وہ محنت کش ہاتھ جو زندگی سے لڑتے ہیں، قسم قسم کے بوجھ ڈھوتے ہیں، لگاتار کام کرتے ہیں، بہت طاقت ور ہوتے ہیں۔ وہ پُرعزم پاؤں جو نشیب میں لپکتے ہیں، بلندیوں پہ چڑھتے ہیں، پلٹتے ہیں، جھپٹتے ہیں اور بلا تکان چلتے ہیں، بڑے مضبوط ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس حرکت کی برکت سے محروم ہو تو جسم ناتواں، کمزور و مضمحل ہوجاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اصول عقل پر بھی صادق آتا ہے۔
وہ انسان جو ذہنی کاہلی میں مبتلا ہوں، جو ریلز، شارٹس اور سستے ڈوپامین کی لت کے شکار ہوں، جنھیں لمبے مضامین اور موٹی کتابوں سے وحشت ہوتی ہو، جو مشاہدے و مطالعے سے گھبراتے ہوں، جو تین، چار اور پانچ کو جمع کرنے کے لیے بھی کیلکولیٹر نکال لیتے ہوں، جو چیٹ جی پی ٹی کا دامن تھامے بغیر چار لائن کا ای میل لکھنے پر قادر نہ ہوں، جن کے حافظے میں دو چار چھوٹی سورتوں کے علاوہ نہ حدیثیں ہوں، نہ دعائیں اور نہ اذکار۔ جنھیں نہ پہاڑے یاد ہوں اور نہ فون نمبر اور راستے۔ جو ہر کام کے لیے موبائل کے محتاج ہوں ، ان کی ذہنی صلاحیتیں وقت کے ساتھ ساتھ ماؤف ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ان کی عقل کا وہی حال ہوتا ہے جو غذا اور ورزش سے محروم کسی جسم کا ہوا کرتا ہے۔
مطالعہ ذہن کی غذا ہے اور تفکر و تدبر اس کی ورزش! جو انسان پڑھتے ہیں، دنیا کو شعور کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، کائنات میں اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر کرتے ہیں، اپنے ذہن و دانش کی اعلیٰ صلاحیتوں کو مرکوز کرکے مسائل کا حل ڈھونڈتے ہیں، تلاشِ حق میں سرگرداں رہتے ہیں، انھیں فراست، دانائی اور بصیرت کے خزانے نصیب ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہیں دُور اندیش، ذہن چست، شعور پختہ و پائیدار، تفکر عمیق اور عقل فرقان ہوجاتی ہے۔
’عقل‘ اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ ’عقل‘ حق و باطل، صحیح و غلط، نفع و نقصان، اور خیر و شر کا شعور بخشتی ہے۔ اسی کے فیصلوں پر ہماری زندگی کا دار و مدار ہے اور اسی کی وجہ سے ہم عند اللہ جوابدہ ہوں گے۔ ابن رشد کے مطابق جو تعلق محسوسات کا قوت حاسہ سے (یعنی منظر کا آنکھ سے، خوشبو کا ناک سے، یا ذائقے کا زبان سے) ہے وہی تعلق معقولات کا عقل سے ہے۔ ان معنوں میں عقل قابلِ فہم باتوں کو سمجھنے کی حس، بالفاظِ دیگر ’قوتِ ادراک‘ کا نام ہے۔ عقل کمال کے حصول کا ذریعہ ہے۔ مطالعہ، تحقیق و تفکر اس کی غذا ہے۔ حق کو پالینا اس کا منتہائے مقصود ہے۔
ابن رشد (پ:۱۱۱۶ء)زور دیتے ہیں کہ سعادت کا حصول اسی طور پر ممکن ہے کہ پوری عمر مطالعہ و مجاہدہ میں گزار دی جائے۔ جو ایسا نہ کرسکے، وہ ناکام و نامراد ہے۔ اپنی کتاب فصل المقال فیما بین الحکمۃ والشریعۃ من الاتصال میں ابن رشد نے آیات قرآنی اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ ’تعقل و تفکر واجب ہے‘۔ گویا فکروتدبر کی صلاحیت رکھنے والوں کے لیے ذہنی تعطل اور کاہلی، اللہ کی دی ہوئی نعمت کے ساتھ بدترین خیانت ہے۔ واضح رہے کہ یہ بات انھوں صرف شرعی علوم کے تناظر میں نہیں کہی بلکہ اس پر فلسفہ و منطق کے حوالے سے بھی زور دیا، کیونکہ یہ علوم بھی انسان کو حقیقت کا ادراک کراتے ہیں۔ لہٰذا، مسلمان حکمت کے ان خزانوں سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔
یقیناً ابن رشد فلسفہ اور شریعت کے ظاہری تضاد کو دُور کرنے کے لیے کوئی فعال لائحہ عمل نہیں دے سکے۔ وحی کی تاویل و تمثیلی تعبیر کا جو راستہ انھوں نے دکھایا اس کی افادیت مشکوک ہے، لیکن ان کا یہ خیال کہ فلسفہ و شریعت باہم رفیق، مددگار بلکہ رضاعی بھائی ہیں اور دونوں میں کوئی حقیقی تضاد نہیں ہے کیونکہ حق حق کو رَد نہیں کرتا۔ یہ بات جہاں فلسفے پر ان کے یقین کی مظہر ہے، وہیں شریعت پر ان کے پختہ ایمان کی بھی علامت ہے۔ ان مباحث کی تفصیل کے لیے ان کی کتاب الکشف عن مناہج الادلۃ فی عقائد الملۃ کا مطالعہ مفید ہوگا۔
ابن رشد نے اس نامعقول مگر مشہور خیال کی تردید کی کہ ’’فلسفے کا مطالعہ انسان کو کفروضلالت کی راہ پر ڈال دیتا ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ’’ بادی النظر میں فلسفے کے مطالعے سے گمراہ ہونے والے کی گمراہی کا اصلی سبب نفس فلسفہ نہیں بلکہ مطالعے کے دوران مغالطہ یا نفسانی اغراض کا غلبہ ہے۔ ایک طالب علم کو مطالعہ کے دوران صحیح علمی و روحانی رہنمائی میسر آئے تو مغالطوں سے بچا جاسکتا ہے‘‘۔ ان کے نزدیک ’’اہل نظر و بصیرت کا فلسفہ پڑھنا ناگزیر ہے کیونکہ ایک فلسفی ہی باتوں کی جڑ اور گہرائی میں اُترنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس صلاحیت کے بغیر نصوص کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا اور عصرِ حاضر میں ان کا انطباق (adaptation) دشوار ہے‘‘۔
ابن رشد تعقل کے پُرزور داعی ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ’’ہر بات خود نہیں جانی جاسکتی، لہٰذا اسلاف کی علمی پیش رفت سے بے نیاز ہوکر پہیے کی ایجادِ نو میں مہلتِ عمر گنوا دینا حماقت ہے۔ عقل مندی، پیش رو محققین کی تحقیقات سے استفادے میں ہے۔ البتہ اس استفادے کے دوران اندھی عقیدت سے اجتناب ضروری ہے‘‘۔ ابن رشد انسانی عقل کے ثمرات کو آنے والی نسلوں کے لیے بہترین ورثہ سمجھتے ہیں، لیکن اصرار کرتے ہیں کہ ’’اس ورثے پر غور و فکر اور اس کا محاکمہ ضروری ہے‘‘۔ وہ خود بھی تحقیق و تنقید کی اسی روش کو پسند کرتے ہیں اور پیش رو مفکرین کی کتابوں میں بیان کردہ حق کو شکریے کے ساتھ قبول کرتے ہیں، اور ساتھ ہی جس بات کو غلط سمجھتے ہیں اسے رد کرکے نئی راہ نکالنے میں کسی قسم کا تکلف نہیں کرتے۔
ابن رشد کی علمی آراء سے اسی طرح اختلاف کیا جاسکتا ہے، اور کیا جانا چاہیے، جیسا کہ خود انھوں نے اپنے پیش رو مفکرین سے کیا، لیکن ان کا علمی کام اور تحقیقی و تنقیدی فکر آج بھی طلبہ و محققین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
ابن رشد آج سے تقریباً ۹۰۰ برس پہلے، قرطبہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان علم و فقہ کی روشن روایات کا امین تھا۔ ان کے دادا اور پھر والد نے بھی قرطبہ کے ’قاضی القضاۃ‘ (چیف جسٹس) کے طور پر اپنے فرائض انجام دیے تھے۔ ایک تعلیم یافتہ گھرانے کے چشم و چراغ ہونے کے علاوہ ابن رشد خود ایک ذہین و فطین طالب علم تھے۔ والد کی نگرانی میں انھوں نے قرآن مجید کے ساتھ ساتھ مؤطا امام مالک بھی حفظ کرلی تھی۔ انھیں ادب سے بھی دلچسپی تھی چنانچہ حبیب ابوتمام (۸۰۴ء-۸۴۶ء)اور متنبی (۹۲۰ء- ۹۶۵ء)کا کلام انھیں زبانی یاد تھا۔ انھوں نے فقہ، کلام، فلسفہ، ریاضی اور طب کی تعلیم بھی وقت کے مایہ ناز اساتذہ سے حاصل کی اور بہت جلد علم کے اُفق پر آفتاب بن کر طلوع ہوئے۔
