محمد عامر خاکوانی


ستمبر ۱۹۶۵ء کا ایک دن ہے۔ پاک بھارت جنگ چل رہی ہے۔ پاکستان ایئر فورس کے سابق سربراہ ایئر مارشل اصغر خان صدر پاکستان کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سےجکارتہ پہنچتے ہیں۔ صدر احمد نور سوئیکارنو انھیں فوراً ملاقات کا وقت دیتے ہیں اور جو جملہ کہتے ہیں، وہ آج پڑھیں تو یقین نہیں آتا۔ سوئیکارنو کہتے ہیں کہ ’’پاکستان کی مشکل انڈونیشیا کی مشکل ہے، بھارت کا پاکستان پر حملہ گویا انڈونیشیا پر حملہ ہے۔ اس ملک کو اپنا ملک سمجھیں اور جو چیز آپ کے کام آ سکتی ہے، اٹھا کر لے جائیں‘‘۔

  اس کے بعد ایئرمارشل اصغر خان کی ملاقات انڈونیشی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل رادن ایڈی مارتا دیناتا سے ہوتی ہے۔ ایڈمرل صاحب پوچھتے ہیں:’’ بس اتنا ہی چاہیے آپ کو؟‘‘ اصغر خان حیران ہو کر کہتے ہیں:’’ اس سے زیادہ آپ کیا کر سکتے ہیں؟‘‘ ایڈمرل نقشہ سامنے کھینچ لیتا ہے اور انگلی رکھ کر کہتا ہے: ’’کیا آپ نہیں چاہتے کہ ہم انڈمان جزائر پر قبضہ کر لیں؟ یہ جزائر تو دراصل سماٹرا کا تسلسل ہیں اور ویسے بھی مشرقی پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان پڑتے ہیں‘‘۔ اصغر خان نے کہا: ’’آپ اپنے صدر سے مشورہ کر لیجیے، اور یہ بھی کہ اگر انڈونیشیا ان جزائر پر قبضہ کر لے تو پاکستان کو کوئی افسوس نہ ہوگا، مگر ساتھ ہی انھیں یہ تلخ سچ بھی بتانا پڑا کہ اس کارروائی میں پاکستان انڈونیشیا کا ہاتھ نہیں بٹا سکے گا‘‘۔ 

 دراصل ہم دو محاذوں پر لڑ رہے تھے اور خلیج بنگال میں شریک ہونے کی سکت ہم میں نہیں تھی۔ دوست پیش کش لے کر کھڑا تھا، ہمارے پاس آگے بڑھنے کی ہمت نہیں تھی۔ 

میں نے یہ واقعہ پہلی بار پڑھا تو کچھ دیر کے لیے حیرت زدہ ہو کر بیٹھا رہا۔ ذرا تصور کیجیے۔ ایک ملک کا بحری سربراہ دوسرے ملک کے مہمان سے پوچھ رہا ہے کہ آپ کے دشمن کے جزائر پر ہم قبضہ کر لیں؟ یہ کوئی سفارتی خوش کلامی نہیں تھی۔ انڈونیشی بحریہ نے دو آبدوزیں، دو کومار کلاس میزائل بوٹس اور دو تارپیڈو بوٹس کراچی روانہ کیں۔ فضائیہ نے مگ پندرہ اور مگ انیس طیارے دینے کی ہامی بھر لی۔ 

  بھارتی وائس ایڈمرل ہیرانندانی نے بعد میں اپنی کتاب میں خود لکھا کہ اسی خطرے کی وجہ سے بھارتی بحری بیڑہ خلیج بنگال میں بندھا رہا اور مغربی محاذ پر وہ کچھ نہ کر سکا جو وہ کرنا چاہتا تھا۔ بھارتی پارلیمنٹ میں اراکین نے کھڑے ہو کر انڈمان اور نکوبار کی حفاظت پر سوال اٹھائے۔

 ساٹھ برس بیت گئے۔ اب ذرا اسی جکارتہ کا دوسرا منظر دیکھ لیجیے:

