۲۰۰۴ء کو انتخابات کا سال کہا جا رہا ہے‘ اس لیے کہ اس سال ۸۰ ممالک میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس فہرست میں بہت سے مسلم ممالک بھی ہیں۔ انتخابات تو بھارت میں بھی ہوئے ہیں جن میں بڑے بڑے مسلم ممالک سے زیادہ مسلمان ووٹروں نے حق ووٹ استعمال کیا ہے۔ مسلم ممالک پر عموماً الزام یہ ہے کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے اور انتخابات بھی ۹۹ فی صد کامیابی والے ہوتے ہیں۔ اسلام اور جمہوریت کی بحث اپنی جگہ‘ جمہوریت اور انتخابات کی بحث بھی کافی وزن رکھتی ہے۔ انتخابات کو جمہوریت کی علامت کہا جاسکتا ہے۔ لیکن ایسے انتخابات بھی ہوتے ہیں کہ جمہوری اقدار کو نشوونما دینے کے بجاے ان کا کریا کرم ہی ہوجائے۔ گذشتہ عرصے میں تین مسلم ممالک انتخابات سے گزرے‘ ان کا ایک مختصر جائزہ پیش ہے۔
انڈونیشیا کو دنیا کے سب سے بڑے مجمع الجزائر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ۱۸ہزار جزائر میں ۲۲ کروڑ انسان بستے ہیں‘ جب کہ ۸۸ فی صد مسلمان‘ ۹ فی صد عیسائی‘ اور ۲ فی صد ہندو یہاں آباد ہیں۔ شرحِ تعلیم ۸۳ فی صد ہے۔ جنرل سوہارتو کے اقتدار کے ۳۲ سال نہ ہوتے تو انڈونیشیا کی تاریخ بالکل مختلف ہوتی۔ آج کے انڈونیشیا میں ۲۱ کروڑ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں‘ جب کہ ایک کروڑ افراد ملازمت سے محروم ہیں اور ۳ کروڑ افراد کو صرف جُزوقتی روزگارمہیا ہے۔ ان حالات میں ریاستی بدعنوانی‘ حکومتی نااہلی اور اقتصادی مسائل کے موضوعات ہی تمام انتخابات پر چھائے رہے کیونکہ ان مسائل کے حل کے لیے نہ گولکر پارٹی کچھ کرسکی نہ جمہوری پارٹی۔
سابق صدر سوہارتو کی گولکر پارٹی نے ۵۵۰ کے ایوان میں ۱۲۸ نشستیں حاصل کرلی ہیں اور آیندہ صدارتی انتخابات میں جنرل ورانٹو گولکر پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔ اُن کے بارے میں گمان ہے کہ انڈونیشیا کے لیے وہ ایک مربوط اقتصادی پروگرام ترتیب دے سکیں گے۔ اُن کے مخالفین اُن پر الزام لگاتے ہیں کہ سوہارتو اور اُس کے اہلِ خانہ‘ نیز اُن کے اعزہ و اقربا ملکی دولت کو دونوں ہاتھوں سے تین عشروں تک لُوٹتے رہے ہیں اور ورانٹو ان کے دستِ راست بنے رہے۔ اُن پر دوسرا بڑا الزام یہ ہے کہ مشرقی تیمور میں جب علیحدگی کی تحریک چل رہی تھی تو مشرقی تیمور کے عیسائیوںکے ساتھ فوج نے ظلم و زیادتی کی اور اُس وقت اُس علاقے میں فوج کے کمانڈر جنرل ورانٹو تھے۔ ڈھائی برس قبل چینی متمول آبادی کے خلاف عوامی ردعمل میں فوج کچھ نہ کرسکی۔ جب کئی شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے تھے اور لُوٹ مار کا بازار گرم تھا اور اس لُوٹ مار میں فوجی بھی مالِ غنیمت حاصل کر رہے تھے۔
آزادی کے ۵۵ برسوں میں ہونے والے دوسرے قومی انتخابات میں برسرِاقتدار جمہوری جدوجہد پارٹی نے اندازے سے بہت کم ۱۰۸ نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ انتخابی نتائج نسبتاً چونکا دینے والے ہیں۔ جمہوری پارٹی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ غریبوں کی پارٹی ہے‘ اور مزدور کسان دوست پارٹی ہے۔ یہ اسلام پسند یا تعصب پھیلانے والی پارٹی نہیں۔ لیکن انتخابی نتائج میں راے دہندگان نے میگاوتی کی کارکردگی پر عدمِ اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اگر میگاوتی دوسری چھوٹی جماعتوں کو اپنے ساتھ بھی ملا لے‘ تب بھی اُس کی جماعت کے لیے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونا مشکل ہے۔ اسی لیے پارٹی نے ایک سابق جرنیل کو صدارتی اکھاڑے میں اُتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی شنید ہے کہ یہ پارٹی معروف دانش ور اور اسلامی رہنما امین رئیس کو نائب صدارت کا عہدہ دے دے گی۔ انڈونیشیا کے صحافتی حلقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ سابق صدر عبدالرحمن واحد کو کچھ نظر نہیں آتا تھا لیکن میگاوتی کو کچھ سنائی نہیں دیتا اور کئی اہم سیاسی مسائل حل طلب پڑے رہتے ہیں۔
حالیہ انتخابات میں ۲۴ پارٹیوں نے حصہ لیا۔ کئی فٹ چوڑے بیلٹ پیپر کی خبریں پریس میں آچکی ہیں۔ ان انتخابات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سابق صدر عبدالرحمن واحد کی پارٹی کو ۷فی صد ووٹ ملے ہیں اگرچہ اُن کا دعویٰ ہے کہ اُن کے ۳ کروڑ حامی ہیں۔ اسی طرح دائیں بازو کی بیداری پارٹی PANکو بھی ۶ فی صد ووٹ ملے جس کی سربراہی امین رئیس کر رہے ہیں اور اُن کو سابقہ انتخابات میں بھی اتنے ہی ووٹ ملے تھے۔ امین رئیس آیندہ انتخابات میں صدارتی امیدوار بننے کے لیے صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ اُن کی شناخت مسلم دانش ور کی ہے۔
انڈونیشیا کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت انصاف و خوش حالی پارٹی (PKS)کے ووٹ بنک میں اضافہ ہے۔ اس پارٹی میں تعلیم یافتہ لوگوں کی اکثریت ہے اور یہ قومی و عالمی معاملات پر راے عامہ کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ۱۹۹۹ء میں ہونے والے انتخابات میں اس پارٹی نے ۵.۱ فی صد ووٹ حاصل کیے تھے‘ جب کہ اس بار اس نے ۴.۷ فی صد ووٹ اور ۴۵ نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس جماعت نے صاف ستھرا معاشرہ‘ نیز بدعنوانی‘ سازش‘ اقربا پروری نامنظور کے نعرے پر انتخابی مہم چلائی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آیندہ پانچ برسوں میں اس جماعت نے تنظیمی طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو آیندہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرسکتی ہے۔ عراق پر ۲۰ مارچ ۲۰۰۳ء کو امریکا نے حملہ کیا تو اس جماعت نے احتجاجی مظاہروں میں ۳ لاکھ افراد کو سڑکوں پر لاکھڑا کیا تھا۔ ربڑ‘ قدرتی وسائل اور افرادی قوت سے مالا مال اس ملک کو ایک باصلاحیت قیادت ہی تعمیروترقی کے راستے پر ڈال سکتی ہے‘ ورنہ بدعنوانی اور کھربوں کے غبن نے اس کی اقتصادیات کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اسلامی فکر کی حامل جماعتوں اور جہادی گروہوں پر حکومت ہاتھ ڈال چکی ہے اور ابوبکر بشیر ان کا مشقِ ستم بنے ہوئے ہیں‘ نام نہاد ’’دہشت گردی کے خلاف مہم‘‘ کا خاتمہ بھی اہلِ انڈونیشیا کے دل کی آواز ہے۔
۱۹۵۷ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد یہاں پارلیمان کے انتخابات باقاعدگی سے ہورہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے لیے گیارھویں انتخابات ۲۱ مارچ ۲۰۰۴ء کو منعقد ہوئے۔ ۱۹۷۸ء سے یونائیٹڈ مَلے نیشنل آرگنائزیشن (UMNO) یہاں برسرِاقتدار ہے۔ اُس کے قائدین کا اعلان ہے کہ ہماری جماعت قدامت پرست نہیں‘ بلکہ روشن خیال اسلام پر یقین رکھتی ہے اور ڈاکٹر مہاتیرمحمد اس کی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔مہاتیر کی اقتدار سے برضا و رغبت دست برداری کو انتہائی مثبت اقدام کے طور پر دنیا بھر میں سراہا گیا اور نائب وزیراعظم عبداللہ بداوی نے وزیراعظم کے طور پر اقتدار سنبھالا۔ بطور وزیراعظم بداوی اور کابینہ کے لیے یہ انتخابات سب سے بڑا امتحان تھے۔ وزارتِ عظمیٰ کا تمام دور اُنھوں نے حزبِ اختلاف کو کمزور کرنے اور ’امنو‘ کی جڑیں گہری کرنے میں گزارا جس میں وہ بے انتہا کامیاب رہے۔ پارلیمان کی ۲۱۹میں سے ۱۹۰نشستیں ’امنو‘ نے جیت لی ہیں۔ آیندہ پانچ برس ’امنو‘ کو کسی مضبوط حزبِ اختلاف کا سامنا نہیں رہے گا۔ اگر جمہوری روایات کے اتباع میں حزبِ اختلاف کو نشوونما پانے کا حق دیا گیا تو یہ خوش آیند اقدام تصور کیا جائے گا۔
اسلامی نظریات کی حامل اسلامی پارٹی ملایشیا (پاس) نے خلافِ معمول قابلِ قدر کامیابی حاصل نہ کی۔ کلنتان کے صوبے میں ’پاس‘ تین بارپہلے بھی حکومت بنا چکی ہے اور ان انتخابات میں صوبائی اسمبلی میں اس بار اتنی نشستیں بمشکل حاصل کی ہیں کہ آیندہ حکومت بناسکے۔ لیکن ترنگانو کے صوبے میں اس جماعت کو واضح شکست ہوئی ہے۔ ’پاس‘ کے مرشدعام نک عبدالعزیز اور اس کے مرکزی صدر عبدالہادی آوانگ صوبائی نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں‘ جب کہ وفاقی اسمبلی میں ’پاس‘ نے صرف سات نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ نتائج اُن کے لیے بھی مایوس کن ہیں۔ وہ انتظامیہ کی ملی بھگت کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے ہیں۔
ملایشیا کے سیاسی حالات پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بداوی کی مہم کی نگرانی براہِ راست مہاتیرمحمد نے کی اور ۱۱ستمبر کے واقعات اور جدید اسلام کے نعرے پر انتخابی مہم چلائی گئی۔ ’پاس‘ کے بارے میں مشہور کیا گیا کہ یہ دو رکعت کے امام‘ ملّا لوگ ہیں‘انھیں جدید چیلنجوں کا علم نہیں ہے۔ یہ عورتوں کے حقوق کے مخالف ہیں اور غیرمسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک پر یقین رکھتے ہیں۔ طالبان نما اسلام اس دور میں نہیں چلے گا‘ شریعت کی باتیں کرنا حالات سے ناواقفیت اور قوم کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ظاہر ہے ملایشیا کے عوام ۱۹۹۸ء کے اقتصادی بحران کے بعد کوئی نیا خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھے۔ امریکا بہادر کی دہشت گردی مخالف مہم نے بھی اس میں کردار ادا کیا۔ کلنتان اور ترنگانو میں ’پاس‘ کی صوبائی حکومتیں جو مثبت اقدامات کرتی رہی ہیں اُن کو بھرپور انداز میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے متعارف نہ کرایا گیا۔
ممکن ہے کہ ’امنو‘ کو دو تہائی اکثریت ملنے کے بعد بداوی کی حکومت ایسے قوانین پاس کروا لے جس سے ملک کے وقار کو دھچکا پہنچے۔ ’روشن اسلام‘ کی پیروی کرتے ہوئے مغربی ثقافت کے لیے راہیں ہموار کر دے اور عوام کے لیے نظریاتی و اخلاقی مشکلات پیدا ہوجائیں‘ کیونکہ بے انتہا طاقت اندھا کر دیتی ہے۔ داخلی سلامتی کے ایک قانون پر تو پہلے ہی عمل درآمد ہو رہا ہے کہ کسی بھی شخص کو وجہ بتائے اور مقدمہ چلائے بغیر جیل میں غیرمعینہ مدت تک رکھا جاسکتا ہے۔ سابقہ نائب وزیراعظم انور ابراہیم کا مقدمہ بھی سب کے علم میں ہے۔ انھیں سیاسی مخالفت کی بنا پر عمرقید کی سزا سنائی گئی۔ انور ابراہیم کی بیگم نے انصاف پارٹی قائم کی اور صرف ایک نشست حاصل کر سکیں۔ اقتصادی میدان میں حکومت کو ایسی متوازن پالیسیوں کی تشکیل کی شدید ضرورت ہوگی جس سے درمیانہ طبقہ اور غریب طبقہ بھی خوش حالی کے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکے اور ملک کی اکثریت سیاسی انتقام اور قانونی بندشوں سے نجات حاصل کرسکے۔ امید ہے مہاتیرمحمدجوغلطیاں باصرار دُہراتے رہے ہیں‘ بداوی اُن سے پرہیز کریں گے۔
پانچ برس قبل بھی صدارتی انتخابات ہوئے تھے اور حکومت نے سرکاری مشینری کو بے دریغ اور کھلے عام اس طرح استعمال کیا کہ انتخابات سے عین ایک روز قبل تمام صدارتی امیدواروں نے انتخابات کا مقاطعہ کر دیا تھا۔ موجودہ انتخابات اس لحاظ سے دل چسپ تھے کہ اسلامی نجات محاذ پر حسب معمول پابندی عاید ہے۔ ۶لاکھ حاضر فوج سے ووٹ ڈلوائے گئے اور یہ سہولت بھی تھی کہ چاہیں تو اپنے افسران کے سامنے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ دیگر صدارتی امیدواروں کو جلسے منعقد کرنے اور ریلیاں نکالنے کی محدوداجازت دی گئی۔ ۳کروڑ ۴۰ لاکھ آبادی کے اس ملک میں ایک کروڑ ۸۰ لاکھ راے دہندگان ہیں۔ اُن کی ۵۸ فی صد تعداد نے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالے اور ظاہر ہے استبداد پسند صدر نے واضح اکثریت حاصل کرنا ہی تھی‘ سوکرلی۔ صدر عبدالعزیز بوتفلیکا نے من پسند نتائج کے لیے دھڑلے سے نوکرشاہی کو استعمال کیا۔ صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات جمع کرانے والوں کی اکثریت کو بے بنیاد الزامات کی بنا پر انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ ذرائع ابلاغ نے بوتفلیکا کی گراں قدر قومی خدمات اور ملکی استحکام میں تابناک کردار کے فسانے شب و روز عوام کو سنائے۔
ان نام نہاد انتخابات میں اسلام پرستوں کے نمایندے کے طور پر عبداللہ جاب اللہ‘ الاصلاح پارٹی کی طرف سے حصہ لے رہے تھے‘ نتائج کا تو علم ہی تھا‘ تاہم تمام تر پابندیوں کے باوجود وہ اسلام پسند اور حکومت مخالف ووٹروں کو کسی نہ کسی طرح پولنگ اسٹیشن تک لانے میں کامیاب رہے اور کُل ڈالے گئے ووٹوں کا ۵فی صد حاصل کر کے تیسرے نمبر پر رہے۔ ان کی شکست پر اُن سے تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ: جو کچھ عالمِ عرب میں اور جو کچھ الجزائر میں ہوتا چلا آ رہا ہے‘ اس لحاظ سے یہ جمہوریت بھی غنیمت ہے۔
عبدالعزیز بوتفلیکا کے صدارتی انتخابات اہلِ پاکستان کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ پاکستان کے دو سابقہ فوجی حکمران یہ کام احسن طریقے سے ریفرنڈم کے نام پر انجام دے چکے ہیں۔ عبدالعزیز بوتفلیکا ۸۵ فی صد ووٹ حاصل کر کے صدارت کے منصب پر دوبارہ فائز ہوچکے ہیں۔ سیکڑوں بربر مخالفین جو پہاڑوں میں روپوش ہیں اور ان کے استبداد سے تنگ ہیں‘ آیندہ کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں‘اس کا تعین آنے والا وقت ہی کرے گا۔
بلقان کی سرزمین پر اسلام کا علَم بلند کرنے اور بوسنیا ہرذی گووینا کی آزادی برقرار رکھنے میں مجاہدانہ کردار ادا کرنے والے علی عزت بیگووچ ۱۹ اکتوبر۲۰۰۳ء کو اس دارِفانی سے رخصت ہوگئے۔ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون! اُن کی وفات سے بوسنیا ایک اعلیٰ پائے کے دانش ور‘ تجربہ کار قانون دان اور اصولوں کی جنگ لڑنے والے سیاست دان سے محروم ہو گیا ہے۔ مسلم دنیا عمومی طور پر اور اسلامی تحریکات خصوصی طور پر اُن کی جدائی پر ملول ہیں اور ربِ کریم کے حضور اُن کی سرخروئی کے لیے دُعاگو بھی۔
علی عزت بیگووچ ۸ اگست ۱۹۲۵ء کو پیدا ہوئے۔ اِن کے اجداد بلغراد شہر کے رہنے والے تھے۔ علی کی پیدایش سراجیوو کے نواح میں ہوئی۔ جب ان کی عمر دو سال تھی تو اِن کا خاندان مستقلاً سراجیوو شہر میں مقیم ہوگیا۔ علی کے دادا فوجی تھے اور ان کی دادی ترکی سے تعلق رکھتی تھیں۔ علی کے والد ایک چھوٹی کمپنی میں ملازم تھے۔ علی پر اپنی والدہ کے بے انتہا اثرات تھے جوایک دین دار خاتون تھیں۔ انھوں نے اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گراد کاک شہر کا رُخ کیا تاکہ فوج کی جبری بھرتی سے بچ سکیں۔
اُس زمانے میں یوگوسلاویہ پر کمیونسٹ حکمران تھے۔ مذہب سے برگشتہ کرنے والا لٹریچر اسکول میں لازماً پڑھایا جاتا تھا لیکن ماں کی تربیت کے سبب خدا مخالف‘ مذہب دشمن خیالات ان کے لیے اجنبی ہی رہے۔ ان کو مطالعے کا شوق تھا اور گریجوایشن سے پہلے وہ برگسان‘ کانٹ اور سپینگلر کی تحریروں کا مطالعہ کر چکے تھے۔ ۱۹۴۳ء میں گریجوایشن کا امتحان پاس کیا۔ وہ قانون کو پیشے کے طور پر اختیار کرنا چاہتے تھے لیکن کاتب تقدیر نے اُن کے لیے قوم کی قیادت لکھ دی تھی۔ اُنھوں نے فوج میں بادلِ ناخواستہ شمولیت اختیار کی اور پھر اس کو خیرباد بھی کہہ دیا۔ قرآن‘ حدیث‘ فقہ‘ تاریخِ اسلام‘فکرِاقبال اور عیسائیت کا گہرا مطالعہ انھوں نے اپنے شوق سے کیا۔ پھر ان کا تعلق یوگوسلاویہ کے نوجوانوں کی تنظیم ’’ینگ مسلمز‘‘ کے ساتھ ہوگیا۔ زغرب‘ بلغراد اور سراجیوو یونی ورسٹی کے طلبہ اس کے رُوحِ رواں تھے۔ ۲۲برس کی عمر میں اُنھوں نے رسالہ مجاھدکی ادارت سنبھالی۔کمیونسٹوںنے یکے بعد دیگرے نمایاں طلبہ کو گرفتار کرلیا اور کئی نوجوانوں کو تختۂ دار تک پہنچا دیا۔ علی کو مختلف الزامات کی بنا پر گرفتار کر لیا گیا اور تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ قید کے دوران علی لکڑیاں کاٹتے رہے اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ اس قید نے تخلیقی ذہن کے مالک اور شعروادب سے دل چسپی رکھنے والے علی کو جفاکش بنا دیا اور بعد میں وہ بڑی سے بڑی آزمایش کو مسکرا کر جھیلتے رہے۔ مذکورہ تنظیم باضابطہ طور پر رجسٹر نہ ہو سکی لیکن اس کی سرگرمیاں طویل عرصہ جاری و ساری رہیں۔
کمیونسٹوں کے ہاتھوںنوجوان طلبہ کی گرفتاریوں اور سزائوں کا دُوسرا دور ۱۹۴۹ء میں شروع ہوا۔ علی کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھیوں کو جس قدر سزائیں سنائی گئیں‘ اگر اُنھیں یک جا کردیا جائے تو کئی ہزار سال بن جاتے ہیں۔ علی نے قانون کی اعلیٰ ڈگری ۱۹۵۶ء میں حاصل کی۔ ۱۰برس تک وہ ایک تعمیراتی کمپنی سے بھی منسلک رہے اور اخبارات میں ان کے مضامین بھی شائع ہوتے رہے۔
علی کے مُدلل مضامین مختلف جرائد میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے۔ وہ ’اسلامی ڈیکلریشن ‘کے نام سے یکجا کر دیے گئے اور کتابی صورت میں شائع ہوئے لیکن اِن کی اشاعت کے ۲۰ برس بعد حکومت ِ یوگوسلاویہ نے اِن مضامین کی بنا پر علی عزت اور ان کے ۱۳ ساتھیوں کو گرفتار کرلیا۔ اِن مضامین میں کہا گیا تھا کہ اپنے دین کی طرف پلٹنے اور رجوع کرنے سے مسلمان سُرخرو ہو سکتے ہیں۔ بغاوت کے زیرعنوان ۱۰۰ روز تک جاری رہنے والے اس مقدمے نے ’مقدمہ سرائیوو‘ کے نام سے غیرمعمولی شہرت حاصل کی۔ علی کے خیالات کو بنیاد پرستی کی دعوت قرار دیا گیا۔ ۲۳ مارچ ۱۹۸۳ء کو ۱۹ سال کا ریکارڈ مرتب کرکے عدالت میں پیش کیا گیا کہ علی عزت اور بہمن عمرکتابوں کے ذریعے زیرزمین سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور موجودہ حکومت کا تختہ اُلٹ کر اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ علی کو ۱۴ سال قید کی سزا سنائی گئی۔
