ڈاکٹر احمد عروج


افراد کے مضبوط اور محبت پر مبنی باہمی تعلقات تحریکی زندگی کی جان ہوتے ہیں۔ اسلامی تحریک میں لوگ ایک دوسرے کو صرف ذمہ داریوں کے حوالے سے نہیں پہچانتے، بلکہ ان کے دلوں کے درمیان بھی احترام و محبت کا رشتہ قائم ہوتا ہے ۔ افراد کی کامیابیوں پر ساری اجتماعیت کو خوشی ہوتی ہے، اور اپنے کسی ساتھی کے کمزور پڑنے پر اسے سہارا دینے کا کلچر عام ہوتا ہے، اختلاف کے بعد بھی تعلق قائم رہتے ہیں۔ کسی بھی اجتماعیت کی داخلی صحت کا اندازہ ان جیسی کیفیات سے ہوتا ہے۔ تنظیم کا ڈھانچا افراد کو قریب لاسکتا ہے، مگر دلوں کو قریب لانے کے لیے کچھ اور تقاضے ہیں۔ اس کے لیے اخلاص، محبت اور ایک دوسرے کے لیے دلوں میں جگہ بنانے کا حوصلہ چاہیے۔ تحریکیں صرف نظم یا منشور سے نہیں چلتیں۔ منشور تو صرف راستہ دکھاتا ہےاور نظم اس راستہ پر چلنے کا سلیقہ سکھاتا ہے،مگر اس راستے پر انسان انسان کا ہاتھ پکڑ کر چلتا ہے۔ یہی انسانی نسبت کسی اجتماعی کوشش کو محض ایک تنظیم سے اٹھا کر ایک زندہ تحریک بناتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ تحریکی زندگی میں ہم ایک مقصد کے لیے جمع ہوتے ہیں، مگر ہماری طبیعتیں اور مزاج ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کسی کا مزاج تیز ہوتا ہے، کوئی بہت حساس ہوتا ہے۔ کوئی بات کو فوراً سمجھ لیتا ہے اور کوئی غور و فکر کے بعد اپنی رائے بناتا ہے۔ کوئی مجلس میں بہت بولتا ہے اور کوئی برسوں خاموش رہ کر کام کرتا رہتا ہے۔ کسی کو ذمہ داری سونپ دی جائے تو وہ پوری آزادی کے ساتھ کام کرتا ہے اور کسی کو مسلسل رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ یہ رویے اور فرق فطری ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ہم مزاج کے اختلاف کو نیت کا اختلاف سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک خاموش آدمی ہمیں بے تعلق دکھائی دیتا ہے، تو دوسری طرف سوال کرنے والا فرد محض معترض محسوس ہوتا ہے، اور سخت لہجے والا شخص بدخواہ قرار پاتا ہے۔ یوں بعض اوقات مسئلہ انسان میں نہیں، ہماری نگاہ میں ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی کی پختگی اسی میں ہے کہ ہم لوگوں کو صرف ان کے ظاہر سے نہ پرکھیں۔ ان کے مزاج، حالات اور سابقہ تجربات کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایسی کوشش آگے چل کر باہمی اعتماد کی بنیاد بنتی ہے۔

  •  اخلاص، محبت اور اخوت : ہر گہرا تعلق اخلاص کا محتاج ہوتا ہے۔ جہاں تعلق ذاتی فائدے، منصب، پسند یا وقتی ضرورت سے بندھا ہو، حالات بدلتے ہیں تو تعلق کی کیفیت بھی بدل جاتی ہے۔ لیکن جب کسی انسان کے ساتھ ہمارا تعلق  اللہ کی رضا اور ایک بلندمقصد کے حوالے سے ہو، تو اس میں ایک الگ طرح کی پائے داری پیدا ہوتی ہے۔ پھر ساتھی کی قدر اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ ہمارے کام آتا ہے، بلکہ اس لیے ہوتی ہے کہ وہ اسی مقصد کا مسافر ہے، جسے ہم نے زندگی بھر کے لیے اختیار کیا ہے۔ یہی اخلاص محبت کو جنم دیتا ہے۔ 