۷جولائی ۲۰۲۶ء: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جکارتہ کے سرکاری دورے پر ہیں۔ انڈونیشی صدر پرابوو سوبیانتو کے ساتھ ان کی بیٹھک ہوتی ہے اور جو معاہدہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے: انڈونیشیا بھارت سے براہموس سپرسانک کروز میزائل خریدے گا اور ساتھ آسٹرا میزائل بھی۔ مجموعی مالیت چھ سو ملین ڈالر سے زائد۔ فلپائن اور ویت نام کے بعد انڈونیشیا براہموس کا تیسرا برآمدی گاہک بن گیا۔

وہی انڈونیشیا جس کے ایڈمرل نے ۱۹۶۵ء میں بھارتی جزائر پر قبضے کی پیش کش کی تھی، آج بھارت سے میزائل خرید رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ درمیان میں ہوا کیا؟ جب سب کچھ ہمارے حق میں تھا؟

آزادی کے فوراً بعد پاکستان نے انڈونیشیا کی تحریک آزادی کی کھل کر حمایت کی۔ ڈچ استعمار کے خلاف انڈونیشی جدوجہد ہمارے ہاں اخبارات کی سرخیوں میں رہتی تھی۔ قائداعظم اور سوئیکارنو ایک دوسرے کے لیے احترام رکھتے تھے، اگرچہ قائداعظم ستمبر۱۹۴۸ء میں رخصت ہوگئے اور انڈونیشیا کو مکمل آزادی اس کے ایک سال بعد ملی۔

۱۹۵۵ء کی بنڈونگ کانفرنس میں پاکستان، بھارت اور انڈونیشیا تینوں ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ یہ وہ تاریخی اجتماع تھا جس نے ایشیا اور افریقہ کے نو آزاد ممالک کو پہلی بار ایک میز پر بٹھایا اور جسے بعد میں غیر وابستہ تحریک کی فکری بنیاد قرار دیا گیا۔ اس زمانے میں اگر کسی سے پوچھا جاتا کہ آنے والے پچاس برس میں انڈونیشیا کا قریب ترین شراکت دار کون ہوگا، پاکستان یا بھارت، تو جواب سو میں سے نوے بار پاکستان ہی ہوتا۔

دلائل بھی ٹھوس تھے۔ دونوں مسلم اکثریتی ملک، دونوں کے درمیان کوئی سرحدی جھگڑا نہیں، دونوں نوآبادیاتی نظام کے ستائے ہوئے۔ ۱۹۶۲ءکی چین بھارت جنگ نے سوئیکارنو کو بیجنگ کے اور قریب کر دیا اور نئی دہلی سے فاصلہ بڑھا دیا۔

پھر۱۹۶۵ء آیا، اور وہ سب کچھ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا۔یہ اس رشتے اور تعلق کا عروج تھا۔ اس کے بعد یہ نیچے ہی آیا۔ 

سوئیکارنو کی جگہ سہارتو نے لی تو بہت کچھ بدل گیا

۱۹۶۶ء میں جنرل سہارتو اقتدار میں آ گئے۔ سوئیکارنو کا انقلابی، جذباتی، نظریاتی مزاج رخصت ہوا اور اس کی جگہ ایک خشک، حساب کتاب والی سوچ نے لے لی۔ سہارتو کا فارمولا سادہ تھا: بیرونی سرمایہ کاری لاؤ،انڈسٹری لگاؤ، پڑوسیوں سے جھگڑا ختم کرو، معیشت بڑھاؤ۔ انڈونیشیا نے ملائیشیا کے ساتھ جو ’کنفرونتاسی‘ یعنی محاذ آرائی چل رہی تھی، وہ ختم کر دی۔ ۱۹۶۷ء میں آسیان بنی اور انڈونیشیا اس کا بانی رکن بنا۔

یہیں سے ہمارا اور جکارتہ کا راستہ آہستہ آہستہ الگ ہونا شروع ہوا۔ تعلقات خراب نہیں ہوئے۔ سفارت خانے کھلے رہے، او آئی سی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا جاتا رہا۔ فوجی وفود آتے جاتے رہے، مگر دونوں نے ایک دوسرے کو اپنی طویل المدت قومی حکمت عملی کا حصہ نہیں بنایا۔ ہماری نظریں افغانستان، چین، امریکا اور مشرق وسطیٰ پر جمی رہیں۔ انڈونیشیا کی نظریں جنوب مشرقی ایشیا، جاپان اور مغربی سرمایہ کاری پر۔

