عراق میں مارچ ۲۰۰۳ء سے امریکا کی ڈیڑھ لاکھ فوج موجود ہے۔ ۲۰مارچ ۲۰۰۵ء کو قبضے کے دو سال مکمل ہونے پر‘ ورلڈ سوشلسٹ ویب سائٹ کے حوالے سے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے‘ ان کے مطابق دو سالوں میں۱۵۲۰ امریکی مارے گئے‘ ۱۱ ہزار ۲ سو شدید زخمی اور معذور ہوئے‘ جب کہ جنگی صورتِ حال‘ موت اور گوریلا حملوں کے خوف سے ایک لاکھ امریکی ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ ماہرین جنگ کے تجزیوں کے مطابق عراق میں اپنی مدت قیام مکمل کرکے واپس جانے والے فوجیوں میں دوبارہ کسی محاذ پر جاکر لڑنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی (روزنامہ ڈان‘ ۲۰ مارچ ۲۰۰۵ئ)۔ واضح رہے کہ اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں‘ کیوں کہ امریکا اپنی فوجیوں کی ہلاکتیں چھپاتا ہے۔
عراق کو آزادی دلانے کے لیے آنے والا امریکا‘ عراقیوں کے لیے صدام سے سوگنا بدتر حکمران ثابت ہوا ہے۔ جمہوریت‘ انتخابات‘ دستورساز اسمبلی‘ دستور سازی اور عراقیوں کی حکومت کے پردے میں امریکا اپنی حکمت عملی کے تحت اپنے منصوبوں اور سازشوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ لیکن اسے اپنے اندازوں سے بہت زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اے ایف پی کے حوالے سے واشنگٹن پوسٹ نے جو تفصیل دی ہے‘ اس کے مطابق امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ صدام کے حامیوں سے خطرہ نہیں‘ اس لیے ان سے لڑنے کے بجاے امریکی اور اتحادی فوجوںکو مذہبی انتہاپسندوں ہی سے لڑنے کو ترجیحِ اول بنانا ہوگا۔ (ڈان‘ ۹مئی۲۰۰۵ئ)
امریکی حکومت اور اس کے عراق میں متعینہ جرنیل ‘جعفری حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ جنگجو گوریلا قوتوں سے سختی سے نمٹے۔ حکومت کی کامیابی کے لیے نظرآنا چاہیے کہ وہ واقعی کچھ کر رہی ہے۔ اس کے جواب میں حکومت کے ترجمان اپنی رپورٹیں پیش کرتے ہیں کہ انھوں نے کافی مزاحمت کاروں کو ہلاک کرکے اور بڑی تعداد میں اسلحے کے ذخیروں پر قبضہ کرلیا ہے مگر امریکی اسے تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ جنرل جارج کیسی کا کہنا ہے کہ ابومصعب الزقاوی کی کارروائیاں روز افزوں ہیں اور شام کی سرحد سے غیرملکی مداخلت کار عراق میں مسلسل داخل ہو رہے ہیں۔ عبوری وزیراعظم ابراہیم جعفری کے ترجمان لیث قبہ نے اپنی حکومت کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان قائم کرنے اور شورش پسندوں کو قابو کرنے کے لیے امریکی جرنیلوں سے مشورے مسلسل جاری رہتے ہیں۔ تاہم امریکی جرنیل اور عراق کی کٹھ پتلی حکومت کوئی مثبت نتیجہ آج تک حاصل نہیں کرسکے۔ (مضمون جوناتھن فائنر اور بریڈلے گراہم‘ روزنامہ ڈان‘ ۱۵ مئی ۲۰۰۵ئ)
دوسری طرف‘ نومنتخب اسمبلی کو اس سال کے اختتام تک دستور بنانا ہے ورنہ یہ تحلیل ہوجائے گی۔ دستور بن جانے کے بعد‘ نئے انتخابات کے نتیجے میں نئی اسمبلی وجود میں آئے گی۔ ملک میں ۴۰ سے ۴۵ فی صد تک سنی ہیں مگر ان کو کرد اور عرب قومیتوں میں تقسیم کر کے ۲۰ فی صد کردسنیوں کو اس تعداد سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ سنی جماعت سنی عرب حزب اسلامی کے ترجمان ناصرالعانی نے مطالبہ کیا ہے کہ دستور سازی کے لیے نام نہاد پارلیمنٹ کے بجاے تمام گروپوں کے مستند نمایندوں پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کی جائے‘ ورنہ دستور تسلیم نہیں کیا جائے گا (ڈان‘ ۱۷ مئی ۲۰۰۵ئ)۔ پارلیمنٹ نے ارکانِ پارلیمنٹ پر مشتمل جو ۵۵ رکنی کمیٹی قائم کی ہے اس میں صرف دو سنی ارکان شامل ہیں۔ ابراہیم جعفری نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سنیوں کے جذبات کا احترام کریں گے۔ سنی جماعت بااثر ہے اور اسے شیعہ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ سابق عبوری وزیراعظم ایاد علاوی اور مشیربراے قومی سلامتی قاسم دائود نے بھی جو شیعہ اور رکن پارلیمنٹ ہونے کے ساتھ دستوری کمیٹی کا بھی ممبر ہیں‘ سنیوں کے مذکورہ بالا مطالبے کی پُرزور تائید کی ہے۔ یہ کمیٹی اپنا مجوزہ مسودہ ۱۵ اگست تک تیار کرنے کی پابند ہے۔ یہ مسودہ مجلس کی منظوری سے ۱۵اکتوبر تک قومی استصواب راے (ریفرنڈم) کے لیے پیش کیا جائے گا۔
قبضے کے دو سال مکمل ہونے پر ‘ یہ جائزے لیے جارہے ہیں کہ کس نے کیا حاصل کیا۔ متحدہ عرب امارات کے معروف عربی اخبار الخلیج میں ایک عرب تجزیہ نگار عبدالالہ بلقزیز نے ۲۰مارچ کو اپنے مضمون ’’عراق جنگ کے دو سال‘‘ میں لکھا ہے کہ تیل کے تاجروں‘ بش‘ ڈک چینی اور ان کے رفقاے کار نے اپنے اہداف میں سے تین حاصل کر لیے ہیں۔ پہلا ہدف تیل کی دولت پر قبضہ تھا جو پورا ہوچکا اور وہ سارے اخراجات مع منافع یہاں سے حاصل کررہے ہیں۔ دوسرا ہدف اسرائیل کا تحفظ تھا‘ اس کے حصول کے لیے بھی وہ بہت قریب پہنچ چکے ہیں‘ اور تیسرا ہدف عراق کی تقسیم تھی جو سنی‘ شیعہ اور کرد میں کردی گئی ہے۔ امریکی عوام کو اس سے کیا ملتا ہے؟ اس کا جواب بہت جلد دنیا کے سامنے آجائے گا کیونکہ تیل کی دولت تو یہ دہشت گرد امریکی حکمران خود ہی ہضم کررہے ہیں۔
وقتی طور پر تیل کی دولت پر قبضے کے باوجود ‘عراق میں امریکا کا مقدر ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔ اس کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
۱- امریکا اور بحیثیت مجموعی استعمار کی تاریخ بتاتی ہے کہ حریت پسند قوموں پر استعماری تسلط کبھی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ ویت نام‘ کمبوڈیا‘ کوریا‘ جنوبی افریقہ‘ الجزائر اور بہت سی دیگر مثالیں بالکل واضح ہیں۔
۲- عراق میں مزاحمت بے پناہ قربانیوں کے بعد بڑھ رہی ہے‘ کم ہونے کے دُور دُور تک آثار نظر نہیں آتے۔
۳- قابض فوجوں کے پاس قبضے کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں ہے‘ اس لیے ان کے حوصلے سارے مادی وسائل کے باوجود پست ہوچکے ہیں۔
۴- قابض فوجوں نے قیدیوں پر ابوغریب اور دیگر جیلوں میں جو ننگ ِانسانیت مظالم ڈھائے ہیں‘ عالمی راے عامہ اس پر شدید غم و غصے اور امریکا سے نفرت کا اظہار کر رہی ہے۔ اس میں خود امریکی راے عامہ بھی شامل ہے۔ امریکا کے دو ماہرین سروے ڈیموکریٹ پیٹرہارٹ اور ری پبلکن بِل میک انٹرف نے بتایا ہے کہ امریکی ووٹر عراق پر امریکی پالیسی سے نفرت کا اظہار کر رہا ہے۔ (روزنامہ ڈان‘ ۲۱ مئی ۲۰۰۵ئ)
اس ساری صورت حال سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ عراقی قوم اس آزمایش سے کندن بن کر نکلے گی۔ عراق سے مقامی آمریت کا خاتمہ تو ہوگیا ہے‘ اب بیرونی قبضہ بھی ختم ہوگا۔ اگر عراق حقیقی جمہوریت کے راستے پر چلا تو اس سے اسلامی قوتوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔
امریکی حکومت نے مصر کی معروف دینی و اسلامی تحریک اخوان المسلمون سے باقاعدہ رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور کے ایک قومی اخبار نے اپنے نمایندہ مقیم نیویارک کے حوالے سے مندرجہ ذیل خبر شائع کی ہے:’’امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ مصر کی کالعدم اسلامی تنظیم اخوان المسلمون سے براہ راست اور مستقل بنیادوں پر مذاکرات کیے جائیں۔ بش انتظامیہ نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ اخوان المسلمون مصر کی سب سے زیادہ طاقت ور تنظیم ہے۔ قاہرہ کے ایک مغربی سفارت کار نے معتبر عربی اخبار الشرق الاوسط کوبتایا کہ امریکا سمجھ چکا ہے کہ مصر میں اخوان المسلمون تنظیم اپوزیشن کی ایک طاقت ور تنظیم کا کردار ادا کر رہی ہے‘ لہٰذا بش انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ اخوان المسلمون کے نمایندوں کو واشنگٹن مدعو کر کے ان سے مذاکرات کیے جائیں اور مصر میں اصلاحات کے سلسلے میں اخوان المسلمون سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بات چیت کی جائے‘‘۔ (نواے وقت‘ ۶اپریل ۲۰۰۵ئ)
امریکا اور برطانیہ نے اخوان کو ہمیشہ ایک انتہا پسند مذہبی تنظیم اور مغربی تہذیب سے متنفر بنیاد پرستوں کا ٹولہ قرار دیا ہے۔ اخوان کے رہنمائوں نے اپنی یادداشتوں میں اس حوالے سے بہت سے دل چسپ واقعات بھی بیان کیے ہیں۔ اخوان کے تیسرے مرشدعام سید عمر تلمسانی ؒ تحریر فرماتے ہیں:
امام حسن البناؒ دو مرتبہ انتخابات میں کھڑے ہوئے۔ دونوں مرتبہ غیرملکی استعمار کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی۔ اُس دور کے وزیراعظم نحاس پاشا مرحوم سے حکومتِ برطانیہ نے مطالبہ کیا کہ وہ امام کو انتخاب لڑنے سے منع کر دیں۔ چنانچہ وزیراعظم نے اُنھیں ملاقات کے لیے میناہائوس بلایا۔ امام نے انتخاب سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔ اس پر نحاس پاشا نے امام کو بتایا کہ برطانیہ کی جانب سے دھمکی ملی ہے کہ اس صورت میں مصر کو زبردست خطرے کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ چنانچہ آپ نے ملک ووطن کی سالمیت کو ترجیح دیتے ہوئے انتخاب سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرلیا۔
دوسری مرتبہ بھی استعماری نظام نے آپ کو انتخاب سے باہر رکھنے کی پوری کوشش کی مگر آپ نے اس بار دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔ غیر جانب دار حلقوں کے مطابق راے دہندگان نے بھاری اکثریت سے امام کے حق میں ووٹ ڈالے‘ مگر انتظامیہ نے ووٹوںکی گنتی کے دوران ایسا خوف و ہراس پھیلایا اور ایسی دھاندلی کی کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یوں آپ کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کر دیا گیا۔ (یادوں کی امانت‘ ص ۱۶۱)
دوسری جگہ عمر تلمسانی ؒ لکھتے ہیں کہ ’’مصر میں نقراشی پاشا کی وزارت کے دوران مغربی ممالک کے سب سفیر ایک جگہ جمع ہوئے اور انھوں نے دھمکی آمیز لہجے میں وزیراعظم سے اخوان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ نقراشی پاشا نے اخوان پر پابندی لگادی۔ یہ پہلی پابندی تھی‘ اس کے بعد تو ہماری تاریخ پابندیوں ہی کی تاریخ بن کر رہ گئی‘‘۔ (ایضاً‘ ص ۲۵۰)
اخوان کے چوتھے مرشدعام محمد حامد ابوالنصرؒ نے اپنے احساسات کا تذکرہ یوں کیا ہے: ’’برطانوی سفارت خانے سے مجھے ایک خط ملا جس کے مطابق سفارت خانے کے نمایندے میجرلینڈل مجھ سے ملاقات کے آرزومند تھے۔ میں نے خط کا جواب دینے سے پہلے امام حسن البنا سے اس کی اجازت مانگی۔ انھوں نے مجھے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ ملاقات میں کوئی حرج نہیں۔ ساتھ ہی اخوان کی پالیسی پر مشتمل ایک خط مجھے برطانوی سفارت کاروں کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ اس ملاقات میں کئی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ یہاں برسبیل تذکرہ میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ برطانوی سفارت خانے میں اخوان المسلمون کے متعلق ایک البم تیار کیا گیاتھا جس میں امام حسن البنا کی تصویر کے نیچے انگریزی کی ایک عبارت لکھی ہوئی تھی: ’’مشرق وسطیٰ کا خطرناک ترین آدمی‘‘۔ (وادی نیل کا قافلہ سخت جان‘ ص ۴۷-۵۱)
اب مصر میں نصف صدی کے بعد پہلی مرتبہ یہ امید پیداہوئی ہے کہ ملک کے صدارتی انتخاب میں ایک ہی امیدوار (جو کہ کرنل ناصر کے وقت سے ہمیشہ برسراقتدار صدر ہی ہوا کرتا ہے) کے بجاے ایک سے زاید امیدواران میدان میں اتر سکیں۔ کرنل ناصر‘ انور السادات اور حسنی مبارک نے بالترتیب مصر پر ۱۷ سال‘۱۲ سال اور ۲۴ سال تک حکمرانی کی۔ آخر الذکر ابھی تک تخت پر براجمان ہیں۔ ان کے دونوں پیش رو موت ہی کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے تھے ورنہ جیتے جی انھوں نے کسی کو مدمقابل آنے کی اجازت نہ دی۔ یوں مصر میں صدارتی انتخاب دراصل ’’ریفرنڈم‘‘ ہوتا ہے۔