علی عزت بوسنیا کے مسلم عوام کی حالت ِ زار پر پہلے بھی فکرمند رہتے تھے۔ قیدخانے میں پہنچ کر اُنھیں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا اندازہ بھی ہوگیا۔ جیل کے اندر ہی اُنھوں نے سیاسی جدوجہد کا تفصیلی خاکہ مرتب کرلیا۔ اس سے ۲۰‘۲۵ برس قبل علی عزت نے اسلام‘ عیسائیت‘دورِ جدید اور آیندہ لائحہ عمل کے زیرِعنوان چند مضامین لکھے تھے۔ دوسری بار قید ہونے کے بعد اُنھیں موقع مل گیا کہ اِن مضامین کو ازسرنو تحریر کریں۔ یہ مضامین کتابی شکل میں امریکہ سے Islam between East & West کے نام سے شائع ہوئے۔ امریکہ میں اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اس کے کئی زبانوں میں ترجمے بھی شائع ہوئے جس سے علی عزت کی شہرت سمندرپار پہنچ گئی۔ مذکورہ کتاب کا اُردو ترجمہ ادارہ معارفِ اسلامی لاہور اسلام اور مشرق و مغرب کی تہذیبی کش مکش کے نام سے شائع کرچکا ہے۔
چھ برس بعد علی عزت کو قید سے رہائی ملی۔ اُس وقت رُوس کے زوال کے بعدیوگوسلاویہ کی کمیونسٹ پارٹی شکست و ریخت کا شکار ہو رہی تھی۔ علی عزت نے اپنے ۴۰دوستوں کے ہمراہ پارٹی فار ڈیموکریٹک ایکشن (SDA) قائم کی۔۲۷ مارچ ۱۹۹۰ء کو اس کا منشور منظرِعام پر آیا‘ انسانی و جمہوری اقدار کی بالادستی کی جدوجہد اس کا مطمح نظر ٹھیرا۔ اسی سال قومی انتخابات ہوئے تو بھرپور مہم چلائی گئی’’اپنی سرزمین اپنا نظریہ‘‘ اِن کا نعرہ تھا۔ اُس وقت یوگوسلاویہ کے صوبہ بوسنیا ہرذی گووینا میں رجسٹرڈ مسلمانوں کی تعداد ۲۲ لاکھ ۸۹ ہزار تھی۔ اسمبلی کی ۲۴۰ نشستوں میں سے ۸۶ پر علی عزت کے ساتھی کامیاب ہوئے اور یہ پارٹی قوت بن کر اُبھری۔
روس کے بعد یوگوسلاویہ میں ٹوٹ پھوٹ کا آغاز ہوا تو مقدونیہ‘ مانٹی نیگرو‘ کروشیا اور سلووینیا نے اسمبلی میں قراردادیں پاس کر کے آزادی کا اعلان کر دیا اور ان کے اعلانِ آزادی کا خیرمقدم کیا گیا۔ ان حالات میں بوسنیا کی اسمبلی نے بھی آزادی کی قرارداد پاس کرلی۔ ۲۲ مئی ۱۹۹۲ء کو یورپین یونین نے بوسنیا کی آزادی کو تسلیم کر کے ممبرشپ دے دی۔ بوسنیا کے لیے جو جھنڈا منتخب کیا گیا وہ ہسپانیہ کے مسلمانوں کا تھا جو وہ اپنے دورِ عروج میں استعمال کرتے رہے تھے۔ لیکن بوسنیا کی آزادی نے بلقان کے علاقے میں آگ اور خون کے ایک شرمناک سلسلے کا آغاز کر دیا۔ آرتھوڈوکس سربوں اور کروٹوں نے بوسنیا کے اعلان کو تسلیم نہ کیا۔ ۱۹۹۵ء تک بوسنیا دنیا کے اخبارات کی نمایاں ترین سرخیوں کا عنوان بنا رہا۔ ۲۲ لاکھ آبادی میں سے ۲ لاکھ مسلمان (جو ۵۱ ہزار مربع میل رقبے پر پھیلے ہوئے تھے) شہید کر دیے گئے۔ مسلمانوں کو تعذیب خانوں (Concentration Camps)میں رکھا گیا‘اُن کی عورتوں کی جبری اجتماعی آبروریزی جنگی تدبیر (war tactic)کے طور پر کی جاتی رہی‘ مسلمانوںکے دلوں میں خوف بٹھانے کے لیے حلقوم پھاڑ کر تڑپانے اور ہلاک کرنے (throat slitting)کا طریقہ متعارف کرایا گیا۔ یوگوسلاویہ کے جانشین سربیا کے صدر سلوبودان میلاسووچ اور رادوان کرادزچ نے ساری دنیا اور اس کے عالمی اداروں کو پسِ پُشت ڈال کر مسلمانوں کے شہر تباہ کر دیے‘ مسجدیں شہیدکر دیں‘ کوچہ و بازار خاک کر دیے۔ عالمی اداروں‘ مثلاً اقوامِ متحدہ کی امن فوج‘ یورپین یونین کمیشن اور دیگر فلاحی و رفاہی تنظیموں کو زچ کرکے رکھ دیا۔ مذاکرات کی میز پر بھی نئے نئے دائوپیچ آزمائے گئے‘ تبادلۂ آبادی‘ محفوظ مقامات (Safe Havens)‘ وسیع تر آزادی‘ وفاقی حکومت‘ چھ صوبے اور کتنی ہی تدابیر کے ذریعے بوسنیا کو آزادی سے دستبردار کرنے کی کوشش کی گئی۔ سراجیوو کا کئی سال محاصرہ رہا۔ موستار‘ بنجالوکا‘ اور دیگر شہروں اور چھوٹے بڑے قصبوں پر ٹینک چڑھا دیے گئے۔ حقیقی معنوں میں بلڈوزر پھیر دیے گئے۔ شمالی اوقیانوس معاہدہ عظیم (NATO) اور کئی مؤثرادارے اس نسل کشی پر خاموش تماشائی بنے رہے کیونکہ خون یورپین کا نہیں یورپین مسلمان کا بہہ رہا تھا۔
پانچ برسوں میں نجانے کتنے مواقع آئے کہ جب یہ حکومت ختم ہو جاتی اور بوسنیا‘ سربیا کی گودمیں چلا جاتا لیکن ایک شخص تھا جس نے ہمت نہ ہاری اور وہ شخص بوسنیا کا صدر علی عزت بیگووچ تھا‘ جو ڈٹا رہا‘ سفارتی جنگ بھی لڑی‘ دیگر ممالک سے امداد و تعاون کے لیے درخواستیں بھی کرتا رہا‘ عالمی اداروں کے دروازے بھی کھٹکھٹاتا رہا‘ امن اور انصاف کی دُہائیاں دیتا رہا‘ اپنے عوام کے لاشوں کو دفناتا بھی رہا‘ بچ رہنے والوں کو پُرسہ دیتا رہا‘ فوج کی تنظیمِ نو کرتا رہا اور بالآخربوسنیا کو اس صدی کے المناک طوفانِ حوادث سے نکال کر آزادی کی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ بوسنیا کے عوام پر کیا گزری‘ کون کون سے معاہدے ہوتے رہے‘ کہاں کہاں کانفرنسیں ہوتی رہیں‘ عالمی چودھریوں اور شاطروں کا کیا کردار رہا‘ اس کی تفصیلات محمد الیاس انصاری نے اپنی کتابوں مقدمۂ بوسنیا اور سانحۂ بوسنیا میں فراہم کر دی ہیں۔
بوسنیا کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے علی عزت بیگووچ ایران‘ ترکی‘ اٹلی‘ فرانس‘ جرمنی‘ برطانیہ‘ امریکہ اور ہر اُس جگہ گئے کہ جہاں انصاف مل سکتا تھا یا داد رسی ہو سکتی تھی۔ اپنی خودنوشت سوانح عمری Inescapable Questions میںانھوں نے اس دور کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ امیرجماعت ِ اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد جنگِ بلقان کے دوران ان سے جاکر دو بار ملے اور اُمت ِ مسلمہ کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ مذکورہ کتاب میں جو اسلامک فائونڈیشن لسٹر نے شائع کی ہے‘ علی عزت نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ دُنیا بھر کے مسلمانوں نے بوسنیا کے مسلمانوں کی اخلاقی پشت پناہی کی۔ جو ممالک سرکاری طور پر اُن کے لیے آواز بلند کرتے رہے اُن کی تفصیلات بھی درج ہیں۔
علی عزت بیگووچ نے ۱۴ دسمبر ۱۹۹۵ء کو Dayton کے مقام پر ہونے والے معاہدے پر دستخط کر دیے جس کے بعد بلقان میں جنگ کا خاتمہ ہو گیا اور موجودہ بوسنیا وفاق وجود میں آیا۔ اس میں ایک صوبہ بوسنیائی سربوں پر مشتمل ہے‘ جب کہ دوسرے صوبے میں مسلمانوں اور کروٹوں کی فیڈریشن ہے۔ اُن پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اصل مطلوب رقبے سے کم پر رضامندی کا اظہار کررہے ہیں لیکن اُن کے حالات ایسے ہی تھے جن کا قائداعظم محمدعلی جناح کو قیامِ پاکستان کے موقع پر سامنا تھا۔ بوسنیا کے مسلمانوں نے جو لازوال قربانیاں دی ہیں اُس کا اندازہ برعظیم سے ہجرت کرکے آنے اور خاندان کٹوانے والے بہتر سمجھ سکتے ہیں ۔ ۱۹۹۶ء میں بوسنیا کی صدارت کے لیے تین ممبران پر مبنی صدارتی کونسل میں علی عزت بھی شامل تھے۔ بعدازاں سال ۲۰۰۰ء میں اُنھوں نے مسلسل خرابیِصحت کی بنا پر استعفا دے دیا۔بوسنیا کے لوگ اُنھیں محبت کے ساتھ ’’باباجان‘‘ کہتے ہیں۔
علی عزت بیگووچ پر الزام تھا کہ وہ انتظامی مشینری پر قابو نہیں پا سکے ہیں اور ملک میں بدعنوانی اپنے عروج پر ہے۔ عالمی اداروں کی طرف سے بحالی کے لیے ملنے والی بڑی بڑی رقوم سرکاری مشینری اور افسرہضم کر رہے ہیں۔ اُن کے مخالفین یہ بھی کہتے تھے کہ وہ اپنے بیٹے بقربیگووچ کو بوسنیا کا صدر بنانا چاہتے ہیں۔ علی عزت نے ان الزامات کی تردید کی اور اُمید ظاہر کی کہ بوسنیا کو جو اندرونی مسائل درپیش ہیں اُن میں جلد کمی آجائے گی۔
بوسنیا کی آزادی کی جنگ کے دوران علی عزت کو کئی سربراہانِ مملکت سے بار بار ملنے اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا موقع ملا۔ انھیں امریکہ و یورپ کی یونی ورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی۔ اسلام کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں فیصل ایوارڈ بھی دیا گیا۔ طویل عرصے تک بیمار رہنے کے بعد علی عزت بیگووچ ہم سے رخصت ہوچکے ہیں اُن کی وفات کے بعد اُن کی پارٹی کے تین دھڑوں میں تقسیم ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں ‘تاہم آج بھی دُنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے وہ ہمت وجرأت کا مینارئہ نور ہیں ع
خدا رحمت کُند ایں عاشقانِ پاک طینت را
علی عزت بیگووچ ایک جملہ بار بار کہا کرتے تھے اوروہ ہمارے لیے بھی غوروفکر کی راہیں وا کرتا ہے کہ ’جب زندگی کا کوئی متعین مقصد نہ رہے تو زندہ رہنا بے معنی ہو جاتا ہے‘۔
مہاتیرمحمد اقتدار سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ عبداللہ احمد بداوی وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھاچکے ہیں۔ دنیا بھر میں خیرمقدم کیا جا رہا ہے کہ مہاتیرمحمد اپنی رضامندی سے اقتدار سے الگ ہوئے۔ اسلامی ممالک کی کانفرنس میں ان کی تقریر کو اُمت مسلمہ کے نقطۂ نظر سے بہت سراہا گیا ہے۔
ملائیشیا میں مسلمان ۶۰ فی صد اور دیگر مذاہب کے پیروکار۴۰ فی صد ہیں۔ ڈاکٹر مہاتیرمحمد ۲۲ برس تک وزیراعظم رہے۔ اُنھوں نے نظامِ تعلیم اور معیارِ تعلیم کی بہتری کو اولین ترجیح بنایا‘ دنیا بھر سے لائق اساتذہ کو اپنے ملک میں اکٹھا کیا اور ملک کے معماروں کی تعمیر کا مستحکم نظام قائم کیا۔ ملایشیا کی موجودہ فی کس آمدن ۳ ہزار ۶سو امریکی ڈالر ہے۔ اُن کے دورِ اقتدار میں یہ ربڑ کی برآمد کرنے والے غیرترقی یافتہ ملک سے درمیانے درجے کے صنعتی ملک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں جو اقتصادی بحران ۱۹۹۷ء میں آیا اُس سے صرف ملائیشیا ہی محفوظ رہ سکا۔ اس وقت ملائیشیا کی برآمدات ۸۸ ارب امریکی ڈالر سے متجاوز ہیں‘ جب کہ حکومت کے محفوظ ذخائر کا اندازہ ۳۳ ارب امریکی ڈالر ہے۔
مہاتیرمحمد کی پالیسیوںکا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اُنھوں نے جاپان اور مغربی ممالک کے لیے سرکاری طور پر اس قدر سہولتیں فراہم کیں کہ وہاں کے صنعت کار ملائیشیا میں بلاروک ٹوک سرمایہ کاری کرنے لگے۔ سرکاری تحویل سے بیشتر کاروبار نجی شعبے کو منتقل کر دیا گیا۔ سرمائے کی گردش کی حدود واضح کی گئیں‘ اور سکّے کے بجاے سونے یا اسلامی دینار کو مسلم دنیا میں کرنسی بنانے کا نظریہ پیش کیا گیا تاکہ ڈالر کی بالادستی کو توڑا جا سکے۔ داخلی طور پر اُنھوں نے پوری قوم کو محنت کرنے اور آگے بڑھنے کا سبق دیا۔ اُن کا کہنا تھا جس طرح کمپنی کا ہر کارکن کام کرتا ہے اس طرح ہر شہری اپنا فرض ادا کرے۔ ڈاکٹر مہاتیر نے بوسنیا کی جنگ کے دوران‘ بوسنیا کے لیے ببانگ دہل آواز بلند کی‘ فلسطینیوں کے بارے میں بھی اُن کے بیانات شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اُنھوں نے اقتدار سے دستبردار ہوکر اُن درجنوں مسلم سربراہوں کے لیے ایک مثال قائم کر دی ہے کہ جو کہتے ہیں کہ ہمارا ملک ہمارے دم سے یا ہماری اولاد کے دم قدم سے شاد آباد رہے گا‘ ہم چلے جائیں گے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔
مہاتیرمحمدنے اسلامی ایشوز کے ترجمان کی حیثیت سے اپنی شناخت تسلیم کروائی‘ اور دوسری طرف معاشی خوشحالی کے لیے بھرپور کوشش کی۔ اُن کا نظریہ یہ تھا کہ اسلام‘ اقتصادی ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں ہے اور اس پر وہ اور اُن کے ساتھی عمل پیرا رہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فراموش نہ کرنا چاہیے کہ مہاتیراور اُن کی جماعت United Malay National Organization (UMNO) میں اس طویل عرصے میں حزبِ اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ کم ہی رہا۔ اُنھوں نے پریس کی آزادی پر کافی حد تک پابندی عاید کیے رکھی۔ حزبِ اختلاف کی اسلامی پارٹی ملایشیا،’پاس‘(PAS) اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اُن کا رویہ سخت رہا۔ سابق قائد حزبِ اختلاف فاضل نور کی تقاریر سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے مخالفین کی کردارکُشی کی پالیسی اختیار کی۔ مخالفین کے لیے انٹرنل سیکورٹی ایکٹ (ISA) اور (OSA) جیسے قوانین ابھی تک روبہ عمل ہیں۔ اس کے تحت مقدمہ چلائے بغیر کسی بھی شخص کو غیرمعینہ مدت کے لیے پابند ِ سلاسل رکھا جا سکتا ہے۔ کلنتان اور ترنگانو کی ’پاس‘ کی حکومتوں کے لیے ہر اُس مرحلے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جہاں قانون سازی پر عمل درآمدکے لیے وفاقی حکومت کی منظوری درکار ہو۔ اَناکی جنگ لڑتے لڑتے مہاتیرنے انور ابراہیم جیسے نائب اور باصلاحیت قائد کو جیل خانے تک پہنچا دیا۔
ملائیشیا میں انتخابات کا شیڈول اپریل ۲۰۰۴ء میں جاری ہو جائے گا اور امید ہے کہ اکتوبر تک انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔ ’امنو‘ کے نمایندے اور موجودہ وزیراعظم عبداللہ احمد بداوی کی پالیسی یہ ہے کہ چینی النسل باشندوں اور ہندوئوں کے ووٹ کی تعداد میں اضافہ ہو۔
آیندہ کے سیاسی منظرنامے کے بارے میں سنٹر فار ماڈرن اورینٹ اسٹڈیز‘ برلن‘ جرمنی کے سربراہ ڈاکٹر فارش اے نور لکھتے ہیں: ڈاکٹر مہاتیرمحمد کے جانشین داتو عبداللہ احمدبداوی کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے اور وہ چیلنج یہ ہے کہ ریاست کے انتظامی ادارے(bureau cratic institutions) ازسرِنو ترتیب دیے جائیں‘ سرکاری نوکریاں اور عہدے قابلیت پر ہی فراہم کیے جائیں‘ سیاسی اقربا پروری پر پابندی ہو‘ عدلیہ کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی جائے‘ حکومت برداشت‘ جمہوریت‘ اجتماعیت اور بنیادی انسانی حقوق کی علم بردار ہو۔ ملک کے کئی خطے اور آبادی کے مجموعے اُس اجتماعی خوشحالی سے بہرحال محروم ہیں کہ جن کا بیرونِ ملک خوب چرچا ہوتا ہے۔ اُن کے لیے بھی راہِ عمل متعین کی جائے۔
ملائیشیا کی قیادت کو یہ فراموش نہ کرنا چاہیے کہ معاشی خوش حالی کی قیمت پر جمہوری روایات اور ثقافتی ادارے متاثر ہوئے ہیں۔ شہروں پر آبادی کا دبائوبہت بڑھ گیا ہے۔ امیر اور غریب طبقات کے درمیان فرق میں اضافہ ہوا ہے اور شہری زندگی کے مسائل میں فلک بوس عمارتوں کی طرح اضافہ ہوتا چلا گیا ہے۔ زراعت اور ماہی گیری کے شعبے پسِ منظر میں جا رہے ہیں۔ مہاتیر کے بعد زیادہ عوامی پالیسیاں اختیار کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔
وفاق میں حکومت بنانے کے لیے ’پاس‘ کو شدید محنت کی ضرورت ہے۔ وفاقی اسمبلی میں ’پاس‘ کے ۳۹ ممبران ہیں۔ قدامت پرستی‘ عورتوں سے امتیاز اور آرتھوڈوکس ہونے کے پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے مضبوط سیاسی و انتخابی اتحاد کی ضرورت ہے۔
اسلامی پارٹی ملائیشیا جو گذشتہ ۱۲ برس سے برسرِاقتدار مخلوط حکومت کی منفی پالیسیوں پر تنقید کر رہی ہے‘ اور اس نے کلنتان اور ترنگانو صوبوں میں حکومت بنانے کے بعد وفاقی اسمبلی میں بھی اصول پرست مضبوط حزبِ اختلاف کا کردار ادا کیا ہے‘ اپنے کردار کے ذریعے ملائیشیا کی ۴۰ فی صد غیرمسلم (ہندو‘ سکھ‘ چینی) آبادی کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہماری پارٹی برسرِاقتدار آنے کے بعد اُن کو تبدیلی مذہب پر مجبور کرنے کی احمقانہ کوشش نہ کرے گی‘ اور وفاق میں حکومت بنانے کے بعد اُن کے سیاسی‘ معاشرتی اور اقتصادی حقوق پر ہرگز آنچ نہ آئے گی۔ خواتین کو امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے گا جن کا ملائیشیا کے اخبارات میں چرچا رہتا ہے۔
۱۷ رمضان المبارک (یومِ بدر) کے موقع پر اسلامی پارٹی کے سربراہ داتوسری حاجی عبدالہادی آوانگ نے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے مجوزہ دستاویز اہالیانِ وطن کے سامنے پیش کی۔ اس کے اہم ترین نکات کا خلاصہ حسب ِ ذیل ہے:
۱- ریاست بلاتفریق مذہب و ملّت تمام شہریوں کے تمام حقوق کی مکمل ضمانت دے گی۔
۲- وفاقی دستور میں اُسی وقت تبدیلی کی جائے گی جب یہ انتہائی ناگزیر ہو۔
۳- تمام مذاہب کے پیروکار اپنی مذہبی روایات‘ ثقافتی رسومات پر عمل پیرا رہ سکیں گے۔
۴- کسی بھی شخص کو مجبور نہ کیا جائے گا کہ وہ دین اسلام کو قبول کرے۔
۵- عدلیہ اور مقننہ کا علیحدہ نظام برقرار رہے گا۔
۶- ملازمتیں میرٹ اور اصولوں کی بنیاد پر مہیا کی جائیں گی۔ مذہب‘ نسل اور جنس کی بنا پر امتیاز نہ برتا جائے گا۔
۷- شہریوں کے جمہوری حقوق کی پاسداری وفاقی دستور کے مطابق جاری رہے گی۔
۸- عدلیہ‘ انتظامیہ اور مقننہ میں کوئی بھی شخص منتخب ہو سکے گا۔ نسلی اور لسانی گروہ کی بنا پر پابندی عائد نہ کی جائے گی۔
۹- فروغِ تعلیم اور مادری زبان میں تعلیم کا حق‘ ریاست کو حاصل رہے گا۔
۱۰- عورتوں کے لیے تعلیم‘ ملازمت‘ تجارت‘ سفر کے تمام حقوق برقرار رہیں گے اور اُن کے ساتھ جنس‘ مذہب اور لسانی گروہ کی بنا پر کسی قسم کا امتیاز روا نہ رکھا جائے گا۔
گذشتہ پانچ برسوں میں یونی ورسٹیوں کے انتخاب میں اسلامی پارٹی کے نامزد اور ہم خیال طلبہ کامیاب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ دونوں صوبوں کے خوش گوار تجربات کے اثرات بھی پھیل رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے لیے تیاری جاری ہے۔ مہاتیر نے ایک ایسے وقت دست برداری کی ہے کہ اس کی پارٹی انتخابات جیت سکے۔ ’پاس‘ ایک سنجیدہ متبادل قیادت کے طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔ اب ملائیشیا کے عوام کیا فیصلہ کرتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
جنوب مشرقی ایشیا کی نامور مسلم شخصیت الاستاذ سلامات ہاشم ۱۳ جولائی ۲۰۰۳ء کو انتقال فرما گئے۔ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون! اُن کی وفات نہ صرف بنگسامورو مجاہدین اور مورو قومی محاذِ آزادی کے لیے ایک جانکاہ صدمہ ہے بلکہ عالمی اسلامی تحریکات بھی ایک عظیم قائد سے محروم ہوگئیں۔ مورو مسلمانوں کی جدوجہد آزادی میں الاستاذ سلاماتؒ نے جو تابناک تاریخ رقم کی ہے اُس کا ہمیشہ روشن حروف میں تذکرہ ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے خصوصی انعام و اکرام سے نوازے۔ آمین!
