مسلم سجاد


عراق میں امریکی اور اتحادی افواج (بلکہ اقوامِ متحدہ کے مرکزی دفتر تک پربھی) حملوں کے ساتھ ساتھ‘ افغانستان سے بھی مختلف علاقوں میں طالبان کی کارروائیوں اور بعض علاقوں پر قبضے کی اطلاعات مسلسل آرہی ہیں۔ عراق کے حوالے سے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان سے بھیجے جانے والے دستوں اور خصوصاً ان کے سربراہ کو اپنی حرام موت کا منظر پہلے سے ہی دیکھ لینا چاہیے لیکن افغانستان کے حوالے سے‘ خود گھرکے ایک بھیدی کے معروضانہ تجزیے سے اخذ کردہ مشاہدات پر ایک نظر شاید بند آنکھوں والوں کی آنکھیں بھی کھول دے۔ ان مشاہدات کی سند کے لیے برطانوی جریدے اکانومسٹ کا نام کافی ہے۔ شمارہ ۱۶ اگست ۲۰۰۳ء کے اس تجزیے کا آغاز عراق سے ہوتا ہے۔ ’’افغانستان‘ عراق پر حملے کی ریہرسل نہیں تھا… یہ غریب ہے‘ اس کے پاس تیل نہیں‘‘ (اس لیے اس تحریر کا آغاز بھی عراق سے کیا گیا ہے!)۔

افغانستان کو تباہ کرنے اور فتح کرنے کے بعد اصل کام تعمیرنو کا تھا۔ لیکن تعمیرنو تو دُور کی بات ہے‘ اصل مسئلہ تو امن و امان برقرار رکھنا اور کرزئی حکومت کے لیے اپنا حکم نافذ کرنا ہوگیا ہے (طالبان کے دور میں سب کچھ ٹھیک تھا۔ لیکن دنیا کو کیڑے ہی کیڑے نظر آتے تھے۔اب کس حال کو پہنچا دیا گیا ہے؟)۔

امریکہ کی قیادت میں ۱۲ ہزار اتحادی افواج کے ساتھ نیٹو کے زیراہتمام ترکی‘ جرمنی‘ برطانیہ اور ہالینڈ کی ۵ ہزار امن فوج (ISAF) اپنے فرائض ادا کر رہی ہے لیکن قیمت بھی ادا کررہی ہے۔ جون میں چار جرمن فوجی ایک حملے میں ہلاک ہوگئے‘ اسپین کا امن دستہ گھر واپس لے جانے والا جہاز گرگیا اور ۷۵ ہلاک ہوگئے (قیمت غالباً اس سے بہت زیادہ ادا کی جا رہی ہے)۔ لیکن جہاں امن کی اصل ضرورت ہے‘ یعنی کابل سے باہر‘ وہاں جانے میں امن دستوں نے ابھی کوئی دل چسپی ظاہر نہیں کی ہے۔ تعمیرنو کی چند صوبائی ٹیمیں (PRTS) بنائی گئی ہیں لیکن مزارشریف میں ۷۲ افراد کی ایک ٹیم کے سپرد اسکاٹ لینڈ کے برابر علاقہ ہے۔ اس سے ان کی ممکنہ کارکردگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

امریکی افواج جنوبی افغانستان کو مستحکم کرنے کے لیے بڑی محنت کر رہی ہیں۔ اسامہ بن لادن اور ملا عمرکا کوئی پتا نہیں‘ لیکن جنوب کا علاقہ کم نہیں‘ زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ بڑی بڑی کارروائیوں کے نتیجے میں چند افراد ہاتھ آتے ہیں جنھیں دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ عام دیہاتی بھی ہو سکتے ہیں (یہ ا کانومسٹ کے الفاظ ہیں)۔ انھیں تفتیش کے لیے بگرام کے ہوائی اڈے لے جایا جاتا ہے۔ وہاں کئی افراد مرچکے ہیں۔ اس سب پر امریکہ ۱۰ ارب ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ افغانستان بچے گا یا نہیں‘ یا کولمبیا کی طرح کا ملک ہو جائے گا؟

پُرامید لوگ کہتے ہیں: افغانستان گذشتہ ۲۴ سال میں اتنا مستحکم کبھی نہ تھا۔ دہشت گردی کے تربیتی کیمپ ختم کیے جا چکے ہیں۔ قومی حکومت کی بنیاد پڑ چکی ہے‘ دستور مرتب کیا جا رہا ہے‘ آیندہ سال خواتین کے ووٹ کے ساتھ انتخابات متوقع ہیں۔ معاشی ترقی ۲۸ فی صد رہی۔ ۲۰لاکھ مہاجرین جرمن واپس آئے ہیں۔

ناامید لوگ --- جو اپنے کو حقیقت پسند تصور کرتے ہیں --- کہتے ہیں: ایک تہائی ملک خطرناک علاقہ ہے جہاں امدادی کارکنان تک نہیں جاتے۔ کوئٹہ اور دوسرے شہروں میں طالبان لیڈر کھلے عام اسلحہ تقسیم کرتے ہیں۔ پاکستان خود اپنے پڑوسی کو غیرمستحکم کر رہا ہے۔ کئی دفعہ فائرنگ کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ تعمیرنو کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے‘ لیکن ہوا کچھ بھی نہیں ہے۔ بڑی سڑکوں کی تعمیر کا کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہوا ہے۔ کابل قندھار شاہراہ جس کے لیے صدربش نے ذاتی طور پر‘ اختتامِ سال کا ہدف دیا ہے‘ انجینیرسرگوشی کرتے ہیں کہ پپڑی جما کر بنائی جا رہی ہے جو دو تین سردیاں بھی برداشت نہ کر سکے گی۔

امریکہ کا آدمی ("boy") کرزئی تنہا اور بے اثر ہے۔ اصل طاقت صوبوں کے وارلارڈز کے پاس ہے۔ دستور میں الٹ پھیر ہو جائے گا۔ انتخابات ملتوی ہو جائیں گے۔ عورتیں بے اثر رہیں گی۔ معیشت میں ضرور بہتری ہوئی ہے لیکن صفر سے آغاز ہو تو ذرا سی بھی نظرآتی ہے۔اس وقت یہ ۱۹۷۸ء سے نصف ہے۔ یہ کہنا کہ کوئی انسانی المیہ نہیں ہے‘ حقیقت کو نظرانداز کرنا ہے۔ اکثریت کو طبی سہولت میسر نہیں۔ زچہ و بچہ کی ہلاکت کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ یہاں ہے۔ ہیضہ اور وبائی امراض بڑھ رہے ہیں۔ جس ساڑھے ۴ ارب ڈالر امداد کا وعدہ تھا‘ اس میں سے صرف ایک ارب ڈالر ملی ہے۔ اس کا بھی بیش تر حصہ تنخواہوں اور غیرملکیوں کی چمکتی دمکتی کاروں میں چلا جاتا ہے۔

ان نکات پر نہ ختم ہونے والی بحث جاری رکھی جا سکتی ہے اور کابل میں بیش تر لوگ یہی کرتے ہیں۔ لیکن دستور اور معیشت کیسے بھی ہوں‘ دو عناصر ایسے ہیں جو سب کچھ تباہ کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے پانی کا مسئلہ ہے۔ ۸۰ فی صد افغان کاشت کاری پر زندگی گزارتے ہیں لیکن افغانستان میں پانی اور قابلِ کاشت زمین نہیں ہے۔ ۷۰ کے عشرے میں صرف ۵ فی صد زمین کو پانی نصیب تھا۔ جنگ نے اسے نصف کر دیا۔ پھر سات سال کا خشک سالی کا دور آیا۔ پانی کی سطح بے حد نیچی ہوچکی ہے۔ مویشی مرگئے ہیں۔ فصل ہے ہی نہیں۔ پہاڑوں میں پانی کے ذخائر بنانا اورآب پاشی کا نظام تعمیر کرنا بہت مہنگے منصوبے ہیں۔

دوسرا مسئلہ منشیات کا ہے۔ دنیا کی تین چوتھائی اور یورپ کی ساری افیون افغانستان سے آتی ہے۔ پشتون گلہ بان اب اس تجارت میں مصروف ہوگئے ہیں۔ پریشانی یہ ہے کہ منشیات‘ خشک سالی اور عدمِ استحکام ایک دوسرے کو پروش کرتے ہیں۔ افیون پیدا کرنے والے پانچ میں سے تین بڑے صوبے--- ہلمند‘ ارزگان‘ قندھار‘ زیادہ غیرمستحکم اور خشک سالی کا شکار ہیں۔

صرف ایک صوبے غور کی مثال لیں۔ یہ کابل سے چار گھنٹے کی مسافت پر ہے‘ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر۔ غور کے ۳ ہزار ملائوں میں سے بیش تر اَن پڑھ ہیں۔ یہاں صرف پانچ ڈاکٹر ہیں۔ ساڑھے ۷لاکھ آبادی ‘ بیش تر نئے واپس آنے والے مہاجرین پر مشتمل ہے۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ مویشی مرچکے ہیں یا بیچے جا چکے ہیں۔ ہر شخص مقروض ہے۔ لوگوں نے اپنی بیٹیاں تک فروخت کی ہیں۔ کچھ نے افیون کاشت کی ہے لیکن برف باری نے فصل تباہ کر دی۔ اب اگلی فصل کا انتظار ہے اور قرض بڑھ رہا ہے۔

پورے صوبے میں صرف ۵۰ عورتیں لکھ پڑھ سکتی ہیں۔ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں اب بھی مشکلات ہیں۔ قرض کی ادایگی‘ منافع یا قتل کے جھگڑوں کے تصفیے میں لڑکیوں کا مالِ منقولہ کی طرح لین دین کیا جاتا ہے۔

اس وقت افغانستان کی ایک تہائی معیشت افیون پر منحصرہے۔ گذشتہ سال ایک ارب ۲۰کروڑ ڈالر اس سے ملے۔ جب یہ ایڈنبرا اور پراگ میں گلوکوز اور اینٹ کے برادے سے مل کر رگوں میں داخل کی جاتی ہے‘ اس کی قیمت ۲۵ ارب ڈالر ہوچکی ہوتی ہے۔ افیون کی کاشت کو اب باقاعدہ حیثیت حاصل ہوگئی ہے (کون یاد دلائے کہ ملاعمر نے طالبان کے دور میں اسے ختم کر دیا تھا)۔ جمہوریت بھی انھی نودولتیے کمانڈروں کا ہتھیار ہے جن کے پاس افیون کی رقم ہے۔ وہ ابھی سے اگلے سال کے انتخابات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ ہم اس نقد رقم کا مقابلہ کس طرح کریں جو ان لوگوں کے پاس ہے۔

اکانومسٹ آخر میں لکھتا ہے کہ ’’جنھوں نے افغانستان کی تباہی میں حصہ لیا‘ ان کی کچھ ذمہ داری ہے کہ اسے واپس ٹھیک کر دیں‘‘۔