میں سمجھتا ہوں کہ اصل غلطی نظر کی تھی۔ ہم نے انڈونیشیا کو ہمیشہ ایک برادر اسلامی ملک کے طور پر دیکھا۔ انڈونیشیائی قیادت نے پچھلے ۳۰،۴۰ برسوں میں خود کو اس عینک سے نہیں دیکھا۔ وہ خود کو ایک سمندری ریاست سمجھتا تھا جس کی بقا بندرگاہوں، تجارتی راستوں اور سرمایہ کاری سے وابستہ ہے۔ ہم رشتہ داری نبھا رہے تھے، وہ کاروبار کر رہے تھے۔

۱۹۹۱ء کا فیصلہ کن سال 

دسمبر ۱۹۹۱ء میں سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ عالمی معیشت کا نقشہ الٹ گیا۔ نئی دہلی میں وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ نے ایک اعلان کیا جسے اس وقت زیادہ تر لوگوں نے معمولی سی معاشی پالیسی سمجھا۔ اس کا نام تھا ’لُک ایسٹ پالیسی‘، یعنی مشرق کی طرف دیکھو۔

   بظاہر یہ تجارت بڑھانے کی بات تھی۔ حقیقت میں یہ بھارتی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا موڑ تھا۔ پہلی بار نئی دہلی نے تسلیم کیا کہ صرف جنوبی ایشیا کا چودھری بننے سے کام نہیں چلے گا۔ اگر بڑی طاقت بننا ہے تو ’ملاکا کی آبنائے‘، آسیان اور بحرِ ہند کے مشرقی کنارے تک پہنچنا ہوگا۔

  اسی دوران ایک اور بڑی تبدیلی رونما ہو رہی تھی۔ سرد جنگ کے بعد چین غیر معمولی معاشی رفتار سے اُبھر رہا تھا، عالمی تجارت کا مرکز بحرالکاہل کی طرف منتقل ہو رہا تھا اور سمندری راستے پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنتے جا رہے تھے۔ اب طاقت صرف فوجوں سے نہیں بلکہ بندرگاہوں، سمندری گزرگاہوں، سپلائی چینز اور بحری رسائی سے ناپی جانے لگی۔ یہیں انڈونیشیا کی اہمیت اچانک کئی گنا بڑھ گئی۔ بھارت نے بروقت یہ بھانپ لیا۔ 

   پاکستان کہاں پیچھے رہ گیا؟

یہ کہنا آسان ہے کہ بھارت آگے نکل گیا، مگر زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کہاں رکا؟

 پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے جنوب مشرقی ایشیا کو کبھی اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی دائرہ نہیں بنایا۔ ہماری سفارتی توجہ زیادہ تر تین سمتوں میں بٹی رہی: مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان اور شمال میں چین۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ سے مذہبی، معاشی اور افرادی قوت کے تعلقات ہماری ترجیحات میں شامل رہے۔

اس کے مقابلے میں بھارت نے ۱۹۹۱ء کے بعد ایک مستقل فیصلہ کیا کہ جنوب مشرقی ایشیا اس کی آئندہ خارجہ اور معاشی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہوگا۔ اس فیصلے پر حکومتیں بدلنے کے باوجود عمل جاری رہا۔ 

انڈونیشیا آخر ہے کیا؟

ہمارے ہاں انڈونیشیا کا تعارف ایک ہی جملے میں دیا جاتا ہے: ’’دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک‘‘۔ یہ بات ظاہر ہے کہ درست ہے، ۲۸ کروڑ کے قریب آبادی ہے۔ مگر عالمی طاقتیں اسے اس زاویے سے دیکھتی ہی نہیں۔ انٹرنیٹ پر سرچ کرتے ہوئے مجھے مغربی تھنک ٹینکس کی کئی رپورٹیں پڑھنے کو ملیں۔ ان سب میں انڈونیشیا کو ایک ہی لفظ سے پکارا گیا ہے، ’میری ٹائم سٹیٹ‘، یعنی سمندری ریاست۔ ۱۷ ہزار سے زائد جزائر پر پھیلا ہوا ملک جو بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے عین سنگم پر واقع ہے۔ ملاکا، سُنڈا اور لومبوک، تینوں بڑی آبنائیں اسی کے گرد ہیں۔

