منیر منصوری


دنیا کی تاریخ میں سودکے خلاف جنگ یقینا اتنی ہی پرانی ہے، جتنا خود سود کا مکروہ دھندہ! لیکن بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس پرانی اور تاریخی جنگ میں پلڑا سود کا ہی بھاری نظر آتا ہے۔ دنیا کا ہر مذہب سود کے خلاف ہے اور ہرمذہب کے ماننے والے سود کھا اور کھلا رہے ہیں۔

ربّ کا آخری فرمان قرآن کریم سود کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ قرار دیتا ہے اور قرآن کو ماننے والے ’مسلمان‘ اپنی تباہی کی یہ جنگ جاری رکھےہوئے ہیں:

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝۲۷۸ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ۝۰ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ۝۰ۚ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ۝۲۷۹(البقرہ ۲: ۲۷۸-۲۷۹) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمھارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی طرف سے تمھارے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ اب بھی توبہ کرلو (اور سود چھوڑ دو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

سود کے بارے میں رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکامات موجود ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، دینے والے، گواہوں اور لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنَ  الصَّبَّاحِ  وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَـانُ بْنُ اَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، اَخْبَرَنَا اَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:  لَعَنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ(صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب لعن اکل الربا ومؤکلہ، حدیث: ۳۰۸۰)

ان واضح احکامات کے باوجود مسلم معاشروں میں نہ صرف سود رائج اور عام ہے، بلکہ اس کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہے۔ آیئے ’اسلامی‘ جمہوریہ پاکستان میں سود کے خلاف جدوجہد کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

مصور پاکستان علامہ اقبال نے سود کو ’لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات‘ قرار دیا ہے۔

ملک کے مرکزی بنک کے افتتاح کےموقع پر کی گئی تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ بانی ٔپاکستان ملک میں سود سے پاک اسلامی معاشی نظام چاہتے تھے۔ انھوں نے اس کے لیے ملک کے مرکزی بنک کو عملی اقدامات کا حکم بھی دیا تھا۔قائد کی ان ہدایات کو جاری ہوئے ۷۵سال ہوگئے!

اس کے بعد ۱۹۷۳ء میں بننے والا پاکستان کا آئین سود کے جلد از جلد خاتمے کو حکومت کی آئینی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ اس آئین کو بنے ہوئے نصف صدی بیت گئی۔

حکومتِ وقت کی درخواست پر ملک کے آئینی ادارے ’اسلامی نظریاتی کونسل‘ نے ملکی معیشت سے سود کے خاتمے کے لیے ایک قابل عمل تفصیلی رپورٹ جون ۱۹۸۰ء میں پیش کی۔ جس میں سود کی جامع تعریف کے بعد معیشت کے تمام شعبوں سے سود سے نجات کے لیے ایک قابلِ عمل متبادل نظام دیا گیا۔اس بات کو چالیس سال ہوگئے!

وفاقی شرعی عدالت نے مرحوم جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمان کی سربراہی میں اس وقت رائج بلاسود بنکاری اور سود کے خلاف اپنا پہلا فیصلہ ۱۹۹۱ء میں جاری کیا۔ اس فیصلے میں سود کے خاتمے اور حقیقی اسلامی بنکاری نظام کے نفاذ کے لیے حکومت کو چھ ماہ کا وقت دیا گیا۔شریعت کورٹ کے فیصلے کو آج لگ بھگ بتیس سال ہوگئے۔

ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے ۱۹۹۱ء کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے سود کے خلاف تاریخ ساز فیصلہ ۱۹۹۹ء میں سنایا اور حکومت کو ۲۰۰۱ء تک سارے بنکاری ومالیاتی نظام کی اسلامی تشکیل مکمل کرنے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بھی لگ بھگ ۲۳ سال گزر گئے۔

وفاقی شرعی عدالت نے ۱۹ سال پرانی اپیلوں پر سود کے خلاف اپنا دوسرا اور اب تک کا آخری فیصلہ اپریل ۲۰۲۲ء میں سنایا اورسودی نظام ختم کرنے کے لیے حکومت کو مجموعی طور پر پانچ سال دیئے۔اس فیصلے کو آئے ہوئے اب ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا۔

آئین کی دفعات اور عدالتی فیصلوں کے علاوہ گذشتہ تیس چالیس سال کے دوران اسلامی بنکاری ومالیاتی نظام کے نفاذ کے لیے سفارشات تیار کرنے کے لیے سرکاری سطح پر مختلف اوقات میں متعدد کمیشن بھی بنائےگئے۔

ان میں سے قابل ذکر راجا ظفرالحق کمیشن اور اسٹیٹ بنک کے اس وقت کے گورنر کی سربراہی میں بننے والے حنفی کمیشن اور ۱۹۹۹ء میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر بننے والا ٹرانسفارمیشن کمیشن تین اہم ترین کمیشن تھے۔ان کمیشنز کی بہت محنت سے تیار کی گئی بہترین رپورٹس شاید اسٹیٹ بنک کے سرد خانے میں کہیں پڑی ہوں گی۔

قصۂ مختصر ان تمام کاوشوں کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ سود آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی معیشت کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ مگر حکمران اور مرکزی بنک کے ذمہ داران سود کے خاتمے کے بجائے سودی نظام کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔

یہ ایک شرمناک اور تلخ حقیقت ہے کہ ملک پر حکمرانی چاہے کسی نام نہاد سیاسی پارٹی کی ہو یا کسی فوجی ڈکٹیٹر کی، سود کے معاملے میں ان سب کی سوچ، عمل اور پالیسی ایک ہی چلی آرہی ہے کہ سود کے نظام کو ہر حال میں جاری رکھناہے۔ البتہ لوگوں کے منہ بند کرنے کے لیے ’اسلامی بنکاری‘ جیسے کچھ نمایشی کام کرلیے جاتے ہیں۔

ذرا غور کیجیے کہ بانی ٔپاکستان سود کے خلاف، سود کے خاتمے کے بارے آئینی دفعات موجود، عدالتوں کے واضح فیصلے اور کمیشنز کی قابل عمل سفارشات موجود! پھر بھی ملک کی معیشت روز بروز سود کی دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہے___ آخر حل کیا ہے؟

سود سے نجات کے سلسلے میں دو ٹوک بات تو یہی ہے کہ قوت نافذہ کے بغیر سود سے نجات ممکن نہیں۔ جب تک ملک کا مجموعی نظام ربّ کے احکامات کا تابع نہیں ہوجاتا، سود کا متبادل معاشی مالیاتی نظام نافذ نہیں ہوسکے گا۔ اس کے لیےضروری ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نام کی نہیں، کردار کی اسلامی اور جمہوری ریاست بنے۔ اس کے حکمران وہ لوگ ہوں جو سود کی معاشی تباہ کاریوں سے کماحقہٗ واقف ہوں، اس کو ختم کرنے کا عزم بھی رکھتے ہوں اور متبادل اسلامی معاشی نظام کو نافذ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔

کوئی ایسی حکومت جو معاشی اور سیاسی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو، جس کی سوچ آزاد نہ ہو، جس کا قرآنی احکامات وتعلیمات اور سود کا تصور واضح نہ ہو اور جس کا عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار غلامی کی حد تک ہو، وہ سودی نظام کے خاتمے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔

وفاقی شرعی عدالت کا حالیہ فیصلہ امید کی ایک تازہ کرن بنا ہے۔ عدالت نے ملک میں رائج سودی نظام کے خلاف درخواستوں پر ۱۹سال بعد اپریل ۲۰۲۲ء کو فیصلہ سناتے ہوئے اسے غیر شرعی قرار دے دیا اور حکومت کو حکم دیا کہ دسمبر۲۰۲۷ء  تک ملک کے پورے معاشی نظام کو سود سے پاک کیا جائے۔

اس فیصلے کے نفاذ کی اولین ذمہ داری اختیارات کا مرکز ہونے کے ناتے حکومت کی ہے۔ مرکزی بنک بنکاری نظام کا محافظ اور منتظم ہے۔ اس اعتبار سےنفاذ کی ذمہ داری دوسرے نمبر پر  ملک کے مرکزی بنک (اسٹیٹ بنک آف پاکستان) کی ہے۔

تیسرے نمبر پر تجارتی بنکوں کے ذمہ داران ہیں جو اپنے صارفین کو سود کے وبال سے نکالنےکے ذمہ دار ہیں۔

حکومتی سطح پر دیئے گئے عرصے میں فیصلے پرعمل درآمد کے لیے کیا منصوبہ بندی اور اقدامات کیے جارہے ہیں، بظاہر کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ ماضی یہی بتاتا ہے کہ حکومت کسی جمہوری آمر کی ہو یا فوجی جرنیل کی ربّ کائنات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ ختم کرنے کا ان کا کوئی ارادہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ۔

فیصلہ آنے کے بعد عمل درآمد کی تیاری اور منصوبہ بندی کے بجائے اس فیصلے کے خلاف حسب روایت اپیلوں کا معاملہ شروع ہوا۔ وفاقی شرعی عدالت نے ۲۸؍ اپریل ۲۰۲۲ء کو ’ربا‘ کے خلاف فیصلہ دیا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مرکزی بنک غالباً وہ پہلا ادارہ تھا، جس نے اس فیصلہ کو نہایت مستعدی سے مئی ۲۰۲۲ء میں عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا۔

اصولاً تو اس فیصلے کی مخالفت کے بجائے اس کے نفاذ کے لیے مرکزی بنک ہونے کے ناتے اسٹیٹ بنک کو مثبت مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ اس لیے کہ ۲۰۰۳ءمیں اسی مرکزی بنک نے اسلامی بنکاری کی ترویج اور ترقی کے لیے پالیسیاں جاری کی تھیں۔

اسلامی بنکاری کو فروغ دینے کے لیے بنک میں ایک اسلامی بنکاری شعبہ بھی بنایا گیا ہے۔ مرکزی بنک اور بنکوں کے معاملات میں شریعہ کے امور کی نگرانی ورہنمائی کے لیے اسٹیٹ بنک میں ماہرین شریعہ، بنکر، چارٹرڈ اکائونٹنٹ اور ماہرین قانون پر مشتمل ایک شریعہ بورڈ (جسے اب شریعہ کمیٹی کہا جاتا ہے) بھی تشکیل دیا گیا۔ اس بورڈ کے پہلے سربراہ ایک بڑی علمی شخصیت اور معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر محمود احمد غازی تھے۔ مرکزی بنک کی اسی پالیسی کے تحت شریعہ کے امور کی نگرانی اور بنکوں کے مالی معاملات اور ان کی خدمات و پراڈکٹس میں شریعہ کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے اسلامی بنکوں اور سودی بنکوں کی اسلامی بنکاری ڈویژنوں میں بھی شریعہ کے ماہرین پر مشتمل شریعہ بورڈز بھی موجود ہیں۔

شرعی عدالت کے فیصلے کو جاری ہوئے تقریباً ڈیڑھ سال بیت گیا۔ اس عرصے میں فیصلے کے عملی نفاذ کے لیے مرکزی بنک کے شعبہ اسلامی بنکاری نے کیا کوششیں کیں، کیا روڈ میپ یا  منصوبہ سازی کی ہے؟ کسی کو کچھ پتا نہیں! شعبہ اسلامی بنکاری کے ذمے داران میں تو شاید کوئی عالم یا شریعہ کا ماہر موجود نہ ہو لیکن بنک کا شریعہ بورڈ تو ہے ہی علما پر مشتمل شریعہ کا محافظ (Custodian of Sharia)۔ شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اسٹیٹ بنک کی اپیل پر Custodian of Sharia نے کیا ردعمل دیا؟ کچھ علم نہیں۔ آیا رد عمل دیا بھی یا نہیں، اس کا بھی کوئی  پتا نہیں! اس ڈیڑھ سال کے عرصے میں بنکوں کے شریعہ بورڈز یا ان بورڈز کے اندر موجود مشیران شریعہ(الا ماشاءاللہ) کی طرف سے کسی واضح ردعمل یا تجویز کا بھی کہیں پتا نہیں چلتا۔ یہاں بھی مکمل خاموشی ہے۔ یعنی شریعہ کے محافظ تین اداروں، اسٹیٹ بنک کے شعبہ اسلامی بنکاری، اسٹیٹ بنک کے شریعہ بورڈ اور بنکوں کے شریعہ بورڈز کی طرف سے تقریباً خاموشی نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی اور زیادہ ذمہ داری مرکزی بنک کے شریعہ بورڈ کی بنتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سود کے خاتمے کی جو طاقت اسٹیٹ بنک کے شریعہ بورڈ کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں۔ بس ادراک کی ضرورت ہے۔

کیا علمائے کرام کی ذمہ داری صرف پیش کردہ بنکاری معاملات، پراڈکٹس اور خدمات کے جائزے اور فتوے تک محدود ہے یا قرآنی حکم کے عملی پہلو یعنی سود کے خاتمے کے لیے بھی انھیں کوئی کردار ادا کرنا ہے؟

سود کے انسداد کے خواہاں لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ:

            ۱-         آیا مرکزی بنک کے شعبہ اسلامی بنکاری نے شرعی عدالت کے فیصلے پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کے لیے کوئی لائحہ عمل تیارکیا ہے؟ اگر کیا ہے تو اس کی کوئی خیر خبر اور اس پر اب تک کی پیش رفت!

