ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت اللہ کی رحمت اور نعمت ہے۔ یہ اس ہادی کا میلاد ہے جس کے ذریعے اللہ نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف، مخلوق کی غلامی سے نکال کر خالق کی عبادت کی طرف، اور گمراہی سے نکال کر ہدایت و استحکام کی شاہراہ پر گامزن کیا:

ہُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰي عَبْدِہٖٓ اٰيٰتٍؚبَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۝۰ۭ وَاِنَّ اللہَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۝۹ (الحدید۵۷ :۹)،وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔

آپ ؐ کی ولادت اللہ تعالی کے ایک قدیم وعدے کی تکمیل تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت دعا کی تھی:

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۱۲۹ (البقرہ۲:۱۲۹)اور اے ربّ، ان لوگوں میں خود انھی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو، جو انھیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے ۔تُو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔

اسی طرح آپ ؐکی ولادت کے تذکرے سابقہ کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَہٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ۝۰ۡ (الاعراف۷:۱۵۷ )(آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی اُمّی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔

آپ ؐ کی ولادت محض ایک وقتی خوشخبری نہیں تھی، بلکہ یہ وہ کلمات تھے جو وحی کی صورت میں انبیا ؑ کی زبانوں پر جاری رہے اور ولادت سے یہ جاں فزا خوشخبری پوری ہوئی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جو ظلم، جہالت اور انتشار سے چُور تھا، جہاں دنیا من مانیوں کی غلام اور خواہشات کی اسیر تھی۔ ایسے مایوس کن اور تاریک دور میں آپؐ کی ولادت انسانیت کے لیے ایک نئی زندگی ثابت ہوئی اور عزت و آزادی کے دور کا آغاز ہوا۔ اس عہد نے انسانیت کو پتھروں کے سامنے سجدہ ریز ہونے اور انسانی جبر و استبداد کے سامنے جھکنے کے بجائے صرف اللہ کی بندگی پر قائم رہنے کا پیغام دیا:

وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا۝۰ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا۝۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳ :۱۰۳)اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمھارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔

آپؐ کی ولادت محض گوشت پوست کے ایک جسم کی پیدائش نہیں تھی جو عام انسانوں کی طرح آئے اور رخصت ہو جائے، بلکہ یہ اس آخری پیغام کا آغاز تھا جسے اللہ نے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لیے پسند فرمایا:

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ( السبا ۳۴:۲۸) اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔

 تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِہٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا۝۱ۙ  (الفرقان ۲۵: ۱) نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لیے نذیر ہو۔

یہ پیغام اپنے اندر آزادی اور ہدایت کی خوشخبریاں رکھتا اور انسانی ضمیر میں رحمت، عدل اور حق کی اقدار راسخ کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا تہذیبی و تمدنی منصوبہ تھا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ انسانیت کی گم شُدہ شناخت کو بحال کیا اور انسان کو زندگی کےمقصد سے از سر نو روشناس کرایا۔ رشتۂ وحی کے ذریعے اس کا تعلق آسمان سے جوڑا، اور اس کی زندگی کو حق و انصاف کے ساتھ زمین میں تعمیر و ترقی کا پابند بنایا:

لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۱۶۴ (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۴)درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انھیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔

ہُوَالَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۲ۙ وَّاٰخَرِيْنَ مِنْہُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِہِمْ۝۰ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝۳  ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۝۴  (الجمعة ۶۲: ۲-۴)وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنھی میں سے اٹھایا، جو اُنھیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اِس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔اور (اس رسول کی بعثت) اُن دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ یہ اس کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔

لوگ ان عظیم انسانوں کا جشن مناتے ہیں جنھوں نے انسانی تاریخ میں کوئی ایک کارنامہ انجام دیا اور پھر ان کا اثر ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت دنیا کا واحد واقعہ ہے جس کے اثرات صدیوں پر پھیلے ہوئے ہیں اور جب تک زندگی باقی ہے، اس کی گونج سنائی دیتی رہے گی۔ یہ نبیِ خاتم ؐکی ولادت ہے، رحمتِ عامہ کی ولادت ہے، اور ایک ایسے پیغام کا آغاز ہے جس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑے گی، اور جس کے اثرات کبھی کم نہیں ہوں گے۔ اس کا تذکرہ کبھی مٹ نہیں سکتا کیونکہ یہ زمین پر اللہ کا آخری کلمہ ہے جسے ہمیشہ باقی رہنا ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ۝۰ۭ (الاحزاب  ۳۳:۴۰ ) (لوگو) محمدؐ تمھارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۱۰۷ (الانبياء۲۱ :۱۰۷) اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے، تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔

نجات دہندۂ انسانیت حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حیات بخش اور حریت نواز اس پیغام کی درج ذیل بنیادیں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں:

آزادی ، پیغامِ نبوت کی روح

اللہ کا یہ آخری پیغام انسان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنے کے لیے نہیں آیا، اور نہ اس لیے آیا ہے کہ دین کو ظالموں اور جابروں کے ہاتھ میں تھمایا ہوا ایک کوڑا بنا دیا جائے، بلکہ یہ معزز و مکرم مخلوق انسان کو اللہ کی بندگی کے سوا، ہر قسم کی غلامی سے نجات دلانے آیا ہے۔ یہی حقیقی آزادی ہے، کیونکہ یہ حق کے سوا ہر جھوٹے تسلط کو پامال کر دیتی ہے، اور عقل و ضمیر کو توہم پرستی اور نفسانی خواہشات کی قید سے چھڑا دیتی ہے۔ قرآنِ مجید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بنیادی مشن یہ بیان کرتا ہے کہ آپؐ لوگوں کے بوجھ اتارنے اور ان کی گردنوں میں کسے ہوئے طوق کاٹنے کے لیے آئے ہیں:

يَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ (الاعراف ۷:۱۵۷ )وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔

یہ وہ آزادی ہے جو مادی دنیا کا ظاہری نظام بننے سے پہلے انسان کے باطن اور روح سے جنم لیتی ہے۔ یہ ضمیر کو پوشیدہ بتوں سے پاک کرتی ہے، نسل در نسل منتقل ہونے والے توہمات سے فکر کو آزاد کرتی ہے، اور زندگی کو عدل و قسط کے میزان پر استوار کرتی ہے:

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۝۰ۚ (الحدید۵۷ :۲۵) ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلہِ شُہَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ۝۰ۡوَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۝۰ۡوَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝۸  (المائد ہ۵ :۸) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔

  • عقیدے کی آزادی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو خالص توحید کی طرف دعوت دی، تو یہاں نہ پادریوں کی طرح کسی مذہبی اشرافیہ کی اجارہ داری قائم ہوئی اور نہ کسی انسانی واسطے کی گنجائش رہی۔ یہاں صرف ایک ربّ کی عبادت کی جاتی ہے۔ ایک کتاب سے ہدایت لی جاتی ہے، اور ایک رسولؐ کی پیروی کی جاتی ہے۔ آپؐ نے حق کو واضح کر دیا اور ایمان لانے یا نہ لانے کو قیامت تک کے لیے انسان کے اپنے اختیار پر چھوڑ دیا:

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۝۰ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ ۝۰ۙ (الكهف ۱۸:۲۹) فرما دیجیے کہ (یہ) حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کرے۔

قرآنِ کریم نے عقیدے کے معاملے میں کسی بھی قسم کے جبر و اکراہ کی قطعی نفی کرتے ہوئے فرمایا:

لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ  ۝۰ۣۙ  (البقرہ۲:۲۵۶) دین میں کوئی زبردستی نہیں۔

آپؐ نے ان تمام لوگوں کے نظریے کو مسترد کر دیا جو ہدایت کو زبردستی اور طاقت کے بل پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔ آپ کو ہدایت کی گئی کہ:

اَفَاَنْتَ تُكْرِہُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۝۹۹(یونس۱۰:۹۹)تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے یہاں تک کہ وہ مومن ہو جائیں؟

فَذَكِّرْ۝۰ۣۭ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ۝۲۱ۭ لَسْتَ عَلَيْہِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ۝۲۲ۙ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ۝۲۳ۙ فَيُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ۝۲۴ۭ  اِنَّ اِلَيْنَآ اِيَابَہُمْ۝۲۵ۙ  ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَہُمْ۝۲۶ۧ  (الغاشیة ۸۸:۲۱-۲۶) اچھا تو (اے نبیؐ) نصیحت کیے جاؤ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو۔کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو۔ البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا، تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا۔ اِن لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے۔ پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے۔

چنانچہ اسلام کی دعوت اپنے جوہر میں ایک ایسی کھلی دلیل ہے جو دلوں کو روشن کرتی ہے۔ اس میں تلوار کا کوئی خوف ہوتا ہے، نہ کسی طاقت کے آگے سر جھکانے کا جبر۔

  • عقل کی آزادی : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی عقل کو دلیل کے اصولوں پر قائم کیا اور وحی کے مسلسل سوالات کے ذریعے اسے غفلت سے بیدار کیا:’’کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘ ،’’کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟‘‘ ،’’کہیے کہ اپنی دلیل پیش کرو!‘‘ تاکہ عقل کسی خرافات اور اندھی تقلید کے آگے ہتھیار نہ ڈالے۔ آپؐ نے علم کے حصول کو ایک مقدس فریضہ قرار دیا، اور علم کو حکمت اور تزکیۂ نفس کے ساتھ یوں جوڑ دیا کہ علم انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے، نہ کہ علم کے نام پر انسان سرکشی اور بغاوت کا شکار ہو جائے۔
  • ضمیر اور کردار کی آزادی:آپؐ نے اچھائی (معروف) کی حدود اور اس کی بلندیوں کو واضح فرما کر، اور برائی (منکر) اور اس کے راستوں سے خبردار کر کے انسانی ضمیر اور رویوں کو مکمل آزادی عطا کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنی اندھی خواہشات کا غلام بن کر نہ رہ جائے، بلکہ وہ اپنے فیصلوں کا خود مالک اور مختار ہو۔ آپؐ نے انسان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال کیا، خبیث و ناپاک چیزوں کو حرام ٹھیرایا، تاکہ انسان کے عز ّو شرف کو آلودگیوں اور گراوٹوں سے بچانے کے لیے ایک اخلاقی میزان قائم ہو سکے۔ نیز انسان اپنی انسانیت کو خواہشات، رسوم و رواج اور فیشن کی غلامی سے بچا سکے۔ یہ ذمہ دارانہ آزادی ہے۔ یہ بے لگام آزادی نہیں جو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ جبر نہیں ہے جو انسان کو انسان نہیں سمجھتا، بلکہ یہ بلندیوں کی طرف وہ پرواز ہے جہاں حق اور جمال، اور عدل اور رحمت یکجا ہوجاتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو عوامی سطح پر بھی اس وقت آزادی سے ہمکنار کردیا جب عہد و پیمان کی بنیاد پر مدینہ کی ریاست قائم کی، جو جانوں اور حقوق کی محافظ تھی، اور جس کی بنیاد شراکت اور مشاورت پر تھی۔ اس ریاست میں قانون کے سامنے سب برابر ٹھیرے، اور مخالف کو بھی عہد، امان، ذمہ اور عزت عطا کی گئی۔ چنانچہ جب مکہ حق کے سامنے سر نِگوں ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان فرمایا، جس نے جاہلیت کی نسل در نسل چلی آنے والی انتقامی روایت کو مٹا دیا اور آزادی و درگزر کی تاریخ کے ایک نئے باب کی بنیاد رکھی۔ بلاشبہ آزادی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک مظالم کا خاتمہ نہ ہو جائے اور زخموں پر رحمت کا مرہم نہ رکھ دیا جائے۔

یوں رسالت کی اصل حقیقت آشکار ہوئی، یعنی ایک دوسرے کو مکمل کرتے دائروں کی آزادی۔ توحید کا ایسا عقیدہ جو دل کو آزادی عطا کرتا ہے، ایسی دلیل جو عقل و شعور پر مسلط ناروا پابندیوں کو توڑتی ہے، اور ایسا اخلاق جو رویے اور کردار کو آزادی بخشتا ہے۔ ایک ایسا جامع نظام جو معاشرے کو استبداد اور تفریق و امتیاز سے نجات دلاتا ہے۔ یہ اسی معاشرے کا کمال اور خصوصیات ہیں کہ جس نے صرف اللہ کی عبادت کی، وہ اللہ کے سوا ہر چیز کی غلامی سے آزاد ہو گیا۔ اور جو حق کے سامنے جھک گیا، وہ کسی انسان کے رعب و دبدبے کے تابع نہ رہا۔ جو سائبانِ وحی کے سائے میں آگیا، اس کی زندگی آزاد اور باوقار ہو گئی، اور یہی وہ شخص ہے جو زمین کی تعمیر و ترقی کے لیے ہدایتِ الٰہی پر عمل پیرا ہونے کا اہل ٹھیرا۔

 دعائے ابراہیمؑ اور بعثتِ نبوی ؐ کے مقاصد

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت تاریخ کے بہاؤ میں محض کوئی اتفاقی واقعہ نہ تھا، بلکہ یہ حضرت ابراہیمؑ کی اس قدیم دعا کی قبولیت تھی جو انھوں نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت کی تھی:

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰـتِكَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُزَكِّيْہِمْ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۱۲۹ )اے ہمارے رب! ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے، انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔

اس دعا نے اپنے مختصر مگر جامع الفاظ میں آخری پیغام کے بڑے مقاصد کا نقشہ کھینچ دیا تھا۔ چنانچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت انبیائے سابقین کی نبوتوں کی تصدیق اور ان کی آپؐ کے بارے میں بشارتوں کی تکمیل کے طور پر ہوئی، تاکہ آپؐ کی رسالت آزادی و نجات کا پیغام بن جائے ۔ دعائے ابراہیمؑ میں آپؐ کی بعثت کے یہ مقاصد بیان ہوئے ہیں:

