نعیم صدیقی


حضور نبی پاک محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کوئی قصہ کہانی نہیں ہے،وہ محض ایک فرد کی داستان بھی نہیں ہے، بلکہ وہ فی الحقیقت ایک ایسے عظیم اور پاکیزہ انقلاب کی کہانی ہے جس کی کوئی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ اس انقلاب کی روداد کا مرکزی کردار نبی اکرمؐ کی شخصیت ہے۔ باقی تمام کردار، خواہ وہ ابوبکرؓ و عمرؓ ہوں یا عثمانؓ و علیؓ، جعفرؓ طیار ہوں یا سیدالشہدا جنابِ حمزہؓ،   وہ حضرت بلالؓ ہوں یا یاسرؓو عمارؓ، اور اسی طرح دوسرے محاذ پر ابوجہل ہو یا ابولہب، عبداللہ بن اُبی ہو یا کعب بن اشرف، خواتین میں سے حضرت خدیجہؓ ہوں یا جنابِ فاطمہؓ، حضرت عائشہؓ ہوں یا جنابِ اُم المساکین اور ان کے مقابل میں زوجۂ ابولہب ہو یا ہندہ جگرخوار___ یہ سب کے سب مرکزی کردار کے یا تو معاون کردار ہیں، یا مخالف۔ ان مختلف کرداروں کے تعاون اور کش مکش کے نتیجے میں تاریخ کا وہ سنہری باب لکھا گیا جس کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک آنحضوؐر کی سیرتِ پاک رچی بسی ہوئی ہے اور مہاجرین و انصار میں اسی کا انعکاس دکھائی دیتا ہے۔ حضوؐر کی سیرت کو اس  کش مکش سے الگ کر کے سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔

نعوذ باللہ حضوؐر نہ تو تارک الدنیا راہب تھے اور نہ ایک محدود اور بے ضرر سا دھرم یا مَت سکھانے آئے تھے۔ آپؐ کے ذمّے محض پوجا پاٹ کے طریقے بتانے اور چند اخلاقی نصیحتیں اور سفارشیں کرنے کا کام نہ تھا، بلکہ قرآن کی توضیحات کے مطابق آپ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ خداپرستانہ حکمت اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ کرکے آپؐ ایک ایسی جماعت کھڑی کریں جو آپ ؐ کی قیادت میں بھرپور جدوجہد کر کے دینِ برحق کو ہر دوسرے نظریے اور فلسفے اور مذہب کے مقابلے میں پوری انسانی زندگی پر غالب کردے: ویکون الدّین کلہٗ للّٰہِ!

بات کو سمجھنے کے لیے دو تین مواقع پر رسولِؐ برحق کے فرمائے ہوئے کلمات پر ہم نگاہ ڈالتے ہیں۔ ان کلمات کی شہادت یہ ہے کہ حضوؐر کو اپنے کام کے حوصلہ شکن ابتدائی دور میں پورا شعور تھا کہ کیا کرنے چلے ہیں۔ دعوت کا کام شروع کرنے کے جلد ہی بعد خاندانِ بنوہاشم کو کھانے پر جمع کیا اور اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا: جو پیغام میں تم تک لایا ہوں اسے اگر تم قبول کرلو تو اس میں تمھاری دنیا کی بہتری بھی ہے اور آخرت کی بھلائی بھی‘‘۔ پھر ابتدائی دورِ کش مکش میں مخالفین سے آپؐ نے فرمایا کہ ’’بس یہ ایک کلمہ ہے‘‘، اسے اگر مجھ سے قبول کرلو تو اس کے ذریعے تم سارے عرب کو زیرنگین کرلو گے اور سارے عجم تمھارے پیچھے چلے گا‘‘۔ پھر ایک موقع پر رسولِ بشیرونذیر کعبے کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، خباب ابن الارتؓ نے جو قریش کے تشدد کا نشانہ بن رہے تھے، عرض کیا: حضوؐر، ہمارے لیے خدا کی مدد کی دعا نہیں فرمائیں گے؟ حضوؐر نے جواب دیا کہ تم سے پہلے ایسے لوگ ہو گزرے ہیں کہ گڑھے کھود کر ان کے دھڑ مٹی میں داب دیے جاتے اور پھر ان کے سروں پر آرے چلا کر ان کو دوٹکڑے کر دیا جاتا۔ تیز لوہے کی بڑی بڑی کنگھیوں سے بحالت ِ زندگی ان کے گوشت اور کھالوں کی کترنیں ہڈیوں سے نوچ لی جاتیں لیکن یہ چیزیں ان کو دین و ایمان سے نہ پھیر سکیں۔ پھر فرمایا کہ ’’خدا کی قسم! اس کام کو اللہ تعالیٰ ایسی تکمیلِ منزل تک پہنچائے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک تنہا سفر کرے گا، اور اسے سواے خدا کے کسی کا خوف لاحق نہیں ہوگا‘‘۔ مدنی دور میں عدی بن حاتم سے فرمایا کہ ’’بخدا وہ وقت قریب آرہا ہے جب تو سن لے گا کہ اکیلی عورت قادسیہ سے چلے گی اور مکہ کا حج کرے گی اور اسے کسی کا خوف ڈر نہ ہوگا‘‘۔ ان کلمات سے صاف ظاہر ہے کہ آپؐ کے سامنے اخوت و مساوات، عدل و انصاف اور امن وسلامتی کے ایک ایسے نظام کا نقشہ تھا جس میں کمزور اور تنہا فرد بھی ہر ضرر اور ظلم سے محفوظ ہوگا۔

یہ تھی منزل جہاں تک پوری انسانیت کے قائد صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے اس معاشرے کو پہنچانے کے لیے عمربھر جان ماری کی جو جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا، نظم سے محروم تھا، جرائم کی جولاں گاہ تھا، اور جس کے اُجڈ اور اکھڑ لوگ آپس میں لڑبھڑ کر قوتیں برباد کررہے تھے۔

محمدیؐ انقلاب کی اساس کلمہ طیبہ پر تھی، یعنی اس کائنات کا اور تمام نوعِ انسانی کا ایک ہی الٰہ ہے(البقرہ ۲:۱۶۳) اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ پوجا صرف اُس کی ہوگی، حکم اور قانون صرف اس کا چلے گا (البقرہ ۲:۱۲۹)۔ حاجات اس سے مانگی جائیں گی، دعائیں اس سے کی جائیں گی، نذریں اس کے سامنے پیش کی جائیں گی، اعمال کا حساب کتاب لینے والا اور جزا سزا دینے والا وہ ہے۔ زندگی، موت اور صحت اور رزق اور امن اور عزت، سب کچھ اس کی طرف سے ہے۔ زندگی میں اور کوئی اِلٰہ نہیں ہوگا، کسی بادشاہ کی، کسی حکمران کی، کسی خاندان کی، کسی دولت مند کی، کسی پروہت اور پادری کی، کسی نمبردار اور چودھری کی اور خود کسی شخص کے اپنے نفس کی خدائی بھی نہ چلے گی۔ اللہ کے سوا دوسرا جو کوئی بھی خدا بنتا ہے یا اپنی مرضی ٹھونستا اور اپنا قانون چلاتا ہے، یا دوسروں کے سر اپنے سامنے یا کسی اور کے سامنے جھکواتا ہے، یا جو لوگوں کی حاجات پوری کرنے کا مدعی بنتا ہے، وہ طاغوت کا پارٹ ادا کرتا ہے۔

اس انقلابی کلمے کا دوسرا جز یہ بتاتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے اپنا رسول مقرر کیا ہے۔ ان کو وحی کے ذریعے ہدایت اور ضلالت، نیکی اور بدی، حلال اور حرام کا علم عطا کیا ہے۔ آپؐ خدا کی طرف سے قیامت تک تمام مسلمانوں کے پیشوا اور قائد، معلم اور مزکّی اور اسوہ اور نمونہ قرار دیے گئے ہیں۔

اس انقلابی کلمے کے بیج سے نظامِ عدل و رحمت کا وہ شجرۂ طیبہ ظہور میں آیا جس کی شاخیں فضائوں میں پھیل گئیں اور جڑیں زمین میں اُتر گئیں۔ جس کی چھائوں دُور دُور تک پھیل گئی اور جس کے فکری، تہذیبی اور اخلاقی برگ و بار کا کچھ حصہ ہرقوم اور معاشرے تک پہنچا۔

محمدی انقلاب کے حیرت انگیز پہلوئوں میں سے ایک یہ ہے کہ جس نے آپؐ کے پیغام کو قبول کیا اس کی ساری ہستی بدل گئی۔ اس کے ذہن کی ساخت، اس کے افکاروجذبات، اس کے ذوق اور دل چسپیاں، اس کی دوستیاں اور دُشمنیاں، اس کے اخلاقی معیارات سب کے سب بدل گئے۔ چور اور ڈاکو آئے اور دوسرے لوگوں کے اموال کے نگہبان بن گئے۔ زانی آئے اور دوسروں کی عصمتوں کے رکھوالے بن گئے۔ سود کھانے والے آئے اور وہ اپنی کمائیاں خدا کے دین اور بندوں کی خدمت کے لیے لٹانے لگ گئے۔ کبِر کے مجسمّے آئے اور عاجزی کا نمونہ بن گئے۔ خواہشوں کے غلام آئے اور پَل بھر میں دنیا نے دیکھا کہ وہ اپنی خواہشوں کو روندتے ہوئے ایک اعلیٰ نصب العین کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ جاہل آئے اور آسمانِ علم پر اُنھوں نے اس طرح کمندیں ڈالیں کہ دنیا حیرت زدہ رہ گئی۔ اُونٹوں کے چرواہے انسانوں کے شفیق گلّہ بان بن گئے۔ لونڈیوں، غلاموں کے پسے ہوئے طبقے سے وہ شجاع اور غیور ہستیاں نمودار ہوئیں جن پر دشمنوں نے ظلم و ستم کے سارے حربے آزما ڈالے، مگر ان کے ضمیروں کو بدلنے اور ان کے ایمان کو شکست دینے میں کامیاب نہ ہوئے۔

محمدیؐ انقلاب کے ان رضاکار سپاہیوں میں ڈسپلن اور ضبط و نظم ایسا بے مثال تھا کہ  حالتِ نماز میں اُن کو تحویلِ قبلہ کا حکم ملا تو اُنھوں نے فوراً اپنے رُخ بیت المقدس سے کعبے کی طرف پھیر لیے، اُن کے لیے شراب حرام کی گئی تواُنھوں نے منہ کے ساتھ لگے ہوئے پیالے تک الگ کرکے پھینک دیے، ان کی خواتین نے جب رسولِ پاکؐ کی زبان سے حکمِ حجاب سنا تو اس میں مین میخ نکالنے کے بجاے فوراً اپنے سروں اور سینوں اور زینتوں کو ڈھانپ لیا۔ ان میں سے اگرکسی مرد یا عورت سے خدا ورسولؐ کے احکام کے خلاف کوئی جرم سرزد ہوگیا تو اپنے جرم کے اقراری بن کر خود پیش ہوئے اور اصرار کیا کہ ان پر سزا نافذ کر کے انھیں حضوؐر پاک کر دیں۔ اُن سے چندہ طلب کیا گیا تو کسی نے گھر کا سارا سامان لا کے مسجد میں ڈھیر کر دیا، کسی نے سامان سے لدے ہوئے اُونٹوں کی قطاریں کھڑی کر دیں، اور کسی مزدور نے دن بھر کی محنت کی کمائی ہوئی چند کھجوریں پیش کردیں۔

پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑا احسان تہذیب ِ انسانی پر یہ ہے کہ آپؐ نے انسانوں کے تمام رشتوں اور رابطوں کو محکم بنیادوں پر استوار کیا، ایک دوسرے کی باہمی ذمہ داریاں واضح کیں، سب کے حقوق و فرائض متعین کیے، اور اپنے نمونے کے معاشرے میں والدین اور اولاد، بھائی بہنوں، میاں بیوی، استاد اور شاگرد، امیر اور غریب، پڑوسی اور ہم سفر، حاکم اور رعیت کے ربط و تعلق کو احسن شکل دی۔

