نزول عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسا عقیدہ ہے جو قرآن کریم کی نصوص اور احادیثِ متواترہ سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ اس عقیدے پر ائمہ و محدثین کرام نے اجماع نقل کیا ہے، سوائے چند فلاسفہ اور چند غیرمعتدل معتزلہ کے۔ اُمت مسلمہ کے تمام مکاتب ِ فکر کا اجماع ہے کہ یہ عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے زمانۂ نبوت کے دوران اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے اپنی طرف زندہ اُٹھالیا اور وہ اللہ کی اس وسیع و عریض کائنات میں اللہ سبحانہٗ کے مقرر کردہ مقام پر زندہ موجود ہیں اور قیامت کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زندہ، جسمانی اور حقیقی طور پر نازل ہوں گے، محض روحانی یا تمثیلی طور پر نہیں۔ وہ زمین پر عدل و انصاف قائم کریں گے، دجال کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے اور اسلام کو تمام باطل ادیان پر غالب کر دیں گے۔ یہ عقیدہ کوئی علامتی شے نہیں، بلکہ قرآن و سنت کے واضح نصوص سے ثابت شدہ ہے جس کا عملی وقوع قیامت کے نزدیک ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک ابنِ مریم علیہ السلام نازل نہ ہوں، جو حق کے ساتھ فیصلہ کریں گے، ظلم و جبر کو مٹائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے‘‘۔(سنن ترمذی، باب نزول عیسیٰ بن مریم ؑ)
آج کے مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً شام، فلسطین اور بیت المقدس کے حالات کے تناظر میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ قربِ قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں، جیسے ظہورِ دجال، خروجِ مہدی، نزولِ مسیح علیہ السلام اور یاجوج و ماجوج کا ظہور قریب آ چکے ہیں۔ اصل حقیقت اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ قربِ قیامت کی یہ نشانیاں کب اور کیسے پوری ہوں گی؟ انسان اپنے محدود علم کے مطابق موجودہ حالات سے صرف قیاس ہی کر سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں غزہ کی صورتِ حال اس قیاس کو یقین میں بدلتی محسوس ہوتی ہے۔ جس طرح اہلِ غزہ آج بھی ظلم، محاصرے اور قحط کے باوجود عزم و ایمان کی چٹان بنے ہوئے ہیں، اس نے دُنیا بھر کے باضمیر انسانوں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا اور دُنیا بھر میں بشمول ریاست ہائے متحدہ امریکا، رائے عامہ یکسر بدل رہی ہے۔ اگرچہ اہل غزہ کے چاروں طرف سے محصور ہونے، خوراک، ادویات اور بچوں کی غذا تک بند کردیے جانے کے باوجود عالمِ اسلام تقریباً خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ ایران و لبنان کو جنگ میں اُلجھادیا گیا ہے۔ عرب دنیا امریکی اشاروں پر درپردہ اسرائیل کی مدد کر رہی ہے، جب کہ مغربی حکومتوں کے ’انسانی حقوق‘ اور سیکولر’جمہوریت‘ کے کھوکھلے نعروں کی قلعی پوری طرح کھل چکی ہے۔ اہل غزہ پر آسمان سے بارود برسایا گیا ہے، زمین ان کے خون سے رنگین کر دی گئی ہے، مگر ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔
ان کے عزم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان اور قربانی کے دور کی یاد تازہ کردی ہے۔ اہلِ فلسطین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس جہاد کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ عوام و خواص کے ساتھ ساتھ، غزہ و فلسطین کے صفِ اول کے قائدین نے بھی شہادتیں پیش کی ہیں۔ دجالی طاقتیں انھیں انبیاؑ کی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں، مگر وہ پرعزم ہیں کہ خون کے آخری قطرے تک بیت المقدس کی حفاظت کریں گے۔
دوسری طرف، اسرائیل اپنی بزدلی کو معصوموں کے خون میں رنگ کر ’گریٹر اسرائیل‘ کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہرقسم کے ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے میں پوری ڈھٹائی سے مصروف ہے۔ بار بار جنگ بندی اور معاہدے ہوتے ہیں، مگر اسرائیل انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ انھیں مسلسل سبوتاژ کرتا رہا۔ ہر بار اسرائیل ہی جنگ بندی کا مذاق اڑاتا نظر آتا ہے۔ تمام عالمی اصولوں، جیسے اقوام متحدہ کا چارٹر، جنگی قوانین ،جنیوا کنونشنز اور انسانی حقوق کو بالائے طاق رکھ کر ظلم و سفاکیت ہی نہیں بلکہ اسرائیل تمام عالمی اصولوں کی پامالی کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی ریاست کی حدود دریائے نیل سے دریائے فرات تک پھیلیں گی، اور ان کا ’مسیحِ موعود‘ تمام دنیا پر حکومت کرے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مسیحِ موعود نہیں بلکہ مسیح الدجال ہوگا، جسے عیسیٰ علیہ السلام اپنے مومن لشکر کے ساتھ لدّ کے مقام (موجودہ تل ابیب کے قریب) ہلاک کریں گے۔
