مضامین کی فہرست


اگست ۲۰۲۶

 

انسانی زندگی میں دن اور رات کے آنے جانے کا سفر جاری ہے۔ یہ سفر اَزل سے جاری خیروشر کی کش مکش کے بارے میں انسانوں کے رویے کی بنیاد پر ان کے آج اور مستقبل کی تشکیل کرتا ہے۔ اسی طرح قوموں کی زندگی میں بھی سال اور عشرے آتے ہیں اور ان کے حال ومستقبل پر گہرے نقوش چھوڑتے چلے جاتے ہیں۔ 

قومی دن یا یوم آزادی ایک علامت کے طور پر آزادی حاصل کرنے والے ملکوں میں ہرسال آتا ہے۔ اس کی حیثیت تشکر و اطمینان کے ساتھ گزرے وقتوں اور برسوں کے جائزے و تجزیے اور قومی آڈٹ کی ہوتی ہے اور ضرور ایسا ہی کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر پاکستان کے لیے تو یوم آزادی بڑی ذمہ داریوں کی یاددہانی اور تجدید عہد کا پیغام لے کر آتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ان ذمہ داریوں کے احساس اور سود و زیاں کی فکر کے بجائے، یہ یوم برقی قمقموں کی روشنیوں کی چکاچوند اور پرچم کی جھنڈیاں لہرانے تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ بہت ہوا تو کہیں چند تقریریں ہو گئیں بلکہ اکثر تو راگ رنگ کی محفلیں جما لی جاتی ہیں اور قومی آڈٹ کا یہ موقع ضائع کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ کچھ ایسے ہی المیے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کا تذکرہ اسی فرسودہ تاریخ نویسی کے ذریعے کیا جاتا ہے، جیسا کہ پرانی تواریخ محض بادشاہوں کی شکستوں اور کامیابیوں کے تذکرے کی بازگشت سے آگے نہیں بڑھتیں۔ اُن گزرے زمانوں کی تواریخ میں عوام، عوام کے دُکھ درد، سماجی کرب، معاشی استحصال، ظالمانہ رواجی جبر کا کہیں ذکر نہیں ملتا، اور کہیں غلطی سے ایسی بات آ بھی جائے تو فوراً کسی شاہانہ کروفر کی گھن گرج میں وہ سب کچھ کانچ کی کرچیاں بن کر بکھر جاتا ہے۔

اگلے برس پاکستان کےقیام کو ۸۰ برس گزر جائیں گے۔ جن لوگوں نے اپنے ہوش میں پاکستان بنتے دیکھا، اُن کی تعداد اب ایک فی صد سے بھی کم رہ گئی ہے، اور جنھوں نے قیامِ پاکستان کے بعد پہلے پانچ برسوں میں آنکھ کھولی اُن کی بھی ایک بڑی تعداد موت کی وادیوں میں جا چکی ہے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی تاریخ اور تاریخ کے تضادات کا مسئلہ انھوں نے کبھی بحث کا موضوع بنتے نہیں دیکھا۔ اُجڑ کر پاکستان آنے والے مسلمانوں پر گزرنے والی قیامت کبھی پاکستان میں شامل علاقوں میں پہلے سے آباد ہم وطنوں کی یادداشت کا حصہ نہیں بنی۔ اسی طرح ہجرت کرکے آنے اور یہاں پہلے سے آباد ہم وطنوں کی سماجی، معاشی اور نفسیاتی زندگی کے اتار چڑھائو بھی کبھی، کسی تحقیق و تجزیے کا عنوان نہیں بنے۔ اگر کبھی کسی نے اس معاملے کو چھیڑا تو اُس کا رویہ دوسرے ہم وطنوں کے خلاف شکایت اور اپنی قومیت یا برادری یا لسانی شناخت کی محض مظلومیت کے واویلے تک محدود رہا۔ اس طرح نہ یہاں پر آباد ہونے والوں اور ان کی نسلوں میں تشکر کا جذبہ پیدا ہوا، اور نہ یہاں پر پہلے سے آباد لوگوں اور ان کی نسلوں میں کبھی احساسِ تشکر جڑپکڑسکا۔  پاکستان بننے کے چندسال بعد ہی سے غلط ترجیحات اور ناقص پالیسیوں کے زیراثر محض: ’مرگئے، لُٹ گئے، اُجڑگئے‘ کی تکرار سنائی دینے لگی۔

اسی طرح ماضی کی فرسودہ تاریخ گوئی کی روایت کے مطابق پاکستان میں بھی یہ سوال اور جواب ازبر ہوتے چلے گئے ہیں کہ فلاں کے بعد فلاں حاکم بنا اور فلاں نے سازش اور جوڑ توڑ کر کے فلاں کو چلتا کیا۔ ان تذکروں کو بڑی کامیابی سے حکومت، صحافت اور درس گاہ نے قبول کرکے ’تاریخ پاکستان‘ کا نام دے دیا، حالانکہ یہ تاریخِ پاکستان نہیں تاریکیِ پاکستان کے مختلف موڑ تھے، جن میں نہ عوام کا رنج و کرب شامل تھا اور نہ ان کی حصہ داری کی کوئی ایک سطر موجود تھی۔

بلاشبہ پاکستان نے شدید ترین بحرانوں میں اور بدترین خطرات کے طوفانوں میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ بانیانِ پاکستان نے بڑی جاں فشانی سے اور نہایت پُرخطر حالات میں ہاتھ پائوں مار کر راستہ بنایا اور تحفظِ وطن کی دیواریں بھی کھڑی کیں۔ لیکن کیا واقعی اس جان جوکھم کی کوئی ایک سطر یا اس جدوجہد کی کوئی کسک ہمارے طلبہ و طالبات اور آنے والی نسلوں کی روح کا حصہ بن سکی؟ یقینا ایسا نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ یہ جملہ یاد رکھنے کے لیے کافی سمجھ لیا گیا کہ ’’فائل کے کاغذوں کو لگانے کے لیے کامن پِن نہیں تھے، جن کی جگہ کیکر کے کانٹوں سے کاغذوں کو نتھی کیا گیا‘‘۔ کیا واقعی یہ ایک جملہ اس عظیم چیلنج اور ہرکولین ٹاسک کی تصویر کشی کرنے کے لیے کافی ہے کہ جو تخلیق پاکستان کے وقت درپیش تھا؟ یقینا نہیں۔ تو پھر اُن عظیم جاں نثاروں اور گم نام محسنوں کا تذکرہ کیا ہوا کہ جنھوں نے سخت ترین ناسازگار حالات میں قومی وجود کی تشکیل کے لیے تنکا تنکا اکٹھا کیا، اور بے نمودونام رہ کر قومی تعمیروتشکیل میں کارنامے انجام دیتے ہوئے زندگی کی آخری سانس لی تھی۔

ہماری آنے والی نسلوں کو نہیں بتایا جاتا کہ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۶ء تک اور پھر ۱۹۵۶ء سے ۱۹۷۳ء تک پاکستان کیوں بے دستور رہا؟ پھر ۱۹۷۷ء سے ۱۹۸۸ء تک اور ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۸ء تک دستور کا کیا تماشا بنایا گیا؟ آج تک دستور کے ساتھ یہ تماشا ایک سلسلۂ جاریہ کی صورت میں مسلسل جاری ہے۔ پھر ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۶ء کے دوران دستور کو صرف غیر سیاسی عناصر نے ہی نہیں، بلکہ خود پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے سیاسی ہاتھوں کے ذریعے، اور صرف پاور انٹرسٹ گروپوں کے ذریعے ہی نہیں بلکہ خود اعلیٰ عدالتی افسروں کے ذریعے بھی دستوری بے توقیری کا سیاہ پرچم بلند سے بلند تر کیا جارہا ہے، اور یہ کیوں کیا جارہا ہے؟ یہ نہیں بتایا جاتا۔

ہماری تاریخ میں بلاشبہ یہ ابواب قابلِ تشکر ہیںکہ ۱۹۶۵ء اور ۲۰۲۵ء کی جنگوں کے دوران پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے قابلِ فخر کارنامے انجام دیے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ باب کیوں ہماری یادداشت سے گم کردیا گیا ہے کہ ۱۹۷۱ء کا المیہ کیوں اور کیسے رُونما ہوا؟ اس میں سیاست دانوں اور عسکری حاکموں کا ٹھیک ٹھیک کردار کیا تھا؟ اور ان میں ہماری صحافت نے کیسے اپنی چونچیں پروں کے نیچے دبائے رکھیں؟ یہ بھی نہیں بیان کیا جاتا کہ اگر مشرقی پاکستان میں سپلائی لائن چاروں طرف سے دشمن کے ہاتھوں گھر چکی تھی، تو یہاںمغربی پاکستان کا بارڈر کیوں وہ نتیجہ پیدا نہ کرسکا جو ’مشرقی پاکستان کا دفاع، مغربی پاکستان سے‘ کے فارمولے کے ذریعے قائم کیا گیا تھا؟ مشرقی پاکستان کا المیہ تو ایک طرف رہا خود مغربی محاذ پر کیوں قابلِ اطمینان صورت نہ سامنے آ سکی؟

دسمبر۱۹۷۰ء سے پہلے کے انتخابات میں بھی کیا واقعی عوام کا کچھ حصہ تھا؟ اور کیا وہ انتخابات عوام ہی کے لیے تھے یا پھر محض چند مقتدر گروہوں کے لیے راستہ بنانے کا وسیلہ تھے؟ اور یہ بھی کیوں نہیں پڑھایا اور بتایا جاتا کہ دسمبر۱۹۷۰ء کے دوران مشرقی پاکستان میں کیا واقعی شفاف اور ’فری اینڈ فیئر‘ انتخابات ہوئے تھے یا ’فری فار عوامی لیگ‘ انتخابات تھے؟ جن میں ۱۹۷۰ء کے پورے سال کے دوران سول انتظامیہ، عوامی لیگ کی مددگار رہی، جس کے نتیجے میں مدمقابل سیاسی پارٹیوں کے لیے انتخابی مہم چلانا عملاً ممنوع قرارپایا اور مارشل لا انتظامیہ بے دست و پا تماشائی بنی بیٹھی رہی۔ اس ماحول میں وہ الیکشن ہوا، جسے مخصوص طرزِ فکر کی دانش ’شفاف ترین الیکشن‘ کہتی ہے۔ کیا تاریخ کے نام پر یہ دھبہ دُھویا جاسکتا ہے؟ پھر ۱۹۷۰ء کے بعد سے اب تک کے انتخابات کی صحیح صورتِ حال اور قسم قسم کی انتخابی دھاندلی کا بیان کبھی ضبط تحریر میں آئے گا کہ جس سے واضح ہوکہ ان انتخابات میں عوام کا کوئی کردار تھا، یا سرےسے کوئی کردار تھا ہی نہیں؟

اسی طرح پاکستان کی تاریخ کا یہ سوال بھی جواب مانگتا ہے: ’’پاکستان کا پاور سٹرکچر یا طاقت کا ہیکل کن ستونوں اور اداروں پر قائم ہے؟‘‘ کیا محض سول انتظامیہ اور افواج کے اعلیٰ افسران ہی مقتدرہ یا پاور سٹرکچر کی چھت ہیں، یا پھر ان کے شریک کاروں میں سیاسی لیڈر، برادریوں کے کرتا دھرتا، نواب، وڈیرے، سردار اور پیر حضرات بھی برابر کے حصے دار ہیں؟‘‘ یہی نہیں بلکہ کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ ’’اس پاور سٹرکچر کی دو اہم طاقتیں اعلیٰ عدلیہ کے اکثر ارکان اور صحافت و ذرائع ابلاغ کے نام پر رائے عام کو موم کی ناک کی طرح موڑنے والے سیٹھ حضرات بھی ہیں؟ اور اس سارے گھن چکر کا عوام اور عوام کے دکھ درد سے کیا تعلق واسطہ ہے؟ حالانکہ مذکورہ بالا طبقوں کے کرتا دھرتا تو اپنے محفوظ گھر یہاں بھی رکھتے ہیں اور باہر بھی۔ لیکن جن کے وسائل اور جن کی گردنوں پر سوار ہو کر وہ حکمرانی کا لطف اٹھاتے ہیں، وہ بے زبان اس سارے ہنگامے کے حاشیے پہ بھی نظر نہیں آتے۔

کسی بھی ملک کی قسمت کا ستارہ تو امن، انصاف اور نظم و ضبط سے چمکتا ہے۔ لیکن پاکستان میں اس کے ساتھ اسلام کا حوالہ بطور کمٹ منٹ لازم ہے۔وجہ یہ ہے کہ تحریکِ پاکستان کے دوران یہی بتایا گیا تھا، یہ ملک اسلامی تہذیب و تمدن اور اسلامی قانون و معاشرت کے نفاذ کے لیے حاصل کیا جا رہا ہے۔ تب کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ پاکستان، چند گھرانوں، چنیدہ افسروں اور جائز یا ناجائز دولت کے زور پر سیاست و قیادت کا کھیل کھیلنے والوں کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ پیش کیا جاتا تو یقینا ان لوگوں کے رشتہ داروں اور خاندانی ملازموں کے سوا کوئی فرد اس مقصد کے لیے نہ ووٹ دیتا اور نہ جان لڑاتا۔ کہاں مقصد کی وہ بلندی اور کہاں حقائق کی یہ پستی! مگر ہمارے ہاں تضاد بھرے اس قول و عمل کو بھی نہیں بیان کیا جاتا اور نہ نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

یہ امرِ واقعہ بھی کسی تاریخ میں مذکور نہیں ہے کہ وہ بدعنوانی اور اقرباپروری جس سے قائداعظم نے پارلیمان میں ۱۱؍اگست۱۹۴۷ء کی تقریر میں بچنے کی سختی سے ہدایت کی تھی، آج اسی ہدایت کی بے حرمتی اور پامالی پورے معاشرے میں پھیلی نظر آتی ہے۔ عدالت کی مسندیں ہوں یا دفتروں کے کمرے، فیصلہ سازوں کے ایوان ہوں یا حاکموں کی غلام گردشیں، سبھی پر ایک جملے کا راج ہے ’پیسے لگائو تو کام ہوگا‘، یا پھر ’اُوپر والوں کا حصہ اتنے فی صد‘ ہے۔ اس چیز نے وہ تباہی مچا رکھی ہے کہ اگر کوئی فرد جائز معاشی سرگرمی کے لیے صنعت و تجارت کی کشتی اس ہلاکت خیز سیلاب میں اتارتا ہے، تو طرح طرح کے محکموں کے اہل کار، اُس فرد پر یوں جھپٹے پڑتے ہیں جیسے گِدھ نوچنے کے لیے اُمڈ اُمڈ آتے ہوں، اور بہت ہی کم ہوتے ہیں جو اس حملے سے بچ پاتے ہیں۔ اسی لیے نہ لوگ سرمایہ کاری پر آمادہ ہوتے ہیں اور نہ سرمایہ کار، سرمایے میں یہاں کی محنت کو شریک کار بنانے کی ہمت کرتے ہیں۔ یوں بے روزگاری و بے کاری کا ناگ اپنے پھن پھیلائے پھنکارتا نظر آتا ہے۔

قوم کے پسے ہوئے طبقوں کے لیے، صدیوں کی غلامی سے نکلنے کا سب سے اہم ذریعہ تعلیم ہی ہوسکتی تھی۔ لیکن سرکاری تعلیمی اداروں میں بدنظمی اور اکثر اساتذہ کی نااہلی اور عدم دلچسپی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، تودوسری طرف نجی تعلیمی اداروں کی بڑی تعداد نے وہ تجارتی ادھم مچایا ہوا ہے کہ الحفیظ الامان۔ قسم قسم کے تعلیمی اداروں نے نئی نسل کو فکری انتشار کی دلدل میں جکڑ کر رکھ دیا ہے۔ والدین مجبور ہیں کہ پرائیویٹ ٹیویشنیں بھی پڑھوائیں اور بڑی بڑی فیسیں بھی دیں۔ اس مقصد کے لیے وہ دوہری ملازمتیں کرتے اور اپنے اثاثے بیچتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود سرنگ کے آخر میں زیادہ تر اندھیرا ہی نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تو خطرناک حد تک داخلے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یونی ورسٹیاں چار چار مرتبہ اشتہار دے کر طالب علموں کو داخلے کی دعوت دیتی ہیں، لیکن اس کے باوجود داخلے پورے نہیں ہوتے۔ انجامِ کار، یہ نوخیز بچّے مایوسی، نشے اور غلط ہاتھوں کا شکار ہورہے ہیں۔

دُنیا بھر میں ریل ایک سستا ،محفوظ اور قابلِ اعتماد ذریعۂ سفر ہے۔ قیام پاکستان کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریل کے نظام میں بہتری لانے کے بجائے اس کی تباہی کا منظم سامان کیا گیا۔ صدر ایوب خان کے زمانے میں ۱۹۶۷ء کے دوران خانیوال سے لاہور تک بجلی سے چلنے والے انجنوں کا نظام قائم کیا گیا، جو ۱۹۸۷ء آتے آتے اُجڑ گیا۔ برقی رو دوڑانے والی تانبے کی تاریں چوری کر لی گئیں اور آہنی گاڈر اُکھاڑ کر لوگ گھروں کو لے گئے، اور سارا زور روڈ ٹرانسپورٹ پر لگادیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ غیر ملکی گاڑیوں، ٹائروں، پُرزوں اور پٹرول پر قیمتی قومی زرمبادلہ سیلاب کے پانی کی طرح بیرونِ پاکستان کی طرف بہہ نکلا اور مہنگائی کا عذاب اس راستے سے پوری قوم پر مسلط ہو گیا۔ آج پاکستان ریلویز، شوکت تھانوی کے افسانے ’سودیشی ریل‘ سے بھی زیادہ بدتر شکل پیش کر رہی ہے، جس میں ہرشخص خود تو سوار ہونے کی کوشش میں ہے لیکن کسی دوسرے کو سوار نہیں ہونے دیتا۔

زراعت کی حالت کو خراب کرنے کے لیے ناقص پیداواری منصوبہ بندی نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ کسان کی گردن دبوچنے کے لیے تیل، بجلی، بیجوں اور مصنوعی کھادوں کے مہنگے داموں نے بربادی مسلط کی ہوئی ہے، تو دوسری طرف خود کسانوں نے نہری پانی کی ترسیل کے فعال نظام کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ نہری پانی کی ستھری ترسیل کا شاندار نظام اب تباہی و بربادی کا نوحہ پڑھتا نظر آتا ہے۔

تجارت میں بددیانتی، بیرون ملک بدنامی درحقیقت عالمی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ کو تباہ کرنے اور امکانات کی دنیا کو محدود کرنے کا ذریعہ بنی۔ لیکن مجال ہے کہ قانون سازوں اور حکمرانوں نے ایسے تاجروں سے باز پُر س کا کوئی تادیبی نظام قائم کیا ہو؟

اس تحریر میں عوام کو نظرانداز کرنے کی بات بہ تکرار کی گئی ہے، لیکن خودعوام بھی اس ظلم کے کئی پہلوئوں سے ذمہ دار ہیں جس کے چند مظاہر یہ ہیں: اپنے حال اور مستقبل سے لاتعلقی، انتخابات کو ایک سنجیدہ عمل سمجھنے کے بجائے ایک شغل کے طور پر لینا، ووٹ کی قوت کو برادری، رنگ، نسل اور عصبیت کی بھینٹ چڑھانے کا شوق پالنا، شرافت کو محض دیکھنے کی چیز قرار دینا اور بدمعاشی، خیانت اور بدکرداری کو حکمرانی کی صلاحیت بیان کرنا___ عوام کے اندر پائے جانے والے یہ تضادات اخلاقی شکست، دینی گمراہی اور مثبت دُنیاوی قدروں کے قحط کے نشانات ہیں۔

اس تلخ داستان کے یہاں پر ’کہیں کہیں سے سنائے ہیں ہم نے افسانے‘، اس لیے نہیں کہ مایوس ہوا جائے بلکہ اس لیے کہ ان خرابیوں کو درست کیا جائے۔ یومِ آزادی دراصل فخر کرکے سوجانے کا پیغام نہیں لاتا، بلکہ یہ احتساب کی میزان لے کر آتا ہے، تاکہ کوتاہیوں کے ازالے کے لیے تجدیدعہد ہو اور روشن مستقبل کی راہ ہموار کی جاسکے۔

_______________

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اللہ کی رحمت اور نعمت ہے۔ یہ اس ہادی کا میلاد ہے جس کے ذریعے اللہ نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف، مخلوق کی غلامی سے نکال کر خالق کی عبادت کی طرف، اور گمراہی سے نکال کر ہدایت و استحکام کی شاہراہ پر گامزن کیا:

ہُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰي عَبْدِہٖٓ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۝۰ۭ وَاِنَّ اللہَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۝۹ (الحدید۵۷ :۹)،وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔

آپ ؐ کی ولادت اللہ تعالی کے ایک قدیم وعدے کی تکمیل تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت دعا کی تھی:

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۱۲۹ (البقرہ۲:۱۲۹)اور اے ربّ، ان لوگوں میں خود انھی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو، جو انھیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے ۔تُو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔

اسی طرح آپ ؐکی ولادت کے تذکرے سابقہ کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَہٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ۝۰ۡ (الاعراف۷:۱۵۷ )(آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی اُمّی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔

آپ ؐ کی ولادت محض ایک وقتی خوشخبری نہیں تھی، بلکہ یہ وہ کلمات تھے جو وحی کی صورت میں انبیا ؑ کی زبانوں پر جاری رہے اور ولادت سے یہ جاں فزا خوشخبری پوری ہوئی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جو ظلم، جہالت اور انتشار سے چُور تھا، جہاں دنیا من مانیوں کی غلام اور خواہشات کی اسیر تھی۔ ایسے مایوس کن اور تاریک دور میں آپؐ کی ولادت انسانیت کے لیے ایک نئی زندگی ثابت ہوئی اور عزت و آزادی کے دور کا آغاز ہوا۔ اس عہد نے انسانیت کو پتھروں کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور انسانی جبر و استبداد کے سامنے جھکنے کے بجائے صرف اللہ کی بندگی پر قائم رہنے کا پیغام دیا:

وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا۝۰ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا۝۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳ :۱۰۳)اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمھارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔

آپؐ کی ولادت محض گوشت پوست کے ایک جسم کی پیدائش نہیں تھی جو عام انسانوں کی طرح آئے اور رخصت ہو جائے، بلکہ یہ اس آخری پیغام کا آغاز تھا جسے اللہ نے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لیے پسند فرمایا:

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ( السبا ۳۴:۲۸) اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔

 تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِہٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا۝۱ۙ  (الفرقان ۲۵: ۱) نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لیے نذیر ہو۔

یہ پیغام اپنے اندر آزادی اور ہدایت کی خوشخبریاں رکھتا اور انسانی ضمیر میں رحمت، عدل اور حق کی اقدار راسخ کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا تہذیبی و تمدنی منصوبہ تھا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ انسانیت کی گم شُدہ شناخت کو بحال کیا اور انسان کو زندگی کےمقصد سے از سر نو روشناس کرایا۔ رشتۂ وحی کے ذریعے اس کا تعلق آسمان سے جوڑا، اور اس کی زندگی کو حق و انصاف کے ساتھ زمین میں تعمیر و ترقی کا پابند بنایا:

لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۱۶۴ (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۴)درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انھیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔

ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۲ۙ وَّاٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِہِمْ۝۰ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۳  ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۝۴  (الجمعة ۶۲: ۲-۴)وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنھی میں سے اٹھایا، جو اُنھیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اِس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔اور (اس رسول کی بعثت) اُن دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ یہ اس کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔

لوگ ان عظیم انسانوں کا جشن مناتے ہیں جنھوں نے انسانی تاریخ میں کوئی ایک کارنامہ انجام دیا اور پھر ان کا اثر ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دنیا کا واحد واقعہ ہے جس کے اثرات صدیوں پر پھیلے ہوئے ہیں اور جب تک زندگی باقی ہے، اس کی گونج سنائی دیتی رہے گی۔ یہ نبیِ خاتم ؐکی ولادت ہے، رحمتِ عامہ کی ولادت ہے، اور ایک ایسے پیغام کا آغاز ہے جس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑے گی، اور جس کے اثرات کبھی کم نہیں ہوں گے۔ اس کا تذکرہ کبھی مٹ نہیں سکتا کیونکہ یہ زمین پر اللہ کا آخری کلمہ ہے جسے ہمیشہ باقی رہنا ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ۝۰ۭ (الاحزاب  ۳۳:۴۰ ) (لوگو) محمدؐ تمھارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۱۰۷ (الانبياء۲۱ :۱۰۷) اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے، تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔

نجات دہندۂ انسانیت حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حیات بخش اور حریت نواز اس پیغام کی درج ذیل بنیادیں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں:

آزادی ، پیغامِ نبوت کی روح

اللہ کا یہ آخری پیغام انسان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنے کے لیے نہیں آیا، اور نہ اس لیے آیا ہے کہ دین کو ظالموں اور جابروں کے ہاتھ میں تھمایا ہوا ایک کوڑا بنا دیا جائے، بلکہ یہ معزز و مکرم مخلوق انسان کو اللہ کی بندگی کے سوا، ہر قسم کی غلامی سے نجات دلانے آیا ہے۔ یہی حقیقی آزادی ہے، کیونکہ یہ حق کے سوا ہر جھوٹے تسلط کو پامال کر دیتی ہے، اور عقل و ضمیر کو توہم پرستی اور نفسانی خواہشات کی قید سے چھڑا دیتی ہے۔ قرآنِ مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بنیادی مشن یہ بیان کرتا ہے کہ آپؐ لوگوں کے بوجھ اتارنے اور ان کی گردنوں میں کسے ہوئے طوق کاٹنے کے لیے آئے ہیں:

يَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ (الاعراف ۷:۱۵۷ )وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔

یہ وہ آزادی ہے جو مادی دنیا کا ظاہری نظام بننے سے پہلے انسان کے باطن اور روح سے جنم لیتی ہے۔ یہ ضمیر کو پوشیدہ بتوں سے پاک کرتی ہے، نسل در نسل منتقل ہونے والے توہمات سے فکر کو آزاد کرتی ہے، اور زندگی کو عدل و قسط کے میزان پر استوار کرتی ہے:

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۝۰ۚ (الحدید۵۷ :۲۵) ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلہِ شُہَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ۝۰ۡوَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۝۰ۡوَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝۸  (المائد ہ۵ :۸) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔

  • عقیدے کی آزادی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو خالص توحید کی طرف دعوت دی، تو یہاں نہ پادریوں کی طرح کسی مذہبی اشرافیہ کی اجارہ داری قائم ہوئی اور نہ کسی انسانی واسطے کی گنجائش رہی۔ یہاں صرف ایک ربّ کی عبادت کی جاتی ہے۔ ایک کتاب سے ہدایت لی جاتی ہے، اور ایک رسولؐ کی پیروی کی جاتی ہے۔ آپؐ نے حق کو واضح کر دیا اور ایمان لانے یا نہ لانے کو قیامت تک کے لیے انسان کے اپنے اختیار پر چھوڑ دیا:

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۝۰ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ ۝۰ۙ (الكهف ۱۸:۲۹) فرما دیجیے کہ (یہ) حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کرے۔

قرآنِ کریم نے عقیدے کے معاملے میں کسی بھی قسم کے جبر و اکراہ کی قطعی نفی کرتے ہوئے فرمایا:

لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ  ۝۰ۣۙ  (البقرہ۲:۲۵۶) دین میں کوئی زبردستی نہیں۔

آپؐ نے ان تمام لوگوں کے نظریے کو مسترد کر دیا جو ہدایت کو زبردستی اور طاقت کے بل پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔ آپ کو ہدایت کی گئی کہ:

اَفَاَنْتَ تُكْرِہُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۝۹۹(یونس۱۰:۹۹)تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے یہاں تک کہ وہ مومن ہو جائیں؟

فَذَكِّرْ۝۰ۣۭ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ۝۲۱ۭ لَسْتَ عَلَيْہِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ۝۲۲ۙ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ۝۲۳ۙ فَيُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ۝۲۴ۭ  اِنَّ اِلَيْنَآ اِيَابَہُمْ۝۲۵ۙ  ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَہُمْ۝۲۶ۧ  (الغاشیة ۸۸:۲۱-۲۶) اچھا تو (اے نبیؐ) نصیحت کیے جاؤ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو۔کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو۔ البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا، تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا۔ اِن لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے۔ پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے۔

چنانچہ اسلام کی دعوت اپنے جوہر میں ایک ایسی کھلی دلیل ہے جو دلوں کو روشن کرتی ہے۔ اس میں تلوار کا کوئی خوف ہوتا ہے، نہ کسی طاقت کے آگے سر جھکانے کا جبر۔

  • عقل کی آزادی : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی عقل کو دلیل کے اصولوں پر قائم کیا اور وحی کے مسلسل سوالات کے ذریعے اسے غفلت سے بیدار کیا:’’کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘ ،’’کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟‘‘ ،’’کہیے کہ اپنی دلیل پیش کرو!‘‘ تاکہ عقل کسی خرافات اور اندھی تقلید کے آگے ہتھیار نہ ڈالے۔ آپؐ نے علم کے حصول کو ایک مقدس فریضہ قرار دیا، اور علم کو حکمت اور تزکیۂ نفس کے ساتھ یوں جوڑ دیا کہ علم انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے، نہ کہ علم کے نام پر انسان سرکشی اور بغاوت کا شکار ہو جائے۔
  • ضمیر اور کردار کی آزادی:آپؐ نے اچھائی (معروف) کی حدود اور اس کی بلندیوں کو واضح فرما کر، اور برائی (منکر) اور اس کے راستوں سے خبردار کر کے انسانی ضمیر اور رویوں کو مکمل آزادی عطا کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنی اندھی خواہشات کا غلام بن کر نہ رہ جائے، بلکہ وہ اپنے فیصلوں کا خود مالک اور مختار ہو۔ آپؐ نے انسان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال کیا، خبیث و ناپاک چیزوں کو حرام ٹھیرایا، تاکہ انسان کے عز ّو شرف کو آلودگیوں اور گراوٹوں سے بچانے کے لیے ایک اخلاقی میزان قائم ہو سکے۔ نیز انسان اپنی انسانیت کو خواہشات، رسوم و رواج اور فیشن کی غلامی سے بچا سکے۔ یہ ذمہ دارانہ آزادی ہے۔ یہ بے لگام آزادی نہیں جو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ جبر نہیں ہے جو انسان کو انسان نہیں سمجھتا، بلکہ یہ بلندیوں کی طرف وہ پرواز ہے جہاں حق اور جمال، اور عدل اور رحمت یکجا ہوجاتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو عوامی سطح پر بھی اس وقت آزادی سے ہمکنار کردیا جب عہد و پیمان کی بنیاد پر مدینہ کی ریاست قائم کی، جو جانوں اور حقوق کی محافظ تھی، اور جس کی بنیاد شراکت اور مشاورت پر تھی۔ اس ریاست میں قانون کے سامنے سب برابر ٹھیرے، اور مخالف کو بھی عہد، امان، ذمہ اور عزت عطا کی گئی۔ چنانچہ جب مکہ حق کے سامنے سر نِگوں ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان فرمایا، جس نے جاہلیت کی نسل در نسل چلی آنے والی انتقامی روایت کو مٹا دیا اور آزادی و درگزر کی تاریخ کے ایک نئے باب کی بنیاد رکھی۔ بلاشبہ آزادی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک مظالم کا خاتمہ نہ ہو جائے اور زخموں پر رحمت کا مرہم نہ رکھ دیا جائے۔

یوں رسالت کی اصل حقیقت آشکار ہوئی، یعنی ایک دوسرے کو مکمل کرتے دائروں کی آزادی۔ توحید کا ایسا عقیدہ جو دل کو آزادی عطا کرتا ہے، ایسی دلیل جو عقل و شعور پر مسلط ناروا پابندیوں کو توڑتی ہے، اور ایسا اخلاق جو رویے اور کردار کو آزادی بخشتا ہے۔ ایک ایسا جامع نظام جو معاشرے کو استبداد اور تفریق و امتیاز سے نجات دلاتا ہے۔ یہ اسی معاشرے کا کمال اور خصوصیات ہیں کہ جس نے صرف اللہ کی عبادت کی، وہ اللہ کے سوا ہر چیز کی غلامی سے آزاد ہو گیا۔ اور جو حق کے سامنے جھک گیا، وہ کسی انسان کے رعب و دبدبے کے تابع نہ رہا۔ جو سائبانِ وحی کے سائے میں آگیا، اس کی زندگی آزاد اور باوقار ہو گئی، اور یہی وہ شخص ہے جو زمین کی تعمیر و ترقی کے لیے ہدایتِ الٰہی پر عمل پیرا ہونے کا اہل ٹھیرا۔

 دعائے ابراہیمؑ اور بعثتِ نبوی ؐ کے مقاصد

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت تاریخ کے بہاؤ میں محض کوئی اتفاقی واقعہ نہ تھا، بلکہ یہ حضرت ابراہیمؑ کی اس قدیم دعا کی قبولیت تھی جو انھوں نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت کی تھی:

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۱۲۹ )اے ہمارے رب! ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے، انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔

اس دعا نے اپنے مختصر مگر جامع الفاظ میں آخری پیغام کے بڑے مقاصد کا نقشہ کھینچ دیا تھا۔ چنانچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت انبیائے سابقین کی نبوتوں کی تصدیق اور ان کی آپؐ کے بارے میں بشارتوں کی تکمیل کے طور پر ہوئی، تاکہ آپؐ کی رسالت آزادی و نجات کا پیغام بن جائے ۔ دعائے ابراہیمؑ میں آپؐ کی بعثت کے یہ مقاصد بیان ہوئے ہیں:

  • تلاوتِ آیات __ وحی کے ذریعے عقل کی آزادی : ـــــــ اس دعا میں سب سے پہلے 'تلاوتِ آیات کا ذکر ہے، کیونکہ انسانی عقل کو ایک ایسے معصوم و محفوظ مرجع (پناہ گاہ) کی ضرورت تھی جو اسے خرافات اور خواہشات کی بھول بھلیوں سے نکال سکے۔ چنانچہ مُردہ دلوں کو زندگی بخشنے اور بصیرت کے بند دروازوں کو کھول دینے کے لیے قرآنی آیات کا نزول ہوا اور ان کی تلاوت کا حکم دیا گیا۔ یہ عقل کو ایسی الٰہی میزان سے جوڑ دیتی ہے جو میزان خواہشات کے ساتھ اوپر نیچے نہیں ہوتا۔ یوں تلاوتِ آیات کا مقصد فکری آزادی ہے، جو انسان کو انسانی آراء کے انتشار سے نکال کر وحیِ ربانی کے نور کی طرف لے جاتی ہے۔
  • تعلیمِ کتاب__  تحریف و جہالت سے علم کی آزادی: تلاوتِ آیات کے بعدتعلیم کتاب کا درجہ ہے، جو وحی پر مبنی درست معرفت کو پختہ کرنے کا نام ہے۔ رسالت میں علم محض کوئی فکری تعیش نہیں، بلکہ شعور کی بیداری اور تہذیب کی تعمیر کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے تشریف لائے کہ لوگوں کو کتاب یعنی نصوصِ وحی کی تعلیم دیں، تاکہ اللہ اور زندگی کے بارے میں ان کی معرفت، ظن و تخمین کے بجائے پختہ اور یقینی علم پر استوار ہوجائے۔ یہیں سے اس علمی آزادی کا مقصد واضح ہوجاتا ہے جو انسان کو جہلِ مرکب یا گمراہ کن علم سے نجات دلاتی ہے۔
  • تعلیمِ حکمت __  فہم کو سطحیت اور کج روی سے آزاد کرنا:ـــــــ اگر علم انسان کو معرفت سے روشناس کراتا ہے، تو حکمت اسے اس علم کے درست استعمال کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ کتنے ہی ایسے علوم ہیں جو حکمت سے عاری ہونے کی بنا پر انسان کے لیےوبال جان بن گئے، اور کتنے ہی علوم ایسے ہیں جنھوں نے بصیرت کے بغیر استعمال ہونے پر فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا۔ لہٰذا تعلیمِ حکمت کا مقصد عقل کو انتہاپسندی اور سختی و تشدد سے نجات دلانا اور اسے اعتدال و توازن کی راہ دکھانا ہے، تاکہ علم ایسا اسلحہ نہ بن جائے جو تباہی مچاتا ہے بلکہ ایسی روشنی بن جائے جو رہنمائی کا کام کرتی ہے۔
  • تزکیہ __  روح کو رذائل اور نفسانیت سے پاک کرنا: سیّدنا ابراہیمؑ کی دعا کا اختتام تزکیہ کے مقصد پر ہوا، جو کہ رسالت کا مغز اور اس کی روح ہے۔ کیونکہ تزکیہ کے بغیر علم اور حکمت نفع نہیں پہنچاتے۔ یہاں تزکیہ سے مراد محض عبادات کے ظاہری رسوم و شعائر کی ادائیگی نہیں، بلکہ یہ ضمیر کو شرک و ریا سے پاک کرنے، مہلک شہوات سے نفس کو بچانے، اور ایمان کی محراب میں روح کی ایسی تراش خراش کا نام ہے جو انسان کو اپنی نفسانی خواہشات کی غلامی سے نکال کر حقیقی معنوں میں ’آزاد انسان‘ بناتی ہے۔

یہ چاروں مقاصد: تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت اور تزکیہ، دراصل انسانیت کی کامل تعمیر کے باہم مربوط دائرے ہیں۔ علم کے بغیر کوئی آزادی نہیں، حکمت کے بغیر علم ادھورا ہے، اور تزکیہ کے بغیر حکمت بے معنی ہے۔ درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دعائے ابراہیمؑ کی قبولیت اور انسانیت کے لیے ایک ایسے نئے عہد کا آغاز تھا جس کی بنیاد ضمیر کی آزادی، وحی کے نور اور فطرت کی پاکیزگی تھی۔

جامع مقاصدِ رسالت

 جس طرح حضرت ابراہیمؑ کی دعا نے اس منہج کے خدوخال واضح کیے جس پر ختمِ رسالت کی بنیاد رکھی جانی تھی، اسی طرح قرآنِ کریم کا یہ بیان بہت جامع اور واضح ہے، جسے ہم ’مقاصدِ نبوت کا دستور‘ کہہ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَہٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ۝۰ۡيَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ (الاعراف۷:۱۵۷) (آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی اُمّی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔

یہ عظیم آیت صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کے بیان تک محدود نہیں، بلکہ یہ آپؐ کی بعثت کے چھ بڑے مقاصد کو بیان کرتی ہے، جن میں سے ہر ایک، انسانی آزادی کا ایک پہلو ہے اور جس کا مطمح نظر ’آزاد انسان‘ کی تخلیق ہے:

  • امر بالمعروف __  فضائل کے ذریعے معاشرے کو آزاد کرنا: ـــــــ ’معروف‘ (نیکی) سے مراد وہ تمام اقدار ہیں جو ایک سلیم الفطرت انسان میں خیر، عدل اور رحمت کی صورت میں راسخ ہوتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فریضہ یہ قرار دیا گیا کہ آپؐ معاشرے کے ضمیر کو ان اقدار کے ذریعے بیدار کریں۔ انھیں حق کی یاد دہانی کرائیں، عدل کی دعوت دیں اور ان کے درمیان رحمت کے بیج بوئیں۔ یہ آزادی کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے کہ خیر صرف افراد تک محدود نہ رہے، بلکہ یہ ایک ایسا اجتماعی نظام بن جائے جو معاشرے کی اصلاح بھی کرے اور اس کی حرکت کے رُخ کا تعین بھی۔
  • نہی عن المنکر __  انسان کو بے راہ روی سے بچانا :  ـــــــ’منکر‘ (برائی) ہر وہ عمل ہے جس کو ایک سلیم الفطرت اور عقلِ سلیم رکھنے والا انسان ناپسند کرے۔ دین اس لیے آیا کہ انسان کو ظلم و فساد کے گڑھوں میں گرنے سے بچائے، اور اسے تباہ کن عادات اور بے لگام خواہشات سے نجات دلائے۔ اس طرح برائی سے روکنا درحقیقت انسان کو شہوات کی غلامی اور جابرانہ نظاموں سے آزادی دلانے کا ایک ذریعہ بن گیا، تاکہ اس کے اخلاقی اور سماجی زوال کو روکا جا سکے۔
  • حلال کا تعین __  آزادی کے اُفق کو وسعت دینا : ـــــــ یہ الہامی پیغام اس لیے آیا تاکہ لوگوں کے لیے وہ پاکیزہ چیزیں حلال کر دے جنھیں بگڑے ہوئے ادیان یا ظالمانہ رسوم و رواج نے تلپٹ کر دیا تھا۔ یہ انسانی زندگی کو ان مصنوعی پابندیوں سے آزاد کرانے کی ایک آواز ہے جن کے ذریعے انسانیت کو اللہ کی نعمتوں سے محروم کر دیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کرایا گیا:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَۃَ اللہِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ۝۰ۭ (الاعراف ۷: ۳۲) اے محمدؐ، ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟

یہاں ’حلال قرار دینا‘ محض ایک اجازت نہیں، بلکہ زندگی کے میدان کو اتنا وسیع اور پاکیزہ بنانا ہے کہ انسان اس میں بغیر کسی تنگی اور رکاوٹ کے جی سکے۔

  • ناپاک چیزوں کی تحریم __ آزادی کی بـے لگامی سے حفاظت : ـــــــ جس طرح اسلام نے پاکیزہ چیزوں کے معاملے میں آزادی دی ہے، اسی طرح ناپاک چیزوں (خبائث) پر پابندی لگا کر اس آزادی کو متوازن و منظم بھی کیا ہے۔ بعض چیزوں اور کاموں کو حرام قرار دینا انسان پر کوئی ناروا قید نہیں، بلکہ اسے ان چیزوں میں گرنے سے بچانا ہے جو اس کے جسم، روح، عقل اور معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں۔ یہ اقدار کے دائرے میں ایسی آزادی ہے جو اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ انسان پاکیزہ زندگی گزارے، تاکہ آزادی کہیں ایسی افراتفری میں نہ بدل جائے جو انسان کی انسانیت ہی کو تباہ کر دے۔ 
  • بوجھ اُتارنا  __ تحریفات و انحرافات کے بوجھ  سے  نجات : ـــــــ اِصر (بوجھ) سے مراد وہ سخت شرائط اور تکلیف دہ احکامات ہیں جو گذشتہ امتوں پر ان کی نافرمانیوں کی سزا کے طور پر یا شریعت میں ان کے انحراف کی وجہ سے لازم کیے گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تاکہ اپنی اُمت کا بوجھ ہلکا کریں، اور ان کی شریعت کو انتہا پسندی اور افراط و تفریط کے درمیان اعتدال کا نمونہ بنادیں۔ آزادی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مذہبی پابندیاں انسان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں، بلکہ وہ ایسا زینہ ثابت ہوں جو اسے کمالِ انسانیت تک پہنچائے۔
  • بیڑیوں کا خاتمہ __ سماجی اور سیاسی پابندیوں سے آزادی: ’اَغلال‘ (بیڑیاں)  سے مراد وہ قیود ہیں جنھوں نے قوموں کو استبداد، ظلم، مذہبی تحریف یا ان جابرانہ رسوم و رواج میں جکڑ رکھا تھا، جنھیں لوگوں نے وحیِ الٰہی کا مقام دے دیا تھا اور بغیر کسی آسمانی حکم کے انھیں دین بنا لیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان زنجیروں کو توڑنے کے لیے تشریف لائے، انسانوں کو ان کی تکریم اور آزادی واپس دلانے کے لیے آئے، تاکہ وہ حق کے سوا کسی کے سامنے سرنگوں نہ ہوں اور اللہ کے سوا کسی کے محکوم نہ رہیں۔ یہاں رسالت کا اصل جوہر نمایاں ہوتا ہے،یعنی ’کامل آزادی‘ ـــــــ جو انسان کو اس کی انسانیت واپس لوٹاتی ہے۔

بلاشبہ ان چھ مقاصد کا محور ایک ہی ہے اور وہ ہے ’ذمہ دارانہ آزادی‘ کا آغاز۔ ایسی آزادی جو معروف (بھلائی) پر استوار ہو، منکر (برائی) سے محفوظ ہو، پاکیزہ چیزوں سے ثروت مند ہو، خباثتوں سے پاک ہو اور بوجھ اور زنجیروں سے آزاد ہو۔

سورۂ اعراف کی اس آیت نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمہ گیر مشن کا منشور پیش کیا ہے۔ اس مشن کا بلند ترین مقصد یہ ہے کہ انسان آزاد اور معزز ہو کر جیے، صرف ایک اللہ کی عبادت کرے، اور اس کی دنیا میں عدل و رحمت کے ساتھ تعمیر و ترقی کرنے والا حکمران بن کر رہے۔

قرآنی منشور کے تہذیبی اثرات 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام محض اخلاقی دعوت یا وعظ و نصیحت تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ اپنے آغاز سے ہی ایک جامع تہذیبی منصوبے میں بدل گیا تھا جس نے انسانی تعمیر اور شہری ترقی کو یکجا کر دیا۔ اس طرح آپؐ نے ایک ایسا منفرد نمونہ پیش کیا جس کے اثرات آج تک جاری ہیں۔آپؐ نے مدینہ منورہ میں ایک نئے معاشرے کی بنیاد رکھی جو عدل، شوریٰ اور باہمی تعاون پر مبنی تھا۔ مسجد اس کا دھڑکتا ہوا دل تھا جو عبادت کی جگہ بھی تھی، علم کا منبع بھی، سیاسی فیصلوں کا مرکز بھی اور سماجی یکجہتی کا سائبان بھی۔ ’میثاقِ مدینہ‘،جسے محققین نے پہلا جامع شہری دستور قرار دیا ہے، اس کے ذریعے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان بقائے باہمی کے اصول نہ صرف وضع کیے گئے بلکہ کامیابی کے ساتھ ان کا تجربہ ہوا۔ یہ دستور حقوق کی برابری، جانوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی ضمانت پر مبنی تھا۔ یوں آزادی محض ایک نعرہ نہیں رہی بلکہ ایک عملی حقیقت بن گئی جسے قانونی دستاویزات میں ڈھالا گیا اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنادیا گیا۔پھر اسی بنیاد سے اسلامی تہذیب کا آغاز ہوا جو مشرق و مغرب تک پھیل گئی۔ مدارس، جامعات اور لائبریریاں قائم ہوئیں، تحقیق اور دریافت کی قوتوں کو جِلا ملی اور اس تہذیب نے فکر، سیاست، معیشت اور سماجیات میں دنیا کو ایک جدید نمونہ عطا کیا۔ اس کا بنیادی مقصد انسان کو جہالت اور ظلم کی قید سے آزادی دلانا اور اسے اس قابل بنانا تھا کہ وہ زمین کی تعمیر میں اپنی عقل اور روح کو بروئے کار لائے۔ لہٰذا علم یہاں عبادت ہے، زمین کی آبادی ایک فریضہ ہے، اور عدل و رحمت اس کے بنیادی ستون ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس تہذیب نے اقتدار کے غلام یا مفادات کے اسیر پیدا نہیں کیے، بلکہ جانبازی و جہانبانی کے حیرت انگیز نمونے دنیا کو دکھائے۔ ایسی نسلیں پروان چڑھائیں جو علما، فقہاء اور مصلحین پر مشتمل تھیں، جنھوں نے ہدایت کی شمع تھامی اور تنقید و تحقیق اور اجتہاد و تجدید کی پختہ اور عادلانہ روایات قائم کیں۔

انسانیت کی آزادی اور تہذیبی ارتقاء و اجتہاد اور تجدیدِ نو کا یہ سفر دراصل مقاصد ِ رسالت کے بنیادی مقصد کا انعکاس ہے، کہ آزادی تہذیب کا ایندھن بنی رہے،انسانی وقار تعمیر و ترقی کی بنیاد قرار پائے، اور تزکیۂ زندگی کی روح بن کر سامنے آئے۔ آج کی دنیا، جو اپنے روحانی بحرانوں اور مادیت پرستی کی غلامی میں جکڑی ہوئی ہے، اس بات کی محتاج ہے کہ مدرسہ ٔ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سبق سیکھے کہ حقیقی آزادی بے راہ روی نہیں، بلکہ حق کے ساتھ وابستگی اصل آزادی ہے۔ یہ آزادی لاحاصل نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، کیونکہ تہذیب آتش و آہن کے غلبے اور طاقت و جبر کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ اَقدار، عدل اور رحمت کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔

پندرہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی، آپؐ کی آواز دنیا کے ضمیر میں گونج رہی ہے: اے انسان! آزاد ہو جا، تاکہ تو حقیقی انسان بن سکے! شہوات کی غلامی سے نکل کر روح کی بلندی کی طرف پرواز کر، جبر و استبداد کے قہر سے نکل کر شریعت کے عدل کی پناہ میں آ، اور جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم و حکمت کے نور میں داخل ہو جا۔

یہی وہ نوید ِ مسرت ہے جس کے آپؐ علَم بردار تھے، یہی وہ منصوبہ ہے جو آپؐ نے ورثے میں چھوڑا، اور یہی وہ نقشِ دوام ہے جو وجود کائنات کے ساتھ پائندہ رہے گا۔ درحقیقت یہی راہِ نجات ہے۔

 _______________

وہ لوگ بے حد خوش نصیب ہیں جنھیں ’معلّم‘ کا منصب ملا۔ یہ وہ منصبِ جلیلہ ہے جس پر اللہ حکیم و علیم نے انسانیت کی تعلیم و تربیت کے لیے انبیاؑ کی مقدس شخصیتوں کو مامور فرمایا۔ یہ انبیا ؑ تاریخ کے مختلف اَدوار میں بنی نوع انسان کو اپنے قول و عمل سے حق کی تعلیم دیتے اور انھیں لازوال صداقتوں کی طرف بلاتے رہے۔ ان عظیم معلّمین انسانیت کی آخری کڑی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جنھوں نے انبیائے سابقین ؑ کی طرح اپنے قول و عمل سے انسانیت کو نیکی اور راستی کی تعلیم دی۔ انسان کے کردار کو جلابخشی اور اس کی فکری سطح کو عظیم رفعتوں سے ہمکنار کیا۔ بلاشبہ حضوؐر انسانیت کے معلّمِ اعظم ہیں۔ آج اُمت مسلمہ کا جو بھی فرد اسلامی نظامِ فکروعمل کی روشنی میں تعلیم و تدریس کے میدان میں سرگرمِ عمل ہے، درحقیقت وہ انبیاؑ کے منصب کا وارث ہے اور حضور اکرمؐ کی تعلیمی تحریک کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔

تعلیم کا عمل اپنی اہمیت و افادیت کے اعتبار سے نہایت ہی مؤثر معاشرتی عمل ہے اور اس وجہ سے ہر دور کے مفکرین اس عمل کو زیادہ جامع اور مفید نتائج کا حامل بنانے کے لیے اپنے افکار پیش کرتے رہے ہیں۔ یہ عمل درحقیقت انسان کی ذہنی اور اخلاقی تدریج کا عمل ہے اور اس کے پیداکردہ نتائج ہی خود انسان کی ترقی کا پیمانہ قرار پاتے ہیں۔ آج کا دور بھی ہمیشہ کی طرح مختلف نظریاتی لہروں اور فکری سمتوں کی باہمی آویزش اور ٹکرائو کا دور ہے۔ تصادم اور کش مکش کی اس فضا میں کمزور نظریاتی بنیادوں پر کھڑی اقوام آج زبردست خطرے میں ہیں، کیونکہ میڈیا اور ٹکنالوجی کے موجودہ دور میں طاقت ور اقوام کی طرف سے فکری اور ثقافتی یلغار نے بھرپور حملے کا رنگ اختیار کرلیا ہے۔ ان پُرآشوب حالات میں کوئی ایسی قوم اُبھر ہی نہیں سکتی جو دوسروں کے ذہنی افکار کی دریوزہ گری کرتی پھرے، اور جس کے پاس ایک مضبوط فکری انقلاب بپا کرنے کے لیے مُنَزَّل مِنَ اللہ  ہدایت پر مبنی کوئی نظریاتی سرمایہ نہ ہو۔ 

ایک آزاد اسلامی ملک کے باشندے اور مسلم سوسائٹی کے فرد کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے نظامِ تعلیم کو ایک ایسی نئی نسل کی تعمیر کا ذریعہ بنائیں جو اسلامی فکروعمل کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہو۔ جو الحاد، مادہ پرستی، منافقت، خیانت اور ظلم کے خلاف جہاد کے عظیم جذبے سے سرشار ہو۔ گویا ہماری درس گاہوں کو شعوری اور عملی طور پر ایسے انسانیت ساز اداروں کا کردار اپنا لینا چاہیے جو ہرشعبۂ زندگی میں اسلامی طرزِفکروعمل کو جاری و ساری کرسکیں۔ استاد اس عظیم تحریک کا مرکز و محور ہے اور اسے موجودہ عہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے معلّمِ اعظمؐ کے اسوئہ تعلیم کو مشعل راہ بنانا ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی تصورِ تعلیم کی عمارت تین ستونوں پر استوار ہوتی ہے: (الف) مقاصد کا تعین (ب) نصابِ تعلیم اور (ج) حکمتِ تدریس۔ ان میں پہلے دو اجزاء یعنی مقاصد اور نصاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن اسلامی نظام کے حوالے سے حکمتِ تدریس کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

تدریسی عمل میں استاد کا مقام

اسلامی معاشرہ میں تدریسی عمل ایک بے حس، جامد اور میکانکی عمل کا نام نہیں، جو ریڈیو، ٹی وی یا ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے مطلوبہ معلومات منتقل کرتا رہے، بلکہ اسلامی معاشرہ میں استاد کونہایت ہی اہم اور ارفع مقام حاصل ہے۔ اگر صحیح طور پر تجزیہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے معلّم ایک مقدس روحانی احساس کی مانند تعلیمی عمل کی باقی تمام چیزوں پر حاوی ہے۔ گویا آسان لفظوں میں ہم یہ بات اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا معلّم، مقاصد تعلیم اور نصابِ تعلیم کے پہلو بہ پہلو محض ایک تیسری اکائی کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ وہ خود ایسے اندازِ فکروعمل کا حامل ہوتا ہے جس میں مطلوبہ مقاصد کا رنگ جھلکتا ہے اور زیربحث نصاب کی خوشبو اس کی زندگی کے ہرپہلو میں رچی بسی ہوتی ہے۔ اُم المومنین حضرت عائشہؓ سے حضوؐر کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُم المومنینؓ کا انتہائی مختصر لیکن مفہوم کے لحاظ سے جامع جواب یہ تھا: کَانَ خُلَقُہُ  القُرآن، حضوؐر کا اخلاق تو عین قرآن تھا (صحیح البخاری)۔ گویا معلّم انسانیتؐ محض نصاب (قرآن) کی تفہیم نہیں فرما رہے تھے بلکہ خود اس نصاب کی تعلیمات کا عملی پیکر تھے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ایک مسلم سوسائٹی کے استاد کو پورے تعلیمی عمل کا انتہائی مؤثر اور کارگر جزو بنادیتا ہے۔

انسان کی فطرت کچھ اس طور واقع ہوئی ہے کہ وہ مجرد کتابی تعلیم سے کوئی غیرمعمولی فائدہ نہیں اُٹھا پاتا۔ اس کو علم کے ساتھ ایک انسانی معلّم اور رہنما کی بھی حاجت ہوتی ہے۔ جو نہ صرف اپنی تعلیم سے اس علم کو دلوں میں بٹھا دے بلکہ وہ اس تعلیم کا مجسمہ بن کر اپنے عمل سے لوگوں میں وہ روح پھونک دے جو اس تعلیم کا حقیقی منشا ہے۔ آپ کو پوری انسانی تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہ مل سکے گی کہ تنہا کسی کتاب نے انسانی معلّم کی ہدایت اور تعلیم کے بغیر کسی قوم کی ذہنیت اور زندگی میں انقلاب پیدا کیا ہو۔ جن راہنمائوں نے قوموں کے افکارو اعمال میں زبردست انقلاب پیدا کیے ہیں، اگر وہ خود اپنی تعلیم کا مکمل عملی نمونہ نہ ہوتے اور صرف ان کی تعلیمات اور ان کے اصول، کسی کتاب کی شکل میں شائع ہوجاتے، تو انسانی فطرت کا کوئی رازدان یہ دعویٰ کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا کہ محض اس کتاب سے وہی انقلاب رُونما ہوپاتے جو ان راہنمائوں کی عملی تعلیم سے ہوئے۔

تشبیہات، استعارہ اور مثالوں کا استعمال

رسولؐ اللہ کی معلّمانہ حیثیت اور آپؐ کی حکمتِ تدریس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ یقینا آپؐ کے طرزِ تعلیم کا ایک ایک نکتہ ہمارے لیے منارئہ نُور ہے لیکن زیرنظر مضمون میں صرف حضوؐر کی حکمتِ تدریس کے ایک خاص گوشے کا تذکرہ کیا گیا ہے اور وہ ہے آپؐ کا ادیبانہ اسلوب اور تشبیہات و استعارات، نیز مثالوں کی مدد سے نفس مضمون کو زیادہ پُرکشش اور بامعنی بناکر پیش کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ استاد کی شخصیت کی جامعیت میں حُسنِ بیان کا پہلو خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔احترام، شفقت، محبت اور حکیمانہ انداز کے ساتھ زبان کی شگفتگی، جملوں کی متناسب ساخت، اندازِ بیان کا بانکپن، لہجے کا اُتار چڑھائو اور گفتگو کا شعری آہنگ، یہ سب ہی چیزیں بہت اہم ہیں۔ 

گویا استاد کا کام طلبہ کی تربیت و اصلاح، معلومات کی منتقلی اور اپنے مثالی کردار کی تاثیر کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ ٹھوس حقائق کو بے رنگ انداز میں بیان نہ کر ڈالے، بلکہ اپنی شگفتہ بیانی اور شیریں مقالی سے اپنے درس کو دلچسپ اور پُرکشش بھی بنائے۔

حضورؐ کی حکمتِ تدریس میں شیریں بیانی ایک بنیادی وصف کا درجہ رکھتی تھی۔ آپؐ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر تھے کہ علم کا حصول اور علم کا انتقال دو اہم عمل ہیں۔ چنانچہ آپؐ نے ربّ العزت کی عطا و تعلیم کردہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے تدریس کی اسی حکمت عملی کو اپنایا جو خود خالق کائنات نے اپنی آخری نازل کردہ کتاب (قرآن کریم) میں ملحوظ رکھی۔ یعنی کائنات کے بنیادی حقائق کے اظہار کے لیےبیان کی شگفتگی، گذشتہ اقوام، نیز مختلف مظاہر کائنات کی مثالیں، روزمرہ زندگی سے تعلق رکھنے والی تشبیہات، بلیغ استعاروں کے برمحل استعمال سے اسلوب کی کشش، اور اس کے ساتھ ساتھ ہرفکری سطح کے انسانوں کو متوجہ رکھنے کے لیے بشارت و وعید کا انداز۔

 حضوؐر کی معلّمانہ حکمت عملی کے اس پہلو کے بارے میں جناب نعیم صدیقیؒ نے اپنے معروف مقالہ ’محسن انسانیتؐ بحیثیت معلّم انسانیت‘ میں ان نکات کو واضح کیا ہے جو حضورؐ نے ایک ہمہ گیر تہذیبی انقلاب اور تعلیمی تحریک کے لیے اپنے پیش نظر رکھے۔ بقول نعیم صدیقی قرآن کریم میں حضوؐر کے لیے معلّمانہ ذمہ داری کو بلاغِ مبین سے مقید کیا گیا ہے۔ یعنی وضاحت سے بات پہنچا دینا اور تفہیم کا حق ادا کردینا ہر سچّے معلم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حضوؐر نے اپنے مخاطب گروہ کی توجہات کو اپنی بات کی طرف مرتکز کرنے کے لیے مختلف مؤثر صورتیں اختیار فرمائیں، مثلاً کبھی چونکا دینے والی کسی بات سے آغازِ کلام کیا گیا۔ کبھی سوال سے گفتگو شروع فرمائی، کبھی کوئی حیرت زدہ منظر ذہنوں کے سامنے آراستہ فرما دیتے، یعنی حکمت حضورؐ کے طریق تدریس کا بنیادی نکتہ تھی۔ اس ضمن میں قرآن حکیم نے آپؐ کی اس طرح رہنمائی فرمائی:

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ۝۰ۭ   (النحل ۱۶:۱۲۵)اے نبیؐ! اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔ 

گویا قرآن حکیم نے جس تعلیمی حکمت عملی پر زور دیا ہے، اس کے تین اساسی اصول ہیں: نمبر۱: حکمت، نمبر۲: نصیحت، نمبر۳: جدال اَحسن۔

سورئہ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے اس ہدایت کو ایک اور پیرائے میں اس طرح بیان فرمایا ہے:

وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَہْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ ۝۰ۤۖ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ (العنکبوت ۲۹:۴۶) ’’اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے، سوائے اُن لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں‘‘۔

اس آیت کی تشریح میں مفسرین لکھتے ہیں: مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ مہذب و شائستہ زبان میں اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہیے، تاکہ جس شخص سے بحث کی جارہی ہو اس کے خیالات کی اصلاح ہوسکے۔ مبلغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اُتار دے اور راہِ راست پر آنے میں اس کی مدد کرے۔ اس کو ایک پہلوان کی طرح نہیں لڑنا چاہیے جس کا مقصد اپنے مدمقابل کو نیچا دکھانا ہوتا ہے، بلکہ اس کو ایک حکیم کی طرح چارہ گیری کرنی چاہیے، جو مریض کا علاج کرتے ہوئے ہروقت یہ بات ملحوظ رکھتا ہے کہ اس کی کسی غلطی سے مریض کا مرض اور زیادہ نہ بڑھ جائے، اور وہ اس امر کی پوری کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم تکلیف کے ساتھ مریض شفایاب ہوجائے۔

یہ ہدایت اس مقام پر تو موقع کی مناسبت سے اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے معاملہ میں دی گئی ہے۔ مگر یہ ہدایت اہلِ کتاب کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تبلیغ دین کے باب میں ایک عام ہدایت ہے جو قرآن مجید کی متعدد آیات میں دی گئی ہے مثلاً:

  •  اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ۝۰ۭ اِنَّ رَبَّكَ ہُوَاَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِہٖ وَہُوَاَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِيْنَ۝۱۲۵ (النحل ۱۶:۱۲۵) (اے نبیؐ) اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو، حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو، تمھارا ربّ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہِ راست پر ہے۔ 
  • lوَلَا تَسْتَوِي الْحَسَـنَۃُ وَلَا السَّيِّئَۃُ۝۰ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَہٗ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۝۳۴( حم السجدہ۴۱: ۳۴) اور اے نبیؐ، نیکی اور بُرائی برابر نہیں ہوتیں۔ آپؐ بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔
  • اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَۃَ۝۰ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ۝۹۶ (المؤمنون ۲۳:۹۶)(اے محمدؐ) بُرائی کو اس طریقہ سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں۔
  •  خُذِ الْعَفْوَوَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِيْنَ۝۱۹۹ وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ۝۰ۭ اِنَّہٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝۲۰۰ (الاعراف ۷:۱۹۹-۲۰۰ ) (اے نبیؐ) نرمی اور درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جائو،اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔ اگر شیطان تمھیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

مگر جو لوگ نرمی اور حکمت کے ساتھ احسن طریقے پر دی گئی اسلامی دعوتِ فکروعمل کے جواب میں ظلم کا رویہ اختیار کریں، ان کے ساتھ ان کے ظلم کی نوعیت کی مناسبت سے مختلف رویہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہروقت، ہرحال میں اور ہر طرح کے لوگوں کے مقابلے میں نرم و شیریں ہی نہ بنے رہنا چاہیے کہ دُنیا داعی حق کی شرافت کو کمزوری اور مسکنت سمجھ بیٹھے۔ اسلام اپنے پیروئوں کو شائستگی، شرافت اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے مگر عاجزی و مسکینی نہیں سکھاتا، کہ وہ ہرظالم کے لیے نرم چارہ بن کر رہ جائیں۔

پس مؤثر تدریس کے لیے یہ ضروری ہے کہ استاد ایسا اسلوب اختیار کرے جو درج بالا اساسی اصولوں کا حامل ہو ، کیونکہ اس کے بغیر اعلیٰ نصب العین کا حصول ممکن نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآنِ مجید کا مخصوص اسلوب اسلام کی ترویج و ترقی میں بے حد مؤثر ثابت ہوا۔ چنانچہ حضوؐر کا انداز بھی ان ہی نکات سے آراستہ تھا اور حکیم مطلق نے جو طریقِ ہدایت اپنی عظیم کتاب میں اختیار فرمایا تھا اسی کی پیروی سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے تھے۔ آپؐ کی گفتگو، ادبی لطافتوں، بلیغ استعاروں اور خوب صورت مثالوں سے اس انداز میں گلے ملتی تھی کہ معنی و مفہوم کی گرہیں کھلتی چلی جاتی تھیں اور مخاطب اس کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ ایک بار آپؐ نے خشیت الٰہی کے نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: اِذَا اقْشَعَرَّ جِلْدُ الْعَبْدِ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ ، تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُّ عَنِ الشَّجَرَةِ الْبَالِيَةِ وَرَقُهَا’’جب اللہ تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت سے کسی بندے کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو اس وقت اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے کسی پرانے سوکھے درخت کے پتّے جھڑ جاتے ہیں‘‘۔ (مسند البزاز:۱۱۷۷)

تشبیہاتی انداز: چند مثالیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے کہ تعلیم و تدریس کا سلسلہ رسمی یا غیر رسمی سننے والوں کے لیے بیزاری یا اُکتاہٹ کا باعث نہ بن جائے۔ آپؐ کی گفتگو ہمیشہ سننے والوں کی ذہنی اُپج اور ان کے فکری معیار کے مطابق ہوتی تھی۔ آپؐ عظیم اخلاقی نکتے بالکل سادہ، عام فہم اور روزمرہ زندگی سے گہری قربت رکھنے والے حوالوں کی مدد سے بیان فرماتے۔ حضوؐر کی شیریں مقالی تو بے مثال ہے۔ آپؐ نے کبھی اُونچے لہجے میں بات نہ کی۔ آج کے معلم کو بھی یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہیے کہ لہجے کی کرختگی اس کے مقام کو مجروح کرتی اور تعلیمی عمل کو نقصان پہنچاتی ہے۔

  • ایک دفعہ آپؐ نے صحابہؓ سے پوچھا: فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيْكُمْ ،  قَالُوا: الَّذِيْ لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ ، قَالَ: لَيْسَ بِذٰلِكَ ، وَلَكِنَّهُ الَّذِيْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ’’تم اپنے میں سے زورآور کسے کہتے ہو؟ صحابہؓ نے کہا: جسے لوگ کشتی میں پچھاڑ نہ سکیں۔فرمایا نہیں، یہ زورآور نہیں۔ زورآور وہ ہے جو غصے میں اپنے نفس کو قابو میں رکھے‘‘۔ (صحیح مسلم  :۶۸۰۷ )
  • ایک اور موقع پر استاد کے لیے باعمل اور صاحب ِکردار ہونے کی اہمیت اس بلیغ تشبیہ کے ذریعے بیان فرمائی:مَثَلُ الْعَالم الَّذِی یُعَلِّمُ النَّاسَ  الْخَیْرَ وَیَنْسِیْ  نَفْسَہٗ  کَمَثَلِ السِّرَاجِ یُضیْیءُ  لِلنَّاسِ  وَیَحْرِقُ نَفْسَہٗ  ’’عالم بے عمل اس چراغ کی مانند ہے جو دوسروں کو تو روشنی پہنچاتا ہے لیکن خود کو جلاتا رہتا ہے‘‘۔ (المعجم الکبیر للطبرانی)

اس طرح کا تشبیہاتی انداز درج ذیل احادیث سے مزید اُجاگر ہوتا ہے:

  • الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ، ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ اَصَابِعِهِ ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے عمارت کی طرح ہوتا ہے، جو ایک دوسرے کے لیے مضبوطی اور قوت کا باعث ہوتا ہے۔ پھر آپؐ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر لوگوں کو دکھایا۔ (صحیح البخاری:۶۰۲۶)
  • مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يَخْرُجُ مِنْ عَيْنَيْهِ دُمُوعٌ وَ اِنْ كَانَ مِثْلَ رَأْسِ الذُّبَابِ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ، ثُمَّ يُصِيبُ شَيْئًا مِنْ حُرِّ وَجْهِهِ، اِلَّا حَرَّمَهُ اللهُ عَلَى النَّار،’’اللہ کی عظمت اور ہیبت سے کسی بندئہ مومن کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں اگرچہ وہ مقدار میں مکھی کے سر کے برابر ہو (یعنی ایک قطرہ کے بقدر ہو) پھر وہ بہہ کر اس کے چہرے پر پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اس چہرہ پر آتشِ دوزخ کو حرام کردے گا۔ (سنن ابن ماجہ: ۴۱۹۷)
  • اِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَ اِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَاِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ،’’غصہ شیطان کی (اُکساہٹ کی) وجہ سے ہوتا ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی ٹھنڈا کرسکتا ہے۔ لہٰذا اگر تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اس کوچاہیے کہ وہ وضو کرے‘‘۔ (مسند احمد:۱۸۰۱۴، سنن ابوداؤد:۴۷۸۶)
  • الْغِیْبَۃُ وَالنَّمِیْمَۃُ  تَـحَتَّانِ  الْاِیْمَانِ  کَمَا  یَضْعَدُ  الرَّاعِیْ  الشَّجَرَۃَ ،غیبت اور چغل خوری ایمان کو اس طرح جھاڑ کر رکھ دیتی ہیں جس طرح چرواہا پتوں والی ٹہنی کو جھاڑ دیتا ہے۔ (الترغیب والترھیب للاصبھانی،ج۳،ص ۱۴۱و  سنن ابوداؤد)

مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ  فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَاذَا يَرْجِعُ ’’اللہ کی قسم! دُنیا آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں انگلی ڈالے اور اس کے بعد یہ دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے‘‘۔ (جامع الترمذی:۲۳۲۳)

  • مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ ، يَعْنِي شِدْقَيْهِ  ، ثُمَّ يَقُولُ أَنَا مَالُكَ ، أَنَا كَنْزُك ’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر اس نے اس کی زکوٰۃ نہیں ادا کی تو اس کا یہ مال قیامت کے دن نہایت زہریلے سانپ کی شکل اختیار کرے گا۔ جس کے سر پر دو سیاہ نقطے ہوں گے (یہ انتہائی زہریلے ہونے کی علامت ہے) اور وہ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ پھر اس کے دونوں جبڑوں کو یہ سانپ پکڑے گا اور کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں‘‘۔ (صحیح البخاری:۱۴۰۳)
  • مَنْ نَصَرَ قَوْمَهُ عَلٰى غَيْرِ الْحَقِّ، فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الَّذِي رُدِّيَ، فَهُوَ يُنْزَعُ  بِذَنَبِهِ’’جو شخص کسی ناجائز معاملے میں اپنی قوم کی مدد کرتا ہے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کوئی اُونٹ کنویں میں گر رہا ہو اور اس کی دُم پکڑ کر لٹک گیا ہو (تو یہ بھی اس کے ساتھ جاگرا ہو)‘‘۔ (سنن ابوداؤد: ۵۱۱۹)
  • اِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَب’’اپنے آپ کو حسد سے بچائو اس لیے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح بھسم کرتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو بھسم کر ڈالتی ہے‘‘۔ (سنن ابوداؤد:۴۹۰۵)
  •  اِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْاِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ فَاِيَّـاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ ’’جس طرح (بکریوں کا دشمن) بھیڑیا ہے اور اپنے ریوڑ سے الگ ہوجانے والی بکریوں کا یہ بآسانی شکار کرلیتا ہے۔ اسی طرح شیطان انسان کا بھیڑیا ہے (اگر جماعت بن کر نہ رہیں تو یہ الگ الگ کو نہایت آسانی سے شکار کرلیتا ہے)۔ پس تم گھاٹیوں (الگ الگ ہونے) سے بچو، اور تم لازماً جماعت کے ساتھ جڑے رہو‘‘۔ (مسنداحمد :۲۲۰۸۲)

لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ اِلَى اللهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ وَأَثَرَيْنِ، قَطْرَةٍ مِنْ دُمُوعٍ فِي خَشْيَةِ اللهِ وَقَطْرَةِ دَمٍ تُهْرَاقُ فِي سَبِيْلِ  اللہِ’’اللہ کو دو قطروں سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں: ایک آنسو کا وہ قطرہ جو اللہ کی عظمت کے احساس سے نکلے اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو جہاد فی سبیل اللہ میں بہے‘‘۔ (جامع الترمذی:۱۶۶۹)

يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيْهِمْ عَلٰى دِيْنِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ ’’انسانوں پر ایک ایسا وقت آجائے گا جب دین پر جمے رہنا انگارے کو ہاتھ میں لینے کی طرح ہوگا‘‘۔ (جامع الترمذی :۲۲۶۰)