کاش! ہم اپنے گریبان میں جھانکیں۔

کسی دن کا‘کسی شہر کا اخبار اٹھا کر دیکھ لیں‘ معمولی معمولی باتوں پر قتل کے متعدد واقعات نظر پڑتے ہیں۔ اگر سب خبریں ایک جگہ جمع کر دی جائیں تو نہایت ہولناک تصویر سامنے آتی ہے۔ پاکستانی کمیشن براے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی)کے رسالے  جہد حق میں واقعات اور ان کے نمایندوں کی جو رپورٹیں ہر ماہ درج ہوتی ہیں‘ ان سے معاشرے کی ایسی تصویر سامنے آتی ہے کہ انسان شرمندگی محسوس کرتا ہے کہ وہ ایسے معاشرے کا شہری ہے۔    مئی ۲۰۰۳ء کے شمارے میں ۲۵ مارچ سے ۲۵ اپریل تک ۱۳۴ افراد کی خودکشی (یہ بھی قتل ہی کی ایک قسم ہے)‘ ۷۸ افراد کے اقدام خودکشی اور ۱۸ افراد کے کاروکاری پر قتل کی اطلاعات ہیں۔ یہ صرف ایک ماہ کے یقینا نامکمل اعداد و شمار ہیں۔ حال ہی میں امریکی رسالے ٹائم نے کراچی پر اپنے فیچر میں کسی پیشہ ور قاتل ایم آر کے اپنے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ صاحب ہاتھوں سے گردن توڑ کر قتل کے ماہر ہیں اور فی قتل ۵۰ ہزار سے ایک لاکھ لیتے ہیں اور بڑی شخصیات کا ریٹ ۱۰ لاکھ تک چلا جاتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اب میں یہ کام دوسرے لڑکوں کو sub contract کرتا ہوں اور ان سب کو مہینے دومہینے میں ایک "job" تو فراہم کرنا ہی ہوتا ہے (ٹائم‘ ۱۶ جون ۲۰۰۳ئ‘ ص ۲۹)۔ کراچی میں گذشتہ سال ۵۵۵ قتل ہوئے۔

یہ ہمارا معاشرہ ہے‘ مسلمانوں کا معاشرہ۔ اور صدی بھی اکیسویں ہے۔ ذرائع تفتیش کی ٹکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ کسی قاتل کا چھپنا محال ہے۔ لیکن قاتلوں کو چھپنے کی کیا ضرورت ہے‘ وہ آزادانہ پھرتے ہیں۔ ٹائم کی اس رپورٹ کے مطابق ایک قاتل صاحب کے اپنے بیان کے مطابق تھانے میں ان سے وی وی آئی پی سلوک ہوتا ہے۔

حکومت تو نام ہی جان‘ مال‘ آبرو کے تحفظ کا ہے (ہم فی الحال آبرو اور مال کی صورت حال پر بات نہیں کر رہے)۔ مسلمان کی جان تو اس طرح مقدس و محترم ہے جس طرح ذی الحجہ کا مہینہ‘ مکہ مکرمہ کاشہر‘ اور خانہ کعبہ کی عمارت۔ پھر یہ اتنی غیرمقدس‘ غیر محترم اور اتنی ارزاں کیوں ہوگئی ہے کہ دکاندار اور گاہک کے جھگڑے میں‘ دو دوستوں کی چپقلش میں‘ میاں بیوی کی لڑائی میں معمولی اشتعال پر‘ گواہیوں سے روکنے کے لیے‘اور نسل در نسل محض جذبۂ انتقام کی تسکین کے لیے بے تکلف لی جا رہی ہے۔

ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہماری ایمانی حس کمزور ہوگئی ہے۔ جسے آخرت پر یقین ہو وہ کسی بے گناہ کی جان کیسے لے سکتا ہے۔ جس کے کان میں اذان دی گئی ہو‘ جسے کلمہ پڑھایا گیا ہو‘ قرآن پڑھنا سکھایا گیا ہو‘ نماز کی تعلیم دی گئی ہو‘ خدا اور رسولؐ کے احکامات بتائے گئے ہوں‘ وہ مسلمانوں کا نام رکھتا ہو‘ وہ کس طرح دوسرے کی جان لینے کا اقدام کر سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ بنیادی تعلیم صرف اسکولوں میں ہی نہیں‘ جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہر خواندہ و ناخواندہ تک اس طرح پہنچائی جائے کہ ہر شہری‘ خصوصاً وہ طبقات اور لوگ جو مجرم و قاتل بننے کے زیادہ امکانات رکھتے ہیں‘ اس کا اثر لیں اور ان کی سوچ ایک خوف خدا رکھنے والے مسلمان کی سوچ بن جائے۔

اس کے باوجود بھی‘ شیطان کسی کو جرم کی راہ پر لگا سکتا ہے۔ معاشرے میں اجتماعی نظم اور حکومت جیسے ادارے اسی لیے قائم کیے جاتے ہیں کہ مجرم کو سزا ایک نظامِ قانون و عدل کے تحت دی جائے۔ ہمارے معاشرے میں یہ نظام ٹوٹ چکا ہے۔ حکومتی منصب رکھنے والے اور بااثر افراد قاتلوں کے سرپرست‘ پشتیبان اور ساتھی ہیں۔ عدالتی نظام بے اثر ہے۔ فریاد کی شنوائی نہیں۔عام تاثر ہے‘ غلط یا صحیح‘ کہ پولیس مجرموں کی پرورش کرتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ تھانے ختم کر دیں‘ جرائم ختم ہو جائیں گے۔ جس علاقے میں نیا تھانہ قائم ہوتا ہے جرم کی فراوانی کا باعث بنتا ہے۔

حکومت کا فرض ہے کہ وہ صورتِ حال کی اصلاح کرے۔ جو حکومت اپنے شہریوں کو جان و مال اور آبرو کا تحفظ نہ دے سکے‘ اس کا جواز ہی ختم ہوجاتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے مانٹیرنگ سیل قائم کر کے ‘ اشتہارات عام کے ذریعے دعوت دی ہے کہ پولیس اور قبضہ گروپوں کے خلاف شکایات لائی جائیں۔ یہ درست اقدام ہے۔لیکن یہ جب ہی موثر ہوگا کہ غلط کار کے خلاف کارروائی کی جائے‘ اور اس کارروائی کو خوب مشتہرکیا جائے کہ دوسروں کو کان ہوں۔ اس حوالے سے ہماری تجویز ہے کہ یہی مانٹیرنگ سیل ‘ یا اس طرح کا کوئی خصوصی شعبہ اخباری خبروںمیں سے قتل‘ عصمت دری اور ڈاکوں کی بعض واضح اور نمایاں خبروں کا انتخاب کرکے‘ موقع پر جاکر تحقیقات کرے۔ جرم ثابت ہو… اکثر سچائی چھپی نہیں رہتی--- تو موقع پر سزا ہو۔ جو غلط ہو تو اخبار کو تنبیہ کی جائے‘ جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ اس طرح اخبارات میں جھوٹی اور بلیک میلنگ کے لیے شائع کی جانے والی خبروں کا سدباب ہوگا اور معاشرے کی حقیقی تصویر ہی سامنے آئے گی۔

اخبارات جرائم کی خبروں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن سزا کی خبریں خال خال بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ اسلامی تصور میں تو سزا کا مظاہرہ عام ہے ہی اسی لیے کہ عبرت ہو اور مجرم ذہن کی حوصلہ شکنی ہو۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارا نظام مجرموں کی نہ صرف پرورش کرتا ہے بلکہ انھیں معزز بناتاہے۔

معاشرے کے وہ افراد جو دوسروں پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں‘ اور معاشرے کے قائد  کہے جاسکتے ہیں--- علما‘ ائمہ مساجد‘ برادریوں اورانجمنوں کے ذمہ دار‘ سیاسی جماعتوں کے عہدے دار --- ان سب کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنا چاہیے کہ عوام میں جان کے تقدس کے احساس کو عام کریں اور ایک ایسی مضبوط راے عامہ تیار کریں جو شہریوں کا تحفظ کرے اور حکومت کو بھی راہِ راست پر رکھے۔کسی سے ناراضی ہو‘ کسی سے حق لینا ہو‘ کسی نے ظلم کیا ہو‘ اس کے جواب میں جان لینا کسی طرح روا نہیں‘ یہ خود ایک نیا ظلم ہے۔ جان صرف وہی لی جا سکتی ہے جس کا اللہ نے حق دیا ہو: الا بالحق (یعنی قتل کے بدلے قصاص میں‘ زنا کے جرم میں‘ اور مرتد ہونے پر) اور وہ بھی قانون اور انصاف کے نظام کے تحت‘ محض اپنے من پسند طریقے سے نہیں۔ اس سلسلے میں شہریوں کی ایسی کمیٹیوں کا قیام بھی مفید ہوسکتا ہے جو نظام انصاف کی مددگار و معاون ہوں اور سرکار کی گرفت سے آزاد بھی ہوں۔

جب تک مجرم کو تحفظ حاصل ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ سزا سے بچ سکتا ہے‘ جرائم میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ حکومت‘ راے عامہ کے قائدین اور عوام کو مل کر ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنا چاہیے جس میں مجرم کو یقین ہو کہ کسی کو قتل کرکے‘ وہ بھاگ نہیں سکتا۔ اگر کسی کے اندر کا خوف خدا اسے قتل سے باز نہیں رکھ سکتا تو معاشرے کی گرفت کا یقین اسے باز رکھے گا‘ یا پھر وہ سزا پائے گا جو دوسروں کے لیے عبرت کا سامان ہوگی۔

عراق پر متوقع امریکی حملے کے خلاف مغربی دنیا میں لاکھوں افراد کے مظاہرے ہوئے تو ایک عام تاثر یہ بھی تھا کہ مسلمان‘ جن کو دراصل تباہی کا سامنا ہے اپنے ممالک میں خاموش ہیں۔ رابرٹ فسک جیسے نامہ نگار نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ تباہی سامنے دیکھ کر عرب چوہوں کی طرح ہوگئے ہیں۔ (دی انڈی پنڈنٹ‘ لندن‘ ۱۸فروری ۲۰۰۳ئ)۔ کریسنٹ انٹرنیشنل میں قاہرہ کے ایک نامہ نگار نے لکھا کہ رابرٹ فسک کو‘ جو عربوں کا ہمدرد شمار ہوتا ہے‘ حالات کا بہتر علم ہونا چاہیے تھا۔ایسا نہیں ہے کہ مظاہرے نہیں ہوئے‘ لیکن اگر وہ اس پیمانے پر نہیں ہوئے جس پر مغربی ممالک میں ہوئے تو اس کی وجوہات صاف اور ظاہر ہیں۔

۱۵ فروری ۲۰۰۳ء کو قاہرہ میں دو مظاہرے ہوئے ۔ بڑا مظاہرہ جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی سیدہ زینب چوک میں دوپہر کے وقت ہوا۔ عراقی اور فلسطینی جھنڈوں کے ساتھ امریکہ مخالف پلے کارڈ بھی تھے اور نعرے بھی لگائے گئے جن میں کوئی کوئی حسنی مبارک کے خلاف بالواسطہ بھی ہوتا تھا۔ مظاہرے کو کئی ہزار نفری پر مشتمل پولیس کے مسلح دستوں نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ چوک کے قریب کی سڑکوں پر فوجی دستے درجنوں گاڑیوں میں موجود تھے۔ ان سب کے درمیان مظاہرہ مشکل ہی سے دیکھا جا سکتا تھا۔ گزرنے والے بجائے شریک ہونے کے یہ حالات دیکھ کر دُور ہی دُور سے گزرنے میں خیریت سمجھتے تھے۔ دوسرا نسبتاً چھوٹا مظاہرہ امریکی سفارت خانے کے سامنے معطل لیبرپارٹی نے کیا جسے معتدل اسلامی آواز کہا جاتا ہے۔ اس میں پہلے سے بھی زیادہ پولیس اور فوج موجود تھی جس نے علاقے کو کئی گھنٹوں تک محاصرے میں لیے رکھا۔ امریکی سفیر ڈیوڈ ویلچ نے کچھ دیر کے لیے باہرآکر مظاہرہ دیکھا۔