  • تلاوتِ آیات __ وحی کے ذریعے عقل کی آزادی : ـــــــ اس دعا میں سب سے پہلے 'تلاوتِ آیات کا ذکر ہے، کیونکہ انسانی عقل کو ایک ایسے معصوم و محفوظ مرجع (پناہ گاہ) کی ضرورت تھی جو اسے خرافات اور خواہشات کی بھول بھلیوں سے نکال سکے۔ چنانچہ مُردہ دلوں کو زندگی بخشنے اور بصیرت کے بند دروازوں کو کھول دینے کے لیے قرآنی آیات کا نزول ہوا اور ان کی تلاوت کا حکم دیا گیا۔ یہ عقل کو ایسی الٰہی میزان سے جوڑ دیتی ہے جو میزان خواہشات کے ساتھ اوپر نیچے نہیں ہوتا۔ یوں تلاوتِ آیات کا مقصد فکری آزادی ہے، جو انسان کو انسانی آراء کے انتشار سے نکال کر وحیِ ربانی کے نور کی طرف لے جاتی ہے۔
  • تعلیمِ کتاب__  تحریف و جہالت سے علم کی آزادی: تلاوتِ آیات کے بعدتعلیم کتاب کا درجہ ہے، جو وحی پر مبنی درست معرفت کو پختہ کرنے کا نام ہے۔ رسالت میں علم محض کوئی فکری تعیش نہیں، بلکہ شعور کی بیداری اور تہذیب کی تعمیر کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے تشریف لائے کہ لوگوں کو کتاب یعنی نصوصِ وحی کی تعلیم دیں، تاکہ اللہ اور زندگی کے بارے میں ان کی معرفت، ظن و تخمین کے بجائے پختہ اور یقینی علم پر استوار ہوجائے۔ یہیں سے اس علمی آزادی کا مقصد واضح ہوجاتا ہے جو انسان کو جہلِ مرکب یا گمراہ کن علم سے نجات دلاتی ہے۔
  • تعلیمِ حکمت __  فہم کو سطحیت اور کج روی سے آزاد کرنا:ـــــــ اگر علم انسان کو معرفت سے روشناس کراتا ہے، تو حکمت اسے اس علم کے درست استعمال کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ کتنے ہی ایسے علوم ہیں جو حکمت سے عاری ہونے کی بنا پر انسان کے لیےوبال جان بن گئے، اور کتنے ہی علوم ایسے ہیں جنھوں نے بصیرت کے بغیر استعمال ہونے پر فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا۔ لہٰذا تعلیمِ حکمت کا مقصد عقل کو انتہاپسندی اور سختی و تشدد سے نجات دلانا اور اسے اعتدال و توازن کی راہ دکھانا ہے، تاکہ علم ایسا اسلحہ نہ بن جائے جو تباہی مچاتا ہے بلکہ ایسی روشنی بن جائے جو رہنمائی کا کام کرتی ہے۔
  • تزکیہ __  روح کو رذائل اور نفسانیت سے پاک کرنا: سیّدنا ابراہیمؑ کی دعا کا اختتام تزکیہ کے مقصد پر ہوا، جو کہ رسالت کا مغز اور اس کی روح ہے۔ کیونکہ تزکیہ کے بغیر علم اور حکمت نفع نہیں پہنچاتے۔ یہاں تزکیہ سے مراد محض عبادات کے ظاہری رسوم و شعائر کی ادائیگی نہیں، بلکہ یہ ضمیر کو شرک و ریا سے پاک کرنے، مہلک شہوات سے نفس کو بچانے، اور ایمان کی محراب میں روح کی ایسی تراش خراش کا نام ہے جو انسان کو اپنی نفسانی خواہشات کی غلامی سے نکال کر حقیقی معنوں میں ’آزاد انسان‘ بناتی ہے۔

یہ چاروں مقاصد: تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب، تعلیمِ حکمت اور تزکیہ، دراصل انسانیت کی کامل تعمیر کے باہم مربوط دائرے ہیں۔ علم کے بغیر کوئی آزادی نہیں، حکمت کے بغیر علم ادھورا ہے، اور تزکیہ کے بغیر حکمت بے معنی ہے۔ درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دعائے ابراہیمؑ کی قبولیت اور انسانیت کے لیے ایک ایسے نئے عہد کا آغاز تھا جس کی بنیاد ضمیر کی آزادی، وحی کے نور اور فطرت کی پاکیزگی تھی۔

جامع مقاصدِ رسالت

 جس طرح حضرت ابراہیمؑ کی دعا نے اس منہج کے خدوخال واضح کیے جس پر ختمِ رسالت کی بنیاد رکھی جانی تھی، اسی طرح قرآنِ کریم کا یہ بیان بہت جامع اور واضح ہے، جسے ہم ’مقاصدِ نبوت کا دستور‘ کہہ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَہٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَہُمْ فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ۝۰ۡيَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ (الاعراف۷:۱۵۷) (آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی اُمّی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنھیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔

یہ عظیم آیت صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کے بیان تک محدود نہیں، بلکہ یہ آپؐ کی بعثت کے چھ بڑے مقاصد کو بیان کرتی ہے، جن میں سے ہر ایک، انسانی آزادی کا ایک پہلو ہے اور جس کا مطمح نظر ’آزاد انسان‘ کی تخلیق ہے:

  • امر بالمعروف __  فضائل کے ذریعے معاشرے کو آزاد کرنا: ـــــــ ’معروف‘ (نیکی) سے مراد وہ تمام اقدار ہیں جو ایک سلیم الفطرت انسان میں خیر، عدل اور رحمت کی صورت میں راسخ ہوتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فریضہ یہ قرار دیا گیا کہ آپؐ معاشرے کے ضمیر کو ان اقدار کے ذریعے بیدار کریں۔ انھیں حق کی یاد دہانی کرائیں، عدل کی دعوت دیں اور ان کے درمیان رحمت کے بیج بوئیں۔ یہ آزادی کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے کہ خیر صرف افراد تک محدود نہ رہے، بلکہ یہ ایک ایسا اجتماعی نظام بن جائے جو معاشرے کی اصلاح بھی کرے اور اس کی حرکت کے رُخ کا تعین بھی۔
  • نہی عن المنکر __  انسان کو بے راہ روی سے بچانا :  ـــــــ’منکر‘ (برائی) ہر وہ عمل ہے جس کو ایک سلیم الفطرت اور عقلِ سلیم رکھنے والا انسان ناپسند کرے۔ دین اس لیے آیا کہ انسان کو ظلم و فساد کے گڑھوں میں گرنے سے بچائے، اور اسے تباہ کن عادات اور بے لگام خواہشات سے نجات دلائے۔ اس طرح برائی سے روکنا درحقیقت انسان کو شہوات کی غلامی اور جابرانہ نظاموں سے آزادی دلانے کا ایک ذریعہ بن گیا، تاکہ اس کے اخلاقی اور سماجی زوال کو روکا جا سکے۔
  • حلال کا تعین __  آزادی کے اُفق کو وسعت دینا : ـــــــ یہ الہامی پیغام اس لیے آیا تاکہ لوگوں کے لیے وہ پاکیزہ چیزیں حلال کر دے جنھیں بگڑے ہوئے ادیان یا ظالمانہ رسوم و رواج نے تلپٹ کر دیا تھا۔ یہ انسانی زندگی کو ان مصنوعی پابندیوں سے آزاد کرانے کی ایک آواز ہے جن کے ذریعے انسانیت کو اللہ کی نعمتوں سے محروم کر دیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کرایا گیا:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَۃَ اللہِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ۝۰ۭ (الاعراف ۷: ۳۲) اے محمدؐ، ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟

یہاں ’حلال قرار دینا‘ محض ایک اجازت نہیں، بلکہ زندگی کے میدان کو اتنا وسیع اور پاکیزہ بنانا ہے کہ انسان اس میں بغیر کسی تنگی اور رکاوٹ کے جی سکے۔

  • ناپاک چیزوں کی تحریم __ آزادی کی بـے لگامی سے حفاظت : ـــــــ جس طرح اسلام نے پاکیزہ چیزوں کے معاملے میں آزادی دی ہے، اسی طرح ناپاک چیزوں (خبائث) پر پابندی لگا کر اس آزادی کو متوازن و منظم بھی کیا ہے۔ بعض چیزوں اور کاموں کو حرام قرار دینا انسان پر کوئی ناروا قید نہیں، بلکہ اسے ان چیزوں میں گرنے سے بچانا ہے جو اس کے جسم، روح، عقل اور معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں۔ یہ اقدار کے دائرے میں ایسی آزادی ہے جو اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ انسان پاکیزہ زندگی گزارے، تاکہ آزادی کہیں ایسی افراتفری میں نہ بدل جائے جو انسان کی انسانیت ہی کو تباہ کر دے۔ 
  • بوجھ اُتارنا  __ تحریفات و انحرافات کے بوجھ  سے  نجات : ـــــــ اِصر (بوجھ) سے مراد وہ سخت شرائط اور تکلیف دہ احکامات ہیں جو گذشتہ امتوں پر ان کی نافرمانیوں کی سزا کے طور پر یا شریعت میں ان کے انحراف کی وجہ سے لازم کیے گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تاکہ اپنی اُمت کا بوجھ ہلکا کریں، اور ان کی شریعت کو انتہا پسندی اور افراط و تفریط کے درمیان اعتدال کا نمونہ بنادیں۔ آزادی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مذہبی پابندیاں انسان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں، بلکہ وہ ایسا زینہ ثابت ہوں جو اسے کمالِ انسانیت تک پہنچائے۔
  • بیڑیوں کا خاتمہ __ سماجی اور سیاسی پابندیوں سے آزادی: ’اَغلال‘ (بیڑیاں)  سے مراد وہ قیود ہیں جنھوں نے قوموں کو استبداد، ظلم، مذہبی تحریف یا ان جابرانہ رسوم و رواج میں جکڑ رکھا تھا، جنھیں لوگوں نے وحیِ الٰہی کا مقام دے دیا تھا اور بغیر کسی آسمانی حکم کے انھیں دین بنا لیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان زنجیروں کو توڑنے کے لیے تشریف لائے، انسانوں کو ان کی تکریم اور آزادی واپس دلانے کے لیے آئے، تاکہ وہ حق کے سوا کسی کے سامنے سرنگوں نہ ہوں اور اللہ کے سوا کسی کے محکوم نہ رہیں۔ یہاں رسالت کا اصل جوہر نمایاں ہوتا ہے،یعنی ’کامل آزادی‘ ـــــــ جو انسان کو اس کی انسانیت واپس لوٹاتی ہے۔

بلاشبہ ان چھ مقاصد کا محور ایک ہی ہے اور وہ ہے ’ذمہ دارانہ آزادی‘ کا آغاز۔ ایسی آزادی جو معروف (بھلائی) پر استوار ہو، منکر (برائی) سے محفوظ ہو، پاکیزہ چیزوں سے ثروت مند ہو، خباثتوں سے پاک ہو اور بوجھ اور زنجیروں سے آزاد ہو۔

سورۂ اعراف کی اس آیت نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمہ گیر مشن کا منشور پیش کیا ہے۔ اس مشن کا بلند ترین مقصد یہ ہے کہ انسان آزاد اور معزز ہو کر جیے، صرف ایک اللہ کی عبادت کرے، اور اس کی دنیا میں عدل و رحمت کے ساتھ تعمیر و ترقی کرنے والا حکمران بن کر رہے۔

قرآنی منشور کے تہذیبی اثرات 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام محض اخلاقی دعوت یا وعظ و نصیحت تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ اپنے آغاز سے ہی ایک جامع تہذیبی منصوبے میں بدل گیا تھا جس نے انسانی تعمیر اور شہری ترقی کو یکجا کر دیا۔ اس طرح آپؐ نے ایک ایسا منفرد نمونہ پیش کیا جس کے اثرات آج تک جاری ہیں۔آپؐ نے مدینہ منورہ میں ایک نئے معاشرے کی بنیاد رکھی جو عدل، شوریٰ اور باہمی تعاون پر مبنی تھا۔ مسجد اس کا دھڑکتا ہوا دل تھا جو عبادت کی جگہ بھی تھی، علم کا منبع بھی، سیاسی فیصلوں کا مرکز بھی اور سماجی یکجہتی کا سائبان بھی۔ ’میثاقِ مدینہ‘،جسے محققین نے پہلا جامع شہری دستور قرار دیا ہے، اس کے ذریعے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان بقائے باہمی کے اصول نہ صرف وضع کیے گئے بلکہ کامیابی کے ساتھ ان کا تجربہ ہوا۔ یہ دستور حقوق کی برابری، جانوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی ضمانت پر مبنی تھا۔ یوں آزادی محض ایک نعرہ نہیں رہی بلکہ ایک عملی حقیقت بن گئی جسے قانونی دستاویزات میں ڈھالا گیا اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنادیا گیا۔پھر اسی بنیاد سے اسلامی تہذیب کا آغاز ہوا جو مشرق و مغرب تک پھیل گئی۔ مدارس، جامعات اور لائبریریاں قائم ہوئیں، تحقیق اور دریافت کی قوتوں کو جِلا ملی اور اس تہذیب نے فکر، سیاست، معیشت اور سماجیات میں دنیا کو ایک جدید نمونہ عطا کیا۔ اس کا بنیادی مقصد انسان کو جہالت اور ظلم کی قید سے آزادی دلانا اور اسے اس قابل بنانا تھا کہ وہ زمین کی تعمیر میں اپنی عقل اور روح کو بروئے کار لائے۔ لہٰذا علم یہاں عبادت ہے، زمین کی آبادی ایک فریضہ ہے، اور عدل و رحمت اس کے بنیادی ستون ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس تہذیب نے اقتدار کے غلام یا مفادات کے اسیر پیدا نہیں کیے، بلکہ جانبازی و جہانبانی کے حیرت انگیز نمونے دنیا کو دکھائے۔ ایسی نسلیں پروان چڑھائیں جو علما، فقہاء اور مصلحین پر مشتمل تھیں، جنھوں نے ہدایت کی شمع تھامی اور تنقید و تحقیق اور اجتہاد و تجدید کی پختہ اور عادلانہ روایات قائم کیں۔

انسانیت کی آزادی اور تہذیبی ارتقاء و اجتہاد اور تجدیدِ نو کا یہ سفر دراصل مقاصد ِ رسالت کے بنیادی مقصد کا انعکاس ہے، کہ آزادی تہذیب کا ایندھن بنی رہے،انسانی وقار تعمیر و ترقی کی بنیاد قرار پائے، اور تزکیۂ زندگی کی روح بن کر سامنے آئے۔ آج کی دنیا، جو اپنے روحانی بحرانوں اور مادیت پرستی کی غلامی میں جکڑی ہوئی ہے، اس بات کی محتاج ہے کہ مدرسہ ٔ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سبق سیکھے کہ حقیقی آزادی بے راہ روی نہیں، بلکہ حق کے ساتھ وابستگی اصل آزادی ہے۔ یہ آزادی لاحاصل نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، کیونکہ تہذیب آتش و آہن کے غلبے اور طاقت و جبر کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ اَقدار، عدل اور رحمت کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔

پندرہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی، آپؐ کی آواز دنیا کے ضمیر میں گونج رہی ہے: اے انسان! آزاد ہو جا، تاکہ تو حقیقی انسان بن سکے! شہوات کی غلامی سے نکل کر روح کی بلندی کی طرف پرواز کر، جبر و استبداد کے قہر سے نکل کر شریعت کے عدل کی پناہ میں آ، اور جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم و حکمت کے نور میں داخل ہو جا۔

یہی وہ نوید ِ مسرت ہے جس کے آپؐ علَم بردار تھے، یہی وہ منصوبہ ہے جو آپؐ نے ورثے میں چھوڑا، اور یہی وہ نقشِ دوام ہے جو وجود کائنات کے ساتھ پائندہ رہے گا۔ درحقیقت یہی راہِ نجات ہے۔

 _______________

جون ۲۰۲۶ء کو تیونس کی ایک عدالت نے النہضہ تحریک کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی راشد الغنوشی (۸۴سال) اور دیگر کئی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ تیونس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وکالۃ تونس افریقیا للانباء کے مطابق، تیونس کی ابتدائی عدالت کے دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ کرنے والے فوجداری بنچ نے ملزمان کو: ’’دہشت گرد گروہ تشکیل دینے اور جان بوجھ کر کسی بھی عنوان سے جمہوریہ کی سرزمین کے اندر دہشت گرد جرائم سے متعلق دہشت گرد گروہ میں شامل ہونے، دہشت گرد گروہ اور دہشت گرد جرائم سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے صلاحیتوں اور مہارتوں کو وقف کرنے، اور انسداد دہشت گردی قانون میں مذکور دیگر دہشت گرد جرائم‘‘ میں مجرم قرار دیا ۔

حکومتی پشت پناہی کی بنیاد پر درج کرائے گئے مقدمے ’خفیہ نیٹ ورک‘ میں انسداد دہشت گردی عدالت کے بنچ کے مطابق اس مقدمے میں سیاست دانوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔ اس فائل میں ۳۵ ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے کچھ اس مقدمے کی وجہ سے زیر حراست ہیں، کچھ دوسرے مقدمات میں گرفتار ہیں، ۱۱ ضمانت پر رہا ہیں، اور بقیہ مفرور ہیں۔ ان فیصلوں میں شامل نمایاں ترین نام درج ذیل ہیں:

راشد الغنوشی: نہضہ تحریک کے سربراہ، جنھیں ۳۰ سال کی اضافی قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، اور وہ دیگر مقدمات میں بھی زیرِ حراست ہیں۔

