شیخ محمد امین


۵؍ اگست ۲۰۱۹ء صرف ایک آئینی تبدیلی کا دن نہیں تھا بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ہے جس نے مسئلۂ کشمیر کی نوعیت، ریاستی ڈھانچے، عوامی نفسیات اور علاقائی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ اس روز انڈین حکومت نے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کو غیر مؤثر بنا کر جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی، ریاست کو دو وفاقی علاقوں میں تقسیم کیا حالانکہ یہ متنازع علاقے کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کی شرمناک کوشش ہے ۔

اگر گذشتہ تین عشروں کے انڈین سیاسی موقف کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آرٹیکل ۳۷۰ کا خاتمہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی وعدوں میں شامل تھا۔ اس لحاظ سے ۵؍ اگست کا فیصلہ کئی عشروں پر محیط ایک سیاسی منصوبے کی تکمیل کہا جا سکتا ہے۔ یقینا کسی بھی بڑی ریاستی حکمتِ عملی کی کامیابی کا فیصلہ چند برسوں میں نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے تاریخ، سیاست، معیشت، معاشرت اور عوامی نفسیات کو ایک ساتھ دیکھنا پڑتا ہے۔ یہی اصول ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

مودی حکومت نے آرٹیکل ۳۷۰  اور ۳۵-اے کی منسوخی کے بعد کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کیے۔ ان اقدامات کا مقصد کشمیری شناخت کو کمزور کرنا اور انڈیا کے ہندو نسل پرست ایجنڈے کو فروغ دینا تھا۔ نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت انڈیا کے دیگر علاقوں کے باشندوں کو کشمیر میں رہائش، ملازمت اور زمین خریدنے کی اجازت دی گئی۔ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر ۲۰۲۰ ءکے ذریعے ڈومیسائل کی نئی تشریح کی گئی، جس کے مطابق کشمیر میں تین سال تک ڈیوٹی دینے والے فوجی و نیم فوجی افسر اور سپاہی، پندرہ سال تک مقیم رہنے والے انڈین باشندے ،سات سال تک تعلیم حاصل کرنے والےیا دسویں اور بارھویں جماعت کا امتحان دینے والےطلبہ و طالبات ملازمت کے حق دار ہوں گے۔

ماضی میں آرٹیکل ۳۵-اے کے تحت ان قوانین کی تدوین کا اختیار جموں و کشمیر اسمبلی کو حاصل تھا۔ مگر منسوخی کے بعد یہ سارے اختیارات انڈین حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ نئے قانون کے تحت بھارتی حکومت کے اعلیٰ افسران، آل انڈیا سروسز کے اہلکار، نیم خود مختار اداروں، پبلک سیکٹر بنکوں اور یونی ورسٹیوں کے ملازمین کے بچے از خودکشمیر کی ملازمتوں کے اہل قرار پائے۔ 

۲۰۲۵ء تک لاکھوں غیر کشمیری ہندوؤں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حد بندی کمیشن کی ۲۰۲۲ ء کی رپورٹ نے واضح کیا کہ کشمیری مسلمانوں کو سیاسی طور پر بے وزن کرنے کے لیے غیر منصفانہ فیصلے کیےگئے۔ واد یٔ کشمیر کی آبادی (۶۸ء۸۸  لاکھ) کے مقابلے جموں (۵۳ء۷۸ لاکھ) کو غیر متناسب طور پر زیادہ نشستیں دی گئیںجس سے مسلم اکثریت کی سیاسی نمائندگی کم ہوئی۔

آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد دنیا کی طویل ترین انٹرنیٹ بندش نافذ کی گئی جو کئی ماہ تک جاری رہی۔ ہزاروں نوجوانوں، کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ سابق وزرائے اعلیٰ جیسے محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ کو مہینوں نظر بند رکھا گیا۔ کشمیری صحافیوں کو ہراساں، گرفتار یا جلاوطن کیا گیا۔ گھروں پر چھاپوں، جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کی رپورٹس عام ہیں۔ پیلٹ گنز کے استعمال سے سیکڑوں نوجوان اپنی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔

سرکاری ملازمین کی برطرفی، زرعی زمینوں کی سرکاری تحویل، گرفتاریاں، ہلاکتیں، رہائشی گھروں کو نقصان اور بیوروکریسی سے کشمیری مسلمانوں کی منظم بے دخلی اس نظام کا حصہ ہے۔ جون ۲۰۲۵ءتک کم از کم ۱۱۰ سرکاری ملازمین کو ’دہشت گردی سے تعلق‘ یا دیگر انتظامی وجوہ کے بہانے برطرف کیا جا چکا ہے۔ 

جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ ۲۰۱۹ ءکے تحت زمین کے قوانین میں تبدیلیوں نے غیر مقامی افراد کو زمین خریدنے کی اجازت دی۔ اس سے زرعی زمینوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا عمل تیز ہوا۔ مقامی رپورٹس کے مطابق ہزاروں ایکڑ زرعی زمین ترقیاتی منصوبوں، فوجی تنصیبات اور صنعتی زونز کے لیے حاصل کی گئی۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دو لاکھ ایکڑ سے زائد زمین کشمیریوں سے چھینی جا رہی ہے، جس کا مقصد بے اختیار کشمیریوں پر باہر سے آباد کار لانا ہے۔ یہ پالیسی معاشی استحصال کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

لاک ڈاؤن اور فوجی محاصرے نے کشمیر کی معیشت کو تباہ کر دیا۔ سیاحت، قالین بافی، زراعت اور دیگر شعبوں کو شدید نقصان پہنچا۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق اگست ۲۰۱۹ءسے اگست ۲۰۲۰ءتک ۴۰ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ مسلسل کرفیو، خوف کی فضا اور مواصلاتی پابندیوں نے کشمیری عوام میں ڈپریشن، پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) اور دیگر نفسیاتی مسائل کو جنم دیا۔ ’میڈیسنز سانس فرنٹیئرز‘(MSF) کی رپورٹ کے مطابق کشمیری نوجوانوں میں خودکشی کے رجحانات بڑھے ہیں۔ اندازاً ۹ لاکھ افراد باقاعدگی سے منشیات استعمال کرتے ہیں۔ مئی ۲۰۱۹ءمیں میڈیسنز سانس فرنٹیئرز / ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘(DWB) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ وادیٔ کشمیر میں تقریباً ۱۸ لاکھ بالغ افراد (جو آبادی کا ۴۵ فی صد بنتے ہیں) شدید ذہنی دباؤ کی علامات کا شکار ہیں۔ ان میں سے ۴۱ فی صد افراد میں ڈپریشن، ۲۶فی صد میں بے چینی (اضطراب) اور ۱۹ فی صد میںبعد از صدمہ ذہنی دباؤ کی بیماری (پی ٹی ایس ڈی) کی علامات پائی جاتی ہیں۔

انڈین حکومت کے اقدامات نے کشمیری زبان، ثقافت اور تاریخ کو معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ ’ہندوتوا‘ کے حامی جیسے انوپم کھیر، کشمیری مسلمانوں کو ’’گھل مل جاؤ، مرجاؤ یا بھاگ جاؤ‘‘ کا پیغام دے رہے ہیں۔ یہ سوچ ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک نسل پرست اور فسطائی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ نعیمہ مہجور کے مطابق، کشمیری تارکین وطن اپنی جائیدادیں بیچ کر وادی چھوڑنے پر مجبور کیے جا رہے ہیں۔ ظلم، سیاسی جبر، حکومتی دباؤ اور سماجی انتشار نے ان کی زندگیوں کو بُری طرح مفلوج کر دیا ہے۔