 ان میں سب سے اہم ’ملاکا‘ ہے۔ یہ وہ تنگ سمندری گزرگاہ ہے، جس سے چین، جاپان اور جنوبی کوریا کا تیل گزرتا ہے۔ اگر یہ راستہ چند ہفتے بند ہو جائے تو چین کی معیشت لرز اٹھے گی، اس کی سپلائی لائن بری طرح متاثر ہوگی۔ بعض ماہرین اسے دنیا کی شہ رگ کہتے ہیں اور یہ کوئی مبالغہ نہیں۔

سابق انڈونیشیائی صدر جوکو ویدودو نے ۲۰۱۴ء میں گلوبل میری ٹائم ترازو کا تصور پیش کیا۔ سادہ سا فارمولا کہ انڈونیشیا کو دو سمندروں کے بیچ محور بننا چاہیے۔ اس کے بعد بندرگاہوں، بحریہ اور ساحلی نگرانی پر پیسہ لگنا شروع ہوا۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے کیونکہ انڈونیشیا کی یہ نئی سوچ اور بھارت کی ’لُک ایسٹ پالیسی‘، دونوں ایک ہی سمت میں چل رہی تھیں۔ ان دونوں کا ملاپ ہونا ہی تھا۔ 

انڈونیشیا نےبراہموس میزائل کیوں خریدے ؟

ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر بعض لکھاریوں نے یہ تاثر پھیلایا کہ انڈونیشیا نے بھارت سے دوستی نبھانے کے لیے براہموس خریدا۔ یہ بات درست نہیں۔براہموس ایک سپرسانک اینٹی شپ کروز میزائل ہے۔ اس کا کام دور سے دشمن کے جنگی جہاز اور ساحلی اہداف کو تباہ کرنا ہے۔ جو معاہدہ ہوا ہے وہ زمین سے چلنے والے ساحلی دفاعی ورژن کا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے سترہ ہزار جزائر ہوں اور جس کے سمندری راستوں پر اس کی پوری معیشت کھڑی ہو، اس کے لیے ساحلی میزائل بیٹریاں لگانا کوئی انوکھا فیصلہ نہیں۔

اصل وجہ جنوبی بحیرہ چین 

انڈونیشیا خود کو اس تنازع کا فریق نہیں کہتا، مگر چین کی نائن ڈیش لائن کے بعض دعوے ناتونا جزائر کے قریب انڈونیشیا کے خصوصی اقتصادی زون سے جا ٹکراتے ہیں۔ چینی کوسٹ گارڈ اور ماہی گیر جہاز وہاں آتے رہتے ہیں اور جکارتہ کا پارہ چڑھتا رہتا ہے۔

  ایک بات مگر سمجھنا ضروری ہے جسے ہمارے اکثر تجزیہ کار نظرانداز کر جاتےہیں۔ انڈونیشیا اپنے سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھتا۔ اس نے ۲۰۲۲ء میں فرانس سے ۴۲رافیل طیارے خریدے، ۸؍ ارب ڈالر سے زائد کے۔ ترکیہ سے اس کے ففتھ جنریشن فائٹر طیارے کان کا سودا کیا، ۴۸طیارے ۔ امریکا سے ایف-۱۵ ای ایکس پر بات چل رہی ہے۔ چین کے جے ٹین سی پر بھی غور ہوا۔ انڈونیشیائی اسے ’بیباس دان اکتیف‘ کہتے ہیں، آزاد اور فعال۔ نہ کسی کے اتحادی، نہ کسی کے تابع۔

بھارت انڈونیشیا تعلقات میں اسرائیل کا عنصر 

 آفیشل پوزیشن یہ ہے کہ انڈونیشیا نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ غزہ کا بھی پرجوش حامی ہے، تاہم کہیں کہیں افواہ نما خبر یا خبرنما افواہیں یہ سامنے آتی رہیں کہ خفیہ طور پر رابطے چل رہےہیں۔ ویسے اس افواہ کو نظرانداز بھی کر دیں تو یہ حقیقت ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات پچھلے دو تین عشروں میں غیر معمولی حد تک گہرے ہوئے۔ ریڈار، ڈرون، فضائی دفاعی نظام، الیکٹرانک وارفیئر، نگرانی کے آلات، ہر شعبے میں اسرائیل نے بھارت کی مدد کی اور بھارتی دفاعی صنعت کو جدید بنایا۔ جب بھارت جنوب مشرقی ایشیا میں دفاعی شراکت دار بن کر گیا تو اس کے ہاتھ میں صرف سیاسی تعلقات نہیں تھے، بیچنے کے لیے مال بھی تھا۔