کم شرکت کی وجہ صرف یہی نہیں تھی کہ موقع پر اتنی پولیس اور فوج تھی۔ مغربی ممالک کی حکومتیں مخالفانہ مظاہروں کا دبائو برداشت کر سکتی ہیں لیکن مصر جیسے ملک میں ۱۹۸۱ء میں انورالسادات کے قتل کے بعد سے ہنگامی قانون نافذ ہے اور سڑکوں پر کسی بھی طرح کے مظاہروں پر پابندی ہے۔ ہنگامی قانون کے تحت کسی کو بھی کوئی وجہ بتائے بغیرگرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت بھی اسلامی تحریکوں سے وابستہ ۳۰ ہزار افراد جیلوں میں بند ہیں۔ بہت سے کئی برس گزار چکے ہیں۔

گذشتہ دو ماہ میں عراق سے یک جہتی ‘ اور جنگ کے خلاف سرگرمیوں کی بنا پر ۱۵ افراد جن میں کئی صحافی ہیں گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے چار نمایاں افراد جن کی گرفتاری مسئلہ بن سکتی تھی‘ رہا کر دیے گئے ہیں۔ ۱۷ فروری کو پریس سنڈیکیٹ کی فریڈم کمیٹی نے گرفتارشدگان کی حمایت میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس میں اخبار العالم الیوم کے صحافی ابراہیم السحر نے بھی خطاب کیا جو چند گھنٹے قبل ہی رہا کیے گئے تھے۔

ابراہیم السحرنے پریس کانفرنس میں اپنے اوپر گزری ہوئی پوری تفصیل بتائی۔ صبح سویرے گھرسے گرفتاری‘ گھر کی مکمل تلاشی‘ سیکورٹی ہیڈکوارٹر جانا اور پھر جیل مازارات لے جایا جانا---- بغیر کسی قانونی امداد کے موقع یا اہل و عیال سے ملاقات کے--- انھوں نے خاص طور پر ان غیرانسانی حالات کا ذکر کیا جن سے جیل میں اسلام پسند گزر رہے ہیں۔ ہفت روزہ الاہرام (۲۰-۲۶ فروری ۲۰۰۳ئ) کے مطابق انھوں نے کہا:’’میرے ساتھ جو کچھ ہوا‘ وہ توکچھ بھی نہیں ۔ مجھے مارا پیٹا گیا‘ گالیاں دی گئیں‘ تذلیل کی گئی۔ یہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھا جو اسلام پسندوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں گرفتار ہونے والوں کو سلام کرتا ہوں۔ اس لیے کہ وہ عراق کے خلاف جنگ اور امریکی سامراج کے خلاف کھڑے ہوگئے‘ لیکن اس سے بھی بڑھ کر ۳۰ ہزار اسلام پسندوں کو سلام کرتا ہوں۔ جنھوں نے مجھے گرفتار کیا‘ میرے ساتھ اچھائی کی   اس لیے کہ اس طرح مجھے معلوم ہوا کہ اسلام پسند قیدیوں کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے۔ مجھے یہ  ہولناک تفصیلات پہلے معلوم نہ تھیں‘‘۔

عالمی مظاہروں کی خبریں آنے کے بعد سے قاہرہ اور دوسرے شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ قاہرہ میں الازہر یونی ورسٹی‘ اسمعیلیہ میںسویز کنال یونی ورسٹی اور بنی سعد (بالائی مصر) میں قاہرہ یونی ورسٹی کی شاخ میں ہزاروں طلبہ نے ۱۸ فروری کو مظاہرہ کیا لیکن انھیں سڑکوں پر نہیں آنے دیا گیا۔ قاہرہ یونی ورسٹی کے کیمپس میں ۲۲ فروری کو ایک بڑا مظاہرہ ہوا۔

اس طرح کے جبرواستبداد کے حالات میں‘ اس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ عرب ممالک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیوں نہیں ہو رہے۔ مغرب کی حکومتیں مستحکم ہیں‘ جب کہ عرب حکمران اپنے کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ مغرب اس پر خوش ہے کہ یہ حکومتیں مظاہروں پر پابندیاں رکھیں‘ اس خوف سے کہ کہیں یہ حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل نہ ہو جائیں۔ (ماخوذ: کریسنٹ انٹرنیشنل‘ کینیڈا‘ ۱-۱۵ مارچ ۲۰۰۳ئ)

جماعت اسلامی پاکستان ملک و ملت کی خیرخواہ تمام قوتوں کو ساتھ لے کر ۲۰ سے ۳۰مارچ ۲۰۰۳ء تک اتحاد اُمت کا عشرہ منا رہی ہے۔ یہ دراصل اس امر کی کوشش ہے کہ خیبر سے کراچی اور گوادر تک بسنے والے پاکستانیوں میں یہ شعور بیدار کیا جائے اور اس احساس کو طاقت ور بنایا جائے کہ ہر مسلمان اُمت محمدؐ کا ایک رکن ہے۔ اُمت کی طاقت اس سے ہے اور اس کی طاقت اُمت سے ہے۔

اتحاد اُمت کی دو سطحیں ہیں اور دونوں ہی اہم ہیں۔ پہلی‘ پاکستان کی سطح پر اور دوسری‘ عالمی سطح پر۔

پاکستان کی سطح پر اگر اُمت کا تصور ایک زندہ تصور ہو‘ اتحاد کا رشتہ اُمت ہو‘ معاشرے کی تنظیم اور سرگرمیاں اُمت کی بنیاد پر ہوں تو یہ ہمارے بہت سے مسائل کا حل ہے۔ صوبائیت اور علاقائیت کے لیے تریاق ہے۔ فرقہ پرستی جو مسائل پیدا کرتی ہے ان کا حل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُمت کا تصور ایک ایسا حیات بخش اور قوت افزا تصور ہے جس کی برکتوں کا احاطہ اسے عملاًاپنانے سے ہی ہوگا۔ یہ صرف ایک نعرہ نہیں جسے کسی وقتی سیاسی ضرورت کے لیے اختیار کیا جائے‘ بلکہ    یہ اُمت مسلمہ کی بنیاد ہے۔ جس کو اقبال نے اس اُمت کی خصوصیت اور شناخت قرار دیا تھا اور اسے اس الہامی انداز میں بیان کیا تھا کہ ’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ؐہاشمی‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ   اس تصور کے اصل ثمرات اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب اس تصور کو خلوص اور ایقان سے اختیار کیا جائے اور اسے ایک طویل المیعاد پالیسی بنایا جائے۔ جب اتحادِ اُمت کی بنیاد تصورِ اُمت ہوگا تو لامحالہ جو اخلاقی معائب ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہے ہیں ان کا علاج ہوگا اور ملک میں اسلام کی تہذیبی اقدار کو فروغ حاصل ہوگا۔ اُمت کا تصور فرزندان اور دختران اُمت میں بجا طور پر احساس فخر پیدا کرے گا جو مفرب سے مرعوبیت اور اس کی نقالی کا توڑ ہوگا۔

عالمی سطح پر اتحاد اُمت کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ ۶۰‘ ۷۰ کے عشروں میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ متعین تجاویز پیش کرتے رہے کہ اتحاد اُمت کے لیے ٹھوس منصوبوں پر کام کیا جائے۔ اگر ان پر عمل کیا جاتا تو شاید اُمت مسلمہ آج عالمی استعمار کی سازشوں کے لیے نرم چارہ نہ بنتی۔ اب‘ جب کہ دشمن دروازے پر دستک دے رہا ہے بلکہ سر پر آیا ہوا ہے اگر اس وقت بھی بیداری کی ایک عام لہر اُمت کی بنیاد پر نظر آجائے تو یقینا دشمن کے لیے اپنے عزائم کی تکمیل ممکن نہ ہو۔

ذکر ہوتا رہتا ہے کہ وسائل کے لحاظ سے اُمت مسلمہ کو اللہ تعالیٰ نے مالا مال کیا ہے۔  محل وقوع ایسا ہے کہ دنیا پر حکمرانی کرسکتے ہیں۔ لیکن بدنصیبی یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایک اُمت سے وابستگی کا احساس کمزور ہے۔ ہماری حکومت کو افغانستان کی تباہی کے لیے کندھے فراہم کرنے میں کوئی تکلف نہ ہوا (اور جانتے بوجھتے اس غلط فہمی کو پھیلایا کہ ہم نے اپنے آپ کو بچالیا ہے)۔ آج جب عراق پر حملے کے لیے امریکہ اپنے دانت تیز کر رہا ہے تو مغربی دنیا تو مجسم احتجاج بن کر کھڑی ہوئی ہے‘دنیا کے ۶۰ ممالک میں ۴۰۰ شہروں میں ۲کروڑ عوام نے ایک ہی دن عراق پر امریکہ کی جارحانہ جنگ کے خلاف علَمِ بغاوت بلند کیا ہے لیکن اُمت مسلمہ میں بیداری کی رمق تلاش کرنا پڑتی ہے۔حج کا ۲۰ لاکھ مسلمانوں کا اجتماع ہو اور وہاں سے دشمن کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھے! عیدالفطر اور عیدالضحیٰ کے بڑے بڑے اجتماع جکارتہ سے نائیجیریا تک ہر شہر اور ہر قصبے میں سڑکوں پر آکر ۱۰ منٹ کا مظاہرہ کر دیتے تو امریکہ کو حملہ کرنے سے پہلے  دس دفعہ سوچنا پڑتا اور اس کے جارحانہ عزائم پر اوس پڑ جاتی۔

حقیقت یہ ہے اُمت کا تصور آج مسلمانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اگر یہ رشتہ مضبوط اور توانا ہو‘ ایک عضو کی تکلیف واقعتا سارے جسم کی تکلیف ہو‘ تو مسلمان ایک نئے دَور میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں‘ مسلم اور غیرمسلم ممالک میں جو کوئی بھی احیاے اسلام کے لیے کام کر رہا ہے اس کا فرض ہے کہ اپنے منصوبوں‘ سرگرمیوں اور پروگراموں میں اتحاد اُمت کو اولیت اور ترجیح دے۔ اس حوالے سے جماعت کے عشرۂ اتحاد اُمت میں ملک کے ہر مرد و زن کو شرکت کرنی چاہیے۔

بسنت کی سرکاری سرپرستی

اس سال ملک میں بسنت کی سرگرمیاں جس طرح منعقد کی گئی ہیں وہ سوچنے والوں کے ذہن کے لیے بہت سے سوالات چھوڑ گئی ہیں۔ کیا واقعی ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کے لیے لہوولعب میں اتنی کشش ہے کہ بالکل سر پر منڈلاتے ہوئے خطرات بھی ان سے باز نہ رکھ سکیں؟ کیا حکومت نے تعمیروترقی کے سارے پروگرام مکمل کر لیے ہیں کہ صدر اور گورنر اور صوبہ پنجاب اور لاہور شہر کی ساری انتظامیہ اس ’’مقدس‘‘ سرگرمی میں دل و جان سے مصروف ہو گئیں۔

