عوام کے رجحانات کیا ہیں۔ انھی وجوہ کی بنا پر حکمران اور مخالفین نے بوکھلاکر صرف ۱۹۶۴ء میں جماعت کے خلاف ۷۳کتابیں شائع کیں مگر وہ پرکاہ جیسا وزن نہ پاسکیں۔

ہم یہ کام اس لیے نہیں کر رہے ہیں کہ اگر کامیابی ہوئی تو کام کرتے رہیں گے، ورنہ ہمت ہار کر کام کو چھوڑ دیں گے۔ دراصل ہم اپنی پوری نیک نیتی کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب کی نجات کا انحصار ہی اس پر ہے کہ ہم کسی نقصان کی پروا کیے بغیر، اپنے جسم و جان اور مال و دولت کو اس فرض کی ادایگی اور اس جدوجہد میں لگادیں، کھپا دیں۔

دوسری طرف بتدریج میدان ہموار ہو رہا ہے۔ ہماری جدوجہد کی مثال سڑک کوٹنے والے اس انجن کی سی ہے، جو روڑوں کو ہموار کرتا ہوا دبدبے کے ساتھ مسلسل آگے بڑھتا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی نصرت کا قانون یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے کھوٹے اور کھرے کو الگ الگ کردیتا ہے، تاکہ معلوم ہوجائے کہ کون مخلص ہے اور کون محض دنیاوی مفادات کی خاطر منافقت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ قرآن حکیم بتاتا ہے کہ اللہ کی نصرت اس وقت آتی ہے جب تمام دنیاوی سہارے مٹ جائیں اور بظاہر کوئی تدبیر کام کرتی نظر نہ آئے۔ تعاقب میں فرعون ہو اور سامنے دریا ہو، تب رحمت خداوندی جوش میں آجاتی ہے! مگر اس کے لیے شرط ہے: ایمان، اخلاص، تسلسل، تنظیم اور تربیت۔

دوسری طرف آپ دیکھیں کہ بہت سے مواقع پر جب ہمیں میدان سے ہٹا دیا گیا تھا  اللہ تعالیٰ نے غیب سے ہماری مدد فرمائی۔ قرارداد مقاصد پاس ہوئی تو اس وقت جماعت کی مرکزی قیادت جیلوں میں قید تھی۔ ۱۹۶۴ء میں جب جماعت پر پابندی عائد کی گئی تو ملک کے تمام اہم قانون دان جماعت کے دفاع کے لیے متحد ہوگئے اور پاکستان کی سب سے بڑی عدالت، سپریم کورٹ نے جماعت کی براء.ت کا فیصلہ بھی ایسے عالم میں دیا کہ تمام رہنما آہنی سلاخوں کے اس پار کھڑے تھے۔ پس اللہ کی نصرت آتی رہی ہے اور آیندہ بھی آئے گی، لیکن شرط یہ ہے کہ ہمارے قدم نہ ڈگمگائیں اور ہمارے دلوں میں کوئی کھوٹ نہ ہو، اور ہم مایوسی و بے حسی کو ختم کرتے ہوئے اپنی پوری طاقتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ یہ عظیم جدوجہد جاری رکھیں، اور اگر ناکامی ہوئی تو اس کا سبب   بے حسی اور بے عملی ہوگی۔

جماعت اسلامی کا مقصد پوری زندگی کے نظام کو توحید پر قائم کرنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پوری انسانی زندگی اللہ کی بندگی کے گرد گھومے اور ہرشعبے میں، ہرمعاملے میں، ہر وقت اور ہرجگہ اسی کی اطاعت کی جائے اور ہرفرد خواہ وہ باپ ہو یا بیٹا، بیوی ہو یا شوہر، بوڑھا ہو یا نوجوان، ہرحیثیت سے اسلام پر پوری طرح عمل پیرا ہو اور اسلامی زندگی کا مکمل نمونہ بن جائے___ اس چیز کو آپ پیشِ نظر رکھیں تو پھر آپ کو کبھی یہ پوچھنے کی ہرگز ضرورت پیش نہیں آئے گی کہ: ’’ہم کیا کریں؟‘‘ آپ جہاں ہیں اور جس حیثیت میں ہیں، یہ دیکھیں کہ بحیثیت مسلم میرا طرزِعمل کیا ہونا چاہیے۔ آپ کا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ آپ کو اپنے متعلق بتانے یا زبان کھولنے کی ضرورت محسوس نہ ہو بلکہ آپ کا کردار ہی آپ کی نمایندگی کرے۔ سیکڑوں صوفیہ سلطانوں اور بادشاہوں کے دور میں ہندستان آئے تو ان کے پاس نہ خزانے تھے نہ جاگیریں اور نہ دیگر وسائل تھے، مگر ان کے پاس کردار کی دولت تھی جس کے بل بوتے پر انھوں نے ایمان کی شمعیں اور ہدایت کے چراغ روشن کیے۔ یہی معاملہ افریقہ، وسطی ایشیا، ایران اور انڈونیشیا کے ہزاروں جزیروں تک دکھائی دیتا ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ تحریک اسلامی کے کارکن بھی اپنی بستیوں میں اسلام کے ایسے ہی چراغ ثابت ہوں۔ اب تک اس تحریک کے جو اثرات پھیلے ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ جماعت نے اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ اس کے کارکنوں کی زندگیاں اسلام، ایمان اور شریعت کے تقاضوں کے مطابق ہوں، ان کے خلاف نہ ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اسلام کی تبلیغ اور نشرواشاعت کام تو سیکڑوں اور ہزاروں بلکہ لاکھوں حضرات درس و تدریس اور تقریروں کے ذریعے مسلسل کر رہے ہیں، لیکن اسلام کا اثر بڑھنے کے بجاے گھٹتا ہی چلا آیا ہے۔ اس کی حقیقی وجہ یہی ہے کہ ان لوگوں نے تقویٰ کو اپنی ذات تک محدود رکھا اور اپنے مریدوں اور پیروکاروں کے اخلاق و کردار کی طرف بنیادی توجہ کبھی نہیں دی۔ پس قول و فعل کی ہم آہنگی کا اہتمام ہی وہ چیز ہے جس کے سبب جماعت کے اثرات پھیلے ہیں۔ اس کا اہتمام جس قدر زیادہ کیا جائے گا اسی قدر جماعت کی دعوت پھیلے گی، ان شاء اللہ!

توجہ طلب امور: اپنے قول و فعل میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے آپ کو بعض امور کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے:

  •  ان میں پہلی چیز علم دین ہے، یعنی ہرشخص خواہ وہ اَن پڑھ ہی کیوں نہ ہو، اسے دین کا اتنا علم ضرور ہونا چاہیے کہ وہ فرائض سے واقف ہو اور حرام و حلال کی تمیز کے بارے میں اسے پورا علم ہو۔ پھر اسی چیز کا ایک لازمی تقاضا یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے علم و حکمت پر مکمل یقین اور بھروسا ہونا چاہیے۔ اگر فی الواقع انسان کو اللہ پر پورا اعتماد ہو تو پھر کیسی ہی مصیبت آئے یا کتنا بڑا نقصان ہو، اسے کوئی تردّد نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ پر ایسا بھروسا انسان کو اپنے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی شکست دینے کے قابل بنا سکتا ہے۔ وہ جس حالت میں بھی ہو راضی بہ رضاے الٰہی ہوتا ہے۔
  •  اخلاق کے لیے کوئی ایسا نسخہ نہیں جسے استعمال کرنے سے انسانی سیرت و کردار یکایک بلند ہوجائے، بلکہ جس طرح ایک مریض مرض سے اُٹھنے کے بعد جسمانی طاقت کی بحالی کے لیے   دو دو قدم چلتا ہے اور حصولِ صحت کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح انسان کو اخلاق و کردار کی بلندی کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر نمازوں کی ادایگی میں سُستی یا کاہلی پائی جاتی ہو تو طبیعت کو نماز پڑھنے پر مجبور کریں تاکہ وہ نیکی کی عادی ہوجائے۔ آپ ایسا کرتے رہیں گے تو کچھ عرصے بعد نماز آپ کی عادتِ ثانیہ بن جائے گی اور پھر اگر آپ نماز نہ پڑھیں گے تو طبیعت بے چین ہوجائے گی۔ یہ چیزیں آپ کو اپنے اندر پوری طرح راسخ (cultivate) کرنی پڑیں گی۔ اگر آپ اپنے نفس سے لڑ کر اُس پر قابو پائیں گے تو اللہ بھی آپ کی مدد کرے گا۔ اس سلسلے میں نماز اور دوسرے فرائض کی پابندی کے علاوہ اطاعت ِامر اور خود اپنا کڑا محاسبہ کرتے رہنے کی ضرورت بھی ہے۔
  •  جماعت کے ہفتہ وار اجتماعات میں شریک ہونا انتہائی ضروری ہے۔ جماعت کو درشنی پہلوانوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ لوگ مطلوب ہیں جو عملی طور پر بھی کسی صورت جماعت کا ساتھ دے سکیں، اور ہفتہ وار اجتماعات میں شرکت اس کی ابتدائی صورت ہے۔ جماعت میں اہلِ علم حضرات ہیں۔ انھیں جماعت کے منصوبے کو سامنے رکھ کر اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں جماعت کی کیا خدمت کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر کارکن کو رات کو سونے سے پہلے اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ دن میں مجھ پر جو ذمہ داری ڈالی گئی تھی، کہیں میں نے ادایگی میں کوتاہی تو نہیں کی؟ امراے اضلاع اور مقام کو اپنے کارکنوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر وہ اپنے فرائض میں سُستی یا کوتاہی کریں تو انھیں اس طرح تنبیہ کریں جیسے ایک باپ بیٹے کو یا بھتیجے اور بھانجے کو کرتا ہے، اور کارکنوں کا بھی فرض ہے کہ اگر وہ اللہ کی رضا کے لیے آگے بڑھے ہیں تو بُرا مانے بغیر اپنی ان کمزوریوں کا ازالہ کریں۔
  •  آخری بات جو بڑی اہم اور آپ کی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنی ذات کے علاوہ اپنے اہلِ خانہ کو بھی اللہ کے عذاب سے بچانے کی کوشش کریں، اور اس کام کو کیے بغیر آپ اللہ کے عتاب سے نہیں بچ سکتے۔ کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کی بیوی بچے اور وہ عزیز ہستیاں جن کے لیے آپ اکثر اوقات اُس کام کو بھی پسِ پشت ڈال دیتے ہیں، جسے آپ نے اپنا مقصد زندگی قرار دے رکھا ہے، عذابِ الٰہی سے بچ جائیں۔ یہ یقینا عقل و شعور کا کوئی اچھا مظاہرہ نہ ہوگا کہ ہم لوگوں کو تو راہِ راست کی طرف بلانے کے لیے مارے مارے پھرتے رہیں، مگر اپنے گھر کی کوئی فکر نہ کریں۔ آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آپ کے متعلقین میں کوئی شخص ایسا نہ رہ جائے جو یہ نہ سمجھ لے کہ یہ کام کیا ہے ،چاہے وہ آپ کا مخالف ہی کیوں نہ ہو، مگر آپ کی طرف سے  ایک بار اس پر یہ نصب العین واضح کرنا بہرحال ضروری ہے۔ البتہ جن سے آپ پوری طرح مایوس ہوجائیں اُنھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی خدمت کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے، آمین! (آئین، تربیت نمبر، ۱۷؍اگست ۱۹۶۵ء)
  •  سوال: محترم میاں صاحب‘ آپ نے پہلی بار امام حسن البنا کا نام کب اور کیسے سنا ؟
  •  جواب: میاں طفیل محمد صاحب: یہ ۱۹۴۹ء کے اوائل کی بات ہے‘ جب میں‘ مولانا مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے ہمراہ ملتان جیل میں قید تھا‘ اسی زمانے میں ان کی شہادت ہوئی۔ اسی وقت ہمیں ان کے بارے میںیہ معلومات حاصل ہوئی تھیں کہ سربازار ان کو گولی مار کر شہید کردیا گیا ہے۔ اُس وقت تک ہمارے اور ان کے درمیان براہ راست معلومات اور رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔
  •  اخوان المسلمون کے جماعت سے پہلے رابطے کے بارے میں آپ کچھ بیان فرمائیں۔
  •  ہمیں خود تو معلوم نہیں تھا کہ اخوان کو کس زمانے میں ہمارے بارے میں معلومات ملیں‘ البتہ کویت کے ایک تاجر جو امام البنا کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے‘ جناب عبدالعزیز المطوع [م: ۱۹۹۶ء] نے ہمیں بتایا کہ: ’’۴۲-۱۹۴۱ء کے زمانے میں بمبئی میں میرا کاروبار تھا اور میں بمبئی ہی میں زیادہ وقت گزارتاتھا۔ اسی زمانے میں، ترجمان القرآن بھی پڑھتا تھا‘ اور اس کے مضامین کو عربی میں ترجمہ کرکے مرشدعام حسن البنا کوقاہرہ بھیجا کرتاتھا‘‘۔ تاہم حسن البنا کے بارے میں تو ان کی شہادت کے موقعے پر ہی پاکستان کے لوگوں کو زیادہ تر معلومات حاصل ہوئیں اورمولانا مودودی کو بھی اسی زمانے میں زیادہ تفصیلات ملی تھیں۔
  •  کیا عبدالعزیز مطوع  اُردو جانتے تھے؟
  •  بمبئی میں ان کا کاروبار تھا اور وہ اُردو جانتے تھے۔
  •  عبدالعزیز مطوع کا اس دور میں براہ راست جماعت یا آپ یا مولانا مودودی سے کوئی رابطہ نہیں ہواتھا ؟
  •   نہیں اس زمانے میں براہ راست رابطہ نہیں ہوا تھا۔
  •  مولانا محترم سے عبدالعزیز المطوع کی ملاقات ہوئی ہے؟