            ۲-         کیا مرکزی بنک اور ملک کے تمام بنکوں کے معاملات میں شرعی اصولوں کے تحفظ کے مرکزی ذمہ دار کے طور پر اسٹیٹ بنک کے شریعہ بورڈ نے مرکزی بنک سے عدالت کے فیصلے پر عمل درآمدکا کوئی لائحہ عمل مانگا/ یا ایسا کوئی لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے کہا ہے؟

            ۳-         کیا مرکزی بنک سے سودی بنکاری کے خاتمے کے لیے شریعہ بورڈ نے بنک سے سودی بنکاری برانچز کے لائسنس روکنے کے لیے کہا ہے؟

            ۴-         کیا سودی بنکوں کی اسلامی بنکاری ڈویژنز کے شریعہ بورڈز نے اپنے بنکوں کو وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے مقررہ مدت کے تعین کے ساتھ کسی منصوبہ بندی کے لیے کہا ہے یا کوئی تجویز یا مشورہ دیا ہے؟ اورآخری سوال یہ ہے کہ کیا ملک بھر کے بنکوں کے مشیران شریعہ کے ہاں سودی نظام کے خاتمے کے لیے کوئی عملی منصوبہ موجود ہے؟

کیا سود کے عذاب سے نجات کے موضوع پر مشیران شریعہ کے پاس کسی مؤثر مشترکہ حکمت عملی/ جدوجہد کے لیے اجتماعی فورم کی تشکیل کا کوئی پروگرام زیر غور ہے؟

جب تک شریعہ بورڈز کے ممبران مؤثر اور منظم کردار ادا کرتے ہوئے اپنے بنکوں پر سودی کاروبار کو بتدریج گھٹانے اور اسلامی بنکاری کو بڑھانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالیں گے، سودی بنکاری ختم نہیں ہوگی۔

سود کے خاتمے اور اسلامی بنکاری کے نفاذ کے ذمہ دار اداروں( حکومت، مرکزی بنک اور کمرشل بنکوں) سے یہ اُمید رکھنا عبث ہے کہ وہ خوشی خوشی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔ صرف ایک راستہ باقی ہے اور وہ ہے بنکوں کے شریعہ بورڈز کی طرف سے بنکوں پر دباؤ کی مؤثر اور مربوط حکمت عملی! اس سلسلے میں اسٹیٹ بنک کے شریعہ بورڈ کا کردار سب سے اہم ہوگا۔

پہلے قدم کے طور پر بورڈ کو اسٹیٹ بنک سے عدالتی فیصلے پرعمل درآمد کا مخصوص مدت کے تعین کے ساتھ لائحہ عمل مانگنا چاہیے۔ اگر اب تک ایسا کوئی لائحہ عمل نہیں بنایا گیا تو شریعہ بورڈ دوتین ہفتے کے اندر اس کو بنانے کا مطالبہ کرے۔

اس لائحہ عمل کے چند نکات یہ ہوسکتے ہیں:

۱-سودی بنکوں کو مزید لائسنسوں کے اجراء پر پابندی۔

۲-سودی بنکوں کی برانچز کو تین سال کے اندر بتدریج اسلامی بنانے کا پروگرام۔

شریعہ بورڈ لائحہ عمل بننے کے بعد اس پر مرحلہ وار عمل درآمد کی نگرانی کرے۔

یہی طریقہ کار بنکوں کے شریعہ بورڈز بھی اپنے بنکوں کے ساتھ اختیار کریں۔

اگر مرکزی بنک اور بنکوں کے مشیرانِ شریعہ نے ایسا نہ کیا اور کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار نہ کیا، تو پورا یقین ہے کہ حالیہ عدالتی فیصلے کا انجام بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے کے اسلامی نظریاتی کونسل اور کمیشنوں کی رپورٹس اور عدالتی فیصلوں کا ہوا ہے۔

زیربحث موضوع کے دیگر پہلوئوں کی وضاحت یا اختلافی نقطۂ نظر کو پیش کرنے کے لیے رسالے کے اوراق حاضر ہیں۔ اسلامی بنکاری کی مناسبت سے اہل علم و فن، عملی اور اطلاقی صورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے، اصلاحِ احوال کی شکلیں بیان فرمائیں۔ ادارہ]

اسلامی بنکاری پر شائع ہونے والی میری معروضات ترجمان القرآن (نومبر ۲۰۲۳ء) پر بعض قارئین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے خیال میں ’’اس قسم کی تحریروں سے اسلامی بنکاری کی ساکھ خراب ہوتی ہے، لوگوں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور صارفین اس نظام کی اسلامی حیثیت کے بارے میں مخمصے اور شکوک وشبہات کا شکار ہوتے ہیں‘‘۔

عرض یہ ہے کہ ہم نے اپنے مضمون میں جن خامیوں کا ذکر کیا ہے ان کی اصلاح اور نظام میں بہتری مقصود ہے نہ کہ اس نظام کا انہدام۔ اگر خرابیوں کی نشاندہی نہ کی جائے تو اصلاح کی طرف توجہ کیسے جائےگی؟ اس لیے تجزیہ، تنقید یا خامیوں کی نشاندہی اصلاح کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔

درج ذیل تحریر اسی پس منظر میں نذر قارئین ہے:

بنکاری آج کے دور کے معاشی و مالیاتی نظام کا لازمی جزو ہے۔ عصرحاضر میں اس کے بغیر کاروبارِ حیات کا چلنا ناممکن دکھائی دیتا ہے ،اگرچہ مغرب کی بنکاری سودی ہے۔ مسلمان کا ایمان سودی بنکاری کے متبادل کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ ایمان اسے سود کے ساتھ جینے اور رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔

قرآنی حکم کی روشنی میں ہماری ضرورت بنکاری نہیں، اسلامی بنکاری ہے۔ ہم ربِّ کائنات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس سراسر خسارے والی جنگ میں ہم مغرب کے ملحدانہ سودی بنکاری نظام کی وجہ سے بادل نخواستہ پھنسے ہوئے ہیں۔

ربِّ کائنات اور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف انسانیت کی تباہی کی جنگ سےنکلنے کے لیے بجاطور پر اسلامی بنکاری کا تصور پیش کیا گیا۔ مگربدقسمتی یہ ہے کہ آج اسلامی بنکاری کی رائج شکل اصل تصور کاعشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ تصور پیش کرنے والوں اور اس کو عملی شکل دینے والوں کی فکر، سوچ اور مقصد میں کوئی مطابقت نہیں ہے۔