محبت کسی جذباتی وابستگی کا نام نہیں۔ اس میں خیرخواہی بھی ہے، برداشت بھی، درگزر بھی اور ضرورت پڑنے پر اپنی سہولت قربان کرنے کا حوصلہ بھی۔ قرآن نے اہل ایمان کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (الحجرات ۴۹:۱۰) ۔ اس آیت میں پورا اجتماعی مزاج پوشیدہ ہے۔ بھائی چارہ صرف ایک خوب صورت لفظ نہیں۔ یہ آدمی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دوسرے کی عزّت، دکھ، ضرورت اور کمزوری کو بھی اپنے دائرۂ احساس میں جگہ دے۔

اقبال نے اس حقیقت کو دو مصرعوں میں بڑی وسعت کے ساتھ سمیٹ دیا ہے   ؎

یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی

اُخوّت کی جہاں گیری، محبّت کی فراوانی

تحریکی زندگی میں اس تصور کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہاں لوگ طویل عرصے تک ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ ایک ہی سفر میں خوشی بھی آتی ہے، تھکن بھی، کامیابی بھی ملتی ہے، ناکامی بھی، اختلاف بھی ہوتا ہے اور کبھی غلط فہمی بھی دَر آتی ہے۔ اگر ان سب کے درمیان محبت باقی نہ رہے تو اجتماعیت آہستہ آہستہ بے روح لگتی ہے۔ پھر ہم ایک دوسرے کے ساتھ کام تو کرتے ہیں، مگر ایک دوسرے سے جڑتے نہیں۔ اخوت ایک نظری تصور سے بڑھ کر تحریکی ضرورت بن جائے، یہ اصل کامیابی ہے۔

مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان جو مواخات قائم فرمائی، وہ اس اخوت کی ایک بے مثال عملی تصویر ہے۔ حضرت سعد بن ربیعؓ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو اپنے مال میں شرکت کی پیش کش کی۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے اس محبت کو قبول کرتے ہوئے اپنے لیے بازار کا راستہ مانگا اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔ اس واقعے میں تعلق کی ایک نہایت خوب صورت تہذیب دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف دینے والا ہے جس کے دل میں بخل نہیں، دوسری طرف لینے والا ہے جو محبت کی قدر کرتے ہوئے اپنی خود داری کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ دونوں کے درمیان نہ احسان کا بوجھ ہے نہ برتری کا کوئی احساس۔ تحریکی زندگی میں تعلق اسی وقت خوب صورت رہتا ہے جب مدد میں محبت ہو اور اُس طرزِ محبت میں دوسرے کی عزت محفوظ رہے۔ کسی کے کام آنا بڑی قابلِ قدر بات ہے۔ مگر اس طرح دوسرے کے کام آنا کہ سامنے والا خود کو محتاج اور کم تر محسوس نہ کرے، اس سے بھی کہیں بڑی بات ہے۔ شاید یہی وہ باریک فرق ہے جو محض تعاون کو ’اخوت‘ میں تبدیل کرتا ہے۔

محبت کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے ہم کبھی کبھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں اپنے ساتھی کی ہر بات اچھی لگے۔ کبھی سچی محبت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہم اسے روکیں، سمجھائیں اور گہری ہمدردی اور دردِ دل سے اس کی کسی کمزوری کی طرف توجہ دلائیں۔ جو تعلق صرف خوش کرنے کے لیے ہو، وہ بہت جلد مصلحت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ لیکن ہر ناصح، دوست اور ساتھی کو معلوم ہونا چاہیے کہ دوسری طرف ہر وقت کی تنقید بھی خیرخواہی نہیں کہلا سکتی۔ اصل خوبی اس ’توازن‘ میں ہے جہاں آدمی اپنے ساتھی کے لیے نرم دل بھی ہو، ہمدرد بھی ہو اور خوش اسلوبی سے حق بات کہنے کا فن بھی جانتا ہو اور حوصلہ بھی رکھتا ہو۔ جس شخص کو یہ یقین ہو کہ سامنے والا اسے گرانا نہیں، سنوارنا چاہتا ہے، وہ سخت بات بھی سن لیتا ہے۔ تحریکی زندگی میں یہ تعلق افراد کو ایک دوسرے کا محض ہم سفر نہیں رہنے دیتا، بلکہ وہ ایک دوسرے کی تعمیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