l ۱۹۴۷ء کے بعد کے زمانے میں ملاقات رہی۔ عبدالعزیز مطوع اور ان کے چھوٹے بھائی عبداللہ علی مطوع [م: ۲۰۰۶ء] بڑے مخیر انسان تھے۔ عبداللہ علی مطوع مولانا مودودی کی تعزیت کے لیے ۱۹۷۹ء میں لاہور تشریف بھی لائے تھے۔ ان سے تفصیلی ملاقاتیں رہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک روز انھوں نے اپنی چیک بک میرے سپرد کرتے ہوئے کہا :’’یہ آ پ کے حوالے ہے۔ آپ جوچاہیں ان کا استعمال کریں‘‘۔

میں نے ان سے کہا: ’’میں آپ سے کچھ اور تونہیں کہتا ہوں۔ البتہ منصورہ میں ہمارے دفاتر کے ہمسایے میں ثنائی فلم سٹوڈیو ہمارے سرپر سوار ہے‘اس سے ہمیں بہت زیادہ تکلیف ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگ اس کو بیچنا بھی چاہتے ہیں۔ اگر اس سلسلے میں آپ کوئی مدد کرسکیں تو میں آپ کا شکرگزار ہوں گا ‘‘۔ انھوں نے جواب میںکہا :’’ اس کا سودا کرلیں اور جتنا اس کا عوضانہ ہو وہ مجھے بتادیں‘‘۔چنانچہ ۵۷ لاکھ روپے میں متعلقہ ٹرسٹ نے ثنائی اسٹوڈیوکی یہ بلڈنگ خرید لی‘  اس کی بیش تر ادایگی عبدالعزیز مطوع اور عبداللہ علی المطوع نے کی۔ اس اسٹوڈیوکے بڑے ہال میں منصورہ ہسپتال،پروجیکشن ہال میں منصورہ آڈٹیوریم ،جب کہ لیبارٹری میں ادارہ معارف اسلامی کا دفتر اور ایک بڑی لائبریری قائم کی گئی۔

  •  امام البنا کی شہادت کے بعد‘ اخوان سے رابطہ کیسے ہوا؟
  •  قیامِ پاکستان کے بعد جماعت کے شعبہ عربی کے سربراہ مولانا مسعود عالم ندوی صاحب نے جب عرب ممالک کا کئی ماہ کا دورہ [۲۸ اپریل -۱۳ دسمبر ۱۹۴۹ء] کیا تھا ، اس وقت انھوں نے حسن البنا اوراخوان المسلمون کے بارے معلومات حاصل کی تھیں اور عرب کے جو اصحاب علم و فہم تھے، ان کے ساتھ رابطہ بھی قائم ہوا تھا۔ مسعود عالم ندوی صاحب نے اپنی کتاب دیار عرب میں چند ماہمیںان مشاہدات اور روابط کا ذکر کیاہے۔
  •  مصر میں اخوان پر توڑے جانے والے مظالم کے باعث حسن البنا شہید کے داماد سعید رمضان  جب پاکستان آئے تھے ان سے آپ کی کوئی ملاقات ہوئی ؟
  •  جی ہاں‘ سعید رمضان مرحوم [م: ۱۹۹۵ء] سے ملاقاتیں رہی ہیں۔
  •  مولانا مودودی سے سعید رمضان کی ملاقات ہوئی تھی؟
  •  بہت سی ملاقاتیں ہوئیں۔مولانا ان سے محبت کرتے اور عقیدت رکھتے تھے۔
  •  آپ نے اخوان پر مظالم کے خاتمے کے لیے حکومت مصر کے ساتھ رابطہ کرکے اس آزمایش سے کچھ نکالنے کے لیے کاوش کی تھی ؟
  •  میں نے ازخود مصری حکومت سے کوئی رابطہ نہیں کیاتھا،بلکہ حکومت مصر نے مجھ سے رابطہ کیاتھا۔ یہاں پاکستان میں مصر کے سفیر نے مجھ سے متعدد ملاقاتیں کیں۔
  •  یہ کب کا ذکر ہے ؟
  •  یہ ۱۹۸۲ء کا زمانہ تھا۔ اسلام آباد میں مصر کے سفیرصاحب نے مجھ سے ملاقات کے دوران میں کہا : ’’ہماری حکومت چاہتی ہے کہ آپ مصر کا دورہ کریں۔ آپ کو ہم وزیر کے درجے کا پروٹوکول دیں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ اخوان کے ساتھ رابطے کی کوئی صورت پیدا ہو‘‘۔  حسنی مبارک صاحب ہی اس وقت مصر کے صدر تھے۔میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:    ’’اس خدمت کے لیے میں تیار ہوں‘‘۔ چنانچہ میرے ہمراہ پروفیسر برہان الدین ربانی صاحب، پروفیسر خورشید احمد صاحب اور خلیل احمدحامدی صاحب پر مشتمل وفد مصر گیا۔ مصری حکام نے کھلے دل سے ہماری میزبانی کی۔

اس قیام کے دوران میں صدرحسنی مبارک سے بھی ہماری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا: ’’آپ اخوان کے قائد عمر تلمسانی سے ملیں اور ان کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ تصادم کے بجاے کوئی راستہ نکالیں اور اس طرح ایک دوسرے کو گرانے کی یہ صورت ختم ہو‘‘۔ چنانچہ میں نے اخوان کے تیسرے مرشدعام عمر تلمسانی سے ملاقاتیں کیں ، اور ان سے کہا :’’ بھائی‘ یہ جو صورت ہے‘ یہ نہ آپ کے لیے مفید ہے اور نہ ان کے لیے مفید ہے۔ کوئی ایساراستہ نکالنا چاہیے کہ وہ بھی کچھ ڈھیلے پڑیں اورآپ بھی کچھ اپنی سختی کو کم کریں، تا کہ دعوتی سرگرمیوں کے لیے بہتر صورت پیدا ہوسکے‘‘۔ اس مذاکراتی عمل کے نتیجے میں کوئی براہ راست ملاقات عمر تلمسانی اور حسنی مبارک کے درمیان تو نہیں ہوئی،تاہم ہمارے ذریعے غائبانہ طور پر اُن دونوں کی بات، ایک دوسرے تک پہنچی۔

اپنی ملاقات میں‘ مَیں نے صدر حسنی مبارک سے کہا:’’معاملات کو مثبت رخ دینے کے لیے آپ اخوان کو اخبار نکالنے کی اجازت دے دیں‘‘۔ حسنی مبارک اس پر راضی ہوگئے اور کہا :’’وہ اس پرچے میں زیادہ سختی نہ کریں، ہم بھی کوئی ایسی بات نہیں کریں گے۔وہ کوئی اخبار نکال کر کام شروع کردیں‘‘۔ چنانچہ اس طرح سے انھوں نے اخوان کو اخبار نکالنے کی اجازت دے دی۔   اسی سفر کے دوران میں عمر تلمسانی کے علاوہ مصطفی مشہور سے قاہرہ میں میری ملاقاتیں ہوئیں۔   عمر تلمسانی کے بعد حامد ابو النصر مرشدعام بنے تھے‘ وہ بھی ان ملاقاتوں میں موجود تھے۔