ابن رشد صرف کتابی مطالعے کے نہیں بلکہ اولو الالباب کے مصداق کائنات میں اللہ کی نشانیوں پر غور و تدبر کے قائل تھے۔ بچپن ہی سے ان کی عادت تھی کہ وہ گھنٹوں آسمان میں اجرامِ فلکی کا مشاہدہ کیا کرتے تھے۔ ان کی شہرت یقیناً بطور فلسفی ہوئی، لیکن علم فلکیات میں ان سے کئی فلکیاتی مشاہدات بھی منسوب ہیں۔ مراکش کی رصدگاہ میں اپنے مشاہدات کے دوران انھوں نے ایک نیا ستارہ ’سہیل‘ (Canopus) دریافت کیا۔ اس دریافت سے انھوں نے زمین کے گول ہونے کے دلائل اخذ کیے۔ انھوں نے کائنات سے متعلق کلاؤ دیوس بطلیموس (۱۰۰ء-۱۷۰ء) کے نظریے پر تنقید کی اور کائنات کی توضیح کے لیے نئے ماڈل پیش کیے۔ ابن رشد کی فلکیاتی خدمات کے اعتراف میں مریخ و مشتری کے درمیان واقع ’حلقۂ سیارچگان‘ (Asteroid belt) کے ایک سیارچےکو ان کے نام سےمعنون کیا گیا ہے، اسے Averroes 8318 کہتے ہیں۔
طب کے میدان میں بھی ابن رشد کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ خصوصاً ان کی الکلیات فی الطب کو خداداد شہرت اور مقبولیت ملی۔ سات جلدوں پر مشتمل اس طبی انسائیکلوپیڈیا میں جسم کو لاحق ہونے والے تمام امراض اور ان کے علاج پر مبنی معلومات کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ فلسفے میں استغراق نے ابن رشد کو استقلال کے ساتھ طبی تجربات کی فرصت نہیں دی۔ اس کے باوجود اس میدان میں بھی ان سے کئی اوّلیات منسوب ہیں، مثلاً:
حکیم جالینوس کے نظریات کی تنقیح پر ابن رشد نے تقریباً دس رسائل تصنیف کیے۔ اسی طرح کلیات میں دوران خون اور جراثیم سے متعلق ان کی توضیحات ولیم ہاروے (۱۵۷۸ء- ۱۶۵۷ء) اور لوئس پاسچر (۱۸۲۲ء-۱۸۹۵ء)کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔ انھوں نے تریاق پر ایک رسالہ لکھا تھا جو بڑا مقبول ہوا۔ کلیات اور ان کے دیگر طبی رسائل کے لاطینی، عبرانی و دیگر یورپی زبانوں میں ترجمے کیے گئے اور صدیوں تک وہ یورپ کی یونی ورسٹیوں میں داخلِ نصاب رہے۔ ابن رشد نے مراکش میں شاہی طبیب کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
علمی و تصنیفی مشاغل کے ہمراہ ابن رشد ایک زمانے تک قرطبہ اور اشبیلیہ میں قاضی کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ہوئے۔ علم فقہ میں ابن رشد کی تصانیف میں سے بدایۃ المجتہد و نہایۃ المقتصد فقہی احکام و مسائل سے متعلق مختلف آراء کے تقابلی مطالعہ پر ایک رجحان ساز کتاب ہے۔ کسی ایک مسلک کی آراء کی تعلیم و تفہیم کے بجائے یہ کتاب ان کے اس نظریے کی آئینہ دار ہے کہ فقہی مسائل میں صحیح رائے تک پہنچنے کا طریقہ تقلید جامد نہیں بلکہ عقلی استدلال ہے۔ ان کی کتاب فقہی اختلافات کو عقل کی عدالت میں پیش کرنے، اختلافات کے اسباب پر غور و خوض کرنے، اور فقہاء کی جانب سے مختلف آرا ءکے حق میں پیش کیے گئے دلائل کی تفتیش و تجزیے کے بعد قرآن و سنت کے مطابق اقرب الی الصواب رائے تک پہنچنے کی ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔
امتحان ہی زندگی کی اصل ہے۔ لہٰذا، ابن رشد کو بھی اضطراب اور پیچ و تاب کے ایک کٹھن دُور سے گزرنا پڑا۔ حاسدوں کو ان کی یہ عزت افزائی راس نہ آئی۔ انھوں نے بادشاہ کے کان بھرنے شروع کیے۔ ابن رشد کی تحریروں کو سیاق و سباق سے کاٹ کر عجیب و غریب معنی پہنائے گئے اور ان پر الحاد و زندقہ کا الزام لگا۔ پھر ابن رشد کے بیباک سیاسی افکار نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ دراصل اسلامی تاریخ کے تجزیاتی مطالعے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ’’دورِ نبوی ؐ اور خلفائے راشدینؓ میں حکومت جمہوری و شورائی اصولوں پر عامل تھی۔ اس کے بعد ملوکیت کا دور شروع ہوا اور حکومت کی یہ اسلامی شناخت مسخ ہوتی چلی گئی‘‘۔ ابن رشد کی کتابوں میں حریت افکار کی دعوت، جمہوریت و شورائیت کی وکالت، سیاسی آزادی کی باتیں، اور آمریت پر جارحانہ تنقید، ملوکیت کے دور میں باغیانہ قرار پائیں۔ درباری سازشوں کا شکار ہوکر ابن رشد کو شہر بھر میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی کتابوں کو نذرِ آتش کیا گیا، اور انھیں ایک دُور دراز گاؤں میں نظر بند کردیا گیا۔
ابن رشد مضبوط اعصاب اور اعلیٰ کردار کے مالک تھے۔ انھوں نے ایام جلاوطنی و اسیری کا صبر و استقامت سے سامنا کیا۔ ان کی زندگی کا یہ مشکل مرحلہ بھی علمی مجاہدے سے عبارت رہا۔ حالات کی ناسازگاری کو بالائے طاق رکھ کر وہ پورے انہماک سے مطالعہ و تفکر، درس و تدریس، اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے۔ الیسانہ نامی جس گاؤں میں انھیں نظر بند کیا گیا تھا، وہاں یہودی خاطر خواہ تعداد میں بستے تھے۔ ابن رشد کی قید ان یہودیوں کے لیے بڑی سودمند ثابت ہوئی۔ چنانچہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں یہودیوں کو بھی ان سے علمی استفادے کا موقع ملا۔ بعدازاں یہ طلبہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے یورپ کے لیے علم کے مینارۂ نور ثابت ہوئے۔
یورپ پر ابن رشد کے علمی احسانات کی تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان کی فلسفیانہ کاوشوں پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔
فلسفہ، ابن رشد کی خصوصی توجہ کا مرکز تھا۔ ان کی اکثر تصانیف فلسفیانہ مباحث سے متعلق ہیں۔ اس ضمن میں ابن رشد نے ارسطو (۳۸۴ ق م-۳۲۲ ق م)کی تقریباً تمام کتابوں کی شرحیں لکھیں۔ یہ شرحیں تین طرح کی ہیں:
ابن رشد کی شرحیں محض فکرِ ارسطو کی جگالی نہیں ہیں بلکہ اپنی ایک اجتہادی شان رکھتی ہیں۔ ان شروحوں، بالخصوص شروحات کبریٰ، میں ارسطو کے افکار کی توضیح کے ساتھ ساتھ ابن رشد کے طبع زاد خیالات کا اظہار بھی ہوا ہے۔ ارسطو کی کم از کم پانچ کتابوں پر ابن رشد نے تینوں طرز کی شرحیں لکھی ہیں۔ ان میں الطبیعیات، مابعدالطبیعیات ، النفس، السماء اور البرھان شامل ہیں۔
ابن رشد کی ان علمی فتوحات کی قدر مسلم دنیا سے بڑھ کر یورپ میں ہوئی۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے یورپ کے لیے ابن رشد کی حیثیت شارحِ ارسطو، مجددِ فلسفۂ یونان اور مسیحائے علم کی تھی۔ ابن رشد نے افلاطون کی The Republic کی جو شرح لکھی، وہ یورپ میں جدید سیاسی فلسفے کا ایک اہم ماخذ بنی۔ ارسطو کا فلسفہ یورپ میں ابن رشد کے واسطے سے پہنچا۔ یورپ میں علمی بیداری اور نشاتِ ثانیہ کے سارے نقیب ابن رشد کے خوشہ چیں اور احسان مند تھے۔
جارج سارٹن لکھتے ہیں:’’ابن رشد کی عظمت اس زبردست اثر میں ہے، جو انھوں نے کئی صدیوں تک انسانی ذہنوں پر ڈالا۔ رشدیت کی تاریخ سولھویں صدی کے آخر تک پہنچتی ہے، یعنی چار صدیوں کا ایسا زمانہ جو قدیم اور جدید دور کے درمیان ایک حقیقی عبوری مرحلہ تھا‘‘۔ اس زمانے میں ابن رشد کی ایسی علمی دھاک بیٹھی تھی کہ اہل علم ان کا نام لینے کے بجائے صرف The Commentator لکھتے تھے، اور پڑھنے والے جان جاتے تھے کہ کس عظیم الشان علمی ہستی کا تذکرہ ہورہا ہے۔ دھیرے دھیرے ابن رشد یورپ کے اہل علم و دانش کے لیے باوثوق ترین حوالے کی حیثیت اختیار کرگئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ کتب مقدسہ کے بعد سب سے زیادہ مقبول ابن رشد کی کتابوں کے تراجم تھے۔ آج انٹلکچول کہلانے کی آس میں لوگ جس طرح ہائیڈیگر، فوکو، سارتر، گرامسی، اور چومسکی وغیرہ کی مالا جپتے ہیں، ویسے ہی اس وقت یورپ میں شائقینِ علم ابن رشد کے مداح تھے اور ان کا حوالہ دینا مہذب، بیدار مغز، تعلیم یافتہ اور عقلیت پسند ہونے کی علامت تھی۔
