شیریں زادہ خدوخیل


غذا تمام جان داروں کی طرح انسان کی بھی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر غذا صحیح، متوازن اور اچھی ہو تو اس کے اثرات دیگر جان داروں کی طرح انسانی صحت پر بھی اچھے مرتب ہوں گے۔  اس کی نشوونما اچھی اور جسم تندرست و توانا ہوگا۔ وہ امراض و عوارض اور موسم کی سختیوں کو اچھی طرح جھیلے گا لیکن غذا اگر ناقص اور غیرمتوازن ہوگی تو اس کے نتائج بھی اسی طرح ظاہر ہوں گے۔

عام جان داروں اور انسانی غذا میں سب سے اہم اور بنیادی فرق حلال و حرام کا ہے۔  عام جان دار جیسے نباتات، حشرات، حیوانات وغیرہ حلال و حرام کی حدود سے ماورا ہیں لیکن انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اس لیے اچھی اور متوازن غذا کے ساتھ ساتھ اس کا حلال ہونا بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ جس طرح غیرمتوازن اور ناقص غذا کے منفی اثرات انسانی صحت پر پڑتے ہیں، بالکل اسی طرح رزق حرام کے منفی اثرات بھی انسانی روح اور قلب پر پڑتے ہیں۔ اس کی روحانی اور قلبی نورانیت کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ روحانی طور پر کمزور اور بیمار پڑتا ہے۔ اس میں بُرائیوں کے خلاف قوت مدافعت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ جلد غلط کاموں کی طرف راغب ہوجاتا ہے۔ رزق کے اثرات کی وجہ سے انسان ذہنی اور قلبی ابتری کا شکار ہوجاتا ہے۔

رزقِ حلال کی اہمیت و برکات

قرآن حکیم اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رزقِ حلال کی بہت تاکید کی ہے۔   صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین نے لقمۂ حرام سے پرہیز کی یادگار مثالیں رقم کیں ہیں۔ ان کی زندگی قرآن اور حدیث کی عملی تفسیریں تھیں۔ سورئہ بقرہ میں ارشاد خداوندی ہے:

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِیْ الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا (بقرہ ۲:۱۶۸) لوگو! جو چیزیں زمین میں حلال و طیب ہیں وہ کھائو۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:

یٰٓاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ط (المومنون ۲۳:۵۱) اے پیغمبرو ؑ! پاکیزہ چیزیں کھائو اور عملِ نیک کرو۔

کتاب و سنت میں رزقِ حلال اختیار کرنے اور پاکیزہ غذا کھانے پر اس لیے زور دیا گیا ہے کہ غذا کا اثر انسان کے قلب و دماغ پر پڑتا ہے۔ اس کا اثر انسان کے جذبات پر پڑتا ہے۔  اس کا اثر اولاد پرپڑتا ہے۔ اس کا اثر انسان کے اعمال پر پڑتا ہے۔ رزقِ حلال کے طفیل دل میں رقت و لطافت پیدا ہوتی ہے، یا دل وحشت سے لبریز ہوجاتا ہے۔ اس میں شکروصبر اور استغفار کے جذبات پرورش پاتے ہیں۔ ذہن و دماغ میں پاکیزہ خیالات جنم لیتے ہیں، انوار کی بارش محسوس ہوتی ہے لیکن اگر رزق حرام ہوگا تو معاملہ اس کے برعکس ہوگا۔ نور کے بجاے ظلمت دل و دماغ پر چھا جائے گی۔ نیکی اور قبولِ ہدایت کی صلاحیت اور استعداد ختم ہوجائے گی۔ دل اور دماغ پر منفی اثرات غالب آئیں گے۔

اللہ نے اپنے تمام انبیا ؑ کو، اور انبیا ؑکی معرفت ان کی پیرو اُمتوں کو یہ اصولی ہدایت دی کہ: ٰٓیٰٓاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ط (المومنون ۲۳:۵۱) ،یعنی اے میرے رسولو ؑ! پاکیزہ روزیاں کھائو اور عملِ صالح پر کاربند رہو۔ چھے سات الفاظ کا یہ مختصر ارشاد ایسا ہے کہ اُصولی طور پر قریب قریب پورے دین کا منشا اس میں آگیا ہے۔ اگر کوئی شخص رزقِ حلال و طیب کی پابندی کے ساتھ عملِ صالح میں زندگی گزارتا ہے، تو گویا اس نے حسنۂ دنیا کو بھی پالیا اور حسنۂ آخرت کو بھی!اس مختصر سے کلمے میں یہ نمایاں اشارہ موجود ہے کہ پاکیزہ روزی یا حلال رزق کے بغیر اعمالِ حسنہ اور اخلاقِ عالیہ کا ہونا ممکن نہیں، اور اسی طرح اعمالِ حسنہ یا اخلاقِ حسنہ سے جس شخص کی زندگی خالی ہو، یہ تصور ہی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے دامنِ معیشت کو حرام کی آلایشوں سے بچائے گا اور رزقِ حلال کمانے کے لیے غیرمعمولی جُہدومشقت کرے گا۔ حضوؐر نے بروایت عبداللہؓ بن مسعود فرمایا کہ رزقِ حلال کا کسب فرض ہے۔(تحریکی شعور، نعیم صدیقی، ص ۱۶۷)

امام غزالیؒ کیمیاے سعادت میں لکھتے ہیں کہ غذا سے بدن کا گوشت اور خون پیدا ہوتا ہے۔ پس اگر غذا حرام ہو تو اس سے قساوت، یعنی سختی پیدا ہوتی ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ عبادت کے ۱۰ جز ہیں۔ ان میں نو کا تعلق رزقِ حلال سے ہے۔

طبرانی کی روایت ہے کہ ایک دن حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! میرے لیے دُعا کیجیے کہ اللہ مجھے مستجابُ الدعوات بنا دے۔ آپؐ نے فرمایا:   اے سعد! اپنی خوراک کو پاکیزہ کرلو، تمھاری دعائیں قبول ہونے لگیں گی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! بندہ جب ایک لقمہ حرام کا اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اللہ تعالیٰ ۴۰ دن تک اس کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا۔

حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہہ کسی جان کو اس وقت تک موت نہ آئے گی جب تک کہ وہ اپنا رزق پورا نہ کرلے۔ خبردار! اللہ سے ڈرو اوررزق طلب کرنے میں احسن طریقہ اختیار کرو۔ رزق کا دیر میں ملنا تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے رزق طلب کرو، کیوںکہ جو کچھ ہے اللہ کے پاس ہے۔ (مشکوٰۃ)

ہماری بدقسمتی کہ ہم جلد از جلد آگے بڑھنے کی حرص میں مشیت الٰہی کا انتظار نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دل و دماغ کو حرام کا چسکا لگ جاتا ہے اور پھر ہمارا مزاج اس قدر بگڑجاتا ہے کہ وہ حلال غذا قبول ہی نہیں کرتا۔ بالکل اس بیمار کی طرح جو ہاضمے کی خرابی کے باعث اچھی غذا کو ہضم نہیںکرسکتا اور ہم بابِ رحمت خود اپنے ہاتھوں سے اپنے اُوپر بند کرواد یتے ہیں۔

امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص متواتر حلال روزی کھاتا ہے جس میں حرام کی آمیزش نہ ہو، حق تعالیٰ اس کے دل کو پُرنور کردیتا ہے اور حکمت کے چشمے اس کے قلب سے جاری کردیتا ہے۔

ایک بزرگ کا قول ہے کہ ہرچیز کا تقویٰ ہے اور پیٹ کا تقویٰ رزقِ حلال ہے۔ امام غزالیؒ مزید رقم طراز ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کا طعام و لباس حرام ہے اور وہ ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگتے ہیں۔ ایسی دعائیں بھلا کب قبول ہوں گی؟‘‘

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ تو یہاں تک نماز پڑھے کہ پیٹھ ٹیڑھی ہوجائے اور اس قدر روزے رکھے کہ بال کی طرح باریک ہوجائے۔اس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ یہ قبول ہوں گے جب تک حرام سے پرہیز نہ کرے۔اس کی وضاحت میں امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص ۴۰دن تک شبہہ کا مال کھاتا ہے اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور اسے زنگ لگ جاتا ہے۔

حضرت تُستریؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص حرام کھاتا ہے اس کے عضو گناہ میں پڑتے ہیں خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے، جب کہ جو شخص حلال کھاتا ہے اس کے تمام اعضا اطاعت میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسے خیر کی توفیق دیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں نے رزق کے معاملے میں نہایت احتیاط سے کام لیا ہے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حلال کے ۱۰حصوں میں سے ۹ کو اس لیے چھوڑ دیا کہ کہیں حرام میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ (کیمیاے سعادت، ص۲۲۵-۲۲۸)

اسلاف کا طرزِعمل

o حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ایک غلام تھا جو ان کی زمین کا محصول (خراج) وصول کرتا تھا۔ اس نے ایک دفعہ کھانے کی کوئی چیز آپؓ کو دی جس کو آپؓ نے تناول فرمایا۔امام غزالی کے مطابق دودھ ملا شربت پلایا۔ اس کے معاً بعد آپؓکو خیال آیا اور غلام سے پوچھا:کہ یہ کہاں سے ملی تھی؟ غلام نے کہا کہ زمانۂ جاہلیت میں مَیں نے ایک آدمی کے لیے کہانت کہی تھی حالاںکہ کہانت کا مجھے کوئی ڈھنگ بھی نہیں آتا۔ بس اسے بے وقوف بنایا۔اب اس شخص سے میری ملاقات ہوئی تو اس نے یہ چیز مجھے دی تھی جو میں نے آپؓ کو تناول فرمانے کے لیے دی ہے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکرصدیقؓ نے منہ میں انگلی ڈال کر اُبکائی کی اور جو کھایا پیا پیٹ میں تھا، قے کردی۔

یہ روایت حضرت ابوبکر صدیقؓ کی دینی احتیاط، تقویٰ اور رزقِ حلال کے بارے میں انتہائی محتاط رویے کی واضح مثال ہے۔ قے کے باوجود آپؓ نے توبہ و استغفار کی اور دُعا مانگی: اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس قدر شربت کے لیے جو میری رگوں میں رہ گیا ہے۔(ایضاً، ص۲۲۶)

oخلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓکی خدمت میں ایک دفعہ دودھ پیش کیا گیا۔ آپؓ نے دودھ تو پی لیا مگر اس کا ذائقہ کچھ عجیب سا لگا۔ آپؓ فوراً چونک اُٹھے اور پوچھا: یہ دودھ کہاں سے  لیا ہے؟دودھ پیش کرنے والے نے کہا: میں ایک چشمے پر گیا جہاں زکوٰۃ کی اُونٹنیوں کو پانی پلایا جارہا تھا۔ شتربانوں نے ان کا دودھ دوہا اور اس میں سے تھوڑا مجھے بھی دیا جو میں نے آپؓ کی خدمت میں پیش کیا۔ یہ سن کر حضرت عمرفاروقؓ نے فوری طور پر اپنے حلق میں انگلی ڈالی اور اس کو قے کر دیا کیونکہ بیت المال کی اُونٹنیوں کا دودھ آپ اپنے لیے حرام سمجھتے تھے کہ مبادا یہ دودھ   جزوِ بدن بن جائے۔

ہمارے اسلاف کھانے پینے کے معاملے میں ان ہی کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ حضرت مسور بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ ’’تقویٰ اور احتیاط سیکھنے کے لیے ہم لوگ ہروقت حضرت عمرؓ کے ساتھ لگے رہتے تھے۔

o ایک آدمی نے امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا: دل کیسے نرم ہوتا ہے؟ آپؒ نے فرمایا: ’’حلال کھانے سے ‘‘(طبقات الحنابلہ)۔ امام احمد بن حنبلؒ خود بھی کھانے میں بے حد احتیاط فرماتے تھے۔ ایک دفعہ ان کے گھر روٹی تیار ہوئی جس کا خمیر ان کے بیٹے صالح کے گھر سے آیا تھا۔ صالح نہایت متقی پرہیزگار تھے لیکن وہ ایک سال تک اصفہان کے قاضی رہے۔ چونکہ امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک اس وقت اسلامی حکومت اپنے فرائض پوری طرح انجام نہیں دے رہی تھی۔ اس لیے سرکاری عہدوں پر فائز افراد سے کچھ لینا دینا آپؒ کو پسند نہ تھا۔ آپؒ نے وہ روٹی کھانے سے انکار کر دیا۔

آج اگر دعائیں قبول نہیں ہورہیں، اخلاص و یکسوئی کے باوجود عبادات میں ایسا لطف و سُرور محسوس نہیں ہوتا جو یاد الٰہی کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔ معاشرہ ذہنی، روحانی ابتری، اخلاقی تنزل اور بے سکونی کا شکار ہے، تو اس کا ایک بنیادی سبب رزقِ حلال میں محتاط رویہ نہ اپنانا ہے۔ کیونکہ رزقِ حلال سے قلب و روح کو جِلا ملتی ہے۔ آج بھی اگر رزقِ حلال کا اہتمام کیا جائے تو اسی سُرور ولذت سے قلوب آشنا ہوسکتے ہیں جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا    ؎