سلامات ہاشم مرحوم ۷ جولائی ۱۹۴۲ء کو پگالونگان‘ مگندانو میں پیدا ہوئے۔ اُن کا تعلق ایک دینی خانوادے سے تھا‘ تاہم ابتدائی تعلیم و تربیت میںاُن کی والدہ نے اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی دینی تعلیم کے بعد اُنھوں نے سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی اور امتیازی نمبروں کے ساتھ سند حاصل کی‘ اس کے فوراً بعد ۱۹۵۸ء میں حج کی ادایگی کے لیے گئے تو مکّہ میں شیخ زواوی کی زیرِنگرانی تعلیمی مدارج طے کیے۔ مسجدالحرام میں قائم تدریسی حلقوں سے استفادہ کیا اور مدرسۃ الصولتیہ الدینیہ میں باضابطہ زیرِتعلیم رہے۔ دینی اُٹھان کی خشتِ اول والدہ کی تربیت تھی لیکن اقامت ِ دین کی جدوجہد کا عزم کعبۃ اللہ الحرام کے سائے تلے پختگی اختیار کرتا رہا۔
ایک برس بعد وہ قاہرہ پہنچ گئے جو اُس زمانے میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا سرگرم مرکز تھا۔ اُنھوں نے جامعۃ الازہر میں داخلہ لیا اور معھد البحوث الاسلامیہ سے ۱۹۶۳ء میں سندِفراغت حاصل کی۔ بعدازاں دینیات کالج سے عقیدہ اور فلسفہ کے مضامین کے ساتھ ۱۹۶۷ء میں گریجوایشن کیا اور ۱۹۶۹ء میں ایم اے پاس کیا۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حصول کے لیے اُن کا باضابطہ طالب علم کے طور پر اندراج ہو گیا۔ ابھی تحقیقی مقالے کی تسوید کی نوبت بھی نہ آئی تھی کہ اُنھیں وطن واپس لوٹنا پڑا۔ دورانِ قیامِ قاہرہ اُنھوں نے طلبہ کی دینی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی اور جب وہ وطن واپس لوٹ رہے تھے اُس وقت اُن کی حیثیت ایک پُرجوش مقرر اور ہردل عزیز قائد ِطلبہ کی تھی۔ قاہرہ میں انھوں نے مختلف خطوں اور علاقوں سے آئے ہوئے مسلمانوں کی تہذیبی شناخت اور قومی خصائص سے براہِ راست شناسائی حاصل کی۔ اُمت کے مسائل سے آشنائی نے اُنھیں مسلم عالم دین سے انقلاب پسند قائد میں تبدیل کر دیا۔ جامعۃ الازہر میں وہ فلپائن مسلم طلبہ انجمن کے صدر اور ایشیائی طلبہ کی تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے طور پر نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔
سلامات ہاشمؒ نے فلپائن کے مقبوضہ جزائر کے مسلم طلبہ کے‘ جو عرفِ عام میں بنگسا مورو کہلاتے ہیں‘ قاہرہ میں اجتماعات منعقد کیے اور وطن کی آزادی کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔ ان کے اجلاسوں میں شریک ہونے والوں کے لیے ضروری تھا کہ اپنے جیب خرچ کا نصف حصہ آزادی وطن کی جدوجہد کے لیے وقف کریں۔ اُنھوں نے پاکستان‘ سعودی عرب‘ لیبیا اور کئی دیگر ممالک کے دورے بھی کیے۔
انڈونیشیا‘ ملائیشیا اور تھائی لینڈ سے ملحقہ فلپائن کے جزائر کی مسلم آبادی عرصۂ دراز سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد ۶۰ لاکھ سے زیادہ ہے۔ سقوطِ غرناطہ کے ۲۹ سال بعد ۱۵۲۱ء میں ہسپانیہ نے ان جزائر کو اپنی کالونی بنالیا اور یہاں کے مسلمان ہسپانوی اقتدار کے خلاف ۳۷۷ برس جدوجہد کرتے رہے۔ اس کے بعد ۴۰برس تک امریکی استعمار سے برسرِپیکار رہے۔فلپائن کی آزادی کے بعد یہ مسلم جزائر منیلا حکومت کے زیرِانتداب آگئے۔ ظالم فلپائنی حکومتوں نے تحریک آزادی کو دبانے کے لیے ہرممکن فوجی کارروائیاں کی ہیں اور ارویو کی موجودہ حکومت بھی تشدد سے تحریک کو کچلنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ بنگسامورو مسلمانوں پر جو قیامتیں ٹوٹتی رہی ہیں‘ افسوس اُمت مسلمہ اس سے بہت زیادہ آگاہ نہیں ہے!
مورو اسلامی محاذِ آزادی کی بنیاد سلامات ہاشمؒ نے ۱۹۶۲ء میں رکھی‘ نورمحمد میسواری کی مورو قومی محاذِ آزادی (MNLF) کی طرح یہ خِطّۂ وطن کی آزادی کی قوم پرستانہ تحریک نہیں ہے بلکہ اسلامی مملکت کے قیام کی ایک مبارک جدوجہد ہے اور اس کے وابستگان اسلامی حقوق و فرائض پر عمل کرتے ہیں۔ محاذِ آزادی‘ شریعت اسلامیہ کے حکمِ جہاد کی عملی تعبیر کا نام ہے۔ اگرچہ نورمحمد میسواری نے منیلا حکومت کے زیرِانتظام جزوی خودمختاری کے معاہدے پر دستخط کر کے ۱۴صوبوں پر حکومت بنا لی ہے ‘ تاہم سلامات ہاشم نے تمام جزائر کی مکمل آزادی تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا اور اپنی زندگی کے آخری لمحات تک ظالم و غاصب فلپینی حکمرانوںکے خلاف عملی جدوجہد میں مصروف رہے۔
سلامات ہاشمؒ کی زیرِقیادت بنگسامورو عوام انھیں امیرالمجاہدین کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی اصلاح اور تربیت کے لیے ۲۰ سالہ پروگرام (۱۹۸۰ئ-۲۰۰۰ئ) ترتیب دیا گیا۔ اس منصوبے میں طے کیا گیا کہ آیندہ عرصے میں بنگسامورو عوام کی عمومی زندگی میں اسلامی طرزِ زندگی کو رواج دیا جائے گا۔ عسکری طور پر عوام الناس کو فوجی تربیت اور اسلحے کے استعمال کے بنیادی اصول سکھائے جائیں گے۔ انتظامی‘ تنظیمی اور قائدانہ صلاحیتوں کو مضبوط تر بنایا جائے گا۔ مذکورہ مدت کے بعد ۵۰ سالہ منصوبہ عمل تیار کیا گیا جس کے اہم نکات میں انصاف کا قیام‘ مکمل آزادی‘ غربت‘ جہالت اور ناخواندگی سے نجات‘ باعزت حصولِ روزگار‘ مساوی حقوق کی فراہمی‘ اور بدعنوانی کا خاتمہ شامل ہے۔ ۲۹ ہزار تربیت یافتہ مجاہد اور مراوی‘ منڈانائو‘ سولوجزائر کی ۸۵ فی صد آبادی‘ آزادی کی جدوجہد میں سلامات ہاشم کے دیے ہوئے نقشے پر عمل پیرا ہے۔ سلامات نے جونسل تیار کی ہے وہ آخرکار اپنی منزل تک پہنچ کر رہے گی۔
بنگسامورو عوامی مشاورتی اسمبلی کے چیئرمین سید ایم لینگا نے مرحوم کے بارے میں لکھا ہے: ’’الاستاذسلامات ہاشم‘ بنگسامورو قوم کے امام اور امیرالمجاہدین تھے۔ اُن کی وفات سے ہم ایک قائد‘ ایک دوست بلکہ مورو تاریخ کے سب سے بڑے محسن سے محروم ہوگئے ہیں۔ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی سے بے انتہا محبت تھی۔ آپ ایک عام کسان کی سی سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ اُن کے نزدیک سب سے اہم چیز تقویٰ تھی۔ عالمی اسلامی تحریکات سے اُنھیں غایت درجہ محبت تھی‘‘۔
الاستاذ سلامات ہاشمؒ کو علم سے محبت تھی اور گھنے جنگل میں قائم ابوبکر کیمپ میں بھی اُنھوں نے وسیع لائبریری قائم کر رکھی تھی۔ اُن کی ذات میں عالمِ دین کی شان بھی تھی اور پُرعزم قائد کی سوچ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان اُن کی طرف کھنچے چلے آتے تھے اور اپنے آپ کو جہاد کے لیے پیش کرتے تھے۔ راقم کو الاستاذ سے ملاقات کا شرف ۱۹۸۵ء میں حاصل ہوا جب مولانا خلیل احمد الحامدی مرحوم و مغفور نے سید مودودی انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے ایک سال کے موقع پر ۱۰ روزہ تقریبات کا انعقاد کیا اور الاستاذ کو مدعو کیا۔ اس موقع پر ایک نشست میں سلامات ہاشمؒ نے مورو جدوجہد پر شرح و بسط سے عربی زبان میں روشنی ڈالی۔
وہ انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ آزادی سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور اُنھوں نے اپنی زندگی جنگلوں‘ پہاڑوں اور دلدلوں میں اپنے مجاہدین کے ساتھ گزاری۔ مجاہدین اُن سے محبت کرتے تھے کیونکہ وہ اُن کے درمیان گھومتے پھرتے تھے‘ اُن کی تربیت کرتے تھے اور اُن جیسی مصائب بھری زندگی اُنھوں نے اختیار کیے رکھی تھی۔ مذاکرات‘ سرکاری مراعات اور آزادی کے بدلے شاہانہ زندگی کی بیسیوں پیش کشوں کا اُنھوں نے جواب تک دینا مناسب نہ سمجھا۔
مجاہدین کی ایک تربیتی نشست میں امیرالمجاہدین نے کہا تھا: ’’میں نے بنگسا مورو لوگوں کے دلوں میں جہاد کا بیج ڈال دیا ہے۔ میں زندہ نہ بھی رہا تب بھی جہاد جاری رہے گا اور آزادی کی منزل مل کررہے گی‘‘۔ آج یہ جہاد جاری ہے اور یقینا منزل مل کر رہے گی!
۱۹۹۱ء کی خلیجی جنگ میں یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آئی تھی کہ میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ ایک جنگ ذرائع ابلاغ کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہے۔ ماضی میں بھی پروپیگنڈے کو جنگ میں خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے اور خصوصی ریڈیو اسٹیشن اور نیوز بلٹن اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن اب ٹی وی اور سیٹلائٹ چینلوں کے دور میں‘ جنگ کا منظر اور اس کے ساتھ پیش کرنے والوں کا زاویۂ نظر‘ ہر ہر گھر میں‘ آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ عراق پر امریکی و برطانوی حملے سے قبل کے زمانے میں اور دورانِ جنگ مغربی ذرائع ابلاغ نے جو کردار ادا کیا ہے‘ وہ سب کے سامنے ہے۔ الجزیرہ چینل کے بارے میں بہت کچھ کہانیاں بیان کی جاتی ہیں لیکن عراق پر تھوپی گئی اس جنگ میں اس کی کارکردگی عملاً اتنی موثر تھی کہ دنیا بھر کے میڈیا کو اس پر انحصار کرنا پڑا‘ کوئی بھی اسے نظرانداز نہ کر سکا۔ اس کی قیمت انھوں نے اپنے نمایندے کی شہادت سے ادا کی۔ کاش! اس طرح کا ایک چینل انگریزی زبان کا بھی ہوتا جوپوری دنیا میں موثر انداز سے براہِ راست ابلاغ کا ذریعہ بنتا۔
مغرب نے آزادیِ فکر اور آزادیِ رائے کا پرچار کچھ اس انداز میں کیا ہے کہ ہمارے بعض دانش ور اپنے بنیادی عقائد اور قومی مفادات کے خلاف بولنے اور شبہات اٹھانے کو ہی
اس کا مظہر سمجھتے ہیں‘ جب کہ مغرب کی اپنی تنگ نظری کا یہ حال ہے کہ اس جنگ میں اس کا انتظام کیا گیا کہ کوئی خبر سی آئی اے‘ اور پینٹاگون سے کلیر ہوئے بغیر نہ جائے۔ ماہنامہ نیوز لائن نے عالمی ٹی وی نیٹ ورکس کے نمایاں اینکرپرسن کے لبوں کو امریکی جھنڈے سے سِی کر اسی حقیقت کا اظہار کیا کہ کوئی اظہار رائے میں آزاد نہ تھا (مارچ‘ ۲۰۰۳ئ‘ ص ۲۶)۔ پیٹر آرنیٹ جیسے نمایندے سے عراق سے ہمدردی میں دو بول بولنے پر معذرت کروائی گئی اور پھر واپس بلا لیا گیا۔ ایک دوسرے معروف اینکرپرسن کو اس لیے برطرف کر دیا گیا کہ اس نے کہا تھا کہ ۲ ہزار میل دُور سے بم باری کرنا بزدلی ہے۔
اصل مسئلہ تو عالمی سطح پر الیکٹرونک ہی نہیں‘ پرنٹ میڈیا پر بھی غیرمتعصبانہ اور سچائی پر مبنی نقطۂ نظر پیش کرنے کا ہے‘ اور صرف دورانِ جنگ ہی نہیں‘معمول کے حالات میں بھی۔ صورت حال کا ایک جائزہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔
ابلاغ کے جدید ذرائع دوسری قوموں کو محکوم بنانے اور ان پر اجنبی تہذیب و ثقافت مسلط کرنے کے لیے بے دریغ استعمال کیے جا رہے ہیں‘ اور اس کا اولین ہدف مسلمان خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے مسلمان ہیں۔ فوج کشی کے ذریعے دیگر اقوام کو نسل در نسل غلام بنانے کا سلسلہ اہل یورپ نے شروع کیا۔ فرانس‘ ہالینڈ‘ جرمنی‘ بلجیم‘ اٹلی اور برطانیہ نے دنیا کے ہرحصے میں لوگوں اور ملکوں کو غلام بنایا اور ان غلام ملکوں کو ’کالونی‘ کا نام دیا۔ یہ کام تین صدیوں تک جاری رہا۔ لیکن جدید دور میں ’’مہذب یورپ‘‘نے طریقۂ واردات تبدیل کیا‘ دوسری قوموں کوغلام بنانے کے لیے افواج کا استعمال ترک کر دیا گیا اور سیٹلائٹ کمیونی کیشن کو استعمال کیا گیا۔ پہلے افواج یلغار کرتی تھیں اور جسموںپر حکمرانی کی جاتی تھی‘ اب ذرائع ابلاغ یلغار کرتے ہیں اور ذہنوں کو مسحور کردیتے ہیں۔ اس وقت عالمی کاروبار زندگی کی امامت ریاست ہاے متحدہ امریکہ کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں جو ٹیلی فون پائے جاتے ہیں ان کا ۵۷ فی صد امریکہ میںہیں۔ اخبارات‘ رسائل‘ فلم اور کیسٹ کے ذریعے جس قدر خبریں تیار کی جاتی ہیں اس کے ۵۷ فی صد کا منبع بھی امریکہ ہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم جو کچھ بھی سنتے ہیں یا دیکھتے ہیں یا اخبارات و رسائل میں پڑھتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں‘ امریکہ کے ذرائع ابلاغ بالواسطہ یا بلاواسطہ اس میں شریک ہوتے ہیں۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امریکہ سے شائع ہونے والا ہفت روزہ ٹائم دنیا کے ہر کونے میں پڑھا جاتا ہے۔ کم و بیش ہر ملک میں اس کے نمایندے موجود ہیں جن کی مجموعی تعداد کئی ہزار ہے۔ حکمران طبقہ‘ بیوروکریسی‘ امرا اور اخباری صنعت سے وابستہ ایک بڑی تعداد اس کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتی ہے۔ اس کی اشاعت ۵۰ لاکھ (قارئین ۳ کروڑ) ہے۔ دنیا بھر کے دو صد سے زائد نمایاں ترین قومی اخبار نیویارک ٹائمز‘ واشنگٹن پوسٹ‘ لاس اینجلس نیوز سروس سے خبریں وصول کرتے ہیں۔یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل (UPI) ۴۸ زبانوں میں خبریں جاری کرتا ہے۔ رائٹر کم و بیش ۱۰ ہزار اخبارات کو روزانہ خبریں فراہم کرتی ہے اور ایک ارب سے زائد افراد (تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ) ان خبروں کو موضوع بحث بناتے ہیں اور ان کے اثرات قبول کرتے ہیں‘ اور شعوری یا لاشعوری طور پر ان کے رنگ میں رنگتے چلے جاتے ہیں۔ برطانیہ سے شائع ہونے والے جریدے اکانومسٹ کے خریدار ۸ لاکھ ۴۵ ہزار ہیں۔ نیوز ویک کی اشاعت ۳۲ لاکھ اور۱۲ ایڈیشن نکلتے ہیں۔ وائس آف امریکہ سننے والوں کی تعداد ۹ کروڑ سے متجاوز ہے۔ بی بی سی کی نشریات سننے اور دیکھنے والے بلاشک و شبہہ کروڑوں میں ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی روزانہ اشاعت ۱۸ لاکھ ہے۔ ریڈرز ڈائجسٹ ۱۶ زبانوں میں شائع ہوتا ہے۔ وائس آف امریکہ کی نشریات ۵۲ زبانوں میں ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسلامی دنیا سے شائع ہونے والے رسائل و جرائد کا جائزہ لیا جائے تو یہ افسوس ناک صورت حال سامنے آتی ہے کہ ساری اسلامی دنیا میں کوئی ایسا اخبار نہیں نکلتا جس کی روزانہ اشاعت ۱۵ لاکھ ہو۔ دنیا بھر کے ۵۰ سب سے زیادہ اشاعت والے اخبارات کا موازنہ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اسلامی دنیا سے شائع ہونے والا کوئی اخبار اس فہرست میں نہ آسکا۔
عالمی نشریاتی اداروں اور ویب سائٹس کے ذریعے معلومات بہم پہنچانے والے اداروں کی اس قدر کثرت ہو چکی ہے کہ پرنٹ میڈیا بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ۵۶ مسلمان ممالک کے بڑے بڑے اخبار عالمی اطلاعاتی اداروں سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات کی فراہمی اور وصولی کا جو سلسلہ شروع ہواہے وہ کسی بھی قسم کی پابندی سے مبرا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں اور انٹرنیٹ کے ذریعے جو کچھ اسلامی ممالک میں ہو رہا ہے اس کے اثرات کا اندازہ لگانابہت مشکل ہے۔
کمیونزم کے زوال سے قبل مغربی دنیا نے اپنی ساری قوتیں کمیونزم کے نظام کو غلط ثابت کرنے میں جھونک دی تھیں۔ اور اب‘ جب کہ کمیونزم زوال پذیر ہو چکا ہے تو ’’مہذب‘‘ اور ’’آزاد‘‘ دنیا نے یہ طے کر لیا ہے کہ اصل خطرہ ’’بنیاد پرستی‘‘ اور ’’فنڈامنٹلزم‘‘ ہی ہے۔ الجزائر میں کچھ افراد ٹریفک بلاک کرنے کی کوشش کریں‘ یا مصر کے کسی قصبے میں چند نوجوان اکٹھے ہوں اور پولیس پر پتھر پھینکیں‘ فلسطین میں مظاہرین اور یہودیوں کے درمیان جھڑپیں ہوں یا نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور ممبئی کے ٹریڈ سنٹر میں دھماکا ہو‘ اس کو فی الفور بنیاد پرستوں کی سازش قرار دے دیا جاتا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں میں اس کی اس طرح تشہیر کی جاتی ہے گویا کہ جنونیوں اور عقل و خرد سے محروم لوگوں کے انبوہ کثیر اس کائنات کی ایک ایک چیز کو آگ لگا دینے یا دریا برد کرنے کے لیے اپنے اپنے گھروں سے نکل چکے ہیں اور اگر اس خطرے کو نہ روکا گیا تو مہذب اور غیر مہذب دنیا ایک روز راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوجائے گی۔
