اپریل ۲۰۲۶

فہرست مضامین

انسانی تربیت پر ماحول کے اثرات

نعیم صدیقی | اپریل ۲۰۲۶ | سماجیات

Responsive image Responsive image

یہ سوال کہ ’موجودہ ماحول انسانی تربیت پر کیا اثرات ڈالتا ہے؟‘ اس سیدھے سادے مختصر سوال کا جواب مختصر نہیں ہوسکتا۔ موجودہ ماحول انسانی اکثریت میں جو اثرات پیدا کرتا ہے، ان کا اندازہ ان خبری معلومات سے کیا جاسکتا ہے جو ہر روز میڈیا اور اخبارات ہمارے سامنے لارکھتے ہیں۔ اس دور میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہرجگہ الحاد، مادہ پرستی اور آخرت فراموشی کے ساتھ دوسروں کی خدمت اور خیرخواہی کا خاتمہ ہورہا ہے اورملکوں ملکوں میں ذلّت آمیز مناظر اُبھر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ عقل کی ساری طرازیوں کے باوجود انسان کے اندر چھپا ہوا حیوان انسانیت کے خول سے باہر آکر آفات کا ایک طوفان اُٹھا رہا ہے۔ پچھلے چار پانچ سو سال کی تاریخ کا ہر دور اپنے سے پہلے زمانے کے مقابلے میں زیادہ پستی، شر اور ذلّت کا دور ہے۔ اور آج ہم تاریخ کے انتہائی گندے دور میں گھرے ہوئے ہیں۔  

موجودہ مادہ پرستانہ ماحول نے انسانی اکثریت میں جو آفات پھیلا دی ہیں وہ یہ ہیں: بُتِ دولت کی پرستش، معیارِ زندگی بڑھانے کا جنون، خواہشات و لذات کی غلامی، عہدوں، شہرت اور تعیشات سے دلچسپی، انسانی اخلاقیات سے دُوری، معاملات میں حرام و حلال اور جائز و ناجائز کی تمیز کا خاتمہ، عام طریقوں سے آمدنی یا کثیر دولت نہ ملے تو جرائم، قتل اور ڈاکے، چھیناجھپٹی، قبضہ گروپ کا نیاکھیل، چوری، بنکوں پر ڈاکے، ہیروئن اور دیگر منشیات کا کاروبار، رشوت و خیانت، کام چوری، جعل سازی، اپنی تہذیبی اقدار اور شعار کی پامالی، بے پردہ مخلوط معاشرت اور جنسی اُکساہٹوں والے فنون اور ابلاغیات کی چاٹ، بڑھتی ہوئی بدکاری کے علاوہ، جنسی اُکساہٹوں کے سبب علی الاعلان گندی حرکات اور کمینگی کے مظاہرے___ علم و تحقیق، ادبی و شعری تخلیقات، نیز سائنسی علوم میں اکتشافات میں کم از کم ہم مسلمانوں میں کارناموں کا خانہ خالی نظر آنا۔ دشمنِ اسلام نظریوں اور تہذیبوں کی اندھی غلامی، نظامِ تعلیم کا غلامی کے دور سے اب تک جکڑے رہنا اور معاشرے کی فلاح و ترقی کے لیے کوئی کردار ادا نہ کرسکنا___ یہ ہے چارج شیٹ ماحول کے خلاف۔ 

معاشرتی بگاڑ کے اسباب 

پھر اگر یہ دیکھا جائے کہ ’ہمارے ماحول میں بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کون سے ہیں؟‘ توسرسری طور پر یہ کہا جاسکتا ہے: 