آمریت کبھی آسانی سے قوموں کی جان نہیں چھوڑا کرتی۔ اس وقت حکمران ٹولے کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔ ملک کے اندر حسنی مبارک اور ان کے چیلوں کے خلاف شدید نفرت ہے۔ عالمی تناظر میں کثیرجماعتی انتخابی نظام کے لیے دبائو بھی ہے لیکن مغرب کو ’’بنیاد پرستوں‘‘ کا بیلٹ کے ذریعے منتخب ہونا بھی کسی صورت قبول نہیں۔ ترکی اور الجزائر اس کے کھلے ثبوت ہیں جہاں نام نہاد مغربی جمہوریت پسندوں نے پوری ڈھٹائی اور منافقت سے عوام کے واضح مینڈیٹ کو ’’جمہوریت کی شکست‘‘ قرار دے کر ’’برعکس نہند نامِ زنگی کافور‘‘ کے معکوس معنی متعین کر دیے تھے۔
مصر کے صدارتی اور عام انتخابات سے قبل وہاں کی بارکونسل کے حالیہ انتخابات کے نتائج بھی ہوا کے رخ کا پتا دیتے ہیں۔ مصر میں اخوان المسلمون پر قانوناً آج بھی پابندی عائد ہے۔ وہ ملکی انتخابات میں اخوان کے نام پر حصہ نہیں لے سکتے‘ البتہ آزادانہ حیثیت میں یا کسی دوسری اپوزیشن پارٹی کے ممبر کے طور پر انتخاب لڑسکتے ہیں۔ موجودہ پارلیمنٹ میں اخوان کے تقریباً تین درجن ارکان اسی انداز میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ پیشہ ورانہ تنظیمیں‘ یعنی بار کونسلیں‘ انجینیروں‘ ڈاکٹروں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی یونینوں اور سوسائٹیوں میں بھی اخوان کی نمایندگی بھرپور ہے کیونکہ ان تنظیموں میں کسی بھی نام سے انتخاب لڑنے کی اجازت مل جاتی ہے۔
مصرمیں گذشتہ سال بار کونسل کے ناظم اعلیٰ‘ اخوان کے پہلے مرشدعام امام حسن البناشہیدؒ کے بیٹے سیف الاسلام البنا ایڈوکیٹ تھے۔ اس مرتبہ اخوان نے حزب الوطنی اور بعض دیگر گروپوں سے اتحاد کر کے یہ انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ کل ۲۴ ارکان ملک بھر سے منتخب کیے جاتے ہیں جو بعد میں صدر‘ سیکرٹری اور ایگزیکٹو کونسل وغیرہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ مقابلہ کانٹے دار تھا۔ ایک جانب اخوان اور حزب الوطنی کے امیدواران تھے تو دوسری جانب حکومتی پارٹی اور ناصری جماعت کا اتحاد میدان میں تھا۔ ایک گروپ کی قیادت سیف الاسلام البنا کر رہے تھے‘ دوسرے کے رہنما سامح عاشور تھے۔
عرب دنیا کے تمام پڑھے لکھے لوگوں بالخصوص شعبہ قانون و عدل سے تعلق رکھنے والے افراد کی نگاہیں ۱۲ مارچ ۲۰۰۵ء پر لگی تھیں۔ اس مرتبہ ان انتخابات کو مغرب میں بھی بہت اہمیت کی نظر سے دیکھا جا رہا تھا۔ مصر میں کل رجسٹرڈ وکلا کی تعداد ایک لاکھ ۲۵ ہزار ہے۔ اخوان نے اپنی حکمت عملی بہت حکمت و تدبر کے ساتھ مرتب کی‘ وہ شراکت کے اصول پر میدان میں اترے۔ کل ۲۴امیدواران کی فہرست میں اخوان کے ۱۰ وکلا اور دیگر پارٹیوں کے ۱۴ وکلا کا نام دیا گیا تھا۔ شام کو نتائج کا اعلان ہوا تو اخوان کے گروپ سے ۱۵ امیدوار کامیاب قرار پائے‘ جب کہ حکومتی اور ناصری اتحاد نے باقی ۹ نشستیں جیت لیں۔ نتائج کی پہلی دل چسپ بات یہ ہے کہ مصری بار کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے اور وہ یہ کہ سابقہ بار کے ناظم اعلیٰ سیف الاسلام البنا ۳۶ ہزار ۹ سو ووٹ حاصل کر کے ممبر منتخب ہوئے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کل ۷۵ ہزار کے قریب پڑنے والے ووٹوں میں سے ۱۲ ہزار ۲ سو ۳۳ ووٹ مسترد ہوئے۔ اگر یہ ووٹ مسترد نہ ہوتے تو شاید نتائج حکومتی اتحاد کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوتے (وکلا جیسی برادری کے اتنی بڑی تعداد میں ووٹوں کا مسترد ہونا بھی حیرت کی بات ہے)۔ (المجتمع کویت ‘شمارہ ۱۶۴۴‘ یکم اپریل ۲۰۰۵ئ۔ مزید تفصیلات اخوان کی ویب سائٹ www.ikwanonline.net پر دیکھی جاسکتی ہیں)
ان انتخابی نتائج سے حکومت بھی پریشان ہے اور ان کے مغربی سرپرست بھی خطرے کی بو سونگھ رہے ہیں۔ مصر میں جمہوریت کی بحالی کے لیے امریکا چند برسوں سے اعلانات کرتا چلا آرہا ہے۔ امریکا کے عرب اور مسلم دنیا میں جمہوری نظام کی حمایت کرنے کے دعوے کی اصل حقیقت کیا ہے؟ یہ ایک الگ سوال ہے مگر اس شور و ہنگامے میں موروثی حکمران اور مستبد آمرانہ حکومتیں اپنی جگہ لرزہ براندام ضرور ہیں۔ حسنی مبارک ایک تسلسل کے ساتھ مغربی دنیا کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ انتخابات اور آزادانہ ماحول کا نتیجہ مصر اور خطے کے دیگر ممالک میں بنیاد پرستوں کی جیت کی صورت میں نکلے گا۔ اٹلی‘ فرانس اور امریکا کے تمام ابلاغی اداروں سے حسنی مبارک کا یہ الارم نشرہوچکا ہے۔
اس سال فروری کے آخر میں حسنی مبارک نے بعض دستوری ترامیم کا اشارہ دیا ہے۔ اس کے مطابق آئین کی دفعہ ۷۶ میں ترمیم کرتے ہوئے صدارتی انتخاب میں دیگر امیدواروں کو بھی شرکت کی اجازت دے دی جائے گی۔ اس انتخاب کا طریق کار اور قواعد کیا ہوں گے؟ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
اخوان المسلمون نے صدر کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ مرشدعام محمد مہدی عاکف نے مکتب ارشاد سے مشاورت اور غوروخوض کے بعد قاہرہ میں ۲۳ مارچ کو مطالبات پر مشتمل ایک جامع بیان جاری کیا‘ جسے عالم عرب و غرب کے پریس میں نمایاں جگہ ملی۔ اس کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
۱- ایمرجنسی کا فوری اور مکمل خاتمہ۔ ایک ایسی فضا کا قیام جس میں حقیقی جمہوریت پنپ سکے۔ عام جلسے جلوسوں کی آزادی‘ تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی‘ خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے روا رکھے جانے والے جسمانی و نفسیاتی تشدد کا مکمل خاتمہ۔
۲- تمام خصوصی عدالتوں اور قوانین کا مکمل خاتمہ‘ بالخصوص پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ اور ٹریڈ یونینز لا وغیرہ کا خاتمہ جن کی وجہ سے موجودہ سیاسی جمود طاری ہے۔ اخبارات و جرائد کے اجرا اور بلاقید و تفریق سیاسی جماعتوں کی تشکیل کی آزادی۔
۳- ایسے آزاد ماحول اور فضا کا قیام جس میں مکمل طور پر آزادانہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہو اور قوم کی اصل رائے سامنے آسکے۔ صاف شفاف انتخابی فہرستوں کی تیاری‘ قومی شناختی کارڈوں کے اجرا کی جلد تکمیل‘ انتخابات کے تمام مراحل کی عدلیہ کے زیرنگرانی تکمیل‘ انتخابی عمل میں ہر طرح کی بیرونی مداخلت کا کلی سدباب اور امیدواروں کو اپنی مہم چلانے کی مکمل آزادی۔
۴- دستور کے آرٹیکل ۷۶ اور صدارتی انتخابات سے متعلق دیگر دفعات کے لیے صدر کا صوابدیدی اختیار ختم کیا جائے۔ دو مرتبہ سے زاید صدارتی میعاد کے لیے امیدوار بننے پر پابندی لگائی جائے اور عرصۂ صدارت کو چار برس تک محدود کر دیا جائے۔
ان مطالبات کے آئینے میں مصر کی موجودہ تصویر صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ ابھی ان مطالبات کے نتائج و عواقب کے بارے میں سیاسی و فکری حلقے ردعمل اور تجزیے پیش کر رہے تھے کہ دستور کے آرٹیکل ۷۶ میں مثبت اور عوامی جذبات کی ترجمان ترمیم کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ صدر حسنی مبارک نے ترمیم کا ایسا تصور پیش کیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ترمیم بھی کی جائے گی‘ مگر اپنی صدارت کے لیے خطرہ بننے والے ہر امیدوار کا راستہ بھی روکا جائے گا۔ یوں یہ کثیر امیدواری انتخاب ایک ڈھونگ سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔
دوسری طرف حکومتی سطح پر پروپیگنڈے کا ہتھیار بھی خوب استعمال ہورہا ہے (جس کا مشاہدہ ہم اپنے ملک میں بھی کرتے ہیں)۔ حسنی مبارک نے اعلان کیا ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو بیرونی ممالک سے لاکھوں کروڑوں پونڈ آنے شروع ہوگئے ہیں تاکہ مصر کی حکومت کو غیرمستحکم کیا جائے۔ ایسی صورت میں دوسرے امیدوار کی ترمیم پر دوبارہ غور کیا جاسکتا ہے۔ ایک اور کام یہ کیا گیا کہ اخوان کے نائب مرشد عام اور سیاسی معاملات کے نگران ڈاکٹر محمد حبیب کی طرف سے یہ بیان میڈیا میں پھیلا دیا گیا کہ انھوں نے صدرحسنی مبارک یا ان کے بیٹے جمال مبارک کے بطور امیدوار میدان میں آنے کی تائید کی ہے۔ ڈاکٹر محمد حبیب نے زوردار الفاظ میں اس کی تردید کی مگر اس وقت تک یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح دُور و نزدیک زہر پھیلا چکی تھی۔ (المجتمع‘ شمارہ۱۶۴۵‘ ۸ اپریل ۲۰۰۵ئ)
حکومتی بدنیتی سامنے آجانے کے بعد کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں نے اس کے خلاف مزاحمت کا پروگرام بنایا ہے۔ بائیں بازو کی تنظیم سوشلسٹ پارٹی نے اپنے اس نعرے کی بنیاد پر کہ حسنی مبارک کی امیدواری کسی صورت منظور نہیں‘ قاہرہ میں ایک بڑے اجتماعی مظاہرے کا اہتمام کیا۔ حکومت نے اس میں زیادہ رکاوٹ نہیں ڈالی۔اسی طرح حزب الوطنی نے بھی مظاہرہ کیا اور اسے بھی بلاروک ٹوک مظاہرہ کرنے دیا گیا۔ اس کے برعکس اخوان نے ۲۷ مارچ کو پارلیمنٹ کے سامنے پُرامن اور خاموش مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تو اوپر سے نیچے تک پوری مشینری حرکت میں آگئی اور اس مظاہرے کو ناکام بنانے کے لیے پکڑدھکڑ شروع ہوگئی۔ اخوان کے اہم رہنمائوں کو مظاہرے سے قبل ہی پکڑ کر تھانوں میں بند کر دیا گیا۔ اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے دیگر مقامات سے آنے والوں کے لیے راستے مسدود کر دیے گئے۔ مختلف بڑے شہروں میں سے ۶۰اہم رہنما رات کی تاریکی میں گھروں سے گرفتار کر کے نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیے گئے (گویا سب جگہ ایک ہی طریق کار ہے)۔ اس کے باوجود اخوان نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔
اخوان کے مرشدعام محمد مہدی عاکف نے مظاہرے سے ایک دن قبل ہنگامی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق مصری پارلیمنٹ کے سامنے پرامن اور خاموش مظاہرہ ضرور کریں گے۔ جو لوگ رکاوٹوں کی وجہ سے وہاں پہنچنے میں کامیاب نہ ہوں وہ عوامی جلسوں کے لیے مختص معروف میدانوں میں خاموش مظاہرہ کریں گے۔ چنانچہ پارلیمنٹ پہنچنے والے راستوں کو بند کرنے کے باوجود ہزاروں لوگ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان میں نائب مرشد عام اول ڈاکٹر محمد حبیب بھی شامل تھے۔ ۱۰ ہزار مسلح دستوں نے قاہرہ میں بری طرح خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا۔ اس کے باوجود پارلیمنٹ کے علاوہ قاہرہ کے تین دیگر میدانوں میں بھی ہزاروں لوگ مظاہروں میں شریک ہوئے۔ ان میں خاص طور پر قاہرہ کے مرکزی حصے کا میدان رمسیس ثانی اور میدان سیدہ زینب قابلِ ذکر ہیں جو ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنے۔ مظاہرے کے بعد ڈاکٹر محمد حبیب نے کویت کے رسالے المجتمع سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اشتعال کے باوجود ہمارے مظاہرے مکمل طور پر پُرامن رہے۔ ہم نے پابندیاں قبول کرنے سے انکار کیا اور جبر کی قوتوں کے مقابلے پر اپنے سیاسی صبروتحمل اور نظم و ضبط کے ساتھ پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ دستوری ترمیم کے متعلق حکومتی دھوکے بازیوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تحریک کفایہ بائیں بازو کے عناصر پر مشتمل سیاسی جماعت ہے۔ اس کا نعرہ ہے ’’بہت ہوگیا!‘‘ (حسنی مبارک اب نہیں)‘ یعنی Enough is enough۔قاہرہ کے آئی جی پولیس نیبل العزبی نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ اپوزیشن کی جماعت تحریک کفایہ کے ۳۰ مارچ کے مظاہرے کو بھی قوت کے ساتھ روک دیں گے۔
ایک روز قبل مصر کی تمام بڑی یونی ورسٹیوں میں طلبہ نے بڑے بڑے مظاہروں کا اہتمام کیا تھا۔ ان میں ازھر‘ عین شمس‘ اسیوط‘ قاہرہ‘ منیا‘ منصورہ یونی ورسٹیاں شامل ہیں۔ طلبہ دستور میں ترمیم و اضافے کا مطالبہ اور حسنی مبارک کے بیٹے کو نیا صدر بنانے کی مخالفت کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں طلبہ یونینوں پر عرصہ دراز سے عائد پابندی کے خلاف بھی سراپا احتجاج تھے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان میں سے ہر ایک مظاہرے میں ہزاروں طلبہ نے شرکت کی۔
اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکا اخوان کی بے پناہ مقبولیت کو دیکھ کر اس خطے کے لیے کوئی خاص سازش تیار کرنا چاہتا ہے۔ اخوان مغرب کے لیے کبھی بھی قابلِ قبول نہیں رہے۔ اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتدال پسند‘ پُرامن اور جمہوری اقدار کے علم بردار ہیں۔ امریکا کو وہ لوگ قبول ہیں جو اس کی پالیسیوں کو لے کر چلنے والے ہوں خواہ وہ موروثی بادشاہ ہوں‘ فوجی آمر ہوں یا نام نہاد سیکولر سیاست دان۔ عرب دنیا کے مسائل کا حقیقی حل منصفانہ جمہوریت ہے‘ مگر وہ کب اور کیسے آئے گی‘ یہ سوال اپنا جواب چاہتا ہے۔
عرب تجزیہ نگاروں کے مطابق اگرچہ جبر کی گرفت ڈھیلی پڑی ہے‘ تاہم ابھی منزل کافی دُور ہے۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ آمریت اپنے پیچھے موروثی آمریت چھوڑ جاتی ہے تو مغرب اسے برداشت کر لیتا ہے‘ مثلاً شام کے حافظ الاسد کی جانشینی بشارالاسد کے حصے میں آئی۔ لیبیا کے معمر قذافی نے اپنے بعد اپنے بیٹے سیف الاسلام القذافی کو تیار کرلیا ہے اور مصر کے حسنی مبارک اپنے بیٹے کو جانشین بنانا چاہتے ہیں۔ شاہی حکومتوں کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ اُردن کے شاہ حسین کے ربع صدی سے زیادہ ولی عہد کے طور پر معروف بھائی شہزادہ حسن بن طلال بیک جنبش قلم اس منصب سے محروم کر دیے گئے اور مغرب نواز شہزادہ عبداللہ تخت پر براجمان ہوگئے۔ ان سب واقعات کے باوجود لوگوں کی نظریں مصر پر جمی ہوئی ہیں جہاں اخوان ایک مضبوط سیاسی قوت کی حیثیت سے موجود ہیں۔ تبدیلی کا آغاز شاید مصر سے ہو اور اللہ کی توفیق اور عوامی تائید سے کامیابی حاصل ہو۔
۲۶ دسمبر ۲۰۰۴ء پیر کا دن تھا۔ اس سے ایک روز قبل پوری دنیا میں عیسائی مذہب کے پیروکاروں نے اپنی عید (کرسمس) بڑے اہتمام اور تزک و احتشام سے منائی تھی۔ مال دار ملکوں کے سیاح‘ مرد وخواتین سیاحت کے مقامات اور سمندری ساحلوں پر تعطیلات کے مزے لوٹ رہے تھے اور مزے لوٹنے کا ان کا جو انداز ہے‘ اس کا بھرپور اہتمام تھا۔ سالِ نو کی آمد کا پوری دنیا میں شدت سے انتظار تھا۔ سال نو کے جشن جس انداز میںمنائے جاتے ہیں ان کے لیے مادی دنیا اور اس کی لذتوں میں غرق عالمی آبادی اتنے پاپڑ بیلتی اور اس قدر انتظامات کرتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ ایسے میں مشرق کی جانب سے سورج نے ۲۶ دسمبر کے دن کا اعلان کیا ہی تھا کہ ایک قیامت صغریٰ برپا ہوگئی۔ بحرہند کی تہوں کے نیچے ایک ہولناک زلزلے نے انگڑائی لی‘ سمندر بپھر گیا اور موت ہر جانب رقص کرنے لگی۔ عالمی ذرائع ابلاغ پر ایک ہی نام ہر جانب گونج رہا تھا ’’سونامی‘‘۔
لوگ سونامی کی خون آشام تباہ کاریوں کی خبریں خوف و ہراس کے ساتھ سن رہے تھے اور سمندری طوفان کی تباہ کاریوں کی تصاویر دیکھ دیکھ کر حیران و پریشان تھے۔ ہرشخص ایک دوسرے سے پوچھ رہا تھا ’’سونامی‘‘ کیا ہے۔ سونامی دراصل جاپانی زبان کا لفظ ہے جو تباہ کن سمندری طوفان اور زلزلے کے لیے بولا جاتا ہے۔ جاپان ان خطوں میں شامل ہے جہاں تاریخ کے بدترین سمندری زلزلے اور طوفان تباہی مچاتے رہے ہیں۔ جاپان میں ۱۹۰۶ء میں ایک سمندری طوفان آیا تھا جس میں صرف اس ملک کے ایک لاکھ ۴۵ ہزار کے قریب لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ زلزلوں کے ریکارڈ کے مطابق ۱۹۰۶ء کا سمندری زلزلہ جس نے یہ تباہی مچائی اتنا خوفناک تھا کہ اس کے لیے یہ لفظ ایجاد ہوا۔
یہ سمندر اور زمین بلکہ کائنات کی ہر چیز اللہ نے انسانوں کے لیے مسخر کر دی ہے مگر ان سب کا کنٹرول اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ انسان بڑا ترقی یافتہ اور خود کو نہایت طاقت ور سمجھتا ہے مگر حقیقت میں بے بس اور کمزور سی مخلوق ہے۔ اللہ رب العالمین کی عطا کردہ عافیت میں زندگی گزر رہی ہو تو انسان کبھی اس امر پر غور بھی نہیں کرتا کہ یہ تسخیرشدہ کائنات کسی پہلو سے ذرا اپنی ہیئت بدل لے تو کیا ہو جائے گا۔ سونامی کی تباہ کاریوں کی پوری تفاصیل ابھی تک معلوم نہیں ہو سکیں مگر یہ حقیقت ہے کہ لاکھوں انسان لقمۂ اجل بن گئے اور کروڑوں بے گھر ہوگئے۔ ملکوں کے ملک اور ان کی منظم حکومتیں ہل کر رہ گئیں۔ اس طرح حادثے کا ایک پہلو تو واقعاتی ہے جس کی جزئیات آہستہ آہستہ سامنے آرہی ہیں مگر ایک پہلو اخلاقی و طبیعیاتی بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وہی ہے جس نے تمھارے لیے سمندر کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ تم اس سے تروتازہ گوشت لے کر کھائو اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنھیں تم پہنا کرتے ہو۔ تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو‘‘۔ (النحل۱۶:۱۴)
دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے: ’’تمھارا (حقیقی) رب تو وہ ہے جو سمندر میں تمھاری کشتی چلاتا ہے تاکہ اس کا فضل تلاش کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمھارے حال پر نہایت مہربان ہے۔ جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اس ایک کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو‘ وہ سب گم ہوجاتے ہیں مگر جب وہ تم کو بچاکر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ جاتے ہو۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے۔ اچھا تو کیا تم اس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ خدا کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھرائو کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم ا س سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پائو؟ کیا تمھیں اس کا اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمھاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمھیں غرق کر دے اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اس سے تمھارے اس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے‘‘۔(بنی اسرائیل ۱۷:۶۶-۶۹)
سونامی جس نے لاکھوں انسانوں کو نگل لیا وہی ’’سخت طوفانی ہوا‘‘ ہے جس کا اوپر کی آیات میں ذکر ملتا ہے۔ انسان کے لیے ان واقعات میں بڑی عبرت ہے مگر بدقسمتی سے کم ہی لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں۔ بحرہند کے جن جن علاقوں میں یہ تباہی پھیلی ہے وہاں پیشگی اطلاع دینے والا سسٹم موجود نہیں ہے‘ جب کہ بحراوقیانوس میں ایسا انتظام کیا گیا ہے مگر اس انتظام کے باوجود وہاں بھی جب ناگہانی آفت آجاتی ہے تو انسان کی بے بسی نوشتۂ دیوار بن جاتی ہے۔ سونامی کے اس طوفان نے جنوبی ایشیا‘ مشرق بعید اور افریقہ کے ممالک میں تباہی مچائی ہے۔ گذشتہ نصف صدی میں آنے والے زلزلوں میں سے یہ ایک بدترین اور مہلک ترین زلزلہ تھا۔ اس سے انڈونیشیا‘ سری لنکا‘ بھارت‘ تھائی لینڈ اور مالدیپ میں ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے‘ جب کہ بحرہند کے دور دراز جزیرے سیشلز تک ان لہروں نے تباہی مچائی ہے۔
انڈونیشیا کا جزیرہ آچے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ یہ مسلمان اکثریت کا علاقہ ہے۔ یہاں پر مسلمان ممالک اور بالخصوص پاکستان سے جانے والے الخدمت کے وفد نے جو حالات دیکھے ہیں وہ انتہائی دلخراش ہیں۔ الخدمت کے ڈاکٹروں اور رضاکاروں کے وفد کو انڈونیشیا کی اسلامی جماعت ’’جسٹس پارٹی‘‘ کے رضاکاروں کی امداد اور تعاون بھی حاصل ہے مگر یہ بات انتہائی المناک ہے کہ مغربی دنیا کی این جی اوز اب تک کوئی قابلِ ذکر خدمت سرانجام نہیں دے سکیں۔ سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہاں امریکی فوجیوںکی آمد اور کارکردگی ہے۔ امریکا نے اس ناگہانی مصیبت میں جس قلیل امداد (عراق کا ڈیڑھ دن کا خرچ) کا اعلان کیا تھا‘ اس کے ساتھ یہ اڑنگا لگا دیا کہ اس امریکی امداد کو اپنی فوج کے ذریعے استعمال کرے گا۔
امریکی فوج کے بارے میں انڈونیشیا کی حکومت اور آچے کی مقامی آبادی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انڈونیشی نائب صدر نے امریکا سے کہا ہے کہ وہ اپنی فوج کو جلد از جلد واپس بلا لے۔ اندازہ ہے کہ امریکی امداد کے علاوہ بلکہ یواین او کے فنڈ سے مزید رقوم ان فوجیوں کی دیکھ بھال پر خرچ ہوجائیں گی۔
نیویارک ٹائمز نے جین پرلیز (Jane Perlez) کی رپورٹ کے مطابق انکشاف کیا ہے کہ تین بحری جنگی جہاز سان ڈیگو سے ۲ ہزار امریکی میرین عراق منتقل کر رہے تھے مگر ان سب کو بھی انڈونیشیا بھیجنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ کالم نگار نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان جہازوں کو ڈوبتے ہوئے لوگوں کو بچانے کے بجاے فوجیوں کو وہاں بھیجنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے بقول یہ بہرحال سیاسی فیصلے ہیں۔ ۲۰ ہزار کے قریب امریکی فوجی یہاں براجمان ہیں۔
زلزلے کی خبر ملتے ہی امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے مصیبت زدگان کی امداد کے لیے قوم سے اپیل کی۔ ہر بستی اور محلے میں کیمپ لگ گئے۔ لوگوں نے حسبِ توفیق الخدمت کے ان کیمپوں میں امدادی رقوم جمع کرانا شروع کر دیں۔ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اور الخدمت کا ایک چھ رکنی وفد امداد لے کر انڈونیشیا روانہ ہوگیا۔الخدمت کے وفد نے رابطہ کرکے بتایا ہے کہ امریکی فوجی کسی کام میںکوئی حصہ نہیں لے رہے بلکہ آرام سے اپنے مقامات پر پڑے ہیں۔ عیسائی مشنری امداد کے بہانے آچے میں مسلمانوں کے یتیم بچوں اور مفلوک الحال لوگوں کو عیسائی بنانے پر لگے ہوئے ہیں‘ جب کہ مسلمان رضاکار تنظیموں کو وہاں کام ہی نہیں کرنے دیا جا رہا۔ عیسائی تنظیمیں ہر جانب سرگرمِ عمل ہیں اور رقم اقوام متحدہ اور مسلمان ممالک کی استعمال کر رہی ہیں۔
اللہ نے اپنے انبیا کے ذریعے انسانوں کو بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بتا دیا ہے کہ ان کی غفلت‘ بغاوت‘ نافرمانی اور ظلم و عدوان پر وہ ایک حد تک مہلت دیتا ہے مگر کبھی کبھار وہ رسی کھینچ بھی لیتا ہے۔ ظالموں کے لیے یہ اللہ کا عذاب ہوتا ہے مگر اس میں بے گناہ بھی آجاتے ہیں‘ ان کے حق میں یہ ابتلا شمار ہوتی ہے اور اس ابتلا پر اللہ کے ہاں اجر ملتا ہے۔ اس قیامت صغریٰ کے بعد متاثرین کی طرف سے مختلف قسم کے ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ کچھ لوگ مسلم اور غیرمسلم آبادیوں میں سے یکساں برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے انسانی ظلم و زیادتی پر تنبیہہ اور سرزنش ہے۔ کچھ لوگ اُلٹا خدا کا شکوہ بھی کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر غور کرے تو یہ تمام مصائب اس کے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ تو بہت سے گناہوں پر اپنے عفوودرگزر کی وجہ سے پردہ ڈال دیتا ہے اور ڈھیل دیے چلا جاتا ہے۔ اس کا ارشاد ہے: ’’تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے‘ تمھارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے‘ اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی درگزر کر جاتا ہے۔ تم زمین میں اپنے خدا کو عاجزکر دینے والے نہیں ہو‘ اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی و مددگار نہیں رکھتے‘‘۔ (الشوریٰ ۴۲:۳۰-۳۱)
متاثرہ علاقوں میں کئی معجزات بھی رونما ہوئے ہیں۔ اللہ نے کئی لوگوں کو یوں بچا لیا ہے کہ ان کے بچ جانے کی کوئی توجیہہ اس کے سوا ممکن نہیں کہ کسی غیرمرئی قوت نے انھیں محفوظ رکھا ہے۔ یہ غیرمرئی قوت مغرب و مشرق کے مادہ پرست انسانوں کے لیے اجنبی ہوسکتی ہے۔ مگر اس کائنات کے سمیع و بصیر خالق پر ایمان رکھنے والے لوگوں کے لیے اس میں کوئی اچنبھا نہیں بلکہ ایمان افروز نشانی ہے۔ کئی مساجد میلوں تک تباہ ہوجانے والے علاقوں میں اپنی جگہ مضبوطی کے ساتھ جوں کی توں کھڑی ہیں جو ایک حیرت ناک عجوبہ ہے۔ مغربی میڈیا بالخصوص اے ایف پی اور رائٹر کے حوالے سے ایسی بہت سی خبریں اور فیچر سامنے آئے ہیں جن میں اس پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ آچے (انڈونیشیا) کی ان عظیم الشان مساجد کے بارے میں اے ایف پی کے الفاظ ہیں:
Indonesia's indestructible mosques defy quake tidal waves.