  •  اعتماد ، احترام اور خیر خواہی: محبت دلوں کو قریب لاتی ہے، مگر دیرپا اجتماعیت کے لیے ’اعتماد‘ درکار ہوتا ہے اور ’اعتماد‘ ایک دن میں نہیں بنتا۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بنتا ہے: آدمی اپنی بات کا پابند ہو، کسی کی نجی بات کو مجلس کی گفتگو نہ بنائے، کسی کی غیرموجودگی میں اس کی عزّت کی حفاظت کرے، اختلاف کے وقت انصاف کا دامن نہ چھوڑے۔ یہ چیزیں معمولی دکھائی دیتی ہیں، مگر انھی سے کسی شخص کے بارے میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ’’میں اس کے سامنے اپنے آپ کو محفوظ سمجھ سکتا ہوں‘‘۔ تحریکی زندگی میں اس احساس کی بڑی اہمیت ہے۔ اگر آدمی ہر وقت یہ سوچتا رہے کہ میری بات کا غلط مطلب لیا جائے گا یا میری کمزوری کسی دن میرے خلاف استعمال ہوسکتی ہے، تو وہ کھل کر نہ اپنی رائے دے سکے گا اور نہ اپنی پریشانی بیان کرے گا۔ پھر بظاہر اجتماعیت قائم دکھائی دیتی ہے، مگر اندر سے لوگ الگ الگ جزیروں میں بٹ جاتے ہیں۔ اعتماد کا مطلب ’اندھا یقین‘ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حُسنِ ظن کو بدگمانی پر ترجیح دی جائے اور کسی شخص کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کا موقف بھی سن لیا جائے۔

اختلافِ رائے کسی بھی زندہ اجتماعیت میں ناگزیر ہے۔ جہاں انسان ہیں وہاں زاویۂ نظر بھی مختلف ہوں گے۔ اصل امتحان تو اس وقت ہوتا ہے جب ہماری رائے رد کردی جائے۔ کیا ہم اس وقت بھی دوسرے کی نیت کے بارے میں حسنِ ظن رکھ سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ مان سکتے ہیں کہ سامنے والا مجھ سے مختلف سوچتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ میرے خلاف سوچتا ہو؟ 

تحریکی زندگی میں اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اختلاف اگر دلیل کے دائرے میں رہے تو اجتماعیت کو پختہ کرتا ہے، مگر جب وہ شخصیت کا مسئلہ بن جائے تو دلوں میں گرہیں پڑنے لگتی ہیں۔ کبھی ایک جملہ برسوں کے تعلقات و مراسم کے اندر دراڑیں پیدا کردیتا ہے۔ کبھی ایک معذرت، ایک وضاحت یا ایک خاموش مصافحہ وہ گرہ کھول دیتا ہے۔ اس لیے اختلاف کے باوجود احترام باقی رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے ساتھی کی رائے سے اختلاف کا حق تو ہے، مگر اس کی نیت پر حکم لگانے کا نہیں۔ یہ فرق چھوٹا معلوم ہوتا ہے، مگر اجتماعی زندگی کے لیے بہت بڑا فرق ہے۔

اسی طرح احتساب اور خیرخواہی کو بھی الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی ساتھی کی غلطی نظرآئے اور ہم صرف تعلق خراب ہونے کے خوف سے خاموش رہیں، تو شاید ہم اسے وقتی سکون دے رہے ہوں، مگر ایسے طرزِعمل سے اس کی حقیقی مدد نہیں کررہے ہوتے۔ لیکن اگر اصلاح کے نام پر اس کی عزّت مجروح کردی جائے تو مقصد بھی فوت ہوگیا اور تعلق بھی۔ خیرخواہی کا حسن یہی ہے کہ بات سچی ہو مگر لہجے میں سامنے والے کی عزت محفوظ رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا ایک نمایاں پہلو یہی تھا کہ اصلاح شخصیت کو توڑنے کے لیے نہیں، سنوارنے کے لیے ہوتی تھی۔ ہمارے تحریکی تعلقات میں بھی اگر یہ مزاج پیدا ہوجائے تو تنقید و احتساب دشمنی کی بنیاد نہیں بنتے بلکہ آئینہ بن جاتے ہیں۔ انسان اپنے عیوب دیکھنے کے لیے ایسے ساتھیوں کا محتاج ہوتا ہے جو اس سے محبت بھی کرتے ہوں اور اس کے سامنے سچ بھی بول سکتے ہوں۔

