ڈاکٹرنعمان بدر فلاحی


ستمبر ۱۹۷۹ء کو سیّدابو الاعلیٰ مودودیؒ کی وفات کے بعد جماعت اسلامی کے تاسیسی ارکان میں شامل مولانا محمدمنظور نعمانی (م: ۵مئی ۱۹۹۷ء) نے ماہ نامہ الفرقان  کی نومبر، دسمبر ۱۹۷۹  تا جنوری ،فروری ۱۹۸۰ء کی اشاعت میں ’’مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سر گزشت اور اب میرا موقف ‘‘ کے عنوان سے قسط وار مضامین شائع کیے، جو دراصل مولانا کی حیات میں ہی لکھے جاچکے تھے، مگر اشاعت ان کی وفات کے بعد ممکن ہو سکی۔

چند ماہ بعد یہی مضامین جب الفرقان بک ڈپو، نظیر آباد، لکھنؤ سے مولاناابو الحسن علی ندوی (م:۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء )کے پیش لفظ کے ساتھ باضابطہ کتابی صورت میںمنظر عام پر آئے، تواس ’فرد جرم‘ سے لاہور اور پھر دار الاسلام، پٹھان کوٹ میں مولانا مود ودی کے نوجوان شاگرد خواجہ اقبال احمد ندویؒ (۴ جنوری ۱۹۲۳ء - ۹؍ اپریل ۲۰۰۷ء) کے دل پر چوٹ لگی۔ اضطراب اور کرب کے عالم میں اُن کا قلم حرکت میں آیا اور انھوں نے ایک چشم دید گواہ کی حیثیت سے مولانا ابو الحسن علی ندویؒ اور سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی رفاقت میں گزارے ماہ و سال کے چشم دید احوال اور تلخ و شیریں یادوں پر مبنی مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا جوماہ نامہ زندگی، رام پور میںدسمبر ۱۹۸۳ء سے مئی۱۹۸۵ء تک ۱۴ قسطوں میںشائع ہوئے۔ کچھ عرصے بعد سیّداحمد عروج قادری [۲۲مارچ ۱۹۱۳ء- ۱۷مئی ۱۹۸۶ء] نےان کے مضامین کومارچ ۱۹۸۶ء کی خصوصی اشاعت: میں بھی حاضر تھا وہاں کے عنوان سے کتابی شکل میںیکجا کردیا۔ زندگی کی اسی خصوصی اشاعت کو حرا پبلی کیشنز، لاہور نے ۱۹۸۷ء میں بدلتے نصب العین  کے نام سے شائع کیا ۔تاہم، اس میں متن کے حوالے سے بحث ہے، مگر ذاتی احوال و مشاہدات شامل نہیں ہیں۔

 یہ مضامین شائع ہوئے تومولانا محمدمنظور نعمانیؒ اور مولاناابو الحسن علی ندویؒ حیات تھے، مگر ان کی طرف سے کسی رد عمل یا اختلاف کا اظہار نہیں کیا گیا ۔ یہ کتاب خواجہ اقبال ندوی کے ایمانی تقاضے ،جذبۂ شہادت حق ،اورتحریکی حمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اس مجمو عے کامطالعہ تحریک اسلا می سے وابستہ بزرگ و جواں کو لازماً کرنا چاہیے ۔ 

۱۹۹۸ء میں سلیم منصور خالد نے خواجہ اقبال ندوی کے مضامین اور تحریروں کا ایک دوسرا مجموعہ کچھ اضافوں کے ساتھ مولانا مودودی کی رفاقت میں کے عنوان سے پہلے تذکرہ سیّد مودودی میں اور پھر کتابی صورت دے کر ۲۰۰۷ء میں منشورات، لاہور سے شائع کیا۔ پھر یہ کتاب ملّت پبلی کیشنز ، سری نگر نے بھی نومبر ۲۰۲۰ء میں شائع کی۔ 

