علامہ اقبالؒ کی شخصیت ایک ترشے ہوئے ہیرے کی سی ہے کہ اس کے مختلف پہلو مختلف انداز میں لودیتے ہیں اور وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ وہ بہت بڑے شاعر بھی ہیں اور مفکر بھی، صاحب رویا بھی ہیں اور مصلح بھی، اور وطن عزیز کا خواب دیکھنے والے مصورِ پاکستان بھی۔ جب کسی ایک شخص کی شخصیت کے اتنے متنوع پہلو آجائیں تو اکثر لوگوں کے ذہنوں میں کچھ چیزیں گڈمڈ ہوجاتی ہیں اور یہ متعین کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ اس شخصیت کی بالکل بنیادی اور اساسی اہمیت کیا ہے؟ علّامہ صاحب کی شخصیت کے یہ سبھی پہلو بہت مضبوط ہیں اور واقعی کسی ایک پہلو کو دوسرے پہلو پر ترجیح دینا اتنا آسان نہیں۔تاہم، ایک بات میں نے ہمیشہ محسوس کی ہے کہ علّامہ جتنے بڑے، جتنے منفرد اور بے مثال شاعر ہیں ،اگر وہ اتنے بڑے شاعر نہ ہوتے تو شاید ان کے پیغام کو وہ تاثیر، وہ دل نشینی اور وہ پھیلائو حاصل نہ ہوسکتا جو اَب ہم دیکھتے ہیں۔ بقول ان کے ؎
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
آپ مشرق و مغرب میں ان کی آواز کی جو گونج سنتے ہیں ، اس میں ان کے دیگر پہلوئوں سے کہیں بڑھ کر ان کا شاعرانہ پہلو اساسی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے جو لیکچرز انگریزی میں دیے نہایت عالمانہ ہیں، جس کی ایک ایک سطر میں انھوں نے واقعی کوزے میں سمندر بند کیا ہے اور چلتے چلتے وہ ایک جملے میں جو بات کہہ جاتے ہیں ،آپ کو پوری پوری تحریکوں کا مطالعہ کیے بغیر اس ایک جملے کا فہم حاصل نہیں ہوتا۔ ان کے جو لیکچرز ’ری کنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ اِن اسلام‘ پر ہیں، بعض لوگوں نے گذشتہ کچھ عرصے میں یہ کہا کہ ان کا اصل کام تو ان کے لیکچرز ہیں، شاعری تو ایک جزوی سا پہلو ہے جو اتنا اہم نہیں۔ مجھے ان کے لیکچرز کی عظمت میں کبھی کوئی شک نہیں رہا، لیکن مجھے اس خیال سے اتفاق نہیں ہوسکا کہ علامہ صاحب کا اصل کام وہ ہے۔ انھوں نے جاوید نامہ کے آخری حصہ ’خطاب بہ جاوید‘ میں خود ان دونوں چیزوں کی حدود متعین کی ہیں۔ اس پر پورا ایک بند لکھا ہے لیکن اس میں سے دو شعر آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا:
من بہ طبع عصر خود گفتم دو حرف
کردہ ام بحرین را اندر دو حرف
حرف پیچا پیچ و حرف نیش دار
تا کنم عقل و دل مرداں شکار
[میں نے اپنے زمانے کی طبیعت سے دوباتیں کہی ہیں اور میں نے دو سمندروں کو دوکوزوں میں بند کردیا ہے۔ان میں سے ایک حرف پیچیدہ اور بڑا علمی ہے۔ اس کے اُتار چڑھائو ہیں اور دوسرا حرف ایسا ہے جیسے دل میں جاکر کھب جانے والا، تاکہ میں ایک سے لوگوں کی عقل کو شکار کروں اور دوسرے سے لوگوں کے دل کو شکار کروں ]۔