کشمیر کی سرکاری تقرریوں میں تعصب واضح ہے۔ ممتاز صحافی افتخار گیلانی کے مطابق ۲۰۲۰ ءمیں ۲۴ سیکریٹریوں میں صرف پانچ مسلمان تھے۔ ۵۸ اعلیٰ سول سروس افسران میں ۱۲ اور ۶۶؍ اعلیٰ پولیس افسران میں صرف سات مسلمان تھے۔ ۲۰۲۵ ءتک صورت حال مزید خراب ہوئی۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے ۹۳؍ افسران میں صرف ۲۰ مسلمان ہیں ، جب کہ ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب ۳۱ء۶۸ فی صد ہے۔ سول سیکریٹریٹ میں ۳۶سیکریٹریوں میں صرف چھ مسلمان ہیں۔ یہ اعداد و شمار کشمیریوں کی منظم بے دخلی کو ظاہر کرتے ہیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں، گرفتاریاں اور تشدد معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم، ۵؍ اگست ۲۰۱۹ ءکو انڈین حکومت کی جانب سے ریاست کی آئینی حیثیت کے یک طرفہ خاتمے کے بعد عسکری اداروں کو ملنے والے غیر معمولی اختیارات نے ظلم و جبر کی نئی مثالیں قائم کر دیں۔ ان حالات کا چشم دید جائزہ لینے کے بعد ’پاکستان-انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی‘ اور ’جموں و کشمیر سالیڈیریٹی گروپ‘ نے ۱۹۶ صفحات پر مشتمل دل دہلا دینے والی رپورٹ The Siege شائع کی۔ اس رپورٹ میں عوامی جبر، گرفتاریوں اور ٹارچر کے واقعات کی تفصیلات کے ساتھ دیہات اور قصبات میں جاری انڈیا مخالف خاموش مزاحمت کو بھی اُجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پلوامہ کے ایک تاجر کے ساتھ فوجی بدسلوکی، نمازجنازہ میں شرکت پر افراد کو جیل بھیجنے، اور سیکڑوں کشمیری نوجوانوں کی یوپی اور آگرہ جیسی دور دراز جیلوں میں غیر قانونی نظربندی کے واقعات شامل ہیں۔ یہ افراد محض شبہ، اپنی رائے رکھنے یا کسی تقریر سننے کے ’جرم‘ میں گرفتار کیےگئے ہیں۔ خاندانوں کو اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے زمینیں بیچنی پڑیں۔ یہ رپورٹ بھارتی عدلیہ کی بے بسی، مقامی آبادی کی غربت اور سکیورٹی اداروں کی بدعنوانی کو بے نقاب کرتی ہے۔ حبسِ بے جا کی سیکڑوں پٹیشنز عدالتوں میں دائر ہوئیںمگر ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔ عوام  عدالتوں کے چکر لگانے یا وکلا کی فیس ادا کرنے کی استطاعت بھی کھو چکے ہیں۔

’فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر ‘کی رپورٹ جو جموں و کشمیر کی تقسیم اور عوام کی بے اختیاری کی چھٹی سالگرہ پر جاری کی گئی، خطے کی سنگین صورتِ حال کو واضح کرتی ہے۔ اس میں سیاسی بے اختیاری، ادارہ جاتی زوال، سکیورٹی کا غیر ضروری استعمال اور جمہوری جمود کو خطے کو تاریک دور میں دھکیلنے والے اہم عوامل قرار دیا گیا۔ فورم کی سربراہی سابق سکریٹری داخلہ گوپال پلئی اور سابق مذاکرات کار رادھا کمار کر رہے ہیں،جب کہ اس میں سپریم کورٹ کے سابق ججز مدن لوکور، روما پال اور اے پی شاہ، سابق لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ اور سابق ایئر وائس مارشل کپل کاک، مؤرخ رام چندر گہا اور دیگر شامل ہیں۔

رپورٹ میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شا کے ریاستی درجہ بحال کرنے کے وعدوں سے پیچھے ہٹنے پر سخت تنقید کی گئی۔ سپریم کورٹ نے ۲۰۱۹ء کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے فوری ریاستی درجہ بحالی کی ہدایت دی تھی۔ جسٹس سنجیو کھنہ نے واضح کیا کہ کسی ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنا آئینی طور پر غلط ہے۔ تاہم، حکومت ’مرحلہ وار‘ اختیارات کی منتقلی کی بات کرتی ہےجسے فورم ناقابل قبول قرار دیتا ہے۔ 