ترقی کے دعوؤں اور خوش کن اعداد وشمار کے باوجود تلخ سچ یہ ہے کہ دنیا بھر کےدرجنوں مسلم اور غیرمسلم ممالک میں اسلامی بنکاری نظام اب تک کہیں بھی وہ پذیرائی اور قبولیت حاصل نہیں کرسکا، جو اسے حاصل ہونی چاہیے تھی۔لوگوں کی بڑی تعداد کے اس نظام کے عملی پہلوؤں پر بنیادی نوعیت کے تحفظات اور اعتراضات ہیں۔

دوسری طرف عام آدمی، بنک صارفین اور علمائے کرام کی اکثریت نے اس نظام کی عملی صورت سے مطمئن نہ ہونے کے باوجود سود کے وبال سے بچنے کے لیے ممکن حد تک میسر متبادل کے طور پر اس کو کسی نہ کسی حد تک قبول کرلیا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں، رائج اسلامی بنکاری کے ساتھ تعلق کے لحاظ سے لوگوں کی تین اقسام ہیں:

            ۱-         وہ جن کے خیال میں ’اسلامی بنکاری‘ اور ’سودی بنکاری‘ میں کوئی فرق نہیں، صرف نام الگ ہیں۔یہ لوگ بنک سے لین دین میں صرف اپنی سہولت کو دیکھتے ہیں، بنک کے اسلامی یا سودی ہونے کو نہیں!

            ۲-         وہ لوگ جو خود سے کچھ جاننے کی کوشش کرنے کے بجائے معاملے کو علمائے کرام کی دینی بصیرت پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ لوگ علما پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے ’سودی بنک‘ کے مقابلے میں ’اسلامی بنک‘ سے تعلق کو ترجیح دیتےہیں۔

            ۳-         وہ لوگ جو ہر صورت سود اور سود جیسے معاملے سے بچنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ سودی بنک سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ کسی اسلامی بنک سے۔ یعنی بطورِ احتیاط بڑی حد تک بنکاری نظام سے ہی دُور رہتے ہیں۔

اگرچہ اسلامی بنکاری کے بارے میں رائے اور تعلق کے اعتبار سےلوگوں کی مذکورہ بالا تین اقسام ہیں، لیکن بہرحال اکثریت کا خیال ہے کہ مروجہ اسلامی بنکاری محض نام کی اسلامی ہے۔ ان کی رائے میں نتائج اور عمل کے لحاظ سے یہ نظام سودی بنکاری جیسا ہی ہے۔لوگوں کو اگر ایسا لگتا ہے تو اس کی یقینا کچھ معقول وجوہ ہوں گی۔

اسلامی بنکاری کی شکل اور نتائج سودی بنکاری سے مشابہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے نفاذ کے لیے قواعد وضوابط وہی ’مرکزی بنک‘ بناتا ہے، جو اصلاً مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے آلۂ کار سودی بنکاری نظام کا محافظ ہے۔ دوسرے یہ کہ اسلامی بنکاری انھی بنکاروں کے ہاتھوں پروان چڑھ رہی ہے، جو سودی بنکاری کے خوگر اورتربیت یافتہ ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر ’مرکزی بنک‘ سودی نظام کا محافظ ہے تو وہ اسلامی بنکاری کے فروغ کے لیے قواعد وضوابط کیوں بنا رہا ہے اور اسلامی بنکوں کو لائسنس کیوں جاری کر رہا ہے؟ اور بنک کیوں اسلامی بنکاری کی خدمات پیش کر رہے ہیں؟

اس سلسلے میں عملی رویوں کو دیکھتے ہوئے عرض ہے کہ حکومت، مرکزی بنک اور تجارتی بنکوں نے سود کے قرآنی احکامات کی تعمیل کے لیے نہیں بلکہ کسی مجبوری اور سیاسی اور مالی ضرورت کے تحت اسلامی بنکاری کو اختیار کیا ہے۔حکومت، مذہبی طبقے کے دباؤ سے بچنے اور کچھ سیاسی فائدے کے لیے اسلامی بنکاری کا نفاذ چاہتی ہے۔

’مرکزی بنک‘ جو کہ بنکوں کے نظامِ کار اور ایک ضابطے میں لانے اور نگرانی کا ادارہ ہے، اسلامی بنکاری کے نفاذ سے اس کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ بنکاری نظام میں شامل ہوں۔ اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ سود کی وجہ سے جو لوگ بنکاری نظام سے باہر تھے، ان کو اس طرح سے بنکاری نظام میں لانے میں اسلامی بنکاری کے ذریعے کچھ کامیابی ملی ہے۔اسی طرح بنکاروں کا مقصد بھی سود کاخاتمہ نظر نہیں آتا۔ وہ بھی محض اپنے گاہک، نفع اور کاروبار بڑھانے کے لیے سودی بنکاری کے ساتھ ساتھ اسلامی بنکاری پراڈکٹس پیش کر رہے ہیں۔

ابتدا میں بیان کردہ تینوں فریقوں کو اسلامی معاشیات یا شریعہ کے باریک مقاصد اور اُصولوں سے کچھ زیادہ سروکار نہیں ہے۔ ان تین فریقوں کے علاوہ اسلامی بنکاری اداروں میں شریعہ سے متعلق مشاورتی خدمات مہیا کرنے والے علما ہیں۔ شریعہ بورڈز میں ممبر کے طور پر شامل علما کا کردار بنک کے اسلامی بنکاری سے متعلق معاملات، پراڈکٹس اور ِخدمات کے شرعی جائزے تک محدود ہے۔ کوئی بھی اسلامی بنکاری پراڈکٹ ان کے فتوے کے بغیر شروع نہیں کی جاسکتی۔ بنکوں سے سود کے خاتمے کے لیے ’شریعہ بورڈز‘ سے جس جرأت مندانہ کردار کی توقع کی جاتی ہے، بدقسمتی سے وہ پوری نہیں ہوئی۔

دوسری طرف اسلامی بنکاری کے نظریے کے اصل موجد یا خالق نہ حکومتی عہدے دار تھے، نہ مرکزی بنک اور نہ بنکار کہ وہ اپنے تصور کو حقیقی رنگ دے سکتے۔ مزید یہ کہ یہ کوئی روایتی علما بھی نہیں تھے۔یہ اللہ کا خوف رکھنے والے کچھ مفکرین تھے، جو سودی بنکاری سے اہل ایمان کو نجات دلانا چاہتے تھے۔ پروفیسر خورشید احمد،ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی، ڈاکٹر تنزیل الرحمان، ڈاکٹر عزیر جیسے ماہرینِ اسلامی معاشیات و قانون نے سیّد مودودی علیہ الرحمہ کی اسلامی نظام معیشت ومالیات کی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے سود سے پاک اسلامی مالیاتی اور بنکاری نظام کا نظریہ پیش کیا، اور اس کے لیے درکار بنیادیں بھی فراہم کیں (مصر کےشیخ احمد النجارغالباً واحد مفکر اور بنکار ہیں، جن کو اسلامی بنکاری کے خیال کو کامیاب عملی شکل دینے کا موقع ملا)۔