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

دسمبر کی سرد رات ہے، چاروں طرف گھپ اندھیرا ہے، خاموشی کا راج ہے۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا ہے۔ اس سناٹے میں ہلکی بارش کی آواز مسلسل ایک تواتر سے آرہی ہے جو آج صبح سے شروع ہوچکی ہے جس کی وجہ سے سردی بہت بڑھ گئی ہے اور وقت سے پہلے اندھیرا چھا گیا ہے۔ میری بیوی بچے سرِشام کھانے کے بعد لحاف میں دبک گئے ہیں۔ میں اپنے اسٹڈی روم میں ایک کرسی پر سوچوں میں گم بیٹھا ہوں۔ گیس کا ہیٹر اگرچہ کافی تیز ہے لیکن پھر بھی میں نے اپنے پیروں  اور ٹانگوں پر کمبل ڈال رکھا ہے۔ لیٹنے سے قبل میری بیوی نے گرم چائے کا کپ لاکر میری میز پر رکھا تھا جو اب خالی ہے۔ دراصل میں ایک ذہنی خلجان میں مبتلا ہوں۔ ایک الجھی ہوئی ڈور سلجھانے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن اس کا سرا ہاتھ نہیں آرہا ہے۔ اس الجھی ہوئی ڈور کو سلجھانے میں اب مَیں خود بری طرح اُلجھ چکا ہوں۔ میرا ذہن مائوف ہورہا ہے اور میری عقل ساتھ دینے سے عاجز ہے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے۔

میرے چاروں طرف سیرت النبیؐ پر لکھی گئی کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ میں گذشتہ کئی مہینوں سے سیرت النبیؐ کا تحقیقی مطالعہ کر رہا ہوں۔ سامنے میز پر سیرۃ النبیؐ ابن ہشام کی دوموٹی جلدیں پڑی ہیں جن کا مولانا غلام رسول مہر اور پروفیسر عبدالجلیل صدیقی نے خاصی محنت سے اردو ترجمہ کیا ہے۔ اس کے پہلو میں امام ابن حزم ظاہری کی جوامع السیرۃ پڑی ہے جو مختصر ہونے کے باوجود انتہائی جامع سیرت ہے۔ اس کے اُوپر تاریخ ابن خلدون کی پہلی جلد رکھی ہے جو سیرت النبیؐ پر مبنی ہے۔ طبقات ابن سعد کی پہلی دو جلدیں ہیں۔ اس کے دائیں طرف شبلی نعمانی کی سیرت النبیؐ اور مولانا مودودی کی سیرت سرورِعالمؐ ہے۔ اس کے ساتھ قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری کی رحمۃ للعالمینؐ کی تینوں جلدیں ہیں۔ بائیں طرف نعیم صدیقی کی محسنِ انسانیتؐ چند کتب کے اُوپر رکھی ہے۔ ریک میں نقوش کے رسول نمبر کی جلدیں قطار میں رکھی ہیں۔یہ صرف وہ چند کتابیں ہیں جو اس وقت مجھے نظر آرہی ہیں، قریبی الماریوں میں سیرت النبیؐ پر انتہائی نادر اور نایاب ذخیرہ کتب مقفل ہے، جب کہ کتب حدیث اس کے علاوہ ہیں۔

سیرت النبیؐ کے جملہ پہلوئوں کا احاطہ کرنے والے سیرت نگاروں کی ایک روشن کہکشاں ہے جو لامتناہی ہے لیکن اس روشن کہکشاں میں شامل ناموں پر مجھے کوئی حیرت نہیں، کوئی اچنبھا نہیں، اس لیے کہ یہ سب اہلِ قلم مسلمان تھے۔ ان کا ایک دینی جذبہ تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی محبت تھی،ان کی والہانہ عقیدت کا اظہار تھا جو انھوں نے آپؐ سے کیا۔ کیونکہ آپؐ انسانِ کامل تھے۔ تمام جہانوں کے لیے رُشد و ہدایت کا منبع تھے، آپؐ کی تعلیمات نے زندگی کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑا، اس لیے سیرت النبیؐ کے اتنے پہلوئوں پر اتنی کتابیں لکھی گئیں کہ شاید ہی سیرتِ رسولؐ کا کوئی پہلو تشنہ رہ گیا ہو۔ مسلمان ہونے کے ناتے آپؐ سے محبت و عقیدت ہر ایک کا جزوِ ایمان ہے، مگر مجھے ان لوگوں پر حیرت ہورہی ہے جو مسلمان نہیں لیکن آپؐ کی عظمت کے قائل ہیں۔ آپؐ کو نبیِ برحق تسلیم کرتے ہیں، آپؐ کی تعلیمات کو دنیا و آخرت دونوں کے لیے فلاح کا سبب سمجھتے ہیں۔ انھوں نے بغیر کسی تعصب کے آپؐ کی سیرت کا مطالعہ کیا اور اس کے بعد بے ساختہ آپؐ کی نبوت کی تصدیق کی۔ حیرت ہے کہ باوجود اس اعتراف کے وہ پھر بھی دولتِ ایمان سے محروم رہیں۔ جن غیرمسلم سیرت نگاروں نے سیرت لکھتے ہوئے جھوٹ، تعصب، اتہام اور دشنام سے کام لیا اور جو بے سروپا اور بے پَرکی اُڑانے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں، میں ان لوگوں کی بات نہیں کرتا۔

آپؐ کی عظمت کا اعتراف کرنے والوں میں بڑے بڑے اہلِ قلم کے نام نظر آتے ہیں۔ بڑے نامی گرامی راہب ہیں، سیاست دان ہیں، پنڈت ہیں، فلاسفر ہیں، شاعر اور ادیب ہیں۔   یہ وہ لوگ ہیں جن کی عقل کی، جن کے فہم اور اہلیت و قابلیت کی ایک دنیا معترف ہے، جن کی حقیقت شناسی اور بے تعصبی سب پر عیاں ہے، مگر جب بات ایمان کی آتی ہے تو ان کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ چشمۂ حقیقت تک پہنچنے کے باوجود وہ تشنۂ لب رہ جاتے ہیں جس پر مجھے حیرت کے ساتھ تعجب بھی ہورہا ہے اور میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ میں گذشتہ کئی دنوں سے اسی گتھی کو سلجھانے میں سرگرداں ہوں۔

اس وقت بارش کی آواز کچھ تیز ہوگئی تو مجھے یوں ہی ایک کپکپی آگئی، حالانکہ کمرہ خوب گرم ہے، گیس ہیٹر لگا ہوا ہے، کمبل میرے پیروں پر پڑا ہے۔ سامنے دیوار پر لگے کلاک پر نظر پڑی تو نوبجنے کو تھے۔ آج کھانے کے بعد میں نے عشاء کی نماز گھر پر ہی پڑھ لی تھی کیونکہ محلے کی مسجد تک جانا میرے لیے دشوار تھا، بارش بھی ہو رہی تھی اور سردی بھی خاصی زیادہ تھی۔ مسجد فاصلے پر ہے اورراستے میں کیچڑ ہوتا ہے لیکن شاید میں صحیح نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ ایک طرح کا بہانا ہے کیونکہ اس سے بھی خراب موسم میں محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے عموماً جاتا رہا ہوں۔ دراصل جس چیز نے مجھے مسجد جانے سے روکا تھا وہ کونسٹن ورژیل کی سیرت النبیؐ پر لکھی ہوئی کتاب کے آخری صفحات تھے جو مجھے پڑھنے تھے۔ یہ کتاب عکسِ سیرت کے نام سے سیارہ ڈائجسٹ نے خصوصی نمبر کے طور پر شائع کی تھی جس کا رواں اور خوب صورت ترجمہ خلیل احمد نے کیا ہے۔