علی العریض: سابق وزیر داخلہ اور سابق وزیر اعظم، جنھیں ۴۲ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، اور وہ دہشت گردی کی نوعیت کے دیگر مقدمات میں بھی حراست میں ہیں۔

فتحی البلدی: سابق سیکیورٹی کمانڈر اور متوازی سیکیورٹی نظام کے مرکزی ملزم، جنھیں ۵۰سال کی اضافی قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

کمال البدوی: ریٹائرڈ فوجی اور ’برآ   کـۃ الساحل‘ گروپ کے سابق رکن، جنھیں عمر قید اور ۳۲ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دفاعی کمیٹی نے ان کے کال ریکارڈ کا تعلق محمد البراہمی کے قتل کی رات مصطفیٰ خذر کے ساتھ جوڑا ہے۔

عبد العزیز الدغسنی: راشد الغنوشی کے داماد اور بن عروس میں نہضہ کے دفتر کے سابق سربراہ، جنھیں عمر قید اور ۳۷ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انھیں اس سے قبل ’بلیک روم‘ کیس میں بھی آٹھ سال قید کی سزا ہو چکی ہے۔

قیس بکار، بلحسن النقاش، علی الفرشیشی اور متعدد سابقہ سکیورٹی حکام: انھیں دہشت گردی کے الزامات اور خفیہ نیٹ ورک کو سیکیورٹی، سرحدوں اور غیر ملکیوں کے مفادات سے جوڑنے کے جرم میں ۳۴ سے ۴۸ سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

تین مفرور افراد، جنھیں بیرون ملک فرار ہونے کی حالت میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، ان میں درج ذیل افراد شامل ہیں:

مصطفیٰ خذر:اسے ’بلیک روم‘ (الغرفة السوداء) اور ’خفیہ نیٹ ورک‘ کے مقدمات کا مرکزی ملزم ٹھیرایا گیا ہے۔ اسے اس بار عمر قید کے ساتھ مزید ۹۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دفاعی کمیٹی اسے ’خفیہ نیٹ ورک کا پہلا فیلڈ انچارج‘ قرار دیتی ہے جو سیاسی قتل و غارت گری سے متعلق دستاویزات اور شواہد چھپانے میں ملوث تھا۔

رضا البارونی: یہ النہضہ تحریک کا سابق انتظامی اور مالیاتی ڈائریکٹر ہے، جسے عمر قید اور ۷۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

کمال العیفی: اسے اس متوازی نیٹ ورک کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کو بھی عمر قید اور ۷۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے تمام ملزمان کو پانچ سال تک انتظامی نگرانی میں رکھنے کا بھی حکم دیا۔

یہ مقدمہ ۲۰۲۲ء کے اوائل میں اس وقت سامنے آیا جب پبلک پراسیکیوشن اور سیاستدان شکری بلعید اور محمد براہمی کے فروری اور جولائی ۲۰۱۳ء میں قتل کے بعد ان کے وکلا نے مقدمہ درج کرایا۔وکلا نے اس وقت النہضہ کے نام نہاد ’خفیہ ڈیوائس‘ پر ان کے قتل میں ملوث ہونے، ’جاسوسی کرنے اور ریاستی اداروں میں دراندازی‘ کا الزام لگایا تھا۔

۱۹ جون ۲۰۲۶ءکو ’ریاست کی داخلی سلامتی کے خلاف سازش‘ کے اس مقدمے  میں نئے فیصلے سامنے آئے ہیں۔ تیونس کی اپیل کورٹ کے انسداد دہشت گردی کے مقدمات دیکھنے والے فوجداری ڈویژن کے خصوصی بینچ نے باجہ میں تحریک النہضہ کے علاقائی سیکرٹری جنرل کے حق میں ابتدائی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا، تاہم سزا میں تخفیف کرتے ہوئے ۱۰ سال قید کو کم کر کے چار سال  کر دیا۔

عدالت نے النہضہ تحریک کے رہنما عبدالفتاح الطاغوتی کو بھی ۱۰ سال قید بامشقت کی سزا سنائی جس پر فوری عمل درآمد ہوگا۔ اس کے ساتھ تین دیگر ملزمان کے حق میں دعویٰ نہ سننے کا فیصلہ کیا، جب کہ ایک خاتون ملزمہ کو دو سال قید کی سزا دی گئی۔

اسی تناظر میں، عدالت نے تین دیگر ملزمان کو بھی ۱۰ سال قید کی سزا سنائی، جن میں باجہ میں النہضہ تحریک  کے علاقائی دفتر کے ارکان شامل ہیں۔

یاد رہے کہ تیونس کی ابتدائی عدالت کے انسداد دہشت گردی مقدمات کے فوجداری ڈویژن نے پہلے باجہ میں تحریک النہضہ کے علاقائی سیکرٹری کو ۱۰سال قید، جربہ کے ایک مقیم ڈاکٹر کو ۱۲سال قید، اور دیگر ملزمان کو ۱۰ سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

اس سے قبل ۱۵؍ اپریل کو، تیونس کی ایک عدالت نے الغنوشی اور تحریک النہضہ کے تین دیگر رہنماؤں کو میڈیا میں المسامرۃ الرمضانیۃ کے نام سے مشہور مقدمے میں ۲۰ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف دیگر مقدمات میں بھی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

النہضہ تحریک کے سربراہ راشد الغنوشی کو عمر قید کی سزا ان کے خلاف جاری ہونے والا تیسرا ’عمر قید‘ کا فیصلہ ہے۔ان کے خلاف پہلی عمر قید کی سزا کا فیصلہ 'صدر بورقیبہ کے دور میں ستمبر ۱۹۸۷ء میں سنایا گیا۔ غنوشی اس وقت 'اسلامی رجحان تحریک(حرکۃ الاتجاہ الاسلامی) کے سربراہ تھے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ یہ عمر قید صرف ۱۵ ماہ ہی چلی کیونکہ صدر بورقیبہ کے خلاف ان کے وزیر اعظم زین العابدین بن علی نے سفید انقلاب (بغیر خون خرابے کے ) برپا کر دیا۔ چنانچہ بورقیبہ جیل میں ہی رہے ، جب کہ راشد الغنوشی اور ان کے ساتھ کئی دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا۔

 راشد الغنوشی کے خلاف عمرقید کا دوسرا فیصلہ ۱۹۹۲ء میں صدر زین العابدین بن علی کے دور میں سنایا گیا۔ اگرچہ یہ فیصلہ بظاہر تیونس کی ایک فوجی عدالت نے جاری کیا تھا، لیکن اس کا اصل محرک اور منبع خود صدر بن علی تھا، اور الزامات پہلے سے تیار شدہ تھے، یعنی ’ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش‘ اور’تیونس میں حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاری‘۔

لیکن اللہ کی عدالت سے اس وقت یہ فیصلہ ہوا کہ صدر بن علی کا انجام ان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا جو یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ فرعونِ وقت ہیں۔ اور جب اللہ کا فیصلہ آ جائے تو اس کے فیصلے کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا، لہٰذا اس کا انجام تمام صدور، حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کے لیے عبرت کا ایک نشان بن گیا۔ چنانچہ عرب اور یورپی فضائی حدود نے ان کے طیارے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور کسی بھی ملک نے ان کا استقبال نہیں کیا۔ تاریخ میں یہ بات محفوظ ہوگئی کہ انھیں بقیہ زندگی تیونس کی پاک سرزمین میں داخل نہیں ہونے دیا گیا، یہاں تک کہ وہ انسانی تاریخ کی بدترین موت مرے، اور انھیں تیونس میں دفن تک نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف راشد الغنوشی، جن کو صدر بن علی کے حکم سے ’عمر قید‘ کی سزا سنائی گئی تھی، وہ تیونسی عوام کے شاندار استقبال میں تیونس واپس آئے اور اس سفر کا اختتام اس وقت ہوا جب وہ تیونس کی پارلیمنٹ کے اسپیکر بنے۔

 راشد الغنوشی کے خلاف ’عمر قید‘ کی تیسری سزا ۲ جون ۲۰۲۶ء کو سنائی گئی ہے، جو آمرمطلق صدر قیس سعید کے جاری دور میں سامنے آئی ہے۔ یوں راشد الغنوشی کو سنائی گئی مجموعی سزائیں ۱۰۸سال بنتی ہیں، جو کہ تیونس کے طاغوت’قیس سعید اور ان کے گماشتوں‘ کی ہوسِ اقتدار کا ظالمانہ و مستبدانہ اظہار ہے۔

حرکۃ النہضہ اور ملکی صورتِ حال 

 راشد الغنوشی کی قائم کردہ النہضہ تحریک نے اپنی ۴۵ ویں سالگرہ پر ۶ جون ۲۰۲۶ء کوایک جامع بیان جاری کیا ہے جو تیونس کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتِ حال کو بیان کرتا ہے۔ یہاں اس کے اہم نکات درج کیے جاتے ہیں:

۱- ثابت قدمی، قربانی اور تعمیر کے ۴۵ سال

۶جون ۱۹۸۱ءکو النہضہ تحریک نے اپنی تشکیل کا اعلان کیا۔ یہ محض ایک عام سیاسی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ فکری، سیاسی اور وجودی طور پر ایک ایسے تہذیبی اور جامع منصوبے کی شروعات تھی جو اس بات پر یقین ہے کہ تیونس اپنی قدیم عرب اسلامی شناخت کے ساتھ ساتھ، جدت پسندی اور عقلی اقدار کے لیے بھی کھلا رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تحریک نے آغاز ہی سے آمریت کے سامنے پُرامن عوامی جدوجہد کا مشکل ترین اور بہترین راستہ چنا، جو جبر و تشدد کے رجحان کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔تحریک کا یہ ایمان ہے کہ جو قومیں جابرانہ نظاموں تلے دب کر زندگی گزار رہی ہیں، وہ صرف مضبوط ارادے، اجتماعی شعور، حق پر ثابت قدمی اور اس پر صبر و استقامت کے ذریعے ہی اپنی آزادی حاصل کر سکتی ہیں۔

 کارکنان تحریک نے اس اصولی موقف کی بھاری قیمت چکائی۔ ان میں سے ہزاروں کارکن،  ظالموں کے قید خانوں میں بند ہوئے، سیکڑوں شہید ہوئے، کچھ تشدد کے باعث دنیا سے رخصت ہوگئے، اور ہزاروں یورپ اور دنیا بھر میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے نتیجے میں خاندان اُجڑ گئے، منصوبے اور خواب تباہ ہوگئے، اور عمر کے بہترین سال ضائع ہو گئے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، تحریک میں انتشار پیدا نہیں ہوا اور نہ اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹی، بلکہ اس نے آزمائش کے برسوں کو فکری گہرائی، خود احتسابی، دوسروں کے لیے کشادگی، اور تجربات سے سیکھنے کے لیے استعمال کیا۔اس نے اسلام اور جمہوریت کے درمیان ہم آہنگی، سول ریاست کے اصولوں، اور ایک تکثیری معاشرے میں اسلامی پس منظر رکھنے والی سیاسی تحریک کے جمہوری عمل کی خصوصیات پر گہرائی سے غور کیا۔ اس نے زیادہ بالغ نظری، عقلی پختگی، حقیقت پسندانہ اور کھلی سیاسی فکر کی بنیاد رکھی۔

۲۰۱۱ءکی جنوری کی صبح جب نمودار ہوئی، تو النہضہ تحریک جمہوری تبدیلی کے موقع کو کامیاب بنانے کے لیے پہلی صفوں میں کھڑی تھی۔ اس نے اکتوبر ۲۰۱۱ء کے پہلے آزاد اور منصفانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی، اور ایک مشکل قومی مکالمے میں حصہ لیا جس نے ملک کو افراتفری کے گڑھے میں گرنے سے بچایا۔ تحریک نے ۲۰۱۴ء کے آئین کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا، جسے عرب دساتیر میں سب سے زیادہ ترقی پسند اور متوازن قرار دیا گیا،اور جب تحریک ۲۰۱۴ء کے انتخابات ہار گئی تو اس نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اقتدار کو منتقل کر دیا۔ اس نے عرب تبدیلیوں کے تناظر میں ایک نادر مثال قائم کرتے ہوئے، اعلیٰ ترین قومی مفاد کی خدمت کے لیے عارضی ذاتی فوائد کو قربان کر دیا۔ تحریک اس تاریخ کو کسی فخر یا دکھاوے کے طور پر پیش نہیں کرتی، بلکہ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ جمہوریت سے اس کی وابستگی کوئی عارضی حربہ یا نمائشی فیصلہ نہ تھا، بلکہ یہ روشن خیال اسلامی فکر کے مرجع سے جڑی ایک راسخ یقین دہانی تھی، جس کا اس نے مشکل ترین لمحات میں بھی پاس رکھا۔ 

 ۲- تشخیص اور تجزیہ

۲۵جولائی ۲۰۲۱ء کو، ہمارے ملک کا جمہوری تجربہ، جو تکلیفوں اور قربانیوں کے ساتھ پروان چڑھا تھا، ایک بڑے دھچکے کا شکار ہو گیا۔ جب صدرِ جمہوریہ[قیس سعیّد] نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے سے پہلے اس کی سرگرمیاں معطل کر دیں، منتخب حکومت کو برطرف کر دیا، اور قانون سازی، انتظامی اور عدالتی اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ انھوں نے ۲۰۱۴ء کے اس آئین کو پسِ پشت ڈال دیا جس کی حفاظت کا انھوں نے حلف اُٹھایا تھا، اور اس ادارہ جاتی توازن کے نظام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جسے تیونس کے عوام نے پورے ایک عشرے کے دوران بہت سی قربانیوں اور تحمل و برداشت سے تعمیر کیا تھا۔تحریک نے اس وقت جو کچھ ہوا اسے جمہوریت اور آئین کے خلاف ’بغاوت‘ قرار دیا تھا، اور آج یہ حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ سچ اور درست ثابت ہو چکی ہے۔ اب اس سچائی پر نہ صرف سیاسی مخالفین متفق ہیں، بلکہ انسانی حقوق کی بڑی تنظیمیں، ماہرینِ تعلیم کے خصوصی ادارے اور اقوامِ متحدہ کے اداروں کی رپورٹیں بھی اس کی تصدیق کر رہی ہیں۔

 اس راستے کے پانچ سال بعد، ہم اس نتیجے پر کھڑے ہیں:

  •   ریاست کی ناقص حکمرانی اور اداروں کی مفلوج حالت: اختیارات کسی حقیقی ادارہ جاتی نگرانی کے بغیر مکمل طور پر فردِ واحد کے ہاتھ میں مرکوز ہو چکے ہیں۔پارلیمنٹ ایک بے وزن، نمائشی ادارہ بن کر رہ گئی ہے، اور عدلیہ ایک انتظامی آلہ بن گئی ہے نہ کہ ایک آزاد اتھارٹی۔
  • قانون سازی اور انتظامیہ کی ابتر صورتِ حال: قانون سازی کے بجائے صدارتی فرامین جاری کیے جاتے ہیں، اور مقدمات کا فیصلہ قانون کے بجائے خواہشات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔وفاداری کو ترجیح دیتے ہوئے باصلاحیت افراد کو باہر کر دیا گیا، جس سے انتظامی ڈھانچا بُری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ 
  • سیاسی جمود اور منظم جبر: سیاسی قیدیوں کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں پارٹیوں کے سربراہان، جج، وکلا، صحافی، کاروباری شخصیات اور نوجوان کارکن شامل ہیں۔عدالتوں نے من مانے فیصلے جاری کیے جو عشروں پر محیط قید کو بیان کرتے ہیں۔ ان متاثرین میں سب سے نمایاں تحریک کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی ہیں، جن کو حال ہی میں عمر قید کے ساتھ ساتھ خالصتاً سیاسی نوعیت کے مقدمات میں کئی عشروں پر محیط قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان تمام اقدامات نے خوف کا ایک ایسا عمومی ماحول پیدا کر دیا ہے جو تیونس کے عوام کو خاموشی اور اطاعت پر مجبور کر رہا ہے۔
  • انسانی حقوق کی پامالی اور آمریت کی طرف گراوٹ: ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ کے آزادیِ صحافت کے انڈیکس میں تیونس ۱۸۰ ممالک میں ۱۲۹ویں نمبر پر گر گیا ہے۔انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے تیونسی لیگ اور دیگر تنظیموں کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک کارکن کو سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے سزائے موت سنادی گئی۔
  • اقتصادی اور مالیاتی تباہی: آج سرکاری قرضہ مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے ۸۰ فی صد سے تجاوز کر چکا ہے۔سنجیدہ اصلاحات کی عدم موجودگی اور نظریاتی تحفظات کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی آمد میں کمی آئی ہے، اور مناسب ادارہ جاتی ضمانتوں کی عدم موجودگی میں کئی بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے اپنی فنڈنگ کے دروازے بند کر دیے ہیں۔عام تیونسی شہری روزمرہ کی زندگی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عوامی خدمات کی ابتری کی صورت میں اس بحران کو جھیل رہا ہے۔
  • عالمی تنہائی اور بین الاقوامی ساکھ کا نقصان: تیونس نے انسانی اور عوامی حقوق کی افریقی عدالت کے چارٹر کے پروٹوکول سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، اور بین الاقوامی حقوق کے نظام کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ حکومت کے خلاف مذمتی رپورٹس کا سلسلہ جاری ہے۔ مزید براں، حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو اصلاحات کی سنجیدگی کے بارے میں قائل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے ضروری بیرونی فنڈنگ کا دائرہ تنگ ہو گیا ہے۔

۳- بڑے خطرات 

تحریک یہ انتباہ کسی تنگ نظر سیاسی دشمنی کی وجہ سے نہیں، بلکہ گہری قومی ذمہ داری کے احساس کے تحت کر رہی ہے۔ تیونس کسی حکومت کی ملکیت نہیں اور نہ یہ کسی ایک پارٹی کا ملک ہے۔ جو بھی اس کی یک جہتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے وہ بغیر کسی استثنا کے سب کو متاثر کرے گا۔ آج کے خطرات ماضی کے کسی بھی مرحلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہیں۔

  • ریاست کا زوال اور قانونی جواز کا خاتمہ: جب ریاست کے ادارے شہریوں کے حقوق اور مفادات کی حفاظت کرنے کے بجائے، کسی ایک فرد کی طاقت کی خدمت کا ذریعہ بن جائیں، تو ریاست اپنا بنیادی جواز کھو دیتی ہے۔ وہ شہری جو عدلیہ کو ناانصافی اور ظلم کا ہتھیار، پولیس کو دباؤ کا ذریعہ اور انتظامیہ کو عوامی خدمت کے بجائے حکومتی وفاداری کی بیوروکریسی سمجھتا ہے، وہ نفسیاتی اور جذباتی طور پر اپنی ریاست سے الگ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اگر یہ علیحدگی بڑھتی جائے، تو ایک ایسے آئینی و قانونی بحران (Crisis of Legitimacy) کا سبب بنتی ہے جسے محض انتخابات یا ظاہری طریقۂ کار سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
  • سماجی آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ: برسوں کے دوران شہریوں پر مظالم اور شکایات جمع ہوچکی ہیں، جن میں بڑھتی ہوئی قیمتیں، صحت اور تعلیمی خدمات کی تباہی، یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری میں اضافہ، اور عوامی آزادیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ یہ گھٹن زدہ معاشرہ کسی بھی لمحے ایک آتش فشاں کی طرح پھٹ سکتا ہے جو خدا نخواستہ کسی بھی مقتدرہ (حکومت) کے قابو سے باہر ہو گا۔
  • تشدد اور انتہا پسندی کی دلدل میں گرنے کا خطرہ: تاریخی تجربہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حدسے زیادہ استبداد، منظم محرومی اور بڑھتی ہوئی مایوسی بالآخر انتہا پسندی اور تشدد کو جنم دیتی ہے۔ اگر فردِ واحد کی حکمرانی پُرامن اظہار رائے اور شرکت کے دائروں کو ختم کرتی رہی، اور معاشرے کے اخلاقی و تعلیمی نظام کو نقصان پہنچاتی رہی، تو اس کے نتیجے میں ملکی سلامتی کو خطرہ ہے۔

۴-پُرامن جدوجہد کے عزم کا اعادہ

النہضہ تحریک جمہوری جدوجہد کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پُرامن جمہوری جدوجہد کا سفر جاری رکھنے کا پختہ عزم دُہراتی ہے۔ اس مرحلے پر عوام کے ساتھ رابطے، معیشت کی ترجیحات اور وسیع تر قومی اتحاد قائم کرنے میں درپیش کمزوریوں اور خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے:

۱-  تمام سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی لازمی ہے، اور یہ سب سے پہلا اور اہم ترین مطالبہ ہے۔ سیاسی موقف، جماعتی وابستگی، یا رائے کے اظہار کی وجہ سے قید کیے گئے تمام افراد کا مکمل وقار بحال کیا جانا چاہیے۔ عدلیہ کی آزادی کو بحال کیا جانا چاہیے، اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

۲- تحریک ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ حقوق و آزادیوں کے دفاع، جمہوری راستے کی بحالی، اور ایک نئے سماجی معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے متحدہ کوششیں کریں۔ یہ معاہدہ زیادہ منصفانہ اور آزادی، جمہوریت اور اقتدار کی پُرامن منتقلی کے اصولوں کو مزید پختہ کرنے والا ہونا چاہیے۔

۳- ایک حقیقی ڈھانچا جاتی اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کے نفاذ کی ضرورت ہے جو کاروباری ماحول میں اعتماد بحال کرے، سرمایہ کاری کے دروازے کھولے، اور ساتھ ہی سماجی انصاف کا سختی سے تحفظ اور معاشرے کے کمزور طبقات کی حفاظت کرے۔

اسی طرح ایک وسیع سماجی مکالمے کے دائرے میں عوامی قرضوں کے معاملے کا سنجیدہ حل،اور ملک چھوڑنے والے نوجوانوں کی واپسی، اور وطن میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مخصوص پالیسیاں،سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کرنا اور انتظامی کرپشن کا خاتمہ ملکی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

 _______________

ہم نے اپنے بچوں کی پرورش قرآن، مساجد اور اسلام کی محبت پر کی ہے، اور خدا کی قسم! ہم نہ پیچھے ہٹیں گے اور نہ بدلیں گے۔ ہم اپنے پوتوں کی پرورش بھی اسی طرح کرنا چاہتے ہیں۔

جہاد ایک دینی اور اخلاقی فریضہ ہے، جس کے تحت ہم نے اپنے بچوں کی پرورش کی، اسی لیے ہمارے بچےمقابلے کے لیے، پہلی صفوں میں تھے۔ اور اللہ کے حکم سے اقصیٰ، فلسطین اور ہمارا پورا وطن آزاد ہوگا۔

لوگو! جان لو، کہ ہمارے بیٹے خندقوں میں تھے، ہوٹلوں میں نہیں، اور میں ان کی شہادت کی تمنا کرتی تھی نہ کہ زخمی ہونے کی۔ میں نے ان میں سے ہر ایک کی شہادت کے وقت سجدۂ شکر ادا کیا ہے۔میرے بیٹے اور پوتے غزہ سے نکلنے کے لیے تیار نہیں، اور وہ وہی تکلیف جھیل رہے ہیں جو باقی باشندے برداشت کر رہے ہیں۔

میں نے جنگ کے آغاز سے ہمام کو نہیں دیکھا اور نہ اس کی آواز سنی، سوائے اس کی شہادت سے دو ہفتے پہلے جب اس نے فون کیا تھا۔تب اس کے فون سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ہمیں الوداع کہہ رہا ہو۔

۲۰۱۴ء میں، میں نے خود کو ملبے کے نیچے دبا پایا، اور یہ محسوس ہوا کہ کوئی بھی نہیں بچ پائے گا۔ اسی موقعے پر میرا بیٹا اسامہ، اس کی بیوی اور ان کے تینوں بچے شہید ہوگئے۔ گھر پر راکٹ گرنے سے پہلے میرے سامنے میری پوتی امامہ سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہی تھی۔

اسلام آزمائش، صبر اور اللہ کی طرف سے ثابت قدمی عطا ہونے کا سرچشمہ ہے۔ ـــــــــــــــ

l

ایمانی روح سے لبریز اور عزیمت و استقامت میں رچے یہ کلمات، قابض اور غاصب اسرائیل کی بمباری میں چار بیٹوں اور پانچ پوتوں پوتیوں کی شہادت پر صحابیہ حضرت اُم سُلَیمؓ بنت ملحان کی یاد تازہ کر دینے والی ماں 'امل الحیہ کے ہیں، جو حماس کے رہنما خلیل الحیہ کی اہلیہ ہیں۔ محترمہ امل الحیہ قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اپنے جگر گوشوں کو کھونے کے باوجود صبر و استقامت کا پہاڑ ثابت ہوئیں، جب ۱۲ مئی کو ان کے آخری بیٹے عزام الحیہ کی شہادت پر الجزیرۃ ٹیلی ویژن نے ان کے تاثرات جاننا چاہے۔

ان کے خاندان میں اب صرف عز الدین، تسنیم اور شیماء باقی رہ گئے ہیں، جنھوں نے غزہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔۲۰۰۸ء میں: ان کا بیٹا حمزہ اسرائیلی بمباری میں شہید ہوا۔ ۲۰۱۴ء میں: ان کا بڑا بیٹا اسامہ، اپنی اہلیہ ہالہ اور تین بچوں خلیل، حمزہ اور امامہ کے ہمراہ اس وقت شہید ہوا، جب ان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے دو بچے امل اور عبد الرحمٰن بچ گئے تھے، جن کی عمر اس وقت تین سال سے کم تھی۔ گزشتہ برس: ان کا بیٹا ہمام اس وقت شہید ہوا، جب اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کے ایک اجلاس کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد اب ان کا سب سے چھوٹا بیٹا عزام بھی غزہ میں شہید ہو گیا۔ ان کا تیسرا بھائی عز الدین جنگ کے دوران شدید زخمی ہوا، جب کہ ان کے بچےخلیل اور محمد بھی شہید ہو چکے ہیں۔

امل الحیہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے ہمام، عزام اور عز الدین تینوں جڑواں تھے۔ ان میں سے دو حالیہ برسوں کی جنگ میں شہید ہوئے، جب کہ تیسرا بیٹا شدید زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ گیا ہے، تاہم وہ اپنی ٹانگ اور اپنے دو بیٹوں سے محروم ہو چکا ہے۔ عز الدین اپنی شدید تکلیف کے باوجود آج اب بھی غزہ میں مقیم ہے، جب کہ عزام کی شہادت سے قبل ٹانگ کٹنے کی تکالیف اور محاصرے کے باعث ادویات کی عدم دستیابی نے میرے دل کو بہت رنجیدہ کیا‘‘۔

حماس کے رہنما خلیل الحیہ کی اہلیہ نے اپنے شہید بچوں میں سے کسی کو بھی الوداع نہیں کہا،  جب ان کا بیٹا ہمام شہید ہوا تو انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا، اور جب اسامہ اور عزام شہید ہوئے تو انھوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔انھوں نے ۲۰۱۴ء کی جنگ کے دوران اپنے بیٹے کے گھر پر ہونے والی بمباری کی تفصیلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’پورا خاندان رمضان میں روزے سے تھا، اور میزائل گرنے سے چند لمحے قبل میرے سامنے میری پوتی سورۂ بقرۃ کی تلاوت کر رہی تھی۔ اس حملے میں، مَیں شدید زخمی ہوکر ملبے کے نیچے دب گئی تھی۔ اسی دوران مجھے پتا چلا کہ اسامہ، اس کی اہلیہ اور ان کے تین بچے شہید ہو چکے ہیں‘‘۔

عزام الحیہ اس سے پہلے ۲۰۲۲ء میں شدید زخمی ہوگئے تھے اور ترکیہ میں علاج مکمل کرنے کے بعد انھوں نے غزہ واپسی پر اصرار کیا تو بچوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی تھی کہ ان میں سے کون اپنے والدین کے ساتھ قطر جائے گا، تو اس میں ہمام کا نام نکلا، جو بعد میں دوحہ حملے میں شہید ہوگئے۔

ہمام — ایک مسجد کے امام اور قرآن کریم کے حافظ تھے۔ انھوں نے دوحہ میں اپنے نومولود بیٹے کے لیے عقیقہ کی تقریب منعقد کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا اور غزہ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کسی بھی قسم کی خوشی منانے سے گریز کیا، یہاں تک کہ عید پر قربانی کرنے سے بھی رک گئے کیونکہ غزہ میں جنگ جاری تھی۔ امل الحیہ نے بتایا کہ ہمارے خاندان نے جنگ سے پہلے بھی کبھی سکون نہیں دیکھا، جس کی وجہ مسلسل سکیورٹی خطرات اور قتل کی کوششیں تھیں۔ ہم سرحد کے قریب حی الشجاعیہ کے مشرقی علاقے میں کئی برس تک مقیم رہے، اور بسا اوقات اسرائیلی ٹینک ہمارے گھروں کے دروازوں پر اس طرح پہنچ جاتے تھے کہ خاندان کے افراد کو اپنے کپڑے بدلنے یا وہاں سے نکلنے تک کا موقع نہیں ملتا تھا‘‘۔

محترمہ امل الحیہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں کہ ’’ان کے بیٹوں نے اپنے آپ کو جہاد فلسطین میں قربان کیا ہے۔ قائدین کے بیٹوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صف اول میں ہوں اور اپنی قوم سے پیچھے نہ رہیں، جب کہ وہ قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمت کر رہے ہوں‘‘۔

حماس کے رہنماؤں کے بچوں کی عیش و عشرت اور غزہ کے باشندوں کے دُکھوں سے دُوری کے الزامات کے جواب میں، امل الحیہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے بچوں نے انھی حالات کا سامنا کیا ہے جن میں غزہ کے دیگر فلسطینی رہ رہے ہیں، جن میں نقل مکانی، بھوک، خوف اور حملوں کا نشانہ بننا سب کچھ شامل ہے۔ میرے بیٹوں نے باربار مواقع ملنے کے باوجود غزہ چھوڑنے سے انکار کیا ہے۔ فلسطینیوں کی ثابت قدمی کی خاص بات یہ ہے کہ رہنما اور ان کے خاندان بھی اسی تقدیر کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ کسی قسم کی استثنائی مراعات سے فائدہ نہیں اُٹھا رہے۔

امل الحیہ کا کہنا ہے: ’’الحیہ خاندان نے موجودہ جنگ اور اس سے پہلے کے واقعات میں ۱۷شہداء پیش کیے ہیں۔ میری بہن نے بھی موجودہ جنگ میں اپنے دو بیٹوں کو کھو دیا ہے، جب کہ ہمارے بہت سے رشتہ دار اور غزہ کے دیگر باشندے اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ غزہ  اجتماعی قبرستان ہے۔ میری پہلی خواہش یہ ہے کہ اپنے گھروں کے ملبے پر کھڑی ہو کر شہداء کی روحوں کو سلام پیش کروں‘‘۔