یہ تمام حالات بظاہر ان پیش گوئیوں سے مطابقت رکھتے ہیں جو صحیح احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔ جیسے جیسے قربِ قیامت کی نشانیوں کے ظہور کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، ویسے ویسے فتنہ و فساد، دجل و فریب، اور خیر و شر کا معرکہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان گمراہی کے نت نئے فتنوں اور باطل نظریات کی یلغار بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ انکارِ حدیث، انکارِ نزولِ مسیحؑ، اور انکارِ معجزات جیسے گمراہ کن نظریات پھیلاکر اُمتِ مسلمہ کے اندر فکری و اعتقادی انتشار پیدا کیا جارہا ہے۔ یہ سب دراصل دینِ اسلام کے مسلمہ حقائق پر حملے اور امت کو فکری طور پر کمزور کرنے کی ایک منظم چال ہے۔
بعض گمراہ لوگ (نعوذ باللہ) یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں، اور دجال، مہدی اور نزولِ مسیحؑ محض قصے کہانیاں ہیں۔ یہ موقف قرآن و سنت کے واضح دلائل اور اجماعِ امت سے صریحاً انحراف ہے۔ بدقسمتی سے، آج کے کچھ نام نہاد دانش وَر، مفکرین اور مغرب زدہ افراد مصلحین و مبلغین کے رُوپ میں دانستہ یا نادانستہ طور پر ان عقائد میں تشکیک پیدا کر کے اسرائیلی عزائم کو تقویت پہنچا رہے ہیں، جب کہ دوسری طرف صہیونی طاقتیں ان ہی پیشین گوئیوں پر یقین رکھتے ہوئے اپنی عالمی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں۔
اطلاعات اور مشاہدات کے مطابق متعدد مسلم دانش ور بھی ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے کے لیے فکری و نظریاتی بنیادیں فراہم کر رہے ہیں۔ان دانش وروں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو بظاہر خود کو مولانا فراہیؒ اور مولانا اصلاحیؒ سے منسوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ان کا تمام تر استدلال ’گریٹر اسرائیل‘ کی وکالت کرتا نظر آتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ اسرائیلی مفادات کے لیے فکری اور نظریاتی منصوبہ بندی میں شریک ہیں۔
رینڈ کارپوریشن، اسلام کی فکری وحدت کو توڑنے کے لیے ایک عرصے سے سرگرمِ عمل ہے۔ ماضی میں یہ ادارہ ’عقلی اسلام‘،’ترقی پسند اسلام‘، ’روشن خیال اسلام‘، ’اعتدال پسند اسلام‘ اور ’سیاسی اسلام‘ جیسی اصطلاحات متعارف کروا چکا ہے، تاکہ مسلمانوں میں فکری انتشار پیدا کیا جا سکے۔
ان دانش وروں کا موقف یہ ہے کہ شمالی عرب پر اسرائیل کا ’فطری حق‘ ہے، جب کہ جنوبی عرب مسلمانوں کے حصے میں آتا ہے۔ وہ اس تقسیم کو ابراہیم علیہ السلام کی دو ازواجِ مطہراتؑ سارہ علیہا السلام اور ہاجرہ علیہا السلام اور ان کے فرزندان اسحاق علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام سے جوڑتے ہیں، تاکہ ’گریٹر اسرائیل‘ کے تصور کے لیے ایک مبینہ ’اسلامی جواز‘ پیش کیا جا سکے۔
یوں یہ دانش وَر، اسلامی فکر کا نمائندہ ہونے کے دعوے کے لبادے میں درپردہ ایسے نظریات کی ترویج میں مصروف ہیں جو صہیونی عزائم کو تقویت دیتے ہیں۔
کم علم اور کم فہم لوگ اس گمراہی کے جال میں پھنس کر غلط فہمی کا شکار ہو رہے ہیں۔ لہٰذا اُمتِ مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد، ایمان اور تاریخ و روایات کی بنیادوں کی طرف لوٹے۔ کیونکہ حق و باطل کا معرکہ اب صرف فلسطین کی سرزمین پر ہی نہیں بلکہ ہرمسلمان کے دل و دماغ میں برپا ہوگا۔ یہی وقت ہے کہ امت بیدار ہوکر پہچانے کہ کیا واقعی قربِ قیامت کے آثار سامنے ہیں، اور اگر واقعی ایسا ہے تو اُمت کا ہرفرد خود اس عظیم معرکے کا حصہ بنے جس کا انجام بالآخر ایمان والوں کے حق میں ہونا ہے۔