موسیٰ بن میمون اور جرسونیدس جیسے یہودی فلسفی نیز سیجر برابانتی، پیترو بومپوناتسی اور جان بیکنتھارپ جیسے عیسائی فلسفیوں پر ابن رشد کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ تھامس ایکویناس جیسے عیسائی متکلم و پادری اور راجر بیکن، ڈیکارٹ، گلیلیو، لیونارڈو ڈاونچی، برونو اور نیوٹن جیسے ارباب علم و سائنس بھی اپنی کتابوں میں ابن رشد کے افکار و دلائل کی جگالی کرتے یا ان سے مکالمہ کرتے نظر آتے ہیں۔ پیرس یونی ورسٹی، پیڈوا یونی ورسٹی، اوکسفرڈ یونی ورسٹی اور یورپ کی دیگر دانش گاہوں میں ابن رشد کا جادو کئی صدیوں تک سر چڑھ کر بولتا رہا۔اس کے اثرات تو ہونے ہی تھے سو ہو کر رہے۔ آہستہ آہستہ یورپ کی فضا بدلنے لگی، اندھی تقلید کے بجائے عقل پر زور دیا جانے لگا، علم کا شوق بڑھا، بیداری آئی، غیرمشروط اطاعت کے بجائے سوالات پوچھے جانے لگے۔
عیسائیت کی فرسودہ تعلیمات کے خلاف ایک بغاوت کی سی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ جن کی روزی روٹی اور قوت و اقتدار، عقل و خرد پر کلیسائی تسلط سے وابستہ تھی وہ تشویش و توحش میں مبتلا ہوگئے۔ اہل کلیسا نے پایا کہ اس آزاد خیالی کے اصل محرک ابن رشد کے افکار ہیں۔ لہٰذا، ان کی کتابوں کی خرید و فروخت اور افکار کی اشاعت پر پابندی لگادی گئی۔ ۱۲۷۰ء کی دہائی میں متعدد مذہبی مجالس منعقد ہوئیں، جن میں پابندی کے اس عزم کی تائید کی گئی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دی گئیں۔
سیجر برابانتی اور بوئیتھیئس دانمارکی پیرس یونی ورسٹی میں استاد تھے۔ دونوں ابن رشد کے افکار کے شیدا اور درس و تدریس کے ذریعے ان افکار کی اشاعت کرتے تھے۔ ابن رشد کے افکار سے اُلفت میں سیجر نہ صرف یہ کہ ریکٹر نہیں بن سکے بلکہ انھیں پیرس چھوڑ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس پر بھی گلو خلاصی نہیں ہوئی۔ انھیں کیتھولک عقائد سے انحراف پر تعذیب کے لیے کلیسائی عدالت (Inquisition Court) میں طلب کیا گیا، بعد میں پُراسرار حالات میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ ۱۲۷۷ء کی کلیسائی مذمتوں کے بعد بوئیتھیئس کا کیا بنا، کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ہم نہیں جانتے کہ کلیسائی استبداد سے بچنے کے لیے انھوں نے گمنامی کی زندگی اختیار کرلی یا اپنے افکار و نظریات کی قیمت اپنی جان سے چکائی۔ یہ ایک دو افراد کی نہیں، دو چار نسلوں کی سرگزشت ہے۔
ابن رشد کے خلاف جم کر پروپیگنڈا کیا گیا۔ انھیں الحاد کا علَم بردار گردانا گیا۔ اٹلی کے مصوروں نے مختلف چرچوں میں ابن رشد کے اہانت آمیز خاکے بنائے، جن میں وہ متکلم عیسائیت تھامس ایکویناس کے سامنے شکست خوردہ حالت میں نظر آتے ہیں۔ دانتے نے اپنی مشہورِ زمانہ رزمیہ ڈیوائن کامیڈی میں ابن رشد اور ابن سینا کی روحوں کو جہنم میں دکھایا ہے۔
البتہ یہ جھوٹ، پروپیگنڈا، اور ظلم و ستم ابن رشد کے اثرات پر غالب نہ آسکے۔ یورپ میں ابن رشد کے افکار سے ایک پورا مکتبۂ فکر وجود میں آیا، جسے Averroism کہتے ہیں۔ ابن رشد کے نظریات نے یورپ کے جاہلی معاشرے کی فرسودہ روایات کے خلاف ایک طوفان برپا کردیا۔ علم اور عقل کی تحریک زور پکڑ گئی، یہاں تک کہ عیسائیوں کے متعدد کلامی فرقے بھی اس پکار سے متاثر ہوئے اور پروٹسٹنٹ تحریک کے محرک ثابت ہوئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابن رشد کو ’بابائے عقلیت‘ (Father of Rationalism) بھی کہا جاتا ہے۔
ابن رشد کے افکار نے اس مستقبل کو (جو آج ہمارے لیے ماضی ہے) جس شان سے سینچا اس کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے، البتہ ہمارے سامنے جو اصل سوال ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ آج ہم ابن رشد سے کیا سیکھ سکتے ہیں ؟
ایک جملے میں کہا جائے تو ’’ابن رشد علمی تنقید کے مشکل محاذ پر ایک قابل تقلید نمونہ ہیں‘‘۔ پروفیسر ارنسٹ رینان لکھتے ہیں:’’مطالعہ اور علم و فضل کے معاملے میں دوسرے دانش ور بھی ابن رشد کے ہمسر ہوسکتے ہیں، لیکن جو چیز ابن رشد کو ممیز و ممتاز کرتی ہے وہ ان کی قوتِ تنقید ہے۔ اساطینِ علم و فکر کے بڑے ناموں اور عظیم کارناموں سے مرعوب ہوئے بغیر نفس مسئلہ پر مرکوز ہونا اور دلائل کو تحلیل و تجزیہ کی کسوٹی پر پرکھنا علمی تنقید کے لیے شرطِ اول ہے۔ اتنی ہی اہم یہ بات ہے کہ شخصیات کا احترام ملحوظ خاطر رہے، ان کی علمی خدمات کا صدق دل سے اعتراف کیا جائے، اور تنقید کسی صورت بھی تنقیص میں نہ ڈھلنے پائے۔ ابن رشد علمی تنقید کے ان دونوں معیارات پر کھرے اُترتے ہیں۔
ابن رشد نے علم فلکیات میں بطلیموس پر، علم طب میں جالینوس پر، اور علم فلسفہ میں الفارابی، ابن سینا اور امام غزالی جیسے صاحب الرائے مفکرین کے نظریات پر جرح کی ہے۔ ان کی عالمانہ تنقید سے ارسطو کے نظریات بھی مامون نہیں رہے۔ وہ ارسطو کے شارح کی حیثیت سے ضرور جانے جاتے ہیں، لیکن سچی بات یہ ہے کہ علم فلکیات سے لے کر علم نفسیات تک مختلف مسائل میں انھوں نے کھل کر ارسطو کی آراء سے اختلاف کیا ہے۔ ایک طرف یہ تنقید و اختلاف ہے تو دوسری طرف ابن رشد کے علمی کاموں میں ارسطو کی ہر کتاب کی شرح، بطلیموس کی المجسطی کا خلاصہ، اصول فقہ پر امام غزالی کی المستصفٰی کا اختصار، اور جالینوس کے طبی نظریات پر دسیوں رسائل شامل ہیں۔ عورتوں کے سماجی کردار کے تعلق سے ان کے نظریات اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ ابن رشد اپنے معاشرتی ماحول کی حدبندیوں کے اسیر نہ تھے۔ اہل علم کو اسی طرح اپنے زمانے کے فکری افق کی توسیع کا علَم بردار ہونا چاہیے۔
ان کی تصانیف میں تہافت التہافۃ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ امام غزالی کی تہافت الفلاسفہ کا جواب ہے۔ یہ کتاب ابن رشد کے علمی و تنقیدی اپروچ کا زریں شاہکار ہے۔ ابن رشد غزالی کے دلائل نقل کرتے ہیں اور ایک ایک کرکے ان کا جواب دیتے جاتے ہیں۔ وہ فلسفیوں کی تکفیر کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے:’’جن مسائل میں فلسفیوں کی تکفیر کی جاتی ہے ان کی تاویل و تعبیر کے ایسے طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں، جن سے فلسفہ و شریعت میں تصادم نہ ہو‘‘۔ انھوں نے متعدد مسائل میں اس بات کو تسلیم کیا کہ غزالی کی تنقید صحیح ہے لیکن اس بات پر زور دیا کہ ان مسائل میں فلاسفہ بالخصوص ارسطو کی رائے وہ نہیں ہے، جس پر تنقید کی گئی ہے، بلکہ یہ آراء غلط تشریحات کے نتیجے میں ارسطو سے منسوب ہوگئی ہیں۔ ارسطو کے نظریات کی غلط تشریح و تعبیر کے لیے ابن رشد نے ابن سینا اور فارابی پر تنقید کی ہے۔ اس سلسلے میں ان کے کچھ رسائل مثلاً مقالہ فی منہج الفارابی فی المنطق، مسائل فی کتاب الشفاء، الرد علی ابن سینا فی تقسیم الموجودات، اور المقال علی اراء الفارابی علی القیاس وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