بسنت منانے کے آغاز کے حوالے سے جو تاریخی روایت مستند طور پر پیش کی گئی ہے اس کے بعد تو یہ بات عقل سے ماورا ہے کہ ہم یہ تقریب اس ذوق و شوق سے منانے پر کیوں مصر ہیں۔ محض تفریح کے لیے کوئی اور سبب کیوں نہیں ڈھونڈھ لیتے؟ یقینا تفریح انسانی زندگی کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی طلب رزق کی جدوجہد‘ اخلاقی اور اجتماعی مقاصد کے لیے محنت اور قربانی۔ یہی وجہ ہے کہ دن اور رات کو کام اور آرام کے لیے الٰہی نشانیاں قرار دیا گیا۔ لیکن اس میں اہم چیز توازن و اعتدال اور ان مقاصد اور حدود کا احترام ہے جو اسلام اور اُمت مسلمہ کا شعار ہے۔ اگر تفریح کے نام پر طاؤس و رباب کے طوفان میں قوم کو بہا لے جانا اور غیروں کی ثقافت اور کلچر کو ہم پر مسلط کرنا ہو تو پھر اسے اجتماعی خودکشی کی طرف ایک اقدام کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ جس طرح اور جس نازک وقت میں اس سال بسنت کے نام پر یہ شرم ناک کھیل کھیلا گیا ہے وہ ان خدشات کو مزید تقویت دینے کا باعث ہے۔

اس سے پہلے بھی اور اس سال بھی اہل درد نے یہ بات بہت شدت سے محسوس کی کہ ان تقریبات میں بڑھتی ہوئی سرکاری سرپرستی کے ساتھ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور ان کی دیکھا دیکھی دوسرے کاروباریوں نے بھی دل کھول کر حصہ لیا اور کسی کام میں وسائل کی کمی نہ آڑے آئی۔ ایسا معلوم ہوا ہے کہ کوئی سوچا سمجھا پروگرام ہے کہ اس اُمت کو میلوں ٹھیلوں اور تفریحات میں غرق کر دیا جائے تاکہ یہ اپنے اصل مشن اور پروگرام سے غافل ہو جائے اور اخلاقی لحاظ سے اتنی پست ہو جائے کہ کسی حوصلے والے کام کا تصور ہی نہ کرے۔ اس طرح کی تقریبات معاشرے کے مجموعی کلچر پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل ان سے اثر لے کر اپنی زندگی کے لیے رویے تشکیل دیتی ہے۔ معاشرے کو دُوراندیش اور بالغ نظر قیادت میسر ہو تو    یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ اپنے شہریوں کو اس طرح کی سرگرمیوں میں مشغول کرے۔

ہم پاکستانی دنیا کی کوئی عام قوم نہیں ہیں‘ نہ کوئی ایسا گروہ ہیںجس کی اپنی تہذیب اور اقدار نہ ہوں۔ ہم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اعمال کی جواب دہی کے تصور سے آشنا ہیں۔ دنیا کو ایک آزمایش جانتے ہیں۔ پاکستان کا قیام کچھ خاص مقاصد کے لیے ہوا تھا۔ اس لیے نہیں ہوا تھا کہ ہم وہ کچھ کریں جو ہندو ہم سے کروانا چاہے۔ ہم نے اللہ سے عہد کیا اور اللہ نے ہمیں یہ مملکت دی۔ اسی لیے اسے مملکت خداداد پاکستان کہا جاتا ہے۔

ڈر لگتا ہے کہ اگر ہمارے لچھن یہی رہے جس کا مظاہرہ لاہور کی سڑکوں‘ چھتوں‘ پارکوں‘ کلبوں اور ہوٹلوں میں ۷‘۸‘۹ فروری ۲۰۰۳ء کو حج اور عیدِقربان سے صرف چند دن پہلے اور عراق کے خلاف امریکی جارحیت کے خلاف عالمی احتجاج کے دن سے صرف ایک ہفتہ پہلے کیاگیا ہے‘ وہ ملت اسلامیہ پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہی نہیں‘ العیاذباللہ‘ اللہ کے غضب کو دعوت دینے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ (اللہ ہمیں اپنے عذاب سے اپنی پناہ میں رکھے)

یہ وقت یہ عزم کرنے کا ہے کہ آیندہ سال ایسی فضا تیار کی جائے گی کہ بسنت کی تقریب ہمارے ملک میں نہ منائی جائے۔ حکومت اور ملکی اور غیرملکی سرپرستوں کو یہ نظرآجائے کہ وہ اس میں حصہ لے کر لوگوں کو خوش نہیں ناراض کریں گے۔ دستورپاکستان کے تحت ہماری حکومت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ شہریوں کے لیے قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کو ممکن اور آسان بنائے۔ حکومت کو اپنا یہ فرض ادا کرنا چاہیے اور اس میں معاشرے کی خیر کی طاقتوں سے تعاون لینا چاہیے۔

حج کی طرح‘ حج کی تیاری بھی ایک پورا عمل ہے۔ ساری ساری عمر تمنا کرنا‘ دعائیں کرنا‘ یہ بھی تیاری ہے۔ اس تیاری کی کیسی کیسی مثالیں علم میں آتی ہیں‘ پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ساری ساری عمر لوگ زادِ راہ جمع کرتے ہیں‘ رو رو کر دعائیں کرتے ہیں کہ خانہ کعبہ اور روضۂ رسولؐ کی زیارت نصیب ہو۔ اس کے خواب دیکھتے اور بیان کرتے ہیں۔

ایک وقت گزرا کہ قرعہ میں نام نہ نکلنے پر صدمے کی کیفیت ہوتی تھی کہ ابھی بلاوا نہیں آیا اور اگلے سال کا انتظار شروع ہو جاتا اور یوں تیاری جاری رہتی تھی۔

بحری جہاز سے حج کی صورت میں آٹھ دس دن بڑی ہمہ گیر‘ ہمہ وقتی تیاری کا موقع ملتا تھا۔ حج کے سفرناموں میں اس کا خوب بیان ملتا ہے۔ پابندی سے نمازیں‘ ذکرواذکار کی مجالس‘ دعائیں‘ توجہ‘ شوق --- یہاں تک کہ جدہ کا ساحل نظر آجائے اور شوق کی بے تابیاںاگلے مراحل کے لیے فزوں تر ہو جائیں۔

یوں‘ حج کے لیے سفر کی مدت کا طول بھی تیاری کا حصہ بن جاتا ہے۔ نائیجیریا سے آئے ہوئے ایک دوست نے بتایا کہ ایک زمانے میں سفر اتنے ماہ لیتا تھا کہ کسی کو دوسرے سال حج کرنا ہو تو وہ ادھر ہی رک جاتا تھا۔ جانے آنے میں چھ چھ ماہ لگ جاتے تھے۔ عبدالماجد دریابادی کے حج نامے میں ۱۹۲۹ء میں مناسک حج کے لیے نقل و حرکت کا ذریعہ اُونٹنی بیان ہواہے۔

وقت بدلنے کے ساتھ‘ سفر مختصر ہوتا گیا۔ اس سے تیاری کا‘ یعنی کیفیت سے گزرنے کا عمل متاثر   ہوا ہے۔ بحری جہاز کا سفر غیر مقبول ہوا اور بالآخر ختم ہوگیا۔ اب حاجی چند گھنٹے اس کیفیت میں گزار کر‘   ہوائی جہاز میں سوار ہو کر چند مزید گھنٹوں کے بعد جدہ پہنچ جاتا ہے۔ ہفتوں اور مہینوں خاص کیفیات میں گزارنے کا تاثر چند گھنٹوں میں تو‘ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کے لیے بارش کی مثال دی ہے کہ زمین پر برستی ہے لیکن ہر حصہ اپنی کیفیت اور قوت نمو کے لحاظ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ چٹیل چٹان پر سے تو پانی گزر ہی جاتا ہے۔ اسی طرح حج کی مثال ہے۔ لاکھوں افراد دنیا کے کونے کونے سے جاتے ہیں‘ کئی کئی دن اکٹھے گزارتے ہیں‘ رحمت و مغفرت کی بارشیں جاری رہتی ہیں لیکن ہر ایک اپنے ظرف کے لحاظ سے فیض یاب ہوتا ہے۔ یقینا کچھ ضرور ایسے ہوں گے‘اللہ کرے سب ہوں‘ جو ایسے معصوم ہو جاتے ہیں جیسے آج ہی پیدا ہوئے ہوں۔ اس کا انحصار بڑی حد تک تیاری پر ہے۔

اب تیاری خود سے ارادہ کر کے‘ مصروفیات اور زندگی کے ہنگاموں سے وقت نکال کر کرنا ہوگی۔ تربیت حجاج کے کسی پروگرام میں شرکت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے لیکن آخری بلکہ اولین بنیادی بات وہی کہ تیاری تو آپ کو خود ہی کرنا ہے‘ خود ہی پروگرام بنانا ہے‘ خود ہی عمل کرنا ہے--- آخر حج بھی تو آپ خود ہی کر رہے ہیں!

تیاری کا عمل

تیاری کے سلسلے میں دو اہداف ہونا چاہییں۔ مناسک ِ حج کے لیے تیاری‘ جو ۷ذی الحجہ سے شروع ہوتے ہیں‘ اور مکہ مدینہ کی سرزمین پر ۳۰‘ ۳۵ دن قیام کا جو موقع ملنے والا ہے‘ اس کے لیے تیاری--- تاکہ وہاں کا ہر ہر لمحہ استعمال ہو۔اس مقصد سے‘ جب سے بنکوں میں رقم جمع ہوتی ہے‘ کچھ نہ کچھ تیاری شروع کی جا سکتی ہے۔

جب میں حج کرنے گیا تو میرا خیال تھا کہ میرا کام مکہ مدینہ پہنچنا اور خانہ کعبہ دیکھنا اور طواف کرنا ہے‘ باقی اس دوران کی کیفیات --- جس کا حال سفرناموں میں پڑھا تھا غالباً خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے طاری کی جائیں گی‘ یعنی وہاں جا کر خود بخود طاری ہو جائیں گی۔ معلوم نہیں‘ میں کوئی خاص گنہگار تھا‘ یا سب کے ساتھ یہی ہوتا ہے کہ حرم میں بیٹھ کر بھی‘ راہوار خیال کو جہاں چاہے لے جا سکتے ہیں۔ شیطان زیادہ طاقت سے زور آزمائی کرتا ہے کہ اللہ کو بتائے کہ دیکھ‘ یہاں تک چل کر آنے والا بھی بہکایا جاسکتا ہے۔ ہر طرح کے ملک ملک کے مناظر وہاں نظر آتے ہیں اور آپ جہاں چاہیں اپنے کو لے جا سکتے ہیں۔ اور حرم سے ذرا باہر نکلیں تو فٹ پاتھ‘ دکانیں‘ ہوٹل--- پورا بین الاقوامی بازار سجا سجایا--- جتنے گھنٹے چاہیں گزاریں‘ جو چاہیں خریدیں--- یوں آزمایش تو بڑھ جاتی ہے۔ خیال تھا کہ یہاں پہنچ گئے تو سب کام آسان ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں پایا۔ اس لیے تیاری کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

