تاریخ کا ایک عجیب مزاج ہے۔وہ خود کو کبھی حرف بہ حرف نہیں دہراتی، لیکن اس کے کردار بار بار نئے رُوپ میں اسٹیج پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔ نام بدل جاتے ہیں، جھنڈے بدل جاتے ہیں، سلطنتوں کے نقشے بدل جاتے ہیں، جنگی ہتھیاروں کی شکلیں بدل جاتی ہیں، مگر طاقت کا مزاج نہیں بدلتا۔ ہر دور کی بزعمِ خود سوپر پاور کو ایک نہ ایک مرحلے پر یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اب دنیا اس کے ارادوں کے سامنے زیادہ دیر ٹھیر نہیں سکتی۔
قدیم زمانے میں یہ یقین ’رستم‘ کو تھا۔پھر رومی قیصروں کو ہوا۔کبھی منگولوں نے یہی گمان کیا۔برطانوی سلطنت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ آج یہی اعتماد امریکا کی حکمرانی میں جھلکتا ہے۔
طاقت جب مسلسل کامیابی کی سمت بڑھتی رہتی ہے تو وہ صرف اپنے مخالف کی طاقت کا اندازہ لگانا نہیں چھوڑتی، بلکہ اس کے حوصلے کو بھی کم تر سمجھنے لگتی ہے۔ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اس کے جہاز صرف آسمان میں نہیں اڑتے، بلکہ مخالف کے اعصاب پر بھی پرواز کرتے ہیں۔ اس کے بحری بیڑے صرف سمندر کی موجوں کو نہیں چیرتے، بلکہ حکومتوں کے عزم و ارادے بھی توڑ دیتے ہیں۔ اس کا اقتصادی دباؤ صرف معیشت کو نہیں، بلکہ سیاسی قیادت کے اعتماد کو بھی منہدم کردیتا ہے۔
شاید اسی نفسیات کے ساتھ امریکی قیادت نے ایران کو بھی دیکھا۔
یہ گمان کیا گیا کہ جب جنگی بیڑے حرکت میں آئیں گے، جب مسلسل دھمکیاں دی جائیں گی، جب اقتصادی پابندیوں کا شکنجا مزید سخت ہوگا، جب فضاؤں میں بمبار طیاروں کی گھن گرج سنائی دے گی، تو بالآخر تہران کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی وہی خاموشی اتر آئے گی، جو دنیا کے کئی دوسرے دارالحکومتوں میں اترتی رہی ہے۔لیکن اس بار منظرنامہ مختلف تھا۔ دھمکیوں کے جواب میں خاموشی نہیں آئی۔فوجی دباؤ کے جواب میں پسپائی نہیں ہوئی،اور مسلسل خطرات کے باوجود ایک جملہ بار بار سنائی دیتا رہا:’’ہم جھکیں گے نہیں‘‘۔یہ جملہ صرف ایران کا سیاسی موقف نہیں تھا۔ یہ طاقت کی اس پوری نفسیات کے لیے ایک غیر متوقع جواب تھا، جو یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ خوف ایک ایسی زبان ہے جسے دنیا کی ہر قوم لازماً سمجھتی ہے۔
یہ صرف زبانی مزاحمت نہیں تھی۔ جب امریکا اور اسرائیل کے جنگی طیاروں نے ایرانی سرزمین پر براہِ راست حملے کیے، جب تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جب ٹرمپ کی جانب سے کھلی دھمکیاں دی گئیں کہ اگر ایران نے ہتھیار نہ ڈالے تو نتائج مزید سنگین ہوں گے، تو یہاں سے وہی امتحان شروع ہوا، جو تاریخ میں ہر مزاحم قوم کو درپیش رہا ہے: کیا نقصان اٹھانے کے بعد حوصلہ بھی ٹوٹ جاتا ہے، یا نقصان کے باوجود موقف قائم رہتا ہے؟ ایران نے جانی و مالی نقصان اٹھایا، تنصیبات متاثر ہوئیں، مگر سیاسی و عسکری قیادت کی زبان سے وہی جملہ دہرایا گیا جو صدیوں سے استقامت کی علامت رہا ہے: ’ہم جھکیں گے نہیں!‘
یہاں سوال صرف ایران کا نہیں رہتا۔اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی قوت ہے جو بعض قوموں کو ایسے مواقع پر خوف کے بجائے استقامت عطا کرتی ہے؟یہ صرف فوجی طاقت کا سوال نہیں۔اگر جنگیں صرف اسلحے سے جیتی جاتیں تو تاریخ میں چھوٹی قومیں کبھی بڑی سلطنتوں کے سامنے کھڑی نہ ہوتیں۔ اگر میزائل ہی سب کچھ ہوتے تو ویت نام کی جنگ تاریخ کا حصہ نہ بنتی، افغانستان تین سوپر پاورز کے لیے قبرستان نہ بنتا، اور نوآبادیاتی سلطنتیں دنیا کے نقشے سے اس طرح رخصت نہ ہوتیں۔