خواجہ اقبال صاحب کے متعلق زندگی کے سابق مدیر سید احمدعروج قادری نے لکھا ہے: ’’دنیا میں ایسے بہت سے جوہر و گوہر ہو ئے ہیں جو اپنی جگہ چھپے رہتے ہیں اور لوگ ان کی قدر و قیمت سے ناواقف رہ جاتے ہیں ،حکیم خواجہ اقبال احمد ندوی بھی ایسے ہی ایک جوہر ہیں ۔ ہندستان میں ایسے لوگ شاید ہی موجودہوں جنھوں نے مولانا سیدابو الاعلیٰ مودودی ؒکی خدمت میں ان کے ایک شاگرد کی حیثیت سے کچھ وقت گزارا ہو۔ حکیم صاحب غیر منقسم جماعت اسلامی کے پہلے بحرانی دور میں مولانا مودودی کے پاس ہی مقیم تھے ۔وہ تشکیل جماعت سے کچھ پہلے ہی مولانا مودودی کی خدمت میں پہنچ گئے تھے اور دوسال سے کچھ زیادہ عرصہ مولانا کی خدمت میں رہے ‘‘۔(ماہ نامہ زندگی نو، نئی دہلی ۲،مارچ ۱۹۸۶ء ،  ص۷)

گھریلو اور تعلیمی پس منظر 

 ضلع سلطان پور کی تحصیل جگدیش پور میں واقع موضع کِشنی خواجہ اقبال احمدندوی کا وطن ہے۔ ولادت ۴ جنوری ۱۹۲۳ء کو ہوئی ۔ والد خواجہ اشفاق احمد (وفات ۱۹۷۵ء) حافظ قرآن تھے ۔ان کا سلسلۂ نسب لکھنؤ کے معروف علمی خانوادے ’فرنگی محل‘ سے ملتا ہے ۔اردو اور فارسی کی ابتدائی گھریلو تعلیم کے بعدنزدیکی موضع ’زینب گنج‘ کے گورنمنٹ اسکول سے مڈل یعنی آٹھویں کے بعد۱۹۳۸ء میںدار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں عربی اول میںداخلہ ہوا۔ وہاں پر وہ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ سے عربی ادب کی کتابیں پڑھتے اور جمعرات کو ظہر کے بعد ان کے ساتھ تبلیغی گشت پر نکل جاتے اور جمعہ کی شام تک واپس آتے۔تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاسؒکے نہج پر تبلیغ کے اس کام میںخواجہ صاحب تقریباً ڈیڑھ برس تک مولانا علی میاں کی رہنمائی میں کام کرتے رہے۔اسی زمانے میں وہ مولانا عبد الماجد دریابادی (م:۶جنوری ۱۹۷۷ء) کی عصری مجالس میں بھی شریک ہوا کرتے ۔خواجہ صاحب اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں :

یہ تبلیغی سفر ہم لوگوں کے لیے چلتا پھرتا مدرسہ بھی تھا اور متحرک تربیت گاہ بھی ۔ راستے میں مولانا موصوف کبھی ہم لوگوں کو صحابہ کرام ؓکی زندگیو ںکے ایمان افروز واقعات سناتے اور کبھی سیّد صاحب اور دوسرے مجاہدین کی سرفروشی اور جاں سپاری کے کارنامے ۔ کبھی جذبۂ جہاد بیدار کرنے والی آیات و احادیث کی تشریح فرماتے اور کبھی خانقاہوں کے شب و روز پر جہاد کی تیاریوں کی فضیلت بتاتے ۔ کبھی اپنے پسندیدہ مصنّفین کی کتابوں کے پسندیدہ مقامات کی نشان دہی فرماتے ، کبھی خارج میں ہم لوگوں کے مطالعہ کے لیے کتابیں تجویز فرماتے اور کبھی ہم لوگوں کے زیرمطالعہ کتابوں کے مشکل مقامات کی تشریح فرماتے ۔ اور مجھے یاد ہے کہ ندوہ پہنچنے کے دوسرے سال ہی مولانا کی ہمت افزائیوں کے سہارے میں نے خود سے ابن جوزی کی تلبیس ابلیس  اور صفوۃ الصفوۃ  کا مطالعہ کرلیا تھا ‘‘۔ (ماہ نامہ زندگی نو، نئی دہلی ۲،مارچ ۱۹۸۶ء ، ص ۱۳،  مولانا مودودی کی رفاقت میں، ص۲۰)