افراد کے اندر واقع ہونے والے اس انقلاب کے نتیجے میں عرب کے معاشرے میں جو انقلاب واقع ہوا، وہ حیرت انگیز ہے۔ حضوؐر نے اسلامی ریاست کی بنیاد جب مدینہ میں رکھی تو زیادہ سے زیادہ وہ علاقہ ۱۰۰ مربع میل ہوگا۔ آٹھ نو سال کے قلیل عرصے میں یہ ریاست پھیل کر ۱۰،۱۲ لاکھ مربع میل تک وسیع ہوگئی جس میں کوئی طبقاتی کش مکش نہ تھی، جس میں نسب کے فخر اور نسل کی عصبیت کا خاتمہ ہوگیا، جس میں امیروغریب اور عالم اور اَن پڑھ بھائی بھائی بن گئے، جس میں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے، جس میں لوگ ایک دوسرے پر ظلم کرنے والے، سرکاری مال اور فرائض میں خیانت کرنے والے اور رشوتیں سمیٹنے والے نہ تھے، جس میں ہر کوئی دوسرے کے کام آتا تھا اور اپنے بھائی کو سہارا دیتا تھا۔ یہ بالکل ایک نئی دنیا کی تعمیر کی مہم تھی۔

یہ پاک اور پیارا محمدیؐ انقلاب اس طرح نہیں آیا کہ لوگوں پر جبروتشدد کیا جا رہا ہو۔   اس انقلاب کا پیغام قبول کرانے کے لیے کسی کوقتل نہیں کیا گیا۔ کسی کو جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ کسی کی  پیٹھ پر تازیانے نہیں برسائے گئے۔ اس کے لیے دہشت نہیں پھیلائی گئی بلکہ اس انقلاب کی روح محبت ِ انسانیت تھی اور حضوؐر نے بڑی شفقت سے معلّمانہ انداز پر پہلے مکہ میں ۱۳ سال تک اور پھر مدینہ میں ۱۰ برس تک کام کیا۔

مکہ کے دور میں آپؐ نے گالیاں سن کر، طعن و طنز کا ہدف بن کر، مارکھا کر اور تین سال تک شعب ِابی طالب میں خاندان سمیت نظربند رہنے کے باوجود نرمی اور پیار سے دعوت دی۔ آپؐ کے رفیق تپتی ریت پر لٹائے گئے، ان کے سینوں پر پتھر رکھے گئے، ان کی پیٹھوں کے نیچے دہکتے انگارے ٹھنڈے ہوگئے، کسی کے گلے میں رسّی ڈال کر گلیوں میں گھسیٹا گیا، کسی کو تازیانے مارمار کر ادھ موا کر دیا گیا اور کسی کو عذاب دے دے کر جان ہی لے لی گئی۔

پھر مدینہ میں آکر یہودیوں کی شرارتوں اور منافقین کی غداریوں کا سامنا کیا۔ یہاں تک کہ بار بار آپؐ کے قتل کی سازشیں کی گئیں جن سے حضوؐر بال بال بچ نکلے، مگر یہودیوں اور منافقوں کی ایک بڑی تعداد پوری آزادی کے ساتھ موجود رہی اور شرانگیزی کرتی رہی۔

میدانِ جنگ میں حضوؐر اگر مسلم قوت کو اُتارنے پر مجبور ہوئے تو اس وجہ سے کہ مخالف جاہلی قوت کے علَم بردار خود بار بار چڑھ کر آئے۔ بدر اور احزاب کی تین بڑی بڑی جنگیں مدینے کے دروازے پر لڑی گئیں۔ صرف ایک آخری جنگ جس کے پہلے مرحلے پر مکہ اور دوسرے میں حنین و طائف مفتوح ہوئے، اس وجہ سے ناگزیر تھی کہ دشمن کی جنگی قوت اور کارروائیوں کے یہ مراکز تھے۔ اگر انھیں قائم رہنے دیا جاتا، تو جنگوں کا یہ سلسلہ نہ جانے کب تک چلتا۔ اسی طرح غزوئہ بنومصطلق اور غزوئہ خیبر کا مقصد خوفناک قسم کی غدارانہ اور سازشی کارروائیوں کا سدِّباب کرنا تھا۔ باقی چھوٹے موٹے معرکے یا تو ڈاکوئوں کی سرکوبی کے لیے تھے یا سرحدی جھڑپوں کی نوعیت رکھتے تھے۔ کمال یہ ہے کہ جنگوں میں نبی ِؐ امن و رحمت نے ایک طرف ایسی تدبیریں اختیار کیں کہ دشمنوں کے کم سے کم افراد کو ہلاک کرنا پڑے، دوسرے عرصۂ پیکار کے لیے بھی اعلیٰ درجے کے ضابطے نافذ کرکے دکھایا کہ خدا پرستوں کے انداز کیا ہوتے ہیں۔ نو سال کی تمام جنگی کارروائیوں میں دشمن کے ۷۵۹افراد ہلاک ہوئے یعنی ۸۴ افراد فی سال،اور جنگوں میں مسلمانوں کا کل جانی نقصان ۲۵۹ ہے۔ ۸، ۹ سال کی مدت میں دو طرفہ جنگی اموات کی میزان ۱۰۱۸ ہے۔

کیا دنیا کا، اور خصوصاً آج کی مہذب دنیا کا کوئی انقلاب اتنے کم جانی نقصان کے ساتھ اتنے بڑے تغیر کی مثال پیش کرسکتا ہے؟ اس نام نہاد مہذب دنیا میں تو انقلاب ایک عفریت کی طرح آتا ہے اور ہزارہا انسانوں کو لقمہ بناتا ہے۔ پھر انقلابی حکومتیں جبریت کے تخت پر بیٹھ کر لوگوں کو مسلسل قتل کرتی رہتی ہیں، جیلوں میں ڈالتی ہیں، ان کو عذاب دیتی ہیں اور برسوں خوف اور دہشت کی فضا طاری رہتی ہے۔ ان جبری اور خون ریز انقلابوں نے تو انسان کی فطرت کو بالکل مسخ کردیا ہے۔

محمدیؐ انقلاب کی رحمت و برکت کو سامنے رکھ کر جب ہم دوسرے انقلابی نظریوں اور فلسفوں کو دیکھتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ باطل کے مختلف روپ ہیں۔

پس مطالعۂ سیرتِ نبویؐ سے ہمارا مقصود یہ ہونا چاہیے کہ ہم حضوؐر کے پیغام، حضوؐر کے ذکروعبادت، حضوؐر کے اخلاق، حضوؐر کی تنظیم، حضوؐر کے کارنامے، حضوؐر کے طریق کار اور حضوؐر کی حکمت عملی کو سمجھ کر اپنے آپ کو اس امر کے لیے تیار کریں کہ پہلے ہمارے اپنے اندر محمدیؐ انقلاب کا آغاز ہو اور پھر ہم نہ صرف اپنے ملک اور معاشرے کو، بلکہ پوری نوعِ انسانی کو محمدیؐ انقلاب کی برکتوں اور سعادتوں سے بہرہ مند کریں۔ ہمارے لیے حق کی راہ صرف یہ ہے کہ حضوؐر کو اپنی   ساری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے پیشوا، قائد اور اسوہ اور نمونہ تسلیم کریں اور کسی دوسرے فلسفی یا انقلابی یا مصلح یا سیاست کار یا قانون ساز کو اپنا مستقل رہنما بناکر اس کی پیروی نہ کرنے لگیں،  ورنہ تمام زندگی خدا کے ہاں رائیگاں شمار ہوگی۔(سید ِ انسانیتؐ، ص ۷-۱۳)

پورا قرآن نصیحت ہے‘ پورا قرآن انسان کی تعلیم و تربیت کے لیے ہے اور پورے قرآن میں وہ اصول‘ مقاصد اور خطوطِ کار پھیلے ہوئے ہیں جن پر اسلامی معاشرے کا نظامِ تعلیم استوار ہونا چاہیے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی اسلامی ریاست میںقرآن کے منشا کے مطابق بچوں‘ بالغوں‘ عورتوں اور قائدین ِعوام کی تعلیم و تربیت کا جو ہمہ گیر نظام عملاً نافذ کیا اور عوام کی ذہنی و اخلاقی تعمیر کے لیے جن ادارات کے نقوشِ اوّلین قائم کیے‘ اس پورے کام کو___ قرآن کے نکات کی اس جامع عملی توضیح و تفسیر کو___ زیرغور لائے بغیر اسلام کی حکمتِ تعلیم کو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ اس حکمت کے مطابق کوئی تعلیمی منصوبہ عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ قرآن‘ اسوۂ رسالت اور قرآن کے مطابق برسرِعمل آنے والے نظام کا تفصیلی و تحقیقی جائزہ لے کر اسلامی حکمتِ تعلیم کو قلم بند کرنے کے لیے تو بڑا وقت درکار ہے۔ فی الوقت پیشِ نظر یہ ہے کہ ہم اسلامی حکمتِ تعلیم کی ایک جھلک دیکھ سکیں۔

قرآن میں زندگی کے جو حقائق مذکور ہیں وہ ایک طرف تو پورے قرآن میں پھیلے ہوئے ملتے ہیں اور دوسری طرف بعض خاص مقامات ایسے ملتے ہیں جہاں کسی ایک حقیقت کو اجمال اور جامعیت سے یک جا بیان کردیا جاتاہے۔ حکمتِ تعلیم و تربیت کی کاوش میں پڑ کر جب ہم قرآن کھولتے ہیں تو سورۂ لقمان ہم سے خصوصی توجہ کا خراج وصول کرتی ہے۔ سورئہ لقمان تمام تر   نصیحت ہے اور ازاوّل تا آخر حکمتِ تعلیم و تربیت کی آئینہ دار! اسی سورہ کے مطالب پر ہم اپنے  تعلیمی تصورات کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ یہ ہمارے فلسفۂ تعلیم کی سورہ ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ گھروں میں ہم اولادوں کو کس نقشے پر اٹھائیں‘ درس گاہوں کا نظام کن بنیادوں پر کھڑا کریں‘ اور کس ذہن و کردار کا انسان اپنے ہاں تعمیر کریں۔

اسلام کا انسانِ مطلوب

آئیے! سب سے پہلے ہم اس سورہ کے آئینے میں اسلام کے انسانِ مطلوب کی ایک جھلک دیکھیں۔ سورہ کے دیباچے ہی میں انسانیت کے اس بہترین کردار کا ذکر موجود ہے جسے ظہور دینے کے لیے الہامی حکمت تقاضا کرتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں اور ان آیات میں جو ہدایت و رہنمائی ہے اور اس ہدایت و رہنمائی میں جو رحمت مضمر ہے وہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو احسان کیش ہوں۔ قرآن کا نظامِ فکروعمل صرف محسنین کے ذریعے چل سکتا ہے اور یہ نظام اسی طرز کے قائدین و کارکن مانگتا ہے (لقمان ۳۱: ۱-۳)۔ ان کے نقشۂ زندگی کے چند اہم آثار بھی بیان کر دیے کہ:

وہ نماز قائم کرنے والے ہوں‘ وہ زکوٰۃ دینے والے ہوں‘ وہ آخرت کو پیش نظر رکھنے والے ہوں۔(۳۱:۴)

بیان کی نوعیت احاطہ و احصار کی نہیں بلکہ مدّعا یہ ہے کہ ان ناگزیر اوصاف کے بغیر احسان کیش کردار پیدا نہیں ہوسکتا۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنے رب کے دیے ہوئے نظامِ ہدایت پر چل سکتے ہیں اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (۳۱:۵)

واضح رہے کہ محسن یا احسان کیش کا مفہوم اسلامی اصطلاح میں یہ ہے کہ آدمی اپنے ہر خیال‘ عمل اور سرگرمی میں حُسن و خوبی پیدا کرنے کا اہتمام کرے اور اپنی ساری کی ساری داستان    حُسنِ اعتقاد اور حُسنِ کردار سے آراستہ کرے۔ پھر بات انفرادی اور نجی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ مطلوب یہ ہے کہ ہمارا پورے کا پورا تمدنی نظام‘ اس کے سارے شعبے اور ادارے اور ہماری   جملہ اجتماعی سرگرمیاں حسین ترین پیرایہ رکھتی ہیں۔ یعنی اسلام حُسنِ فکر اور حُسنِ عمل کا ایک مکمل نظام مانگتا ہے۔ وہی چیز جسے دوسری جگہ حیاتِ طیبہ کہا گیاہے۔ ایسے انسانی کردار اور ایسے نظامِ تمدّن کے ذریعے ہی انسان کو فلاح حاصل ہوتی ہے۔ زندگی اپنے تقاضوں کوصحیح طور سے پورا کرتی ہے اور انسانیت اپنے فطری مقاصد تک پہنچتی ہے۔ فلاح! اس دنیا میں بھی اور فلاح آخرت میں بھی۔ اس دنیا میں ’حیاتِ طیبہ‘ کا حصول بجاے خود فلاح کی آخری شکل ہے اور یہی حیاتِ طیبہ اُخروی فلاح کی ضامن ہوتی ہے۔ گویا ہمارے نظامِ تعلیم کا منتہا ایسے احسان کیش کرداروں کی تشکیل ہے جو  نماز‘ زکوٰۃ اور فکرِ آخرت کے اوصاف کو بنیاد بناکر حیاتِ طیبہ پیدا کریں اور اپنی ذات سے لے کر بڑے بڑے تمدّنی ادارات تک ساری زندگی کو سنوار دیں۔