یہاں ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے۔
ہر جنگ دو محاذوں پر لڑی جاتی ہے۔ایک محاذ زمین پر ہوتا ہے، جہاں ٹینک، میزائل، طیارے اور بحری بیڑے ہوتے ہیں۔ دوسرا محاذ انسان کے دل کے اندر ہوتا ہے، جہاں خوف، اُمید، یقین، مقصد اور قربانی کا جذبہ آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔پہلے محاذ پر ہتھیار فیصلہ کرتے ہیں اوردوسرے محاذ پر ایمان، نظریہ اور حوصلہ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب یہ دوسرا محاذ شکست کھا جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی فوج بھی کسی قوم کو زیادہ دیر تک سہارا نہیں دے سکتی۔ لیکن اگر دل کے اندر یقین زندہ ہو، تو وسائل کی کمی بھی ہمیشہ فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں چودہ سو سال پیچھے لے جاتی ہے۔
فارس کی عظیم سلطنت اپنے عروج پر تھی۔ اس کے دربار کی شان و شوکت، اس کی فوجوں کی کثرت، اس کے خزانے، اس کے محل اور اس کا غرور، سب کچھ اس یقین سے لبریز تھا کہ دنیا میں اس کے مقابلے کی کوئی طاقت باقی نہیں رہی۔پھر ایک دن اس کے دربار میں ایک ایسا شخص داخل ہوا جس کے لباس میں کوئی شاہانہ جاہ و جلال نہ تھا، جس کے ہاتھ میں کوئی سونے کا عصا نہ تھا، اور جس کے پیچھے ہزاروں محافظ نہ تھے۔ لیکن اس کی آنکھوں میں وہ اعتماد تھا جو دنیا کے بڑے بڑے تاجداروں کے پاس بھی نہیں تھا۔وہ حضرت رِبعی بن عامرؓ تھے۔
رستم نے اس دن صرف ایک آدمی کو نہیں دیکھا۔اس نے پہلی مرتبہ ایک ایسے انسان کو دیکھا تھا جس نے خوف سے آزادی حاصل کر لی تھی۔اور جب کوئی انسان خوف سے آزاد ہوجائے، تو پھر تاریخ کا رخ بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
رستم کے دربار میں آنے والے اس اجنبی کے ہاتھ میں نہ کوئی شاہی فرمان تھا، نہ کسی سلطنت کا پروانہ، نہ دولت کا غرور اور نہ لشکروں کی تعداد کا فخر۔ اس کے پاس اگر کچھ تھا تو صرف ایک ایسا یقین تھا جسے نہ خریدا جا سکتا تھا، نہ چھینا جا سکتا تھا۔
یہی یقین ہر دور کی طاقت کے لیے سب سے بڑا معمہ رہا ہے۔
طاقت ور قومیں ہمیشہ اپنے مخالف کی فوج گنتی ہیں، اس کے ٹینک شمار کرتی ہیں، اس کے جہازوں کا جائزہ لیتی ہیں، اس کے خزانے کا اندازہ لگاتی ہیں، مگر اکثر وہ ایک چیز کو نظر انداز کردیتی ہیں___ انسان کے عقیدے اور ایمان کی قوت!اسی لیے تاریخ میں بارہا ایسا ہوا کہ طاقت ور سلطنتیں اپنے حساب میں سب کچھ شامل کرتی رہیں، لیکن ایک ایسا عنصر بھول گئیں جس کا کوئی ریاضیاتی فارمولا نہیں ہوتا۔ وہ عنصر تھا ایمان، مقصد اور قربانی کا جذبہ۔
اسی غلطی نے رستم کو حیران کیا تھا،اور اسی غلطی نے بعد کی بہت سی سلطنتوں کو بھی حیران کر دیا۔ یہ صرف فارس کی داستان نہیں۔نپولین بھی روس کی برف سے زیادہ روسی عزم کو نہ سمجھ سکا۔برطانوی سلطنت ہندوستان پر حکومت تو کر سکی، لیکن آزادی کی خواہش کو ہمیشہ کے لیے ختم نہ کر سکی۔ سوویت یونین افغانستان میں اپنی عسکری قوت لے آیا، مگر وہاں کے قبائلی معاشرے کی مزاحمتی نفسیات اور جذبۂ ایمان کو پوری طرح نہ پڑھ سکا۔امریکا نے ویت نام میں جدید ترین اسلحہ استعمال کیا، لیکن یہ اندازہ نہ لگا سکا کہ جب ایک قوم جنگ کو صرف زمین کی جنگ نہیں بلکہ اپنے وجود کی جنگ سمجھنے لگے، تو اس کے فیصلے بدل جاتے ہیں۔یہ مثالیں ایک دوسرے سے مختلف ضرور ہیں، لیکن ان میں ایک مشترک سبق موجود ہے___ تاریخ کا سبق!