  یہ ممکن ہے کہ انڈونیشیا اسرائیلی ٹکنالوجی کی وجہ سے بھارت کے قریب گیا ہو، تاہم زیادہ محتاط تبصرہ یہ ہوسکتا ہے کہ اسرائیل سے تعاون نے بھارت کی مجموعی صلاحیت بڑھائی اور اسی صلاحیت نے اسے اہم فروخت کنندہ بنا دیا۔

اب یہاں وہ تضاد سامنے آتا ہے جو ہمارے قاری کو کھٹک سکتا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک، جس نے فلسطینی ریاست کی حمایت کبھی نہیں چھوڑی، جس کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات تک نہیں، وہ اسی بھارت سے میزائل لے رہا ہے جو اسرائیل کا سب سے قریبی دفاعی شراکت دار ہے۔ ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ جکارتہ نے یہ سوال اٹھایا ہی نہیں اور اس نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ نئی دہلی کے تل ابیب سے کیسے مراسم ہیں؟ اس نے صرف یہ دیکھا کہ اس کے سمندری دفاع میں کون کیا دے سکتا ہے؟

گوادر اور سبانگ، اور ایک غلط فہمی

ہمارے ہاں جب بھی انڈونیشیا کا ذکر آتا ہے، فوراً گوادر اور سبانگ کا موازنہ شروع ہوجاتا ہے۔ سبانگ پُلاؤ وے نامی چھوٹے جزیرے پر واقع ہے۔ اس کی اصل اہمیت کا اندازہ یوں لگائیں کہ سبانگ بھارت کے نکوبار جزائر کے جنوبی سرے اندرا پوائنٹ سے سو بحری میل سے بھی کم فاصلے پر ہے، درحقیقت آبنائے ملاکا کے دہانے پر موجود۔ 

ہمارے ہاں تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ بھارت سبانگ میں جم کر بیٹھ چکا ہے۔ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ سبانگ کا معاہدہ ۲۰۱۸ءمیں ہوا تھا اور آٹھ سال تک فائلوں میں پڑا رہا۔ چین کے ردعمل کے خوف سے انڈونیشیا ٹال مٹول کرتا رہا۔ اسی ماہ ۷ جولائی کی ملاقات میں اسے دوبارہ زندہ کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

یعنی بھارت بھی ہر جگہ فتح یاب نہیں۔ یہ بات مجھے اس لیے اہم لگتی ہے کہ ہمارے ہاں دوانتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک وہ جو بھارت کو ناقابلِ شکست سمجھ کر مایوسی پھیلاتے ہیں، دوسرے وہ جو ہر بھارتی قدم کو مذاق سمجھتے ہیں مگر سچ درمیان میں کہیں پر ہے ۔ 

ہم نے آسیان کو اتنی اہمیت نہ دی 

پاکستان میں آسیان کا ذکر عموماً سفارتی بیانات تک محدود رہتا ہے، حالانکہ یہ دنیا کے متحرک ترین معاشی خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ پہلے دس اور اب تیمور لیستے کی شمولیت کے بعد گیارہ ممالک پر مشتمل یہ تنظیم عالمی مینوفیکچرنگ، الیکٹرانکس، شپنگ، پام آئل، ربڑ، سیمی کنڈکٹرز اور سپلائی چینز کا اہم مرکز بن چکی ہے۔ بھارت نے آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کیے، وزارتی سطح پر مستقل رابطے استوار کیے، جامع اقتصادی اور دفاعی مکالمے شروع کیے، یونی ورسٹیوں اور تھنک ٹینکس کے درمیان روابط بڑھائے اور کاروباری اداروں کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا۔

پاکستان کی موجودگی اس کے مقابلے میں محدود رہی۔ ہماری برآمدات کا رُخ اب بھی زیادہ تر چین، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا کی طرف ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کی وہ گہرائی پیدا نہیں ہو سکی جو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے ضروری تھی۔