کونسٹن ورژیل جورجیو جن کا تعلق رومانیہ سے ہے، اپنے ملک کے وزیرخارجہ بھی رہے___ یہ ان کی بہت مشہور کتاب ہے۔ یہ کتاب انھوں نے خاصی تحقیق کے بعد ہمدردانہ بلکہ عقیدت مندانہ انداز میں لکھی ہے۔ اس کتاب میں وہ اہلِ مغرب سے مخاطب ہیں کہ محمدؐ کو تعصب، بے جا تنقید، نکتہ چینی و عیب جوئی کے بجاے ازسرِنو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ ان کا محققانہ انداز، وسیع مطالعہ سیرت اور طرزِ تحریر اور عقیدت و احترام کو دیکھ کر مجھے حیرت ہورہی ہے۔ میں گذشتہ دوتین دنوں سے اس کتاب میں اس قدر محو ہوں کہ کسی اور طرف بہت مشکل سے متوجہ ہوپاتا ہوں۔ کتاب میں حد سے زیادہ دل چسپی ہی نے شاید مجھے مسجد جانے سے روکا، بارش بہانا بنی اور گھر میں نمازِ عشاء ادا کرنے کے بعد میں پھر سے بیٹھ گیا اور کتاب ختم کرکے ہی دم لیا۔ مگر کتاب ختم کرنے کے بعد میں سوچوں کے سمندر میں اس کشتی کی طرح تھپیڑے کھانے لگا جس کو چاروں طرف سے طوفان نے گھیر لیا ہو۔ مجھے کتاب سے زیادہ کونسٹن ورژیل پر حیرت ہورہی تھی کہ باوجود اس قدر تحقیق، عقیدت اور احترام کے کلمہ طیبہ ان کی زبان پر نہ آسکا۔ میں دیر تک اس کتاب کو تکتا رہا اور پھر اُٹھا کر الماری میں رکھ دی۔

اچانک میری نظر مشہور روسی ناول نگار ٹالسٹائی کے شہرئہ آفاق ناول جنگ اور امن پر پڑی جس کا اُردو ترجمہ شاہد حمیدنے کیا ہے۔ اس ناول کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا  بہترین ناول ہے۔ اگرچہ یہ اچھا خاصا ضخیم ناول ہے اور ہرکسی کے پڑھنے کے بس کا نہیں۔ جنگ اور امن کے علاوہ ان کا دوسرا ناول آنا کارنینا بھی ایک لاجواب شاہکار ہے۔ جنگ آزادی چیچنیا کے پس منظر میں ان کا آخری مختصر ناول حاجی مراد بھی ایک بے مثال ناول ہے جس میں اُنھوں نے امام شامل اور چیچن مجاہدین کی تحریکِ آزادی کی ایک جھلک دکھائی ہے۔

ٹالسٹائی انسانی محبت اور عدم تشدد کا علَم بردار تھا۔ اس نے ایک جاگیردار ہونے کے باوجود اپنی ساری جایداد اور دولت اپنے خاندان اور غریب غربا میں تقسیم کر دی، اور زارشاہی کے استبداد کے سامنے جمہوریت، مساوات اور اخوت کی بات کی۔ زارشاہی کو ناپسند ہونے کے باوجود وہ اس کے خلاف کوئی اقدام نہ اُٹھا سکے، اور روسی کلیسا نے بھی اسے ملحد قرار دیا تھا۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا طرزِعمل اخلاق کا حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ ہم یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تبلیغ و ہدایت خالص سچائی پر مبنی تھی۔ آپؐ نے دنیا میں حقیقی ترقی اور تمدن کی راہیں کھول دیں۔ یہ اتنا عظیم الشان کارنامہ ہے جو اس شخص کے سوا کوئی نہیں کرسکتا جسے خاص قوت دی گئی ہو‘‘۔ اکثر ادبی حلقوں میں ان کو نوبل انعام نہ ملنے پر تعجب کا اظہار ہوتا ہے لیکن میں ان کے کلمہ نہ پڑھنے پر متعجب ہورہا ہوں۔

آنا کارنینا سے نظریں ہٹاکر جب میں الماری بند کرنے لگا تو اچانک میری نظر ٹائن بی کی مشہور تصنیف A Study of History کی ایک جِلد پر پڑی۔ ۱۲ جلدوں پر مشتمل یہ کتاب جس کی مجھے بڑی جستجو ہے، اس کی یہ ایک جلد پرسوں میں نے اتوار بازار میں ایک فٹ پاتھیئے سے خریدی جو پرانی کتابیں بیچ رہا تھا۔ ضروری مرمت کروانے کے بعد میں نے یہ کتاب یہاں رکھی ہے کہ کسی وقت آرام سے بیٹھ کر اس کا مطالعہ کروں گا۔ ٹائن بی دنیاے تاریخ کا ایک انتہائی معتبر نام ہے۔ ہمارے ایک پروفیسر صاحب بڑے فخر سے ہمیں بتایا کرتے تھے کہ ’’ٹائن بی ۱۹۵۷ء اور ۱۹۶۰ء میں دو مرتبہ پاکستان آئے تھے اور دونوں مرتبہ میں ان سے ملا تھا‘‘۔ وہ ان کی مؤرخانہ علمی دیانت کے بڑے معترف تھے اور واقعی ان کی علمی اور ادبی حیثیت میں کسی شک کی گنجایش بھی نہیں۔ انھوںنے موجودہ طبقاتی، نسلی امتیاز اور عالمی سطح پر ناانصافی کے خاتمے کے لیے اسوئہ حسنہ کو مشعلِ راہ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسلام کے ذریعے انسانوں میں رنگ و نسل اور طبقاتی امتیاز کا یکسر خاتمہ کر دیا۔ کسی مذہب نے اس سے بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے مذہب کو نصیب ہوئی۔ آج کی دنیا جس ضرورت کے لیے رو رہی ہے اسے صرف اور صرف مساواتِ محمدیؐ کے نظریے کے ذریعے ہی پورا کیا جاسکتا ہے‘‘۔

ٹائن بی کے ساتھ مجھے ایک اور بڑے مؤرخ ایڈورڈ گبن کا خیال آیا جو سقوطِ سلطنت روما کے مصنف ہیں۔ یہ کتاب ان کے ۲۰سال کی متواتر شب و روز کی مشقت کا ثمر ہے۔ یہ کتاب ۱۷۷۶-۱۷۸۸ء کے دوران چھے جلدوں میں شائع ہوئی اور ابھی تک تاریخ اور ادب دونوں میدانوں میں بلندپایہ تصنیف جانی جاتی ہے۔ اس مشہور تصنیف میں آپ رقم طراز ہیں: ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مذہب شک و ابہام سے بالکل مبرا ہے۔ قرآن خدا کی درخشندہ شہادت ہے… قرآن کی نسبت بحراوقیانوس سے لے کر دریاے گنگا تک سب نے تسلیم کرلیا ہے کہ وہ واضح راستہ ہے، اور ایسے دانش مندانہ اصول اور عظیم الشان قانونی انداز پر مرتب شدہ ہے کہ اس کی نظیر پوری کائنات میں کہیں نہیں مل سکتی۔ قرآن وحدانیت کا سب سے بڑا گواہ ہے۔ ایک توحید پرست فلسفی اگر کوئی مذہب قبول کرسکتا ہے تو وہ مذہب اسلام ہی ہے‘‘۔