اسی اصول کو سمجھے بغیر حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی کش مکش کو بھی پوری طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد رہیں۔ اس کی معیشت پر دباؤ ڈالا گیا۔ اسے عالمی تنہائی سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے جوہری پروگرام پر مسلسل تنازعات رہے، اور اس کی علاقائی پالیسیوں پر شدید مخالفت ہوتی رہی۔
ان تمام عوامل نے یقیناً ایران کو نقصان پہنچایا۔مگر ایک حقیقت اپنی جگہ موجود رہی کہ دباؤ کے باوجود اس کی ریاست مکمل طور پر ٹوٹ نہیں گئی، اور نہ اس نے ہر موقع پر وہ راستہ اختیار کیا جس کی توقع اس کے مخالفین کر رہے تھے۔
اصل سوال یہ ہے کہ وہ مسلسل دباؤ کے باوجود نفسیاتی طور پر شکست خوردہ کیوں نہیں دکھائی دیتا؟یہ سوال صرف ایران کے بارے میں نہیں۔یہ ہر اس قوم کے بارے میں ہے، جو اپنے آپ کو کسی بڑے مقصد سے وابستہ سمجھتی ہے۔کیونکہ جب کسی معاشرے میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ اس کی جدوجہد صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک شناخت یا ایک تاریخی ذمہ داری کا حصہ ہے، تو اس کے فیصلوں کا معیار بدل جاتا ہے۔ ایسے معاشرے نقصان ضرور اٹھاتے ہیں، لیکن ہر نقصان کو شکست نہیں سمجھتے۔
یہاں طاقت اور استقامت کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔
طاقت دوسروں کو خوف زدہ کر سکتی ہے،استقامت خود خوف کو شکست دیتی ہے۔ طاقت کا تعلق وسائل سے ہوتا ہے،استقامت کا تعلق یقین سے۔طاقت دوسروں پر اثر ڈالتی ہے، استقامت پہلے اپنے ماننے والوں کے دلوں کو مضبوط کرتی ہے، پھر اس کا اثر مخالف پر بھی پڑنے لگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر بڑی عسکری طاقت صرف ہتھیار نہیں بناتی، بلکہ نفسیاتی جنگ بھی لڑتی ہے۔ دھمکیاں، اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ، میڈیا کی مہمات، یہ سب اسی لیے ہوتے ہیں کہ مخالف پہلے اپنے دل میں ہار جائے۔کیونکہ اگر دل ہار جائے تو میدانِ جنگ میں فتح نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔لیکن اگر دل نہ ہارے، تو جنگ کا نقشہ بدلنے لگتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں رستم کے دربار کی وہ مختصر ملاقات ایک دائمی سبق بن جاتی ہے۔ رستم کے سامنے کھڑا شخص صرف ایک سپاہی نہیں تھا۔وہ ایک ایسے تصورِ حیات کا نمائندہ تھا جس نے انسان کو یہ سکھایا تھا کہ عزت کا سرچشمہ طاقت نہیں، حق ہے۔ زندگی کا مقصد صرف زندہ رہنا نہیں، بلکہ سچ پر قائم رہنا ہے۔ اور موت کا خوف اس انسان کو غلام بنا سکتا ہے جس نے زندگی کو ہی اپنی آخری منزل سمجھ لیا ہو۔رستم نے اس دن ایک لشکر نہیں دیکھا تھا۔اس نے ایک ایسی فکر کو دیکھا تھا جسے شکست دینا تلواروں سے ممکن نہیں تھا۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ہمیں حضرت رِبعی بن عامرؓ اور رستم کے درمیان ہونے والے اس تاریخی مکالمے کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، کہ اس مختصر گفتگو میں طاقت، آزادی، ایمان اور انسانی وقار کا وہ فلسفہ پوشیدہ ہے۔