عالمی ذرائع ابلاغ نے لوگوں کے ذہنوں کو کس طرح غلط راہ پر ڈالا‘ اس کی ایک مثال صومالیہ ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ آپریشن صومالیہ کے ۱۰۰ سے زائد افراد کے صومالیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کا ۲۰ ماہ تک شدید پروپیگنڈا کرتے رہے لیکن ہلاک اور زخمی ہونے والے ان ۱۳ ہزار صومالیوں کا کبھی بھی ذکر نہ آیا جنھیں اقوامِ متحدہ کی افواج نے ’’امن و امان‘‘ قائم رکھنے کے لیے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ فرح عدید‘ صومالیہ کا ہر دلعزیز لیڈر رہا ہے اس کو جنگجو‘ وحشی‘ خون کا پیاسا سردار قرار دیا گیا۔ جب کئی لاکھ افراد نے موغادیشو میں اس کا استقبال کیا تو اس کا کہیں چرچا نہ ہوا۔ صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا تواس کے خلاف ۲۸ ممالک کی فوج تیار کی گئی اور جب اقوامِ متحدہ کی مختلف پابندیوں کے باعث ۵ لاکھ عراقی بچے فاقہ کشی کی نوبت کو پہنچے تو کسی نے ان کی حالت زار کی طرف توجہ نہ دی۔ کویت کی آزادی کے لیے امریکہ نے اہم کردار ادا کیا لیکن بوسنیا کے مظلوموں کو سربیا کی ظالمانہ کارروایئوں سے بچانے کے لیے کچھ نہ کیا گیا اور اسے خانہ جنگی قرار دیا گیا۔ مصر کے صدر اور وزیراعظم کو ’’انتہا پسندوں‘‘ کی طرف سے جارحانہ اقدامات کی دھمکیاں ملیں تو عالمی پریس نے بڑھ چڑھ کر اس کو شائع کیا لیکن جب حسنی مبارک کی حکومت نے جیلوں کو بے گناہ نوجوانوں سے بھر دیا اور ہزاروں شہریوں کو بغیر مقدمہ چلائے حوالۂ زنداں کیا اور ۱۰۰ کے قریب افراد کومقدمہ چلائے اور جرم ثابت کیے اور اپیل کا حق دیے بغیر خصوصی سماعت کی عدالتوں کے ذریعے پھانسی کی سزا دی گئی تو عالمی پریس میں سے کسی نے ان کے حق میں آواز بلند نہ کی۔ جب گوجرانوالہ کے ۱۲ سالہ ’’سلامت مسیح‘‘ کو گستاخیِ رسولؐ آرڈی ننس کے تحت گرفتار کیا گیا تو انسانی حقوق کی اس ’’خوف ناک‘‘ خلاف ورزی پر عالمی پریس نے پاکستان کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں مگر افغانستان کے قلعہ جنگی میں بم باری اور زیرحراست افغانوں کے قتلِ عام پر کسی کی آنکھ پُرنم نہ ہوئی۔ بوسنیا کا نائب وزیراعظم برسرِعام قتل کر دیا جاتا ہے یا پھر فلسطین کی مسجدابراہیم میں ایک شخص ۷۰ افراد کو اپنی گولیوں سے بھون کر رکھ دیتا ہے تو اسے ایک فرد کا ذاتی فعل قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تاجکستان‘ الجزائر اور تیونس میں اختلاف رائے رکھنے والے لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے جاتے ہیں تواسے ’’ضروری کارروائی‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔
لیبیا کے دو باشندے امریکہ کاطیارہ لاکربی کے شہر میں تباہ کر دیتے ہیں تو پورا ملک اس کی سزا بھگتتا ہے اور اس کا عالمی پیمانے پر حقہ پانی بند کر دیا جاتا ہے۔ اقوامِ عالم کو لیبیا کے ساتھ تجارت نہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور کروڑوں ڈالروں کے اثاثے ضبط کر لیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس امریکہ ایرانی طیارہ مار گراتا ہے جس میں ۱۵۰ افراد ہلاک ہوتے ہیں تو اس پر نہ شور بلند ہوتا ہے نہ واویلا مچتا ہے‘ نہ معاوضے کا مطالبہ ہوتا ہے‘ نہ امریکہ پر پابندیاں لگانے کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ذرائع ابلاغ خبروں اور نشریوں کو امریکی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ اس کے خلاف وہ کیوں استعمال کریں؟
آئرش ری پبلکن آرمی اور آئرلینڈ کی برطانیہ سے آزادی کے علم بردار گروہ پُرتشدد کارروائیوں پر عرصۂ دراز سے گامزن ہیں۔ صورت حال قابو سے باہر ہونے لگی تو اُس وقت برطانوی وزیراعظم جان میجر نے اعلان کر دیا کہ اگر آئرش صوبے کے لوگ ریفرنڈم کے ذریعے الگ ہونا چاہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر کے عوام نے ۸۵ ہزار افراد قربان کرا دیے ہیں‘ اربوں روپے کی فصلیں‘ فیکٹریاں‘ کاروبار اور املاک کو بھارتی فوجیوں نے ملیامیٹ کر دیا ہے‘ ہزاروںعورتوںکی فی الواقع عصمت دری ہوچکی ہے‘ پوری قوم بھارت کے پنجۂ استبداد سے آزادی کے لیے یک جان ہو چکی ہے لیکن عالمی ذرائع ابلاغ مجاہدین آزادی کو ’’مٹھی بھر شرپسند عناصر‘‘ انتہا پسند اور فرقہ پرست قرار دے کر ساری جدوجہد آزادی کو سبوتاژ کردیتے ہیں۔ اس دو رنگی کے ذمہ دار وہ یہودی عناصر اور ایجنسیاں ہیں جو ان عالمی رسائل و جرائد کے مالک اور پشت پناہ ہیں اور تمام فیصلے اپنی مرضی کے مطابق کرانا چاہتے ہیں۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر رابرٹ جے وزلی نے واشنگٹن حکومت کو ان ممالک کی فہرست پیش کی جو ایٹمی توانائی میں خود کفیل ہوا چاہتے ہیں یا ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔ پاکستان اور شمالی کوریا کا اس میں ذکر ہے لیکن اسرائیل کا اس میں کوئی ذکر نہیں ہے جس نے عرصۂ دراز سے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر رکھی ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے دہرے معیاروں کی ایک ہلکی سی جھلک اُوپر پیش کردہ مثالوں سے واضح کی گئی ہے۔ سیٹلائٹ‘ ٹیلی وژن اور ۲۴ گھنٹے چلنے والی نشریات نے ترقی پذیر ممالک کے عوام کے ذہن کو اپنی مٹھی میں بند کر رکھا ہے۔ اس کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں ہوتی ہے۔ اس میں اسلامی تہذیب‘ اسلامی تمدن‘ اسلامی تاریخ‘ اسلامی کردار‘ اسلامی اخلاق کے خلاف ہرچیز موجود ہے۔ جینز سے لے کر جاز میوزک اور فری سوسائٹی تک کون سی چیز ہے جو ہمارے تمدن اور معاشرت کے مطابق ہے لیکن ہر لمحے مخلوط معاشرے‘ بے خدا تہذیب‘ مادہ پرستانہ ثقافت اور مادہ پرستی کی دوڑ میں ہمیں شریک کرنے کے لیے عالمی ذرائع ابلاغ کوشاں ہیں۔ فرانس اور برطانیہ میں دسویں جماعت کی اسکول کی مسلمان لڑکیوں کو اسکارف سے سر ڈھانپنے کے لیے اعلیٰ عدالتوں سے اجازت حاصل کرنی پڑتی ہے‘ جب کہ سیٹلائٹ نشریات کے لیے نہ کسی ملک سے اجازت لی جاتی ہے نہ میگا ٹرانسمیٹرنصب کرتے ہوئے اس چیز کا خیال ہی رکھا جاتا ہے کہ ان ممالک پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
بی بی سی ورلڈ سروس‘ سی این این اور دیگر عالمی نشریاتی اداروں نے استعماری ممالک کا پیغام آسان انداز میں سمجھانے کے لیے لسانی تدریس (language teaching) کے مسلسل پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دنیا بھر کے ۸۰ کروڑ افراد انگریزی زبان جانتے ہیں اور زمین پر چلنے والا ہر پانچواں شخص کسی نہ کسی حد تک انگریزی سے آگاہ ہے۔ یہ چیز تو سب جانتے ہیں کہ زبان کے ساتھ ہی تہذیب کے معیار بدلتے ہیں‘ ثقافت کی قدریں بدلتی ہیں‘ سوچ کے انداز بدلتے ہیں‘ فکر کے اطوار بدلتے ہیں‘ لباس کی ساخت بدلتی ہے‘ مکانوں کی طرز تبدیل ہوتی ہے‘ خیروخوبی کے معیار بدلتے ہیں‘ مقصدِزندگی بدلتا ہے۔ ترقی کے نام پر ہمیں جو کچھ سکھایا جاتا ہے اس کی بدولت اپنا مذہب دقیانوس‘ اپنی زبان فرسودہ‘ اپنے طریقے پیچیدہ‘ اپنی روایات ناقابلِ فہم اور اپنی رسومات مضحکہ خیز محسوس ہونے لگتی ہیں۔ معیارِ زندگی اور ’’ڈالر کی تلاش‘‘ میں پاکستان ہی نہیں بلکہ بہت سے اسلامی ممالک کے ’’گنج ہاے گراں مایہ‘‘ یورپ کے تحقیقی اداروں سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ صرف امریکہ کے اندر پاکستان کے تقریباً ۵۰ ہزار ڈاکٹر موجود ہیں۔ دنیا کے جتنے نام ور مسلمان سائنسدان ہیں وہ سب غیرملکی لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کے زیراثر وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کی معراج یہ ہے کہ ’’معیارِ زندگی‘‘ کو بہتر بنایا جائے اور وہ اس طرح ممکن ہے کہ اپنی صلاحیتیں مہنگے داموں فروخت کی جائیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ نے اس چیز پر اتفاق کر لیا ہے کہ روس کے زوال کے بعد اب کسی اور ’’فتنے‘‘ کو سر اُٹھانے کا موقع نہ دیا جائے۔ میوزک‘ فلم‘ اسپورٹس‘ ریسرچ‘ پالیٹکس‘ سائنس و ٹکنالوجی کے بارے میں لاتعداد ویب سائٹس‘ ہزارہا کیسٹ اور فلمیں دنیا بھر میں انتہائی سستے داموں فراہم کی جاتی ہیں۔ سیکڑوں کے حساب سے بچوں کے لیے مووی کارٹون تیار کیے گئے ہیں اور بچوں کے لیے کہانیاں تیار کی گئی ہیں۔ ان کے اندر عموماً کسی لمبی داڑھی والے شخص کو Devil (شیطان)‘ Dragon (بلا) اور Titan (عفریت) بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک میں بھی خدا‘ آخرت‘ قومی ذمہ داری‘ حسن اخلاق کا ذکر نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نسلِ نو کا ایک حصہ پاکستان کو اپنا ملک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے‘ اس کی خدمت کا سوال تو ایک طرف رہا۔
مغربی تہذیب اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتوں کی پوری پوری مشینری درکار ہے۔ لیکن عالم اسلام کے حکمران اس یلغار کا مقابلہ کرنا تو کجا‘ محسوس ہوتا ہے کہ شاید‘ اس کے مضر اور دیرپا اثرات تک سے واقف نہیں۔ لیکن تمام کی تمام ذمہ داری حکمرانوں کے سر ڈالنا بھی کوئی دانش مندی نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ محب وطن عوام اس طوفانِ بلاخیز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر سطح پر منظم ہوں اور اس کے مضراثرات کو مٹانے کے لیے جدوجہد بھی کریں۔
دنیا میں کسی بھی جگہ مسلمان مل جل کر بیٹھیں اور اپنے اجتماعی مسائل پر غور کریں تو یقینا یہ ایک خوش گوار امر ہے۔ ایسا اجتماع اگر امریکہ میں ہو تو وہ زیادہ ہی اہم ہو جاتا ہے۔ ایک تو اس لیے کہ امریکہ میں ہورہا ہے اور دوسرا اس لیے کہ مسلمان اس وقت امریکہ کے ٹارگٹ پر ہیں۔ امریکہ میں ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہو‘ بہرحال وہ وہاں کی ایک موثراقلیت ہیں اور اگر مربوط اور منظم ہوں تو پوری اُمت مسلمہ کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس حوالے سے گذشتہ دنوں دو بڑے اجتماعات اخبارات میں موضوع بنے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جو ضروری نہیں ہیں کہ درست ہوں‘ اس لیے کہ ہر جگہ کے اخبار‘ اخبار ہی ہوتے ہیں‘ ۳۶ ہزار مسلمانوں کا اجتماع واشنگٹن کے کنونشن سنٹر میں ۳۰ اگست سے ۲ ستمبر ۲۰۰۲ء تک جاری رہا۔ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کی برسی کی تقریبات سے ایک ہفتے قبل منعقد ہونے والا یہ اجتماع اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (ISNA) (اسنا) کے زیراہتمام منعقد ہوا۔ اس کا مرکزی موضوع تھا: ’’اسلام‘ سلامتی کا مذہب‘‘۔ اس کلیدی موضوع کے حوالے سے تقریباً ایک سو سے زیادہ مسلم قائدین اور مختلف شعبہ ہاے زندگی کے نمایاں افراد نے خطاب کیا۔ ان میں امام حمزہ یوسف‘ مراد ہوف مین‘ اکبر ایس احمد‘ غلام نبی فائی‘ زاہد بخاری‘ آغا سعید اور ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی شامل ہیں۔
اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان پر ’’دہشت گردی‘‘ کا جو الزام چسپاں کر دیا گیا ہے‘ اسلام اور اپنے آپ کو وہ اس سے کیسے الگ کریں۔ کانفرنس کا موضوع بھی اسی کا اظہار ہے اور تمام مقررین نے اس حوالے سے اسلام کی تعلیمات کو نمایاں کیا۔ ساتھ ہی فلسطین‘ کشمیر اور دیگر علاقوں میں مسلمان جو جدوجہد کر رہے ہیں اس کو صحیح تناظر میں پیش کیا گیا۔
اسنا امریکہ کی اسلامی تنظیمات کا نمایندہ اور موثر وفاق ہے اور اس میں مقامی امریکی مسلمانوں کے علاوہ جو بیشتر ایفروایشین ہیں‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ بھارت‘ مصر‘ ایران‘سوڈان‘اُردن‘ تیونس‘ الجزائر‘ مغربی یورپ اور دیگر ممالک کی انجمنیں شامل ہیں۔ قابل ذکر تنظیموں میں مسلم امریکن یوتھ ایسوسی ایشن (MAYA)‘ ایسوسی ایشن آف مسلم سوشل سائنٹسٹ (AMSS)‘ نارتھ امریکہ اسلامک ٹرسٹ‘ کونسل فار اسلامک اسکولز وغیرہ ہیں۔ سوسائٹی کے موجودہ صدر نورمحمد عبداللہ ہیں‘ جو سوڈان کے رہنے والے ہیں‘ جب کہ سیکرٹری جنرل ایک کشمیری سید محمد سعید ہیں۔
اسی طرح کا ایک بڑا اجتماع دو ماہ قبل اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (ICNA) (اکنا) کے زیراہتمام منعقد ہوا۔یہ سرکل ۴۰ سال قبل اسلامی جمعیت طلبہ کے سابقین نے حلقہ احباب کے نام سے قائم کیا تھا۔ بنیادی طور پر اس میں پاکستان سے گئے ہوئے تحریک سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ لیکن اب یہ ایک بڑی اور منظم تنظیم ہے۔ اس کا اپنا مرکز ہے۔ مختلف شعبے اپنے اپنے میدانوں میں سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے مواقع بھی مہیا کیے جاتے ہیں‘ تعلیمی ادارے بھی قائم کیے جاتے ہیں۔ اسلامی مراکز اور مساجد بھی قائم ہیں۔ مسلم ممالک میں ریلیف کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ مسیج کے نام سے رسالہ بھی ہے۔
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد کے حالات کے پس منظر میں ۳‘۴‘۵ جولائی ۲۰۰۲ء کا سالانہ کنونشن خصوصی اہمیت رکھتا تھا۔ اس سال عرب نوجوانوں کی انجمن کے ساتھ مشترکہ اجتماع رکھا گیا تھا۔ مختلف اجلاسوں میں ۲۰ ہزار سے زائد شرکا نے حصہ لیا۔ انگریزی‘ اُردو‘ بنگلہ اور عربی بولنے والوں کے علیحدہ علیحدہ اجتماع اور گروہی مباحث ہوئے۔
یہ کنونشن بالٹی مور شہر کے کنونشن سنٹر میں ہوا۔ اس سال کا موضوع بحث یہ تھا:
Islam in North America, Challenges, Hopes and Responsibilities
امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد ۲ لاکھ سے متجاوز ہے۔ اتنی ہی تعداد میں برعظیم کے دوسرے ممالک کے مسلمان مختلف ریاستوں میں قیام پذیر ہیں۔ اجتماع سے اکنا کے مرکزی صدر ڈاکٹر ذوالفقار علی شاہ‘ امام سراج وہّاج‘ امام وارث دین محمد‘ امام نعیم سرویا‘ ڈاکٹر یونے حداد‘ ڈاکٹر احسان باگبی‘ ڈاکٹر ممتاز احمد‘ امام زیدشاکر‘ لارڈ نذیر احمد‘ڈاکٹر محمد مزمل صدیقی‘ محترمہ فوزیہ ناہید‘ ڈاکٹر زکیہ امین اور پاکستان سے آئے ہوئے ناظم کراچی نعمت اللہ خاں کے علاوہ دیگر سرکردہ شخصیات نے مختلف موضوعات پر خطاب کیا اور سرزمین امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کر کے ہی اسلام کا حقیقی چہرہ سامنے لایا جا سکتا ہے اور اس طرح اہل امریکہ کا متعصبانہ نقطۂ نگاہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بھارت سے جماعت اسلامی کے کل ہند سیکرٹری جناب محمد جعفر‘مولانا یوسف اصلاحی اور سید غلام اکبر نے شرکت کی۔ سید غلام اکبر نے گجرات کے فسادات کا حال بتایا۔
اکنا کے کنونشن میں امریکی سفیدفام مسلمانوں کی نمایندگی بھی ہوتی ہے۔ غیرمسلم دانش ور بھی مدعو تھے جس میں مسلمانوں کے مشہور حریف اسٹیون ایمرسن اور انسانی حقوق کے علم بردار پال فنڈلے قابل ذکر ہیں۔ پال فنڈلے اپنے ضمیر کی آواز پر سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اتفاقی نہیں بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ تین روز تک جاری رہنے والے اجتماع میں نہ صرف کتب‘ ملبوسات اور دیگر سامانِ زیست کی خرید کے وافر مواقع میسر آتے ہیں بلکہ لوگ اپنے اُن احباب سے بھی مل لیتے ہیں جن کے پاس ملازمت کی مصروفیات کے سبب جانا نہیں ہوتا۔ کئی باہمی معاملات بھی دورانِ اجتماع طے پا جاتے ہیں۔
ایک ایسے ساتھی کا بھی ذکر آیا جنھوں نے نفرت کی فضا میں صحیح راستہ اختیار کرتے ہوئے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی معروف کتاب دینیات کا انگریزی ترجمہ Towards Understanding Islam ۲۵ ہزار کی تعداد میں غیرمسلموں تک پہنچایا۔