  • مزاج شناسی اور اجتماعیت:’ مزاج شناسی‘ ایک مختصر لفظ ہے، مگر اجتماعی زندگی میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ کسی ساتھی کو جاننا صرف اس کا نام، ذمہ داری اور سرگرمی جان لینا نہیں۔ اسے جاننے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ وہ کس طرح سوچتا ہے، کس بات سے متحرک ہوتا ہے، کس چیز پر دل گرفتہ ہوجاتا ہے، کہاں اسے آزادی درکار ہے اور کہاں رہنمائی؟ کوئی شخص مجلس میں بہت کم بولتا ہے، لیکن میدان میں سب سے زیادہ کام کرتا ہے۔ کوئی سوال بہت کرتا ہے، مگر اس کے سوال کے پیچھے بغاوت نہیں، حقیقت کو سمجھنے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ کوئی شخص تنقید سن کر خاموش ہوجاتا ہے، حالانکہ وہ بہت کچھ سوچ رہا ہوتا ہے۔ اگر ہم ہرانسان کے سوچ و کردار کی پیمائش اپنے مزاج کے پیمانے سے کریں گے، تو بہت سے اچھے لوگ ہماری نگاہ میں جھوٹے ثابت ہوجائیں گے۔ مزاج شناسی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دوسرے کو اپنے جیسا بنانے سے پہلے، انھیں ان کی اپنی ساخت میں سمجھا جائے۔ یہی سمجھ قیادت کو بھی بہتر بناتی ہے اور باہمی تعلق کو بھی۔

تحریکی زندگی میں اس فہم کی ضرورت اس لیے بہت زیادہ ہے کہ یہاں ایک ہی مقصد کے لیے مختلف طبقوں، عمروں اور تجربات کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ ایک بزرگ کارکن کا تجربہ ایک نوجوان کے جوش سے مختلف ہوگا، اور نوجوان کی بے قراری ایک تجربہ کار شخص کی احتیاط سے مختلف پہچان رکھے گی۔ دونوں میں سے کسی ایک کو معیار بنا کر موازنہ کرنا انصاف نہیں۔ اسی طرح کسی نئے رفیق سے یہ توقع کرنا کہ وہ چند ہی دنوں میں برسوں کے کارکن جیسی بصیرت پیدا کرلے، اپنی جگہ ایک غیرفطری مطالبہ ہے۔ تربیت وقت لیتی ہے۔ تعلق وقت مانگتا ہے۔ اعتماد بھی آہستہ آہستہ بنتا ہے۔ اس لیے جو شخص آج کم بول رہا ہے، ممکن ہے کل کسی بڑی ذمہ داری کا بہترین امین ثابت ہو۔ جو شخص آج بار بار سوال کررہا ہے، ممکن ہے کل وہی دوسروں کے سوالوں کا جواب دینے والا بن جائے۔ شرط یہ ہے کہ ہم اسے موقع دیں، اس کی بات سنیں اور اس کی شخصیت کو جلدی سے کسی خانے میں بند نہ کردیں۔

مزاج شناسی کا تعلق صرف صلاحیتوں سے نہیں، حالات سے بھی ہے۔ ہر کارکن ہروقت ایک جیسی توانائی کے ساتھ کام نہیں کرسکتا۔ کبھی گھر کے حالات آدمی کو تھکا دیتے ہیں، کبھی معاشی پریشانی، اور کبھی صحت یا ذاتی مسائل اس کی رفتار کم کردیتے ہیں۔ بسا اوقات جو شخص ہمیں پہلے جیسا متحرک دکھائی نہیں دیتا، وہ کسی ایسی آزمائش سے گزر رہا ہوتا ہے، جو ہمارے علم میں نہیں ہوتی۔ ایسے موقعے پر فوری فیصلہ سنادینا آسان ہے: ’اب پہلے جیسا نہیں رہا‘،’ دلچسپی کم ہوگئی ہے‘، ’کام سے جی چرانے لگا ہے‘۔ مگر شاید اصل ضرورت ایک سوال کی ہو: ’خیریت تو ہے؟‘ تحریکی زندگی میں بعض اوقات ایک ذمہ داری کم کردینا کسی شخص کو جماعت سے دُور نہیں کرتا، بلکہ اسے دوبارہ سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ ہر وقت کام لینا ہی تعلق نہیں، کبھی کسی کو سہارا دینا بھی تعلق ہی کی ایک صورت ہے۔ یہیں مزاج شناسی ایک تنظیمی خوبی سے بڑھ کر انسانی اخلاق بن جاتی ہے۔