کچھ افراد یہ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لَانَبِیَّ بَعْدِیْ، ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘‘، لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام بھی دوبارہ نہیں آ سکتے۔ یہ ایک کج فہمی اور علمی بددیانتی ہے۔’خاتم النبیین‘ ہونے کا مطلب، اجماعِ امت کے مطابق، یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئے شخص کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل منصبِ نبوت پر فائز کوئی نبی دوبارہ دنیا میں نہیں آ سکتا۔ یہ بھی واضح رہے کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب دوبارہ اس دُنیا میں آئیں گے، مگر نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کے طور پر۔ یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے اس وقت کے امام کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے، جیسا کہ صحیح احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔
مسیح علیہ السلام کو صلیب دے کر قتل کر دینے کے یہودی دعویٰ کا رَد کرتے ہوئے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے فرمایا:
وَّقَوْلِـہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللہِ۰ۚ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰكِنْ شُـبِّہَ لَہُمْ۰ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْہِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْہُ۰ۭ مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ۰ۚ وَمَا قَتَلُوْہُ يَقِيْنًۢا۱۵۷ۙ بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَيْہِ۰ۭ وَكَانَ اللہُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا۱۵۸ (النساء۴:۱۵۷-۱۵۸)اور وہ (یہود) کہتے ہیں کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا، بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جو لوگ اس پر اختلاف کر رہے ہیں وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں۔ ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی کر رہے ہیں۔ انھوں نے مسیح کو یقیناً قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور اللہ زبردست طاقت والا اور حکیم ہے۔
رفعِ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریح کرتے ہوئے ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: ’’یہ آیت یہود و نصاریٰ کے اس دعوے کی تردید کرتی ہے کہ انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا یا صلیب پر چڑھا دیا، اور اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے انھیں جسم اور روح سمیت زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔ وہ زندہ ہیں، انھیں موت نہیں آئی، اور وہ آخرالزمان میں نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کریں گے اور شریعتِ محمدی ؐپر عمل کریں گے‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر)
امام ابو عبداللہ محمد القرطبیؒ اپنی تفسیر الجامع لأحكام القرآن میں لکھتے ہیں: ’’اللہ نے انھیں اپنی طرف اٹھایا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ انھیں جسم اور روح سمیت زندہ اٹھایا گیا، نہ انھیں قتل کیا گیا اور نہ انھیں موت ہی آئی۔ وہ اللہ کے پاس زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے، خنزیر کو ماریں گے، صلیب توڑ دیں گے، عدل قائم کریں گے اور شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کریں گے۔ (تفسیر القرطبی)
تفسیر جلالین میں ہے کہ: ’’نہ انھوں (یہود) نے انھیں قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا، بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کردیا گیا … اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے انھیں زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے گمان کیا کہ انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا، مگر اللہ نے انھیں اٹھا لیا۔ اور گمان حقیقت کی جگہ نہیں لے سکتا‘‘۔ (تفسیر جلالین)
علامہ شہاب الدین سید محمود آلوسیؒ تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں: ’’اللہ نے انھیں اپنی طرف اٹھایا، یعنی آسمان پر جسم اور روح سمیت زندہ اٹھایا۔ وہ باقی ہیں یہاں تک کہ آخر الزمان میں نازل ہوں گے، مومنوں کے لیے نشانی بن کر اور کافروں کے لیے عبرت۔ دجال کو قتل کریں گے، عدل قائم کریں گے، فتنوں کا خاتمہ کریں گے اور شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کریں گے‘‘۔
