ستمبر ۲۰۲۰

فہرست مضامین

ایمان کا معیار

حسن البنا شہیدؒ | ستمبر ۲۰۲۰ | فہم قرآن

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا۝۰ۭ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ۝۰ۭ وَاِنْ تُطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ لَا يَـلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَـيْـــــًٔا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۱۴ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ۝۱۵ (الحجرات   ۴۹:۱۴-۱۵) یہ بدوی کہتے ہیں کہ ’ہم ایمان لائے‘۔ ان سے کہو، تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ’ہم مطیع ہوگئے‘۔ ایمان ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت اختیار کرلو تو وہ تمھارے اعمال کے اجرمیں بالکل کمی نہیں کرے گا، بلاشبہہ اللہ تعالیٰ بڑا درگزر کرنے والا اوررحیم ہے۔ حقیقت میں مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لائے پھر انھیں کوئی شک نہیں ہوا، اوراپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی سچے مومن ہیں۔

سورئہ حجرات کی مذکورہ آیات کے سلسلے میں امام بغویؒ کا خیال ہے کہ یہ آیات بنواسد کے اس وفد کے بارے میں نازل ہوئیں، جو قحط کے موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے اسلام کا اظہار کیا، حالانکہ حقیقت میں وہ مومن نہیں تھے۔

امام سدیؒ کہتے ہیں کہ ان آیات کا سبب ِ نزول وہ اعرابی ہیں، جن کا ذکر سورئہ فتح میں ہوا ہے۔ قبیلہ جہینہ، مزنیہ، اسلم اور غفار کے لوگ کہتے تھے کہ ’ہم ایمان لائے‘ تاکہ ان کی جان و مال محفوظ ہوجائے، لیکن جب یہ لوگ حدیبیہ کی طرف چلے گئے تو اپنی بات سے پھر گئے۔

بہرحال، آیات کا سبب ِ نزول جو بھی ہو، مگراس میں جو نکات بیان فرمائے گئے ہیں وہ گہرے غوروفکر کے طالب ہیں: پہلا نکتہ ایمان کی حقیقت اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات سے متعلق ہے اور دوسرا نکتہ ایمان و اسلام کا فرق ہے۔

ایمان کی حقیقت

ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک عقیدہ ہے جو دل میں راسخ ہوتا ہے، نفس پر غالب آتا ہے اورقلب پر حکمرانی کرتا ہے۔ اسی لیے بندئہ مومن ہروقت اپنے اس عقیدہ کو یاد رکھتا ہے، اس پر اپنی جان نثار کرنے کو تیاررہتا ہے اور اس کے راستے میں ہرطرح کی قربانی اس کا شعار اور   طرئہ امتیاز بن جاتی ہے۔ لیکن عزیز من! ایمان کے درجات مختلف ہوتے ہیں ، سب کا ایمان یکساں و برابر نہیں ہوتا۔ تم کسی چیز کی تصدیق کرتے ہو، اس کے بارے میں سنتے ہو مگر جب اس کے بارے میں پڑھتے ہو تواس پر تمھارا یقین و اعتماد پہلے سے بڑ ھ جاتا ہے۔ جب اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کرتے ہو تو یقین دل میں راسخ ہوجاتا ہے اورجب اس پر نگاہِ حقیقت پڑتی ہے اوراس کا ظاہروباطن سامنے آتا ہے تو یہ یقین اپنے کمال کو پہنچ جاتاہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ۝۸ۘ يُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝۰ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝۹ۭ فِىْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ۝۰ۙ فَزَادَھُمُ اللہُ مَرَضًا۝۰ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِـيْمٌۢ۝۰ۥۙ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ۝۱۰ (البقرہ ۲:۸-۱۰) بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکا بازی کررہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور اُنھیں اِس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اورزیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اُس کی پاداش میں ان کے لیے دردناک سزا ہے۔

ٹھیک اسی طرح ایمان باللہ کے بھی مختلف مدارج ہیں۔ کچھ لوگ محض ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اپنے دعویٰ ایمان میں جھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اورآخرت پرایمان لائے مگر حقیقت میں وہ مومن نہیں ہیں۔ وہ اللہ اور اہلِ ایمان کےساتھ دھوکا بازی کر رہے ہیں لیکن اصلاً وہ خوددھوکے میں مبتلا ہیں اورانھیں اس کا شعورنہیں ہے۔ ان کے دلوں میں مرض ہے جسے اللہ نے اور بڑھا دیا ہے اور ان کے اس جھوٹ کی پاداش میں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