انھوں نے اپنے ان دونوں کارناموں کا اپنا اپنا علاقہ اور اپنی اپنی حیثیت خود متعین کردی ہے کہ ان کے خطبات میں عقل سے خطاب ہے اور ان کی شاعری دلوں پر تاثیر چھوڑتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک خلقت کے ذہن میں جو انقلاب پیدا کیے ہیں وہ اس حرف پیچاپیچ نے پیدا نہیں کیے،کیونکہ اس کو تو بہت ہی کم لوگوں نے پڑھا ہے اور جنھوں نے پڑھا ہے ان کو بھی اس کے سمجھنے کا دعویٰ نہیں ہے۔ لیکن ان کی شاعری میں باوجود اس کے کہ وہ باتیں وہی کہتے ہیں جو ہمارے علم میں پہلے سے ہوتی ہیں، لیکن کہتے ایسے انداز میں ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ آج پہلی بار کہی جارہی ہیں۔ یہ بتانا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ شعر کی تاثیر کا آخری مخرج کیا ہے؟ منبع کیا ہے؟ اور ان کی شاعری کہاں سے پھوٹتی ہے؟ یہ ایک بڑی پُراسرار چیز ہے۔ خود اقبال نے کہا ہے ؎
سخن میں سوز ، الٰہی کہاں سے آتا ہے
یہ چیز وہ ہے کہ پتھر کو بھی گداز کرے
یہ بتانا بڑا دشوار ہے کہ شاعری میں تاثیر کہاں سے آتی ہے، اس کے عناصر کیا ہوتے ہیں؟ ہم بالعموم جب فنی تجزیہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہاں تشبیہ بہت اچھی ہے، یہاں استعارہ بہت اچھا ہے، اس شعر میں کنایہ سے کام لیا گیا ہے، اس شعر میں مجاز مُرسل ہے لیکن یہ سب چیزیں شعر کا سنگھار تو ہوسکتی ہیں، مگر شعر کی اساس نہیں ہوسکتیں۔ شعر کی اساس ایک خداداد برجستگی ہوتی ہے۔ اس کا اپنا ایک آہنگ ہوتا ہے۔ وہ دل سے نکلتا ہے اور دلوں پر جاکر لگتا ہے اور یہ سب چیزیں اس کے اندر جب گھل مل کر یک جان ہوجاتی ہیں تو آپ کہیں انگلی رکھ کر نہیں بتاسکتے کہ تشبیہ کہاں رہ گئی اور استعارہ کہاں رہ گیا اور مراعات النظیر کہاں ختم ہوگئی؟ لیکن شعر کی تاثیر مجموعی اعتبار سے آپ کو متاثر کرتی ہے اور آپ اس کا تعین نہیں کرسکتے کہ اس کی کیا چیز آپ کے اُوپر اثرانداز ہورہی ہے۔
علامہ اقبالؒ کی شاعری آغاز ہی سے ایک غیرمعمولی رنگ لیے ہوئے تھی اور آج تک ان کے اسلوب کا یہ کمال ہے کہ آپ ہزار آدمیوں کے کلام میں اقبالؒ کے دو شعر رکھ دیجیے، وہ الگ نظر آئیں گے اور اس میں کہنگی پیدا ہی نہیں ہوتی۔ یہ خداداد چیز ہے۔
جب وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں بطور طالب علم کے آئے تھے، اس وقت کی یادداشت محفوظ ہے۔ میں چونکہ اسی درس گاہ میں پڑھاتا ہوں، ہم نے ایک بار دوبارہ ریسرچ کرکے اس کمرے کا تعین کیا، جہاں ’اقبال ہاسٹل‘ میں جس کمرے میں وہ رہتے تھے۔ اتنی مدت تک لوگوں کو کچھ اور کمروں کے بارے میں غلط فہمی رہی کہ وہ اس میں رہتے تھے ، لیکن ان کے ایک ساتھی غلام نورنگ صاحب، جو ہاسٹل فیلو تھے، ان کی اس بارے میں اتنی تفصیلی گفتگو موجود ہے کہ جس کے بعد ہمیں کوئی دِقّت نہیں ہوئی اور ہم نے بڑی آسانی سے اس کا تعین کیا کہ یہ وہ کمرہ تھا جہاں اقبال قیام پذیر تھے۔ آج بھی وہ عمارت اور کمرہ اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔ اس میں جب کبھی جانا ہو تو اس دور کی جو ان کی تمام تفصیل لکھی ہوئی ہے کہ وہ فرش پر دری بچھائے بیٹھے ہوتے تھے اور اکثر بنیان اور تہبند پہنے ہوئے ہوتے جو آخری زمانے تک ان کا پسندیدہ لباس تھا۔ وہ حقہ بھی وہیں رکھے ہوئے بیٹھے ہوتے تھے اور چاروں طرف سے طالب علم ان کی کشش سے اُس وقت بھی آتے تھے اور اس وقت بھی انھوں نے بعض مشاعروں میں شرکت کی۔ کہیں بھاٹی دروازے کے اندر، کبھی بازار حکیماں میں اور کبھی اور جگہوں پر۔ اس وقت تک ان کی شہرت یہ تھی کہ ایک کشمیری لڑکا لاہور میں آیا ہے اور وہ بہت اچھا شعر کہتا ہے۔ اپنے دورِ طالب علمی میں انھوں نے یہ شعر کہا تھا کہ ؎