ذرا تصور کیجیے۔ایک طرف فارس کی عظیم سلطنت ہے۔محلوں کی شان و شوکت، قیمتی قالین، ریشمی پردے، سونے چاندی سے مزین ستون، درباریوں کی قطاریں، جرنیلوں کی تلواریں اور ایک ایسا سپہ سالار جسے یقین ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کی سلطنت کو چیلنج نہیں کرسکتی۔ دوسری طرف عرب کے صحرا سے آنے والا ایک شخص۔سادہ لباس،سادہ ہتھیار،کوئی ظاہری جاہ و جلال نہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت رِبعی بن عامرؓ اپنے گھوڑے سمیت دربار میں داخل ہوئے۔ درباریوں نے شاہی آداب کا تقاضا کیا، مگر انھوں نے اس تکلف کو قبول نہ کیا۔ ان کے لیے اصل عظمت محل کی نہیں، اس پیغام کی تھی جس کے وہ نمائندہ تھے۔ رستم حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا۔وہ شاید یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ آخر اس اعتماد کا سرچشمہ کیا ہے؟ یہ شخص کس طاقت کے سہارے ایک عظیم سلطنت کے قلب میں اس بے خوفی کے ساتھ کھڑا ہے؟
رستم نے سوال کیا:’’تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘یہ بظاہر ایک سفارتی سوال تھا، لیکن حقیقت میں یہ دو تہذیبوں کا مکالمہ تھا۔ایک تہذیب جو طاقت کو انسان کی برتری کا معیار سمجھتی تھی،اور دوسری تہذیب جو انسان کو اللہ کا بندہ سمجھ کر ہر دوسری غلامی سے آزاد کرنا چاہتی تھی۔
حضرت رِبعی بن عامرؓ نے جواب دیا:
الله ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد إلٰى عبادة الله، ومن ضيق الدنيا إلٰى سعتها، ومن جور الأديان إلٰى عدل الإسلام ،اللہ نے ہمیں اس لیے بھیجا ہے کہ ہم لوگوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لے آئیں، دنیا کی تنگی سے اس کی وسعت کی طرف، اور ظلم پر قائم نظاموں سے اسلام کے عدل کی طرف۔
یہ چند جملے بظاہر مختصر ہیں، مگر ان کے اندر ایک پوری تہذیب بول رہی تھی۔
ذرا غور کیجیے۔حضرت رِبعیؓ نے یہ نہیں کہا کہ ہم زمینیں فتح کرنے آئے ہیں۔انھوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ ہم دولت حاصل کرنے آئے ہیں۔انھوں نے سلطنت، خزانے یا اقتدار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔انھوں نے انسان کی آزادی کی بات کی۔وہ آزادی جو کسی بادشاہ سے نہیں، اللہ کی بندگی سے حاصل ہوتی ہے۔یہی وہ جواب تھا جس نے رستم کو خاموش کر دیا۔کیونکہ اس کے پاس ہر سوال کا عسکری جواب تھا، مگر اس سوال کا نہیں کہ اگر کوئی قوم اپنے مقصد کو جان و مال سے زیادہ عزیز سمجھنے لگے تو اسے کس ہتھیار سے شکست دی جائے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ حال سے آ کر ملتی ہے۔
ہر دور کا ’رستم‘ یہی سمجھتا ہے کہ طاقت کا سب سے بڑا اظہار دوسروں کو خوف زدہ کر دینا ہے۔لیکن ہر دور کے رِبعیؓ دنیا کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ خوف سے آزاد انسان کو زیر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسلام نے انسان کو سب سے پہلے اس کے دل میں موجود خوف سے آزاد کیا۔ اسے بتایا کہ عزّت، رزق، زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ جب یہ یقین دل میں اتر جائے تو پھر بڑی سے بڑی طاقت انسان کے جسم کو تو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس کے ارادے کو نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ہر زمانے میں طاقت کے ایوانوں کو سب سے زیادہ حیران کرتی رہی ہے۔ کیونکہ ہتھیاروں کا مقابلہ ہتھیاروں سے کیا جا سکتا ہے، لیکن ’یقین‘ کا مقابلہ صرف ’یقین ‘سے ہوتا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس کی روشنی میں ہمیں آج کی عالمی سیاست، طاقت کی نفسیات اور مزاحمت کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
