مروان محمد ابو راس


معاشرتی زندگی میں وہ افراد ہمیشہ احترام کے مستحق ہوتے ہیں، جو اپنے علم، کردار اور خدمات کے ذریعے ماحول پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اہلِ طب کا طبقہ اسی محترم گروہ سےتعلق رکھتا ہے۔ ان کی زندگی انسانیت کی خدمت اور دکھی دلوں کے لیے مرہم فراہم کرنے میں گزرتی ہے۔ اہلِ طب کے ساتھ قرآنِ کریم کا تعلق محض ظاہری یا رسمی نہیں بلکہ یہ رشتہ ایک نہایت گہرا اور فکری ہے۔ قرآنِ مجید کتابِ ہدایت ہونے کے ساتھ ساتھ شِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ۝۰ۥۙ  (یونس ۱۰:۵۷) بھی ہے۔یہ نہ صرف روحانی، فکری اور اخلاقی بیماریوں کی شفاہےبلکہ اس میں جسمانی بیماریوں سے شفا کے لیے رہنمائی اور ہدایات بھی ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَشِفَاۗءٌ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۲)۔ قرآن کریم کی یہی صفت اسے انسانی زندگی کے ہرمعاملہ اور ہر مرحلے میں روشنی و ہدایت فراہم کرنے کا منبع بناتی ہے۔ 

جسمانی بیماریوں سے شفا کے بارے میں عبداللہ ا بن عباسؓ سے روایت ہے کہ صحابۂ کرامؓ کا ایک قافلہ سفر کے دوران ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا، جس کا سردار شدید تکلیف میں مبتلا تھا، اسے کسی زہریلے جانور نے ڈس لیا تھا۔ انھوں نےقافلے والوں کو دیکھا تو ان سے درخواست کی کہ آپ میں سے کوئی ہمارےسردار کا علاج کردے تو ہم آپ کو اتنا معاوضہ دیں گے۔ ایک صحابیؓ نےاس شخص پر سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا تو اس کی تکلیف فوراً دُور ہوگئی اور وہ ایسے اُٹھ کھڑا ہوا جیسے کسی اونٹ کی باندھی رسی کھول دی جائے اور وہ فوراً کھڑا ہوجائے۔ بعد میں جب اہل قافلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیاتو آپؐ نے فرمایا تم نے درست کیا اوراہل قافلہ کو ملے ہوئے معاوضے میں سے اپنا حصہ بھی قبول فرمایا‘‘(صحیح البخاری)۔ سورۃ الفاتحہ کا دَم کرنے والے صحابیؓ کی طرف سے یہ محض الفاظ کی قرأ ت نہیں تھی بلکہ ایک یقین، توکّل اور ایمان سے لبریز عمل تھا۔ اسی پس منظر میں سورۃ الفاتحہ کو ’سورۃ الشفاء‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ طب اور قرآنِ کریم کے باہمی رشتے پر واضح دلیل ہے،یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس میں جسمانی علاج اور روحانی شفا ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ تعلیم کے اعلیٰ اداروں میں قرآنِ کریم کی تعلیم کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ وہ کون سے اصول ہیں، جن کی روشنی میں جدید ذہنوں اور پیشہ ورانہ ماحول میں قرآنِ کریم کی تدریس کو مؤثر بنایا جاسکتاہے؟ اور کس طرح قرآن کریم کا پیغام نہ صرف ہر طالب علم کے ذہن کوجلا بخشے بلکہ کردار کو بھی نکھار دے؟___  یہ محض تعلیمی سوالات نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق ہماری بنیادی فکر، علمی سوچ، معاشرت، ریاست اور مستقبل کی سمت کے تعین سے ہے۔ 

  • تجوید کی اہمیت اور ضرورت: قرآنِ کریم کو سمجھنے اور اس کی تفسیر پڑھنے کا پہلا اور بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کے حروف کو درست طریقے سے ادا کرنا سیکھے۔ تجوید کی تعلیم اس لیے ضروری ہے کہ قرآن کو اسی انداز میں پڑھا جائے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے نازل فرمایا۔صحیح مخارج اور درست قراءت کا شعور طالب علم کے دل میں بٹھانا قرآن فہمی کا اوّلین مرحلہ ہے، جس کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ جب تک قراءت درست نہ ہو، قرآن کے معنی، مفہوم،  تفسیر اور اِتباع و عمل جیسے مراحل تک رسائی اَدھوری رہتی ہے۔اس لیے کہ اگر کوئی شخص تجوید سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور پھر بھی غلط مخارج کے ساتھ قرآن پڑھے تو یہ گناہِ کبیرہ ہے۔ کیونکہ یہ قرآن کی سخت بے ادبی ہے، جس سے بسا اوقات آیات کے معنی ہی بدل جاتے ہیں اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔اس لیے سب سے پہلے قراءت کی درستی ضروری ہے، اور پھر فہم و تدبر اور اِتباع و عمل کے مراحل آتے ہیں۔  