مولانا مودودیؒ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں: ’’یہ اس معاملے کی اصل حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے۔ اس میں جزم اور صراحت کے ساتھ جو چیز بتائی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے میں یہودی کامیاب نہیں ہوئے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اب رہا یہ سوال کہ اٹھا لینے کی کیفیت کیا تھی، تو اس کے متعلق کوئی تفصیل قرآن میں نہیں بتائی گئی۔ قرآن نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ ان کو جسم و روح کے ساتھ کرۂ زمین سے اُٹھا کر آسمانوں پر کہیں لے گیا، اور نہ یہی صاف کہتا ہے کہ انھوں نے زمین پر طبعی موت پائی اور صرف ان کی روح اٹھائی گئی۔ اس لیے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جاسکتی ہے اور نہ اثبات۔ لیکن قرآن کے انداز بیان پر غور کرنے سے یہ بات بالکل نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے کہ اٹھائے جانے کی نوعیت و کیفیت خواہ کچھ بھی ہو، بہرحال مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ نے کوئی ایسا معاملہ ضرور کیا ہے جو غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ اس غیر معمولی پن کا اظہار تین چیزوں سے ہوتا ہے:
اس کے جواب میں قرآن سے اگر کوئی دلیل پیش کی جا سکتی ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ صرف یہ ہے کہ سورۂ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ نے مُتَوَفِّیْکَ کا لفظ استعمال کیا ہے (آیت ۵۵)۔ لیکن جیسا کہ وہاں ہم حاشیہ نمبر۵۱ میں واضح کر چکے ہیں، یہ لفظ طبعی موت کے معنی میں صریح نہیں ہے بلکہ قبضِ روح، اور قبضِ روح و جسم، دونوں پر دلالت کر سکتا ہے۔ لہٰذا یہ اُن قرائن کو ساقط کردینے کے لیے کافی نہیں ہے جو ہم نے اوپر بیان کیے ہیں۔ بعض لوگ جن کو مسیحؑ کی طبعی موت کا حکم لگانے پر اصرار ہے، سوال کرتے ہیں کہ تَوَفّی کا لفظ قبضِ روح و جسم پر استعمال ہونے کی کوئی اور نظیر بھی ہے؟ لیکن جب کہ قبضِ روح و جسم کا واقعہ تمام نوعِ انسانی کی تاریخ میں پیش ہی ایک مرتبہ آیا ہو تو اس معنی پر اس لفظ کے استعمال کی نظیر پوچھنا محض ایک بے معنی بات ہے۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ آیا اصل لغت میں اس استعمال کی گنجائش ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو ماننا پڑے گا کہ قرآن نے رفعِ جسمانی کے عقیدے کی صاف تردید کرنے کی بجائے یہ لفظ استعمال کر کے ان قرائن میں ایک اور قرینے کا اضافہ کر دیا ہے جن سے اس عقیدے کو اُلٹی مدد ملتی ہے، ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ موت کے صریح لفظ کو چھوڑ کر وفات کے محتمل المعنیین لفظ کو ایسے موقع پر استعمال کرتا جہاں رفعِ جسمانی کا عقیدہ پہلے سے موجود تھا اور ایک فاسد اعتقاد، یعنی اُلوہیتِ مسیحؑ کے اعتقاد کا موجب بن رہا تھا۔ پھر رفعِ جسمانی کے اس عقیدے کو مزید تقویت ان کثیر التعداد احادیث سے پہنچتی ہے جو قیامت سے پہلے عیسیٰ ابنِ مریم ؑ کے دوبارہ دنیا میں آنے اور دجال سے جنگ کرنے کی تصریح کرتی ہیں (تفسیر سورۂ احزاب کے ضمیمہ میں ہم نے ان احادیث کو نقل کر دیا ہے)۔ ان سے حضرت عیسیٰؑ کی آمدِ ثانی تو قطعی طور پر ثابت ہے۔ اب یہ ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ ان کا مرنے کے بعد دوبارہ اس دنیا میں آنا زیادہ قرینِ قیاس ہے، یا زندہ کہیں خدا کی کائنات میں موجود ہونا اور پھر واپس آنا؟‘‘ (تفہیم القرآنج۱،ص ۴۲۰-۴۲۱)
اس آیت کے دو الفاظ الْعَزِیْز اور الْحَکِیْم خود اس بات کی وضاحت کر رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش، نبوت، آسمان پر اٹھایا جانا، دوبارہ نزول، دجال کا خاتمہ، اور اسلام و شریعتِ محمدیؐ کا کامل نفاذ، یہ سب اللہ کی بے پناہ طاقت اور حکمت کے مطابق ہے۔ یوں اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو سراپا نشانی بنا دیا، جو مومنوں کے لیے ایک علامت اور کافروں کے لیے عبرت ہے۔ یہ تمام واقعات اللہ کی صفات الْعَزِیْز اور الْحَکِیْم کی واضح مثالیں ہیں۔
اس کے بعد سورۃ النساء کی درج ذیل آیت میں اس کی مزید وضاحت ہے:
وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ۰ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَكُوْنُ عَلَيْہِمْ شَہِيْدًا۱۵۹ۚ (النساء۴:۱۵۹ )اور اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس [عیسیٰؑ]کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا، اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا۔
ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: ’’یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰؑ قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہوں گے۔ اُس وقت تمام اہلِ کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے، کیونکہ نہ وہ جزیہ قبول کریں گے اور نہ اسلام کے سوا کسی دین کو ہی قبول کریں گے‘‘۔
مولانا مودودیؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اس فقرے کے دو معنی بیان کیے گئے ہیں اور الفاظ میں دونوں کا یکساں احتمال ہے۔ ایک معنی وہ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ’’اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیحؑ پر ایمان نہ لے آئے‘‘۔ اہلِ کتاب سے مراد یہودی ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ عیسائی بھی ہوں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ مسیحؑ کی طبعی موت جب واقع ہوگی، اس وقت جتنے اہلِ کتاب موجود ہوں گے وہ سب ان پر (یعنی ان کی رسالت پر) ایمان لا چکے ہوں گے‘‘۔ (تفہیم القرآن، جلد۱، سورۃ النساء، آیت ۱۵۹ کی تفسیر)
سورۂ آلِ عمران کی درج ذیل آیت اسے مزید واضح کرتی ہے:
اِذْ قَالَ اللہُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَہِرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ۰ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْہِ تَخْتَلِفُوْنَ۵۵ (اٰلِ عمرٰن۳:۵۵) جب اُس [اللہ] نے کہا کہ ’’اے عیسٰیؑ ، اب میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھ کو اپنی طرف اُٹھا لوں گا اور جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے اُن سے (یعنی اُن کی معیّت سے اور اُن کے گندے ماحول میں اُن کے ساتھ رہنے سے) تجھے پاک کردوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک اُن لوگوں پر بالادست رکھوں گا جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے۔ پھر تم سب کو آخرکار میرے پاس آنا ہے، اُس وقت میں اُن باتوں کا فیصلہ کردوں گا جن میں تمھارے درمیان اختلاف ہوا ہے۔
ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں اِنِّي مُتَوَفِّيْكَ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا، پھر بعد میں تجھے وفات دوں گا‘‘۔ مطر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یعنی میں تجھے دنیا سے پورا پورا واپس لینے والا ہوں، نہ کہ موت کے ذریعے واپس لینے والا‘‘۔ ابن کثیرؒ یہ اقوال درج کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں مُتَوَفِّيْكَ سے مراد نیند ہے کیونکہ سورۃ الزمر آیت ۴۲ میں موت کو نیند سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر حسن بصریؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو نیند کی حالت میں آسمانوں کی طرف اُٹھایا۔ پھر سورۃ النساء کی آیات ۱۵۶ تا ۱۵۹ کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ۰ۚ (النساء۴:۱۵۹) سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے قبل ہے اور یہ اس وقت ہوگا جب عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے قبل زمین پر اُتارے جائیں گے، اس وقت تمام اہل کتاب اسلام قبول کرلیں گے کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کسی سے قبولِ اسلام کے بجائے جزیہ دینا قبول ہی نہیں کریں گے۔ پھر حسن بصریؒ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو کہا: اِنَّ عِیْسٰی لَمْ یَمُتْ وَ اِنَّہٗ رَاجِعٌ اِلَیْکُمْ ،’’یقینا عیسیٰ علیہ السلام پر موت واقع نہیں ہوئی اور وہ قیامت سے قبل تمھاری طرف واپس آنے والے ہیں‘‘۔ جہاں تک ابن عباسؓ سے منسوب قول کا تعلق ہے، امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں تصریح کی ہے کہ حسن بصری ؒ، ابن زیدؒ اور ابن عباسؓ سے مروی صحیح قول یہ ہے کہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں کی طرف بغیر موت اور بغیر نیند کے اُٹھایا، اور امام طبریؒ نے بھی اسی کو صحیح کہا ہے۔