مقابل کا فاسد کردار

قرآن کا اسلوب بالعمُوم اضداد کو متقابلا ًدکھانے کا ہے۔ اب جہاں انسانِ مطلوب کا  نقشہ بیان ہوا‘ وہاں نامطلوب کردار کی بھی ایک جھلک دکھانی لازم تھی۔ مطلوب کردار تو وہ ہے جو مسلکِ احسان کا متلاشی ہے‘ جو حیاتِ طیبہ کے حصول کے لیے مضطرب رہتا ہے‘ جو ہدایت ِرب کو جاننا چاہتا ہے‘ جو اس کی آیات کی روشنی کا پیاسا ہے جو فلاح کی جستجو میں ہے‘اور جس کے سامنے فوری مزے اور چسکے ہی نہیں ہیں بلکہ آخرت کے نتائج بھی ہیں۔

لیکن مقابل کا کردار وہ ہے جو ’لھو الحدیث‘ کا شائق ہے۔ بے مقصد اور لاحاصل قسم کے قصّے کہانیوں سے اسے رغبت ہوتی ہے۔ وہ زندگی کی حقیقتوں اور اس کے مسائل سے بھاگ کر   یاوہ گوئی میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ اتنا ہی نہیں کہ خود پناہ ڈھونڈتا ہو بلکہ وہ تفریحی ادب کے افسوں کو  کام میں لاکر دوسروں کو بھی خدا کی راہ سے ہٹا لے جانا چاہتا ہے۔ درآنحالیکہ اس کے پلّے کچھ بھی علمِ حقیقت نہیں ہوتا۔ اپنی جہالت کی وجہ سے وہ خدا کی راہ اور خدا کی ہدایت کا مذاق اڑاتا ہے‘ وہ عظیم اور اٹل حقائق کو تمسخر میں اڑا دینا چاہتا ہے (۳۱: ۶)۔ اس کے سامنے جب اللہ کی کتابِ حکیم کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ اپنے نشۂ پندار میں بہک کر اُن سے اس طرح روگردانی کرتا ہے گویا کہ اس نے کچھ سنا ہی نہیں‘ گویا کہ اس کے کان بہرے ہیں۔ (۳۱: ۷)

ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کی حکمت متعین کرتے ہوئے خوب صراحت سے طے کر لینا چاہیے کہ ہمیں اپنے ہاں اس طرز کے کردار کو پروان نہیں چڑھنے دینا ہے۔ خصوصاً علوم میں‘ ادب میں اور فنونِ لطیفہ میں ہمیں ان رجحانات کو نشوونما نہیں دینی جن کا ماحصل لھو الحدیث ہو اور جن کی وجہ سے لھوالحدیث کا ذوق بڑھے۔وہ تمام فضولیات جو فراریت پسندوں کی پناہ گاہ ہوں‘ جو راہِ حق سے ہٹانے والی ہوں‘ جو آیاتِ الٰہی کے لیے کانوں کو بہرہ کردیں‘ جو خدا کے سامنے عبدیت کے بجاے اِستکبار کے مقام پر کھڑا کریں اور جن کی وجہ سے دلوں میں خدائی ہدایت کی تضحیک کا میلان پیدا ہو۔

عُروۃ الوثقٰی

اپنے محدود علمِ قرآن کی روشنی میں میری ناقص راے یہ ہے کہ سورئہ لقمان کی آیت ۲۲ مرکزی اہمیت رکھتی ہے اور یہی روحِ کلام ہے۔ پڑھیے:

اور جس نے اللہ کی بارگاہ میں اپنا سرِتسلیم خم کردیا اور وہ احسان کیش بن گیا تو بس اُس نے ایک مضبوط رشتے کو تھام لیا… الخ

یہاں پھر ’محسن‘ کی شان سامنے آتی ہے۔ کوئی شخص احسان کیش نہیں ہوسکتا اور زندگی کو حُسن و خوبی سے مالا مال نہیں کرسکتا جو اللہ کے وجود کی عظیم صداقت کو نہ تسلیم کرے اور اس کا حاکمانہ مقام پہچان کر اپنی باگ ڈور اس کے حوالے نہ کردے۔ خدا سے یہ تعلق وہ مضبوط ترین رشتہ ہے جسے تھام لینے کے بعد زندگی تباہ کن ٹھوکروں سے بچ جاتی ہے‘ خیالات کی آوارگی و پریشانی‘ جذبات کی بے راہ روی اور اعمال کی بے ربطی کا پوری طرح ازالہ ہوجاتا ہے۔ حقیقت کے اس مرکزی نکتے کے گرد فرد کی ساری قوتیں اور تمدّن کی جملہ سرگرمیاں منظم و مرتب ہوجاتی ہیں اور نظم و ترتیب کے فقدان میں کوئی حُسن نہیں پیدا ہوسکتا۔

ایک صحیح نظامِ تعلیم کا کام یہ ہے کہ وہ انسانیت کو اس عُروۃ الوثقیٰٰ تک لائے اور خدا پرستی کے رشتۂ محکم کو تھامنے کی صلاحیت دے۔ اسلامی نظامِ تعلیم کی یہ اساسی ذمہ داری ہے کہ وہ بندوں کو خدا کے سامنے سرِتسلیم پوری طرح خم کر دینا اور خم کیے رکھنا سکھائے۔ یہ حالت اس اِستکبار کی عین ضد ہے جو آیت ۶ میں بیان ہوا ہے۔

سورہ کی تمہید کے ساتھ مرکزی روحِ کلام کی آئینہ دار آیت کو ملا کر آپ دیکھ چکے۔ آیئے! اب اس مربوط ٹکڑے کو لیں جس میں چند اہم نکات تسلسل سے بیان ہوئے ہیں۔ اس ٹکڑے میں حضرت لقمان اپنے صاحبزادے کو ___بلکہ یوں کہیے کہ نئی نسل کو ___اساسیات کی تعلیم دیتے ہیں۔ ہم ایک ایک نکتے کو الگ الگ لیتے ہیں۔

شکر کا مسلک

حضرت لقمان کو جو حکمت اللہ تعالیٰ نے دی تھی‘اور جس کے تحت وہ اپنے فرزند کو تلقین کرتے ہیں وہ ہے اَنِ اشْکُرْ لِلّٰہِ (۳۱: ۱۲)‘یعنی خدا کا حق پہچانو‘ احسان شناسی کی روش اختیار کرو۔ اسلام نے خدا کا جو تصور دلایا ہے وہ بنیادی طور سے ایک رحیم‘ شفیق اور ودود ہستی کا تصور ہے (رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ ئٍ)۔ اس کا قہر و غضب اس کی صفتِ عدل کی وجہ سے ہے اور اس کی صفتِ عدل خود صفتِ رحمت ہی کی مظہرہے۔ چنانچہ قرآن کا ایک بڑا حصہ یہی احساس دلانے کے لیے وقف ہے کہ انسان پر خدا کے احسانات و انعامات کس درجہ وسیع ہیں۔ احسان اور رحمت کا حق یہ ہے کہ شکر کا رویہ پیدا ہو۔ ہمارے دین میں تعلق باللہ کی اساس فی الحقیقت جذبۂ شکر پر ہے۔ تقویٰ اور خشیت شکر کے ساتھ ایک لازمی پہلو کی حیثیت سے ہے۔ نعمت اور رحمت کا شعور جہاں شکر کا جذبہ اُبھارتا ہے وہاں اس کے چھن جانے کا اندیشہ بیم و خشیت بھی پیدا کرتا ہے۔

بندوں کے شکر کی خدا کو کوئی احتیاج نہیں کہ اس کے بغیر اس کے کام اٹکے جاتے ہوں۔ خدا کے سامنے شکر کی روش کا اختیار کرنا خود ہمارے اپنے احسان کیش بننے اور اپنی زندگی سنوارنے کے لیے ضروری ہے۔ جو شخص خدا کے اَن گنت احسانات سے استفادہ کرکے اس کی عنایات کا احساس نہیں کرتا۔ ایسا احسان فراموش زندگی کی صحیح تعمیر کے لیے پھر کوئی بنیاد بھی نہیں پاسکتا۔ اس لیے حق تعالیٰ نے فرما دیا کہ وَمَنْ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرْ لِنَفْسِہٖ  (۳۱: ۱۲) ‘جو کوئی خدا کا حق پہچانے گا اس کا یہ رویّۂ احسان شناسی خود اسی کی ذات کے لیے نفع بخش ہے۔ یہ بہرحال محسن بننے کے لیے نقطۂ آغاز جذبۂ شکرہے۔

شکر کی روش کی ضد کفر ہے۔ واضح کردیا گیا کہ جو کوئی شکر کی راہ کو چھوڑ کر کفر کی روش اختیار کرے تواس کا وبال بھی خود اسی کو بھگتنا ہے‘ اللہ تو غنی و حمید ہے اور اسے نہ کسی کے شکر کی احتیاج ہے‘ نہ کسی کے کفر سے کوئی اندیشہ۔

معلوم ہوا کہ اسلامی نظامِ تعلیم کا کام یہ ہے کہ وہ ایک ایک فرد کو یہ پیغام دے کہ      اَنِ اشْکُرْ لِلّٰہِ ، خدا کا حق پہچانو اور احسان شناسی کی روش اختیار کرو۔

انعاماتِ الٰھی کا شعور

شکر کا جذبہ انعامات‘ احسانات اور عنایات کے شعور سے پیدا ہوتاہے۔ اس سورہ میں یہ شعور دلانے کا اہتمام بھی ہے۔ دعوت دی گئی ہے کہ بے شمار ظاہری اور باطنی نعمتیں تقاضا کرتی ہیں کہ ان پر غوروفکر کرو‘ فرمایا:

اس نے زمین و آسمان کو ستونوں کے بغیر کھڑا کیا جیسے کہ تم دیکھتے ہواور زمین پر ایسے بوجھ جما دیے کہ تمھیں لیے ہوئے (اپنی گردش میں) کسی طرف ڈھلک نہ جائے اور اس میں سب طرح کے جانور پھیلا دیے اور آسمان سے بارش برسانے کا نظم مقرر کیا اور پھر اس کے ذریعے سے نباتات کے نہایت ہی خوب خوب جوڑے ہر طرح کے اگائے۔ (۳۱: ۱۰)

کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ سب کچھ جو کچھ زمین وآسمان میں ہے‘ اسے اللہ نے نفع رسانی میں لگا رکھا ہے اور تم پر ظاہری اور باطنی نعمتوں کی بوچھاڑ کردی ہے۔ (۳۱: ۲۰)

کیا تو نے غور نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ رات کو دن میں سے اور دن کو رات میں سے پرو کر نکالتا ہے… الخ (۳۱:۲۹)

کیا تو نے غور نہیں کیا کہ سمندر میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کے ساتھ کشتی چلتی ہے (۳۱: ۳۱)…اور جب اس کے مسافروں کے سروں پر کوئی لہر لکۂ ابر کی طرح چھا جاتی ہے تو (مصیبت میں گھِرکر) وہ اللہ کو پکارتے ہیں ___اس کے لیے جذبۂ عبودیت کو خالص کرکے!… (۳۱: ۳۲)