تیاری کی پہلی شق یہی ہے کہ پہلے دن سے نیت کو خالص کیا جائے اور پھر کوشش کر کے دورانِ قیام اور دورانِ مناسک حج خالص رکھا جائے۔ ہرشخص خود ہی جائزہ لے کر معلوم کر سکتا ہے کہ نیت میں کہاں‘ کس طرح کا کھوٹ ہے‘ یا آ سکتا ہے۔ اس کی پیش بندی کرے‘ عملی تدابیر کرے اور اللہ سے دعا بھی کرے کہ سارا سفر‘ محنت‘ خرچ محض دوڑ بھاگ ہی نہ ثابت ہو۔

دورانِ قیام کی ایک اہم سرگرمی مسجدحرام اور مسجد نبویؐ کی نمازیں‘ خصوصاً جہری نمازیں ہیں۔ دوسری ساری سرگرمیاں اس کے گرد گھومتی ہیں۔ پہلے سے ذہن میں ہونا چاہیے کہ وہاں نمازیں بالکل  ٹھیک ٹھیک ادا کرنا ہیں (چاہے یہاں کیسی بھی عادات ہوں)۔ اس کے لیے دو باتوں کا اہتمام کیا جا سکتا ہے:

ایک یہ کہ نماز کے بارے میں لٹریچر میں جو کچھ پڑھا ہے‘ اسے تازہ کر لیا جائے۔ پانچ وقت کی نماز کو ذکر کے حقیقی معانی کے ساتھ قائم کیا جائے گا تو اس کی برکات‘ اور زندگی پر اثرات بچشم سر دیکھے جا سکیں گے۔ کتابیں حاصل کر لی جائیں‘ ساتھ رکھی جائیں۔

دوسری بات‘ بہت ضروری یہ ہے کہ اگر آپ کو اتنی عربی آتی ہے کہ قرآن سنتے ہوئے اس کا مفہوم ذہن میں آتا جائے تو اپنی خوش قسمتی پر اللہ کا شکر ادا کیجیے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو اس کی فکر کیجیے۔ اب   بے شمار ایسے کورس چل رہے ہیں جودو تین ماہ میں اتنی شدبُد کرا دیتے ہیں کہ آپ کا یہ مسئلہ حل ہو جائے۔ روزانہ دو تین گھنٹے دیں‘ تو ایک ہفتے میں بھی ہدف حاصل ہو سکتا ہے (منشورات خرم مراد کے قرآنی عربی کے ۱۵ اسباق جلد ہی شائع کرنے والا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے)۔ یہ نہ ہو کہ فجرو عشا ء میں‘ مسجد نبویؐ اور مسجدحرام کے امام قرآن کی پُرلطف ‘ وجد آفریں تلاوت کر رہے ہوں‘ قوموں کے عروج و زوال کے احوال بیان ہو رہے ہوں‘آخرت کی حقیقت اور مناظر کا نقشہ کھینچا جا رہا ہو‘ احکام الٰہی اور ان کی  مصلحتیں بتائی جا رہی ہوں‘ انفس و آفاق کی آیات پر توجہ دلائی جا رہی ہو‘ آپ کے نفس کو جھنجھوڑا جا رہا ہو‘ اور آپ کو کچھ خبر ہی نہ ہو۔

نماز کی اپنی کیفیت ہے‘ لیکن معنی و مطلب کے ساتھ شعوری توجہ ہو تو افادہ ہزار چند ہو جاتا ہے۔ اپنے کو اس سے کیوں محروم رکھتے ہیں؟ جو عربی آپ سیکھیں گے‘ ساری عمر کام آئے گی۔ نمازوں کے علاوہ بھی یہاں تلاوت کا بہت موقع ملتا ہے۔ کئی کئی قرآن ختم کیے جاتے ہیں‘ یہ بامعنی ہوں توکیا کہنے!

ایک تیاری دعائوں کی ہے۔ یہ پورے اہتمام سے کریں‘ زبان کی کوئی قید نہیں لیکن قرآن کی بتائی ہوئی اور رسولؐ اللہ کی کی ہوئی دعائیں‘ آپ کے جذبات کو اور داعیات کو الفاظ کا جامہ پہنا دیتی ہیں اور جذبات کی تہذیب بھی کرتی ہیں۔ اس لیے ان کے مجموعے آپ کے پاس ہونے چاہییں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہاں دعائوں کے لیے بہت وقت ملتا ہے۔ آپ کے پاس جتنا بھی ذخیرہ ہو‘ کم پڑ جاتا ہے۔ آپ کوشش کرکے جمع کریں‘ یہ تیاری کا حصہ ہے۔ یاد نہ بھی ہوں تو سامنے رکھ کر‘ بیٹھ کر‘ آرام سے کی جا سکتی ہیں۔ (عربی جاننا یہاں بھی کام آئے گا)۔ یہ چار دن کا نہیں‘ مہینے بھر کا موقع ہے۔  اذکار مسنونہ (ابن قیم/ خلیل احمد حامدی)  نالہ نیم شب (خرم مراد) کے علاوہ بھی آسان دعائیں اور قرآنی دعائوں کے مجموعے عام ملتے ہیں۔ دعائوں کے لیے خصوصی اوقات اور مقامات کا بیان آپ کو ہر تذکرے میں ملے گا۔

دعوہ اکیڈمی کا شائع کردہ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کا ۷ روپے کا ایک کتابچہ (وہاں کوئی اسلامی مکتبہ اسے ۷ریال کا فروخت کر رہا تھا!)  سیرت نبویؐ دعاؤں کے آئینے میں ‘میرے ساتھ تھا۔ انھوں نے ترجمہ عبدالماجد دریابادیؒ کا نقل کیا تھا۔ ان گلیوں میں رسولؐ اللہ کا قرب آپ محسوس کرتے ہی ہیں‘ پھر آپؐ کی دعائیں‘ بہترین اُردو میں ترجمہ--- میں بیان نہیں کر سکتا کہ یہ مختصر کتابچہ میرے کتنے کام آیا!

تیاری کا ایک اہم حصہ مناسب کتب کا ساتھ رکھنا ہے۔ مطالعے کا وقت وہاں نکالیں۔ جتنا بازاروں اور گپ شپ سے بچیں گے‘ زیادہ مطالعہ کر سکیں گے (شیطان کی خصوصی کوشش ہوتی ہے کہ آپ کو اِدھر اُدھر کے کاموں میں لگائے رکھے اور اصل شغل آپ ملتوی کرتے رہیں کہ بہت وقت پڑا ہے‘ آپ پہلے ہی دن سے چوکنے رہیں‘ اس جال میں نہ آئیں) ۔خود ہی سوچیں کہ مسجد نبویؐ میں بیٹھ کر حدیث کا مطالعہ‘  چند لمحات کلام نبویؐ کی صحبت میں‘ کی عملی تفسیر بن جاتا ہے۔ مکہ مدینہ کے آثار اور نشانیاں دیکھنے جائیں تو سیرت کا مطالعہ مستحضر ہونا چاہیے۔ تیاری کے ایک حصے کے طور پر اسے بھی تازہ کر لیں۔

اب آیئے اصل حج‘ یعنی مناسک ِ حج کی طرف!

یہ چار پانچ دن ہی وہ اصل دن ہیں جن کی خاطر یہ سفر کیا گیا اور حج کا فریضہ ادا کرنے کے لیے یہ تیاری کی گئی۔ اس حوالے سے ہر طرف ہدایات مہیا ہوتی ہیں‘ بے شمار کتابیں موجود ہیں۔ خصوصی پروگرام ہوتے ہیں۔ حاصل یہ ہونا چاہیے کہ آپ کے ذہن میں مناسک کا پورا نقشہ‘ روز کا پروگرام تفصیل کے ساتھ آجائے۔

ایک وقت وہ بھی رہا ہوگا جب خانہ کعبہ کی تصویر بھی دیکھنے کو نہ ملتی ہوگی۔ لوگ آکر ہی دیکھتے ہوں گے۔ پھر تصویر آگئی‘ لیکن جو بات اصل کی تھی‘ وہ تصویر میں کہاں--- لیکن اب تو ہمہ وقت خانہ کعبہ کا‘ اس میں نمازیوں کا منظر ٹی وی پر اتنا نظر آتا ہے کہ پہلی دفعہ دیکھنے والی بات اب کہاں--- یہی لگتا ہے کہ جیسے دیکھی ہوئی چیز دیکھ رہے ہیں۔ پھر بھی خود وہاں موجود ہونے‘ اس کا حصہ ہونے‘ اپنی آنکھوں سے خانہ کعبہ کو دیکھنے‘ اپنے قدموں سے طواف کرنے‘ آبِ زم زم‘ چشمہء  زم زم پر کھڑے ہو کر پینے کی لذت کیا اور کس طرح بیان کی جائے--- یقینا یہ امور بیان سے ماورا ہیں!

مناسک ِ حج سیکھنے کے لیے‘ پڑھنا بھی چاہیے‘ کسی پروگرام میں بھی شرکت کرنا چاہیے لیکن سب سے موثر کسی فلم کو توجہ سے دیکھ لینا ہے۔ آپ اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ سب کیا اور کس طرح کرنا ہے۔ وہاں کوئی آپ کو بتا نہ سکے کہ اس طرح کرو۔ آپ کو صحیح بات کا علم ہونا چاہیے۔ یہ تیاری لازماً کریں‘ یہ نہ سوچیں کہ وہاں معلوم ہو جائے گا‘ کوئی نہ کوئی بتا دے گا‘ سب ہی کر رہے ہوں گے--- آپ کو اعتماد کے ساتھ علم ہونا چاہیے۔

اور آخری بات‘ جو پہلی بات بھی ہو سکتی تھی‘ یہ ہے کہ جانے سے پہلے ایک‘ بلکہ دو تین حج کے سفرنامے پڑھیں اور کیفیات سے گزریں۔ میں نے عبدالماجد دریابادیؒ صاحب کا سفرنامہ حج پڑھا اور حقیقت یہ ہے کہ بہت فائدہ اٹھایا۔ مناسک کے علاوہ‘ اس دور کے حالات سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔ آپ اپنی پسند کے مصنف کا سفرنامہ لیں مگر پڑھیں ضرور۔

یہ تیاری کے لیے کوئی جامع امور نہیں‘ چند متفرق باتیں ہیں۔ امید ہے کہ عازمین حج انھیں مفید پائیں گے۔

تیاری کے سلسلے میں ۱۰۱ نکات بھی بیان کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہاں بعض اہم بنیادی امور کی  نشان دہی پیش نظر تھی۔ جزئیات میں جائیں تو یہ بھی کام کی بات ہے کہ جوتوں کے لیے تھیلی بنوا کر لے جائیں‘ لیکن میں نے تو یہ بھی نہیں ذکر کیا کہ عرفات کا دن کتنا اہم ہے‘ منیٰ میں کیسے وقت گزارا جائے‘ مزدلفہ میں کنکریاں کیسے چنی جائیں‘ رمی جمار میں کیا احتیاطیں کریں‘ قربانی کس طرح بہتر رہے گی‘ بار بار عمرے کریں یا نہ کریں‘ طواف کا کیا لطف ہے وغیرہ۔ حج کے ہدایت ناموں میں یہ سب کچھ ملے گا۔ میری بتائی ہوئی باتوں میں کچھ فائدہ محسوس کریں تو دعائوں میں مجھے بھی یاد کر لیجیے گا (فہرست میں کہیں نام لکھ لیں) اور روضہ رسولؐ پر میرا سلام بھی پیش کر دیجیے گا۔ اللہ قبول فرمائے۔

دُنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان آج جس پُرآشوب دور سے گزر رہے ہیں‘ اس کا ایک منظر بھارت کے صوبہ گجرات میں حالیہ مسلم کُش منظم قتل و غارت اور آتش زنی کا سلسلہ ہے۔ ذرائع ابلاغ نے ممکن بنا دیا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ اپنوں اور غیروں سب کو معلوم ہو جائے‘ بلکہ وہ بچشم سر دیکھ لیں‘ کہ بے بس‘ بے گناہ اور معصوم مسلمان آبادیوں پر کس کس طرح کے کیا کیا ظلم روا رکھے گئے۔ سب سے بڑی جمہوریہ کہلانے کا دعویٰ رکھنے والی مرکزی اور صوبائی حکومت نے اپنے شہریوں کی جان و مال اور آبرو کی حفاظت کے لیے کچھ نہ کیا۔ نہ وہ عالمی ٹھیکے دار جاگے‘ جو خود چاہے کتنے ہی حقوق پامال کریں‘ لیکن دوسروں کو انسانی حقوق کے درس دیتے نہیں تھکتے۔ بھارت میں بسنے والے بے بس مسلمانوں پر ظلم کرنے والے بھارتی ہندو ان کے اپنے ہیں‘ اور نئے عالمی نظام میں اپنوں کو سب کچھ کرنے کی آزادی اور پھر اس پر مکمل تحفظ ہے۔ اتنا کہ کلنک کے ٹیکوں کے باوجود وہ بدنام بھی نہیں ہوتے۔

گودھرا کے واقعے کو بنیاد بنا کر ردعمل کے عنوان سے پوری ریاست میں وحشت و درندگی کا جو سوچا سمجھا کھیل کھیلا جا رہا ہے اس میں‘ متاثرہ لوگوںکے ایک گروپ کی ای میل کے مطابق ۱۲ مارچ ۲۰۰۲ء تک ۵ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں‘ ۵۰ ہزار بے گھر افراد ۲۵ ریلیف کیمپوں میں ہیں (اور یہاں بھی ان پر حملے کیے گئے)۔ برودہ میں ۱۲‘ احمدآباد میں ۱۰ اور متاثرہ دیہاتوں میں تمام مساجد شہید کر دی گئی ہیں‘ کئی کو مندر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ای میل میں تباہ شدہ محلوں اور دیہاتوں کی فہرست بھی دی گئی ہے۔ گلمرگ سوسائٹی میں ۷۲ افراد گھربار سمیت جلا دیے گئے۔ لوناوادا کی ہائی وے پر ۴۲ افراد ٹرک میں جلا دیے گئے۔ برودہ کی بیسٹ بیکری میں ۱۸ افراد جلائے گئے۔ نارودا پاٹا کے قریب ایک کنویں میں مسلمانوں کی ۳۵۰ لاشیں پھینکی گئیں۔ خواتین کی عصمت دری بھی کی گئی (جلانے کا کام تو اتنے فخر سے کیا گیا کہ باقاعدہ بینر لگایا گیا:  Learn from us how to burn Muslims ۔ نیوز ویک‘ ۱۱ مارچ ۲۰۰۲ء‘ ص ۶)

منصوبے کے تحت املاک اور جایداد تباہ کی گئیں۔ اس رپورٹ کے مطابق شہر اورہائی وے پر مسلمانوں کے ۲۰۰ ہوٹل جلا دیے گئے۔ نواں بازار اور منگل بازار دو کپڑا مارکیٹ ہیں‘ یہاں ۱۶۳ دکانیں تباہ کر دی گئیں۔ جس جگہ مسلمان کم تعداد میں تھے ان کی جایداد جلا دی گئی۔ مکانات اور مسجدیں جلانے کے لیے ایل پی جی گیس اور آکسیجن سلنڈر استعمال کیے گئے۔ پٹرول کا ٹرک ساتھ چلتا تھا۔ فسادی گروہوں کو خوراک‘ اسلحہ اور طبی امداد پہنچانے کا مکمل انتظام تھا۔ ہر طرح کا اسلحہ مہیا کیا گیا۔ انھیں خوراک اور شراب کے علاوہ ۵۰۰ روپے روز کے دیے گئے۔ مارے جانے پر خاندان کو ۲ لاکھ روپے دیے گئے۔ گرفتاری کی صورت میں تمام اخراجات اور قانونی امداد وشوا ہندو پریشد کے ذمے ہے۔ نئے نئے طریقے ایجاد کیے گئے۔ ایک محلے کے چاروں طرف پانی جمع کر کے اس میں برقی رو چھوڑ دی گئی اور پھر گھروں پر آتشیں گولے پھینکے گئے‘ جو گھروں سے نکلے وہ برقی رو سے مارے گئے۔

اس سارے قتل و غارت کو گودھرا ریلوے اسٹیشن پر ایودھیا سے واپس آنے والے فسادی یاتریوں (کارسیوکوں) کی ریل کی بوگیوں کو جلانے کا ردعمل قرار دے کر جواز عطا کیا جا رہا ہے۔ یہ حادثہ سابرمتی ایکسپریس کے ساتھ ۲۷ فروری کی صبح پیش آیا۔ یہ حادثہ کیوں پیش آیا؟ واشنگٹن پوسٹ کے ہندو   نامہ نگاروں نے اپنے اخبار کو جو رپورٹ ارسال کی (اور جس کا مکمل ترجمہ روزنامہ جنگ میں ارشاد احمد حقانی نے شائع کیا) اس کے مطابق آگ اتفاقیہ لگی اور اس وجہ سے پھیل گئی کہ بوگی میں سوار سیوک چولھے اور تیل ساتھ لیے ہوئے تھے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق ریل میں سوار کارسیوکوں نے ایک مسلمان کے ٹی اسٹال سے مفت چائے پینے کے بعد پیسے مانگنے پر اس کی مارپٹائی شروع کی تو اس کی بیٹی اسے بچانے آئی جسے کارسیوکوں نے بوگی S-6 میں لے جاکر بند کردیا اور ہر طرح کی کوشش کے باوجود بھی نہیں کھولا۔ ٹرین چل پڑی۔ کچھ نوجوانوں نے زنجیر کھینچی تو ٹرین اگلی آبادی میں رکی۔ لڑکی کو اب بھی واپس نہ کیا گیا تو کچھ نوجوانوں نے بوگی پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ عینی شاہدوں کے مطابق ایودھیا سے گودھرا تک ٹرین میں اور اسٹیشنوں پر مسلسل غنڈا گردی کی جاتی رہی۔ جہاں گاڑی رکتی لوٹ مار کرتے۔ گودھرا اسٹیشن پر لوٹ مار کا سلسلہ پچھلے ۲۰ دن سے جاری تھا۔

ان رپورٹوں کے ہوتے ہوئے بھی‘ نیوزویک نے واقعے کو اس طرح لکھا ہے: ’’صبح کے کچھ دیر بعد جیسے ہی ٹرین گودھرااسٹیشن میں داخل ہوئی تو مقامی مسلمانوں کا ایک گروہ انتظار کر رہا تھا۔ پٹرول سے بھری بوتلیں پھینکیں گئیں جس سے بوگیوں میں آگ لگ گئی--- آنے والے دنوں میں اب ہندوئوں کی باری تھی۔ مسلم آبادیوں میں ہجوم پھیل گئے اور…‘‘ (۱۱ مارچ ۲۰۰۲ء)۔ بیرونی نامہ نگار فسادات کو ۴۷ء کے فسادات سے جوڑتے ہیں اور پھر ۹۲ء میں بابری مسجد کی شہادت پر ہونے والے فسادات سے ۔ ان کی نظروں سب کچھ جیسے معمول کی کارروائی ہے جو بھارت میں ہوتی رہتی ہے۔ حقائق معلوم کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے!

اگر ریاست میں کوئی ذمہ دار اور غیر جانب دار حکومت ہوتی تو گودھرا کے واقعے کے بعد احتیاطی اقدامات کرتی اور شہریوں کو جانی اور مالی نقصان سے بچاتی۔ بوکر پرائز جیتنے والی ناول نگار ارون دھاتی رائے نے درست کہا ہے کہ:’ ’جس بھارتی شہری کا بھی پولیس اور ریاست سے واسطہ پڑا ہے وہ جانتا ہے کہ اگر ذمہ داران حالات پر قابو پانا چاہتے تو صرف ایک گھنٹے میں پا سکتے تھے‘‘۔ (نیوزویک‘ ۱۸ مارچ ۲۰۰۲ء‘ ص ۵۸)

نہ صرف یہ کہ قابو نہیں پایا گیا بلکہ تمام اخباری رپورٹیں یہی بتاتی ہیں کہ ہر سطح سے حوصلہ افزائی کی گئی۔ ہندستان ٹائمزنے ۲ مارچ کے اداریے میں لکھا ہے: ’’انتظامیہ کو ممکنہ ردعمل کے خلاف تیاری کا پورا موقع ملا تھا۔ مناسب اقدامات سے بہت سی جانیں بچائی جا سکتی تھیں لیکن اس حکومت نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایودھیا تحریک کو تقویت پہنچانے میں وشوا ہندو پریشد کی سیاسی اور انتظامی دونوں لحاظ سے مدد کی۔ ایسی حکومت سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ مسائل پیدا ہونے پر جانب داری سے کام نہیں لے گی‘‘۔

قتل و غارت کی اس تازہ لہر کے پس منظر میں وشوا ہندو پریشد کی جانب سے ۱۵ مارچ کو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے آغاز کا اعلان تھا۔ وشوا پریشد کی اس مہم میں آر ایس ایس‘ سنگھ پریوار‘ شیوسینا سب ہی ساتھ ہیں۔ بی جے پی اتحادیوں کی وجہ سے حکومتی مجبوریوں کے تحت کھلم کھلا تو ساتھ نہیں دیتی‘ لیکن اس کی مکمل حمایت اس مہم کو حاصل ہے۔ فی الاصل تو ان سب کا منصوبہ بھارت سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانا یا دوسرے درجے کا شہری بنا کر رکھنا ہے۔

انھی دنوں چار صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اترپردیش اور اترانچل جیسے اہم صوبے اس کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ پنجاب میں بھی اس کے اتحاد کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی۔ منی پور میں بھی اس کے مخالفین برسرِاقتدار آگئے تھے (اترپردیش میں ۴۰۳ کے ایوان میں‘ بی جے پی کو ۸۸ سیٹیں ملیں جو گذشتہ کے مقابلے میں ۶۶ کم ہیں۔ پنجاب میں ۱۱۷ کے ایوان میں ۳ نشستیں ہیں جو گذشتہ کے مقابلے میں ۱۵ کم ہیں)۔