تاہم، کسی کے مزاج کو سمجھنے کا مطلب اصولوں کو اس کے تابع کردینا نہیں۔ یہ بھی ایک انتہا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی طبیعت کے مطابق اصول چاہنے اور مانگنے لگے تو اجتماعیت کا کوئی مشترک معیار باقی نہیں رہے گا۔ مطلوب توازن ہے۔ انسان کو سمجھا جائے، مگر حق اور اصول معیار رہیں۔ اس کی حساسیت کا لحاظ کیا جائے، مگر اصلاح کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ اس کے حالات کو دیکھا جائے، مگر ذمہ داری کا شعور باقی رکھا جائے۔ 

یہی ’توازن‘ کسی جماعت اور اجتماعیت کو شخصیات کے مجموعے سے آگے بڑھ کر ایک منظم اجتماعیت اور قوت بناتا ہے۔ تعلق دل کو جوڑتا ہے، نظم سمت دیتا ہے اور اصول حدود متعین کرتے ہیں۔ مزاج شناسی کا اصل کمال یہی ہے کہ ہم انسان کو، انسان سمجھتے ہوئے مقصد کو نہ بھولیں اور مقصد کی طرف بڑھتے ہوئے انسان کو نہ کھو دیں۔

  •  آزمائش ، ایثار اور اجتماعیت کی بقا :تعلقات کی حقیقت کا اندازہ آسودہ دنوں میں نہیں ہوتا۔ خوش حالی میں بہت سے لوگ ساتھ ہوتے ہیں۔ لوگوں کی اصل پہچان مشکل وقت میں ہوتی ہے۔ ہجرت کے سفر میں غارِ ثور کا واقعہ اسی حقیقت کی ایک روشن مثال ہے۔ جب تعاقب کرنے والے غار کے دہانے تک پہنچ گئے اور حضرت ابوبکرؓ کو خطرہ محسوس ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ یہ صرف ایک عظیم تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ تعلق کی ایک پوری تہذیب سامنے آتی ہے۔ خوف کے لمحے میں ایک ساتھی دوسرے کے خوف کو بڑھاتا نہیں، اسے یقین دیتا ہے۔ زندگی کے بڑے سفر میں حوصلہ دینے، ہمت بندھانے اور اُمید کا چراغ روشن کرنے والے ایسے لوگ نعمت ہوتے ہیں۔ تحریکی جدوجہد میں کبھی ایسا وقت آتا ہے جب آدمی کو اپنے کام کا نتیجہ دکھائی نہیں دیتا، تھکن بڑھ جاتی ہے اور راستہ طویل محسوس ہوتا ہے۔ اس وقت کسی ساتھی کا یہ کہنا کہ ’’چلیے، ہم ساتھ ہیں‘‘ بظاہر چند الفاظ ہوتے ہیں، مگر اکثر اوقات یہی چند الفاظ انسان کو دوبارہ کھڑا کردیتے ہیں۔ تعلق کی اصل قوت شاید یہی ہے کہ وہ انسان کو اس وقت سنبھال لے جب وہ خود کو سنبھالنے کی قوت کھو رہا ہو۔

حضرت سلمان فارسیؓ اور حضرت ابودرداءؓ کا واقعہ تعلق کی ایک دوسری جہت سامنے لاتا ہے۔ دونوں کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’مواخات‘ قائم فرمائی تھی۔ ایک موقع پر حضرت سلمانؓ نے حضرت ابودرداءؓ کے معمولات میں ایک ایسا عدم توازن محسوس کیا جس میں عبادت کے ساتھ جسم اور اہلِ خانہ کے حقوق متاثر ہورہے تھے۔ انھوں نے انھیں یاد دلایا کہ تمھارے ربّ کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری جان کا بھی اور تمھارے اہل و عیال کا بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمانؓ کی بات کی تائید فرمائی۔ 