یعنی انڈونیشیا کی مضبوط مساجد زلزلے کی منہ زور لہروں کا منہ چڑا رہی ہیں۔ بے شمار لوگ ان علاقوں میں مساجد میں پناہ لینے کی وجہ سے محفوظ رہ گئے۔ جس سونامی تباہ کار ریلے نے بستیوں کی بستیاں نگل لیں اور عمارتوں کے نام و نشان تک مٹ گئے‘ اس کے سامنے ان مساجد کا اپنی جگہ مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہنا ایک ایمان افروز واقعہ اور ان کے معماروں کی مہارت و احتیاط کی دلیل ہے۔ کئی سال قبل مجھے ایک مرتبہ افریقہ کے ملک زامبیا میں ایک یونانی نومسلم ملا تھا۔ میں نے اس سے اس کے قبولِ اسلام کا سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ ترکی میں استنبول کی نیلی مسجد (blue mosque) نے اسے مسلمان بنا دیا۔ اس مسجد کی خوب صورتی‘ شان اور مہارت دیکھ کر اس کے دل نے گواہی دی کہ اس عبادت خانے کی تعمیر کرنے والے اور اس میں عبادت کرنے والے جھوٹے لوگ نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح کے واقعات آہستہ آہستہ ان علاقوں سے بھی موصول ہورہے ہیں۔
اللہ نے اس کائنات کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے اور اسے یہ حکم دیا ہے کہ وہ خود کو اپنی آزاد مرضی سے اللہ کے احکام کا تابع (مسخر) بنا دے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اسے عظیم الشان انعام ملے گا‘ بصورت دیگر اسے شدید عذاب کا مزا چکھنا پڑے گا۔ یہ انعام اور پکڑ اس زندگی کے بعد دوسری زندگی میںہوگی مگر اس زندگی میں اللہ انسانوں کو جھنجھوڑتا رہتا ہے تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں۔ اس کا ارشاد ہے: ’’اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا انھیں چکھاتے رہیں گے‘ شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آجائیں‘‘۔ (السجدہ۳۲:۲۱)
سونامی کے اس حادثۂ جاں کاہ پر جہاں اظہارِ غم کرنا انسانی اور بشری تقاضا ہے وہیں متاثرین کی امداد اور بحالیاتی انسانی اور دینی فرض ہے۔ اس کے علاوہ اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنا‘ انسانیت کو اس تناظر میں اصلاحِ احوال کی دعوت دینا اور بغاوت و سرکشی کی روش ترک کرنے کی سنجیدہ کوشش اور منصوبہ بندی بھی بہت ضروری ہے۔ ہم مسلمان اپنے مسلمان ہونے کے ناطے داعیانِ الی الخیر قرار دیے گئے ہیں۔ ہمارا فرض منصبی امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ آج کا دور ذرائع ابلاغ اور اطلاعات کا دور ہے۔ اُمت کے تمام ذی شعور لوگوں کو انسانیت سے دردِ دل کے ساتھ اپیل کرنی چاہیے کہ وہ اپنا مقام پہچانیں‘ اپنے خالق و مالک کو پہچانیں اور خود کو مالکِ حقیقی کا خلیفہ ثابت کریں۔
تیل کی دولت سے مالا مال ممالک کے حکمرانوں اور اہلِ ثروت نے مادہ پرستی کی دوڑ اور عیش و عشرت کے ریکارڈ قائم کرنے میں ایک دوسرے کا خوب مقابلہ کیا ہے‘ تاہم عرب ممالک کے ان مال دار مسلمان حکمرانوں نے کسی نہ کسی انداز میں خود کو اسلام کا خادم ثابت کرنے کی بھی ضرور کوشش کی ہے۔ سعودی عرب‘ کویت‘ قطر اور بحرین کے مختلف ادارے دنیا بھر میں اسلامی تعلیمات‘ لٹریچر اور دیگر شعبوں میں خدمات سرانجام دینے کے لیے خاصے خطیر بجٹ مختص کرتے ہیں۔ لیبیا بھی تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں بھی ملک کے مقتدر حاکم اعلیٰ کرنل معمر القذافی نے سرکاری سرپرستی میں انقلاب کے بعد ایک تنظیم ۱۹۷۲ء میں قائم کی جس کا نام جمعیۃ الدعوۃ الاسلامیہ العالمیہ ہے۔ انگریزی میں اسے World Islamic Call Society لکھا جاتا ہے جس کا مخفف وکس (wicks) ہے۔
رابطہ عالم اسلامی اور دارالافتا کے انداز میں اس تنظیم نے بھی دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے مبعوثین‘ معلمین اور دعاۃ مقرر کیے‘ مدارس قائم کیے اور لٹریچر پھیلانے کے علاوہ رفاہی کاموں کے ذریعے اپنے ملک کے لیے خیرسگالی کے جذبات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس تنظیم کے بانی تو خود قذافی صاحب ہیں مگر اس کے پہلے سیکرٹری جنرل اور روح رواں شیخ محمود صبحی صاحب تھے۔ شیخ محمود وضع قطع اور لباس سے بھی روایتی عالمِ دین نظر آتے تھے۔ اب اس طرح کا ایک بھی شخص لیبیا میںنظر نہ آیا۔ آج کل اُس تنظیم کے سیکرٹری جنرل قذافی صاحب کے قریبی ساتھی‘ معتمد اور لیبیا کی ایک مؤثر و طاقت ور شخصیت الشیخ ڈاکٹر محمد احمد شریف ہیں۔ یہ تنظیم ہر چار سال بعد اپنی عالمی کانفرنس منعقد کرتی ہے۔ گذشتہ کئی چارسالہ کانفرنسیں دیگر ممالک میں منعقد ہوتی رہی ہیں کیونکہ لیبیا آنے جانے میں بھی مہمانوں کو مشکلات تھیں اور اشیاے ضروریہ کی فراہمی میں دقت کی وجہ سے یہاں ان کی مہمان نوازی بھی محال تھی۔ اس مرتبہ پابندیاں ہٹنے کے بعد یہ کانفرنس طرابلس میں منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا۔ چار روزہ کانفرنس کی تاریخیں ۲۵ تا ۲۹نومبر ۲۰۰۴ء طے ہوئیں۔ سابقہ کانفرنس جکارتہ میں منعقد ہوئی تھی۔
شیخ محمود صبحی صاحب کے دور میں کئی مرتبہ لیبیا کی کانفرنسوں میں شرکت کا دعوت نامہ ملتا رہا مگر میں بوجوہ معذرت ہی کرتا رہا۔ اس مرتبہ مجھے جماعت اسلامی کی طرف سے اس کانفرنس میں شرکت کی ہدایت کا حکم ملا تو سوچا کہ لیبیا کے بدلے ہوئے حالات کا کچھ مطالعہ کرنے کا بھی موقع مل جائے گا اور مختلف ممالک سے آنے والے پرانے دوستوں سے بھی ملاقات کی سبیل نکل آئے گی۔ خواہش کے پہلے حصے کا محدود ہی موقع مل سکا کیونکہ ایک تو وقت مختصر تھا اور وہ سارا کانفرنس کے طے شدہ اجلاسوں میں شرکت ہی کے لیے مختص تھا۔ دوسرے‘ ہمارا قیام طرابلس ہی میں تھا‘ کہیں اور جانے کا موقع اور وقت دستیاب نہ تھا۔ تیسرے‘ یہ معاشرہ اپنی بعض اسلامی اور بدوی خوبیوں کے باوجود خاصا جکڑا ہوا اور محدود ہے۔ اشتراکی خصوصیات اور یک جماعتی نظام کی جملہ ’’برکات‘‘ یہاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ ہر شخص دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ سہما ہوا اور خوف زدہ معاشرہ کبھی کھلے اور بے تکلف ماحول سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ نتیجتاً معلومات خاصی محدود اور چھنی چھنائی ہوتی ہیں۔ صحافت بہت ترقی یافتہ نہیں ہے۔ لیبیا کا سرکاری ٹی وی الجماھیریہ بھی بالکل محدود نوعیت کی معلومات اور کنٹرولڈ پروگراموں پر مشتمل نشریات و ابلاغیات فراہم کرتا ہے۔ قطر کا الجزیرہ چینل یہاں مقبول ہے اور آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔
اس کانفرنس میں دنیا کے تقریباً ۱۲۵ ممالک سے مندوبین مدعو تھے۔ مرد بھی تھے اور خواتین بھی اور کانفرنس بالکل مخلوط نوعیت کی تھی۔ ایسی اسلامی کانفرنس راقم نے زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھی۔ مردوں اور عورتوں کو کانفرنسوں میں شریک تو دیکھا تھا مگر حدود‘ نشستوں کا تعین ہمیشہ ملحوظ رہا۔ اس کانفرنس کا رنگ بالکل دوسرا تھا۔ اس پر تفصیلاً لکھنے کا یہ موقع نہیں۔ غیرملکی مندوبین کی تعداد ۳۵۰ سے زائد تھی۔ کئی ممالک سے ایک سے زائد تنظیموں کی نمایندگی تھی۔ تنظیموں کی تعداد ۲۰۰ سے زائد تھی۔ پاکستان سے مولانا فضل الرحمن‘ مولانا سمیع الحق‘ راجا ظفرالحق اور راقم کے علاوہ حکمران پارٹی کے حافظ طاہر اشرفی اور جامعہ بنوریہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر شریک تھے‘ جب کہ اہم مہمانوں میں افغانستان کے دو سابق صدور صبغۃ اللہ مجددی اور پروفیسربرہان الدین ربانی‘ تنزانیہ کے سابق صدر علی حسن موینیی اور کئی ممالک کے سابق اور موجودہ وزرا کے نام نظر آئے۔ اتفاق سے افغانستان اور تنزانیہ کے سابق صدور سے پرانی ملاقات تھی۔ جناب علی حسن سے تجدید ملاقات بہت مفید رہی۔ انھوں نے کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ اب انھوں نے عملی سیاست چھوڑ دی ہے اور خود کو دعوتِ اسلام کے لیے وقف کر دیا ہے۔
کانفرنس کا ایجنڈا پہلے سے طے شدہ تھا۔ تنظیم کی کارکردگی رپورٹ‘ عالمی جدوجہد اور سرگرمیوں کا جائزہ‘ سرمایہ کاری کے منصوبے اور ان کی رپورٹ‘ لیبیا میں قائم الکلیۃ الاسلامیہ اور دیگر بیرون ملک قائم ہزاروں تعلیمی و نشریاتی اداروں کا تعارف سامنے آیا۔ مختلف لیکچر بھی ہوئے مگر سب کچھ طے شدہ پروگرام کے تحت تھا۔ کانفرنس کا افتتاح کرنل قذافی صاحب کی نیابت میں سیرالیون کے پہلے مسلمان صدر احمد تیجانی کعبہ نے کیا۔ قذافی صاحب ملک میں موجود تھے مگر وہ کانفرنس میں تشریف نہیں لائے۔ افتتاحی سیشن میں فلپائن کے نائب صدر‘ پوپ جان پال کے نمایندے‘ قبطی چرچ مصر کے آرچ بشپ کے نائب اور یونانی گرجا کے چیف کے نمایندے نے بھی شرکت کی اور خیرسگالی جذبات کا اظہار کیا۔ مختلف اجلاس مختلف اہم عالمی شخصیات کی صدارت میں منعقد ہوئے۔ ان میں کوئی ایشیائی ریجن سے نہیں تھا۔ کسی بھی صدر کا صدارتی خطاب پروگرام میں شامل نہ تھا۔ ہر صدر محض مقررین کے نام پکارنے اور انھیں وقت کی تحدید اور یاد دہانی کا فرض ادا کرتا رہا۔ آخری سیشن میں ۳۶ رکنی مجلس انتظامیہ کا انتخاب بصورت تقرر عمل میں آیا۔ پاکستان سے پہلے ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ممبر تھے۔ اس مرتبہ راجا ظفرالحق کو شامل کیا گیا۔ ڈاکٹر محمد احمد شریف حسب سابق سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ مشترکہ اعلامیہ پڑھا گیا اور اس تجویز کو بڑی پذیرائی ملی کہ ’’قائد انقلاب‘‘ کو ان کی خدماتِ جلیلہ پر مبارک باد کا تار بھیجا جائے۔ پاکستان کے معروف عالم دین اور تنظیم کے بانی رکن مولانا علامہ شاہ احمد نورانی مرحوم کے لیے اسٹیج سے خصوصی طور پر دعاے مغفرت کرائی گئی۔ کانفرنس میں اسلام کو دین گوسفنداں کے طور پر پیش کرنے کا تجربہ کیا گیا مگر سامعین جہاد کے حقیقی معنوں سے آشنا تھے۔ اس کا اظہار بھی ہوتا رہا جودل چسپ اور ایمان افروز تھا۔
یہ توکانفرنس کے متعلق چند اشارات تھے۔ اب عمومی مطالعے اور تاثرات کے حوالے سے چند باتیں پیش خدمت ہیں۔
لیبیا شمال مغربی افریقہ میں واقع ایک اہم ملک ہے۔ اس ملک کی تاریخ تابناک ہے۔ گذشتہ دو صدیوں کی اہم اصلاحی و تجدیدی سنّوسی تحریک کا مولد و مرکز اور ہماری تاریخ جہاد کے عظیم بطلِ جلیل عمر المختار کا مسکن و موطن ہونے کا اعزاز اس ملک کو حاصل ہے۔ ملک کا رقبہ ۱۷لاکھ ۵۹ ہزار مربع کلومیٹر ہے جو پاکستان سے تقریباً دگنا ہے‘جب کہ آبادی صرف ۵۶ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس آبادی کا بھی بیشتر حصہ دو بڑے شہروں دارالحکومت طرابلس (۲۴ لاکھ افراد) اور بن غازی (ساڑھے سات لاکھ) میں آباد ہے۔ باقی ماندہ آبادی چھوٹے چھوٹے قصبات اور نخلستانوں میں مقیم ہے۔
ملک میں یک جماعتی نظام رائج ہے۔ یکم ستمبر ۱۹۶۹ء سے لیبیا پر کرنل معمرالقذافی کی حکومت ہے۔ پورے ملک میں ایک ہی شخصیت اور ایک ہی نام زبانوں اور ذہنوں میں جاگزین ہے اور یہ قائد‘ فاتح الاخ معمرقذافی کاہے۔ وزیراعظم‘ کابینہ اور انتظامیہ کے دیگر عہدے سبھی موجود ہیں مگر کوئی اجنبی چند ایام کے لیے یہاں مقیم رہنے کے باوجود ذرائع ابلاغ سے مشکل ہی سے کسی نام سے مانوس ہوسکتا ہے۔ الاخ القائد کے بعد اگر کوئی دوسرا نام سامنے آتا بھی ہے تو وہ خانوادئہ قذافی کا ’’ہونہار‘‘ نوخیز سپوت سیف الاسلام القذافی ہے۔
لیبیا کے انقلاب ستمبر‘ جسے مقبول اصطلاح میں انقلابِ فاتح کہا جاتاہے‘ کے وقت ملک کی آبادی ۲۰ لاکھ سے بھی کم تھی۔ اس وقت پٹرولیم کی دولت دریافت ہوئے ۱۱ سال بیت گئے تھے اور ملک میں خوش حالی کا دور شروع ہوگیا تھا‘ تاہم عام آدمی اور بالخصوص فوجی جوان و افسران عدمِ اطمینان کا شکار تھے۔ ۲۷ سالہ کرنل معمر قذافی نے ملک کے تاجدار شاہ ادریس سنوسی کا تختہ الٹ کر ملک میں یکم ستمبر ۱۹۶۹ء کو فوجی راج قائم کر دیا۔ لیبیا بادشاہت سے آزاد ہو کر فوجی تسلط کے ’’مزے لوٹنے‘‘ لگا۔ قذافی صاحب نے آخر کار اسے جماھیریہ (جمہوریہ) لیبیا بنا دیا۔ اس کے نام کے ساتھ سوشلسٹ‘ اسلامی اور عرب وغیرہ کے سابقے لاحقے لگتے اور اترتے رہے مگر جماھیریہ کا جھومرمسلسل اس کے ماتھے پر درخشاں رہا۔