یعنی چاروں طرف سے خدا کی نعمتیں اُمڈی پڑ رہی ہیں۔ ایک وسیع خوان بچھ رہا ہے۔ قدرت کے اس ماحول میں ایک حقیقت پسند اور حق شناس انسان کے اندر لازماً جذبۂ شکر اُبھرنا چاہیے۔ نظامِ تعلیم کا یہ فرض ہے کہ وہ اس ماحول سے اس طرح طلبہ کو روشناس کرائے کہ انھیں خدا کے احسانات و انعامات کا شعور حاصل ہو اور عبدیت کے احساس کے ساتھ ان میں شکر کا جذبہ اُبھرے۔ ہمیں سائنس‘ جغرافیہ‘ تاریخ‘ ہیئت اور دوسرے تمام مادی و طبعی علوم کی تعلیم اس طرح دینی چاہیے کہ خدا پرستانہ شعور اس میں سمو دیا گیا ہو۔ ہر تجربہ‘ مشاہدہ‘ انکشاف‘ ایجاد و اختراع اور عملِ تسخیر ہمارے اندر خدا کے شکر کی اُکساہٹ پیدا کرے۔ حضوؐر کا یہ معمول تھا کہ سواری پر بیٹھتے تو جذبۂ شکر کے ساتھ خدا کی حمد کرتے اور اپنے عجز کا اقرار! (سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا…) ٹھیک اسی طرح ہمارے سائنس دان جب کسی رازِ فطرت کو سمجھ لیں‘ ہمارے موجد جب کوئی چیز ایجاد کریں‘ ہمارے کاریگر جب کسی مشین سے کام لیں اور ہمارے سپاہی جب کسی اسلحے کو ہاتھ میں لیں تو ان کی رُوحیں سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْن پکار اُٹھیں۔ اسی خدا پرستانہ جذبۂ شکر کے فقدان نے مغربی تمدّن کو مادہ پرستی میں اتنا بہکا دیا ہے کہ قدرت کے عطیات رحمت ہونے کے بجاے عذاب بن گئے ہیں۔ ہمارے نظامِ تعلیم کو اس اندھی مادہ پرستی سے انسانیت کو بچانا ہے۔

لوگوں نے اس طرح کی آیات سے عموماً یہ بات ثابت کرنے کی کوشش توکی ہے کہ قرآن سائنس اور دوسرے علوم حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہے مگر ہمارے جدید طبقے نے یہ کاوش نہیں کی کہ وہ کس اسپرٹ کے ساتھ اور کس نقطۂ نظر کے ساتھ علوم کی تحصیل و اشاعت چاہتا ہے۔ قرآن کا اوّلین منشا یہ ہے کہ خدا اور اس کی صفات اور اس کے حقوق کی معرفت‘ اس کے احسانات و عنایات کا شعور اور جذبۂ شکروسپاس کا سرمایہ‘ مطالعۂ انفس و آفاق سے حاصل کیا جائے اور کسی بھی علم کے دائرے میں کوئی قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایمان باللہ کو مشعلِ راہ کی حیثیت دینی چاہیے۔ ورنہ تمام علوم غلط رُخ پر ڈھل جائیں گے اور ان سے جو عمل پیدا ہوگا وہ بھی فاسد ہوگا۔

اُوپر جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے ان کو اور ان کی بے شمار ہم مقصد آیات کوآپ دیکھیے‘ ان سب کا منشا یہ شعور دلانا ہے کہ یہ کائنات اگر کوئی نظم رکھتی ہے‘ اس کے عناصر اگر تمھارے لیے سازگاری رکھتے ہیں‘ اس کے قوانین اگر تمھارے لیے تسخیر کی راہیں کھولتے ہیں تو یہ نظامِ فطرت یوں ہی ازخود ایسے نہیں بن گیا۔ کسی بنانے والے نے حکمت کے ساتھ اسے ایسا بنایا ہے اور تمھیں پیشِ نظر رکھا ہے۔ ہمارے علوم کو بھی اسی شعور کی راہ پر جانا چاہیے اور ہمارے نظامِ تعلیم کو بھی یہی مقصد سامنے رکھنا چاہیے۔

اس نکتۂ معنی کو ہم آیت ۳۲ میں بہت ہی واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں انسان کو اس عالمِ نفسیات سے ایک کیفیت پیش کر کے عبرت دلائی گئی ہے۔ انسان جہاں اس کائنات کی وسیع نعمتوں سے بہرہ اندوز ہوتا ہے‘ وہاں اس کی مہیب قوتوں کے سامنے وہ اپنے آپ کو انتہائی بے بس بھی پاتا ہے۔ یہ بے بسی اسے ایک ایسے روحانی سہارے کا محتاج بناتی ہے جو تدابیر کی بازی ہارنے کے بعد بھی قائم رہے۔ سمندر کی موجیں بھی ایک ایسی قوت ہیں کہ جب کبھی انسان ان کی زد پر آتا ہے تو سارے سہارے کھو بیٹھنے کے بعد خدا کی طرف بڑے سچے والہانہ جذبے سے رجوع کرتا ہے۔ آج بھی جب جہاز تباہی کے طوفان میں گھِرجاتے ہیں تو جدید الحاد پسند انسان بھی خدا کو یاد کرتا ہے اور بارہا خدا اپنے بے بس بندوں کی دکھ بھری فریادیں سن کر ان کو بچا نکالتا ہے۔ لیکن بچ نکلنے کے بعد کم ہی ہیں جو راہِ حق پر ’’مقتصد‘‘بن کے چلتے رہیں‘ بقیہ پھر جُحود میں پڑجاتے ہیں۔ بلاشبہہ یہ علم النفس کا ایک باب ہے مگر اپنی ایک خاص غایت کے ساتھ۔ اسی غایت کو سامنے رکھ کر نفسیات کا علم مدوّن کرنے کی‘ نفسیات کا تعلیمی نقشہ بنانے کی اور نفسیات کا نصاب ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اس غایت عبرت اندوزی اور خداشناسی کو مقصود بنائے بغیر نفسیات کا علم مدوّن کرنا یا اس کا سلسلۂ تعلیم و تعلّم جاری رکھنا اسلامی نقطۂ نظر سے قطعاً بے سود بلکہ اُلٹا مضر ہے۔

اسلامی نظامِ تعلیم کی اوّلین غایت خدا اور اس کی صفات اور اس کے حقوق کی معرفت دینا ہے۔ وہ خدا جس کا مقام یہ ہے کہ:

___اللہ ہی ہے جو قیامت (کی گھڑی) کا علم رکھتا ہے___وہی ہے جو مینہ برساتا ہے___ وہی ہے جو یہ جانتا ہے کہ رحموں کے پردے میں کیا کچھ ہے (۳۱:۳۴)۔ اور اس کے بالمقابل انسان___عقل کے اس پتلے ___ کاحال یہ ہے کہ:

___کسی جان کو نہیں معلوم کہ کل وہ کیا کرے گی___کسی جان کو نہیں معلوم کہ وہ زمین کے کس حصے میں دم توڑے گی۔ (۳۱: ۳۴)

کائنات اور زندگی کے سارے احوال کا مکمل علم صرف اللہ کو ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔(۳۱: ۳۴)

یہ ہے وہ مزاج جس سے ہمارے نظامِ تعلیم کو آراستہ ہونا چاہیے۔ اس نقطۂ نظر سے معلومات مرتب ہونی چاہییں اور پھر بعد کی نسلوں کی طرف منتقل ہونی چاہییں۔

کلماتِ الٰھی کا فھم

اسی سورت میں آتا ہے کہ اگر زمین کے سارے کے سارے درختوں سے بے شمار قلم بنا لیے جائیں اور ساتوں سمندر روشنائی میں بدل لیے جائیں اور لکھنے کے اس سامان کے ساتھ ’کلمات اللہ‘ یعنی خدا کی نعمتوں‘ اس کی قدرتوں‘ اس کی آیتوں‘ قوانین و نوامیس‘ اس کے احکام اور فیصلوں‘ اس کی مخلوقات کے احوال کو قلم بند کیا جانے لگے تو روشنائی کے سمندر ختم ہوجائیں گے اور قلم گھِس گھِس کر نابود ہوجائیں گے مگر خدا کے کلمات احاطۂ تحریر میں نہ آسکیں گے۔ ذکر تو اس کے مقامِ عظمت‘ اس کی قدرت کی لامحدود وسعتوں اور اس کی بے پایاں تخلیقات کا ہے۔ لیکن ایک واضح اشارہ یہ ہے کہ اصل کاوش کا میدان انسان کے لیے یہی ہے کہ وہ کلماتِ الٰہی سے اپنا دامنِ علم و ایمان بھرتا رہے۔ افراد اور قومیں اور نسلیں اپنی محنتیں اس مقصد پر کھپاتی چلی جائیں۔   ع

کیا اور جہاں میں رکھا ہے ‘ اُس جانِ جہاں کی بات کریں۔

اسلامی نظامِ تعلیم کا فرض یہ بھی ہے کہ وہ اپنے زیراثر ذہنوں میں تحریک پیدا کرے کہ وہ مطالعۂ آفاق و انفس کریں تو اس مقصد سے کریں کہ کلماتِ الٰہی کی جستجو کرنی ہے‘ ان کو سمجھنا ہے اور ان سے روشنی اور قوت حاصل کرنی ہے۔

خشیّت

ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ شُکر دین کا اگر ایک پہلو ہے تو دوسرا لازمی پہلو خشیت ہے۔  احسان کی قدر ازخود احسان کے چھن جانے کا اندیشہ پیدا کرتی ہے۔ سو جہاں خدا کی رحمت کے لیے تمناے بے تاب موجود رہنی چاہیے وہاں رحمت سے محرومی کی فکر بھی کارفرما ہونی چاہیے۔   آدمی رحمتِ الٰہی کے نشے میں پڑکر بعض اوقات اپنی ذمہ داریاں بھول جاتا ہے اور جب یکایک  قہر کی بدلیاں چمکتی دیکھتا ہے تو حواس کھو بیٹھتا ہے۔ وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ     وَنَاٰ بِجَانِـبِـہٖ وَاِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ کَانَ یَئُوْساً۔(بنی اسرائیل ۱۷:۸۳)

پس خشیت کا جذبہ ایک پاسبان جذبہ ہے اور یہ آدمی کو محتاط اور چوکنّا رکھتا ہے۔ اسے برسرِعمل لانے کے لیے آخرت کے محاسبے کا تصور دلایا گیا ہے۔ سورئہ لقمان میں انتباہ دیا گیا ہے کہ:

معاملات کا آخری فیصلہ اللہ کی بارگاہ میں ہوگا۔ (۳۱: ۲۲)

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اندیشہ رکھو اس دن کا جس دن نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام آئے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کے لیے کچھ مفید ہوسکے گا۔ یقینا خدا کا وعدہ سچا ہے‘ سو تم کو دنیوی زندگی دھوکے میں نہ ڈالنے پائے اور تم کوا للہ کے بارے میں وہ دغاباز (شیطان) کسی فریب میں مبتلا نہ کر دے۔ (۳۱: ۳۳)

بہت سے مغالطے صاف کرنے کے لیے یہ بھی جتا دیا کہ لکھُوکھا انسانوں کو دوبارہ اُٹھا کھڑا کرنے میں خدا کو کوئی مشکل درپیش نہیں ہے:

تم سب کو بنانا اور تم سب کو دوبارہ اُٹھا کھڑا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بس ویسا ہی ہے جیسے ایک فرد کا! (۳۱: ۲۸)

اور حضرت لقمان بھی اپنے فرزند کو خدا کی مضبوط گرفت سے یوں آگاہ کرتے ہیں کہ: اے میرے بیٹے! اگر رائی برابر بھی کوئی چیز کسی پتھر کے اندر ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں (کہیں) ہو تو اللہ (جب چاہے) اسے لاحاضر کرے۔ (۳۱: ۱۶)

اسلامی زندگی خدا کے محاسبے اور خدا کی گرفت کا خوف رکھے بغیر نہیں بنتی۔ اسلام کا انسانِ مطلوب وہی ہے جو محاسبۂ آخرت کو ذہن میں رکھ کر سوچتا‘ زبان کھولتا اور عملی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے۔ وہ ادنیٰ ادنیٰ وقتی مفادات کے بجاے‘ خدا کی رضا جیسا اُونچا منتہا سامنے رکھتا ہے۔

اسلامی نظامِ تعلیم پر بھی واجب آتا ہے کہ وہ اس خشیت سے دلوں کو آراستہ کرے‘ محاسبۂ آخرت کا احساس تازہ کرے اور رضاے الٰہی پر نگاہوں کو مرتکز کرا دے۔ حکمت اور نیکی کے لیے یہ خشیت ایک لازمی بنیاد ہے۔

توحید

خدا کے احسانات کے جواب میں شکر اور احسان شناسی کا رویّہ صرف توحید کو تسلیم کرنے ہی سے پیدا ہوسکتا ہے۔ ورنہ اگر خدا کے عطیات سے استفادہ کرکے احساسِ شکر پورے کا پورا اس کے حضور پیش کرنے کے بجاے کچھ دوسری مفروضہ ہستیوں پر تقسیم کردیا جائے تو جس کا حق واجب تھا اس کا حق تو ادا نہ ہوا اور جن کا حق کچھ بھی نہ تھا ان تک بے جا طور پر جا پہنچا۔حضرت لقمان اپنے فرزند کو تعلیم دیتے ہیں کہ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ ط اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (۳۱: ۱۳) ۔ظلم کہتے ہیں حق ماری کو۔ یہ خدا کی حق ماری ہے اور اس لیے بہت بڑی حق ماری ہے کہ اس کا کھاکر     گُن دوسروں کے گائے جائیں۔

