مولانا ابوالاعلیٰ مودودی


سوال : خدا کا شکر ہے کہ جماعت اسلامی کافی عرصہ سے اسلام کی خدمت کر رہی ہے لیکن ابھی تک گھروں پر خصوصی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ بعض گھر ایسے بھی ہیں جن میں مرد تو تحریک کا کام انجام دے رہے ہیں، لیکن خواتین دعوتِ دین اور تحریکی جدوجہد سے بالکل ناواقف ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟

جواب : آپ کے سوال سے یہ مترشح ہو رہا ہے کہ آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ جن مردوں نے دعوت و تحریک کو سمجھ لیا ہے وہ بھی اپنی خواتین کو دعوت و تحریک کی طرف متوجہ نہیں کر رہے ہیں، اور آپ کے نزدیک یہ مردوں کی ایک کوتاہی ہے۔ بے شک مرد ’قوام‘ ہیں، گھر کے سربراہ ہیں، انھیں یہ ذمہ داری سنجیدگی کے ساتھ پوری کرنی چاہیے۔ صرف اس لیے نہیں کہ اگر انھوں نے گھر کی طرف توجہ نہ کی تو وہ دعوت و تحریک کا کام یکسوئی کے ساتھ نہ کر سکیں گے، اور گھر ہی ان کی راہ میں سب سے بڑا روک بن جائے گا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قرآن نے بہت واضح اور دوٹوک انداز میں اہل ایمان کی یہ ذمہ داری بتائی ہے کہ وہ گھروالوں کو دین کی تعلیم دیں، ان کی تربیت کریں تاکہ وہ کل جہنم کی آگ سے بچ جائیں۔

قرآن کا ارشاد ہے:

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَہْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَيْہَا مَلٰۗىِٕكَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ۝۶ (التحریم ۶۶:۶) اے ایمان والو! بچاؤ، اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جس پر تندخو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہیں، جو ہرگز سرتابی نہیں کرتے اس حکم سے جو اللہ نے انھیں دیا ہے، اور وہی کرتے ہیں جس کا ان کو حکم دیا جاتا ہے۔

اس واضح حکم کا صاف اور صریح مطلب یہ ہے کہ مرد جس کو اللہ نے خانگی زندگی کا سربراہ اور ’قوام‘ بنایا ہے، دوسری ذمہ داریوں کی طرح، اس کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اس کی نگرانی میں گھر کے جو لوگ دیے گئے ہیں وہ ان کی تعلیم و تربیت کا ایسا بندوبست کرے کہ وہ خدا کے مخلص بندے بن کر رہیں، اور اسلام کے خادم بن کر جئیں، اور کل حشر کے میدان میں وہ جہنم سے نجات پانے والے صالحین میں شامل ہوں۔

تاہم، مرد اگر غافل اور لاپروا ہو تو یاد رکھیے عورتوں کا دین مردوں کے ذمے نہیں ہے۔ نہ مرد عورت کی ذمہ داریوں کا جواب دہ ہوگا۔ دین جس طرح مردوں کا ہے ٹھیک اسی طرح عورتوں کا بھی ہے۔ اگر عورتوں کو خدا نے شعور دیا ہے تو وہ خود توجہ کریں۔ اگر مرد اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں غفلت برت رہے ہیں، تو خواتین خود آگے بڑھ کر دعوت و تحریک کو سمجھیں اور اللہ کی عائد کردہ دینی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ مردوں کی غفلت اور لاپروائی کو بہانہ نہ بنائیں۔ بلکہ جہاں مرد دین سے غافل ہوں، عورتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ انھیں متوجہ کریں اور راہِ راست پر لانے کے لیے دلسوزی، حکمت اور تسلسل کے ساتھ کوشش کریں۔

