مضامین کی فہرست


جولائی ۲۰۱۶

جمہوری معاشرے میں سالانہ قومی بجٹ اور پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس موقعے پر قوم کو ملک کی معاشی حالت، اس کے مالی وسائل اور ان کے استعمال کی صورتِ حال، حکومت کی معاشی اور مالیاتی پالیسیوں اور ترجیحات کی کیفیت سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ حال اور مستقبل کے سیاسی، دفاعی اور ہرقسم کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور اس کے استعمال کی منصوبہ بندی کیا ہے؟ اس پر بحث و گفتگو کرنے اور قوم اور ملک کے معاشی اور اجتماعی مقاصد اور اہداف کی صورت گری کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کی حکومت نے اپنے اقتدار کے تین سال مکمل کرلیے ہیں اور یہ چوتھا بجٹ اس حکومت کی تین سال کی کارکردگی کے جائزے کا بہت ہی مناسب موقع ہے۔

ویسے تو جمہوری ممالک میں نئی حکومت کے پہلے ۱۰۰دن ہی اس کی کارکردگی اور سفر کے رُخ کو سمجھنے کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں لیکن تین سال کی مدت تو ہراعتبار سے حکومت کی صلاحیت ِکار اور مستقبل کے باب میںا س سے توقعات کے بارے میں ایک معروضی راے قائم کرنے کے لیے کافی مدت ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کے بیش تر ممالک میں تو حکومت کی ٹرم چار سال ہی ہوتی ہے جس کی سب سے اہم مثال خود امریکا ہے لیکن چونکہ ہمارے دستور میں یہ مدت پانچ سال ہے، اس لیے اس کے دوسرے نصف کے آغاز کو ہراعتبار سے جائزے اور محاسبے کے لیے ایک مناسب میقات تصور کیا جانا چاہیے۔

جیساکہ ہم نے اشارہ کیا ، قومی بجٹ صرف گذشتہ سال کے دوران حکومت کے زیرتصرف مالی وسائل کے حصول اور خرچ کا ایک میزانیہ اور اگلے سال کے لیے وسائل اور ان کے استعمال کا ایک پروگرام ہی نہیں ہوتا بلکہ دراصل ان مالی اعداد و شمار کے آئینے میں حکومت کی معاشی منزل اور وژن، پالیسیوں اور حکمت عملی، ترجیحات اور اہداف کی ایک معتبر اور مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔

بجٹ سے پہلے سالانہ معاشی جائزہ پیش کیا جاتا ہے جو گزرے ہوئے سال کے معاشی حالات، طے شدہ اہداف کے حصول یا حصول میں ناکامی اور معاشی اور مالی پالیسیوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کو پیش کرتا ہے، اور جس کے اسٹیٹ بنک کی سہ ماہی اسٹیٹ آف دی ایکونومی رپورٹوں کے ساتھ مطالعے سے ملک کی تاریخ کے پس منظر میں گزرے ہوئے سال کی پوری صورتِ حال کو سمجھا جاسکتا ہے۔ پھر اس کی روشنی میں نئے سال کا بجٹ اور سالِ گذشتہ کے اخراجات اور آمدنیوں کی پوری تفصیل کئی ہزار صفحات پر پھیلی ہوئی دستاویزات کی شکل میں     قومی اسمبلی، سینیٹ اور قوم کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تاکہ قوم، ملک کے معاشی، سیاسی اور    علمی حلقے، میڈیا اور متاثر ہونے والے تمام عناصر اپنی اپنی راے کا اظہار کرسکیں۔ سینیٹ اگرچہ بجٹ منظور نہیں کرتا لیکن اسے دو ہفتے کے اندر اپنی سفارشات پیش کرنے کا اختیار ہے۔قومی اسمبلی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان سب آرا کی روشنی میں بجٹ کو آخری شکل دے۔ اس کے تین مرحلے ہوتے ہیں، یعنی بجٹ کے پیش ہونے کے بعد اس پر عام بحث۔ پھر متعین اخراجات پر احتساب جنھیں کٹوتی کی تحریکات (Cut Motions) کہا جاتا ہے اور پھر بجٹ کی منظوری۔ کٹوتی کی تحریک بھی اتنا اہم مرحلہ ہوتا ہے کہ اگر حزبِ اختلاف کی طرف سے صرف ایک تحریک منظورہوجائے تو حکومت کو مستعفی ہونا پڑتا ہے اور بجٹ کی ازسرِنو تشکیل ضروری ہوجاتی ہے۔

دنیا کے بیش تر جمہوری ممالک میں بجٹ سازی کا کام چار سے چھے مہینوں پر پھیلا ہوا ہوتا ہے تاکہ ہرسطح پر معاشی اور مالی معاملات کا گہرائی میں جائزہ لیا جاسکے۔ امریکا میں اسمبلی اور سینیٹ کی متعلقہ کمیٹیاں سال بھر کام کرتی ہیں۔ برطانیہ میں یہ عمل بجٹ پیش ہونے سے تین مہینے پہلے شروع ہوجاتا ہے اور برطانیہ اور نصف سے زیادہ جمہوری ممالک میں پارلیمنٹ میں بجٹ پیش ہونے کے بعد پارلیمنٹ اس پر چار سے آٹھ ہفتے گفتگو کرتی ہے اور پھر افہام و تفہیم کے ساتھ اسے متفقہ طور پر یا اکثریت کی بنیاد پر منظور کیا جاتا ہے۔

بجٹ سازی کا عمل جس سنجیدگی، ملک گیر بحث و گفتگو اور ان تمام عناصر کے درمیان جو کسی نہ کسی درجے میں متاثر ہورہے ہوں، معنی خیز افہام و تفہیم کے جس عمل کا متقاضی ہے، بدقسمتی سے اس کا پاکستان میں کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا۔ پارلیمنٹ خود بھی اپنا دستوری کردار ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے اور تمام ہی حکومتوں نے بجٹ کو محض ایک رسم اور حکومت کی مرضی کو آمرانہ انداز میں مسلط (bulldoze) کرنے کی روایت قائم کر دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) جب حزبِ اختلاف میں تھی تو پیپلزپارٹی کی روش پر سیخ پا تھی اور اس رویے کو ننگی آمریت کہتی تھی، اب اقتدار میں ہے تو اس سے بھی بدتر رویہ اختیار کرنے میں وہ کوئی باک محسوس نہیں کرتی۔ جس کی بدترین مثال اس سال پیش کی گئی ہے۔

بجٹ کی بے توقیری

سینیٹ کی سفارشات میں سات آٹھ سال سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سالانہ معاشی جائزہ بجٹ سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے شائع ہو تاکہ اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا جاسکے۔ ۲۴گھنٹے پہلے لانا ایک مذاق ہے۔ موجودہ وزیرخزانہ ہمارے ساتھ اس مطالبے میں پورے    جوش و خروش سے شریک تھے مگر ان کی اپنی حکومت کے چوتھے بجٹ کے موقعے پر بھی معاشی جائزہ وہی ایک دن پہلے شائع کیا گیا ہے۔ اس طرح ان کے دور میں بھی ہرسال اسی طرح بجٹ کے ساتھ اضافی اخراجات کی پوری کتاب آرہی ہے جس طرح پہلے آتی تھی، جو دستور اور جمہوری اصولوں کی روح کے خلاف ہے اور دستور کی کسی بہت ہی خاص مجبوری کے حالات کے لیے ایک گنجایش کا صریح غلط استعمال ہے۔ اس سال میں یہ اضافی اخراجات ۲۶۱؍ارب روپے پر پھیلے ہوئے ہیں اور لگژری گاڑیوں کی خریداری بھی اس کا حصہ ہے۔ بجٹ کی تیاری کے دوران جس نوعیت کی مشاورت ضروری ہے، اس کا اہتمام نظر نہیں آتا۔ سب سے  افسوس ناک صورت حال بجٹ کے پیش کیے جانے کے ساتھ وہ سلوک ہے جو اس کے اور پارلیمنٹ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ سینیٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ سینیٹ کی سفارشات کی منظوری کے وقت وزیرخزانہ بحث میں موجود نہیں تھے اور ان کی اختتامی گفتگو کے بغیر سینیٹ کو اپنی سفارشات بھیجنا پڑیں۔ قومی اسمبلی میں نصف درجن سے زائد مواقعے پر بجٹ اجلاس کو کورم نہ ہونے کے باعث ملتوی کرنا پڑا۔وزیرخزانہ بحث کے تین چوتھائی وقت اسمبلی میں موجود نہ تھے۔ سرکاری ارکان تک شکوہ سنج تھے کہ انھیں کوئی سننے والا نہیں ہے اور ایک مسلم لیگی ایم این اے نے تو اپنی تقریر پھاڑ دی اور تقریر کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ نہ کوئی وزیر ہے اور نہ کوئی سننے والا ۔ اخباری اطلاع ہے کہ اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری جماعت کے ۶۰ سے زیادہ ارکان نے احتجاجاً واک آئوٹ کیا اور ان کو مناکر واپس لانے کی رسم بھی ادا کرنا پڑی۔ افسوس صد افسوس!  ع 

جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

بجٹ اور بجٹ سیشن کی اتنی بے توقیری کی کوئی مثال خود ہماری اپنی پارلیمنٹ کی تاریخ میں موجود نہیں۔ ایک موقعے پر تو حکومت اور حزبِ اختلاف کے تمام حاضر ارکان کی تعداد صرف نو بیان کی گئی ہے۔

سیشن میں کیے جانے والے مباحث کا جائزہ لیا جاتا ہے تو افسوس ہوتا ہے کہ دو یا زیادہ سے زیادہ تین تقاریر کو تسلی بخش قرار دیا جاسکتا ہے۔ ستم ہے کہ خود حکومت کے وزرا کی فوج ظفرموج بھی بجٹ کی تشریح یا دفاع کرتی نظر نہیں آتی۔ کوئی ایک تقریر بھی سرکاری بنچوں کی طرف سے ایسی نہیں ہوئی جسے قابلِ ذکر قرار دیا جاسکے۔ رہا میڈیا تو وہی چار پانچ وزیر اور ایک مشیر ہیں جو گھسی پٹی باتیں ایوان میں اور میڈیا پر دہراتے رہے ہیں اور اصل ایشوز پر کسی کو کوئی مدلل بات کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ حزبِ اختلاف کی تقاریر کا معیار بھی تسلی بخش نہیں قرار دیا جاسکتا حالانکہ یہ حکومت اور اس کی پوری کارکردگی پر گرفت کا بہترین موقع تھا۔ خود حکومت کا رویہ بڑا تشویش ناک رہا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم (جو خود بھی پارلیمنٹ میں بہت کم رونق افروز ہوتے تھے) کی عدم موجودگی کے سبب حکومت کا کوئی سرپیر ہی نہیں ہے۔ بجٹ بنانے میں بھی سارا بوجھ وزارتِ خزانہ پر ہے حالانکہ اس میں پلاننگ کمیشن اور تجارت، معاشی اُمور، بجلی، گیس اور پٹرولیم، زراعت، تعلیم، صحت، لیبر وغیرہم کا بھی ایک نمایاں کردار ہونا چاہیے ۔ اس سال خصوصیت سے جو صورتِ حال سامنے آئی ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ بجٹ سازی اور اس کے دفاع میں ان کا کوئی دخل نہیں۔ حتیٰ کہ خوراک کے لیے خودانحصاری کے حصول کے لیے جو نئی وزارت بڑے طمطراق سے قائم کی گئی تھی، اس تک کا دُور دُور کوئی پتا نظر نہیں آتا۔ حکومت کا حال یہ ہوگیا ہے کہ    ؎

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

ہمیں دُکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں اتنے سپاٹ، بے روح، وژن سے محروم اور سطحیت کے شکار بجٹ کی توقع وزیرخزانہ اور ان کی ٹیم سے نہ تھی___ ۲۰۱۳ء کے انتخابات کے موقعے پر مسلم لیگ کا تو دعویٰ ہی یہ تھا کہ ہمارے پاس پروگرام، تجربہ اور لائق ٹیم ہے اور ہم چھے مہینے میں ملک کی قسمت کو بدل کر رکھ دیں گے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تیسرا سال ختم ہوگیا ہے اور پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے، خوش حالی نایاب ہے، اور غربت بڑھ رہی ہے، روزگار معدوم ہے، قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور معیشت کا پہیہ ہے کہ گردش میں نہیں آرہا۔ مالی سال ۱۶-۲۰۱۵ء میں زراعت پچھلی دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ نہ صرف یہ کہ ترقی کا  اپنے ہدف حاصل نہ کرسکی بلکہ عملاً منفی پیداوار کا منظر پیش کر رہی ہے اور گذشتہ سال کی پیداوار کے مقابلے میں پیداوار کا کُل حجم کم ہوگیا ہے۔ معاشی ترقی کی شرحِ نمو میں زراعت کا کردار منفی رہا ہے۔ اسی طرح برآمدات جو زرمبادلہ کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہیں، وہ تین سال سے جمود کا شکار ہیں اور   جون ۲۰۱۶ء میں سالانہ برآمدات کا حجم ۲۰۱۳ء کی برآمدات سے کم ہے۔ یہی معاملہ بیرونی سرمایہ کاری کا ہے جو ساڑھے تین بلین ڈالر سالانہ سے کم ہوکر صرف ایک بلین ڈالر پر آگئی ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ حالات غیرمتوقع طور پر رُونما ہوگئے ہوں۔ ان تینوں برسوں کے اکانومک سروے دیکھ لیجیے، اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی سہ ماہی رپورٹوں کا مطالعہ کرلیجیے۔ ورلڈبنک اور آئی ایم ایف کی تبصراتی رپورٹوں  سے رجوع کر لیجیے۔ کہیں کھلے الفاظ میں ، کہیں  اشارتاً معیشت کی مخدوش صورتِ حال اور خصوصیت سے زراعت، برآمدات کا جمود، توانائی کی قلّت کی تباہ کاریاں، پیداواری inputs کی قیمتوں کے اضافے، قوتِ خرید کی کمی، قرضوں کے بوجھ میں مسلسل اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری میں کمی اور قومی بچت کے غیرتسلی بخش رجحانات، تعلیم اور صحت کی زبوں حالی، غیرمنظم اور غیرمتوازن شہرکاری سب کا ذکر موجود ہے لیکن حکومت آزاد معیشت (liberalization) اور گلوبلائزیشن کے عشق میں ایک گھسی پٹی لکیر پیٹتی رہی اور اب بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ کبھی کسان پیکج کی بات کرتی ہے اور کبھی برآمدات کے لیے نئے محرکات کی۔ بلاشبہہ ان دونوں میدانوں میں فوری اقدامات کی ازحد ضرورت ہے لیکن مسئلہ پوری معاشی پالیسی، حکمت عملی کی ترجیحات، وسائل کے منصفانہ استعمال اور اچھی حکمرانی کے قیام کا ہے۔ بحران صرف زراعت اور برآمدات کا نہیں بحران پوری معاشی پالیسی اور تمام ہی اہم ادارات کی ناکامی اور خستہ حالی کا ہے۔ جب تک پالیسی کے جملہ پہلوئوں کی اصلاح کی فکر نہ کی جائے اور جو structural اور اداراتی بحران ہے، اس کو درست نہ کیا جائے، حالات میں کسی بڑی تبدیلی اور عوام اور ملک کی مشکلات دُور ہونے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔ ان سب پر مستزاد ملک گیر کرپشن اور قومی دولت کو قوم کی فلاح کے لیے استعمال کرنے کے بجاے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کا مسئلہ ہے جو معیشت کو گھن کی طرح کھا رہا ہے اور عوام اور حکمرانوں کے درمیان دُوریاں بڑھا رہا ہے۔

معاشی کارکردگی کا جائزہ

بجٹ اور حکومت کی معاشی کارکردگی کو جانچنے کے کم از کم تین معیار ہوسکتے ہیں۔ سب سے آسان اور سطحی معیار یہ ہے کہ سابقہ بجٹ میں جو اہداف رکھے گئے تھے وہ کہاں تک پورے ہوئے ہیں اور کہاں گاڑی مطلوبہ رفتار سے نہیں چل سکی؟ اس پہلو سے آپ جائزہ لیں تو ۲۰واضح اہداف رکھے گئے تھے جن میں سے نو کے بارے میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ حاصل کرلیے ہیں ، جب کہ ۱۱ میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی___ خصوصیت سے زراعت جس کا قومی پیداوار میں حصہ ۲۱ فی صد اور ملک کی لیبر فورس میں ۴۵ فی صد ہے۔ برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری کے اہداف بھی پورے نہیں ہوسکے۔ معیشت میں مجموعی نمو کی شرح میں گو سالِ گذشتہ کی شرح سے زیادہ اضافہ ہوا ہے لیکن ہدف سے معیشت بہت پیچھے رہی ہے، یعنی ۵ئ۵ فی صد متوقع اضافے کے مقابلے میں اضافہ  ۷ئ۴ فی صد ہے جس کے بارے میں بھی آزاد معاشی ماہرین کی ایک تعداد کا خیال ہے کہ اصل اضافہ اس سے بہت کم ہے، یعنی سالِ گذشتہ کے اضافے ہی کے لگ بھگ ہے، یعنی ۱ئ۳ فی صد۔ البتہ افراطِ زر، بیرونی ذخائر اور بجٹ کے خسارے کے باب میں حکومت کی کوششیں نسبتاً مؤثر رہی ہیں۔ گو وہاں بھی بہت سے سوالات ہیں جو نتائج کو مخدوش بنادیتے ہیں، مثلاً بجٹ خسارے کے اعداد و شمار میں گردشی قرضوں (circular debt) کے ساڑھے تین سو ارب کو شامل نہ کرنا اور اسی طرح اڑھائی ارب کے نجی شعبے کے برآمدات کے باب میں refunds کو تین مہینے میں  واپس کردینے کے وعدوں کے باوجود دو سال سے زیادہ لٹکاکر رکھنا کسی صورت میں بھی صاف شفاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سب سے کامیاب سیکٹر سروسز کا ہے اور اس میں بھی بنکاری سیکٹر، کاروں کا اور آٹو موبائل (automobile) سیکٹر اور سیل فون اور متعلقہ آئی ٹی سیکٹر نمایاں ہیں۔ سروسز سیکٹر کی کامیابی کی ایک وجہ سرکاری اخراجات، تنخواہوں اور پنشن کے اضافے وغیرہم بھی ہیں جو مالی اور حسابیاتی حد ( Accounting terms) تک تو معیشت کی ترقی اور پیداوار میں اضافے کا ذریعہ بنتے ہیں لیکن عملاً ملک کے پیداواری عمل اور پیدا آوری صلاحیت کو بڑھانے میں ان کا حصہ محلِ نظر ہے۔

بنکاری کے شعبے میں تیزرفتاری سے اضافہ ہوا ہے لیکن بنکوں نے جو قرضے دیے ہیں ان کا ۹۰ فی صد مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور سرکاری اداروں نے لیا ہے، جب کہ نجی شعبے میں ان کے ذریعے سرمایہ کاری کا حصہ بمشکل ۱۰ فی صد رہا ہے جو تشویش ناک ہے۔ بنکوں کے اپنے منافع میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے اور بنکوں کے اعلیٰ افسران کی تنخواہوں، بونس اور مراعات میں محیرالعقول اضافے دیکھے جاسکتے ہیں لیکن بنکوں میں عام کھاتہ داروں کو ان کے جائز حق سے بھی بُری طرح محروم رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں امیر امیرتر ہو رہا ہے اور غریب غریب تر۔ بنک حکومت کو قرضے دے کر خطیر رقم سود کے باب میں کما رہے ہیں۔ بنک سے عام کھاتہ دار افراطِ زر کی شرح کے بھی نیچے اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں جس کے معنی ہیںکہ حقیقی معنوں میں تو وہ اپنے اصل زر میں بھی کمی کا بوجھ اُٹھا رہے ہیں۔ بنکوں کا اپنوں کو نوازنے کے باب میں کیا کردار ہے؟ اس کا اس رپورٹ سے اندازہ کریں جو روزنامہ ایکسپریس ٹربیون میں ۲۹فروری ۲۰۱۶ء کو شائع ہوئی ہے، یعنی  نیشنل بنک آف پاکستان کے صدر کی تنخواہ اور بونس وغیرہ میں سال کے دوران (۲۰۱۵ئ) میں ۵۱فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ اس زمانے میں بنک کے حصص میں مارکیٹ میں ۲۲ فی صد کمی ہوئی ہے۔ بنک کے صدر نے اس سال ۷کروڑ ۱۱لاکھ روپے مشاہرہ وصول کیا جو سالِ گذشتہ (۲۰۱۴ئ) سے ۲کروڑ ۳۹ لاکھ زیادہ تھا۔ اسی طرح یونائٹیڈ بنک کے صدر اور سی ای او کو ۲۰۱۵ء میں جو ادایگی کی گئی وہ ۱۲کروڑ۷۳لاکھ روپے تھی۔ حبیب بنک کے سربراہ کے مشاہرے میں ۳ئ۴۱ فی صد اضافہ ہوا اور ان کو ۷کروڑ ۵۱لاکھ کی ادایگی کی گئی۔ واضح رہے کہ اس سال حبیب بنک کو ۳۵؍ارب روپے کا منافع ہوا جو سالِ گذشتہ سے ۱۴فی صد زیادہ تھا، جب کہ معیشت کی عمومی رفتار ترقی سرکاری دعوے کے مطابق ۷ئ۴ فی صد تھی۔ مسلم کمرشل بنک کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس کے سربراہ کا مشاہرہ ۸کروڑ ۴۷لاکھ ادا کیا گیا جو سالِ گذشتہ سے ۹ئ۱۴ فی صد زیادہ تھا، حالانکہ اس سال کے دوران اس بنک کے حصص کی قیمت میں بھی ۲۹ فی صد کمی ہوئی۔ پانچویں بڑے بنک الائیڈ بنک کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔ اس کے سربراہ کا مشاہرہ ۴کروڑ ۶۳ لاکھ تھا جو سالِ گذشتہ سے ۷ فی صد زیادہ تھا۔

معیشت کے جن جن گوشوں میں تھوڑی بہت مثبت تبدیلی ہوئی ہے، اس کا کریڈٹ حکومت کو ضرور دیا جانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ تصویر کے دوسرے رُخ کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے، تاکہ مجموعی طور پر صحیح صورتِ حال قوم کے سامنے آسکے اور حالات کی اصلاح کے لیے مناسب حکمت عملی بنائی جاسکے۔ سابقہ دو برسوں کی کارکردگی کے پس منظر میں اس سال کا جائزہ لیا جائے تو وزیرخزانہ کی اس بات میں ایک حد تک صداقت ہے کہ مجموعی طور پر معیشت کے استحکام کے ہدف کی طرف جزوی پیش رفت ہوئی ہے۔ گو بجٹ کے اخراجات پر، خصوصیت سے انتظامی اخراجات پر کوئی مؤثر گرفت نہیں کی جاسکی اور حسبِ سابق غیر ترقیاتی اخراجات میں بجٹ کے ہدف سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ترقیاتی مصارف میں کمی۔ ترقیاتی بجٹ کی حد تک اصل allocations طے شدہ بجٹ کا ۶۰ فی صد ہوسکے ہیں۔ قرضوں، قرضوں پر سود کی ادایگی اور حد پوری کرنے والے قرضوں کی واپسی کی مد میں سب سے زیادہ اخراجات ہوئے ہیں جو اَب دفاع کے کُل بجٹ کا بھی تقریباً دگنا ہوکر قومی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ ہیں۔ قرض لے کر قرض ادا کرنے کی رِیت قائم کی گئی ہے، اور جو بھی قرضے حاصل ہوئے ہیں بدقسمتی سے ان کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات میں عدم توازن کو کم کرنے اور قرضوں اور سود کی ادایگی کی نذر ہوگیا ہے۔ ترقیاتی مقاصد کے لیے ان کا استعمال واجبی ہی رہا ہے۔ قرض لینے کا یہ طریقہ معاشی اور سیاسی دونوں اعتبار سے تباہ کن ہے اور اسے بجٹ خسارے کا پیٹ بھرنے کا ذریعہ تو ضرور قرار دیا جاسکتا ہے مگر ملک کی ترقی میں اس کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا۔ اس لیے ایسے قرضوں کو معاشیات کے جدید مباحث میں Odius Loansکہاجارہا ہے۔ بدقسمتی سے گذشتہ آٹھ سال میں ہم نے ترقیاتی قرضوں کو کریہہ، ناگوار اور قابلِ نفرت قرضوں میں تبدیل کر دیا ہے جن کے مثبت اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں اور منفی اثرات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک قرضوں کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ قرضوں کی یہ ’فاقہ مستی‘ رنگ دکھا رہی ہے اور ہم مصر ہیں کہ اس زہر کو جو صحت کو تباہ کر رہا ہے دوا سمجھ کر جاری رکھیں۔

وزیرخزانہ نے ضمانت دی تھی کہ SRO's کا سلسلہ ختم کیا جائے گا اور ٹیکس سے چھوٹ کے نظام کو ختم کر دیا جائے گا لیکن تین سال مکمل ہوجانے کے باوجود اور بظاہر SRO's پر کچھ تحدیدات لگانے کے باوصف ٹیکس چھوٹ کا سلسلہ جاری رہا ہے اور سالِ گذشتہ میں بھی ۵ئ۳۹۴؍ارب روپے ٹیکس میں چھوٹ کی نذر ہوگئے ہیں۔ زراعت کو تو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دم توڑنے پر مجبور کیا جاتا رہا لیکن آٹوموبائل کے سیکٹر کو سالِ گذشتہ میں بھی ۵ئ۲۲ ارب روپے کی چھوٹ ( waiver)  دی گئی۔ نئے سرکلر قرضوں کے پہاڑ بلند ترہورہے ہیں اور ان کا ان کی مکمل شکل میں بوجھ اب بھی پردۂ خفا میں ہے لیکن مختلف اعلانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ۲۵۰ سے ۳۰۰؍ارب کے پیٹے میں ہیں۔ اور یہ سب اس ۵۰۰؍ارب کی ادایگی کے بعد ہے جو نوازحکومت نے اقتدار میں آتے ہی لوڈشیڈنگ سے نجات کے نسخۂ کیمیا کے نام پر قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے  بڑی عجلت میں ادا کر دیے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ بجلی کی پیداوار اور لوڈشیڈنگ میں کمی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔

بجٹ میں ٹیکس کی وصولی کے لیے جو ہدف رکھا گیا تھا اسے قریب قریب پورا کرلیا گیا ہے جو ایک قابلِ قدر چیز ہے لیکن یہ سوال پھر بھی ہے کہ یہ سب کچھ کس قیمت پر ہوا ہے۔ مقصد تو یہ تھا کہ جو لوگ ٹیکس نہیں دے رہے ہیں ان کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے، اور ٹیکس چوری کو    آہنی گرفت کے ذریعے ختم کیا جائے لیکن ٹیکس چوری کا بازار اسی طرح گرم ہے اور محصولات وغیرہ کی جو رقم وصول ہورہی ہے وہ بمشکل اس کا نصف ہے جو صرف موجودہ قوانین کے ٹھیک ٹھیک اطلاق سے ملنی چاہیے۔ معتبر اندازوں کے مطابق جن میں ورلڈبنک کے اندازے بھی شامل ہیں، وصول کی جانے والی رقم کا ۸۰ فی صد سالانہ چوری کی نذر ہو رہا ہے جو ۳۰؍کھرب روپے کے   لگ بھگ ہے۔ اس وقت ملک میں کم از کم ۴۰لاکھ افراد اور ادارے ہیں جنھیں بلاواسطہ ٹیکس نیٹ ورک کا حصہ ہونا چاہیے، جب کہ عملاً جو افراد اور ادارے ٹیکس ریٹرن داخل کر رہے ہیں ان کی تعداد ۹ اور ۱۰ لاکھ کے درمیان ہے، یعنی مطلوبہ تعداد کا بمشکل ایک چوتھائی۔ ان حضرات اور اداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ٹیکس کی چھوٹ (Tax Amnesty) کے نام پر نو اسکیموں پر عمل ہوچکا ہے مگر بے نتیجہ۔ ایف بی آر اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بُری طرح ناکام رہا ہے اور اس کے ازسرِنو جائزے اور کارکردگی کی بہتری کے لیے کوئی مؤثر کوشش نہیں کی جاسکی۔ سارا انحصار نئے ٹیکسوں، ٹیکسوں میں اضافے اور راست ٹیکسوں (direct taxes) کو بھی withholding tax کے ذریعے بالواسطہ( indirect tax) میں تبدیل کرنے پر ہے جو اصولی طور پر غلط اور عملاً ملک میں سماجی ناانصافی کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔ ایک مدت سے اس غلطی کا پورے تسلسل سے اعادہ کیا جارہا ہے۔ یہی وہ جادو کی چھڑی بن گئی ہے جس کے ذریعے ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کا معجزہ سرانجام دیا گیا ہے۔ اس کارنامے کو ایک جملے میں یوں ادا کیا جاسکتا ہے کہ یہ ٹیکس کے نظام میں اصلاح کے بغیر محصولات میں اضافہ ہے، یعنی Revenue generation without tax reforms۔