  •  مصر میں آپ کے مذاکرات میں اخبار نکالنے کے علاوہ دیگر کون سے نکات زیر بحث  آئے؟
  •  بس ہم نے ان کو یہی سمجھایا ،بھائی‘ وہ بھی کچھ نرم پڑیں اورآپ بھی کچھ نرم پڑیں۔ اس طرح سے کہ اخوان کو بھی کام کرنے کی آسانی ملے اور حکومت بھی اپنے مظالم سے باز آئے۔
  •  اخوان کے گرفتارکارکنوں کی رہائی کا معاملہ بھی یقینًا زیر غور آیا ہوگا؟
  •  بات عمومی نوعیت کی تھی‘ کہ رویوں میں تبدیلی آنا چاہیے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے زیرحراست افراد پر گفتگو نہیں ہوئی۔
  •  کیا یہ معاملات کسی معاہدے کی صورت میں طے ہوئے تھے؟
  •  تحریری تو نہیں ، لیکن باہم اعتماد کے ساتھ یہ چیزیں طے ہوئی تھیں۔ بات یہ ہے کہ اخوان نے تو ہمیشہ سے مذاکرات کے عمل کو خوش آمدید کہا ہے۔ ظلم تو حکومت کی طرف سے ہوتا آیا ہے۔ اسلامی تحریکوں کا یہ اصول کہ ہم پر امن جدوجہد کریں گے اور یہ فہم و شعور کہ ہم پُرامن رہیں گے میرا خیال ہے کہ اسلامی تحریکوں پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔
  •  اس کے بعد صدر حسنی مبارک یا حکومت مصر کے ساتھ آپ کاکوئی رابطہ نہیں ہوا ؟
  •  نہیں اس کے بعد کم ازکم میرا کوئی رابطہ مصری حکومت سے نہیں ہوا۔
  •  برہان الدین ربانی صاحب کو وفد میں آپ  نے شریک کیا تھا؟
  •  جہاں تک یاد پڑتا ہے کہ مصری حکومت ہی نے ان کو بھی دعوت دی تھی۔
  •  کتنے دن آپ مصر میں مصروف رہے ؟
  •  غالباً پانچ چھے دن رہے تھے ،جس کے بعد میں اور خلیل صاحب توکینیا چلے گئے جب کہ خورشید صاحب واپس پاکستان آگئے۔ کینیا میں ہم ۱۲‘۱۳ دن تک رہے‘ جہاں عبداللہ علی مطوع صاحب نے کئی مساجد تعمیر کرائی تھیں۔ ہم نے وہ مساجد اور ان کے دیگر رفاہی پراجیکٹ دیکھے۔
  •  پُرامن جدوجہد اور مسلح جدوجہد  میں آ پ کیا فرق دیکھتے ہیں۔ دونوں کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟
  •   مولانا مودودی اور امام البنا نے دعوتِ دین اور اقامتِ دین کے لیے جو راستہ ہمیں دکھایا ہے‘ وہ یہی ہے کہ پرامن اور بغیر تشدد کے تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے۔ خفیہ طریقوں سے آگے بڑھنے کے بجاے کھلے عام سرگرمیاں کی جائیں۔ افہام وتفہیم کا راستہ ہی درحقیقت کامیابی کا راستہ ہے اور اسی سے آگے بڑھنے کا کوئی راستہ بن سکتا ہے۔تشدد اور مسلح کارروائیوں کے ذریعے سے کام خراب توہوسکتا ہے ، بنتا نہیں ہے۔تشددکے واقعات کو مدمقابل قوتیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں اور اندھادھند ظلم و زیادتی کرتی ہیں۔ جب کہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کے ہاتھ میں سواے تباہی اور انتشار کے کچھ نہیں آتا۔
  •  فلسطین میں اخوان کے جہاد کے حوالے سے کوئی بات آپ فرمائیں گے؟
  •  اخوان نے جہاد فلسطین میں بہت زبردست کردار ادا کیا ہے۔ بڑی قربانیاں ہیں    ان کی، بہت سارے لوگ شہید ہوئے اور جگہ جگہ سے انھوں نے جہاد میں حصہ  لینے کے لیے رضاکار بھیجے۔ اس اعلیٰ درجے کی تنظیم کوجو عرب ممالک میں مقبولیت حاصل ہوگئی تھی‘ اسی وجہ سے مغربی سامراج کے آلہ کار‘ کمیونسٹ‘ عرب قوم پرست اور پھر وہاں کافوجی ڈکٹیٹرجمال ناصر‘ وغیرہ ان کے دشمن بن گئے تھے۔ ناصر نے اخوان کے کارکنوں، جن میں مرد، نوجوان اور خواتین شامل ہیں، ان پر بے انتہا ظلم کیا۔ انھوں نے جتنی سختیاں برداشت کی ہیں، میرا خیال ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ نہ اس قدر بڑے پیمانے پرایسی صورت حال سے کسی کو سابقہ پیش آیااور نہ کسی نے اتنی تکالیف اور مشکلات برداشت کیں۔ بلاشبہہ اخوان نے راہ عزیمت کی تاریخ میںکمال درجے کی مثال قائم کی۔

ان تمام مظالم کے باوجود اخوان کی قیادت اور اس کے کارکنوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ان سے وابستہ مردوں،عورتوں اور نوجوانوں نے ان تکلیفوں اور اذیتوں کا بڑی جرأت اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ زمین میں گاڑ کر ان بے گناہوں پر کتے تک چھوڑے گئے۔ حکمرانوں کے مظالم کبھی کسی تحریک اور فکرکو ختم نہیں کرسکتے۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی اور ان سے پیش ترانبیا پر بھی ظلم ہوئے ہیں اور وہ جواب میں اتنے ہی زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔

یہاں بھی آپ دیکھیں‘ الحمدللہ زیادہ مضبوط تو جماعت اسلامی ہی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اور مسلمانوں کو یہ قوت اور ہمت عطا فرمائی ہے کہ یہ ایسی صورت حال کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس باقی تحریکیں چند دن کے لیے اٹھتی ہیں، زور دکھاتی ہیں اور اس کے بعد ختم ہوجاتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اخوان جب سے شروع ہوئے مسلسل چل رہے ہیں۔ مولانا مودودی نے بھی جو تحریک شروع کی ہے الحمدللہ وہ بھی مسلسل آگے ہی بڑھ رہی ہے‘ پیچھے نہیں ہٹ رہی۔

  •  مصر میں جب اخوان پر حکومت نے  ہرراستہ بند کردیا توایک گروہ اخوان کے مرکزی دھارے سے الگ ہو کر ردعمل میں مسلح راستے پر چل پڑا کہ: حکمران طبقے ویسے بھی ہمیں مار رہے ہیں تو کیوں نہ انھیں مارکر مریں ؟
  •  بلاشبہہ سیاسی ، علاقائی اور مذہبی جماعتوں کے اندر کچھ تشدد پسند لوگ اپنی جگہ بنا لیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ سختی کا جواب سختی میں ہے اور اسی راستے کام آگے بڑھے گا۔ حالانکہ آنکھیں بند کرکے یہ نتیجہ نکالنا کوئی درست طرز عمل نہیں ہے۔ ایک تعمیری اور اصلاحی تحریک کو دراصل اپنے اصل ہدف‘ اپنے کام کے پھیلائو اور اس معاشرے کے احوال وظروف کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا چاہیے۔
  •  امام البنا کی شخصیت ، زندگی اور  تحریک کا جائزہ لیں تو آپ کے ذہن میں ان کا کیا خاکہ بنتا ہے ؟
  •  مولانا سید ابوالاعلیٰ کی طرح مرشد عام حسن البنا شہید بھی درحقیقت ایک فنا فی اللہ انسان تھے۔ ان کا جو بھی دعوتی،تحریکی اور اجتماعی کام تھا‘ اس میں تشددکا کوئی عنصر شامل نہیں تھا۔ اپنی زندگی میں انھوں نے کبھی بھی اپنے ساتھیوں کواس راستے پر نہیں ڈالا۔ وہ کھلے عام دعوت‘ تزکیے‘ خدمت اور راے عامہ ہموار کرنے کے راستے پر گام زن رہے۔ تاہم جہاد فلسطین اور نہرسویز پر سے برطانیہ کے قبضے کوختم کرانے کے لیے انھوں نے کھلے عام اعلان کرکے رضاکاروں کی تنظیم اور فکری تربیت کا کام کیا تھا‘ جسے مغربی مصنفین اور سیاسی قائدین نے اپنے غاصبانہ قبضے کے برعکس دوسرا نام دیا۔ اسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مولانا مودودی اور حسن البنا‘ مسلم ممالک کے اندر ایسی کسی کارروائی کے طرف دار نہیں تھے جو تشدد اور انارکی کی طرف لے جاتی ہو۔
  •  اخوان کے  نظام تربیت کے بارے میںآپ کی کیا راے ہے؟
  •  اخوان کے طریق تربیت میں ایک طرح سے صوفیانہ اثرات بھی موجود رہے ہیں۔  ان کے برعکس مولانا مودودی کا طریقہ یہ رہا ہے کہ انسان کے فہم کو درست کیا جائے۔ ایمان اور جواب دہی کے احساس کی حقیقت کو انسان اپنے اندرجذب کرلے اورکسی حالت میں بھی اس سے نہ ہٹنے پائے۔ سختی میں بھی اور نرمی میں بھی‘ کسی بھی حالت میں زیادتی نہ کی جائے۔
  •  مولانا نے کبھی یہ ہدایت فرمائی کہ اخوان کا لٹریچر اردو میں آنا چاہیے، یا اس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟
  •  مولانا مودودی نے اخوان سے وابستہ حضرات کی تحریروں کے ترجمے کی حوصلہ افزائی فرمائی ، اور بعض کتب کے ترجمے بھی کرائے، مثلاً عبدالقادر عودہ شہیدکی معروف کتاب التشریع الجنائی فی الاسلام (اسلام کا قانونِ فوج داری)کے  ترجمے کے لیے مولانا مسعود عالم ندوی صاحب سے کہا اور پھر متعدد کتابوں کے ترجمے خلیل احمد حامدی مرحوم اور پروفیسر عبدالحمید صدیقی مرحوم نے کیے‘ جنھیں مولانا مودودی نے اپنے  ماہ نامے ترجمان القرآن میں بڑے تسلسل سے شائع کیا۔ مولانا مودودی خود ایک معلم تھے‘ اس لیے انھوں نے لوگوں کو سکھایا ہے۔ مولانا مودودی فرمایا کرتے تھے میں نے جو کچھ پایا ہے قرآن ہی سے پایا ہے اور قرآن کو جب میں نے آنکھیں کھول کر پڑھا تو معلوم ہوا کہ انسان کی بنیادی رہنمائی کے لیے سب کچھ اسی میں موجود ہے۔ مولانا مودودی کا استاد قرآن مجید تھااور شارح صرف حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک تھی۔
  •  آپ نے شروع میں فرمایا ہے کہ عبدالعزیز المطوع ترجمان القرآن کے مضامین ترجمہ کر کے حسن البنا شہید کو بھیجتے تھے۔گویا  کہ امام حسن البنا‘ مولانا مودودی اور جماعت کی فکر سے واقف ہوئے ہوں گے اور استفادہ بھی کیا ہوگا؟
  •  حسن البنا شہید بہت مخلص‘ فنا فی الدعوت اور فنا فی التحریک انسان تھے۔ یقینا ان کو ایسی جو بھی معلومات ملی ہوں گی‘ انھوں نے ضرور استفادہ کیا ہوگا۔
  •  آپ مصر اور دیگر مسلم ممالک میں اسلامی تحریکوں کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں؟
  •  مصر اور عرب دنیا میں یہودیوں اور ان کے سرپرست عیسائی حکمرانوںنے اودھم مچا رکھا ہے اور تمام کفار اور ظالم قوتیں ان کی پشت پر ہیں۔
  •  اللّٰہ تعالٰی اس مساعی کو قبول فرمائے۔ الحمد للّٰہ دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں سے وابستہ حضرات آپ کی اس مساعی کے  معترف اور احسان مند ہیں‘ اور اللّٰہ تعالٰی سے اس کی قبولیت کے لیے دعاگو ہیں۔
  •  میں نے مولانا مودودی کی رہنمائی میں اپنا سارا وقت جماعت کے تنظیمی‘ دعوتی اور تربیتی کام کو آگے بڑھانے کے لیے صرف کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے نہ کوئی بہت زیادہ مطالعہ کرسکا ہوں اور نہ کوئی دوسرا کام کیا۔ بس اسی کام کو مضبوط کرنے ، بڑھانے اور اسی پر توجہ دینے میں لگا رہا ہوں۔ میرے پاس کوئی خاص قابلیت بھی نہیں ہے۔ بس‘ مولانا مودودی مرحوم و مغفور نے صرف ایک مرتبہ کہا: ’’دعوت‘ تنظیم اور تربیت کا یہ کار عظیم تمھارے سپرد کر رہا ہوں‘ اس کے اوپر اپنی تمام توجہات کومرکوزکیے رکھو‘‘۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے میں نے مولانا مودودی کو کبھی پریشان نہیں کیا، غمگین نہیں کیا، الحمدللہ کبھی کمزوری نہیں دکھائی اور حتی المقدور ان کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کی ہے۔بلاکسر نفسی مجھے اعتراف ہے کہ نہ میرے اندر کوئی قابلیت ہے اور نہ میرے اندر کوئی خاص فہم و فراست ہے۔ میں جتناقرآن و سنت کے مطالعے کے بعد اور جو کچھ مولانا مودودی سے سمجھا ہوں اسی کو مضبوط کرنے اور اسی کو پھیلانے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔

یہ ۱۹۸۷ء کی بات ہے میں اپنے آپ کو بہت کمزور محسوس کرتاتھا کہ اب میرے اندر کام کرنے کی زیادہ طاقت نہیں رہی، جماعت کے چند مخلص ساتھیوں نے مجھ سے کہا: ’’جس طرح مولانامودودی نے اپنی زندگی میں ہی ذمہ داریاں منتقل کردی تھیں، اس طرح کسی کو آگے لانے کی کوشش کریں‘‘۔ میں نے ارکان جماعت سے درخواست کی کہ دوبارہ مجھے منتخب نہ کیا جائے‘ ارکانِ جماعت نے قاضی صاحب کو امیرجماعت منتخب کرلیا جو میرے ساتھ سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

  •  اس ضعیفی کی حالت میں بھی آپ کے جو معمولات ہیں، جو فکری یک سوئی ہے، تحریک کے ساتھ جس درجہ وابستگی ہے اور پھر صحت کی خرابی کے باوجود نماز کی جس طرح سے پابندی ہے۔ فرمائیے آپ کو کیا چیز مدد دیتی ہے؟
  •  اور کچھ نہیں صرف احساسِ فرض ہی ہے جی!میں کہتا ہوں کہ تادم آخر اس طرح سے اپنا کا م کرتا رہوں۔ اب میری دعا زیادہ یہی ہوتی ہے کہ یا اللہ چند روز بعد آنے والا صیامِ رمضان مجھے نصیب کر اورمجھے قیامِ رمضان کی توفیق دے‘ پھر اس کے بعد جو بھی آپ کا فیصلہ ہو…    میں یہی دعا کرتا رہتا ہوں ، یا اللہ اس رمضان میں مجھے پوری طرح سے حاضری کی توفیق عطا کر، صیام رمضان کی بھی اور قیام رمضان کی بھی۔ یہ روز ے میں خیریت سے پورے کرلوں، یا اللہ اس کے بعد جو آپ کا فیصلہ ہو سو ہو۔
  •  اللّٰہ تعالٰی آپ کی عمر میں‘ آپ کے معمولات میں اور عبادات میں برکت دے اور اسے قبول فرمائے۔
  •  میں اپنے رب سے یہی دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ تو میری آنکھوں کواتنی بصارت دے کہ میں مسجد خو د چلاجایا کروں، دوسروں کو میں یہ تکلیف نہ دوں کہ وہ مجھے مسجد میں لے جایا کریں ۔یا اللہ‘ مجھے خود مسجد آنے جانے کے قابل بنادے۔
  •  سبحان اللّٰہ ،یہ سب بچے بھی آپ کی آنکھیں ہیں۔
  •   جی الحمدللہ‘ میرے اوپر اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل کیا ہے اور میں کہتا ہوں کہ شاید ہی کسی کے اوپر ایسا کرم ہو‘ کوئی حد نہیں اس کے فضل اور احسان کی۔میری آٹھ بیٹیاں ہیں اور چار بیٹے ہیں۔ خد ا کے فضل سے سب نیک ہیں ،تابع فرمان ہیں، خدمت گزار ہیں ، محبت کرنے والے ہیں اور کبھی کسی نے اُف تک نہیں کی ہے۔
  •  اللّٰہ تعالٰی ان سب کو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ یہ سب آپ کی طرح اسلامی تحریک کی تقویت کا باعث بنیں۔
  •  دنیا کے معیار کے حوالے سے اگر یہ کہوں کہ ایک پیسہ بھی میرے پاس نہیں ہے اور ایک پیسہ بھی کمانے کے قابل میں نہیں ہوں۔ لیکن میرے لیے یہ امر نہ کسی حسرت کا باعث ہے اور نہ کسی محرومی کا ذریعہ‘ بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے مجھے سب کچھ دیا ہوا ہے۔ یہ ایمان کی دولت‘     یہ مکان اور یہ ساری نعمتیں ، الحمدللہ‘ الحمدللہ۔
  •  جماعت اسلامی کے ساتھ وابستگی کے اس ۶۵ برس کے پورے زمانے میں آپ کی  سب سے  قیمتی یاد اور قیمتی اثاثہ کیا ہے؟
  •  جی سچی بات یہ ہے کہ ایمان کی دولت کے بعد میں مولانا مودودی کی رفاقت سے زیادہ کس چیز کو قیمتی کہوں؟ دین کی راہ پر چلتے ہوئے مولانا مودودی نے ساری عمر کبھی ایک منٹ کے لیے بھی مجھ سے کسی خفگی یا کسی ناراضی کا اظہار نہیںکیا۔ وہ ہمیشہ محبت سے پیش آئے اور ہمیشہ بھائی کی حیثیت سے میرے ساتھ حسن سلوک کیا کہ جیسے میں ان کا رفیق کارہوں، کوئی شاگر د اور ماتحت نہیں ہوں۔ اپنے ایک عزیز رفیق کی حیثیت سے ہی ہمیشہ انھوں نے میرے ساتھ معاملہ کیا۔ میں نے مولانا مودودی کو اخلاق میں‘ کردار میں‘ گفتار میں‘ احسان میں اور سلوک میںحضرت محمد صلی اللہ   علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرنے والا ایک اُمتی ہی پایا ہے۔
  •  اس وقت ساری عالمی شیطانی قوتوں کا اصل ہدف بالخصوص اسلامی تحریک اور بالعموم عالم اسلام کے نوجوان ہیں،اس صورت حال کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟
  •  بس جی‘ انھیں قرآن ،سنت اور سیرت طیبہ سے جوڑا جائے۔ میرے فہم کی حد تک اس مقصد کے لیے ان کو مولانا مودودی کا لٹریچر پڑھایا اور اس سے وابستہ کیا جائے۔ اس کے لیے جو بھی ذرائع ہیں ان کوبڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے‘ بلکہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے  بیت المال کی کچھ مدات میں کفایت کر کے وسائل خرچ کرنے چاہییں۔ یہ لٹریچر انھیں ایمان‘ قرآن، سنت، اسوۂ نبویؐ ، امت مسلمہ اور اُمت کے مفاد سے جوڑدے گا۔

m کیا شیطانی قوتیں اور ان کے آلہ کار کامیاب ہوجائیں گے ؟

  •  یہ کیسے ممکن ہے۔ اسلام نے تو غالب آنا ہے‘ ان شاء اللہ اسلام ہی غالب آئے گا۔
  •  اخوان اور عرب دنیا میں اسلامی تحریک سے رابطے یا کسی اور پہلو پر آپ روشنی ڈالنا پسند فرمائیں گے؟
  •  مولانا مسعودعالم ندوی بڑے مخلص، بڑ ے جاںنثار اور بڑے فاضل انسان تھے۔   علما میں ان سے زیادہ مخلص‘ مولانا کا مداح‘ مددگارمیں نے کوئی اور نہیںدیکھا۔ اسی طرح محمد عاصم الحداد مرحوم نے مولانا مودودی کی کتب کے ترجمے کے لیے بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ پھر  خلیل احمدحامدی صاحب نے اپنی ساری زندگی اس کام میں لگادی۔ عملاً ان تین افراد نے عالمِ عرب میں اسلامی تحریک سے تعلق کو تقویت دی ،علمی رابطے بڑھائے اور دعوت دین کی سرگرمیوں میں بنیادی نوعیت کا کام کیا، اور ان کے ساتھ ہمارے چوتھے ساتھی چودھری غلام محمد مرحوم کی خدمات بڑی ہی گراں مایہ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان احباب کی خدمات کو قبول فرمائے۔
  •  میاں صاحب کوئی اور بات جو آپ اسلامی تحریکوں کے حوالے سے فرمانا چاہیں ؟
  •  اس وقت فوری طور پر میرے ذہن میں کوئی بات نہیں آرہی‘ البتہ پروفیسر خورشید احمد تحریک اسلامی کا بڑا قیمتی سرمایہ ہیں۔میں ترجمان القرآن پورا اوّل سے لے کر آخر تک    حرف بہ حرف سنتا ہوں۔ ما شا اللہ‘ خورشید صاحب اشارات بڑی محنت سے‘ جرأت سے اور کسی خوف کو خاطر میں لائے بغیر لکھتے ہیں۔ صحت پتا نہیں کیسی ہے ، خورشید صاحب کی ؟ میں رات دن ان کی صحت کے لیے دعا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ انھیں جزاے خیرعطا فرمائے‘ صحت اور طاقت دے‘   اپنے دین کی خدمت کے لیے زندہ سلامت رکھے۔

                                               