معمر قذافی صاحب نے ملک میں اصلاحات کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا۔ پیپلز کانگرس (پارلیمنٹ) وجود میں آئی۔ سیاسی جماعت قائم کی گئی۔ کمیونٹی مراکز بنے اور یک جماعتی نظام کے ذریعے نیچے سے اوپر تک نمایندے ’’منتخب‘‘ ہوئے۔ جماھیریہ کی جمہوریت ہمارے دورِ ایوبی کی بنیادی جمہوریتوں‘ سابقہ کمیونسٹ روس کے نظامِ جماعت (پولٹ بیورو) اور انڈونیشیا کے فوجی دورکے نظامِ حکمرانی کا ملغوبہ ہے۔
پولٹ بیورو کے طرز پر حکمران جماعت ملک کا نظام چلا رہی ہے۔ اس کے مقابلے پر کوئی جماعت بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ طرابلس کی سڑکوں پرسب سے زیادہ مقبول اور عام نظرآنے والا نعرہ چاکنگ یا بینرز اور ہینگرز کی صورت میں ’’فاتح ابداً‘‘ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایک فقرے سیاسی فکر کو اجاگر کرنے کا ذریعہ ہیں۔ مثال کے طور پر ایک عام فقرہ طرابلس کی دیواروں پر آپ کو نظرآئے گا: من تحزّب فقد خان‘ یعنی جس کسی نے (یک) جماعتی نظام کے اندر گروہ بندی کی کوشش کی‘ گویا اس نے خیانت کا ارتکاب کیا۔
معمر قذافی ایک حکمران ہی نہیں ’’مفکر‘‘ بھی ہیں اور ’’مبلغ‘‘ و ’’داعی‘‘ بھی۔ انھوں نے اس صحرائی ملک کے عوام کو نئی سوچ اور جہت سے ہم کنار کیا ہے۔ وہ عالمی راہنما بننے کا داعیہ اور عزم رکھتے تھے۔ سرخ کتاب کی طرز پر سبز کتاب (Green Book) مرتب کی۔ ان کے ایک قریبی مشیر کے بقول‘ عالم اسلام نے ان کو مایوس کیا۔ پھر انھوں نے عرب ممالک کو متحد و منظم کرنے کے لیے منصوبہ بندی اور محنت کی مگر یہ تو مینڈکوں کی پنسیری تولنے جیسا ناممکن عمل ثابت ہوا۔ آخرکار ان کی توجہ براعظم افریقہ پر مرتکز ہوئی۔ برطانیہ میں مقیم ان کے ایک مشیر نے جس کا اپنا پس منظر بھی افریقی ہے‘ ان کے اس نئے تصور کی بہت تحسین کی اور کہا کہ عالمِ اسلام اور عالمِ عرب میں اقدارِ مشترک کم اور تضادات زیادہ ہیں‘ جب کہ افریقہ میں (اس کے بقول) غربت‘ پس ماندگی‘ محرومی‘ بیماری اور جہالت مشترک ہیں۔ قذافی صاحب مبلغ بھی ہیں اور شارحِ دین بھی۔ وہ اپنے صحرائی خیمہ ہائوس میں خود ہی نماز کی امامت کراتے ہیں اور ذرائع ابلاغ کے مطابق غیر مسلموں کو اپنی دعوت سے مسلمان بھی بناتے ہیں۔ میڈیا یہ مناظر پوری باقاعدگی سے دکھاتا ہے۔ ہمیں بھی ایسا ایک منظر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ آٹھ مرد اور دو خواتین نے ان کے خیمے میں بیرونی مہمانوں کی موجودگی میں ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ یہ سب افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے مزدور تھے جو یہاں تلاشِ معاش کے لیے مقیم ہیں۔
کرنل قذافی کی قیادت میں لیبیا نے گذشتہ ۳۵ سالوں میں بڑے بڑے تجربات کیے ہیں۔ کئی ممالک سے اتحاد و وفاق کی کوششیں ہوئیں۔ وفاق و وصال ختم ہوا تو عناد و محاذ آرائی کا مرحلہ آیا۔ سب سے اہم معاملہ مغربی بلاک اور خصوصاً امریکا سے محاذ آرائی سے متعلق ہے۔ اس کاڈراپ سین بھی عجیب ہے۔ برطانیہ کی کامیاب سفارت کاری کے طفیل اور امریکا کے عراق میں جمہوریت و آزادی کی مہم جوئی کے بالواسطہ نتائج و ثمرات کے نتیجے میں قذافی صاحب نے ’’مدبرانہ‘‘ فیصلہ کیا کہ محاذآرائی اور تصادم کی پالیسی ترک کرکے مکالمہ و مذاکرہ اور افہام و تفہیم کی راہ نکالی جائے۔ ہتھیاروں سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ ہتھیار بنانے کا جنون چھوڑ کر پرامن بقاے باہمی بلکہ گاندھی جی کے نظریے کے مطابق اہنسا (عدمِ تشدد) ہی بہترین حکمتِ عملی ہے۔ اسے آزمانے میں کیا ہرج ہے۔
لیبیا پر اس کی سابقہ پالیسیوں کی وجہ سے کم و بیش ۱۳ برس تک امریکی دبائو کے تحت اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مکمل معاشی مقاطعہ اور گوناگوں پابندیوں کا زمانہ خاصا تکلیف دہ ثابت ہوا۔ تیل کی دولت کے باوجود معاشی حالات شدید سے شدید تر ہوتے چلے گئے۔ لیبیا کے دینار کی قیمت مایوس کن حد تک گر گئی۔ اشیاے ضروریہ حتیٰ کہ عام مشروبات تک کی دستیابی ناممکن ہوگئی‘ دوائوں کا حصول بھی ایک پریشان کن دردِسر کی صورت اختیار کرگیا۔ اہلِ لیبیا کے لیے سفر اوردنیا میں اِدھر اُدھر جانے آنے کے راستے مسدود ہوکررہ گئے۔ افراطِ زر اور کرپشن نے ڈیرے ڈال دیے۔ یہ صورت حال عالمی مقاطعہ ختم ہونے کے بعد ہنوز کسی حد تک قائم ہے۔ طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترتے ہی احساس ہوتا ہے کہ کسی تیل پیدا کرنے والے مال دار ملک کی بجاے تیسری دنیا کے کسی مفلوک الحال علاقے میں آپہنچے ہیں۔ سڑکوں کی حالت بھی ناگفتہ ہے اور عام آدمی عسرت میں زندگی گزار رہا ہے۔ سرکاری ملازمین اپنی ملازمت کے علاوہ کئی اور کام کرنے پر مجبور ہیں تاکہ گزربسر کر سکیں۔
حکومت نے زرعی شعبے کو ترقی دینے کی طرف خصوصی توجہ دی ہے مگر ملک بنیادی طور پر زرعی ماحول نہیں رکھتا۔ زمین زرخیزتو ہے مگر پانی دستیاب نہیں۔ بارشوں پر دارومدار ہے اور بارشوں کا کوئی بھروسا نہیں ہوتا۔دارالحکومت کے گرد و نواح کے مضافاتی علاقوںمیں زیتون‘ انگور‘ مالٹے اور نارنجی کے چھوٹے چھوٹے باغات دُور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ مرکز شہر سے ہوائی اڈے تک جانے والی سڑک کے ساتھ ساتھ دونوں جانب بھی باغات ہیں۔ شہر کے مرکزی حصے میں بلندوبالا عمارتیں‘ بنکوں کے دفاتر‘ سرکاری عمارتیں اور وزارتوں کے ہیڈ کوارٹر تیل کی دولت کا تاثر دیتے ہیں۔دارالحکومت کے بیشتر بڑے بڑے ہوٹل سمندر کے کنارے واقع ہیں۔ ہمارا قیام فندق باب البحرمیں تھا۔ اس کے جوار میں فندق باب المدینہ اور فندق باب الجدید واقع ہیں‘ جب کہ ذرا فاصلے پر فندق المہاری کی بلندوبالا اور نسبتاً جدید عمارت سیاحوں کا مرکز ہے۔
لیبیا کے عام لوگوں بالخصوص انقلاب کے بعد کی نسل کے نوجوانوں کی بڑی تعداد فوجی تربیت سے گزری ہے۔ کئی شعبوں میں پاکستان کی طرح فوجی جوان و افسران خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کا رویہ عموماً سخت اور ہر شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کا ہوتا ہے۔ پرانی نسل کے لوگ مقابلتاً زیادہ مذہبی اور روحانیت کی طرف مائل ہیں۔
فقہی مسلک مالکی ہے مگر صوفیا کا معاشرے پر بڑا گہرا اثر ہے۔ تیجانی‘ شاذلی‘ قادریہ اور کسی حد تک دیگر سلسلہ ہاے تصوف سے وابستگان مساجد میں نمازوں کے بعد بلند آواز سے ذکر اللہ کرتے ہیں جو مسنون دعائوں اور کلامِ نبویؐ کے الفاظ و اوراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ نہایت خوش آیند بات ہے۔ مذہبی حلقوں میں جامعۃ الازہر کا بھی بڑا اثر ہے۔ مسجدوں کے ائمہ اور خطبا میں کوئی ایک بھی باریش نظر نہ آیا۔ یہ نئی تبدیلی ہے۔ شاہی دورِ حکومت میں ایسا نہ تھا۔ خود شاہ ادریس کی بھی مکمل اور مسنون ڈاڑھی تھی۔ جمعیت اسلامی کے پہلے سیکرٹری جنرل جن کا تذکرہ اوپر کیا گیا برعظیم کے مسلمان علما کی تصویر تھے مگر اب وہ سب کچھ قصۂ پارینہ ہے۔
ادارہ معارف اسلامی کے قیام کے ساتھ ہی اس کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد باصلاحیت نوجوانوں کو تحقیق کے عمل سے گزارنا اور علومِ اسلامیہ و عصریہ میں اسلام کی ترجمانی کے قابل بنانا تھا۔ اس کام کے بارے میں سوچ و بچار ہوتی رہی مگر عملاً اس کا آغاز نہ ہوسکا۔ آخرکار ایک مشاورت میں طے پایا کہ پہلا قدم اگرچہ لڑکھڑاتے ہوئے اٹھایا جاتا ہے مگر منزل تک پہنچنے کے لیے پہلا قدم ہی اولین ترجیح اور تقاضا ہوتا ہے۔ اس سوچ کے بعد پہلا قدم اٹھانے کا فیصلہ ہوگیا۔
ابتدائی مرحلے میں تین ماہ کا تصنیفی و تربیتی اقامتی پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اشتہار کے ذریعے ایم اے پاس یا اس کے برابر دینی تعلیم کے حامل نوجوانوں کو اس پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ ۲۵ درخواستیں موصول ہوئیں۔ انٹرویو کے بعد آٹھ نوجوانوں کا انتخاب ہوا جنھوں نے اس پروگرام میں شرکت کی۔
۱۴ اپریل سے ۱۴ جولائی ۲۰۰۴ء تک تحقیقی و تصنیفی تربیتی پروگرام ادارہ معارف اسلامی‘ منصورہ لاہور میں منعقد کیا گیا۔ اس میں عربی‘ انگریزی‘ فارسی (ابتدائی) کی تعلیم دی گئی۔ درست اردو لکھنے کی مشق کرائی گئی۔ مختلف موضوعات پر مہمان مقررین نے ایک گھنٹے سے دوگھنٹے تک کے لیکچر دیے۔ سوال و جواب کی نشست بھی ہر خطاب کے بعد ہوئی۔ بیشتر خطابات ریکارڈ کیے گئے۔ درجن بھر منتخب کتب کا مطالعہ کرایا گیا۔ ان میں تنقیحات‘ تفہیمات (اول)‘ سنت کی آئینی حیثیت‘ اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی‘ محسن انسانیتؐ‘ مشاہدات‘ رسائل و مسائل اور چند ادبی کتب شامل ہیں۔
شرکا لاہور کی کئی اہم لائبریریوں میں گئے اور مختلف تحریکی رہنمائوں کے ساتھ نشستیں بھی ہوئیں۔ ان میں امیرجماعت اسلامی پاکستان‘ نائب امرا‘ قیم جماعت اور محترم میاں طفیل محمد خصوصاً قابلِ ذکر ہیں۔ مختلف تقاریب کی رپورٹنگ کی مشق کرائی گئی‘ مختلف مسائل اور موضوعات پر مدیرانِ اخبارات کے نام خطوط اور مضامین لکھوائے گئے۔ ان میں سے کئی ایک اخبارات اور رسائل میں شائع بھی ہوگئے۔
آخری ہفتے میں طے شدہ موضوعات پر مقالے لکھنے کے لیے شرکا کو پورا وقت دیا گیا‘ تاہم ان کا قیام ادارے ہی میں رہا۔ الحمدللہ مقالے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ تین ماہ کی مختصر مدت میں شرکا نے کافی منازل کامیابی سے طے کی ہیں۔ اس سارے پروگرام میں ادارے کے تمام احباب و رفقا نے بھرپور حصہ لیا مگر اس کے روحِ رواں ڈائرکٹر ریسرچ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی تھے۔ یہ پہلا قدم تھا لیکن اس سے دوسرے قدم اور پھر اگلا قدم اٹھانے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ آگے کے مراحل کے لیے مشاورت جاری ہے۔
دینی مدارس کا محدود کردار‘ اسباب‘ اثرات(عرفان عادل)‘ پاکستان میں عیسائیت کا فروغ (محمد ریاض)‘ پاکستان میں تحریک حقوق نسواں (محمد رمضان راشد)‘ نصاب تعلیم میں تبدیلیاں (حمیداللہ خٹک)‘ ملٹی نیشنل کمپنیاں: اغراض و مقاصد اور اسلام دشمنی (شیخ افتخار احمد)‘ خانہ بدوش اور ان میں دعوتِ اسلامی (محمد رفیق)‘ منبرومحراب: انقلاب کا پیش خیمہ (حافظ محمد ہاشم)‘ انقلاب کی راہ (عبدالجبار بھٹی)۔
ان مقالہ جات کی تدوین کر کے اخبارات اور رسائل میں اشاعت کے لیے بھی ارسال کیا جائے گا۔
عالمِ اسلام پر امریکی یلغار نے ایک طوفان کی صورت اختیار کرلی ہے۔ یوں تو ہر مسلمان ہی مشکوک اور مشتبہ اور ہر مسلم ملک ’خطرناک‘ سمجھا جا رہا ہے مگر بعض خطے خصوصی توجہ کے مستحق قرار دیے گئے ہیں۔ یمن بھی ان میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی طرح یمنی حکومت امریکا کی حامی‘ اتحادی اور نام نہاد ’خاتمۂ دہشت گردی‘ منصوبے میں فعال کردار ادا کرنے کی سنجیدہ کوشش کر رہی ہے۔ مگر امریکی قیادت کو ابھی تک مکمل اطمینان اور یک سوئی نہیں ہے۔ وقتاً فوقتاًذرائع ابلاغ پر چھائے ہوئے یہودی اور امریکی انتظامیہ میں گھسے ہوئے ان کے شاگرد یہ شوشہ بھی چھوڑتے رہتے ہیں کہ عالمِ جدید کے خطرناک ترین ’دہشت گرد‘ اسامہ بن لادن کا آبائی مسکن یمن ہی میں ہے۔ یہ اپنی جگہ ایک حقیقت بھی ہے کہ بن لادن خاندان سعودی عرب کے بہت سے دیگر طاقتور‘ مال دار اور بااثر خاندانوں کی طرح اصلاً حضرموت (یمن) سے تعلق رکھتا ہے مگر یمن کو نشانۂ انتقام بنانے کے لیے یہ دور کی کوڑی ہے۔
سعودی عرب کے جنوب میں واقع ۵ لاکھ ۲۸ ہزار مربع کلومیٹر رقبہ اور ایک کروڑ ۷۰لاکھ سے زاید آبادی پر مشتمل جمہوریہ یمن میں اس وقت مختلف علاقوں میں حکومتی فوج اور مسلح سرکاری اہل کاروں کا مقابلہ سرکاری ذرائع کے مطابق ’القاعدہ‘ کے جنگجوئوں سے جاری ہے اور دونوں جانب کا بھاری جانی نقصان ہو رہا ہے۔ اس شورش کا مرکز یمن کے صدر مقام صنعاء سے تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر شمال کی جانب صعدہ کے صوبے میں واقع ہے جو قبائلی مزاج‘ روایات اور پہاڑی جغرافیائی ماحول رکھتا ہے۔ مران کے پہاڑ امریکا مخالف عناصر کی پناہ گاہ ہیں اور ایک مذہبی رہنما حسن بدرالدین الحوثی ان کی قیادت کر رہا ہے۔ وہ زیدی شیعہ مسلک کا نمایندہ ہے اور حکومتی الزامات کے مطابق اس کا رابطہ ایک جانب لبنان کی شیعہ جہادی تنظیم حزب اللہ سے اور دوسری جانب اسامہ بن لادن سے ہے۔ یمن کی حکومت اس خانہ جنگی میں وسائل‘ مالی اور افرادی قوت ضائع کرنے کے ساتھ راے عامہ کی نفرت کا بھی شکار ہو رہی ہے‘ مگر امریکی پالیسی سازوں کے نزدیک ابھی صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت القاعدہ کو موثرانداز میں کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