Tax Base وہی قومی دولت کا ۵ئ۸ سے ۹ فی صد ہے حالانکہ یہ ۲۰سال پہلے ۱۳ بلکہ ۱۴فی صد تک کی حد چھو چکا ہے اور موجودہ حکومت کا بھی دعویٰ تھا کہ تین سے پانچ سال میں اسے ۹فی صد سے بڑھا کر ۱۲اور پھر ۱۴ فی صد تک لے آیا جائے گا، وہ دھرے کا دھرا رہ گیا ہے۔ ٹیکس وصولی کے ہدف کے پورا ہونے میں اس امر کا بھی دخل ہے کہ برآمد کنندگان کی فاضل ادایگیوں کی جو ادایگی (refund) حکومت کی ذمہ داری تھی اور جن کی جلد ادایگی کا باربار وعدہ بھی کیا گیا تھا وہ   ادا نہیں کی گئی اور اس طرح تقریباً ۲۵۰؍ارب روپے، جو حکومت کا حق نہیں، وہ بھی اسی ہدف کے پورے کرنے کے دعوے کا حصہ ہیں۔ بجٹ میں اس سلسلے میں ضروری شفافیت کی کمی ہے۔

گذشتہ برس سے موازنہ

حکومت کی سالِ گذشتہ کی کارکردگی کا اس کے اپنے اہداف اور دعوئوں کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو تصویر بڑی پراگندا نظر آتی ہے جسے macro-stabilization کہنا مبالغہ اور growth economy کے لیے زینہ کہنا حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چند مثبت پہلو ضرور ہیں لیکن پلڑا اب بھی منفی پہلوئوں کا بھاری ہے جن کو خوش نما الفاظ کے سہارے پردئہ خفا میں چھپایا نہیں جاسکتا۔ مجموعی ترقی بس رکھ رکھائو کی حد تک ہوئی ہے۔ معیارِ زندگی میں کوئی بہتری دُور دُور نظر نہیں آتی۔ غربت کے سلسلے میں جو نئے اعداد و شمار خود پلاننگ کمیشن نے جاری کیے ہیں ان کی رُو سے آبادی کا ۳۰ فی صد شدید غربت کی لپیٹ میں ہے حالانکہ چندماہ پہلے تک یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ غربت کی سطح ۹فی صد تک لے آئی گئی ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کا حال سب سے خراب ہے حالانکہ انسانی ضرورت کے اعتبار سے ہی نہیں، خود معاشی ترقی کے لیے بھی ان شعبوں کو ترقی اور ان میں مؤثر سرمایہ سرکاری ازبس ضروری ہے۔ تقسیم دولت کی صورت حال بد سے بدتر ہے۔ اُوپر کے ۵ سے ۱۰فی صد آبادی کے پاس وسائلِ دولت کا ۸۰ فی صد سے زیادہ حصہ ہے، جب کہ ۶۰ سے ۷۰ فی صد آبادی کے پاس وسائل کا ۱۰ فی صد بھی نہیں۔ ۳۰ فی صد شدید غربت کا شکار ہیں اور ۶۰ فی صد معقول زندگی کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ دولت کی عدم مساوات میں شب و روز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف بھوک، فاقہ اور خودکشی کے اَلم ناک مناظر ہیں تو دوسری طرف لگژری مالز پر دولت کی ریل پیل،  پوش علاقوں میں پُرتعیش زندگی کے مناظر اور شادیوں کی تقریبات میں اسراف و تبذیر کی بدترین مثالیں ہیں۔ ڈاکٹر اکمل حسین نے اپنے ایک مضمون (دی نیوز، ۵مئی ۲۰۱۶ئ) میں اپنی تحقیق کے نتائج پیش کیے ہیں جو عالمی بنک کے اعداد و شمار کے تجزیے پر مبنی ہیں کہ پاکستان میں صرف ۲۰ہزار افراد ایسے ہیں جن کی فی کس آمدنی ایک ملین ڈالر، یعنی سوا ۱۰ کروڑ روپے سالانہ سے زیادہ ہے، جب کہ آبادی کے نچلی سطح کے ۶۰ فی صد افراد کی فی کس آمدنی ۱۴-۲۰۱۳ء کے پاکستان اکانومک سروے کے مطابق ۷۳۰ ڈالر، یعنی ساڑھے ۷۰ ہزار روپے سالانہ ہے۔ یہ فرق ایک اور ۱۳۰۰ کا ہے، جب کہ کسی مہذب معاشرے میں دولت میں تفاوت میں اتنے فرق کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن تو اسلامی معاشرے کی شناخت ہی یہ بتاتا ہے کہ اس میں دولت صرف امیروں کے درمیان گردش نہیں کرتی بلکہ تمام طبقات کے درمیان رواں دواں ہوتی ہے:

کَیْ لاَ یَکُوْنَ دُولَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَآئِ مِنْکُمْ (الحشر ۵۹:۷) تاکہ وہ تمھارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔

دولت کی یہ عدم مساوات جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ ہے اور ا س کے خلاف مغربی دنیا میں بھی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں، خصوصیت سے وال سٹریٹ تحریک اور ۹۹ فی صد vs ایک فی صد۔ لیکن مغربی ممالک میں بھی عدم مساوات ایک اور ۱۳۰۰ کی حدود نہیں چھوتی___ جو بدقسمتی سے آج پاکستان اور چند مسلم ممالک کا چلن بن گئی ہے اور عوام کی بڑی تعداد کی محرومی ہی   وہ حقیقت ہے جو معاشرے میں نفرت، بغاوت اور انتہاپسندی کے جذبات کو جنم دے رہی ہے۔ اس پس منظر میں ان مشاہروں پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے جو پانچ بڑے بنکوں کے سربراہوں کے ہم نے اُوپر بیان کیے ہیں اور اس تناظر میں خود ملک کے صدر اور وزیراعظم کے سرکاری دفتر اور توشہ خانے کے مصارف پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ بجٹ کے مطابق ایوانِ صدر کے سالانہ اخراجات ۸۶ کروڑ ۳۰ لاکھ ہیں اور ایوانِ وزیراعظم کے ۸۸ کروڑ ۱۰ لاکھ جو ۱۷-۲۰۱۶ء کے لیے ۸ئ۷ فی صد اور ۷ئ۴ اضافے کے ساتھ بجٹ کا حصہ ہیں۔ ۸؍اپریل ۲۰۱۶ء کے اخبارات میں پاکستان پلاننگ کمیشن کے جاری کردہ غربت کے جائزے کے مطابق ہر ۱۰ میں سے تین پاکستانی شدید غربت کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ ملک میں تقریباً ۶کروڑ افراد غربت و افلاس کی پست ترین سطح پر ہیں۔ ماضی کے جائزوں کی روشنی میں دعویٰ کیا جارہا تھا کہ یہ تعداد صرف ۲کروڑ ہے جس کی بڑی وجہ وہ تعریف (definition)تھی جو غربت کی کی گئی تھی اور وہ پیمانے (indicators) تھے جس کے ذریعے اسے ناپا جارہا تھا۔ تازہ تحقیق کی روشنی میں غربت کی لکیر کے تحت ۶کروڑ کے علاوہ ۲کروڑ مزید ایسے ہیں جو صرف سرحد پر ہیں اور معیشت کی معمولی سی تبدیلی ان کے لیے معاشی دھچکا (economic shock) بن سکتی ہے اور انھیں غربت کی اس لکیر کے نیچے دھکیل سکتی ہے۔ ۱۹کروڑ کی آبادی کے ملک میں ۸کروڑ ضروریاتِ زندگی کی کم سے کم حد سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں حالانکہ مجبوروں، یتیموں اور سائل و محروم کے حق سے غفلت اور بے پروائی کو قرآن نے دین کے انکار سے تعبیر کیا ہے۔

معاشی حالت کو جانچنے کا ایک اور پیمانہ خوراک کا عدم تحفظ ہے۔ اس اعتبار سے تقریباً نصف آبادی پر خوراک کے محرومی کے سایے منڈلا رہے ہیں، بطور مثال تھرپارکر کے حالات کی طرف اشارہ ضروری ہے۔ مقصد کسی ایک صوبے یا علاقے پر تنقید نہیں۔ دوسرے صوبوں میں بھی ایسے رستے ہوئے ناسور بے شمار ہیں لیکن چونکہ میڈیا نے اس علاقے پر توجہ دی ہے اس لیے اس امر کا بڑے دُکھ کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اتنی توجہ اور میڈیافوکس کے باوجود آٹھ سال کے عرصے میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود حالات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور خوراک اور پانی کی قلت اور علاج کی کم سے کم سہولتوں سے محرومی علاقے کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ ۱۶جون ۲۰۱۶ء کے دی نیشن میں چھپنے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف اس سال بھوک پیاس اور علاج سے محرومی کے سبب مرنے والے بچوں کی تعداد ۲۲۲ ہوگئی، جب کہ علاقے کے لوگ یہ تعداد ۳۵۵ بتاتے ہیں۔ ملک کے شہری علاقوں میں رہنے والے ۱۷لاکھ نوجوان روزگار سے محروم اور شدت پسندی اور دہشت گردی کے لیے نوجوانوں کی تاک میں رہنے والوں کے لیے تر نوالہ ہیں۔ بدقسمتی سے ان ۱۷لاکھ میں سے ۴۱ فی صدسندھ کے شہری علاقوں میں ہیں، جب کہ سندھ میں ملک کی آبادی کا صرف ایک چوتھائی اقامت پذیر ہے۔

اس سلسلے میں ایک تازہ رپورٹ، کے مطابق جسے سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر (SPDC) نے شائع کیا ہے ، ۲۰۱۵ء میں ۱۵ سے ۲۴ سال کے درمیانی عمر کے بے روزگار نوجوانوں کی تعداد پنجاب میں ۸لاکھ ۶۱ ہزار، سندھ میں ۷لاکھ ۱۱ ہزار، بلوچستان میں ۱۰لاکھ ۷۰ہزار اور خیبرپختونخوا میں ۵۷ہزار ہے۔ یہ خطرے کا ایک بڑا الارم ہے جسے حکومتیں مسلسل نظرانداز کررہی ہیں۔۱؎

عالمی جائزوں میں انسانی ترقی کے باب میں پاکستان کا مقام بڑا ہی شرم ناک ہے۔ دنیا کے ۱۸۸ ممالک میں پاکستان کا نمبر ۱۴۷ ہے اور Human Development Index میں ہمارا اسکور  ۵۳۸ئ۰ آتا ہے۔

UNDP کی رپورٹ کے مطابق ہمارا شمار کم ترقی یافتہ ممالک کے بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جو اس دوڑ میں اپنے کنبے میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ نیپال (۵۴۸ئ۰)، بنگلہ دیش (۵۷۰ئ۰)، بھارت (۶۰۹ئ۰)، سری لنکا (۷۵۷ئ۰) ہم سے آگے ہیں۔ تمام تر تباہی کے باوجود فلسطین  (غزہ اور ویسٹ بنک) بھی ہم سے بہت آگے ہیں (۶۷۷ئ۰)۔ صحت کی حالت دیکھیں تو وہ بھی نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ بچوں کی اموات کی شرح پاکستان میں ہرہزار بچے پر ۶۶ ہے، جب کہ بھارت میں یہ شرح ۳۸ اور سری لنکا میں صرف ۸ ہے۔ عورتوں کی اوسط عمر پاکستان میں ۶۷ سال ہے، جب کہ بنگلہ دیش میں ۷۳ اور تھائی لینڈ میں ۷۸ ہے۔ دورانِ ولادت ماں کی موت کی شرح پاکستان میں ایک لاکھ میں ۱۷۰ ہے، جب کہ سری لنکا میں یہ شرح صرف ۳۰ اور تھائی لینڈ میں    ۲۰ ہے۔ پاکستان میں سرکاری ذرائع سے فراہم کی جانے والی علاج کی سہولتوں تک آبادی کے صرف ۳۰ فی صد کو بہ مشکل رسائی حاصل ہے اور ۷۰ فی صد اس سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ اور یہ بھول جایئے کہ جو ’سہولتیں‘ حاصل ہیں ان کا کیا حال ہے، کیا معیار ہے۔ ملک بھر میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد ایک لاکھ ۸۴ہزار ۷سو۱۱ ہے۔ گویا ۱۰۳۸ ؍افراد کے علاج کے لیے ایک ڈاکٹر۔ہسپتالوں کا حال یہ ہے کہ ۱۶۱۳؍ افراد کے لیے ہسپتال میں ایک بستر موجود ہے۔ ہر کمرے میں کئی کئی مریض زمین پر لیٹنے پر مجبور ہوتے ہیں اور دسیوں ناکام و نامراد واپس بھیج دیے جاتے ہیں۔ یہ ہے عام آدمی کی صورتِ حال۔ اگر اسی کا نام مجموعی سطح پر ’معیشت کا استحکام‘ ہے تو ایسے استحکام کو سلام!

موجودہ حکومت بحیثیت مجموعی ان تین برسوں میں معیشت کی گاڑی کو پٹڑی پر لانے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ ریلوے کے نظام میں جزوی بہتری آئی ہے لیکن توانائی کی فراہمی، پیداوار میں اضافہ، عوامی سہولتوں میں اضافہ ، معیارِ زندگی میں بہتری، عالمی تجارت میں افزونی،  ملکی اور بیرونی سرمایہ کاری، ہر اشاریہ غیرتسلی بخش ہے۔ پینے کے صاف پانی کی کمیابی اور تعلیم اور صحت کی زبوں حالی ناگفتہ بہ ہے۔ زراعت اور برآمدات معیشت کے بڑے اہم ستون ہیں۔    یہ دونوں بُری طرح متزلزل ہیں اور یہ کیفیت صرف سالِ رواں میں نہیں ہوئی ہے بلکہ ان تین برسوں میں حالات بتدریج بگاڑ کی طرف بڑھے ہیں اور اسٹیٹ بنک کی رپورٹوں اور متعلقہ حلقوں کی چیخ پکار کا حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس بجٹ میں زرعی مداخل (inputs) کے سلسلے میں جو سبسڈی دی جارہی ہے، بجلی کی فراہمی کے لیے جن اقدامات کا وعدہ کیا جارہا ہے، اور برآمدات کے لیے جن پانچ میدانوں میں zero-rating کی نوید دی جارہی ہے، ان کا مطالبہ تین سال سے ہورہا تھا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سبسڈی اور زیرو ریٹنگ دونوں کے سلسلے میں پانچ سال پہلے تک یہ سب سہولتیں حاصل تھیں جن سے پیپلزپارٹی کے دور میں آئی ایم ایف کی خوشنودی کی خاطر محروم کیا گیا تھا اور مسلم لیگ کی حکومت نے بھی تین سال تک اس سلسلے میں کوئی اقدام نہ کیا۔   اب بعد از خرابیِ بسیار چند اقدام کرنے کا اعلان کیا ہے جو ہماری نگاہ میں صحیح سمت میں قدم ہے ، گو بہت دیر سے ہے لیکن ہم صاف کہنا چاہتے ہیں کہ یہ ہرگز کافی نہیں اور ہم آیندہ سطور میں سفارش کریں گے کہ ان اقدامات کے ساتھ جو structural bottlenecks ہیں جب تک ان کو دُور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے، حالات کا رُخ بدلنا اور ملک کو واقعی ترقی اور خوش حالی کے راستے پر ڈالنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے لیے طرزِ فکر ( mind-set) اور معاشی ترقی کے مفہوم اور فریم ورک، حکومتی ترجیحات اور مالیاتی پالیسی، ٹیکس اور سرکاری اخراجات، مالیاتی پالیسی، تجارتی پالیسی ، زرعی اصلاحات، لیبرپالیسی اور تعلیم اور صحت کے میدان میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔

مسلم لیگ ن کا انتخابی منشور اور حکومتی کارکردگی

حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کا ایک اور پیمانہ مسلم لیگ کا ۲۰۱۳ء کے انتخابات کے موقعے پر قوم کے سامنے پیش کیے جانے والا منشور ہے۔ اس منشور میں معاشی اصلاحات کے سلسلے میں کئی درجن وعدے کیے گئے تھے اور بڑے واضح الفاظ میں کچھ صورتوں میں وقت اور مدت کے تعین کے ساتھ باتیں کی گئی تھیں۔ حکمرانی کے تین سال بعد اس امر کی ضرورت ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت خود بھی یہ زحمت گوارا کرے کہ ایک چارٹ بنا کر دعوئوں اور عملی پالیسیوں اور تین برسوں میں حاصل نتائج کا گوشوارہ بنائے اور اپوزیشن کی جماعتوں، میڈیا اور تھنک ٹینکس کو بھی یہ کام کرنا چاہیے۔ ہم صرف چند موٹی موٹی چیزوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔

اس منشوراور اس کی تشریح میں کی جانے والی تقاریر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ توانائی کے مسئلے کو اولیت دی جائے گی اور چھے ماہ سے لے کر دو سال تک بجلی کے بحران کو ختم کر دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا، بلکہ جنابِ شہباز شریف نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ’’اگر ہم ایسا نہ کرسکے تو میرا نام بدل دینا‘‘۔ تین سال بعد جو صورتِ حال ہے، سب کے سامنے ہے۔

وعدہ کیا گیا تھا کہ توانائی کی ایک وزارت بنائی جائے گی تاکہ واٹر پاورز، منرل ریسورسز اور پٹرولیم کی وزارتیں اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہ بنائیں بلکہ ایک جامع توانائی پالیسی بن سکے اور اس طرح مسئلے کا مستقل حل نکالا جاسکے۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد!

ٹیکس کے نظام کو یکسر بدلنے کا دعویٰ تھا۔ٹیکس کے دائرے کو بڑھانے اور بالواسطہ (indirect)ٹیکس کو کم کرنے اور بلاواسطہ (direct)ٹیکس کو بڑھانے کا دعویٰ تھا۔ اس کے برعکس  نہ صرف بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ ہوا، سیلزٹیکس جو پہلے ۱۵ فی صد تھا وہ اب ۱۷ فی صد اور کچھ اشیا پر اس سے بھی زیادہ ہے۔ حالانکہ سینیٹ کی ۱۳-۲۰۱۲ء سفارشات میں موجودہ وزیرخزانہ نے ہم سب کے ساتھ ہم آواز ہوکر مطالبہ کیا تھا کہ سیلزٹیکس میں ۱۵ سے ۱۶ فی صد اضافہ معاشی ترقی کے لیے  بے حد مضر اور عوام پر ناقابلِ برداشت بوجھ ہے جسے واپس لیا جائے۔ ان کے دور میں یہ اب ۱۷ فی صد اور چند اشیا پر اس سے بھی زیادہ ہے۔ دوسرا ستم یہ کیا گیا ہے کہ بلاواسطہ ٹیکسوں کے سلسلے میں with holding tax کا طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے انھیں بھی ایک طرح کا بالواسطہ ٹیکس بنادیا گیا ہے جس کا آخری بوجھ اب عوام اور عام صارفین پر پڑتا ہے۔ اس طرح اس وقت جو ٹیکس کا نظام رائج ہے اس میں فی الحقیقت ۸۵ فی صد ٹیکس عملاً بالواسطہ ہوگئے ہیں۔

ایک اور مسئلہ جس پر بڑی تحدی سے بات کی گئی تھی اور بجا طور پر کی گئی تھی، اس کا تعلق معیشت کو دستاویزی (documentation) بنانے سے تھا۔ افسوس ہے کہ اس زمانے میں اس طرف بھی کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی ہے بلکہ حکومت نے اسٹیٹ بنک کے ذریعے جو cash flow پالیسی اختیار کی ہے اور with holding tax کی جو تلوار بے نیام کی ہوئی ہے اس کے نتیجے میں ملک میں cash economy میں اضافہ ہو رہا ہے اور دستاویزی معیشت میں کمی واقع ہورہی ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین رپورٹیں سخت تشویش کا باعث ہیں۔

۲۰ جون ۲۰۱۶ء کے اخبارات میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی طرف سے زیراستعمال کرنسی کے بارے میں جو اعداد و شمار آئے ہیں وہ سخت پریشان کن ہیں۔ یکم جولائی ۲۰۱۵ء کے مقابلے میں ۳جون ۲۰۱۶ء کے درمیان زیرگردش کرنسی میں ۶۷ فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ حکومت کے دعوے کے مطابق معیشت میں بحیثیت مجموعی ترقی کی رفتار صرف ۷ئ۴ فی صد رہی ہے جو آزاد تحقیقی اداروں کی نگاہ میں دراصل ۱ئ۳ فی صد اور ۴فی صد کے درمیان ہے۔

معاشیات کے طالب علم جانتے ہیں کہ ملک میں مسلسل کرنسی ان سرکولیشن M-2   (Broad Money) کی نسبت سے زیادہ رہی ہے اور اس کی وجہ دستاویزی معیشت کے مقابلے میں کیش اکانومی کا کردار ہے۔ مرکزی بنک کے ایک سابق ڈپٹی گورنر نے اس پر بجاطور پر ان الفاظ میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے:

حالیہ مالی سال میں جس رفتار سے CIC میں اضافہ ہوا ہے، وہ تکلیف دہ ہے اور خصوصیت سے اس لیے کہ یہ سب کچھ معیشت کو دستاویزی کرنے کی متعدد کوششوں کے باوجود ہوا ہے۔ (ڈان، ۳جون ۲۰۱۶ئ)

اگر CIC اور M-2 کے تناسب کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو یہ مالیاتی سال ۲۰۱۲ء میں ۴ئ۲۲ فی صد تھا جو ۲۰۱۳ء میں ۳ئ۲۲ فی صد، ۲۰۱۴ء میں ۲ئ۲۲ فی صد ہوگیا تھا مگر ۲۰۱۵ء میں پھر بڑھ کر ۵ئ۲۲ فی صد ہوگیا تھا، اور خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر خدانخواستہ زیرگردش کرنسی میں اضافے کی یہی رفتار رہتی ہے تو یہ کہیں ۲۶ فی صد تک نہ پہنچ جائے جس کے نتیجے میں افراطِ زر کے خطرات چند درچند بڑھ جائیں گے۔

مسلم لیگ کے منشور میں پیداوار بڑھانے، شرح پیداور کو سات اور آٹھ فی صد تک لے جانے اور برآمدات کے اضافے کو اہمیت دینے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ عملی صورت حال یہ ہے کہ درآمدات برابر بڑھ رہی ہیں اور برآمدات کمی ہی نہیں جمود کا شکار ہیں۔ جیساکہ ہم نے عرض کیا یہ صورتِ حال محض ۲۰۱۵ء کی پیداوار نہیں۔ ۲۰۱۳ء سے برابر رجحان یہی ہے مگر برآمدات کو بڑھانے اور درآمدات میں نمایاں کمی لانے کی کوئی مؤثر اور جامع کوشش نہیں ہوئی۔ یورپین یونین کے ۲۸ممالک سے تین سال کے لیے ٹیرف ریلیف (Tariff Relief) سے بڑی توقعات باندھی گئی تھیں مگر عملاً اس سے کوئی بڑافائدہ نہیں اُٹھایا جاسکا۔ پاکستان اکانومک سروے ۱۶-۲۰۱۵ء کے مطابق:

پاکستان کی برآمدات کی کارکردگی شدید تشویش کا باعث ہے۔ گذشتہ ۱۸مہینے سے ہرمہینے ان میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ جولائی ۲۰۱۵ء سے مارچ ۲۰۱۶ء تک برآمدات صرف ۶ئ۱۵ بلین ڈالر تھیں جو گذشتہ سال کے اس زمانے کے دوران ۹ئ۱۷ بلین ڈالر تھیں۔ گویا صرف ان مہینوں میں برآمدات میں عملاً ۹ئ۱۲ فی صد کمی واقع ہوئی۔

اس تباہ کن کارکردگی کے بارے میں روزنامہ ڈان کے مضمون نگار ڈاکٹر منظور احمد کا یہ تبصرہ چشم کشا ہے:

درحقیقت ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ یہ ہوگا کہ کسی حکومت کی مدت کے اختتام پر برآمدات اس سے کم تر ہوں گی جتنی حکومت کی مدت کے آغاز کے وقت تھیں۔

ایک طرف یہ سنگین صورت حال ہے اور دوسری طرف وزارتِ تجارت اور پلاننگ کمیشن یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ اگلے ۱۰سال میں ’وژن ۲۰۲۵‘ کے تحت پاکستان کی برآمدات کو بڑھا کر  ۱۵۰بلین ڈالر سالانہ کردیا جائے گا، یعنی ۲۴ فی صد سالانہ اضافہ!

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزارتِ خزانہ، وزارتِ تجارت اور پلاننگ کمیشن میں کوئی ربط اور تجارتی پالیسی تک کے باب میں کوئی ہم آہنگی نہیں۔ ہر ایک الگ الگ wave length پر ہے اور اس کا نام ہے معاشی ترقی کی گرینڈ اسٹرے ٹیجی!

منشور کے اور بھی پہلو موازنہ طلب ہیں لیکن ہم صرف ان چند نکات پر قناعت کرتے اور فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ اس میزان پر حکومت کی کارکردگی کتنی کامیاب یا ناکام رہی؟

ملک کا دستور اور معاشی کارکردگی

بجٹ اور حکومت کی معاشی کارکردگی کو جانچنے کے لیے سب سے اہم میزان ملک کا دستور ہے جو قومی مقاصد اور اہداف کے باب میں قومی مقاصد کا ترجمان ہے۔ دستور کی دفعہ ۲ اور ۲-اے اسلام کے کلیدی کردار کو واضح کرتی ہیں۔ دفعہ۳ معاشرے سے استحصال، ظلم کے خاتمے اور اجتماعی انصاف کے حصول کو ہدف مقرر کرتی ہے اور ریاست کی رہنمائی کے اصول خصوصیت سے دفعہ۳۱، دفعہ ۳۷ اور دفعہ ۳۸ بڑی تفصیل سے معاشی اصلاحات، اسلامی معاشی اصولوں کی ترویج اور ایک ترقی پذیر، خوش حال اور مبنی برانصاف فلاحی معاشی نظام کا تصور دیتے ہیں۔ یہی وہ مقاصد ہیں جو اقبال اور قائداعظم نے اپنے مختلف خطبات میں بیان کیے ہیں۔ علامہ اقبال نے دوٹوک الفاظ میں اپنے ۲۸مئی ۱۹۳۷ء کے خط بنام قائداعظم محمدعلی جناح میں شریعت اسلامی پر مبنی معاشی نظام کے قیام کی اولیں ضرورت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا، اور خود قائداعظم نے اپنے متعدد بیانات میں خصوصیت سے آل انڈیا مسلم لیگ کے ۱۳ویں سیشن میں جو ۲۴؍اپریل ۱۹۴۳ء دہلی میں منعقد ہوا تھا پاکستان کے معاشی نظام کے خدوخال واضح کیے تھے۔ پھر قیامِ پاکستان کے بعد ۲۷ستمبر ۱۹۴۷ء کو ولیکا ٹیکسٹائل ملز کے افتتاح کے موقعے پر اور خصوصیت سے اپنے آخری خطبے میں جو اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے موقعے پر جولائی ۱۹۴۸ء میں دیا، اپنے تصورات کی وضاحت کر دی تھی۔ علامہ اقبال نے ایک شعر میں پورے تصور کا جوہر یوں بیان فرمایا ہے: اسلام کا اصل مقصود انسان کو انسان کی محتاجی سے نجات دلانا، محرومی اور استحصال کا خاتمہ اور ہر فرد کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لائق بنانا ہے    ؎

کس نہ باشد در جہاں محتاج کس

نکتۂ شرعِ مبیں این است و بس!