۱- ملکی اور غیرملکی پریس کا نگارشاتی، تصویری اور نشریاتی مواد۔ 

۲- الیکٹرانک نشریات کے وہ پروگرام جن کی اکثریت یا تو تفریحی مواد پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں کوئی حدود و قیود نہیں، حالانکہ ہمارے پاس اسلام کے دیئے ہوئے معیارات، جو زندگی کے ہرمعاملے میں موجود ہیں، یا ایسے پروگرام جن میں حقیقتیں، چاہے وہ قرآن و حدیث کی ہوں، ایسے دلچسپ اور لطیف انداز میں لانے کی کوششیں جس کی وجہ سے عوام متوجہ ہوں۔ انھیں سوچنے اور بروئے کار لانے کی کوشیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔اس کے برعکس عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کی اندھی اور بداخلاقی پر لگی دوڑ میں حکمت اور حیا دونوں برباد ہورہے ہیں۔ اس طرح ٹیلی ویژن اور میڈیا، سو وہ تو ہرگھر میں ایک پروفیسر یا ڈاکٹر کی طرح ڈیوٹی کے لیے موجود رہتا ہے۔ وہ لفظ، طور طریقے، ہنسی مذاق، رقص و سُرود، بے حیائی اور بے پردگی، فیشن اور اَطوار جو ان کو سکھانا چاہے سکھا رہا ہے۔ ان سے ماں باپ بچوں کو نہیں بچاسکتے ہیں بلکہ وہ تو خود اسی مدرسے کے طالب علم ہیں۔ نہ مسجد کی اذان، نہ قرآن کے سبق ۔ مغربی الحاد اور اس سے پیدا ہونے والی تہذیب نے ہمارے گھروں میں کیمپ لگا دیئے ہیں۔ 

۳- تیسرا سبب ماں کی گود اور باپ کے سایۂ شفقت میں جو بنیادی درس حاصل کرنا ضروری تھا، اس کا سلسلہ دونوں کی ملازمت نے یا پھر میڈیا دیکھنے کی مشغولیتوں نے ختم کر دیا۔ 

۴- اشتہارات کی یلغار، ڈراموں اور فلموں کے اداکاروں کی تصاویر بھی نئی نسل پر اثر ڈالتی ہیں۔ 

۵- بچوں کے، لڑکوں اور نوجوانوں کے لیے ان کی عمروں کے مطابق اور ان کی دلچسپیوں کا خیال رکھ کر کافی لٹریچر کا موجود نہ ہونا۔ 

۶- نظامِ تعلیم کا مغربی نظریہ الحاد و مادہ پرستی پر مبنی، تاریخ، ادب، اجتماعیات، معاشیات، نفسیات، سائنس وغیرہ کا نصابی سلسلۂ کتب ایسا مہیا کرنا، جو ہمارے طلبہ کے نظامِ عقائد میں خلل ڈال کر غلط افکار کا انھیں قائل بنالینا اور مذہبی جذبے کو ذبح کردینا یا پَر نوچ کر شدید مجروح کردینا۔ پھر جو نصابی کتابیں انھی کتابوں سے مواد لے کر لکھی جاتی ہیں، یا گائیڈبکس وغیرہ سب وہی کام کرتی ہیں۔ ستم یہ کہ مغربی افکار و علوم کے ہرشعبہ اور ہراہم مصنف یا کتاب کے متعلق ایسا تنقیدی لٹریچر ہماری قوم پیدا نہیں کرسکی، جو بیرونی افکار سے آویزش پیدا کردیتا، تو ہمارے نوجوان اور ضمناً حکمران اور لیڈر اور عوام سوفی صدی سرینڈر تو نہ کردیتے۔ 

۷- مجموعی معاشرہ (جس کا پہلا یونٹ محلّہ ہوتا ہے) پورے کا پورا ایک درس گاہ ہے ، جو چوبیس گھنٹے کام کرتی رہتی ہے۔ ہربچہ اور ہرنوجوان اس کے اندر سے نہ صرف گزرتا بلکہ اس میں گھرا رہتا ہے۔ اس معاشرے کے بازار میں گالی سے لے کر گولی تک اور جھوٹ سے لے کر لوٹ مار تک، غلاظت سے لے کر عدم تحفظ تک، ایک عجب زندگی کا ہر سودا چاروں طرف سجا ہوا موجود ہے۔ یا یہ کہیے کہ سبق لکھے ہوئے ہیں، سڑک پر چلتے ہوئے، کسی دکان سے سودا لیتے ہوئے، کسی طعام گاہ میں کھانا کھاتے ہوئے، وہ جو کچھ سنتا، دیکھتا اور بھگتتا ہے، یہ کتابی دُنیا سے زیادہ مختلف اور مؤثر ہوتا ہے۔ اس کے سامنے انتخابات ہوتے ہیں۔ وہ لیڈروں کے بیانات پڑھتا ہے، اسمبلی کی بحثوں کی اسے خبر ملتی ہے، باہر سے آنے والے وفود کا اسے علم ہوتا ہے۔ لوگوںکو دنگافساد کرتے دیکھتا ہے، جلوسوں کی توڑپھوڑ اس کے سامنے آتی ہے، وہ انتہائی امیروں کو اور بھکاری بچّے کو بھی دیکھتا ہے۔ غرضیکہ کہاں تک بیان کیا جائے، وہ آہستہ آہستہ عملی زندگی کی کتاب پڑھ لیتا ہے۔ کبھی گھر میں وہ جھوٹ اور وعدہ خلافی کی باتیں سنتاہے، کبھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ آج ابّو رشوت کی مٹھائی لائے ہیں، کبھی اس کے سامنے مذہب یا آخرت کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ 