ایک مثالی گھر یا خاندان وہ ہے، جہاں مہر و محبت ہو، سلیقہ اور تہذیب ہو، خوشگوار تعلقات ہوں، باہم تعاون ہو، ــ مگر یہ سب کچھ اسلام کی روشنی اور دین دارانہ ماحول میں ہو اور پورا گھر اسلام کی نمائندگی کرنے والا ہو۔ اس نمائندگی میں بلا شبہ سربراہی کا مقام مرد کو حاصل ہے، لیکن اس سے انکار کی کیا گنجائش کہ عورت کا رول بھی اس میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

بلاشبہ مرد کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کی معاشی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ان کی دینی، تہذیبی اور اخلاقی تعلیم و تربیت پر بھی توجہ دے، لیکن اسی پر تکیہ کیے بیٹھے رہنا اور اپنی ذمہ داری محسوس نہ کرنا، کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ ایک خاتون کو بھی دین کی طرف اسی طرح بطورِ خود توجہ کرنی چاہیے جس طرح ایک مرد سے توقع کی جاتی ہے۔ مرد اگر توجہ نہیں کرتا ہے، تو اس کی شکایت کرنے یا اس کی غفلت پر اظہارِ رنج و افسوس کرنے سے اپنے فرض کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ ایسی صورتِ حال میں تو عورت کی ذمہ داری دوہری ہو جاتی ہے کہ ’قوام‘ کے حصے کا کام بھی کسی نہ کسی طرح اسے انجام دینا ہے۔ ’قوام‘ کی غفلت اور لاپروائی نے اس کی ذمہ داری میں اضافہ کر دیا ہے، اور ایسے گھرانے میں عورت کو اور زیادہ دلسوزی، توجہ اور لگن کے ساتھ دینی فرائض انجام دے کر ’قوام‘ کو بھی دینی فرائض کی طرف متوجہ کرنا ہے۔(مولانا محمد یوسف اصلاحی)


 

مشاعرے اور شعر و شاعری

سوال :موجودہ مشاعرے جس نوعیت کے ہو رہے ہیں اور جو اس کی غرض و غایت ہے غالباً آپ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کیا دینِ اسلام ان مشاعروں میں شرکت کی اجازت دیتا ہے؟ کیا اس میں طرح اور بے طرح اپنا کلام پیش کیا جا سکتا ہے؟ دوسرا یہ کہ شعر و شاعری کا اسلام میں کیا مقام ہے؟

جواب : اگر نیت محض تفریح اور لہو و لعب کی ہو تو ناپسندیدہ ہے، اس لیے کہ موجودہ عام مشاعروں میں متعدد قسم کی ناگوار باتیں رواج پا گئی ہیں، اور اگر نیت، زبان و ادب کی ترقی یا اپنے اچھے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی ہو تو یقینا پسندیدہ ہے۔

شعر و شاعری بھی انسانی کلام کی ایک قسم ہے، نثر بھی کلام ہے اور نظم بھی کلام ہے۔ روایتوں میں آتا ہے: الشعر كلام حسنه حسن و قبيحه ، قبيح یعنی شعر بھی کلام ہے۔ جس طرح اچھے اشعار اچھے ہیں اور بُرے اشعار برے۔ ٹھیک یہی بات نثر پر بھی صادق آتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل چیز وہ مضامین اور وہ باتیں ہیں جن کا اظہار انسان اپنی زبان و قلم سے کرتا ہے۔ اگر بُرے مضامین اور بُرے خیالات کا اظہار کر رہا ہے تو وہ کلام بُرا ہوگا اور اچھے مضامین اور اچھے خیالات کا اظہار کر رہا ہے تو وہ کلام اچھا ہوگا۔ یہ اظہار نثر میں ہو یا نظم میں۔ ادب وشعر دراصل ایک قوت ہے۔ اس کو جس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا اسی کے لحاظ سے اس کا مقام متعین ہوگا۔ اگر اس کا مقصد دین کی خدمت ہو تو اس کو اسلام میں ایک بلند مقام حاصل ہے۔( مولانا سیّد احمد عروج قادری)

_______________