فلسفے سے میرا دھیان مشہور فلسفی، ریاضی دان اور انشا پرداز برٹرنڈرسل کی طرف چلا گیا جو جارحیت اور خاص کر جنوب مشرقی ایشیا میں امریکی جارحیت کے خلاف مرتے دم تک نبردآزما رہا، جو مذہب، سرمایہ داری اور کمیونزم تینوں کا مخالف تھا لیکن مذاہب عالم کے مخالف ہونے کے باوجود وہ اعتراف کرتا ہے کہ ’’حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین توازن پر کھڑا ہے۔ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) ایک عظیم الشان اور فقیدالمثال مذہبی رہنما تھے۔ وہ ایک ایسے دین کے بانی تھے جو بُردباری، مساوات اور انصاف کی بنیادوں پر کھڑا ہے‘‘۔

میں رسل کے الفاظ پر غور کر رہا تھا کہ اچانک میری بیگم نے آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا، ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا اندر کو لپکا جس نے کمرے کی حدت کو یکدم کافی کم کر دیا۔ اس نے اگرچہ جلدی سے دروازہ بند کر دیا مگر پھر بھی کمرے میں ٹھنڈک کی ایک لہر گردش کرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں آج کا اخبار اور ایک کتاب تھی۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا:آپ کا کمرہ تو اچھا خاصا گرم ہے، اسی لیے آپ یہاں دبکے بیٹھے ہیں۔ میں لیٹی ہی تھی کہ اچانک خیال آیا کہ آج کا اخبار تو آپ نے دیکھا ہی نہیں، یہ لیں آج کا اخبار اور یہ کتاب سو بڑے لوگ بھی سنبھال لیں۔بڑے لڑکے کے سرہانے گذشتہ دو تین روز سے پڑی تھی کہیں اِدھر اُدھر نہ ہوجائے۔

میں مائیکل ہارٹ کی کتاب اپنی جگہ پر رکھنے لگا۔ پتا نہیں اس کتاب میں کیاہے کہ لوگ آج کل اسے دھڑادھڑ خرید رہے ہیں۔ سو بڑے لوگ میں اول نمبر پر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہے۔ اس کتاب میں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ واحد تاریخی ہستی ہے جو مذہبی اور دنیاوی دونوں محاذوں پر برابر طور پر کامیاب رہی۔ آپؐ کو سو بڑے آدمیوں میں سب سے پہلے نمبر پر رکھنا اس کی مجبوری تھی کیونکہ انسانی تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی شخصیت صرف آپؐ ہی تھے اور یہی اس کی وجۂ جواز ہے۔

کتاب رکھ کر میں واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا اور ایک مرتبہ پھر اپنی سوچوں میں کھو گیا اور جان ڈیون پورٹ کے یہ الفاظ گویا میرے دل کی ترجمانی کر رہے تھے جو انھوں نے اپنی کتاب قرآن اور محمدؐ سے معذرت کے ساتھ میں لکھے ہیں کہ محمدؐ رسول اللہ میں سواے سچائی اور حقانیت کی تعلیم کے جذبہ و جوش کے اور کچھ نہ تھا۔ پھر آخر لوگوں کو یہ یقین کیوں نہیں آتا کہ وہ سچائی اور حقانیت کی تعلیم کے لیے ہی دنیا میں آئے تھے‘‘۔

جان ڈیون پورٹ جس نے مغرب کے متعصب دانش وروں اور پادریوں کی جھوٹی تہمتوں اور ناروا الزامات سے آپؐ کو مبرا قرار دینے کے لیے یہ کتاب لکھی مگر اس کا قلب کیوں اس حقیقت اسلام کو تسلیم نہیں کرسکا؟ اس کا دل اس نورِ ایمان سے کیوں منور نہ ہوسکا؟___ یہ وہ سوالات ہیں جنھوں نے مجھے بے چین کیا ہے۔

میرے ذہن میں مشہور انگریز ادیب اور ڈراما نگار برنارڈشا کے الفاظ گونجنے لگے: ’’آج انسان جس طرح فطرت سے دُور ہورہا ہے وہ ضرور قانونِ فطرت کی طرف رجوع کرے گا، اور اس وقت اس کے لیے پھر کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ اسلام سے رجوع کرے مگر وہ موجودہ زمانے کا اسلام نہ ہوگا، بلکہ وہ اسلام ہوگا جو محمدؐ رسول اللہ کے زمانے میں دلوں، دماغوں اور روحوں میں جاگزیں تھا‘‘۔

میں اپنی سوچوں میں غلطاں تھا کہ میرے تخیل میں گاندھی جی کی تصویر اُبھری۔ نحیف و نزار جسم، ایک لنگوٹی باندھے، عدم تشدد کا پیامبر، برعظیم پاک و ہند کی آزادی کا ناقابلِ فراموش کردار، ناتواں جسم لیکن آہنی حوصلے کا مالک جو کسی سے مرعوب نہیں ہوا، مگر آپؐ کے حضور وہ بھی سر جھکائے پر نام کرتے کھڑے ہوئے کہہ رہے ہیں: ’’بلاشبہہ آپؐ ساری دنیا کے روحانی پیشوا تھے۔ آپؐ ہی کی تعلیمات کو میں سب سے بہتر سمجھتا ہوں۔ کسی روحانی پیشوا نے خدا کی بادشاہت کا ایسا جامع اورمانع پیغام اس کے بندوں تک نہیں پہنچایا جو آپؐ نے آکر پہنچایا ہے‘‘۔

گاندھی جی کے بعد مجھے بدھ دھرم کے پیشواے اعظم مانگ تونگ زرد لباس پہنے کھڑے نظر آئے جو کہہ رہے تھے: ’’حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا ظہور بنی نوع انسان پر خدا کی ایک رحمت تھی۔ لوگ کتنا ہی انکار کریں مگر آپؐ کی اصلاحات عظیمہ سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ ہم بدھ دھرم کے ماننے والے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) سے بے حد محبت رکھتے ہیں۔ آپؐ کا انتہائی احترام کرتے ہیں‘‘۔

ایک بار پھر اپنے خیالات سے پیچھا چھڑانے کے لیے میں نے اپنا سر جھٹک دیا اور اُٹھ کر ادبی اور تنقیدی کتابوں کو اُلٹنے پلٹنے لگا کہ شاید کوئی ناول، کوئی افسانوی یا شعری مجموعہ میری توجہ اپنی طرف مبذول کرلے اور ان خیالات سے میرا پیچھے چھوٹ جائے جو بادل کی طرح میرے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں اورجنھوں نے مجھے جکڑ رکھا ہے۔ میں ادبی اور تنقیدی کتابوں کا جائزہ لے رہا تھا کہ میری نظریں تلوک چند اور ان کے فرزند جگن ناتھ آزاد کی کتابوں پر رُک گئی۔ یہ دونوں اُردو ادب کے بہت بڑے نام ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں باپ بیٹے نے نعتیں کہی اور لکھی ہیں۔ میرے لبوں پر بے اختیار جگن ناتھ آزاد کا ایک نعتیہ شعر آگیا   ؎