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے
اس وقت کے ایک بڑے سینئر شاعر مرزا ارشد گرگانی بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے چونک کر کہا کہ بھئی کمال ہے یہ عمر اور یہ شعر! دراصل اقبال کی شاعرانہ تاثیر اور اس کا کمال ان کے اس زمانے سے کھلنا شروع ہوگیا تھا جب ابھی و ہ اقبال بنے ہی نہیں تھے۔
اسی ہاسٹل کے زمانے میں انھوں نے ’ہمالہ‘ کے نام سے ایک نظم کہی۔ غیرمنقسم ہندستان میں انھوں نے ہمالہ کو ایک فصیل کی حیثیت دی۔اس کو فصیل کشور ہندوستاں کہا۔ اپنی سرزمین کے ایک پہاڑ کی تعریف کی۔ وہ نظم ۱۹۰۱ء میں شائع ہوگئی تھی۔ہوسکتا ہے کہ انھوں نے اس سے کئی سال پہلے کہی ہو۔ بعد میں اقبالؒ نے اس میں تھوڑی بہت تبدیلی ضرور کی، لیکن بیشتر نظم اپنی اصل حالت میں ہے اور بانگ درا کی پہلی نظم وہی ’ہمالہ‘ ہے۔یہ ان کے بالکل ابتدائی دور کی چیز ہے اور یقین کیجیے کہ میں آج تک اس نظم کو پڑھنے سے سیر نہیں ہوسکا۔ انھوں نے ہمالہ کے بارے میں کہا تھا ؎
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
یہ نظم جب پڑھتا ہوں محسوس ہوتا ہے کہ وہی تازگی اور وہی تاثیر محسوس ہوتی ہے، جو پہلی بار پڑھ کر محسوس کی تھی۔ اس لیے کہ اس دور میں ان پر مغرب کی پوئٹری آف نیچر کا زیادہ اثر تھا۔ لیکن ان کا مشرقی اثاثہ اتنا مضبوط تھا کہ وہ جدید خیالات کو اپنی روایت کے مطابق بیان کرنے پر قادر تھے، بجائے اس کے کہ وہ شعر ڈھلے ڈھلائے اور بنے بنائے سانچوں میں چلے جائیں، ہر شعر میں ایک تازگی محسوس ہوتی تھی۔ ’ہمالہ‘ میں انھوں نے جو منظرنگاری کی تھی اُسے ذرا دیکھیے:
ابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطے
تازیانہ دے دیا برق سر کہسار نے
اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تُو بھی ، جسے
دستِ قُدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے
ہائے کیا فرطِ طرب میں جھومتا جاتا ہے اَبر
فیل بے زنجیر کی صورت اُڑا جاتا ہے اَبر
اسی نظم کے ایک بند کے چوتھے مصرعے پر تو یقین کیجیے کہ میرا سانس رُک جاتا ہے:
لیلیٰ شب کھولتی ہے آ کے جب زُلفِ رسا
دامنِ دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
وہ خموشی شام کی جس پر تکلّم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
’وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا‘ مصرعے پر مجھے حیرت ہوتی ہے۔ پھر کہتے ہیں ؎
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگِ شفق کُہسار پر
خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رُخسار پر
جس شاعر کی ابتدا یہ ہے ، آپ دیکھیے کہ بانگ درا میں ان کی دور بہ دور نظمیں موجود ہیں۔ وہ بھی جو۱۹۰۵ء تک کی ہیں، اور وہ بھی جو ۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ء تک کی ہیں۔ جب وہ یورپ میں رہے اور پھر اس کے بعد کی نظمیں ہیں۔ ہردور کی نظموں میں ان کے شاعرانہ کمالات اسی دور سے نمایاں ہیں۔ اقبال کے ہاں آغاز ہی سے تشبیہ کی ندرت کا کمال تھا۔ بانگِ درا میں ہی دیکھ لیں جو ان کے ابتدائی دور غالباً ۱۹۰۵ء تک کا دور ہے۔ اس میں ایک نظم ہے، اس میں انھوں نے جو تشبیہیں دی ہیں آپ دیکھیے کہ وہ تشبیہات آج بھی کتنی زندہ اور کتنی تازہ ہیں:
جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں
آیا ہے آسماں سے اُڑ کر کوئی ستارہ
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا
غربت میں آ کے چمکا گمنام تھا وطن میں
تکمہ کوئی گرا ہے مہتاب کی قبا کا
ذرّہ ہے یا نمایاں سورج کے پیرہن میں
چھوٹے سے چاند میں ہے ظلمت بھی روشنی بھی
نکلا کبھی گہن سے آیا کبھی گہن میں
یہ بات انھوں نے جگنو کی تشبیہ کے لیے کہی اور جگنو کا استعارہ اقبال کے کلام میں چلتا رہا ہے۔ جس طرح شاہین نے ان کو بہت متاثر کیا ہے، اسی طرح جگنو نے اور پروانے نے بھی اپنے اپنے انداز میں بہت متاثر کیا ہے۔ چنانچہ جگنو کا استعارہ ان کے کلام میں ایک ارتقا کے ساتھ آگے چلتا ہے اوراس میں جو بات انھوں نے کہی تھی ؎
چھوٹے سے چاند میں ہے ظلمت بھی روشنی بھی
نکلا کبھی گہن سے آیا کبھی گہن میں
پیامِ مشرق میں انھوں نے ’کرمک شب تاب‘ کے عنوان سے فارسی میں ایک بڑی نظم لکھی ہے۔ وہ ان کی بہت کمال نظم ہے جس میں انھوں نے جگنو کے بارے میں کہا کہ ؎
یک ذرہ ی بی مایہ متاع نفس اندوخت
شوق این قدرش سوخت کہ پروانگی آموخت
پہنائی شب افروخت
ایک ذرّہ بے مایہ تھا جس نے اپنے سانس کی دولت کو بچا بچا کے رکھا، اپنے وجود کو سنبھالا۔ شوق نے اس کو اس حد تک جلایا اور سوز دیا کہ اس کو پروانہ بنادیا اور اس نے رات کی پہنائی کو روشن کرنا شروع کر دیا۔ یہ طویل نظم ہے، اس میں ایک ٹکڑا جو مجھے اس شعر سے یاد آگیا وہ ہے ؎
اے کرمک شب تاب سراپای تو نور است
پرواز تو یک سلسلہ ی غیب و حضور است
آئین ظہور است
یعنی کرمک شب تاب سے خطاب کرکے کہتے ہیں کہ تیری پرواز غیب و حضور کا ایک سلسلہ ہے۔ کبھی ظلمت، کبھی روشنی۔ یہ ان کے شاعرانہ کمالات ہیں جو ان کی بالکل ابتدائی نظموں سے چلتے ہیں۔
آگے چلیں تو ’شمع وشاعر‘ ہے، ’خضرراہ‘ ہے،’ طلوعِ اسلام‘ ہے اور ’شکوہ و جوابِ شکوہ‘ ہے۔ جب شکوہ اور جوابِ شکوہ لکھی تو وہ انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں پڑھی۔ سال بھر کے بعد جب سالانہ جلسہ ہوتا تھا تو وہ ایک نظم پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور یہ تاثیر ہوتی تھی اور اس زمانے کے لوگوں کی روایتیں ہیں کہ جو سٹیج بنی ہوئی ہوتی تھی وہاں وہ اپنا کلام زبانی پڑھتے تھے اور ٹہلتے جاتے تھے۔ بہت خوش آہنگ بلندآواز آدمی تھے۔ مکمل خاموشی ہوتی تھی۔ اس دور میں بھی دُور دُور کے شہروں سے لوگ آتے تھے، ہزار ہزار، ڈیڑھ ڈیڑھ ہزار کا مجمع بیٹھا ہے اور وہ سنا رہے ہیں۔ اگر کہیں بالفرض وہ کوئی مصرع بھول گئے توو ہ بعض اوقات ایک دو منٹ ٹہلتے رہتے اور کہیں سے کوئی آواز نہیں آئی تاآنکہ ان کو دوسرا مصرع یاد آیا۔
انھوں نے شکوہ نظم اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں پڑھی تھی۔ اس زمانے میں ان کے والد مرحوم بھی زندہ تھے اور بہت بڑھاپے کی عمر میں خود وہ سامعین میں بیٹھ کر اپنے بیٹے سے وہ نظم شکوہ سن رہے تھے۔ اس نظم میں بھی آپ ان کے شاعرانہ اور فنی کمالات دیکھیے۔ مثلاً ایک پوری تاریخ نچوڑ کے تلمیحات لے کر آنا، علامتیں نکال کر لانا، مثلاً اس کا ایک بند ہے:
واعظِ قوم کی وہ پُختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی ، شُعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں ، رُوحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا ، تلقین غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصاف حجازی نہ رہے
یعنی اسلام، ملت اسلامیہ کا زوال کہ جس جس میدان کے باکمال کبھی ہماری ملّت میں موجود تھے، وہ سب ختم ہوگئے۔اس میں انھوں نے شخصیات کو علامت بنایا ہے اور ملت اسلامیہ کے زوال اور انحطاط کا مرثیہ پڑھا ہے، کہ یہ کیا تھے اور کیا ہوگئے ؎
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصاف حجازی نہ رہے
جب شکوہ لکھا تھا تو اس میں ساری شکایتیں کرنے کے بعد آخر میں آکر اس کو پُرامید بنایا تھا۔ اس لیے کہ اُمید تو اقبال کی ساری شاعری کا لب ِ لباب ہے۔ نااُمیدی تو کہیں پیدا ہی نہیں ہونے دیتے ؎
سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے
وہ قرآنِ مجید کا کثرت سے مطالعہ کرکے اپنے خیالات کی اساس اور اپنے افکار وہیں سے نکال کر لاتے تھے۔ قرآنِ مجید میں بھی آتا ہے کہ جب نبی پکار اُٹھیں گے مَتٰى نَصْرُ اللہِ تو اس میں جواب آتا ہے اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِيْبٌ۔یعنی وہ لوگ جو یہ پکار اُٹھتے ہیں وہ تو عظیم ترین لوگ ہیں جو حالات کی نامساعدت کو دیکھ کر کہہ اُٹھتے ہیں مَتٰى نَصْرُ اللہِ کب آئے گی اللہ کی مدد؟یہ کیفیت شکوہ میں ہے اور اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِيْبٌ ،یہ کیفیت جوابِ شکوہ میں ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں ؎
سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے
اِک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تُو نے
آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے
پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تُو نے
آپ اُوپر کے آخری مصرعے کا شاعرانہ آہنگ دیکھیے۔ پھر کہتے ہیں ؎
آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیں
ہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیں؟
جب یہ جوابِ شکوہ میں آتے ہیں تو اس میں بھی پہلے ان تمام چیزوں کا ایک جواب ملتا ہے ؎
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور
عدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستور
آخر میں پہنچتے پہنچتے تسلی دینے کی اور مایوس نہ ہونے کی تلقین پیدا ہوجاتی ہے۔ اب اس میں آپ دیکھیے کہ انھوں نے کہا ؎:
دیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالی
کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستان خالی
گُل بر انداز ہے خونِ شُہداء کی لالی
رنگ گردُوں کا ذرا دیکھ تو عُنّابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی اُفق تابی ہے