اللہ تعالیٰ ہی اس ساری کائنات کا اور ہم سب انسانوں کا خالق‘ مالک اور رب ہے۔ اسی کی زمین پر ہم بستے ہیں اور اسی کا عطا کردہ رزق کھاتے ہیں۔ کوئی فرد بشر کسی ایک ایسی شے کی بھی نشان دہی نہیں کر سکتا جو خداوند تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عطا کردہ ہو۔ اس لیے خدا کی مخلوق‘ اس کے مملوک اور اس کے رزق پر پلنے والی کسی ہستی کو بھی نہ عقلاً‘ نہ اخلاقاً اور نہ دنیا جہاں کے کسی قاعدے قانون یا رسم و رواج کی رُو سے اس بات کا حق حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے رب کی مقرر کردہ حدود اور طریق زندگی سے بال برابر بھی ادھر سے اُدھر قدم رکھے‘ یا کوئی ایسا کام یا ایسی حرکت کرے جو اس کی منشا کے خلاف ہو اور اس کی مرضی کے مطابق نہ ہو۔ اسی طرزِعمل کو اختیار کرکے زندگی بسر کرنے کا نام ’اسلام‘ ہے۔ اسی بات کو سمجھانے اور اسی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اللہ نے اپنے رسول ؑبھیجے اور پھر سب رسولوں کے آخر میں‘ اس بات کو قیامت تک پیدا ہونے والے مردوں اور عورتوں کو سمجھانے اور اس طرزِزندگی کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے  اللہ رب العالمین نے‘ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول بنا کر بھیجا اور یہ نصیحت فرمائی کہ ہمارے اس رسول ؐکے طرزِحیات میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔

قرآن مجید میں بار بار فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اپنے اس رسولؐ کو اس غرض سے اپنا پسندیدہ دین‘ یعنی انسانوں کے لیے خدا کی طرف سے مقرر کردہ طریق زندگی اور ہدایات کا مجموعہ دے کر بھیجا ہے کہ آیندہ خدا کے بندے خدا کی زمین پر اسی طریقے کو نہ صرف خود اختیار کریں‘ بلکہ باقی انسانی گروہوں اور اقوام کے سامنے بھی اسے پیش کریں‘ اور اس انسانی معاشرے کا عملی نمونہ بھی نوعِ انسانی کی رہنمائی کے لیے قائم کریں جسے رب کائنات کی مرضی اور منشا کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کر کے اُمت کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ دیکھو‘ میں خدا کا آخری رسول ہوں۔ آیندہ نہ میرے بعد کوئی نبی اور رسول آئے گا اور نہ تمھارے بعد کوئی اور اُمت اٹھائی جائے گی جو اس کام کو کرے۔ اب قیامت تک میرے جانشین اُمتی ہونے کی حیثیت سے یہ تمھاری ذمہ داری ہے کہ آنے والی تمام انسانی نسلوں کو ان کے خالق و مالک کے مقرر کردہ صحیح انسانی طرزِ زندگی کو اسی طرح سے سکھائو اور اس پر چلائو‘ جس طرح میں نے تمھیں سکھایا اور چلایا ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی نہیں خود اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی کتاب میں واضح طور پر اہلِ ایمان کو بتایا کہ اللہ کی بندگی اور اس کے پسندیدہ نظامِ حیات کو اختیار کرنے اور اسے دنیا میں رواج دینے والے تمام انبیا اور ان کے پیروئوں کا نام اس سے پہلے بھی ہر زمانے میں ہم نے ’مسلم‘ ہی رکھا ہے‘ اور اب اپنے اس رسولؐ اور ان کی پیروی میں اس راہ کو اختیار کرنے اور ان کے مشن کو آگے لے کر چلنے والے لوگوں کا نام بھی ہم نے ’مسلم‘ ہی رکھا ہے۔ اب یہ تمھارا کام ہے کہ زندگی کے جس نمونے اور نظام کی شہادت ہمارے اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھارے سامنے پیش کی ہے‘ ان کے بعد اس کی شہادت اور عملی نمونہ دوسرے انسانوں کے سامنے تم پیش کرتے رہو۔یہ فریضہ مردوں اور عورتوں پر یکساں عاید ہوتا ہے۔

اس امرسے انکارممکن نہیں کہ انسانی معاشرے کی گاڑی مرد اور عورت پر مشتمل دو پہیوں سے چلتی ہے اور کوئی گاڑی دو پہیوں کے بغیر نہیں چل سکتی۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ گاڑی کے دونوں پہیے ایک دوسرے سے الگ برابر فاصلے پہ رہتے ہوئے چلیں۔ اگر خدانخواستہ گاڑی کے دونوں پہیے مقرر فاصلے پر رہ کر چلنے کے بجاے آپس میں گڈمڈہونے اور ایک دوسرے میں پھنسنے لگ جائیں اور اپنی اپنی لکیر اور سیدھ پر نہ چلیں تو نہ گاڑی کی خیرہے اور نہ ان کی سواریوں کی۔ منزل پر بخیریت پہنچنے کے لیے دونوں پہیوں کو اپنی اپنی جگہ پر ہی ہوگا‘ اور برابر ایک رفتار سے چلنا ہوگا۔ چنانچہ پورے قرآن مجید میں خواہ خطاب اہلِ ایمان و اسلام سے ہے اور خواہ اہلِ کفرونفاق سے‘ مردوزن کے کسی امتیاز کے بغیریاایھا الناس (اے لوگو)‘ یاایھا الذین آمنوا (اے مومنو!)‘ یاایھا الکفرون (اے کافرو)‘ اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ(منافق سب کے سب جہنم کے سب سے گہرے گڑھے میں ہوں گے۔النسائ۴:۱۴۵) کے الفاظ کے ذریعے کیا گیا ہے۔ مرد و زن میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ صاف صاف فرمایا گیا ہے: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّـرَہٗ (الزلزال ۹۹:۷-۸)‘ یعنی جو بھی خواہ مرد ہو یا عورت ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کا بدلہ پالے گا‘ اور جو بھی ذرہ برابر برائی کرے گا وہ اس کا خمیازہ بھگتے گا۔

لہٰذا اللہ کے دین کی اشاعت و فروغ اور اس کے غلبے کے لیے کام کرنا مرد و خواتین دونوں کے لیے یکساں لازم ہے۔ البتہ جیسے گاڑی کے دونوں پہیے اپنے اپنے راستے پر الگ الگ چلتے ہیں اسی طرح اسلام نے انسانی معاشرے میں مردوں اور عورتوں کے دائرہ کار ایک دوسرے سے الگ رکھے ہیں‘ بجز ایک مخصوص دائرے کے جو اور جتنا اُن کے آپس میں مل کر رہنے اور معاشرے کے ارتقا و بقا کے لیے ضروری ہے‘ ورنہ آپس میں ایک دوسرے کے قریب ہوکر باہم ٹکرانے اور گاڑی کو الٹنے ہی کا ذریعہ بنیں گے۔ خالق نے خود ہی انسان کو آزادی بھی دی ہے‘ اور اس کے حدود بھی مقرر فرما دیے ہیں۔ معاشرے کی اصلاح میں بنیادی کردار عورت ادا کرتی ہے‘ بشرطیکہ اسے اس کا احساس اور شعور ہو۔

اس پس منظر اور ان فرائض کی ادایگی کے سلسلے میں اس وقت خواتین کو جن اہم ترین کاموں کی طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہیے وہ درج ذیل ہیں:

۱-  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَo (الاعراف ۷:۶)‘ یعنی یہ ضرور ہو کر رہناہے کہ ہم ان لوگوں سے بازپرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبرؐ بھیجے ہیں اور پیغمبروںؐ سے بھی پوچھیں گے (کہ انھوں نے پیغام رسانی کا فرض کہاں تک انجام دیا اور انھیں اس کا جواب کیا ملا)۔یہ محاسبہ اس امر کا ہوگا کہ رسولوں نے خدا کا پیغام ٹھیک ٹھیک بندوں تک پہنچایا‘ یا نہیں‘ اور جن لوگوں تک یہ پیغام پہنچا انھوں نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اسے قبول کر کے اس کے مطابق اپنی زندگی اور اس کے معاملات و تعلقات کو درست کیا‘ یا اسے رد کر دیا‘ یا اس میں سے جوبات اچھی اور مفید معلوم ہوئی اسے مان لیا اور باقی کو بے پروائی سے نظرانداز کردیا۔ حالانکہ اللہ کا حکم یہ تھا کہ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاط (المائدہ ۵:۳) ’’میں نے تمھارے لیے اسلام کو بطور طریق زندگی مقرر اور پسند کیا ہے‘‘۔لہٰذا اس کا فطری تقاضا تھا : اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِط(البقرہ ۲:۲۰۸) ‘یعنی پورے کے پورے اسلام کے اندر آجائو اور کسی معاملے میں بھی اسے چھوڑ کر شیطان کے پیچھے نہ چلو۔ پھر فرمایا: اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُقف(اٰل عمران۳:۱۹)۔ یعنی اللہ کے نزدیک انسانوں کے لیے زندگی بسر کرنے اور اپنے معاملات کو چلانے کا صحیح طریقہ صرف اسلام ہی کا طریقہ ہے۔ مزید فرمایا: وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْـہُج (اٰل عمران۳:۸۵)۔ یعنی جو بھی (مرد ہو یا عورت) اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور راستہ اور طریق اختیار کرے گا اسے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور نہ اس انحراف کو معاف کیا جائے گا۔

لہٰذا دین کے سلسلے میں سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ بالکل یکسو ہوکر اسلام کو قبول کیا جائے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو‘ اپنے معاملات اور گھربار کو سنوارا اور درست کیا جائے‘ اور سب سے پہلے اپنی ذات کو اسلام کا نمونہ بنایا جائے۔ جانتے بوجھتے اسلام اور ایمان کے خلاف گواہی دینے والا آپ سے کوئی فعل و قول سرزد نہ ہو۔ اقامت دین اور شہادتِ حق کا پہلا تقاضا یہی ہے۔ آپ کا یہ طرزِعمل آپ کو سراپا دعوت بنا دے گا خواہ آپ زبان سے کچھ بھی نہ بولیں۔

۲-  اپنے گھروں کے ساتھ ساتھ اپنے قریبی رشتہ داروں ‘اپنے ہمسایوں اور دوسری ملنے جلنے والی خواتین کے گھروں کو بھی جاہلانہ رسم و رواج‘ شرک و بدعت اور خدا کی نافرمانی   کے طریقوںسے پاک کرنے کی کوشش میں لگ جائیں۔ بے شمار غیراسلامی باتیں‘ پرانے جاہلانہ و ہندوانہ رسوم و رواج کی شکل میں بھی اور نئی مغربی کافرانہ تہذیب اور نت نئے فیشنوں کی صورت میں بھی‘ ہمارے گھروں میں گھس آئی ہیں۔ ان کو مسلم گھرانوں کی زندگی سے خارج کیے بغیر اسلام کے تصورِ شرم و حیا کے لیے موجودہ معاشرے میں جگہ پیدا کرنا سخت مشکل ہے۔ البتہ سلامتی کا راستہ‘ زندگی بعد موت‘ خطبات‘ پردہ اور سورۂ نور کے مضامین کو بتدریج ان کے ذہنوں میں اتار کر آسانی پیدا کی جا سکتی ہے۔