ان انتخابات میں بی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹ نہیں ملے اور وہ مسلمانوں کو اپنی شکست کا سبب گردانتی ہے۔ اس لیے گودھرا کے واقعے کو بہانہ بنا کر دراصل انتقام لیا گیا۔ اسی لیے قتل و غارت روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش سرے سے کی ہی نہیں گئی۔ دوسری طرف ۱۱ ستمبر کے بعد مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور ان کا عزم و حوصلہ توڑنے کی ایک پالیسی نظر آتی ہے۔ گجرات کے دورے پر جانے سے پہلے وزیردفاع جارج فرنینڈس نے اس واقعے میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کا شبہہ ظاہر کیا۔ دوسری طرف گجرات کے وزیراعلیٰ فریندر مودی نے واقعے کو منظم دہشت گردی قرار دے کر تحقیقات کے امکان کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ یہ آواز ملک کے کسی کونے سے نہیں اُٹھ رہی کہ گودھرا کے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ اب عالمی سطح پر یہی روایت بنتی جا رہی ہے کہ ’’حادثات‘‘ سے اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں اور حقیقت معلوم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ جس طرح آج تک امریکہ میں کانگریس یا سینیٹ کمیٹی میں ۱۱ ستمبر کے حملوں کے لیے کسی خفیہ ایجنسی یا وزارت دفاع کو وضاحت پیش نہیں کرنا پڑی۔

ان حالات میں کہ گجرات کے ۲۶ شہروں میں کرفیو لگا ہے اور فسادات بھارت کے دوسرے علاقوں میں پھیلنے کی خبریں بھی آ رہی ہیں بھارت کے مسلمان تو اپنے تحفظ کے لیے کچھ نہ کچھ لائحہ عمل بنا رہے ہوں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے کروڑوں مسلمان بھائیوں کا کیا فرض ہے؟ کیا وہ سب اتنے ہی بے بس اور بے اختیار اور بے وسیلہ ہیں کہ خبریں پڑھیں‘ دیکھیں ‘ افسوس کرلیں اور بس!

یقینا ایسا نہیں ہے۔ اس وقت دنیامیں دہشت گردی کے خلاف جو فضا ہے‘ اس میں مسلمان طاقتوں کو منظم کوشش کرنا چاہیے کہ اس کا رخ دہشت گردی کی ان حقیقی کارروائیوں کی طرف موڑیں۔ عالمی رائے عامہ کا دبائو ہی بھارت کو راہ راست پر لا سکتا ہے۔ اس کے لیے مسلمانوں کے ہر طرح کے اداروں کو منظم اور مسلسل کوشش کرنا ہوگی۔

اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) نے افغانستان کے مسئلے پر اپنے غیر موثر اور بے جان ہونے کا ثبوت دیا ہے‘ لیکن اس کے باوجود یہ کہے بغیر نہیں رہا جاتا کہ اس کے پلیٹ فارم سے مسلم اقلیتوں کے تحفظ کا کافی کام کیا جا سکتا ہے۔ اس کے کسی وفد کو آکر حالات کا جائزہ لینا چاہیے اور رپورٹ تیار کرنا چاہیے اور بھارت کو تنبیہ کرنا چاہیے۔ اگر ۱۰‘ ۱۵ مسلم سربراہان مظلوم مسلمانوں کی ہمدردی میں صرف بیانات ہی دے دیتے تو شاید بھارت کو کچھ فرق پڑ جاتا۔ خادم الحرمین کا تو یہ فرض تھا کہ وہ اس پر اپنی آواز بلند کرتے۔

سب سے اہم ذمہ داری پاکستان کی ہے۔ حکومتی سطح پر بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے اور ساری دنیا میں پھیلے ہوئے پاکستانی بیدار ہو کر‘ دوسرے مسلمانوں کو ساتھ لے کر بھارت کاناطقہ بند کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے بیداری‘ شعور اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میںچرچ پر افسوس ناک حملہ (۱۷ مارچ) ہوا تو صدر بش نے فوراً ردعمل ظاہر کیا اور امریکہ کی سفیر نے پاکستان کے ٹی وی پر آکر سختی سے کہا: ’نو مور‘("No more")۔ کیا اتنی بڑی امت مسلمہ بھارت کو ’نو مور‘ نہیں کہہ سکتی؟

ان حالات پر سوچنے کا ایک نقطہء نظر یہ بھی ہے کہ تہذیب‘ جمہوریت اور انسانی اقدارکے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود آج انسان اسفل السافلین ہونے کا مظاہرہ کیوں کر رہا ہے؟یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ہدایت الٰہی کو مسترد کر کے جو راہ بھی اپنائی جائے گی وہ دنیا و آخرت کے خسران کی راہ ہوگی۔ یہ حالات --- اور دنیا بھر میں پیش آنے والے ایسے ہی واقعات جن میں کوئی کمی نہیں آئی --- پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ آج ‘انسانیت سکون سے محروم ہے۔ اس کی پیاس بجھانے کا سامان صرف اس کے خالق کے بتائے ہوئے راستے میں ہے!

 

برطانیہ کے وقیع ماہنامے امپیکٹ انٹرنیشنل نے Technology of Deception کے عنوان سے ایک روسی صحافی ولادی میرکرائی لووسکی کی تحریر کا ترجمہ شائع کیا ہے جس میں اس نے بتایا ہے کہ چیچنیا پر روس کے دوسرے حملے کے لیے فضا سازگار بنانے کی خاطر روسی ذرائع ابلاغ نے جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے روسی عوام کی کس طرح برین واشنگ کی۔ روسی عوام جو پہلی جنگ (۱۹۹۳ء-۱۹۹۶ء) میں ناکامی اور صلح کے بعد اب نئی مہم جوئی کے لیے تیار نہ تھے‘ کس طرح آمادہ کیے گئے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ دو ہفتوں میں ’’دہشت گردوں‘‘ کا قلع قمع کرنے کے جو دعوے تھے وہ سب خواب ہو گئے‘ چیچن مجاہدین نے حسب سابق‘ ہر طرح کے ناقابل بیان ظلم سہنے اور کوئی نسبت نہ ہونے کے باوجود انتہائی ظالم روسی افواج کے دانت کھٹے کردیے ہیں (صدآفرین!) اور اب روس کے صدر پوٹن مذاکرات کی بات کر رہے ہیں! موجودہ عالمی حالات کے پس منظر میں یہ مطالعہ چشم کشا ہے اور بتاتا ہے کہ ۲۰ ویں صدی کی ان عالمی طاقتوں کا سارا کاروبار جھوٹ اور دھوکے پر چلتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ موجودہ ڈراما ہماری آنکھوں کے سامنے کھیلا جارہا ہے‘ جب کہ سابقہ ہماری نگاہوں سے دُور تھا۔

اگست ۱۹۹۹ء میں چیچنیا کے علاقے سے داغستان پر حملہ کیا گیا (یعنی کروایا گیا)۔ مداخلت کا اس سے اچھا اور کیا جواز ہو سکتا تھا۔ اس کے بعد سے روسی میڈیا نے اپنے عوام کو جھوٹ کے انبار تلے دبا دیا۔ روسی جنرل میڈیا پر آکر ضمانتیں دینے لگے کہ ہم چیچن دہشت گردوں کا چند دن میں قلع قمع کر دیں گے۔ ہر خبرنامے میں بار بار دہرایا گیا کہ وفاقی افواج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہو رہا ہے۔ روسی حکومت کو بڑی فکر تھی کہ اس کے عوام کو حقیقت حال معلوم نہ ہو۔ چیچن صدر ارسلان مسخادوف بتا رہے تھے کہ روس کی سیکرٹرٹ سروس کیا کر رہی ہے لیکن روسی حکومت نے اس کا اہتمام کیا تھا کہ ان کی کوئی بات روسی عوام تک نہ پہنچ سکے۔ چیچن ’’دہشت گردوں‘‘ کے حوالے سے جھوٹی خبروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ٹی وی اسکرین کو مخاطب کر کے چیخ کر کہنے کو دل چاہتا تھا: ’’عوام سے جھوٹ بولنا بند کرو!‘‘۔ عوام کے ذہنوں میں ایک دشمن --- چیچن دشمن --- کا نقش بٹھانے کا کام کیا جاتا رہا۔ ایک مبصر نے کہا: چیچنیا پر کارپٹ بم باری کی جائے۔ روسی عوام کو بتایا جاتا تھا کہ وہ اس وقت تک چین کی نیند نہیں سو سکتے جب تک کہ چیچن سانپ کو کچل نہ دیا جائے۔

کیا روسی عوام ۱۹۹۹ء میں کسی نئی چیچن جنگ کے لیے تیار ہو سکتے تھے اگر ہمارے شہروں میں دھماکوں کا سلسلہ شروع نہ ہو جاتا۔ ہرگز نہیں۔ اس کا کوئی امکان نہ تھا۔ انھیں جنگ کے لیے آمادہ کرنے کے لیے ضروری تھا کہ انھیں ہر لمحے اپنی جان کی طرف سے خوف زدہ ہونے کے لیے مجبور کر دیا جائے۔ انھیں ایک دھوکے باز‘ ظالم اور دکھائی نہ دینے والے ("shadows!") دشمن کے سامنے غیر محفوظ ہونے کا احساس دلایا جائے۔ ماسکو کے پشکن اسکوائر میں دھماکوں کے بعد‘ ملک بھر کی یہی فضا تھی۔ ملبے میں سیکڑوں افراد کے زندہ دفن ہو جانے کی خبروں کے ساتھ ہی حکومتی میڈیا سے پروپیگنڈے کا آغاز ہو گیا۔ زخمیوں کی چیخ و پکار اور دہشت گردوں سے شدید نفرت کے پس منظر میں دیکھیں‘ کس کی مقبولیت ایک دم آسمان پر پہنچ گئی جسے چیچنیا کے ساتھ دوسری جنگ کا رخ دے دیا گیا۔

اس جنگ کا فائدہ کسے ہوا؟ چیچنیا کو اس سے کیا ملا ؟ کیا جنگ ان کی ضرورت تھی؟ انھیں جنگ سے کچھ حاصل نہ ہو سکتا تھا۔ یہ اصل قابل غور نکتہ ہے۔ لیکن کہا گیا کہ وہ دھماکوں کے ذریعے پوٹن کے بیانات کا بدلہ اتار رہے ہیں! اگر انھیں بدلہ اتارنا ہی تھا تو ان کے ہدف اس سے مختلف ہوتے۔ نہیں‘ اس بات پر کوئی بھی یقین نہیں کرے گا۔

اس سے پہلے کہ تحقیقات کا آغاز ہوتا‘ حکومت اور خود ولادی میرپوٹن نے اعلان کر دیا کہ ان جرائم کا سرا چیچنیا میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ انسانوں کے ایک پورے گروہ کی بے گناہی کو نظرانداز کر دیا گیا۔ حکومتی میڈیا کو ‘ چیچن ’’انگلیوں کے نشانات‘‘ ملنے لگے۔ ویسے ہی بم‘ ویسے ہی ٹائمر‘ ماسکو میں مختلف عمارات میں خفیہ پولیس کو ملنے لگے۔ پھر پولیس نے ایک گروپ کو اسی طرح کے بارود اور ٹائمر کے ساتھ گرفتار کیا۔ ایک دم خبریں شائع ہو گئیں لیکن گرفتار شدگان ایف ایس بی (سابقہ کے جی بی) کے اہلکار نکلے۔ ان کے ڈائرکٹر نے بیان دیا کہ یہ صرف ایک مشق تھی‘ عوام کو چوکس رکھنے کے لیے!