اس طرح کے کنونشن بڑے امکانات رکھتے ہیں۔مسلمانوں میں یہ احساس بیدار کرنا کہ وہ اچھے مسلمانوں کی طرح رہیں‘ یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہے۔اگر ۷۰ لاکھ مسلمان حقیقی اسلام کے سفیر بن جائیں تو بہت سارے مسئلے حل ہوجائیں۔ اس طرح کے کنونشن امریکی شہریوں اور ان کے میڈیا کو یہ موقع دیتے ہیں کہ جو بغیر تعصب کے مسلمانوں کا حقیقی چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں وہ دیکھ لیں۔ امریکی شہریوں اور مسلمانوں کے تعلقات بظاہر وہاں کا داخلی مسئلہ ہیں۔ لیکن دراصل اس پر پوری اُمت کا مستقبل دائو پر لگا ہے۔ اگر آج امریکی راے عامہ تعصب سے پاک صحیح رخ پر ہو‘ یقینا وہاں کی حکومت مسلم دشمن پالیسیوں کو نہیں چلا سکتی۔ اس لحاظ سے یہودیوں کی کارکردگی میں مسلمانوں کے لیے بڑا سبق ہے۔
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعات کا ذمہ دار جو بھی ہو‘ اس کے یہ اثرات تو سب کے سامنے ہیں کہ بدلی ہوئی دُنیا میںحق و انصاف اور آزادی و حقوق کی ہر طرح کی جدوجہد پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر کے‘ اسے بیخ و بن سے اُکھاڑنے کا کام عالمی سطح پر شروع کر دیا گیا ہے۔ طویل جدوجہد کی خبر دی جا رہی ہے (اسامہ بن لادن کو پکڑنے میں ۴ سال بھی لگ سکتے ہیں!)‘ اور جہاں جہاں اس طرح کی جدوجہد جاری ہے خصوصاً جہاں مسلمان مظلوم ہیں‘ ظالموں کو ہر طرح کی امداد پہنچائی جا رہی ہے اور دہشت گردی ختم کرنے کے عنوان سے باہمی معاہدے ہو رہے ہیں۔
ایسا ہی ایک منظر فلپائن میں مورو تحریک آزادی کا ہے جہاں مظلوموں کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔
فلپائن ۷ کروڑ سے زائد آبادی اور ۷ ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل مسیحی ملک ہے جو انڈونیشیا اور ملایشیا کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ فلپائن کے جنوبی اضلاع مسلم اکثریتی علاقے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوب کے ۱۳ صوبوں میں مسلمانوں کی آبادی ۵۰ لاکھ ہے‘ جب کہ مسلمانوں کے مطابق ۹۰ لاکھ ہے۔
جنوبی فلپائن میں ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کے لیے مسلمان گذشتہ چار سو سال سے سرگرم عمل ہیں۔ اس جدوجہد کو دُنیا کی طویل ترین جدوجہد میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ پندرھویں صدی کے آغاز میںیہاں مسلمانوں کی دو عظیم الشان ریاستیں سولو اور میگندانو تھیں۔ ۱۵۲۱ء میں ہسپانیہ نے قبضہ کرلیا۔ ۱۸۹۶ء میں امریکہ نے ۲کروڑ ڈالر کے عوض یہ علاقہ خرید لیا اور مسلمانوں کے علاقے جبراً فلپائن کا حصہ بنا دیے گئے۔ یہاں سے مسلمانوں پر ظلم و جبر اور استحصال کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کا آغاز ہوا۔ مسلمانوں کو مورو کے نام سے پکارا جانے لگا۔ فلپائن کی آزادی کے بعد ۱۹۶۸ء میں داتو اتوگ متالان نے آزاد اسلامی ریاست کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا اور مجوزہ آزاد مملکت کا نام بنگسا مورو رکھا۔ ۱۹۷۷ء میں دو گروہ بن گئے۔ ایک مورو اسلامک لبریشن فرنٹ (MILF) جس کے سربراہ سلامت ہاشم ہیں۔ دوسرا گروہ مورو نیشنل لبریشن فرنٹ (MNLF)ہے جس کے سربراہ نور میسواری ہیں اور ایک تیسری تنظیم بھی ہے جس کی سربراہی ابوسیاف کرتے ہیں۔ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر بالآخر مسلمانوں نے مسلح جدوجہد آزادی کا آغاز کر دیا (تفصیل کے لیے دیکھیے: ترجمان القرآن ‘ اخبار اُمت‘ ستمبر ۱۹۹۵ء)
اس جدوجہد کے نتیجے میں حکومت سے مذاکرات کے کئی دور بھی ہوئے۔ مسلمانوں کی معاشی ‘ معاشرتی‘ تعلیمی اور تہذیبی حالت کی بہتری کے لیے اقدامات کے دعوے بھی کیے گئے مگر ان پر عمل درآمد نہ ہوا اور مسلمان مسلسل جبرواستحصال کا شکار رہے۔ آخری معاہدہ سعودی عرب‘ انڈونیشیا اور ملایشیا کے تعاون سے ۱۹۹۶ء میں ہوا تھا‘ اسے: Autonomous Region for Muslim Mindanao (ARMM) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت طے پایا تھا کہ حکومت مسلمانوں کو جنوبی اضلاع میں خودمختاری دے گی‘ دوسرے شہریوں کے برابر حقوق دے گی اور اسلامی تشخص بحال کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت نورمیسواری کو ۱۹۹۶ء میں جنوبی اضلاع کا گورنر مقرر کیا گیا‘ جب کہ سلامت ہاشم نے اس معاہدے کو ردّ کر دیا اور جدوجہد آزادی جاری رکھی۔
عملاً معاہدے پر کس حد تک عمل درآمد ہوا‘ اس کا اندازہ رابطہ عالم اسلامی کی جاری کردہ ایک رپورٹ سے بہ خوبی ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق: فلپائنی حکومت کا ’’مورو غداروں‘‘ کے ساتھ امتیازی سلوک اہتمام سے جاری ہے۔ تعلیم‘ روزگار ‘ ملازمت‘ صحت‘ سرکاری شعبوں اور غیر سرکاری اداروں میں ان غریب مسلمانوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔اس کے برعکس سابق ڈکٹیٹر صدر مارکوس نے ممکنہ بغاوت کو کچلنے کے لیے جدید اسلحے سے لیس ہزاروں فوجی تعینات کر دیے تھے تاکہ باغیوں اور حریت پسندوں کا قلع قمع کر سکے۔ چونکہ فلپائن امریکی بلاک میں عرصۂ دراز سے ہے اور امریکی اڈّے بھی موجود ہیں‘ اس لیے کمیونسٹ تحریک سے تعلق کا الزام عائد کر کے مورو قومی محاذِ آزادی (MNLF)کے خلاف مسلسل کارروائی کی جاتی رہی‘ جب کہ اس کا کمیونسٹ تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
۱۱ ستمبر کے واقعات کے فوراً بعد حکومت فلپائن نے ۱۳ جنوبی اضلاع سے ۱۹۹۶ء میں ہونے والا معاہدہ یک طرفہ طور پر کالعدم قرار دے دیا۔ امریکہ نے نومبر ۲۰۰۱ء میں ۳۹ ملین ڈالر کی رقم فراہم کی تاکہ دہشت گردی کو نابود کرنے کے لیے جدید ترین اسلحہ خریدے اور اپنے سپاہیوں کو اعلیٰ ترین تربیت دے سکے۔ (ایشیا ویک‘ ۳۰ نومبر ۲۰۰۱ء)
فلپائن کی موجودہ خاتون صدر گلوریا میگاپیگال ارویو نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی سربراہ کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف قرارداد منظور کروائی اور یہ یقین دہانی حاصل کی کہ ان ممالک نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جس طرح امریکہ کے ساتھ تعاون کیا ہے‘ اسی طرح فلپائن کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ جنوب مشرقی ایشیا کو پرامن علاقہ بنایا جا سکے۔
ساتھ ہی مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا جاری ہے۔ ولنسنٹ سوٹو میموریل میڈیکل سنٹر کے ڈاکٹر جوز دوکادائو نے قومی روزنامے فلپین سٹار کی ۱۹ ستمبر کی اشاعت میں لکھا: ’’بنی نوع انسان کس قدر احمق ہیں کہ بدی کو پہچانتے ہی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بنیاد پرستوں کی تلوار نے کتنے ہی انسانوں کو قتل کر کے سمندروں میں پھینک دیا تھا۔ ۱۴ سو سال قبل اسلام کے آغاز سے موجودہ دور تک اس مذہب نے دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے خلاف تشدد‘ ظلم و زیادتی اور نفرت کو فروغ دیا ہے۔ نفرت کا سرچشمہ آج نہیں‘ ۱۴ سو سال سے قرآن ہے جسے مسلمان رہنمائی کا خزینہ قرار دیتے ہیں۔ کسی بھی وقت پرُامن مسلمان دہشت گردوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ قرآن کی موجودگی انسانیت کے لیے بدی کی علامت ہے‘‘۔
ملایشیا کے معروف دانش ور ڈاکٹر فارش اے نور جنوبی فلپائن کے تازہ ترین حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اسلام سے نفرت کرنے والے سرکردہ مذہبی و سیاسی عناصر نے کوشش کی ہے کہ ۱۱ ستمبر کے واقعات کو بنیاد بنا کر کارروائی تیز کر دی جائے۔ مغربی ممالک کی عمومی طور پر اور سابق نوآبادیاتی حاکم امریکہ کی خوشنودی خصوصی طور پر حاصل کر لی جائے۔ صدر ارویو‘ امریکہ‘ سنگاپور‘ ملایشیا اور انڈونیشیا کے دارالحکومتوں کا کئی بار دورہ کر چکی ہیں تاکہ آیندہ کارروائی میں‘ ہمسایوں کی جانب سے مزاحمت نہ ہو۔ امکان ہے کہ ارویو‘ تشدد کے جو نئے حربے اور قوت کے بے محابا استعمال کے جو نئے فارمولے جنوبی فلپائن میںآزمانا چاہتی ہیں‘ اُنھیں بیرونی دُنیا سے کسی مزاحمت کا سامنا نہ ہوگا۔
صدر ارویو جولائی ۲۰۰۱ء میں اعلان کر چکی ہیںکہ جو دہشت گرد تاوان براے اغوا کی سرگرمیوں میں منسلک ہیں اُن کے خلاف مکمل جنگ ہوگی اور کسی قسم کے مذاکرات نہ ہوں گے۔ جزائر جولو کی آبادی ۲ لاکھ ۳۰ ہزار ہے۔ ۵ ہزار فوجیوں کے ذریعے کارروائی کی گئی‘ مساجد کی تلاشی لی گئی اور گھروں کو نذرِآتش کیا گیا۔ حکومتی ذرائع نے اعلان کیا کہ ہم ۸۰ مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا اُن میں مقامی جج‘ مذہبی راہنما‘ تاجر‘ طالب علم اور دیگر نمایاں لوگ ہیں۔ فلپائنی فوج کے سربراہ نے اعلان کیا کہ: یہ توابھی آغاز ہے!
مورو جزائر کے لوگ فلپائن کی فوج کی ستم رانیوں سے خوب آگاہ ہیں۔ امپیکٹ انٹرنیشنل لندن (اگست ۲۰۰۱ء) کی رپورٹ کے مطابق: ’’فوجی دستے دیہاتوں کو گھیر لیتے ہیں اور مقامی آبادی کو ہراساں کیا جاتا ہے اور پوچھا جاتا ہے کہ اُن کے کس باغی‘ حریت پسند سے تعلقات ہیں۔ جو انکار کریں اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جولو کی آبادی کے بارے میں گماں کیا جاتا ہے کہ وہ چھاپہ ماروں کے ہمدرد ہیں‘ اس لیے اُن پر آفت ٹوٹتی رہتی ہے۔
بحرالکاہل میں امریکہ کی بحری افواج کے سربراہ ایڈمرل تھامس فارگو نے فلپائن کی قومی سلامتی کے مشیر روئے لو گولز سے ملاقات کی اور اُسامہ بن لادن کے جنوبی فلپائن کی تحریک آزادی سے تعلقات اور سدباب کے موضوعات پر تفصیلی بحث کی۔ فار ایسٹرن اکنامک ریویو کے نمایندے نے اپنی رپورٹ (۱۱اکتوبر ۲۰۰۱ء) میں لکھا ہے:
۱۹۹۲ء کے بعد سے منیلا اور واشنگٹن کے تعلقات میں کھچائو موجود ہے۔ کانگرس نے رائے شماری کے ذریعے فیصلہ دیا تھا کہ امریکہ‘ فلپائن سے اپنی افواج واپس بلا لے۔ اگرچہ امریکی افواج یہاں ۱۰۰ برس سے موجودچلی آرہی ہیں‘ لیکن سانحۂ نیویارک کے بعددونوں ممالک کے تعلقات میں ازسرنوگرم جوشی پیدا ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ایک ہی پرچم تلے ہونا چاہیے۔
حکومت فلپائن نے بن لادن کے خلاف مہم میں امریکہ کی بے حد و حساب معاونت کی‘ اور اس کے جواب میں فلپائن کے دہشت گرد گروہ ابوسیاف کے خلاف ممکنہ امداد کا وعدہ لیا ہے۔ فلپائن کے اعلیٰ افسران اب یک سو ہو چکے ہیں کہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں اور امریکہ کے تعاون سے مذکورہ گروپ کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکیں۔
۱۷ جنوری ۲۰۰۲ء کی خبر یہ ہے کہ وزیر دفاع رمس فیلڈ کے اعلان کے مطابق امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فلپائن میں ۶۰۰ فوجی اور ۱۰۷ کمانڈوز اُتارے ہیں جو ابوسیاف گروپ کے مقابلے کے لیے مقامی فوج کو تربیت دیں گے اور اقدام کریں گے۔
Covering Islam ایران کے انقلاب کی خبرنگاری کے پس منظر میں ۱۹۸۱ء میں برطانیہ سے شائع ہوئی۔ بعد ازاں ایک تفصیلی مقدمے کے اضافے کے ساتھ اسے ۱۹۹۷ء میں شائع کیا گیا۔ مجموعی طور پر ان کی تصانیف کی تعداد ۱۲ ہے۔ اس کے مصنف ایڈورڈ ڈبلیو سعید فلسطینی النسل اور مسیحیت کے پیروکار ہیں۔ اُن کے مضامین تحقیقی مجلوں اور روزناموں میں باقاعدگی کے ساتھ شائع ہوتے ہیں۔ آج کل کولمبیا یونی ورسٹی میں‘ انگریزی اور تقابلی ادب کے پروفیسر ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اُن کی آرا کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے‘ تاہم اسلام‘ عالم عرب اور ارض فلسطین کے بارے میں کلمۂ خیر کہنے کی وجہ سے امریکہ میں قلم کاروں اور تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد انھیں متنازعہ شخصیت قرار دیتی ہے۔
فلسطین کے حوالے سے سعید کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ مغربی اور امریکی ذرائع ابلاغ کا تحقیقی اور ناقدانہ جائزہ مذکورہ کتاب کی خصوصیت ہے۔ اس کتاب کی مختصر تلخیص پیش کی جا رہی ہے۔ ۱۱ ستمبر کے بعد مغربی میڈیا کے رویے کے پس منظر میں اس کا مطالعہ دل چسپی کا باعث ہوگا۔
ایران میں امریکیوں کی یرغمالی سے خلیج کی جنگ اور عالمی تجارتی مرکز میں بم دھماکے تک‘ اور اب مغرب جس ہوّے کا شکار ہے اُس کا نام اسلام ہے۔ ذرائع ابلاغ‘ حکومتی ادارے‘ تعلیمی ماہرین اور فکرساز انجمنیں ایک ہی راگ الاپ رہی ہیں کہ اسلام دہشت گردی اور مذہبی مخبوط الحواسی (Hysteria)ہے‘ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اسلامی ممالک کی جابرانہ حکومتیں‘ اپنی غیر نمایندہ حیثیت کا جواز فراہم کرنے کے لیے بھی ’اسلام‘ کا لیبل استعمال کرتی ہیں۔ ہم وہی کچھ دیکھتے ہیں جو ذرائع ابلاغ ہم کو دکھا رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ نے اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے اور بدترین انداز میں پیش کرنے کی جو منصوبہ بندی کی ہے اس کتاب میں اُس کا سرسری جائزہ لیا گیا ہے۔
گذشتہ ۱۶ برس میں عراق‘ ایران‘ سوڈان‘ صومالیہ‘ افغانستان اور لیبیا میں ایسے حوادث پیش آئے‘ جن سے مسلم ممالک کے خلاف فضا بنتی چلی گئی۔ ۱۹۸۳ء میں بم دھماکے سے امریکہ کے ۲۴۰ فوجی لبنان میں ہلاک کر دیے گئے‘ ایک مسلم گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر لاکربی میں امریکن ایئرلائن کا طیارہ ۱۹۸۸ء میں تباہ کر دیا گیا اور اسلامی دہشت گرد اس کے مرتکب ٹھیرے‘ عالمی تجارتی مرکز ۱۹۹۳ء میں حملہ کیا گیا اور اس کی منصوبہ بندی کا الزام نابینا شیخ عمر عبدالرحمن پر لگا دیا گیا‘ امام خمینی نے سلمان رشدی کو قتل کرنے والے کے لیے کروڑوں ڈالر انعام کا اعلان کر دیا۔ ۱۹۹۵ء میں اوکلاھاما شہر میں بم کا دھماکہ ہوا تو فوراً مسلم انتہاپسندوں کے بارے میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ چونکہ میں مسلمانوں کے بارے میں مضامین لکھتا ہوں‘ گمان کیا گیا کہ میں اوکلاھاما کے ملزموں کو ضرور جانتا ہوں۔ مارچ ۱۹۹۶ء میں امریکی صدر بل کلنٹن اور اسرائیلی وزیراعظم کی شرم الشیخ میں باضابطہ ملاقات ہوئی اور یہ اعلان کر دیا گیا کہ ہر دھماکے کے پیچھے حکومتِ ایران یا اسلام پسند ہوتے ہیں۔ ] ۱۱ ستمبر کے بم دھماکوں کے بعد یہ سہرا طالبان اور اُسامہ بن لادن کے سر بندھ رہا ہے۔[
میں عرصۂ دراز سے تعلیم و تدریس اور تجزیہ و تحقیق سے منسلک ہوں‘ میرا یہ خیال ہے کہ اسلام کے ایک ارب سے زائد پیروکار درجنوں ممالک ‘ زبانوں‘ تہذیبوں‘ معاشروں اور روایات میں بٹے ہوئے ہیں۔ کسی ایک واقعے یا چند واقعات کو مجموعی طور پر ’اسلام‘ کے حساب میں درج کر دینا نامعقول بات ہے۔ کیا دیگر مذاہب کے ساتھ بھی ہمارا یہی رویّہ ہوتا ہے؟ بنیاد پرستی کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ اسلام کے برابر ہے اور ہمیں جس چیز کے خلاف بھی جنگ لڑنا ہے وہ بنیاد پرستی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے ۲۱ جنوری ۱۹۹۶ء کو سرخی جمائی، ’’سرخ خطرہ ٹل گیا‘ لیکن اسلام کا خطرہ منڈلا رہا ہے‘‘۔
۱۹۹۱ء سے امریکن اکیڈمی براے آرٹس و سائنس‘ بنیاد پرستی پر اپنی تحقیقی رپورٹیں شائع کر رہی ہے۔ The New Republic اور The Atlantic جیسے تحقیقی جریدے اسلام کے خلاف اور اسرائیل کے حق میں مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں۔