ابن جریر رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ تَوَفَّىٰ سے یہاں مراد عیسیٰ ؑ کا رفع (اٹھا لیا جانا) ہے۔
ابن ابی حاتم ؒنے حسن بصریؒ سے اِنِّي مُتَوَفِّيْكَ کی تفسیر میں یہ روایت کیا ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انھیں اٹھا لیا۔ (تفسیر ابن ابی حاتم)
ابن جریر الطبریؒ نے بھی نقل کیا ہے کہ حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ ؑ مرے نہیں، وہ تمھاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ (تفسیر طبری)
مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’اصل میں لفظ مُتَوَفِّيْكَ استعمال ہوا ہے۔ تَوَفّٰی کے اصل معنی لینے اور وصول کرنے کے ہیں، روح قبض کرنا اس لفظ کا مجازی استعمال ہے نہ کہ اصل لغوی معنی۔ یہاں یہ لفظ انگریزی لفظ To recall کے معنی میں مستعمل ہوا ہے، یعنی کسی عہدے دار کو اس کے منصب سے واپس لینا۔ چونکہ بنی اسرائیل صدیوں سے مسلسل نافرمانیاں کر رہے تھے، بار بار کی تنبیہوں اور فہمائشوں کے باوجود ان کی قومی روش بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی، پے در پے کئی انبیا ؑ کو قتل کر چکے تھے اور ہر اس بندۂ صالح کے خون کے پیاسے ہوجاتے تھے جو نیکی اور راستی کی طرف انھیں دعوت دیتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت تمام کرنے اور انھیں ایک آخری موقع دینے کے لیے حضرت عیسٰی اور حضرت یحییٰ علیہم السلام جیسے دوجلیل القدر پیغمبروںکو بیک وقت مبعوث کیا جن کے ساتھ مامور مِنَ اللہ ہونے کی ایسی کھلی کھلی نشانیاں تھیں کہ ان سے انکار صرف وہی لوگ کر سکتے تھے جو حق و صداقت سے انتہا درجہ کا عناد رکھتے ہوں اور حق کے مقابلے میں جن کی جسارت و بے باکی حد کو پہنچ چکی ہو۔ مگر بنی اسرائیل نے اس آخری موقع کو بھی ہاتھ سے کھو دیا اور صرف اتنا ہی نہ کیا کہ ان دونوں پیغمبروں ؑ کی دعوت رد کر دی، بلکہ ان کے ایک رئیس نے علی الاعلان حضرت یحییٰ ؑ جیسے بلند پایہ انسان کا سر ایک رقاصہ کی فرمائش پر قلم کرا دیا، اور ان کے علما و فقہا نے سازش کر کے حضرت عیسیٰ ؑ کو رومی سلطنت سے سزائے موت دلوانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کی فہمائش پر مزید وقت اور قوت صرف کرنا بالکل فضول تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو واپس بلا لیا اور قیامت تک کے لیے بنی اسرائیل پر ذلت کی زندگی کا فیصلہ لکھ دیا۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کی یہ پوری تقریر دراصل عیسائیوں کے عقیدہٴ اُلوہیتِ مسیح کی تردید و اصلاح کے لیے ہے اور عیسائیوں میں حضرت مسیح ؑکی الوہیت کے عقیدے کے بنیادی اسباب تین تھے:
قرآن نے پہلی بات کی تصدیق کی اور فرمایا کہ حضرت مسیح ؑ کا بے باپ پیدا ہونا محض اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا۔ اللہ جس کو جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یہ غیر معمولی طریقِ پیدائش ہرگز اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مسیح خدا تھا یا خدائی میں کچھ بھی حصہ رکھتا تھا۔
دوسری بات کی بھی قرآن نے تصدیق کی اور خود مسیحؑ کے معجزات ایک ایک کر کے گنائے، مگر بتادیا کہ یہ سارے کام اُس نے اللہ کے اِذن سے کیے تھے،باختیارِ خود کچھ بھی نہیں کیا، اس لیے ان میں سے بھی کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے تم یہ نتیجہ نکالنے میں کچھ بھی حق بجانب ہو کہ مسیح ؑکا خدائی میں کوئی حصہ تھا۔
اب تیسری بات کے متعلق اگر عیسائیوں کی روایت سرے سے بالکل ہی غلط ہوتی تب ان کے عقیدۂ اُلوہیتِ مسیح ؑکی تردید کے لیے ضروری تھا کہ صاف صاف کہہ دیا جاتا کہ جسے تم الٰہ اور ابن اللہ بنارہے ہو، وہ مر کر مٹی میں مل چکا ہے، مزید اطمینان چاہتے ہو تو فلاں مقام پر جا کر اس کی قبر دیکھ لو۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے، قرآن صرف یہی نہیں کہ ان کی موت کی تصریح نہیں کرتا، اور صرف یہی نہیں کہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو زندہ اٹھائے جانے کے مفہوم کا کم از کم احتمال تو رکھتے ہی ہیں، بلکہ عیسائیوں کو الٹا یہ بتا دیتا ہے کہ مسیح ؑ سرے سے صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے، یعنی وہ جس نے آخری وقت میں ایلی ایلی لما شبقتانی کہا تھا اور وہ جس کی صلیب پر چڑھی ہوئی حالت کی تصویر تم لیے پھرتے ہو، وہ مسیح نہ تھا، مسیح کو تو اس سے پہلے ہی خدا نے اٹھا لیا تھا‘‘۔(تفہیم القرآن،ج۱،ص ۲۵۷-۲۵۸)