یہ سب وہ طریقے ہیں جن سے معاشرہ اپنے افراد کو ایک خاص نہج پر ڈھالتا ہے۔ شاذونادر بعض افراد اس کی غلاظتوں اور پستیوں سے بچ نکلتے اور تھوڑا بہت اصلاح و خدمت کا کام کرتے ہیں۔ 

یہ سب عناصر ہمارے فکروعمل اور ہمارے عقائد و نظریات کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ عقائد اگر بے جان، خوابیدہ، دھندلے اور یقینِ کامل کی روح سے خالی ہوجائیں تو وہ کوئی اثر نہیں ڈال سکتے۔ ہاں، اگر وہ زندہ ہوں، بیدار ہوں، روشن ہوں، ایمانی مرتبے پر ہوں، تو وہ ہمارے تمام افکار و اعمال کی جڑیں بن جاتے ہیں اور ان کی دی ہوئی غذا سے ساری زندگی نشوونما پاتی ہے۔ جو لوگ مسلمان رہ کر بھی غیراسلامی زندگی گزارتے ہیں، ان کے اصل عقائد زندہ و بیدار نہیں رہتے، لہٰذا دوسرے نظاموں کے عقائد اور تہذیبوں کے اثرات خاموشی سے آکر ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ 

انسانی تربیت میں والدین کا کردار 

انسانی تربیت میں والدین کا کردار بہت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بچّے کی تربیت کا پہلا ادارہ گھر کا ادارہ ہے، جس کے کارپرداز والدین (اور دوسرے بزرگ یا بھائی بہن) ہوتے ہیں۔ والدین کے سامنے اگر اپنی اولاد کو انسانیت کے بہترین معیار تک پہنچانا اور اسلامی فکروعمل سے آراستہ کرنا ہو تو ایسے دُور اندیش اور ذمہ دار والدین، بچّے کی پیدائش سے پہلے سارا منصوبہ بنالیتے ہیں۔  

والدین اسے زبان سکھاتے ہیں اور زبان اور گفتگو کی خرابیوں سے بچاتے ہیں۔ وہ سونے سے لے کر جاگنے تک اور پھر دن میں گھر کے روز مرہ مشاغل میں شرکت کراتے وقت بچّے کو صحیح آداب کی تربیت دیتے، اقدار اور شعائر سے مالامال کرتے ہیں۔ گندگی سے بچنے کی تربیت دیتے ہیں۔ ہاتھ منہ صاف، ناخن درست، لباس دُھلا ہوا ہو اور اگر کہیں سے پھٹا ہو تورفو کیا جائے، جوتے پالش کیے ہوئے اور مٹی سے صاف، پورے جسم کی صفائی، دانتوں کی صفائی، سر کے بالوں کو کنگھی سے درست کرنا، بڑوں کاادب اور ان کا حکم ماننا، چھوٹوں سے محبت کرنا، گھر میں اور گھر کے باہر جہاں ضرورت ہو مدد پہنچانا اور خدمت کرنا، خدا کو پہچاننا، اس کے دین کی تعلیم آہستہ آہستہ حاصل کرنا، قرآن پڑھنا، نماز ادا کرنا، مقررہ اوقات میں اچھے اخلاق کے شریف بچوں کے ساتھ کھیلنا، اسکول کا دور ہو تو آموختہ یاد کرنا، اگلے سبق کی تیاری کرنا، جو کام کرنے کو استادوں نے بتایا ہو، خوش خطی سے لکھنا اور صفائی سے کرنا، گالی، جھوٹ، وعدہ خلافی سے بچنے کی تربیت ماں باپ کرتے ہیں۔ 