ان تمام نظموں سے گزرتے ہوئے جب ہم بالِ جبریل میں پہنچتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ شاعرانہ اعتبار سے زبورِ عجم اور پیامِ مشرق فارسی میں سب سے آگے ہیں اور بالِ جبریل اُردو میں سب سے آگے ہے۔ اس لیے کہ بالِ جبریل کی غزلوں میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقبالؒ نے اُردو شاعری میں غزل کی صنف کو ہاتھ لگایا اور بالکل منقلب کرکے رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ غزل رہی ہی نہیں جو پہلے تھی۔ مگر کمال یہ ہے کہ وہ غزل جو اقبال نے بنادی وہ بس اقبال ہی سے شروع ہوئی اور اقبال ہی پر ختم ہوگئی۔ آج اگر کوئی چاہے کہ اس رنگ میں شعر کہے تو نہیں کہہ سکتا، اس سےپہلے کسی نے کہے نہیں۔ اس میں کیا نظمیں، کیا غزلیں، کیا ان کی دو بیتیاں، جو بھی چیز ہے، ایک سطر بھی ایسی نہیں ہے جس کو آپ کہیں کہ یہ نکال دو تو بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
اس میں جو نظم ’مسجد قرطبہ‘ ہے، لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسپین جاکر اگرآپ مسجد قرطبہ میں جائیں تو آپ کہیں گے کہ مسجد اچھی ہے مگر یہ ویسی نہیں ہے جیسی اقبالؒ نے دکھائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقبالؒ اس مسجد کے صرف بام ودَر نہیں دیکھ رہے تھے، وہ اس مسجد کی روح سے ہم کلام تھے ؎
آب روان کبیر! تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
جو گزراہوا زمانہ ہے، اس میں جن بلندیوں پر ان کا تخیل پہنچا ہے اور شاعری کے لیے جو لفظوں کی اپنی جسمانی ساخت ہوتی ہے، وہ جو اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں، اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ مثلاً فن ہے، انھوں نے فن کو ایک سطر کے اندر بیان کیا ہے ؎
رنگ ہو یا خشت و سنگ چِنگ ہو یا حرف و صوت
معجزئہ فن کی ہے خُونِ جگر سے نمود
یہ سوچ کر بہت دُکھ ہوتا ہےکہ عربی سے تو خیر پہلے ہی یہاں بہت کم لوگوں کو شغف تھا، لیکن فارسی سے بہت شغف ہوا کرتا تھا۔ ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا کہ گھریلو عورتیں جو پڑھی لکھی بھی نہیں ہوتی تھیں ان کو بھی گلستان، بوستان، کریما ببخشائے ہرحال ما، یہ چیزیں یاد ہوتی تھیں۔ جابجا فارسی کا کوئی مصرع، کوئی شعر پڑھا جاتا تھا۔ اب فارسی ہمارے ثقافتی اور معاشرتی پس منظر سے ایسی خارج ہوئی ہے کہ کہیں اگر کوئی ایک مصرع آپ پڑھ دیں تو اس مطلب کو سمجھانا پڑتا ہے۔
فارسی میں جو کچھ اقبالؒ نے کہا، اقبالؒ کو جتنا ہم مانتے ہیں، اہل ایران فارسی کے کلام کے حوالے سے انھیں اتنا ہی مانتے ہیں۔ ان کے کلام میں سے بعض ٹکڑوں کے بارے میں جن لوگوں کی فارسی ادب میں زندگیاں گزری ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر فارسی شاعری کا بہترین انتخاب کیا جائے تو اس میں اقبال کی فلاں فلاں نظم لازماً شامل ہوگی۔ مثلاً اُن کا چھوٹا سا دوبند کا ’محاورہ مابین خدا و انسان‘ خدااور انسان کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔ اس میں ان کے فکر کی بہت سی جہتیں آجاتی ہیں کیونکہ اقبالؒ کی فکر میں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جب بنایا تو اس نے اس کو ایک ایسی چیز دی ہے جو قوتِ تخلیق ہے اور جو کسی اور مخلوق میں موجود نہیں ہے۔ یہ صرف موجود پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ موجود کو بہتر بناتا ہے،تخلیق کو طبیعت کی سطح سے اُوپر اُٹھاکر بلند کردیتا ہے جیسے اقبال نے کہا ؎
بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہو سکا وہ تُو کر!