پس اسلامی نظامِ تعلیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسلوں کو توحید پر جما دے اور ان کو اس سے روکے کہ وہ ذات میں‘ صفات میں‘ حقوق میں یا حاکمانہ اقتدار میں خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کریں۔

خدا کا کُلی انکار بہ حیثیت مجموعی انسانیت نے شاید کبھی بھی نہیں کیا‘ نہ آج کا انسان تصورِ خدا سے ذہن کو خالی کرسکا ہے۔ مصیبت یہی رہی ہے کہ کسی نہ کسی نوع کا شرک اولادِ آدم کو لے ڈوبا ہے۔ کسی نے ذات میں شریک کیا‘ کسی نے صفات میں‘ کسی نے عبادات میں سے دوسروں کو حصہ دیا‘ کسی نے استعانت دوسری بارگاہوں سے کی اور کسی نے طاعت کے لیے دوسرے اقتدار سامنے رکھ لیے۔ اسلام نے عبادت‘ استعانت اور طاعت کے تینوں پہلوئوں سے انسان کو توحید پر جمایا ہے۔ اسلامی نظامِ تعلیم بھی وہی ہوسکتا ہے جو انسانیت کو یہی درسِ توحید دے۔

سماجی روابط کی درستی

خدا کے احسانات کے شعور سے جس دل میں شکروسپاس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ انسانوں کے احسانات کا بھی بہترین قدردان ثابت ہوتا ہے اور انسانوں میں سب سے بڑھ کر احسان والدین کا ہے اور ان میں سے بھی والدہ کا احسان بہت بڑا ہے۔ چنانچہ حضرت لقمان اپنے بچے کو دوسری نصیحت والدین سے حسنِ سلوک کی کرتے ہیں۔ وہ خدا کا مطالبہ یوں بیان کرتے ہیں کہ:

میرا شکر ادا کر اور (میرے بعد) اپنے والدین کا بھی! (۳۱: ۱۴)

سماجی رابطوں میں دین حق نے والدین کو اوّلین مقام دیا ہے۔ خدا کے عظیم حق کے بعد جو شخص والدین کے حق کو بھی پہچان لیتا ہے‘ پھر وہ دوسرے تمام رابطوں کے حقوق کا احساس کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ پھر اس کے کردار میں یہ جذبہ احسان شناسی اس اصل الاصول کی حیثیت سے پیوست ہوجاتا ہے کہ مجھے ہر بھلائی کا جواب بھلائی سے دینا ہے۔ مجھے جس سے فائدہ اٹھانا ہے اس کو فائدہ پہنچانا بھی ہے جس سے میں کچھ لیتا ہوں اسے دینا بھی ہے۔ گھر‘ خاندان‘ معاشرہ اور اس کے ادارات‘ حکومت‘ قوم اور انسانیت سبھی سے آدمی کو بے شمار فائدے پہنچتے ہیں اور اگر وہ احسان شناسی ہو تو وہ ہر استفادے کے جواب میں کوئی نہ کوئی خدمت پیش کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ والدین کا جس نے حق پہچانا‘ پھر وہ خاندان اور ذوی القربیٰ اور پڑوسیوں اور افسروں اور ماتحتوں‘ بلکہ جانوروں تک کے حقوق کا احساس کرنے لگتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے تمام سماجی روابط کی درستی کا دارومدار والدین کا حق پہچاننے پر ہے۔

لیکن والدین کی طاعت و خدمت خدا کی عبادت و اطاعت سے نچلے مرتبے پر ہے۔ مقدّم خدا کا حق ہے۔ خدا کا حق مار کر اگر والدین کا حق ادا کیا جائے تو شرک کی راہ کھل گئی۔ اس وجہ سے یہ وضاحت بھی کی گئی کہ وَاِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا (۳۱: ۱۵)‘ یعنی اگر والدین تم کو خدا کے ساتھ کسی اور کو شریک بنانے کے لیے مجبور کریں جو تمھارے علم و ایمان میں نہیں ہے تو ایسی صورت میں ان کی غلط بات کی اطاعت نہ کرو۔

یعنی والدین کی اطاعت اصولاً انسانی تعلقات کے تمدنی دائرے میں ہر دوسری اطاعت خدا کی اطاعت کی حدوں کے اندر کی جاسکتی ہے۔ ان حدوں کو توڑ کر نہیں۔ جو اطاعت سب سے بڑی اطاعت کی حدوں کو پھاندنا چاہے وہ ترک کر دی جائے گی۔ والدین کے کہنے سے شرک کی روش اختیار نہیں کی جا سکتی‘ ان کے ایسے حکم سے انکار لازم ہے۔ البتہ اس حالت میں بھی ان کا  پاسِ ادب رہے گا۔ چاہا گیا ہے کہ وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا ، یعنی اس اصولی اختلاف کے باوجود ان سے دنیوی تعلقات خوش اسلوبی سے نبھائو۔ یہاں سے ضمناً یہ رہنمائی بھی ملتی ہے کہ سماجی رابطے___ حکمران سے‘ والدین اور اقربا سے‘ کاروباری شرکا سے‘ دفتری افسروں سے___  ایمان و مسلک کے شدید اورواضح اختلافات کے باوجود خوش اسلوبی سے نبھائے جاسکتے ہیں۔ اور ان رابطوں کا قائم رہنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ دعوتِ حق پہنچانے کے دروازے بند نہ ہوجائیں۔

ساتھ ہی پھر تاکید کہ وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ (۳۱: ۱۵)۔ زندگی میں پیروی کرو  تو صرف ایسے ہی رہنمائوں کی جو خداوندتعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے ہوں۔ زندگی کے  اصول و اقدار اُنھی سے لو۔ یہاں اشارہ یہ بھی ہے کہ اسلامی معاشرے میں سیاسی اور ذہنی قیادت کے مناصب ایسے افراد کوسونپے جائیں جن کی زندگیاں رجوع الی اللہ کی آئینہ دار ہوں۔ گویا   معیارِ انتخاب بھی معین ہوگیا۔ علاوہ ازیں یہ اشارہ بھی یہاں سے اخذ ہوتا ہے کہ ہمیں درس گاہوں کے معلّمین بھی ایسے ہی لینے چاہییں جو رجوع الی اللہ کی صفت سے متصف ہوں‘ کیوں کہ طلبہ ان کے اتباع میں چلیں گے۔

اس ہدایت کی روشنی میں ایک اسلامی نظامِ تعلیم کو ان امور کی تربیت دینی چاہیے:

  •  خدا کی اطاعت کے تحت سب سے بڑھ کر والدین کی اطاعت‘ اور پھر درجہ بدرجہ دوسرے تمام روابط کے حقوق کو پورا کرنا۔
  •  خدا کی اطاعت سے اگر والدین یا کسی دوسرے کا حکم ٹکرائے تو اسے قبول کرنے سے انکار کرنا۔
  •  اعتقاد و مسلک کے اختلاف کے باوجود جائز دنیوی معاملات کی حد تک سماجی رابطوں کو نبھانا۔
  • زندگی کے سفر میں صرف ایسے عناصر کی رہنمائی قبول کرنا جو خدا کی طرف رجوع دلانے والے ہوں۔

اِن نکات پر ہماری سِوکس (Civics) کی ترتیب ہونی چاہیے۔

امر بالمعروف اور نھی عن المنکر

حضرت لقمان مزید فرماتے ہیں کہ اے بیٹے! نماز قائم کرو‘ معروف کا حکم دو اور منکر سے روکو اور (اس جدوجہد میں) جو کچھ بھی پیش آئے اسے حوصلہ مندی سے برداشت کرو! (۳۱:۱۷)

آخر میں یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ’ہمت کے کام ہیں‘۔ درحقیقت دین کا بہت ہی بڑا تقاضا یہ ہے جو یہاں بیان ہوا ہے۔ اسلام اپنے انسانِ مطلوب کو اس مقصد کے لیے اٹھانا چاہتا ہے کہ وہ تمدن کے پورے دائرے میں منکر کا سدّباب کرے اور معروف کا سکّہ چلانے کی جدوجہد کرے۔ اسے نیکی کا نظام قائم کرنا ہے اور بدی کی جڑ کاٹنی ہے۔ وہ حق کا سپاہی ہے اور باطل کے خلاف جہاد میں اسے ساری قوتیں کھپانی ہیں۔ خیالات‘ نظریات‘ اخلاق‘ رسوم‘ قانون‘ معاشیات‘ کاروبار‘ سیاست‘ بین الاقوامی مسائل کے بے شمار دوائر ہیں جہاں جہاں بھی اسے قانونِ الٰہی اور فطرتِ انسانی اور عقلِ سلیم کے خلاف کوئی منکر دکھائی دے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ اسے ختم کرنے اور لوگوں کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کرے۔ دوسری طرف قانونِ الٰہی‘ بے آمیز فطرتِ انسانی اور عقلِ سلیم جن امور کا تقاضا کرتی ہے ان کو نافذ کرنے کے لیے زور لگائے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ غیراسلامی نظام اور ماحول میں تبدیلی لائے‘ انقلاب پیدا کرے۔

یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی بھی تبدیلی تکلیف اٹھائے بغیر اور قربانیاں دیے بغیر اور مزاحمتوں کا سامنا کیے بغیر نہیں لائی جاسکتی۔ بدی کا زور توڑنے اور نیکی کا راج قائم کرنے کے لیے جو جہاد لازم آتاہے وہ کوئی کھیل تو ہے نہیں۔ اس لیے انتباہ دیا گیا ہے کہ اس مہم میں جو جو کچھ مزاحمتیں اور مصیبتیں پیش آئیں ان کو حوصلے سے سہارو۔

ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْر کہہ کر توجہ دلائی کہ یہ ہے بلند ہمت لوگوں کے کرنے کا کام! یہ ہے عظیم الشان معرکہ جس کے لیے بازیاں لگائی جانی چاہییں۔ یہ ہے نصب العین جس کے لیے جانیں لڑانا مردوں کے شایانِ شان ہوسکتا ہے۔ نوکری اور کاروبار اور عہدے اور ادنیٰ ادنیٰ خواہشات پر مرتے رہنا اہلِ دل کا کام نہیں۔

نماز قائم کرنے کی تلقین یہاں یوں مناسب تھی کہ خدا سے شکر کا تعلق قائم رکھنا تو اس کے بغیر ممکن ہے ہی نہیں‘ لیکن آگے جو مردافگن مہم سونپی جارہی ہے اس کا ایک ایک قدم اٹھانے کے لیے نماز سے مدد لینے کی ضرورت ہے۔ نماز ہی خدا سے تعلق کا ذریعہ ہے اور نماز ہی انسانی دائرے میں اداے فرض کے لیے ضروری ہے۔ نماز خدا کے حضور شکر کا اظہار ہے اور بندوں کے مقابلے میں صبرآموز اور ہمت افزا۔

اب یہ بات خودہی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلامی تعلیم کو کیا نصب العین سامنے رکھنا چاہیے اور کس مقصد کے لیے نئی نسلوں کو تیار کرنا چاہیے۔ صحیح تعلیم وہ ہے جو ایک طرف بجاے خود امربالمعروف اور نہی عن المنکرکرے‘ معروف ومنکر کا فہم دلائے اور معروف کو قائم کرنے اور منکر سے روکنے کے لیے جہاد کا انقلابی جذبہ ودیعت کرے۔ پھر ہماری تعلیم گاہوں میں تربیت کا ایسا ماحول ہونا چاہیے جو طلبہ کو اقامتِ صلوٰۃ پر آمادہ کرسکے۔ وہ ان کو صبروہمت اور حوصلہ و عزم سے آراستہ کرکے نکالے۔

روشِ کِبر سے اجتناب

خدا کے لیے جذبۂ شکر عبودیت کی جس راہ پر لے جاتا ہے اس میں کبرورعونت کا کوئی مقام نہیں آسکتا۔ مسلکِ شکر اور مسلکِ کبر میں کامل منافات ہے۔ حضرت لقمان اپنے بچے کو تاکید کرتے ہیں کہ:

لوگوں کے مقابلے پر اپنے گال نہ پھلائو اور زمین میں گھمنڈ کی چال نہ چلو۔ خدا کسی  شیخی باز‘ غلط کار کو پسند نہیں کرتا۔ (۳۱: ۱۸)

