ڈاکٹرظفرالاسلام خان


شیاماپرساد مکھرجی کے زمانے سے ’ہندوتوا‘ کے حامیوں کا دعویٰ تھا کہ کشمیر کو جو خصوصی حیثیت دی گئی ہے وہ اس کے انڈیا میں انضمام میں رکاوٹ ہے۔ ہندوتوادی یہ نعرہ برسوں لگاتے رہے اور آخرکار ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ کی حکومت نے ۵؍اگست۲۰۱۹ء کو ان کا خواب پورا کردیا۔ آئین کے آرٹیکل۳۷۰ کو یکلخت ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی اور اعلان کیا گیا کہ اب کشمیر کے مسائل حل ہوجائیں گے، دہشت گردی ختم ہو جائے گی اور وہ انڈیا کا صحیح معنوں میں حصہ بن جائے گا۔ اس اقدام سے پہلے ہی وہاں گورنر راج قائم کردیا گیاتھا، یعنی جتنے بھی جمہوری حقوق اور آزادیاں تھیں ان کا خاتمہ کردیا گیا، اور مرکزی حکومت کی براہِ راست حکومت وہاں قائم کردی۔

 آرٹیکل۳۷۰ کے خاتمے کے ساتھ مودی حکومت نے کشمیر کے حصے بخرے بھی کردیئے۔ زمینی لحاظ سے کشمیر کے سب سے بڑے حصے لداخ کو ریاست سے کاٹ کر ایک الگ یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا، اور خود جموں و کشمیر کے ریاست کا درجہ ختم کر کے اس کو بھی یونین ٹیریٹری بنا دیا گیااور اس پر دہلی سے براہ راست حکومت ہونے لگی ۔ کشمیر کے خصوصی اور مقامی قوانین ختم ہوگئے اور ان کی جگہ تمام انڈین قانون وہاں یکلخت نافذ ہونے لگے۔ کشمیر میں فوج کو ۱۹۹۰ء سے ہی ’افسپا‘(The Armed Forces Special Powers Act)    قانون کے تحت خصوصی اختیارات حاصل تھے، جس کے تحت کسی بھی ظلم، زیادتی، قتل اور بلاتکاری (جنسی بے حُرمتی) کے لیے فوج پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ہے۔ اب آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے کے بعد گورنر کا براہِ راست حکم چلنے لگا۔ لوگوں سے زمینیں چھینی جانے لگیں، معمولی معمولی باتوں پر لوگوں کو سرکاری ملازمتوں سے نکالا جانے لگا۔ جیل رسیدہ کشمیریوں کی تعداد بڑھنے لگی ، میڈیا پر پابندیاں مزید سخت ہوگئیں۔ اب تاناشاہی کی یہ حالت ہے کہ پوری ریاست میں گھر گھر اور لائبریری لائبریری کتابوں کو کھنگالا جا رہا ہے اور اگر کسی کتاب میں سرکار کے لحاظ سےکوئی ’قابل اعتراض‘ بات لکھی ہے تو اسے ضبط کر کے جلا دیا جاتا ہے اور کتاب رکھنے والے کو سزا دی جاتی ہے ۔ یہ انڈین قانون کی واضح خلاف ورزی ہے کیونکہ بھارتی نیای سنہیتا [نیا انڈین پینل کوڈ] کے سیکشن ۹۸ کے مطابق مرکزی یا ریاستی حکومت کسی متعینہ کتاب پر بندش لگاسکتی ہے اور اس کے بعد ہی پولیس اس متعینہ کتاب کو ضبط کرسکتی ہے، لیکن اب کشمیر میں کسی متعینہ کتاب پر سرکاری بندش کے بغیر اندھادھند طریقے سے گھروں اور لائبریریوں سے کتابیں ضبط ہورہی ہیں۔

آرٹیکل۳۷۰ کو ختم ہوئے اب سات سال ہو گئے ہیں۔ ظلم اور بہیمیت اپنی انتہا پر ہے، لیکن میڈیا پر سخت بندش کی وجہ سے اس کی رپورٹنگ نہیں ہوتی ہے۔ کیا آرٹیکل۳۷۰ یا دوسرے لفظوں میں ریاست کی خودمختاری (اٹانومی) ختم کرنے سے کشمیر کے حالات ٹھیک ہوگئے ہیں؟ اور کشمیری ’قومی دھارے‘ میں مدغم ہو گئے ہیں؟ جواب مکمل طور پر نفی میں ہے بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ اب حالات پہلے سے زیادہ خراب ہیں۔ ساری بندشوں کے باوجود عسکریت جاری ہے، لوگوں کے مظاہرے جاری ہیں، ہزاروں لوگ برسوں سے جیلوں میں بند ہیں،اور لکھنے بولنے پر مکمل پابندی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آرٹیکل۳۷۰ کا خاتمہ بذات خود ایک غیرآئینی اور غیرقانونی اقدام تھا۔ آئین کے اسی آرٹیکل (۳۷۰) کے تحت اس کا خاتمہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب جموں و کشمیر کی اسمبلی کی اکثریت اس کے خاتمے کی سفارش کرے۔ عملاً ایسا بالکل نہیں ہوا بلکہ اس آرٹیکل کے خاتمے سے پہلے ہی کشمیر اسمبلی تحلیل کی جا چکی تھی اور گورنر راج نافذ ہو چکا تھا۔ مرکزی سرکار کے نمائندے (گورنر)نے لکھ کر بھیجا کہ آرٹیکل۳۷۰ کو ختم کر دیا جائے۔ یہ سفارش غلط اور غیرقانونی تھی۔ یہی نہیں بلکہ گورنر نے یہ سفارش مرکزی سرکار کے دباؤ میں آ کر لکھی تھی جیساکہ اس وقت کے گورنر ستیہ پال ملک نے بعد میں خود بتایا۔