مبارک ہو زمانے کو کہ ختم المرسلینؐ آئے
سحاب رحم بن کر رحمت للعالمینؐ آئے

بہت سی کتابوں کے باوجود میرا ہاتھ کسی کتاب کی طرف نہ بڑھ سکا۔ میں واپس آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا اور بے دلی سے اخبار کی سرخیاں ایک بار پھر دیکھنے لگا تو میری نظریں ایک سرخی پر جم کر رہ گئیں۔ یہ ایک امریکی پادری اور چند متعصب صحافیوں کے متعلق خبر تھی جس میں آپؐ اور قرآن کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے گئے تھے۔ مجھے اس پادری اور ان صحافیوں کی ذہنی حالت پر افسوس ہونے لگا جو معلومات عامہ کے بیش بہا خزانے آسانی سے دستیاب ہونے کے باوجود اپنی جہالت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ شاید جرمن فلاسفر جان جاک ولیک نے انھی لوگوں کے لیے کہا تھا کہ: ’’یہ تھوڑی عربی جاننے والے قرآن پاک کا تمسخر اُڑاتے ہیں۔ اگر وہ لوگ خوش نصیبی سے کبھی آنحضرتؐ کی معجز نما قوتِ بیان سے قرآن کریم کی تشریح سنتے تو یقینا یہ لوگ بے ساختہ سجدے میں گر پڑتے اور سب سے پہلی آواز ان کے منہ سے یہ نکلتی کہ ’’پیارے نبیؐ! پیارے رسولؐ! ہمارا ہاتھ پکڑ لیجیے، ہمیں اپنے پیروکاروں میں شامل کر کے عزت اور شرف عطا فرمانے میں دریغ نہ فرمایئے‘‘۔ مگر میرے ذہن میں پھر وہی سوال لوٹ کر آیا کہ اس اعتراف کے باوجود جان ولیک کیوں اللہ تعالیٰ کے حضور میںسربسجود نہ ہوسکا؟

میں نہ جانے اور کتنی دیر تک ان خیالوں میں گم رہتا اگر میری بیوی چائے بناکر نہ لاتی، اس کی آمد سے میری محویت ٹوٹ گئی۔ میں نے اپنی ٹانگوں پر کمبل اچھی طرح پھر سے ٹھیک کیا اور گرم گرم چائے کی چسکیاں لینے لگا جس سے میرے تنے ہوئے اعصاب ذرا سکون محسوس کرنے لگے۔ چائے ختم کرنے کے بعد میرے ہاتھ خود بخود قرآن مجید کی طرف بڑھے جو میری کرسی کے پیچھے انگیٹھی کے کارنس پر رکھا تھا۔ میں ہرصبح نماز کے بعد باقاعدگی سے اس کی تلاوت کرتا ہوں۔ میں اپنے سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے قرآن پاک کی ورق گردانی کرنے لگا۔ اچانک در معنی کھل گیا، میں جس گتھی کے سلجھانے میں سرگرداں تھاس کا سرا ہاتھ آگیا:

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ شِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَھُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ o (یونس ۱۰:۵۷)

اے لوگو! تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کرلیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔

میرے بے قرار دل کو قرار آیا۔ تنائو کی ساری کیفیت ختم ہوگئی۔ میری ساری کلفت دُور ہوگئی۔ ذہن پر چھائی ہوئی دھند چھٹ گئی ۔ میں نے بار بار اس آیت شریفہ کو پڑھا۔

یہ بڑے بڑے عظیم فلاسفر، شاعر، ادیب، مفکر، سائنس دان اگرچہ انتہائی ذہین اور اختراعی ذہن رکھتے تھے مگر ان کے دلوں کو شفا نہ مل سکی، کیونکہ عظمتِ رسولؐ کے اعتراف کے باوجود وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ نہ پڑھ سکے۔ اس لیے کہ انھوں نے رسول اکرمؐ کوقرآن کے بغیر سمجھنے کی کوشش کی۔ انھوں نے رسول اکرمؐ کو دیکھا تو صرف ایک انسان کی حیثیت سے دیکھا۔ انھوں نے آپؐ کے کردار کو جانچا اور پرکھا۔ ابولہب اور ابوجہل سے زیادہ رسولؐ کے کردار سے کون واقف تھا۔ اس نظر سے تو سارے کفارِ مکہ نے آپؐ کو دیکھا، جانچا اور پرکھا تھا۔ اس کے باوجود کہ وہ آپؐ کو صادق پکارتے، الامین کہتے، اپنی امانتیں آپؐ کے سپرد کرتے، آپؐ سے اپنے فیصلے کرواتے تھے۔ آپؐ کے کردار میں ان کو کوئی کلام نہ تھا۔ وہ جس سے گریزاں تھے وہ قرآن تھا، جو شمع نبوت کا نور تھا، جو ایسا مصحف ربانی تھا، جو دلوں کو شفا دینے والا تھا، جو رحمت اور بھلائی کی طرف لانے والا تھا۔ فکر و نظر کی یہی خامی تھی جس کے سبب وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اعتراف کے باوجود محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ نہ پڑھ سکے۔

میں نے قرآن پاک کو چوما اور آنکھوں سے لگایا۔ میرے سوال کا جواب مجھے مل چکا تھا۔ میں سوچ کی دلدل سے نکل آیا، دل طمانیت سے بھر گیا۔ میں نے جاے نماز بچھائی اور شکرانے کے نوافل ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوگیا!


 مضمون نگار، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول، غازی کوٹ ضلع بونیر کے پرنسپل ہیں۔

تاریخِ اسلام میں خلفاے راشدین کے بعد جس خلیفہ کا نام انتہائی عزت و احترام سے   لیا جاتا ہے وہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ہیں جو بنواُمیہ کے ساتویں خلیفہ تھے۔ آپ کی مدت خلافت اگرچہ تین برس سے بھی کم ہے مگر اس مختصر عرصے میں آپؒ نے جو اصلاحات کیں اس سے نہ صرف پورا ملک مستفید ہوا بلکہ بعد میں بھی اس کے نہایت دُوررس نتائج برآمد ہوئے۔ خاص طور پر ملک کی اقتصادی اور معاشی پالیسی آپ نے جس نہج پر بنائی اس کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں۔ آپ نے پہلی بار اُموی خلفا کے برعکس بیت المال کو عوام کی امانت قرار دیا۔ آپ سے قبل جن خلفا     اور حاکموں نے اختیارات کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر لوگوں کی زمینوں اور املاک بزور ظلم و زیادتی قبضہ  کیا ہوا تھا یا سرکاری املاک کو اپنی جاگیریں قرار دیا تھا، آپ نے ان سب کو ضبط کرلیا۔ اکثر اپنے اصل مالکوں کو لوٹا دیں جو باقی بچا اس کو سرکاری املاک قرار دے دیا۔