ابن رشد بیدار ذہن کے مالک ہی نہیں وسیع القلب اسکالر بھی تھے۔ وہ صرف مطالعے کی وسعت اور تصانیف کی کثرت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق و کردار کی مناسبت سے بھی طلبہ و نوجوانوں کے لیے ایک آئیڈیل ہیں۔ ابن رشد نے اپنے سرمایۂ علم پر کبھی غرور نہیں کیا۔ بڑی انکساری کے ساتھ انھوں نے ہر آن اس پر توجہ دی کہ وہ کیا نہیں جانتے ہیں، اور جو نہیں جانتے اسے جاننے کے لیے عمر بھر مطالعہ و تفکر میں لگے رہے۔ وہیں دوسری طرف ان کی شخصیت میں عزّتِ نفس اور خود اعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ وہ بادشاہ کے سامنے عام درباریوں کے تذلیل آمیز اور خوشامدانہ رویوں سے نالاں اور مجتنب رہے۔ انھوں نے اپنے حاسدوں اور دشمنوں سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے مجمع عام میں ابن رشد کو سخت سُست کہا۔ ابن رشد نے اس آدمی سے بھلے طریقے سے بات کی، اس کا شکریہ ادا کیا کہ اس کے ذریعہ انھیں اپنے حلم اور عفو و درگزر کی صلاحیت کو آزمانے کا موقع ملا۔ مزید یہ کہ اس گستاخ کو تحفے تحائف کے ساتھ رخصت کیا۔ یہ ان کے اعلیٰ اخلاق اور تحمل کی ایک مثال ہے۔
ابن رشد وقت کے صحیح استعمال کے معاملے میں بھی مشعل راہ ہیں۔ انھوں نے مہلت زندگی کی ہر ساعت کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ دربار اور عدالت کی مصروفیات سے لے کر قید وبند کی پُرمشقت ساعتوں تک ابن رشد نے مطالعہ، تفکر و تدبر اور تصنیف و تالیف کا دامن تھامے رکھا۔ ۱۱۹۸ءمیں انتقال سے پہلے اپنی ۷۲ سالہ زندگی میں انھوں نے فلسفہ، علم کلام، طب، فقہ، قانون، نحو و صرف، طبیعیات، ریاضیات، اخلاقیات، حیوانیات اور فلکیات پر تقریباً ڈیڑھ سو کتب و رسائل تصنیف کیے۔ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی انھیں احساس تھا کہ کچھ بھی نہیں ہوسکا۔
لکھتے ہیں: ’’میں مجبور ہو گیا ہوں صرف اہم مسئلوں تک محدود رہنے پر۔ میری مثال اس شخص کی سی ہے، جس کے چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہو، اور جس کے لیے اتنا موقع نہ ہو کہ وہ بے حد ضروری چیزیں بھی ساتھ لے جا کر جان بچا سکے‘‘۔ خود کو اہم مسائل تک محدود کرلینے کے باوجود اگر علمی تصانیف کا ایسا عظیم الشان ذخیرہ وجود میں آسکتا ہے، تو اس بات کا شاید اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا، کہ اگر مثالی حالات میسر آتے اور وہ خود کومحدود نہ کرتے تو ان کی علمی فتوحات کا کیا عالم ہوتا!
فی الوقت ابن رشد کے تعلق سے قابل ذکر اور قابل قدر بات یہ ہے کہ کفر و الحاد کے جھوٹے الزامات، جلاوطنی اور قید، حاسدوں کی سازشیں، متعدد عیسائی فرقوں کی مخالفت، متعصب مسیحی مصوروں اور ادیبوں کی اہانت، پادریوں کی متفقہ مذمتوں اور کتابوں کو نذر آتش کیے جانے کے باوجود آج بھی ابن رشد اپنی عقل کے ثمرات میں زندہ ہیں ،اور ہم سب کے لیے ذوقِ مطالعہ، علو تفکر، قوتِ تنقید، بلندئ کردار، وقت کی قدر اور صبر و توکّل کے حوالے سے روشن مثال ہیں۔
_______________
عمر کیسی ہی دراز ہوجائے، چار دن کی چاندنی ہوتی ہے۔ دو دن آرزو اور دو انتظار میں کٹ جاتے ہیں، پھر انسان خود کو رخت ِسفر باندھ لینے پر مجبور پاتا ہے۔ صبح شام ہونے اور عمر تمام ہونے کی یہ کہانی انسانوں کے انبوہ عظیم کی داستانِ حیات ہے۔ جو چند مستثنیٰ ہوتے ہیں، وہ وقت اور صلاحیتوں کی قدر کرکے کسی مخصوص میدان میں انسانیت کے قافلے کو ذرا آگے لے جاتے ہیں۔ ان کا یہ اختصاص انسانیت کی عظیم خدمت شمار ہوتا ہے اور تاریخ انھیں محسنوں کی حیثیت سے یاد رکھتی ہے۔ البتہ خال خال کچھ ایسے دیدہ ور بھی پیدا ہوتے ہیں، جو کسی ایک صلاحیت کی فصل لگاکر عمر بھر اسی کھیتی کو جوتنے کے بجائے اپنی شخصیت میں صلاحیتوں کا ایک باغ لگاتے ہیں۔ وہ فطرت کے عطا کردہ بالقویٰ جواہر کی ہمہ جہت پرداخت پر کچھ ایسی توجہ صرف کرتے ہیں کہ ہر جوہر اپنی جگہ آفتاب بن جاتا ہے۔ ابن سینا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ منٹ، سیکنڈ اور ماہ و سال کے اعتبار سے ان کی ۵۷ سالہ زندگی اور عام زندگیوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، لیکن زندگی کے ہر لمحے کی انھوں نے کچھ ایسی قدر کی کہ آج بھی ان کی فکری فتوحات کا پورا مال غنیمت اکٹھا نہیں کیا جاسکا ہے۔ ایک سنجیدہ، ذہین، اور محنتی طالب علم کے لیے وہ بجا طور پر ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ابن سینا افشنہ (مضافات بخارا)میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد حکومت کی جانب سے ملکی اُمور کی انجام دہی پر مامور تھے۔ ابتدائی تعلیم وطن ہی میں حاصل کی۔ ذہنی استعداد خداداد تھی، اس پر علمی تجسس، فکری ذوق ، اور تحقیقی مزاج سونے پر سہاگہ تھا۔ زبان و ادب اور علومِ دینیہ کی تحصیل کے ساتھ ساتھ دس برس کی عمر میں قرآن کے حفظ سے فارغ ہوئے۔پھر فقہ، فلسفہ و ریاضی کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کے شوق اور لگن کا یہ عالم تھا کہ ۱۶ برس کی عمر تک رائج علوم و فنون پر عبور حاصل کرلیا۔ واضح رہے کہ ابن سینا کے لیے ان کے والد نے وقت کے بہترین اساتذہ کے ذریعے گھر پر ہی تعلیم کا انتظام کیا تھا۔لیکن بیٹے کی ذہانت و ذکاوت اور استعداد علمی کی وجہ سے کسی لائق استاد کی تلاش خود ان کے والد کے لیے ایک خوش گوار پریشانی بن گئی تھی۔حصولِ علم کے جنون میں ابن سینا نے ایک سبزی فروش سے ہندستانی ریاضی اور ایک عیسائی مسافر سے طب یونانی کے ابتدائی درس لیے۔
طبرستان کے ابو عبداللہ ناتلی جب بخارا آئے تو ابن سینا کے والد نے انھیں اپنے یہاں جگہ دی۔ ایک بڑے عالم کی قدردانی کے علاوہ ابن سینا کو استفادے کا موقع بہم پہنچانا بھی مقصود تھا۔ ان سے ابن سینا نے منطق کے بنیادی مسائل سیکھے، اور ذاتی مطالعے سے دقیق مسائل تک رسائی حاصل کی۔ پھر تو حالت یہ ہوگئی کہ بطلیموس اور اقلیدس کی کتابوں کے ان مسائل کو بھی خود حل کرنے لگے، جن کے استاذ محترم بھی متحمل نہ تھے۔ ابن سینا کے علمی شوق، سرعت مطالعہ، دورانِ درس سوالات و اعتراضات اور بحث و مباحثے سے استاذ کو شاگرد کے علمی مقام کا اندازہ ہوگیا۔ انھوں نے ابن سینا کے والد سے کہا کہ اس لڑکے کو علم کے علاوہ کسی اور کام میں مصروف نہ کریں۔
کثرتِ مطالعہ کا ایک فتنہ یہ ہے کہ انسان بے سمجھے بوجھے حروف پر نظر کی اسکیننگ سے مطمئن ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ابن سینا معلومات، دقیق نکات، اور فلسفیانہ دلائل کو اپنے فہم کا حصہ بنانے کے حریص تھے۔ چنانچہ ارسطو کی مابعد الطبیعۃ کے مطالب ان پر نہ کھلے تو انھوں نے اس کتاب کا چالیس چالیس مرتبہ مطالعہ کرڈالا۔ اور پھر جب فارابی کی شرح سے ارسطو کی گرہیں کھلیں تو سجدۂ شکر بجا لائے اور فرحت و انبساط کے عالم میں فقراء و مساکین کو دل کھول کر صدقہ دیا۔