اسلام کے خلاف جو تہذیبی جنگ لڑی جا رہی ہے اُس میں ایک نمایاں ذکر نام ور برطانوی مستشرق برنارڈ لیوس کا ہے جس نے اب امریکہ میں سکونت اختیار کر لی ہے۔ پالیسی سازی کے وقیع جریدوں میں اُس کے مضامین شائع ہوتے ہیں۔ اُس کی سوچ کا حاصل ہے کہ عالم اسلام مجموعی طور پر مغرب کی ترقی اور ’’جدیدیت‘‘ کا مخالف ہے۔ مسلمان چونکہ مغربی نہیں ہو سکتے‘ اس لیے اچھے بھی نہیں ہو سکتے۔ یہی خیالات اسرائیل نواز دانش وروں مثلاً ڈینیل پائپس ‘مارٹن کریمر‘ ولیم ہنٹنگٹن اور پیری ملر کے ہیں۔ ان حضرات نے اسلام اور مغرب کے درمیان اجنبیت اور مخاصمت کی چٹانیں کھڑی کی ہیں۔ پیری ملر کے بارے میں عرض کرتا چلوں کہ وہ مشرق وسطیٰ اور اسلامی دنیا کے امور پر ربع صدی سے مضامین لکھ رہی ہے اور اپنے آپ کو ’’سند‘‘ کہلوانا پسند کرتی ہے جب کہ عربی اور فارسی زبان کی ابجد سے بھی اُسے آگاہی نہیں ہے‘ اس سے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ اصل بات علمی تحقیقی تجزیہ نہیں بلکہ مخاصمت اور رگوں میں دوڑتی ہوئی اسلام دشمنی ہے۔
اتنی شدت‘ قوت اور اصرار کے ساتھ کسی بھی دُوسرے مذہب کے بارے میں یہ بات نہیں کی گئی جو اسلام کے بارے میں کی گئی ہے کہ یہ مغربی تہذیب کا دشمن ہے۔ نیوزی لینڈ کے معروف پروفیسر جے بی کیلی کا خیال ہے کہ جب تک مسلمان علاقے مغرب کے زیرنگیں رہے‘ مغرب کو‘ اس کی روایات کو‘ اس کے روشن اور لبرل طرزعمل کو کوئی خطرہ لاحق نہ تھا۔ لیکن اب مسلمان ممالک کی آزادی سے ’ماڈرن ورلڈ‘ کو خطرہ لاحق ہے‘ اس لیے نوآبادکاری کی جو پالیسی چار سو برس پہلے اختیار کی گئی تھی اُس کی اب بھی ضرورت ہے۔ میں عرصہ دراز سے مسلم دنیا کے اہل حرف و دانش کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرا رہا ہوں کہ وہ اسلام اور اسلامی دنیا کے بارے میں مغربی اور امریکی دانش وروں اور قلم کاروں کی رائے سے سرسری نہ گزر جایا کریں۔ عالم عرب کی طرف سے تیل کی فراہمی معطل ہونے‘ امریکی سفارت خانے کے عملے کے ۴۴۴ دن یرغمال بننے اور خلیج میں جنگ چھڑنے کے موقع پر جو ’ابلاغی جنگ‘ لڑی گئی وہ کسی بھی نئے عنوان سے بھرپور طریقے سے امریکہ اور مغرب دوبارہ لڑ سکتا ہے۔ بلاشک و شبہ یہ جنگ بے حد موثر ہتھیار’ ذرائع ابلاغ ‘ہی سے لڑی جا سکتی ہے ]جس کا مظاہرہ آج کل اسامہ بن لادن کے نام سے ہو رہا ہے[۔
ذہن کس طرح تیار کیے جاتے ہیں‘ اس کی وضاحت اس مثال سے ہو جائے گی۔ کنسالیڈیٹڈ ایڈیسن آف نیویارک (کان ایڈ) نے نیویارک ٹیلی ویژن پر ایک اشتہار چلانا شروع کیا۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ’اوپیک‘ کے سیکرٹری جنرل یمانی ‘ قذافی‘ عرب قبائیں پہنے اور سروں پر پگڑیاں رکھے بہت سے لوگ‘ جن کے چہرے دُور سے پہچانے نہ جاتے تھے‘ نہ ہی اُن کے نام تحریر تھے لیکن تھوڑی سی دقت کے بعد یہ سمجھنا آسان تھا کہ یہ عرب چہرے خمینی‘ عرفات‘ حافظ الاسد اور تیل پیدا کرنے والے اسلام کے پیروکاروں کے تھے۔ ان تصاویر کے پس منظر سے صرف یہ آواز سنائی دیتی تھی کہ ’’امریکہ کا تیل ان کے قبضے میں ہے‘‘۔ ان کی تصاویر اس طرح دکھائی جاتی تھیں کہ یہ ہیں وہ Villain جنھوں نے امریکیوں کو رنج‘ دکھ اور اُداسی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس مختصر اشتہار نے عربوں کے خلاف ایک فضا تیار کر دی کہ تیل کے ذخائر ان کے پاس رہنا‘ امریکہ کے لیے نقصان دہ ہے۔ اُس سے بھی زیادہ خوف ناک بات یہ تھی کہ تیل پیدا کرنے والے یہ ’اُجڈلوگ‘ اسلام کے پیروکار ہیں۔ ایران میں امام خمینی کے برپا کردہ انقلاب کے بعد مستشرقین نے ماضی کی علمی بحثوں اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات پر اعتراضات کے بجائے مسلمانوں کی تنگ نظری‘ رجعت پسندی اور ماضی کی طرف سفر کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ۱۹۸۰ء تک دہشت گردی کا جامع اور کارگر لفظ دریافت ہو چکا تھا جب کہ بیسویں صدی کے آخری عشرے میں بنیاد پرست کی اصطلاح نے ماضی اور حال کی تمام ضروریات کو پورا کر دیا۔ میڈیا نے اس لفظ کو اس قدر اُچھالا کہ تمام حقائق پس منظر میں چلے گئے اور تمام دلائل دریا برد ہو گئے۔ مستشرقین نے جو سفر صدیوں میں طے کیا تھا‘ ذرائع ابلاغ نے‘ ٹی وی چینلوں نے‘ براہِ راست رپورٹوں نے‘ صحافیوں کے دوروں نے‘ تلاش حقیقت اسفار (fact finding travels)‘ اور مجالس دانش (think tanks) نے دس بیس برس میں وہ سفر طے کر لیا۔
اس حقیقت کو فراموش کر دیا گیا ہے کہ ایک ارب سے زائد مسلمان‘ سیکڑوں لسانی گروہوں اور درجنوں ممالک میں منقسم ہیں۔ اب صرف ایک ہی بات ببانگ دہل کہی جا رہی ہے کہ اہل اسلام کی دہشت گردی اور بنیاد پرستی امن عالم کے لیے خطرہ ہے‘ مسلمان کم از کم جہاد کے نام سے شہروں اور آبادیوں کو سبوتاژ کرنا چھوڑ دیں۔ ۲۶ جنوری ۱۹۹۱ء کو لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹر اور ’ماہر اسلام‘ روبن رائٹ نے تحریر کیا کہ امریکہ اورمغربی حکومتوں کے افسران ایک مشترکہ حکمت عملی طے کر رہے ہیں تاکہ ’اسلامی چیلنج‘ کا بھرپور مقابلہ کیا جا سکے۔ بش انتظامیہ کے ایک بڑے افسر نے کہا: ’’تیس چالیس سال پہلے ہم نے کمیونزم کا جس طرح مقابلہ کیا تھا‘ آج اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے اُس سے کہیں زیادہ مستعدی (smartness)کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘‘۔
یورپ کے برعکس‘ امریکہ میں اسلام کے بارے میں غیر متعصب تحقیقی ریسرچ کرنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تازہ ترین خبر کے عنصر نے پِتّا مار کام کی صلاحیت ختم کر دی ہے۔ ایک حادثے یا اقدام کی خبر آتی ہے اور خبر رساں ایجنسیاں اپنے ٹینکوں اور اسلحہ کے ساتھ اُمت مسلمہ پر چڑھ دوڑتی ہیں۔ اسرائیل ایک مذہبی ریاست ہے ‘ وہ مذہب کی بنا پر وجود میں آئی ہے‘ اس کے اندر مذہبی جنون کسی بھی دوسری قوم سے زیادہ ہے لیکن ذرائع ابلاغ کی بدولت‘ اسرائیل کے مذہبی خبط اور فلسطینیوں کے قتل عام کی خبریں‘ رنگ آمیزی کے ساتھ ہی ملتی ہیں۔ فلسطینی اگر قتل بھی ہوتے ہیں تو اُس کی خبر یوں شائع ہوتی ہے کہ شرپسند فلسطینیوں کا ہنگامہ‘ چار ہلاک ہوگئے۔
امریکہ کا میڈیا ‘ برطانوی اور فرانسیسی میڈیا سے مختلف ہے۔ اس کی وجہ مختلف معاشرے‘ مختلف قارئین و ناظرین ‘ مختلف ادارے اور مختلف مفادات ہیں۔ ہر امریکی رپورٹر کو یہ احساس رہتا ہے کہ میرا ملک دُنیا کی واحد عالم گیر قوت ہے اور ہمارے ملک کے جو مفادات ہیں وہ دوسرے ممالک کے نہیں ہیں‘ اور پریس کی آزادی ایک اچھی چیز ہے تاہم امریکی مفاد اُس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اُن صحافیوں کا تو تذکرہ چھوڑ دیجیے کہ جو امریکہ کے خفیہ تحقیقاتی ادارے سی آئی اے کے باضابطہ ملازم ہیں‘ دیگر صحافیوں کی غالب اکثریت بھی ایک طے شدہ فریم ورک پر یقین رکھتی ہے اور اُس کے خدوخال بہرحال واشنگٹن سے وضع کیے جاتے ہیں۔ جو بھی امریکی دیگر ممالک کے حالات کی رپورٹنگ کرتے ہیں اُس میں سے ’’ہم‘‘ کا عنصر کبھی بھی خارج نہیں ہوتا‘ اس سلسلے میں سیکڑوں افراد اور درجنوں رسائل و جرائد کا نام لیا جا سکتا ہے‘ یہ کوئی راز بھی نہیں۔
ایک برطانوی فلم ساز اینتھونی تھامس نے ’شہزادی کی موت‘ کے نام سے فلم بنائی جس میں دکھایا گیا کہ ایک برطانوی شہری‘ ایک سعودی شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا‘ بعدازاں وہ شہری غائب ہو گیا۔ ایک صحافی نے اس جوڑے کے بارے میں جاننے کے لیے فلسطین‘ لبنان اور سعودی عرب کا سفر کیا‘ سیکڑوں لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور باتوں ہی باتوں میں اُن سب سے یہ کہلوا لیا کہ وہ سب کس ظلم‘ زیادتی‘ جکڑبندی‘ حکومتی گرفت‘ خبررساں اداروں کی تفتیش کا شکار ہیں اور غیر انسانی زندگی گزار رہے ہیں۔ بلاشک وشبہ فلم کا مقصد بھی یہی تھا۔ حکومت سعودی عرب نے اس فلم پر پابندی لگانے کی بات اُٹھائی تو اخبارات و جرائد نے اور ٹیلی ویژن چینلوں نے ہفتوں تک اس فلم کو موضوع بحث بنائے رکھا اور اپنے عوام کو بہرطور یہ دکھایا کہ مسلم عوام جبرکی زندگی گزار رہے ہیں۔
اس کے پندرہ برس بعد ’امریکہ میں جہاد‘ کے نام سے ایک دستاویزی فلم ۱۹۹۵ء میں جاری کی گئی جس میں دکھایا گیا کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی‘ قتل و غارت‘ لوٹ مار اور ہیبت و دہشت پھیلانے والے سیکڑوں درندے امریکہ میں پناہ گزیں ہو چکے ہیں۔ ضروری ہے کہ عوام اور حکومت مل کر اس عفریت کا سدّباب کریں۔ بعدازاں یہ معلوم ہوا کہ سی آئی اے کے دماغ ان فلموں کی تیاری اور مقبولیت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
امریکہ کے ابلاغی و اطلاعاتی ادارے مسلم دنیا سے کیا سلوک کر رہے ہیں یا آیندہ کیا سلوک کر سکتے ہیں۔ اس کی بھرپور اور موثر ریہرسل وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کر چکے ہیں۔ ۴ نومبر ۱۹۷۹ء کو ایرانی طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا اور سفارت خانے کے عملے کو یرغمال بنا لیا۔ امریکن براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ABC) کئی ماہ تک شام کا خصوصی بلیٹن ’امریکہ زیر حراست‘ کے نام سے نشر کرتا رہا۔ PBS کی طرف سے مسلسل تجزیے جاری کیے جاتے رہے۔ والٹر کرون کائیٹ روزانہ ایک پروگرام دیتا رہا‘ جس کا عنوان تھا: ’حراست کا کون سا دن‘۔ ابوالحسن بنی صدر‘ صادق قطب زادے‘ زیرحراست لوگوں کے والدین کے انٹرویو‘ ایران میں مظاہرے کی روزانہ رپورٹ‘ تاریخ اسلام پر تین منٹ کا پروگرام‘ معزول شاہ کا ہسپتال سے براہ راست مکالمہ‘ سوویت اقدامات‘ آیندہ کے امکانات جیسے درجنوں موضوعات مختلف مکاتب ہاے فکرکی نمایاں شخصیات کی آرا اور اُن کے تبصروں کو اس تسلسل کے ساتھ نشر کیا گیا کہ گویا امریکی سفارت خانے کے ۵۰ افراد کی اہمیت شاید ۵۰ ریاستوں سے بھی زائد ہے اور گستاخی کرنے والی اسلامی حکومت‘ ناقابل معافی۔
سینٹ لوئیس ڈسپیچ نے ۷ نومبر کو ایک مذاکرہ منعقد کیا جس کی بحث کا خاتمہ اس جملے پر ہوا‘ ’’اسلام، امریکہ کے مفادات کے لیے نقصان دہ اور اس کا دائمی دشمن ہے‘‘۔ وال سٹریٹ جرنل نے اداریہ میں لکھا: ’’یہ مغربی تہذیب کی ناکامی ہے کہ دُنیا کی غالب آبادی بشمول مسلمان‘ مہذب خیالات سے محروم ہیں‘‘۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کولمبیا یونی ورسٹی کے پروفیسر جے سی ہیوروز نے کہا کہ ’’مسلم (شیعہ) ہونے کا مطلب ہی امریکہ مخالف ہونا ہے‘‘۔
۶ جنوری ۱۹۸۰ء کو نیویارک ٹائمز نے لکھا: ’’جہاں کہیں بھی جنگ‘ قتل‘ تنازعہ‘ خوف ہوگا وہاں اسلام کا کردار ضرور ہوگا‘‘۔
جملۂ معترضہ کے طور پر عرض کروں گا کہ بہت سے اہم امریکی اور یورپی نامہ نگاروں کی سرتوڑ کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح ایک ’سٹوری‘ فائل کر دی جائے۔ جس علاقے میں اُن کو تعینات کیا گیا ہوتا ہے وہ اس کی زبان نہیں جانتے۔ اُس علاقے کی روایات اور تاریخ سے واقف نہیں ہوتے۔ بغیر کسی تربیت کے وہ ایران یا ترکی یا مصرکی رپورٹنگ شروع کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے پھر متضاد اور متصادم خبریں ہی موصول ہوتی ہیں جو اخبارات کے قارئین کی پیاس کو مصنوعی طور پر بجھاتی رہتی ہیں۔
اس کا میں ایک اور پہلو سے بھی جائزہ لینا چاہتا ہوں کہ آخر اسلام کے خلاف اتنی آوازیں بلند کیوں ہو رہی ہیں۔ اگرچہ میں امریکہ کا جائزہ پیش کر رہا ہوں لیکن یورپ کی کیفیت بھی اس کے قریب قریب ہے۔ امریکہ میں جتنے لوگ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرتے ہیں اُن میں سے ایک فی صد کا موضوع مشرق وسطیٰ ہوتا ہے۔ ایک ہی سال میں مشرق وسطیٰ گریجویٹ کورسز میں داخلہ لینے والوں کی تعداد ۶۴۰۰ اور انڈرگریجویٹ کورسز میں داخلہ لینے والوں کی تعداد ۲۲۳۰۰ رہی ہے۔ جو چیز مدتوں سے سکھائی جا رہی ہے اور پڑھائی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام قرونِ وسطیٰ سے تعلق رکھتا ہے‘ یہ تباہ کن ہے‘ اور اسلام ہمارے کلچر اور ماحول کا دشمن ہے۔
میں پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ مغرب میں جو کچھ کہا جا رہا ہے ’’اسلام‘‘ وہ نہیں ہے۔ جتنی معلومات بھی دی جا رہی ہیں وہ معلومات نہیں تشریحات ہیں۔ عربی زبان جانے بغیر آپ مراکش کے حالات کی اصل تصویر سے کس طرح آگاہ ہو سکتے ہیں اور اگر آگاہ ہو بھی جائیں تب بھی یقین سے یہ کہنا کہاں درست ہوگا کہ اہل مراکش کے جو خیالات ہیں وہی اسلام کا اصل منشا اور مقصود ہیں۔ واقعات کی نامہ نگاری کرنے والے کے ساتھ پیش آنے والے حادثات‘ اُس کی پسند ناپسند اور اُس کی کمزوریاں بھی تو مختلف منظر پیش کریں گی‘ لہٰذا ضروری ہے کہ اسلام کا علمی سطح پر مطالعہ کیا جائے۔ اسلامی ممالک کی نامہ نگاری‘ جذباتیت‘ تعصب‘ بند ذہن اور خودسری سے ہٹ کر کی جائے۔
اہل اسلام پر مسلسل اینٹیں برسا کر ردّعمل کو آپ شدید کر سکتے ہیں‘ ڈیڑھ ہزار سال کی خلیج کو پاٹ نہیں سکتے‘ صرف نئے دشمن پیدا کر سکتے ہیں۔
Covering Islam) ‘ ایڈورڈ سعید‘ ناشر: Vintage ‘ برطانیہ۔ صفحات: ۲۰۲۔ قیمت: ۹۹.۷ پائونڈ سٹرلنگ)
براعظم افریقہ میں نائیجیریا کی حیثیت علاقائی طاقت کی ہے۔ تیل کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا ۱۱کروڑ آبادی کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ ۳۶ ریاستیں (یا صوبے) ہیں۔ ہائوسا‘ پوروبا اور اِکبو بڑے قبائل ہیں۔ ۹۰فی صد آبادی ۱۰ لسانی گروہوں میں منقسم ہے‘ تاہم چھوٹے لسانی گروہ ۴۰۰ صد کے لگ بھگ ہیں۔ ۱۹۹۱ء کی مردم شماری کے مطابق مسلمان ۴۹ فی صد ‘ مسیحی ۳۴ فی صد اور مظاہرپرست ۱۷ فی صد ہیں۔ ایسے بھی گھرانے ہیں جہاں تینوں مذاہب کے پیروکار اکٹھے رہتے ہیں۔ مصر کی فتح (۶۳۹ء) کے بعد اسلام تاجروں کے ذریعے اُن علاقوں میں پہنچا جو اب وفاقی جمہوریہ نائیجیریا کا حصہ ہیں۔ اس علاقے ہی میں مسلمانوں نے پہلی اسلامی یونی ورسٹی قیروان قائم کی جو موجودہ تیونس کا حصہ ہے اور کیمبرج یونی ورسٹی سے ۳۰۰ برس پہلے وجود میں آئی تھی۔ بورنو کی خلافت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہزار سال تک اسلامی شریعت پر قائم رہی۔کہیں اور اسلامی نظام کے تسلسل کی ایسی مثال موجود نہیں۔
عثمان دان فودیو اس علاقے کی عظیم شخصیت ہیں۔ اُن کی حیثیت راہ نما‘ عالم‘ مفکر اور مجاہد فی سبیل اللہ کی ہے۔ انھوں نے ایک جماعت کی تشکیل کی اور ہائوسا سرداروں کے خلاف علَمِ بغاوت بلند کر دیا جو اسلام اور مقامی روایات کو آپس میں گڈمڈ کرتے چلے آ رہے تھے۔ ۱۸۰۳ء میں سوکوٹو کی اسلامی ریاست قائم ہوئی۔ ہائوسا زبان بولنے والی تمام مقامی جاگیریں پانچ برس کے اندر اندر اس اسلامی ریاست کا حصہ بن گئیں۔ شریعت محمدیہؐ کو بالادست قانون بنا دیا گیا‘ تجارت و کاروبار شریعت پر استوار ہوئے اور روز مرہ زندگی میں اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد ہونے لگا۔ ۱۰۰برس تک شریعت اسلامی کا پھریرا یہاں لہراتا رہا۔ موجودہ شمالی نائیجریا کے کئی صوبے سابق مثالی اسلامی ریاست سوکوٹو کا حصہ رہے ہیں۔ عثمان دان فودیو کا انتقال ۱۸۱۷ء میں ہوا‘ لیکن اُن کی قائم کردہ ریاست ۱۰۰برس قائم رہی۔
اُنیسویں صدی کے آغاز میں اہل یورپ کی ہوس ملک گیری نے افریقہ کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا۔ نائیجیریا‘ گھانا‘ سیرالون‘ گیمبیا‘ برطانیہ کے‘ گنی ‘بسائو اور کیپ وردے پرتگال کے‘ نائیجر‘ برکینا فاسو‘ مالی‘ ماریطانیہ‘ آیٹوری کوسٹ‘ سینی گال‘ ٹوگو‘ بینن اور گنی فرانس کے زیرنگیں آگئے۔ براعظم افریقہ واحد براعظم ہے جہاں مسلم ریاستوں کی اکثریت ہے۔
۱۹۰۳ء میں برطانوی افواج نے سوکوٹو ریاست کو شکست دے دی۔ جو معاہدہ ہوا اس میں طے پایا کہ شمالی ریاست سوکوٹو اور مشرقی ریاست بورنو کے باشندوںکے مذہبی معاملات میںمداخلت نہ کی جائے گی لیکن اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بدکاری‘ قتل اور سرقہ کی اسلامی سزائوں پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ اسکولوں میں انگریزی زبان کی تدریس لازمی قرار دے دی گئی‘ عربی کی تدریس پر پابندی عائد کر دی گئی اور مسلم نظام تعلیم پس منظر میں چلا گیا‘ لیکن شرعی قوانین کی بالادستی کی بازگشت اس دَور میں بھی سنائی دیتی رہی۔