یہاں ایک گہری بات سمجھ میں آتی ہے: قریب کا تعلق صرف دل بہلانے کے لیے نہیں ہوتا، کبھی وہ ہمیں حد سے تجاوز کرنے سے بھی روکتا ہے۔ جو ساتھی ہماری ہر بات پر آمین کہتا رہے، اور تائید میں سر ہلاتا رہے، ضروری نہیں کہ وہ واقعی ہمارا بہترین ساتھی ہو۔ کبھی بہترین ساتھی وہ ہوتا ہے جو محبت کے ساتھ ہمیں بتا دے کہ ہم کس سمت میں ضرورت سے زیادہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کی اصلاح میں اپنی دانش کی برتری نہیں، ہماری خیر مقصود ہو۔

تحریکی زندگی میں ایثار کا مفہوم بھی اسی جگہ سمجھ میں آتا ہے۔ ہر شخص کو ہر وقت سامنے آنے کا موقع نہیں ملتا۔ کسی کی محنت کا ذکر ہوتا ہے، کسی کی محنت خاموشی میں گم ہوجاتی ہے۔ کسی کو اہم ذمہ داری ملتی ہے، اور کوئی طویل عرصے تک پس منظر میں رہ کر کام کرتا ہے۔ یہاں انسان کے اندر ’میں‘ کبھی کبھی بے چین ہوتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ میری محنت کا اعتراف کیوں نہیں ہوا، میرے حصے میں یہی ذمہ داری کیوں آئی، دوسرے کو مجھ سے آگے کیوں رکھا گیا؟ یہ انسانی احساس ہے، اسے نظرانداز کرکے نہیں چلا جاسکتا۔ 

اجتماعیت اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جب آدمی اس سوال کے بجائے کہ ’مجھے کیا ملا؟‘ یہ پوچھنا شروع کرتا ہے کہ ’مقصد کتنا حاصل ہوا؟‘___ یہی تبدیلی فرد کو کارکن سے رفیق بناتی ہے۔ پھر دوسرے کی کامیابی اپنی شکست محسوس نہیں ہوتی۔ کسی ساتھی کا آگے بڑھنا جماعت کی پیش رفت دکھائی دیتا ہے۔ اس کا حتمی نتیجہ حسد کی جگہ خوشی اور رقابت کی جگہ تعاون پیدا کرتا ہے۔

تعلقات کو زندہ رکھنے کے لیے بڑے بڑے مواقع سے زیادہ چھوٹی چھوٹی توجہات کام آتی ہیں۔ کسی کی غیر حاضری کو محسوس کرنا، خیریت دریافت کرنا، مشکل وقت میں اس کے گھر پہنچ جانا، کامیابی پر دل سے مبارک دینا، کسی غلط فہمی کو بڑھنے سے پہلے صاف کرلینا ___ یہ سب بظاہر معمولی کام ہیں، مگر انھی سے تعلق کی زمین زرخیز رہتی ہے۔ ہمارے اجتماعی ماحول میں کبھی کبھی ہم کام کے اتنے عادی ہوجاتے ہیں کہ اس مصروفیت میں انسان پیچھے رہ جاتا ہے۔ اجلاس ہوا، فیصلہ ہوا، ذمہ داری تقسیم ہوئی اور سب اپنے اپنے راستے پر چل پڑے۔ مگر اس دوران کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ جس شخص کو ذمہ داری دی گئی ہے، وہ اس وقت کن حالات سے گزر رہا ہے؟ اس رویے سے تنظیم اور انسان کے درمیان فاصلہ پیدا ہوتا ہے۔ اچھی اجتماعیت کام بھی دیکھتی ہے اور کام کرنے والے انسان کو بھی۔ وہ نتیجہ بھی چاہتی ہے اور انسان کو سنبھالنا بھی جانتی ہے۔