مذکورہ بالا پس منظر کی روشنی میں رائج ’اسلامی بنکاری‘ کے تعامل کو دیکھ کر توقعات کا پورا ہونا مشکل لگتا ہے۔ اس لیے اسلامی بنکاری کی مروجہ صورت میں جو کچھ بھی میسر ہے، اصلاح کی کوششیں جاری رکھتے ہوئے اس کو غنیمت جاننا چاہیے۔

اس نظام کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک اور حقیقت بھی سامنے رہنی چاہیے کہ یہ نظام صدیوں پرانے طاقت ور سودی بنکاری نظام کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ اس کا مقابلہ بہت مضبوط نظام کے ساتھ ہے۔ مجھے اعتراف ہےکہ اسے سخت مقابلے کی وجہ سے بہت سارے معاملات میں مصالحت اور کچھ اصولوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ جہتوں کو متوجہ کرنے کے لیے خامیوں کی نشاندہی بھی ایک دینی، اخلاقی اور فنی فریضے کے طور پرضروری ہے۔

اسلامی بنکاری سے متعلق افراد، ادارے اور صارفین تنقید پر ناراض ہونے کے بجائے غلطیوں کو درست کرنے پر توجہ دیں، تو نظام میں بہتری آئے گی اور لوگ سودی بنکاری سے تعلق ختم کرکے اسلامی بنکاری سے وابستہ ہوتے جائیں گے۔

یہ ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ اسلامی بنکاری کی مروجہ شکل بعض بنیادی معاملات میں اصلاح کی متقاضی ہے۔لوگ اگر یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ نظام محض نام کی تبدیلی ہے یا یہ سودی بنکاری کا چربہ ہے، تو اس کی سب نہ سہی، کچھ وجوہ تو قابل غور ہیں۔

علمائے کرام کی بڑی اکثریت کو اگر اس کے بعض معاملات پر شرعی اعتراضات ہیں تو اس کے پیچھے یقینا کچھ ایسے ٹھوس اُمور ہیں، جن پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

اگر یہ کہا جاتا ہے کہ حیلہ کاری کا استعمال اس نظام کے مثبت تصور کو مسخ اور انفرادیت کو قائم نہیں ہونے دے رہا ہے اور اس کی افادیت پر اثر انداز ہورہا ہے، تو اس کے پس منظر میں کموڈٹی مرابحہ جیسی بے اصل پراڈکٹس کا کردار ہوسکتا ہے۔

اس نظام پر اگر ’سود‘ کا نام ’نفع‘ رکھنے کا الزام ہے تو اس کا سبب ’نفع کی شرح‘ کو کاروبار کے حقیقی نفع نقصان کے ساتھ وابستہ رکھنے کے بجائے سود کی طرح ڈپازٹ کی رقم کے کم یا زیادہ ہونے سے نتھی کرنے اور نفع کی رقم کو سودکی طرح یقینی بنانے کے عمل سے ہے۔

کم ڈپازٹ پر نفع میں شراکت کی شرح کم اور زیادہ ڈپازٹ پر یہ شرح زیادہ رکھنے سے یہی لگتا ہے کہ سودی بنکاری کی طرح اس نظام میں بھی استحصالی عنصر موجود ہے۔

اس پورے معاملے میں یہ سوال بالکل جائز ہے کہ ’’کیا خامیوں، اعتراضات، خدشات، تنقید، مخالفانہ فتوؤں اور عدالتی فیصلوں کی وجہ سے اس نظام کی بساط لپیٹ دی جائے؟‘‘

’’کیا اسلامی بنکاری کی کچھ خامیوں کی بناء پر اسے منافقت قرار دے کر اس سے تعلق ختم کر کے سودی بنکاری کے ساتھ تعلق جوڑ لینا چاہیے؟‘‘

جی نہیں، بالکل نہیں اور ہرگز نہیں!

  • توجہ طلب اُمور: اسلامی نظام بنکاری اپنی خامیوں اور جوہری نقائص کے باوجود سودی بنکاری سے بہتر اور ’بنکاری سود‘ سے بچنے کا واحد دستیاب راستہ ہے۔ کسی بھی صورت اس کے مقابلے میں سودی بنکاری کو ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ کسی مسلمان شخص یا ادارےکے لیے اسلامی بنکاری کی خامیوں کو جواز بناکر سودی بنک سے لین دین کرنا جائز نہیں ہوسکتا۔ البتہ عدم اطمینان کم کرنے اورقبولیت عامہ بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اس نظام کو شریعت کے اصولوں کی حقیقی پاس داری کا آئینہ بنایا جائے، اور اس بنکاری نظام کو شریعہ اور اسلامی معاشی نظام کے مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنایا جائے۔

بنکوں کے معاملات میں شریعہ کی پابندی کو یقینی بنانا بنکوں کے شریعہ بورڈوں کی ذمہ داری ہے۔ بنکوں کو مشاورتی خدمات مہیا کرنے والے ماہرین شریعہ اور علمائے کرام کے اخلاص پر شک کی گنجایش نظر نہیں آتی مگر نظام کی خامیاں کسی نہ کسی قانونی، سیاسی یا معاشی مجبوری کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔

اصلاح کی گنجایش تو بہترین سے بہترین نظام میں بھی موجود رہتی ہے۔ اس لیے ہمارے گردوپیش میں رائج اسلامی بنکاری بھی اصلاح کی ضرورت سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

سود سے ملکی معیشت کی مکمل نجات تو مستقبل قریب میں بوجوہ ممکن نظر نہیں آتی۔ لیکن بنکاری نظام میں سنجیدہ کوششوں کے ذریعے سود سے بچنے کی جزوی کامیابی بہرحال ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ یہ جزوی کامیابی اسلامی بنکاری کے فروغ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

اگر اسلامی بنکاری کی قبولیت عامہ بڑھانی ہے تو اصلاح طلب امور کی طرف توجہ دینا ہوگی۔اس سلسلے میں بہتری اور اصلاح کے لیے درج ذیل نکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے:

            ۱-         شریعہ کے محافظین یعنی بنکوں کے شریعہ بورڈوں کے ممبران کو اکٹھے بیٹھ کر اعتراضات کی ایک فہرست مرتب کرنی چاہیے۔