الحوثی کا تعلق حزب اللہ سے جوڑنے کا دعویٰ خود صدرِ یمن نے علما سے ملاقات کے دوران کیا تھا مگر حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ نے کھلے عام اس کی تردید کر دی ہے (بحوالہ انٹرپریس نیوز سروس‘ روزنامہ ڈان‘ ۹ جولائی ۲۰۰۴ئ)۔ جہاں تک القاعدہ سے ان کا ناطہ جوڑنے کا معاملہ ہے وہ بھی محل نظر ہے اور امریکی و برطانوی ایجنسیوں کی عراقی ہتھیاروں کے متعلق رپورٹوں کی طرح نہایت غلط معلومات پر مبنی نظرآتاہے۔ الحوثی اور القاعدہ کا نام جن لوگوں کو دیا گیا ہے‘ ان کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ الحوثی کے پورے سیٹ اپ کا جو تعارف اسلام آن لائن پر دستیاب ہے وہ ان دعوئوں کا منہ چڑاتا ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ الحوثی کی طرح یمن کے سنی علما بھی امریکیوں سے بے پناہ نفرت کرتے ہیں اور اس کا اظہار بھی وہ کھلے عام کرتے رہتے ہیں۔ ان کو القاعدہ اور اسامہ کے ساتھی شمار کر کے پکڑا بھی گیا ہے اور گوانتاناموبے کے علاوہ افغانستان‘ مصر اور خود امریکا میں بھی ان کی نظربندی کی خبریں اب ساری دنیا میں گونج رہی ہیں۔
۱۱ستمبر کے واقعات کے بعد یمن پر خصوصی توجہ دی گئی۔ پکڑدھکڑ فوراً شروع ہوگئی۔ ردعمل کے طور پر یمن میں امریکی مشنریوں کو یمنی عوام نے قتل کیا‘ امریکی بحری جہاز کول اور فرنچ ٹینکر لمبرگ پر حملے ہوئے۔ چنانچہ القاعدہ کے شبہے میں کئی لوگوں کو پکڑ کر امریکا کے حوالے کر دیا گیا۔ اب ان میں سے ۱۵ کی رہائی کے لیے امریکی عدالتوں میں مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے۔ عدالت نے سماعت کی اجازت بھی دے دی ہے۔ (ڈان‘ ۱۷ جولائی ۲۰۰۴ء )
یمنی پارلیمنٹ میں اگرچہ صدر کی جماعت حکمران پیپلز کانگریس کو اکثریت حاصل ہے مگر اپوزیشن بھی خاصی مضبوط ہے اور اس کے نمایندگان حکومتی ارکان سے کہیں زیادہ بیدارمغز‘ محنتی اور تعلیم یافتہ ہیں۔ پھر حکومت کی امریکا نواز پالیسی نے اسلامی گروپ اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو اپنے سیاسی منشور میں کئی امور میں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔
قطر کے’اسلام آن لائن‘ نیٹ ڈاٹ‘‘ کی ویب سائٹ کے مطابق: ’’وزیر داخلہ رشاد العلیمی نے بیان دیا کہ حالیہ جھڑپوں میں صعدہ کے علاقے میں ۱۱۸ افراد قتل ہوگئے ہیں۔ یہ جھڑپیں الحوثی کے مسلح دستوں کے مقابلے پر ۲۰ جون کو شروع ہوئی تھیں اور ابھی تک جاری ہیں۔ ان جھڑپوں میں ۳۲ جوان اور افسران کام آئے ہیں‘ جب کہ ۸۶ انتہاپسند بھی مارے گئے ہیں‘‘۔
جب وزیرداخلہ یہ بیان دے رہے تھے اس وقت فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے اطلاع دی کہ الحوثی کے حامیوں نے جھڑپوں کے دوران سات مزید حکومتی کارندمے قتل کر دیے ہیں۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہوگا۔ وزیرداخلہ نے اپنے پارلیمانی بیان میں یہ بھی کہا کہ الحوثی کے تمام ساتھیوں کو ماہانہ ۲۰۰ ڈالر معاوضہ ملتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی خطرناک بیرونی قوت ان کی مالی امداد کر رہی ہے۔ وزیرموصوف اس کا کوئی ٹھوس ثبوت پارلیمان میں پیش نہ کر سکے۔ حزب مخالف کے رکن پارلیمان سلطان الفنوانی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس نازک اور اہم مسئلے کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ حکومت نے ایک پارلیمانی کمیٹی مقرر کردی ہے جو الحوثی سے مذاکرات کرے گی اور ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دے گی۔
حسن بدر الدین یمن میں تو کافی عرصے سے جانی پہچانی شخصیت تھی مگر اسے زیادہ عالمی شہرت حالیہ واقعات ہی سے ملی ہے۔ یہ سیاسی جماعت حزب الحق میں شامل تھا۔ اس کی عمر اس وقت ۴۵ سال ہے۔ حزب الحق کے ٹکٹ پر وہ ۱۹۹۳ء سے ۱۹۹۷ء تک رکن پارلیمان رہا۔ پھر اس نے سیاسی جماعت چھوڑ کر ’الشباب المومن‘ کے نام سے ایک الگ تنظیم قائم کرلی۔ ان کا نعرہ ’’مرگ بر امریکا‘ مرگ بر اسرائیل‘ لعنت بر یہود‘ فتح اسلام‘‘ تھا۔ پہلے یہ تعلیمی اداروں میں منظم ہوئے۔ پھر صعدہ کے علاقے میں دینی مدارس اور جامعات قائم کیں۔ شروع میں انھیں نہ صرف بے ضرر تنظیم سمجھا گیا بلکہ حکومت نے ان کی تعلیمی ضروریات کے لیے ان سے تعاون بھی کیا‘ خود صدرِمملکت نے حال ہی میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔
قدس پریس کے حوالے سے اسلام آن لائن نے بیان کیا ہے کہ اسلامی جماعت’ ’التجمع الیمنی للاصلاح‘‘ کے اثرات زائل کرنے اور شیخ عبدالمجید زندانی کے سیاسی رسوخ کو محدود کرنے کے لیے حکومت کچھ عرصے سے ایسی مذہبی تنظیموں کی سرپرستی کر رہی تھی۔
عراق میں مقتدیٰ الصدر بھی اچانک جہادی منظر پرنمودار ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے چھاگیا۔ وہ ابھی ۴۰سال سے بھی کم عمرکا نوجوان ہے۔ اسی طرح یمن میں بھی الحوثی چھا گیا ہے۔ اس کی عمر ۴۵سال ہے۔ دونوں علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یمنی وزیرداخلہ کے بیان مطابق الحوثی کو مہدی المنتظرمانا جاتا ہے اور اس کے پیروکار اس کی مکمل وفاداری و اطاعت کا عہد کرتے ہیں۔
یہ بات دل چسپ ہے کہ ۱۹۹۴ء کی یمنی خانہ جنگی اور سیاسی بدامنی کے خاتمے کے لیے جن قوتوں نے حکومت کے ساتھ دیا تھا اور یمن کے اتحاد کے نعرے کو عوامی پذیرائی ملی تھی‘ وہ سب حکومت کی موجودہ پالیسی کے شدید مخالف ہیں۔ الاصلاح کے بانی رہنما اور یمن کی معروف یونی ورسٹی جامعہ الایمان کے روحانی پیشوا شیخ عبدالمجیدزندانی اگرچہ یمن کے اندر مسلح جدوجہد کے مخالف ہیں مگر وہ سیاسی مظاہروں کے ذریعے امریکا کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لانے اور بڑے بڑے احتجاجی جلسوں کی مدد سے عراقی عوام کی حمایت کے فریضے سے کبھی غافل نہیں رہے۔ وہ اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جس سے صدرِ مملکت کا نسلی تعلق ہے اور تجزیہ نگاروں کی آرا اس بارے میں مختلف ہیںکہ دونوںمیں سے اس بہت بڑے قبیلے کی اکثریت کس کے ساتھ ہے۔ صنعاء اور دیگر شہروں میں الاصلاح کے پلیٹ فارم سے عوامی مظاہرے اور ملین مارچ کی کامیاب حکمت عملی اور قوت کا مظاہرہ الاصلاح کی قوت اور شیخ زندانی کی کرشمہ ساز شخصیت کا تعارف اور اعتراف ہے۔ شیخ زندانی نے عملاً جہادِ افغانستان میں حصہ لیا تھا اور اسامہ بن لادن کے قریب ترین ساتھی بلکہ اکانومسٹکے الفاظ میں روحانی رہنما کا درجہ رکھتے ہیں۔
شیخ عبدالمجید زندانی بارہا پاکستان آچکے ہیں۔ ان کا سیاسی منشور بالکل واضح ہے۔ وہ زیرزمین سرگرمیوں یا مسلمان معاشرے میں مسلح جدوجہد کو درست قرار نہیں دیتے۔ یمن میں آبادی کی کل تعداد سے تین گنا بندوقوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور یمنی نظام نے اس کی اجازت دے رکھی ہے۔ اکانومسٹ کے نمایندے مقیم قاہرہ نے ۴ جنوری ۲۰۰۳ء کی اپنی ایک رپورٹ کا آغاز ان الفاظ سے کیا تھا: ’’دنیا کا سب سے زیادہ بدقسمت شخص وہ ہے جسے شیر پر سواری کرنی پڑے یا پھر اسے یمن کا حکمران بنا دیا جائے۔ یہ ضرب المثل اس وقت کی ہے جب یمن میں اس کے شہریوں کی تعداد سے بندوقوں کی تعداد زیادہ تھی…‘‘
اسلام آن لائن کے مطابق شیخ زندانی بڑے محتاط ہیں مگر حکمت کے ساتھ اپنا جرأت مندانہ موقف اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف احتجاج ہر روز ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ ان کی رائے میں انتہا پسندی اور مسلح جدوجہد کی اصل وجوہات کو نہ حکومت یمن درخور اعتنا سمجھتی ہے‘ نہ ان کے امریکی سرپرست ہی اس بارے میں سنجیدہ ہیں۔ ان کے نزدیک امریکا کی یہ سرشت ہے کہ جو اس کے سامنے بچھتا چلا جائے وہ اسے دباتا چلا جاتا ہے‘ جو ڈٹ جائے‘ اس سے گفت و شنید اور مذاکرات کرتا ہے۔ امریکی ایجنسی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ ملر کی صدرِ یمن سے حالیہ ملاقات اور امریکا کی طرف سے اس مطالبے کو کہ حکومت مزید آہنی شکنجہ استعمال کرے‘ علما اور قوم پرست لیڈروں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے نزدیک امریکی افسر کا لب و لہجہ ایک وائسرائے کا سا تھا‘ جب کہ صدرِمملکت سرتسلیم خم کیے چلے جارہے تھے۔ادھر یمن کے علما نے اس بات پر احتجاج کیا ہے کہ حکومت ملک میں امن قائم کرنے کے بجاے اسے بدامنی کے حوالے کرنے پر تلی بیٹھی ہے۔ ایک جانب پارلیمانی مصالحتی کمیٹی قائم کی گئی ہے اور دوسری جانب حکومتی اہل کاروں نے حسن الحوثی کے نائب اور سابق رکن پارلیمان عبداللہ عیظہ الرزامی کو قتل کر دیا ہے۔ یہ صورت حال کم و بیش ویسی ہی ہے جیسی حکومت پاکستان نے ہمارے قبائلی علاقوں وانا اور جنوبی وزیرستان میں پیدا کر رکھی ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ڈرامے کا ڈائریکٹر ایک ہی ہے‘ ایکٹر مختلف ہیں۔
مصر نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے (جنوری ۱۹۷۴ئ) میں اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا۔ اسرائیل کے ساتھ متحارب عرب ریاستوں میں سے مصر اپنی قوت اور تعداد کے لحاظ سے اہم ملک تھا۔ مصری قوم نے اس ذلت آمیز معاہدے کو دل سے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ مصر کو جتنا بھی سیکولر‘ جدید‘ لبرل اور مغرب زدہ بنانے کی حکومتی اور عالمی کاوشیں ہوئی ہیں‘ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب مصر کی اسلامی تحریک کے وسیع اثرات‘ منظم جدوجہد اور بحیثیت مجموعی‘ مصر کے عام مسلمان شہری کی اسلام کے ساتھ وابستگی کی بدولت اپنے مطلوبہ مذموم نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔ مصری اداروں میں اسرائیل کے سرکاری سطح کے اثر و رسوخ کو ایک مصری‘ خواہ تحریک اسلامی کے ساتھ وابستہ ہو یا نہ ہو‘ نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
صدر محمد انوار السادات نے ناصری آمریت کے بعد اگرچہ ملک میں بنیادی حقوق بحال کر کے جمہوریت تو رائج نہیں کی تھی مگر سابقہ ادوار کے شدید جبروتشددکے مقابلے میں کچھ کمی ضرور آگئی تھی۔ اس کے نتیجے میں اخوان المسلمون کی اعلیٰ قیادت اور کارکنان جو سیکڑوں کی تعداد میں گذشتہ ۱۹ سالوں سے جیلوں میں بدترین قسم کے مظالم کا شکار تھے‘ رہا کر دیے گئے۔ اس کے باوجود سادات کا یہودیوں کی ناجائز ریاست کو قانوناً تسلیم کرلینا ملک بھر میں اس کے بہت بڑے جرم کی نظر سے دیکھا گیا اور مظلوم و بے گھر فلسطینی عوام سے انسانی اور اسلامی ہمدردی کا یہی تقاضا بھی تھا۔ تاہم‘ اخوان کے نزدیک اس بدترین فیصلے کے باوجود حکومت کے خلاف کوئی غیرقانونی اقدام کرنے کا جواز نہ تھا۔ اخوان نے قانونی حدود کے اندر احتجاج کیا مگر ایک اور انتہا پسند گروپ ’جماعت التکفیر والھجرہ‘ کے نوجوانوں نے سادات کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جس کو ۶اکتوبر ۱۹۸۱ء کو ایک نوجوان خالد اسلامبولی نے عملی جامہ پہنایا۔ (اخوان کے موقف کے لیے دیکھیے مرشدِعام سید عمرتلمسانی کی یادداشتیں‘ یادوں کی امانت‘ باب پنجم)
اس موقع پر بھی اخوان کے خلاف بہت واویلا ہوا‘ پکڑ دھکڑ بھی ہوئی مگر ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہ ہوسکا‘ کیونکہ قاتل نے پوری ذمہ داری کے ساتھ قتل کا اعتراف کیا اور اس کا کوئی تعلق اخوان کے ساتھ نہ مل سکا تھا۔ اخوان نے قانونی حدود کے اندر ہمیشہ اس فیصلے کے خلاف صداے احتجاج بلند کی۔ یہودیوں کے فلسطین میں مظالم اور صہیونی منصوبوں میں پیش رفت کے خلاف بھی اخوان مسلسل زبان‘ قلم اور راے عامہ کے ذریعے نکیر کرتے رہے۔ پارلیمان میں بھی اخوان کے ارکان ہمیشہ بدعنوانی‘ حکومتی اہل کاروں کی نااہلی‘ انتظامیہ کے ظلم و ستم اور عوامی نوعیت کے دیگر مسائل‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ زراعت و تجارت کی بدحالی پر احتجاج کے ساتھ ساتھ فلسطین کے اندر اسرائیلی حکومت کے مظالم کے خلاف توجہ دلائو نوٹس‘ تحاریکِ التوا‘ تحاریکِ استحقاق‘ قراردادوں اور تقاریر کے ذریعے مصری عوام کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کرتے رہے۔ اس کے علاوہ مصر کے معاملات میں یہودیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ بلکہ مداخلت پر بھی اخوان کی پارلیمان میں کارکردگی بہت نمایاں رہی۔ واضح رہے کہ اخوان پر اگرچہ قانوناً پابندی ہے مگر ان کے قابلِ لحاظ افراد آزاد حیثیت میں یا بعض انتخابات میں دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہوکر پارلیمنٹ میں پہنچتے رہے ہیں۔