پاکستان کے دستور سے وفاداری اور تحریک پاکستان کے مقاصد کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان کے لیے معاشی ترقی کی ایسی حکمت عملی تیار کی جائے جو معیشت اور معاشرے کو عدل و انصاف، ترقی اور خوش حالی، اور عوامی فلاح و بہبود سے شادکام کرسکے۔ حکومت اور پارلیمنٹ کی اصل ناکامی یہ ہے کہ وہ نہ معاشی ترقی کا صحیح وژن مرتب کرسکی ہے اور نہ ایسی حکمت عملی، ترجیحات اور مربوط پروگرام اور منصوبہ بناسکی جو ان مقاصد کے حصول پر منتج ہوسکیں۔ لبرل معیشت کے نام پر اور گلوبلائزیشن کے خوش نما الفاظ کے چکّر میں مغرب کے سودی اور سرمایہ دارانہ نظام کو ملک پر مسلط کردیا گیا ہے۔ ریاست کے معیشت میں کردار کو مشتبہ بنادیا گیا ہے۔ ایک طرف جاگیردار اور سرمایہ دار حکومت پر قابض ہیں تو دوسری طرف بغلیں بجابجا کر اعلان کیا جارہا ہے کہ حکومت کا کام بزنس نہیں حالانکہ زیادہ صحیح امر یہ ہے کہ بزنس مین کا یہ کام نہیں کہ وہ حکمرانی کرے۔  وہ تو ریاست کو بھی ذاتی کاروبار ہی کی طرح چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور نتائج بتاتے ہیں کہ ایسے حکمران اپنی مخصوص ذہنیت کی گرفت سے نہیں نکل پاتے ہیں جو بالآخر پاناما لیکس کے ڈرائونے انجام کی طرف لے جاتی ہے!

حکومت کا کام ملک و معاشرے کو صرف امن دینا اور سرحدوں کا دفاع نہیں، بلکہ انصاف اور عدل و احسان کے نظام کا قیام، سب کے لیے معاشی، سماجی اور سیاسی مساوات کا فروغ اور معاشرے کو حقیقی انسانی فلاح اور خوش حالی کا گہوارا بنانا ہے۔ ریاست محض تماشائی نہیں ایک فیصلہ کن قوت ہے جسے زندگی کے اجتماعی معاملات میں ایک مثبت کردار ادا کرنا ہے اور اصحابِ اقتدار کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اس میدان میں اور اس میزان پر کامیابی ہے۔

اس پہلو سے اگر اب تک پیش کیے جانے والے چاروں بجٹوں کا جائزہ لیا جائے اور جو پالیسیاں اس حکومت نے اختیار کی ہیں تو بڑی مایوس کن صورت حال سامنے آتی ہے۔ معاشی منزل کا کوئی واضح تصور موجود نہیں۔ قومی مفادات کے مقابلے میں ذاتی مفادات ہر طرف غالب نظر آتے ہیں۔ مربوط اور کلّی پالیسی کا فقدان ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں۔ مختلف وزارتوں کے درمیان کوئی تعاون اور توافق نظر نہیں آتا۔ کابینہ میں بھی کوئی ہم آہنگی نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ قومی سطح اور حتیٰ کہ بجٹ تک میں کوئی مربوط اور تضادات سے پاک لائحہ عمل پیش نہیں کیا جاسکا ہے، بلکہ عالم یہ ہے کہ کابینہ کے اجلاس کئی کئی مہینے منعقد ہی نہیں ہوتے۔ غضب ہے کہ  گذشتہ آٹھ مہینے میں کابینہ کا کوئی باقاعدہ اجلاس نہیں ہوا۔ پلاننگ کمیشن ایک عضومعطل بن کر    رہ گیاہے۔ کوئی وسط مدتی پلان ایک عرصے سے وجود ہی میں نہیں آیا ہے ۔ پلاننگ کمیشن کا اصل وژن یہ تھا کہ وہ ایک طویل عرصے کے perspective plan کے فریم ورک میں پانچ سالہ منصوبے بنائے گا جو ایک طرف معروضی تحقیق پر مبنی ہوں گے تو دوسری طرف ریاست اور معیشت کے تمام  متعلقین کی شرکت سے حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کا نمونہ پیش کرسکیں گے اور پھر پوری آزادی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اس منصوبے پر عمل درآمد کا جائزہ لے گا۔ صرف مالیاتی پہلو ہی سے  نہیں بلکہ Physical achievment کے باب میں بھی۔نیز پلاننگ کمیشن محض فیڈریشن ہی نہیں، بلکہ صوبائی سطح پر بھی قائم کیے جائیں گے اور وفاق صوبائی پلاننگ کمشنر کی رہنمائی، معاونت اور صلاحیت کی تعمیر (capacity building) کا کام انجام دے گا۔ پلاننگ کمیشن کے تحقیقی بازو کی حیثیت سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کام کرے گا جس کا سربراہ پلاننگ کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین ہوا کرتا تھا۔ مگر اب PIDC ایک آزاد تعلیمی ادارہ بن گیا ہے جو ڈگریاں دے رہا ہے اور پلاننگ کمیشن اپنے تحقیقی بازو سے محروم ہوگیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کا ایک کلیدی کردار پوری معاشی پالیسی، حکمت عملی اور ترجیحات کے تعین میں ناگزیر ہے لیکن ا س وقت سارا اختیار وزارتِ خزانہ ہی کے پاس ہے اور پلاننگ کمیشن اور وزارتِ خزانہ دو الگ الگ جزیرے بن گئے ہیں۔

اسی طرح دستورکا تقاضا ہے کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان ایک حقیقی، خودمختار ادارہ ہو   اور مالیاتی پالیسی وہ خود وضع کرے اور وزارتِ خزانہ کی گرفت سے آزاد ہوکر بنائے۔ لیکن     عملی صورت حال یہ ہے کہ مرکزی بنک ایک مدت سے وزارتِ خزانہ کا ضمیمہ بن چکا ہے اور عملاً اس کی آزاد حیثیت باقی نہیں رہی ہے۔ اب بھی یہ ادارہ بہت غنیمت ہے لیکن اس کی پیشہ ورانہ قدروقیمت (professional worth) اور پالیسی سے مناسبت (policy relevance) میں بڑی کمی آگئی ہے۔

ایک اور بڑا اہم دستوری ادارہ کونسل آف کومن انٹرسٹس (Council of Common Interests) ہے جس کی اہمیت اور کردار ۱۸ویں دستوری ترمیم کے بعد دوچند ہوگیا ہے اور فیڈریشن کے نظام کی صحیح خطوط پر استواری کے لیے اس کا فعال ہونا ضروری ہے۔ لیکن اسے بھی عملاً عضومعطل بنادیا گیا ہے۔ دستور کا تقاضا ہے کہ اس کا اجلاس ۹۰روز کے اندر اندر ہو مگر یہاں مہینوں گزر جاتے ہیں اور اس ادارے کا اجلاس ہی نہیں ہوتا۔ اور جب ہوتا ہے تو نہ پوری تیاری سے ہوتا ہے اور نہ گہرائی میں جاکر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

پارلیمنٹ نے، اور اس میں سینیٹ کا بڑا کردار تھا، بڑی جدوجہد کے بعد ایف بی آر (Federal Bureau of Revenue)کو وزارتِ خزانہ کے ایک شعبے کی حیثیت سے نکال کر ایک خودمختار ادارہ بنایا۔ ا س سلسلے میں سینیٹ کی کمیٹی براے خزانہ و معاشی ترقی نے میری صدارت میں ۸۰صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی تھی اور پھر ایف بی آر کو عملاً ایک ڈویژن بنایا گیا مگر  آج کیفیت ’من تو شدم تو من شدی‘ کا منظر پیش کر رہی ہے۔

اسی طرح سینیٹ اور اسمبلی کی تحریک پر شماریاتی بیورو کو وزارتِ خزانہ کے ایک شعبے کے مقام سے نکال کر ایک خودمختار ادارہ بنایا گیا تاکہ اعداد و شمار صحیح صورت میں آزاد ذریعے سے پارلیمنٹ ، حکومت اور قوم کے سامنے آسکیں اور پالیسی سازی کا کام حقائق کی بنیاد پر ہو، حقائق کو سیاسی مصلحتوں کا اسیر نہ بنایا جائے۔ قانونی اور لفظی کارروائی ہوگئی ہے مگر عملاً اعداد وشمار سیاسی دراندازیوں اور حکومت ِ وقت کی کرم فرمائیوں سے آزاد نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال بھی بجٹ اور اکانومک سروے کے پیش کردہ اعداد و شمار کے بارے میں بڑے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

۱۶-۲۰۱۵ء میں ترقی کی شرحِ نمو کے بارے میں علمی حلقوں اور تحقیقی اداروں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ حکومت اور قوم کے لیے فخر کا باعث نہیں۔ ۱۶-۲۰۱۵ء کے سال کے لیے معاشی ترقی کی نمو کی شرح کے بارے میں جو باتیں باہر آئی ہیں ان کو پڑھ کر انسان سر پکڑ لیتا ہے کہ ہم معاشی حقائق کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور ہمارے فراہم کردہ اعداد و شمار پر اگر عالمی ادارے اور آزاد تھنک ٹینکس اعتبار نہیں کرتے تو وہ کتنے حق بجانب ہیں۔ ہم یہ اصول بھول گئے ہیں کہ آرا اور تعبیرات میں اختلاف فطری ہے لیکن حقائق کو شک و شبہے (tempering) سے بالا ہونا چاہیے اور ان کے بارے میں selectivityبھی پیشہ ورانہ بددیانتی کے مترادف ہے۔ اس سال کی ۷ئ۴ فی صد کی شرح کے بارے میں اس اخباری اطلاع پر ایک نظر ڈالیے کہ اس میں ہماری تصویر کیا نظر آتی ہے۔

روزنامہ ایکسپریس ٹریبون کی ۲۱ مئی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں اکانومک سروے کی اشاعت سے ۱۰ دن پہلے اس کے نامہ نگار شہباز رعنا کی یہ رپورٹ شائع ہوئی، جس کی کوئی تردید شائع نہیں ہوئی:

گزرے ہوئے مالی سال میں حکومت نے مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کی شرحِ نمو میں اضافے کے لیے۵ئ۵ فی صد کا ہدف رکھا تھا۔ ملک میں نوجوانوں کی آبادی میں اضافے کو جذب کرنے کے لیے ۷ فی صد سالانہ شرحِ نمو کی ضرورت تھی۔ اگر اضافے کی رفتار اس شرح سے کم ہوجائے تو اس کا نتیجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی شکل میں سامنے آئے گا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے اعداد و شمار کے بیورو چیف آصف باجوہ نے ۱۸مئی کو وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو مطلع کیا کہ ۱۶-۲۰۱۵ء کے لیے شرحِ نمو کا تخمینہ ۲ئ۴ فی صد کے قریب آرہا ہے۔ باجوہ نے اسحاق ڈار کو یہ بھی بتایا کہ سابقہ دو مالی برسوں کے نظرثانی شدہ اعداد و شمار ۴ فی صد سے نیچے جارہے ہیں۔ بہرکیف اسحاق ڈار نے ان اعدادوشمار کو قبول نہیں کیا اور باجوہ صاحب سے کہا کہ وہ پھر سے اعداد و شمار کا جائزہ لیں۔ جب رابطہ کیا گیا تو باجوہ صاحب نے ۱۸مئی کی نشست کی نہ تردید کی اور نہ تصدیق۔

باجوہ صاحب نے ایکسپریس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے کہا: اعداد و شمار بدلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ آخری اعداد و شمار منظور کیے جاتے ہیں اور ۱۵-۲۰۱۴ء کے لیے مجموعی ملکی پیداوار میں اضافے کی عارضی شرح ۷ئ۴ فی صد ہے ۔ جب زرعی سیکٹر کی پیداوار میں نمایاںکمی ہوئی ہے۔ نجی اور سرکاری سرمایہ کاری میں مجموعی قومی پیداوار کے لحاظ سے بہت زیادہ اضافہ نہیں ہو رہا، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’۷ئ۴ فی صد کی شرح نمو کہاں سے آگئی؟‘‘ وزارتِ خزانہ کے سابق معاشی مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے سوال کیا۔ خان صاحب نے کہا: اعداد و شمار کے باب میں ان کا اپنا حساب کتاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ گزرے ہوئے مالی سال میں شرحِ نمو ۵ئ۳ فی صد سے زیادہ نہیں تھی۔

تمام پہلوئوں پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سرکار نے جس شرحِ نمو کو پسند کیا   وہ ۷ئ۴ تھی۔ کیوں نہ ہو۔ ۷ئ۴ فی صد کی شرحِ نمو گذشتہ سال کی حاصل کردہ ۴فی صد کی شرح سے بہتر تھی اور آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق، یعنی ۵ئ۴ فی صد سے بھی تھوڑی بہتر ہی تھی۔

بس طے ہوگیا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار ۲ جون کو معاشی سروے آف پاکستان ۱۶-۲۰۱۵ء جاری کرنے کے ساتھ ۷ئ۴ فی صد کی عارضی شرحِ نمو کا رسمی اعلان کریںگے۔

اعداد و شمار کے ساتھ کھیل کی یہ ایک مثال ہے۔ ورنہ حال یہ ہے کہ ہرمیدان میں اصل حقائق سے اغماض اور پسند کے ’حقائق‘ کی صورت گری بائیں ہاتھ کا کھیل بن گئی ہے اور ملک اور ملک سے باہر ہمارے اعتماد کو مجروح کرنے اور معاشی منصوبہ بندی کو مضبوط بنیادوں سے محروم کرکے نمایشی بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈاکٹر ثاقب شیرانی ایک معروف معاشی ماہر اور سابق معاشی مشیر ہیںاس کا نوحہ ان الفاظ میں کرتے ہیں اور اس پس منظر میں کرتے ہیں کہ مشرف صاحب اور شوکت عزیز صاحب کے دور میں بھی اعداد و شمار کے ساتھ یہی کھیل کھیلا جاتارہا ہے:

تازہ ترین واقعہ، حکومت نے دو دائروں میں جو سرکاری اعداد و شمار دیے ہیں، اس سے تعلق رکھتا ہے: نیشنل اکائونٹس (گروتھ) اور قومی حسابات (ایف بی آر کا جمع کردہ ٹیکس اور مالی خسارہ)دونوں مشرف اور شوکت عزیز کے دورکے محرکات ہی کا تسلسل ہیں۔  مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اعداد و شمار کو مسخ کیا گیا ہے، تاکہ گذشتہ برسوں میں بلندترین شرحِ نمو سامنے آسکے۔ ۱۶-۲۰۱۵ء میں سرکاری    جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا  ۷ئ۴ فی صد ہونا ایک ایسے وقت میں جب کپاس کی پیداوار میں ۴۰ لاکھ گانٹھوں کی کمی ہوئی ہو، کپاس کی معیشت کی شرح ۶ فی صد میں مضمر ہے۔  یہ ناقابلِ یقین ہے۔ معیشت کے کسی بھی پیمانے ___ برآمدات، صنعتی پیداوار، توانائی کا استعمال اور نجی سطح پر سرمایہ کاری___ سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔

حقیقت یہ ہے جیساکہ نمایاں مبصروں نے اس کی نشان دہی کی ہے، کہ پاکستان کے شماریات کے ادارے کا اعدادو شمار میں تبدیلی کرنا غیرپیشہ ورانہ ہے۔ ہرسیکٹر کی پیداوار کے معاملے میں اضافے کی شرح حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ پھر یہ ہیرپھیر بھی فنی مہارت سے عاری ہے۔ پیداواری سیکٹرز میں تو تبدیلی کردی گئی مگر اس کے متوازی تبدیلی اخراجات کے باب میں نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں پیداوار (production) اور اخراجات (expenditures)کا تعاون درہم برہم ہوگیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۶-۲۰۱۵ء کے قومی حسابات ۲۳ئ۱ مارجینل رجحان کو ظاہر کرتے ہیں، جو کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے ممکن نہیں۔

دوسرا شماریاتی ہاتھ کا کرتب سرکاری فنانس میں دکھایا گیا ہے۔ٹیکس جمع کرنے کی رقم کو بڑھایا گیا اوراس میں ان مدّات کو بھی شمار کرلیا گیا جو ۲۰۱۳ء سے بھی پہلے نان ٹیکس ریونیو کے تحت ریکارڈ کیے جارہے تھے۔ اسی طرح ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۶ء کے درمیان مالی خسارے میں کمی کو بھی بڑھا چڑھا کر مبالغے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔

آخری بات یہ ہے کہ حالیہ تحفظات سرکاری اعداد و شمار کے معیار اور درست ہونے کے حوالے سے بہت زیادہ ناقابلِ اطمینان ثابت ہورہے ہیں۔

اگر معیشت کے تمام رجحانات کو سامنے رکھا جائے تو ۷ئ۴ فی صد کی شرحِ نمو کو تسلیم کرنے میں آزاد تحقیق کے تحفظات میں بڑا وزن ہے۔ ٭ ہمارا رجحان بھی ان معاشی ماہرین کی طرف ہے جن کی نگاہ میں ۷ئ۴ فی صد کا دعویٰ درست نہیں اور اصل شرحِ نمو ۱ئ۳ فی صد اور ۴ فی صد کے درمیان رہی ہے۔ حتمی طور پر کوئی بات کہنا مشکل ہے لیکن ماضی کی روایات کی روشنی میں سرکاری اعداد و شمار پر مکمل اعتماد بڑی آزمایش کا معاملہ ہے۔

اعداد و شمار پر شبہے کی داستان پرانی ہے لیکن ان تین برسوں میں موجودہ حکومت نے دستور کی دو بڑی پریشان کن خلاف ورزیاں اور بھی کی ہیں جو معاشی منصوبہ بندی، پالیسی سازی، بجٹ سازی اور مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے باب میں مشکلات کا باعث ہیں اور باہمی اعتماد کو مجروح کرنے والی ہیں۔

ملک کی آبادی، اس کی جغرافیائی تقسیم، اس کی معاشی اور تعلیمی کیفیات یہ سب وہ بنیادی لوازمہ ہے جس کی روشنی میں معاشی منصوبہ بندی اور بجٹ سازی کی جاتی ہے۔ آخری مردم شماری ۱۹۹۸ء میں ہوئی تھی اور دستور کا تقاضا ہے کہ ہر ۱۰سال پر مردم شماری ہو۔ ۲۰۰۸ء سے یہ واجب ہے مگر حکومت (پیپلزپارٹی ۲۰۰۸-۲۰۱۳ء اور مسلم لیگ ۲۰۱۳-۲۰۱۶ئ)نے اب تک اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ اپریل ۲۰۱۶ء کے بارے میں بڑی یقین دہانی تھی کہ مردم شماری ضرور کرائی جائے گی مگر عین وقت پر فوجی دستوں کی عدم دستیابی کے نام پر اسے ملتوی کردیا گیا ہے اور اس طرح یہ چوتھا بجٹ بھی ملک کے اور اس کی آبادی کے بارے میں معتبر معلومات کی جگہ تخمینوں اور اندازوں کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ یہ حکومت کی مجرمانہ غفلت اور ناقابلِ معافی کوتاہی ہے۔

اسی طرح دستور (دفعہ ۱۶۰-الف) کا تقاضا ہے کہ ہر پانچ سال پر نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ (NFC Award) آئے جن میں آبادی اور دوسرے طے شدہ بنچ مارکس کی روشنی میں مرکز اور صوبوں کے درمیان ریونیو کی تقسیم کی جائے۔ ساتواں ایوارڈ دسمبر ۲۰۰۹ء میں منظور ہوا تھا جس کی مدت دسمبر ۲۰۱۴ء میں ختم ہوگئی تھی۔ آٹھواں ایوارڈ ۲۰۱۵ء میں آجانا چاہیے تھا مگر نہ کمیشن بنا ہے اور نہ ایوارڈ آیا ہے۔ سابقہ ایوارڈ ہی کی روشنی میں محصولات کی آمدنی کو تقسیم کیا جا رہا ہے جو آئین اور قانون کے مطابق ہی نہیں زمینی حقائق اور انصاف کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ حکومت اس پورے معاملے کو بہت ہی ہلکا لے رہی ہے حالانکہ اس کے بڑے دُور رس آئینی، معاشی اور سیاسی مضمرات ہیں۔اسی طرح صوبوں میں بھی صوبائی فنانس کمیشن بننے چاہییں اور صوبے اور لوکل گورنمنٹ میں وسائل کی تقسیم قانون اور انصاف کے مطابق ہونی چاہیے۔ ۱۸ویں دستوری ترمیم ۲۰۱۰ء میں منظور ہوئی تھی۔ چھے سال گزرنے کے باوجود اس پر قانون اور اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہو رہا جس کے اثرات قومی یک جہتی کے لیے بڑے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ دستور، قانون اور اجتماعی عدل کے تقاضوں سے کھیل کر کوئی قوم خیر اور اعتمادِ باہمی کو مجروح کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔

سود کے خاتمے کے دستوری مطالبے سے انحراف

ایک اور بڑا ہی اہم دینی اور دستوری تقاضا ہے جس کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ملک جہاں معاشی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اللہ کے غضب کو بھی دعوت دی جارہی ہے اور رزق اور معاشی ترقی کے باب میں بے برکتی کی شکل میں اس کی جھلکیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ قرآن کا واضح اعلان ہے کہ سودی لین دین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کی حیثیت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس معیشت کا مٹھ مار دیتا ہے جو سود کی بنیاد پر قائم ہو۔ ہم سود کے نظام کو مستحکم اور سود سے پاک معیشت کے دعوئوں اور واضح دستوری مطالبے سے رُوگردانی کر رہے ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ آج سود اور سودی قرضوں میں ہمارا بال بال گرفتار ہے۔ بجٹ کا سب سے بڑا مصرف سود اور سودی قرضوں کی ادایگی اور اس مکروہ عمل کو جاری رکھنے کے لیے مزید سودی قرضے لیناہوگیا ہے۔ ہم بڑے دُکھ اور افسوس کے ساتھ اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں جناب نوازشریف کی حکومت کا رویہ ظالمانہ اور شریعت اور دستور سے عملاً باغیانہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے پہلے دور میں ۹۰کے عشرے میںوفاقی شریعت کورٹ کے سود کو ختم کرنے اور متبادل نظام کو سرکاری سطح پر رائج کرنے کا فیصلہ دیا تھا جس کے خلاف حکومت اور اس کے ایما پر مسلم کمرشل بنک جسے اس حکومت نے نجی بنایا تھا۔ سپریم کورٹ میں اپیل کی، جس کی وجہ سے یہ عمل ۱۱سال معطل رہا۔ پھر سپریم کورٹ نے مشرف دور میں اپنا تاریخی فیصلہ دیا جسے غیرمؤثر بنانے کے لیے مشرف صاحب نے شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کے شریعت بنچ کو بدل دیا اور مسئلے کو پھر ازسرِنو سماعت کے لیے فیڈرل شریعت کورٹ کو بھیج دیا جہاں وہ آج بھی معلق ہے۔

یہ تو معاملے کا ایک پہلو ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں اس بارے میں خاموش برتی جس پر احتجاج ہو اور اس کے نتیجے میں وزیرخزانہ نے مرکزی بنک کے نائب گورنر کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی جسے یہ کام سونپا گیا کہ ایک سال کے اندر اس سلسلے میں اپنی رپورٹ دے گی اور تبدیلی کا نقشۂ کار پیش کرے گی۔ ذمہ دار حضرات نے خود مجھے یقین دلایا اور ڈپٹی گورنرصاحب نے خود بھی اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے لیتے ہیں بلکہ رفاہ انٹرنیشنل یونی ورسٹی کی ایک کانفرنس میں جس کا کلیدی خطبہ مَیں نے دیا تھا یہاں تک کہا کہ میرے ڈپٹی گورنر کی ذمہ داری قبول کرنے کا ایک بنیادی مصرف بھی یہ ہے کہ ملک میں غیرسودی بنکنگ کے نظام کو قائم کرنے میں کردارادا کرسکوں۔ میرے اندازے کے مطابق اس کمیٹی کی رپورٹ ۲۰۱۵ء کے وسط تک آجانی چاہیے تھی لیکن قوم کو اس کی کوئی خبر نہیں کہ کمیٹی نے کیا کام کیا ہے اور اس لعنت سے نجات کے لیے کوئی منصوبۂ کار ہے بھی یا نہیں۔ وزیراعظم صاحب اور وزیرخزانہ اس باب میں ناقابلِ معافی غفلت اور کارکردگی کے فقدان کے ذمہ دار ہیں۔ بجٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں حالانکہ ماضی کے بجٹ میں اس کمیٹی کے قیام کو حکومت کے ایک کارنامے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

کیا وزیراعظم صاحب کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ میری موجودگی میں ان کے   والد ِ محترم نے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں ان کو تلقین کی تھی کہ سود سے معیشت کو پاک کرنے کا کام ذمہ داری سے انجام دیں اور میری اطلاع کی حد تک اپنی جلاوطنی کے دور میں مدینہ منورہ میں جناب نوازشریف نے کچھ افراد کے سامنے یہ اظہار کیا تھا کہ ماضی میں ان سے کوتاہی ہوئی اور اگر ان کو آیندہ موقع ملا تو وہ اس کی تلافی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اور موقع دیا جسے ان تین برسوں میں انھوں نے بُری طرح ضائع کیا ہے۔ اللہ کے قانون میں ڈھیل تو ہے لیکن اس کی گرفت بھی بہت ہی سخت ہے۔

ان تمام دستوری، قانونی، سیاسی اور اخلاقی تقاضوں کے باب میں موجودہ حکومت، پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کا رویہ فوری نظرثانی کا محتاج ہے۔

درپیش معاشی چیلنج

بجٹ میں ملک کو درپیش معاشی چیلنج کا صحیح ادراک ہی موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاحِ احوال کے لیے جن اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے خصوصیت سے زراعت اور برآمدات کے بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ جزوی اور خام ہیں۔ معاشی ترقی کے پورے تصور (paradigm) کی ازسرِنو تشکیل کی ضرورت ہے۔ ملک کے زمینی حقائق اور دستور اور قوم کے عزائم اور توقعات کی روشنی میں مقاصد، حکمت عملی، ترجیحات اور پروگرام کے ازسرِنو تعین اور وسائل کی فراہمی اور ان کے استعمال کی صحیح منصوبہ بندی درکار ہے۔ معاملہ محض جزوی اور وقتی اصلاحات کا نہیں بنیادی پالیسی اور ترجیحات کا اور اس کے ساتھ صحیح وژن، اداروں کی اصلاح، تحقیق اور مشاورت سے مربوط پالیسیوں کی تشکیل، فیصلہ سازی اور ان کے نفاذ کے باب میں مؤثر تعمیرِصلاحیت  (capacity building) اور صرف میرٹ کی بنیاد پر مردانِ کار کا انتخاب، معاشی اور سماجی انفراسٹرکچر کی اصلاح، delivery system کی تنظیم نو___ ان میں سے ہرپہلو فوری توجہ اور مناسب تنظیم نو کا متقاضی ہے۔ موجودہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس نہ وژن ہے اور نہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب ڈھانچا اور افرادِ کار۔

ایک اطلاع کے مطابق ۴۰ سے زیادہ اہم مرکزی ادارے باقاعدہ سربراہ سے محروم ہیں۔ دو اہم ترین وزارتیں ہمہ وقت وزیر کو ترس رہی ہیں۔ جامعات اور تحقیقی اداروں میں اپنے ملک کے مسائل کے بارے میں تحقیق اور زمینی حقائق کی روشنی میں نئی ٹکنالوجی کی دریافت کا کام معطل ہے۔ ماحول کی تبدیلی کی وجہ سے جو اثرات پڑ رہے ہیں اور ان کی روشنی میں جس قسم کی فصلوں اور ان کی کون سی اقسام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اس طرف کوئی توجہ نہیں ۔ زرعی میدان میں ریسرچ اور توسیعی خدمات (extension service)  غیرمتعلق ہوکر رہ گئے ہیں۔ ایک اخباری تحقیقی رپورٹ کے مطابق، ایک طرف کپاس کی کاشت بحران کا شکار ہے اور موسم کے اثرات کے علاوہ بیج کے ناقص ہونے اور جراثیم کش ادویات کی ضرورت سے مطابقت نہ ہونے نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ چین سے جو بیج درآمد کیا گیا وہ ہمارے حالات سے کوئی مطابقت نہ رکھتا تھا لیکن سیاسی مصالح یا معاشی مفادات کی خاطر یہ ظلم ملک اور کاشت کار طبقے پر کیا گیا جس کی سزا پورا ملک اور پوری فارم کمیونٹی بھگت رہی ہے مگر حکومت کو نہ حالات کا اِدراک ہے اور نہ اصلاح کا جذبہ۔ نمایشی اقدامات کیے جارہے ہیں اور اس وقت جب کپاس کی فصل تباہ اور اس کی کاشت کرنے والی پوری برادری پریشان ہے حکومت کی غفلت کا یہ حال ہے کہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان مستقل افسر تک سے محروم ہے۔ تین سال سے دفتر ایسے انچارج کے ہاتھوں چل رہا ہے جو اس شعبے میں مہارت نہیں رکھتا اور عارضی چارج لیے ہوئے ہے۔ مرکزی سطح پر اسلام آباد میں کیا گل کھلائے جارہے ہیں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کاٹن ریسرچ کو وزارت زراعت کے بجاے وزارتِ ٹیکسٹائل کے حوالے کردیا گیا ہے جہاں کپاس کی کاشت کے اُمور سے متعلق کوئی کام ہو ہی نہیں رہا (روزنامہ دنیا، ۴مئی ۲۰۱۶ئ)