دفاعی تعاون کے ساتھ تجارت بھی ناگزیر

یہ سب پڑھ کر شاید آپ کے ذہن میں مایوسی کا تاثر بن رہا ہو۔ ذرا ٹھہریے،چند ماہ پیچھے جاتے ہیں۔ ۸دسمبر ۲۰۲۵ء کو انڈونیشی صدر پرابوو سوبیانتو دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد آئے۔ صدر بننے کے بعد ان کا پاکستان کا پہلا دورہ۔ اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ ہمارے جے ایف ۱۷ طیاروں نے صدارتی طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی ایسکارٹ کیا۔ صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔ اور یہ سب اس سال ہوا جو ہمارے سفارتی تعلقات کی ۷۵ویں سالگرہ کا سال تھا۔

اس کے صرف ایک ماہ بعد، ۱۲ جنوری ۲۰۲۶ء کو، انڈونیشی وزیر دفاع اسلام آباد آئے اور پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملے۔ رائٹرز کے مطابق بات چیت کا موضوع تھا: تقریباً ۴۰جے ایف ۱۷ طیارے، حملہ آور ڈرون، فضائی دفاعی نظام اور انڈونیشی افسروں و انجینئروں کی تربیت۔ ریٹائرڈ ایئر مارشل عاصم سلیمان نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ سودا پائپ لائن میں ہے۔

 یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی اور خوش کن خبر تھی۔ مئی ۲۰۲۵ء کی جھڑپ کے بعد ہمارے جے ایف ۱۷ فائٹر طیارے کی عالمی ساکھ میں جو اضافہ ہوا، وہ کوئی معمولی بات نہیں۔ آذربائیجان سے ان طیاروں کا سودا ہو چکا، لیبیا کے ساتھ چار ارب ڈالر کا معاہدہ فائنل ہو رہا ہے، بنگلہ دیش سے بات چل رہی ہے، سوڈان اور اب انڈونیشیا۔ ہماری دفاعی صنعت پہلی بار ایک قابلِ ذکر برآمد کنندہ کے طور پر ابھر رہی ہے۔

  یہ سب خوب ہے لیکن صرف دفاعی تعاون کسی تعلق کو اسٹرے ٹیجک شراکت داری میں تبدیل نہیں کرتا۔بھارت نے دفاع کے ساتھ انڈونیشیا سے تجارت بھی بڑھائی۔تجارت کے ساتھ سرمایہ کاری بھی کی۔ سرمایہ کاری کے ساتھ صنعتی تعاون بھی جوڑا۔ ان سب کے ساتھ بحری حکمت عملی بھی شامل کر دی۔یہی وجہ ہے کہ آج نئی دہلی اور جکارتہ کے تعلقات ایک ہی ستون پر نہیں بلکہ کئی ستونوں پر کھڑے ہیں۔

  پاکستان نے انڈونیشیا کے ساتھ دوستی کو برقرار رکھا، مگر اسے نئی شکل نہ دے سکا۔ بھارت نے انڈونیشیا کے ساتھ دوستی کو ایک جامع پیکیج میں تبدیل کر دیا ۔بین الاقوامی سیاست میں یہی فرق ’اچھے تعلقات‘ اور ’اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ‘ کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔ یہی اس پوری کہانی کا سب سے اہم سبق بھی ہے۔

تعلقات میں بہتری کا دس نکاتی فارمولا 

  ہمیں انڈونیشیا سےاپنے تعلقات ہمہ جہت بنانےہوں گے، ان میں گہرائی اور وسعت لانا ہوگی۔ طیارے بیچنا ایک اہم سودا ہے مگر یہ شراکت داری نہیں۔ اس کے ساتھ تجارت، تعلیم، بندرگاہیں، تھنک ٹینکس اور مشترکہ صنعت نہ جڑی تو دس سال بعد ہم پھر وہیں کھڑے ہوں گے۔ پاکستانی منصوبہ سازوں کو اس حوالے سے دس اہم نکات یاد رکھنے چاہئیں:

۱-  خارجہ پالیسی میں تسلسل بہت اہم ہے۔ بھارت میں حکومتیں بدلتی رلیں مگر ’لُک ایسٹ‘ سے ’ایکٹ ایسٹ‘ تک سمت وہی رہی۔ اس کا انھیں فائدہ پہنچا۔ 