گذشتہ کئی عشروں سے ایران مسلسل دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، سائنسی اور عسکری سرگرمیوں پر نگرانی، علاقائی کش مکش، اور بارہا فوجی تصادم کا خطرہ۔ ان تمام حالات نے ایران کی معیشت، عوام اور ریاستی ڈھانچے پر گہرے اثرات ڈالے۔ اس کے باوجود ایک حقیقت نے عالمی مبصرین کو متوجہ کیا کہ مسلسل دباؤ کے باوجود ایرانی ریاست اور معاشرہ مکمل نفسیاتی انہدام کا شکار نہیں ہوا۔ اختلافات اپنی جگہ، مشکلات اپنی جگہ، لیکن ریاستی سطح پر مزاحمت کا بیانیہ برقرار رہا۔ آخر کیوں؟اس سوال کا جواب صرف میزائلوں میں تلاش کرنا کافی نہیں۔صرف ڈرون ٹکنالوجی اور عسکری حکمت ِ عملی میں بھی نہیں۔ہر فوج کے پیچھے ایک معاشرہ کھڑا ہوتا ہے، اور ہر معاشرے کے پیچھے ایک تصورِ حیات۔
یہاں ایک اور پہلو قابلِ غور ہے:دنیا کی بڑی طاقتیں صرف فوجی برتری قائم نہیں رکھتیں، بلکہ نفسیاتی برتری بھی قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے عسکری طاقت، اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ، میڈیا کی حکمت ِ عملی اور مسلسل دھمکیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ مخالف یہ محسوس کرنے لگے کہ مزاحمت بے سود ہے۔ اس لیے کسی بھی جنگ میں پہلا ہدف اکثر انسان کا حوصلہ ہوتا ہے۔اگر حوصلہ ٹوٹ جائے تو ہتھیار بعد میں گرتے ہیں۔لیکن اگر حوصلہ باقی رہے تو نقصان کے باوجود مزاحمت جاری رہ سکتی ہے۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے___ بدر میں مسلمانوں کے پاس تعداد کم تھی۔احزاب میں مدینہ چاروں طرف سے گھرا ہوا تھا۔اندلس کی فتح سے پہلے مسلمانوں کے پاس سمندر پار کرنے کے وسائل محدود تھے۔صلاح الدین ایوبی کے سامنے صلیبی افواج زیادہ منظم تھیں۔ ان مثالوں میں ہر واقعہ اپنی جگہ منفرد ہے، لیکن ان سب میں ایک مشترک حقیقت موجود ہے: نتیجہ صرف ظاہری وسائل سے متعین نہیں ہوتا۔
قرآن اسی حقیقت کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہے:
كَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِيْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً كَثِيْرَۃًۢ بِـاِذْنِ اللہِ۰ۭ (البقرہ ۲:۲۴۹)کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ چکی ہیں۔
یہ آیت صرف جنگ کا بیان نہیں، بلکہ ایک فکری اصول ہے۔ یہ انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وسائل اہم ہیں، منصوبہ بندی ضروری ہے، تیاری ناگزیر ہے، لیکن فیصلہ کن قوت صرف مادی اسباب نہیں ہوتے۔شاید یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کسی ایسی قوم کو دیکھتی ہے جو شدید دباؤ کے باوجود اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوتی، تو حیرت صرف اس کی عسکری صلاحیت پر نہیں ہوتی، اصل حیرت اس کے اجتماعی حوصلے پر ہوتی ہے۔ یہاں پر ہمیں ایک اور سوال اپنے آپ سے بھی پوچھنا چاہیے۔کیا استقامت صرف جنگ کے میدان میں مطلوب ہے،یا یہ ہر اس معاشرے کی ضرورت ہے جو اپنے دین، اپنی تہذیب، اپنی آزادی اور اپنی اخلاقی اقدار کو زندہ رکھنا چاہتا ہو؟
یہ سوال صرف ایران کا نہیں۔یہ سوال ہر اس قوم کا ہے جو قرآن کو اپنی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہنما مانتی ہے۔اگر ہم صرف اسلحے کی زبان میں تاریخ کو پڑھیں تو شاید بہت سے سوالوں کا جواب کبھی نہ مل سکے۔