  • إِنَّ  هَذِهِ الْقُلُوبَ تَصْدَأُ، كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ  قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ: كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ ’’بے شک یہ دل زنگ آلود ہوجاتے ہیں جس طرح لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسولؐ! دلوں کے زنگ کو دُور کرنے والی کیا چیز ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا: دل کا زنگ اس طرح دُور ہوتا ہے کہ آدمی موت کو کثرت سے یاد کرے اور قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرے‘‘۔ (سنن البیہقی:۱۸۵۹)
  • مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَىِّ وَالْمَيِّتِ’’اس شخص کی مثال جو اپنے ربّ کو یاد کرتا ہے اُس شخص کی سی ہے جس کے اندر زندگی پائی جاتی ہے۔ اُس شخص کی مثال جو اللہ کو یاد نہیں کرتا ایسی ہے جیسے کہ کوئی میّت ہو‘‘۔ (صحیح البخاری:۶۴۰۷)
  • يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ’’وہ (ایک گروہ کے لوگ) قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتاہے‘‘۔ (صحیح البخاری: ۶۹۳۴)
  • مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ’’کسی بندے کے پائوں جو جہادفی سبیل اللہ میں گرد آلود ہوئے ہوں ان کو جہنم کی آگ مَس نہیں کرسکتی‘‘۔(صحیح البخاری: ۲۸۱۱)
  • وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِىءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ، لَوْنُهَا لَوْنُ الزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا رِيحُ الْمِسْكِ ’’اور جس شخص کو اللہ کے راستے میں کوئی زخم لگایا گیا یا کوئی چوٹ لگائی گئی، وہ قیامت کے دن اس شان سے اُٹھے گا کہ وہ زخم یا چوٹ اسی طرح تازہ اور اس سے کامل شکل میں ہوگا جتنا کہ وہ تھا، اور اس کی رنگت زعفران کے مشابہ ہوگی اور اس کی خوشبو مُشک کی خوشبو کی طرح ہوگی ‘‘۔ (سنن ابوداؤد:۲۵۴۳)
  • يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمْ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَيُسَاقُونَ اِلٰى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ یُسَمّٰی بُولَسَ  تَغْلُوْہُمْ نَارُ الأنیَار ، یُسْقَوْنَ مِن عُصَارۃ اَھل النَّارِ طِیْنَۃَ الْـخَبَالِ ’’متکبر قیامت کے دن چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی مثل مردوں کی صورت میں لائے جائیں گے۔ ذلّت انھیں ہر طرف سے ڈھانپے رہے گی اور وہ جہنم کے ایک خاص قیدخانے ’بولس‘ کی طرف ہنکارے جائیں گے،جہاں آگوں کی آگ اُنھیں اُبالے گی۔ وہ وہاں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ پئیں گے جسے ’طینۃ الخبال‘ (سڑی ہوئی بدبُودار کیچڑ) کہتے ہیں‘‘۔ (جامع الترمذی:۲۴۹۲)
  • إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا فَجَعَلَ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَقْتَحِمْنَ فِيهَا فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ ، عَنِ النَّارِ وَأَنْتُمْ تَقْتَحِمُونَ فِيهَا ’’میری اور لوگوں کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے آگ جلائی اور جب آس پاس کا ماحول آگ کی روشنی میں چمک اُٹھا تو یہ روشنی کے کیڑے اور پتنگے اس پر گرنے لگے اور وہ شخص پوری قوت سے ان کیڑوں اور پتنگوں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن پتنگے ہیں کہ اس کی ہرکوشش ناکام بنائے دے رہے ہیں اور آگ میں گھسے پڑ رہے ہیں۔ اسی طرح میں تمھیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ سے روک رہا ہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑ رہے ہو‘‘۔ (صحیح البخاری :۶۴۸۳)
  • للهُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ فِى أَرْضِ دَوِيَّةٍ مُهْلِكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ ، فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ ، وَقَدْ ذَهَبَتْ ، فَطَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ الْعَطَشُ ثُمَّ قَالَ اَرْجِعُ اِلٰى مَكَانِى الَّذِى كُنْتُ فِيْهِ فَأنَامُ حَتَّى أَمُوتَ ، فَوَضَعَ رَأَسَهُ عَلٰى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ ، فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَاحِلَتُهُ وَعَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ ، فَاللهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِن مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ وَزَادِهِ’’یقینا اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے کہ ایک آدمی ہلاکت خیز بے آب و گیاہ صحرا میں ہو، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو، اس (سواری) پر اس کا کھانا اور پانی لدا ہوا ہو، وہ (تھکاوٹ کی وجہ سے اچانک) سوجائے اور جب وہ جاگے تو (اس کی وہ) سواری جاچکی ہو۔ وہ اسے ڈھونڈتا پھرے یہاں تک کہ اسے شدید پیاس لگ جائے۔ پھر وہ (مایوس ہوکر) کہے کہ میں جہاں پر تھا اسی جگہ واپس جاکر سو جاتا ہوں، تاکہ اسی نیند کی حالت میں مجھے موت آجائے۔ وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لیے لیٹ جائے، پھر جب اس کی آنکھ کھلے تو اس کی وہ سواری جس پر اس کا زادِ راہ ، کھانا اور پانی تھا اس کے پاس کھڑی ہو۔ تو اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے، جتنا کہ یہ آدمی اپنی سواری اور زادِ راہ مل جانے پر خوش ہوتا ہے‘‘۔(صحیح مسلم:۶۹۵۵)

یہ تشبیہاتی انداز ہمارے سامنے ایسی موجود اور مقررہ شکلوں کو لاتا ہے جن سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ ہمارے ذہن کی لوح پر ایک خاص منظر کی تصویر اُبھرتی ہے۔ ہم اپنے تجربہ و مشاہدہ سے اس منظر کے تمام پہلوئوں سے کماحقہٗ واقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ معلوم سے نامعلوم کا تعلیمی اصول رُوبہ عمل آتا ہے اور اس طرح ہم تجرباتی حوالے سے اس نکتے کا فہم حاصل کرتے ہیں جو نصاب کا حصہ ہوتا ہے۔ آیئے حضوؐر کی اس حکمت تدریس کی ایک اور مثال دیکھیں:

  •  ایک موقع پر آپؐ نے ارشاد فرمایا:

 اِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِى اللهُ  بِهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ ، فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ ، فَشَرِبُوا مِنْهَا وَسَقَوْا وَرَعَوْا وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى اِنَّمَا هِىَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِى دِيْنِ اللهِ وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِى اللهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِى أُرْسِلْتُ بِهِ ’’اللہ عزّوجل نے جس جامع ہدایت اور کامل علم کے ساتھ مجھے مبعوث فرمایا ہے اس کی مثال زمین پر برسنے والی بارش کی طرح ہے۔ پس اس (زمین) کے طیّب (دل کو بھانے والے یعنی زرخیز) قطعہ نے اس پانی کو قبول کیا اور اس سے بہت سارا گھاس اور سبزہ اُگا، اور زمین کا جو قطعہ کڑا سخت تھا اس نے پانی کو جمع کرلیا، پس اللہ تعالیٰ نے اس پانی سے انسانوں کو نفع پہنچایا، پس انسانوں نے اس سے خود بھی پیا، دوسروں کو بھی پلایا اور (کھیتوں کو) سیراب بھی کیا۔ اور یہی بارش زمین کے کچھ ایسے حصے پر بھی برسی جو چٹیل میدان تھا، جو نہ پانی کو جمع رکھتا ہے اور نہ سبزہ اُگاتا ہے۔ پس یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ کے دین کا گہرا فہم حاصل کیا اور اللہ نے جس جامع ہدایت و کامل علم کے ساتھ مجھے مبعوث فرمایا، اس سے اس کو نفع پہنچایا۔ پس اس نے اس سے خود بھی سیکھااور دوسروں کو بھی سکھایا۔ اور (دوسری) مثال اس شخص کی ہے جس نے اس جامع ہدایت کو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنایا، اس کی طرف سراُٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور اسے قبول نہیں کیا‘‘۔(صحیح مسلم:۶۰۹۳)

اس اسلوبِ تدریس کی واضح جھلک حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان میں بھی ملتی ہے۔ آپؐ نے ایک مجلس میں نماز کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے صحابہؓ سے فرمایا: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ ؟ قَالُوا : لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالَ فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّهُ بِهٖ الْخَطَايَا’’تم کیا کہتے ہو کہ اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو اس کے جسم پر کچھ میل باقی رہے گا؟صحابہؓ نے عرض کیا: اس کے بدن پر کوئی میل نہیں رہے گا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ پانچ وقت کی نماز کی یہی کیفیت ہے۔ اللہ اس کے ذریعے آدمی کی خطاؤں (صغیرہ گناہوں)کو مٹا دیتا ہے‘‘۔ (صحیح البخاری:۱۱۵،  مسلم:۱۵۵۴)

استفہامیہ انداز

شعر و ادب کا بنیادی وصف یہ ہے کہ بات عمومی انداز سے ذرا ہٹ کر اُچھوتے پن کی حامل ہوتی ہے۔ اس میں لفظ کو ذرا منفرد انداز میں برتا جاتا ہے اور ایک ایک لفظ کے اندر معنی و مفہوم کی کتنی ہی پرتیں چھپا دی جاتی ہیں۔ سپاٹ اور بے رنگ اندازِ گفتگو عموماً بالکل غیرمؤثر رہتا ہے، بالخصوص اگر لفظ و معنی کا رشتہ لگے بندھے معمول کے طریق کے مطابق مرتب کیا گیا ہو۔ مؤثر تعلیم و تعلّم کے ضمن میں دیکھا گیا ہے کہ استفہامیہ انداز قاری یا سامع کی توجہ کو کئی گنابڑھا دیتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضوؐر نے لاتعداد مواقع پر اسی استفہامیہ انداز کو اپنایا: مثلاً کیا میں تمھیں بھلائی کا راستہ بتائوں؟ کیا تم فلاں بات جاننا چاہتے ہو؟ کیا تمھیں معلوم ہے یہ کون سا شہر ہے؟ یہ کون سا مہینہ ہے؟ یہ کون سا دن ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

اس استفہامیہ انداز کو تعلیمی و تدریسی میدان میں ہم بلاشبہ ایک ایسے کارگر اور مؤثر طریقے کا نام دے سکتے ہیں جس میں شاعری اور ادبی رنگ آمیزی بھی ہوتی ہے۔ طالب علم کی خود سپردگی کی تحقیق بھی اور بھرپور ذہنی آمادگی بھی۔ اس ضمن میں حضوؐر کی حیاتِ طیبہ کے اس واقعے سے بھی بڑی رہنمائی ملتی ہے:

ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: اِنَّ  مِنَ الشَّجَر شَجَرَۃً  لَا یَسْقَطُ  وَرَقُھَا ، وَ اِنَّھَا  مَثَلُ  الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُوْنِی  مَا ھِیَ؟ فَوَقَعَ  النَّاسُ  فِی شَجَرِ البَوَادِی، قَالَ  عَبدُاللہ  وَوَقَعَ فِی نَفْسِیْ اَنَّھَا  النَّخْلَۃُ  ، فَاسْتَحْیَیْتُ ،  ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا  مَا ھِیَ  یَارَسُوْلَ اللہ؟ فَقَالَ ھِیَ النَّخْلَۃ ’’بے شک درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ جس کے پتّے جھڑتے نہیں اور جو مسلمان سے مشابہت رکھتا ہے۔ مجھے بتایئے کہ وہ کون سا درخت ہے؟مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگ مختلف جنگلی درختوں کے بارے میں سوچنے لگے (کسی نے کوئی درخت بتایا اور کسی اور نے دوسرا۔ مگر آپؐ نے ان سب سے انکار کیا)۔ عبداللہ بن عمرؓ (اس حدیث کے راوی) کہتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ یہ درخت کھجور کا ہے (مگر عمر میں چھوٹا ہونے کی بناپر بڑوں کی موجودگی میں جواب دینے سے میں شرما گیا)۔ پھر لوگوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ ہی بتائیں وہ کون سا درخت ہے؟۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ (صحیح مسلم)

اس تمثیلی سوال سے آپؐ یہ بتانا چاہتے تھے کہ کھجور کا درخت ایک ایسا درخت ہے جس میں سراسر بھلائی ہی بھلائی ہے۔ وہ سایہ بھی دیتا ہے۔ اس کا پھل بھی کھایا جاتا ہے۔ گٹھلیاں اُونٹوں کے کام آتی ہیں۔ پتوں سے چٹائیاں بنائی جاتی ہیں۔ تنے اور شاخیں مکان کی تعمیروغیرہ کے کام آتے ہیں اور انھیں ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ غرض یہ درخت ہرپہلو سے نفع ہی کا باعث ہے۔ پھر اس کی ضروریات بھی محدود ہیں اور نسبتاً ناموافق آب و ہوا اور نامساعد حالات میں بھی نشوونما پاتا ہے اور پھلتا پھولتا ہے اور کبھی عریاں نہیں ہوتا۔ یہی حال مسلمان کا ہے۔ اس کی زندگی اور شخصیت، اس کے اقوال و افعال،کوئی بھی بیکار اور بے معنی نہیں۔ وہ دوسروں کا مددگار ہوتا ہے اور ان کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوتا ہے۔ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ دُنیا کے لیے اس کا وجود رحمت کا باعث بنتا ہے، زحمت کا نہیں۔ غرض اس بلیغ مثال میں حضوؐر نے تعلیمی نصب العین، نصاب اور طریقۂ تعلیم کی بڑے اَحسن اور لطیف انداز میں وضاحت کی ہے۔

یہ اشاراتی، تشبیہاتی، استعاراتی یا تمثیلی انداز معلّم کو محض ایک آلۂ تدریس نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے ایک پُرتاثیر، شیریں اور دل کش اندازِ گفتگو کا حامل معلّم بنا دیتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ لطیف اور دلنشیں اسلوبِ تدریس اختیار کرنے کی ذمہ داری صرف ادیبات یا زبان کے استاد پر ہی عائد نہیں ہوتی بلکہ کسی بھی معلّم کے لیے بنیادی وصف قرار پاتی ہے۔ گویا یہ ہرفرد کی بنیادی مہارت ہونی چاہیے جسے وہ تدریسی عمل کے دوران خوش اسلوبی سے استعمال کرتا رہے۔ سماعت پر گراں گزرنے والا لہجہ، ناہموار الفاظ کا کھردراپن، زیربحث نصاب کا بے رنگ، سپاٹ اور خشک معروضی جائزہ اور طلبہ میں بیزارکن اُکتاہٹ پیدا کرنے والا میکانکی انداز استاد کی شخصیت کے لیے بھی ضررر ساں ہے اور تعلیمی مقاصد کے لیے بھی۔

المختصر! آج کے معلّم کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ تعلیمی کے دیگر پہلوئوں کے علاوہ آپؐ کا شگفتہ ادبی انداز، تمثیلی اور استعاراتی اسلو ب اور انسانی نفسیات سے ہم آہنگ لطیف لہجہ، جو آپؐ کی حکمتِ تدریس کا ایک منور گوشہ ہے، یقینا مشعل راہ ہے۔

 _______________

موجودہ زمانے میں شیطان لوگوں سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ پتھر کے بتوں کی پوجا کریں، جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا تھا، بلکہ ہر دور کے لیے وہ نئے بُت تراشتا ہے۔ کبھی وہ بت ایک خیال ہوتا ہے، کبھی خواہش، کبھی شہرت، کبھی دولت، کبھی اقتدار، کبھی تصویر، اور کبھی ایک کھیل۔ ہر وہ چیز جو اپنی حد سے بڑھ کر انسان کے دل پر اس طرح قابض ہو جائے کہ اسے اس کی اصل ذمہ داری سے غافل کر دے، وہ اسی حد تک ’بت‘ بن جاتی ہے جس حد تک اس نے اس دل پر قبضہ جما لیا ہو۔

حالیہ دنوں میں ہم نے جس چیز کو دیکھا اسے ’شیطان کا انڈا‘ کہا جا سکتا ہے۔ وہ چمڑے کی ایک گیند تھی، جسے شیطان نے ابتدا میں ایک معمولی چیز کے طور پر اچھالا۔ پھر اس کے پیروکاروں نے اسے اٹھا لیا اور اپنی عصبیت، خواہشات اور جذبات کی ہوا اس میں بھر دی، یہاں تک کہ وہ پھولتی پھولتی ایک ’عالمی بت‘ بن گئی، جس کی جدید ’دور کی محرابوں‘ میں ’عبادت‘ کی جا رہی ہے۔

عالمی میڈیا کا یہ سیلاب، جو ایک بے جان چمڑے میں ایسی جان ڈال دیتا ہے کہ کروڑوں انسانوں کے ذہن اس کے اسیر بن جاتے ہیں، دراصل اس نبویؐ تنبیہ کی زندہ تصویر ہے: ’’آدمی ایک جھوٹ بولتا ہے اور وہ آفاق تک پہنچ جاتا ہے‘‘۔ آخر اس سے بڑا جھوٹ کیا ہوسکتا ہے کہ ایک ایسی امت، جسے زمین میں خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، یہ گمان کرنے لگے کہ اس کی عظمت مصلحین کے افکار سے نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے قدموں سے وجود میں آتی ہے۔

  • فٹ بال: تفریح سے تعصب تک: یہ کھیل تو محض ایک تفریح کے طور پر وجود میں آیا تھا، تاکہ انسان اپنے فراغت کے اوقات میں جسم و ذہن کی تھکن دور کر سکے۔ لیکن جب شیطانی فریب عوام کی غفلت کے ساتھ مل جاتا ہے تو کھیل ’عبادت‘ بن جاتا ہے اور تفریح زندگی کا مقصد۔

یوں اس فٹ بال کے بت کے لیے عالمی ادارے قائم ہوئے، اس کے محافظ اور خادم پیدا ہوئے، جو اس کے نظریات کی حفاظت کرتے ہیں، اس کے قوانین مرتب کرتے ہیں اور اس کی رسومات کو ایک ’عالمی متبادل دین‘ کی صورت دیتے ہیں۔ پھر دنیا ایک بڑی عالمی منڈی میں بدل گئی، کلب اور اکیڈمیاں قائم ہوئیں، اور معاملہ کھیل کے میدان کی تفریح سے نکل کر تعصب، دشمنی اور کش مکش تک جا پہنچا۔ یہاں تک کہ محبت اور نفرت، وفاداری اور بے زاری کا معیار بھی۔ پھر جرسیوں کے رنگ اور کلبوں کے نشانات بن گئے۔ یہ عقل کی وہ بے وقعتی ہے جب انسان وجود کی اصل حقیقتوں سے غافل ہو کر اپنی عزت ہوا سے بھری ہوئی ایک گیند میں تلاش کرنے لگتا ہے۔

یہ معاملہ صرف کھیل تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز اور افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کھیل نے امت کے عظیم تصورات اور باوقار اصطلاحات تک کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ ’مدافعت‘ کا وہ تصور، جو اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا نام تھا، جس کے ذریعے فساد کو روکا جاتا ہے اور حق کو قائم کیا جاتا ہے، اب صرف گول کی ’حفاظت‘ تک محدود ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح ’فتح‘ اور ’نصرت‘ کا وہ مفہوم، جو اللہ کے دین کی سربلندی، مظلوم کی مدد اور تہذیب کی تعمیر سے وابستہ تھا، اب صرف گول کرنے اور مخالف ٹیم کے جال میں گیند پہنچانے تک سمٹ گیا ہے۔

افسوس ہے اس امت پر جسے کھیل کے میدانوں کے فریب نے ایک جھوٹی عزت کا احساس دے دیا، جب کہ اس کے مقدسات، اس کی اقدار اور اس کے حقیقی مسائل مسلسل حقیقی شکستوں کا شکار ہیں۔

اُمتِ مسلمہ، جو آخری آسمانی پیغام کی حامل اور نبوت کی وارث ہے، آج اس بات کی شدید محتاج ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اپنا محاسبہ کرے اور اپنے شعور کو جھنجھوڑے۔ آج ہم ایسے عجیب مناظر دیکھتے ہیں کہ غیرت مند انسان کا سر شرم سے جھک جاتی ہے۔ علما کسی ٹیم کی کامیابی کے لیے ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر دعائیں کرتے ہیں، کھلاڑی مخالف ٹیم کے خلاف گول ہونے پر سجدۂ شکر ادا کرتے ہیں، اور شائقین اپنی توانائیاں، اپنا وقت اور اپنا مال اس کھیل پر نچھاور کرتے ہیں، جب کہ امت کے بڑے مسائل فراموشی کے سرد خانے کی نذر ہو چکے ہیں۔ حق کی دعوت کے لیے جذبہ کمزور پڑ گیا ہے اور دین و ملت کے لیے غیرت ماند پڑتی جا رہی ہے۔

ہرگز کھیل میں خرابی نہیں ہے، اگر وہ جسمانی تربیت اور جائز تفریح کے لیے ہو۔ اصل خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ترجیحات بگڑ جائیں، بلند مقاصد چھوڑ کر معمولی چیزوں کو زندگی کا مرکز و محور بنا لیا جائے، یہاں تک کہ فٹ بال کی ایک شکست لوگوں کے دلوں پر اصولوں، اقدار اور ضمیر کی شکست سے زیادہ گراں گزرنے لگے۔

شیطان کے ایسے انڈوں سے اس وقت ہی خبردار ہو جانا چاہیے، جب وہ ابھی پھوٹے نہ ہوں، کیونکہ ابتدا میں وہ صرف ایک کھیل یا معمولی سی دلچسپی کی صورت میں سامنے آتے ہیں، پھر ایک عقیدہ، ایک شناخت، اور آخرکار ایک ایسے وسیع قید خانے میں بدل جاتے ہیں جس میں قید شخص کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ قید ہے۔ اس کے بعد شیطان کو لوگوں کو زنجیروں سے باندھنے کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ وہ اپنی زنجیریں خود اپنے دلوں میں اٹھائے پھرتے ہیں۔ انھیں اپنی زینت سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہی ان کی غلامی کی بیڑیاں ہوتی ہیں۔

  • جدید دور کے دوسرے ’شیطانی انڈے‘:یہ بے مقصد نظام ہمارے عصرِحاضر میں شیطان کا پہلا انڈا نہیں ہے۔ ہماری تاریخ میں کتنے ہی ایسے خوش نما نظریات آئے، جنھیں لوگوں نے ابتدا میں بہت عظیم سمجھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کا بھیانک چہرہ سامنے آ گیا، کیونکہ انھوں نے عقائد کو بگاڑا، معاشرتی تعلقات کو خراب کیا اور انسانی فطرت کو مجروح کیا۔

انسانیت ایک طویل عرصے تک اشتراکیت (کمیونزم) کے سائے میں رہی، یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے اسے شریعت کا لباس پہنانے کی بھی کوشش کی۔ اس کے بعد ’سرمایہ داری‘ اور ’سوشلزم‘ کے نظریات آئے، اور پھر ہم اس بڑے انڈے تک پہنچے، جسے ’مغربی جمہوریت‘ اور ’انسانی حقوق‘ کے نام سے اپنی مخصوص تعبیرات کے ساتھ پیش کیا گیا۔

یہ ایسے نعرے ہیں جنھیں اپنی بڑائی کے خواہش مند عالمی نظام نے اس لیے تراشا کہ وہ نئے دور کے ’بت‘ بن جائیں۔ جب بھی ظالم حکومتوں کو اپنے اقتدار کو مضبوط کرنا ہوتا ہے، وہ انھی نعروں کو استعمال کرتی ہیں۔ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ قوموں کی آزادی سلب کی جارہی ہے، بچوں کو قتل اور بھوکا رکھا جا رہا ہے، عورتیں بے آبرو کی جا رہی ہیں، اور یہ سب کچھ پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ان خوب صورت نعروں کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ طاقت ور اپنے ظلم کو جائز ثابت کرنے، اپنی خواہشات نافذ کرنے اور انسانی فطرت کو بگاڑنے کے لیے انھیں بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔

  • اسلامی خودمختاری:اس ناپسندیدہ فکری غلامی اور اندھی تقلید کا مؤثر علاج یہ نہیں کہ ہم انھی فاسد نظاموں میں مزید شامل ہوتے جائیں یا ان کے سامنے سر جھکاتے جائیں، بلکہ اس کا علاج یہ ہے کہ امت اپنے رب کی شریعت کی طرف سچے دل سے واپس لوٹے، اپنی کھوئی ہوئی شناخت دوبارہ حاصل کرے اور اللہ کے رنگ میں رنگ جائے، جو کبھی ماند نہیں پڑتا۔

حقیقی کامیابی کسی کپ یا ٹرافی کے حصول میں نہیں، اور نہ اصل فتح کسی فٹ بال اسٹیج پر کھڑے ہو کر انعام وصول کرنے میں ہے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ امت اپنا وہ کردار ادا کرے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے زمین پر خلیفہ بنایا ہے۔ اسلام کی اقدار کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرے، اور پوری انسانیت تک اللہ کا پیغام پہنچائے۔

یہ ایک پُرخلوص پکار دل کی گہرائیوں سے ہر صاحبِ ایمان، ہر صاحبِ عقل اور ہر بلند ہمت انسان کے لیے نکل رہی ہے: اپنے دین کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ ہو جاؤ، اپنی اسلامی شناخت پر فخر کرو، اور آؤ انسانیت کے سامنے ایسا تہذیبی نمونہ پیش کرو جو اسے مادہ پرستی، بے مقصدیت اور فکری انتشار کی تاریکیوں سے نکال کر اس عزت و تکریم کی طرف واپس لے آئے جس امت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے‘‘۔ (اٰلِ عمرٰن۳:۱۱۰)

اس امت کے شایانِ شان ہرگز نہیں کہ وہ اپنی عزّت و عظمت کو صرف چند گول کرنے یا کسی کھیل کے مقابلے میں کامیابی تک محدود کر لے۔ اس کی حقیقی عظمت تو انسانوں کو ہدایت پر لانے، عدل قائم کرنے، خیر کو فروغ دینے اور زندگی کو سنوارنے میں ہے!