زراعت کے مسائل ہوں یا برآمدات کے___ ان جزوی اصلاحات سے ان کا حل ممکن نہیں جن کا بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے لیے ان دونوں شعبوں میں پورے نظامِ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پالیسی کے اہداف سے لے کر پورے نظامِ کار بشمول Extension Services اور Delivery System کے ازسرِنو جائزے کی ضرورت ہے۔ ہر میدان میں ریسرچ اور جدید ٹکنالوجی کے استعمال کا اہتمام کرنا ہوگا۔ ہر کام کے لیے اس کے لیے مناسب مہارت رکھنے والے قابل افراد کے تقرر اور احتساب اور  باقاعدگی سے نگرانی (regulation)کے مؤثر انتظام کی ضرورت ہوگی۔ محض اَشک شوئی سے بحرانوں کی اس دلدل سے نکلنا ممکن نہیں۔ مسئلہ structural ہے صرف سبسڈیز اور زیرو ریٹنگ  سے اس بحران پر قابو پانا ممکن نہیں۔

بلاشبہہ اس پورے کام کے لیے صحیح قیادت اور مردانِ کار کے ساتھ مالی وسائل کی بھی ضرورت ہے۔ ہماری نگاہ میں ملک میں وسائل کی کمی نہیں۔ کمی دیانت داری اور مہارت و اہلیت کے ساتھ ساتھ وسائل کے حصول اور ان کے مناسب استعمال کی ہے۔ ملکی وسائل کی صحیح مو بلائزیشن اور بیرونِ وطن پاکستانیوں کو معاشی ترقی میں مؤثر انداز میں شریک کر کے قرضوں کے بغیر خطیر وسائل کا حصول ممکن ہے۔ کرپشن پر قابو پاکر حقیقی وسائل کو دوچند کیا جاسکتا ہے۔ صرف اسمگلنگ پر قابو پاکر اربوں ڈالر کے وسائل سرکاری خزانے میں لائے جاسکتے ہیں۔ ٹیکس کے نظام کی اصلاح سے     ٹیکس کی آمدنی کو دگنا اور اس سے بھی زیادہ ترقی دینا چند سال میں ممکن ہے۔ پیداوار کو value added کی سمت میں ڈھال کر اور جدید ٹکنالوجی سے بھرپور فائدہ اُٹھا کر ملک کی comptiveness کو کہیں سے کہیں پہنچایا جاسکتا ہے۔ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، اس ٹیلنٹ سے فائدہ اُٹھانے کی کمی ہے۔ اس کے لیے ایک نئے طرزِفکر (mind-set) کی، ایک نئی ٹیم کی اور محرکات (incentives) کے ایک نئے نظام کی ضرورت ہے۔ دیانت دار اور باصلاحیت قیادت جو اپنی ذات کے مفاد کی پجاری نہ ہو بلکہ ملک و قوم کی ترقی کے لیے کمربستہ ہو، وہ چند سال میں ملک کا نقشہ بدل سکتی ہے۔ جس تبدیلی کی ملک کو ضرورت ہے وہ وہ ہے جس کی ہم نے اُوپر نشان دہی کی ہے۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ حالیہ بجٹ اور موجودہ حکومت اس تبدیلی کی سمت میں کوئی قدم بڑھانے میں بُری طرح ناکام رہی ہے اور یہی ہمارا اصل مسئلہ  ہے      ؎

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا

ورنہ جو دُکھ ہمیں تھے، بہت لادوا نہ تھے

(کتا بچہ دستیاب ہے، منشورات، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔۱۷ روپے،۱۰۰ ۱روپے سیکڑہ۔ فون:35252211)

خواتین کے حقوق کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں منظور ہونے والے بل پر جس بحث کا آغاز ہوا وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے مجوزہ بل سے ہوتی ہوئی ہمارے اخبارات کے کالموں اور برقی ذرائع ابلاغ کے چینلوں پر خواتین پر تشدد تک آگئی۔ کئی کالم نگار اور وزیرقانون پنجاب حدیں پار کرگئے۔ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی نے خواتین کے حقوق پر مکمل کتاب حقوق الزوجین لکھی ہے جو آج بھی حسب ِ حال ہے۔ اس کا ایک مختصر حصہ جو خاص اس پہلو سے متعلق ہے جو کچھ زیادہ ہی موضوع بنا ہوا ہے، پیش کیا جارہا ہے۔ جو مسئلے کے ہرپہلو سے تفصیل سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں، اس کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔(ادارہ)

اگر عورت اپنے شوہر کی اطاعت نہ کرے یا اس کے حقوق میں سے کسی حق کو تلف کرے تو ایسی صورت میں مرد پر لازم ہے کہ پہلے اس کو نصیحت کرے، نہ مانے تو اس کو اختیار ہے کہ اپنے برتائو میں حسب ِ ضرورت اس کے ساتھ سختی کرے،اور اگر اس پر بھی نہ مانے تو وہ اس کو مار سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کی اطاعت کرنے لگے:

وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَ اھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْھِنَّ سَبِیْلًا ط(النساء ۴:۳۴)  اور جن عورتوں سے تم نشوز۱؎ دیکھو ان کو نصیحت کرو اور بستروں پر ان کو چھوڑ دو اور ان کو مارو۔ اگر وہ تمھاری اطاعت کریں تو پھر ان پر سختی کرنے کا کوئی طریقہ نہ ڈھونڈو۔

اس آیت میں وَ اھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ (یعنی بستروں پر ان کو چھوڑ دو) فرما کر  سزا کے طور پر ترکِ مباشرت کی اجازت دی گئی ہے۔ مگر آیت ِایلاء (البقرہ ۲:۲۲۷) نے اس کے لیے ایک فطری حدمقرر کر دی ہے کہ یہ بستر کی علیحدگی چار مہینے سے زیادہ نہ ہو۔ جو عورت اتنی نافرمان اور شوریدہ سر ہو کہ شوہر ناراض ہو کر اس کے ساتھ سونا چھوڑ دے اور وہ جانتی ہو کہ چار مہینے تک یہ حالت قائم رہنے کے بعد شوہر ازروے احکامِ الٰہی اس کو طلاق دے دے گا، اور پھر بھی وہ اپنے نشوز سے باز نہ آئے، وہ اسی قابل ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے۔ چار مہینے کی مدت ادب سکھانے کے لیے کافی ہے۔ اس سے زیادہ مدت تک یہ سزا دینا غیرضروری ہوگا۔ کیوںکہ اتنے دن تک اس کا نشوز پر قائم رہنا، یہ جانتے ہوئے کہ اس کا نتیجہ طلاق ہے، اس بات کی دلیل کے کہ اس میں ادب سیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، یا وہ حُسنِ معاشرت کے ساتھ کم از کم اس شوہر سے نباہ نہیں کرسکتی۔ نیز اس سے وہ مقاصد بھی فوت ہونے کا اندیشہ ہے جن کے لیے ایک مرد کو ایک عورت کے ساتھ رشتۂ مناکحت میں باندھا جاتا ہے۔ ممکن ہے ایسی حالت میں شوہر اپنی خواہشاتِ نفس پوری کرنے کے لیے کسی ناجائز طریقے کی طرف مائل ہوجائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عورت کسی اخلاقی فتنے میں مبتلا ہوجائے۔ یہ بھی اندیشہ ہے کہ جہاں میاں بیوی میں سے ایک اس قدر ضدی اور شوریدہ سر ہو وہاں زوجین میں مؤدت و رحمت قائم نہ ہوسکے گی۔

امام سفیان ثوری سے وَ اھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ کے معنی میں ایک دوسرا قول منقول ہے۔ وہ کلام عرب سے استدلال کرکے کہتے ہیں کہ ھجر کے معنی، باندھنے کے ہیں۔ ھَجَرَ الْبَعیْرا اذا ربطہ صَاحِبْہٗ بِالْھِجَارِ۔ ہجار اُس رسّی کو کہتے ہیں جو اُونٹ کی پیٹھ اور ٹانگوں کو ملا کر باندھی جاتی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مقصود یہ ہے کہ جب وہ نصیحت نہ قبول کریں تو گھر میں ان کو  باندھ کر ڈال دو۔ لیکن یہ معنی قرآنِ مجید کے منشاء سے بعید ہیں۔ فِی الْمَضَاجِعِ کے الفاظ میں قرآن نے اپنے منشا کی طرف صاف اشارہ کر دیا ہے۔ مضجع سونے کی جگہ کو کہتے ہیں اور سونے کی جگہ میں باندھنا بالکل بے معنی بات ہے۔

دوسری سزا جس کی اجازت زیادہ شدید حالات میں دی گئی ہے، مارنے کی سزا ہے۔ مگر اس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قید لگادی ہے کہ ضربِ شدید نہ ہونی چاہیے:

اِضْرِبُوْھُنَّ اِذَا عَصَیْنَکُمْ فِی الْمَعْرُوْفِ ضَرْبًا غَیر مُبَرَّحٍ وَلَا بِضَرْبِ الْوَجْہِ وَلَا یقبح،اگر وہ تمھارے کسی جائز حکم کی نافرمانی کریں تو ان کو ایسی مارمارو جو زیادہ تکلیف دہ نہ ہو۔ منہ پر نہ مارے اور گالم گلوچ نہ کرے۔

یہ دو سزائیں دینے کا مرد کو اختیار دیا گیا ہے مگر جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے، سزا اُس نافرمانی پر دی جاسکتی ہے جو مرد کے جائز حقوق سے متعلق ہو۔ نہ یہ کہ ہرجا و بے جا حکم کی اطاعت پر اصرار کیا جائے اور عورت نہ مانے تو اس کو سزا دی جائے۔ پھر قصور اور سزا کے درمیان بھی تناسب ہونا چاہیے۔ اسلامی قانون کے کلیات میں سے ایک کلیہ یہ بھی ہے کہ فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ (البقرہ ۲:۱۹۴) ’’جوکوئی تم پر زیادتی کرے اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے کی ہے‘‘۔ زیادتی کی نسبت سے زیادہ سزا دینا ظلم ہے۔ جس قصور پر نصیحت کافی ہے اس پر ترکِ کلام، اور جس پر ترکِ کلام کافی ہے اس پر ھجر فی المضاجع، اور جس پر ھجر فی المضاجع کافی ہے اس پر مارنا ظلم میں شمار ہوگا۔مار ایک آخری سزا ہے جو صرف شدید اور ناقابلِ برداشت قصور پر ہی دی جاسکتی ہے اور اس میں بھی وہ حد ملحوظ رکھنا ضروری ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی ہے۔ اس سے تجاوز کرنے کی صورت میں مرد کی زیادتی ہوگی اور عورت کو    حق ہوجائے گا کہ اس کے خلاف قانون سے امداد طلب کرے۔ (حقوق الزوجین، ص۴۵-۴۸)

مسلمانوں کی روحانی تربیت اور تزکیٔہ نفس کے لیے رمضان المبارک کا پورا مہینہ مسلسل بھوک ،پیاس ،قیام اللیل اور جنسی خواہشات اور گناہوںسے رکنے کی مشق کروائی جاتی ہے۔ یہی تزکیٔہ نفس یا تقویٰ کاحصول روزے کا مقصد قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرہ۲:۱۸۳) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے ، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔

تقویٰ زندگی کے تما م شعبوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسو ل کی اطاعت بجا لانے اور نافرمانی سے بچنے کا نام ہے۔رمضان المبارک میںاسی احساس کو بیدارکرنے کی مشق ہوتی ہے۔اسی مقصدکے حصول کے لیے دن کے وقت بھوک پیاس کو برداشت کیا جاتا ہے اور رات کو عبادات کے لیے قیام کیا جاتا ہے۔

اگرروزے سے اللہ کی رضا ،بخشش اور تزکیہ نفس کے مقاصدحاصل نہ ہوں تو اس سے بھوک پیاس کی تکلیف کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:’’کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں جن کو اپنے روزوں سے سواے بھوک کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی رات کو کھڑے ہونے ہونے والے ایسے ہیں جن کو سواے شب بیداری کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا‘‘۔(مسند احمد، مسند ابی ہریرہ ، حدیث:۹۳۰۸)

ایک مہینے کی مسلسل مشق سے صیام وقیام کے اثرات قلب و جسم پر نقش ہوجاتے ہیں ۔اگر ہم ان ثمرات کو اپنے شب و روز کے اعمال میں زندہ رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہم نے حقیقت میںروزوں کی روح کو پا لیا اور اگر ہماری زندگی میں ان کا عکس مفقود رہا تو ہم گویا رمضان کے مقصد کے حصول میں ناکام اور سراسر نقصان کے مستحق ٹھیریں گے۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان ثمرات کو کیسے باقی رکھا جائے؟ اسی سوال کا جواب تلاش کرنا اس تحریر کا مقصد ہے۔

  •  مقصودِ روزہ:تمام عبادات اپنے اندر ایک گہری مقصدیت رکھتی ہیں۔ نماز کا مقصد اطاعت کی صفت پیدا کرنااور منکرات سے بچانا ہے ۔زکوۃ کا مقصد سخاوت و فیاضی کے وصف سے متصف ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی مدد کی ترغیب بھی ہے ، نیز حُبِ مال کی بیماری کا علاج بھی ہے ۔حج کا مقصد جان ومال کی قربانی کے ساتھ ساتھ ہجرت الی اللہ کے جذبے سے سرشار ہونا ہے۔ اسی طرح روزے کا مقصد تقویٰ اور تزکیہ وتربیت ہے۔

 رمضان المبارک میں مسلمان اپنی جسمانی اورنفسانی خواہشات کے خلاف جہاد میں مصروف رہتے ہیں۔بھوک اور پیاس پرقابوپانے،شب بیداری (تراویح و تہجد) اورقرآن کریم کی تلاوت جیسے اہم اعمال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ جسمانی تقاضوں کی کم از کم اور روحانی تقاضوں کی زیادہ سے زیادہ رعایت کرتے ہیں تاکہ روح بیدار اور تواناہو جائے اور اپنے رب سے تعلق مضبوط بنا سکے۔ یہ سارے عوامل تقویٰ کی کیفیت کے حصول میں معاون ہیں۔

جو اوصاف جن عوامل سے وجود میں آتے ہیں ،انھی عوامل سے برقرار بھی رہتے ہیں ۔اگر وہ عوامل نا پید یا کمزور پڑ جائیں تو ان اوصاف کا برقرار رہنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ذیل میں ان عوامل کی کسی قدر تفصیل بیان کی جاتی ہے جو تقویٰ کو باقی رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ 

  •  نفلی روزوں کا اھتمام : اسلامی عبادات کے فلسفہ اور حکمت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ایک صورت فرض کی ہے اور دوسری نفل کی۔ فرض کا ایک خاص وقت معین ہوتا ہے، جب کہ نفل کے لیے وقت کا اس طرح تعین نہیں ہوتا۔ لیکن نفلی عبادات بھی ہیئت کے اعتبار سے فرض کے قریب اور مشابہ ہوتی ہیں اور ان کی ادایگی سے فر ض عبادت کی انجام دہی آسان ہوتی ہے اور اس کی روح برقرار رہتی ہے ۔اسی طرح اگر فرض عبادات میں کوئی کمی رہ جائے تو روزِقیامت وہ نفل عبادات سے پوری کی جائے گی ۔ نماز ، زکوۃ اور حج کی فرض صورتیں وقت معین میں ادا ہوتی ہیں لیکن نفلی نماز ، نفلی صدقات اور عمرہ پورے سال کے دوران ادا کیے جا سکتے ہیں یہی حال نفلی روزے کا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ میں صرف فرض روزے ہی نہیں بلکہ نفلی روزے بھی موجود ہیں جن کا مقصد روحِ روزہ کو برقرار رکھنا ہے۔ شوال ، عاشورہ محرم ، ایام بیض، پیر اور جمعرات کے روزے اور دیگر نفلی روزے جن کا ذکر احادیث میں ملتا ہے، سب اسی قبیل سے ہیں ۔اس لیے گاہے گاہے نفلی روزے کا اہتمام کرنا روح صوم کی آبیاری کے مترادف ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ِ گرامی ہے: ’’جس نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد ماہِ شوال میں چھے نفلی روزے رکھے تو اس کا یہ عمل ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے‘‘۔(مسلم،حدیث:۱۹۸۴)

دوسری روایت میں آیا ہے:’’چار چیزیں وہ ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہیں چھوڑتے تھے:۔عاشور،عشرہ ذی الحجہ( یعنی یکم ذی الحجہ سے یوم العرفہ یعنی نویں ذی الحجہ تک) اورہر مہینے کے تین روزے اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں‘‘۔(سنن النسائی، حدیث:۲۳۷۳)

محرم کے مہینے میں روزے بھی اسی قبیل سے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ رمضان المبارک کے بعد کون سا روزہ افضل ہے تو آپ نے فرمایا:’’ اللہ کے مہینے محرم کا‘‘(مسلم، حدیث:۱۱۶۳)۔ ایام بیض، یعنی ہر ماہ کی تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ مستحب ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ایام بیض، یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھیں‘‘۔(سنن النسائی، حدیث:۲۴۲۴)

سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھنا بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے۔ اس بارے میں آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا:’’ ہر سوموار اور جمعرات کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں، سب مسلمانوں یا ایمان والوں کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ معاف کردیتا ہے، سواے آپس میں ترکِ گفتگو کرنے والوں کے۔ ان کے بارے میں فرماتا ہے کہ ان کا معاملہ مؤخر کر دو‘‘۔(ترمذی، حدیث:۷۴۷)

  •  قرآن مجید سے تعلق : قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کا تعارف قرآن کریم ہی کے حوالے سے کرایا ہے گویا رمضان کی فضیلتیں اور برکتیں نزول قرآن کی وجہ سے ہیں۔اس لیے نہ صرف رمضان میں بلکہ رمضان کے بعد بھی قرآن سے مضبوط تعلق رکھنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ  اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ(البقرہ۲:۱۸۵)’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں‘‘۔

روزے اور قرآن کریم قیامت کے دن اپنے متعلقین کی سفارش کریں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:’’روزے اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے سفارش کریں گے۔روزے کہیں گے :یا رب!میں نے دن کے وقت اس کو طعام اور شہوات سے روکا تھا، لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول کرے۔قرآن کہے گا:اے رب!میں نے رات کے وقت اس کو سونے سے منع کیا تھا ،لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول کرے۔ چنانچہ ان دونوں کی سفارش بارگاہِ الٰہی میں قبول کی جائے گی‘‘۔(مسند احمد، حدیث:۶۳۳۷)

رمضان المبارک میں اہل ایمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب سے گہرا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ نمازِ تروایح اور دیگراوقات میں اس کی کثرت سے تلاوت ہوتی ہے اوراکثر مقامات پر قرآن کریم کی تفسیر وترجمے کی خصوصی کلاسیں ہوتی ہیں اور نماز تراویح سے قبل یا بعد میں مضامین قرآن کا خلاصہ بیان کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی عظمت و جلالت سے قلوب اور ارواح معمور ہوتے ہیں۔جس کے نتیجے میںروحانی قوت اور ایمان کی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

 اگر قرآن کریم کے ساتھ یہ تعلق پورے سال کے دوران استوار رہے، تلاوت، تعلیم و تعلم اور تدبر و تفکر کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں قرآنی تعلیمات کا نفاذ بدستور قائم رہے، توہماری زندگیوں میں وہ مثبت تبدیلی برقرار رہے گی جو رمضان کے دوران میں میسر آئی تھی اور جس کا برقرار رکھنا پوری زندگی میں مطلوب ہے۔

  •  نماز با جماعت کا اھتمام:ایک اہم تبدیلی جو رمضان المبارک کے دوران دیکھنے میں آتی ہے کہ مسلمان کا اللہ تعالیٰ کے گھرسے گہرا رابطہ رہتا ہے۔ مساجد نمازیوں سے بھرجاتی ہیں اور روح پرور اجتماعیت دیکھنے میں آتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ا س فضا کو برقرار رکھا جائے۔ نماز باجماعت صرف رمضان میں نہیں بلکہ سال بھر مطلوب ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تاکید فرمائی ہے ۔ اگر رمضان کے بعد بھی مسلمان مسجد سے اسی طرح وابستہ رہیں تو نظم و ضبط اور اتفاق و اتحاد کی وہ کیفیت جو روزہ سے حاصل ہوتی ہے ،وہ برقرار رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ قیام اللیل اور نوافل کا اہتمام مزیدروحانی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
  • ایثار و ھمدردی :معاشرتی استحکام اورسکون کے لیے ضروری ہے کہ افرادمیں صبر واستقامت اوربرداشت کامادہ ہواور اُن کے درمیان باہمی ہمدردی کے جذبات موجود رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ِ گرامی ہے:’’اور وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ،اور وہ غم خواری کا مہینہ ہے‘‘۔(شعب الایمان، کتاب فضائل شھر رمضان، حدیث: ۳۴۵۵)

 ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ کثیر تعداد میں موجودہیں جنھیں ہمدردی اور مددکی ضرورت ہوتی ہے اور صاحبِ استطاعت  لوگوںکا ایثار ان کی مشکل کو کافی حد تک کم کر سکتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں مسلسل اسی جذبے کی تربیت کی جاتی ہے اورمفلوک الحال اور محروم الوسائل لوگوں کی حالت کا صحیح احساس کرایا جاتا ہے ۔ہماری عملی زندگی میں ایسے مواقع بار بار آتے ہیں جو ہم سے ایثار اور ہمدردی کا تقاضا کرتے ہیں ۔ رمضان کے اختتام پر صدقٔہ فطر اسی مقصد کے لیے لازم کیا گیا ہے۔اسی جذبے کے تحت ہمیں پورا سال اپنے کمزور بھائیوں کی مدد کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔

  • منکرات سے اجتناب :روزے کی حالت میں جائز کھانے پینے اور جنسی خواہشات تک پر پابندی لگ جاتی ہے اور مسلمان اس پابندی کو اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر قبول کرتے ہیں، جب کہ ناجائز کاموں سے خصوصی طور پر پرہیزکرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اسی جذبے کی آبیاری کرکے سال بھر تمام منکرات سے اجتناب کرنے کا اہتمام کرناچاہیے۔

انسان اپنی خواہشات کے ہاتھوں مجبور ہو کر رشوت ستانی ، غلط کاری ، دھوکہ دہی، دروغ گوئی ، غیبت ، جھوٹ اور خود غرضی جیسے اخلاق رذیلہ کے دلدل میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔  ان قلبی بیماریوں کا علاج بھی روزہ ہی بتایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: صَوْمُ شَھْرِ الصَّبْرِ وَ ثَلَاثَۃِ أَیَِّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ یُذْھِبْنَ وَحْرَ الصَّدْرِ ’’ماہِ صبر کا روزہ اور ہر مہینے کے تین روزے دل کا میل دُور کرتے ہیں۔(مسند احمد،حدیث:۲۱۹۹۹)

ماہ صیام میں خواہشات پر قابو پانے کی مسلسل تربیت کے نتیجے میں ضروری ہے کہ ہر موڑ پر اپنی خواہشات کو قابو میں رکھا جائے اور ان کا غلام بن کر روزے کے ثمرات کو ضائع نہ ہونے دیا جائے۔

  • نظم و ضبط : رمضان المبارک میں پورے عالم اسلام میں روزہ رکھا جاتاہے ۔  طلوعِ فجرسے قبل متعین وقت پر سحری کے لیے اُٹھنا، پھر پورا دن بھوک پیاس کی مشق ،رات کو   قیام اللیل اور نماز باجماعت میں امام کی مکمل اطاعت مسلمان کی زندگی میں نظم وضبط پیدا کرتا ہے۔ ڈسپلن کی اس کیفیت کو برقرار رکھنے اور ترقی دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس مہینے میںنیک اعمال کی جو مشق کی گئی ، اس کو حسب استطاعت جاری رکھا جائے۔

یہ چند عوامل ہیں جن سے روزے کے ثمرات کو باقی رکھنے میں بھر پور مدد مل سکتی ہے اس کے لیے انفرادی محنت، اجتماعی یاددہانی اوراندرونی احساس کی بیداری کی ضرورت ہے۔

پورے سال میں روزے صرف ایک ماہ رمضان میں فرض کیے گیے ہیں اور اس کا مقصد تزکیۂ نفس ا ور تقویٰ ،باہمی ہمدردی اور سخت کوشی کی وہ کیفیت پید ا کرنا ہے جو بندے کو بقیہ سال کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے تیار کرے۔ رمضان المبارک کی مسلسل مشق سے جو ثمرات حاصل ہوتے ہیںوہ مسلمانوں کا بیش قیمت سرمایہ ہوتا ہے جن کی حفاظت کرنا اور ترقی دینا ان کا فرض ہے۔     

نیکی کرنا بہ نسبت اس کی حفاظت کرنے کے آسان کام ہے ۔روزِ قیامت کئی بدقسمت ایسے ہوں گے جو دنیا میں بڑی بڑی نیکیاں کر کے ضائع کر چکے ہوں گے اور وہ جنت کے حصول اور دوزخ سے نجات کے لیے ان کے کسی کام نہیں آئیں گے۔

بندہ جونیکی حفاظت کے ساتھ آخرت تک لے جانے میں کامیاب ہوا اس کا انجام بھلائی ہی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے: لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ  ط وَلَا یَرْھَقُ وُجُوْھُھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّۃٌ  ط (یونس ۱۰: ۲۶ )’’جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا، اُن کے لیے بھلائی ہے اور مزید فضل۔اور ان کے چہروں پر روسیاہی اور ذلت نہ چھائے گی‘‘۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں اپنی اطاعت کی توفیق اور آخرت میں اچھے انجام سے نوازے ۔ آمین!