خواجہ صاحب ندوہ میں پہلے ہی سال ترجمان القرآن کے ذریعے ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ان کی فکر سے متعارف ہوئے اورجنوری ۱۹۴۱ء میں مولانا کے سفرلکھنؤ کے موقع پر ان سے بالمشافہ ملاقات، تفصیلی گفتگو اور استفادہ کا راستہ کھلا۔ (مولانا مودودی کے سفر ندوہ کی تفصیلی رُوداد کے لیے زندگی کے اس خصوصی شمارے کے علاوہ نومبر ۱۹۷۴ء میں منعقد جماعت اسلامی ہندکے پانچویں کل ہند اجتماع دہلی کی رُوداد پر مشتمل روز نامہ دعوت، دہلی کے اجتماع نمبر میں حکیم محمد عطاء الرحمٰن ندوی کا مضمون ’حنا بند عروس لالہ ہے زخم جگر میرا ‘کا مطالعہ بھی مفید ہے )

ندوہ میں خواجہ اقبال صاحبؒ نے درجات کے باہر دارالاقامہ میں مولانا جلیل احسن ندویؒ (۲۵جنوری ۱۹۱۴- ۸جولائی ۱۹۸۱ء) سے دیوان الحماسہ کے علاوہ منفلوطی کی العبرات اور النظرات بھی پڑھی ۔ اس کے علاوہ مولانا علی میاں کی خصوصی اجازت سے ادب کے درجات میں بیٹھ کر سبقاً سبقاً نہج البلاغہ اور مختارات پڑھا کرتے ۔ 

ترجمان القرآن کی ستمبر ۱۹۳۹ء کی اشاعت میں جب مولانا مودودی کا مضمون ’ایک اہم دینی تحریک کا تعارف ‘ شائع ہوا تو مولانا علی میاںؒ کے دل میں مولانا الیاس صاحبؒ کے کام کو سمجھنے کا اشتیاق پیدا ہوا، چنانچہ اپنے متعدد شاگردوں کے ساتھ ان سے ملاقات کے لیے سہارنپور کا سفر کیا ، خواجہ صاحب بھی ان کے ساتھ تھے ۔وہاں انھیں مولانا الیاس صاحبؒ اور ان کی دعوت کو قریب سے دیکھنے ،سمجھنے اور ان کی خدمت کا موقع ملا۔ایک روز انھوں نے مولانا الیاسؒ سے مولانا مودودیؒ کی دعوت کے متعلق سوال کیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہنے لگے ۔ جب مولانا موصوف کی طبیعت سنبھلی تو فرمایا:

اصل کام تو وہی ہے جس کی مولانامودودی دعوت دے رہے ہیں، یہ تو ابتدائی کام ہے۔ ان شاء اللہ اس کا بھی وقت آئے گا ۔ ‘‘ ان کے رفیق مولانا عبد الغفار ندوی (سابق سکریٹری جماعت اسلامی ہند ، یوپی) بھی اس سفر میں ان کے ساتھ تھے ۔ (ماہ نامہ زندگی نو،نئی دہلی ۲،مارچ ۱۹۸۶ء ، ص ۴۴)

اسی دوران خواجہ صاحب کا اپنے استادمولانا ابو الحسن علی ندویؒ سے مولانا محمد الیاسؒ کی دعوت، مولانا مودودیؒ ، ان کی فکر اور ان کی دینی تعبیرات کے موضوع پر باضابطہ مباحثہ ہونے لگا۔ کچھ دنوں بعد، جب ماحول زیادہ خوش گوار نہ رہا توخواجہ صاحب ندوہ کے دار الاقامہ سے نکل کر محلہ پان دریبہ میں مقیم مولانا مودودی ؒکے ایک معتقد اور پر جوش حامی محمد سرور کے گھر منتقل ہوگئے، جو لکھنؤ میں ٹی ٹی آئی تھے۔ تقریباً دو ماہ ان کے گھر سے ہی سبق پڑھنے کے لیے ندوہ جاتے رہے،اور پھرایک روز اپنے استاد مولانا علی میاں ندوی کی مرضی کے خلاف سیّد مودودی کی خدمت میں حاضری کے لیے لکھنؤ سے ٹرین میں سوار ہو کر لاہور پہنچ گئے۔ خواجہ صاحب کے قیام لاہور کی تفصیلات سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