 _______________

علم کی سرحدیں غیر محدود ہیں۔انسان علمی میدان میں جتنی ترقی کرتا ہے اتنا ہی اسے اپنی کم علمی کا احساس گہرا ہوتا جاتا ہے۔ہم جس دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں، اسے عموماً فنی اور معلوماتی انقلاب سے منسوب کیا جاتا ہے۔آج دنیا ایک گاؤں ہی نہیں کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی میں محدود نظر آتی ہے۔ آپ کی گھڑی نہ صرف وقت، موسم،مصروفیات سے آگاہ رکھتی ہے، بلکہ  اس میں آپ کی بیرونی فون کالیں، تحریری نوٹ ، دل کی دھڑکن ، نبض کی رفتار ، حتیٰ کہ آج آپ کتنے قدم چلے ہیں، غرض وہ سارے کام جو مختلف جدید ترین آلات فراہم کرسکتے ہیں،آپ اپنی کلائی پر بندھی گھڑی اور بعض اوقات آنکھوں پر پہنے ہوئے چشمے کے ذریعے کر سکتے ہیں ۔آج جدید چشمے بطور کیمرہ بھی کام کرتے ہیں۔ اشاروں پر کام کرنے والے مشینی روبوٹ نہ صرف صنعتی کاموں میں بلکہ شہروں میں صفائی ، ٹریفک کنٹرول،سکیورٹی چیک، نیز ایسے مقامات جہاں تک رسائی انسان کے لیے مشکل ہو وہاں بھی مصنوعی ذہانت کے ذریعے بہ آسانی پہنچ جاتے ہیں۔

 اس کے ساتھ ساتھ خود شعبۂ تعلیم میں بھی اس کا عمل دخل بہت بڑھ گیا ہے۔ آپ کی خواہش پر کہ آپ کس قسم کا مقالہ، کتنے اور کیسے حوالوں کے ساتھ کس علمی سطح کے لیے لکھوانا چاہتے ہیں،آپ حکم کریں اور طلسماتی مصنوعی ذہانت چند لمحات میں وہ مقالہ حاضر کر دے گی۔ گویا علمی اور تدریسی دنیا میں اس کے ذریعے ایک انقلاب برپا ہو رہا ہے ۔طب اور نفسیات کے حوالے سے علامات کے بتانے پر ایک مصنوعی ذہانت والا ڈاکٹر تقریباً وہی علاج تجویز کر رہا ہے، جو ایک انسانی ذہن والا ڈاکٹر تجویز کرتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اب ’مصنوعی ذہانت‘(AI ) سے مزین غیر انسانی معلم اور ماہر نفسیات انسانوں کے نفسیاتی مسائل میں بھی رہنمائی فراہم کر سکیں گے۔ 

’مصنوعی ذہانت‘ کی مثال ایسی ہی ہے کہ اچانک آپ کے کمرے میں ایک ہاتھی آگھسے۔ جسے آپ نکال بھی نہیں سکتے اور گوارا کرنا بھی آسان نہیں ہے کہ اس کی موجودگی سے اصل انسان جو اس دنیا میں اللہ کا خلیفہ ہے اس کی جگہ تنگ پڑتی جا رہی ہے۔ بہرحال چونکہ یہ ہاتھی گھس ہی آیا ہے، تو اب اس کی موجودگی سے مناسب فائدہ حاصل کرنے میں ہی بہتری ہے۔ اس حوالے سے امریکی ابلاغ عامہ میں گذشتہ چھ ماہ میں اس فتنے کے حق میں اور خلاف ،تجربات اور عملی مسائل کے جائزے کی روشنی میں ماہرین کی جو رائے سامنے آئی ہے، وہ کوئی زیادہ خوش کن نہیں ہے۔

۱۵ مئی ۲۰۲۶ء کو، گوگل کے سابق سربراہ (CEO) ایرک نے ایریزونا یونی ورسٹی میں جو پہلی یونی ورسٹی تھی جس میں ’مصنوعی ذہانت‘ کا نفاذ کیا گیا ، تقریبِ تقسیمِ اسنادکے خطاب میں یہ الفاظ  استعمال کیے: ’’مصنوعی ذہانت ہر چیز پر اثر انداز ہونے جا رہی ہے… آپ جس راستے کا بھی انتخاب کریں، مصنوعی ذہانت آپ کے کام کرنے کے انداز کا لازمی حصہ بن جائے گی‘‘۔ اس فقرے پر طلبہ و طالبات نے نعرے بازی کی ،ان کا مذاق اڑایا اور ان کے خیالات سے اختلاف کا اظہار کیا۔ 

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کیلے فورنیا کی سڑکوں پر والدین نے مظاہرہ کیا اور نعرے لگائے: ’’ہمیں ٹیبلٹس اور موبائل فونز کے بجائے کاپیاں اور پنسلیں واپس چاہئیں‘‘۔ اسی طرح ایریزونا اور نیویارک میں بھی ہوا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق جن اداروں نے اس میں پیسہ صرف کیا ہے، اب وہ رائے عامہ کو متاثر کرنے پر بھاری رقم صرف کررہے ہیں ۔ اس کے باوجود اے آئی کے خلاف نہ صرف مظاہرے بلکہ تشدد کا استعمال بھی ہوا ۔ اخبار کے مطابق اوپن اے آئی کے سربراہ سام(Sam) کے گھر پر پٹرول بم بھی پھینکا گیا۔(۲۱مئی ۲۰۲۶ء)

اے آئی کے مضر اثرات کے حوالہ سے نیویارک ٹائمز کے مقالہ نگار تھیوبیکر نے جو خود اسٹن فرڈ یونی ورسٹی کا سند یافتہ ہے، اپنے مضمون What AI did to My College? (مصنوعی ذہانت نے میرے کالج میں کیا کیا؟) میں کہا ہے: ’’جدید ترین تحقیق اب وہی کچھ بتانے لگی ہے جو اکثر لوگ پہلے ہی واضح طور پر محسوس کر رہے ہیں۔ذہنی اور فکری کاموں کے لیے ’مصنوعی ذہانت‘ انسان کی اپنی فکری صلاحیت اور ذہنی صبر و برداشت کی قوت کو کم کر سکتی ہے‘‘۔(۲۰مئی ۲۰۲۶ء، ص۱۰)

  • نسل انسانی کو خطرہ :کیلے فورنیا کی اسٹن فرڈ یونی ورسٹی میں مائیکروبیالوجی کے سربراہ اور بائیو سکیورٹی کے ممتاز ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ کا کہنا ہے:’مصنوعی ذہانت‘ کی مدد سے تیار کردہ کیمیکل ہتھیار، انتھراکس سے بھی زیادہ مہلک اور خطرناک ہونے کے سبب انسانی جان کی تباہی اور ہلاکت کے لیے غیر معمولی طور پر نقصان کو بڑھا سکتے ہیں، اور ان میں یہ صلاحیت ہو گی کہ اپنے وجود کو نگرانی سے بچا کر جہاں چاہیں حملہ آور ہو سکیں اور سیکورٹی نظام اسے نہیں روک سکے گا۔( ۲۰مئی ۲۰۲۶ء، ص ۷)
  • طلبہ کی کارکردگی میں کمی :تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کو جب سے موبائل اور لیپ ٹاپ اور نوٹ پیڈ کے ذریعے تعلیم دی جا رہی ہے، اب اس کے نتائج بھی سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز  کے مقالہ نگار ڈیوڈ والک کے مطابق طلبہ کی کارکردگی میں غیر معمولی طور پر کمی واقع ہوئی ہے، اس لیے ہر طالب علم کو کمپیوٹر دینے کا فیصلے پر نظر ثانی لازمی ہے۔
  • اے آئی کے استعمال پر لاگت:’مصنوعی ذہانت ‘ کے استعمال سے کسی مسئلہ پر حل نکالنے کے لیے جو قوت درکار ہوگی، اس پر تحقیقی رائے دیتے ہوئے ڈیوڈ والک نے اپنے مقالے میں یہ بات کہی ہے کہ اس عمل میں بجلی اور پانی کا بے تحاشا استعمال کرنا ہوگا۔ حتیٰ کہ کسی اہم مسئلہ کے حل میں بحر ہند کا سارا پانی بھی استعمال میں آسکتا ہے۔(نیویارک ٹائمز ، ۲۳مئی ۲۰۲۶ء، ص۱۱)
  •  اے آئی کا طبّی استعمال:’مصنوعی ذہانت‘ کے میڈیکل استعمال پر بھی گفتگو ہو رہی ہے۔ ایک میڈیکل ڈاکٹر ، ڈینیل اوفری نے اپنے مقالے میں جائزہ لے کر یہ بتایا ہے کہ فراہم کردہ معلومات اور فرد کی جانب سے اے آئی کو فراہم کردہ ڈیٹا کی روشنی میں جو نسخہ تجویز ہوگا ،وہ ممکن ہے مریض کے لیے دواتو تجویز کر دے، لیکن وہ مریض کی نفسیات، ذاتی مسائل اور معاشرتی نقصانات سے لاعلمی کی بناپر ڈاکٹر کی طرح مریض کی تشفی اور اس کے اصل مسئلہ کا کوئی علاج نہیں کر سکے گا (نیویارک ٹائمز ، ۱۳مئی ۲۰۲۶ء، ص ۱۵)۔یہ رائے خود وہ ڈاکٹردے رہا ہے، جو اے آئی کا استعمال کر رہا ہے۔
  • مصنوعی ذہانت: تشویش ناک پہلو:اس تناظر میں دیکھا جائے تو ’مصنوعی ذہانت‘ کا کھلا استعمال انسانیت کے لیے ایک تباہ کن صورتِ حال پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن ایٹمی طاقت کی مثال سامنے رکھتے ہوئے اس کا اخلاقی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے استعمال ایسے کاموں میں مفید بھی ہو سکتا ہے جن میں انسان کا کام کرنا اس کے لیے خطرہ کا باعث ہو ۔ غلامانہ ذہنیت کے ساتھ ہر اس چیز کو جو مغرب اپنے ہاں کر رہا ہے، مسلم ممالک خصوصاًپاکستان پر مسلط کر دینا غیر دانش مندی کی علامت ہے۔ خود دفاعی اور جارحانہ اسلحہ میں اس کا استعمال ایک واضح قانونی ضابطہ کے بغیر کیا گیا، تو یہ بہ آسانی دنیا کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے ۔اس کے مضر اور خفیہ پہلوؤں پر علمی محاکمہ کی فوری ضرورت ہے۔ 

نفسیات کے زاویہ سے نارتھ ویسٹرن یونی ورسٹی امریکا کے ماہر نفسیات پروفیسر ڈیوڈ ڈ اسٹینو نے نیویارک ٹائمز میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے: اس سے تیار کردہ ایک ایجاد یہ صلاحیت بھی رکھے گی کہ وہ اپنے دفاع میں اپنے مالک کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرڈالے جو سخت تباہ کن ہوں۔ اس کے استعمال میں دھوکا دہی، دھونس، دھمکی، ہر وہ کام جو اخلاق کے منافی ہو، انسانیت کے مفاد کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔(۲۲؍اپریل ۲۰۲۶ء،ص۱۰)

ابتدائی مرحلے ہی میں ماہرین کی طرف سے خطرات و تباہیوں کا تجربات کی بنیاد پر جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے،ان کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آگے آگے کیا کچھ ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی ہدایت پر تمام یونی ورسٹیوں میں ’مصنوعی ذہانت‘ پر ایک کورس جس کا دورانیہ تین کریڈٹ گھنٹے ہے ،اس کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ اے آئی کے بعض مفید استعمالات کے پورے احساس کے ساتھ اس پر جذباتی طور پر تبصرہ کرنے کے بجائے جدید تحقیق اور تجربات کی بنیاد پر اس کے استعمال کے حوالے سے نہ صرف اخلاقی ضوابط اور قوانین کی تشکیل بلکہ ان پر شدت سے عمل کروانے میں قوتِ نافذہ کا استعمال کرنا انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔

اس کے تباہ کن معاشرتی نتائج کی ایک مثال اس کا ابلاغ عامہ میں استعمال ہے۔ ایک نوعمر بچہ بھی جو اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی کے استعمال سے واقف ہے کسی معروف مذہبی رہنما کے چہرے کو کسی ایسے جسم اور لباس کے ساتھ چسپاں کر کے پیش کر سکتا ہے، جو اس کی دینی ساکھ اور شرافت اور نیک نامی کو ایک لمحہ میں خاک میں ملا دے ۔ پاکستان میں اس کا استعمال ابھی نیا ہے ، لیکن بہت کم عرصے میں اس کے غیر اخلاقی استعمال کی مثالیں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں ۔اس کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی استعمال پر قانون سازی کی فوری ضرورت ہے۔ معاشرہ میں تباہی پھیلانے کے بعد اگر قانون بنایا بھی گیا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

 _______________

پاکستان میں سود کا خاتمہ یکم جولائی ۱۹۴۸ء سے ہمیشہ اوّلین ترجیح رہا ہے۔ پچھلے ۴۰برس سے ملک میں اسلامی بینک بھی کام کر رہے ہیں مگر اس سلسلے میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ پچھلے ۳۰ برس سے عدالت ِ عالیہ بھی اس مقصد ِعظیم کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ سود کی تعریف (Definition)کے بارے میں علمی حلقوں میں پایا جانے والا اختلاف رہا ہے کیونکہ اہل علم کی ایک تعداد دورِحاضر کے سود (سودی بینکاری) کی ممانعت کی قائل نہیں ہے۔ یہ صورتِ حال اس وجہ سے ہے کہ آئین پاکستان میں سود کے جلد از جلد خاتمے کا ذکر  تو موجود ہے مگر سود کی تعریف کے بارے میں کوئی قانون آئین کا حصہ نہیں ہے جس کی روشنی میں عدالت سود کے بارے میں دائر کی گئی اپیلوں کا فیصلہ کرسکے۔

اپریل ۲۰۲۲ء کے فیصلے میں وفاقی شریعت عدالت نے سود کی ہر شکل کو حرام قرار دے کر سود کے بارے میں قانون سازی کی راہ ہموار کر دی ہے۔ ۲۰۲۴ء میں ۲۶ویں ترمیم کے موقع پر پوری قوم سے یہ وعدہ کیا گیا کہ یکم جنوری ۲۰۲۸ء سے پہلے پاکستان سے سود کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ ساتھ حکومت ِپاکستان نے بھی یہ ذمہ داری اُٹھا لی ہے۔  جون ۲۰۲۶ء میں حکومت کی طرف سے جاری کردہ دستاویز میں سود کے خاتمے کی حکمت عملی بھی بیان کی گئی ہے۔ یہ سب باتیں بہت خوش آئند ہیں۔ زیرِنظر مضمون میں اس سلسلے میں چند حقائق اور گزارشات پیش کی جائیں گی جو اس کارِعظیم کے حصول میں یقینا ممدومعاون ثابت ہوں گی۔

سود کے خاتمے کے پانچ وعدے

سود کے خاتمے کا آغاز یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو ہوا جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بانی پاکستان سے اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا۔ بانی پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا تھا کہ پاکستان کا معاشی نظام اسلامی مساوات اور عدل کے اصولوں پر قائم ہوگا۔ قائداعظم ؒکے اس فرمان کا ۱۹۷۳ء کے آئین میں اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے سارے معاشی اور غیرمعاشی قانون اسلامی احکامات کے مطابق بنائے جائیں گے اور سود کو جلد از جلد ختم کیا جائے گا۔ سادہ الفاظ میں ۱۹۷۳ء کے آئین نے پہلے وعدہ کو مزید مستحکم کر دیا۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں عدالت عالیہ بھی اس کارِخیر میں شامل ہوئی اور دوبار حکم صادر کیا کہ سود پر مبنی موجودہ بینکاری نظام کو اسلامی بنیادوںپر استوار کیا جائے۔ یہ وعدہ نہیں بلکہ ایک حکم تھا جس کی تکمیل یکم جنوری ۲۰۲۸ء سے پہلے کرنا لازمی ہے۔ تقریباً ۱۰برس پہلے اسٹیٹ بینک نے سود کے بارے میں عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے سروے کروایا جس میں ۸۰ فی صد سے زائد لوگوں نے سود کے خاتمے کے حق میں رائے دی۔ یہ محض وعدہ نہیں تھا بلکہ عوام کی شدید خواہش تھی کہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے جاری جنگ سے نجات حاصل کی جائے۔ ۲۰۲۴ء میں پانچواں وعدہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے آگیا۔ یہ صرف وعدہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جس میں حکومت نے سود کے خاتمے کی تاریخ بھی دے دی۔ اس کے علاوہ علما حضرات اور تاجر برادری بھی ملک سے سود کا خاتمہ چاہتی ہے۔ سچّی بات تو یہ ہے کہ علما حضرات کی طرف سے سود کی شدید مخالفت کے باعث ہی یہ ایشو اب تک زندہ ہے۔

درج بالا صورتِ حال اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستانی قوم کا بہت بڑا حصہ (حکومت، عدالت، اسٹیٹ بینک اور عوام) ملک سے سود کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر ایک بہت بڑے اور اہم طبقے کی طرف سے ابھی تک اس سلسلے میں کسی گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ یہ ہیں ملک کے نامور پیشہ ور اکانومسٹ اور یونی ورسٹیوں میں معاشیات کے پروفیسر، جو نظامِ سرمایہ داری سے اس قدر مرعوب ہیں کہ انھوں نے کبھی بھی پاکستان کے معاشی مسائل کو اسلامی معاشی نظام (مدینہ اکنامکس) کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ تقریباً سارا ملک سود کا خاتمہ کرنے کے لیے بے تاب ہے مگر پاکستان کی ہر یونی ورسٹی میں معاشیات کی تعلیم صرف سرمایہ دارانہ نظام کے تحت دی جاتی ہے جس میں سود کا رول مرکزی ہے۔ معاشیات دانوں کی سود کے بارے میں سردمہری کے باوجود، ساری قوم شدت سے یکم جنوری ۲۰۲۸ء کا انتظار کر رہی ہے۔

اسلامی معاشی نظام اور  بینکاری

ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشی نظام نافذ کیا تو اس وقت دُنیا میں بینکاری کے ادارے وجود پذیر نہیں ہوئے تھے۔ آج بینکوں کے بغیر نظامِ معیشت نہیں چلایا جاسکتا۔ ’مدینہ اکنامکس‘ میں ایسی ہدایات موجود ہیں جن کی بنیاد پر ایک نیا نظامِ بینکاری تشکیل دیا جاسکتا ہے جو کہ نہ صرف سود سے پاک بلکہ موجودہ بینکاری سے یکسر مختلف بھی:

۱- اسلام میں شراب، جُوا،غیر یقینی صورتِ حال میں کاروبار اور سود معاشی نظام کا حصہ نہیں ہے۔ اس لیے سود پر مبنی بینکاری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

۲- درج بالا ممانعت کے علاوہ، تمام کاروبار اسلام کی نظر میں یکساں جائز ہیں۔ کسی ایک کاروبار کو دوسرے کسی کاروبار پر ترجیح یا فوقیت حاصل نہیں ہے۔

۳- اسلام میں کاروبار کا آغاز اپنے سرمایہ سے کیا جاتا ہے۔ کاروبار میں اضافہ یا بڑھوتری کے لیے دوسرے لوگوں سے سرمایہ نفع و نقصان کی بنیاد پر لیا جاسکتا ہے۔ سارے کا سارا کاروبار دوسرے لوگوں کے سرمایہ سے کرنے کی مثال اسلام میں نہیں ملتی۔ اس سلسلے میں اسلامی بینکوں کی طرف سے حضرت زبیرؓ بن عوام کی جو مثال دی جاتی ہے وہ آج کے حالات پر لاگو نہیں ہوتی کیونکہ اب ہم پیپرکرنسی کے دور میں زندہ ہیں جس میں کرنسی کی قدر گرتی بڑھتی رہتی ہے۔ اربوں روپے عوام سے کرنٹ اکائونٹ یا قرضِ حسن کے نام پر لے کر کاروبار کرنا اور انھیں کسی قسم کا منافع نہ دینا اسلامی معاشی اقدار کے منافی ہے۔

۴- زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کی حرص میں اگر کاروبار میں نقصان ہوجائے تو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ایسے کاروبار کو بچانے (Bail out) کی اسلام میں اجازت نہیں ہے، خاص طور پر ایسا کاروبار جو عوام کے پیسے سے سود کی بنیاد پر کیا جائے۔

۵- اسلام میں بے تحاشا اشتہاربازی کی اجازت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ’خلابہ‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ خلابہ اشتہاربازی کے ذریعے اشیا کی اصلی حقیقت کو چھپانے کی اجازت نہیں دیتا۔

یہاں یہ عرض کرنا بہت ضروری ہے کہ دورِحاضر میں اسلام کا نظامِ بینکاری درج بالا پانچ اصولوں کی بنیاد پر قائم کیا جائے گا جس میں سود پر مبنی موجودہ نظامِ بینکاری کی وہ طاقتیں (Strengths) نہیں ہوں گی جو آخرکار تباہی کا باعث بنتی ہیں۔

سود پر مبنی نظامِ بینکاری کی طاقتیں

بینکاری کا موجودہ ڈھانچہ (Structure) پانچ سو سال کے عرصہ میں ارتقا پذیر ہوا ہے۔ اس طویل عرصہ میں اس فریم ورک نے وہ طاقتیں حاصل کرلی ہیں جو اکانومی کے کسی دوسرے کاروبار کو حاصل نہیں۔ دوسرے ان طاقتوں میں اتحاد و اتفاق ہے، جو اس فریم ورک کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے:

۱- موجودہ مالیاتی نظام کے مطابق ، ہر ملک کا مرکزی بینک زر کا اجرا کرتا ہے، یعنی کرنسی چھاپتا ہے جسے اکنامکس کی زبان میں منی کری ایشن (Money Creation) کہتے ہیں۔ تجارتی بینک لوگوں سے حاصل کیے گئے ڈیپازٹ کا تھوڑا سا حصہ (Fraction) اپنے پاس رکھ کر باقی رقوم دوسرے لوگوں کو قرض دے دیتے ہیں۔ یہ سارا کام جزوی ریزروسسٹم کے تحت ہوتا ہے، جس میں ہر ڈیپازٹ نئے قرض کو جنم دیتا ہے اور ہر قرض ڈیپازٹ کا باعث بنتا ہے۔ معاشیات کی زبان میں اسے بینکوں کی تخلیق زر (Credit Creation) کہتے ہیں، یعنی مرکزی بینک کی طرح تجارتی بینک بھی زر کی تخلیق کرتے ہیں۔ مرکزی بینک کے جاری کردہ زر کا پورا حساب رکھا جاتا ہے مگر  تجارتی بینکوں کے تخلیق شدہ زر کا نہ کوئی ریکارڈ ہوتا ہے اور نہ اس کا حجم معلوم کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ بینکاری کی یہ سب سے بڑی طاقت ہے، جو حقیقی شعبہ کے کسی کاروبار کو حاصل نہیں۔ مالیاتی بحران کی بڑی وجہ یہ طاقت ہوتی ہے۔

۲- کاروباری حضرات کے بینکوں میں کھولے گئے کرنٹ اکائونٹ (Demand Deposit) سودی بینکاری کی دوسری بڑی طاقت ہے۔ ان رقوم پر اکائونٹ ہولڈرز کوکسی قسم کا سود یا منافع نہیں دیا جاتا کیونکہ ان رقوم کو کسی وقت بھی نکلوایا (withdrawal) جاسکتا ہے۔ یعنی ان کی مدت (Maturity) صفر ہے۔ بینکوں کا کاروبار ایسا ہے جس میں ہروقت زر کی آمد اور اخراج (Inflow and Outflow) جاری رہتا ہے۔مگر عام طور پر زر کی آمد اخراج سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اکائونٹ سودی بینکاری کی جان ہیں کیونکہ ان صفر مدت والے ڈیپازٹ سے بینک طویل عرصے کے لیے قرض دیتے اور نفع کماتے ہیں جو سارے کا سارا بینکوں کا ہی ہوتا ہے۔ پاکستان میں اسلامی بینک بھی سودی بینکوں کے شانہ بشانہ یہ کام کرتے ہیں۔ مالیاتی بحران کی یہ دوسری بڑی وجہ ہے جو حقیقی کاروبار کو حاصل نہیں ہے۔

۳-سودی کاروبار کی سہولت کے لیے روزانہ کی بنیاد پر شرحِ سود کا پیمانہ (Benchmark) جاری کیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر تجارتی بینک مختلف نوعیت کے قرض جاری کرتے ہیں۔ پاکستان میں رائج شرحِ سود کا پیمانہ کائی بور ہے، یعنی Karachi Inter-Bank Offered Rate ہے۔اسی کو بنیاد بناکر سودی بینک قرضہ جات پر شرحِ سود کا تعین کرتے ہیں۔ اسلامی بینکوں کے پاس حقیقی شعبہ کے منافع پر مبنی شرحِ منافع کا کوئی پیمانہ دستیاب نہیں ہے۔ حقیقی شعبہ میں بھی ایسا کوئی بنچ مارک دستیاب نہیں جو سود کے بجائے منافع پر مبنی ہو۔

۴- مغربی مالیاتی اداروں میں کام کرنے والے افراد کی تنخواہیں اور مراعات حقیقی شعبہ میں کام کرنے والے افراد سے بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی صورتِ حال ہے۔ سود پر کام کرنے والے بینکوں کے سربراہان کی ماہانہ تنخواہ دو کروڑ روپے سے زائد ہے۔ دوسری مراعات یعنی بونس وغیرہ بھی خاصے بھاری بھرکم ہیں۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ اسلامی بینک بھی اس سلسلے میں سودی بینکوں سے پیچھے نہیں ہیں۔

۵- ہرملک میں تجارتی بینکوں کی رہنمائی کے لیے مرکزی بینک قائم کیا جاتا ہے۔ سود پر مبنی کاروبار کی ترقی اور تحفظ دونوں اداروں کا مشترکہ نصب العین ہوتا ہے کیونکہ دونوں ادارے سود پر کام کرتے ہیں۔

درج بالا پانچ طاقتیں دراصل سودی بینکاری کا مضبوط فریم ورک ہے۔ بینکاری کو سود کے بجائے نفع و نقصان پر چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اس مضبوط اور مربوط فریم ورک کو توڑا جائے۔ ۱۹۳۳ء میں مغرب کے معاشیات دانوں نے کارِ بینکاری کو سود کے بجائے نفع و نقصان کی بنیاد پر استوار کرنے کے لیے اس مضبوط فریم ورک کو توڑنے کی سفارش کی تھی۔ پاکستان میں اسلامی بینک بھی سودی بینکاری کے فریم ورک میں کام کر رہے ہیں۔

موجودہ اسلامی بینکاری پالیسی

پاکستان میں گذشتہ ۴۰ برس سے اسلامی بینکاری کے نفاذ کی کوشش ہورہی ہے۔ اس سلسلے میں پالیسی ساز افراد اور ادارے مندرجہ ذیل مائنڈسیٹ کا شکار ہیں:

۱- ہر بنکاری نظام معاشی نظام سے نکلتا ہے جیسے سرمایہ داری معاشی نظام ہے اور سود پر مبنی کاروبار اس کا بینکاری نظام،اور دونوں زندہ اور نافذ العمل ہیں۔ ہم عجیب مغالطے کا شکار ہیں کہ پاکستان کا معاشی نظام سرمایہ داری ہوگا جس میں سود کی حیثیت مرکزی ہے، جب کہ نظامِ بینکاری اسلامی ہوگا۔ یہ ایسا خواب ہے جس کی تعبیر ممکن نہیں۔

۲- ۲۰۱۱ء میں شائع ہونے والی کتاب Barren Metal کے خالق ای مائیکل جونز نے نظامِ سرمایہ داری کو حکومتی سرپرستی میں سود کے کاروبار کے مترادف قرار دیا ہے۔ سادہ الفاظ میں  ’Capitalism is State Sponsored Usury‘ہے۔ سود کی سرپرستی میں حکومت کے ساتھ ساتھ اس ملک کا مرکزی بینک بھی شامل ہوتا ہے۔ راقم پچھلے پانچ سال سے اس بات کا پرچار کر رہا ہے کہ کامیاب اسلامی بینکاری کے لیے اسٹیٹ بینک کی مانٹیری پالیسی کو سود کے بجائے نفع و نقصان پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ باتیں ۲۰۲۰ء میں راقم کی شائع ہونے والی کتاب 7th Century Madina Economics میں تفصیل سے درج ہیں، مگر ابھی تک اسٹیٹ بنک کی مانٹیری پالیسی سود کی بنیاد پر قائم ہے اور اسٹیٹ بینک کا سود پر مبنی پالیسی ریٹ تجارتی بینکوں کا راہنما ہے۔ 

۳- آئین پاکستان میں سود کی وضاحت / تعریف کا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کے باعث عدالت کو سود کے خلاف فیصلہ میں اپیل کا حق دینا پڑتا ہے۔ سود کی واضح اور متفقہ Definition نہ ہونے کے باعث طرح طرح کی توضیحات سامنے آتی ہیں۔ عدالت نے بھی کبھی حکومت سے نہیں کہا کہ سود کی وضاحت کا قانون آئین پاکستان میں شامل کیا جائے۔

۴- سچّا تاجر اور سچّی تجارت ’مدینہ اکنامکس‘ کی پہچان ہے مگر اسلامی بینکاری کی پالیسی میں تاجر کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ قرآن نے سود کو حرام قرار دینے سے پہلے بیع کی بات کی ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں مارکیٹ قائم کرکے بیع کی تجارت کا عملی نمونہ پیش کیا جس سے ہماری موجودہ تجارت کوسوں دُور ہے اور اس کی اصلاح کا کوئی پروگرام پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔

۵- ملک میں معاشیات کی تعلیم سرمایہ داری نظام میں دی جارہی ہے۔ ملک میں کوئی مین اسٹریم  اسلامی اکانومسٹ نہیں ہے۔ اسلامی معاشی نظام کی بات کرنے والوں کو سنجیدگی سے نہیں سناجاتا۔

درج بالا حقائق اسلامی بینکاری کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ سودی بینکاری کے لق و دق صحرا میں ہم اسلامی بینکاری کا نخلستان بنانا چاہتے ہیں۔ اس ماحول میں اسلامی بینکاری ترقی تو کرسکتی ہے مگر سود کا مکمل خاتمہ اس کے بس میں نہیں ہے۔

حکومت کی جاری کردہ دستاویز

جون ۲۰۲۶ء میں حکومت پاکستان نے ایک دستاویز جاری کی ہے جس میں ۲۰۲۷ء کے بعد سود کے بغیر مالیاتی منظرنامے کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کی ہیں جن میں موجودہ قوانین میں ترامیم، شریعہ مطابقت والی مانٹیری پالیسی، مرابحہ اور اجارہ کی بنیاد پر صکوک کا اجرا اور Assest Registery Corporation کے قیام کا ذکر ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ قابلِ تحسین قدم ہے مگر اہم معاملات کی تفصیل کا ذکر موجود نہیں ہے۔ خاص طور پر شریعہ مطابقت یعنی سود کے بغیر مانٹیری پالیسی اور Assest Registery Corporationبالکل نئی چیزیں ہیں اور ضروری ہے کہ انھیں ۲۰۲۷ء سے پہلے عوام کے سامنے لایا جائے اور ملک کے نامور اکانومسٹ سے ان کی رائے لی جائے تاکہ بعد میں آنے والے اختلافات سے بچا جاسکے۔ 

ایک اور قابلِ ذکر بات سود کی تعریف کا قانون ہے جس کے بارے میں حکومتی دستاویز بالکل خاموش ہے۔ اگر سود کی تعریف کا قانون آئین کا حصہ بن جائے تو موجودہ قوانین میں ترمیم آسان ہوجائے گی۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ حکومت اس طرف بھی دھیان دے گی۔

اسلامی بینکاری کے خدوخال

اب ہم مضمون کے حاصل کی طرف جارہے ہیں۔ آج کے دور میں اسلامی بینکاری ماڈل کے درج ذیل خدوخال ہوں گے:

  ۱- یہ ماڈل مالیاتی شعبہ کے سارے اداروں سے سود کا خاتمہ کردے گا۔ اس وقت پاکستان میں سود چھ شکلوں میں موجود ہے: اوّل: تجارتی بینکوں کا سود، دوم: اسٹیٹ بینک کا سود، سوم: غیربینک مالیاتی ادارے مثلاً انشورنس اور لیزنگ وغیرہ، چہارم: مالیاتی منڈیوں کا سود، پنجم: مرکز قومی بچت کا سود اور ششم: پرائیویٹ سیکٹر میں تاجروں کا سود۔ نئے نظام میں یہ سب ختم ہوجائے گا۔

۲- موجودہ سودی بینکاری کی دو بڑی طاقتیں یعنی زر کی تخلیق اور کرنٹ اکائونٹ اب تجارتی بینکاری کا حصہ نہیں ہوں گے۔

۳- بیع کے کاروبار کا بنچ مارک یعنی شرحِ منافع کا پیمانہ تیار کیا جائے گا اور مالیاتی شعبہ کے سارے ادارے اسے استعمال کریں گے جس سے سود کے درج بالا چھ کاروبار نفع و نقصان پر کام شروع کر دیں گے۔ اس طرح اسٹیٹ بینک کی مانٹیری پالیسی بھی نفع و نقصان کی بنیاد پر کام کرے گی۔

۴- مالیاتی شعبے اور حقیقی شعبہ کی تنخواہیں اور مراعات میں توازن پیدا کرنے کے لیے پے کمیشن (Pay Commission) بنایا جائے گا اور قابلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر تنخواہوں اور مراعات کا تعین کیا جائے گا۔

۵- تجارتی بینک حکومت کو قرض نہیں دیں گے۔ حکومتی قرض کے لیے متبادل بندوبست ہوگا۔  تجارتی بینک اکانومی کے اہم شعبوں، مثلاً زراعت، انڈسٹری، چھوٹے کاروبار اور چھوٹے گھروں کے لیے قرضہ جات دیں گے۔ بے روزگاری کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کو مضاربہ کی بنیاد پر قرض دیں گے۔ اس طرح سارا مالیاتی شعبہ مل کر معیشت کی بحالی اور ترقی کے لیے کام کرے گا۔

تجارتی بینکوں کا اسلامی ماڈل

۱- تجارتی بینک پہلے کی طرح عوام سے کرنٹ اکائونٹ اور سیونگ اکائونٹ کے تحت رقوم اکٹھی کریں گے اور کرنٹ اکائونٹ سے حاصل ہونے والی رقم تین دن کے اندر اسٹیٹ بینک کے پاس جمع کروا دیں گے۔ جب کرنٹ اکائونٹ ہولڈر اپنی رقوم واپس لینے کے لیے آئیں تو ان کی رقوم اسٹیٹ بینک سے لے کر انھیں واپس کردی جائے گی۔ آج کل کی ڈیجیٹل بینکنگ کے باعث یہ کام بڑی آسانی اور تیزی سے ہوسکے گا اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مشکلات پیش نہیں آئیں گی۔ اس ایک قدم سے تجارتی بینکوں کی دو بڑی طاقتیں (زر کی تخلیق اور کرنٹ اکائونٹ سے طویل عرصہ کی فنانسنگ) ختم ہوجائیں گی۔

۲- تجارتی بینک کرنٹ اکائونٹ ہولڈر کو موجودہ سہولیات (مثلاً فری چیک بُک اور فری ڈرافٹ  وغیرہ) فراہم کرتے رہیں گے اور ان پر آنے والے اخراجات حکومت سے بذریعہ اسٹیٹ بینک وصول کرتے رہیں گے۔

۳- تمام سیونگ اکائونٹ تجارتی بینکوں کے پاس رہیں گے جن سے وہ زراعت، صنعت، سمال بزنس اور ہائوسنگ وغیرہ کے لیے نفع و نقصان کی بنیاد پر رقوم کی فراہمی کریں گے۔ زراعت کے لیے رقوم کی فراہمی کا اصل اسلامی طریقہ بیع سلَم ہے جس پر اسلامی بینک بھی زیادہ کام نہیں کرتے۔ بیع سلَم کے قابلِ عمل ماڈل کی تیاری تک سارے بینک (کیونکہ نئے ماڈل میں اسلامی اور سودی بینکاری کا امتیاز ختم ہوجائے گا) زراعت، سمال بزنس اور مائیکرو فنانس کو مرابحہ کے تحت قرض دیں گے۔ صنعتی قرضہ جات رننگ مشارکہ کے تحت دیئے جائیں گے۔ ہائوسنگ فنانس اور کارلیزنگ Diminishing Musharikah اور اجارہ کے مطابق کی جائیںگی۔ اس طرح ساری تجارتی بینکنگ سود سے پاک ہوجائے گی۔

۴- اس وقت زراعت، سمال بزنس اور مائیکروفنانس کے قرضہ جات پر شرحِ سود سب سے زیادہ ہے، یعنی ۱۹ سے ۲۰ فی صد تک ہے۔ مُرابحہ فنانسنگ کے تحت ان سیکٹرز کو مروجہ سود کے مقابلے میں کم شرحِ منافع یعنی ۱۳/۱۴ فی صد پر رقوم دی جا سکیں گی۔

۵- ملک سے بے روزگاری ختم کرنے کے لیے مضاربہ کے تحت بے روزگار افراد کو رقوم فراہم کی جائیں گی جس سے نہ صرف تجارت کا حجم بڑھے گا بلکہ بے روزگاری میں بھی کمی آئے گی۔

پانچ ستونوں پر استوار اسلامی بینکاری کا یہ ماڈل شریعہ مطابقت (Shariah Compliant) والا نہیں ہوگا بلکہ شریعت کے عین مطابق ہوگا کیونکہ یہ کسی حیلہ کے بغیر معاشی مسائل حل کرنے میں مددگار ہوگا۔ اگست، ستمبر ۲۰۲۶ء میں اس ماڈل پر غوروفکر کے بعد یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء سے اس کا نفاذ کیا جاسکتا ہے۔ سود کا خاتمہ پہلے تجارتی بینکوں سے ہوگا۔ اسے تجرباتی طور پر چھ ماہ کے لیے نافذ کیا جائے گا، یعنی مارچ ۲۰۲۷ء تک۔ اسی اثناء میں اسٹیٹ بینک کا اسلامی ماڈل بھی تیار ہوجائے گا۔

اسٹیٹ بینک کا اسلامی ماڈل

۱- جس طرح تجارتی بینک صفر مدت والے کرنٹ اکائونٹ سے طویل عرصے کے لیے فنانسنگ کرتے ہیں، نئے نظام میں اسٹیٹ بینک ان رقوم سے (کرنٹ اکائونٹ) حکومت کو چھ ماہ والے ٹریثری بل کے تحت قرض دے گا۔ طویل مدت والے پاکستانی انوسٹمنٹ بونڈ (PIB) کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ قرض کی نیلامی (Auction) کا موجودہ طریقۂ کار بھی ختم ہوجائے گا،چونکہ کرنٹ اکاونٹ والے لوگوں کو کسی قسم کا سود یا منافع نہیں دیا جاتا، اس لیے حکومت کو قرضہ معمولی سروس چارجز کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ یہ سروس چارجز اسٹیٹ بینک کے منافع کا حصہ بن جائیں گے۔نئے نظام میں تجارتی بینکوں پر SLR  (Statutory Liquidity Ratio) کی شرط ختم ہوجائے گی جس کے تحت تجارتی بینک تمام ڈیپازٹ کا تقریباً ۱۵ فی صد کیش (Cash) اور انوسٹمنٹ کی شکل میں اسٹیٹ بینک کے پاس رکھوانے کے پابند ہوتے ہیں۔

۲- ہر بینکاری نظام میں شرحِ سود کا پیمانہ موجود ہوتا ہے۔ پاکستان میں ’کائی بور ‘ ہے۔ انڈیا میں یہ ’مائی بور ‘(Mumbai Inter-Bank Offered Rate)ہے۔ چونکہ سود کا متبادل بیع یا کاروبار ہے۔ اس سلسلے میں حقیقی شعبہ کے نفع کی بنیاد پر شرحِ منافع کا پیمانہ تیار کیا جائے گا۔ یہ کام اعلیٰ کارکردگی والے تین اسلامک فنانس کے سنٹرز (LUMS, IBA, IMS) کریں گے۔ یہ تینوں ادارے لاہور، کراچی اور پشاور میں کام کر رہے ہیں۔ ہرسال کروڑوں روپے تجارتی بینک اور کارپوریٹ سیکٹر کی طرف سے ان اداروں کو دیئے جاتے ہیں۔ بیع سلَم کا قابلِ عمل ماڈل بھی ان کی ذمہ داری پر بنایا جاسکتا ہے۔اگر یہ کام ان تین اداروں کو اگست/ستمبر ۲۰۲۶ء میں سونپ دیا جائے تو مارچ ۲۰۲۷ء میں شرحِ منافع کا پیمانہ تیار ہوسکتا ہے۔ اسے ’آئی بور‘ (Islamic Bank Offered Rate) کا نام دیا جاسکتا ہے۔

۳- منافع کا شرح پیمانہ دستیاب ہونے سے اسٹیٹ بینک کی ساری کارکردگی سود کے بجائے منافع سے بدل جائے گی۔ اب یہی اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ ہوگا۔ اسے ہرسال یا چھ ماہ کے بعد حقیقی شعبہ کے کاروبار (نفع) کے مطابق تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اسٹیٹ بینک کی مانٹیری پالیسی بھی سود کے بجائے نفع پر مبنی ہوجائے گی۔ تجارتی بینک حقیقی شعبہ کو موجودہ ’کائی بور‘ کے بجائے ’آئی بور‘ کے تحت قرض دیں گے۔ اسی شرحِ منافع پر تجارتی بینک اسٹیٹ بینک سے اُدھار لیں گے۔ اسٹیٹ بینک کے اوپن مارکیٹ آپریشن (OMO)اور ریپو (Repo) ریٹ بھی اب منافع کی شرح پر ہوں گے۔

۴- ’آئی بور‘ کی دستیابی سے غیربینک مالیاتی اداروں (انشورنس ، لیزنگ وغیرہ ) سے بھی سود کا خاتمہ ہوجائے گا۔مالیاتی منڈیاں (کال مارکیٹ و منی مارکیٹ) بھی سود سے پاک ہوجائیں گی۔ قومی مرکز بچت کے ادارے اور تجارتی شعبے کا سود بھی ختم ہوجائے گا۔ سارا بینکنگ سیکٹر اور  حقیقی شعبہ بیع کے کاروبار کے تحت ہوجائے گا جس سے اکانومی میں بحالی اور ترقی آئے گی کیونکہ ساتویں صدی میں قرآن مجید نے سود میں ہلاکت اور بیع میں فلاح کی نوید سنائی تھی۔ 

۵- درج بالا اقدام کارِ بینکاری میں انقلاب لے آئیں گے جس کے لیے حکومت اور اسٹیٹ بینک کو بہت کام کرنا ہوگا۔ حکومت کو ایک طرف تو سود کی وضاحت والے قانون کی تیاری کرنا ہوگی۔ دوسری طرف مرکز قومی بچت کو صرف سینئر سٹیزن اور پنشن والے لوگوں تک محدود کرنا ہوگا اور ان کو زیادہ منافع دینا ہوگا کیونکہ یہ معاشرے کے عمر رسیدہ اور بزرگ لوگ ہیں۔ سیونگ اور ڈیفنس سرٹیفکیٹ وغیرہ ختم کرنے ہوں گے تاکہ یہ رقوم بینکوں کے پاس پہنچ جائیں۔ تجارتی بینک جو اکتوبر ۲۰۲۶ء سے سود کے بغیر کام کر رہے ہوں گے، ان کی کارکردگی ۲۰۲۷ء میں مزید مستحکم ہوجائے گی۔ اسٹیٹ بینک بھی مارچ ۲۰۲۷ء سے نفع کی بنیاد پر کام شروع کردے گا۔ اُمید کی جاتی ہے کہ ستمبر ۲۰۲۷ء تک سود کے خاتمے کا قانون قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس ہوکر آئین کا حصہ بن جائے گا۔ دسمبر ۲۰۲۷ء تک درج بالا سارا نظام قائم ہوجائے گا۔ پاکستان میں موجود سود کی چھ شکلوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ساری قوم ۷۸برس سے اللہ اور اس کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جاری جنگ سے نجات حاصل کرلے گی اور سماوی فیوض و برکات اس کا مقدر ہوگا،ان شاء اللہ!

خلاصہ: یہاں یہ بیان کرنا انتہائی ضروری ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی کی ریاست ِ مدینہ میں ایک بڑے خیمہ کے نیچے مارکیٹ قائم کی تھی جس میں آپؐ نے خود مکمل معاشی نظام نافذ کیا۔ خیمہ والی مارکیٹ نے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد یہودیوں کی پہلے سے قائم شدہ چارمارکیٹوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا کیونکہ صارفین اور تاجر پرانی مارکیٹوں سے نکل کر خیمہ والی مارکیٹ میں آگئے تھے۔ خیمہ والی مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہوکر یہودی سردار کعب بن اشرف نے اس خیمہ کی رسیاں کاٹ دیں جس کے نیچے مارکیٹ قائم تھی۔ اس پر آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو نئی مارکیٹ کے لیے ایسا بڑا میدان منتخب کرنے کا کہا جو یہودیوں کی مارکیٹ سے دُور ہو اور مسجد نبویؐ سے نزدیک۔

پاکستان میں سود کے خاتمے کے لیے ہمیں ایسا بینکاری نظام چاہیے جو موجودہ سودی بینکاری سے دُور اور مختلف ہو اور اسلامی معاشی اقدار پر مبنی ہو۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اس مضمون میں  دیا گیا متبادل نظامِ بینکاری انھی دو خصوصیات کا حامل ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اور اکانومسٹ نظامِ سرمایہ داری اور اس کے نظامِ بینکاری سے بہت زیادہ مرعوب بھی ہیں اور اس کی افادیت کے قائل بھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ساتویں صدی کی ’مدینہ اکنامکس‘ اور اس سے ماخوذ نظامِ بینکاری پر غور کریں اور یکم جنوری ۲۰۲۸ء سے پہلے اس کے نفاذ کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں سیرتِ نبویؐ آج بھی ہماری راہنما ہے۔ مگر ہمیں پہلے جلوئہ دانش افرنگ سے جان چھڑانی ہوگی۔ بقول علّامہ اقبال   ؎

تو اے مولائے یثربؐ! آپ میری چارہ سازی کر

مری دانش ہے افرنگی ، مرا ایماں ہے زُناری!

 _______________

ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا (یکم فروری ۱۹۳۳ء-۱۳ جون ۲۰۲۶ء) ایک ممتاز ماہر معاشیات، محقق، استاد اور دانش ور تھے۔ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی سے وابستہ ہوئے، اور پھر زندگی بھر اسلام کے خادم کے طور پر علم و فضل کے میدان میں سرگرمِ عمل رہے۔ متعدد علمی کتب کے خالق اور اسلامی معاشیات کے تخلیقی مفکر کے طور پر اَن مٹ نقوش ثبت کیے۔

۸-۲۰۰۷ءمیں امریکا میں خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے غریب عوام کے مکانوں کے لیے قرضہ اور پھر ان کے رہن کی ادائیگی میں ناکامی کے پیچیدہ عمل نے بڑے بڑے عالمی مالی سرمایہ دارانہ اداروں اور بینکوں کو دیوالیہ کے دہانے پر کھڑا کر دیا۔ اس بحران نے ایک طرف جدید معاشی و مالیاتی نظام کے منفی اثرات اور مضر نتائج کو دنیا کے سامنے اُبھارا، وہیں دوسری طرف پہلی بار اس نے پوری دنیا کو اسلام کے نظام معیشت و مالیات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے پر متوجہ کیا اور اس پر عمل کرنے کا داعیہ پیدا کیا۔ چنانچہ ورلڈ اکنامک فورم کے چیئرمین نے اعلان کیا:’’اس وقت ہم آخری نقطے تک پہنچ گئے ہیں، جس نے ہمارے لیے صرف ایک متبادل باقی رکھا ہے: یا تو ہم اپنی موجودہ روش بدل دیں، یا پھر مسلسل زوال اور دردو کرب کا سامنا کریں‘‘۔

ویٹی کن سے پوپ نے مغربی بینکاروں کے سامنے اسلامی سرمایہ کاری کے اصول کو عالمی معاشی بحران کے حل کے طور پر پیش کیا اور کہا:’’جن اخلاقی اصولوں کی بنیادوں پر اسلامی سرمایہ کاری قائم ہے، وہ بینکوں کو اپنے گاہکوں سے قریب کرے گی، اور جو خدمات وہ ادا کرتے ہیں اس کی صحیح اسپرٹ کا حصول بھی ممکن ہو سکے گا‘‘۔

  • بین الاقوامی سمینار :عالمی مالیاتی بحران کے پیش نظر جولائی ۲۰۰۵ء میں انڈین حکومت کے ایما پر مسٹر آنند سنہا کی صدارت میں ریزرو بینک آف انڈیا کا ایک ور کنگ گروپ تشکیل دیا گیا، تاکہ اسلامی سرمایہ کاری میں جو طور طریقے استعمال ہوتے ہیں، اس کی ایک رپورٹ ترتیب دے۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ ہندوستان میں اسلامی معاشیات اور غیر سودی بینکاری کے میدان میں جماعت اسلامی ہند نے اور ملک کے سیاسی اور قانونی اداروں کی توجہ اس کی طرف مبذول کرنے کے لیے Equity   Justice :The Message of Islamic Banking ایک بین الاقوامی سیمینار فروری۲۰۰۶ء میں نئی دہلی میں منعقد کیا، جس میں ملک کی تاریخ میں عالمی شہرت یافتہ اسلامی بنکرز، اقتصادی ماہرین اور سر کردہ دانش وروں نے شرکت کی۔ جن میں ڈاکٹر عمر چھاپرا، ڈاکٹر معابدالجہری، ڈاکٹرمنظر کہف، ڈاکٹر منصور درانی ، عرفان صدیقی اور اسماعیل شریف شامل تھے اور جس کا انعقاد ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی نگرانی میں ہوا۔ ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی نے کلیدی خطبہ پیش فرمایا اور اُس وقت کے امیرجماعت اسلامی ہند ڈاکٹر محمد عبدالحق انصاری نے صدارت فرمائی۔

معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر عمر چھاپرا نے کلیدی خطبہ پیش کیا جس کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ سود سے پاک بینکاری کس طرح سماجی و معاشی انصاف، غربت کے خاتمے اور وسیع انسانی فلاح و بہبود کا ذریعہ بن سکتی ہے؟ دراصل، دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد ہی مغربی سرمایہ دارانہ فکر کے معاشی مفکرین نے شراکت داری کو درکنار کر کے محض سود پر مبنی قرضے کو ترقی کی بنیاد بنا لیا اور ایک عالمی مالیاتی بازار کا جال پھیلا دیا۔ 

پروفیسر چھاپرا نے اس سلسلے میں درج ذیل اہم معاشی تصورات پر روشنی ڈالی:

۱-استحصال کا خاتمہ:ربٰو(سود) کی ممانعت کا بنیادی مقصد ناانصافی اور اس استحصال کو روکنا ہے جس میں دولت مند قرض دہندگان کی ایک محدود تعداد قرض لینے والے کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ 

۲-نفع اور نقصان میں شراکت:انھوں نے اعداد و شواہد کی بنیاد پر ایک مدلل نقطۂ نظر کے تحت سرمایہ دارانہ نظام میں رائج مقررہ منافع والے قرض پر مبنی نظام کے بجائے نفع و نقصان میں شراکت کے اصول اور اخلاقی پہلوؤں کو اہمیت دیتے ہوئے ایک منصفانہ مالیاتی سسٹم کی حمایت کی جس سے انصاف قائم ہوتا ہے، کیونکہ مالی وسائل فراہم کرنے والا شخص یا ادارہ محض قرض دہندہ نہیں بلکہ کاروباری شراکت دار بن کر نفع و نقصان میں بھی شریک ہوتا ہے۔

۳-دولت کی منصفانہ تقسیم:انھوں نے واضح کیا کہ اسلامی مالیاتی نظام دولت کی گردش کو فروغ دیتا ہے۔ یہ زکوٰۃ جیسے فلاحی ذرائع کی حمایت کرتا ہے تاکہ معاشرتی ناہمواری کم ہو اور غریب و محروم طبقات کو بااختیار بنایا جا سکے۔