خداپرستی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی دوسرے انسانوں کے لیے مساویانہ مرتبے کا احساس کرے کیوں کہ سب ایک ہی خالق کی مخلوق اور ایک ہی اللہ کے بندے ہیں۔ دوسروں کے مقابلے میں فخروغرور‘ اکڑفوں اور ان کی تحقیر کے لیے اسلامی زندگی میں گنجایش نہیں۔ جس شخص میں رتی بھر کبر بھی ہوگا وہ اُخروی کامرانی حاصل نہ کرسکے گا اور نہ وہ اس ارضی زندگی میں احسان کیش بن کر حیاتِ طیبہ سے بہرہ مند ہوسکتا ہے۔ غرورِ مال‘ غرورِ حُسن‘ غرورِ صحت‘ غرورِ نسل‘ غرورِ وطن‘ غرورِ آبا‘ غرورِ اولاد‘ غرورِ علم اور غرورِ اقتدار کے تمام دروازے یہاں بند ہیں۔ نہ انفرادی کبر کی رخصت ہے‘ نہ طبقاتی اور نہ جماعتی فخر کی۔

انسانی معاشرے کے فساد کی شاید سب سے وسیع الاثر بنیاد یہی ہے کہ کوئی فرد‘ کوئی خاندان‘ کوئی نسل‘ کوئی طبقہ یا کوئی جتھا اپنے متعلق یہ سوچتا ہے کہ میں بڑا ہوں اور دوسرے چھوٹے ہیں۔ میرے حقوق زیادہ ہیں‘ میرے مفادات اہم تر ہیں اور مجھے ترجیح حاصل ہے۔ پھر جس کا دائو چل جاتا ہے وہ اقتدار‘ قانون‘ روایات‘ معاشی تسلط‘ ذہنی تفوق‘ طبقاتی بالادستی کے زور سے زندگی کے توازن کو غارت کر دیتا ہے۔ جواباً دوسروں میں بھی ایسا ہی مقام حاصل کرنے کے لیے بے چینی پیدا ہوتی ہے اور پھر رسّہ کشی ہونے لگتی ہے۔

کبر ہی کے تحت ماضی کے کچھ سرپھرے انسانوں نے خدائی کے دعوے کیے۔ کبر ہی کے تحت چنگیزوں اور ہلاکوئوں نے مدنیت کو پیروں تلے روندا‘ کبر ہی کے تحت ہٹلر اور مسولینی کی آمریت اُبھری اور کبر ہی کے تحت آدمی آدمیوں کے خلاف گھنائونے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے۔

اسلام انسانوں کے لیے مساوات کی تعلیم دیتا ہے اور ہماری درس گاہوں کو بھی طلبہ کے اندر یہی روح پھونکنی چاہیے۔ نظامِ تعلیم نئی نسلوں کو تلقین کرے کہ وہ انسانیت کے سامنے گال پھلائے اور تیوری چڑھائے ہوئے نہ آئیں اور زمین پر متکبرانہ روش کے ساتھ زندگی نہ گزاریں۔ ان کو مختالِ فخور نہیں بننا چاہیے۔

علمِ حق کی مشعل

اس سورئہ تعلیمات میں ایک بیش قیمت نکتہ یہ بھی سکھایا گیا ہے کہ آدمی کو جادئہ ہستی پر ہرقدم علم___ یعنی علمِ حق___ کی روشنی میں بڑھانا چاہیے۔ جہالت کی اندھیاریوں میں کوئی قدم نہ رکھنا چاہیے۔

آیت ۶ میں اس فاسد کردار کو بیان کیا جو لھو الحدیث کے ذریعے مسافرانِ حیات کو اللہ کے راستے سے بھٹکاتا ہے اور یہ کارنامہ وہ بغیر علم سرانجام دیتا ہے۔

آیت ۱۵ میں حضرت لقمان کی نصیحت میں شرک سے منع کرتے ہوئے مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ کے الفاظ آئے ہیں یعنی جب تک تمھیں واضح طور پر علم نہ ہو کہ خدا کا کوئی ساجھی ہے___ تم نے دیکھا ہو یا دلیلِ قطعی سے جانا ہو‘ یا الہامی رہنمائی سے معلوم کیا ہو___ تو تمھارایہ کام نہیں کہ محض والدین کے کہنے یا کسی اور کے زور ڈالنے سے ایک نامعلوم بات کو واقعہ تسلیم کرلو۔

آیت ۲۰ میں ایک فاسد کردار کا ذکر ہے جو اللہ کے بارے میں اور اس کے دین کے بارے میں بغیر کسی علم کے بحثابحثی کرتے ہیں۔ مختلف دعوے پیش کرتے ہیں‘ حقیقتوں کی تردید کرتے ہیں۔ ان کو کوئی یقینی ہدایت حاصل نہیں ہوتی اور ان کے پاس کسی ثابت شدہ اور غیرمحرف الہامی نوشتے کی سند نہیں ہوتی۔ علم کے بغیر جو لوگ ٹامک ٹوئیاں مارنے کے عادی ہوجاتے ہیں‘ ان کو جب اللہ کے نازل کردہ ہدایت نامے کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو وہ اس بنیاد پر اسے قبول نہیں کرتے کہ ہم تو اسی روش پر چلیں گے جس پر ہمارے باپ دادا چلتے آئے ہیں۔ ان کی اس جاہلانہ ذہنیت کو خود ان پر نمایاں کرنے کے لیے یہ استفہامی اشارہ فرما دیا کہ اَوَلَوْ کَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْھُمْ اِلٰی عَذَابِ السَّعِیْر (۳۱:۲۱)___ یعنی یہ بھی سوچا ہوتا کہ کیا ہوگا نتیجہ اگر تمھارے باپ دادوں کو یا خود تم کو شیطان جہنم کے عذاب کی طرف لیے جا رہا ہو۔

ان آیات کی مدد سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اسلامی نظامِ تعلیم کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نئی نسلوں کو واضح قسم کے علمِ حقائق___ جو ثابت شدہ الہامی ہدایت پر مبنی ہو یا مشاہدے و تجربے کا یقینی ماحصل!___ کی روشنی میں سوچنے اور کلام کرنے اور عملی روش اختیار کرنے کی تربیت دے۔ عالمِ افکار ہو یا عالمِ کردار‘ ہمارے نظامِ تعلیم کے تربیت یافتہ ضمیر‘ انسان کو علم کی روشنی کے بغیر ظن و تخمین کے اندھیروں میں گامزن نہ ہونے دیں۔ اندھی آبا پرستی اور قوم پرستی اور ہر قسم کی ’پرستی‘ اور جھوٹے تعصبات سے طلبہ کو بچایا جائے۔ وہ بڑی بڑی قوموں‘ جابر و ظالم حکمرانوں اور غلط ماحول سے متاثر ہوکر حقائق کی راہ سے ہٹ کر کچے قیاسات اور ادھورے نظریات کے سامنے مرعوبانہ اور مقلدانہ شان سے سرخم نہ کریں۔ ان پر حقائق اور نظریات کا فرق واضح ہونا چاہیے۔ وہ قائل ہوجائیں کہ قیاسی نظریات پر اخلاق‘ کردار اور تمدن کی بنیاد ہرگز نہیں رکھی جاسکتی۔

تھذیب و شایستگی

اُوپر کے وسیع نکات حکمت کے ساتھ ساتھ حضرت لقمان اپنے فرزند کو مہذب‘ صاف ستھرے اور سلیقہ مندانہ اطوار اختیار کرنے کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ وہ سکھاتے ہیں کہ:

میانہ روی کی چال چلو‘ اپنی آواز کو دھیما رکھو‘ کیوں کہ گدھے کی آواز بہت بُری آواز ہے۔ (۳۱: ۱۹)

یعنی چلو تو بہت باوقار طریقے سے چلو۔ نہ یوں کہ آدمی گھبرایا ہوا بھاگ رہا ہو‘ اور نہ یوں کہ مریل طریق سے چل رہا ہو۔ ویسے وَاقْصِدْ فِی مَشْیِکَ کا ایک جامع مطلب یہ ہے کہ ہرمعاملے میں اعتدال کا رنگ پیدا کرو۔ بولو تو دھیمی آواز سے بولو۔ گلا پھاڑ پھاڑ کر بولنے سے آدمی جانوروں سے مشابہت اختیار کرتا ہے۔ مزید تفصیلات قرآن میں بھی… اور حدیث میں بھی بڑے پیمانے پر مذکور ہیں۔

مطلب یہ ہوا کہ اسلامی زندگی چال ڈھال‘ گفتار رفتار‘ کھان پین [کھانے پینے] جیسے اُمور میں اعتدال اور وقار اور سلیقہ و شایستگی کی متقاضی ہے۔ سو ہمارے نظامِ تعلیم کو یہ غایت بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ وہ اچھے آداب و اطوار سے طلبہ کی روزمرہ زندگی کو آراستہ کرے۔ ان کو میانہ روی سکھائے اور انتہاپسندی سے روکے۔

میں نے سورئہ لقمان کو جس طرح سے سمجھا ہے اجمالاً مطالعے کا ماحصل پیش کر دیا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سورہ کے نکات اسلامی نظامِ تعلیم کی بنیادوں‘ اصولوں اور مقاصد کو بخوبی معین کردیتے ہیں۔ ان نکات کی شرح و تفصیل کے لیے نہ صرف پورے قرآن سے استفادہ کرنا لازم ہے بلکہ حضورؐ نے عملاً ایک نظامِ تعلیم و تربیت چلاکر قرآن کی جو شرح پیش فرمائی ہے نیز زبانِ مبارک سے حکمتِ قرآنی کو جس طرح واضح کیا ہے۔ اس سارے کارنامے کی مدد لے کر ہی ہم کسی تعلیمی خاکے میں صحیح رنگ بھرسکتے ہیں مگر بنیادی خاکہ ہمیں سورئہ لقمان میں یک جا ملتا ہے۔

خدا کرے کہ یہ کاوش مبنی برہدایت ہو‘ پڑھنے والوں کے لیے باعثِ افادہ ہو‘ اللہ کے کچھ بندوں کے سینوں میں اسلامی نظامِ تعلیم کو عملاً پوری طرح کارفرما کرنے کا جذبہ بیدار ہو اور لکھنے والے کے لیے ذریعۂ مغفرت ٹھیرے۔ [آمین]

اے فرزند! اے دُختر!

بہت دُور سے ‘مگر درحقیقت بہت قریب سے---موت کے قافلے کی صداے جرس مجھے سنائی دے رہی ہے۔ یہ قافلہ مجھے لے جانے کے لیے آ رہا ہے۔ پیشتر اس کے کہ یہ مجھ تک پہنچے‘ میں اپنی قوتوں کی آخری پونجی اس پر صرف کرنا چاہتا ہوں کہ دل کی محبت کی  باتیں جو بس اسی گھڑی کہنے کی تھیں ‘ان کو تم تک پہنچانے کی فکر کروں۔

O

یہ سربمہر وصّیت نامہ جسے لکھواتے ہوئے میرے ذہن میں سب سے پہلے حضرت سیدنا ابراہیم و اسمٰعیل علیہم السلام کی وہ پاکیزہ تمنّا ضوبار ہوئی جو تعمیر کعبہ کے دوران میں ان الفاظ میں نمودار ہوئی تھی: ’’اے ہمارے رب! ہم دونوں کو اپنا اطاعت گزار بنا اور ہماری نسل میں سے    اپنی اطاعت کرنے والی ایک امت برپا کر‘‘ ، اور پھر وہ پاکیزہ وصیت کہ: ’’اے میرے بچو! اللہ نے تمھارے لیے ایک طریق زندگی منتخب کر دیا ہے سو اب تم کو موت نہ آئے بجز اس حال کے کہ     تم مسلم ہو‘‘۔ اس کے ساتھ ساتھ میرے سینے میں یعقوب علیہ السلام کے دل کی وہ تڑپ بھی    لہرائی جو بسترمرگ پر اولاد سے بالفاظ ذیل خطاب کرنے کی محرک ہوئی: ’’میرے بعد تم کس کی بندگی و طاعت کرو گے‘‘--- اور پھر ان الفاظ کا وہی جواب سننے کی آرزو مجھے اپنے اندر محسو س ہوئی جو یعقوب علیہ السلام کو ان کی اولاد کی طرف سے ملا تھا کہ: ’’ ہم تیرے اللہ کی اور تیرے آبا ابراہیم اور اسماعیل ؑاور اسحاقؑ کے اللہ کی بندگی و طاعت کریں گے جو واحد اللہ ہے اور ہم اس کے آگے سرتسلیم خم کرنے والے ہیں‘‘ ! اور پھر میرے ذہن میں لقمان کے وہ کلمات وصّیت بھی نمودار ہوئے جن کو قرآن میں جگہ پانے کی سعادت ملی۔ اور پھر سب سے آخر میں اپنے دور کے سب سے بڑے مسلم شاعر کا وہ جذبہ انگیز نتیجہء کاوش سامنے آیا جو اس نے ’’ سخنے بہ نژادِنو‘‘ کے نام سے قلم بند کیا ہے اور میرا جی چاہا کہ اس صاحبِ درد کے یہ معنی خیز الفاظ دہرا دوں کہ:

لاالہٰ گوئی؟ بگو از روے جاں

تا ز اندام تو آید بوے جاں!