۳-  اَن پڑھ اور معمولی پڑھی لکھی خواتین کو بڑے پیمانے پر زبانی علمِ دین سے واقف کرانے کی کوشش کریں۔ دَوراولیٰ کے مرد و خواتین نے سارا کام زبانی تبلیغ کے ذریعے اور بالکل اَن پڑھ قوم میں ہی کیا تھا اور پھر انھی بے پڑھے لکھے لوگوں نے ساری دنیا میں اسلام پھیلا دیا۔ اس غرض کے لیے وسیع پیمانے پر حلقہ ہاے درس قرآن و حدیث قائم کریں۔ دین پھیلانے کا اس سے مؤثر اور بہتر طریقہ اور کوئی نہیں۔

۴-  خوش حال گھرانوں میں خدا سے غفلت اور دین اسلام سے انحراف کی بیماری عام ہے اور یہ لوگ آخرت سے بے فکر اور دنیا کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میںمصروف ہیں۔ ان میں آزادانہ اختلاط مرد و زن‘ وباکی شکل اختیار کرگیا ہے۔ تحریک سے متعلق پڑھی لکھی خواتین ان لوگوں کے سدھار کی بھی فکر کریں‘ کیونکہ یہ طبقے معاشرے میں برائی کے جراثیم پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے جو لوگ کوشش کے باوجود توجہ نہ دیں‘ ان پر زیادہ وقت ضائع کرنے کے بجاے اپنی ان دوسری بہنوں کی طرف توجہ دیں جن کو آخرت کا کوئی خوف ہو کیونکہ ہمارا کام خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے پھر جس کا جی چاہے خدا کی فرماں برداری کی راہ اختیار کرے اور جس کا جی چاہے کفر میں پڑا رہے۔

۵-  اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق کہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی فکر کرو‘ اپنے بچوں کی خاص طور پر فکر کریں۔ خدا کی توحید‘محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت‘ قرآن کے خدا کی کتاب ہونے اور آخرت میں اپنے رب کے حضور پیش ہونے اور حساب کتاب کا نقش ان کے ذہنوں پر گہرے سے گہرا بٹھانے کی کوشش کریں‘ اور جیسے ہی ان کا شعور بڑھے اس کے مطابق ایمان کی تفصیل اور تقاضے ان پر واضح کرنے کی کوشش کریں۔ یہ نقش اگر چھوٹی عمر میں صحیح طور پر ذہن پر ثبت ہوجائے تو انسان ہمیشہ کے لیے سدھرجاتا ہے۔

۶-  اپنے گھر کے مردوں کو اگر وہ غلبۂ اسلام کی راہ میں کوئی خدمات انجام دے رہے ہوں تو اپنی رفاقت اور معاونت سے ان کی معاون و مددگار بنیں‘ اور اگر خدانخواستہ اس بارے میں کمزور‘ غافل یا کسی اور طرح کے غلط مشاغل میں مبتلا ہوں تو انھیں راہِ راست پر لانے کی صبروتحمل اور حکمت کے ساتھ سعی کریں۔ اس کا بھی کامیاب طریقہ یہی ہے کہ ان کے اندر مرنے کے بعد خدا کے روبرو جواب دہی کا یقین پیدا کیا جائے۔

۷-  خواتین کا یہ بھی فرض ہے اور سب سے اہم فرض ہے کہ اپنے گھروں میں حرام کی کمائی نہ گھسنے دیں۔ کیونکہ حرام کی کمائی کے کپڑے میں ملبوس جسم کی کوئی عبادت خدا کے ہاں قبول نہ ہوگی اور نہ ہی اس کی جنت میں داخلہ ممکن ہوگا۔

معاشرے کی موجودہ صورت حال آپ کے سامنے ہے۔ بدی اور برائی کا سیلاب مختلف شکلوں اور لبادوں میں نئی مسلمان پود کے ذہنوں کو مسموم کرتا چلا جا رہا ہے۔ آرٹ‘ ثقافت‘ ورائٹی اور فیشن شو‘ فن فیئرکی تقاریب اور مینابازار اور خواتین کے حقوق اور ترقی کے نام پر بے راہ روی‘ بے پردگی اور حیاسوزی کی جو فضا مسلمان بچیوں کے اردگرد پیدا کی جارہی ہے‘ اس کے تباہ کن نتائج سے انھیں بچانے کے لیے خدا کی فرماں بردار خواتین پر لازم ہے کہ بدی کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کے لیے تمام ممکن تدابیر سوچیں اور اختیار کریں۔ آزادیِ نسواں کی نام نہاد تحریک سے متاثر اور اسلام سے بے بہرہ خواتین کو ازواج مطہرات کے حالاتِ زندگی اور اسلام میں عورت کے لیے اعلیٰ و اشرف مقام سے آپ لوگ روشناس کرائیں‘ تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اسلامی معاشرے میں عورت کو جو مقام اور مرتبہ عطا کیا گیا ہے‘ اس کی کوئی مثال آج تک کسی معاشرے میں موجود نہیں اور نہ آیندہ ممکن ہے‘ اور عورت کا یہی مقام اسے دنیا میں سرفرازی و احترام اور آخرت میں سرخروئی عطا کرسکتا ہے۔

نفاذ اسلام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب وطن عزیز کی عورتیں بھی اپنے ایمان کے تقاضوں اور اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو کماحقہ‘ محسوس اور ادا کرنے لگیں۔ خوش قسمت ہیں ہماری وہ بہنیں اوربیٹیاںجن کو اللہ نے اپنے دین کو سربلند کرنے کے کام میں لگا دیا ہے اور وہ اس راہ میں اپنی جان کھپا رہی ہیں۔ خدا نے ایمان‘ عقل ‘ گھرانہ اور مال و دولت کی شکل میں آپ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ خدا کے اس احسانِ عظیم کا شکر آپ اسی طریقے سے ادا کرسکتی ہیں کہ دین کی دعوت کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی کوشش کریں۔ نیکی کو جتنا فروغ ہوگا برائی اتنی ہی کم ہوتی جائے گی۔ اگر آپ نے غلبۂ اسلام کے لیے اپنی جدوجہد کو اخلاص‘ خدا کی رضا اور خوشنودی ہی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جاری رکھا تو ان شاء اللہ اس ملک کو صحیح معنوں میں اللہ کا ملک بنانے کی جو کوششیں تحریکِ اسلامی کر رہی ہے‘ اس کی برکت سے اسلامی انقلاب کی منزل قریب تر آجائے گی اور اس کا جو بے حدوحساب اجر آپ کو ملے گا وہ تصور سے بھی بالاتر ہے۔

میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو ازواجِ مطہرات کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘ اور آخرت میں ان کی صف میں شامل فرمائے‘ اور دین حق کی راہ میں آپ کو اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا کے مصداق بنائے۔ آمین!

یہ بات میرے لیے باعث صد مسرت و امتنان ہے کہ ترجمان القرآن کی خصوصی اشاعت بیاد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم و مغفور کے حصہ اول کے بعد اس کا دوسرا حصہ بھی تیار ہے ۔اللہ تعالیٰ‘ آپ اور اس سلسلے کے دوسرے اہل قلم کو اس کار خیر کے لیے اجر عظیم عطا فرمائے ‘ اور آپ سب کے علم و فضل اور قابلیت میں روز افزوں خیروبرکت عطا فرمائے ۔

آپ نے مولانا سیدابو الاعلیٰ مودودی مرحوم کے بارے میں کوئی مضمون تحریر کرنے کی فرمایش کی ہے ۔اس بارے میں گزارش ہے کہ میں نے مولانا مرحوم سے ۱۹۴۴ء سے ۱۹۷۹ء تک ۳۵ سالہ دن رات کی رفاقت کے باوجود ‘ ان کے بارے میں اس سے زائد کچھ نہیں کہا ہے جو مشاہدات میں عرض کیا گیا ہے ۔  حضرت عائشہ ؓ سے بڑھ کر حضور نبی کریمؐ کو جاننے اور پہچاننے والی شخصیت اور کون ہو سکتی تھی۔ان سے لوگوں نے جب پوچھا کہ حضور نبی کریمؐ کیسے تھے ؟ تو انھوں نے فرمایا: حضورؐ چلتا پھرتا قرآن تھے ۔ میں بھی مولانا مودودیؒ صاحب کے بارے میں یہی کہتا اور کہہ سکتا ہوں کہ مولانا مودودی مرحوم‘ دعوت اسلامی کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔

میں نے ۳۵ سالہ رفاقت کے دوران ان کی کوئی بات اور کوئی حرکت ‘ اسلام اور اسوہ رسولؐ  سے ہٹی ہوئی نہیں دیکھی۔ میراان سے ایک ہی بات پر اختلاف تھا کہ وہ پان کھاتے تھے ۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ اسلام کے منافی تو نہیں ہے‘میں اسے تمھارے لیے تو نہیں چھوڑوں گا‘ خداکے لیے جب ضرورت ہو گی تو چھوڑدوں گا ۔ چنانچہ اکتو بر ۱۹۴۸ء میں جب ہمیں گرفتار کیا گیا تو جیل کے پھاٹک کے باہر انھوں نے پان تھوکا‘ پھر ۲۰ماہ جیل میں کبھی نہیں چکھا اور جب سینٹرل جیل ملتان سے ہم رہا ہوئے تو دفترجماعت اسلامی ملتان میں آتے ہی پان منگوا کر کھانا شروع کردیا۔

شہر لاہور میں‘ مارچ ۱۹۵۳ء میں‘ جب ہم لوگوں کو گرفتا ر کر کے لاہور سینٹرل جیل میں لے جایا گیا تو مو لانا مودودی صاحب ‘ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب ‘ ملک نصر اللہ خاں عزیز صاحب ‘ سید نقی علی صاحب ‘ چودھری محمد اکبر صاحب سیالکوٹی اور مجھے لاہور سینٹرل جیل کے دیوانی گھر وارڈمیں اور لاہور سے گرفتار شدہ دوسرے حضرات کو دوسرے وارڈوں میں رکھا گیا ۔ لاہور سینٹرل جیل میں ہی قائم کردہ مار شل لا کورٹ میںمولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب ‘ سید نقی علی صاحب اور ملک نصر اللہ خاں عزیز صاحب پر مقدمہ چلایا گیا ۔ مار شل لا کورٹ میں مولانا مودودی صاحب نے جو بیان دیا وہ انھوں نے مجھے ہی لکھوایا (dictate) تھا اور یہی بیان عدالت میں مولانا محترم نے پیش کیا ۔