مَیں غزہ کے تمام باشندوں کو سلام پیش کرتی ہوں، جنھوں نے بہت کچھ قربان کیا ہے اور ایسی مشکلات کا سامنا کیا ہے جن کا بوجھ پہاڑ بھی نہیں اٹھا سکتے۔

ـــــــاُم الشہداء 'امل خلیل الحیۃ کی اس گفتگو نے امید و رجا، عزیمت و استقامت، جذبہ و عزم اور یقین و ثبات کا ایسا عملی نمونہ اور درس پیش کیا ہے جو ہمیں عہدِ رسالت کے ایمان افروز واقعات کی یاد دلاتا ہے ۔کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جن کا محض نفسیاتی تجزیہ کرنا ممکن نہیں، کیونکہ وہ عام انسانی برداشت کی حدود سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اس مقام سے پھوٹتے ہیں جسے پوشیدہ ایمانی طاقت کہا جاسکتا ہے، وہ طاقت جس کے ذریعے دین، انسانی نفس کی تشکیلِ نو کرتا ہے اور درد، محرومی اور موت کے ساتھ اس کے تعلق کو نئے سرے سے استوار کرتا ہے۔

یہ ایک گہرا علمی سوال ہے:کون سی چیز انسان کے اندر اس غیر معمولی برداشت کی صلاحیت پیدا کرتی ہے،اور انسانی دل اتنی بڑی محرومی کا بوجھ بغیر گرے کیسے اٹھا سکتا ہے؟

دراصل وجود کے بارے میں اسلامی تصورِ زندگی، موت اور آزمائش کے مفہوم کی ایک بالکل مختلف تفسیر پیش کرتا ہے۔ قرآنی تصور میں انسان محض عارضی دنیا کے لمحوں کا قیدی نہیں ہے، اور نہ اس کے فائدے اور نقصان کی پیمائش محض مادی پیمانوں سے ہوتی ہے، بلکہ وہ ایک وسیع تر اعتقادی پس منظر میں رہتا ہے، جہاں وہ دنیا کو ایک مستقل ٹھکانے کے بجائے ایک گزرگاہ، اور دارالجزا کے بجائے آزمائش کا گھر سمجھتا ہے۔

اسی لیے اسلام میں ’صبر‘ محض ایک اخلاقی فضیلت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عظیم ایمانی مقام ہے جو براہِ راست اللہ پر یقین، اس کی حکمت پر بھروسے اور اس کے عدل و وعدے پر اطمینان سے جڑا ہوا ہے۔ جوں جوں انسان کے شعور میں آخرت پر ایمان بڑھتا ہے، اس کے دل پر دنیاوی محرومی کا غلبہ کم ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ اپنے بچوں سے محبت نہیں کرتا، بلکہ اس لیے کہ وہ موت کو فنا ہونے کے بجائے منتقلی، اور مستقل جدائی کے بجائے عارضی علیحدگی سمجھتا ہے۔

قرآن نے مومنوں پر واضح کیا ہے کہ آزمائش اس راستے کی فطرت کا حصہ ہے:

اور ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمھاری آزمائش کریں گے۔ اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ: ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے‘‘۔ انھیں خوش خبری دے دو ان پر ان کے ربّ کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں۔(البقرۃ۲:۱۵۵-۱۵۷) 

بلاشبہ امل الحیہ کی اس گفتگو میں نظر آنے والی ہمت نہ صرف شخصی قوت ہے، بلکہ ایک مکمل اعتقادی ساخت کا نتیجہ ہے جو ان کے شعور، احساسات اور واقعات کی تشریح کا طریقہ تشکیل دیتی ہے۔ ایمان کا یہ انداز فوری جذباتی جوش و خروش سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ یہ عمر بھر کی قرآنی تربیت، جذبۂ ایمانی سے سرشار ہونے، کثرت سے آخرت کو یاد رکھنے اور خوشی و غمی میں اللہ کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کا نتیجہ ہے۔

جدید مادی ثقافت نے انسان کو اس کے محض فوری نفع بخش اور جذباتی پہلو تک محدود کر دیا ہے۔ دوسری طرف گہرا ایمان یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانی نفس —جب اللہ کے ساتھ حقیقی طور پر جڑ جاتا ہے، تو —تکلیف کے جسمانی احساس سے تجاوز کرنے اور صبر و استقامت کے ایسے درجے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو بہت سے لوگوں کی نظر میں عام انسانی طاقت سے باہر دکھائی دیتا ہے۔

چنانچہ اس طرح کے مناظر کو محض انفرادی بہادری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ انھیں عقیدے کے زیراثر ایک زندہ تجربے کے طور پر دیکھنا چاہیے؛ جب وہ عقیدہ محض ذہنی کیفیت سے بدل کر ایک ایسے یقین میں ڈھل جاتا ہے جو دل میں گھر کر لیتا ہے اور انسان کی اندرونی دنیا بدل دیتا ہے !

 _______________

 ایک مسلمان کو اپنے مسلم معاشرے اور اجتماعیت کے ساتھ مربوط رہنے کے لیے ہروقت ایسی سرگرمیوں کی ضرورت ہے جو اس کے اس تعلق کی تشکیل اور نشو و نما میں بھرپور کردار ادا کریں ۔ اس مقصد کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ مساجد کے ساتھ ربط و تعلق ہے ۔ اس کے لیے دنیا کے ہجوم سے تھوڑا دُور ہونا ضروری ہے۔ ہم اپنی مصروفیات کا جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے گھر میں قیام کی برکتوں سے روح کو زندہ ، تروتازہ اور نشو و نما دینے والے ماحول میں مساجد سے جڑنے کی بہت ضرورت ہے۔ 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمھیں وہ چیزیں نہ بتاؤں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے؟ وہ چیزیں: ناگواری کے وقت مکمل وضو کرنا، زیادہ چل کر مساجد کی طرف جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا‘‘۔پھر ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں: ’’یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے، یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے، یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے‘‘۔ (موطا ، امام مالک) 

یہ حدیث اس ایمانی و روحانی قوت کی وضاحت کرتی ہے جو ایک مسلمان کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ مسجد سے جڑ جاتا ہے، وہاں جا کر بیٹھتا ہے ، اور اللہ کے گھر میں فرشتوں کے ماحول میں کچھ وقت گزارتا ہے ۔ یوں مسجد مسلمان کے لیے ایک روحانی کلینک بن جاتی ہے جس سے وہ بے نیاز نہیں رہ سکتا، لہٰذا یہاں حاضری اور زیارت ضروری ہے، ایسی حاضری نہیں جو سرسری، رسمی اور نہایت مختصر ہو، جو صرف فرض ادا کرنے کی حد تک ہو، بلکہ یہ محبت کرنے والے کی حاضری ہو ، جس شخص کا دل اپنے رب کے گھر کی طرف کھنچا رہتا ہے، وہ وہاں مہمان بننا پسند کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اس کے شدید تعلق اور محبت کی بنا پر اسے رب کے گھر میں زیادہ دیر ٹھہرتے اور وقت گزارتے دیکھیں گے۔ وہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے، اور یہ 'مسجد کے ساتھ ’تعلق‘ کے ان مفاہیم میں سے ایک ہے جس کی طرف حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے۔ 

مساجد کے ساتھ تعلق کے بارے میں ملاء اعلیٰ (فرشتے) جھگڑتے ہیں کہ اس کے عظیم ثواب کی وجہ سے،اسے کیسے لکھا جائے؟جو شخص اس تعلق کی حفاظت کرتا ہے وہ خیر کے ساتھ جیتا ہے اور خیر کے ساتھ مرتا ہے، جیسا کہ حدیث نبویؐ میں آیا ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے پوچھا: ’اے محمدؐ،، میں نے عرض کیا: ’میں حاضر ہوں اے میرے ربّ، اور تیری سعادت چاہتا ہوں‘، اللہ نے فرمایا: ’ملاء اعلیٰ کس بارے میں جھگڑتے ہیں؟‘ میں نے عرض کیا: ’اے رب، کفارات کے بارے میں، جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے پیدل چل کر جانے کے بارے میں۔ اور ناگواریوں کے باوجود مکمل وضو کرنے کے بارے میں، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے کے بارے میں۔ جو شخص ان کاموں کی اہتمام کے ساتھ ادائیگی کرے گا، وہ خیر کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ مرے گا‘ ۔( کتاب التوحید ، ابن خزیمہ) 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مساجد سے تعلق قائم رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ ایک حدیث میں اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہےجس میں دوسرے انعامات کی خوش خبری بھی سنائی گئی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فرشتے اس بندے کو اللہ کے گھر میں بیٹھنے کے دوران گھیر لیتے ہیں، اور اس کے لیے رحمت اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں، پھر وہ نماز کا ثواب حاصل کرتا رہتا ہے(جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے) جب تک وہ اپنی جائے نماز پر رہتا ہے، چاہے وہ نماز پڑھ چکا ہو۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ لے پھر اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے تو فرشتے اس پر مسلسل درود بھیجتے رہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اور اگر وہ اپنی جائے نماز سے اُٹھ کر نماز کا انتظار کرتے ہوئے مسجد میں ہی بیٹھ جائے تو وہ نماز میں ہی شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اگلی نماز پڑھ لے‘‘۔ 

مسجد کے ساتھ تعلق ہی کو اُمت مسلمہ کی رہبانیت قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ روایت ہے: کہا گیا: یارسولؐ اللہ! ہمیں رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دیجیے، تو آپؐ نے فرمایا: ’’میری امت کی رہبانیت مسجدوں میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنا ہے‘‘۔ (کتاب الزھد ، ابن المبارک) 

مسجدوں کے ساتھ تعلق اصحابِ رسولؐ کی سنت تھی جس کی وہ پابندی کرتے تھے، اور ایک دوسرے کو اس کی ترغیب دیتے تھے، بلکہ اس میں تعاون کرتے تھے، اور اپنی مسجدوں میں اس کا اہتمام کرتے تھے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایسا کرتے دیکھا، تو ان کے اس عمل کی قدر افزائی فرمائی، اور انھیں خبر دی کہ اللہ ان کے اس عظیم فعل سے راضی ہے۔ 

روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے کسی حجرے سے باہر تشریف لائے، تو اپنی مسجد میں سات صحابہ کو دیکھا جو عرب اور موالی ( آزاد کردہ غلاموں) میں سے تھے۔ آپؐ نے ان سے ان کے بیٹھنے کا سبب پوچھا، تو انھوں نے کہا: ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپؐ نے اپنی انگلی زمین پر ماری، پھر تھوڑی دیر سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے رب عزوجل نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’وہ فرماتا ہے: جس نے نماز کو اس کے وقت پر ادا کیا، اور اس کی حدود کو قائم رکھا، تو اس کے لیے میرے ذمے ایک عہد ہے کہ میں اسے اس کے ذریعے جنت میں داخل کروں گا، اور جس نے نماز کو اس کے وقت پر ادا نہیں کیا، اور اس کی حدود قائم نہیں رکھیں، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہیں، اگر میں چاہوں تو اسے آگ میں داخل کروں، اور اگر میں چاہوں تو اسے جنت میں داخل کروں‘‘۔(مسند ابن ابی شیبہ) 

کئی صحابہ کرامؓ روایت کرتے ہیں کہ انتظارِ صلوٰۃ کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت تَـتَجَافٰى جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (السجدہ۳۲: ۱۶) ’’اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں‘‘، اُس نماز کے انتظار کے بارے میں نازل ہوئی جسے عتمہ (عشاء) کہا جاتا ہے۔ (العلل الکبیر للترمذی) 

ایک اور آیت کے نازل ہونے کا سبب بھی انتظارِ صلوٰۃ ہے، جیسا کہ داؤد بن صالح سے روایت ہے، انھوں نے کہا، مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے کہا: اے میرے بھتیجے! کیا تم جانتے ہو کہ آیت:اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا ۝۰ۣ (اٰل عمرٰن۳:۲۰۰) کس بارے میں نازل ہوئی؟ میں نے کہا: نہیں، تو انھوں نے کہا: اے بھتیجے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی غزوہ کا انتظار نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ یہ نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے۔ (تفسیر الطبری) 

مساجد کے ساتھ تعلق کے نفسیاتی فوائد 

جو شخص مساجد کے ساتھ تعلق اور اس کی ترغیب دینے والی آیات و احادیث پر غور کرتا ہے، وہ یہ جانتا ہے کہ یہ محض ایک عام عبادت نہیں، یا محض ایک پُرسکون جگہ پر ٹھہرنا نہیں، بلکہ یہ روح کی غذا ہے، تاکہ وہ زندگی کی تھکاوٹوں اور مصروفیتوں کے مقابلے میں مضبوط و مستحکم ہو، اور روح پر حملہ کرنے والی منفی قوتوں پر قابو پایا جائے، تاکہ روح بوڑھی نہ ہو، بلکہ جوان رہے اور مشکلات پر قابو پانے کی اپنے اندر صلاحیت رکھے۔ 

اسی طرح مساجد کے ساتھ تعلق اللہ تعالیٰ کے گھر میں اس کی پناہ حاصل کرنا ہے، اور رحمٰن کی میزبانی میں رہنا ہے، جس سے نفس کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اور اس کا مومن کے نفس پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ 

مساجد کے ساتھ تعلق میں مساجد کو آباد کرنے اور انھیں اس بے رُخی اور نظراندازی سے بچانے کا احیاء ہے جو ہم آج اس غالب مادی تہذیب کے سائے میں دیکھ رہے ہیں، اور یہی وہ مفہوم ہے جس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا ہے: 

فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللہُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْہَا اسْمُہٗ۝۰ۙ يُسَبِّــحُ لَہٗ فِيْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۝۳۶ۙ رِجَالٌ۝۰ۙ لَّا تُلْہِيْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ  وَاِيْتَاۗءِ الزَّكٰوۃِ ۝۰۠ۙ يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ۝۳۷ (النور۲۴: ۳۶-۳۷)  

(اُس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) اُن گھروں میں پائے جاتے ہیں جنھیں بلند کرنے کا، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے۔ اُن میں ایسے لوگ صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں جنھیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی۔ وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آ جائے گی۔ 

مساجد کے ساتھ تعلق کو زندہ کرنے کے طریقے 

اُمت کے افراد، جماعتوں اور ذمہ داران پر واجب ہے کہ وہ امت میں مساجد کے ساتھ تعلق کو زندہ کریں۔ اس تعلق کو زندہ کرنےوالے ذرائع میں سے چند نہایت اہم یہاں بیان کیے جاتے ہیں: 

  • جمعہ کے خطبات اور متعدد دروس کو مساجد کے ساتھ تعلق اور اس کی فضیلت کے بارے میں امت کو یاد دہانی کرانے کے لیے خاص کرنا۔ 
  • مسجد کو بستی کا مرکز بناتے ہوئے تزکیہ و تربیت کا ذریعہ بنایا جائے اور معاشرتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ 
  • ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروگرام جو امت کو مساجد کے ساتھ تعلق قائم کرنے کی ترغیب دیں۔ 
  • ویڈیو کلپس نشر کرنا اور پوسٹس بنانا جو مساجد کے ساتھ تعلق کی ترغیب دیں۔ 
  • مساجد کو اس طرح تیار کرنا جو نمازیوں کو راحت کا احساس دلائے اور ان کے دلوں میں مساجد کے ساتھ محبت پیدا کرے۔ 
  • نمازیوں کا نمازوں سے کافی دیر پہلے آنا، اور ان کے بعد بھی کافی دیر تک ٹھیرنا۔ 
  • احادیث میں بیان کی گئی مدت کو مساجد میں ٹھیرنے کے لیے مختص کرنا، جیسے فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک ٹھیرنا، اور اسی طرح مغرب اور عشاء کے درمیان مسجد میں ٹھیرنا۔ 
  • مسجد میں دروس کی حوصلہ افزائی کرنا جو لوگوں کو مساجد میں ٹھیرنے کی اجازت اور موقع فراہم کریں۔ 
  • لوگوں کو مسجد جانے اور وہاں جماعتوں کی صورت میں موجود رہنے کی عادت ڈالنا، تاکہ وہ ایک دوسرے کو مساجد کے ساتھ تعلق کو زندہ کرنے کی ترغیب دیں۔ 