آرٹیکل۳۷۰  انڈین آئین کی وہ شق ہے جو کسی نہ کسی طرح کشمیر پر قبضے کے روزِ اوّل سے اس سارے معاملے کا حصہ رہی ہے۔ جیساکہ بتایا جاتا ہے، ’وثیقۂ انضمام‘ (Instrument of accession) پر مہا راجا ہری سنگھ نے ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء کودستخط کیے اور اگلے دن گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اسے قبول کر لیا۔ اس کے تحت مہاراجا نے صرف تین اختیارات انڈیا کو منتقل کیے تھے یعنی دفاع، خارجہ امور اور وسائل اطلاعات۔ دوسرے لفظوں میں یہ الحاق مشروط تھا اور صرف تین امور میں ہوا تھا،جب کہ داخلی طور پر کشمیر خودمختار تھا۔ الحاق کے خط کے جواب میں گورنر جنرل نے ۲۷؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کو اپنے خط میں مہا راجا ہری سنگھ کو لکھا کہ حالات معمول پر آنے پر ریاست کے الحاق کے مسئلے کو عوام میں رائے شماری کرا کے طے کیا جائے گا۔ گویا ہندوستان نے ریفرنڈم کرانے کا وعدہ روزِ اوّل سے ہی کردیا تھا اور اس طرح قبول کیا تھاکہ یہ الحاق درست نہیں ہے بلکہ اس کے لیے عوام سے ان کی مرضی پوچھنی پڑے گی۔ ریفرنڈم کرانا اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ برطانیہ اور امریکا کی حکومتوں کی قانونی رائے تھی کہ وثیقۂ انضمام کافی نہیں ہے بلکہ مہاراجا کشمیر کے انڈیا اور پاکستان کے ساتھ حالت قائمہ (Standstill) پر قائم رہنے کے معاہدے کی موجودگی میں ’انضمام‘ باطل( Invalid) ہے۔

انڈیا، خود کشمیر کے مسئلے کو جنوری۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ لے گیا اور وہاں حالات درست ہونے پر ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کیا، لیکن اس وعدے کو کبھی پورا نہیں کیا گیا۔ انڈیا کو کم از کم اپنے زیرقبضہ علاقے میں ریفرنڈم کرا کے دنیا کو دکھا دینا چاہیے تھا کہ اس نے اپنا وعدہ وفا کر دیا ہے۔

اسی پس منظر کے تحت انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا احترام کرتے ہوئے آئین ہند میں آرٹیکل۳۷۰ داخل کیا تھا، جس کے تحت جموںوکشمیر کو اندرونی امور میں خود مختاری (Autonomy) دی گئی تھی۔ اس طرح کی استثنائی صورتیں بعض دوسری انڈین ریاستوں کو بھی حاصل ہیں۔ آئین کے اس حصے میں یہ بھی لکھ دیا گیا کہ یہ شق اسی وقت ختم کی جا سکتی ہے جب جموں و کشمیر کی اسمبلی اکثریت رائے سے اس کی در خواست کرے۔ کسی اسٹیٹ کو زیب نہیں دیتا کہ آئینی طور پر ایک وعدہ کرنے کے بعد اس سے مکر جائے۔

شیخ عبداللہ کو، جنھوں نے کشمیر کے انڈیا سے الحاق کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، ۵ مارچ ۱۹۴۸ کو جموں و کشمیر کا وزیر اعظم بنایا گیا۔ لیکن جلد ہی انڈیا کو لگا کہ ان کی ’وفاداری مشکوک‘ ہے کیونکہ وہ معاہدۂ الحاق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بولنے لگے تھے۔ اس لیے ان کو ۸؍اگست۱۹۵۳ء کو صدر ریاست کرن سنگھ نے بر طرف کر دیا ۔ اگلے دن ہی ان کو گرفتار کر لیا گیا اور اگلے گیارہ سال تک جیل میں رکھا گیا۔ شیخ عبد اللہ کو ۸؍ اپریل ۱۹۶۴ء میں سارے الزامات واپس لینے کے بعد رہا کر دیا گیا لیکن مئی ۱۹۶۴ء میں نہرو کے انتقال کے بعد ایک بار پھر شیخ عبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا اور وہ دوبارہ ۱۹۶۵ء سے ۱۹۶۸ء تک جیل میں رہے ۔ پھر ۱۹۷۱ء-۱۹۷۲ء کے دوران ان کو کشمیر سے جلا وطن کر دیا گیا۔ ان کو برطرف کرنے کے بعد مرکز نے اپنے من مانے لوگ وہاں چیف منسٹر بنانے شروع کردیے، الیکشن میں کھلی دھاندلی شروع کردی اور عملاً مرکزی وزارت داخلہ نے کشمیر کو براہ راست چلانا شروع کر دیا۔