مثال کے طور پر ’ر‘ کے موٹا یا باریک پڑھنے کے مخصوص قواعد ہیں۔ مثلاً جب ’ر‘ پر سکونِ اصلی ہو اور اس سے پہلے کسرہ (زیر)بھی اصلی ہو تو اسے باریک پڑھا جاتا ہے، جیسے لفظ’فِرْعَوْنَ‘ میں ’ر‘باریک پڑھنے سے اس کے حقیقی مفہوم کا اظہار ہوتا ہے اور اس کی لطافت بھی برقرار رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لفظ کی صوتی ساخت میں بھی اس کی اصل حقیقت کی طرف اشارہ رکھا ہےکہ فرعون حقیقت میں ایک کمزور اور حقیر انسان تھا، اگرچہ اس نے بہت بڑا دعویٰ کیا تھا کہ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى (النزعٰت ۷۹: ۲۴)’’میں تمھارا سب سے بڑا ربّ ہوں‘‘، لیکن اگر کوئی اسے موٹا پڑھ کر فَرْعَوْنَ کہے تو اس سے معنی بگڑ جاتے ہیں اور اس طرح فرعون کی بڑائی ظاہر ہوگی، جو درست نہیں۔ یہی مثال ثابت کرتی ہے کہ تجوید کے قواعد محض صوتیات نہیں بلکہ اس کا قرآن کریم کے ادب، معنی اور صحیح تلفظ و قراءت سے گہرا تعلق ہے۔ قرآن کریم میں ایسی بہت سی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں۔ اسی لیے بعض اداروں میں اس اہمیت کے پیش نظر حفظ قرآن کے ساتھ ساتھ تجوید کی تعلیم کو بھی لازم قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ تجوید سیکھے بغیر قرآن کو اس کے شایانِ شان پڑھنا ممکن نہیں۔ 

 فہم سے اعجاز تک کا سفر 

قرآنِ کریم انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس میں متعدد مقامات پر تفکر، تدبر، تعقل اور تفقہ جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جو اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ قرآن کے پیغام تک رسائی محض تلاوت سے نہیں بلکہ سمجھ بوجھ اور گہری بصیرت سے ہوتی ہے: 

  • فہمِ قرآن اوّلین مرحلہ: تدبر سے پہلے فہم کا مرحلہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ انسان قرآنِ کریم کے الفاظ اور ان کے معانی سے واقف ہو۔ہر لفظ کا معنی، ہرجملے کا مفہوم اور ہر آیت کا پس منظرواضح ہو تاکہ قرآن کے حقیقی پیغام تک رسائی ممکن ہو۔ 
  • تفقہ اور استخراجِ احکام:اس کے بعد دوسرا اہم درجہ ’تفقہ‘ کا ہے۔ قرآن کریم کے ہرلفظ، جملے اور آیت کا گہرا فہم حاصل کرنے کے بعد اہلِ علم قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ سے شرعی احکام اخذ کرتے ہیں جسے ’فقہ‘ کہتے ہیں۔ احکامِ الٰہی کا صحیح استنباط اسی وقت ممکن ہے، جب فہمِ قرآن مضبوط بنیادوں پر قائم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ کو فہم کا اعلیٰ اور عملی درجہ قرار دیا جاتا ہے۔ 
  • تدبر کا مرحلہ: تدبر وہ مقام ہے جہاں انسان الفاظ اور احکام سے آگے بڑھ کر قرآن کے معانی اور اس کی گہرائیوں میں غور و فکر کرتا ہے۔ تدبر کے لیے ذہنی پختگی، علمی قابلیت اور باقاعدہ مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تدبّر کے لیےتفسیر کے ایسے استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو خود اس فن میں مہارت حاصل کرچکا ہو۔ تدبّر بہت بڑا مرتبہ ہے۔ اس درجہ کو حاصل کرنے کے لیے قرآن کے ساتھ ایک مخصوص منہج اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔  کیونکہ قرآن کریم ربّ العالمین کا کلام ہے۔ تمام انسان اور جنات مل کر بھی ایسا کلام لانے سے عاجز ہیں۔ (بنی اسرائیل۱۷:۸۸) 