اکتوبر ۱۹۶۰ء میں نائیجیریا آزاد ہوا۔ مسلمان شمالی ریاستوں میں اکثریت میں ہیں ‘جب کہ جنوب اور جنوب مغرب میں عیسائی اور مظاہر پرست ریاستیں ہیں۔ نائیجیریا جو تیل‘ معدنیات اور زرعی وسائل سے مالا مال ہے وہ مثالی سیاسی استحکام حاصل نہ کر سکا جس کا وہ حق دار ہے۔ اس کی وجہ بیرونی سازشوں کے تحت باربار کے انقلابات‘ فوجی حکومتیں‘ بغاوتیں‘ لسانی و قبائلی تعصب اور قبائلی سیاست ہے۔ یوں نائیجیریا کی کہانی دیگر مسلمان ملکوں سے مختلف نہیں ہے جہاں عوام کو ان کی مرضی کی حکومت نہیں ملی۔ آغاز میں ہی حقیقی راہ نمائوں ابوبکرتفاوا بلیوا اور احمدوبیلوکو قتل کر کے ملک کو پٹڑی سے اتار دیا گیا۔ مغرب کی سرپرستی میں سیکولر نظام جاری رہا اور کرپشن میں دنیا میں دوسرا نمبر حاصل کیا۔ ۱۹۹۹ء میں اوباسانجو (مذہباً عیسائی)کے صدر بننے کے بعد جمہوری روایات کا آغاز ہوا تو عوام نے شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ دستوری حدود کے اندر‘ بعض ریاستوں نے اس میں پیش قدمی کی۔
نائیجیریا کی شمالی مغربی ریاست زمفارا (سابقہ سوکوٹو) کے گورنر الحاج احمد ثانی یریما نے ۸ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو قانون سازی کے دو مسودوں پر دستخط کر دیے۔ اِن بلوں کے ذریعے نائیجیریا کے دستور اور قانون کے اندر دی گئی خودمختاری کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی شریعت کے نظام کو زمفارا ریاست میں نافذ کر دیا گیا۔ مسلمانوں کے لیے شرعی عدالتیں قائم کر دی گئیں‘ حدود کا نفاذ کر دیا گیا۔ اس ریاست میں غیرمسلم حسب معمول ‘ عام کی عدالتوں اور ہائی کورٹوں کے ذریعے اپنے تصفیے کرانے میں آزاد ہیں۔ احمد ثانی یریما کا کہنا ہے کہ شرعی نظام مسلمانوں پر ۱۹۶۰ء سے قبل کسی نہ کسی طرح لاگو رہا ہے اور اِسی شرعی نظام کی بدولت سوکوٹو اور بورنو کی خلافتیں علاقے کی تمام ریاستوں سے زیادہ ترقی یافتہ اور وہاں کے عوام زیادہ تعلیم یافتہ تھے۔ اس ’سرکشی‘ کی بنا پر مسیحی اور مظاہر پرست الحاج احمد ثانی کے درپے ہو گئے‘ ان کو نائیجیریا کے دشمن اور بدترین مسلمان کے لقب سے پکارا گیا لیکن احمدثانی کا ایک ہی موقوف تھا کہ یہ قانون سازی نائیجیریا قانون کے مطابق ہے اور غیر مسلموں پر بہرصورت کوئی ظلم و زیادتی نہ ہوگی‘ بلکہ ریاست اُن کے حقوق کی زیادہ نگرانی کرے گی۔ کہا جانے لگا زمفارا ریاست وفاق سے علیحدگی کے لیے پرتول رہی ہے‘ نائیجیریا میں مذہبی جنگوں کا آغاز ہوجائے گا۔ مذہب کے نام پر جس طرح کی خانہ جگہ شمالی آئرلینڈ‘ الجزائر‘ سوڈان اور افغانستان میں جاری ہے‘ یہاں بھی جاری ہو جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر شمالی ریاستیں اپنے آپ کو مسلمان ریاست کہلائیں گی تو جنوبی ریاستوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارئہ کار نہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو عیسائی ریاستیں کہلائیں وغیرہ وغیرہ۔
زمفارا کی ریاست کی طرف سے ان تمام اعتراضات کا یہ جواب دیا گیا کہ ۱۹۷۹ء‘ ۱۹۸۹ء اور ۱۹۹۹ء کے دستور کے مطابق ریاستوں کو یہ اختیار حاصل ہے۔ دستور کی دفعہ ۳۸ (۱) کی عبارت یہ ہے کہ ’’ہر شخص کو مذہب‘ افکار ونظریات اور ضمیر کی آزادی حاصل ہوگی‘ انفرادی طور پر بھی‘اجتماعی طور پر بھی۔ہر شہری کو یہ آزادی بھی حاصل ہوگی کہ اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی گزارے‘ اس پر عمل کرے‘ اس کی تبلیغ کرے اور اس کی اشاعت کرے‘‘۔ دستور میں یہ دفعہ موجود ہے کہ ریاستی گورنر (یا اسمبلی) کسی زیریں عدالت کو ختم کر سکتا ہے‘ یا لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے‘ ہائی کورٹ کے ماتحت عدالت کے طور پر ‘ کوئی اور عدالت قائم کر سکتا ہے۔ دستور کی دفعہ ۴(۷) ریاستی اسمبلی کو یہ اختیار دیتی ہے کہ ریاست میں امن و امان قائم رکھنے اور اچھی حکمرانی کے لیے ایسے قوانین وضع کرے جس سے عوام الناس کو زیادہ فائدہ پہنچے۔
الحاج احمد ثانی نے ایک مغربی رسالے کے نمایندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آپ انسانی حقوق کے پاس دار ہیں۔ ہم بھی انسانی حقوق کی نگہبانی اور پاس داری کر رہے ہیں۔ اس پر اعتراض کیاصرف اس لیے ہے کہ ہمارے پیش کردہ قانون کی بنیاد اسلامی ہے؟
اسلامک لیگل اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ابراہیم سلیمان کے مطابق: ’’زمفارا میں اسلامی قوانین کے احیا کا سہرا اُن عظیم علما کے سر ہے کہ جنھوں نے نسل در نسل ‘ ایسے افراد تیار کیے جو اسلامی ریاست کے قیام اور اُس کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے ہیں ۔انھوں نے شعور بیدار کیا ‘ اور ذہن تیار کیے۔ اس کا سہرا اُن حکمرانوںاور صاحب اقتدار لوگوں کے سر بھی ہے جنھوں نے عیش و عشرت کو خیرباد کہا‘ اپنے عوام کو جہالت سے علم کے راستے پر‘ بے انصافی سے شرعی انصاف کی راہ پر اور ذلت و نکبت سے شوکت و عظمت کے راستے پر ڈال دیا۔ اس موقع پر اُن لاکھوں مسلمانوں کا تذکرہ بھی ضروری ہے جنھوں نے (غیر شرعی قوانین کے خلاف) علَمِ جہاد بلند کیا ‘ صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا‘ محنت کے ذریعے معاشروں کو استواررکھا اور مخالفتوں کے اندھا دُھند ‘ ہلاکت خیز طوفان کے باوجود ایک پرامن معاشرہ‘ شریعت کی روشنی میں قائم کر کے دکھا دیا۔ (امپیکٹ انٹرنیشنل‘ لندن‘ اگست ۲۰۰۱ء)
ریاست زمفاراکے بعد نائیجیریا کی دیگر نو اسلامی ریاستوں نے بھی اپنی حدود کے اندر شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔ ضرورت ہے کہ نائیجیریا کے اس تجربے کا تفصیل سے اور براہ راست مطالعہ کیا جائے تاکہ معلوم ہو کہ اس کے اثرات وہاں کے عوام کی زندگی پر کیا پڑے ہیں اور کیا عملی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اسلامی تحقیقی اداروں اور مسلم ممالک کی جامعات کو اس طرح کے موضوعات پر تحقیق کے لیے انسانی اور مالی وسائل فراہم کرنا چاہییں۔
مسلم سجاد
ترکی میں دستوری عدالت نے ۲۲ جون ۲۰۰۱ء کو فضیلت پارٹی پر جو پابندی لگائی اس کے اثرات ترکی کی سیاسی زندگی سے زیادہ خود پارٹی پر ہوئے ہیں۔ ترکی میں ۵۵۰ کے ایوان میں ۱۰۲ ممبران فضیلت پارٹی کے ہیں۔ فیصلے میں صرف دو ممبران کی رکنیت ختم کی گئی اور باقی سب کی رکنیت قائم رکھی گئی کہ وہ نئی پارٹی بنائیں یا پہلے سے موجود کسی دوسری پارٹی میں شامل ہو جائیں۔
فضیلت پارٹی کے گذشتہ کنونشن میں اربکان کے حمایت یافتہ رجائی قوطان کی صدارت کے باقاعدہ مقابلے سے پارٹی میں روایت پسند اور اصلاح پسند یا ماڈرنسٹ رجحانات کا واضح اظہار ہوا تھا۔ ترکی میں ہر شخص جانتا ہے کہ حالیہ فیصلے میں سابقہ فیصلے کے برخلاف سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں نہ لگانے کی وجہ ہی یہ تھی کہ پارٹی میںتقسیم واقع ہو۔ رجائی قوطان کی سربراہی میں سعادت پارٹی کے قیام کا اعلان ہو چکا ہے جس میں فضیلت کے سابقہ ۵۱ ممبران کے علاوہ بعض دوسری پارٹیوں کے ممبران بھی شامل ہیں۔ اسے نجم الدین اربکان کی پشت پناہی حاصل ہے۔ قوطان نے پارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دوسری مادہ پرست پارٹیوں اور ہمارے درمیان واضح فرق ہوگا۔ ہم اخلاقی اور قومی اقدار کے وفادار رہیں گے۔ مذہبی آزادی کی حمایت کریں گے لیکن ترک ریاست کی سیکولر بنیاد کو چیلنج نہیں کریں گے۔
استنبول کے سابق میئر طیب اردگان کی قیادت میں دوسری پارٹی کے قیام کا اعلان جلد ہی متوقع ہے۔ سیکولر پریس میں اسے ماڈرنسٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ انھوں نے گذشتہ دنوں پورے ملک کا دورہ کیا ہے۔ وہ اپنا یہ امیج بنا رہے ہیں کہ’’اختلاف‘‘ کے بجائے ’’اتفاق‘‘ کے علم بردار ہیں اور محدود طبقات کے بجائے عوام الناس کو اپیل کرتے ہیں شاید اس طرح وہ جرنیلوں کی ناراضی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک تجزیے کے مطابق اس تقسیم سے اسلامی قوتیں کمزور ہوں گی۔ اس لیے کہ دونوں کا حلقۂ انتخاب ایک ہی طرح کے ووٹر ہیں۔ سیکولر میڈیا نے اسی لیے اس کی خوب حوصلہ افزائی کی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق اسلام پسند ووٹروں میں سے ۷۴ فی صد ماڈرنسٹ اور ۱۴ فی صد روایتی پارٹی کو ووٹ دیں گے۔ دوسری طرف ‘ اسی سروے کے مطابق اگر ابھی انتخابات کروا دیے جائیں تو موجودہ حکومتی پارٹیوں میں سے کوئی بھی مطلوبہ ۱۰ فی صد ووٹ حاصل نہ کر سکے گی۔
ایک دوسرے تجزیے کے مطابق وسیع تر سیاسی‘ معاشی اور تہذیبی پس منظر میں اس ’’تقسیم‘‘ کو ’’ضرب‘‘ یعنی اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ اس وقت اسلامی فکر اور سرگرمیاں ہی وسعت پذیر ہیں۔ اسلامی سیاسی فکر کو ترک معاشرے کے ہر طبقے میں غیر معمولی پذیرائی مل رہی ہے‘ جب کہ سیکولر نقطۂ نظر ‘ نظری اور عملی ہر لحاظ سے زوال پذیر ہے۔
یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ سیکولر مقتدر طبقہ ملک کو اچھی حکمرانی دینے میں ناکام رہا ہے‘ سیاست‘ معیشت اور کلچر ہر لحاظ سے۔ مغرب سے درآمد شدہ نظریات اور ادارے ترکی کے مسلم معاشرے میں جڑ نہیں پکڑ سکتے۔ عوام کی عظیم اکثریت کے لیے اسلام ان کی زندگی اور تاریخ کا اہم ترین حصہ ہے۔ یہ محض ایک موہوم احساس نہیں بلکہ جیتا جاگتا اور توانا شعور ہے جو فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
۱۹۵۰ء کے بعد ترکی میں بڑے پیمانے پر شہرکاری (urbanization)ہوئی ہے۔ اس کا فائدہ اسلامی قوتوں کو ملا ہے۔ اسلامی فکر کا علمی‘ سیاسی اور تہذیبی نشوونما ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ ۳۰ برس میں اسلامی تحریک ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے۔ ملک کی متنوع غیر سرکاری تنظیموں اور اجتماعی سرگرمیوں کی قیادت متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ شہری کر رہے ہیں جن کا اسلام سے سرگرم اور فعال تعلق ہے۔
اس نقطہء نظر سے اسلامی تحریک میں تقسیم کو دراصل توسیع اور ملک کے ہر حصے میں تمام طبقات تک پہنچنے کی سبیل قرار دینا چاہیے لیکن تقسیم ایک حقیقت ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں پارٹیاں فہم و فراست سے آگے بڑھیں۔
یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ اربکان اور ان کے ساتھیوں نے جدید عہد میں اسلامی تحریک کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آج ترکی کے لیے بقا اور عروج کا راستہ صرف یہی ہے کہ نئی ریاستی فکر تشکیل پائے جو ملک کے وسائل اور تخلیقی قوتوں کو متحرک کر دے۔ یہ صرف اسلامی فکر اور اقدار کو ازسرنو دریافت کرنے سے ہی ہو سکتا ہے۔
’ملے‘ قوم اسلام کا ایک توانا بازو ہے۔ اس قوم نے ۵۰۰ برس پہلے اسلام قبول کیا۔ ملایشیا‘ انڈونیشیا‘ فلپائن اور جنوبی تھائی لینڈ‘ ماضی قریب میں جزائر ملایا کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ۲۰ ویں صدی میں یہاں استعماری ممالک کا اقتدار تھا۔ انڈونیشیا ۱۹۴۵ء میں اور ملایشیا ۱۹۵۷ء میں آزاد ہوا۔ جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے موثر اسلامی تحریک Parti Islam Se Malaysia ہے۔ ’پاس‘ (PAS) اس کے نام کا مخفف ہے‘ تاہم عمومی طور پر اسے اسلامی پارٹی ملایشیا کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔
ملایشیا کا ایک تعارف بے انتہا اقتصادی ترقی بھی ہے اور انفرمیشن ٹکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز پیش رفت بھی۔ ۱۹۹۷ء کے اقتصادی بحران نے ایشین ٹائیگر کو ہلا کر رکھ دیا لیکن ملایشیا آزاد روی پر مبنی معیشت‘ نئے اقتصادی منصوبوں اور کھلی منڈی کی بدولت دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔
ملایشیا میں مستقبل کا نقشہ کیا ہوگا اور اسلامی پارٹی کیا کردار ادا کرے گی‘ یہی آج کا موضوع ہے۔
اس علاقے کی تاریخ میں متحدہ ملے قوم پرور تنظیم (United Malays Nationalist Organisation) کا قیام ایک اہم سنگ میل ہے۔ ۴۰ سے زائد وطن دوست اور قوم پرست تنظیموں نے ۱۹۴۶ء میں اس وفاقی تنظیم کی داغ بیل ڈالی اور عوام الناس کی اکثریت کو اپنی جانب راغب کر لیا۔ ’’امنو‘‘ (UMNO) ملایشیا میں طویل عرصے سے برسرِاقتدار ہے۔
آغاز ہی سے ’امنو‘ کا ایک علما کا شعبہ قائم تھا۔ انھوں نے ’امنو‘ کے اندر رہ کر اسے حقیقی دینی تنظیم بنانے کی کوشش کی۔ جب یہ اصلاحِ احوال سے مایوس ہو گئے تو شعبۂ علما کے تمام ممبران نے بہ یک وقت ’امنو‘ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ علماے کرام کے مذکورہ گروہ نے ۲۴ نومبر ۱۹۵۱ء کوPersatuan Alim Ulama Malaya
کے نام سے اسلامی تنظیم قائم کی‘ ایک اور اسلامی تنظیم حزب المسلمین نے اپنے آپ کو نئی تنظیم میں ضم کر لیا۔ اس طرح اسلامی پارٹی ملایشیا وجود میں آگئی۔
’پاس‘ کے تجربات اخوان المسلمون مصر‘ جماعت اسلامی پاکستان‘ حزب النہضہ تاجکستان‘ الجبھۃ الاسلامیہ سوڈان‘ رفاہ پارٹی ترکی اور اسلامی نجات محاذ الجزائر سے مختلف ہیں۔ گذشتہ ۵۰ برسوں میں اس تحریک کی پانچ افراد نے قیادت کی اور ہر دَور میں اس کی شناخت ایک نئے انداز سے واضح ہوئی۔
احمد فواد حسن ’پاس‘ کے اولین سربراہ تھے۔ ۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۳ء تک ’پاس‘ کے قائد رہے۔ ان کا مطمح نظر یہ تھا کہ ملے اپنے ہی وطن میں اقلیت نہ بن جائیں اور ملے قوم کی سربلندی کے لیے منظم ہو کر کام کیا جائے۔ ۱۹۵۳ء سے ۱۹۵۶ء تک ڈاکٹر الیاس عباس سربراہ رہے‘ قومی حقوق کے لیے جدوجہد ان کے پیش نظر تھی۔ اُس وقت تک ’پاس‘ کی شناخت ایک قوم پرست پارٹی کی تھی۔ ’پاس‘ کے تیسرے صدر ڈاکٹر برہان الدین الحلمی (۱۹۵۶ء سے ۱۹۶۹ء) نے تحریک کو خالصتاً اسلامی پہچان دی‘ اور ’پاس‘ کی قوم پرست شناخت کو اسلام کے احیا اور سربلندی کے لیے کام کرنے والی عالم گیر شناخت سے بدل دیا۔ ڈاکٹر حلمی کے وضع کردہ خطوط پر تحریک آگے بڑھتی تو اسلامی تحریک کا کوئی اور منظر ہوتا۔
ڈاکٹر حلمی کو داخلی خودمختاری کے قانون (ISA) کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ رہائی کے کچھ عرصے بعد اُن کا انتقال ہو گیا اور محمدعصری مودا نے ۱۹۷۰ء میں تحریک کی باگ دوڑ سنبھالی۔ عصری مودا شعلہ بیان مقرر تھے‘ تاہم انھوں نے غلبۂ اسلام کی جدوجہد کو ازسرنو قوم پرست تحریک میں تبدیل کرنے کی کوشش کی اور ’امنو‘ کے ساتھ تعاون کیا۔ برلن یونی ورسٹی کے پروفیسر اور ریسرچ اسکالر ڈاکٹر فارش اے نور کا خیال ہے کہ ترقی ء معکوس کے اس دَور میں تحریک کو تقریباً سمیٹ کر رکھ دیا گیا۔ اس دَور کو ’پاس‘ کے انتشار کا بدترین دَور بھی کہا جا سکتا ہے۔ آخرکار عصری مودا کو تحریک سے الگ کر دیا گیا اور تحریک کو اپنے اصل نظریے کے ساتھ مربوط کر کے کام کا آغاز کر دیا گیا۔ اسلامی پارٹی کے لوگ خود کہتے ہیں کہ ۱۹۷۰ء سے ۱۹۸۰ء تک ۱۰ سال ضائع ہو گئے۔
۱۹۷۹ء میں ایران میں برپا ہونے والے اسلامی انقلاب نے ’پاس‘ پر بھی اثرات مرتب کیے۔ ’پاس‘کے ذمہ داران نے یہ محسوس کیا کہ ’’اسلامی تبدیلی کے لیے علما کی قیادت ضروری ہے‘ مثلاً جس طرح ایران میں ہوا ہے‘‘۔ یہ ایک مشاہدہ تھا‘ دستوری اور آئینی فیصلہ نہ تھا۔ اسلامی تحریک ملایشیا کے مضبوط اور مستحکم دَور کا آغاز عملاً ۱۹۸۲ء سے ہوا۔