ستمبر،اکتوبر ۲۰۲۴ ءمیں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی مگر یہ حکومت عملی طور پر بے اختیار ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر اور مرکزی وزارت داخلہ کے پاس پولیس، سول سروسز، استغاثہ اور مالیات جیسے اہم شعبوں کا کنٹرول ہے۔ ۱۲ جولائی ۲۰۱۴ءکو ریاستی کابینہ سے کلیدی اختیارات چھین لیے، حتیٰ کہ وزارتی قلمدانوں کی تقسیم بھی بیوروکریٹک جائزے کے تابع کردی گئی ہے۔

رپورٹ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی نشاندہی کرتی ہے جن میں نفرت انگیز تقاریر، ہجومی حملے، ۲۸۰۰ سے زائد افراد کی حراست اور ۱۰۰ سے زائد گرفتاریاں سخت قوانین جیسے پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے کے تحت کی گئیں۔ کم از کم چھ مکانات (مقامی میڈیا کے مطابق دس) کو دھماکوں سے تباہ کیا گیا، جسے فورم ’اجتماعی سزا‘ قرار دیتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ حکومت پر چھ سال سے اہل کشمیر کے حقوق سلب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ’آمریت‘ کہتے ہیں۔ رادھا کمار کہتی ہیں کہ کشمیری عوام نے بارہا ووٹ دیا، اب نئی دہلی کی باری ہے کہ وہ جبر کے بجائے مفاہمت کا راستہ اپنائے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ پچھلے چھ سالوں میں حکومتی اقدامات کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کو بے اختیار کرنا تھا۔ جانب دارانہ حدبندی، انتخابی فہرستوں کی ترتیب نو اور یوم شہداء (۱۳ جولائی) کو تعطیلات سے ہٹانا، اس کی واضح مثالیں ہیں۔ خصوصاً، ۱۳ جولائی ۲۰۲۴ءکو وزیراعلیٰ کو مزارشہدا میں فاتحہ خوانی سے روکا گیا اور انھیں دیوار پھاند کر داخل ہونا پڑاجو پابندیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ 

۱۹۳۱ءسے جولائی ۲۰۱۹ء ء تک کےدور کو اگر ہم ماضی کا نام دیں تو یہ درست ہوگا، کیونکہ اس عرصے میں انڈیا کا جابرانہ قبضہ اپنی پوری شدت و ظالمانہ اقدامات کے ساتھ جاری رہا لیکن اس دوران بھی انڈین آئین کی شق ۳۷۰، اور ۳۵-اے نے کشمیر کی منفرد شناخت کو کسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھا تھا۔ یہ شقیں کشمیریوں کے لیے ایک ڈھال تھیں جو ان کی زمین، ثقافت، اور مسلم تشخص کو تحفظ دیتی تھیں۔ مگر ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو نسل پرست حکمران جماعت بی جے پی نے ان شقوں کو منسوخ کرکے کشمیر کو انڈیا میں مکمل طور پر ضم کر لیا۔ بھارت کے اقدامات صرف جغرافیائی قبضے تک محدود نہیں رہے بلکہ اب وہ ایک منظم فکری، تعلیمی اور تہذیبی یلغار کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ نصابی کتب میں تبدیلی، تاریخ کی مسخ شدہ تعبیر، مذہبی علامات پر پابندیاں اور اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی شعوری کوششیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ ایک ’خاموش نسل کُشی‘ کا عمل ہے، جو بندوق سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس لیے آج ہم یہ برملا کہہ سکتے ہیں کہ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء وہ سیاہ دن تھا جب کشمیر کا حال اپنے ماضی سے بھی بدتر ہوگیا۔