مرکزی دخل اندازی کا یہ حال تھا کہ نیشنل کانفرنس کو ۱۹۶۴ء کے انتخابات میں کل ۷۵ سیٹوں میں سے ۷۰ سیٹیں ملیں، لیکن ۱۹۶۷ء کے انتخابات میں اسے صرف ۸ سیٹیں ملیں اور ۱۹۷۲ء میں اسے ایک سیٹ بھی نہیں ملی، حالانکہ شیخ عبداللہ کشمیر کے سب سے قد آور لیڈر تھے اور ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس کا اس وقت تک کشمیر میں کوئی مد مقابل نہیں تھا۔حقیقت یہ ہے کہ پچھلے سات عشروں میں ۲۰۱۹ء سے بہت پہلے ہی کشمیر کی ’خودمختاری‘کو دھیرے دھیرے کھوکھلا کر دیا گیا تھا۔

۱۹۷۵ء میں اندرا- شیخ عبداللہ معاہدے کے بعد شیخ عبداللہ انڈین آئین کے تحت چیف منسٹر بنے اور ۱۹۸۲ء تک اس منصب پر رہے۔ اس سے پہلے ان کا عہدہ وزیراعظم کا تھا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے فاروق عبد اللہ چیف منسٹر بنے۔

کشمیر میں ۱۹۸۷ء کے بعد سے حالات اس وقت بہت خراب ہوگئے جب الیکشن میں مرکز نے کھلی دھاندلی کی اور جیتے ہوئے امید واروں کو ہرایا گیا، جن میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے جمہوری طریقۂ کار سے مایوس ہونے کے بعد بندوق اٹھالی۔ اس کے بعد سے کشمیر میں پُرامن حالات کبھی واپس نہیں لوٹے۔ وہاں ایک طرح سے ہمیشہ کرفیو رہتا ہے۔ فوج کے سامنے عوام کی تو کیا پولیس کی بھی نہیں چلتی ہے۔

کشمیر میں ۱۹۹۰ء میں ’افسپا‘قانون نافذ کیا گیا اور تب سے آج تک نافذ ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہاں مارشل لا نافذ ہے جس کے تحت فوج کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے اور بڑے سے بڑے دل سوز واقعات جیسے کونن پوش پورہ کی اجتماعی آبروریزی اور چھتی سنگھ پورہ کے قتل عام پر بھی کوئی انصاف نہیں ملا۔ شہروں اور دیہات میں ہر جگہ فوج کے چیک پوائنٹ ہیں۔ فوج جس کو چاہتی ہے شک کا اظہار کرکے اُٹھا لیتی ہے۔

ان حالات میں ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو آرٹیکل ۳۷۰ کو اچانک ختم کردیا گیا جس سے رہی سہی خودمختاری بھی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد سے وہاں لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے مرکز کی ڈائرکٹ حکومت قائم ہے۔ سختیاں اور بھی بڑھ گئی ہیں۔ میڈیا کی آزادی پوری طرح سلب کرلی گئی ہے، جس کی وجہ سے نہ وہاں صحیح خبریں چھپتی ہیں اور نہ باہر آتی ہیں۔

وعدے کے سات سال کے بعد اور سپریم کورٹ کو مرکزی حکومت کی یقین دہانی کے باوجود آج تک جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ (Statehood) واپس نہیں کیا گیا ہے۔یہ انڈیا کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے کہ کسی اسٹیٹ کو یونین ٹیریٹری بنادیا جائے۔ ہزاروں لوگ جیلوں میں برسوں سے سڑ رہےہیں۔ نفرت کا یہ حال ہے کہ جموں کے ایک میڈیکل کالج میں مسلمانوں کے زیادہ داخلے ہونے پر وہ کورس ہی ختم کر دیا گیا۔ مظلومہ آصفہ کے دردناک اغوا،ریپ اور قتل پر آبادی کے ایک حصے نے جشن منایا۔ مبینہ طور پر دس ہزار کے قریب لوگ کشمیر میں آج بھی ’غائب‘ ہیں۔ جگہ جگہ ’مجہول قبریں‘ ہیں جن کے مکینوں کے بارے میں کوئی کچھ بھی یقینی طور پر نہیں جانتا۔ وہاں لاتعداد ’نصف بیوائیں‘ (Half Widows)ہیں، جن کے شوہر برسوں پہلے غائب کر دیے گئے تھے اور حکومتی ادارے ان کو بتاتے بھی نہیں کہ ان کے شوہروں کے ساتھ کیا ہوا؟ ذرا سے شک پر گھر بلڈوز کردیے جاتے ہیں۔

اس اندھیری رات کے خاتمے اور عوام کے فوری اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آرٹیکل ۳۷۰ کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

 _______________