مولانا ابوالکلام آزاد نے تفسیر ترجمان القرآن میں تصریح کی ہے کہ ’’حضرت عیسیٰ ؑکے مخالفین نے انھیں سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور جو لوگ آپ کو گرفتار کرنے والے تھے ان میں سے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہم شکل بنا دیا، اور مخالفین نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دھوکے میں اسے سولی پر چڑھا دیا۔ آیت کا جو ترجمہ یہاں کیا گیا ہے وہ عربی لفظ توفٰی کے لغوی معنی پر مبنی ہے، اور مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے یہاں تَوفّٰی کے یہی معنی مراد لیے ہیں‘‘۔
مولانا عبدالرحمٰن کیلانی نے تفسیر تیسیر القرآن میں لکھا ہے کہ ’’آپ رفع عیسیٰ ؑکے متعلق غور فرمائیے۔ منکرین کا سارا زور لفظ تَوفّٰی پر ہوتا ہے جس کے لغوی معنی ’پورے کا پورا وصول کر لینا‘ ہیں۔ اس لفظ کو قرآن ہی نے نیند اور موت کے موقع پر قبض روح کے لیے استعمال کیا۔ حالانکہ نیند کی حالت میں پوری روح قبض نہیں ہوتی بلکہ جسم میں بھی ہوتی ہے۔ پھر اگر اس لفظ کو روح اور بدن دونوں کو وصول کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو لغوی لحاظ سے یہ معنی اور بھی زیادہ درست ہیں۔ رَافِعُکَ اِلَیَّ کے الفاظ اس معنی کی مزید تائید کرتے ہیں اور دوسرے مقام پر تو اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں فرمایا: وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰكِنْ شُـبِّہَ لَہُمْ۰ۭ (النساء۴:۱۵۷)۔ اس آیت میں آپ کی زندگی اور رفع پر تین دلائل دیے گئے ہیں:
یہ یقینی بات ہے کہ یہود عیسیٰ علیہ السلام کو مار نہ سکے۔
پھر مزید صراحت یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔
مولانا کیلانی نے مزید لکھا ہے کہ ’’منکرینِ معجزات، خارقِ عادت امور کا انکار اور پھر ان کی تاویل اس لیے کرتے ہیں کہ یہ [معجزات]موجودہ زمانے کے مادی معیاروں پر پورے نہیں اُترتے۔ لہٰذا، تمام عقل پرستوں نے حضرت عیسیٰؑ کی بن باپ پیدائش، ان کے دیگر تمام معجزات اور آسمانوں پر اٹھائے جانے کی تاویل کر ڈالی۔ البتہ، ان میں مرزا غلام احمد قادیانی متنبی منفرد ہیں جو باقی تمام معجزات کے تو قائل ہیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں پر اٹھائے جانے اور پھر قیامت سے پہلے اس دنیا میں آنے کے منکر ہیں۔ وہ اس لیے کہ اس نے خود مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اور اگر وہ رفعِ عیسیٰؑ کو تسلیم کر لیتا تو اس کی اپنی بات نہیں بنتی تھی۔ گویا یہ کام اس نے دوسری وجہ یعنی اتباعِ ہوائے نفس کے تحت سرانجام دیا ہے‘‘۔ (تفسیر تیسیر القرآن)
سورۂ زخرف کی آیت ۶۱ میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِ ۰ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ۶۱ (الزخرف ۴۳:۶۱) اور بے شک وہ (عیسیٰ علیہ السلام ) قیامت کی ایک نشانی ہیں، پس تم اس میں ہرگز شک نہ کرو اور میری پیروی کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔
یہاں وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ کا مطلب نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہونا ہے۔ اہلِ سنت کے تمام مفسرین جیسے ابن کثیرؒ، طبریؒ، قرطبیؒ، جلالینؒ، آلوسیؒ وغیرہ کا اجماع ہے کہ یہاں عِلْمٌ سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے زندہ نزول ہے، جو قربِ قیامت میں ہوگا۔
ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: ’’مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں، یعنی وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ ا بوہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابوالعالیہؒ، ابومالکؒ، عکرمہؒ، الحسنؒ، قتادہؒ اور الضحاکؒ سے بھی یہی مروی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قیامت کے قریب آنے کی علامت اور دلیل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت سے پہلے نازل فرمائے گا جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ روایت ہونے والی احادیث سے ثابت ہے‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر)