 مولانا مودودی کے دستر خوان پر یا ان کی مجلس میں جہاں پر ذی حیثیت لوگ بھی موجود رہتے تھے ،میری کم حیثیتی میرے لیے کبھی کسی خفت کا باعث نہیں بنی ۔ مولانا کبھی کسی تقریب میں جاتے تو مجھے ساتھ لے جاتے اور اپنے قریب ہی بٹھاتے۔ کوئی میرے متعلق دریافت کرتا تو وہ ہمیشہ یہ فرماتے: یہ میرے سفر ندوہ کی یادگار ہیں۔ (مولانا مودودی کی رفاقت میں ، خواجہ اقبال احمد ندوی ، منشورات، لاہور ص۲۴)

۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء کو جماعت اسلامی کے قیام سے قبل ہی وہ لاہور اور پھر جون ۱۹۴۲ء میںمولانا مودودی کے ساتھ دار الاسلام، پٹھان کوٹ چلے گئے۔ وہاں انھوں نے مولانا کی صحبت اور اُن کی نگرانی میں باضابطہ ایک نصاب کے تحت مطالعہ کا آغاز کیا ۔وہ ظہر سے عصر تک ترجمان القرآن کے دفتر میں کام کرتے اور باقی اوقات مطالعے میں صرف کرتے۔ انھیںذاتی اخراجات اور بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے پندرہ روپے ماہانہ کی رقم بھی ملتی تھی۔ اس زمانے میں وہاں مقیم مستری محمد صدیق ؒ ،قمر الدین خانؒ ، مولانا محمد منظور نعمانی ؒ(مدیر الفرقان، بریلی)،اور شاہ محمد جعفر پھلوارویؒ کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ،جو کچھ عرصہ بعد ہی جماعت سے علیحدہ ہو کر اس کے خلاف پروپیگنڈا میں مصروف ہو گئے تھے ۔

۱۹۴۳ء میں مولانا مودودی نے ترجمان القرآن کے منیجر سید محمد شاہ کو ذمہ داری سے سبکدوش کیا تو عارضی طور پر منیجر کی ذمہ داری خواجہ اقبال ندوی کے سپرد کی ۔ یہ وہی زمانہ ہے جب جنگ عظیم دوم کے سبب مولانا نے کاغذ کی قلت بلکہ عدم دستیابی کے سبب ترجمان کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ 

مولانا احمد عروج قادری کے نام اپنے ایک خط میں انھوں نے اس زمانے کے احوال لکھے ہیں :

 تشکیل جماعت سے چند ماہ قبل مولانا نے مجھے اپنے پاس بلایا تھا اور یہ میری خوش نصیبی تھی کہ وہ ساری مدت جو مولانا کی خدمت میں گزری ، مجھے ان کی ذات سے زیادہ سے زیادہ استفادے کے مواقع حاصل رہے اور مولانا کو ہمیشہ اس کا احساس رہا کہ جس طالب علم کو انھوں نے اپنے پاس خودبلایا ہے، اس کا وقت ضائع نہ ہونے پائے۔ میں نے مولانا کی رہ نمائی میں شاہؒ ولی اللہ، ابن تیمیہؒ ، ابن قیمؒ ، اور سیرت و تاریخ کی بعض کتابوں کا مطالعہ کیا ، پھر اُن سے سبقاً سبقاً قرآن کا کافی حصہ پڑھا ۔ مطالعہ کے علاوہ میرے ذمہ دفتر کا کچھ کام رہتا تھا ۔ اہم خطوط کی نقل بھی میرے ذمہ تھی، اور وقتاً فوقتاً مولانا کے دیے ہوئے جوابات کی نقل بھی کرتا تھا۔ یہ میرا بہت بڑا نقصان تھا کہ پٹھان کوٹ کی آب و ہوا مجھے راس نہیں آئی اور شدید علالت کے باعث مجھے وطن واپس آجانا پڑا ۔( ماہ نامہ زندگی نو،نئی دہلی، ۲مارچ ۱۹۸۶ء ، ص ۷)