نماز کے مختلف اعمال کا تذکرہ مختلف راویوں نے کیا ہے۔ یہ تذکرے ہم تک حدیث کی کتابوں میں مدون ہوکر راویوں کے الفاظ کی صورت میں پہنچے۔ ان تذکروں کی حیثیت قولی روایت کی ہے۔ قولی روایتوں میں تواتر شاذ ونادر ہی ملتا ہے، زیادہ تر اخبار آحاد ہیں، جن میں کچھ روایتیں صحیح ذریعے سے پہنچی ہیں اور کچھ کمزور ذریعے سے۔ تاہم، جو حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے وہ یہ کہ اُمت نے نماز ادا کرنا ان قولی روایتوں سے نہیں ، بلکہ ان روایتوں سے پہلے اور ان روایتوں کے بغیر سیکھی اور ان متواتر عملی روایتوں کے ذریعے سیکھی، جن کی حیثیت متواتر عملی سنت کی ہے۔ قولی روایتیں تو بسااوقات ایک راوی سے ایک دو راویوں تک پہنچیں، مگر نماز ساری اُمت سے ساری اُمت تک پہنچی۔ گویا اُمت نے نماز راویوں سے نہیں سیکھی بلکہ نمازیوں سے سیکھی جن میں یہ راوی بھی شامل تھے۔

نماز کا طریقہ اور روایاتِ احادیث 

جب ہم نماز کے مختلف اعمال کا جائزہ لیتے ہیں تو مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں۔ بعض اعمال وہ ہیں جن کے لیے روایتیں بھی ہیں اور عملی تواتر بھی موجود رہا ہے۔ ساری روایتیں اعلیٰ درجے کی ہیں اور عملی تواتر تو ہے ہی اعلیٰ درجے کی دلیل،جیسے تشہد کی مختلف صورتیں۔ بعض اعمال    وہ ہیں جن کے لیے روایتیں نہیں ہیں، یا ہیں تو بہت ہی ضعیف ہیں ، البتہ عملی تواتر ہے، جیسے رکوع کے بعد کھڑے ہونے پر ہاتھ رکھنے کا مقام اور عورتوں کے سجدے کی شکل ۔ بعض اعمال وہ ہیں   جن کے لیے روایتیں ہیں لیکن ان میں ذرا سی کمزوری ہے، یا وہ خود محدثین کے یہاں معروف نہیں ہیں۔ تاہم، عملی تواتر موجود ہے، جیسے حالت قیام میں ہاتھ باندھنا۔ غرض یہ کہ روایتوں کا درجہ مختلف ہوسکتا ہے۔ کسی عمل کے لیے متواتر روایتیں مل جاتی ہیں، اور کسی عمل کے لیے نہیں ملتی ہیں۔ کسی عمل کے حق میں صحیح روایتیں ملتی ہیں اور کسی عمل کے لیے ضعیف روایتیں ہی ملتی ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ عظیم فقہا نے اپنے زمانے میں اُمت کو نماز کے مختلف اعمال انجام دیتے ہوئے دیکھا، اور ان میں سے جو طریقہ ان کو زیادہ پسندآیا اس کواختیار کیا۔ ان کے زمانے میں اُمت میں جو طریقے رائج تھے، وہ دراصل عملی تواتر کے ساتھ ان کے زمانے تک پہنچے تھے۔

اس حقیقت کوسمجھ لینے کے بعد ہمارا رویہ نماز سے متعلق روایتوں کے بارے میں تبدیل ہونا چاہیے۔ ہم یہ نہ سمجھیں کہ نماز بس وہ ہے جو روایتوں میں مذکور ہے ، بلکہ نماز تو پہلے نمبر پر وہ ہے جو اُمت نے اُمت کے تعامل سے سیکھی، یعنی جو کچھ صحیح روایتوں میں ہے وہ تو درست ہے، مگر اُمت نے اُمت کے تعامل سے جو نماز سیکھی ہے وہ بھی درست ہے۔

صحیح روایتیں سر آنکھوں پر، مگر ان کا حوالہ دے کر اُمت کے تعامل سے آئی ہوئی نماز کو  غلط کہنا صحیح نہیں ہے۔ ہمارا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ رفع یدین کرنا (رکوع سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ اٹھانا) بھی تواتر عملی سے ثابت ہے اور رفع یدین نہ کرنا بھی تواتر عملی سے ثابت ہے۔ دونوں عمل سنت کے مطابق ہیں۔ اتفاق سے ایک عمل کے حق میں بہت زیادہ روایتیں ہیں اور ایک کے حق میں کم روایتیں ہیں۔ اگر دونوں میں سے کسی ایک کے حق میں کوئی روایت نہ ہوتی تب بھی یہ نہیں مانا جاسکتا کہ ان کا عمل سنت سے ہٹ کر ہے، کیونکہ ان کی پشت پر عملی تواتر کی دلیل موجود ہے۔

 یاد رہے، ہمارا مقصد عملی تواتر کا حوالہ دے کر احادیث کی اہمیت کو گھٹانا نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا راستہ یاد دلانا ہے، جس میں تمام صحیح روایتوں پر عمل ممکن ہو جاتا ہے، نہ کسی کو مرجوح اور قابلِ رد قرار دینا پڑتا ہے، نہ کسی کو منسوخ کہہ کر ناقابلِ التفات بنانا ہوتا ہے۔

نماز کے بعض احکام اور عملی تواتر

یوں تو نماز کے تمام اعمال کی اصل دلیل عملی تواتر ہی ہے، یہ الگ بات ہے کہ ان اعمال کے بارے میں مختلف درجے کی روایتیں بھی موجود ہیں۔ تاہم، بعض اعمال کے حوالے سے تو بہت واضح ہوجاتا ہے کہ ان کی پشت پر صرف عملی تواتر کی دلیل ہے۔ کیونکہ یا تو کوئی روایت اس سلسلے میں ملتی نہیں ہے، یا ملتی ہے تو ضعیف ہوتی ہے، اور اگر کسی درجے میں صحیح یا حسن ہوتی بھی ہے تو اتنی دُور دراز کی ہوتی ہے کہ یہ نہیں باور کیا جاسکتا کہ ساری اُمت نے نماز کا وہ عمل خاص اس روایت سے سیکھا ہوگا، جیسے رکوع اور سجدے کی تسبیحات کا بنا آواز کے پڑھنا ، تشہد اور درود بھی بنا آواز کے پڑھنا، جہری نمازوں میں دو رکعتوں کے بعد والی رکعتوں میں قرأت بنا آواز کے ہوتی ہے، رکوع سے پہلے ہاتھ کہاں باندھے جائیں، رکوع سے پہلے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے والے رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سارے اعمال وہ ہیں، جن کے دلائل کو تلاش کرنے نکلیں تو ساری تحقیق اورجستجو کے بعد اطمینان اسی پر ہوتا ہے کہ ان اعمال کی اصل دلیل عملی تواتر ہے۔ اس دلیل کے بغیر اتنی بڑی اُمت یکساں طریقے سے ان اعمال کو انجام نہیں دے سکتی تھی۔

 ائمہ فقہ کی تدوینِ نماز

اُمت کو ائمہ مجتہدین نے نماز کی ادایگی نہیں سکھائی بلکہ اپنے وقت کی اُمت سے سیکھی،  اس یقین کے ساتھ کہ یہی اللہ کے رسول کی نماز ہے، اور اسی طریقے کی تدوین کی۔ ہر امام نے حالتِ شعور میں اپنے شہر کے لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، اور اس یقین کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے پایا کہ ان کی نماز بالکل درست ہے اور طریقۂ رسول کے عین مطابق ہے۔

کبھی کبھی لوگوں کی گفتگو سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی کے زمانے میں اُمت کو نماز پڑھنی نہیں آتی تھی۔ اس لیے ہر امام نے اپنے پاس موجود دلائل کی روشنی میں نماز کا طریقہ اُمت کے سامنے پیش کیا۔ یہ تصور درست نہیں ہے۔ اماموں کا زمانہ تو بہت بعد کا ہے، اُمت تو ان سے پہلے بھی روزانہ نماز پڑھتی تھی۔ پوری اُمت نماز کے مختلف طریقوں کے بارے میں یہ یقین رکھتی تھی کہ یہ سب طریقے درست ہیں، اور سنتِ رسولؐ کے مطابق ہیں۔     ان کے درمیان نماز کے طریقوں کے بارے میں نہ کوئی بے اطمینانی تھی، نہ کوئی باہمی جھگڑا تھا۔ اس دور کے اماموں اور فقیہوں نے یہ کام ضرور کیا کہ نماز کے رائج طریقوں کو محفوظ کرلیا۔ چونکہ انھوں نے اس فقہ کی تدوین کا بیڑا اٹھایا تھا جو لوگوں کے عمل میں تو تھی لیکن ابھی اس کی باقاعدہ تدوین کا عمل تشنۂ تکمیل تھا۔ یوں نماز کے سارے طریقے بھی تدوین کے عمل میں شامل ہوگئے۔

ائمہ مجتہدین کا کام اُمت کو نماز سکھانا تھا ہی نہیں، ان کا اصل کام تو نئے پیش آمدہ مسائل میں اُمت کی رہنمائی کرنی تھی۔ لوگ ان کے پاس نماز کا طریقہ پوچھنے نہیں جاتے تھے، کیونکہ نماز کا طریقہ سب جانتے تھے۔ امام ابوحنیفہ کا امتیازیہ نہیں ہے کہ انھوں نے کوئی خاص طریقۂ نماز اختیار کیا۔ ان کا امتیاز تو یہ ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں نئے نئے مسائل کے سلسلے میں اُمت کی رہنمائی کی، یہی امتیاز امام مالک ، امام شافعی اور امام احمدبن حنبل اور دیگر مجتہد فقہا کاتھا۔

یوں بھی نماز اجتہاد کا میدان تو ہے نہیں، اسے تو بالکل ویسے ہی پڑھنا ہے جیسے اللہ کے رسولؐ نے پڑھ کر دکھایا تھا، اور اُمت ویسے ہی پڑھتی آئی ہے۔ ہم نے بہت بڑی غلطی کی جب نماز کی کسی خاص شکل کو کسی امام کی طرف منسوب کردیا، اور اس امام کے تمام مقلدین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے امام صاحب کی طرف منسوب نماز پڑھیں۔

یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ جب نماز میں اجتہاد نہیں کرنا ہے تو پھر نماز میں تقلید بھی نہیں کرنی ہے، کیونکہ تقلید تو اجتہادی مسائل میں ہوتی ہے۔ بالفاظ دیگر جو کوئی چاہے اُمت میں موجود کسی بھی طریقے کی نماز پڑھ سکتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ کس امام یا کس مسلک کا پیرو ہے۔

ہمیں جاننا چاہیے کہ نماز کے جن طریقوں کو ہم چاروں اماموں یا دیگر اماموں میں سے کسی کی طرف منسوب کرتے ہیں، وہ دراصل اس زمانے کی اس اُمت کا عمل ہوتا ہے ، اور امام محض اپنے وقت کی اُمت کا ترجمان ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی چوتھی صدی تک کے مسلمانوں کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’عوام الناس کا معاملہ یہ تھا، کہ اجماعی مسائل، جن میں مسلمانوں یا جمہور مجتہدین کے درمیان اختلاف نہیں ہوتا، ان میں صرف صاحب شریعت کی پیروی کرتے، اور وضو وغسل کی کیفیت، اور نماز و زکوٰۃ وغیرہ کے احکام اپنے آبا اور شہر کے عالموں سے سیکھ لیتے، اور اسی پر چلتے، اور جب کوئی نادر واقعہ پیش آجاتا تو کسی بھی مسلک کا جو مفتی مل جاتا،اس سے پوچھ لیتے‘‘۔

مسلک کی وکالت کا آغاز

پوری اُمت نے نماز اللہ کے رسول سے سیکھ کر عملی تواتر کے ساتھ بعد والی اُمت تک منتقل کی ہے، اس لیے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نماز کو اس کے سارے باہمی فرق کے ساتھ اپنی نماز سمجھا جاتا۔ لیکن جب غلطی سے یہ مان لیا گیا کہ نماز کی کوئی ایک خاص صورت تو ہماری،ہمارے امام اور ہمارے مسلک کی ہے اور باقی صورتیں دوسروں کی اور دیگر اماموں اور مسلکوں کی ہیں، تو یہیں سے خرابی پیدا ہوئی۔ ہر مسلک کی وکالت کرنے والے لوگ سامنے آگئے۔ ان کا مقصد یہ ہوتا کہ اپنے مسلک کی تائید میں کمزور دلیل کو بھی طاقت ور بناکر پیش کریں ، اور مقابل کی طاقت ور دلیلوں کو بھی کمزور یا منسوخ قرار دیں۔اس میں وہ یہ بھی بھول جاتے کہ ان کی یہ وکالت اللہ کے رسول کی صریح اور صحیح تعلیمات کے مقابلے میں حد ادب سے تجاوز کررہی ہے۔ البتہ ان جانبدار وکیلوں کے مقابلے میں بعض دیانت دار اور غیر جانب دار فقہا کے نام بھی سامنے آتے ہیں ، جن کو مسلک سے زیادہ شریعت کی دلیل کا احترام اور خیال رہتا ہے، اور وہ اعتدال کی راہ کے متلاشی رہتے ہیں۔

اختلاف تنوع کیا ھے؟

اگر کسی عمل کو انجام دینے کے ایک سے زیادہ طریقے ہوں ، اور وہ سب جائز ہوں، تو ان میں اختلاف صرف اس بات کا رہ جاتا ہے کہ کون اپنی پسند یا صواب دید سے کس طریقے کو اختیار کرتا ہے۔ یہ جائز اور ناجائز کا اختلاف نہیں ہوتا بلکہ صرف پسند اور اختیار کا اختلاف ہوتا ہے۔ یہ سب طریقے جائز اور مشروع ہوتے ہیں۔ اس کو اختلاف مباح بھی کہتے ہیں، اور اختلاف تنوع بھی۔

علامہ ابن تیمیہ نے بتایا ہے کہ ایک سے زائد صحیح طریقوں میں ایک فقیہ کسی ایک طریقے کاانتخاب کیوں کرتا ہے؟ وہ صرف اسی ایک طریقے سے واقف ہوتا ہے، یا اس طریقے کا عادی اور اس سے مانوس ہوتا ہے، یا اس کے خیال میں اسے راجح قرار دینے کا کوئی سبب ہوتا ہے۔ اختلاف تنوع میں کبھی کوئی ایک فقیہ دیگر طریقوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے، کیونکہ اس کو لگتا ہے کہ یہ سنت سے ثابت نہیں ہے، لیکن اس سے اس دوسرے فقیہ کا یقین تومجروح نہیں ہوتا جو جانتا ہے کہ یہ بھی سنت ہے۔اس ضمن میں ایک قطعی اصول ہے کہ کسی بھی عمل کے جتنے طریقے اللہ کے   رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوں وہ سب جائز ہیں، اور اگر لوگ ان میں سے الگ الگ طریقوں کا انتخاب کرتے ہیں ، تو یہ اختلاف تنوع ہے۔

حدیث و سنّت میں فرق

علامہ سید سلیمان ندوی نے سنت اور حدیث کا فرق بتاتے ہوئے عملی تواتر پر بہت   جرأت مندانہ اور بصیرت افروز گفتگو کی ہے، اور بہت زور دے کر یہ بات کہی ہے کہ نماز اُمت کو عظیم عملی تواتر کے ساتھ ملی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ علامہ ندوی متواتر عملی کیفیت کو ہی سنت قرار دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ’’آج کل لوگ عام طور سے حدیث وسنت میں فرق نہیں کرتے اور اس کی وجہ سے بڑا مغالطہ پیش آتا ہے۔ حدیث تو ہر اس روایت کا نام ہے جو ذات نبویؐ کے تعلق سے بیان کی جائے، خواہ وہ ایک ہی دفعہ کا واقعہ ہو یا ایک ہی شخص نے بیان کیا ہو، مگر سنت دراصل   عمل متواتر کا نام ہے۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمل فرمایا، آپ کے بعد صحابہ نے کیا ،   پھر تابعین نے کیا۔ گو یہ زبانی روایت کی حیثیت سے متواتر نہیں ، مگر عملًا متواتر ہے۔ اسی طرح    یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک واقعہ روایت کی حیثیت سے مختلف طریقے سے بیان کیا گیا ہو، اس لیے وہ متواتر نہ ہو، مگر اس کی عام عملی کیفیت متواتر ہو۔ اس متواتر عملی کیفیت کا نام سنت ہے۔

فرض کیجیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی فرضیت کے بعد تمام عمر پانچ وقت نماز پڑھتے رہے۔ آپ کے بعد تمام صحابہ کا یہی طرز عمل رہا، یہی تابعین کا رہا، اور یہی روے زمین کے تمام مسلمانوں کا رہا، ان کا بھی جو امام بخاری اور امام مسلم کے وجود سے پہلے تھے، اور ان کا بھی جو اس کے بعد پیدا ہوئے۔ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پانچ وقت کی نماز اصطلاحی روایت متواترہ سے ثابت ہو یا نہ ہو لیکن عمل متواترہ سے بلاشک وشبہہ ثابت ہے۔ تیرہ سو برس سے زائد آج تمام دنیا کے مسلمان جن کے عقائد،اعمال ، خیالات، اخلاق ، زبان، تمدن، وطنیت اور   زمانے میں بے حد اختلاف ہے، تاہم اس بات میں سب کا اتفاق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اصحاب دن میں پانچ دفعہ نماز پڑھا کرتے تھے، فلاں فلاں اوقات میں اور فلاں فلاں ارکان کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ یہ تواتر عملی ہے، جس کا انکار مکابرہ [خوا مخواہ کا اعتراض]ہے۔

کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان پانچ اوقات کے تعیین اور طریقۂ نماز بخاری یا مسلم یا ابوحنیفہ اور شافعی رحمۃ اللہ علیہم کی وجہ سے مسلمانوں میں رواج پذیر ہے۔ حالانکہ یہ تو وہ عملیت ہے جو اگر امام بخاری یا امام مسلم دنیا میں نہ بھی ہوتے تو بھی وہ اسی طرح عملاً ثابت ہوتی۔ اگر دنیا میں بالفرض احادیث کا ایک صفحہ بھی نہ ہوتا تو وہ اسی طرح جاری رہتی۔ احادیث کی تحریر وتدوین نے اس طرز عمل کی ناقابل انکار تاریخی حیثیت ثبت کردی۔ کیا پھر اس بنا پر کہ اس عملی کیفیت کو دوسری یا تیسری صدی کے کسی محدث نے الفاظ وتحریر میں قلم بند کردیا وہ تواتر حد اعتبار سے گرگیا‘‘۔

عملی تواتر پر ایک جامع تبصرہ

عملی تواتر پر قدیم فقہا میں ایک زبردست اور جامع بیان امام ابن عبدالبر کے یہاں ملتا ہے۔ آپ کا شمار چوٹی کے فقہا میں ہوتا ہے۔ مالکی مسلک کے آپ زبردست ترجمان مانے جاتے ہیں۔

تشہد میں کیا پڑھا جائے؟ اس پر علامہ ابن عبدالبر نے تمام اقوال اور ان کے دلائل پیش کیے، اور اس کے بعد فرمایا: ان شاء اللہ یہ سب اچھے اور خوب ہیں۔وَکُلٌّ حَسَنٌ اِن شَائَ اللّٰہُ۔

اس کے بعد انھوں نے حکمت وبصیرت سے بھرپور ایک شان دار بیان دیا۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ اختلاف تشہد کا ہو، اذان اور اقامت کا ہو، جنازے کی تکبیروں کا ہو، جنازے کی نماز میں کیا پڑھا جائے اور کیا دعا مانگی جائے اس کا ہو، عیدین کی نمازوں میں تکبیروں کی تعداد کا ہو، نماز کے رکوع میں ہاتھ اٹھانے کا ہو، نماز جنازہ کی تکبیر میں ہاتھ اٹھانے کا ہو، نماز کے سلام کا ہو کہ ایک سلام یا دو سلام، نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا اور ہاتھ یونہی چھوڑدینے کا ہو،قنوت پڑھنے اور نہ پڑھنے کا ہو، اور اس طرح کے سارے ہی اختلاف دراصل مباح اختلاف ہیں۔ ویسے ہی جیسے وضو میں ایک ایک بار دودو بار اور تین تین بار اعضا دھونے کا معاملہ ہے۔ تاہم، حجاز اور عراق کے فقہا اور ان کے متبعین جن کے فتووں پر اب لوگوں کا دارومدار ہوگیا ہے، وہ نماز جنازہ میں چارتکبیروں سے زیادہ پر شدت اختیار کرتے ہیں، حالانکہ اس کی کوئی وجہ نہیں ہے، کیونکہ سلف تو سات اور آٹھ، چھے اور پانچ ، چار اور تین تکبیر بھی کہتے تھے۔ ابن مسعود نے تو کہا کہ تمھارا امام جتنی تکبیریں کہے اتنی تکبیریں تم بھی کہو۔یہی راے احمد بن حنبل کی بھی تھی۔یہی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وضو میں تین تین بار دھونا، ایک ایک بار اچھی طرح دھونے سے افضل ہے‘‘۔

اس کے بعد علامہ ابن عبدالبر نے عملی تواتر کی زبردست دلیل پر سے پردہ اٹھایا۔ وہ لکھتے ہیں:’’میں نے جن جن مسائل کا تذکرہ کیا ہے،انھیں دراصل تمام بعد والوں نے اگلوں سے نقل کیا ہے، اور نیک تابعین نے اپنے بزرگوں سے نقل کیا ہے، اور اس طرح نقل کیا ہے کہ اس میں کسی غلطی یا بھول چوک کا شائبہ نہیں ہے، کیونکہ یہ ظاہر اور نمایاں چیزیں ہیں، جن پر عالم اسلام کے سارے علاقوں میں عمل رہا ہے۔ یہ عمل زمانہ در زمانہ رہا ہے۔عوام اور علما تمام ہی اس میں یکساں رہے ہیں، اور یہ نبیِ اُمت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے جاری ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب جائز ہیں، اور ان میں وسعت اور رحمت والی گنجایش ہے ، اور حمد اللہ کے لیے ہے‘‘۔

افضل عمل کی بحث میں اعتدال کی ضرورت

عملی تواتر اور دیگر روایات اور آثار سے جب ایک ہی مسئلے میں دوطریقوں کا سنت ہونا ثابت ہوجائے، تو ان میں سے کسی ایک کو افضل قرار دینے میں احتیاط کی بھی ضرورت ہے اور اعتدال کی بھی ۔ ائمہ اربعہ میں سے کوئی نماز کے کسی مسئلے میں ایک سے زیادہ طریقوں میں سے کسی ایک طریقے کو زیادہ پسند کرتا ہے، تو اس کی وجہ عام طور سے یہ ہوتی ہے کہ اس نے بچپن سے اسی عمل کو اپنے بزرگوں اور اساتذہ کو کرتے ہوئے پایا، اپنے علاقے میں اسی عمل کو رائج پایا، اور اس عمل سے اس کو انسیت زیادہ رہی۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، کیونکہ مختلف امام جن مختلف طریقوں کو انسیت کی بنا پر پسند کرتے تھے، وہ عملی تواتر کی روشن اور مضبوط دلیل سے ثابت بھی ہوتے تھے۔ لیکن فقہ کے ان اماموں کو یہ معلوم رہتا تھا کہ دوسرے طریقے بھی سنت کے مطابق ہیں، وہ بھی عملی تواتر سے ثابت ہیں۔ اس لیے وہ بھی قابل احترام ہیں۔

شاہ ولی اللہ دہلوی ائمہ اربعہ کے زمانے کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’کسی مسئلے میں جب صحابہ اور تابعین کے مسلک باہم مختلف ہوتے، تو ہر عالم کا رجحان اس کے علاقے اور اس کے استاذوں کے مسلک کی طرف ہوتا۔ کیونکہ وہ یہ زیادہ جانتا کہ اس کے یہاں رائج اقوال میں کون صحیح ہیں اور کون ضعیف، اور ان کے لیے موزوں اصولوں سے اس کی واقفیت زیادہ ہوتی، اور پھر اس کا دل بھی ان کے علم وفضل سے زیادہ متاثر ہوتا‘‘۔

خود عمل کرنے کے لیے پسند کی یہ بنیاد بھی معقول اور مناسب ہے جس کا ذکر شاہ صاحب نے کیاہے۔ تاہم، بات اس وقت خرابی کا باعث بنتی ہے جب بعد میں آنے والے لوگ اپنے امام کی اس پسند کا اس قدر اشتہار کرتے ہیں، اس پر اس قدر اصرار کرتے ہیں، اور اس کی وکالت میں اتنے دلائل جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دوسرے موقف کی حرمت وفضیلت مجروح ہونے لگتی ہے۔

حقیقت میں تو دونوں طریقے فضیلت سے متصف ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا سرچشمہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہوتی ہے، لیکن ان میں سے ایک کو افضل قرار دینے میں جب حداعتدال سے تجاوز ہوتا ہے، تو دوسرا غیر افضل لگنے لگتا ہے۔یہ دراصل سنت کے قابل احترام سرچشمے کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، جہاں سے وہ طریقہ اُمت کو ملا ہے۔ اگر ساری توجہ اس پر مرکوز ہوجائے کہ ہمارے امام صاحب نے چند طریقوں میں سے کس طریقے کو پسند کیا تھا، اور آدمی     یہ فراموش کردے کہ وہ سارے طریقے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پسند کیے ہوئے اور  آپ کے بتائے ہوئے تھے، تو یہ رویہ درست نہیں ہوتا، اور اس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوتے۔

نماز اور اُمت کا اتحاد

نماز کے بارے میں بہت سے اختلافات، اس وجہ سے پیدا ہوئے اور شدت اختیار کرگئے کہ لوگوں نے یہ نظر انداز کردیا کہ نماز اُمت کو غیر معمولی عملی تواتر سے ملی ہے۔ اگر دلائل و شواہد کی روشنی میں تمام مسلمانوں پر یہ حقیقت عیاں ہوجائے، اور انھیں یہ اطمینان ہوجائے کہ ائمہ اربعہ کے زمانے میں نماز کی جتنی شکلیں بیان کی گئی ہیں وہ سب تواتر سے ثابت ہیں اور عین سنت رسولؐ کے مطابق ہیں، تو نماز کی کسی ایک شکل کے بجاے ساری شکلوں سے محبت اور انسیت پیدا ہوجائے گی، اور اس کے نتیجے میں اختلاف وافتراق کا ایک بہت بڑا دروازہ بند ہوجائے گا۔نماز کے سلسلے میں ہمارا مثالی رویہ یہ ہونا چاہیے کہ طریقۂ نماز میں کہیں کہیں کچھ فرق نظر آئے تو اس کی نماز بھی اتنی ہی اچھی لگے جتنی اچھی اپنی نماز لگتی ہے، آمین کچھ زور سے کہنا بھی اچھا لگے اور آمین کچھ دھیرے سے کہنا بھی اچھا لگے کہ یہ سب کچھ اُمت نے پیغمبر اُمت سے سیکھا ہے۔ نماز پڑھنے والوں کی ہر ادا رسول اُمی کی اداہے، اس لیے ہر ادا اچھی لگنا چاہیے۔

اسلام کے دور اول میں نماز کے طریقوں کا تنوع اُمت میں اختلاف کا سبب نہیں بنتا تھا۔ علامہ ابن تیمیہ سے سوال کیا گیا کہ کیا چاروں مسلکوں سے وابستہ لوگوں کی ایک دوسرے کے پیچھے نماز صحیح طور سے ادا ہوجائے گی؟

علامہ ابن تیمیہ نے فرمایا: ’’ان کی ایک دوسرے کے پیچھے نماز جائز ہے، جیسا کہ صحابہ ، تابعین اور ان کے بعد ائمہ اربعہ کا طریقہ تھا، کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے، جب کہ ان مذکورہ مسائل میں ان کے درمیان اختلاف بھی تھا، لیکن سلف میں کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں نہ پڑھیں۔ اس حقیقت سے جو بھی انکار کرے گا وہ دراصل بدعتی، گمراہ اور کتاب وسنت اورسلف اُمت کے اجماع کا مخالف ہے۔

 صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والوں میں کچھ لوگ بسم اللہ پڑھتے تھے، اور کچھ نہیں پڑھتے تھے، کچھ آواز سے پڑھتے تھے، اور کچھ آواز سے نہیں پڑھتے تھے، کچھ فجر میں قنوت پڑھتے تھے، اور کچھ نہیں پڑھتے تھے، کچھ تھے جو حجامہ، نکسیر اور قے کے سبب سے وضو کرتے تھے، اور کچھ ان اسباب سے وضو نہیں کرتے تھے، کچھ شرم گاہ چھونے اور عورت کو شہوت سے چھونے کے سبب سے وضو کرتے تھے، اور کچھ وضو نہیں کرتے تھے ، کچھ نماز میں قہقہہ لگانے کے سبب سے وضو کرتے تھے اور کچھ وضو نہیں کرتے تھے، کچھ اونٹ کا گوشت کھانے کے سبب سے وضو کرتے تھے اور کچھ وضو نہیں کرتے تھے۔ اس سب کے باوجود وہ ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھا کرتے تھے، جیسا کہ امام ابو حنیفہ، اور ان کے شاگردوں کا اور امام شافعی کا اور دیگر لوگوں کا معاملہ تھا۔ وہ مدینہ کے مالکی اماموں کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے،جب کہ وہ لوگ نماز میں بسم اللہ نہ آواز سے پڑھتے تھے نہ بلاآواز کے پڑھتے تھے۔ اسی طرح امام ابویوسف نے ہارون رشید کے پیچھے نماز پڑھی، جب کہ اس نے حجامہ لگوائی تھی، اور امام مالک نے اسے فتوی دیا تھا کہ اسے حجامہ کے بعد وضوکی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اس کے پیچھے امام ابویوسف نے نماز پڑھی اورنہیں دوہرائی۔ اسی طرح امام احمد بن حنبل کی راے تھی کہ حجامہ اور نکسیر کے سبب سے وضو کرنا چاہیے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اگر امام (کی نکسیر پھوٹ جائے اور) خون نکلے، اور وہ وضو نہ کرے تو کیا آپ اس امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے؟ انھوں نے کہا میں سعید بن مسیب اور مالک کے پیچھے نماز کیسے نہیں پڑھوں گا؟۔