موجودہ زمانے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ قرآن کا صحیح فہم حاصل کیے بغیر اس کی تشریح اور اس سےاحکام کے استخراج کا دعویٰ شروع کر دیتے ہیں۔ فہم میں کمی یا اصولِ تفسیر سے لاعلمی کی بنیاد پر استدلال اور نتائج بسا اوقات غلط رُخ اختیار کر سکتے ہیں،نتیجتاً نہ صرف غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں بلکہ صراطِ مستقیم سے بھٹکنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ قرآن کی غلط تفسیر یا غلط استنباط، تفسر بالرائے کی ایک نہایت خطرناک شکل ہے، جس سے ہر شعوری مسلمان اور سنجیدہ اہلِ ایمان کو لازماً بچنا چاہیے۔ 

  • اعجازِ قرآن: جب انسان فہم، فقہ اور تدبر کے مراحل طے کر لے تو اس کے بعد اعجاز کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے میں اس پر قرآن کی عظیم حقیقتیں منکشف ہوتی ہیں۔ قرآن کی فصاحت، بلاغت، حکمت اور اسلوب  کا مکمل ادراک انسان کے لیے ممکن نہیں کیونکہ یہ ربِّ کائنات کا معجزانہ کلام ہے، جو ہر دور میں اپنی مثال آپ ہے۔بہرحال جب انسان فہمِ قرآن کی کچھ اہلیت پیدا کر لیتا ہے، تو قرآن اس کی رگ و پے میں اس قدر سرایت کر جاتا ہے کہ قرآن اس کی سوچ اوردل و دماغ پر چھاجاتا ہے۔ 

 قرآن کا جمالیاتی و معنوی پہلو 

قرآنِ مجید کا اسلوب محض فصاحت و بلاغت کا حسین امتزاج نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا ادبی معجزہ ہے جس میں لفظوں کا انتخاب محض زبان کی روانی کے لیے نہیں بلکہ معانی کی گیرائی و گہرائی اور حقائقِ مطلقہ کی ترسیل کے لیے ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں قرآن کریم نے متعدد مقامات پر ایسے الفاظ بھی استعمال فرمائے ہیں، جو عربوں کی روزمرہ لغت میں کم رائج تھے یا اپنے معنوی باطن میں قدرے دقیق اور نادر تھے۔ ان الفاظ کا استعمال اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم کا اعجاز صرف اس کے اسلوب، موسیقیت یا حسنِ ترکیب میں نہیں بلکہ اس کے لفظی انتخاب میں بھی جلوہ گر ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ کا انتخاب ایسا بہترین ہےکہ الفاظِ قرآن کریم کا فہم رکھنے والا ہر انسان اس سے محظوظ ہوتا ہے اور اس سے راحت محسوس کرتا ہے۔  

اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسے الفاظ بھی متعدد مقامات پر استعمال فرمائے ہیں، جو اس وقت کلام عرب میں رائج نہ تھے یا بہت کم استعمال ہوتےتھے، مثلاً ضِيْزٰى، کُبْکِبُو فِیْھَا، کُبَّتْ وُجُوْھُھْم۔ یہ نامانوس الفاظ خاص موقعوں پر استعمال ہوئے ہیں۔ ایک نمایاں مثال آیتِ کریمہ تِلْکَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِیزٰی (النجم ۵۳:۲۲)ہے۔ ضِیزٰی  ایسا لفظ ہے جو فصحائے عرب کی عمومی لغت میں معروف نہیں تھا۔ قرآن نے اسے نہایت حکیمانہ انداز میں اس ذہنی اور اعتقادی بے اعتدالی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال فرمایا، جو مشرکین کی سوچ میں رچ بس گئی تھی۔ وہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتےتھے اور اللہ کے لیے بیٹیاں۔ یہ ایسی تقسیم تھی جو ظلم، بے انصافی اور فکری کجی پر مبنی تھی اور فطری توازن کے بالکل منافی تھی۔اس طرح لفظ  ضِیزٰی اپنی پوری معنوی تعبیراور مفہوم کی گہرائی کے ساتھ آیت کے اندر چھپی باطنی معنویت کوبھی اجاگر کر دیتا ہے۔ یہی اعجازِکلام ہے کہ نامانوس لفظ عبارت کو کمزور نہیں کرتا بلکہ اس کے پیغام کو اور زیادہ گہرا کرکے سمجھا دیتا ہے۔ 