یہودی ریاست اور اس کے سرپرست امریکہ نے ہمیشہ اخوان کی ان ’گستاخیوں‘کو تشویش کی نظر سے دیکھا اور انھیں ’حدود کا پابند‘ بنانے کے احکامات مصری حکمرانوں کو وقتاً فوقتاً جاری ہوتے رہے۔ شیخ احمد یاسینؒ اور ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسیؒ کی شہادتوں پر بھی اخوان نے پُرزور احتجاج کیا‘ اور رفاہ پر تباہ کن صہیونی حملوں کی بھی زوردار انداز میں مذمت کی۔ اخوان کے ارکان پارلیمان اور دیگر اہم اور فعال شخصیات کے خلاف صہیونی لابی کئی سالوں سے سرگرم عمل تھی۔ کافی عرصے سے فضا بن رہی تھی کہ اخوان پر ہاتھ ڈالا جائے۔
صدر حسنی مبارک نے واشنگٹن پوسٹ (۲۲ مارچ ۲۰۰۳ئ) کو اپنے انٹرویو میں گذشتہ سال کھل کر کہا تھا کہ ’’اگر مصر میں کھلی آزادیاں دے دی جائیں تو حالات خطرناک صورت اختیار کرلیں گے۔ کٹر مذہبی عناصر‘ بالخصوص اخوان اداروں پر چھا جائیں گے‘‘۔ یہی بات یہودی مسلسل کہے چلے جا رہے ہیں۔ گویا صدر حسنی مبارک نے خود مغرب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا کہ آزادیوں اور جمہوری حقوق کا مطالبہ کرو گے تو ہمارے ساتھ تم بھی پچھتائو گے۔ صدر حسنی مبارک نے اس سال ۱۲ مارچ ۲۰۰۴ء کو سکندریہ میں جدید اصلاحات کے موضوع پر ایک کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے زوردار الفاظ میں اس تصور کو رد کر دیا کہ شدت پسند مذہبی افکار کو پنپنے کا موقع دیا جائے (المجتمع‘ کویت‘ شمارہ ۱۶۰۴‘ ۱۱ جون ۲۰۰۴ئ)۔ اپنے سابقہ دورئہ یورپ میں بھی وہ جگہ جگہ الجزائر کی مثال دے کر مکمل آزادیوں کے خطرات سے یورپ اور مغرب کو ڈراتے رہے ہیں۔ عرب اخبارات نے اٹلی کے اخبار لاریبوبلیکا کی ۵ مارچ ۲۰۰۴ء کی اشاعت کے حوالے سے ان کا جو انٹرویو شائع کیا ہے وہ خطرے کی کئی گھنٹیاں بجاتا سنائی دیتا ہے۔
اس دوران ناصری آمریت کے ابتدائی دور میں کیے جانے والے کئی اقدامات کی ریہرسل بھی دیکھنے میں آئی۔ اخوان اور دیگر باخبر حلقے سمجھ رہے تھے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ اخوان کے ایک سابق رکن انجینیرابوالعلا ماضی کی قیادت میں ایک نئی ’معتدل، لبرل‘ سیاسی پارٹی کی بنیاد بھی رکھی جا رہی ہے جس کا نام ’حزب الوسط‘ تجویز کیا گیا ہے۔ مصری پارلیمان کا موسمِ گرما کا اجلاس جاری تھا۔ اس میں ۷۵ ارکان نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ اصلاح کے نام پر پکنے والی کھچڑی کے بارے میں ایوان اور قوم کو کچھ بتائے۔ بے چارے وزرا بتا تو کیا سکتے تھے‘ اس کے چند روز بعد ۱۵ مئی کو اخوان کے ۵۸ اہم رہنمائوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری کے ساتھ ہی ان کے خاندانوں کو بھوکا مارنے اور ان کے کاروباری شراکت داروں کو خوف زدہ کرنے کے لیے ان کی کمپنیاں‘ تجارتی ادارے‘ فارمیسیاں اور سرمایہ کاری کے تمام ذرائع پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ واضح رہے کہ یہ تمام ارکان اپنے اپنے پیشہ ورانہ شعبوں میں مہارت کی اعلیٰ مثال بھی ہیں اور کئی خاندانوں کو اپنے منصوبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت کی بنیاد پر سہارا دیے ہوئے تھے۔ اخوان کے لوگ اپنے کاروبار ہمیشہ کامیابی اور دیانت سے چلاتے رہے ہیں اور حکومت نے جب بھی ان پر ظلم کا کوڑا برسایا ہے‘ اس پہلو کو بھی خصوصی ہدف بنانا ضروری سمجھا گیا ہے۔ آج پھر مصری حکومت کی طرف سے یہ ظلم ایسے وقت میں ڈھایا گیا ہے جب اخوان صہیونی شیطانی حملوں کے مدمقابل نہ صرف فلسطینی عوام کی حمایت کر رہے تھے بلکہ حکومتِ مصر کو بھی مضبوط موقف اپنانے پر اپنی حمایت کا یقین دلا رہے تھے۔ انھوں نے عراق میں امریکی مظالم کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور تمام عرب و مسلمان ممالک کے حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اسلامی فریضے کی ادایگی کے لیے متحدہ موقف اپنائیں۔
گرفتار شدگان کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا؟ مصری پارلیمنٹ کی دفاع‘ امن و امان اور عوامی حقوق کی مجلس قائمہ نے جب ان نظربندوں سے جیل میں ملاقات کی تو ان کے بقول ان کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی۔ عراق کی ابوغریب جیل ہی کی طرح یہاں ان پاکیزہ صفت ابناے وطن کے ساتھ ان کی اپنی سرکاری مشینری نے ناقابلِ بیان مظالم ڈھائے تھے۔ ان ارکان پارلیمنٹ میں حکومتی جماعت اور دیگر پارٹیوں کے نمایندے شامل تھے۔ کمیٹی کے سربراہ انجینیرفتحی قزمان تھے‘ جب کہ ارکان میں بریگیڈیئر حازم حمادی‘ بریگیڈیئر بدر القاضی‘ ڈاکٹر ایمن نور‘ حمدین صباحی‘ طلعت سادات‘ ڈاکٹر محمد مرسٰی (اخوان کے پارلیمانی گروپ لیڈر) کے نام تھے۔ تمام ارکان نے قاہرہ کے جنوب میں واقع تاریخی اور بدنامِ زمانہ جیل خانے لیمان طرہ فارم کا ۹ جون ۲۰۰۴ء کی شام کو معائنہ کیا۔ یہ بدترین قسم کا عقوبت خانہ ہے۔ اخوان کی تاریخ جاننے والے اچھی طرح باخبر ہیں کہ ناصر کے دور میں بھی یہاں اخوان پر قیامت ڈھائی گئی تھی۔ اس کی دلدوز تفصیلات اخوان کے تیسرے مرشدعام عمر تلمسانیؒ کی یادداشتوں یادوں کی امانت اور چوتھے مرشدِعام سید محمد حامد ابوالنصرؒ کی خودنوشت تحریکی داستانِ حیات وادی نیل کا قافلہ سخت جان کے علاوہ ڈاکٹر محمود عبدالحلیم مرحوم (سابق شیخ ازھر) کی ضخیم کتاب تاریخ اخوان المسلمون کی دونوں جلدوں میں مختلف مقامات پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
اس ملاقات میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ اخوان کے دیگر ۱۴ ارکانِ پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔ پارٹیوں کی تقسیم سے قطع نظر کمیٹی کے جملہ ارکان کی رائے میں تمام نظربندوں کے ساتھ انتہائی وحشیانہ‘ غیر انسانی‘ اذیت ناک اور توہین آمیز سلوک کیا گیا۔ اکثر کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ سبھی کے جسم پر بدترین تعذیب کے نشانات پائے گئے۔ بعض ان صدمات اور بجلی کے جھٹکوں کی وجہ سے اپنے اعصاب اور حواس تک کھو چکے تھے۔ عرب اخبارات اور مختلف ویب سائٹس پر اس کی مکمل تفصیلات سامنے آئی ہیں جو دل دہلا دینے والی ہیں۔(شرق الاوسط‘ لندن‘ ۱۵ جون ۲۰۰۴ئ۔ القدس العربی‘ ۱۷جون ۲۰۰۴ئ۔ الدعوۃ ویب سائٹ‘ www.aldaawah.org ‘۱۷ جون ۲۰۰۴ئ)
نظربندوں کو اذیت پہنچانے کے لیے مختلف اصطلاحات اور خفیہ الفاظ ایجاد کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک تھا: ’استاکوزا‘۔ اس کا مطلب تھا کہ سر سے لے کر پائوں تک تمام جسم اور بالخصوص نازک اعضا کو بجلی کے جھٹکے دیے جائیں۔ ایک حکم ہوتا تھا: ’ابوغریب کا تجربہ دہرائو‘۔ اس کے نتیجے میں بجلی کے جھٹکوں والی سلاخیں جسم کے نازک حصوں میں داخل کی جاتی تھیں اور ایسے ایسے مذموم ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جن کا بیان بھی یہاں ممکن نہیں۔ صبحی صالح ایڈووکیٹ (صدر اسکندریہ بار ایسوسی ایشن) جس نے انٹرنیشنل وکلا پینل کے ہمراہ ابوغریب جیل کا معائنہ کیا تھا‘ اپنے بیان میں یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ لیمان طرہ جیل کے مظالم نے ابوغریب جیل اور گوانٹاناموبے کے عقوبت خانوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ پھر اس نے اخوان کے ان نظربندوں پر مظالم کے دردناک واقعات بیان کیے۔ ان کو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر چھت سے لٹکا دیا گیا جس کے نتیجے میں کئی نظربندوں کی کلائی کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں مگر ان کو کسی قسم کے علاج معالجے کی کوئی سہولت حاصل نہ تھی۔ یہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ ڈاکٹر‘ انجینیر‘ چارٹرڈ اکائونٹنٹ‘ وکلا‘ پروفیسر‘ علما‘ سابق امیدوارانِ پارلیمنٹ اور پی ایچ ڈی حضرات ہیں۔ (الدعوہ‘ حوالہ مذکورہ بالا)
ان سب مظالم سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ایک قیمتی انسانی جان کو اذیتیں پہنچا پہنچا کر شہید کردیا گیا۔ اس کا انگ انگ زخمی تھا اور ہر ہڈی پسلی توڑ دی گئی۔ یہ عظیم انسان ۴۶ سالہ انجینیراکرم زہیری شہیدؒ ہے جو جامِ شہادت نوش کر کے زندۂ جاوید ہوگیا‘ مگر یہ سوال اُمت کے سامنے چھوڑ گیا کہ یہ مظالم کب تک برداشت کیے جاتے رہیں گے!
اکرم زہیری شہیدؒ دیگر اخوان کے ساتھ ۱۵ مئی ۲۰۰۴ء کو گرفتار کیے گئے۔ وہ شوگر کے مریض تھے۔ انھیں اپنے ساتھ کوئی دوا رکھنے کی اجازت تک نہ دی گئی۔ تفتیش کے دوران تشدد کے نتیجے میں ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔ ان کے ساتھیوں نے جیل حکام کو بار بار اس جانب متوجہ کیا مگر بے سود۔ جب حالت زیادہ خراب ہوئی تو انھیں جیل کے ہسپتال میں لے گئے مگر وہاں علاج معالجے کی کوئی سہولت موجود نہ تھی۔ جب انھیں وزارت داخلہ کے ہسپتال قاہرہ بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو ایسی ایمبولینس میں انھیں بھیجا گیا جو نہایت خستہ حال تھی۔ ان کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دی گئیں ۔ راستے میں خراب گاڑی اور غیرمحتاط ڈرائیونگ کی وجہ سے وہ کئی بار گرے اور ان کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔
اخوان کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر محمد مرسیٰ کے بیان کے مطابق ۱۰ دن تک انجینیراکرم زہیری موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا رہے مگر ان کا نہ کوئی مناسب علاج کیا گیا نہ انھیں کسی معالج کی خدمات حاصل ہوسکیں۔ بدھ کے دن ۹ جون ۲۰۰۴ء کو فجر کے وقت اکرم زہیری شہادت کے مرتبے پر فائز ہو کر ان مصیبتوں سے نجات پاگئے۔ ان کا تعلق اسکندریہ سے تھا۔ وہ سول انجینیرتھے اور انجینیرکونسل کے شعبہ منصوبہ بندی کے صدر تھے۔ ۱۹۸۴ء میں وہ طلبہ کی انجینیرنگ کونسل کے صدر اور ۱۹۸۵ء میں اسکندریہ یونی ورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ شہید نے اپنے پیچھے دو بیٹے‘ ایک بیٹی اور بیوہ سوگوار چھوڑے ہیں۔ ان کے بچے ابھی اسکول میں زیرتعلیم ہیں۔ انجینیراکرم زہیری شہیدؒ کی کمپنی جو جبراً بند کردی گئی ہے‘ کا بہت اچھا کام تھا۔ یہ زمینوں اور مکانوں کی خرید وفروخت اور تعمیرات کی پرائیویٹ رجسٹرڈ کمپنی تھی۔
شہید کے خاندان اوراسکندریہ کے اخوان کی خواہش تھی کہ ان کا جنازہ جمعرات ۱۰ جون کو بعد نماز ظہر پڑھا جاتا۔ مگر امن و امان قائم رکھنے کے ٹھیکیدار حکمرانوں نے حکم صادر کیا کہ جنازہ رات ہی کو پڑھا جائے گا۔ چنانچہ شام کو جیل سے شہید کا جسدِخاکی ان کے گھر پہنچنے کے تین چار گھنٹے بعد رات کو ۱۰ بجے ان کا جنازہ اٹھا۔ جنازے کے ساتھ پولیس کی گاڑیاں خوف و ہراس پیدا کر رہی تھیں۔ ۵ ہزار نمازی جنازے کے ساتھ چل رہے تھے۔ اخوان کی قیادت میں سے استاد جمعہ امین عبدالعزیز‘ ڈاکٹر محمود عزت‘ جناب مسعود السبحی‘ ڈاکٹر ابراہیم زعفرانی‘ استاد حسن محمد ابراہیم (رکن پارلیمان)‘ انجینیرصابر عبدالصادق (رکن پارلیمان) اس موقع پر موجود تھے۔ سب لوگوں کی زبان پر اللہ کی حمدوثنا‘ شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا اور پسماندگان کے لیے صبرواجر کی مناجات تھی۔ اس موقع پر استاد جمعہ امین نے بہت رقت انگیزخطاب کیا۔ اخوان کو حسب سابق صبر کی تلقین کی‘ پسماندگان کے لیے دعائوں اور نیک تمنائوں کا اظہار کیا اور کہا کہ جن لوگوں نے اکرم کو اذیتیں پہنچائی ہیں انھوں نے اپنے لیے ذلت و رسوائی اور عذاب کا سودا کیا ہے‘ مگر اللہ نے اکرم کو شہادت عظمیٰ کا تاج پہنا دیا ہے۔