اس تاریخی حقیقت کوکم وبیش انھی الفاظ میں شاہ ولی اللہ دہلوی نے حجۃ اللّٰہ البالغہ میں بھی ذکر کیا ہے۔ دراصل سلف صالحین کی تقلید کرنے والوں کے لیے اس تاریخی بیان میں بڑا سبق ہے۔یہ اسی وقت ممکن ہے جب نماز کے مختلف مسائل کے سلسلے میں لوگ اپنا نقطۂ نظر درست کریں، اور خاص طور سے نماز کے حوالے سے اپنے موقف کے ساتھ دوسروں کے موقف کو بھی درست مانیں، اور یہ سمجھیں کہ نماز کے مسائل کے بارے میں سب کا موقف سنت رسولؐ کے مطابق ہے۔(جاری)

 ’لبرل ازم‘ کو ہر اُس خیال ، نظریے، عقیدے اور عمل سے دشمنی ہے، جو نفسِ انسانی کی بے لگام آزادی پر کسی قسم کی پابندی لگائے۔لفظ ’لبرل‘ انگریزی کے لفظ ’لبرٹی‘ (Liberty: یعنی مطلق آزادی و خود مختاری) اور لاطینی لفظ ’لائبر‘ (آزاد و خودمختار) سے ماخوذ ہے۔ اب یہ لفظ ایک مستقل اصطلاح کی حیثیت سے خدا اور نفسِ مذہب سے مطلق آزادی کی علامت بن چکا ہے۔

یورپی معاشرے میں عیسائی مذہبی رہنمائوں کی جانب سے سیکڑوں برس تک مذہب کی غلط اور خود ساختہ تشریح، مذہب کے غلط استعمال اور اس کی بنیاد پر عوام کے استحصال کے خلاف چودھویں صدی عیسوی میں شدید منفی ردّ ِ عمل پیدا ہوا، جس کی بنیاد پر ایک تحریک برپا ہوئی ۔اس تحریک کے فکری رہنمائوں نے جو آبائی طور پر خود بھی عیسائی تھے، دینِ عیسٰی ؑ میں دَر آنے والے بگاڑ کی اصلاح کرنے کے بجاے خوددینِ عیسوی ہی کو رد کر دیا اور معاشرتی اقدار، قوانین اور اخلاقیات کی تشکیل کے عمل سے دینِ عیسوی کو بے دخل کر دیا۔عیسائیت کی گرفت کمزور پڑنے سے یورپی عوام میں فکری خلا پیدا ہوا، جسے پُر کرنے کے لیے انسانوں کے خود ساختہ اور متفرق خیالات نے جگہ بنالی۔مذہب سے باغی ان یورپی لوگوں نے دنیا کے مختلف ملکوں کو تاراج کر کے وہاں حکومتیں قائم کیں تو اپنے لبرل نظریات ہی کو مقبوضہ معاشروں کی تشکیلِ نو کی بنیاد بنایا ۔مقبوضہ مسلم ممالک کے کچھ مسلمان بھی لبرل ازم سے متاثر ہوئے اوراس کے نقیب بن گئے۔

عیسائیت ہی نہیں بلکہ چین کے تائوازم اور کنفیوشس ازم ، جاپان کے شنٹوازم اور بدھ مت اور ہندستان کے ہندو مت، لبرل ازم کے سامنے غیرمؤثر ہوچکے ہیں۔ مشرقِ بعید میں پھیلے ہوئے   بدھ مت اور نسل پرست یہودیت سمیت تمام مذاہب جو کہ اپنی ساخت و ہیئت کے اعتبار سے معاشرے کی سیاسی،معاشی اور معاشرتی تشکیل میں پہلے بھی کوئی بہت سرگرم کردار نہیں رکھتے تھے، پچھلے ۶۰برسوں میں لبرل ازم کے فکری طُوفانِ بدتمیزی کے سامنے ریت کی دیوارثابت ہوئے ہیں اور ریاستی و معاشرتی اُمور میں رہنمائی سے کُلّی طور پر دست بردار ہو چکے ہیں۔ایک دینِ اسلام ہے جو اپنی فکری بنیاد کی مضبوطی کے سبب میدان میں قوت کے ساتھ موجود ہے۔اسی لیے تمام لبرل قوتوں کا نشانہ بھی اس وقت دین اسلام اور وہ مسلمان ہیں جودین اسلام کو اس کی اصل شکل میں اس کی روح کے ساتھ قائم کرنا اور قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

  •  لبرل ازم: دھریت کا مقدمہ: امریکا اور یورپ میں لبرل ازم کے سرخیل، ملحد اور دہریے (atheist یا agnostic) ہیں۔ لبرل ازم اصل میں الحاد اور دہریت کا مقدمہ ہے بلکہ اب تو خود ایک دین ہے اور ایک لبرل شخص ممکنہ طورپر(potentially)ایک ملحد اور ’دہریہ‘ ہی ہوتا ہے۔    اس لیے کہ خدا اور مذہب سے آزادی اورمذہب میں قطع و برید کی خواہش پہلے عملی اور بالآخر نظری طور پر خدا کے انکار ہی پر منتج ہوتی ہے۔ کوئی سرکاری مذہب نہ رکھنے والے ممالک (مثلاًسکینڈے نیویا،جرمنی، ہالینڈ،مشرقی ایشیا اور چین) میںدہریہ کہلانے والے افراد کی تعداد میں پچھلے چند برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔امریکا میں ان کی تعداد ۵ فی صد ہے۔گیلپ انٹرنیشنل کے سروے کے مطابق دنیا کے ۶۵ممالک کے ۱۱فی صد افراد نے دہریت کو اختیار کیا ہے۔ مشاہدہ   یہ ہے کہ لبرل لوگ جس مذہب سے متعلق ہوتے ہیں، سب سے پہلے اسی کی بنیاد پر ضرب لگاتے ہیں۔ اُس کے شعائر کا مذاق اُڑاتے ہیں اور اُس دین کے علم برداروں کی تضحیک اور کئی صورتوں میں ریاستی طاقت اور وسائل کے بل پر ان کے قتل تک کے درپے ہوتے ہیں۔
  •  حقیقت سے فرار: جب ایک لبرل یا دہریہ فرد یہ کہتا ہے کہ:’’ مذہب انسان کی آزادی کو ختم یا محدود کر دیتا ہے‘‘، تو دراصل وہ یہ کہہ رہا ہوتاہے کہ ’ خدا‘ انسانوں کا خود سے گھڑا ہوا ایک خیالی وجودہے اوراس خیالی وجود نے انسانوں کی آزادی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔اس قید یا یرغمالی کیفیت سے خود کو اور دوسرے انسانوں کو نکالنے کے لیے یہ لبرل خواتین و حضرات کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم، جو بات یہ لبرل خواتین و حضرات سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہتے، وہ یہ ہے کہ اگرچہ  حیاتیاتی طور پر (biologically) انسان ایک حیوانی وجود ہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بہرحال ایک اخلاقی وجود بھی ہے اوریہی اس کی اصل پہچان ہے۔ایک انسان کے اندر پائی جانے والی صحیح اور غلط کو پہچاننے اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار یا رد کرنے کی جبلّی صلاحیت اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان نرا حیوان نہیں ہے۔ایک بڑا فرق حیوان اور انسان میں یہ ہے کہ انسان اپنے ارد گرد کو پہچانتا ہے ، اس کا گہرا شعور رکھتا ہے اور اپنی ذات کو پہچاننے اور اسے نمایاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انسان اشیا کا تجزیہ کرنے اور ان کے باہمی تعامل کو سمجھنے کی پیدایشی صلاحیت رکھتا ہے اور یقیناً یہ صلاحیت حیوانات میں نہیں ہے۔انسانوں کی یہ پیدایشی صلاحیتیں اُس کے بچپن سے جوانی تک بتدریج  نمو پاتی ہیں، لیکن جانوروں میں ایسی تدریج کا کوئی نشان نہیں پایا جاتا۔جبلّی طور پر انسان میں پایا جانے والا ’ضمیر‘ یہ قوّت رکھتا ہے کہ کسی قسم کے خارجی دبائو یا قانون کے بغیر حیوانی خواہش پر قابو پاکر کسی بھی غلط کام سے انسان کو روک لے۔اس کے برعکس حیوانوں میں ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔

دنیا کے تمام نظام ہاے حکومت کی طرح دینِ اسلام میں بھی قانون کے نفاذ کے ذریعے برائی کے خاتمے اور اس کی روک تھام کا اہتمام موجود ہے، لیکن اس دین کا انحصار اصل میں      ان اخلاقی اقدار کو اپنانے پر ہے، جو انسانی ضمیر کی مطابقت میں انسانوں کے خالق نے عطا کی ہیں۔ دنیا میں اس وقت پائی جانے والی تمام اخلاقی اقدار کسی بندر یا انسان نما حیوان نے نہیں بنائی ہیں۔ یہ تمام اقدار الہامی مذاہب کی عطا کردہ ہیں۔یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اخلاقی اقدار کے معاملے میں تاریخ کے مختلف ادوار میں ظاہر ہونے والے پیغمبرانِ خدایکساں اور مشترک ورثہ انسانوں کو دے کر گئے ہیں۔ان تمام پیغمبروں نے قانون سے زیادہ اخلاقی اقدار اور ضمیر کی پکار پر توجہ دینے کی تعلیم دی، اگرچہ ناگزیر صورتِ حال میں تعزیر کا استعمال بھی تجویز کیا۔

پیغمبرؐ اسلام کے ابتدائی ساتھیوں اور اسلامی تاریخ کی دیگر شخصیات کی بے شمار مثالوں کے ذریعے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ کسی قسم کی قانونی قدغن یا سزا کے خوف کے بغیر محض اپنے ضمیر اور خدا اور آخرت کے دن پر یقین رکھنے کے باعث زبردست اندرونی ڈسپلن کامظاہرہ کرتے تھے۔ سچے مسلمان آج بھی انھی اقدار کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ابھی تک مسلمان ملکوں میں جرائم کا تناسب لبرل ممالک کی نسبت بہت کم ہے اور اس کی وجہ مسلمانوں کا وہ اندرونی ڈسپلن ہے جو   دینِ اسلام کی وجہ سے قائم ہے۔جن ممالک میں جرائم کی شرح زیادہ ہے، وہ جرائم پر قابو پانے  کے لیے مزید قوانین متعارف کراتے ہیں اورنفاذِ قانون کے لیے مزید انسانی و دیگر وسائل فراہم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ اُن معاشروں میں مذاہب کی گرفت کمزور ہونے کے باعث خود احتسابی کا عنصر ناپید ہو رہا ہے۔جن ممالک میں مذہب اور ریاست کو جداجدا کر دیا گیا ہے اور مذہبی اور اخلاقی تعلیم حکومتوں کی ذمہ داری نہیں رہی ہے، اُن کے پاس کوئی راستہ ہی اس کے سوا نہیں بچا کہ وہ جرائم کی روک تھام صرف اور صرف قوت سے کریں۔

  •  خدا فراموشی کا نتیجہ:آپ ایک جنگل کا تصور کریں، جس میں حیوانات بالکل آزاد  گھوم رہے ہیں اور اپنی بقا کے لیے ایک دوسرے کا شکار کر رہے ہیں۔ ایک شکاری جانور کے سامنے صرف ایک ہی مقصد ہے، یعنی اپنی بھوک مٹانا۔ یہ کسی نوعیت کی اخلاقی حس نہیں رکھتا ۔ شیروں کا ایک بڑا جتھا یا قبیلہ کسی جنگل میں جمع ہو کر اپنے دفاع اور بقا کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ یہ شیر بھی باہم مل جل کر رہتے ہیں اور ایک حد تک ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔لیکن جب معاملہ دوسرے حیوانات کا ہو تو یہ شیر صرف اور صرف اپنے مفاد، یعنی پیٹ بھرنے ہی پر اپنی توجہ اور توانائی مرکوز کرتے ہیں۔وہ کسی دوسرے حیوان کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے کیوںکہ وہ کوئی اخلاقی حس نہیں رکھتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ڈارون ازم کے مطابق: ’’انسان نرا حیوان ہی ہے‘‘۔

اب آپ لبرل کہلانے والے ملکوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے پچھلے تقریباً ۲۰۰ برس سے دنیا کو ایک جنگل بنا رکھا ہے۔اپنے قومی اور گروہی مفادات کے حصول کے لیے یورپ کے ممالک اور امریکا نے نہایت سفّاکی سے جتنی بڑی تعداد میں انسانوں کو قتل کیا ہے وہ پوری انسانی تاریخ میں قتل ہونے والے انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔یورپی اقوام نے ایشیا اورافریقہ کے ممالک کے وسائل پر قبضے کے لیے کیے گئے حملوں کے دوران بلا مبالغہ کروڑوں لوگوں کو قتل کیا ۔فرانس نے ۱۸۳۰ئ-۱۸۴۷ء کے دوران انسانوں سمیت ہر اُس چیز کو الجزائر میں تباہ کر دیا جو اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی تھی۔لاکھوں خواتین کی آبروریزی کی گئی اور لاکھوں انسانوں کا قتل عام کیا گیا۔ امریکیوںنے (جو اصلاً یورپ سے نقل مکانی کر کے گئے ہوئے لوگ ہیں) براعظم امریکا کے اصل باشندوں ریڈ انڈین کے قتلِ عام سے آغاز کیااور لاکھوں مقامی لوگوں کا نام و نشان مٹادیا۔ پہلی اور دوسری جنگ ِ عظیم میں طاقت کے بے دریغ استعمال سے ثابت ہوا کہ لبرل لوگ اپنے تحفظ کے لیے اقدام کرتے وقت کسی بھی خونخوار حیوان ہی کا سا برتائو کرتے ہیں۔ ۱۹۴۵ء میں امریکی ایٹمی حملوں کے نتیجے میں جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی میں  تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ مارے گئے، لاکھوں زخمی اور تابکاری اثرات سے بیمار ہوئے۔

پہلی جنگ عظیم [۱۸-۱۹۱۴ئ] کے دوران پونے دو کروڑ اور دوسری جنگِ عظیم [۴۵-۱۹۳۹ئ] کی آگ میں انھی لبرل قوموں نے ۶ تا ۸کروڑ لوگ ہلاک کیے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ اورسلامتی کونسل کے قوانین موجود ہونے کے باوجود امریکا نے ویت نام پر حملہ  کیا اور ۲۰سالہ جنگ [یکم نومبر ۱۹۵۵ئ-۳۰؍اپریل ۱۹۷۵ئ] میں ۲۰لاکھ سے زیادہ انسانوں کو  ہلاک کردیا۔سابق سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے نتیجے میں ۱۵لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ عراق پر امریکی حملے کے نتیجے میں اب تک ۵ لاکھ اور شام کی جنگ میں تقریباً ۲ لاکھ سے زیادہ انسان مارے جا چکے ہیں___کیا گذشتہ ۲۰۰برس کی تاریخ سے یہ سبق حاصل نہیں ہوتا کہ جب انسان خدا فراموش ہو جائے اور مذہب کی گرفت سے آزاد ہوجائے تو اُس کارویّہ ایک وحشی حیوان کا سا ہوجاتا ہے؟

مقامِ حیرت ہے کہ پچھلے ۲۰۰برس میں اتنا ظلم ڈھانے کے بعد بھی یہ لوگ انسانیت کے  قائد کہلانے کے دعوے دار ہیں، اور دنیا کوایک نئی اخلاقیات کا درس دیتے ہیں، اور اپنے مخالفین کو ’بنیاد پرست‘، ’انتہاپسند‘ اور ’دہشت گرد‘ کے القاب سے نوازتے ہیں!

لبرل ازم کے علَم بردار عموماً مذہبی شعائر اور بالخصوص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے لیے اپنی وضع کردہ ’آزادی راے‘ کو آڑ بناتے ہیں۔ دوسری طرف لبرل حکومتیں توہینِ عدالت پر تو سزا دیتی ہیں لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر خاموشی اختیار کرتی ہیں۔ کیا یہ دُہرا معیار نہیں؟ کیا یہ مبنی برانصاف ہے؟

موجودہ دور میں ’انتہا پسندی‘ اور’ دہشت گردی‘ کے فروغ کے اصل اسباب کیا ہیں؟ اس کا کوئی معروضی اور غیر جانب دار تجزیہ کرنے کے بجاے، اسلامی فکر میں ’جدت پسندی‘ یا ’تجدد پسندی‘ کے نقیب چند لکھاری دور کی کوڑی یہ لائے ہیں کہ: ’’داعش اورالقاعدہ ہوں یا جماعت التکفیراور خودکش طالبانی فکر، یہ سب اسلامی احیائی تحریکوں کے ہاں اقامت دین کے تصور کا نتیجۂ فکر اور شاخسانہ ہیں‘‘۔ کہیں اس الزام کی تکرار ملفوف انداز میں ہے تو کہیں سید ابوالاعلیٰ مودودی، حسن البنا شہید اور سید قطب شہید کا نام لے کر کہا جا رہا ہے کہ: ’’انھوں نے حکمرانوں کو طاغوت قرار دے کر نوجوانوں کو مسلم حکمرانوں کے خلاف جذباتی بنا دیا ہے اور انھی کی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہے ہیں‘‘۔ مقصد یہ ہے کہ: ’’اگر انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہے تو لازم ہے کہ اقامت دین کے تصور پر قائم جماعت اسلامی، اخوان المسلمون، النہضہ، حماس جیسی تحریکوںاور ان کے لٹریچر کا سدباب کیا جائے جو نوجوانوں میں سامراجیت اور اس کے طرف دار حاکموں کی حاکمیت کے خلاف بولنے کا جذبہ پیدا کر رہے ہیں‘‘۔

جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون کی سیاسی پالیسیوں سے اختلاف کرنا کوئی اَنہونی بات نہیں، لیکن ہر صاحب ِ علم اس بات کا شاہد ہے کہ ان تحریکوں کے بانی اور پھر بعدازاں قائدین بھی اس بارے میں ہمیشہ واضح رہے ہیں کہ: وہ کسی غیر آئینی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں گے۔   اگر ان تحریکوں میں کبھی کسی فرد نے انفرادی سطح پر انحراف کیا بھی تو ان تحریکوں نے فوراً اس پر گرفت کی ہے۔ خفیہ سرگرمیوں اور انقلاب کے بارے میں سید مودودی کا موقف واضح اور دو ٹوک رہا ہے۔ عرب ممالک میں جب بھی انھیں خطاب کا موقع ملا، انھوں نے نوجوانوں کو یہی نصیحت کی کہ وہ خفیہ کارروائیوں کا حصہ نہ بنیں۔ اپنے مطالعے، تجزیے اور بصیرت کے نتیجے میں انھیں اپنے اس موقف پر تیقن حاصل تھا کہ خفیہ انقلاب اس مقصد اور حصولِ منزل کے لیے ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ وہ کھلے عام دعوت پھیلانے اور راے عامہ کی تیاری اور ذہنوں کو مسخر کرنے کی بات کرتے ہیں۔ انھیں اس طرز عمل کی پاداش میں قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ حکومت نے ان کی جماعت پر پابندی بھی لگائی، لیکن انھوں نے قانونی جنگ لڑ کر تنظیم بحال کروائی۔ ۱۹۵۳ء میں تحریکِ ختم نبوت کے دوران میں ’ڈائرکٹ ایکشن پالیسی‘ کے خلاف ان کا بڑا واضحموقف تھا، جس کے باعث علما کے ایک حلقے نے انھیں مطعون بھی کیا اور آج تک نہیں بخشا۔ اسی مسئلے پر حکومت نے جب سمری کورٹ سے انھیں سزاے موت دلوائی تو جماعت اسلامی کی قیادت نے کوئی تشدد کا طریقہ اختیار نہ کیا۔ آئینی احتجاج کا حق استعمال کیا اور بس۔

یہی حال مصر اور دیگر عرب ممالک کی بڑی تنظیم اخوان المسلمون کا ہے۔ اس کے بانی  حسن البنّا نے بار بار اس بات کا اعادہ کیا کہ ہمارا ایک لگا بندھا راستہ ہے جن کی مخالفت نہ میں خود کروں گا او رنہ دوسرے کریں۔ مردانگی محض جوش اور جلد بازی کا نام نہیں بلکہ حقیقی جوانمردی تو صبرواستقامت، سنجیدگی اور مستقل مزاجی کا نام ہے۔ جو ہتھیلی پر سرسوں جمانے کاشوق رکھتے ہیں اور پکنے سے پہلے پھل توڑنا چاہتے ہیں، یہ تحریک ان کا میدان نہیں۔ حسن البنا کے مطابق پہلے بیج بویا جاتا ہے پھر وہ نشوونما پاتا ہے۔ مدت مقررہ اور مطلوبہ محنت کے نتیجے میں پھول اور پھل لگتے ہیں، پھر انتظار کے بعد پھل پکتا ہے ، تب توڑنے کی نوبت آتی ہے۔

اسی فکری تربیت کا نتیجہ تھا کہ حسن البنا کو ۱۹۴۹ء میں حکومتی کارندوں نے قاہرہ کی اہم شاہراہ پر واقع اخوان المسلمون کے دفتر کے عین سامنے فائرنگ کرکے موت و زندگی کی کش مکش میں مبتلا کیا۔ ستم کی بات یہ ہے کہ قصر العینی ہسپتال میں ڈاکٹروں کو ان کی طبی امداد سے بھی روک دیاگیا۔مسلسل خون بہنے سے بالآخر وہ شہید ہو گئے ۔ان کے جنازے کو کندھا دینے کے لیے صرف بوڑھے باپ اور گھر کی خواتین کو اجازت دی گئی۔ اس کے باوجود اخوان نے حکومتی جماعت کے کسی لیڈر کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ انھی دکھی کارکنوں کو جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ ہزاروں مردوں اور خواتین کو جیلوں میں مختلف ادوار میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

۶۰ کے عشرے میں مصر کے جدید فرعون جمال عبدالناصر نے سید قطب جیسے مفکر و مفسر قرآن کو تختۂ دار پر چڑھا دیا۔ انھوں نے پھانسی کے پھندے کو چوم لیا لیکن پھانسی دینے والے ’طاغوت‘ کے خلاف کسی قتل عام اور خروج کی وصیت نہ کی، اور نہ اخوان نے کبھی قانون کو ہاتھ میں لینے کے عمل کی حوصلہ افزائی کی۔

آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ سید قطب شہید اور سید مودودی کی ’طاغوت‘ کی تشریح پڑھنے کے باوجود جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون سے وابستہ افراد کی عظیم اکثریت اور نمایندہ تنظیمیں تو ان حکمرانوں کے خلاف آمادہ قتال نہ ہوئے، مگر اتہام و الزام لگانے والوں کے بقول طالبان اور داعش ، القاعدہ کے ان مظلوم لیڈروں کی تحریروں سے متاثر ہو کر اس راہ پر چل نکلے۔یہاں پر   دل چسپ لطیفہ یہ ہے کہ داعش اور طالبان قسم کی تنظیموں کے نزدیک سید مودودی اور قطب شہید گمراہ تھے اور جن کا لٹریچر پڑھنا ان کے ہاں شجر ممنوعہ ہے۔

اسی طرح اس حقیقت سے کوئی اندھا بھی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی ان سب تنظیموں کا تعلق جس مکتب فکر سے ہے ،اس کے نزدیک تو جماعت اسلامی کا لٹریچر ’گمراہ کن‘ ہے اور ان کے مدارس میں سید مودودی کی کتب کا داخلہ ممنوع ہے۔ افغانستان میں جب اس مکتب فکر کے پروردگان کو اقتدار ملا تو انھوں نے جن منکرات کو مٹانے کا حکم جاری کیا، ان میں سے ایک منکر مولانا مودودی کا لٹریچر بھی تھا، جب کہ جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کے متعدد کارکن خود کش حملوںکی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ حتیٰ کہ رحلت سے چند ماہ پہلے قبل امیر جماعت اسلامی قاضی حسین پر بھی خود کش حملہ کیا گیا۔

ہمارے ’تجدد پسند‘ حلقے کے ترجمان رسائل و جرائد میں کبھی اُن سازشوں کے خلاف لب کشائی نہیں کرتے جو یورپ اور امریکا مسلمانوں کے خلاف کررہا ہے۔ ان کی تہذیب و ثقافت مٹانے کے لیے جو حربے امریکا کی زیرقیادت مغرب و مشرق کی سامراجی قوتیں اختیار کررہی ہیں، ان کو کبھی ان ’اصلاح پسندوں‘ نے بے نقاب نہیں کیا ، مگر ہر آن مسلمانوں کی تحریکیں ہی ان کی نظر میں معتوب ٹھیرتی ہیں۔

جہاں تک جہاد کے لیے حکومت و امارت کی اجازت کا تعلق ہے تو پاکستان جیسے منضبط ملک میں تو اس فکر کو وزن حاصل ہے لیکن کشمیر کی مسلم ریاست پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے سامراج اور تمام بین الاقوامی فورمز پر وعدے کے باوجود ان کی کسی قرار داد کو پرکاہ کے برابر اہمیت نہ دینے والے ملک کے بارے میں بھی کیا یہی اصول لاگو ہوگا؟ اس کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ عراق اور افغانستان پر امریکی قبضے کا کیا اخلاقی و بین الاقوامی جواز ہے؟ ان ملکوں میں اگر روس نے قبضہ کیا اور افغان عوام اپنی آزادی اور عزت و مال کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو ایک زمانے میں   ان کے نزدیک یہ جہاد درست تھا۔ لیکن اگر اب وہ اپنی آزادی کے لیے جنگ لڑیں تو اس لیے غلط قرار پائے کہ اس وقت صرف ایک امریکا کو دنیا پر کنٹرول حاصل ہے اور اسے چیلنج کرنا فساد کے سوا کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کہیں صحیح وغلط کا معیار امریکا تو نہیں بن گیا کہ جب تک وہ جہاد افغانستان کا پشتی بان رہا ،جہاد درست اور جب مسند ِامریکا سے جہاد کے خلاف فتویٰ صادر ہوا تو جہاد یک قلم موقوف۔

فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے۔ جو عزت و ناموس کی حفاظت میں اور اپنی جان کی حفاظت میںمارا گیا ،وہ شہید ہے۔ کیا جن کے گھر برباد ہوں، عصمتیں پامال ہوں، وہ بھی اس وقت تک انتظار کریں کہ مسلمان حکمران بیدار ہوں، یاان کے حکومت میں آنے کا انتظار کریں اور پھر جہاد کریں۔ یہ تو گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے والی بات ہوئی۔ ساحل پر بیٹھ کر دریا کا نظارہ کرنا اور تجویز اور اصول سمجھانا آسان ہے لیکن بھنور میں پھنسے ہوئے لوگوں کے حالات کا ادراک اُن کے بس میں نہیں جو مغربی حکومتی عطیات پر زندگی پانے والی این جی اوز سے رزق پاتے اور ان کی پشت پناہی پر نازاں رہتے ہیں۔

مصر میں باقاعدہ عوامی راے دہندگان کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آنے والے اخوان نے ایک سال حکومت کی۔ متجددین کی محبوب جمہوریت کے سارے تقاضے پورے کیے۔ انھوں نے لبرل لوگوں کو بھی باوجود اقلیتی گردہ ہونے کے، حکومت میں شامل رکھا۔ ان کے ناز نخرے برداشت کیے۔ لیکن عالمی قوتوں نے ایک فوجی حکمران کے ذریعے انھیں حکومت سے بے دخل کرکے منتخب صدر مرسی کو جیل میں بند کر دیا اور تحریر چوک میں پُرامن احتجاج کرنے والے روزہ دار شہریوں کو ٹینکوں تلے کچل دیا یا گولیوں کی بوچھاڑ میں بھون دیا، حتیٰ کہ روزہ دار خواتین کے ناموس تک کو پامال کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ متجددین کے ’حلقہ اصلاح پسنداں‘ نے اس شہید جمہوریت کے لیے کتنی آواز بلند کی؟