۴-وسیع معاشی تبدیلی: حقیقی مساوات اور انصاف کے حصول کے لیے ایک مضبوط اخلاقی نظام، مؤثر کارپوریٹ گورننس اور معاون معاشی و سماجی پالیسیاں ضروری ہیں۔ اور یہ کام صرف علمائے کرام نہیں کر سکتے،بلکہ معاشرے کے باشعور دانش وروں کی شرکت کی ضرورت ہے۔

اس بین الاقوامی سمینار میں شرکت کے بعد ڈاکٹر چھاپرا جئے پور راجستھان کے دورہ پر تشریف لے گئے،وہاں انھوں نے تاجروں اور معاشرے کے بااثر طبقہ سے شگفتہ اور سادہ زبان میں تجارت کی اہمیت اور سود وغرر سے پاک کاروبار کے خدو خال تفصیل کے ساتھ بتائے جس سے حاضرین بہت متاثر ہوئے۔

  •  ترقی کا اسلامی تصور ، مقاصد شریعت کی روشنی میں:ڈاکٹر چھاپرا کا یہ ایک اہم مقالہ: ’ترقی کا اسلامی تصور، مقاصد ِ شریعت کی روشنی میں‘ اسلامی فقہ اکیڈمی نے شائع کیا تھا جس میں انھوں نے بتایا ہے کہ شریعت کا مقصد لوگوں کے لیے منافع کی حصولیابی اور مضرات و مفاسد سے ان کی حفاظت کرنا ہے۔ اس حوالے سے امام غزالی کا حوالہ دے کر کہتے ہیں: انھوں نے مقاصد خمسہ: دین،جان، عقل،نسل اور مال کی حفاظت پر زور دیا ہے۔ ان سے تقریباً تین صدی بعد امام ابواسحاق شاطبی نے مقاصد شریعت کی تشریح میں امام غزالی کی موافقت کی ہے، اور دوسرے مقاصد بھی جن کی طرف قرآن و سنت نے اشارہ کیا ہے، اس کو شامل کرکے کہا ہے کہ ’’ان مقاصد خمسہ کو اصل مقاصد قرار دیا جائے تو دوسرے مقاصد کو ان کے تابع قرار دیا جاسکتا ہے‘‘۔

ڈاکٹر عمر چھاپرا کہتے ہیں: ’’ ضروری ہے کہ انسان بنیادی و ضمنی مقاصد میں مسلسل اضافے کی خاطر جد و جہد کرتا رہے تا کہ اس کی خوش حالی بہتر سے بہتر ہوتی رہے، اور ضروریات و حالات میں تغیر و تبدل صرف افراد کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ہیں۔ زمانہ بدل چکا ہے، ضروریات بدل چکی ہیں بلکہ اس میں زیادتی ہوگئی ہے۔ ان سب چیزوں کو سامنے رکھ کر مقاصد پر بحث و مباحثہ کی ضرورت ہے‘‘۔(اسلامک اکنامکس بلیٹن، جنوری-فروری ۲۰۰۳ء، ص ۱-۳)

اسی طرح انھوں نے ڈاکٹر شارق نثار کو انٹرویو دیا جو Islamic Economic Bulletin (جنوری- فروری ۲۰۰۳ء) میں شائع ہوا۔ اس میں زور دے کر کہتے ہیں: اسلامی معاشیات کو روایتی معاشیات کے مقابلے میں زیادہ جامع ماڈل اختیار کر نے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ابن خلدون سے رہنمائی لینی چاہیے، جنھوں نے مختلف عوامل کے باہمی تعلق پر مبنی ایک جامع اور متحرک ماڈل پیش کیا۔ 

 اب تک تجرباتی (Empirical) نوعیت کا بہت کم کام ہوا ہے۔ اس کے بغیر نہ تو مسلم دنیا کی حقیقی حالت کو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ مستقبل کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی تجویز کی جا سکتی ہے۔  اسلامی حکمت عملی کو واضح طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔ یہ صرف مالیاتی نظام کی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس میں انسان کی اصلاح اور ان تمام سماجی، معاشی، سیاسی اور دیگر عوامل کی اصلاح شامل ہے جو اس کے رویے اور فلاح و بہبود پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سے ہماری توجہ صرف دینی عقائد اور اقدار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سماجی، معاشی، مالی، سیاسی اور تاریخی عوامل کو بھی شامل کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر چھاپرا کہتےہیں: ’’اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور وہ صرف مسلم ممالک ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فقہاء نے اب تک آپشنز، اور ڈیریویٹوز(Options Derivatives)کو مسترد کیا ہے،حالانکہ یہ لازماً سٹے بازی (Speculation) پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ ممکنہ خطرات (Risks) کے انتظام کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔اگر ہم انھیں قبول نہیں کرتے تو پھر خطرات کے انتظام کے لیے متبادل طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔  اسلامی معاشیات کو انسانی فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے بہت زیادہ تخلیقی فکر(Creative Thinking) کی ضرورت ہے‘‘۔(ڈاکٹر عمر چھاپرا:حرمت سود، ناشر: فقہ اکیڈمی، انڈیا)

حرمت سود- کیا دور جدید میں ناقابل عمل ؟

 ڈاکٹر عمر چھاپرا کا ۶۰ صفحات پر مشتمل ایک مقالہ حُرمت سود ان کے تین عالمانہ مقالات کے اُردو ترجمے پر مشتمل ہے ،اور شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔اس مقالے سے ڈاکٹر محمود احمد غازی اس قدر متاثر ہوئے کہ انھوں نے اس کے مقدمے میں لکھا ہے: معاشیات اسلام کی تاریخ میں ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا وہی مقام رکھتے ہیں جو مسلم فلسفہ اور کلام کی تاریخ میں امام غزالی اور امام رازی کو حاصل ہے‘‘۔

’کیا سود اسلام میں واقعی حرام ہے؟‘ اس سوال پر آج بھی متضاد باتیں کہی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض مسلم دانش ور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام نے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے وہ سود نہیں بلکہ ’ربٰو‘ ہے اور سود اور ربٰو ایک ہی چیز نہیں ہے۔ اس کی دو وجوہ ہیں:

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں پر ایک زمانہ ضرور آئے گا کہ ان میں کوئی ایسا نہیں بچے گا جو سود یعنی ’ربٰو نہ کھائے۔ اگر وہ سود نہیں کھائے گا تو بھی اس کے اثرات اور غبار اس تک ضرور پہنچیں گے‘‘۔(سنن ابی داؤد) 

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے استحصالی مالیاتی نظام کی ہمہ گیریت میں اگر کوئی مومن براہِ راست سود سے بچنے کی کوشش بھی کرے گا، تب بھی سود پر مبنی معیشت کے اثرات یا اس کا غبار لازمی طور پر ہر شخص کی روزمرہ زندگی کو چھو جائے گا۔

اس کے علاوہ خلیفۂ راشد حضرت عمرؓ نے اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ ربٰو یعنی سود کے متعلق آیات قرآن کریم کے نزول کے آخری زمانےمیں نازل ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تمام جزیات و احکام اور ان کے اطلاق کی کامل وضاحت فرمانے سے قبل ہی دنیا سے رخصت فرماگئے۔  اس لیے احتیاط کے طور پر حضرت عمرؓ نے مشورہ دیا اور کہا کہ’’اس چیز کو بھی چھوڑ دو جو تمھیں شک میں ڈالے اور اسے ا ختیار کرو جو تمھیں شک میں نہ ڈالے‘‘۔

علامہ عبداللہ یوسف علی نے اپنے تفسیری نوٹ میں یہ بات کہی ہے کہ آج کےزمانے میں بینک کا سود ربٰو  نہیں۔

 ڈاکٹر چھاپرا نے ربا النسیئہ اور ربا الفضل  کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام میں ہرقسم کا سود حرام ہے۔ اس طرح انھوں نے اس کنفیوژن کو دور کر کے امت پر بڑا احسان کیا ہے۔ 

  • اسلامی معاشیات میں مولانا مودودی کی خدمات:ڈاکٹر عمر چھاپرا ایک اہم مضمون’اسلامی معاشیات میں مولانا مودودی کی خدمات‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’سیّدابوالاعلیٰ مودودی کوئی پروفیشنل ماہر اقتصادیات نہیں تھے، بلکہ بنیادی طور پر وہ ایک مصلح تھے۔ ان سے یہ توقع کرنا مناسب نہیں ہو گا کہ انھوں نے اقتصادیات کے نظریاتی اور عملی مباحث میں کیوں حصہ نہیں لیا۔ اُن کا اصل مطمح نظر اسلامی شریعت کے مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے نوع انسانی کو فلاح کے راستے پر گامزن کرنا تھا۔ چنانچہ انھوں نے نسل انسانی کے مسائل کا تجزیہ کرنے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کا حل پیش کرنے کی کوشش کی‘‘۔

 آگے لکھتے ہیں:’’ضروریات زندگی پوری کرنے اور غریبوں کی معاشی حالت کو تیزی سے بہتر بنانے کے لیے مولانا مودودی نے اس بات پر سب سے زیادہ زور دیا تھا کہ وسائل کو امیروں سے غریبوں کی طرف منتقل کیا جائے۔ ابتدائی زمانے (۱۹۴۱ء) میں انھوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس مسئلے کا فوری حل اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ صاحب ثروت افراد کو اس بات پر راغب کیا جائے کہ وہ ابتدائی مسلم معاشرے کا طرزِ زندگی اختیار کریں اور اپنی حقیقی ضروریات پوری کرکے باقی بچ جانے والی آمدنی (نہ کہ پوری دولت ) غریبوں میں تقسیم کر دیں، جسے قرآن کی اصطلاح میں العفو کہا گیا ہے۔ تاہم بعد میںجب غالباً انھوں نے جدید معاشروں میں، جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی ہی بے غرضانہ روح سے عاری تھے، اس طریق کار کو اختیار کرنے کی راہ میں حائل مشکلات کا اندازہ کر لیا تو انھوں نے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرلی، یعنی یہ کہ آدمی اپنی معقول ضرورتیں پوری کر کے اور اسلام کی عائد کردہ معاشی ذمہ داریاں (زکوٰۃ و عشر ) ادا کرکے باقی بچ جانے والی رقم کو محفوظ کرلے اور پھر کسی کا روبار میں لگا دے ۔ بہر حال وہ سادہ طرز زندگی اختیار کرنے اور اضافی آمدنی کا زیادہ سے زیادہ حصہ غریبوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے۔ انھوں نے امداد باہمی کے ادارے قائم کرنے اور زکوٰۃ و عشر کے علاوہ ، انتقال کر جانے والوں کی جائیداد کو شریعت کے تقاضوں کے مطابق منصفانہ انداز میں تقسیم کیے جانے کی ضرورت پر بھی زور دیا‘‘۔

آگے چل کر عمر چھاپرا لکھتے ہیں:’’مولانا مودودی کو پختہ یقین تھا کہ سود کے خاتمے سے ایک عادلانہ معاشرتی نظام کے قیام میں مددمل سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنی تحریروں میں دکھلایا کہ سود سے پاک مالیاتی نظام کسی طرح عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے جس بات پر سب سے زیادہ زور دیا وہ یہ کہ مالیات میں نفع ونقصان کی شراکت (مضاربہ اور مشارکہ) کے طریقوں پرعمل کیا جائے،لیکن اسلامی مالیاتی نظام نے عملاً جس انداز میں نشو و نما پائی ہے، وہ اس سے کسی حد تک مختلف ہے۔ اس نظام میں مالیات کے فروخت کے طریقوں ( مرابحہ، اجارہ و سلَم ، استصناع) کا بھی معقول حصہ شامل ہے، جو اُدھار کو جنم دیتے ہیں لیکن روایتی بنکوں کی جانب سے سود پر دیے جانے والے قرضوں سے مختلف ہیں ۔ نقد اور ادھار پر لی جانے والی چیزوں کی قیمتوں میں نمایاں فرق جو اس قسم کی مالیات کی بعض شکلوں (خصوصاً مرابحہ) میں پایا جاتا ہے، مولانا مودودی کے نزدیک اگرچہ سود نہیں ہے لیکن مشکوک آمدنی ضرور ہے۔ حدیث کی رُو سے اس سے پرہیز ضروری ہے‘‘۔

ڈاکٹر صاحب آگے لکھتے ہیں:’’تاہم، اس کے ساتھ ہی [مولانا مودودی]نے اپنی کئی دوسری تحریروں میں اس حقیقت کا اظہار بھی کیا کہ فرد کے رویے پر معاشی ، معاشرتی ، سیاسی اور تاریخی قوتیں مسلسل اثر انداز ہو رہی ہوتی ہیں۔ اس لیے محض وعظ ونصیحت سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ مسلمان ، صدیوں سے پند و نصائح کے خوگر ہیں ، لیکن معمول کی اس تبلیغ وتلقین سے ان کی سیرت میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی۔ چنانچہ اس کے لیے ایک جامع معاشرتی (Socio-Economic) تبدیلی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اور ماضی کے کئی دوسرے عظیم مسلمان مفکرین، مثلاً ، ابو یوسف (۷۹۸ ء)، الماوردی (۱۰۵۸)، ابن تیمیہ (م:۱۳۲۸ء) ، ابن خلدون (م :۱۴۵۶ ء )  اور شاہ ولی اللہ (م:۱۷۶۲ء) کی طرح انھوں نے بھی اقتصادی معاملات میں محض اقتصادی عوامل ہی پر زور نہیں دیا۔ روایتی اقتصادیات کے برخلاف انھوں نے فرد کی زندگی ا اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو باہم متعلق قرار دیا اور کہا کہ اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے لیے محض اقتصادی عوامل پر توجہ دینا کافی نہیں ہے کیونکہ کہ مسلم معاشرے کو اسلامی تصور سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے اقتصادی عوامل کے علاوہ بعض دیگر چیزوں کی بھی ضرورت ہے‘‘۔

  • معاشیات کا مستقبل: ایک اسلامی تناظر: پروفیسر چھاپرا کی یہ معرکہ آرا کتاب مروجہ معاشیات کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں کے بارے میں کئی اہم سوالات اٹھاتی ہے،اور ان کے جوابات دیتی ہے۔ ان میں سے ایک سوال معاشیات کے بنیادی مقصد سے متعلق ہے۔ کیا اس کا کام صرف تجزیہ کرنا اور پیش گوئی کرنا ہے یا کسی معاشرے کو اس کے وژن (تصور) کو عملی جامہ پہنانے میں مدد کرنا بھی ہے؟ اگر وژن کا حصول اہم ہے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام اور روایتی معاشیات کے وژن میں کیا فرق ہے؟ کیا معاشیات کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ صرف معاشی تغیرات کو مدنظر رکھ کر اور روایتی معاشیات کی طرح صرف’جو کچھ ہے‘ کا تجزیہ کر کے اسلامی وژن کو حاصل کرنے میں مدد کرے، یا ان اخلاقی، نفسیاتی، سماجی، سیاسی اور تاریخی عوامل پر بحث کرنا بھی ضروری ہے جو اس وژن اور موجودہ حقیقت کے درمیان خلیج کا باعث بنے ہیں، اور اس خلیج کو پاٹنے کے لیے ایک حکمت عملی تجویز کی جائے؟ کیا اسلامی معاشیات اس چیلنج پر پورا اترنے میں کامیاب رہی ہے اور اگر نہیں، تو مستقبل میں کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
  •  اسلام اور معاشی چیلنج : اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب نے اسلامی معاشیات کی طرف نئی نسل کو خاص طور سے راغب کیا ہے۔ تقریباً تمام مسلم ممالک میں اسلام کے جاری احیاء نے اس پروگرام کی ایک واضح اور مربوط تصویر پیش کرنے کی ضرورت پیدا کر دی ہے، جو اسلام اس فلاح و بہبود کے حصول کے لیے پیش کرتا ہے جس کا وہ تصور کرتا ہے، اور ان مختلف مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے جو اس وقت بنی نوع انسان کو بالخصوص معاشی میدان میں درپیش ہیں۔ خصوصی دلچسپی کی حامل وہ حکمت عملی ہے جو ان میکرو اکنامک (کُلّی معاشی) اور بیرونی عدم توازن کو قابلِ انتظام حدود تک لانے میں مدد کرے، جن کا سامنا اس وقت دنیا بھر کے بیش تر ممالک کو ہے۔ پھر بھی انھیں مکمل روزگار حاصل کرنے، غربت کے خاتمے، ضروریات کو پورا کرنے، اور آمدنی و دولت کی عدم مساوات کو کم سے کم کرنے کے قابل بنائے۔ کیا مسلم ممالک سرمایہ داری، سوشلزم اور فلاحی ریاست کے سیکولر نقطۂ نظر کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ایسی حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں؟ کیا اسلام ان کے اہداف کو حاصل کرنے میں ان کی مدد کر سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اسلامی تعلیمات کس قسم کے پالیسی پیکیج کا تقاضا کرتی ہیں؟ یہ کتاب ان اور دیگر متعلقہ سوالات کے جوابات دینے کی ایک کوشش ہے۔

اسی طرح محمد عمر چھاپرا مسلم تہذیب زوال کیوں اور اصلاح کیوں کر؟ میں صدیوں تک قائم رہنے والی ایک انتہائی شاندار اسلامی تہذیبی روایت کے گذشتہ چند صدیوں سے زوال کا جائزہ لیتے ہیں۔

اسلام ایک ایسا عالمی معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے جس میں باہمی ہمدردی اور ایک دوسرے کے تعاون کی فضا قائم ہو۔ وہ یہ نہیں چاہتا کہ دولت چند افراد یا کسی مخصوص طبقے کے قبضے میں ہو جیساکہ قرآن نے کہاہے:

كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَۃًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ۝۰ۭ (الحشر۵۹:۷) تاکہ دولت مال داروں ہی کے درمیان گردش کرتی نہ رہے۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے نصف صدی پہلے پیشن گوئی کی تھی کہ مغرب کے غلبہ و استحصال کا دور ختم ہونے والا ہے، اور دُنیا کی قیادت مشرق کی معاشی پیش رفت کی طرف پلٹنے والی ہے۔لیکن مسلم علما اور دانش وروں میں اس کا ادراک بہت کم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج امت مسلمہ کے نوجوان، مرد اور خواتین ڈاکٹر عمر چھاپرا، پروفیسر خورشید احمد، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، باقرالصدر اور دیگر قد آور شخصیات کی طرح اس چیلنج کو قبول کریں۔ مقاصد شریعہ اسلامیہ کےساتھ ساتھ ڈاکٹر عمر چھاپرا نے جس تخلیقی فکر کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے، اس کے ذریعے حالات زمانہ کی پیچیدگیوںکے چیلنجوں اور امکانات کو سامنے رکھ کر انسانیت کے سامنے اسلام کے عدل و قسط کا نمونہ پیش کریں۔ 

رب قدیر و جلیل ہمارا حامی و ناصر ہو، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے جیسا کہ فرمایا گیا :

وَالَّذِيْنَ جَاہَدُوْا فِيْنَا لَـنَہْدِيَنَّہُمْ سُـبُلَنَا ۝۰ۭ وَاِنَّ اللہَ لَمَعَ الْمُحْسِـنِيْنَ۝۶۹ (العنکبوت  ۲۹:۶۹ )جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انھیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقینا اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے۔

 _______________

میرے ایک عزیز نے بتایا کہ ’’ایک بار جب وہ سوڈان کے کسی چھوٹے سے شہر سے گزر رہے تھے، تو ایک مسجد میں ان کی ملاقات کسی گوشہ نشیں نوجوان سے ہوئی۔ اس نے ان کے پاکستانی ہونے کا علم ہوتے ہی پہلا سوال کیا: ’’کیا تم مولانا مودودی سے ملے ہو؟ تم نے انھیں دیکھا ہے؟‘‘

 

اثبات میں جواب پا کر وہ نوجوان آبدیدہ ہو گیا، پھر کہنے لگا:

 ’’مولانا کو میرا ایک پیغام پہنچا دینا کہ مجھے تو ہدایت ان کی کتابوں کے ذریعے ہی ملی ہے۔ میں اپنے کام میں مصروف ہوں۔ حکومت کے کارندے میری تلاش میں ہیں۔ اس لیے یہاں گوشہ نشین ہوں۔ میں نے دنیا میں سب کچھ چھوڑ دیا ہے اور دین کی جدوجہد میں لگا ہوا ہوں، ان سے کہنا وہ میرے لیے دعا کریں‘‘۔

مولانا مرحوم کے سلسلے میں اس طرح کے بہت سے واقعات بیان ہوتے ہیں، لیکن اب ہمیں حیران نہیں کرتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو حتمی اور فیصلہ کن طور پر متاثر کر دینا تو جیسے ان کی پوری شخصیت کا ایک حصہ تھا اور انسان کے اندر تصور خیر کا بدلنا سب سے مشکل کام ہے۔ تصورِ خیر کا تزکیہ بہت دیر طلب بات ہے۔ مولانا مرحوم کا اثر اس اصل الاصول پر پڑتا تھا اور اس میں اگر کوئی بات حیران کرنے والی تھی، تو وہ یہ کہ بیش تر صورتوں میں یہ تبدیلی ہمیشہ کے لیے ہوتی تھی۔ جیسے مولانا کی تحریر یا ان کی شخصیت کا کوئی اور پہلو، مثلاً ان کی گفتگو دوسرے کی شخصیت میں ایک نیامنظر جگا دیتی ہو اور آدمی کو اس منظر کے سفر پر روانہ کر دیتی ہو۔ جذباتی طور پر آدمی کو بدلنے کے لیے ایک اچھا مقرر یا ایک اچھا نثر نگار کافی ہوتا ہے، لیکن آدمی کا پورا نفسیاتی پیٹرن تبدیل کردینا انبیا علیہم السلام کی سنت رہی ہے اور ہمارے ہاں اس کی ایک بہت واضح مثال مولانا مودودی تھے۔ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پہلو مولانا مودودی کی ذات میں بہت نمایاں تھا۔ مولانا کی شخصیت میں اس قوت کے منبع پر غور کرنا چاہیے۔ آدمی کو حتمی طور پر بدلنے کے لیے ایک ہی چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے کردار۔

مجھے ہمیشہ یہ خیال آتا ہے کہ فی زمانہ مولانا کی شخصیت کو ایک اور پہلو سے بھی دیکھنا چاہیے۔ ان کا اثر جس قدر وسیع ہے، اس کی مثال پچھلے طویل عرصے میں نہیں ملتی۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی بات یوں بھی آگے بڑھ سکتی ہے کہ مولانا مرحوم کے اثر کی سطح بہت وسیع تھی اور پوری امت کی سطح پر تھی۔ عربوں کی سطح پر دیکھیے، تو ان میں نوجوانوں سے لے کر بوڑھوں تک مولانا کی تحریروں اور ان کی شخصیت سے والہانہ وابستگی ملے گی۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس گہرے تاثر کی وجہ کیا ہے اور اس کے اثرات پوری ملی سطح تک کیوں پڑے؟ قریبی حلقوں سے الگ، عالمی سطح پر اس تاثر کی شدت میں میرا خیال ہے کہ بہت واضح اضافہ اس وقت ہوا جب مولانا کو سزائے موت سنائی گئی اور ان کا بیان حق کی ایک بہت بڑی شہادت بن کر سامنے آیا۔ عام لوگوں کے لیے مولانا کے کردار اور ان کی ایمانی قوت کے مشاہدے کا وہی فیصلہ کن لمحہ تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو ایک ٹھوس علامت بنا دیا۔ یہی ایمانی قوت مولانا کی تحریروں کے پیچھے جھلکتی تھی اور اسی کے عکس سے عام طور پر خوابیدہ ایمانی کیفیت ایک قومی جذبے میں ڈھل جاتی ہے۔

مولانا مودودی نے جس زمانے میں لکھنا شروع کیا، اس وقت پوری مسلم دنیا کے سامنے چند بنیادی سوال تھے، جن کے جواب روایت میں موجود تو تھے، لیکن جدید ذہن کے سانچے کے مطابق نہ تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگاتے ہیں۔ بعضوں نے جدید ذہن کے تقاضے سامنے رکھ کر اسلام کی تعبیر کر ڈالی۔ ان کا گمان یہی رہا ہو گا کہ اگر بات جدید ذہن کے تقاضوں کے مطابق بنا دی جائے، تو شاید زیادہ قابلِ قبول ہو گی، لیکن اس تصور کے پیچھے جدیدیت اور اس کی نفسیاتی کیفیت کے ایک تضاد کے بارے میں بہت بڑی لاعلمی چھپی ہوئی ہے۔ جدید ذہن کی ساری کش مکش یہی ہے کہ وہ اپنے پورے معاشرتی اور نفسیاتی ڈھانچے سے مطمئن نہیں، لیکن یہ ذہن اتنا خوف زدہ ہے کہ اپنے آپ کو حتی المقدور پوری طرح دشمن تہذیب سے وابستہ کیے رکھتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی پیاس بجھتی صرف قدیم دانش سے ہے۔ 

مولانا کی تحریروں سے یہ بات واضح ہے کہ انھوں نے جدید ذہن کے تقاضے سامنے رکھے، مگر اصول میں کوئی ترمیم نہ کی، بلکہ دانشِ وحی کو نئی نفسیاتی ساخت کی ضرورت کے مطابق بیان کیا۔ پھر اس سارے عمل میں یہ بات ان سے اوجھل نہ ہوئی کہ مشرق پر عموماً اور اسلامی دنیا پر خصوصاً مغربی تہذیب کی یلغار نے جو بنیادی نوعیت کے سوالات پیدا کیے ہیں، وہ سب کے سب ان کی تحریروں میں آ جائیں۔

چنانچہ یہی وجہ ہے کہ مولانا مودودی کے ہاں یہ صورت حال جزوی طور پر، یا جذباتی طور نہیں آتی، بلکہ اپنی اصولی حیثیت میں آتی ہے۔ اصولی طور پر یہ سوالات مشرق میں اس طرح کسی اور نے اٹھائے ہی نہیں جس طرح مولانا کے ہاں اٹھائے گئے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مسئلہ محض علمی فرق کا نہیں، زندگی کے پورے رویے کا تھا، بلکہ صحیح معنوں میں زندگیوں کا تھا۔ مولانا کی تحریروں اور ان کی شخصیت نے پوری دنیا میں جو جو تحریکیں اٹھائیں یا جنھیں ایک نئی جہت اور قوت دی، وہ زندگی کے کسی ایک پہلو سے تعلق رکھنے والی تحریکیں نہیں، بلکہ ان کا تعلق’ آدمی کے ایک مکمل راستے کے انتخاب‘ سے ہے، اور یہی اصرار ہے کہ فرد یکسوئی سے ایک راستے کا انتخاب کرے!