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر احادیث مجموعی طور پر ۹۰ طریقوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں جو صحیح یا حسن درجہ کی ہیں اور یہ احادیث مجموعی طور پر تواتر کے درجے کو پہنچ جاتی ہیں۔ سیّد مودودیؒ نے سورئہ اَحزاب کے ضمیمہ میں ان میں سے ۲۱ ؍احادیث بیان کردی ہیں۔ امام الشوکانیؒ نے نزولِ مسیحؑ پر ۳۹ ؍احادیث بیان کی ہیں۔ ان میں کچھ احادیث یہ ہیں:
۱- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریب ہے کہ تمھارے درمیان ابن مریم (حضرت عیسیٰ ؑ) ایک منصف عادل کے طور پر نازل ہوں گے۔ وہ صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، مال اتنا زیادہ ہوگا کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا، یہاں تک کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے ایک سجدہ بہتر ہوگا‘‘۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمھارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمھارا امام تم ہی میں سے ہوگا‘‘۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
۳- ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریب ہے کہ تم میں ابن مریم عادل و منصف حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے، صلیب توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کریں گے اور مال اس قدر ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا‘‘۔ (صحیح بخاری ، راوی: ابوہریرہؓ)
۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ یقیناً وہ نازل ہوں گے۔ جب تم انھیں دیکھو تو پہچان لینا: درمیانہ قد کے، سرخی مائل سفید رنگت والے ہوں گے، دو ہلکے زرد کپڑوں میں ہوں گے۔ یوں لگے گا جیسے ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو حالانکہ وہ تر نہ ہوگا‘‘۔ (سنن ابو داؤد، صحیح الاسناد حسن، راوی: نواس بن سمعان ؓ)
۵- ’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ پھر عیسیٰ ابن مریمؑ نازل ہوں گے۔ ان کا امیر کہے گا: آئیے ہمیں نماز پڑھائیں۔ وہ فرمائیں گے: نہیں، تم میں سے بعض بعض کے امیر ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے اس امت کی عزّت ہے‘‘۔ (سنن ابو داؤد، صحیح، راوی: نواس بن سمعان ؓ)
۶- ’’عیسیٰؑ ابن مریم ؑنازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے۔ زمین میں چالیس سال قیام کریں گے، پھر وفات پائیں گے، مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے اور انھیں دفن کریں گے‘‘۔ (مسند احمد بن حنبل، صحیح، راوی: نواس بن سمعانؓ)
۷- ’’عیسیٰ ابن مریمؑ مشرقی دمشق کے سفید منارہ پر دو زرد کپڑوں میں نازل ہوں گے…‘‘ (سنن کبریٰ للبیہقی ، حسن، راوی: نواس بن سمعان ؓ)
۸- ’’عیسیٰ ؑشام کی زمین پر نازل ہوں گے، کافروں سے لڑیں گے اور عدل قائم کریں گے‘‘۔ (المعجم الاوسط للطبرانی ،حسن، راوی: ابو ہریرہؓ)
ان تمام احادیثِ صحیحہ میں قربِ قیامت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے اور چالیس سال تک حکومت کرنے کے بعد وفات پانے کی صراحت کے بعد بھی کوئی ابہام یا شبہ باقی رہ جاتا ہے؟ اس کے باوجود جو شخص یہ کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام واپس نہیں آئیں گے، وہ قرآن و حدیث کو جھٹلاتا ہے اور صحیح بخاری، صحیح مسلم اور تواتر کی حد کو پہنچنے والی دیگر صحیح احادیث کا کھلا انکار کرتا ہے۔ قرآن و احادیث میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا گیا، نہ صلیب پر چڑھایا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں موت دیے بغیر اپنی جانب اٹھا لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی یہی مفہوم سمجھا، اور صحیح احادیث نے بھی اسی کی تائید کی۔ اسلام کے دورِ اوّل سے لے کر موجودہ دور تک تمام معتبر مفسرین، محدثین، علما اور فقہا نے بھی یہی عقیدہ بیان کیا ہے۔ لیکن افسوس کہ دورِ جدید کے بعض نام نہاد مفکرین، دانش ور اور متجدّدین اپنی عقل پر ایسا فخر کرتے ہیں کہ گویا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علما و مفسرینِ سلف و خلف سے زیادہ فہمِ دین رکھتے ہیں اور زیادہ عربی داں ہیں، اور پھر صہیونی ایجنڈے کی اُمت مسلمہ میں ترویج کے لیے گمراہ کن دعویٰ کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔
_______________