راشد الغنوشی کی جماعت النہضہ حکومت میں آئی۔ وہ جمہوریت کے استحکام کے لیے تمام بنیادی اسلامی مطالبات سے بھی دستبردار ہو گئے۔ لیکن یہ روشن خیال لبرلز انھیں معاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ترکی میں طیب اردگان کی معمولی سی اسلام پسندی بھی گوارا نہیں۔ جس جماعت اسلامی کو انتہاپسندی کے حوالے سے مطعون کیا جا رہا ہے، اس کی اعتدال پسندانہ سوچ کا تو حال یہ ہے کہ وزیراعظم بھٹو کی تمام زیادتیوں کے باوجود مولانا مودودی نے آخری دم تک کوشش کی تھی کہ بھٹوصاحب پُرامن،جمہوری راستہ اختیار کرلیں اور مارشل سے بچا جاسکے۔ اسی طرح انھوں نے بھٹوصاحب کے ہر مثبت کام کی تائید بھی کی اور تعارف بھی کیا۔

اخوان المسلمون کے بانی مرشد جب پہلی مرتبہ الیکشن میں اُمیدوار بنے تو عین اس موقعے پر جب ان کی کامیابی کے واضح امکانات تھے، انھوں نے اپنی حب الوطنی کے باعث محض اس بنا پر الیکشن سے دست برداری اختیار کر لی کہ انھیں ملک کی معتبر شخصیات نے پیغام دیا تھا کہ: ’’حسن البنا کی کامیابی کی صورت میں بیرونی طاقتوں کی طرف سے ملک کو بہت سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔

ویسے تو لبرلز اور متجددین عناصر، علما و عوام کو فضائل جمہوریت کے ساتھ آداب جمہوریت کا سبق دیتے نہیں تھکتے۔ لیکن اگر یہی علما اور دینی جماعتیں اسی جمہوریت کے دیے ہوئے حقِ احتجاج کو اختیار کریں اور عوام کو سڑکوں پر لائیںتو یہ بات انھیں علماے کرام کے شایان شان دکھائی نہیں دیتی۔ لکھتے ہیں کہ اسلامی تاریخ کے بڑ ے علماے کرام نے حکمرانوں کے خلاف کوئی انقلابی تحریک نہیں اٹھائی۔ عامۃ الناس کو سڑکوں پر نہیں لائے۔ گویا جمہوریت کی چوکھٹ پر سرنیاز رکھ کر بھی اگر علما، حاکمیت الٰہی کے قیام کا مطالبہ کریں یا حکمرانوں کے ظلم کی چکّی میں پسے ہوئے عوام کے جذبات کے جمہوری اظہار کی نمایندگی کریں، تو انھیں یہ بھی گوارا نہیں۔گویا ان کا مقصد یہ ہے کہ عوامی جذبات کی نکیل بھی دنیا دار سیاست دانوں کے ہاتھ میں رہے تو یہی جمہوری حسن کہلائے گا۔

تجدد پسندوں کے نزدیک حکمرانوں کے خلاف مسلح خروج درست نہیں، لیکن نہتے عوام کا سڑکوں پر آکر اپنے مطالبات پہنچانے کے لیے پر امن احتجاج بھی ان ’دانش مندوں‘ کے نزدیک خروج کا قائم مقام قرار پاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ’’ہم جمہوری عہد میں زندہ ہیں۔ سیاسی جدوجہد کا حق سب کو حاصل ہے اور علما کو بھی ابلاغ کے سب ذرائع میسر ہیں، انھیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمرانوں کے خلاف کلمۂ حق کہنا چاہیے‘‘۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کتنے مسلم ممالک میں یہ جمہوریت موجود ہے؟ یہی بس گنتی کے چند ممالک۔ اور جن ممالک میں اس جمہوریت کے ذریعے علما کی کچھ تعداد یا دین کے طرف دار حکومت میں آگئے، انھیں بین الاقوامی سامراج اور ان کے مقامی کاسہ لیسوں نے کتنی وسعتِ ظرف سے برداشت کیا۔ الجزائر، مصر، اور فلسطین اتھارٹی اس کی مثالیں ہیں۔

متجددین کا مخمصہ یہ ہے کہ وہ جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے والے ابوحنیفہ، مالک وابن حنبل کی تعریف تو کرتے ہیں، لیکن یہ بات نہیں بتاتے کہ حکمران، اہل حق کو بدنام کرنے کے لیے ابلاغی ہتھکنڈے استعمال کریں تو کیا ا ن کے پراپیگنڈے کو بطور حقیقت قبول کر لیا جائے؟ اخوان المسلمون کے خلاف مصروشام میں ظلم و تشدد ہی نہیں کیا گیا بلکہ پراپیگنڈے کا طوفان برپا کیا گیا کہ وہ جنونی ہیں، متشدد ہیں، انتہا پسندہیں‘‘۔

البتہ اسلامی تحریکوں کی اولین قیادت کا یہی جرم کافی بڑا ہے کہ وہ حکمرانوں کے ظلم و تشدد کے باوجود انھی ملکوں میں موت کے سامنے بھی عزیمت کے ساتھ کلمۂ حق کہتے رہے۔ ہمارے ہم عصر پاکستانی متجددین کے استاد صاحب چند گم نام دھمکیوں سے ڈرکر اور عزیمت کا راستہ چھوڑ کر دوسرے ملک میں پناہ گزیں ہوگئے۔ ہم دھمکی دینے والوں کی مذمت کرتے ہیں اور دلیل سے بات کرنے اور سننے کی دعوت دیتے ہیں۔ بہرحال، اس ’دانش مند‘  حلقے میں اس بات کا وعظ بہت ہوتا ہے کہ اہل حق کو سخت ترین حالات میں صبرواستقامت اور تحمل سے انذار کرتے رہنا چاہیے۔  کاش! اور نہیں تو ان کے زعیم اول تو کم از کم اہل حق کی عزیمت اور صبر کا عملی نمونہ اپنے چاہنے والوں کے لیے چھوڑ جاتے، تاکہ آج کے جذباتی نوجوانوں کو صبر و تحمل کی حقیقت اور اہمیت کے سارے پہلو سمجھ آجاتے۔ اگر سقراط حق کے لیے زہر کا پیالہ پی سکتا ہے تو ایک تجدد پسند مذہبی اسکالر کو اپنے حق پر جمے رہنا چاہیے تھا۔

سیّد مودودی، حسن البنا شہید اور سیّد قطب شہید تک، پھر آج بنگلہ دیش کی اسلامی تحریک کے رہنمائوں نے جس عزیمت کے ساتھ پھانسی کے پھندوں کو چوما ہے، اور وہ بھی قطاراندرقطار، سوال یہ ہے کہ ابوحنیفہ و ابن حنبل کی استقامت کے جانشین وہ ہیں یا، ’جلیل القدر متجددین‘ جو   چند دھمکیوں سے خوف زدہ ہو کر خاموشی سے دوسرے ملک میں جا بیٹھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ لوگ اس پر داد کے طلب گار ہیں اور اس کو یہ کہتے ہیں کہ کلمۂ حق کی پاداش میں انھیں ’ہجرت‘ کرنا پڑی۔ کیا واقعی ان کے لیے کلمۂ حق کہنا اور اسلام پر عمل کرنا اس ملک میں اتنا مشکل ہو گیا تھا کہ وہ ہجرت جیسی دینی اصطلاح کا سہارا لے رہے ہیں۔

کیا آج الجزائر، مصر، شام، خلیجی ریاستوں اور بنگلہ دیش کے حکمرانوں کے سامنے کلمۂ حق کہنا آسان ہے؟ کلمۂ حق کی پاداش میں اس وحشیانہ ظلم و تشدد کا سامنا کرنے کے باوجود، جماعت اسلامی پاک و ہند ہو یا بنگلہ دیش یاعرب اخوان المسلمون، ان پر کسی حکمران جماعت کے معمولی لیڈر تک پر قاتلانہ حملے کی کوئی قابل ذکر مثال موجود نہیں۔ مگر اس کے ساتھ یہی متجددین لوگ ان تحریکوں کے کارکنوں سے ایسی اطاعت شعاری کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جس میں وہ تڑپ کر آہ بھی نہ کرسکیں۔ بس لاشیںاُٹھائیں، اور پھر اگلی لاش کا انتظار کریں۔ مگر اپنے من پسند غاصب اور ظالم کے لیے پھولوں کے ہاروں کے طلب گار ہیں۔ اگر وہ بے چارے، ان استعماری عزائم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو یہ دانش ور ان کے پشتی بان بننے کے بجاے انھی پر گولہ باری شروع کردیتے ہیں جن کوامریکی تھنک ٹینک ’رینڈکارپوریشن‘ پولیٹیکل اسلام کے نام سے خطرناک قرار دیتا ہے۔ عجیب حسن اتفاق ہے کہ جس ’پولیٹیکل اسلام ‘سے امریکا خوف زدہ ہے۔ وہی’ پولٹیکل اسلام‘ ان متجددین کی چاند ماری کے نشانے پر ہے۔

ان دانش وروں کی دانست میں موجودہ ’انتہا پسندی‘ کی اصل ذمہ دار یہ اسلامی تحریکیں ہیں، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہ اسلامی تحریکیں ہی تھیںجنھوں نے پون صدی کے عرصے تک اس امت کے نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف جانے سے روکے رکھا۔

مصر کے اندر جماعت التکفیر اس وقت پیدا ہوئی، جب نصف صدی تک اس امت کے صالح اور بے قصور نوجوانوں کو جیلوں میں گلنے سڑنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ شام میں ۱۹۸۲ء میں اخوان کے اکثریتی شہر حماۃ کو حافظ الاسد نے ملیامیٹ کردیا۔ الجزائر کے اسلامک فرنٹ کی ۸۰ فی صد اکثریتی جمہوری کامیابی کو تسلیم نہ کیا گیا،تو نوجوانوں میں اضطراب پیدا ہوا۔ اس پر مستزاد یہ کہ سامراج کی ایجنسیوں نے ان مضطرب لوگوں کو اسلامی تحریکوں کو کاؤنٹر کرنے کے لیے آگے کیا۔ کیا اس میں اب کوئی ابہام رہ گیا ہے کہ طالبان کی ابتدائی ساخت پرداخت کب ہوئی؟ اس وقت بے نظیر بھٹوصاحبہ کی حکومت نے اسے منظم کیا۔ داعش کے پھلنے پھولنے اور اس کے غبارے میں ہوا بھرنے کے لیے عراق میں خود امریکا نے کتنے ہی اپنے اڈے آسانی سے اس کے حوالے کیے۔ داعش نے امریکا کے بجاے ان اعتدال پسند مظلوم اخوانیوں کو ہی قتل کیا جو امریکا کو گوارا نہ تھے۔

ہماری درخواست ہے کہ جدت پسند اپنا سارا زور اپنے تجزیے کو درست ثابت کرنے پر لگانے کے بجاے حکمرانوں کے آئینی انحرافات پر لکھیں، جن کے رد عمل میں نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ آئین کی شرعی دفعات محض نمایشی ہیں۔ بین الاقوامی سامراجی قوتوں کے عزائم پر بھی لکھیں، جنھوںنے مسلمانوں کے معاشی وسائل کو ہی نہیں لوٹا، ان کی تہذیب و ثقافت پر بھی حملے شروع کر رکھے ہیں۔ مگر اس متجدد قبیلے کے لیے یہ بات سمجھنا بہت مشکل ہے کہ اُمت مسلمہ کے ظالم حکمرانوں نے نوجوانوں کو کتنا ذہنی ونفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایسے نام نہاد اصلاح پسندوں نے حکمرانوں کے سامنے کلمۂ خیر کہنے اور پُرامن احتجاج کو بھی خروج کے برابر تصور قرار دے رکھا ہے۔

ایک اور اچنبھے کی بات یہ ہے کہ ان جدت پسندوں کے ’استاد مکرم‘ ایک طرف تو تصوف کو دین کے متوازی دین قرار دیتے ہیں،دوسری طرف خود دین کا مقصد محض انفرادی تزکیہ قرار دیتے ہیں۔ اس طرح وہ دوسرے انداز میں، انفرادیت پسندی کے اسی تصور پر مبنی شخصیت کو آئیڈیل قرار دے رہے ہیں جو تصوف تیار کرتا ہے۔ کیا اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تہذیب مغرب کے مفتی کے نزدیک انفرادیت پسندی (Individulism) ایک بنیادی قدر ہے اورا س کا فروغ سامراجی طاقتوں کی ضرورت ہے جو کہ تصوف سے پورا ہونے کی انھیں اُمید ہے۔

تبدیلی ایک فطری عمل ہے ۔ صرف ایک عشرہ گزرتے ہی دنیا میں معاشرتی سطح پر کچھ نہ کچھ تبدیلی فطری طور پر محسوس ہونے لگتی ہے ۔ پھر ایک نسل کے بعد دوسری نسل نمایاں تبدیلی کے ساتھ آتی ہے ۔ تاہم ۸۰کے عشرے سے لے کر اب تک آنے والی تبدیلی، بلاشبہہ تبدیلی کی ایک بڑی لہرہے، جس میں ٹکنالوجی اور خصوصاً میڈیا نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔معلومات کی ایک یلغار ہے، جو ہر طرف سے ذہنوں تک پہنچ کر انھیں متاثر کر رہی ہے ۔ ہر کوئی یہ استعد اد نہیں رکھتا کہ معلومات کے اس سیلاب میں سے اپنی اقدار اور اپنی اصل (roots) کے مطابق چیزوں کو پرکھ اور چھانٹ کر الگ کرسکے ۔ پھر تیزرفتار گلوبلائزیشن کے اس عمل میں ہر طبقۂ فکرنے اپنی سمجھ، عقل اور استعداد کے مطابق اپنے کام کو آگے بڑھایا اور اپنے اہداف حاصل کرنے کی پوری کوشش کی ۔

دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ کسی معاشرے کی تہذیب اس کی اقدار و روایات، اس کی اٹھان اور اس کا مزاج بنیادی طور پر عورت کے ہاتھوں تشکیل پاتا ہے اور آیندہ نسلوں تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔عورت میںقدرتی طور پر وہ خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو نہ صرف نسلوں کی آبیاری کرتی ہیںبلکہ ان پر بہت زیادہ اثرات بھی مرتب کرتی ہیں۔اسلامی تاریخ میں حضرت خدیجہؓ ،    حضرت عائشہؓ اور بہت سی مسلم خواتین ہیں، جن کا معاشرے کے بنائو بلکہ قانون سازی میںبھی کلیدی کردار رہا ہے، جس کی نمایاں مثالیںحضرت عمرؓکے دورمیںنظر آتی ہیں ۔

۱۹۴۵ء میں اقوام متحدہ نے وجود میں آتے ہی انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے کمیشن بنائے۔ بعدازاں خواتین کے حقوق کی مناسبت سے متعدد عالمی کانفرنسیں اور عالمی معاہدے تشکیل دیے گئے۔ دسمبر ۱۹۷۹ء میں خواتین کو استحصال سے نجات دلانے کا معاہدہ طے کیا گیا، جس کے تحت عورت کے خلاف امتیازی سلوک و قوانین کے خاتمے اور عورت کو معاشی ، سماجی ، آزادی ، اسقاطِ حمل اور شادی ختم کرنے کے یکساں اختیارات جیسے حقوق پر بات کی گئی ہے۔اس معاہدے کی بنیاد انصاف کے بجاے مساوات پر رکھی گئی۔ پھر نہ صرف پہلے سے قائم تنظیموں اور اداروں نے ان عنوانات کو اپنے پروگراموں میں شامل کیا ، بلکہ بہت سی نئی این جی اوز کو یہ ایجنڈا دے کر    ترقی پذیر ممالک میں سر گرم عمل کیا گیا ۔ اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے:

نیویارک میں ہونے والے یو این ویمن کے ایگزیکٹو بورڈ کے پہلے عمومی اجلاس ۹فروری۲۰۱۶ء میں یو این ویمن ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا:’’ ہمارا۲۰۳۰ء تک کے لیے مرکزی ایجنڈایہ ہوگا: ’جنسی تفریق سے بالاتر مساوات‘ اور ’خواتین کی خودمختاری‘ ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ پچھلے برسوںمیں عورت کے حوالے سے مخصوص ایجنڈے کے تحت سیمی نار اور کانفرنسیں بھی ہوئیں ۔ مختلف فلمیں اور دستاویزی پیش کشیں تیار کی گئیں، جو اپنی اثر پذیری کی وجہ سے افراد اور معاشرے تک اپنا پیغام کامیابی سے پہنچا رہی ہیں۔ اپنی کار کردگی کو بہتر بنانے کے لیے انھیں فراہمیِ فنڈ کی کوئی کمی نہیں اور تیسری طرف وہ ایوارڈز اور حوصلہ افزائی کی بھی حق دار ٹھیرتی ہیں۔ آغا خان فائونڈیشن کے این جی اوز ریسورس سینٹر کی رپورٹ کے مطابق: ’’پاکستان میں کام کرنے والی این جی اوز کو ۵۲کے قریب ادارے فنڈز فراہم کرتے ہیں، جن میں سے ایک چوتھائی کے دفاتر امریکا اور ۱۲ فی صد کے لندن میں ہیں ‘‘۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ: ’’۸۷فی صد فنڈز خواتین کے حوالے سے کام کرنے والی این جی اوز کو دیے جاتے ہیں ‘‘۔

اس وقت ملک میں ۵۰ہزار سے زائد این جی اوز کام کر رہی ہیں، جب کہ غیرملکی این جی اوز کی تعداد اس کے علاوہ ہے ۔ اگر چہ ان میں سے بعض کاکام صرف کاغذ کی بنیاد پر ہی ہے، لیکن کچھ ایسی بھی ہیں جو بلاشبہہ خدمتی کام انجام دے رہی ہیں۔ یہ صحت وصفائی و ماحولیات وغیرہ کے حوالے سے کاموں کا بیڑا اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ان میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ہیں اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بھی، او ر بہت سے ایسے افراد اور گروہ بھی کام کررہے ہیںجن کا شمارواضح طور پر دائیں یا بائیں بازوئوں میںسے کسی سے نہیں، لیکن وہ خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں۔ البتہ خواتین سے متعلق ایشوز کے حوالے سے دیکھا جائے تووہاں پر ہمیں لبرل خیالات کے حامل افرادہی سرگرم نظر آتے ہیں، جو بہت منظم اور مضبوط تنظیموںاوراداروں کی شکل میں متحرک ہیں۔ اس کے برعکس اگر مذہبی شناخت رکھنے والی چند این جی اوزاس عنوان پرکام کر بھی رہی ہیں، تو وہ اپنے وزن کے اعتبار سے ان سے بہت کم اور چھوٹی ہیں ۔

خواتین ایشوز پر تنظیموں کا کام

’پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل اور قانون کا نفاذ‘ کے موضوع پر ملیحہ ضیا کئی برسوں سے کام کررہی ہیں۔ ان کے نزدیک ’غیرت کے نام پرقتل‘ کا مسئلہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں زیادہ گمبھیر ہے۔ خواتین کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں میں ’وار‘ نامی این جی او نے کاروکاری کے خلاف، اپنے دعوے کے مطابق ۲۶۰ مقدمات رپورٹ کیے ۔ دیگر مختلف گروپوں نے     ’قتلِ غیرت‘، گھریلو تشدد ، کاروکاری ، جہیز ایک لعنت، اجتماعی زیادتی جیسے عنوانات کو موضوع بحث بناتے ہوئے ’تحریک حُریت ِ نسواں‘ کے کام کو آگے بڑھایا اور قانون سازی کے لیے بھی کا م کیا۔

پچھلے ۲۰برسوں میں ملک کی بڑی یونی ورسٹیوں میں ’ویمن ڈویلپمنٹ‘ اور مطالعہ صنفیات (Gender Studies) کے شعبے کھلے ہیں۔ ابتدائی زمانے میں اگر ان میں رجسٹریشن کم بھی رہی، تو گلگت، چترال اور تربت وغیرہ سے لا کر طالبات کو وظائف پر داخلے دیے گئے۔ یہاںپر بھی انھی نظریات اور انھی گروہوںکی برتری اور نمایاںکردار رہا،جنھوںنے ان عنوانات پر جم کر کام کیا تھا۔

آزاد اور تیز رفتار الیکٹرانک میڈیا بھی ’عورت کے موضوع‘ پر خاطر خواہ خدمات انجام دینے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے ۔ عورت اور اس کی خود انحصاری، مردوں سے عورت کی بغاوت ، اپنے حقوق کا مطالبہ اور اس کے لیے ڈٹ جانا ، یعنی عورت بمقابلہ مرد، میڈیا کا مسلسل اور سلگتا ہوا موضوع چلا آرہا ہے ۔ تفریحی چینلوں پر آنے والے ہر پانچ میں سے چار پروگرام خواہ کوئی ڈراما ہو، بحث مباحثہ ہو یا صبح کے پروگرام، وہ اسی نقطۂ نظر کو آگے بڑھاتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ چند ڈرامے سماجی مسائل پر بھی بنے، لیکن ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ اس وقت ملک میں لائسنس یافتہ ۱۲۰سے زائد ٹیلی ویژن چینل کام کررہے ہیں،جب کہ انٹرنیٹ ٹی وی اور ریڈیووغیرہ اس کے علاوہ ہیں۔ان میں بمشکل ہی کوئی گروہ ڈھونڈے سے ملتاہے، جو کسی درجے میں یہ کہے کہ بغاوت کے بجاے وہ قوم کو کوئی اچھا پیغام دینے یا ان کی تر بیت کی کوشش کر رہاہے۔

اسی طرح کم عمری کی شادی پر ’دختر‘ کے عنوان سے فلم بنی۔ اس فلم کی ڈائریکٹر نے پاکستان کے مشہور اداروں سے پڑھنے کے بعد کولمبیا یونی ورسٹی امریکا سے تعلیم حاصل کی اور پھر ینگ ویمن کرسچن ایسوسی ایشن سے وابستگی اختیار کی، اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کام کیا۔

 پاکستان میں عورتوں کے چہروں کو تیزاب سے جلائے جانے پر ’سیونگ فیس‘ نام کی دستاویزی فلم بنی۔ دیگر فلموں کے علاوہ ’غیرت کے نام پہ قتل‘ پر دستاویزی فلم ’اے گرل ان دی ریور‘ بنائی گئی، جس نے آسکر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

اثرات : اس ساری صورت حال سے جو نتائج سامنے آئے وہ درج ذیل ہیں :

  • عورت کے حوالے سے دنیا کے نقشے پر پاکستان کا چہرہ انتہائی بھیانک بناکر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گویا یہاں عورت پر جسمانی و نفسیاتی مظالم روا رکھے جاتے ہیں اور اس کو  کسی طرح کی آزادی حاصل نہیں ہے ۔کیوںکہ پاکستان اور اسلام کا آپس میں گہرا تعلق ہے، اس لیے اس سارے منظر نامے کو اسلام سے نتھی کر دیا جاتا ہے ۔ کہیں یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ مذہبی نہیں بلکہ رسم و رواج کا مسئلہ ہے ۔ یہ نہیں بتایاجاتاکہ اسلام بذات خود ان مظالم کی نفی کرتا ہے ،لیکن دنیا بھر میں اس تمام تر جہالت کو اسلام کے خلاف پرو پیگنڈے کے لیے بطورِ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔
  •  مرد اور عورت کے امتزاج سے بننے والے معاشرے کی عمارت میں جہاں مرد و عورت دونوں کو متوازن و مضبوط ستونوں کی حیثیت میں کھڑا نظر آنا چاہیے تھا، وہاں انھیں ایک دوسرے کے مد مقابل لا کھڑا کیا گیا ہے ۔ جہاں گاڑی کے دونوں پہیوّں کو کمال مہارت سے زندگی کی گاڑی کو منزل کی طرف رواں دواں کرنا چاہیے تھا، وہاں ان کی آپس میں ٹکر لگوانا شروع کر دی گئی ہے ۔
  • بجاے اس کے کہ مردوں کو پیغام یہ ملتا کہ عورت ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے روپ میں محبت ، قدر اور احترام کے قابل ہے، اس کو یہ سکھایا جاتا کہ میدان عمل میں جہاں جہاں عورت اس کے ساتھ شریک عمل ہے، وہاں اس کو عورت کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا ہے،۔اُلٹا عورت کو  یہ سمجھایا جانے لگا کہ اس معاشرے میں اگر عورت پر کوئی ظلم ہو رہا ہے یا اس کی حق تلفی ہو رہی ہے تو اس کا ذمہ دار صرف اور صرف مرد ہے۔ لہٰذا، اسے اپنے حقوق کے لیے مرد کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے۔ حالاںکہ مرد و عورت دونوں کو یہ پیغام پہنچنا چاہیے تھا کہ زندگی تصادم کا نہیں بلکہ سمجھنے، سمجھانے اور باہم چلنے کا نام ہے ۔ صرف حقوق کا نہیں بلکہ حقوق و فرائض میں توازن کا نام زندگی ہے ۔
  • عورت کو ’مرد گریز‘ پیغام دینے میں جن ذرائع اور وسائل کو بروے کار لایا گیا، انھی وسائل وذرائع سے مرد کی تربیت کی بھی یہ کوشش کی جانی چاہیے تھی کہ اس کے کیا فرائض اور ذمہ داریاں ہیں؟ اس کا کام صرف اپنی بات منوانا نہیں بلکہ بحیثیت ’قوام‘ اس معاشرے کی صورت گری کرنا اور اپنے ساتھ چلنے والوں کے حقوق بھی ادا کرنا ہے۔ دوسری طرف عورت اس باز گشت کے نتیجے میں ’نسوانی خوداختیاریت‘ کے نام پر منفی انداز کے ’حُریت نسواں‘ کا شکار ہونے لگی ،حتیٰ کہ دینی سوچ رکھنے والے بعض گروہوں اور تنظیموں میں بھی کسی درجے میں یہ اثرات پیدا ہونے لگے ۔
  •  بلاشبہہ تعلیم کے مواقع ، اظہار راے کی آزادی ، اپنے حقوق کا شعور ، اپنے اوپر اعتماد ، صحت کے مواقع ، زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع اور معاشی مضبوطی یہ سب کچھ عورت کا بالکل بنیادی حق ہے، لیکن عاقبت نااندیش نا خدائوں کے اندھا دھند کام اور ترجیحات کو اُلٹ پلٹ دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے کی ترتیب و تنظیم ہی تلپٹ ہو کر رہ گئی ۔ مردوں نے محنت سے جی چرانا شروع کر دیا ۔ ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ معدوم ہونے لگا ۔ اپنی ذمہ داریوں کو آگے بڑھ کر قبول کرنے کے بجاے دوسروں کے کاندھوں پر ڈالنے میں انھیں آسانی محسوس ہونے لگی ۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ اگر حالات کا دھارا اسی رُخ پر بہتا رہا تو پاکستان میں مستقبل میں تعلیم یافتہ مردوں کی قلت ہوجائے گی۔ زیادہ تر یونی ورسٹیوں میںلڑکیوں کی تعداد ۷۰ فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ اس بات کا اندازہ درج ذیل شواہد سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ۲۰۱۳ء اور۲۰۱۴ء میں کراچی یونی ورسٹی میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں ۷۳ فی صد تھی ، جب کہ این ای ڈی یونی ورسٹی میں ۵۰:۵۰کا تناسب تھا۔ پنجاب یونی ورسٹی میں زیادہ تر شعبوں میں نمایاں طور پر طالبات کی برتری دوتہائی سے زیادہ ہے۔ اسی طرح صرف آغاخان میڈیکل کالج کراچی میں ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۴ء میں مردوں اور عورتوں کا تناسب ۵۰:۵۰ پایاگیا، جب کہ سندھ میڈیکل یونی ورسٹی اورڈائو میڈیکل یونی ورسٹی میںیہ تناسب لڑکوں کے مقابلے میں ۷۰ اور ۷۳ فی صد طالبات ہیں۔