مومن و پیشِ کساں بستن نطاق!

مومن و غدّاری و فقر و نفاق!

شیوۂ اخلاص را محکم بگیر

پاک شو از خوف سُلطان و امیر

عدل در قہر و رضا از کف مدہ

قصد در فقر و غناء از کف مدہ

سِّر دیں! صدق مقال‘ اکلِ حلال

خلوت و جلوت تماشاے جمال!

در رہِ دیں سخت چوں الماس زی

دل بحق بربند و بے وسواس زی!

دیں سراپا سوختن اندر طلب

انتہایش عشق و آغازش ادب!

سترِ زن! یا زوج یا خاک لحد

سترِ مرداں! حفظِ خویش از یارِ بد

گرچہ باشی از خداونداں دہ

فقر را از کف مدہ‘ از کف مدہ

درجہاں جز دردِ دل ساماں مخواہ

نعمت از حق خواہ و از سلطاں مخواہ!

سالہا اندر جہاں گردیدہ ام

نم بچشم منعماں کم دیدہ ام

لاالٰہ کہتا ہے‘ تو دل کی گہرائیوں سے کہہ تاکہ تیرے بدن سے بھی روح کی خوشبو آئے۔ مومن اور دوسروں کی غلامی کرے؟ مومن ہو اور غداری‘ نفاق اور فاقہ مستی اختیار کرے؟ اخلاص کے طریقے کو مضبوطی سے پکڑ اور سلطان و میر کے خوف سے آزاد ہو جا (صرف اللہ تعالیٰ کا ہو جا)۔ غصّے میں ہو یا خوشنودی میں‘ عدل کو ہاتھ سے نہ دے اور افلاس ہو یا امارت‘ میانہ روی نہ چھوڑ۔ دین کا راز سچ بولنے اور حلال کھانے اور خلوت و جلوت میں حق تعالیٰ کے جمال کا نظارہ کرنے میں ہے۔ دین کی راہ میں الماس کی طرح سخت زندگی بسر کر‘ اللہ تعالیٰ سے دل لگا اور ہر قسم کے وسوسہ سے آزاد ہو۔ دین کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طلب میں اپنے آپ کو سوختہ کر دینا‘ اس کی ابتدا ادب ہے اور انتہا عشق ۔ عورت کا ستر اس کا خاوند ہے یا قبر‘ مرد کا ستر بُری صحبت سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔خواہ تو کتنا بڑا جاگیردار ہو‘ پھر بھی فقر کو ہرگز ہاتھ سے نہ چھوڑ۔  دنیا میں درد دل کے علاوہ کسی اور سامان کی خواہش نہ رکھ‘ جو بھی نعمت چاہتا ہے اللہ تعالیٰ سے مانگ‘ کسی بادشا ہ سے نہ مانگ۔ میں برسوں دنیا میں پھرا ہوں‘ میں نے دولت مندوں کی آنکھوں میں نم بہت کم دیکھی ہے۔

مجھے اس سے زائد کچھ کہنا نہیں اور میرے دل میں جو کچھ ہے اسے مجھ سے پہلے مجھ سے بہتر لوگ کہہ گئے ہیں۔ لیکن آدمی اپنے دل کی بات اپنی زبان سے اور اپنے لفظوں میں کہہ کر ہی آسودگی پاتا ہے‘ سو میں کہتا ہوں تم سنو!

O

جب یہ وصّیت نامہ اول اول تمھارے ہاتھوں میں دیا جائے گا تو ایک طرف تو میری ہستی اور میری عمر رفتہ کی ساری جھلکیاں اور تمھارے اور میرے تعلقات کی دور تک پھیلی ہوئی یادیں سمٹ کر تمھاری آنکھوں کے سامنے آجائیں گی اور تمھیں وہ خلا بہ شدت محسوس ہو گا جو میری موت سے پیدا ہونے والا ہے اور جسے پُر کرنے کی ذمہ داری اب تمھارے اوپر عائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف تم دھڑکتے ہوئے دلوں کے ساتھ مہریں توڑتے ہوئے یہ گمان بھی کرو گے کہ نہ معلوم تمھارے باپ نے تمھارے لیے کہیں کوئی خزانہ چھپا رکھا ہو‘ کہیں کوئی ترکہ محفوظ پڑا ہو‘ اور یہ وصیت نامہ اس کی اطلاع کے لیے قلم بند کرایا گیا ہو--- نہیں--- مگر غالباً تم  ایسے پست خیالات سے بسا بلند نکلوگے۔ پر اگر تم ایسے خواب دیکھ سکتے ہو اور تمھاری توجہ تمھاری سطح سے نیچے کی چیزوں کی طرف جا سکتی ہے‘ تو پھر میں تم کو صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ تمھارے باپ نے نہ کبھی ضرورت سے زیادہ کمایا‘ نہ کبھی کچھ بچایا‘ اور نہ وہ تمھارے لیے سونے چاندی کے ذخائر‘ قطعات اراضی‘ باغات اور محل چھوڑ مرنے کے پروگرام سامنے رکھ کر جیا تھا۔

O

مجھے خوشی ہے کہ میں نے تمھارے لیے کچھ نہیں چھوڑا--- اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے تمھارے لیے بہت کچھ چھوڑا --- میں نے عمر بھر اس بات کی پوری پوری کوشش کی ہے کہ تمھارے دماغوں کو ایسے افکار‘تمھارے قُلوب کو ایسے عقائد‘ تمھاری سیرتوں کو ایسے اصول ‘اور تمھارے عمل کو ایسے محرکات سے مالا مال کر دوں کہ تمھارے پیکر نہ صرف تمھارے لیے بلکہ ساری دنیا کے لیے لازوال خزانے بن جائیں۔

ہم جس دور میں پیدا ہوئے وہ انسانیت کی انتہائی پستی کا دور تھا اور جو ماحول ہمیں نصیب ہوا وہ ’’کافر گر‘‘ ماحول تھا‘ ’’مسلم ساز‘‘ کسی لحاظ سے نہیں تھا--- اور اب یہی ماحول میں تمھارے لیے ترکے میں چھوڑ رہا ہوں۔ مگر اب اس ماحول میں ایک تبدیلی آ چکی ہے جس سے تم فائدہ اٹھا سکتے ہو۔

ایسے گندے دور اور ایسے پلید ماحول نے ہمارے دماغوں میں دنیا کے بد ترین خیالات کی کاشت کی اور پھر ان کی خوب خوب آبیاری کی۔ اس نے ہماری فطرتوں کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی‘ اس نے ہمارے اخلاق کو روگ لگانے میں کسی پہلو سے کوتاہی نہیں کی۔ اس نے ہماری روحانی موت کے سامان کرنے میں کسی طرح کی کمزوری نہیں دکھائی۔ اس دور اور اس ماحول کی لپیٹ میں جو آیا‘ اس میں خواہش پرستی پیدا ہوئی‘ اس میں نفس کی غلامی پیدا ہوئی‘ اس میں نفاق پیدا ہوا‘ اس کے ذہن میں تضاد نے اپنے گل کھلائے‘ اس میں بے حیائی نے جڑیں پکڑیں‘ اس میں نفسانیت اور بہیمیت نے چھائونیاں ڈالیں اور اس میں نمایش اور ریانے اپنے اڈے جمائے۔ اُسے تعلیم‘ لٹریچر‘ صحافت اور دوسرے موثر ذرائع سے مجبور کر دیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل ترین سانچوں میں ڈھالنے پر تیار ہو جائے۔ چنانچہ وہ ذلیل ترین سانچوں میں ڈھل رہا ہے اور ہم بھی ان ہی سانچوں میں ڈھال دیے گئے‘بلکہ ہر طرف سے بہ بہا کر آئے اور خودبخود  ان سانچوں کے اندر اتر گئے۔

O

ہم--- ہم کیا ہیں؟

تمھارا باپ‘ تاریکی اور طوفان اور غلاظت کے درمیان پیدا ہوا‘ تاریکی اور طوفان اور غلاظت میں پلا‘ اور تاریکی اور طوفان اور غلاظت کے سائے میں جواں ہوا۔

انھی حالات میں ہم نے اپنے خالق کی آواز سنی۔ یہ آواز تو ہمیشہ سے ہر ایک کے دل میں گونجتی رہی ہے‘ لیکن اس پر متوجہ ہونے کی سعادت جسے مل گئی‘ مل گئی--- اس آواز پر ہم نے لبّیک کہی اور ہمیں ہمارے مقام کا پتا چلا کہ وہ کتنا بلند ہے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوا کہ وہ کتنی بھاری ہیں۔

وہ ایک نئی دنیا پیدا کرنے کا فرض تھا جس پر ہم نے لبیک کہی’ ہم نے وہ کڑی اٹھالی جس سے بڑے بڑوں کے دل اِبا کرتے تھے۔ ہم اس قابل فخر مہم کو لے کر اٹھ کھڑے ہوئے جس کی طرف رُخ کرنا ایک ناپاک ماحول میں موجب صد شرم بن چکا تھا۔ ہم نے وہ نعرہ علی الاعلان    بلند کردیا جسے زبان پر لاتے ہوئے خواص و عوام سبھی اپنے اندر احساس کمتری کی لہر اٹھتی دیکھتے تھے۔

O

تمھارے باپ نے جب ’’نظام باطل‘‘ کے خلاف کش مکش کر کے نظام حق کو بپا کرنے کا تہیہ کر لیا تو نظام باطل نے اس سے کہا کہ اس نیت کے ساتھ ایک انچ بھی حرکت کرو گے تو عزت‘  شرف‘ سر بلندی ‘ ترقی اور شہرت کے دروازے تمھارے اوپر بند کر دیے جائیں گے۔ عُہدوں کی کرسیاں تمھارے لیے حرام قرار دی جائیں گی‘  علم و ادب کے میدان میں کوئی خدمات انجام دو گے تو ان خدمات کو صحیح قدر و قیمت کا مقام کبھی حاصل نہ ہو گا‘ تم دن رات محنت کر کے بھی میرے خزانہ ہاے رزق سے پیٹ بھرروٹی نہ پاسکو گے۔

عزیز بچو! جانتے ہو کہ تمھارے باپ نے اس کا کیا جواب دیا؟ میرے خیال میں     تم بہت اچھی طرح جانتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں حق کے لیے ان سارے نقصانات کو قبول کرتا ہوں اور باطل کو راضی رکھ کر جو فوائد حاصل ہوتے ہوں ان سب پہ لات مارتا ہوں۔

جس دن نظام باطل کے خاموش چیلنج کا یہ جواب میں نے دے دیا‘ اس دن گویا میں نے اپنی دنیا بنانے اور تمھارے لیے لذتوں کے اسباب سمیٹنے اور بھاری ترکہ چھوڑ جانے کے سارے پروگرام دریا برُد کر دیے۔

پھر نظام باطل نے کہا کہ تم جس راہ پر گامزن ہونا چاہتے ہو‘ کچھ معلوم بھی ہے کہ یہ راہ کیسی پرخار راہ ہے۔ اس راستے کے چپے چپے پر بھوک اور فاقہ ہے‘ نفرتیں اور حقارتیں ہیں‘ گالیاں اور الزام تراشیاں ہیں‘ جیل اور پھانسیاں ہیں ‘ ظلم اور تشدد ہیں‘ اور یہاں موت ہر مرحلے پر رقص کرتی نظر آتی ہے‘ یہاں اپنے بیگانے بن کر ڈستے ہیں‘ یہاں رہبر غول بیابانی سے ساز باز کر کے حملہ آور ہوتے ہیں‘ یہاں دوستوں کو دشمنوں میں جا ملتے دیر نہیں لگتی‘ یہاں زہد و تقدس تک کفر و فسق کی حفاظت کے لیے کمر بستہ ملے گا۔ پھر کیا تمھیں اس وادی جانکاہ میں غبار بن کر پریشان ہو جانا منظور ہے؟