اسی طرح سورۂ محمد کی آیت: اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۝۲۴ (۴۷:۲۴) ’’کیا یہ لوگ قرآن کریم پر غوروفکر اور تدبر نہیں کرتے، یا اُن کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں؟‘‘میں ایک تنبیہی اسلوب ہے۔ یہ سوال دراصل ڈانٹ اور سخت تنبیہ کے انداز میں کیا گیا ہے۔ گویا قرآن اپنے مخاطَب کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر پوچھتا ہے: کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر ایسے قفل چڑھ گئے ہیں، جو نُورِ ہدایت کو اپنے اندر سرایت نہیں کرنے دیتے؟ یہاں اَقْفَالُهَا کا لفظ دل کی سختی اور معنوی جمود کا ایسا پُراثر استعارہ ہے، جس کے ذریعے قرآن انسانی غفلت کے پورے منظر نامے کو ایک لفظ میں سمو دیتا ہے۔ 

یوں قرآن کریم کے غریب یا کم معروف الفاظ بھی اس کے اعجازِ بیان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف معنی کو گہرائی بخشتے ہیں بلکہ سامع کے ذہن میں ایک ایسا تاثر قائم کرتے ہیں، جو صرف لغوی معنی سے نہیں بلکہ پورے لسانی سیاق، نفسیاتی کیفیت اور روحانی اثر سے تشکیل پاتا ہے۔ یہی وہ مقامات ہیں، جہاں قرآن کریم اپنی زبان کی بلندی اور اپنے پیغام کی ابدیت کے ساتھ ایک زندہ معجزہ بن کر سامنے آتا ہے، اور یہی وہ چیلنج ہے جو سورۂ بنی اسرائیل میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِيْرًا۝۸۸ (۱۷:۸۸)’’ کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لا سکیں گے، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے بھرپور مددگار ہی کیوں نہ ہوں‘‘۔  

 قرآن کی مختلف قراءتیں 

قرآنِ حکیم کی قراءتوں کا تنوّع، اس فہم و تفسیر قرآن کا نہایت ظریف اور گہرا باب ہے۔ ان قراءتوں کے باہمی تفاوت سے عموماً آیت کے معنی میں نئی وسعت پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات کوئی ایسا نکتہ روشن ہو جاتا ہے، جو محض ایک ہی قراءت سے پوری طرح منکشف نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قراءتوں کا علم تین پہلوؤں سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے: اوّل، آیت کے ظاہر و واضح معنی مضبوط ہو کر سامنے آتے ہیں۔ دوم، ایک قراءت دوسری قراءت کے معنی کی توضیح کرتی ہے، اور سوم، اختلافِ قراءت سے وہ لطائف اور معانی سامنے آ جاتے ہیں، جو محض ایک قراءت کا علم رکھنے والے پر واضح نہیں ہوتے۔  

اس کی خوب صورت مثال سورۃ البقرۃ کی آیت ہے: فَتَلَـقّٰٓي اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْہِ۝۰ۭ (۲:۳۷)’’پھر آدمؑ نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی‘‘۔ اس کی معروف قراءت آدَمُ میں آدم علیہ السلام فاعل ہیں، یعنی آدمؑ نے خود یہ کلمات سیکھے۔ مگر دوسری قراءت آدَمَ میں آدم علیہ السلام مفعول بہ ہیں، جس سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ وہ کلمات آدمؑ پر القا ہوئے اور ان کلمات نے انھیں اپنے حصار میں لے لیا اور یوں ان پر توبہ کی راہ کھل گئی۔ اس طرح ایک ہی مقام پر دونوں پہلو روشن ہو جاتے ہیں: ایک قراءت سے آدمؑ کی جستجو نمایاں ہے، اور دوسری قراءت سے ربّ، رحمٰن و رحیم کی عنایت کا جلوہ عیاں ہوتا ہے۔ 