۵؍اکتوبر۲۰۲۵ء کو ’الجزیرہ‘ نے اپنی ویب سائٹ پر غزہ میں اسرائیلی فوج کی درندگی، قتل و غارت اور ظلم و سفاکی سے ہونے والی تباہی و بربادی کو اعداد و شمار کی صورت میں شائع کیا ہے۔ یہ رپورٹ غزہ کے سرکاری میڈیا کی طرف سے جاری کی گئی ہے، جو بے گناہ شہریوں اور نہتے عوام پر اسرائیل کے اندھے اور بے حدوحساب بارود برسانے کی المناک صورتِ حال کو بیان کرتی ہے۔ سرکاری میڈیا کے دفتر نے بتایا ہے کہ ۶۷ ہزار سے زائد افراد شہادت سے سرفراز ہوئے۔ یہ اُن لوگوں کی تعداد ہے جن کو ہسپتالوں تک پہنچایا گیا اور ان کا ہسپتال کے ریکارڈ میں اندراج موجود ہے، جب کہ ۱۰ ہزار افراد کا اَتا پتا نہیں۔ ان میں سے کئی ملبے تلے دب گئے اور کئی نامعلوم صورتِ حال سے دوچار ہوئے۔ 

اس رپورٹ کے مطابق ۲۰ ہزار سے زائد بچّے شہید ہوئے، جن میں ایک ہزار ابھی دودھ پیتے بچّے تھے اور ۵ سو کے قریب وہ شیرخوار تھے جو پیدائش کے کچھ عرصہ بعد ناموافق حالات سے دوچار ہونے کی بنا پر انتقال کر گئے۔ اس رپورٹ کے مطابق اندراج میں موجود شہید عورتوں کی تعداد ۱۰ ہزار سے زائد ہے۔ 

اس سرکاری بیان کے مطابق مکانوں، دکانوں اور مارکیٹوں ، پلازوں کی تخریب و تباہی کے تخمینے کا گراف ۹۰ فی صد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ تمام تباہی راکٹوں، میزائلوں، گولہ و بارود اور ڈرون ٹکنالوجی سے برسائی گئی آگ کا نتیجہ ہے۔ اسرائیلی جنگی جنون نے ان دو برسوں میں دو لاکھ ٹن بارود غزہ کی بے گناہ آبادی پر برسایا ہے۔ یہاں اس رپورٹ کی تفصیل درج کی جارہی ہے: 

آبادیاتی اعداد و شمار 

۲۵ لاکھ کے قریب غزہ کے رہائشی انسان قتل و غارت، نسل کشی اور جبری قحط و بھوک کا شکار ہوئے۔ اجتماعی نسل کشی اور تباہی کا یہ اسرائیلی عمل ۷۳۰ دن (دو برس) تک مسلسل جاری رہا۔ ۹۰فی صد عمارتیں مکمل طور پر تباہ و برباد کردی گئیں۔ غزہ کے ۸۰ فی صد رقبے پر غاصب نے اپنا کنٹرول حاصل کرلیا تھا جہاں بے دریغ طریقے سے بارود برسایا، شہریوں کو شہر چھوڑنے پر مجبور کیا اور ظلم و عدوان کا کھلا مظاہرہ کیا۔  

شہداء، لاپتا افراد اور قتل عام 

مجموعی طور پر ۸۶ ہزار سے زائد افراد شہادت، لاپتا او ر قتل عام کا شکار ہوئے۔ شہداء کی ۶۷ہزار تعداد تو صرف وہ ہے جن کا ہسپتالوں میں اندراج ہوسکا۔ لاپتا افراد کی تعداد ساڑھے۹ہزار سے زائد ہے۔ ان میں وہ شہداء بھی شامل ہیں جو ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، یا ان کا کوئی اتاپتا نہیں۔ ۲۰ہزار سے زائد شہداء تو بچّے ہیں اور ان میں ۱۹ہزار سے زائد بچّے وہ ہیں جو ہسپتالوں کے ریکارڈ میں آئے ہیں۔ ساڑھے ۱۲ہزار سے زائد عورتیں شہید ہوئی ہیں۔ ان میں بھی ۱۰ہزار سے زائد کا اندراج موجود ہے۔ ۹ہزار سے زائد مائیں شہید ہوئیں۔ ۲۲ہزار سے زائد باپ شہادت کا رُتبہ پاگئے۔ ایک ہزار سے زائد اُن شہید بچوں کی تعداد ہے جن کی عمر ابھی ایک برس سےکم تھی۔ ۳۵ ہزار کے قریب بچّے پیدائش کے بعد شہید ہوگئے۔ ڈیڑھ ہزار سے زائد، طبّی عملے کے افراد کو غاصب فوج نے قتل کردیا اور انھوں نے شہادت پائی۔ ڈیڑھ سو کے قریب شہری دفاع کے افراد تہہ تیغ کیے گئے۔ ڈھائی سو سے زائد صحافی شہید ہوئے۔ ۲سو سے زائد بلدیاتی ملازمین کو شہید کردیا گیا جن میں چار بلدیات کے صدور تھے۔ ۸سو کے قریب پولیس کے سپاہی اور امدادی سامان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔ ۹سو افراد ہلال احمر کی تنظیموں کے شہید کیے گئے، ۳ہزار کے قریب گھرانے اور خاندان بالکل ختم کر دیے گئے جن کا اندراج شہری ریکارڈ سے ختم کردیا گیا ہے۔ یہ ساڑھے۸ہزار شہداء میں سے ہیں۔ ۶ ہزار سے زائد وہ خاندان ہیں جومکمل طور پر ختم ہوگئے اور ان کا صرف ایک ایک فرد زندہ بچا۔ یہ تعداد ۱۳ ہزار کے قریب شہداء میں سے ہے۔ شہداء میں ۵۵ فی صد سے زائد تعداد بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی ہے۔ ۵ سو کے قریب شہداء کی وہ تعداد ہے جو بھوک اور ناکارہ غذا کے سبب شہید ہوگئے۔ ان میں بھی ڈیڑھ سو سے زائد بچّے ہیں۔ اسی طرح فضائی ذرائع سے گرائی گئی امداد کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ۲۴ کے قریب ہے۔ ۴۰ فی صد سے زائد لوگ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوکر جان سے گزر گئے کیونکہ انھیں مناسب اور ضروری غذا اور علاج کی سہولت نہ مل سکی۔ ۱۲ہزار سے زائد حاملہ خواتین ناقص غذا اور صحت کی سہولت کی عدم دستیابی کے باعث اسقاطِ حمل کا شکار ہوئیں۔ ۲۵۰ کے قریب شہری سردی کی شدت کے سبب خیموں میں دم توڑ گئے۔ان میں بھی زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ 

زخمی، گرفتاریاں اور انسانی صورتِ حال 

اس دو برس کی بمباری، ڈرون گردی اور میزائل حملوں سے زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد پونے دو لاکھ کے قریب ہے۔ ۱۹ہزار سے زائد زخمی وہ ہیں جن کو بحالی میں ایک طویل مدت درکار ہوگی۔ ۵ہزار کے قریب زخمیوں کے اعضاء کاٹ دیے گئے ہیں جن میں ۱۸ فی صد تعداد بچوں کی ہے۔ ۱۲ سو فالج کے کیس ، اتنے ہی بینائی کی کمی کے کیس ریکارڈ ہوئے ہیں۔ ۴سو سے زائد صحافی زخمی ہیں۔ ۷ہزار کے قریب شہری گرفتار ہوئے۔۴سو کے قریب تو میڈیکل عملے کے لوگوں کی تعداد ہے جو گرفتار ہوئے۔ ایک سو کے قریب صحافی اور شہری دفاع سے متعلقہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ ۲۱ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں اور ۵۶ ہزار سے زائد بچّے یتیم ہوئے۔ ان میں دونوں ماں باپ یا ایک کی شہادت کی صورت میں یتیم ہونے والے بچّے شامل ہیں۔ ۲۰لاکھ سے زائدافراد جبری نقل مکانی کے نتیجے میں متعدی امراض کا شکار ہوگئے۔ ۷۰ہزار سے زائد افراد یرقان کے مرض میں مبتلا ہوئے۔ 

صحت کے شعبے کی صورتِ حال 

۴۰ کے قریب ہسپتال حملہ آوروں نے تو بالکل تباہ کر دیے یا انھیں کام کے قابل نہیں چھوڑا۔ ایک سو کے قریب مراکز صحت ملیامیٹ کر دیے یا برباد کر دیے یا انھیں کام کے قابل نہیں رہنے دیا۔ ۲سوکے قریب ایمبولینسوں کو ظالموں نے نشانہ بنایا۔ صحت کی دیکھ بھال کی خدمات، سہولیات، گاڑیوں اور سپلائی چینوں پر ۸سو کے قریب حملے کیے گئے۔ ۶۰ سے زائد سرکاری فائربریگیڈاور شہری دفاع کے شعبے کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

تعلیم اور تعلیمی ادارے 

غزہ کی ۹۵ فی صد اسکول عمارات کو سخت نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ۹۵ فی صد سے زائد اسکولوں کی عمارتیں نئے سرے سے تعمیر ہوں گی یا اُن کا بڑا حصہ تعمیر کرنا پڑے گا۔ ۷سو کے قریب اسکول عمارتوں کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ یہ مدارس کی مجموعی تعداد کا ۸۰ فی صد ہے۔ ۲سو کے قریب اسکول، یونی ورسٹیاں اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔ ۴سو کے قریب اسکول،یونی ورسٹیاں اور تعلیمی ادارے جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ ساڑھے ۱۳ ہزار سے زائد طلبہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے۔ ۸ لاکھ کے قریب طلبہ کو سفاک دشمن نے تعلیم سے محروم کردیا۔ ۸سو سے زائد اساتذہ اور تعلیمی و تربیتی شعبوں کے افراد اس جنگ میں اسرائیلی ظلم سے شہید ہوگئے۔ اسی طرح ۲ سو کے قریب علما، دانش ور اور محقق اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہوئے۔ 

عبادت گاہوں اورقبرستانوں کی صورت حال 

ساڑھے ۸سو کے قریب مساجد کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ ۲سو کے قریب مساجد  جزوی طور پر منہدم ہوئیں۔ تین گرجوں کو بھی ایک سے زائد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ ۶۰ میں سے ۴۰قبرستانوں کو بلڈوز کر دیا گیا۔ اڑھائی ہزار کے قریب فوت شدگان اور شہداء کی لاشیں قبروں سے غائب کردی گئیں۔ سات اجتماعی قبریں ہسپتالوں کے اندر ہی بنائی گئیں۔ ۵ سو سے زائد افراد کو سفاک دشمن نے قتل کیا اور پھر ان کی لاشیں اجتماعی قبروں سے بھی نکال کر لے گئے۔ 

مکانات، جبری نقل مکانی اور پناہ گزین کیمپ 

قابض و جابر اور غاصب ظالم نے پونے تین لاکھ رہائشی یونٹس مکمل طور پر تباہ کر دیے ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ کے قریب رہائشی یونٹس کو شدید نقصان پہنچایا جو رہائش کے قابل نہیں رہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد رہائشی یونٹس کو جزوی طور پر تباہ کر دیا گیا۔ تین لاکھ کے قریب فلسطینی خاندان بے گھر ہوئے۔ سوا لاکھ سے زائد خیموں کو مکمل طور پر ناکارہ کر دیا گیا جو استعمال کے قابل نہ رہے۔ ۲۰لاکھ کے قریب شہری جبری نقل مکانی کے باعث بے گھر ہوئے۔ سو کے قریب پناہ گاہوں اور جبری نقل مکانی کے نتیجے میں قائم ہونے والے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ 

امداد و علاج کی روک تھام اور مسلط کردہ بھوک  

۲۲۰ دن تک غزہ کی پٹی کی تمام گزرگاہوں کو مکمل طور پر بند رکھا گیا۔ سوا لاکھ انسانی امداد اور ایندھن وغیرہ کے ٹرکوں کو غزہ میں داخل نہ ہونے دیا گیا۔ فلسطینی شہریوں کو بھوک سے مارنے کی پالیسی کے تحت ۵۰ کے قریب کھانے کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح امداد اور خوراک کی تقسیم کے ۶۰ سے زائد مراکز کو بھی اسی پالیسی کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ امدادی کاموں میں حصہ لینے والے ساڑھے ۵سو افراد کو شہید کردیا گیا۔ ۱۲۸ مرتبہ امدادی قافلوں اور انسانی وفود کو نشانہ بنایا گیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد شہید اور ۱۹سو سے زائد زخمی موت کے جال میں گم ہوگئے۔ ان کو ’اسرائیلی امریکی امدادی مراکز‘ کہا جاتا ہے اور ’مستحقین امداد کے متلاشی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ ساڑھے ۶لاکھ بچّے غذائی قلّت، بھوک اور خوراک کی کمی کے باعث موت کے خطرے سے دوچار تھے۔ ۴۰ ہزار شیرخوار (ایک سال سے کم عمر) دودھ کی نایابی کے سبب موت کا سامنا کر رہے ہیں۔ دودھ کے اڑھائی لاکھ پیکٹ اسرائیلی فوج نے غزہ کے معصوموں تک پہنچنے سے روکے رکھے۔ 

بنیادی ڈھانچہ اور عوامی سہولیات کی تباہی 

۷سو سے زائد پانی کے مرکزی کنوئیں اسرائیل نے تباہ کردیے اور انھیں ناکارہ بنادیا۔ میٹھے پانی کے ۱۳۴ منصوبوں کو اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا اور اس کے دوران ساڑھے  ۹ہزار کے قریب شہادتیں ہوئیںجن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ ۵ہزار سے زائد کلومیٹر بجلی کے نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا۔ سوا دو لاکھ سے زائد بجلی میٹر اسرائیلی تباہی کا نشانہ بن کر ختم ہوگئے۔ ۲ہزار ارب کلوواٹ فی گھنٹہ بجلی کی مقدار سے غزہ کی پٹی کو محروم رکھا گیا۔ ۷لاکھ میٹر پانی کے پائپ، نیٹ ورک کو اسرائیل نے تباہ کردیا۔ ۳۰ لاکھ میٹر سڑکوں کے نیٹ ورکس کو برباد کر دیا گیا۔ اڑھائی سو کے قریب سرکاری عمارتوں کو تباہ کر دیا گیا۔ ۳سو کے قریب پارکس، کھیل کے گرائونڈ اور اسپورٹس ہال تباہ کر دیے گئے۔ ۲سو سے زائد قومی و ثقافتی ورثے کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ 

زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کی بربادی 

۹۴ فی صد زرعی اراضی کو اسرائیلی فوج نے تباہ کردیا ہے جو اصل میں ایک لاکھ ۷۸ہزار دونم ہے۔ ایک ہزار سے زائد زرعی کنوئوں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ ۷سو کے قریب گائے، بھیڑبکری اور مرغی فارموں کو جنونی اسرائیلیوں نے برباد کردیا۔ سبزیوں کی کاشت کے لیے استعمال ہونے والی اراضی ۹۳ دونم سے کم ہوکر صرف۴ ہزار دونم رہ گئی ہے۔ غزہ کی پٹی کے زیرانتظام ۸۴ فی صد زرعی سہولیات تباہ کردی گئی ہیں۔ سبزیوں کی سالانہ پیداوار ساڑھے ۴۵ لاکھ ٹن سے کم ہوکر صرف ۲۸ہزار ٹن رہ گئی ہے۔ ماہی گیری کے علاقوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے یہ شعبہ سوفی صد متاثر ہوا ہے۔ 