ڈاکٹر عبد الباری (شبنم سبحانی: ۷ستمبر ۱۹۳۷ء - یکم ستمبر۲۰۱۳ء) کے ایک سوال کے جواب میں خواجہ صاحب نے وہاں اپنی تعلیمی مصروفیات کے بارے میں بتایا :

اپنی شدید مصروفیات کے عالم میں بھی مولانا مودودی مہینوں میرے لیے کس طرح وقت نکالتے رہے ، یہ تو مجھے معلوم نہیں ، البتہ پڑھاتے وقت مولانا جس سکون اور اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر پڑھاتے تھے، اس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ اب پڑھانے کے سوا مولانا کا کوئی اور کام باقی نہیں ہے۔ جب تک میں سوالات کرتا رہتا مولانا بیٹھے رہتے اور اٹھنے سے پہلے ایک بار پھر دریافت کرلیتے کہ کوئی چیز سمجھنے کی باقی تو نہیں رہ گئی ہے ؟ 

مولانا دس بجے کے قریب تشریف لاتے اور درس ختم ہوتے ہوتے بالعموم دو پہر کے کھانے کا وقت ہو جاتا تھا ۔ مولانا کواس بات کا بڑا احساس تھا کہ ایک طالب علم جو اپنی تعلیم مکمل کیے بغیر ان کی خدمت میں حاضر ہو گیا ہے ،اس کی تعلیم نامکمل نہ رہنے پائے ۔ میں جب بھی مولانا کی خدمت میںکوئی مبحث سمجھنے کے لیے حاضر ہوتا اور اپنی دشواری پیش کرتا تو مولانا کتاب کو ہاتھ لگائے بغیر تشریح وتوضیح فرمادیتے ۔ معلوم ہوتا کہ مولانا نے شاہؒ ولی اللہ ، ابن تیمیہؒ ، اور ابن قیمؒ وغیرہ کی کتابوں کو اس قدر توجہ اور انہماک سے پڑھا تھا کہ ان کتابوں کے پورے پورے مباحث انھیں یاد تھے۔ درس میں ناغہ صرف انھی ایام میں ہوتا جب مولانا لاہور سے باہر گئے ہوتے یا کبھی ناسازیٔ طبع میں مبتلا ہوتے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ درس کے وقت کوئی دوسرا پروگرام بن جاتا تو مجھے شام کو ہی بتا دیتے کہ ’’ کل صبح آپ آٹھ بجے ہی اپنی کتابیں لے کر آجائیے گا‘‘۔ (ایضاً، ص ۲۰۳، ۲۰۵،۲۰۶  )

 خواجہ اقبال احمد ندوی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جو۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء کو تشکیل جماعت اسلامی کے وقت وہاں موجود تھے۔ لکھتے ہیں : ’’ اس اجلاس میں، میں نے لوگوں کے شدت جذبات کی یہ کیفیت دیکھی تھی کہ بڑے بڑے علما اور دانش وروں کی داڑھیاں آنسوؤں سے تر ہو گئی تھیں‘‘۔ (ایضاً،  ص ۲۱۱  )

خواجہ صاحب نے لاہور اور پٹھان کوٹ میں تقریباً ڈھائی برس مولانا کے ساتھ گزارے۔ ۱۹۴۴ء میں وہ اپنے وطن واپس لوٹے ۔ ملک کی تقسیم سے قبل ۵- ۷ ؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو الٰہ آباد میں ہروارہ کے مقام پر منعقد کل ہند اجتماع سے قبل خواجہ صاحب ضلع بارہ بنکی میں قصبہ ُسوبیہا کے باشندے جناب یعقوب صاحب کی دختر صفیہ صاحبہ کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے ۔ خواجہ صاحب نے اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے :

دار الاسلام سے میرے واپس آنے کے بعد ہروارہ، الٰہ آباد کے اجتماع میں جب مجھے مولانا مودودی کی والدہ کی تشریف آوری کی اطلاع ملی اور میں نے انھیں سلام کہلا بھیجا، تو وہ دروازے کے قریب تشریف لائیں اور دیر تک خیریت دریافت کرتی رہیں ۔دوران گفتگو جب انھوں نے مجھ سے میری شادی کے بارے میں دریافت کیا اور میں نے اثبات میں جواب دیا تو فرمانے لگیں : ’’بیٹا اقبال! تم نے اچھا نہیں کیا جو اپنی بیوی کو یہاں ساتھ نہیں لائے ۔ تم اسے یہاں لائے ہوتے تو ملاقات ہوجاتی ، اب اسے کیا دیکھوں گی ، اب اس سے کیا ملاقات ہو گی ؟ (ایضاً، ص ۵۳)

ملک کی تقسیم کے بعد الٰہ آباد میں جماعت اسلامی کے رکن حکیم محمد خالد کے یہاںکچھ عرصہ مقیم رہے اوران کی صحبت میں رہ کر طب اور حکمت کی عملی تعلیم حاصل کی ۔۱۹۵۰ء کے بعد مستقل رہائش کے لیے سلطان پور منتقل ہوئے ،محلہ خیر آباد میں رہائش تھی ۔ ۶دسمبر ۱۹۹۲ء کو شہادت بابری مسجدکے بعدجماعت اسلا می پر پابندی عائد ہوئی تو گرفتار ی کے لیے پولیس ان کے گھر آگئی ۔ انسپکٹر اور محکمہ خفیہ کے اہل کارجو اُن کی شرافت ، ایمان داری ،اور بزرگی کے قائل تھے ، پریشان ہو گئے ۔ انھوں نے یہ مطالبہ رکھا کہ’’ خواجہ صاحب لکھ کر دے دیں کہ وہ جماعت اسلامی سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں اور آئندہ اس کے پروگراموں میں شرکت نہیں کریں گے ‘‘۔بچوں نے بمشکل جب یہ مطالبہ ان کے سامنے رکھا تو انھوں نے اس نازک موقع پر عزیمت کی راہ اختیار کی اورصاف انکار کرتے ہوئے بولے: لاؤ میری شیروانی ،اور ٹوپی ۔اور پھر فوراً ہی تیار ہو کر انسپکٹر کے ساتھ چلے گئے ۔ 

خواجہ اقبال احمد ندوی غالباً واحد ایسی شخصیت ہیں،جنھوں نے ابو الحسن علی ندوی اور سیّدابوالاعلیٰ مودودی جیسے عبقری اساتذہ سے طویل عرصے تک باضابطہ تعلیم حاصل کی اور ان کے شاگردرہے۔ یہ شرف ان کے علاوہ کسی دوسرے فرد کو شایدحاصل نہ ہو سکا ۔ قومی اور ملکی سطح پر ان کی تحریکی سرگرمیوںاور خدمات کا ذکر زیادہ نہیں ملتا ، مگروہ مقامی طور سے سلطان پور کی سطح پر ایک رہنما ، مدرس ، مفکر اوراسلامی حلقہ کے ایک سرپرست کی حیثیت سے اپنی ناسازیٔ طبع کے باوجود تاحیات اپنی موجودگی درج کرواتے رہے ۔زندگی، رام پور ، اور زندگی نو ، دہلی میں شائع ان کے قسط وار مضامین کے سبب ہی عالمی سطح پر پہلی باراُن کی شخصیت متعارف ہوئی ۔ 