ابن سینا جب طب کی طرف متوجہ ہوئے تو ایک آدھ برس ہی میں یعنی عمر کی اٹھارھویں منزل پر پہنچتے پہنچتے یہ استعداد حاصل کرلی کہ باقاعدہ علاج معالجہ کرنے لگے۔سیکھنے کا ایسا جنون تھا کہ اپنے مطب میں مریضوں کا مفت علاج کرتے، مرض کی علامات کو باقاعدہ نوٹ کرتے اور وجوہ پر غور کرتے۔ اس طرح اپنے قاموسی دماغ میں کتابی معلومات کے ساتھ ساتھ ذاتی تجربے کی حکمتوں کا خزانہ بھی جمع کیا۔ جلد ہی ان کی طبی مہارت و تحقیقات کی دھوم مچ گئی۔ انھیں سلطانِ بخارا کے علاج کے لیے شاہی دربار بلایا گیا۔ جہاں بڑے بڑے اطباء نے ہاتھ کھڑے کردیے تھے، وہاں اس نوعمر حکیم نے سلطان کو پیروں پر کھڑا کردیا۔ کوئی اور ہوتا تو اس کامیابی پر بادشاہ سے دنیا جہان کی دولت مانگ لیتا، لیکن ابن سینا نے شاہی کتب خانے سے استفادے کی اجازت مانگی۔ شاید نادر و نایاب کتب کی معیت ہی ابن سینا کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی دولت تھی۔
طب میں ابن سینا کو یہ درجہ اس وجہ سے بھی حاصل ہوا کہ انھوں نے اس علم کو مروجہ رجحانات سے آگے لے جانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ مثلاً انھوں نے یونانی مسلمات سے ہٹ کر یہ تصور پیش کیا کہ مختلف بیماریوں کے لیے جراثیم ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انھی بنیادوں پر لوئی پاسچر نے انیسویں صدی میں Immunologyکی پوری عمارت تعمیر کی۔ ابن سینا کی القانون اور دیگر طبی کتابوں کے مطالعے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ وہ طب میں دواؤں کے ذریعے علاج کے یک رُخے تصور کے بجائے صحت کے سلسلے میں ایک جامع نقطۂ نظر کے حامل ہیں، جس میں پرہیز، غذا ، پانی، نیند، آب و ہوا، نفسیات، طرز زندگی،جسمانی سرگرمی وغیرہ عوامل کےاپنے خصوصی مقام کو تسلیم کیا گیاہے۔ ان کے تجویز کردہ نسخوں میں بھی مریض کی عمر، وزن اور کھانے پینے کے معمولات کے اعتبار سے اختلاف نظر آتا ہے۔ انھوں نے علم طب میں سائنٹی فک تجربے کی بنیاد ڈالی، اور ان شرائط کا تفصیل سے ذکر کیا، جن کے پورے ہونے پر دوا کا اثر معلوم کیا جاسکے۔ جدید آلات اور ٹکنالوجی کی عدم موجودگی میں بھی انسانی اعضاء بالخصوص آنکھ جیسے نازک عضو کی معیاری تشریح بھی ان کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ ذیابیطس، موتیابند، ذات الصدر، اور گردن توڑ بخار وغیرہ پر ابن سینا کے تحقیقی مشاہدات سے بظاہر یکساں علامات کے حامل مختلف امراض کے درمیان خطِ امتیاز واضح ہوا۔ ابن سینا نے بتایا کہ ٹی بی متعدی بیماری ہے، نیز طاعون کی وبا میں چوہوں کے مسموم کردار کی پیش گوئی کی جو بعد میں صحیح ثابت ہوئی۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران ہر کوئی قرنطینہ (Quarantine)سے واقف ہوگیا ہے، لیکن اس حقیقت سے بہت سے لوگ لاعلم رہے کہ ٹھوس طبی بنیادوں پر سب سے پہلے ابن سینا ہی نے متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ۴۰دنوں کے قرنطینہ کا تصور دیا تھا۔
فلسفے کے میدان میں ابن سینا کے اثرات دیر پا ہیں۔وہ محض یونانی فلسفے کے شارح نہیں تھے، ان کا خیال تھا کہ قدما کی کتابوں کی شروحات سے آگے بڑھ کر اپنا فلسفہ مدون کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں ابن سینا کو بجا طور پر یونانی فلسفہ اور مشرقی حکمت کا جامع کہا جاتا ہے۔ ایک نامور فلسفی ہونے کے باوجود ابن سینا نے انسان کی قوتِ خیال کو ناقص قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قوتِ فکر و خیال آزاد نہیں ہے،منطق کی محتاج ہے۔ جس طرح کوئی قیافہ شناس کسی فرد کے ظاہر سے اس کے باطن پر گمان قائم کرتا ہے، اسی طرح منطق داں معلوم مقدمات سے نامعلوم نتائج کا استنباط کرتے ہیں۔ ابن سینا کے مطابق اس عمل میں غلطیوں اور تعصبات کی آمیزش کا احتمال قوی ہوتا ہے، لہٰذا منطق سے یقینی علم حاصل نہیں ہوتا، وحی الٰہی سے ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کے سایۂ عاطفت میں انسان منطق سے اس طور پر غنی (بے نیاز) ہوجاتا ہے جیسا کہ کوئی عرب بدو علمِ صرف و نحو سے۔
ابن سینا کا اختراعی ذہن اپنے زمانے سے بہت آگے تھا۔ ان کا مبلغ علم کتب بینی سے آگے بڑھ کر تجربات تک وسیع تھا۔ انھوں نے فکری وعملی ہر دو طرح کے تجربے کیے۔ مثلاً ’الرجل المعلق‘ (The Floating Man)کے فکری تجربے (Thought Experiment) کے ذریعے انھوں نے شعور اور روح کے غیر مادی وجود کو ثابت کیا ہے۔ تقریباً چھ سو برسوں کے بعد ڈیکارٹ کا یہ کہنا کہ I think therefore I am،ابن سینا کے اسی فکری تجربے کو خراج عقیدت محسوس ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک مثال اس عملی تجربے کی ہے، جس میں ابن سینا نے دو بھیڑ کے بچوں کو لیا جن میں عمر، نسل، جسامت، اور وزن کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں تھا۔ ان دونوں بھیڑوں کو الگ الگ پنجروں میں رکھا گیا۔ ایک تیسرے پنجرے میں ایک بھیڑیے کو بھی بند کیا گیا اور اسے ذرا دور کچھ اس زاویے سے رکھا گیا کہ ایک بھیڑ کے بچے کو بھیڑیا نظر آتا مگردوسرے کو دکھائی نہیں دیتا۔دونوں بھیڑ کے بچے اس ایک معمولی فرق کے علاوہ بالکل یکساں ماحول میں تھے، انھیں غذا بھی ایک سی دی جارہی تھی۔ابن سینا نے یہ نوٹ کیا کہ جس بھیڑ کے بچے کی نظر سے بھیڑیا دور تھا وہ صحت مند رہا، لیکن جس بھیڑ کے بچے کو بھیڑیا دکھائی دیتا تھا، اس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بوکھلاہٹ، سراسیمگی، اور دیوانگی کے آثار پائے جانے لگے۔ اس کی نشوونما متاثر ہونے لگی، وزن بھی گھٹنے لگا، حتیٰ کہ ایک دن وہ مرگیا۔ بھیڑیے کی دسترس سے بظاہر محفوظ رہنے کے باوجود بھیڑ کے بچے کا جو حال ہوااس سے ابن سینا نے خوف، دہشت، گھبراہٹ، اور منفی سوچ جیسے غیر مادی عوامل کے صحت پر اثرات کو ثابت کیا ہے۔
قصہ المختصر یہ کہ ابن سینا کے تجسس و جستجو اور پیہم سرگردانی میں ہمارے لیے سبق ہے۔ ان کی طبی و فلسفیانہ کتابیں ہی نہیں بلکہ مذہبی مضامین، صوفیانہ رسائل، متفرق اشعار و مضامین بھی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی انشاپردازی بھی غضب کی تھی۔ منطق و فلسفہ اور طب کی کتابوں کی خوب صورت اور بلیغ نثر میں اہل ذوق کو شاعری کا مزہ ملتا ہے۔
مشہور ہے کہ تنوع، گہرائی اور وسعت کے اعتبار سے سمندر بے مثال ہوتے ہیں، لیکن ابن سینا کی علمی کاوشوں کے تنوع، فکر و فلسفے کی گہرائی، اور اختصاصی میدانوں کی وسعت بحر الکاہل اور بحراوقیانوس کو شرماتی ہے۔ ڈی بورو نے لکھا ہے: ’’ابن سینا میں بیک وقت اتنے اوصاف و کمالات یکجا ہوگئے تھے کہ اہل یورپ انھیں ’جادوگر‘ کہا کرتے تھے‘‘۔ ایک عام انسان حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ ابن سینا، ربِّ ذوالجلال سے کتنی زندگیاں مانگ لائے تھے۔ لیکن ایک عقل مند جانتا ہے کہ زندگی میں کامیابی کا اصل راز ماہ و سال کی کثرت تعداد پر نہیں بلکہ ہر گزرتے لمحے کی استعداد سے بھرپور استفادے پر ہے۔
خود ابن سینا کا قول ہے کہ میں مختصر مگر کشادہ زندگی کو لمبی مگر تنگ زندگی پر ترجیح دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ لغویات و کسل مندی کے پھندوں اور تنگ و محدود زندگی کی لعنت سے حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنی مہلت عمل کے احسن اور بہترین استعمال کی توفیق دے، آمین!