            ۲-         اسلامی بنکاری نظام پر منفی اثرات ڈالنے والےاعتراضات کی درجہ بندی کی جائے۔

            ۳-         پھر ان کی درجہ بندی اس طرح کی جائے کہ کس معاملے کو شریعہ بورڈوں کی سطح پرہی آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے اور کن معاملات میں دیگر فریقوں ملکی یا بین الاقوامی قوانین اور اداروں کی وجہ سےمشکلات پیش آئیں گی اور وقت لگے گا۔

آسانی کے لیےکچھ اعتراضات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے:

            ۱-         نفع کی تقسیم کی شرحوں کو تمام ڈپازیٹرز کے لیے یکساں رکھنا۔

            ۲-         مضاربہ ، وکالہ اور مشارکہ میں نفع کوسود سے مشابہ بنانے والے عوامل سے احتراز۔

            ۳-         کموڈٹی مرابحہ جیسی بےاصل پراڈکٹس کا خاتمہ۔

            ۴-         سودی بنکوں سے کسی بھی صورت تعاون یاتعلق ختم کرنے کا معاملہ۔

            ۵-         صکوک خصوصاً اجارہ صکوک کے لیے حساس ملکی اثاثہ جات (ایئرپورٹس، موٹر ویز وغیرہ) کی برائے نام فروخت(notional sale)جیسے معاملات ۔

            ۶-         کاروباری ضرورت یا زیادہ سے زیادہ نفع کے حصول کی خاطر شریعہ کے بنیادی اصولوں سے صرفِ نظر اور رعایتوں اور ان پر ذیلی اصولوں کو ترجیح دینا۔

            ۷-         بعض شرعاً ناقابلِ قبول ذرائع تمویل کو قابلِ قبول بنانے کے لیےحیلوں کے استعال کا معاملہ وغیرہ وغیرہ۔

قصۂ مختصر،یہ کہ قارئین کی رائے میں:

            ۱-         تنقید سے صارفین کے ذہن اسلامی بنکاری بارے شکوک وشبہات کا شکار ہوتے ہیں اور اس سے اسلامی بنکاری کو نقصان پہنچتا ہے۔

            ۲-         اسلامی بنکاری جیسی بھی ہے اس کو چلنے دینا چاہیے۔

            ۳-         اگر اسے ختم کردیا تو سود سے بچنے کاجو تھوڑا سا موقع میسر ہے وہ بھی ضائع ہوجائے گا۔

تیسرے نکتے سے مکمل اوردوسرے نکتے سے جزوی اتفاق ہے مگر پہلے نکتے سے اتفاق نہیں ہے۔وجہ یہ ہے کہ بامقصد تنقید اصلاح کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نظام میں بہتری کی کوششیں ایک مسلسل عمل ہے، اس کا جاری رہنا خود نظام کے حق میں اچھا ہے۔

’اسلامی بنکاری‘ کے ساتھ ایک طویل عرصہ سے منسلک رہنے کی وجہ سے مجھے اکثر اس سوال کا سامنا رہتا ہے کہ ’’کیا مروجہ اسلامی بنکاری حقیقتاً اسلامی ہے، اور اگر اسلامی ہے تو کتنی اسلامی ہے؟‘‘ ان دونوں سوالوں میں سوال کم اور اسلامی بنکاری کے حوالے سے پریشان کُن شکایت زیادہ نظر آتی ہے۔ دُنیا بھر کے درجنوں مسلم اور غیر مسلم ممالک میں چالیس پچاس سال سے رائج اسلامی بنکاری کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے: ’’رائج شکل میں اسلام کے نام پر جو بنکاری ہورہی ہے وہ نام کی تبدیلی کے سوا کچھ نہیں ہے‘‘ اور یہ تاثر بھی عام ہے کہ: ’’اسلامی بنکاری میں سود کا نام نفع رکھ دیا گیا ہے‘‘۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ عمومی تاثر بڑی حد تک درست ہے۔

اسلامی بنکاری، لوگوں میں وہ اعتماد حاصل نہیں کرسکی، جو اسے ملنا چاہیے تھا۔ سوچنے کی بات ہے کہ قرآنی حکم اور عقیدے کے نام پر قائم ہونے والے اس نئے نظام پر اتنے زیادہ اعتراضات اور شکوک وشبہات کیوں ہیں؟ تو عرض یہ ہے کہ اسلامی بنکاری جس ماحول میں کام کررہی ہے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اسلامی بنکاری کو کامیابی کے لیے جو سماجی، معاشی اور سیاسی ماحول درکار ہے وہ کسی بھی مسلم یا غیرمسلم ملک میں موجود نہیں۔ اور نہ اسے مضبوط ریاستی، اداراتی اور حکومتی حمایت و سرپرستی میسر ہے۔ اخلاقی زوال بھی اسلامی بنکاری کے فروغ میں رکاوٹ ہے۔ اہل اختیار کی سود کے وبال سے لاعلمی و جہالت اور مغربی نظام سے مرعوبیت بھی اسلامی بنکاری کے نفاذ کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔ بے دلی اور جان چھڑاؤ قسم کے اقدامات نے اسلامی بنکاری کے درست سمت سفر میں ایک اور بڑی مشکل پیدا کردی ہے۔

عقیدے کی بنیاد پر بننے والا یہ بے آسرا، کمزور اور نحیف سا نظام صدیوں پرانے جمے جمائے ایسے بنکاری نظام کے تحت کام کررہا ہے، جسے پوری دنیا کی عالمی طاقتوں کی تائید اور غالب سیاسی نظام کا تحفظ اور سرپرستی حاصل ہے۔ دنیا کے غالب سیاسی نظام کا پسندیدہ بنکاری نظام سودی ہے۔ اسلامی بنکاری زیادہ تر سیاسی مجبوری، کاروباری مفادات (financial inclusion) کے لیے رائج کیا گیا ہے۔ اہل اختیار ایسے تعلیمی نظام کے سند یافتہ ہیں جہاں سود کمانا سکھایا جاتا ہے، سودکے دینی تصور کو ذہنوں سے دُور رکھا جاتا ہے۔ اسلامی بنکاری کی باگ ڈور ہر جگہ مکمل طور پر ایسے مرکزی بنکاری نظام کے ہاتھ میں ہے، جو اصلاً ونسلاً سرمایہ دارانہ طاغوتی استحصالی سودی نظام کا محافظ ہے۔ یہ مرکزی بنکاری نظام اپنی پالیسی اور قواعد وضوابط کے ذریعے اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بنکاری نظام میں آنے والی کوئی بھی تبدیلی سرمایہ دارانہ نظام کے مقاصد کی آبیاری میں کسی قسم کی رکاوٹ بننے کے بجائے اس کے لیے معاون اور مددگار بنی رہے۔