معروف کشمیری صحافی نعیمہ احمد مہجور نے لکھا ہے کہ کشمیر اب وہ جنت نظیر وادی نہیں رہی بلکہ ایک ’کاسمیر‘ بننے کی طرف بڑھ رہی ہے ،ایک ایسی جگہ جہاں اس کی اصل شناخت ڈیڑھ ارب کی آبادی میں تحلیل ہو جائے گی۔ ان کے الفاظ میں ’ایک عشرے بعد کشمیر ’کاسمیر‘ ہو گا‘، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وادی کی روح کو چھین کر اسے ایک اجنبی سرزمین میں بدل دیا جائے گا۔آگے لکھتی ہیں ۔۔کہ ’’ کشمیر کے لوگ اپنا آبائی وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ غیر کشمیریوں کی آمد، زمینوں کی فروخت، اور آبادی کے تناسب کو بدلنے کے اقدامات نے وادی کو اجنبی بنا دیا ہے۔مقامی سیاست دانوں اور تاجروں کی ملی بھگت سے وادی کی زمینیں، جنگلات، اور معدنیات کا سودا ہو رہا ہے۔ غیر کشمیری سیاحت، زراعت، انتظامیہ اور عدلیہ پرچھا رہے ہیں اور لگتا ہے کہ ڈوگرہ دور جیسے واپس پلٹ آیا ہوجہاں کشمیری صرف بے روزگار یا جبری مزدور سمجھے جاتے تھے۔ آج لال چوک میں مہاراجا کی مورتیوں کو تاج پہنائے جا رہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ ’’کیا کشمیریوں کو اپنی آواز اٹھانے کی سزا دی جا رہی ہے‘‘ ۔نعیمہ مہجور کے بقول، میڈیا کی خاموشی اور مقامی قلم پر زنجیریں اس المیے کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ کشمیر کی ثقافت، زبان، اور شناخت اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ جب اپنی گلیوں میں چلنا مشکل ہو، زبان پر پہرے ہوں، اور اپنی زمین اجنبیوں کے ہاتھوں فروخت ہو رہی ہو تو کشمیری کیا کریں؟

زمینی حقائق یہ ہیں کہ مرکزی قوانین نافذ ہو چکے ہیں، نئی حلقہ بندیاں ہو چکی ہیں، ڈومیسائل اور زمین کے قوانین تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان اقدامات نے زمینی انتظامی حقیقت کو تبدیل کر دیا ہے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری عوام کے دلوں میں سیاسی قبولیت پیدا کرنا، ناممکن ہے۔ تاہم انڈین قیادت خفیہ مذاکرات اور امریکن کوششوں کی بنیاد پرتقسیم کشمیر کے منصوبے پر کام کر رہی ہے اورکنٹرول لائن کو مستقل سرحد بناکر ’اُدھر تم اور اِدھر ہم‘ کے فارمولے پر کام تیزی سے جاری ہے ۔اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو پھر کشمیر کو اندلس اور جامع مسجد سری نگر کومسجد قرطبہ بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اللہ رحم فرمائے۔

یہ باتیں تو تلخ حقیقت ہیں ہی، لیکن اب دو سال سے مقبوضہ کشمیر، انڈین حکومت اور فوج کی طرف سے یہاں کتابوں پر پے درپے حملوں کا ایک تسلسل پیش کر رہے ہیں۔ جولائی ۲۰۲۶ء میں سری نگر میں کتابوں کے میلے سے پہلے حکومت نے یہ پابندی عائد کی کہ انڈیا سے تمام ناشرین اپنی کتابوں کی جانچ کرائیں گے تاکہ حکومت کی اجازت اور جانچ پڑتال کے بغیر کوئی کتاب میلے میں شریک نہ ہوسکے۔ پھر علم دشمنی کی یہ بات اسی پر نہیں رکی، بلکہ لائبریریوں، گھروں تک جاپہنچی ہے جہاں کتابوں کو ضبط کیا جارہا ہے، اور اُٹھایا جارہا ہے۔

 _______________