گھر سے آگ کی لپٹیں اٹھ رہی ہوں، والدین، بیوی بچے، بھائی بہن سب جھلس رہے ہوں اور کوئی شخص دور محلے کے کسی گھر میں لگی آگ بجھانے میںمشغول ہو،تو آپ اسے کیا کہیںگے؟ بیوقوفی؟ پاگل پن؟ جہالت؟ اب صورت حال ذرا بدل کر غور کرتے ہیں۔ گھر سے آگ کی لپٹیں اُٹھ رہی ہوں، گھر والے جھلس رہے ہوں اور کوئی شخص ملک بھر کے دورے کرکے آگ بجھانے کی ترکیبوں پر تقریریں کرتا پھرے، تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ کاہلی؟ بزدلی؟ یا ذمہ داری سے فرار؟ یہ حرکت کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ کیوں نہ انجام دی جائے، اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص تہجد پڑھنے کے لیے فجر قضا کرنے کو اپنا معمول بنالے۔ یقینا ایسے شخص کو یہی مشورہ دیاجاسکتا ہے کہ ہوسکے تو وہ تہجد اور فجر دونوں کو نبھالے یا پھر تہجد ترک کردے۔
اسلام دینِ فطرت ہے جس میں کوئی ایچ پیچ نہیں ہے اور اس کی حکمتیں بے شمار ہیں۔ وحی الٰہی کی نگرانی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں ہمیں جو تدریج نظرآتی ہے، وہ بھی حکمتوں سے لبریز ہے۔ ختمِ نبوت سے سرفراز کیے جانے کے بعد آپؐ نے سب سے پہلے اپنے قریب ترین لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا۔ پھر خاندان اور قبیلے والوں تک دین کا پیغام پہنچایا اور پھر اہل مکہ کو عمومی دعوت دی۔ اس کے بعد مختلف قبائل تک اسلام کا پیغام پہنچایا، طائف کا سفر کیا اور مدینہ میں اسلام کا پودا لگایا۔ ہجرت کے بعد دعوت کاپیغام جزیرۂ عرب کے کونے کونے تک پہنچانے کااہتمام کیا، جس کے لیے متعدد دعوتی وفود بھیجے گئے۔ بالآخر دعوتی خطوط کے ذریعے عالم گیر پیمانے پروقت کی عظیم سلطنتوں کو اسلام کے سایۂ عاطفت میں آجانے کی تلقین کی گئی۔
بعض لوگوں کاخیال ہے کہ آپؐ نے کسی اسلامی ریاست کے قیام یا اسلامی نظام کی اقامت کے لیے شعوری کوشش نہیں کی تھی بلکہ اقتدار بطورِ انعام خود بخود ’نازل‘ ہوگیاتھا۔ بالکل اسی طرح بعض لوگ مندرجہ بالا تدریج کو بھی محض اتفاقی امر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس کی حکمتوں پرغور کرنا انتہائی آسان ہے۔ مثال کے طورپر دعوت کی اس نبویؐ ترتیب کو اُلٹ دیاجائے اور دعوت کی ابتدا مختلف بادشاہوں کو خطوط بھیجنے سے ہوتو اس کے غیرمنطقی ہونے پر شاید کسی کو تعجب نہ ہو۔ لیکن پتے کی بات تو یہ ہے کہ اگر ایک مرحلے سے پہلے دوسرا مرحلہ آجائے تو یہ بھی کچھ کم نقصان دہ نہیں۔ مثال کے طورپر قریب ترین اور ہمراز لوگوں کو پیغام دینے سے پہلے اگر خاندان اور قبیلے والوں کو دعوت دی جاتی یا خاندان اور قبیلے والوں سے قبل سارے شہر مکہ کو، تو کیا ہوتا؟پہلی صورت میں داعی اعظم ؐ اس اخلاقی تعاون سے محروم ہوجاتے جو حضرت خدیجہؓ،حضرت ابوبکرؓ، حضرت زیدؓاور حضرت علیؓ کی صورت میں آپؐ کو ملا۔ پھر دنیا بھر کی مخالفتوں پر آپؐ کے زخمی دل پر کون مرہم رکھتا؟ بھری محفل میں انتہائی دلگداز انداز میں یہ پوچھنے پر کہ ’کون میرا ساتھ دے گا؟‘ آخر کون اٹھتاکہ ’اللہ کے رسولؐ میں آپ کاساتھ دوںگا‘۔
اسی طرح سامنے کی بات ہے، رشتے داروں میں بھی عام طورپر شادی کا پیغام نہ پہنچنے پر باوجود جاننے کے لوگ شریک نہیں ہوتے کہ بھئی ہمیں تو دعوت نہیں دی گئی۔ خاندان کے معاملے میں دین کا قصہ یہی ہے۔ جب مکہ بھر میں اسلام کاآواز ہ گونج اُٹھتا اور بیرونی ذرائع سے ﴿نہ کہ آپؐ کے ذریعے آپؐ کے خاندان کو اس کی خبر لگتی، تو خاندان بھر کو شکایت ہوتی کہ ہم یہ کیسی اجنبی صدا سن رہے ہیں، آپؐ نے ہمیں تو اس کے بارے میں کبھی بتایا نہیں، اور نہ ہمیں اعتماد میں لیا؟
آپؐ کے اسوے پر چل کر دنیا میں شہادتِ حق کا فریضہ انجام دینے والوں اوراقامتِ دین کی راہ پر چلنے والوں کے لیے تو اس اسوے پر چلنا ناگزیرہے۔ جملۂ معترضہ کے طورپر یہ عرض ہے کہ مراحل کی اس تقسیم میںتسلسل پایا جاتاہے اورقرآن میں ایک نہیں متعدد مقامات پر اہلِ ایمان کو اپنے خاندان کی اصلاح کی طرف متوجہ کیاگیا ہے اور کہیں کہیں اندازِ بیان اتنا خوف ناک ہے کہ دل دہل جاتاہے: ’’اپنے قریب ترین رشتے داروں کو ڈراؤ‘‘۔(الشعراء۲۶:۲۱۴﴾)
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے دادا کی اولاد کو جمع کرکے خطاب فرمایا: ’’اے بنی عبدالمطلب! اے عباس، اے صفیہ ﴿آپؐ کی پھوپھی ﴾ اور اے فاطمہؑ بنت محمدؐ! تم لوگ آگ کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کرلو، میںخدا کی پکڑ سے تم کو نہیں بچاسکتا۔ البتہ میرے مال میں سے تم جو چاہو مانگ سکتے ہو‘‘۔ پھر کوہ صفاپر، یاصباہ حاہ کی صدا بلند فرمائی اور قریش کے ہر قبیلے کو نام بنام آواز دی۔ جب سب جمع ہوگئے تو دریافت کیاکہ ’’اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کی دوسری جانب ایک بھاری لشکر ہے جو تم پر ٹوٹ پڑنا چاہتا ہے تو کیا تم یقین کروگے؟‘‘ لوگوں نے یک زبان ہوکر کہاکہ ’’ہم نے آپ کو ہمیشہ سچ بولتے ہوئے پایا ہے‘‘۔ ان سے یہ اقرار کرالینے کے بعد آپؐ نے کہا: ’’اچھا تو میں خدا کا سخت عذاب آنے سے پہلے تم کو خبردار کرتا ہوں۔ اپنی جانوں کو اس کی پکڑ سے بچانے کی فکر کرو۔ میں خدا کے مقابلے میں تمھارے کسی کام نہیں آسکتا۔ قیامت میں میرے رشتے دار صرف متقی ہوں گے۔ ایسا نہ ہوکہ دوسرے لوگ نیک اعمال لے کر آئیں اور تم دنیا کا وبال سر پر اٹھائے ہوئے آؤ۔ اس وقت تم پکاروگے:’’یا محمدؐ! مگر میں مجبور ہوںگا کہ تمھاری طرف سے منہ پھیرلوں۔ البتہ دنیا میں میرا اور تمھارا خون کا رشتہ ہے اور یہاں میں تمھارے ساتھ ہر طرح کی صلہ رحمی کروںگا‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اپنے اہل وعیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو۔( طہٰ۲۰:۱۳۲﴾)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔(التحریم۶۶: ۶)