دولت اور وسائل کا چند ہاتھوں میں ارتکاز ہی سرمایہ دارانہ معاشی نظام کا غیر علانیہ مقصد وہدف ہے۔ اس کے لیے سود اس کا سب سے مؤثر آلہ ہے، جسے وہ مالی اور بنکاری نظام میں استعمال کرتا ہے۔ یہ بات سب لوگ جانتے ہیں کہ سود کی شرح پہلے سے متعین، طے شدہ اور یقینی ہوتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مروجہ اسلامی بنک بھی ’شریعہ انجینیرنگ‘ کے ذریعے ’نفع‘ کو سود کی طرح پہلے سے متعین، طے شدہ اور یقینی بناتے ہیں۔ شریعت کے قوانین سے ناواقفیت کی وجہ سے بنکار یہ کام خود نہیں کرتے۔ اس کے لیے وہ معروف ’ماہرین شریعت‘ کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ شریعہ کے ماہرین بنکاروں کو وہ راستے بتاتے ہیں جس سے شریعت کے قوانین پر عمل بھی ہوجاتا ہے اور بنکاری کے معاملات اور سرمایہ دارانہ استحصالی مقاصد پر کوئی اثر بھی نہیں پڑتا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تقریباً نصف صدی پرانا اسلامی بنکاری نظام سودی نظام کی چھتری تلے ’مغرب کے استحصالی سودی معاشی نظام کے مقاصد کے حصول کا شرعی طریق کار‘ بن کر کام کررہا ہے۔ شریعت کے ماہرین حیلوں کی مدد سے بنکاری کے شرعاً مشکل معاملات کو بڑی ’خوش اسلوبی‘ سے سنبھال لیتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ کمال کس طرح ہوتا ہے، یعنی ’نفع ‘کی شرح کو کس طرح سود کی صفات سے متصف کیا جاتا ہے؟

بنکوں کے معاملات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ سودی بنکوں کا انحصار ایک ہی قسم کے معاہدے یعنی ’’سودی قرض‘‘ پر ہوتا ہے، جب کہ اسلامی بنک:

۱- ’مشارکہ‘ اور ’مضاربہ‘ کے تحت نفع و نقصان میں شراکت کے اصول پر کام کرتا ہے۔

۲- ’مرابحہ‘، ’مساومہ‘، ’سلم‘ اور ’استصناع‘ کے تحت اشیا کی خرید وفروخت سے نفع کماتا ہے۔

۳- ’اجارہ‘ کے تحت مشینری، گھر یا گاڑی کرایہ پر دے کر کرایہ حاصل کرتا ہے۔

۴- افراد اور اداروں کو خدمات فراہم کر کے اُجرت ’جعالہ‘(کمیشن) حاصل کرتا ہے۔

۵- وکالہ بالاستثمار کے تحت وکالت کی فیس لیتا ہے۔

شرح منافع، کمیشن، اُجرت، فیس اور اجارہ جیسے جائز مگر سود سے طبعاً مختلف کاروباری طریقوں کو سود کی طرح کیسے بنایا جاتا ہے؟ اس کے لیے درج ذیل مثالیں دیکھیے، نیز کچھ مثالوں کے ذریعے ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ بنکاری مجبوریوں کی وجہ سے بعض حرام معاملات کو حلال بنانے کے لیے کیا حیلے اختیار کیے جاتے ہیں۔mمضاربہ اکاؤنٹ کا نفع m وکالہ بالاستثمار کا منافع اور فیس mبیع العینہ mبیعتین فی بیع m کموڈٹی مرابحہ ___ اسلامی بنکوں کی حیلہ زدہ پراڈکٹس ہیں۔

’مضاربہ‘ اور ’مشارکہ‘ یعنی حصہ داری کی بنیاد پر کاروبار میں دو یا دو سے زیادہ افراد کی شرکت ایسے کاروباری طریقے ہیں، جن کو شریعت نے جائزقرار دیا ہے۔ اسلامی بنک میں بچت کھاتے زیادہ تر ’مضاربہ‘ اور ’وکالہ‘ یا ’مشارکہ‘ کی بنیاد پر کھولے جاتے ہیں (اسلامی بنک ان طریقوں پر سرمایہ کاروں کو مالکاری سہولت بھی مہیا کرتے ہیں)۔ یہاں ہم ’مضاربہ اکاؤنٹ‘ کے معاملات کو سمجھتے ہیں: ’مضاربہ‘ میں سرمایہ مہیا کرنے والے یعنی کھاتے دار کو ’ربّ المال‘ اور کاروبار کرنے والے یعنی بنک کو ’مضارب‘ کہتے ہیں۔ دیگر تمام اصولوں کے ساتھ ساتھ نفع ونقصان میں شراکت کا اصول یہ ہے کہ نفع میں طے شدہ شرح سے ’مضارب‘ اور ’ربُ المال‘ کا حصہ ہوگا۔ مثلاً نفع جو بھی ہوگا اس میں سے بنک یعنی ’مضارب‘ (مثال کے طور پر) ۷۰ فی صد کا اور ’ربُ المال‘ یعنی  کھاتے دار ۳۰ فی صد کا حق دار ہوگا (شریعت کے اصولوں کے مطابق منافع کی تقسیم کی شرح ’ربُ المال‘ اور ’مضارب‘ کی باہمی رضامندی سے ۷۰:۳۰ یا ۵۰:۵۰ یا کچھ اور بھی ہوسکتی ہے)۔

نفع میں شراکت کی شرح معاہدے میں واضح طور پر طے کرنی ضروری ہے۔ نقصان کے بارے میں اصول یہ ہے کہ وہ صرف ’ربُ المال‘ برداشت کرے گا۔ لیکن اسلامی بنک کے معاملے میں عمل کی دنیا میں یہ اصول کام ہی نہیں کرتا۔ بنک کھاتے دار کو بتاتا ہے کہ وہ اگر بنک کو ’مضاربہ‘ کی بنیاد پر رقم دے گا تو اسے اتنا ’متوقع منافع‘ ملے گا۔ مثلاً ایک لاکھ کی سرمایہ کاری پر سات فی صد تک نفع مل سکتا ہے۔ متوقع نفع تک تو بات درست ہے۔ اس میں کوئی شرعی طور پرخرابی نہیں۔