’اصول‘ اور ’تعلق‘ دونوں اجتماعیت کے لیے لازم ہیں۔ صرف شخصی مراسم ہوں اور اصول کمزور ہوجائیں تو جماعت شخصی وابستگیوں کا مجموعہ بن سکتی ہے، اور صرف اصول ہوں، مگر دلوں میں الفت نہ ہو تو اجتماعیت ایک خشک انتظامی ڈھانچے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ 

اصول سمت دیتے ہیں، نظم راستہ محفوظ رکھتا ہے، قیادت فیصلے کرتی ہے اور انسانی تعلق پورے سفر میں حرارت پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کسی تحریک کی صحت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ صرف اس کی سرگرمیوں، اجتماعات یا پروگراموں کی گرما گرمی سے نہیں لگایا جاسکتا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان سرگرمیوں کے دوران دلوں میں کیا پیدا ہوا: اعتماد بڑھا یا بدگمانی؟ خیرخواہی بڑھی یا گروہ بندی؟ اختلاف کے باوجود احترام باقی رہا؟ کیا ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا ہوئی؟ اور کیا کمزور پڑتے ہوئے ساتھی کو سنبھالنے والے ہاتھ موجود رہے؟ یہ سوالات کسی تحریک کے ظاہری نظم سے آگے بڑھ کر اس کے باطن کی کیفیت کو آشکار کرتے ہیں۔

یہ بات بہت سادہ ہے۔ ہم ایک اعلیٰ مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں، مگر اس اعلیٰ مقصد کی راہ میں چلنے والے بہرحال انسان ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت رہے گی۔ کبھی کسی کے تجربے کی، کبھی کسی کے مشورے کی، کبھی کسی کے حوصلے کی اور کبھی صرف اس احساس کی کہ کوئی ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ اسی لیے تحریکی تعلقات کو محض تنظیمی ضرورت سمجھنا ان کی اصل روح کو محدود کردینا ہے۔ یہ تعلق انسان کو سنبھالتا بھی ہے اور بناتا بھی ہے۔ محبت اس کے دل کو حوصلہ دیتی ہے، اخلاص اسے پاکیزگی دیتا ہے، اعتماد اسے ٹھیراؤ دیتا ہے، اور خیرخواہی اسے درست سمت میں گامزن رکھتی ہے۔ مزاج شناسی ان سب کو انسان کے حالات سے جوڑتی ہے۔

مضبوط جماعت وہ نہیں جہاں اختلاف نہ ہو۔ مضبوط جماعت وہ ہے جہاں اختلاف کے باوجود اخوت باقی رہتی ہے۔ مثالی اور بہترین جماعت وہ ہے جہاں تنقید ہوتی ہے مگر تحقیر نہیں، احتساب ہوتا ہے مگر انتقام نہیں، نظم ہوتا ہے مگر جبر نہیں، اور محبت ہوتی ہے مگر شخصیت پرستی نہیں۔ ایسی اجتماعیت میں آدمی صرف کام نہیں کرتا، وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو بہتر بناتا ہے۔ پھر جماعت ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے، جہاں آدمی کے دل میں یہ یقین زندہ رہتا ہے کہ میری کمزوری مجھے تنہا نہیں کردے گی، میری غلطی میری شناخت نہیں بنے گی، اور میری کامیابی صرف میری نہیں سمجھی جائے گی بلکہ میرے ساتھیوں کی کامیابی جانی اور مانی جائے گی۔

تحریکی رفاقت کی سب سے خوب صورت تعبیر یہی ہے کہ ہم مقصد کی راہ میں ایک دوسرے کو نہ کھوئیں۔ جو اجتماعیت، انسان کو مقصد سے جوڑتے ہوئے انسان سے بھی جوڑے، وہی دیرپا ہوتی ہے۔ تنظیمیں بن سکتی ہیں اور پروگرام چلائے جاسکتے ہیں، مگر دلوں کا قافلہ صرف محبت، اعتماد، اخلاص اور خیرخواہی سے بنتا ہے۔ جب دلوں کا یہ قافلہ بن جائے تو راستے کی سختی اپنی جگہ، مگر مسافر تنہا نہیں رہتا اور تحریک و اجتماعیت خیر وبرکت سمیٹتی اور پھیلاتی چلی جاتی ہے۔

 _______________