انسانوں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو فراخی میں تو مومن ہوتی ہے مگر جب مصائب آتے ہیں تو اُلٹے پاؤ ں پھر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللہَ عَلٰي حَرْفٍ۝۰ۚ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِہٖ۝۰ۚ وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْہِہٖ ۝۰ۣۚ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃَ۝۰ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ۝۱۱ (الحج ۲۲:۱۱)اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کنارہ پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتے ہیں۔ اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہوگئے اور مصیبت آئی تو پھرگئے۔ ان کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی، یہ صریح خسارہ ہے۔

کچھ لوگ صرف زبانی مومن ہوتے ہیں، دل ایمان سے خالی ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سورئہ حجرات کی مذکورہ آیتوں میں زیربحث ہیں:

مومنین ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دلوں کو ایمان سے طمانیت اورروح کو سکون ملتا ہے اوروہ اسے اپنی سعادت سمجھتے ہیں اورہرچیز سے بڑھ کر اسی کے حریص ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں قرآن ان الفاظ سے یاد کرتا ہے:

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ۝۸۲ۧ (انعام ۶:۸۲)حقیقت میں تو امن انھی کے لیے ہے اور راہِ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور پھر اپنے ایمان کو ظلم کےساتھ آلودہ نہیں کیا۔

ایمان کے اثرات

ایمان جب اس بلندی پر پہنچ جاتا ہے اوردلوں میں اس طرح جاگزیں ہوجاتا ہے تو انسان کی زندگی پراس کے اثرات نظرآنےلگتے ہیں۔ کیونکہ ایمان کسی جامد چیز کا نام نہیں ہے بلکہ  وہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ انسانی زندگی پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ دن سے زیادہ روشن و تابناک ہوتے ہیں، مثلاً:

  ایمان کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ ان کو اپنی سعادت اورلازوال انعام سے محبت ہوجاتی ہے، ایسی محبت جو اس کی رگ و پے میں سرایت کرجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَہُمْ كَـحُبِّ اللہِ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۱۶۵) کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر ومدمقابل بناتے ہیں اوران کے ایسے گرویدہ ہوتے ہیں جیسی گرویدگی اللہ کےساتھ ہونی چاہیے مگراہلِ ایمان سب سے بڑھ کراللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔

  ایمان کادوسرااثریہ ہوتا ہے کہ مومن وہ راحت وسکون محسوس کرتا ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی قسم کی شقاوت کا احساس تک نہیں ہوتا، تعذیب کا کوئی ڈھنگ ان کے عقیدہ کو متزلزل نہیں کرپاتا۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص کا اپنی بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہوگیا۔ اس نے کہا اللہ کی قسم! میں تجھے ذلیل کرکے رہوں گا۔ بیوی نےمسکراتے ہوئے کہا: ذلت، تمھارے اختیار میں نہیں ہے۔ اس نے حیرت سےپوچھا: کیوں؟ جواب دیا: میری سعادت، میرے ایمان میں ہے اورایمان دل میں ہوتا ہے اور دل پرکسی کازور نہیں چلتا۔

یہ وہ ایمان ہے جو صرف حقیقی مومن کو حاصل ہوتا اورہوسکتا ہے۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کے بارے میں آتا ہے کہ جب قید کی مشقت ان پرطویل ہوگئی، تو ان کے شاگرد ان کی مزاج پُرسی کے لیے گئے اوررہائی کی کوششیں کرنے لگے۔ جب امام صاحب کو یہ بات معلوم ہوئی تو کہا :’’قید کو مَیں خلوت گاہ، قتل کو شہادت اور جلاوطنی کو سیاحت تصور کرتا ہوں اور یہ سب تزکیۂ نفس کے انعامات ہیں‘‘۔

اللہ اکبر! یہ ہے ایمان کی حقیقت جس کے ساتھ مصائب و مشکلات بھی نعمت و راحت محسوس ہوتے ہیں اور بڑے بڑے غم و اندوہ سے انسان لذت گیر اورراحت محسوس کرتا ہے۔ کتنی سچی اور پیاری بات اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی کہ: ’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہرمعاملہ خیرہے۔ نعمتیں ملتی ہیں تو سجدئہ شکر بجا لاتا ہے اور جب مصائب آتے ہیں تو جادئہ صبر پر قائم رہتا ہے۔ (مسلم، کتاب الزہد والرقائق، حدیث: ۵۴۲۹)

حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ: ’’اگر ان بادشاہوں کو معلوم ہوجائے کہ ہمیں ایمان میں کتنی لذت ملتی ہے تو وہ ہمیں قتل کرا دیں‘‘۔

  ایمان کا ایک اوراثریہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے مومن اپنے ربّ کا عزیز بن جاتا ہے اوراسے اپنی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کی نگاہ میں کوئی اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس کی عزّت و شوکت مخلوق سے نہیں بلکہ اللہ سے وابستہ ہے جوعزیز وں کا عزیز ہے۔

حقیقی ایمان کے نتیجے میں مومن کو وہ شجاعت نصیب ہوتی ہے جس کےسامنے بڑے بڑے جابرو ظالم سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اس کی نگاہ میں ساری مصیبتیں ہیچ ہوتی ہیں:

 اِنَّ اللہَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ۝۰ۭ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ ۝۰ۣ وَعْدًا عَلَيْہِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ۝۰ۭ وَمَنْ اَوْفٰى بِعَہْدِہٖ مِنَ اللہِ فَاسْـتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِہٖ۝۰ۭ وَذٰلِكَ ھُوَالْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۝۱۱۱  (التوبہ۹:۱۱۱) حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنّت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں۔ ان سے (جنّت کا وعدہ) اللہ کے ذمّے ایک پختہ وعدہ ہے تورات اور انجیل اور قرآن میں۔ اور کون ہے جو اللہ سے بڑ ھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟ پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چُکا لیا ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

ان سب کے ساتھ ایمان کا ایک اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ پھربندئہ مومن اللہ کی راہ میں اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اورآخری قطرئہ خون تک بہا دینے میں دریغ نہیں کرتا۔ مال سے جہاد کرتا ہےاوراپنی ساری دولت ایمان کےراستے میں نچھاورکردیتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ جنّت اسی میں ہے۔

ہمارے سامنے بہت سی آیات اور بکثرت احادیث ہیں جن سے ہم حقیقی ایمان سے آشنا ہوسکتے ہیں۔ ان آیات و احادیث کو بار بار پڑھنا چاہیے کہ ہم بھی مومنین صادقین کی صف میں شامل ہوجائیں۔

ایمان اور اسلام کا فرق

اُوپر جو کچھ عرض کیا گیا وہ ایمان کی حقیقت ہے۔ اب دوسرا نکتہ جو آیت زیربحث میں ہے وہ ایمان و اسلام کا فرق ہے۔ اس پر لمبی لمبی بحثیں ہوئی ہیں۔ ہم ان لمبی بحثوں میں پڑ کر اپنا اور آپ کا وقت و قوت ضائع کرنا نہیں چاہتے ۔ معاملہ بہت آسان اور سادہ ہے۔

امام احمد بن حنبلؒ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے ایک روایت نقل کی ہے: ’’ایک موقعے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو نوازا، جب کہ بعض دوسروں کو چھوڑ دیا۔ حضرت سعد ؓ نے پوچھا: اللہ کے رسولؐ! آپؐ نے فلاں اورفلاں کو تو دیا مگرفلاں کو کچھ بھی نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’اومسلم‘۔حضرت سعدؓ نے تین باراپنی بات دُہرائی اورہربارآپؐ نے یہی فرمایا:’ اومسلم‘۔ آخر میں فرمایا: میں کچھ لوگوں کو نوازتا ہوں اورانھیں چھوڑ دیتا ہوں جو مجھے زیادہ محبوب ہیں، مبادا وہ اوندھے منہ آگ میں ڈالے جائیں‘‘۔(ابوداؤد، کتاب السنۃ، باب الدلیل علٰی زیادۃ الایمان ونقصانہ، حدیث: ۴۰۸۴،  نسائی، السنن الصغریٰ للنسائی، کتاب الایمان وشرائعہ، حدیث: ۴۹۳۰)

آپ نے دیکھا کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن و مسلم کے درمیان فرق کرکے بتادیا۔ اسلام اور ایمان میں یہی فرق ہے، یعنی اسلام، ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ بعض جگہوں پر قرآن نے دونوںکو ایک ہی معنی میں بھی استعمال کیا ہے، مثلاً سورئہ ذاریات ۳۵-۳۷۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ سب لفظوں کا اختلاف ہے۔ مومن کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ: ’الفاظ کے پیچوں میں اُلجھتا نہیں دانا‘۔ وہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے اور حقیقی ایمان سے لطف اندوز ہوتا ہے۔