۱۱ مئی ۱۹۵۳ء کو ہم لوگ دیوانی گھر وارڈ کے صحن میں مولانا مودودی صاحب کی اقتدا میں مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے کہ دیوانی گھر وارڈ کا باہر کا دروازہ کھٹ سے کھلااور ۱۴‘۱۵ فوجی اور جیل افسر اور وارڈر احاطے میں داخل ہوئے ۔ اور جہاں ہم نما ز پڑھ رہے تھے وہاں قریب آکر کھڑے ہو گئے۔ ہم نے سلام پھیرنے کے بعد عرض کیا :’’فرمایئے‘ کیا حکم ہے‘‘ ۔ایک فوجی افسر نے کہا: ’’آپ لوگ نماز سے فارغ ہو لیں‘‘۔ چنانچہ ہم نے باقی نماز مکمل کر لی تو ان میں سے بڑ ے فوجی افسر نے جو مارشل لا کورٹ کا صدر تھا‘ اس نے پوچھا:’’ مولانا مودودی صاحب کون ہیں ؟‘‘ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ مولانا مودودی صاحب کون ہیں‘ اس لیے کہ وہ تو عدالت میں کئی دن ان کے سامنے پیش ہوتے رہے تھے ۔ بہر حال مولانا نے عرض کیا:’’میں ابوالاعلیٰ مودودی ہوں‘‘، تواس نے کہا: ’’آپ کو قادیانی مسئلہ تصنیف کر نے پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکتی ہے ۔ آپ گورنر جنرل سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں‘‘۔ مولانا نے بلا توقف فرمایا: ’’مجھے کسی سے کوئی رحم کی اپیل نہیں کرنی ہے ۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں پر میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی‘ اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکتی‘‘۔ اس کے بعد اسی افسر نے کہا:’’ آپ نے مارشل لا کے بارے میں روزنامہ تسنیم میں جو بیان دیا ہے اس پر آپ کو سات سال قید با مشقت کی سزا دی جاتی ہے ‘‘۔

اس کے بعد اسی افسر نے پوچھا :’’نقی علی کون ہے؟‘‘ سید نقی علی کوبھی وہ خوب جانتا تھا کہ وہ بھی ان کی عدالت میں پیش ہوتے رہے تھے ۔ بہر حال سید نقی علی صاحب نے عرض کیا :’’میں ہوں نقی علی ‘‘۔ اس افسر نے کہا:’’تمھیں قادیانی مسئلہ چھاپنے کے جرم میںنو سال قید بامشقت کی سزادی جاتی ہے‘‘۔ سید نقی علی صاحب نے بھی جواب دیا:’’آپ کا شکریہ‘‘۔

اس کے بعد اس افسر نے پوچھا :’’ نصراللہ خان عزیز کون ہے؟‘‘ ملک نصر اللہ خان صاحب نے جواب دیا:’’میں ہوں نصر اللہ خان عزیز‘‘۔ افسر نے کہا :’’آپ کو روزنامہ تسنیم میں مو لانا مودودی صاحب کا بیان شائع کرنے کے جرم میںتین سال قید با مشقت کی سزا دی جاتی ہے‘‘۔ ملک صاحب نے جواب دیا:’’آپ کا شکریہ ‘‘۔

یہ حکم سنانے کے بعد یہ لوگ واپس چلے گئے اور وارڈ کا باہر کا دروازہ بند کر دیا گیا ۔ واقعہ یہ ہے کہ احکام سننے کے بعد ہم لوگوں پر بظاہر کوئی اثر ہی نہ ہوا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تیز بلیڈ یا تیزدھار چھری سے ہاتھ کٹ جانے سے فوراً درد محسوس ہی نہیں ہوتا ‘اسی طرح مولانامودودی صاحب کی سزاے موت کا یہ حکم سننے کے بعد ہمیں کچھ محسوس ہی نہیں ہوا ۔

کوئی آدھ گھنٹے کے بعد ہیڈ وارڈن اور ان کے ساتھ کچھ دوسرے وارڈر آئے اور انھوں نے کہا:’’مولانا مودودی صاحب تیار ہوجائیں‘ وہ پھانسی گھر جائیں گے‘‘۔ اس پر مولانا مودودی صاحب نے اطمینان سے اپنا کھلا پا جامہ تنگ پاجامے سے بدلا‘ جو وہ گھر سے باہر جاتے وقت پہنا کرتے تھے ۔ سر پر اپنی سیاہ قراقلی ٹوپی پہنی اور چپلی اتارکر سیاہ گر گابی جوتا پہنا اور اپنا قرآن مجید لے کر اور ہم سب سے گلے مل کر نہا یت اطمینان سے پھانسی گھر روانہ ہو گئے ۔

اس کے کوئی نصف گھنٹہ بعد پھر وارڈ ر آئے اور کہا:’’ملک نصر اللہ خاں عزیز اور سید نقی علی صاحب بھی چلیں ۔ وہ سزا یافتہ قیدیوں کے بارک میں جائیں گے‘‘۔ چنانچہ وہ دونوں بھی مولا نا امین احسن اصلاحی صاحب ‘ چودھری محمد اکبر صاحب کواور مجھ سے گلے مل کر وارڈروں کے ساتھ چلے گئے۔اس کے تھوڑی دیر بعد وارڈ ر مولانا مودودی صاحب کا جوتا ‘ پاجامہ ‘ قمیص اور ٹوپی لا کر ہمیں دے گئے کہ مولانا صاحب کو پھانسی گھر کے کپڑے پہنا دیے گئے ہیں ۔ ان چیزوں کی اب ضرورت نہیں ہے۔ اس پر پہلی مرتبہ ہم لوگوں کو اندازہ ہوا کہ ہو کیا گیا ہے ۔

اب مولانا امین احسن اصلاحی صاحب ‘ مولانامودودی صاحب کی قمیص ‘ پاجامہ اور ٹوپی کبھی سینے سے لگاتے اور کبھی اپنے سر پر رکھتے ‘ کبھی آنکھوں پر لگاتے اور بے تحاشہ روتے ہوئے کہتے جاتے کہ:’’مجھے یہ تو معلوم تھا کہ مولانا مودودی صاحب بہت بڑے آدمی ہیں‘ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ خد ا کے ہاں مودودی صاحب کا اتنا بڑا مرتبہ اور مقام ہے‘‘ ۔ چودھری محمد اکبر صاحب بھی روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل کر صحن میں چلے گئے اور میں بھی روتا ہوا صحن میں ایک طرف نکل گیا اور ساری رات اسی طرح سے گزرگئی۔ میرے دل میں کبھی تو یہ خیال آتا کہ اللہ تعالیٰ کبھی ان ظالموں کو مولانا کو پھانسی پر لٹکانے کا موقع نہیں دے گا ۔ لیکن اگلے ہی لمحے خیال آتا جس خدا کے سامنے اس کے رسولؐ کے نواسے امام حسین ؓ کو ظالموں نے تپتی ریت پر لٹا کرذبح کر دیا‘ اس کے ہاں بھلا مودودی کی کیا حیثیت ہے ۔ جس خدا کی زمین پر رات دن لاکھوں کروڑوں نہایت حسین پھو ل کھلتے اور مر جھا جاتے ہیں اور کوئی آنکھ ان کو دیکھنے والی بھی نہیںہوتی‘ اسے ایک مودودی کی کیا پروا ہے۔ اسی ادھیڑ بن میں ساری رات گزر گئی ۔

اگلی صبح ایک وارڈر نے آکر بتایا:’’مولانا مودودی صاحب تو عجیب آدمی ہیں۔ معلوم ہو تا ہے کہ ان کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ وہ پھانسی گھر گئے‘ وہاں کا لباس پہنا‘ جنگلے سے باہر پانی کے گھڑے سے وضو کیا اور عشاء کی نماز پڑھی اور ٹاٹ پر لیٹ کر تھوڑی دیر بعد خراٹے مارنے لگے۔ حالانکہ ان کے آس پاس پھانسی گھرکے د وسر ے قیدی چیخ و پکار میں مصروف تھے‘‘۔

مولانا مودودی صاحب کو پھا نسی کی سزا کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں احتجاج شروع ہو گیا ۔ انڈونیشیا کی اسلامی پارٹی کے وزیر اعظم ڈاکٹر ناصر صاحب نے حکومت پاکستان سے کہاکہ: ’’پاکستان کو مودودی صاحب کی ضرورت نہیں تو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان کی ضرورت ہے ۔ پاکستان ان کو انڈو نیشیا بھجوا دے‘‘۔ سعودی عرب نے اس سزا کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ علیٰ ھذا القیاس بہت سے دوسرے ممالک کے مسلمانوں نے بھی اور پاکستان میں تو ہرجگہ سے احتجاج ہوا ۔ اس احتجاج کانتیجہ یہ ہوا کہ تیسرے ہی روز حکومت پاکستان نے اعلان کر دیا کہ مولانا مودودی صاحب اور مولانا عبد الستار خاں نیازی صاحب کی سزاے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی ہے ۔ چنانچہ مولانا مودودی صاحب کو پھانسی گھر سے جیل کے بی کلاس وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔

ہم لوگوں نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے درخواست کی کہ ہمیں مولانا مودودی صاحب سے ملاقات کی اجازت دی جائے‘ چنانچہ ہمیں اس کی اجازت مل گئی تو ہم لوگ بی کلاس وارڈ میں جا کر مولانا سے ملے ۔مولانا کا سارا سامان چونکہ گھر بھیج دیا گیا تھا‘ اس لیے میں اپنا ایک ململ کا کرتہ‘ لٹھے  کا پاجامہ اوربستر کی ایک چادر ساتھ لے گیا اورکھدر کے کرتے پاجامے کی جگہ یہ کپڑے ان کو پہنا دیے ۔ مولانا مودودی صاحب کا پورا جسم گرمی اور کھدر کے موٹے کُرتے پاجامے کی وجہ سے گرمی دانوں سے بھرا پڑا تھا ۔ اسی بی کلاس وارڈ میں مولانا عبد الستار خاں نیازی صاحب اور مولانا خلیل احمد صاحب خلف مولانا ابو الحسنات صاحب سے بھی ملا قات ہوئی ۔