 متعلقین کے تاثرات

خواجہ صاحب کی بیٹی محترمہ ثمینہ خواجہ ( مقیم لکھنؤ ) نے بتایا :’’ابو ہم لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے بہت فکر مند رہا کرتے تھے ۔ انھیں مغرب کے بعد گھر سے باہرنکلنا بالکل پسند نہیں تھا، بھائیوں کو بھی اس کی تاکید کرتے تھے ۔وہ اپنی بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں کے حقوق کے بارے میں بہت محتاط تھے ۔ایک غیر مسلم یتیم بچے کی ہمارے گھر پرور ش ہوئی تھی، اس نے باضابطہ اسلام قبول کرلیا تھا ۔ابو نے اس کی دینی تعلیم کا انتظام کیا ،حتیٰ کہ اس نے حفظ بھی کرلیاتھا ۔ دینی کتابوں کے علاوہ دعوت اخبار کا مطالعہ بہت پابندی سے کرتے تھے۔ان کے مطب میں مریضوں سے زیادہ علم دوست احباب اور اہل علم و دانش کی محفل جمی رہتی۔ بہت سے لوگ اخبارات و رسائل وہیں آکر پڑھتے تھے‘‘ ۔ (گفتگو ،۷؍اگست۲۰۲۶ء) 

فرزند خواجہ شعیب اقبال نے اپنے والد کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے بتایا :’’ وہ ایک عملی انسان تھے ، ٹو دی پوائنٹ( مختصر اور دو ٹوک انداز میں) بات کرتے تھے ۔مولانا مودودی ؒ سے بے پناہ عقیدت تھی ،لاہور اورپٹھان کوٹ میں گزارے ایام کو ہمیشہ یاد کرتے رہے۔ لکھنؤ میں جماعت اسلامی کے ذمہ دار مولانا عبد الغفار ندوی ان کے ہم عمرساتھی تھے، لکھنؤ جاتے تو ان سے ضرور ملاقات کرتے۔ مولاناابو الحسن علی ندوی ابوکے استاد تھے مگر اُن سے بہت محبت کرتے تھے ۔ ہمیشہ ان کی خیریت دریافت کرتے، اور لکھنؤجاتے تومولانا انھیں تحفہ ضرور دیتے تھے ۔ڈاکٹر عبد الباری (شبنم سبحانی) سے بھی بڑی قربت تھی۔ وہ اکثر ابّو کے پاس آیا کرتے تھے ۔ عامر عثمانی سے بڑے اچھے مراسم رہے ، ان کے مجلّے تجلّی  کا ہمارے گھر میں بڑا انتظار رہتا تھا۔ ابو ہم لوگوں کوکبھی پوسٹ مین کے پاس اور کبھی اس کے لیے ڈاک خانے بھیجتے ۔ مولانا عبدالماجد دریابادی سے خط کتابت رہتی تھی ۔ ان کے اخبارکے مستقل قاری تھے‘‘۔ (گفتگو، ۸؍اگست۲۰۲۶ء)

ایڈووکیٹ ہمام احمد صدیقی کہتے ہیں : ’’ خواجہ صاحب مقامی طور پر ایک حکیم کی حیثیت سے معروف تھے۔ ہم نے اپنی کم عمری میں انھیں مختلف مواقع پر قریب سے دیکھا ہے ۔ وہ کبھی کبھی و الد گرامی ڈاکٹر انصار الحسن سے ملاقات کے لیے ہمارے غریب خانے پر تشریف لایا کرتے تھے۔ کرتا ، علی گڑھی پاجامہ ،اونچی ٹوپی اور شیروانی زیب تن کرتے ۔ ہمارے یہاں پان دان سے وہ بطور خاص استفادہ کرتے تھے ۔مجھے یاد ہے کہ دسمبر ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کی شہادت کے بعدپولیس نے انھیں بھی گرفتار کیا تھا ، مگر بعد میں ان کی بزرگی اور خرابیٔ صحت کو دیکھتے ہوئے مچلکہ پر رہا کردیا تھا ۔ وہ شہر کے معروف ادارے ’خیر البشر اسلامک جونیئر ہائی اسکول‘ کے بانیوں میں سے ہیں۔مولانا مودودی پر الزامات، جماعت اسلامی پر تنقید اور اپنی جوابی تصنیف میں بھی حاضر تھاوہاں  کے باوجود خواجہ صاحب مولانا منظور نعمانی اور علی میاں ندوی وغیرہ کا ذاتی گفتگو کے دوران بے حد احترام کرتے تھے‘‘۔ (گفتگو، ۹؍اگست۲۰۲۶ء ) 