۱۹۸۲ء میں دینی تعلیم یافتہ علما نے تحریک کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ تحریک کے لیے مرشد عام کا منصب تخلیق کیا گیا۔ یوسف راوا کو جو معروف عالم دین اور ۳۰ برس سے دعوت و جدوجہد کے میدان میں سرگرم عمل تھے‘ تحریک کا مرشدعام بنایا گیا۔ مرشدعام دستوری اور تنظیمی فیصلوں کے مراحل میں شریک نہیں ہوتا‘ تاہم اگر وہ چاہے تو تنظیم کے فیصلوں کو ردّ (veto)کر سکتا ہے ۔وہ مرکزی شوریٰ میں ۱۲ افراد کو نامزد کر سکتا ہے۔ حاجی فاضل محمد نور‘ گذشتہ دو دہائیوں سے تحریک کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ یونی ورسٹی میں تدریس کرتے رہے ہیں ‘ وفاقی اسمبلی میں پہلے بھی منتخب ہوئے اور ۱۹۹۹ء میں منتخب ہونے والی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کردار سنبھال چکے ہیں۔ یوسف راوا کے اپنے منصب سے خود سبک دوش ہونے کے بعد نک عبدالعزیز کو مرشدعام بنایا گیا جوملایشیا کے دینی تعلیمی اداروں کے علاوہ دیوبند(بھارت)‘ اور مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور‘ (پاکستان) میں بھی زیرتعلیم رہے۔ حاجی فاضل محمد نور اور عبدالہادی آوانگ طلبہ کی اسلامی تحریک ’آبیم‘ (ABIM) میں بھی عرصۂ دراز سرگرم عمل رہے۔ نوجوانوں کی پرعزم‘ دعوتی و سماجی بھلائی کی اسلامی تنظیم کے طور پر ’آبیم‘ نے انتہائی موثر کردار ادا کیا ہے۔ اب اسلامی تحریک قدیم و جدید اور جدید تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے۔ نک عبدالعزیز کی حکومت نے اعلان کر رکھا ہے کہ جس گھر میں پہلے کمپیوٹر نہ ہو اُسے ارزاں نرخ پر کمپیوٹر ملے گا۔
۱۹۸۲ء کے بعد سے تحریک کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا کہ ریاست بھی اسلام کے نفاذ کے متوازی پروگرام کا اعلان کرتی رہی‘ اسلامی بنک کاری نظام وجود میں آیا‘ اسلامی ادارہ ہاے فکرودانش
(think tanks) وجود میں آئے‘اسلامی تحقیقات کے ادارے قائم کیے گئے اور کوالالمپور میںاسلامی عالمی یونی ورسٹی قائم کی گئی۔جب اقتدار پر فائز لوگ اسلام کے علم بردار بن کر سامنے آتے ہیں تو نفاذ اسلام کے مراحل کو اپنے اقتدار کی طوالت کے ساتھ منسلک کر دیتے ہیں۔ ’آبیم‘ کے موجودہ صدر احمد عزام کا خیال ہے کہ مہاتیر محمد دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں کے لیے ترقی پسند‘ اسلام دوست اور ملایشیا کے عوام کے لیے منتقم ڈکٹیٹر ہیں۔ ۱۹۹۰ء میں ’پاس‘ نے اپنے بے داغ کردار کی بدولت کلنتان کی ریاست میں کامیابی حاصل کر لی۔ اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا‘ تو وفاقی حکومت کی طرف سے شدید اعتراضات اٹھائے گئے۔ غیر مسلموں کے انسانی حقوق پامال ہونے اور ریاست کے ماضی کی طرف سفر پر تنقید کی گئی‘ لیکن اس کے باوجود ’پاس‘ کلنتان میں تین بار
(۹۹ء‘ ۹۵ء‘ ۱۹۹۰ء) حکومت بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔
کلنتان کی ریاست وسائل کے لحاظ سے ملایشیا کی سب سے کمزور ریاست ہے لیکن اسلامک پارٹی کا یہاں کے عوام کے ساتھ گہرا رابطہ ہے۔ ’پاس‘ کے پہلے مرشدعام یوسف راوا تھے اور دوسرے مرشدعام
نک عبدالعزیز ہیں‘ جو کلنتان کی ریاست کے سربراہ بھی ہیں۔ نک عبدالعزیز عالم دین ہیں اور امامت و خطابت سے منسلک ہیں۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد انھوں نے سرکاری رہایش گاہ نہ لی۔ ۲۰‘ ۲۵ برس سے جس فلیٹ میں رہ رہے ہیں‘ اُسی کو وزیراعلیٰ کا دفتر قرار دے دیا۔ جمعہ کا خطبہ دیتے ہیں‘ پروٹوکول اور عوام سے دُور رکھنے والی دیگر علّتوں سے دُور ہیں۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد انھوں نے اعلان کر دیا کہ چور کا ہاتھ کاٹنے کی شرعی سزا پر ہم عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں لیکن ہندو اور چینی اقلیت کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ مکمل معاشرتی انصاف کے بغیر
اس سزا پر فی الحال عمل درآمد نہیں ہوگا‘ تاہم شراب کی تیاری اور فروخت اور سودی معیشت کے ذریعے اشیا
کی قیمتوں میں بے حد و حساب اضافے پر حکومتی کنٹرول رہے گا۔ ناچ گھر اور نائٹ کلبوں کے لیے آیندہ اجازت نامے بند کر دیے گئے۔ حکومت نے رہن کا نظام متعارف کرایا ہے‘ اس نظام کی بدولت غریب عوام اپنی کسی قیمتی چیز (زمین‘ جائداد‘ زیورات) کو رہن رکھوا کربلاسود قرض حاصل کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر کلنتان میں امن و امان کی صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے۔ شراب اور جوئے کا کاروبار کرنے والے غیر مسلموں نے آہستہ آہستہ دوسرے کاروبار اختیار کرنے شروع کر دیے ہیں۔ فار ایسٹرن اکنامک ریویو کے ایک گذشتہ شمارے میں کلنتان کے بارے میںشائع ہونے والے ایک مضمون میں ایک ہندو ٹیکسی ڈرائیور کی رائے لی گئی تو اس نے کہا کہ میں وزیراعلیٰ نک عبدالعزیز کے مذہب کو تسلیم نہیں کرتا لیکن میں اسے پسند کرتا ہوں کیونکہ اُس کا گھر بھی عام لوگوں جیسا ہے‘ اور وہ سڑکوں پر چلتا پھرتا بھی دکھائی دیتاہے۔ ایسے ہی لوگ ملایشیا کو حقیقی ترقی دے سکتے ہیں۔
ملایشیا کے بارے میں ایشیا ویک کے ایک شمارے میں نک عبدالعزیز کی مسجد کی تصویر شائع ہوئی کہ اُن کا خطاب سننے کے لیے مسجد بے انتہا بھری رہتی ہے۔ عرصۂ دراز سے خواتین اسکارف کے ساتھ عملی زندگی میں شریک ہیں اور اسلامی تحریک کی قوت کا باعث ہیں۔
ترنگانو دوسری ریاست ہے جہاں ’پاس‘ نے حکومت بنائی ہے۔ عبدالہادی اوانگ اس کے وزیراعلیٰ ہیں۔ اخبارات اُن کی یہ تصویر پیش کرتے ہیں کہ وہ اپنی توانا فکر‘ غیر لچک دار موقف اور مستقبل بینی کے باعث مستقبل کے وزیراعظم ہیں۔ ترنگانو‘ گیس اور تیل کے لحاظ سے امیر ترین ریاست ہے۔ مگر وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے حزب اختلاف میں سے ہونے کی وجہ سے فنڈ روک رکھے ہیں اور حکومت اور حزب اختلاف میں شدید قانونی جنگ جاری رہتی ہے۔ تحریک کے ترجمان سہ روزہ حرکہ کی اشاعت ۴ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔حکومت بہ ضد ہے کہ سہ روزہ اخبار کو پندرہ روزہ کیا جائے۔ وفاقی پارلیمان کے اندر بھی ’پاس‘ نے ۱۹۹۹ء کے انتخابات میں ۲۹نشستیں حاصل کی ہیں۔ ’پاس‘ نے موجودہ حکومت مخالف اتحاد میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے۔ عبدالہادی اوانگ کا مشہور جملہ ہے کہ حکومت فلک بوس عمارات تعمیر نہ کرے‘ بس اسٹاپ قائم کرے‘ یہ ہماری ضرورت ہیں۔
عبدالہادی آوانگ کی سیاسی آرا کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے کئی جریدے اُن کی آرا شائع کر تے ہیں۔عبدالہادی آوانگ مغربی تعلیم یافتہ ہیں‘ دُنیا کے کئی ممالک میں اُن کے دوست موجود ہیں‘ کئی خطوں کا دَورہ کر چکے ہیں‘ ملایشیا کو جو مسائل درپیش ہیں اُن میں سے اکثر کے بارے میں اُن کے ذہن میں واضح تجزیہ اور عملی حل موجود ہے۔ گلوبلائزیشن کی اُس تعریف کے وہ شدید ناقد ہیں کہ سرحدوں کے بغیر معیشت (borderless economy) ہونی چاہیے۔ ملایشیا کے دوست تجارتی حلقوں کے درمیان عدم تناسب کے شاکی ہیں‘ چاہتے ہیں کہ ملایشیا امریکانائزیشن سے نجات حاصل کرے اور مسلم ممالک سے قریبی تجارتی روابط بنائے۔
۱۹۹۷ء کے اقتصادی بحران کا سبب اُن کے نزدیک ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کی آزادانہ نقل و حرکت ہے۔ موجودہ برسرِاقتدار گروہ کی مغرب دوستی بلکہ مغرب پرستی کے وہ ناقد ہیں‘ اُن کی تجویز ہے کہ ہر شخص پر ٹیکسوں کی بھرمار کی جائے۔ بڑی بڑی فلک بوس عمارتیں تعمیر کرنے‘ میلوں پر پھیلے تجارتی مراکز چلانے اور انفرمیشن ٹکنالوجی کے بے مہار سوداگروں پر معقول ٹیکس عائد کیا جائے‘ ملے اور چائینز آبادیوں میں منافرت کم کی جائے‘ ہندو‘ اور چینی تہذیب کو غالب قومی تہذیب نہ بنایا جائے۔
اگرچہ ملایشیا کی تاریخ میں ۱۹۹۷ء کا سال اِس لحاظ سے سب سے خراب سال رہا کہ جنوب ایشیائی ممالک کی اقتصادی ساکھ زوال پذیر ہونا شروع ہوئی۔ امپیکٹ‘ لندن کی رپورٹ کے مطابق جنوب ایشیائی ممالک کی کرنسیوں کی قدر ۴۰ سے ۲۰ فی صد رہ گئی۔ ملایشیا کے سکے رِنگٹ کی قدر میں ۶۰ فی صد کمی ہوئی‘ تاہم ملایشیا کے اندر نئی اقتصادی پالیسیوں کے سبب ملایشیا مزید زوال سے بچ گیا۔ اقتصادی بحران آتے اور جاتے رہے ہیں لیکن ڈیڑھ لاکھ ملایشیائی نوجوان اعلیٰ ترین تعلیم کے لیے اب بھی بیرون ملک ہر سال جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیے کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد مغرب پر تنقید کرنے کے باوجود لبرل اکانومی اور کیپٹلزم کے مغربی اصولوںکو نافذکیے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر انور ابراہیم اور مہاتیر محمد کے درمیان ہونے والے اختلافات کے بے انتہا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان اختلافات نے ملایشیا کی تاریخ کا رخ موڑ کے رکھ دیا ہے۔ انورابراہیم نے طالب علم لیڈر کی حیثیت سے شہرت پائی۔ طلبہ کی اسلامی تحریک’آبیم‘ کی طویل عرصے تک قیادت کی۔ طلبہ کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کی، ’آبیم‘ کو سیاسی جماعتوں کی آلہ کار کے بجائے خودمختار تنظیم بنایا۔ عالمی اسلامی تحریکات میں بھرم قائم کیا۔ انور ابراہیم کی حیثیت ’’مستقبل ساز‘‘ کی ہے۔ ہزاروں افراد کو بیرون ملک روانہ کیا تاکہ وہ جدید علوم اور خصوصاً انفرمیشن ٹکنالوجی میں مہارت حاصل کریں اور واپس آکر وطن کی ترقی کے لیے کام کریں۔ ۱۵‘ ۲۰ سال میں لاکھوں لوگوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر لی اور دو کروڑ کی آبادی والا ملک‘ اقتصادی خوش حالی کی بدولت ایشیائی ممالک کے قائد کی حیثیت اختیار کرنے لگا۔ڈاکٹر انور ابراہیم بے انتہا صلاحیتوں کے مالک ہیں‘ ملے نوجوانوں میں بے انتہا مقبول ہیں۔ برسرِاقتدار ’امنو‘ پارٹی نے اُن کے اثر و رسوخ سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے انھیں پارٹی کا ممبر بنایا‘ وزیرخزانہ بنایا اور قلیل مدت میں وہ نائب وزیراعظم اور مہاتیرمحمد کے دست راست کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ حکمران پارٹی میں شامل کر کے مہاتیر محمد نے انور ابراہیم کو اُس کی اسلامی شناخت سے الگ تھلگ کر دیا۔ حکومت کے ساتھ تعاون کے عمل کو ’پاس‘ نے اچھی نگاہ سے نہ دیکھا اور اسے نفاذ اسلام کی راہ روکنے کے مترادف قرار دیا۔
ڈاکٹر مہاتیر محمد کی عمر ۷۵ برس ہے ‘وہ میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور نسلی طور پر خالص ملے نہیں ہیں۔ اُن کے اجداد نے برعظیم سے ہجرت کی تھی اور انھیں خدمت اسلام کا سعودی حکومت کی طرف سے اعلیٰ ترین اعزاز بھی مل چکا ہے۔ لیکن وہ شخصی اقتدار پر کسی بھی صورت میں آنچ نہیں آنے دینا چاہتے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت انور ابراہیم کے خلاف سازش‘ گرفتاری اور طے شدہ سزا ہے۔ ملایشیا کے عوام مطمئن تھے کہ مہاتیر کے ساتھ کسی حادثے کی صورت میں ڈاکٹر انور ابراہیم عنانِ اقتدار سنبھالیں گے۔ انور ابراہیم نے کوشش کی کہ وہ ’امنو‘ کے صدر بن جائیں۔ یہ بات ڈاکٹر مہاتیر کو پسند نہ آئی۔ ۱۹۹۸ء میں بے جا الزامات عائد کر کے انور کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعدازاں سزا بھی سنا دی گئی۔ انور ابراہیم کے واقعے کے بعد ’امنو‘ کے ہزاروں لوگ پارٹی سے الگ ہو گئے۔ کم از کم تین لاکھ افراد نے اسلامی پارٹی کی رکنیت اختیار کر لی۔ انور ابراہیم کے واقعے نے نہ صرف مہاتیر کا تصور گدلا کیا بلکہ ان کے حامیان اسلام کے دوست ہونے کی قلعی بھی کھل گئی۔ ان کا موجودہ جانشین عبداللہ بیضاوی‘ کسی طور انورابراہیم کی ٹکر کا نہیں ہے۔
انور ابراہیم کی بیگم نے کادلان (انصاف) پارٹی قائم کی‘ انتخاب میں حصہ لیا اور ۷ نشستیں جیت لیں۔ انور کا خیال ہے کہ مہاتیر اور اس کے خاندان کی بدعنوانیاں ظاہر کرنے کی اسے سزا مل رہی ہے۔ ہفت روزہ اکانومسٹ‘ لندن انور کے خلاف اقدامات کو مہاتیر محمد کی عظیم ترین غلطی قرار دیتا ہے۔
اسلامی پارٹی ملایشیا کے راستے میں دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ملایشیا میں ملے نسل آبادی کا ۶۰ فی صد ہے‘ جب کہ چینی النسل باشندے اور ہندو بھی ملایشیا کے قانونی شہری اور ملک کی تعمیروترقی میں برابر کے شریک ہیں۔ ’پاس‘ اگر غیر ملے آبادی کے اندر اثر و رسوخ قائم کر لے اور قومی مفاہمت کے ذریعے اسلام کے نظام عدل کے اندر انھیں سمیٹ لے تو بالکل ممکن ہے کہ آیندہ وہ اسمبلی کی سب سے بڑی قوت بن کر اُبھرے۔
’پاس‘ کے لیے دوسرا بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس کے بارے میں ابھی تک یہ تصور ہے کہ یہ غریب غربا پارٹی ہے یا کسانوں کی پارٹی ہے‘ یا مولوی حضرات کی پارٹی۔ اگرچہ عبدالہادی اوانگ‘ حاجی فاضل نور اور مصطفی علی اور ازمان سید احمد نے پارٹی کو اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ‘روشن خیال‘ کاروبارِ مملکت احسن انداز میں چلا سکنے والی باعمل پارٹی کے طور پر متعارف کرایا ہے‘ تاہم بہت سا کام ابھی باقی ہے۔اس پارٹی کے پاس سیکڑوں
آئی ٹی ماہرین موجود ہیں۔ تعلیم‘ میڈیا اور بنک کاری کے میدان میں ماہرین اور منتظمین کی کھیپ تیار ہو رہی ہے۔ ’پاس‘ کے تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اکثریت سے رابطہ رکھ کر اور اصولوں پر مبنی پالیسیاں اختیار کر کے
عوام الناس کی اکثریت کو ہم نوا بنایا جا سکتا ہے اور کلمۃ اللّٰہ ھی العلیا کی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔
’پاس‘ نے اپنے قائدین کی تحریروں پر مبنی لٹریچر کی وسیع پیمانے پر اشاعت شروع کر رکھی ہے۔ تحریک کے آغاز کے دنوں میں جس جماعت کے پاس ٹائپ رائٹر بھی نہ ہوتا تھا‘ اب اُن کے کروڑوں کے اثاثے ہیں۔ جب سہ روزہ حرکۃ پر پابندی لگی تو انٹرنیٹ کے ذریعے ’پاس‘ کے بارے میں معلومات ہر لمحے فراہم کی جاتی رہیں۔ ’پاس‘ کے باضابطہ ممبران کی تعداد ۴۵ لاکھ ہے اور ہر سطح کے نظم میں خواتین بھی شامل ہیں۔ آیندہ دور میں نہ صرف ملایشیا بلکہ پورے علاقے کی سیاسی صورت حال پر ’پاس‘ فیصلہ کن اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
کادلان پارٹی‘ چائینز پارٹی اور ’پاس‘ نے ایک اتحاد تشکیل دے رکھا ہے اور اُس کا یک نکاتی ایجنڈا reformasi (اصلاحات)ہے۔اس کا مقصدیہ ہے کہ برسرِاقتدار ’امنو‘ پارٹی نظام حکومت میں ایسی اصلاحات کرے کہ سیاسی رواداری پروان چڑھے اور مخالفین کو تشدد کے بعد جیل خانوں میں نہ ڈال دیا جائے۔ علاوہ ازیں ملے اور غیر ملے قومیتیں جو ملایشیا میں موجود ہیں وہ اپنے طریق زندگی کے مطابق زندگی گزاریں‘ لیکن ملایشیا کی اسلامی حیثیت کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ حزب اختلاف کی حکومت ہونے کے سبب ترنگانو صوبے کی گیس اور تیل کی رائلٹی جو کروڑوں ڈالر تک پہنچ رہی ہے روکے رکھنا نہ جمہوریت ہے نہ انصاف!
مہاتیر محمد کے بعد ’امنو‘ کے اندر کوئی ایسا باصلاحیت لیڈر موجود نہیں ہے کہ جو معاشی ترقی کی رفتار اور ملک کے اندر جاری و ساری داخلی جبر کو یکساں برقرار رکھ سکے۔ چند ماہ قبل ’ملے اتحاد‘ کے نام سے برسرِاقتدار پارٹی نے ایک پانسہ پھینکا اور ’پاس‘ کو ہم نوا بنانے کی کوشش کی لیکن ’پاس‘ اس سازش کا شکار نہ ہوئی۔ ’امنو‘ کے وزرا کرام کے سوٹ کیسوں سے بدعنوانی کے کروڑوں ڈالر برآمد ہوئے لیکن مہاتیر نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس صورت حال میں ’امنو‘ کے محفوظ مستقبل کی کون پیش گوئی کر سکتا ہے! ’پاس‘ اپنے کارکنان کی لگن اور پایدار پالیسیوں اور دیگر اقوام ملایشیا کے ساتھ مفاہمت کے رویے کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو چند برسوں بعد ملایشیا ’پاس ‘کے زیر اقتدار ہوگا!