آپ نے ہر صوبے کی آمدن کو اس صوبے پر خرچ کرنے کی پالیسی بنائی۔ اس کے باوجود اگر رقم بچ جاتی تو وہ دارالخلافہ بھیجی جاتی تھی جہاں اس کو ضرورت کے مطابق خرچ کیا جاتا تھا۔ اس معاشی پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعض صوبے اس قدر آسودہ حال ہوگئے کہ صدقے کی رقم بھی مرکزی بیت المال کو بھیجی جانے لگی، جب کہ مرکز میں اخراجات میں انتہائی احتیاط برتی جاتی تھی۔ بے جا اخراجات پر سخت کنٹرول تھا جس کے سبب اخراجات خصوصاً شاہی اخراجات نہ ہونے کے برابر   رہ گئے۔ اس کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ خود حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے اہل و عیال کے کھانے پینے کا یومیہ خرچہ صرف دو درہم تھا، حالانکہ خلیفہ بننے سے قبل آپ نے انتہائی پُرتعیش زندگی گزاری تھی مگر خلیفہ بننے کے بعد آپ نے سب کچھ ترک کر دیا اور رعایا کی خدمت کو اللہ تعالیٰ کی رضا قرار دیا۔

معاشی اصلاحات کے بعد آپ کا دوسرا سب سے اہم کارنامہ انصاف کی فراہمی تھا۔ انصاف کی فراہمی میں آپ نے کسی کی پروا نہ کی اور نہ کسی کو خاطر میں لائے۔ قانون کی نظر میں سب برابر تھے۔ کسی قسم کا معاشی یا خاندانی مقام و مرتبہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکتا تھا۔ جس کی وجہ سے قانون شکنی کا رجحان ختم ہوا۔ کوئی بھی غیرقانونی کام کرنے سے پہلے ہر شخص کو سو بار سوچنا پڑتا تھا، اس لیے بہت جلد ملک بھر میں محاورتاً نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں انصاف کا بول بالا ہوگیا۔ فراہمی عدل کے سلسلے میں آپ حضرت عمرفاروقؓ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے نقشِ قدم پر چلے اور تاریخ میں اَن مٹ نقوش چھوڑ گئے۔ آپ کے ان ہی اقدامات کی وجہ سے آپ کو  خلفاے راشدین کے بعد پانچویں خلیفۂ راشد قرار دیا جاتا ہے۔

آپ کی اصلاحات مقتدر طبقے کو اور پھر خاص کر شاہی خاندان کے افراد کو بہت ناگوار گزر رہی تھیں۔ وہ اس روک ٹوک کے بھلا کہاں عادی تھے۔ اس لیے پسِ پردہ سازشوں کا تانا بانا بُننے لگے بالآخر آپ کے ایک غلام کو ورغلانے میں کامیاب ہوگئے جس نے آپ کے کھانے میں زہر ملا دیا۔ آپ کا سالِ وفات ۷۲۰ عیسوی ہے۔ یہاں ہم اس عظیم خلیفہ کے دسترخوان کا حال بیان کرتے ہیں جس کا تذکرہ تاریخ کی مختلف کتابوں میں جگہ جگہ ہوا ہے۔

خلافت سے قبل آپ کا طعام بھی آپ کے لباس کی طرح اچھا خاصا پُرتکلف ہوا کرتا تھا مگر خلیفہ بننے کے بعد آپ نے زہد و قناعت اختیار کی۔ تعیشات اور تکلفات کو یک سر موقوف کر دیا۔ کھانا انتہائی سادہ اور ایک سالن پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ کا معمول تھا کہ جب آپ کا کھانا تیار ہوجاتا تو کسی برتن میں ڈھک کر رکھ دیا جاتا۔ جب آپ کو کاروبارِ خلافت سے ذرا فرصت ملتی تو خود ہی اُٹھاکر اسے تناول فرماتے تھے۔

خاندانِ بنی اُمیہ میں مسلمہ بن عبدالملک سب سے زیادہ مال دار، ناز ونعمت کا دل دادہ اور کھانے پینے کے معاملے میں انتہائی فضول خرچ تھا۔ آپ کو جب اس کے کھانے پینے کے بارے میں انتہائی اسراف کا حال معلوم ہوا تو اسے صبح سویرے طلب کیا اور ظہرانے پر مدعو کیا۔ اس کے ساتھ باورچی کو ہدایت کی کہ میرا کھانا حسب ِ معمول ہوگا، جب کہ ظہرانے میں مہمان کا کھانا انتہائی پُرتکلف اور متنوع ہونا چاہیے مگر اسے تاخیر سے پیش کیا جائے۔

مسلمہ بن عبدالملک صبح سے لے کردوپہر تک کاروبارِ خلافت دیکھتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کی بھوک چمک اُٹھی مگر کھانا ابھی تیار نہ تھا۔ تاہم اس دوران حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عمداً اپنا کھانا منگوایا جو صرف مسور کی دال پر مشتمل تھا۔ آپ نے ان سے فرمایا: ’’آپ کے کھانے میں ذرا دیر ہے، تاہم اگر آپ میرے ساتھ شریکِ طعام ہونا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں‘‘۔ چونکہ وہ اس وقت بھوک سے بے تاب تھے اس لیے خلیفہ کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ گئے اور خوب جی بھر کر کھایا۔ اسی وقت آپ کے اشارے پر خدام نے خصوصی کھانا لگایا تو آپ نے مسلمہ بن عبدالملک سے فرمایا کہ آپ کا کھانا تیار ہے، تناول فرمائیں۔ اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں سیر ہوچکا ہوں۔ اب بالکل گنجایش نہیں۔ یہ سن کر آپ مسکرائے اور فرمایا: اے مسلمہ! جب بھوک کے لیے صرف مسور کی دال کافی ہوسکتی ہے تو پھر اس کے لیے اتنا بے جا اسراف اور تکلفات کیوں؟ مسلمہ ذہین اور دانا آدمی تھے، فوراً بات سمجھ گئے اور انھوں نے اپنی اصلاح کرلی۔

ایک مرتبہ آپ کی پھوپھی کچھ نجی مسائل پر آپ سے صلاح مشورے کے لیے تشریف لائیں۔ اس وقت آپ دسترخوان پر بیٹھے رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ پھوپھی نے دیکھا کہ دسترخوان پر چند ایک چھوٹی چھوٹی روٹیاں، کچھ نمک اور ذرا سا زیتون کا تیل رکھا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر اس نے کہا: امیرالمومنین! میں تو اپنی ایک ضرورت کے تحت آپ سے مشورہ لینے آئی تھی، مگر آپ کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ اپنی ضرورت سے قبل مجھے آپ کو ایک مشورہ دینا چاہیے۔ آپ نے کہا: پھوپھی جان! فرمایئے۔ انھوں نے کہا: آپ ذرا نرم اور بہتر کھانا کھایا کریں۔ یہ سن کر آپ نے کہا: یقینا آپ کا فرمانا بجا ہے، مجھے چاہیے کہ میں ایسا ہی کروں، مگر اس کا کیا کیجیے کہ مجھے بیت المال سے سالانہ ۲۰۰ دینار کا وظیفہ ملتا ہے اور اس میں اتنی گنجایش نہیں ہوتی کہ نرم اور بہتر کھانا کھا سکوں، جب کہ پیٹ کی خاطر مقروض ہونا مجھے گوارا نہیں۔