اصل خرابی یہ ہے کہ یہ متوقع نفع ہی دراصل وہ طے شدہ نفع ہے، جو ہر صورت کھاتے دار کو ملے گا۔اس کو معین اور یقینی بنانے کے لیے معاہدے میں ’اگر مگر‘ کے ساتھ کچھ شقیں ڈالی جاتی ہیں۔ اگر نفع متوقع سات فی صد سے کم ہوا تو بنک اپنے حصے میں سے ہبہ کرکے سات فی صد پورا کردے گا۔ اگر نفع متوقع سات فی صد سے زیادہ ہوا تو سات فی صد سے اوپر جو نفع ہے وہ بنک اپنی محنت کا انعام سمجھ کر اپنے پاس رکھ لے گا (عملی طور پر نفع نہ کم ہوتا ہے نہ زیادہ۔ یہ شقیں عموماً محض شرعی قواعد کی ضرورت کی تکمیل کے لیے معاہدے میں شامل کی جاتی ہیں)۔ باقی رہا نقصان تو اسلامی بنک کبھی نقصان میں جاتا ہی نہیں! کچھ ایسا ہی طریقہ ’وکالہ‘ میں بھی اختیار کیا جاتا ہے۔

’وکالہ‘ ایک متعین اُجرت والا معاہدہ ہے۔ اس میں بنک سرمایہ کاری وکیل کے طور پر پیسہ لیتا ہے۔ یعنی بنک گاہک (موکل) کا پیسہ کاروبار میں لگانے کے لیے لیتا ہے۔ اس میں اصول یہ ہے کہ وکیل ایمان داری سے موکل کے لیے کسی منافع بخش کاروبار میں پیسہ لگائے گا۔ کاروبار میں نفع ہو یا نقصان موکل اس کا حق دار ہوگا۔ بطور وکیل بنک ایک متعین اُجرت کا حق دار ہوگا۔ پیسہ لیتے وقت بنک گاہک کو کاروبار کے متوقع منافع کے بارے میں بتائے گا۔ اب اپنے نفع کو متعین، طے شدہ اور یقینی بنانے کے لیے یہ شقیں معاہدے میں شامل کرے گا کہ اگر اصل منافع، متوقع منافع سے زیادہ ہوا تو بطور وکیل زائد منافع محنت کے صلے کے طور پر وہ خود رکھ لے گا اور اگر نفع کم ہوا تو بنک اپنی اُجرت میں سے ہبہ کرکے اسے متوقع منافع کے برابر کرکے موکل کو دے گا۔ مطلب یہ کہ متوقع منافع ہی آخری اور طے شدہ منافع ہے جو گاہک کو ملے گا، نہ کم نہ زیادہ!

  • حرام کو حلال بنانے کے حیلے: ایک ’عقد‘ میں دو بیع شرعاً جائز نہیں۔ اس لیے ’عقد‘ الگ الگ کرلیں یا ایک ’عقد‘ اور دوسرا ’وعد‘ کرلیں۔ مثلاً بنک آپ کو گاڑی ’اجارہ‘ پر دیتا ہے۔ گاڑی کے استعمال کا ماہانہ کرایہ وصول کرتا ہے۔ بنک سے گاڑی لینے والے کا اصل مقصد گاڑی خریدنا ہوتا ہے نہ کہ کچھ وقت استعمال کرنا۔ بنک ایک متعین مدت (عموماً پانچ سال) بعد وہ گاڑی گاہک کو ایک طے شدہ قیمت کے عوض دے دیتا ہے۔ شرعاً بیچنے اور کرایہ کے عمل کو ایک ’عقد‘ میں یکجا نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ’اجارہ‘ کا عقد کرلیا جاتا ہے اور بنک یا گاہک خرید نے یا بیچنے کا یک طرفہ ’وعد‘ کر لیتا ہے۔ یہ حیلہ  بیعتین فی بیع  کے عدم جواز سے بچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح ایک ہی شے کا ایک ہی وقت میں اجارہ بھی ہوگیا اور فروخت بھی اور بیعتین  کی حرمت سے بھی بچ گئے۔ ماہرین شریعت و مفتیان کرام کے فتوے کے مطابق عوام کے لیے سودی بنکوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا مالی تعلق رکھنا جائز نہیں۔ نہ سودی بنک میں اکاونٹ کھولنا جائز ہے، نہ اس سے کاروباری یا ذاتی ضروریات کے لیے کوئی قرض لینے کی اجازت! لیکن اسلامی بنک سودی بنک کو سرمایہ فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے لیے ’کموڈٹی مرابحہ‘ کا حیلہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ’کموڈٹی مرابحہ‘ کا طریقۂ کار زبردست ہے۔ کموڈٹی مارکیٹ (سوق السلع) میں موجود کسی جنس مثلاً کپاس کی خریداری، فروخت اور پھر واپس فروخت اور اسلامی بنک سے سودی بنک کو فنڈ کی فراہمی کا سارا عمل کمپیوٹر پر بیٹھے بیٹھے دو تین منٹ کے اندر مکمل ہوجاتا ہے۔

طریقۂ کار یہ ہے کہ سودی بنک کو دس لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ اسلامی بنک کے پاس فالتو رقم دستیاب ہے۔ اسلامی بنک کموڈٹی مارکیٹ میں، ایک ایجنٹ کے ذریعے، دس لاکھ روپے مالیت کے برابر کپاس خریدتا ہے۔ اسلامی بنک اس دس لاکھ کی کپاس کو ایک لاکھ فائدہ کے ساتھ سودی بنک کو اُدھار پر گیارہ لاکھ کی بیچ دیتا ہے۔ سودی بنک اس کپاس کو جو اس کی ضرورت ہی نہیں تھی اسی مارکیٹ میں دوسرے ایجنٹ کے ذریعے بیچ کر دس لاکھ’کما‘ لیتا ہے (خرید وفروخت کے اس تین منٹ کے سارے کھیل میں کموڈٹی یا زیر معاملہ کپاس جہاں رکھی تھی وہیں رکھی رہی)۔

سودی بنک اسلامی بنک کو قیمت نفع کے ساتھ قسطوں میں تین ماہ میں واپس کرے گا۔ یہ سارا معاملہ شریعت کے معیار پر فٹ کرنے کے لیے بنک کے شرعی مشیروں کو سخت محنت کرنی پڑی۔ بنک اور ماہر شریعت کی کوشش سے سودی بنک کو سرمایہ بھی فراہم کردیا گیا اور شریعت کے اصولوں کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوئی کہ اگر کوئی غیر مسلم حلال گوشت لینا چاہے تو قصائی اسے منع تو نہیں کرسکتا! پوری اسلامی بنکاری کی عمارت اسی قسم کے جواز اور حیلوں پر کھڑی ہے اور یہی اس کی زندگی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ان حیلوں سے نجات کے بارے میں فکر مندی بھی کہیں نظر نہیں آتی۔