چنانچہ اس حوالے سے مولانا مودودی نے جن لوگوں کو متاثر کیا ان کے لیے مولانا مرحوم کی حیثیت پوری زندگی کو بچانے والے کی ہے اور اسی لیے ان سے محبت کی شدت بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔ تحریر پڑھ کر ان کے قریب آئے افراد نے عام طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ مولانا مشکل سے مشکل مسائل کو عام فہم بنا دیتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اسلوب سے خشک مسائل میں بھی جذبے کی گویا ایک برقی رو بھر دیتے تھے۔

دنیا میں اعلیٰ ترین ادب کی خصوصیت بیان کی جاتی ہے کہ الفاظ اپنے اندر معانی کی بجلی سے روشن ہوتے ہیں۔ مولانا کے ہاں اپنے قاری سے جو رشتہ وجود میں آتا، اس کی بنیاد ایک غیرمعمولی ذہانت پر قائم تھی۔ جس کے ذریعے وہ قاری سے محض ذہن کی سطح پر اور منطق و استدلال کی سطح پر کلام نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کی آواز وجود کی ساری سطحوں کو محیط ہوتی تھی اور جدید انسان کے نفسیاتی خلیات میں گہری اترتی چلی جاتی تھی۔ میرا خیال ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں اردو تو اردو، دنیا کی اور بڑی زبانوں میں اتنا ہمہ گیر اسلوب، اتنے متنوع موضوعات کے ساتھ ڈھونڈنے سے ہی ملے گا۔

پھر ادب کے سلسلے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اسلوب کو شخصیت سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کی پوری شخصیت میں جو غیر معمولی پن تھا اور سادگی میں جو گہرائی تھی، وہ اسلوب میں بھی پوری طرح جھلکتی تھی۔ اس لیے اگر ہم غور کریں، تو ان کا اسلوب ادبی انداز اور مسائل کو حل کرنے کی منطقی جہت کے ساتھ مل کر نمودار ہوتا ہے، جو ہمیشہ اور مسلسل ایک زیریں لہر کے طور پر موجود رہتا ہے۔ بعض لوگوں کے ہاں مولانا کی تحریروں کے بارے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ’’ان کے خشک مباحث میں جذبہ نمودار نہیں ہوتا۔‘‘

یہاں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اول تو جذباتیت اور جذبے میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ مولانا کی تحریروں میں کہیں بھی جذباتیت نہیں پائی جاتی۔ لیکن جہاں تک جذبے کا سوال ہے، اس سے ان کی کوئی تحریر خالی نہیں ہے۔ اس لیے جس انداز کا آہنگ مولانا کے ہاں دکھائی دیتا ہے، وہ ایمانیاتی سطح کے شدید جذبے کے بغیر مکمل ہی نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کی تحریریں لوگوں میں حقائق کا محض فہم نہیں پیدا کرتیں، اس کے ساتھ ساتھ ان حقائق سے ایک گہری وابستگی کو جنم دیتی ہیں، یعنی علم اس سطح پر آ کر پورے انسانی وجود کی ایک اہم جہت بن جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس سے مولانا نے پوری ملت کی سطح پر ایک انقلابی سوچ پیدا کر دی۔ انفرادی سطح پر لوگوں کے ذہنوں میں مسائل واضح کیے، ایمانیاتی جذبے کی جہت سے وابستگی پیدا کی اور دلوں میں موجود و حاضر کے زوال آمادہ نظام سے فعال کراہت پیدا کی، جو اجتماعی سطح پر پورے معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کی تبدیلی کی بنیاد بنی۔

مولانا مودودی کی پوری زندگی اصل میں ان کے پورے کام کا محض ایک آغاز تھی، اس لیے کہ مرکز کی تشکیل تو بہرحال اہم ترین ہوتی ہے اور ساتھ ہی دیر طلب بھی۔ چنانچہ اس عرصے میں ایک ذہنی نیو کلیس تیار ہو گیا اور پوری ملت میں مختلف ملکوں اور مختلف سطحوں پر مولانا کی تحریروں کے عکس میں اور ان کی شخصیت کی دمک سے، مختلف مرکز بن گئے جو ایک عظیم تبدیلی کا ابتدائی درجہ ہیں۔

اس زمانے میں ایک اور پہلو سے مولانا مودودی کی شخصیت ایک حیرت انگیز Relevance (مطابقت) رکھتی ہے، جس میں وہی ایک ایسی شخصیت کے طور پر اُبھرے تھے جنھوں نے یہ بتایا کہ پورا تہذیبی اسلوب، روایتی دانش اور کردار مل کر کس طرح درجہ بدرجہ اس تبدیلی کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر پھیلا دیتے ہیں اور کس طرح درجہ بدرجہ اس تبدیلی کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔ سیّد حسین نصر نے مولانا کو اس زمانے میں سنت کا ستون قرار دیا ہے، اور سچی بات یہی ہے کہ مولانا کی شخصیت کی ساری قوت سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری وابستگی سے پھوٹی تھی۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ مولانا سے لوگوں کی وابستگی ایک شخص اور ایک فرد کی نسبت ایک ایسی روایت سے محبت تھی، جو مسلم تاریخ کی اہم ترین امانت ہے۔

 _______________

 

 

 

No Content

۵؍ اگست ۲۰۱۹ء صرف ایک آئینی تبدیلی کا دن نہیں تھا بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ہے جس نے مسئلۂ کشمیر کی نوعیت، ریاستی ڈھانچے، عوامی نفسیات اور علاقائی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ اس روز انڈین حکومت نے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کو غیر مؤثر بنا کر جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی، ریاست کو دو وفاقی علاقوں میں تقسیم کیا حالانکہ یہ متنازع علاقے کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کی شرمناک کوشش ہے ۔

اگر گذشتہ تین عشروں کے انڈین سیاسی موقف کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آرٹیکل ۳۷۰ کا خاتمہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی وعدوں میں شامل تھا۔ اس لحاظ سے ۵؍ اگست کا فیصلہ کئی عشروں پر محیط ایک سیاسی منصوبے کی تکمیل کہا جا سکتا ہے۔ یقینا کسی بھی بڑی ریاستی حکمتِ عملی کی کامیابی کا فیصلہ چند برسوں میں نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے تاریخ، سیاست، معیشت، معاشرت اور عوامی نفسیات کو ایک ساتھ دیکھنا پڑتا ہے۔ یہی اصول ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

مودی حکومت نے آرٹیکل ۳۷۰  اور ۳۵-اے کی منسوخی کے بعد کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کیے۔ ان اقدامات کا مقصد کشمیری شناخت کو کمزور کرنا اور انڈیا کے ہندو نسل پرست ایجنڈے کو فروغ دینا تھا۔ نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت انڈیا کے دیگر علاقوں کے باشندوں کو کشمیر میں رہائش، ملازمت اور زمین خریدنے کی اجازت دی گئی۔ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر ۲۰۲۰ ءکے ذریعے ڈومیسائل کی نئی تشریح کی گئی، جس کے مطابق کشمیر میں تین سال تک ڈیوٹی دینے والے فوجی و نیم فوجی افسر اور سپاہی، پندرہ سال تک مقیم رہنے والے انڈین باشندے ،سات سال تک تعلیم حاصل کرنے والےیا دسویں اور بارھویں جماعت کا امتحان دینے والےطلبہ و طالبات ملازمت کے حق دار ہوں گے۔

ماضی میں آرٹیکل ۳۵-اے کے تحت ان قوانین کی تدوین کا اختیار جموں و کشمیر اسمبلی کو حاصل تھا۔ مگر منسوخی کے بعد یہ سارے اختیارات انڈین حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ نئے قانون کے تحت بھارتی حکومت کے اعلیٰ افسران، آل انڈیا سروسز کے اہلکار، نیم خود مختار اداروں، پبلک سیکٹر بنکوں اور یونی ورسٹیوں کے ملازمین کے بچے از خودکشمیر کی ملازمتوں کے اہل قرار پائے۔ 

۲۰۲۵ء تک لاکھوں غیر کشمیری ہندوؤں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حد بندی کمیشن کی ۲۰۲۲ ء کی رپورٹ نے واضح کیا کہ کشمیری مسلمانوں کو سیاسی طور پر بے وزن کرنے کے لیے غیر منصفانہ فیصلے کیےگئے۔ واد یٔ کشمیر کی آبادی (۶۸ء۸۸  لاکھ) کے مقابلے جموں (۵۳ء۷۸ لاکھ) کو غیر متناسب طور پر زیادہ نشستیں دی گئیںجس سے مسلم اکثریت کی سیاسی نمائندگی کم ہوئی۔

آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد دنیا کی طویل ترین انٹرنیٹ بندش نافذ کی گئی جو کئی ماہ تک جاری رہی۔ ہزاروں نوجوانوں، کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ سابق وزرائے اعلیٰ جیسے محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ کو مہینوں نظر بند رکھا گیا۔ کشمیری صحافیوں کو ہراساں، گرفتار یا جلاوطن کیا گیا۔ گھروں پر چھاپوں، جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کی رپورٹس عام ہیں۔ پیلٹ گنز کے استعمال سے سیکڑوں نوجوان اپنی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔

سرکاری ملازمین کی برطرفی، زرعی زمینوں کی سرکاری تحویل، گرفتاریاں، ہلاکتیں، رہائشی گھروں کو نقصان اور بیوروکریسی سے کشمیری مسلمانوں کی منظم بے دخلی اس نظام کا حصہ ہے۔ جون ۲۰۲۵ءتک کم از کم ۱۱۰ سرکاری ملازمین کو ’دہشت گردی سے تعلق‘ یا دیگر انتظامی وجوہ کے بہانے برطرف کیا جا چکا ہے۔ 

جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ ۲۰۱۹ ءکے تحت زمین کے قوانین میں تبدیلیوں نے غیر مقامی افراد کو زمین خریدنے کی اجازت دی۔ اس سے زرعی زمینوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا عمل تیز ہوا۔ مقامی رپورٹس کے مطابق ہزاروں ایکڑ زرعی زمین ترقیاتی منصوبوں، فوجی تنصیبات اور صنعتی زونز کے لیے حاصل کی گئی۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دو لاکھ ایکڑ سے زائد زمین کشمیریوں سے چھینی جا رہی ہے، جس کا مقصد بے اختیار کشمیریوں پر باہر سے آباد کار لانا ہے۔ یہ پالیسی معاشی استحصال کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

لاک ڈاؤن اور فوجی محاصرے نے کشمیر کی معیشت کو تباہ کر دیا۔ سیاحت، قالین بافی، زراعت اور دیگر شعبوں کو شدید نقصان پہنچا۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق اگست ۲۰۱۹ءسے اگست ۲۰۲۰ءتک ۴۰ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ مسلسل کرفیو، خوف کی فضا اور مواصلاتی پابندیوں نے کشمیری عوام میں ڈپریشن، پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) اور دیگر نفسیاتی مسائل کو جنم دیا۔ ’میڈیسنز سانس فرنٹیئرز‘(MSF) کی رپورٹ کے مطابق کشمیری نوجوانوں میں خودکشی کے رجحانات بڑھے ہیں۔ اندازاً ۹ لاکھ افراد باقاعدگی سے منشیات استعمال کرتے ہیں۔ مئی ۲۰۱۹ءمیں میڈیسنز سانس فرنٹیئرز / ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘(DWB) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ وادیٔ کشمیر میں تقریباً ۱۸ لاکھ بالغ افراد (جو آبادی کا ۴۵ فی صد بنتے ہیں) شدید ذہنی دباؤ کی علامات کا شکار ہیں۔ ان میں سے ۴۱ فی صد افراد میں ڈپریشن، ۲۶فی صد میں بے چینی (اضطراب) اور ۱۹ فی صد میںبعد از صدمہ ذہنی دباؤ کی بیماری (پی ٹی ایس ڈی) کی علامات پائی جاتی ہیں۔

انڈین حکومت کے اقدامات نے کشمیری زبان، ثقافت اور تاریخ کو معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ ’ہندوتوا‘ کے حامی جیسے انوپم کھیر، کشمیری مسلمانوں کو ’’گھل مل جاؤ، مرجاؤ یا بھاگ جاؤ‘‘ کا پیغام دے رہے ہیں۔ یہ سوچ ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک نسل پرست اور فسطائی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ نعیمہ مہجور کے مطابق، کشمیری تارکین وطن اپنی جائیدادیں بیچ کر وادی چھوڑنے پر مجبور کیے جا رہے ہیں۔ ظلم، سیاسی جبر، حکومتی دباؤ اور سماجی انتشار نے ان کی زندگیوں کو بُری طرح مفلوج کر دیا ہے۔

کشمیر کی سرکاری تقرریوں میں تعصب واضح ہے۔ ممتاز صحافی افتخار گیلانی کے مطابق ۲۰۲۰ ءمیں ۲۴ سیکریٹریوں میں صرف پانچ مسلمان تھے۔ ۵۸ اعلیٰ سول سروس افسران میں ۱۲ اور ۶۶؍ اعلیٰ پولیس افسران میں صرف سات مسلمان تھے۔ ۲۰۲۵ ءتک صورت حال مزید خراب ہوئی۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے ۹۳؍ افسران میں صرف ۲۰ مسلمان ہیں ، جب کہ ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب ۳۱ء۶۸ فی صد ہے۔ سول سیکریٹریٹ میں ۳۶سیکریٹریوں میں صرف چھ مسلمان ہیں۔ یہ اعداد و شمار کشمیریوں کی منظم بے دخلی کو ظاہر کرتے ہیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں، گرفتاریاں اور تشدد معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم، ۵؍ اگست ۲۰۱۹ ءکو انڈین حکومت کی جانب سے ریاست کی آئینی حیثیت کے یک طرفہ خاتمے کے بعد عسکری اداروں کو ملنے والے غیر معمولی اختیارات نے ظلم و جبر کی نئی مثالیں قائم کر دیں۔ ان حالات کا چشم دید جائزہ لینے کے بعد ’پاکستان-انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی‘ اور ’جموں و کشمیر سالیڈیریٹی گروپ‘ نے ۱۹۶ صفحات پر مشتمل دل دہلا دینے والی رپورٹ The Siege شائع کی۔ اس رپورٹ میں عوامی جبر، گرفتاریوں اور ٹارچر کے واقعات کی تفصیلات کے ساتھ دیہات اور قصبات میں جاری انڈیا مخالف خاموش مزاحمت کو بھی اُجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پلوامہ کے ایک تاجر کے ساتھ فوجی بدسلوکی، نمازجنازہ میں شرکت پر افراد کو جیل بھیجنے، اور سیکڑوں کشمیری نوجوانوں کی یوپی اور آگرہ جیسی دور دراز جیلوں میں غیر قانونی نظربندی کے واقعات شامل ہیں۔ یہ افراد محض شبہ، اپنی رائے رکھنے یا کسی تقریر سننے کے ’جرم‘ میں گرفتار کیےگئے ہیں۔ خاندانوں کو اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے زمینیں بیچنی پڑیں۔ یہ رپورٹ بھارتی عدلیہ کی بے بسی، مقامی آبادی کی غربت اور سکیورٹی اداروں کی بدعنوانی کو بے نقاب کرتی ہے۔ حبسِ بے جا کی سیکڑوں پٹیشنز عدالتوں میں دائر ہوئیںمگر ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔ عوام  عدالتوں کے چکر لگانے یا وکلا کی فیس ادا کرنے کی استطاعت بھی کھو چکے ہیں۔

’فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر ‘کی رپورٹ جو جموں و کشمیر کی تقسیم اور عوام کی بے اختیاری کی چھٹی سالگرہ پر جاری کی گئی، خطے کی سنگین صورتِ حال کو واضح کرتی ہے۔ اس میں سیاسی بے اختیاری، ادارہ جاتی زوال، سکیورٹی کا غیر ضروری استعمال اور جمہوری جمود کو خطے کو تاریک دور میں دھکیلنے والے اہم عوامل قرار دیا گیا۔ فورم کی سربراہی سابق سکریٹری داخلہ گوپال پلئی اور سابق مذاکرات کار رادھا کمار کر رہے ہیں،جب کہ اس میں سپریم کورٹ کے سابق ججز مدن لوکور، روما پال اور اے پی شاہ، سابق لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ اور سابق ایئر وائس مارشل کپل کاک، مؤرخ رام چندر گہا اور دیگر شامل ہیں۔

رپورٹ میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شا کے ریاستی درجہ بحال کرنے کے وعدوں سے پیچھے ہٹنے پر سخت تنقید کی گئی۔ سپریم کورٹ نے ۲۰۱۹ء کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے فوری ریاستی درجہ بحالی کی ہدایت دی تھی۔ جسٹس سنجیو کھنہ نے واضح کیا کہ کسی ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنا آئینی طور پر غلط ہے۔ تاہم، حکومت ’مرحلہ وار‘ اختیارات کی منتقلی کی بات کرتی ہےجسے فورم ناقابل قبول قرار دیتا ہے۔ 

ستمبر،اکتوبر ۲۰۲۴ ءمیں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی مگر یہ حکومت عملی طور پر بے اختیار ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر اور مرکزی وزارت داخلہ کے پاس پولیس، سول سروسز، استغاثہ اور مالیات جیسے اہم شعبوں کا کنٹرول ہے۔ ۱۲ جولائی ۲۰۱۴ءکو ریاستی کابینہ سے کلیدی اختیارات چھین لیے، حتیٰ کہ وزارتی قلمدانوں کی تقسیم بھی بیوروکریٹک جائزے کے تابع کردی گئی ہے۔

رپورٹ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی نشاندہی کرتی ہے جن میں نفرت انگیز تقاریر، ہجومی حملے، ۲۸۰۰ سے زائد افراد کی حراست اور ۱۰۰ سے زائد گرفتاریاں سخت قوانین جیسے پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے کے تحت کی گئیں۔ کم از کم چھ مکانات (مقامی میڈیا کے مطابق دس) کو دھماکوں سے تباہ کیا گیا، جسے فورم ’اجتماعی سزا‘ قرار دیتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ حکومت پر چھ سال سے اہل کشمیر کے حقوق سلب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ’آمریت‘ کہتے ہیں۔ رادھا کمار کہتی ہیں کہ کشمیری عوام نے بارہا ووٹ دیا، اب نئی دہلی کی باری ہے کہ وہ جبر کے بجائے مفاہمت کا راستہ اپنائے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ پچھلے چھ سالوں میں حکومتی اقدامات کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کو بے اختیار کرنا تھا۔ جانب دارانہ حدبندی، انتخابی فہرستوں کی ترتیب نو اور یوم شہداء (۱۳ جولائی) کو تعطیلات سے ہٹانا، اس کی واضح مثالیں ہیں۔ خصوصاً، ۱۳ جولائی ۲۰۲۴ءکو وزیراعلیٰ کو مزارشہدا میں فاتحہ خوانی سے روکا گیا اور انھیں دیوار پھاند کر داخل ہونا پڑاجو پابندیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ 

۱۹۳۱ءسے جولائی ۲۰۱۹ء ء تک کےدور کو اگر ہم ماضی کا نام دیں تو یہ درست ہوگا، کیونکہ اس عرصے میں انڈیا کا جابرانہ قبضہ اپنی پوری شدت و ظالمانہ اقدامات کے ساتھ جاری رہا لیکن اس دوران بھی انڈین آئین کی شق ۳۷۰، اور ۳۵-اے نے کشمیر کی منفرد شناخت کو کسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھا تھا۔ یہ شقیں کشمیریوں کے لیے ایک ڈھال تھیں جو ان کی زمین، ثقافت، اور مسلم تشخص کو تحفظ دیتی تھیں۔ مگر ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو نسل پرست حکمران جماعت بی جے پی نے ان شقوں کو منسوخ کرکے کشمیر کو انڈیا میں مکمل طور پر ضم کر لیا۔ بھارت کے اقدامات صرف جغرافیائی قبضے تک محدود نہیں رہے بلکہ اب وہ ایک منظم فکری، تعلیمی اور تہذیبی یلغار کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ نصابی کتب میں تبدیلی، تاریخ کی مسخ شدہ تعبیر، مذہبی علامات پر پابندیاں اور اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی شعوری کوششیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ ایک ’خاموش نسل کُشی‘ کا عمل ہے، جو بندوق سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس لیے آج ہم یہ برملا کہہ سکتے ہیں کہ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء وہ سیاہ دن تھا جب کشمیر کا حال اپنے ماضی سے بھی بدتر ہوگیا۔

معروف کشمیری صحافی نعیمہ احمد مہجور نے لکھا ہے کہ کشمیر اب وہ جنت نظیر وادی نہیں رہی بلکہ ایک ’کاسمیر‘ بننے کی طرف بڑھ رہی ہے ،ایک ایسی جگہ جہاں اس کی اصل شناخت ڈیڑھ ارب کی آبادی میں تحلیل ہو جائے گی۔ ان کے الفاظ میں ’ایک عشرے بعد کشمیر ’کاسمیر‘ ہو گا‘، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وادی کی روح کو چھین کر اسے ایک اجنبی سرزمین میں بدل دیا جائے گا۔آگے لکھتی ہیں ۔۔کہ ’’ کشمیر کے لوگ اپنا آبائی وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ غیر کشمیریوں کی آمد، زمینوں کی فروخت، اور آبادی کے تناسب کو بدلنے کے اقدامات نے وادی کو اجنبی بنا دیا ہے۔مقامی سیاست دانوں اور تاجروں کی ملی بھگت سے وادی کی زمینیں، جنگلات، اور معدنیات کا سودا ہو رہا ہے۔ غیر کشمیری سیاحت، زراعت، انتظامیہ اور عدلیہ پرچھا رہے ہیں اور لگتا ہے کہ ڈوگرہ دور جیسے واپس پلٹ آیا ہوجہاں کشمیری صرف بے روزگار یا جبری مزدور سمجھے جاتے تھے۔ آج لال چوک میں مہاراجا کی مورتیوں کو تاج پہنائے جا رہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ ’’کیا کشمیریوں کو اپنی آواز اٹھانے کی سزا دی جا رہی ہے‘‘ ۔نعیمہ مہجور کے بقول، میڈیا کی خاموشی اور مقامی قلم پر زنجیریں اس المیے کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ کشمیر کی ثقافت، زبان، اور شناخت اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ جب اپنی گلیوں میں چلنا مشکل ہو، زبان پر پہرے ہوں، اور اپنی زمین اجنبیوں کے ہاتھوں فروخت ہو رہی ہو تو کشمیری کیا کریں؟

زمینی حقائق یہ ہیں کہ مرکزی قوانین نافذ ہو چکے ہیں، نئی حلقہ بندیاں ہو چکی ہیں، ڈومیسائل اور زمین کے قوانین تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان اقدامات نے زمینی انتظامی حقیقت کو تبدیل کر دیا ہے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری عوام کے دلوں میں سیاسی قبولیت پیدا کرنا، ناممکن ہے۔ تاہم انڈین قیادت خفیہ مذاکرات اور امریکن کوششوں کی بنیاد پرتقسیم کشمیر کے منصوبے پر کام کر رہی ہے اورکنٹرول لائن کو مستقل سرحد بناکر ’اُدھر تم اور اِدھر ہم‘ کے فارمولے پر کام تیزی سے جاری ہے ۔اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو پھر کشمیر کو اندلس اور جامع مسجد سری نگر کومسجد قرطبہ بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اللہ رحم فرمائے۔

یہ باتیں تو تلخ حقیقت ہیں ہی، لیکن اب دو سال سے مقبوضہ کشمیر، انڈین حکومت اور فوج کی طرف سے یہاں کتابوں پر پے درپے حملوں کا ایک تسلسل پیش کر رہے ہیں۔ جولائی ۲۰۲۶ء میں سری نگر میں کتابوں کے میلے سے پہلے حکومت نے یہ پابندی عائد کی کہ انڈیا سے تمام ناشرین اپنی کتابوں کی جانچ کرائیں گے تاکہ حکومت کی اجازت اور جانچ پڑتال کے بغیر کوئی کتاب میلے میں شریک نہ ہوسکے۔ پھر علم دشمنی کی یہ بات اسی پر نہیں رکی، بلکہ لائبریریوں، گھروں تک جاپہنچی ہے جہاں کتابوں کو ضبط کیا جارہا ہے، اور اُٹھایا جارہا ہے۔

 _______________