قرآن کی مختلف قراءتوں میں بے شمار معانی پوشیدہ ہیں، جو نہ صرف تفسیر کو گہرائی بخشتے ہیں بلکہ قرآن کے اعجاز کو بھی اور زیادہ نمایاں کرتے ہیں۔ غزہ کی یونی ورسٹیوں میں تفسیرُ القرآن بالقراءات العشر  پڑھائی جاتی ہے، جس کا مقصد یہی ہے کہ ہر قراءت کے دریچے سے آیت کو دیکھا جائے، تاکہ اس کے مفاہیم میں نہ صرف وضاحت پیدا ہو بلکہ معانی کی نئی وسعتیں بھی کھلتی چلی جائیں۔  

تفسیرِ قرآن: مبادیات اور علمی لوازمات 

تفسیرِ قرآن کا علم ہمیشہ سے اسلامی علوم میں مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ قرآنِ کریم جو خالقِ کائنات کا کلام ہے،اس کے الفاظ اور آیات سے اللہ تعالیٰ کی مراد کو انسانی فہم کی حد تک سمجھنے کی کوشش کا نام تفسیر ہے۔ گویا تفسیرِقرآن محض لغوی معانی تک محدود نہیں، بلکہ اللہ کے پیغام تک رسائی کا ایک ذمہ دارانہ اور دقیق علمی عمل ہے۔ مفسرین نے مختلف اسالیب میں قرآنِ کریم کے معانی اور اس کے پیغام کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھی اسالیب میں دو بنیادی اقسام زیادہ معروف ہیں، یعنی تفسیرِ تحلیلی اور تفسیرِ موضوعی۔ 

  • تفسیرِ تحلیلی اور اس کے لوازمات: تفسیرِ تحلیلی وہ طرزِ تفسیر ہے، جس میں قرآن کی آیات کو ترتیب کے ساتھ، لغت، نحو، اسبابِ نزول، احکام اور روایات کی مدد سے گہرائی میں سمجھایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر تفسیر قرطبی اوراحکام القرآن للجصاص میں ایک آیت سے ۳۰مسائل کا استنباط کیا گیا۔مفسر قرآن کے لیے ضروری ہے کہ وہ:
    • الفاظ کے معانی (علم المعانی) پر عبور رکھتا ہو
    • الفاظ کی ترکیب اور جملوں کی ساخت (یعنی علمِ نحو) سے واقف ہو
    • آیت کے مکمل مفہوم کو اس کے سیاق و سباق میں دیکھ سکے
    • اور ہر سورۃ کے مجموعی مقصد کو سامنے رکھ کر آیات کی تشریح کرسکے۔ 

ہر سورۃ کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں، اور ان اہداف کو جانے بغیر اس کی آیات کی صحیح تفہیم ممکن نہیں۔ اسی بنا پر مفسر کے لیے ناگزیر ہے کہ عربی زبان کی گہری بصیرت کے لیے صرف، نحو، معانی، بیان، بلاغت وغیرہ پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ مقاصد وحی کو بھی اچھی طرح جانتا ہو کہ جن کے بغیر قرآن کریم کی حقیقی تعبیر ممکن نہیں ہوتی۔ 

  • ناسخ و منسوخ اور جمع و تطبیق:علم تفسیر کے اہم ترین مبادیات میں سے ایک ناسخ و منسوخ کا علم ہے۔ نزول قرآنِ کریم کے بعض احکام ابتدائی مرحلے میں نازل ہوئے مگر بعد میں اُن کی جگہ نئے احکام نے لے لی۔ بعض مقامات پر تو الفاظ و حکم دونوں منسوخ ہوگئے مگر بعض مقامات پر تلاوت الفاظ تو برقرار رہی مگر حکم منسوخ کر دیا گیا۔ مفسرکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سا حکم باقی ہے اور کون سا منسوخ؟ ورنہ وہ منسوخ احکام کو جاری سمجھ کر غلط نتائج تک پہنچ سکتا ہے۔ بعض آیات میں بظاہر تعارض ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر جمع و تطبیق کے اصول کام آتے ہیں، جن کے ذریعے بظاہر مختلف دکھائی دینے والی نصوص میں ہم آہنگی واضح کی جاتی ہے۔ یہ بھی ایک مستقل علمی میدان ہے۔ 
  • محکم اور متشابہ آیات: قرآنِ کریم میں آیات دو قسم کی ہیں: محکم اور متشابہ: 