یہ معلوم کرنا کہ دُنیا میں اچھائی بھی پائی جاتی ہے اور بُرائی بھی، اور کبھی کبھی بُرائی بہت دلکش ہوتی ہے، جیسے سانپ کی لہردار جِلد بہت کشش رکھتی ہے۔ بچّے کو والدین آہستہ آہستہ تلقین کر کے جہاں یہ بتائیں کہ بُرائی اور اچھائی کی کیا کیا شکلیں ہیں، وہاں ان کو بُرائی سے بچنے اور ہوسکے تو دوسروں کو بھی بچانے یا سرے سے مٹانے کی کوشش کرنا، اچھائی میں چمک دمک کم ہو تو بھی اسے قبول کرنا اور پھیلانا بتائیں۔  حرام و حلال کا فرق سمجھائیں۔  

والدین ان کے سامنے تاریخ کی روشن شخصیتوں کے حالات بیان کریں اور اس طرح شہرت یافتہ ظالموں اور بے انصاف بادشاہوں، یا بُری عادتوں کی وجہ سے برباد ہونے والے بڑے لوگوں کا بھی نقشہ کھینچیں۔ خبروں پر گفتگوکرکے انھیں سمجھائیں کہ اچھا کیا ہے اور بُرا کیا۔ ان کے لیے مفید اثرات رکھنے والی دلچسپ کہانیوں، نظموں اور معلوماتی قسم کی کتابیں عمر کے لحاظ سے فراہم کرتے رہیں۔ ان کے لیے گھر میں چھوٹی سی لائبریری خود ان کے ہاتھوں سے تیار کرائیں جو بڑھتی رہے۔ انھیں سیر کرائیں، میوزیم، چڑیا گھر، پریس اور دوسرے کارخانے، نیز مساجد اور تاریخی یادگاریں اہتمام سے دکھائیں۔ جس شہر میں بھی جانا ہو، وہاں بھی دینی اور دُنیوی معلومات سے ان کو آراستہ کریں۔ 

ان ساری کوششوں کے ساتھ اپنی خداپرستانہ تہذیب کی اعلیٰ قدروں ___ صداقت، انصاف، تواضع ، حیا، ہمدردی، رحم وغیرہ کو اُبھاریں۔یہی چیزیں عملی شکل اختیار کر کے اخلاقِ عالیہ کی سطح تک پہنچتی ہیں۔ ان کو تربیت دیں کہ وہ معاشرے اور ماحول کے بُرے حالات، دنگے فساد، لُوٹ مار، کھانے کی ناقص مگر ظاہراً دلکش اشیاء، عمارتوں اور گاڑیوں پرنگاہِ غلط انداز ڈالتے ہوئے جلد گزر جائیں اور کوئی بُرااثر نہ لیں۔ وہ صرف اپنے خدا کی خوشنودی کو سامنے رکھیں۔ تعلیم گاہ کا ادب کریں، اساتذہ کا احترام کریں اور قواعد و ضوابط اور وقت کی پابندی کریں۔ اگر مکتب اور کالج کی تعلیم کے ساتھ والدین کی یہ مساعی جاری رہیں اور دونوں یکساں انداز سے کام کریں تو بہت اچھا نتیجہ ہوسکتا ہے ورنہ گھر اور درس گاہ میں اگر تضاد ہو تو بچّے میں بامعنی زندگی کے لیے اچھا کردار پیدا نہیں ہوسکتا۔ 

اصلاحِ معاشرہ اور تعمیرِنو 

اسلوبِ بیان بدل بدل کر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آج، جب کہ پوری دُنیا ایک محلّہ اور گائوں بن گئی ہے، تو دُنیائے اسلام، اپنے گھر، محلّے، شہر، ملک اور ساری دُنیا کے ماحول کاتحفظ کس طرح کرسکتی ہے؟ 