۲- اکیسویں صدی میں جغرافیہ صرف سرحدوں کا نام نہیں۔ بندرگاہیں، سمندری راستے، لاجسٹکس اور سپلائی چینز بھی جغرافیہ ہیں۔

۳- صرف اچھے سیاسی تعلقات کچھ نہیں دیتے۔ جب تک تجارت، سرمایہ کاری، جامعات اور کاروباری ادارے ان کے ساتھ نہ جڑیں۔

۴-  آسیان کو ہماری خارجہ پالیسی کے مرکزی معاشی دائرے میں لانا چاہیے۔ انڈونیشیا، ملائیشیا، ویت نام، تھائی لینڈ اور سنگاپور آنے والی عالمی معیشت کے ستون ہیں۔ اس دروازے پر ہمارا دوست ملائیشیا ہمارے لیے کھڑا ہے۔ یہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

۵- گوادر کو صرف عمارتوں اور سڑکوں کا منصوبہ سمجھنا بند کریں۔ بندرگاہیں خود سے آباد نہیں ہوتیں، انھیں تجارت اور بحری روابط زندہ کرتے ہیں۔

۶- انڈونیشیا اور ملائیشیا کے ساتھ دفاعی صنعت، ڈرون ٹکنالوجی اور مشترکہ تربیت کو ادارہ جاتی شکل دیں۔ ایک سودا الگ چیز ہے، ایک مستقل ڈھانچہ الگ۔

۷- یونی ورسٹیاں، پالیسی اداروں اور تھنک ٹینکس کے بغیر خارجہ پالیسی صرف پریس ریلیز رہ جاتی ہے۔ بھارت نے یہ خلا بڑی محنت سے پُر کیا۔

۸- ہماری بحری سوچ کراچی اور گوادر سے آگے نہیں بڑھتی۔ ملاکا کی آبنائے، مشرقی افریقہ، خلیج اور جنوب مشرقی ایشیا کو بھی اس نقشے میں شامل کرنا ہوگا۔

۹ ’جیو پولیٹکس‘ کے ساتھ ’جیو اکنامکس‘ بھی سیکھیں۔ سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ہوتی ہے جب اس کے ساتھ تجارت کے اعداد بھی بڑھیں۔

۱۰- اور آخری بات، جو شاید سب سے کڑوی ہے۔ انڈونیشیا کی آزاد اور فعال پالیسی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ وہ امریکا، چین، روس، جاپان، بھارت اور پاکستان، سب سے تعلق رکھتا ہے، مگر فیصلہ اپنا کرتا ہے۔ ہم نے اکثر یہ سمجھا کہ دوستی کا مطلب یک طرفہ وفاداری ہے۔ جکارتہ نے کبھی یہ نہیں سمجھا، اور شاید اسی لیے وہ آج ہر ایک کے لیے اہم ہے۔

             آخری بات

آنے والے بیس برسوں میں بحرِ ہند اور بحرالکاہل دنیا کی سب سے اہم معاشی فضا بن جائیں گے۔ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، سمندری کیبلز، توانائی کی نئی راہداریاں، سب کا بڑا حصہ اسی خطے میں مرتکز ہوگا۔ انڈونیشیا اپنی آبادی، معدنیات اور محلِ وقوع کی وجہ سے دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے جا رہا ہے۔

ہمارے پاس وقت ابھی ہے۔ اگرچہ زیادہ نہیں، مگر ہے ضرور۔ اگر پاکستان آنے والے ۱۰سے ۱۵برسوں میں جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیمی تعاون، بحری روابط اور سفارتی موجودگی کو منظم انداز میں بڑھاتا ہے تو وہ اس اُبھرتے ہوئے خطے میں اپنی جگہ مضبوط کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم پرانی ترجیحات کے دائرے میں ہی محدود رہے تو یہ فاصلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

  پاکستان کے لیے اس پوری کہانی کا سب سے بڑا سبق بھی یہی ہے کہ خارجہ پالیسی میں دوستیاں ضرور اہم ہوتی ہیں، مگر ان سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ وقت کے بدلتے ہوئے جغرافیے کو بروقت پہچانا جائے۔ جو قومیں نئی شاہراہوں پر وقت سے پہلے سفر شروع کر دیتی ہیں، وہی آگے نکل جاتی ہیں۔ 

 _______________