اللہ کے بندو! ہرچیز کی ایک علامت ہوتی ہے جس سے وہ پہچانی جاتی ہے اور ہرعقیدہ کی کوئی نہ کوئی علامت ضرور ہوتی ہے۔ ایمان کی بھی کچھ علامتیں ہیں جن سے ایمان کاپتا چلتا ہے۔ اپنا جائزہ لیجیےکہ تم ایمان کے کس مقام پرہو اور تمھارا اللہ پر یقین کتنا مضبوط و مستحکم ہے، تاکہ تم اپنے ایمان و یقین کے سلسلے میںکسی خوش فہمی میں مبتلا نہ رہو کہ تمھیں اپنی گذشتہ زندگی پر پچھتاوا ہو۔

حضرت عمرؓ سے منقول ہے، انھوں نے فرمایا: حَاسِبُوْا اَنْفُسَکُمْ قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْا، وَتَزَیَّنُوْا لِلْعَرْضِ  الْاَکْبَرِ، وَ  اِنَّمَا یَخِفُّ  الْحِسَابُ  یَوْمَ  الْقِیَامَۃِ عَلٰی مَنْ حَاسَبَ  نَفْسَہٗ  فِی الدُّنْیَا (سنن ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، حدیث: ۲۴۴۱) ’’حساب سے پہلے اپنا محاسبہ خود کرو اور قیامت کے روز بڑی پیشی کے لیے اپنے آپ کو تیار کرلو، قیامت کے دن اس شخص کا حساب ہلکا ہوگا جو دنیا میں اپنا احتساب کرتا ہے‘‘۔

 باعزم و غیور: میرے بھائی! ایمان کی ایک علامت یہ ہے کہ صاحب ِ ایمان باعزم   و غیور ہوتا ہے۔ وہ زبردست قوتِ ارادی کا مالک ہوتا ہے۔ حق کےسلسلے میں وہ کسی ملامت گر   کی پروا نہیں کرتا اور اللہ کے سلسلے میں کسی بات کا خوف نہیں کرتا۔ اس کا دل اللہ کے خوف و خشیت سے اس قدر معمورہوتا ہے کہ دوسروں سے ڈرنے کے لیے اس میں گنجایش نہیں ہوتی۔ وہ صرف اللہ سے ڈرتا ہے۔ اس لیے کسی اورسے نہیں ڈرتا۔ وہ اپنے عقیدہ کے تئیں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہوتا اور اعداء دین سے مداہنت نہیں کرتا۔ وہ اس فرمانِ الٰہی کا پیکر و مصداق ہوتا ہے:

اَلَّذِيْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِيْمَانًا۝۰ۤۖ وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ۝۱۷۳  (اٰل عمرٰن  ۳:۱۷۳) یہ ایسے لوگ ہیں کہ لوگوں نے جب ان سے کہا کہ ان لوگوں نے تمھارے مقابلے میں بڑا لاؤلشکر جمع کیا ہے، سو ان سے ڈرو۔ اس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور کہا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے۔ وہ بہترین کارساز ہے۔

 خوددار  و   بے باک: صاحب ِ ایمان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ خوددار ہوتا ہے۔ ظلم و ناانصافی کو نہ برداشت کرتا ہے اور نہ کمزوری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اسے یقین ہوتاہےکہ تمام قوتوں کا مالک اللہ ہے۔ عزّت و غلبہ، اللہ،رسول ؐاور مومنین کےلیے ہے۔ اس لیے وہ بڑی سے بڑی طاقت کو بھی خاطرمیں نہیں لاتا اوراپنےعزیز مولیٰ پرکامل اعتماد کرتاہے:

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَہُمْ۝۱۱ۧ (محمد۴۷:۱۱) ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ (انھیں یقین ہے ) اللہ مومنوں کاکارساز ہے اورکافروں کا کوئی کارساز نہیں۔

 اللہ سے محبّت:مومن کا ایمان اللہ کی ذات اور صرف اللہ کی ذات پرہوتا ہے۔ اس لیے بھروسا بھی اسی پر کرتا ہے، اپنے تمام معاملات اسی کے حوالے کردیتا ہے۔ کیونکہ اسے یقین ہے کہ سارے اُمور اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ فیصلے کااختیار بھی اسی کو ہے۔ اس لیے اس کو چھوڑ کر کہاں جائے اور کس سے فریاد کرے۔ وہ دل سے اللہ سے محبت کرتا ہے، اسے سب سےمحبوب اپنا مولیٰ ہوتا ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَہُمْ كَحُبِّ اللہِ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۱۶۵) اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو غیراللہ کو اس کا ہمسر اورمدمقابل بناتے اور مانتے ہیں اور ان سے ایسے ہی محبت کرتے ہیں جیسے اللہ سے کرنی چاہیے، جب کہ اہلِ ایمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔

  اہلِ ایمان سے محبت اور کفّار سے نفرت:مومن کا ایک اور وصف یہ ہے کہ اسے اپنے مومن بھائیوں سے بے پناہ محبت اورکافروں سے شدید بُغض و نفرت ہوتی ہے۔ وہ دل سے ان سےنفرت کرتا ہے اور معاملات زندگی میں ان سے کوئی سروکار نہیں رکھتا:

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَہُمْ اَوْ اَبْنَاۗءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِيْرَتَہُمْ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِہِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَہُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ۝۰ۭ (المجادلہ ۵۸:۲۲) جولوگ اللہ اوریومِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ،انھیں تم نہیں دیکھو گے کہ خدا اور اس کےرسولؐ کے دشمنوں سے دوستی رکھیں،گو وہ ان کےباپ، بیٹے، بھائی یا ان کے خاندان ہی کے ہوں۔ یہی ہیں جن کےدلوں میں اللہ نے ایمان نقش کردیا ہے،اوراپنےفیضانِ خاص سے ان کی تائیدکی ہے۔

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَاۗءَكُمْ مِّنَ الْحَـقِّ ۝۰ۚ (الممتحنہ۶۰ : ۱) اے ایمان والو! تم میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان سے دوستی گانٹھو، جب کہ وہ اس حق کے منکر ہیں جوتمھارے پاس آیا ہے۔

اس لیے مومن کی دشمنی بھی اللہ کے لیے ہوتی ہے اوردوستی بھی، جیساکہ اللہ بزرگ و برتر کا فرمان ہے:

اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَہُمْ (الفتح۴۸:۲۹) (میرےساتھی) کفّارکے لیے انتہائی سخت اورباہم بڑے کریم و شفیق ہیں۔

 اللہ پر کامل بھروسا: ایمان کی ایک علامت یہ بھی ہےکہ بندئہ مومن کا تمام تر اعتماد و بھروسا اس چیز پر ہوتا ہے جو اللہ کے پاس ہے۔ اسےاپنی دولت پر بھروسا نہیں ہوتا۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنامال اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے اور اس اُمید و یقین کے ساتھ کرتا ہے کہ اللہ کے یہاں اس سے اچھا بدلہ ملےگا:

مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللہِ بَاقٍ(النحل۶ ۱:۹۶) لوگو، جو کچھ تمھارے پاس ہے سب ختم ہوجائے گا اورجو اللہ کے یہاں ہے وہی باقی رہنے والا ہے۔

اللہ کے باایمان بندو! ایمان کی ان علامتوں، عزیمت، غیرت، توحید، توکّل، حُب ِالٰہی اور اللہ کےاجر کی اُمید کی روشنی میں اپنےایمان کا جائزہ لو، اپنے گریبان میں جھانکو۔ اگریہ علامتیں موجود ہیں اوروافرمقدار میں موجود ہیں تو اللہ کی توفیق پر شکربجالاؤ لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو اپنے آپ پر روؤ، اپنی گذشتہ زندگی پر آنسو بہاؤ اوراپنے دل کاعلاج کراؤ۔ اپنے دل کو  کسی دل کے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ، شاید اس کے پاس تمھیں اپنی بیماری کی دوا مل جائے۔ اور اللہ سےگڑگڑا کردُعا کرو کہ وہ تمھیں جادئہ ایمان پرقائم کردے اوراہلِ یقین کےراستے کی توفیق دے دے۔

اللہ کےرسولؐ نے فرمایا: تین چیزیں جس کےاندرہیں اسے ایمان کا ذائقہ مل گیا:

۱-اللہ اوررسولؐ اسے سب سے زیادہ محبوب ہوں۔

۲- جس کسی سے محبت کرے صرف اللہ کی خاطرکرے۔

۳- اور کفر کی طرف پلٹنا اسے اتنا ہی ناگوار وناپسند ہو جتنا آگ میں ڈالا جانا۔ (بخاری، کتاب الایمان، حدیث: ۱۶؛ مسلم، کتاب الایمان، حدیث ۸۵)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی توفیق دے، آمین!