سلطان پور میںجماعت اسلامی کے مقامی امیر ڈاکٹر کمال الدین خاںکہتے ہیں: ’’خواجہ صاحب کا مطب شہر میں تحریک کا مرکز تھا ،اہل علم کی وہاں روزانہ بیٹھک ہوتی تھی، ہرقسم کے اُمور ومسائل وہاںزیر بحث آتے ۔ ان کے مشورے بہت ٹھوس اور مستحکم ہوتے تھے۔ جماعت کے لوگوں کی سرپرستی کرتے اور سبھی لوگوں سے مستقل ربط ضبط رکھتے تھے ۔لوگوں کو اور بطور خاص علما کو تحریک کا لٹریچر مطالعہ کے لیے دینا ان کا معمول تھا ۔ علوم قرآنی سے خاص شغف تھا۔ قرآن کی تفسیر ہمیشہ ان کے مطالعہ میں رہتی تھی ۔ درس اور مطالعہ قرآن کی نشستوں میں پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ اُردو ، فارسی ، عربی اور انگریزی زبانوں پرانھیں عبور حاصل تھا۔

 دار المصنّفین ، اعظم گڑھ اور مدرسۃ الاصلاح سے خصوصی تعلق تھا ، آمدو رفت کے علاوہ وہاں سے کتابیں منگوایا کرتے تھے ۔ عامر عثمانی اور ان کے رسالے تجلّی ،دیوبند کے بڑے دلدادہ تھے۔ علی گڑھ میں حکیم افہام اللہ صاحب سے بھی خصوصی تعلق تھا۔ خط کتابت کا سلسلہ تو رہتا ہی تھا ، ان کے یہاں جایا بھی کرتے تھے ۔ کتابوں کے شوقین تھے ، علمی ذوق بلند تھا۔ گھر پہ اُردو، عربی، فارسی ، ادب اور تاریخ وغیرہ کی کتابوں کا بڑا ذخیرہ تھا ۔سیرت پرنو مسلم انگریز مصنف ابوبکر سراج الدین (سابق نام مارلٹن لنگس) کی تصنیف حیات سر ور کائناتؐ کے مترجم سیّدمعین الدین احمد قادری (سلطان پور) ان کے خاص دوستوں میں شامل تھے۔ ضلع عدالت میں انتظامی اُمور کے سینئر افسر افتخار الحسن اور ڈاکٹر انصار الحسن وغیرہ بھی ان کے احباب میں شامل تھے ۔ 

سلطان پورشہر میںچوک کے نزدیک میجر گنج میںمطب تھا۔ خواجہ صاحب کو اللہ نے تین بیٹے اور تین بیٹیوں سے نوازا تھا۔ اہلیہ نے ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۸۹ء کو وفات پائی ۔بچوں میں اس وقت ماشاء اللہ خواجہ زبیر اقبال(مقیم بھوپال) اور خواجہ شعیب اقبال( مقیم ممبئی) کے علاوہ بیٹی ثمینہ خواجہ (مقیم لکھنؤ) موجودہیں ۔ عمرکے آخری پڑاؤ میں جب اعضا و جوارح کمزور ہو گئے تو اپنی بڑی بیٹی کے پاس رائے بریلی منتقل ہو گئے تھے ، پی جی آئی لکھنؤ میں علاج جاری تھا مگر ۹؍ اپریل ۲۰۰۷ء کو رائے بریلی میں ہی اللہ کو پیارے ہوئے ۔ تدفین کے لیے سلطان پور لے جایا گیا اور وہیں عیدگاہ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں    ؎

سب کہاں، کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

 _______________