سیاست دان ‘جنرل ‘ مبصر سب مسلسل دہراتے رہتے ہیں کہ فضائی حملے صرف متعین جنگی اہداف پر کیے جارہے ہیں (precision attacks)۔ لیکن عملاً شہری آبادیوں پر کھلے عام بم باری کی گئی۔ ارسلان مسخادوف نے پوپ پال کے نام اپیل ( اکتوبر ۱۹۹۹ء) میں بتایا کہ صرف ایک ماہ میں ۳ ہزار ۶ سو شہری ہلاک کیے گئے ہیں۔ لیکن روسی میڈیا اپنے عوام کو اپنی فضائیہ کے یہ کارنامے نہیں بتاتا کہ کس طرح پرامن دیہاتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ۲۰۰۰ء کے آغاز میں vacuum بم استعمال کیے گئے جنھوں نے زندگی کے سب آثار مٹا دیے‘ اور نہ یہ بتاتے ہیں کہ فضائیہ نے اعصابی گیس والے بم استعمال کیے۔

یہ چند مثالیں ہیں کہ کس طرح روسی عوام کو ان کا میڈیا دھوکا دے رہا ہے۔ میڈیا کے ذریعے دھوکا دہی کا فن سب ظالموں نے سیکھ لیا ہے۔ یہ مظلوم بن کر آتے ہیں اور ظلم کی نئی تاریخ رقم کر دیتے ہیں۔

بھارت میں مسلمانوں کی تعلیم

ضیاء الدین اصلاحی

مسلمانوں کی سماجی‘ معاشی اور تعلیمی پس ماندگی کا چرچا ہندستان کے تمام فرقے اور سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں۔ بی جے پی کو پہلے کانگریس اور دوسری سیاسی جماعتوں سے گلہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی ناز برداری کرتی ہیں‘ لیکن اب وہ بھی اس کو تسلیم کر رہی ہے اور بظاہر اس کے ازالے کے لیے فکرمند بھی دکھائی دیتی ہے۔ مرکزی وزیرتعلیم ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی عربی مدارس میں جدت کاری لانے کا اعلان کر چکے ہیں اور اترپردیش کے وزیراعلیٰ راج ناتھ سنگھ مدرسہ پنچایت کر کے داد و دہش کا اعلان کر رہے ہیں۔ کانگریس سیکولر پارٹی سہی‘ مگر اس پر عرصے سے فرقہ پرست اور متعصب لیڈر حاوی ہو گئے ہیں جو نیشنلزم اور سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی نسل کشی‘ ذہنی ارتداد اور انھیں پس ماندہ طبقے میں تبدیل کرنے کا بندوبست کر رہے ہیں۔ دوسری سیکولر جماعتوں کو بھی مسلمانوں کے طاقت ور ہونے اور اُبھرنے سے دل چسپی نہیں ہے۔ ان کی خواہش یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ مجبور‘ بے بس اور کمزور رہ کر ان کے محتاج اور دست نگر بنے رہیں۔ رہی بی جے پی‘تو مسلمانوں کے بارے میں اس کا رویہ کس کو معلوم نہیں۔ مسنداقتدار پر فائز ہونے کے بعد اس کی اصول پسندی‘ ایمان داری‘ بے خوف و خطر سماج اور صاف ستھری حکومت دینے کی حقیقت بھی عیاں ہو گئی ہے۔

آزادی کے بعد سے اب تک بے شمار فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جن میں مسلمانوں کو تباہ برباد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی۔ خود امن و امان کے محافظوں نے فرقہ پرستوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو ظلم و تشدد اور لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بنایا مگر مسلمانوں کی پس ماندگی پر جن لوگوں کو اتنا قلق ہے‘ انھوں نے کبھی جارحیت پر آمادہ لوگوں کے ہاتھ نہیں پکڑے‘ صوبائی اور مرکزی حکومتوں نے مجرموں کو سزا نہیں دی بلکہ اُلٹے مظلوموں ہی کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر معاشی حیثیت سے انھیں مفلوج کرنے کا سامان کیا۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ منظم اور منصوبہ بند فسادات انھی جگہوں پر زیادہ ہوئے جہاں مسلمان قابل لحاظ تعداد میں اور کسی قدر خوش حال تھے۔ کیا اس کا مقصد ان کی تجارت و معیشت اور صنعت و حرفت کو برباد کر کے پس ماندہ اور مفلوک الحال بنانے کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے۔ کان پور کے فساد میں شرپسند عناصر‘ پولیس اور پی اے سی نے مسلمانوں کو تہ تیغ کرنے‘ ان کے گھروں اور دکانوں کو لوٹنے اور جلانے اور ذرائع معاش کو مسدود کرنے کا جو ’’کارنامہ‘‘ انجام دیا ہے وہ سب کے سامنے ہے لیکن مدارس پر انعام و بخشش فرمانے والے وزیر اعلیٰ اس کے بھی روادار نہیں ہوئے کہ فساد کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں۔ سرکاری ملازمتوں اور قومی و سیاسی زندگی کے مختلف شعبوں سے مسلمانوں کو بے دخل کر دینے کا مقصد بھی انھیں پسپا اور بدحال بنانا ہے۔ یہ پالیسی جس طرح کانگریسی حکومتوں اور لیڈروں کی رہی‘ اس سے کہیں بڑھ کر موجودہ حکومت کی ہے۔

مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی ان کی معاشی بدحالی سے وابستہ ہے۔ آزاد ہندستان میں خصوصاً ابتدائی تعلیم کا جو نظام و نصاب وضع کیا گیا اس پر ایک خاص مذہب اور مخصوص قوم کے کلچر کی گہری چھاپ ڈالی گئی ہے۔ اس رنگ کو بی جے پی حکومت نے اور چوکھا کر دیا۔ وہ تعلیم کو بھگوا رنگ میں رنگ کر مسلمانوں کو ان کے ایمان و عقیدے اور توحید و آخرت کے تصور سے بے گانہ ان کی تہذیب و روایات اور مادری زبان کو ختم کردینا چاہتی ہے۔ اترپردیش کی ابتدائی تعلیم کے وزیر نے جولائی سے ریاست کے تمام کانونیٹ اور پبلک اسکولوں میں پرائمری سطح پر ہندی کو لازمی اور اسے اترپردیش کی مادری زبان قرار دے کر اردو کو سراسر نظرانداز کر دیا ہے۔ اس طرح جو حالات پیدا کر دیے گئے ہیں ان میں اور اس نصاب تعلیم کی موجودگی میں مسلمان نہ صرف اپنی تہذیب اور مادری زبان سے ہاتھ دھو بیٹھیںگے بلکہ اپنے عقیدہ و مذہب سے بھی منحرف ہو جائیں گے۔ ظاہر ہے جن مسلمانوں میں دینی شعور ہے وہ اَن پڑھ رہنا گوارا کر سکتے ہیں مگر دیومالائی تصورات کے حامل نصاب تعلیم کے چکر میں پڑ کر اپنے دین و ایمان کو غارت کرنا پسند نہیں کریں گے۔

آئینی طور پر ہندستان کے ہر فرقہ و مذہب کو اپنے مدارس اور اسکول قائم کرنے کا حق ہے لیکن اولاً تو مسلمانوں کے لیے اپنی معاشی پس ماندگی کی بنا پر یہ آسان نہیں۔ ثانیاً تعصب اور تنگ نظری کی وجہ سے سرکاری یا برادرانِ وطن کے قائم کردہ اداروں میں ان کے داخلے کے دروازے تقریباً بند ہیں جس کی بنا پر ان کی خواندگی کی شرح کم تر ہوتی جا رہی ہے‘ تاہم کم مایگی اور بے بضاعتی کے باوجود ان کی توجہ گائوں گائوں میں مکاتب اور نئے اعلیٰ تعلیم کے ادارے قائم کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے تاکہ وہ دینی تعلیم سے بہرہ ور ہوں۔ جدید اور عصری تعلیم کے اسکول اور کالج قائم کرنے سے بھی وہ غافل نہیں ہیں۔ ان کے جو اسکول‘ کالج اور دو ایک یونی ورسٹیاں پہلے سے قائم ہیں‘ ان میں بھی وہ اپنے بچوں کو اس لیے تعلیم دلا رہے ہیں کہ ان کا دین اور ان کا عقیدہ سلامت رہے اور ان کی تہذیب اور مادری زبان ان کے ہاتھ سے جانے نہ پائے۔

ایک طرف حکومت کو بظاہر مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کا غم ہے۔ دوسری طرف وہ ان کے مکاتب و مدارس کو پریشان کرنے اور ان کے قائم کردہ اسکولوں‘ کالجوں اور یونی ورسٹی کا اقلیتی کردار ختم کرنے کے درپے ہے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیںگزرا کہ مرکزی وزیر داخلہ اور اترپردیش کے کئی وزرا مدارس کو آئی ایس آئی کا اڈا قرار دے چکے ہیں جس کے بعد ان پر شب خون مارنے اور ان کے ذمہ داروں اور وابستگان کو گرفتار کرنے‘ اذیت دینے اور فرضی مقدمات میں پھنسانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ حال میں وزارتی گروپ کی رپورٹ میں بھی مدارس کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بتایا گیا ہے‘ حالانکہ انھی خطرناک مدارس کو مرکزی وزیرتعلیم نے ماڈرن بنانے اور ان میں عصری تعلیم اورکمپیوٹر کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا اور وزیراعلیٰ ان کو مراعات دے رہے ہیں‘ اور دیسی زبان اردو کو اترپردیش سے جلاوطن کر کے بدیسی زبانوں عربی و فارسی کی تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت کا خزانہ کھول رہے ہیں۔ پس ماندہ ذاتوں کو ضرور ریزرویشن دینا چاہیے۔ ہم اس کے مخالف نہیں ہیں مگر اقلیتی اداروں کو اس سے مستثنیٰ رکھنا ضروری ہے تاکہ ان کے جائز اور دستوری حقوق اور اقلیتی کردار کا تحفظ ہو سکے جو ایک جمہوری اور سیکولر حکومت کی ذمہ داری بھی ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی پس ماندگی دُور کرنے کے لیے قومی اور سرکاری درس گاہوں اور سول سروسز میں انھیں بھی ریزرویشن دیا جائے‘ نہ یہ کہ ان کو ان کے اپنے اداروں میں بھی دوسرے لوگوں کے لیے گنجایش نکالنے کے لیے مجبور کیا جائے۔ اگر اس کی زد علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی پر پڑی جو ہندستانی مسلمانوں کی واحد عصری درس گاہ اور ملک کے سیکولرازم کا نشان ہے‘ تو ملک کے سیکولرازم کا رہا سہا بھرم بھی جاتا رہے گا اور مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی پر تشویش و اضطراب ظاہر کرنے والوں کی اصل حقیقت بھی واضح ہو جائے گی۔ (بہ شکریہ ماہنامہ معارف‘ اعظم گڑھ‘ جولائی ۲۰۰۱ء)