وہ [اللہ]وہی ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں محکم آیات بھی ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہ بھی۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں صرف متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلاف اس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اس [کتاب]پر ایمان لائے ہیں، یہ سب [کا سب محکم اور متشابہ آیات] ہمارے ربّ ہی کی طرف سے ہے، اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانش مند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں‘‘۔ (الِ عمرٰن ۳:۷) 

محکم آیات وہ ہیں جن کا مفہوم واضح ،قطعی اور عمل کے اعتبار سے بلاشک و تردّد ہو، جب کہ متشابہ آیات وہ ہیں، جن کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ علم میں پختگی رکھنے والے ان آیات کے ظاہر پر ایمان لاتے ہیں اور ان کے حقیقی معنی و مراد کو اللہ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ متشابہات میں وہ آیات ہیں جو انسانی عقل سے ماورا ہیں، جیسے عرش کی حقیقت، ’اللہ کی کرسی‘ یا برزخ کا تصور وغیرہ۔ متشابہ آیات کی نشاندہی نہ تو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے فرمائی ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ علمائے کرام نے اپنے فہم اور زمانے کے مروجہّ علوم کی روشنی میں انھیں آیاتِ متشابہات میں شمار کیا ہے ، اسی لیے ان کی تعداد مختلف بیان ہوئی ہے ۔

  • شانِ نزول اور اسبابِ نزول: قرآن کی بعض آیات کا ترجمہ تو عام فہم ہوتا ہے، لیکن وہ کس موقع پر نازل ہوئیں، اس کا محرک کیا تھا، اور اُس کے پیچھے کون سا تاریخی پس منظر کارفرما تھا؟ یہ جاننے کے لیے شانِ نزول اور اسبابِ نزول کی معرفت ضروری ہے۔ یہ علم نہ صرف آیت کے صحیح مفہوم کو واضح کرتا ہے بلکہ اس کی حکمت کو بھی منکشف کر دیتا ہے۔کسی آیت کا شانِ نزول محض ایک مخصوص واقعہ پر ہونا ضروری نہیں بلکہ بعض اوقات ایک آیت کا اطلاق متعدد واقعات پربھی ہوسکتا ہے۔ 

ایسے تمام مباحث مجموعی طور پر تفسیرِ تحلیلی کے دائرے میں آتے ہیں، جو قرآن فہمی کا سب سے قدیم، مستند اور جامع طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے مفسر ہر آیت کے لفظ، معنی، پس منظر، مقصد اور احکام کو منضبط علمی اصولوں کے ساتھ بیان کرتا ہےتاکہ پڑھنے والا قرآن کریم کا گہرا فہم حاصل کرکے اپنی سوچ، فکر اور عملی زندگی اس کے مطابق ڈھال سکے۔ 

تفسیر موضوعی 

 تفسیرِ موضوعی قرآن فہمی کا وہ طریق ہے کہ جس میں کسی ایک سورۃ کے مرکزی مضامین کو سلیقے سے کھولا جاتا ہے۔ بعض سورتیں ایک ہی بڑے موضوع کے گرد گھومتی ہیں، جب کہ بعض میں کئی جہتیں اور مختلف فکری زاویے بیک وقت جلوہ گر ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر سورۃ الفاتحہ میں الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ سے مراد یہود اور الضَّآلِّينَ سے مراد نصاریٰ ہیں۔ لیکن اس اشارے کی تفصیل سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران کے مطالعہ سے کھلتی ہے۔ سورۃ البقرہ میں یہود کی سرکشی، ان کی تاریخ، اُن کے رویوں اور ان کے انحرافات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے، جب کہ سورۃ آلِ عمران میں نصاریٰ کے باطل عقائد کی تردید اور ان کے فکری انحرافات کا بیان ملتا ہے۔ اس طرح سورۃ الفاتحہ کے مختصر مگر پُراثرکلمات الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اور الضَّآلِّينَ کی شرح دو عظیم سورتوں میں کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ 

اسی طرح سورۃ البقرہ میں جہاد کا اجمالی حکم اور حکمت مذکور ہے:  

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَكُرْہٌ لَّكُمْ۝۰ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَخَيْرٌ لَّكُمْ۝۰ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَشَرٌّ لَّكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝۲۱۶ (۲:۲۱۶) تمھیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمھیں ناگوار ہے، اور [ایسا بھی] ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں ناگوار ہو اور وہی تمھارے لیے بہتر ہو اور [یہ بھی]ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند ہو اور وہی تمھارے لیے بری ہو، اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔ 