ایک دفعہ زیان بن عبدالعزیز آپ کے پاس آئے۔ کچھ دیر تک بات چیت ہوئی۔ دورانِ گفتگو آپ نے کہا: کل رات مجھ پر بہت گراں گزری۔ رات بھر کروٹیں بدلتا رہا، نیند بھی بہت کم آئی۔ میرا خیال ہے اس کا سبب وہ کھانا تھا جو رات کو میں نے کھایا تھا۔ زیان نے پوچھا: رات کو کیا کھایا تھا؟ آپ نے جواب دیا: مسور کی دال اور پیاز۔ اس پر زیان نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت کچھ دے رکھا ہے مگر آپ نے خود ہی اپنے اُوپر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ اتنی سخت پابندیاں بھی کچھ اچھی نہیں۔ آپ کو اچھا اور عمدہ کھانا لینا چاہیے۔ اس پر آپ نے تاسف بھرے لہجے میں کہا: میں نے تجھے بھائی سمجھ کر اپنا بھید تجھ پر کھولا مگر افسوس کہ میں نے تجھے اپنا خیرخواہ نہیں پایا، آیندہ محتاط رہوں گا۔

ابواسلم کہتے ہیں کہ ایک دن آپ کا ایک مہمان آیا ہوا تھا۔ آپ نے غلام کو کھانا لانے کو کہا۔ غلام کھانا لے آیا جو چند چھوٹی چھوٹی روٹیوں پر مشتمل تھا، جن پر نرم کرنے کے لیے پانی چھڑکا ہوا تھا اور ان کو روغنی بنانے کے لیے نمک اور زیتون کا تیل لگایا گیا تھا۔ رات کو جو کھانا پیش ہوا وہ دال اور کٹی ہوئی پیاز پر مشتمل تھا۔ غلام نے مہمان کو وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اگر امیرالمومنین کے ہاں اس کے علاوہ کوئی اور کھانا ہوتا تو وہ بھی ضرور آپ کی مہمان نوازی کے لیے دسترخوان کی زینت بنتا، مگر آج گھر میں صرف یہی کھانا پکا ہے۔ امیرالمومنین نے بھی اس کھانے سے روزہ افطار فرمایا ہے۔

آپ کا معمول تھا کہ نمازِ عشاء کے بعداپنی صاحب زادیوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور ان کی مزاج پُرسی فرماتے۔ ایک رات جب آپ بیٹی کے پاس تشریف لے گئے تو   صاحب زادی نے منہ پر ہاتھ رکھا اور ذرا فاصلے پر کھڑی ہوگئیں۔ آپ کو تردّد ہوا تو خادمہ نے عرض کیا: حضور بچیوں نے ابھی کھانے میں مسور کی دال اور کچی پیاز کھائی ہے، بچی کو گوارا نہ ہوا کہ آپ کو اس کی بو محسوس ہو۔ یہ سن کر آپ رو پڑے اور فرمایا: بیٹی! تمھیں کیا یہ منظور ہوگا کہ تم انواع و اقسام کے لذیذ اور عمدہ کھانے کھائو اور اس کے بدلے میں تمھارے والد کو دوزخ ملے۔ بیٹی یہ سن کر سسک پڑی اور آپ کے گلے لگ گئی۔

مسلمہ بن عبدالملک کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نمازِ فجر کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز کے خلوت خانے پر حاضر ہوا جہاں کسی اور کو آنے کی اجازت نہ تھی۔ اس وقت ایک لونڈی صیحانی کھجور کا تھال لائی جو آپ کو بہت پسند تھیں اور اسے رغبت سے کھاتے تھے۔ آپ نے دونوںہاتھوں سے کچھ کھجوریں اُٹھائیں اور پوچھا: مسلمہ! اگر کوئی اتنی کھجوریں کھاکر اس پر پانی پی لے تو کیا خیال ہے یہ رات تک اس کے لیے کافی ہوگا؟ میں نے عرض کیا: مجھے صحیح اندازہ نہیں، میں قطعی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ کھجوریں کم تھیں۔ اس پر آپ نے کھجوروں سے اوک بھرا اور پوچھا: اب کیا خیال ہے؟ اب چونکہ مقدار زیادہ تھی اس لیے میں نے کہا: امیرالمومنین! اس سے کچھ کم مقدار بھی کافی ہوسکتی ہے۔

کچھ دیر توقف کے بعد آپ نے کہا: اگر اس قدر کھجوریں کافی ہیں تو پھر انسان اسراف کرکے اپنا پیٹ کیوں نارِ جہنم سے بھرتاہے۔ یہ سن کر میں کانپ اُٹھا اور بعد میں کھانے پینے کے معاملے میں نہایت کفایت شعاری سے کام لینے لگا۔

جب آپ کا وقت وصال آیا توآپ نے اپنے بیٹوں کو طلب کیا اور ان سے فرمایا:     بچّو! میں جا رہا ہوں، میرے پاس کوئی دنیاوی مال و متاع نہیں کہ تم کو دے سکوں لیکن تمھارے   لیے خیرکثیر چھوڑے جا رہا ہوں۔ تم جب کسی مسلمان یا ذمّی کے پاس سے گزرو گے، اپنے لیے عزت و احترام ہی پائوگے۔ وہ تمھارا حق پہچانے گا کہ یہ اس خلیفۂ عادل کی اولاد ہے جس نے اپنی رعایا کو سب کچھ دیا مگر اپنی اولاد کو کچھ لینے نہیں دیا۔ اللہ تمھارا حامی و نگہبان ہو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں رزق دے گا اور خوب دے گا۔

حضرت عبدالرحمن بن قاسم بن محمد ابی بکرؒ فرماتے ہیں: جب حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا انتقال ہوا تو ان کے گیارہ وارث تھے اور ترکہ میں کل ۱۷ دینار تھے۔ پانچ دینار کفن پر خرچ ہوئے، دو دینار میں قبر کے لیے جگہ خریدی گئی، باقی اولاد پر تقسیم ہوئے تو ہر لڑکے کے حصے میں فی کس ۱۹ درہم آئے اور جب ہشام بن عبدالملک کا انتقال ہوا اور اس کا ترکہ اس کی اولاد میں تقسیم ہوا تو ایک ایک بیٹے کے حصے میں دس دس لاکھ دینار آئے۔ بعد میں، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی اولاد میں سے ایک نے جہاد کے لیے ایک دن میں ۱۰۰ گھوڑوں کا عطیہ دیا، جب کہ ہشام بن عبدالملک کی اولاد میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اس قدر تنگ دست ہوچکا تھا کہ لوگ اس بے چارے کو صدقہ و خیرات دیا کرتے تھے۔