دُنیا ایک ہوکر سامنے آئے،یا الگ الگ ملکوں اور معاشروں کا معاملہ ہو۔ ان میں بگاڑ چاہے خوفناک حدوں تک پھیل جائے اور زوداثر اور تیزرفتار ذرائع ابلاغ اور ان کا بنایا ہوا ماحول حددرجہ بگڑ جائے، تو پھر بھی اصلاح و تعمیرِنو کا صرف ایک راستہ ہے۔ وہ یہ کہ کوئی فرد پیغمبر کی تعلیم سے روشنی حاصل کرکے انھی کے طریق پر (جس کے لیے کامل اور واضح نمونہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں) تن تنہا دعوتِ حق لے کر اُٹھ کھڑا ہو، اور دوسرا ساتھی تیار کرے۔ پھر اسی فکرو تحریکِ اصلاح کو وہ دونوں آگے بڑھائیں، یہاں تک ایک سے زیادہ گروہ منظم کام کرنے میں لگ جائیں۔ اس طرح ایک ایک فرد صحیح عقیدہ و فکر اور صحیح راہِ عمل اختیار کرتا چلا جائے، یہاں تک کہ ملکی یا عالمی معاشرہ میں ایک وقیع طاقت، علوم سے آراستہ اورکردار کی پاکیزگی سے مزین، نئی دینیات تیار کرنے اور نیا انسان بنانے کی مہم کو پھیلاتی چلی جائے۔تاآنکہ لوگ متوجہ ہوں، اس کے متعلق بحثیں پیدا کریں، کہیں جبروستم بھی ان لوگوں کے امتحان کا ذریعہ ہے، اور اس طرح یہ طرزِفکروعمل اتنا عام ہوجائے کہ معاشرے کی سیاست، معیشت، معاشرت اور ثقافت بے تُکے طریق سے چل نہ سکے۔ اس معاملے میں ایک طویل کش مکش کام کرسکتی ہے، جس کے اثرسے اور زیادہ لوگ تحریک اصلاح کے گرد جمع ہوں۔ اس کا آخری نتیجہ انقلاب ہوگا، چاہے کسی بھی راستے اور طریقے سے واقع ہو۔ 

اصلاح ہمیشہ اس اصول پر ہوتی ہے کہ گھٹاٹوپ اندھیرے میں کہیں ایک چراغ جلتا ہے، پھر ایک اور، پھر اور ___ یہاں تک کہ شعاعوں اور روشنیوں کے لشکر ہر طرف پھیل جاتے ہیں۔ خاصی تعداد جب اس کام کے لیے تیار ہوجائے تو چاہے وہ انقلاب کا راستہ اختیار کریں اور چاہے انتخاب کا، کامیابی صرف اتنی ہوگی جس تناسب سے اصلاح یافتہ اور علَم بردارانِ اصلاح افراد تیار کیے جاچکے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کام جلدی سے کرلینے کا نہیں۔ جس میں بھی جلدی اقتدار حاصل کرنے اور اس کے لیے ہردرجے، ہرسطح اور ہر ذہن کے لوگوں کے تعاون سے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوجائے، وہ اقتدار حاصل کرکے بھی معاشرے کی بے شمار مخالف اصلاح قوتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور نہ وہ دین کے لیے غلبہ کا سامان کرسکتا ہے۔ جتنا جتنا معاشرے میں فضا تیار ہوگی، صرف اتنا ہی کام کرنا ممکن ہوگا۔ نہ یہ کہ چند نشستیں زیادہ مل جانے سے ظلم کا استیصال ہوجائے گا اور نیکی کی صبح طلوع ہوجائے گا۔ اس پر یہ مصرع صادق آتا ہے کہ: عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب 

معاشرے میں تبدیلی کے لیے فضا اور نوجوانوں میں اس کی اُمنگ پیدا کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اگر کام کیا جائے تو اس کا نقطۂ آغاز نظامِ تعلیم کی درستی ہے۔پھر نظامِ تعلیم کو اتنی مرکزی اہمیت دی جائے کہ یونی ورسٹیوں کے کرتا دھرتا مل کر یہ طے کریں کہ نئے نظام تعلیم کے ذریعے ہم کیسے افراد تیار کرنا چاہتے ہیں، کن طور طریقوں کو رائج کرنا چاہتے ہیں، ہمارے سامنے تہذیبی قدریں کون سی ہیں اور ہم کیا نصب العین تعلیم کے ذریعے قوم کو دینا چاہتے ہیں؟ پھر ان ساری چیزوں کے متعلق وہ بچوں کے والدین، اخبارات کے ایڈیٹروں، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے کارپردازوں، فلم سازوں اور ناشرین کتب و جرائد اور مشتہرین اور آرٹسٹوں کو آگاہ کردیں کہ ہمارے ان تعلیمی تقاضوں کی خلاف ورزی نہ کی جائے بلکہ ان کو تقویت بہم پہنچائی جائے۔ اس کے لیے ضروری قانون سازی ہونی چاہیے۔