 یہاں قتال کی فرضیت کے حکم کے ساتھ انسان کی فطری امن پسندی کی کمزوری کو بھی بیان کردیا گیا ہے اور یہ تنبیہ بھی کرد ی گئی ہے کہ ایسے تمام احکام جو بظاہر بعض انسانی طبائع پر ناگوار گزرتے ہیں ان میں کوئی بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے، اور اللہ ہی اسےجانتا ہے، انسان نہیں جانتا، پس تمھیں جو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو۔پھر جہاد کے تفصیلی احکام سورۃ الانفال اور سورۃ التوبہ میں بیان ہوئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہؓ کے زمانہ میں جب کوئی لشکر جہاد کے لیے روانہ کیا جاتا، تو اس کے سامنے ان دو سورتوں کی تلاوت کی جاتی تھی، تاکہ ان کے دلوں میں ثابت قدمی، بصیرت اور شجاعت پیدا ہو۔ اسی تناظر میں آج غزہ کے مجاہدین کو دیکھیں،وہ انھی آیات سے حوصلہ، قوت اور یقین حاصل کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنی سرزمین، اپنے حق اور مسجد ِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے جدوجہدکرنا نہ صرف فرض ہے بلکہ اس راہ میں شہادت عزت و شرف کی علامت بھی ہے۔  

اسی طرح عقیدۂ توحید کی عظمت بیان کرنے کے لیے سورۃ الانعام نازل ہوئی، جس کے نزول کے وقت ستر ہزار فرشتے اس کےہمراہ اُترےاوریہ اس سورت کے مقام و مرتبے کی گواہی ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل میں مسجد ِ اقصیٰ، بنی اسرائیل کی تاریخ اور آخر ی زمانے کے بڑے واقعات کا نہایت بلیغ نقشہ پیش کیا گیا ہے، حتیٰ کہ اس ارضِ مقدس میں یہودیوں کے انجام کا ذکربھی ملتا ہے۔ 

یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ تفسیرِ موضوعی محض ایک علمی طریقہ نہیں، بلکہ قرآن کریم کو سمجھنے کا وہ زاویہ ہے جو انسان کے سامنے معانی کے نئے دروازے کھولتا ہے۔ اس سے نہ صرف بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ بہت سے عقدے بھی کھلتے چلے جاتے ہیں۔ قرآن کریم کی معنوی وسعت اس اندازِ مطالعہ میں اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ 

جب کوئی قرآن کریم کی تفسیر یا تشریح کرے تو یہ اہم حقیقت ہمیشہ اس کے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قرآن کریم اللہ خالقِ کائنات نے جبرئیل امینؑ کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نازل فرمایا، اور مفسر دراصل اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے عظیم اور مقدس کلام کو اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوتا ہے۔لہٰذا اس کے دل میں ہرلمحہ یہ خوف بیدار رہنا چاہیے کہ وہ جو معنی اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی طرف منسوب کررہا ہے شاید اللہ کی مراد وہ نہ ہو۔ یہی پاکیزہ خوف اسے بے جا قیاس، گمان اور مذموم تفسیر بالرائے سے روکنے کے لیے ایک مضبوط حصار کا کام دیتا ہے۔ 

  • اعلٰی تعلیمی اداروں میں تعلیم و تفہیمِ قرآن کی اہمیت: اعلیٰ تعلیم کے ادارے صرف ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ یا میڈیا کے ماہرین تیار کرنے کی فیکٹریاں نہیں ہوتے، یہ دراصل قوموں کے مستقبل کا سانچہ تراشنے والے مراکز ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ،اسلامی ممالک میں ان اداروں کی ذمہ داری صرف پیشہ ورانہ مہارتوں کی تعلیم تک محدود نہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ اپنے طلبہ کے ذہن اور دل میں قرآنی فکر ، اسلامی تعلیم اورایمانی بصیرت کی روشنی بھی پیدا کرنے کی کوشش کریں، تاکہ جب یہ نوجوان آگے چل کر ریاست کے اساتذہ، حکمران، جرنیل، سائنس دان یا پالیسی ساز بنیں،تو ان کے فیصلوں میں قرآن کا نور، سنت کی حکمت اور ایمان کا وزن شامل ہو۔اگر ذہن اسلامی فکر سے خالی ہو اور دل میں ایمان کا چراغ بجھا ہوا ہو تو محض پیشہ ورانہ قابلیت دنیا میں شہرت تو دے سکتی ہے، لیکن دُنیا و آخرت میں حصولِ فلاح کے حوالے سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہی اصول ہتھیاروں، فوجوں، ٹکنالوجی، ایٹم بم اور میزائلوں پر بھی صادق آتا ہے۔ جب تک ان کا استعمال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے تابع نہ ہو، یہ طاقت نہیں بلکہ خسارے کا سودا بن جاتا ہے، یہ ایسی آگ ہوسکتی ہےجو انھیں چلانے والے کو بھی جلا ڈالتی ہے۔ 

اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے غزہ کے تعلیمی اداروں نے ایک عظیم الشان مثال قائم کی ہے، وہاں عصری علوم، طب، انجینئرنگ اور ٹکنالوجی کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت، جہاد، صبر، توکّل اور شجاعت کی تعلیم کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسی تعلیم نے انھیں کم وسائل کے باوجود طاقت ور قوموں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنا دیا ہے۔ ان کا حوصلہ، ان کا عزم کسی فوجی اکیڈمی کی نہیں، قرآنی نور کی پیداوار ہے ۔ غزہ میں لاکھوں لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ گھر، مساجد، مدار س، یونی ورسٹیاں اور ہسپتال ملبے کاڈھیر بن چکے ہیں۔ ڈاکٹر شہید ہو گئے، دوائیں ختم ہو گئیں، علاج کا سامان باقی نہیں رہا،یہاں دل د ہلا دینے والے مناظرہیں۔ماؤں کے چہروں پر آنسو تو ہیں مگر شکوہ نہیں۔ ملبے کے ڈھیر پربھی حفظ اور تعلیم و تعلّمِ قرآن کے حلقے جاری ہیں۔اہلِ غزہ کا حوصلہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ انھیں پختہ یقین ہے کہ کفرسے حقوق مانگےنہیں جاتےبلکہ یہ جہاد وقتال سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ جنگ ختم نہیں ہوئی اور جب تک مسجد اقصیٰ آزاد نہیں ہوتی، تب تک جہاد وقتال جاری رہے گا۔اہلِ فلسطین شہادتیں دیتے رہیں گے، انھیں قرآن کے اس اعلان پر کامل یقین ہے : 

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اَمْوَاتًا۝۰ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ۝۱۶۹ۙ فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۙ وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ۝۰ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْھِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۱۷۰ (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۹-۱۷۰)جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے ربّ کے پاس رزق پا رہے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے اس پر خوش وخرم ہیں، اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔  

وہ جانتے ہیں کہ ان کا سہارا نہ ٹینک ہیں نہ طیارے،بلکہ وہ کلام ہے جس نے انھیں ٹوٹنے نہیں دیا۔ ان کے چہروں پر صبر کی روشنی ہے، ان کی دعاؤں میں یقین کی حرارت ہے۔ دل میں ایک درد ضرور ہے،مگر زبان پر شکوہ نہیں۔ بس وہ یہ کہتے ہیں کہ اُمت مسلمہ غفلت سے دوچار ہے۔ جب دل روحِ قرآن سے خالی ہو جائیں، جب روح اسلام کے نور سے محروم ہو جائے، پھر جسم تو زندہ رہتا ہے مگردل مرجاتےہیں۔اس لیے اُمت مسلمہ کو جگانے، اس کی روح میں زندگی کی حرارت دوبارہ بھرنے، اور اس کے مُردہ جسم میں جان ڈالنے کا واحد علاج یہی ہے کہ امت پوری قوت کے ساتھ دوبارہ رجوع الی القرآن کرے۔ خالق کائنات نے  قوموں کے عروج و زوال کو ان کے تعلق بالقرآن سے منسلک کر رکھا ہے۔ اس حقیقت کی خبر اس رحمٰن و رحیم خالق نے اپنے آخری رسول مخبر صادق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ان الفاظ میں دی ہے:  اِنَّ اللہَ یَرْفَعُ بِھٰذا الْکِتٰبِ اَقْوَامًا  وَیَضَعُ بِہٖ آخِرِیْنَ   (صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن) اس قانونِ الٰہی کے مطابق تعلق بالقرآن کا نُور ہی اُمت مسلمہ کو خاک سے اٹھا کر اپنے حقیقی منصب پر فائز کرکے دُنیا کا پیشوا اور انسانیت کا رہنمابنا سکتا ہے۔