چند دن کے بعد سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کو لاہور سنٹرل جیل سے میانوالی جیل میں منتقل کر دیا گیا اور پھر کچھ دن کے بعد ہی انھیں میانوالی جیل سے ڈسٹرکٹ جیل ملتان بھیج دیا گیا‘ جہاں ان کو ایک وارڈ کے کھلے میدان میں ٹین کے بنے ہوئے الگ گول کمرے میں رکھا گیا‘ جو جون‘ جولائی کی دھوپ میں تپ کر جہنم بن جاتا تھا‘ لیکن اس کے باوجود مولانا نے نہ کبھی کوئی شکایت کی اور نہ اس پر کوئی احتجاج فرمایا۔ اس سے اہل حکومت کو اور پریشانی ہوئی کہ ان کا کوئی حربہ بھی مولانامودودی صاحب کو ان سے فریاد کرنے پرمجبور کرنے کے لیے کامیاب نہیں ہو پاتا ۔ملتان ڈسٹرکٹ جیل میں دو مر تبہ میں نے مولانا مودودی صاحب سے ملاقات کی۔ وہ ان ساری تکا لیف کو نہایت خندہ پیشانی سے بر داشت کر رہے تھے اور کبھی ہم سے بھی انھوں نے اپنی کسی تکلیف یا پریشانی کا اظہار نہیںفر مایا ۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کی یہ عمر قید عملاً ۱۴ سال قید با مشقت کی تھی ۔ اگر چہ یہ مارشل لا کورٹ کے تحت دی گئی تھی اور مارشل لا ختم ہو جانے کے بعد اسے ختم ہو جانا چاہیے تھا‘لیکن مارشل لا کے تحت سارے احکام اور سزائوں کو انڈمنٹی ایکٹ کے تحت بر قرار رکھا گیا تھا ‘اس لیے یہ سزائیں مارشل لا اٹھ جانے کے باوجود بھی قائم اور جاری تھیں ۔

ملک غلام محمد گورنر جنرل کی حکومت مولانا مودودی صاحب کو ۱۴ سال قید با مشقت کی سزا دے کر مطمئن ہو گئی کہ ان کی مولانا مودودی صاحب اوران کی اسلامی دستور کی تحریک سے جان چھوٹ گئی اور اب وہ اپنا من مانا سیاسی نظامِ حکومت ‘پاکستان پر مسلط کر سکیں گے ۔ لیکن کارساز مابکارِ کارِما۔ہوا یہ کہ نواب زادہ لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدین ملک کے وزیر اعظم بن گئے تھے۔ مولوی تمیز الدین خاں صاحب پہلی دستور ساز اسمبلی جو ملک کی پارلیمنٹ بھی تھی اس کے صدر تھے‘ ان کا موقف یہ تھا: ’’سلطنت بر طانیہ نے اقتدار مجلس دستور سازکو منتقل کر کے اس کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ پاکستان کے لیے دستور مملکت وضع کر کے اقتدار باشندگان پاکستان کو منتقل کرے‘ اس لیے اب جو دستور اور قانون بھی یہ مجلس دستور ساز کی حیثیت سے بنائے اس کے لیے گورنر جنرل جو ملکہ بر طانیہ کا نمایندہ ہے اس کی منظوری اور دستخطوں کی ضرورت نہیںہے۔ وہ مجلس دستور ساز کے صدر مولوی تمیز الدین خاں کی منظوری اوردستخطوں سے قانون اورملک کا دستور بن جائے گا‘‘۔ چنانچہ لاہور کے مار شل لا اٹھنے کے بعد جو انڈ منٹی ایکٹ ‘مجلس نے پاس کیا تھا اس پر گورنر جنرل ملک غلام محمد صاحب کے نہیں‘ بلکہ مولوی تمیز الدین صاحب کے دستخط کرائے گئے تھے اور مار شل لا اٹھ جانے کے بعد اس کی کارروائیوں اور فیصلوں کو مستقل حیثیت دے دی گئی تھی ۔ لیکن ملک غلام محمد صاحب گورنر جنرل کے مجلس دستور ساز اور پارلیمنٹ کو توڑنے کے حکم کے خلاف مولوی تمیز الدین صاحب کے مقدمے میں جسٹس محمد منیر صاحب چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ان کے   بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ پاکستا ن کی پارلیمنٹ خواہ پارلیمنٹ کی حیثیت سے یا مجلس دستور ساز کی حیثیت سے کوئی کارروائی کرے‘ اس کا کوئی فیصلہ گورنر جنرل کی منظوری کے بغیر قانونی صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ مجلس کا پاس کر دہ انڈمنٹی ایکٹ بے اثر اور کالعدم ہو گیا‘ کیونکہ اس پر گورنر جنرل کے دستخط نہیں تھے۔اس لیے جماعت اسلامی نے مولانا مودودی صاحب کی سزا کو کالعدم کرانے کے سلسلے میں لا ہور ہائی کورٹ میں میاں منظور قادر ایڈوو کیٹ کے ذریعے سے رٹ دائر کردی اور ہائی کورٹ نے رٹ منظور کرتے ہوئے سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کو رہا کرنے کا حکم دے دیا‘ چنانچہ مولانا مودودی صاحب ۲۸ مئی ۱۹۵۵ء کو ڈسٹرکٹ جیل ملتان سے رہا ہوکر گھرآ گئے۔

مولانا مودودی صاحب کی سزا ے موت کے خلاف رٹ کی اس کارروائی کو اللہ تعالیٰ نے میاں منظور قادر صاحب کو منکر خدا سے ایک مومن و مسلم میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بھی بنا دیا ۔ ہو ا یوں کہ اس سلسلے میں ان سے میرا رابطہ اور بے تکلفی ہوئی تو میں نے ایک روزتفہیم القرآن کا پورا سیٹ لے جا کر میاں منظور قادر صاحب کی خدمت میں پیش کیاتو انھوں نے فرمایا:’’میاںصاحب‘ آپ کو تو معلوم ہو گا کہ میں تو خدا کو نہیں مانتا‘‘۔ میں نے عرض کیا:’’میاں منظورقادر صاحب‘ آپ نے ہزاروں کتابیں ہر فن میں پڑھی ہیں‘ ان کو بھی پڑھ ڈالیں۔آپ کو معلوم تو ہو کہ مولانا مودودی کیا کہتے ہیں اور کیسے آدمی ہیں؟‘‘چنانچہ انھوں نے تفہیم القرآن کا سیٹ لے کر رکھ لیا ۔

میاں منظور قادر صاحب کچھ عرصے بعد جگر کے کینسر میں مبتلا ہو گئے۔ وہ علاج کے لیے  سی ایم ایچ لاہور میں داخل ہو گئے ۔میں ان کی عیادت کے لیے گیا تو کافی مضحمل تھے۔ مجھ سے فرمایا :

Mian Sahib, now I have made peace with my Lord.Now I am prepared to meet Him.

اور کچھ عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا ۔ انّا للہ و انّا الیہ راجعون!

  • مولانا مودودی صاحب کو چا ر مرتبہ گرفتار کیا اور جیل بھیجا گیا ۔ پہلی مرتبہ ۴  اکتوبر۱۹۴۸ء کو جہاد کشمیر کے بارے میں جھوٹا الزام لگا کر اور اس بار مو لانا امین احسن اصلاحی صاحب کو اور مجھے بھی ان کے ساتھ گرفتار کر کے نیو سینٹرل جیل ملتان میں نظر بند رکھا گیا اور ۲۰ ماہ بعد اس وقت رہا کیا گیا‘ جب ایک اور نظر بند ی کے سلسلے میں ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دے دیا کہ پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بندی میں دو مرتبہ ہی چھے چھے ماہ کی تو سیع ہو سکتی ہے ۔ اس سے زیا دہ تو سیع نہیں ہوسکتی۔ ہم لوگ اس وقت اسی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت تیسری تو سیع کے تحت قید بھگت رہے تھے۔ اس لیے ہم لوگوں کو بھی حکومت کو رِہا کرنا پڑا۔
  • دوسری مرتبہ مولانا مودودی صاحب لاہورشہر کے مار شل لا کے تحت ۲۸ مارچ ۱۹۵۳ ء کو گرفتار ہوئے تو ان کے ساتھ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب اور میرے علاوہ جماعت کے ۵۵‘۵۶ نمایاں ارکان بھی گرفتار کر لیے گئے۔ مولانا مودودی صاحب کو سزاے موت اور بعد ازاں اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا گیااور وہ ۲۶ ماہ بعد اس بنا پر رہا ہوئے کہ جس انڈ منٹی ایکٹ کے تحت مولانا کی سزا بر قرارتھی وہی خلاف قانون پایاگیا ۔
  • تیسری مرتبہ مولانا مودودی صاحب ۴ جنوری ۱۹۶۴ء کو جماعت اسلامی خلافِ قانون قرار دیے جانے پر گرفتار ہوئے اور ان کے ساتھ جماعت کے ۵۵‘ ۵۶ دوسرے سرکردہ ارکان جماعت بھی گرفتار ہوئے۔ پھر مولانا مودودی صاحب اور دوسرے سب نظر بند بھی ۹ ستمبر ۱۹۶۴ ء کو اس وقت رِہا ہوئے‘ جب کہ سپریم کورٹ پاکستان نے جماعت پر پابند ی کو منسوخ اور مولانا مودودی سمیت تمام نظربند ارکانِ جماعت کی رہائی کا حکم دے دیا ۔
  • چوتھی مرتبہ مولانا مودودی صاحب ۱۹۶۷ ء میں اس لیے گرفتار اور نظر بند کیے گئے کہ عیدالفطر‘ جمعہ یا جمعرات کو پڑ رہی تھی اور جنرل محمد ایوب خاں صاحب کو ان کے بعض درباریوں نے ڈرا دیاتھا کہ عید جمعہ کے روز ہوئی تو دو خطبے ہوں گے‘یعنی ایک عید کا اور دوسر ا جمعہ کا ‘اور ایک دن میں دو خطبوں کا ہونا حکومت کے لیے منحوس اور خطرہ بھی ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ جنرل محمد ایوب صاحب نے اپنے خوشامدی علما کے ذریعے چاند بدھ کی شام کو ہی دکھا دیا تا کہ عید جمعرات کو ہی ہو جائے ۔ مولانا مودودی صاحب اور تین چار اور بڑے علماے کرام نے سرکاری چاند کوماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر جنرل محمد ایوب صاحب کی حکومت نے مولانا مودودی صاحب کو گرفتار کر کے راتوں رات لاہور سے لے جا کر بنوںمیں نظر بند کر دیا اور دو ماہ بعد ان کو رِہا کیا ۔

مو لانا سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب گردے میں پتھری کے لیے ۴۳-۱۹۴۲ء سے ہی مریض تھے ۔ ۱۹۴۶ء میں امرتسر کے سول ہسپتال میں ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب اور ڈاکٹر غلام محمد بلوچ صاحب نے ان کے گردے سے چھ پتھریاں نکالیں لیکن کچھ عرصے کے بعد وہ پھر بننا شروع ہوگئیں ۔ پہلے یہ مسلسل تکلیف کی موجب رہیں اور مو لانا اسی حال میں اپنے سارے کام کرتے رہے‘ یہاں تک کہ آخر کار ۱۹۶۸ء میں لندن میں ڈاکٹروں نے یہ گردہ ہی نکال دیا۔ اسی وجہ سے اس کے بعد انھوں نے اپنا قائم مقام بھی بنانا شروع کر دیا ‘اور آخر کار ۱۹۷۲ء میں امارت کابارمزید اٹھانے سے بالکل ہی معذرت فر ما دی ۔ واللّٰٰہ المستعان!