مولانا مودودیؒ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری صرف اپنی ذات ہی کو خدا کے عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظامِ فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے، اس کو بھی وہ اپنی حدِاستطاعت تک ایسی تعلیم وتربیت دے جس سے وہ خدا کے پسندیدہ انسان بنیں، اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جارہے ہوں تو جہاں تک اس کے بس میں ہو، ان کو اس سے روکنے کی کوشش کرے۔ اُس کو صرف یہی فکر نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے بال بچے دنیا میں خوش حال ہوں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اسے یہ فکر ہونی چاہیے کہ وہ آخرت میں جہنم کاایندھن نہ بنیں‘‘۔(تفہیم القرآن، ج۶،ص ۲۹-۳۰)
نعیم صدیقی لکھتے ہیں: ’’قرآن کریم کے طالب علم کی توجہ اس امر پر بھی جانی چاہیے کہ یہ سورۂ تحریم کی آیت تھی، جس کے شروع میں ازواجِ مطہراتؓ کی طرف سے ایک طرح کی محاذ آرائی کرکے دباؤ ڈالنے کی کوشش کا ذکر ہے۔اسی واقعے کو پس منظر میں رکھ کر مسلم سوسائٹی کو خصوصی توجہ دلائی گئی کہ اگرتم اپنے گھروں کی فضا کو دین کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ نہ کرلوگے تو تمھارے نظامِ معاشرت میں خلل آجائے گا اور تمھارے گھروں میں ہی مخالفانہ محاذ قائم ہوجائیں گے، جو تمھاری قوتوں کو اپنی طرف متوجہ کرکے تمھیں دشمنوں اور شریروں کی سرکوبی کے قابل نہیں چھوڑیں گے‘‘۔
جان رکھو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں۔(الانفال ۸:۲۸﴾)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمھاری بیویوں اور تمھاری اولاد میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں، اُن سے ہوشیار رہو… تمھارے مال اور تمھاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں۔(التغابن۶۴:۱۴-۱۵﴾)
ان آیات کی تفسیر میںمولانا مودودیؒ فرماتے ہیں:
ہوتایہ ہے کہ شوہر اگر نیک اور ایماندار ہے تو بیوی اور اولاد اُسے ایسی ملتی ہے جو اس کی دیانت و امانت اور راست بازی کو اپنے حق میں بدقسمتی سمجھتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ شوہر اور باپ اُن کی خاطر جہنم مول لے اور ان کے لیے حرام و حلال کی تمیز چھوڑکر ہرطریقے سے عیش و طرب اور فسق و فجور کے سامان فراہم کرے۔ اور اس کے برعکس بسااوقات ایک نیک مومن عورت کو ایسے شوہر سے سابقہ پیش آتاہے، جسے اس کی پابندیٔ شریعت ایک آنکھ نہیں بھاتی، اور اولاد بھی باپ کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی گمراہی اور بدکرداری سے ماں کی زندگی اجیرن کردیتی ہے۔ پھر خصوصیت کے ساتھ جب کفرو دین کی کش مکش میں ایک انسان کے ایمان کا تقاضا یہ ہوتاہے کہ اللہ اور اس کے دین کی خاطر نقصانات برداشت کرے، طرح طرح کے خطرات مول لے، ملک چھوڑکر ہجرت کرجائے، یا جہادمیں جاکر اپنی جان تک جوکھوں میں ڈال دے، تو سب سے بڑھ کر اس کی راہ میں اس کے اہل وعیال ہی رکاوٹ بنتے ہیں۔(تفہیم القرآن، ج۵، ص۵۴۴)
انبیاؑ نے اپنے بیوی بچوں کی ذمہ داری کو واقعی آزمائش سمجھاتھا اور ان کی اصلاح وتربیت سے ہرگز غافل نہیں تھے۔ احساسِ ذمہ داری اور احساسِ جواب دہی کی حد یہ تھی کہ بسترِ مرگ پر بھی بے چین تھے۔ ارشاد خداوندی ہے:
جب یعقوبؑ کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے بچوں سے پوچھا:بچّو! میرے بعد تم کس کی بندگی کروگے؟(البقرہ۲:۱۳۲﴾)
قرآن کریم میں اپنے بچوں کے لیے حضرت ابراہیمؑ کی یہ وصیت بھی محفوظ ہے:
میرے بچو! اللہ نے تمھارے لیے یہی دین پسند کیا ہے، لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا۔(البقرہ۲:۱۳۱﴾)
اورلقمان حکیم کی یہ نصیحت بھی :
بیٹا! خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا… وہ باریک بین اورباخبر ہے۔ بیٹا! نماز قائم کر، نیکی کاحکم دے، بدی سے منع کر، اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر… اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑکرچل… اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز ذرا پست رکھ۔(لقمان۳۱:۱۳-۱۹﴾)
خاندان میں دعوت کاکام واقعی کوئی کھیل نہیں، طرح طرح کی رکاوٹوں کاسامنا ہوسکتاہے۔ انسان کو تعلقات کے بگاڑ اور طعنوں کااندیشہ ہوتاہے۔ پہلی بار جھجک محسوس ہوتی ہے، لیکن اس ذمہ داری سے فرار ممکن نہیں۔ مولانا سیّد جلال الدین عمری کہتے ہیں:
روایات سے معلوم ہوتاہے کہ جب آیت وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۲۱۴ۙ (الشعراء ۲۶:۲۱۴) نازل ہوئی تو آپؐ نے محسوس کیاکہ بڑی مشکل ذمہ داری آپؐ پر آن پڑی ہے۔ خاندان کی طرف سے اور قریب ترین افراد کی طرف سے اس کی مخالفت ہوسکتی ہے، لیکن اللہ کے فرشتے جبرئیلؑ نے کہاکہ آپ کو اس حکم پر لازماً عمل کرنا ہوگا، ورنہ اللہ کے ہاں بازپُرس ہوگی۔ اس حکم کے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر قبیلے کی مختلف شاخوں میں سے ایک ایک کا نام لے کر انھیں جمع کرکے دعوتِ دین پیش کی۔
آگے بڑھنے سے پہلے ایک واقعہ درج کرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے: ایک شناسا اور تحریک اسلامی کے سرگرم کارکن سے سرِراہ ملاقات ہوگئی۔ کچھ گفتگو کے بعد میں نے ان سے عرض کیا: ہماری طلبہ تنظیم کا ایک تزکیہ کیمپ ہونے والا ہے، اس میں وہ اپنے بیٹے کو ضرور بھیجیں۔ یہ سنتے ہی انھوںنے ہاتھ کھڑے کرلیے: ’آپ خود کیوں نہیں کہتے؟‘ میں نے کہاتھا ’لیکن مجھے یقین ہے کہ ہر بار کی طرح صرف میرے کہنے پر وہ نہیں آئے گا، آپ اس کے ابّا ہیں، آپ کہیںگے تو وہ نہیں ٹالے گا‘۔ جواب میں فرمانے لگے: ’بھئی میں اس قسم کی باتیںاس سے نہیں کرتا،ایک نہ ایک دن اسے سمجھ آہی جائے گی۔ ویسے بھی دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی تو ہے نہیں، لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ۔ میں نے عرض کیا: ’زبردستی کرنے کو کب کہہ رہاہوں؟ صرف یہ کہہ رہاہوں کہ آپ صرف ایک بار اچھی طرح کہہ کر دیکھیں‘۔ مگر اُن صاحب نے بات ٹال دی۔ لیکن اصرار پر انھوں نے بیٹے سے کہہ ہی دیا۔ نتیجہ یہ کہ بیٹے نے ﴿اپنے والد کے کہنے پر اس تزکیہ کیمپ میں شرکت کی اور اس کے بعد سے پابندی سے ہماری سرگرمیوں میں حصہ لینے لگا۔
اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۲۱۴ۙ کے ضمن میں مولانا مودودیؒ کا یہ تفسیری نوٹ بھی ملاحظہ فرمایئے: ’’معاملہ صرف اس حد تک نہیںتھاکہ قرآن میں اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۲۱۴ۙ کا حکم آیا اور حضوؐر نے اپنے رشتے داروں کو جمع کرکے بس اس کی تعمیل کردی۔ دراصل اس میں جواصول واضح کیاگیاتھا وہ یہ تھاکہ دین میں نبی اور اس کے خاندان کے لیے کوئی امتیازی مراعات نہیں ہیں جن سے دوسرے محروم ہوں۔ جو چیز زہرِ قاتل ہے وہ سب ہی کے لیے قاتل ہے۔ نبی کا کام یہ ہے کہ سب سے پہلے اس سے خود بچے اور اپنے قریبی لوگوں کو اس سے ڈرائے، پھر ہر خاص و عام کو متنبہ کردے کہ جو بھی اسے کھائے گا، ہلاک ہوجائے گا۔ اور جو چیز نافع ہے وہ سب ہی کے لیے نافع ہے، نبی کا منصب یہ ہے کہ سب سے پہلے اسے خود اختیار کرے اور اپنے عزیزوں کو اس کی تلقین کرے،تاکہ ہر شخص دیکھ لے کہ یہ وعظ و نصیحت دوسروں ہی کے لیے نہیں ہے،بلکہ نبی اپنی دعوت میں مخلص ہے‘‘۔( تفہیم القرآن، ج۳،ص ۵۴۳)
ذہن نشین کرلینے کی بات یہ ہے کہ بچہ آرٹس لینا چاہتاہے اور والدین دھونس جماکر اسے سائنس دلادیتے ہیں اور اسے زبردستی نہیں سمجھتے حالانکہ یہ زبردستی ہے۔ وہ اپنا بزنس کرنا چاہتاہے اسے ایم بی بی ایس میں گھسادیتے ہیں حالانکہ یہ بھی زبردستی ہے۔ لیکن جب وہ تنظیم کے ہفتہ وار پروگرام میں نہیں آتا، دینی مطالعہ نہیں کرتا، نمازوں سے غفلت برتتا ہے تو اس پر ٹوکنے کے بجائے، جھٹ سے لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی چٹان کے پیچھے جاچھپتے ہیں۔ حالانکہ یہ زبردستی نہیں ان کا فریضہ ہے۔
ایک مسلمان اگر اسلام کے وسیع تصور کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسلامی تحریک سے کسی بھی سطح پرقریب آتاہے، تو اس سے بجاطورپر یہ توقع ہوتی ہے کہ جس طرح وہ اپنے محلے،شہر اور ملک کو اسلامی خطوط پر چلانے کے لیے سعی و جہد کررہاہے، اس عمل میں وہ خاندان سے غفلت نہ برتے بلکہ اس پر خاص توجہ دے کہ اس جدوجہد میں اس کا خاندان اس کا دست و بازو ہو، اس کے پاؤں کی زنجیر نہ بنے۔ ایک مومن کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ خدا نہ کرے کل کو اس کے اپنے ہی قدم صراطِ مستقیم سے بھٹکتے ہیں تو کم از کم بیوی بچّے ایسے ہوں کہ اس گمراہی کا خیرمقدم کرنے کے بجائے، ہاتھ پکڑکر دوبارہ صحیح راستے پر لے آئیں۔ اگر ایسے پچاس ہزار مثالی خاندان ملک میں موجود ہوں کہ ایمان کی پختگی، عمل کی بلندی اور دینی غیرت میں فکروعمل کے بلند مرتبے پر فائز نظر آئیں، تو یہ ممکن نہیں کہ معاشرہ ان سے متاثر نہ ہو۔ ہمارا زور ایک فرد پر نہیں، ایک خاندان پر ہے۔
کوئی نوجوان اگر آج جاہلیت سے لتھڑے اس ماحول میں حق کو پہچان کر نکلتاہے مگر چار پانچ سال گزرنے پر بھی اس کے بھائی بہنوں کو نہیںمعلوم کہ تحریک کس چیز کانام ہے، اس کے والدین کو نظم کی ہوا تک نہیں لگتی، مگر دوسری جانب وہ اپنی ذات میں اقامتِ دین کا سودا سر میں سموئے معاشرے کی اصلاح اور ریاست کی تشکیل کابیڑا اٹھاتا ہے، اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو عار دلاتاہے کہ مسلمانوں نے قرآن جیسے نسخۂ کیمیا کو چھپارکھا ہے۔ مگر چراغ تلے اندھیرا وہ خود اپنے بیوی بچوں کو دین کے مکمل تصور سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت نہ سمجھے تو ایسی صورت میں دو میں سے صرف ایک بات کا احتمال ہوسکتا ہے: ﴿۱ن دونوں کو اپنے خاندان سے محبت نہیں ہے، ﴾یا تحریک سے ان کی کمٹمنٹ ناقص ہے۔
یہاں بڑا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم نہیں چاہتے کہ جب اللہ کو اپنا سب کچھ’قرض‘ میں دے دیں تو بیوی ہماری ’کم عقلی‘ پر ماتم کرنے کے بجائے بالکل ام دحداحؓکی طرح کہے: ’’ابودحداحؓ! یہ تو کافی نفع بخش تجارت رہی‘؟کیا ہم نہیں چاہتے کہ جب خداکی راہ میں نکلنے کا موقع آئے تو بجائے اس کے کہ ہمارے والد اپنے بڑھاپے کا حوالہ دے کر راستہ روکیں، حضرت عمروبن جموحؓکی طرح خود ہی کہیں کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو، یا حضرت سعد بن خیثمہؓکے والد کی طرح قرعہ اندازی پر آمادہ ہوجائیں کہ کون پہلے جائے گا؟ کیا ہم نہیں چاہتے کہ زندگی میں اگر عزّت و شہادت کی موت یا گیدڑوں کی زندگی میں سے کسی ایک کو چننے کا موقع آئے تو بوڑھی والدہ پاؤں کی زنجیر بننے کے بجائے حضرت اسماءؓکی طرح ’زرہ بکتر‘ اتار پھینکنے پر اُبھارے کہ یہ ’مردوں‘ کی شان سے فروتر ہے، اور حضرت خنساءؓکی طرح دشمن کی صفوں میں اندر تک گھس جانے کی تلقین کریں؟ کیا ہم نہیں چاہتے کہ جب شیطان ہم پر حاوی ہونے لگے، اور سستی و بے عملی سے آج کاکام کل پر یا صبح کاکام شام پر ٹالنے لگیں تو ہمارا ہی لخت جگر بالکل حضرت عمر بن عبدالعزیزؓکے بیٹے کی طرح معصومیت سے کہے: ’ابّا! کیاآپ کو یقین ہے کہ آپ شام تک زندہ رہیں گے؟‘ اس مثالی خاندان کا اگر واقعی ہم خواب دیکھتے ہیں تو کامیابی کا پہلا زینہ آپ چڑھ چکے ہیں۔ لیکن خواب صرف دیکھ لینے سے سچ نہیں ہوتے۔
اسی مقصد کے لیے تحریک نے ایک اور اہم پروگرام اجتماعِ اہل خانہ کا رکھا ہے۔ یہ بیوی بچوں کی تربیت کی خاطر بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ہفتے میں کم از کم ایک بار بھی اہلِ خانہ ایک دعوتی اجتماع کے لیے ایک آدھ گھنٹے کے لیے مل بیٹھیں تو پورے خاندان کی فضا پر بہت مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ محترم قاضی حسین احمد کے یہ الفاظ بہت اہم ہیں کہ: ’’اگر گھر میں بھی دعوتِ دین کا ماحول پیداہوجائے تو یہ ایک مسلم گھرانا قائم کرنے کے لیے بہت مددگار ثابت ہوسکتاہے۔ اپنی انفرادی تربیت اور مطالعۂ قرآن و حدیث کے بعد اپنے خاندان کی تعلیم و تربیت ہمارا سب سے اوّلین کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے واضح الفاظ میں ہمیں اس کی فکر کرنے کا حکم دیا ہے کہ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ دعوت کی حکمت عملی کے اعتبار سے خاندان کی اصلاح خشتِ اوّل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ درست ہوجائے تو پوری دیوار سیدھی کھڑی ہوتی ہے اور یہ کمزور یا ٹیڑھی رہے تو عمارت میں بھی ٹیڑھ رہے گی۔ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کام کی تدریج یہ ہے کہ مسلم فرد کی تربیت ہو، مسلم گھرانے کی تعمیر ہو، مسلم معاشرے کی تعمیر ہو اور مسلم حکومت کے ذریعے سے ان سب کو قوت عطا ہو اور انسان تہذیب و تمدن اور خیر و صلاح کا گہوارہ بن جائے گا‘‘۔