ہم نے تاریخ میں دیکھا کہ فلاں سلطنت کے پاس زیادہ فوج تھی، فلاں کے پاس جدید ہتھیار تھے، فلاں کے پاس مضبوط معیشت تھی، پھر بھی وہ شکست کھا گئی۔لیکن جب ہم تاریخ کو انسان کی روح، اس کے عقیدے اور اس کے اخلاق کی روشنی میں پڑھتے ہیں، تو منظر بدلنے لگتا ہے۔قرآن بار بار ایک حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ قوموں کا عروج و زوال صرف مادی وسائل سے وابستہ نہیں ہوتا۔ ان کی اندرونی کیفیت، ان کا اخلاق، ان کا عدل، ان کی امانت اور ان کا اللہ سے تعلق بھی ان کی تقدیر میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔اسی لیے اسلام نے جنگ جیتنے سے پہلے انسان کی تعمیر پر زور دیا۔مدینہ کی ریاست بدر سے پہلے وجود میں آئی، لیکن بدر سے بھی پہلے مکہ میں تیرہ برس تک انسانوں کی تعمیر ہوئی۔ ایمان پیدا کیا گیا، کردار سنوارا گیا، امانت، صبر، قربانی اور آخرت کا یقین دلوں میں اتارا گیا۔ گویا اسلام نے پہلے انسان کو فتح کیا، پھر میدان فتح ہوئے۔یہی وہ سبق ہے جسے ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔
ہم طاقت کو صرف میزائلوں، ٹینکوں، معیشت اور فوجی بجٹ میں تلاش کرتے ہیں، جب کہ قرآن طاقت کا ایک اور سرچشمہ بھی بتاتا ہے:’’اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدم جما دے گا‘‘۔یہ وعدہ کسی خاص زمانے یا کسی ایک قوم کے لیے نہیں، بلکہ ایک ابدی اصول ہے۔لیکن یہاں ایک غلط فہمی سے بھی بچنا ضروری ہے۔ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ اسباب اختیار نہ کیے جائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر میں صفیں بھی درست کروائیں، احد میں حکمت ِ عملی بھی اختیار کی، خندق بھی کھدوائی، صلح حدیبیہ بھی کی اور ریاست کی منصوبہ بندی بھی فرمائی۔گویا ایمان اور تدبیر ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ معاون ہیں۔
آج اگر کوئی مسلم معاشرہ مضبوط ہونا چاہتا ہے تو اسے صرف جذبات نہیں، بلکہ علم، تحقیق، صنعت، ٹکنالوجی، اقتصادی خود انحصاری، نظم و ضبط اور اعلیٰ اخلاق، سب کو ایک ساتھ اختیار کرنا ہوگا۔ ایمان انسان کو مقصد دیتا ہے، اور علم اسے اس مقصد تک پہنچنے کے وسائل فراہم کرتا ہے۔اس نکتے پر ہمیں سب سے زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔اگر کسی قوم کے پاس جدید ہتھیار ہوں مگر اس کے اندر کرپشن عام ہو، انصاف کمزور ہو، امانت ناپید ہو، علم کی قدر ختم ہو جائے اور اجتماعی اخلاق زوال پذیر ہو جائیں، تو اس کی ظاہری طاقت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ اگر کوئی معاشرہ اپنے افراد میں مقصد، ذمہ داری، نظم، قربانی اور اخلاق پیدا کر دے، تو محدود وسائل کے باوجود وہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے۔ یہ اصول صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، پوری انسانی تاریخ کے لیے سچ ہے۔
آج دنیا جس اخلاقی اضطراب سے گزر رہی ہے، اس کے آثار مختلف صورتوں میں نمایاں ہیں۔ طاقت ور معاشروں کے اندر بھی اعتماد کا بحران، سیاسی تقسیم، اخلاقی سوالات اور قیادت کی ساکھ پر اٹھنے والے شکوک اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ صرف معاشی خوش حالی یا عسکری برتری کسی تہذیب کو دائمی استحکام نہیں دے سکتے۔شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب رستم کے دربار میں ایک صحابیؓ نے چودہ سو برس پہلے دے دیا تھا، مگر انسانیت ابھی تک اس جواب کی گہرائی کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
_______________