پانچ اہم شعبہ ہائـے حیات کے نقصانات 

اجتماعی نسل کشی کے باعث ۷۰؍ارب ڈالر ابتدائی نقصان ہے۔ ۵؍ ارب ڈالر صحت کے شعبے،۴؍ارب ڈالر تعلیمی شعبے، ۳؍ارب ڈالر کے قریب ہائوسنگ سیکٹر، ایک ارب ڈالر مذہبی اُمور کے شعبے، ساڑھے ۴؍ارب ڈالر کے قریب زرعی شعبے، ۴؍ ارب ڈالر گھریلو سامان کے ضمن میں، ۳؍ارب ڈالر مواصلات اور انٹرنیٹ کے شعبے میں، ۲؍ارب ڈالر کے قریب نقل و حمل اور مواصلات کے شعبے میں، ڈیڑھ ارب ڈالر کے قریب بجلی کے شعبے اور ۶؍ارب ڈالر شہری سہولیات اور بلدیاتی کاموں کے شعبے میں نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ 

جنگ بندی کے بعد کی صورتِ حال 

۱۰؍اکتوبر ۲۰۲۵ء کو دو برس کی بے رحم اسرائیلی حملوں سے غزہ کی خوفناک تباہی کے بعد امریکا اور چند اسلامی ممالک کی مشاورت کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا جس کے پہلے مرحلے میں دونوں اطراف کے جنگی قیدیوں کی واپسی طے پائی۔ غزہ میں امداد و خوراک کی بندش کو کھولنے پر اتفاق ہوا۔ غزہ کی بحالی کے لیے کاوشوں کی بات کی گئی۔ مگر اسرائیل اور وزیراعظم اسرائیل نے ہٹ دھرم طبیعت اور سرشت کی اپنی تاریخی روایات پر قائم رہتے ہوئے معاہدے کی ان شرائط اور نکات کی ذرا پروانہ کی۔ غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جنگی کارروائیاں اور حملے مزید قبضے کی کوششیں اور غزہ پر مکمل قبضے کی دھمکیاں، زیتون کے درختوں کی تباہی جیسے پرانے ہتھکنڈوں سے ہاتھ نہ روکا۔ غزہ سے رابطے کی سات کراسنگ میں سے صرف دو کرم ابوسالم اور کیہوویم سے امدادی ٹرکوں کے گزرنے کی اجازت دی۔ باقی پانچ گزرگاہوں کو حسب سابق بند رکھا ہوا ہے۔ رفح کراسنگ جو غزہ کے لیے زیادہ قابلِ رسائی گزرگاہ ہے، اس کو نہ کھولنے کا بار بار اعلان کیا۔ غزہ کی مقامی انتظامیہ کی اطلاعات کے مطابق ۱۸ہزار امدادی ٹرکوں میں صرف۱۸ سو ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ملی جن میں سے صرف ساڑھے ۶ سو ٹرک، ۱۲ اور ۱۳؍اکتوبر کو داخل ہوسکے۔ یہ بھی اقوام متحدہ کے مطالبے پر ممکن ہوسکا۔ اس دوران فلسطینیوں کو مارنے، ان پر میزائل پھینکنے کا عمل جاری رہا۔ ادھر اسرائیلی اسمبلی ’کینسٹ‘ میں غزہ پر مکمل قبضے کی قرارداد بھی منظور کرالی گئی۔ امریکی صدر اور اس کے نمائندے کہتے ہیں کہ ایسا نہ ہوگا مگراس کی کوئی ضمانت نہیں۔ اس دوران اسرائیل آبادکاری میں توسیع اور قبضہ گیری میں مسلسل پیش قدمی کرتا رہا۔ اب تو باقاعدہ پیلی لکیر کھینچی جارہی ہے جہاں تک اسرائیل کے قبضے کی حدود ہوں گی۔ اس میں رفح کا بہت سا رقبہ بغیر حدود کے اپنے اندر شامل کر رہا ہے۔ اسرائیل نے اس لائن پر ساڑھے ۳میٹر اُونچی کنکریٹ کی دیواربنانا شروع کر دی ہے۔ ۱۰؍اکتوبر کے بعد سے اب تک ایک سو سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں میں شہید کیے گئے اور اڑھائی سو کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔ 

اسرائیل کا مذہبی عقیدہ اور جنگی جنون 

غزہ کی اس خوفناک تباہی کے پیچھے کیا ذہنیت اور عقیدہ کام کرتا ہے؟ اس کومعروف مصری عالم اور محقق و مصنف پروفیسر محمد عمارہ (۱۹۳۱ء-۲۰۲۰ء)نے یوں بیان کیا ہے:اسرائیل کی ۱۹۴۸ء سے لے کر آج تک تمام جنگوں میں ایک مظاہرہ خاص طور پر ہوتا رہا کہ وہ اپنے جنگی اہداف کو نشانہ بنانے کے دوران صرف انھی اہداف تک محدود نہیں رہتا بلکہ قتل و غارت اور تباہی و بربادی سے بلاامتیاز کام لیتا ہے۔ کسی بچے پر ترس کھاتا ہے، نہ کسی عورت کا لحاظ رکھتا ہے۔ کسی مجاہد اور شہری میں کوئی فرق نہیں کرتا، کسی جنگجو اور غیر جنگجو کو نہیں چھوڑتا۔ ۱۹۴۸ء کی جنگ میں اس کی فوج نے سیکڑوں فلسطینی دیہات تباہ کیے، نہ مسجدوں کو چھوڑا نہ گھروں اور قبرستانوں کو۔ بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور پُرامن شہریوں تک کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ۱۹۷۸ء میں تو اس نے قیدیوں کے بھی قتل سے دریغ نہ کیا۔ ساحل پر موجود شہروں کو تباہ کر دیا، شہری آبادی کو نشانہ بنا کر مٹا دیا۔ اسرائیل نے اس تباہ کن ذہنیت کا غزہ اور لبنان کے خلاف ہر لڑائی میں مظاہرہ کیا۔ اس ہمہ گیر تباہی میں اسکول، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام اسکولوں کو بھی نہ چھوڑا۔ مساجد اور ہسپتالوں کو تباہ کر دیا، حتیٰ کہ ایمبولینسیں بھی اس کے حملوں سے محفوظ نہ رہیں۔صہیونیت کا یہ مسلسل اور عجیب و غریب مظاہرہ جس میں جنگی قواعد و ضوابط کا ذرا لحاظ نہیں رکھا جاتا، اس کا سبب کیا ہے؟ تجزیہ نگار، صحافی اور سیاست دان اس کو ’اجتماعی سزا‘ کا نام دیتے ہیں جو بین الاقوامی قانون جنیوا معاہدے کی روح سے جرم ہے لیکن کوئی تجزیہ کار، صحافی یا سیاست دان اس طرف متوجہ نہیں ہوتا کہ اس کا سبب ایک دینی حکم کی بجا آوری ہے جس کا متن تلمود میں موجود ہے۔ یہودی علما ’حاخامات‘ نے عہد نامۂ قدیم میں اس کو درج کیا ہے اور یہودی علما اس حکم کی تعلیم صہیونی فوج کی یونٹوں میں دیتے ہیں۔ فوج کا یہ جنگی عقیدہ عربوں کی نسل کشی اور ان کا خاتمہ ہے۔ یہودیوں کے نزدیک موجودہ عرب قدیم عمالقہ کا نمونہ ہے جن کے بارے میں کتاب مقدس کے سفر الخروج کے باب ۱۴:۱۷ میں کہا گیا ہے: 

رب نے موسیٰ سے کہا : یہ بات کتاب میں بطور یادداشت لکھ اور یشوع کو بھی سنادے ، کیونکہ میں عمالیق کا نام آسمان کے نیچے سے مٹا ڈالوں گا۔ 

 فوج جو انسانوں اور مکانوں کو نیست و نابود کر دیتی ہے، بستیوں اور شہروں کو ملبے کے ڈھیر بنا دیتی ہے دراصل وہ یہ تعلیم کتاب مقدس کے باب ۱۳: ۱۲ ، ۱۵ - ۱۷ سے پاتی ہے جو اس کے رب کی زبان سے اس کی پسندیدہ قوم کے لیے آیا ہے: 

اگر تو ان شہروں میں سے کسی کے بارے میں، جو تیرا رب تجھے عطا کرے کہ تو ان میں رہے، کوئی بات سنے تو اس شہر کے باشندوں کو تلوار کی دھار سے کاٹ کر رکھ دے اور ہرجانور چوپایا جو اس شہر میں ہے اسے بھی تلوار سے ختم کر دے۔ اس شہر کے تمام ساز و سامان کو ایک میدان میں اکٹھا کر اور آگ لگا کر اس شہر اور اس کے سارے سامان کو جلا کر رکھ دے تاکہ یہ شہر ایک ٹیلا بن کر رہ جائے ، دوبارہ تعمیر نہ ہو سکے۔ 

یہ تو ان شہروں کی سزا ہے جو پُرامن ہیں، لڑائی میں حصہ نہیں لیتے، نہ اسرائیل کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ اس متن میں ’کوئی بات‘ کا مطلب ہے کہ وہ اپنی سرزمین اسرائیل کے لیے چھوڑنے اور خالی کرنے سے انکار کریں۔اسرائیل جب اپنی تمام جنگوں میں تشدد و ہلاکت کی انتہا تک جاتا ہے۔ بچوں کے ساتھ کوئی شفقت کرتا ہے، نہ عورتوں پر ترس کھاتا ہے اور نہ کسی معاہدے اور پیمان کا پاس رکھتا ہے، تو وہ اسی جنگی عقیدے کا نفاذ عمل میں لاتا ہے جو اس کی فوج اپنی مقدس مذہبی کتب سے اپنے علما سے سیکھتی ہے۔ یہ عقیدہ انھیں دیگر تمام قوموں کو ختم کر ڈالنے بلکہ کسی ترس اور عہد کا لحاظ رکھے بغیر تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس عقیدے کے مطابق وہی مقدس قوم ہیں اور ہر قوم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ سفر التثنیہ میں ہی ہے: 

جب خداوند تیرا خدا ان سات قوموں کو، جو تجھ سے بڑی اور طاقت ور ہیں، تیرے سامنے سے ہٹا دے اور تو انھیں شکست دے تو انھیں مکمل طور پر تباہ کر دینا۔ ان کے ساتھ کوئی عہد نہ کرنا اور نہ ہی ان پر رحم کرنا۔ ان کے ساتھ شادی بیاہ نہ کرنا۔ کیونکہ تو ایک مقدس قوم ہے۔ خداوند تیرے خدا نے تجھے زمین کی تمام قوموں میں سے چُن لیا ہے تاکہ تو اس کی خاص قوم ہو۔ تو تمام قوموں سے زیادہ بابرکت ہو گا اور تو ان سب قوموں کو تباہ کر دے گا، اور تو ان پر رحم نہ کرنا۔ 

اسی طرح صہیونی جب مقبوضہ زمین سے باقی عربوں کے نکل جانے کی بات کرتے ہیں تاکہ یہودی اپنی خالص یہودی ریاست وہاں قائم کر سکیں، تو یہ بھی ان کا دینی عقیدہ ہے۔ سفر العدد  ۳۳:۵۰-۵۱، ۵۵- ۵۶ میں یہ آتا ہے: 

۴- اور خداوند نے موآب کے میدانوں میں یردن کے کنارے یریحو کے مقابل موسٰی سے کہا: بنی اسرائیل سے کہو: تم یردن پار کر کے ملک کنعان میں جاؤ گے، اور تم اس ملک کے تمام باشندوں کو اپنے سامنے سے نکال دو گے، اور اس ملک کو اپنا بنا لو گے اور اس میں بس جاؤ گے۔ لیکن اگر تم اس ملک کے باشندوں کو اپنے سامنے سے نہ نکالو گے، تو جو لوگ تم میں سے باقی رہ جائیں گے وہ تمھاری آنکھوں میں کانٹے اور تمھاری پسلیوں میں خار بن جائیں گے، اور وہ اس ملک میں جہاں تم رہتے ہو تمھیں تنگ کریں گے۔ 

ان متون سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فلسطینیوں اور عربوں پر بے دردی کے ساتھ مسلط کی گئی اسرائیل کی جنگ ان کا محض سیاسی تصادم نہیں بلکہ ایک دینی فریضے اور حکم کی تکمیل ہے جس کا ہمیں احساس ہی نہیں ہے۔ 

معصوم شہریوں کو قتل کرنا فرض ہـے 

اسرائیلی فوج کے یونٹوں میں جو یہودی علما تعینات ہوتے ہیں، ان کو عسکری رینک دیے جاتے ہیں جن کی ڈیوٹی فوجیوں کو مذکورہ عقیدے کی تعلیم دینا ہے۔ فلسطینیوں پر ظلم و تشدد اور تباہی و بربادی کے ذریعے وہ اس عقیدے پر عمل کرتے ہیں۔ یہ یہودی علما کے فتاویٰ جاری کرتے ہیں جن کو بڑی تعداد میں طبع کر کے فوج میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ علماء جنگی عقیدے سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ تلمود میں اس سوچ کو ’اسلحہ کی صفائی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔اسرائیلی فوج نے وسطی علاقے میں جو کہ اس کی مقبوضہ زمین کے مغربی کنارے پر واقع ہے، ایک حاخام برگیڈیئر فیضان زیمبل کا فتویٰ شائع کیا۔ اس میں اس حاخام نے معصوم فلسطینی شہریوں کے قتل کو فرض قرار دیا کیونکہ یہودی قانون ’ہلاکات‘ [ہلاخات]کی روشنی میں یہ ایک دینی ذمہ داری ہے۔اسرائیلی کاتب ’اسرائیل شاحاک‘ نے اس فتوے کو اپنی کتاب ’یہودی مذہب اور غیر یہودیوں کے بارے میں اس کا موقف‘ میں شامل کیا ہے۔ شاحاک اس کتاب میں لکھتا ہے: جنگ کے دوران افواج کا شہریوں سے آمنا سامنا ہو جانے کی صورت میں یا سخت جارحانہ حملے یا مدافعانہ حملے کی صورت میں ہماری افواج کے پاس شہریوں کو تکلیف پہنچانے کی کوئی دلیل نہیں ہے، تاہم انھیں قتل کرنے کا امکان موجود ہے کیونکہ انھیں قتل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ یہودی قانون ’ہلاکات‘ تو معصوم شہریوں کو قتل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ 

حاخام شمعون وائزر، تو اسرائیلی فوجی موشی جو ۱۹۶۰ء میں مقبوضہ فلسطین میں خدمات انجام دے رہا تھا کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے جس میں موشی پوچھتا ہے کہ کیا ہم عربوں کے ساتھ عمالقہ جیسا معاملہ کریں یعنی ان کو قتل کر دیں تاکہ ان کا ذکر زمین سے ختم ہوجائے جیسا کہ سفرالتثنیہ ۲۵:۱۹ میں آیا ہے: ’’تاکہ تم آسمان کے نیچے عمالقہ کا ذکر ہی ختم کر دو‘‘۔ ہم اس پر عمل کریں یا عادلانہ قوانین جنگ کا اطلاق کریں جن کے مطابق صرف محارب (جنگجو) کو قتل کیا جاتا ہے اور کیا ہتھیار ڈال دینے والے عربی کو پانی پیش کرنا میرے لیے جائز ہے؟ 