گرفتار شدہ اخوان ابھی تک جیل میں ہیں۔ یہ نظربند اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ مصر بلکہ پورے عالمِ عرب میں اپنی قابلیت و صلاحیت کی وجہ سے معروف شخصیات کے مالک ہیں۔ شہید اکرم عبدالعزیز کے علاوہ اہم شخصیات میں محمد اسامہ‘ ڈاکٹر جمال نثار‘ مدحت الحداد‘ جمال ماضی‘ابراہیم زویل‘ حمزہ صبری حمزہ‘ محمدی السید (سابق امیداوار پارلیمان)‘ حمدی سلیمان ایڈوکیٹ‘ ڈاکٹر مصطفی الغنیمی‘ ڈاکٹر محمد رمضان‘ ڈاکٹر محمد المھدی اور ڈاکٹر عاشور الحلوانی جیسے نابغۂ روزگار فرزندانِ اسلام شامل ہیں۔ ان میں سے بعض نظربندوں بالخصوص محمد اسامہ کی حالت تشویش ناک ہے۔
اخوان کے مرشدعام جناب محمد مہدی عاکف نے اپنے ساتھیوں کی گرفتاری پر اپنے فوری ردعمل میں شدید غم و الم اور غصے کا اظہار کیا اور مصری حکومت کے اس فیصلے کو صہیونی اور امریکی جارح قوتوں کو خوش کرنے کی مذموم حرکت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اخوان کی تاریخ قربانیوں اور صبرواستقامت سے بھری پڑی ہے۔ ہم تمام حالات کا پامردی سے مقابلہ کریں گے۔ اکرم زہیری کی شہادت پر بھی انھوں نے اخوان کو صبروتحمل اور عزیمت کی تلقین فرمائی اور کہا کہ اکرم کو اللہ نے شہادت کی کرامت عطا فرما دی ہے۔
ایک برادر اسلامی ملک میں یہ کچھ ہو جائے اور کہیں سے کوئی احتجاج نہ ہو‘ یہ کوئی اچھی صورت حال نہیں ہے۔ غم تو اس بات کا کیا جاتا ہے کہ امریکہ افغانستان اور عراق میں خود آکر مظالم کی انتہا کر رہا ہے لیکن اُمت مسلمہ کی جانب سے اسے کوئی رکاوٹ پیش نہیں آرہی ہے (بلکہ آگے بڑھ کر تعاون پیش کیا جا رہا ہے) لیکن مصر اور دوسرے اسلامی ممالک میں اپنے پٹھوئوں کے ذریعے جو کچھ کروا رہا ہے‘ کیا اسے بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا جائے گا؟ موجودہ صلیبی جنگ کا تقاضا ہے کہ اسلام کا ہر سپاہی خاموش رہنے اور بیٹھنے کے بجاے‘ میدان میں نکلے اور اپنا فرض ادا کرے۔ منظم گروہ‘ اتنا منظم احتجاج تو کرسکتے ہیں کہ ظالم کو اپنی گرفت ڈھیلی کرنا پڑے۔ اسلامی تحریکوں کی قیادت کو اس طرف توجہ کرنا چاہیے۔
مولانا مودودیؒ کا کارنامہ ہمہ پہلو‘ ہمہ جہت اور جامع ہے۔ آپ کا اصل کام فکری رہنمائی اور قلم و قرطاس کا صحیح استعمال ہے۔ جہاد قلم‘ زبان اور سیف سبھی سے کیا جاتا ہے۔ دیرپا اثرات قلمی جہاد ہی کے ہوتے ہیں‘ جو سید مودودیؒ کی اصل پہچان ہے۔
مولانا مودودیؒ کی تمام تصانیف‘ موثر‘ دل و دماغ کو اپیل کرنے والی‘ اور ایک مخلص داعی ٔ حق کا دردِ دل لیے ہوئے ہیں۔ ان کتابوں نے بلاشبہہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو تبدیل کیا ہے۔ ہر علاقے اور ہرزبان سے تعلق رکھنے والے غیرمسلم ان کی تحریریں پڑھ کر اسلام سے روشناس ہوئے۔ اسی طرح مولانا مودودیؒ کی کتب کے مطالعے کی بدولت خودبے شمار مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوا۔ ان سطور میں چند واقعات براعظم افریقہ کے تناظر میں پیش خدمت ہیں۔
میں نے حبشہ کے ظالم شہنشاہ ہیل سلاسی کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد اس کے مظالم کا تذکرہ کیا تو مولانا نے فرمایا: ’’ہیل سلاسی بڑا ظالم اور متعصب عیسائی تھا۔ اس کے دل میں اسلام سے شدید بغض و عناد تھا‘ مگر نئے آنے والے کمیونسٹ فوجی افسران‘ مسلمانوں پر اس سے بھی زیادہ ظلم ڈھائیں گے۔ کیونکہ روس نے جہاں کہیں اپنے حامیوں کو کامیاب کرایا ہے‘ خوف وہراس کی بدترین فضا پیدا کی ہے۔ اس کے باوجود ایک اچھا پہلو یہ ہے کہ اریٹیریا کے مسلمانوں کی تحریک اب مضبوط ہو جائے گی‘ کیونکہ ہیل سلاسی پورے ملک میں اتحاد کا مظہر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے لیے پایا جانے والا نام نہاد تقدس موجودہ فوجی حکمرانوں کو حاصل نہ ہوگا‘‘۔ یہ بات مولانا مودودیؒ نے اکتوبر ۱۹۷۵ء کو فرمائی تھی۔ کس قدر درست تجزیہ اور کتنی سچی پیش بینی تھی۔ ۱۹۹۳ء میں مسلم علاقہ اریٹیریا حبشہ کی غلامی سے آزاد ہوگیا۔
۱۹۷۸ء میں مجھے اچانک اپنی والدہ مرحومہ کی شدید بیماری کی وجہ سے پاکستان آنا پڑا تو مولانا سے ملاقات ہوئی۔ یوگنڈا کے فوجی ڈکٹیٹر عیدی امین کی حکومت کے خلاف باغیوں نے تنزانیہ کی افواج کے تعاون سے خانہ جنگی شروع کر دی تھی۔ باغی مسلسل پیش رفت کر رہے تھے۔ یوگنڈا میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔
مولانا نے اس جنگ کے بارے میں فرمایا: ’’عیدی امین کی حماقتوں کا خمیازہ مسلم عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ اس کے خلاف جس طرح ساری قوتیں سرگرم عمل ہیں‘ اس کی شکست اب بالکل نوشتۂ دیوار ہے۔ اسے تو کہیں نہ کہیں پناہ مل جائے گی مگر عام مسلمانوں پر سخت عذاب آجائے گا‘‘۔جولیس نیریرے (صدر تنزانیہ) کے بارے میں فرمایا: ’’وہ زنجبار کی مسلم حیثیت اور اسلامی تشخص کو ختم کرنے کا پہلے ہی مجرم ہے‘ اب یوگنڈا میں بھی ایک تنگ دل عیسائی مشنری کی طرح اسلام کی بیخ کنی کرے گا‘‘۔اس کے پانچ چھ ماہ بعد اپریل ۱۹۷۹ء میں یوگنڈا پر باغیوں کا قبضہ ہوگیا۔ عیدی امین کو تو سعودی عرب میں سیاسی پناہ مل گئی‘ مگر مسلمان آبادی ظلم کا نشانہ بنی۔
ایک مرتبہ میں نے مولانا کی خدمت میں افریقی مسلم معاشرے کی اس خرابی کا تذکرہ کیا کہ وہاں شادی کا تقدس تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ اس قدر طلاقیں واقع ہوتی ہیں کہ کثیرتعداد میں مطلقہ جوڑوں کے بچے بے یارومددگار ہوکر عیسائی مشنریوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اس پر مولانا نے فرمایا: ’’عربوں کے ہاں سے بہت ساری اچھی اور بری چیزیں افریقہ میں بھی پہنچی ہیں۔ نکاح کا تقدس اور طلاق حلال ہونے کے باوجود ابغض قرار پانے کا موضوع دھندلا گیا ہے۔ اسے اجاگر کرنے کے لیے اسلام کی بنیادی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ کتاب حقوق الزوجین کا سواحلی ترجمہ کروا کر اسے عام پھیلانے سے بھی مفید نتائج برآمد ہوسکتے ہیں‘‘۔
پہلی مرتبہ جب میں کینیا پہنچا تو معلوم ہوا کہ چودھری غلام محمد مرحوم و مغفور نے افریقہ اور بالخصوص افریقہ کے مشرقی حصے میں تحریک کے لیے بہت کام کیا ہے۔یہاں چودھری صاحب مرحوم کے ساتھ ان شخصیات کا تذکرہ بھی ضروری ہے جو افریقہ میں ان کے دست و بازو بن کر میدانِ عمل میں سینہ سپر رہے۔ ان میں محمد بشیر دیوان مرحوم‘ عبدالحلیم بٹ مرحوم‘ محمد شفیع میرمرحوم‘ ڈاکٹر محمد سعید مرحوم‘ ضیاء الدین سومرو مرحوم‘ خلیل ملک مرحوم ‘جناب پروفیسر خورشیداحمد‘ جناب رائو محمد اختر‘ جناب عبدالرحمن بزمی‘ جناب حاجی محمد لقمان اور افریقی آبادی میں سے کینیا کے پہلے چیف قاضی شیخ محمد قاسم مزروعی مرحوم‘ دوسرے چیف قاضی شیخ عبداللہ صالح فارسی مرحوم‘ شیخ زبیدی مرحوم‘ ممبر پارلیمنٹ عثمان ورارو مرحوم‘ ممبرپارلیمنٹ ورارو (یوسف) کانجا وغیرہ اس قافلے میں شامل رہے۔ سب سے اہم کام سواحلی اور لوگنڈی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ ہے۔ سواحلی زبان میں تو قرآن مجید کا ترجمہ اس وقت تک ہوچکا تھا‘ مگر لوگنڈی زبان میں ابھی ترجمہ زیرتکمیل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ سواحلی زبان میں ترجمہ قرآن Qurani Takatifuکو بڑے پیمانے پر سواحلی علاقوں میں پہنچانے کا کام اسلامک فائونڈیشن نیروبی نے بطریق احسن انجام دیا۔ اس کام میں کچھ خدمات سرانجام دینے کی سعادت مجھے بھی حاصل ہوئی۔
سواحلی زبان میںقرآن پاک کے ترجمے کی مقبولیت تفہیم القرآن کی طرح قابلِ رشک ہے۔ اس ترجمے سے قبل قادیانیوں نے سواحلی میں قرآن کا ترجمہ کرایا تھا۔ جب یہ درست اور مفید ترجمہ چھپا تو اسلامک فائونڈیشن نے اعلان کر دیا کہ:’’جس کسی شخص کے پاس قادیانی ترجمہ ہو وہ فائونڈیشن کے مرکزی دفترقرآن ہائوس میں جمع کرا کے شیخ عبداللہ صالح فارسی کا مستند اور اسلامی ترجمہ حاصل کرلے‘‘۔ اس اعلان کے بعد بے شمار لوگوں نے قادیانیوں کا ترجمہ جمع کروایا اور درست ترجمہ حاصل کرلیا۔
مجھے سوڈان‘ایتھوپیا (حبشہ) تنزانیہ‘ یوگنڈا‘ زیمبیا‘ زمبابوے‘ ملاوی‘ موزمبیق‘ ماریشس‘ مڈغاسکر‘ دی یونین آئی لینڈ‘ جیبوتی‘ جنوبی افریقہ اور نائیجیریا وغیرہ میں سفرکرنے کا بھی اتفاق ہوا۔ ان تمام علاقوں میں مولانا مودودیؒ کا تعارف پڑھے لکھے مسلمانوں کے حلقوں میں پہنچ چکا تھا۔ جن ممالک میں برعظیم سے تعلق رکھنے والی کوئی آبادی موجود تھی‘ وہاں آبادی کم ہو یا زیادہ‘ مولانا کا اُردو لٹریچر بھی پہنچ گیا تھا۔ ان ممالک میں بالخصوص عربی‘ فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں جس قدر بھی تراجم دستیاب تھے‘ لوگوں کی دل چسپی کا مرکز تھے۔ مختصر طور پر ان ممالک کے بارے میں چند سطور میں ایک خاکہ پیش خدمت ہے:
اگلے سفر میں جب ہم اسیولو پہنچے تو قافلہ ڈاکٹرمحمد سعید صاحب مرحوم‘ خلیل ملک صاحب مرحوم‘ حاجی محمد لقمان صاحب‘ محمد اختر بھٹی صاحب پرمشتمل تھا۔ شیخ محمد سلفی صاحب ہمارے میزبان تھے اور ہمیں اس بات کا انتظار تھا کہ مسٹرپریبن الفلاح مرکز میں کب آتے ہیں۔ شیخ سلفی بتانے لگے کہ پریبن نے صبح سے کئی مرتبہ پوچھا ہے کہ نیروبی سے مہمان کب آئیں گے۔ ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ مسٹر پریبن تشریف لے آئے اور آتے ہی کہا: ’’السلام علیکم‘‘۔ ہم نے ان کا حال احوال معلوم کیا۔ میں نے کہا: ’’کیا آپ مسلمان ہوچکے ہیں‘‘۔ انھوں نے کہا: ’’ہاں‘ ان شاء اللہ آج مسلمان ہونے کا ارادہ کر کے آیا ہوں‘‘۔ اس مجلس میں سب لوگوں کی زبان پر اللہ اکبر‘ اللہ اکبر تھا اور بعض کی آنکھوں میں آنسو بھی۔ اسی مجلس میں مسٹر پریبن کو کلمہ پڑھایا گیا‘ جو انھوں نے پہلے سے یاد کیا ہوا تھا۔ اسی روز ان کا اسلامی نام عبدالرحمن رکھا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس انقلاب کا سب سے بڑا محرک سید مودودیؒ کی کتب ہی ہیں۔
مسٹر پریبن جو اب عبدالرحمن بن چکے تھے‘ اس سے قبل کینیا کی ایک مقامی لڑکی کے ساتھ رہایش پذیر تھے۔ وہ ایک عیسائی لڑکی تھی۔ عبدالرحمن کی کوششوں کے باوجود وہ مسلمان نہ ہوئی تو ان کے درمیان ایک خلیج حائل ہوگئی۔
اس واقعے کے بعد عبدالرحمن کو ان کے مشن نے ملازمت سے نکال دیا اور انھوں نے وطن واپسی کے لیے رخت سفر باندھا۔ قبل اس کے کہ وہ واپس جاتے‘ ان کی خواہش تھی کہ وہ عمرے کی سعادت حاصل کرلیں۔ اس دوران نام کی تبدیلی‘ قبولِ اسلام کی شہادت اور سرٹیفیکیٹ تیار کرلیا گیا۔ اسی مجلس میں ان کے سامنے تجویز رکھی گئی کہ کیوں نہ عمرے کی ادایگی کے بعد اسلامک فائونڈیشن کے مرکز میں کچھ عرصہ کام کریں‘ چنانچہ وہ اس پر تیار ہوگئے۔ انھیں جو معاوضہ ڈنمارک حکومت کی طرف سے مل رہا تھا‘ ہم وہ تو نہ دے سکے‘ لیکن ہمارا معمولی سا معاوضہ اس جویاے حق نے قبول کر لیا۔ انھوں نے ہمارے ساتھ تقریباً دو سال تک کام کیا۔ دوسال بعد انھوں نے مستقل طور پر ڈنمارک جاکر اسلامک سنٹر کوپن ہیگن میں خدمات انجام دیں۔
اس عرصے میں قادیانیوںکے ایک مشنری نے قرآن ہائوس میں آکر میرے ساتھ مناظرہ کیا۔ اس کا طریقۂ واردات یہ تھا کہ ایک موضوع کو چھوڑ کر دوسرے موضوع پر بحث چھیڑ دیتا۔ اس مباحثے کے دوران مولانا مودودیؒ کا کتابچہ ختم نبوت زیربحث آیاجو ہم نے کینیا میں انگریزی اور سواحلی میں چھپوا کر تقسیم کیا تھا۔ اس کی زبان سے یہ بات نکلی کہ علما نے ہمارے خلاف بڑی بڑی کانفرنسیں کیں‘ بڑے جلوس نکالے‘ لیکن اس شخص نے جتنا نقصان ہمیں پہنچایا ہے‘ کوئی نہیں پہنچا سکا۔ اس کا اشارہ مولانا مودودیؒ کے مقالے ختم نبوت کی طرف تھا۔
تحقیق پر پتا چلا کہ مولانا مودودیؒ کی کتاب دینیات کا سواحلی ترجمہ اس انقلاب کا محرک بنا۔ کتاب کے مترجم ممباسا کے مسلمان چراغ دین شہاب دین مرحوم تھے۔ اس کا ترجمہ چند سال قبل ہی سواحلی زبان میں ہوا تھا۔ دراصل اس ادارے میں کسی لڑکی کے پاس کسی ذریعے سے یہ کتاب پہنچی تو اس نے اس کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی دوسری ہم عمر لڑکیوں کو یہ کتاب پڑھنے کو دی۔ آہستہ آہستہ سب لڑکیوں نے یہ کتاب پڑھ لی اور آپس میں طے کیا: ’’ہم مسلمان ہیں اور ہمیں مسلمان ہی رہنا چاہیے‘‘۔