تب تمھارے غیور و جسّور باپ نے کہا کہ ہاں‘ میں ہزار مسّرتوں کے ساتھ ان سارے ممکن حوادث کا خیر مقدم کرتا ہوں۔

چنانچہ تمھارے باپ نے اور اس کے ساتھیوں نے اپنی قلت اور اپنی بے سروسامانیوں کے ساتھ دشمن کی کثرت اور اس کے سروسامان کی پرواہ کیے بغیر وہ کش مکش چھیڑ دی جو اب پرُزور معرکہ آرائیوں کے ساتھ تمھارے گردوپیش میں جاری ہے۔

اس کش مکش کے لیے اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح تمھارے باپ کو اپنی ساری سیرت کو ادھیڑ کر از سر نو بُننا پڑا ہے‘ اپنی عادتوں سے جنگ کرنی پڑی ہے‘ اپنے پرانے خیالات کی گہری جمی ہوئی جڑیں دماغ سے اکھڑتے ہوئے بہت ہی دور تک چبھنے والا درد محسوس کرنا پڑا ہے‘ روحانی لحاظ سے تحویل قبلہ کرنی پڑی ہے‘ اسے دوستیوں اور دشمنیوں کا رخ بدلنا پڑا ہے۔ اسے   نیا جنم لینا پڑا ہے۔ تم کیا جانو کہ تمھارا باپ کن احوال سے گزرا ہے اور اس نے دوسروں کی چوٹیں کھانے سے پہلے اپنے آپ کو تیار کرنے کے لیے خود اپنے اوپر کتنی چوٹیں لگائی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ایسے باپ کی کوتاہیوں پر رنجیدہ ہونے کے بجاے تم اس پر رحم کھائو گے اور اس کے لیے دعاے مغفرت کرو گے۔

O

نظام باطل کے بنائے ہوئے ماحول کے انسان اپنے شعوری فیصلے کے تحت چاہے کتنی ہمہ گیر تبدیلیاں اپنے اندر بپا کر لیں‘ لیکن وہ کبھی بھی پوری طرح اپنے آپ کو آلودگیوں سے پاک نہیں کر سکتے۔ افسوس کہ تمھارا باپ اگرچہ ساری عمر اپنی ذہنی ساخت اور اپنی سیرت کی تعمیر کو درست کرنے میں مصروف رہا لیکن اسے بعض کمزوریاں ساری عمر چمٹی رہیں اور وہ ان سے پوری طرح نجات نہ پا سکا۔ اسے اس بات کا بہت ہی صدمہ ہے کہ اس کی ان کمزوریوں کا پرتو تم پر پڑکے رہا ہو گا۔

میں نے دراصل ساری عمر یہ چاہا کہ تم کو ایک ’’مسلم‘‘ کی اٹھان پر اٹھائوں۔ اس کے لیے میں نے گھر میں ایک ماحول بنایا‘ اس کے لیے میں نے اپنے اوپر کئی پہلوئوں سے جبر کیا‘ اپنے جذبات کی باگ مضبوطی سے تھامی‘ اپنی بہت سی خواہشوں کو پامال کیا ‘ اپنے بہت سے ارمان دل کے دل میں دبے رہنے دیے۔ پھر اپنی بے شمار کمزوریاں تھیں کہ جن کو تم سے پوری طرح چھپانے کی کوشش کی۔ پھر بھی میں مطمئن نہیں ہوں کہ میں اس مہم کو ٹھیک سے مکمل کر کے رخصت ہو رہا ہوں۔

O

میں تم سے اس بات پر بھی معافی چاہتا ہوں کہ میں نے تم کو تمھاری بہت سی خواہشات سے روک کے رکھا ہے۔ میں نے تم کو بے شمار دل چسپیوں سے محروم کیا ہے۔ میں نے بہت سی مروجہ تفریحات سے تمھیں لطف اندوز ہونے نہیں دیا۔ میں نے تمھیں بڑے بڑے عہدے حاصل کرنے اور وسیع کاروبار چلانے کے لیے نہ تربیت دی اور نہ وسائل مہیا کیے۔ میرے جگر کے ٹکڑو!--- میں نے تم پر زیادتی نہیں کی بلکہ میری یہ خدمت ایسی ہی ہے جیسے ایک باپ نباتاتی گھی کی مٹھائیوں سے‘ گندے سڑے پھلوں سے اور جراثیم ملے شربتوں سے اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے تمھارے اخلاق و سیرت کی صحت و قوت کو ہر خطرے سے بچانے کی پوری پوری کوشش کی ہے۔ میں اپنے گندے ماحول کی رگ رگ سے چونکہ واقف تھا‘ اس لیے میں اس کی یورشوں کے خلاف بالکل اسی طرح تمھارے بچائو کی سعی کرتا رہا جیسے ایک مرغی‘ اپنے چوزوں کو دشمن کی زد سے بچانے کے لیے خاص اہتمام کرتی ہے۔ میں نے تمھیں اس طرح سینت سینت کر رکھا ہے جیسے کوئی اپنی ساری عمر کی کمائی کو چوروں اچکوں سے بچا بچا کر رکھتا ہو۔ میں نے تمھاری حفاظت اس طرح کی ہے جیسے روپے سے بھری ہوئی جیب کی حفاظت جیب کتروں سے کی جاتی ہے۔ میں سائے کی طرح ہمیشہ تمھارے ساتھ رہا‘ میں نے تم کو کبھی اکیلا چھوڑنا گوارا نہیں کیا‘ میں تمھارے گردوپیش میں ہر طرف تمھارے خلاف سر اٹھانے والے خطروں کو سونگھتا پھرا ہوں۔

یہ آخر کس لیے؟

یہی بات بتانے کے لیے میں نے یہ وصّیت نامہ لکھوایا ہے!

O

ہم نے جس جنگ کو شروع کیا تھا‘ وہ اگرچہ روزبروز گرم سے گرم تر ہوتی جا رہی ہے اور بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ عنقریب حق کی فتح اور باطل کی شکست پر اس کا خاتمہ ہونے والا ہے‘ لیکن اس کا امکان بھی موجود ہے کہ یہ جنگ کچھ اور طول پکڑے تو اس صورت میں تمھارا باپ تم سے --- اور حق پرستوں کی موجودہ نسل اپنے سلیم الفطرت اخلاف سے--- یہ توقعات رکھتی ہے کہ ان کے بعد تم سب اس جنگ کو لڑ کر فتح تک پہنچائو گے۔ یہی وہ مقصد تھا کہ جس کے لیے میں نے تمھیں ایک مسلم‘ ایک مجاہد‘ ایک سپاہی‘ ایک غیور و جسور اور با اصول انسان کی اٹھان پر اٹھایا ہے۔

یہ مقصد جو میرے سامنے تھا‘ اگر تم اس کو قبول کرتے ہو جیسے کہ مجھے تم سے توقع ہے تو ابھی اسی وقت خدا کے سامنے سر اطاعت کو زمین پر رکھ کر یہ عہد استوار کرو کہ ہم اس مقصدِ حق کی کامیابی کے لیے اپنے سارے دل‘ اپنی ساری روح اور اپنی ساری جان کے ساتھ جدوجہد کریں گے۔

                اور اگر---  خدانخواستہ--- جس کی مجھے تم سے دُورپار کی کو ئی خفیف سے خفیف توقع بھی نہیں--- بہر حال خدانخواستہ اگر تم اپنے باپ کے مقصدِ حق کو اور اس کی ذمہ داریوں کو اٹھانے سے کترائو اور اپنی بُزدلی اور بے غیرتی کی وجہ سے میرے اس ترکے کو نظام باطل کے ہاتھ دنیوی فوائد کے لیے بیچ ڈالو تو پھر میں اور توکچھ نہیں کر سکتا‘ اور تمھارے فیصلوں کو بدلنے کی قدرت نہیں رکھتا‘ لیکن اتنی درخواست تم سے ضرور کروں گا کہ پھر مجھ سے اپنے آپ کو منسُوب کر کے میری روح کو تکلیف نہ پہنچانا۔ میرے لیے اس سے زیادہ مایوس کن حادثہ کوئی نہ ہوگا کہ گوشت کے جن لوتھڑوں کو پال پوس کر میں نے ایک ناپاک قوت کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کیا ہو‘ وہ اداے فرض کا لمحہ آنے پر اپنے آپ کو‘ اپنے باپ کے اصولوں کو اور اس کے مقاصد کو‘ دشمنوں کے ہاتھ جاکے فروخت کر دیں۔

لیکن ان شاء اللہ ایسا کبھی نہیں ہو گا!

O

جائو! میرے خالی کیے ہوئے مورچوں پر کھڑے ہو جائو‘ لڑو‘ ٹکرائو‘ آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائو‘ یہاں تک کہ یا تو باطل کا عَلَم قطعی طور پر سرنگوں ہو جائے‘ یا تمھاری لاشیں خاک و خون میں تڑپتی نظر آئیں۔ یاد رکھو! کہ میں نے تم کو دنیا کے عیش لوُٹنے کے لیے نہیں پالا ہے۔

پس دو باتیں گرہ میں باندھ لو!

ایک یہ کہ حق کا بول بالا کرنا وہ پاکیزہ نصب العین ہے جو تمھارے باپ کو خدا کے    انبیا وصلحا سے ورثے میں ملا ہے اور اسی کو میں تمھارے لیے ترکے میں چھوڑ رہا ہوں۔ ہر لحظہ اس پر نگاہیں جمائے رکھو!

دوسرے یہ کہ مہلک ماحول تم کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ اس سے خبردار رہو‘ اس کے خفیہ حملوں کی مدافعت کی فکر کرو‘ اور اس کے جادو کا توڑ فراہم کرو‘ اس کے دام کے ’دانوں‘ کی حقیقت پر نگاہ رکھو!

اگر نظام حق کا قیام تمھارے ہاتھوں ہو گیا اور اس کی پاکیزہ فضا میں ایک لمحہ بسر کرنے کی سعادت بھی تم کو مل گئی تو تم محسوس کرو گے کہ وہ ایک لمحہ ہزار سال سے زیادہ قیمتی‘ زیادہ میٹھا اور زیادہ دل چسپ ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ہم اور تم اور وہ سارے لوگ جو اپنے سے بعد والوں کے لیے کسی آنے والے زمانے میں ایک جنت خیروفلاح کی بنیاد ڈال رہے ہیں‘ دنیا کی اس  عظیم ترین نیکی کو قائم کرنے میں حصہ دار ہیں کہ جس کے فیضان کی وسعتوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ اس پاک مہم میں قوت کی جو ایک رمق‘ مال کا جو ایک حبّہ‘ خون کا جو ایک قطرہ‘ اور وقت کا جو ایک پل کسی نے خلوص سے صرف کیا ہوگا‘ عنداللہ اس کی جزا کیا ہو گی!

O

ایک آخری بات!

میرا مقصد تمھیں نہ اپنی ذات کی طرف بلانا ہے اور نہ کسی ذاتی عقیدہ و تصور کی طرف۔ نظریہ اور نظام اور طریق انقلاب صرف وہی برحق ہے جس کی تعلیم خدا کی کتاب اور رسول    صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ملتی ہے---میں چاہتا ہوں کہ تم نہ مجھے دیکھو‘ نہ کسی اور شخصیت کو--- بلکہ اپنا رشتہ سیدھا خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے استوار کرو۔ اُدھر سے جو اصول اور ہدایات ملیں ان پر سختی سے کاربند رہو۔ اپنے نفس یا دوسروں کی خاطر ان میں سے نہ کسی چیز کو چھوڑو‘ نہ اضافہ کرو‘ اور نہ ا حکام میں ترمیمیں کرو۔

اگر کتاب و سنت سے رشتہء وفا استوار کر لو تو وقت کے نت نئے نظریات اور باطل کے فتنہ آفریں اسالیب کار سے نہ تم مرعوب ہو گے اور نہ اقتدار‘ شان و شوکت اور دولت کے مظاہروں کا جادو تم پر چل سکے گا۔

خدا تمھیں قول و عمل کے تضاد سے بچائے اور تم ایمان اور مفاد پرستی میں جوڑ لگا کر منافقانہ طرز عمل اختیار کرنے سے مجتنب رہو!

                اللہ کا کام کرتے ہوئے اللہ ہی تمھار حامی و ناصر ہو!

(ٹھنڈی آگ ‘مکتبہ چراغ راہ کراچی‘ ۱۹۵۷ ‘ ص ص ۲۹۴- ۳۰۴)