اس خط کا جواب دیتے ہوئے حاخام شمعون وائزر، یہودی شریعت ’ہلاکات‘ کا حکم واضح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں تمھارے سامنے بعض دانشوروں کے اقوال رکھتا ہوں اور ان کی وضاحت کرتا ہوں: یہودیوں کے علاوہ دیگر مذاہب میں جنگ کے مخصوص قوانین ہیں جس طرح فٹ بال اور باسکٹ بال کے قوانین ہوتے ہیں مگر ہمارے دانش وروں کے مطابق جنگ ہمارے نزدیک کھیل نہیں بلکہ زندگی کی ضرورت ہے اور صرف ان مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس کو نافذ کرنے کی صورت حال کے بارے میں سوچنا ضروری ہے۔ غیر یہودی کو قتل کر دو، اس کا سرقلم کردو۔ یہی ’ہلاکات‘ کے مطابق ’قانون اسلحہ صفائی‘ ہے۔اسرائیلی فوجی موشی نے اس خط کا جواب اپنے ساتھی فوجیوں کو بھی پڑھ کر سنایا تاکہ وہ اپنی شریعت کا وہ قانون جان لیں جس کے مطابق بہترین غیر محارب [غیرجنگجو]،بے گناہ اور معصوم فلسطینی کا قتل لازمی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ وہ غیریہودی ہے، وہ سانپ ہے جس کا سر کچلنا ضروری ہے۔موشی نے حاخام شمون وائزر کو جوابی خط لکھا کہ مجھے آپ کا خط مل گیا ہے۔ میں نے اس کو یوں سمجھا ہے کہ میرے لیے زمانۂ جنگ میں ان عرب مرد و عورت کو قتل کرنا نہ صرف جائز ہے جو اچانک میری زد میں آجائیں بلکہ میرا یہ فریضہ ہے کہ اس قانون کو نافذ کر کے رہوں۔ 

نسل پرست قبضہ گیر نوآبادیات 

اسرائیل نو آبادیاتی اور نسلی امتیاز کے استعمار کی آخری نشانی ہے۔ سفید فاموں نے اپنے زوال سے قبل یہ نظام جنوبی افریقہ میں اس نسل پرستی کی بنیاد پر نافذ کیا جس کے مطابق سفید فام تمام نوع انسانی سے برتر مخلوق ہیں۔ ادھر صہیونیت نے سرزمین فلسطین میں اسی نسلی برتری کا امتیاز قائم کرنے کا کھیل کھیلا ہے۔ صہیونیت اس کو اپنا دین بنائے ہوئے ہے کیونکہ یہ عہد نامہ قدیم اور اس کی شرح تلمود کی تعلیمات ہیں۔اسرائیل شاحاک (۱۹۳۳ء-۲۰۰۱ء) اپنی مذکورہ کتاب میں اس نسلی برتری کے عقیدے سے متعلق متعدد مثالیں پیش کرتا ہے۔ ان کے ہاں ’نفس‘ لفظ کا مطلب یہودی ہے وہ اس میں غیر یہودیوں اور کتوں کو بالکل شامل نہیں کرتے۔ آرتھوڈوکس یہودی اپنی نوخیز عمری ہی سے مقدس تعلیمات میں یہ عقیدہ بھی سیکھ لیتا ہے کہ غیر یہودی کتوں کے برابر ہیں اور ان کو اچھا سمجھنا گناہ ہے۔ 

’کتاب تربیت‘ جس پر حکومت اسرائیل نے ایک بڑی رقم خرچ کر کے طبع کرایا ہے اور اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور یہ اسرائیل کی قومی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب کے آغاز ہی میں لکھا ہے: غیر یہودی غلام کو تاحیات غلام رکھنا واجب ہے اور یہودی غلام کو آزاد کردینا واجب ہے۔ اس لیے کہ یہودی کائنات کے افضل ترین انسان ہیں۔ وہ اس لیے پیدا کیے گئے تاکہ خالق کو پہچانیں اور اس کی عبادت بجا لائیں۔ بندوں کو غلام بنانا ان کا حق ہے اور جب ان کے پاس دیگر قوموں کا فرد غلام نہ ہو تو پھر وہ اپنی ہی قوم کے فرد کو غلام بنانے پر مجبور ہوں گے، جو اپنے ربّ کی خدمت نہ کرپائیں گے۔ یہی اس آیت کا مقصد ہے: 

تم اپنے بھائیوں کو جو سب رب کی عبادت کے لیے تیار ہو رہے ہیں دُور نہیں کرو گے۔(سفراللاویین ۲۵-۲۶) 

ان کی کتاب مقدس (عہد نامہ قدیم) کی وصیت یہ ہے کہ تم کسی ایسی شے کو زندہ نہ چھوڑو جو سانس لیتی ہو(سفر التثنیہ۶۰، ۶۱)،تو یہ آیت اسرائیلی افواج کے لیے ایسا تربیتی لیکچر بن جاتی ہے جو مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، جس لیکچر میں کہا جاتا ہے کہ فلسطینی عمالقہ کی مانند ہیں اور عمالقہ کا ذکر آسمان کے نیچے سے مٹا ڈالو(سفرالتثنیہ ۲۵:۹)۔ اور جو فلسطینی عمالقہ جیسے انجام سے بچ جائے، اس کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جائے۔ 

موسیٰ بن میمون فلسفی (۱۱۳۵ء-۱۲۰۴ء)کو یہودی سیّدنا موسٰی جیسا بلند مقام سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کا کہنا ہے کہ موسٰی کے بعد موسٰی جیسا کوئی نہیں آیا سوائے موسی (بن میمون) کے۔ یہ یہودی فلسفی عہد نامہ قدیم کے اسفار کی شرح و تفسیر کرتے ہوئے کہتا ہے: غیر یہودی بلند دینی قیمت تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ رب کی حقیقی عبادت کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی طبیعت ہی بے زبان حیوانوں کی طرح ہے۔ وہ کائنات میں ادنیٰ ترین انسان ہیں، بندروں سے کچھ اوپر کا درجہ رکھتے ہیں۔ 

 یہودی عورت کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے ماہوار غسل طہارت کے بعد مذہبی حمام سے واپسی پر چار شیطانی اشیاء کا سامنا کرنے سے پرہیز کرے: کسی غیر یہودی سے، کسی خنزیر سے، کسی کتے سے اور کسی گدھے سے۔ اگر ان میں سے کسی سے بھی اس کا سامنا ہو جائے تو وہ دوبارہ غسل کرے۔ 

اسرائیل نے درجنوں قوانین ایسے بنا رکھے اور جاری کر رکھے ہیں جو فلسطین کی سرزمین پر یہودی نوآبادیاتی نظام میں نسلی برتری کے امتیاز کے مظہر ہیں۔ اس امتیازی یہودی نظام اور نسلی برتری قائم کرنے والے یہودی نظام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والوں نے کیا کبھی ان حقائق پر بھی توجہ کی؟ کیا مسیحی تہذیب کے فرزندوں نے جو کہ عربوں اور مسلمانوں کے خلاف صہیونیت کے اتحادی ہیں موسیٰ بن میمون کے بیان کو پڑھا ہے؟ اس نے تورات شفاہیہ (تورات کی شفوی تشریح) میں سیّدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے اور ہر یہودی کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ جب یسوع کا نام سنے تو کہے اللہ تعالیٰ شریر نام کو ہلاک کرے تاکہ یہ شریر نام یسوع ناصری اور اس کے شاگردوں کو مبتلائے مصیبت کرے۔ یہ یہودی دیگر انسانوں کو نہ انسان سمجھتے ہیں اورنہ اُنھیں زمین پر زندہ رہنے کا حق دینے کے لیے تیار ہیں۔ 

 

۲۴ ستمبر۲۰۲۵ء کو ’النہضہ اسلامی پارٹی‘ تاجکستان کی صف اوّل کے رہنما معروف عالم دین علّامہ زبیداللہ روزیق (۱۹۴۶ء-۲۰۲۵ء) تاجکستان کے شہر فاہدات کی جیل میں انتقال کرگئے۔ شیخ روزیق کی عمر۸۳برس کے قریب تھی۔ ’حزب النہضہ‘ ۱۹۷۳ء میں قائم ہوئی۔ اس کی بنیاد حسن البنا شہید، سید قطب شہید، محمد الغزالی، اور سید مودودی کے افکار پر رکھی گئی، مگر یہ جماعت اپنے اندرونی نظام کےلحاظ سے مکمل خود مختار تھی۔ ان شخصیات کی فکر پر قائم تحریکوں سے کوئی رہنمائی اور ہدایات نہیں لیتی تھی۔ بنیادی طور پر تو اس کا سرچشمۂ رہنمائی قرآن و سنت ہی تھا۔ پارٹی کی بنیاد سیّد عبداللہ نوری [۱۹۳۷ء- ۹؍اگست ۲۰۰۶ء] نے ۱۹۹۰ء میں ’استراخان‘ میں رکھی۔ تب اگرچہ اشتراکی روس میں صدر گوربا چوف کی زیرقیادت ’گلاسناسٹ‘ (کشادگی) کا دور تھا، مگر پارٹی کی تشکیل غیرقانونی تھی۔ یہ تاسیس زیرزمین تھی، جب کہ عزم کی بلندی کا یہ عالم تھا کہ ماسکو کی سامراجی حکومت سے بے زاری اور آزادی کی سمت سفر تھا۔ اس طرح عملاً ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۷ء کے عرصے میں النہضہ، تاجکستان کی آزادی کی جنگ میں سرگرم رہی۔ 

۱۹۹۲ء میں جب سابق کمیونسٹ صدر نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تو پارٹی نے پارلیمنٹ کے سامنے ایک ہفتے تک دھرنا دیے رکھا۔ آخرکار رحمان علی نائیف نے مظاہرین کے مطالبات مان لیے اور اتحادی حکومت قائم ہو گئی۔ مگر اسی سال نائف نے استعفا دے کر ماسکو میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ حزب النہضہ نے اکبراسکندروف کی سربراہی میں اتحادی حکومت کا ساتھ دیا۔ لیکن جب ماسکو نے دبائو ڈالا تو اسکندروف بھی اتحادی حکومت کی سربراہی سے مستعفی ہوگیا اور ایک سابق کمیونسٹ صدر بن بیٹھا اور سابق کمیونسٹ فوجی دارالحکومت میں داخل ہو گئے۔ اس طرح ’النہضہ‘ کو سابقہ کمیونسٹ پارٹی کی باقیات پر مشتمل ایک حددرجہ سخت گیر اور استبدادی حکومتی سختیوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی کے بانی سیّد عبداللہ نوری کو فوجی حکومت نے اغوا کیا اور پارٹی کی قیادت کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔ یہ بات معروف ہے کہ ۲۰۰۶ء میں سیّد عبداللہ نوری کو زہر دے کر مارا گیا تھا۔ 

جناب زبید اللہ روزیق کا شمار النہضہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں ہوتا تھا۔ اس پارٹی نے  دینی آزادیوں کے دفاع اور جمہوری اصلاح کے لیے بڑی جان دار آواز بلند کی۔ زبید اللہ ۱۹۶۷ء میں کمیونسٹ ریاستی جبر کے باوجود زیرزمین اسلامی تحریک سے وابستہ ہوئے۔ تب تاجکستان پر ماسکو کی حکومت تھی۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ۱۹۹۲ء میں جب یہ تحریک باقاعدہ رجسٹر ہوئی تو زبیداللہ اس کے بانیوں میں شامل تھے۔ وہ پارٹی کے علمی شعبے کے صدر مقرر ہوئے، جس کے ذمے اہل علم کی تیاری تھا۔ لیکن ۲۰۱۳ء میں پارٹی پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں، مگر جناب زبیداللہ اس کے بعد بھی علمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ اتنی طویل اور مسلسل تحریکی و دینی اور علمی خدمات کی بنا پر وہ ملک میں اسلامی بیداری کی علامت بن گئے تھے۔ 

۲۰۱۵ء میں حکومت نے پارٹی کی بساط مکمل طور پر لپیٹتےہوئے بڑے وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔ سیکڑوں کی تعداد میں قائدین اور کارکنان کو گرفتار کیا، شیخ زبیداللہ روزیق ان میں سرفہرست تھے۔ ان پر ’دہشت گردی‘ اور حکومت کا تختہ الٹنے کی فرد جرم عائد کرتے ہوئے ۲۵سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس الزام کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی مسترد کیا اور اسے محض اسلامی تحریک مزاحمت کوکچلنے کا اقدام قرار دیا۔ گرفتاری کے ساتھ ہی اُن کو ’فاہدات جیل‘ کی شدید حراست میں رکھا گیا، جو بدترین جیلوںمیں سے ایک ہے۔ 

علّامہ زبید اللہ اپنی گرفتاری سے وفات تک مختلف جسمانی عوارض کے ساتھ قید کی سختیاں صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے۔ جولائی ۲۰۲۰ء میں انھیں جیل کے نہایت تنگ و تاریک سیل میں بند کیا گیا، جہاں شدید تعفن تھا اور کیڑوں مکوڑوں کی بہتات تھی۔ ایسا کھانا دیا جاتا، جو جانوروں کے لیے بھی مناسب نہیں تھا۔ نومبر۲۰۲۱ء میں انھیں دوبارہ دو ماہ کال کوٹھڑی میں مولانا رحمت اللہ رجب کے ہمراہ رکھا گیا۔ 

جولائی ۲۰۲۲ء میںانھیں قیدتنہائی میں رکھا گیا، کہ ان کا جرم دوسرے قیدیوں کو تعلیم دینا قرار پایا۔ اس دوران، ان کے زخم مسلسل رستے رہے۔ انھیں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں تھی۔ ظلم وستم اور تشدد کے ان تمام حربوں اور ہتھکنڈوں کا مقصد ان کے عزم وہمت اور صبروثبات کو متزلزل کرنا تھا، مگر وہ اللہ کی مدد سے ثابت قدم رہے۔ 

علّامہ زبیداللہ روزیق کی وفات سے چند روز قبل انھیں جیل کے چھوٹے سے ہسپتال میں منتقل کیا گیا، مگر پھر جلد ہی واپس لا کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ اور یہ قدم ڈاکٹروں کی ہدایات کے برعکس اٹھایا گیا تھا۔ یاد رہے، ۲۰۲۴ء میں ایک اور رہنما محمد علی فائزمحمد بھی ۶۵ سال کی عمر میں اسی جیل کے ہسپتال میں جان سے گزر گئے تھے۔ 

’ہیومن رائٹس واچ‘ ۲۰۲۵ء کی رپورٹ کے مطابق ایسی میڈیکل غفلت کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ قیدی سسک سسک کر موت کے منہ میں چلا جائے۔ ایسا ظالمانہ رویہ، اسلامی تحریک کے کارکنوں کے علاوہ دیگر سیاسی قیدیوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس وحشیانہ طرزِعمل کے خلاف ہیومن رائٹس واچ نے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔یورپی یونین اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی سخت بیان جاری کیے ہیں جو قیدیوں کو اس طرح مارنے کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ پارٹی کے ایسے لاتعداد  قیدیوں کو رہا کیا جائے، جو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے عذاب سہ رہے ہیں۔ 

علّامہ زبید اللہ روزیق نے جیل سے اپنے رفقاء کے لیے یہ وصیت بھیجی : 

میری طرف سے احباب کو سلام پہنچا دیجیے اور انھیں بتا دیجیے کہ ہم اپنے عہد پر قائم ہیں۔ الحمدللہ، نہ بدلے ہیں، نہ ڈگمگائے ہیں۔ لہٰذا ،آپ بھی ثابت قدم رہیں۔ ایمان، عزیمت اور استقامت سے اپنا سفر جاری رکھیں۔ ظالم کی حکومت کی زندگی ایک پل پر ہی مشتمل ہوتی ہے! ظلم کو آخرکار ختم ہونا ہے خواہ کتنا طویل ہو جائے!