تو اس قطعہ میں بھی ان کا یہی فکر نظر آتا ہے کہ خدا کی طرف سے کہا جاتا ہے ؎
جہاں را ز یک آب و گل آفریدم
تو ایران و تاتار و زنگ آفریدی
[میں نے تو اس دُنیا کو ایک ہی مٹی اور پانی سے بنایا تھا تو نے اس کے اندر تفریق برپا کی، ایران بنایا، تاتار بنایا، زنگی بنائے اور افرنگی بنائے]۔
یعنی انسان کے اندر جو ایک تخریبی عنصر ہے جس کی طرف ملائکہ نے بھی اشارہ کیا تھا کہ یہ زمین میں فساد برپا کرے گا، اس کا ذکر کیا اور پھر کہا ؎
من از خاک پولادِ ناب آفریدم
تو شمشیر و تیر و تفنگ آفریدی
[میں نے اس مٹی سے خالص فولاد پیدا کیا تھا، تُو نے اس سے تلواریں بنائیں، تیربنائے، تفنگ بنائے یعنی جنگ و جدل کا سامان بنایا کیا]۔
تبر آفریدی نہالِ چمن را
قفس ساختی طائرِ نغمہ زن را
[کسی درخت کو کاٹ کر تُو نے اس سے کلہاڑے کا دستہ بنایا تاکہ دوسرے درخت کاٹے جاسکیں، اور اس درخت پر بیٹھا ہوا جو طائر نغمہ زن تھا اسی درخت کی تیلیاں کاٹ کر اس کا پنجرہ بنادیا اور اسے بند کر دیا]۔
یہ گویا انسان کے وجود پر ایک تنقید ہے۔ یہ تو علامتی ہے کہ خدانے کہا۔
انسان کا جواب بھی عجیب ہے کہ ؎
تو شب آفریدی ، چراغ آفریدم
سفال آفریدی ، ایاغ آفریدم
[تُو نے رات پیدا کی تھی میں نے اس میں چراغ جلایا۔ تُو نے مٹی پیدا کی تھی میں نے اس سے پیالے بنا کر دکھا دیے]۔
اور دوسرا جو شعر ہے اس پر آپ ذرا غور کیجیے۔ فنِ شعر کا کمال ہے ؎
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
اس کا ایک ایک لفظ تلا ہوا ہے۔ بیابان کے مقابلے میں خیابان، کہسار کے مقابلے میں گلزار اور راغ کے مقابلے میں باغ۔ تُو نے تو بیابان اور کہسار اور ویرانے پیدا کیے تھے، میں نے تو کیاریاں بنائیں، گلزار بنائے اور باغ بنائے ؎
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم
[میں وہ بھی تو ہوں جو پتھر سے آئینہ بناسکتا ہے اور جو زہر سے خوشگوار شراب پیدا کرسکتا ہے]۔
علامہ اقبالؒ کا یہ بند اپنی خالص ادبی قدروقیمت کے اعتبار سے فارسی شاعری کے بہترین نمونوں میں شامل کیے جانے کے لائق ہے۔ اپنی جامعیت اور کاملیت کے ساتھ ان دوبند کے اندر انھوں نے جو بات کہی ہے وہ فکری اعتبار سے ، فنی اعتبار سے بالکل منفرد ہے۔
اسی طریقے سے آپ علّامہ اقبال کی جس تخلیق پر بھی نظر ڈال کر دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ تخلیقی قوت، ایک سیلِ بے پناہ کی طرح اس آدمی کے اندر موجود تھی جس کی چند ایک مختلف چیزیں میں نے آپ کے سامنے پیش کیں۔
_______________