 ہمارے یہاںکی لڑکیوں میں محنت سے آگے بڑھنے کا جذبہ پایاجاتاہے اور اس کے لیے مواقع بھی محدود ہیں۔ دوسری جانب افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ مردوں کے لیے محنت اور آگے بڑھنے کے راستے میںکوئی طبعی رکاوٹ موجود نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں ان کی تعداد کا گراف تیزی سے نیچے جارہا ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کر ہوا ؟ اگر بگاڑ کی قوتیں کام کر رہی ہیں تو سدھار کا عندیہ رکھنے والوں کے لیے بھی میدان کھلا ہے ۔ اگر ایک طرف معاشی مضبوطی و خود انحصاری ہے، تو دوسری طرف مخلص اور مضبوط نظریات کی حامل قیمتی افرادی قوت بھی موجود ہے ۔ بھلا یہ کیوں کر   ممکن ہے کہ کسی معاشرے میں کارو کاری ، قتلِ غیرت ، گھریلو تشدد ، عورتوں کی وراثت ہڑپ کرجانا، غیرموزوں نسبتیں اور شادیاں ، جہیز کو وراثت کا نعم البدل سمجھ کر وراثت کے تصو ر کو مٹادینا ، مہر کو صرف ایک کاغذی کارروائی بنا دینا ، لڑکیوں کے لیے ابتدائی تعلیم کے یکساں مواقع نہ ہونا ،تیزاب اور چولھا پھٹنے سے عورتوں کا جلناور اسی نوع کی دیگر ناانصافیاں اور زیادتیاں ہوں اور خیر کا جذبہ رکھنے والے اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے کام کرنے والے گروہ تڑپ نہ اٹھیں؟ اگر عملی کام میں دشواریاں ہوں، تب بھی اس ظلم کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں سب سے بلند ان کی آواز کیوں نہ ہو ؟ سب سے سنجیدہ کام انھی کا کام کیوں نہ ہو ؟ کسی ایک گروہ کا مؤثر کام نہ کرنا، یااپنے حصے کا کام    نہ کرنا کسی دوسرے گروہ کے لیے یہ جواز فراہم نہیں کرتا کہ وہ بھی اس میدان میں کام نہ کرے ۔

کرنے کے کام

۱- یکسوئی کے ساتھ سوچ بچار اور غورو فکر کا عمل بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن میں بھی باربار اس عمل کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ صرف بھاگنے دوڑنے اور ہنگامی انداز سے کیا جانے والا کوئی کام، خواہ وہ استعداد سے چار گنا زیادہ کیوں نہ ہو، وہ نتیجہ نہیں لا سکتا جو ماضی ، حال اور مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے، سوچ بچار اور تجزیے کے بعد کیا جانے والا کام لاسکتا ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میںبہت سی سیاسی پارٹیاں ، حکومتیں اور کمرشل ادارے بھی اپنے ہاں مراکز غوروفکر (R&D سنٹرز)کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں اور اس کے لیے بجٹ بھی مختص کرتے ہیں۔

دینی اداروں اور تنظیموں کو اور دینی وسیاسی پارٹیوں کو یا تو مشترکہ طور پر ورنہ کم از کم اپنے اپنے ہاں ایسے تھنک ٹینک بنانے چاہییں، جواپنے معاشرے کا بالخصوص اور عالمی دنیا کا با لعموم تجزیہ کریں، گمراہی کے گڑھے کی طرف لے جانے والے بنیادی نوعیت کے مسائل اور وجوہ کی نشان دہی کریں۔ اسی طرح ان اچھی صفات کا بھی ادراک کریں، جو اس معاشرے کو تبدیل کرنے میں جوہری کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان سب سے پہلے اپنا بھی تجزیہ کریں اور اپنے رویے کی اصلاح پر بھی سوچیں کہ اگر ہم بحیثیت فرد یا بحیثیت گروہ کوئی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی کن کمزوریوں کو دُور کرنا ہو گا اور کن خوبیوں کو بہتری کے لیے استعمال کرنا ہو گا ۔ بالخصوص عورت کے حوالے سے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس معاشرے کے حقائق کیا ہیں ؟ کون سے مظالم ایسے ہیں ، جن کو کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اور کون سے حقائق ایسے ہیں جو کسی اور مسئلے کی پیداوار ہیں، ان کو کیسے حل کیا جائے ؟ یہاں بھی رد عمل کے بجاے مثبت اور فعال سوچ اپنانے کی ضرورت ہے ۔

۲- معاشرے میںمثبت کام کرنے کا دعویٰ رکھنے والی تمام تنظیموں کو اپنی ممبر شپ کی شرائط میں بھی اپنے خاندان کی خواتین کے نان نفقہ، مہر اور وراثت وغیرہ جیسے حقوق کی ادایگی کو شامل کرنا چاہیے۔

۳- اس کے لیے فوری اور جلد نتیجہ دینے والے کاموں کو اہمیت دینا ہو گی تا کہ طوفان کا رُخ موڑا جائے ۔ جب تک یہ غوروفکر اور عمل و تدبیر کی فعال شکلیں نہیں بنیں گی تب تک طویل المیعاد منصوبہ نہیں سوچا جا سکے گا، کوئی دور رس منصوبہ نہیں بن پائے گا اور وہ ٹھوس اقدامات نہیں ہوسکیں گے، جن کے نتیجے میں ۱۰سال ،۲۰ سال اور ۵۰ سال بعد کوئی مطلوب تبدیلی آ سکتی ہو۔

۴- ہر سال طویل المیعاد منصوبے کی روشنی میں کچھ طلبہ و طالبات کوتخصص کے لیے رہنمائی دی جانی چاہیے کہ دیگر موضوعات کے علاوہ پاکستانی سماج اور عورت اور پاکستانی سوسائٹی کے حوالے سے کچھ اہداف خصوصاً طے کر کے تخصص حاصل کرایا جانا چاہیے۔

۵-مسائل کا حل ڈھونڈنے اور قوانین بنانے سے پہلے آگاہی اور تربیت کا مرحلہ ہوتا ہے۔ اگر کسی معاشرے میں اس کا ہی فقدان ہو تو وہاں قانون کچھ نہیں کر سکتا ۔ یہ ذمہ داری بھی انھی کی ہے کہ جو قانون کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں۔ لہٰذا وہ اعلیٰ تعلیمی ادارے ، ریسرچ سنٹر اور وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، جو سمجھتے ہوں کہ عورت کے عنوان اور اس کی مظلومیت کا سہارا لے کر اس معاشرے کی ترتیب کو اُلٹ پلٹ کیا جا رہا ہے، اس کے ذریعے خاندانی نظام پر کاری ضرب لگائی جا رہی ہے، ان صالح فطرت لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور صنفی موضوعات پر مطالعے کی نفی کے بجاے اس کو اپنی اقدار کی بنیاد پر استوار کریں ۔ یہ مطالعے صرف خواتین کی ترقی کے موضوع پر نہ ہوں، بلکہ اس کا موضوع مجموعی انسانی ترقی ہو، جہاں مرد اور عورت دونوں کی ترقی اور تربیت کے لیے کام کیا جائے۔ عورت کی ترقی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد کی ترقی نظر انداز کی جائے بلکہ دونوں کو ترقی کی طرف گامزن کرنا ضروری ہے ۔ اس سلسلے کی ایک کوشش یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی ایسا نصاب تیار کیا جائے، جہاں خاندانی استحکام کے حوالے سے عورت اور مرد دونوں کو ان کی سماجی ذمہ داریوں سے آگاہی دی جائے (جو بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں مفقود ہے)۔ اپنے فرائض اور مخالف صنف کے حقوق بتائے جائیں ۔ ان کی بہتر بجاآوری کے لیے بیداری پیدا کی جائے۔

اس قسم کی توجہ مبذول کرانے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں، مثلاً جس طرح کمرشل اور دعوتی ادارے مختلف عنوانات پر ورکشاپس کراتے ہیں، ان عنوانات پر بھی پروگرام ہوسکتے ہیں، یا جس طرح کمیونٹی ورک کے کچھ گھنٹے پورے کرنے پر ہی ڈگری کا حصول ممکن ہے، اداروںمیںاس ٹریننگ کو بھی ڈگری سے مشروط کرانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ ڈگری جاری کرنے والے اداروں کو یہ سفارش بھیجی جا سکتی ہے کہ ڈگری کا اجرا اس ٹریننگ سے مشروط کیا جائے، لیکن اس سے بھی پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ بہت اچھے اور معیاری کورسز تیار کیے جائیں، جو اعلیٰ تعلیمی اداروں سے نکلنے والے طلبہ و طالبات کو ایک بہتر ذمہ دار شہری بنانے میں بحیثیت مرد یا عورت مدد گار ثابت ہوں۔

۶- تحفظ خواتین پر موجود قوانین پر عمل درآمد تو بلاشبہہ حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس پر مطلوبہ ٹھوس کام،اس کے نفاذ کا مطالبہ، اس کے لیے معاشرے ،حکومت اورقانون نافذکرنے والے اداروں پر دبائو ڈالنا، اور اس کے لیے پریشر گروپ کے طور پہ کام کر نا بھی بہت ضروری ہے۔

۷-تعلیم براے روزگار کے تصور کے بجاے تعلیم براے تربیت کو ہر سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ بالخصوص لڑکیوں کو عملی زندگی کے مطابق نہ صرف کیرئیر کونسلنگ فراہم کی جائے، بلکہ معاشرے میںملازمتوں میںلچک دار اوقات کار کے تصور کو بھی اُجاگر کیا جانا چاہیے۔

جس طرح طوفان اور زلزلے زمین کی جغرافیائی ہیئت کو بدل دیتے ہیں،اسی طرح موجودہ دور کی اس تبدیلی کے طوفانی جھٹکوں سے ہمارا معاشرہ بھی تیزی سے اپنی ہیئت کی تبدیلی (transformation ) کی طرف بڑھ رہاہے ۔ اس ساری صورت حال میں جن لوگوں کو اس طوفان اور اس کی شدت اور اس سے ہونے والے نقصان کا ادراک ہی نہیں، ان کے بارے میں توکچھ نہیں کہا جاسکتا ،لیکن جو اس کا ادراک رکھتے ہیں ، جن کو اللہ نے دانش مندی ،سوجھ بوجھ اور رہنمائی سے نوازاہے ،ان کے سامنے آج بھی بہت بڑا سوال ہے، اور کل بھی وہ جواب دہ ہیں کہ ان کی کیا استعداد تھی؟ اس کے مطابق انھوں نے کیاکیا ؟جو لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس معاشرے کے تمام مسائل کے حل کے لیے الہامی ہدایات موجود ہیں اور وہ اس نقشۂ کار کے وارث ہیں کہ جس پر چل کر ’شر‘ کے بجاے ’خیر‘ کو لایا جاسکتا ہے، تو یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ میدان خالی نہ چھوڑیں اور اپنے کاموں کی منصوبہ بندی میں اپنی ترجیحات کا رُک کرضرورجائزہ لیتے رہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا کرنا تھا؟ کیا نہیں ہوسکا؟ اور کس طرح بہتر انداز سے آیندہ پیش رفت کرنی ہے؟

مصر کے منتخب اور قانونی صدر محمد مرسی کی صاحبزادی شیما مرسی بتاتی ہیں: ۳۰ جون ۲۰۱۳ء کو جب جنرل سیسی اور اس کے حواری ایک سالہ مصری جمہوریت پر شب خون ماررہے تھے، رات گئے چند لمحوں کے لیے والد محترم اپنی رہایش گاہ میں آئے۔ ہم سب اہل خانہ وہاں جمع تھے۔ ان پر تھکاوٹ غالب تھی۔ میں نے شدت جذبات سے کہا: ابو یہ مصری قوم اس قابل ہی نہیں ہے کہ آپ جیسا خدا سے ڈرنے والا اور باصلاحیت شخص ان کا حکمران بنے۔ آپ ان کے لیے اللہ کی ایک نعمت تھے، انھوں نے کفران نعمت کیا۔ انھیں فرعون حکمران ہی راس آتے ہیں۔ یہ اسی قابل ہیں کہ ایک بار پھر ڈکٹیٹر شپ کے شکنجے میں کس دیے جائیں، جو ان سے ان کے منہ کا نوالہ، ان کی زندگی اور  ان کا قومی سرمایہ چھین لے۔ شیما کہتی ہیں: ابو میری بات سن کر سخت ناراض ہوگئے اور کہا :آیندہ کبھی ایسی بات زبان پر نہ لانا۔ مصری عوام تو بے چارے خود مظلوم ہیں۔ انھیں سالہا سال سے محروم رکھا گیا ہے۔ ایک ظالم اور جابر ٹولہ کئی عشروں سے ان پر مسلط ہے اور ان کی بوٹیاں نوچ رہا ہے۔   ان پر ناراض نہ ہوں۔ پھر قدرے توقف کے بعد کہا:آپ میری وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ مجھے  اپنی نہیں، خود مصری عوام کی فکر ہے کہ اگر انھوں نے ظلم قبول کرلیا، ملک کے خلاف ہونے والے اس جرم اور ظلم پر خاموش رہے تو ان کا انجام جو ہوگا اس کا تصور کر کے میں لرز جاتا ہوں۔

باپ بیٹی کا یہ مکالمہ آج مصر کی ایک تلخ ترین حقیقت ہے۔ تین برسوں میں مصری عوام پر فرعون سیسی نے وہ مظالم ڈھائے ہیں، جو شاید اس سے پہلے کسی جابر حکمران نہیں ڈھائے تھے۔ پورا ملک جیل خانے میں بدل چکا ہے۔ ۴۲ ہزار بے گناہ مستقل قیدیوں کے علاوہ ایک لاکھ کے قریب افراد مختلف اوقات میں جیلوں میں جا چکے ہیں اور گرفتاریوں کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ حکومتیں اپنے ترقیاتی منصوبوں کے ریکارڈ بناتی ہیں، جنرل سیسی کی حکومت ملک میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑی جیل تعمیر کرنے کا ریکارڈ قائم کررہی ہے۔ سیسی بغاوت کے وقت مصر میں ۳۳ جیل خانے تھے، جو گذشتہ ۳ سال میں ۵۲ ہوچکے ہیں۔ ان میں اس وقت زیر تعمیر قاہرہ اسیوط روڈ پر واقع مصر کی سب سے بڑی جیل بھی ہے جس کا رقبہ ۴ لاکھ ۳۲ ہزار ۶ سو میٹر ہے اور اس پر ۹۰ملین پاؤنڈ کا خرچ آرہا ہے۔ ۳۸۲ قید خانے اور سیکڑوں خفیہ تعذیب گاہیں ان جیلوں اور تھانوں پر مستزاد ہیں۔

تعذیب و تشدد کے نتیجے میں ۳۸۱ افراد دوران حراست شہید کیے جاچکے ہیں۔ مختلف اجتماعات اور پروگرامات پر براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں چار ہزار سے زائد نہتے شہری شہید کیے جاچکے ہیں۔ نام نہاد عدالتیں ملک کے منتخب صدر، متعدد وزرا اور اخوان کے مرشد عام اور اسمبلی کے اسپیکر سمیت ۲ہزار افراد کو موت کی سزا (پھانسی) سناچکی ہیں۔

گرفتار شدگان میں ۱۸ برس سے کم عمر کے ۳۲۰۰ بچے بھی شامل ہیں اور انھیں ناقابل یقین سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ ۱۷ فروری ۲۰۱۶ء کو تو مصری عدالت نے انصاف کا ایک انوکھا ریکارڈ قائم کردیا۔ ساڑھے تین سالہ بچے احمد منصور قرنی کو ۱۱۵ مزید افراد کے ساتھ مل کر مصری خفیہ ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پر ہلہ بولنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنادی۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق: احمدقرنی نے اخوان کے ایک مظاہرے میں شریک ہوکر چار افراد کو قتل اور آٹھ افراد کو شدید زخمی کردیا جس سے ان کی موت واقع ہوسکتی تھی۔ اس نام نہاد عدالت عالیہ کا یہ بے نظیر فیصلہ آنے سے پہلے، بچے کے وکلا نے اس کے برتھ سرٹیفکیٹ سمیت دستاویزات پیش کرتے ہوئے استدعا کی کہ تین سال پانچ ماہ کا یہ بچہ کیوں کر ایسے سنگین جرائم کرسکتا ہے؟ لیکن عدالت نے ایک نہ سنی۔ ’المرصد المصری‘ نامی قابل اعتماد ریسرچ سنٹر کے مطابق جنرل سیسی کے ابتدائی ۱۰۰ دنوں میں ۱۲ بچوں کو براہِ راست فائرنگ سے شہید کردیا گیا تھا، اس دوران میں ۱۴۴ بچے گرفتار کیے گئے تھے، جن میں سے ۷۲بچوں کو ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

جنرل سیسی کو اقتدار میں لانے اور سہارا دینے میں امریکا اور اسرائیل کا کردار سب سے نمایاں ہے، لیکن بعض عرب ممالک کی طرف سے اس کی پشتیبانی بھی کوئی راز نہیں۔ مختلف خلیجی ریاستوں کی طرف سے اسے ۳۳؍ارب ڈالر کی نقد امداد دی گئی۔ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نام پر اربوں ڈالر کی امداد اس کے علاوہ ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ اس ساری امداد کے باوجود مصر اور مصری عوام کی معاشی حالت پہلے سے بھی زیادہ ابتر ہے۔مصری زرمبادلہ اپنی کم ترین حد تک جاپہنچا ہے۔ صدر محمد مرسی نے اقتدار سنبھالا تو ملکی خزانے میں ۱۷ ارب ڈالر تھے۔ ایک سالہ پُر آشوب دور اور کئی اہم اقتصادی منصوبے شروع کرنے اور پیرس کلب کے ۷۰۰ ملین ڈالر ادا کرنے کے باوجود، اس میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی۔ آج جنرل سیسی کے تین سالہ اقتدار کے دوران میں ۳۳ ارب ڈالر نقد امداد ملنے کے باوجود خزانے میں صرف ۶ئ۱۳؍ ارب ڈالر باقی بچے ہیں۔ بیرونی قرضے جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اس کا اندازہ اسی بات سے لگائیے کہ ایک سال پہلے یعنی ۲۰۱۵ میں یہ قرضے ۴۸؍ارب ڈالر تھے، جو مئی ۲۰۱۶ میں ۸۳ ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔ اندرونی قرضوں کے اعداد و شمار مزید چکرا دینے والے ہیں۔ سرکاری رپورٹوں کے مطابق مصر کے اندرونی قرضے ۶ئ۲ٹریلین، یعنی ۲۶۰؍ ارب ڈالر سے متجاوز ہیں، جو کل قومی آمدنی کا تقریبا ۸۵فی صد بنتا ہے۔ مصری سکے کی قیمت مسلسل گررہی ہے جو مہنگائی میں اضافے کا بھی ایک سبب ہے۔ صدر محمد مرسی کے عہد میں ایک ڈالر ساڑھے آٹھ مصری پاؤنڈ کا تھا، اس وقت چند پیسے کمی آئی تھی تو ذرائع ابلاغ میں طوفان آگیا۔ آج ۱۲؍ پاؤنڈ کا ہے، لیکن اس پر کوئی احتجاج نہیں کرسکتا۔

صدر محمد مرسی پر لگائے جانے والے سنگین الزامات میں سے ایک یہ تھا کہ انھوں نے صحافیوں پر پابندیاں لگائیں۔ خود ہمارے بعض پاکستان صحافی حضرات نے بھی اس پر خوب ردّے چڑھائے اور بھانت بھانت کے نوحے لکھے۔ جنرل سیسی کے دور جبر میں ذرائع ابلاغ کا نقشہ ہی بدل دیا گیا ہے، مگر ہمارے صحافی احباب کو شاید خبر ہی نہیں ہوسکی۔سیسی بغاوت کے فوراً بعد مصرکے ۲۷ چینل اور اخبارات پر پابندی لگادی گئی۔ متعدد صحافیوں کو شہید کردیا گیا، کئی صحافتی گروپوں کے مالکان کو ہتھکڑیاں لگا کر ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان پابندیوں اور سزاؤں کا نشانہ  سیسی مخالف ہی نہیں، بہت سارے ان صحافی حضرات اور صحافتی اداروں کو بھی بنایا جارہا ہے، جو صدر مرسی کے خلاف بڑھ چڑھ کر جھوٹ گھڑ رہے تھے۔ آج کئی بڑے میڈیا ہاؤس براے فروخت کا اعلان کرچکے ہیں۔

مئی ۲۰۱۵ء میں تاریخ میں پہلی بار پولیس نے صحافیوں کی قومی یونین کے دفاتر پر دھاوا بولا، اور متعدد صحافی گرفتار کرلیے، کئی زخمی ہوئے اور باقیوں نے بھاگ کر جانیں بچائیں۔ یہ وہی صحافی اور دفاتر ہیں جو منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف پروپیگنڈا مہم کا مراکز تھے اور آج مکافات عمل کا شکار ہیں۔ صحافی آئے روز بینر لہرا رہے ہوتے ہیں۔ أنا صحفی مش إرھابی (میں صحافی ہوں دہشت گرد نہیں)۔ الحریۃ للجدعان (ہمارے بہادر صحافیوں کو رہا کرو)۔ سابق وزیر اطلاعات و نشریات صلاح عبد المقصود کے بقول صدر محمد مرسی کے ایک سالہ دور حکومت کے دوران ذرائع ابلاغ کا کل بجٹ ۶؍ ارب پاؤنڈ تک جاپہنچا تھا۔ اشتہارات کی آمدن صرف ڈیڑھ ارب پاؤنڈ تھی، جب کہ ساڑھے چار ارب پاؤنڈ صدر محمد مرسی کی مخالف حکومتوں کی طرف سے میڈیا کی خفیہ امداد کے طور پر پہنچ رہے تھے۔

مصری عوام ہی نہیں، اہلِ غزہ بھی سیسی مظالم کے یکساں شکار ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے شروع کیے جانے والے حصار کا دسواں سال شروع ہوچکا ہے۔ تقریباً ۲۰ لاکھ انسان پوری دنیا سے کاٹ کر رکھ دیے گئے ہیں۔ اس وقت ۵ ہزار سے زائد مریض اپنا علاج کروانے کے لیے غزہ سے باہر جانے کے انتظار میں ہیں۔ ہزاروں طلبہ عالمی تعلیمی اداروں میں داخلہ ملنے کے باوجود مصری سرحد عبور نہ کرسکنے کے باعث داخلے منسوخ کروابیٹھے ہیں۔ دو سال سے اہل غزہ میں سے کوئی شخص زیارت بیت اللہ کے لیے نہیں جاسکا۔ غزہ اور مصری سرحدی علاقوں میں بسنے والے قبائلی باہم رشتہ دار ہیں، لیکن کسی کی خوشی غمی میں شرکت کے لیے بھی ایک دوسرے کے ہاں نہیں جاسکتے۔

ایک معروف مصری شاعر اور صحافی عبد الرحمن یوسف کے بقول امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اپنی یادداشت میں لکھا ہے: میں صدر سادات سے اپنے ۱۰ مطالبات منظور کروانے گیا تو اپنے ہمراہ اضافی طور پر مزید ۵۰ مطالبات لکھ کر لے گیا، جن میں سے کئی ایسے تھے جو میرا خیال تھا کہ کسی صورت نہیں مانے جائیں گے، لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ سادات نے کچھ دیکھے پوچھے بغیر میرے ۵۰کے ۵۰ مطالبات منظور کرلیے۔

عبدالرحمن یوسف کے بقول جنرل سیسی کے زمانے میں امریکا اور اسرائیل کو مطالبات کرنا ہی نہیں پڑتے، سب کچھ ان کے تصورات سے زیادہ بہتر صورت میں انھیں مل جاتا ہے۔ اس کی ایک جھلک یہی دیکھ لیجیے کہ جنرل سیسی نے غزہ کی سرحد پر واقع پورا مصری رفح کا قصبہ ہی ملیا میٹ کردیا ہے، کیوں کہ اسرائیل کے بقول ان گھروں کے نیچے سے سرنگیں کھود کر اہل غزہ اپنے لیے جینے کا سامان لے جاتے ہیں۔ سیسی نے پورا قصبہ خاک میں ملا کر وہاں طویل کھائیاں کھود دی ہیں اور ان میں سمندری پانی چھوڑ دیا ہے۔ مستقبل کے منصوبوں میں اب اس کی طرف سے اسرائیل کو یہ پیش کش کی جارہی ہے کہ مسئلہ فلسطین کے ہمیشہ ہمیشہ خاتمے کے لیے مصری صحراے سینا کا ایک وسیع علاقہ ایک نئی فلسطینی ریاست کے لیے دے دیتا ہوں۔ یہاں پر سیسی کے منصوبہ ساز اس بات کا جواب نہیں دیتے کہ وہ صحرائے سینا میں مسجد اقصی اور قبلہء اول کیسے لائے گا۔ اسے یہ بھی یقینا معلوم ہوگا کہ فلسطینی عوام اس سے پہلے بھی ایسے کئی منصوبے مسترد کرچکے ہیں، جن میں انھیں اُردن کو متبادل وطن تسلیم کرتے ہوئے سرزمین اقصی سے دست بردار ہونے کی پیشکش کی گئی تھی اور انھوں نے ۶۸ سال گزر جانے کے باوجود آج تک اس کا جواب نفی میںدیا ہے۔

منتخب صدر محمد مرسی کے بارے میں احمقانہ حد تک بے بنیاد پراپیگنڈے میں یہ الزام بھی تھا کہ انھوںنے اہرام مصر، ابوالہول اور نہر سویز کا علاقہ قطر کو فروخت کردیا ہے۔ اب جنرل سیسی صحرائے سینا میں فلسطینی بسانے کی بات کرکے انھی عجوبہ منصوبوں کو حقیقت میں بدلنے کی بات کررہا ہے۔ لیکن ہر آنے والا دن اس کی بلیک میلنگ اور دھوکا دہی کو بھی بے نقاب کررہا ہے۔

کچھ عرصہ قبل سعودی شاہ سلمان کے دورۂ مصر کے موقعے پر جنرل سیسی نے کسی اور کارروائی یا منظوری کے بغیر خلیج عقبہ میں واقع دو متنازعہ جزیرے تیران اور منافیر سعودی عرب کو دینے کا اعلان کردیا۔ اس ایک تیر سے اس نے کئی شکار کرنا چاہے: ایک طرف شاہ سلمان کو راضی کرنے کی کوشش اور شاہ عبد اللہ کی طرح مالی مدد جاری رکھنے کی درخواست، دوسری طرف اسرائیل کو یہ لالچ کہ یہ جزیرے اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث سعودی عرب سے اس کے روابط کاذریعہ بن جائیں گے۔ اور تیسری جانب اخوان سمیت ان تمام مصری سیاسی جماعتوں اور سعودی عرب کے مابین اختلافات پیدا کرنا جو ان جزیروں کو مختلف تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر مصری سرزمین قراردیتے ہیں۔

سیسی کی یہ عیاری ۲۱ جون ۲۰۱۶ء کو اس وقت بے نقاب ہوگئی کہ جب ایک اعلیٰ مصری عدالت نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے جزیرے سعودی عرب کو دینے کا معاہدہ کالعدم قرار دے دیا۔ عہد سیسی کا ہو اور کوئی عدالت اس کے اشارۂ اَبرو کے بغیر بلکہ اس کے علی الرغم فیصلہ سنادے؟ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ تجزیہ نگار اس عدالتی ڈرامے کے دو بنیادی اسباب بتارہے ہیں: ایک تو سعودی عرب کو یہ پیغام کہ ’’پیسے ختم ہوگئے ہیںمیرے آقا مزید امداد‘‘ (واضح رہے کہ سیسی کی اپنے ساتھیوں سے گفتگو کی خفیہ ریکارڈنگ کئی بار آچکی ہے جس میں وہ ان کے ساتھ خلیجی ممالک سے مزید ڈالر اینٹھنے کے طریقوں پر مشورہ کررہاہے)۔ دوسرا یہ کہ یہ عدالتی فیصلہ دو روز قبل ایک اور عدالتی فیصلے پر آنے والے ردعمل کو کم کرنے کے لیے ہے، جس میں منتخب صدر محمد مرسی کو چالیس سال قید اور ایک خاتون صحافی اسما الخطیب سمیت چار صحافیوں اور صدر مرسی کے دو ساتھیوں کو سزاے موت سنائی گئی۔ یہ مقدمہ اور فیصلہ بھی مصر کی فرعونی تاریخ میں ایک سیاہ ترین باب کے طور پر لکھا جائے گا۔

ستمبر ۲۰۱۴ء کو صدر محمدمرسی سمیت ۱۱؍افراد پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے اپنے تقریباً دو سال دورِ اقتدار میں قومی راز قطر کو فراہم کیے ۔کسی عدالتی کارروائی کے بعد صدر مرسی کواس الزام سے  بری الذمہ قرار دے دیا گیا، لیکن ایک سیاسی جماعت (اخوان) سے تعلق کی بنیاد پر ۲۵ سال اور قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات کے حصول پر مزید ۱۵ سال قید کی سزا سنادی گئی۔ سزاے موت اور ۱۵ سال قید کی سزا پانے والے ایک سینیئر صحافی ابراہیم ہلال (الجزیرہ چینل کے سابق نیوز ڈائریکٹر) نے فیصلہ سننے کے بعد کہا: ایک صحافی ہونے کے ناتے اگر ہمیں واقعی کوئی خفیہ دستاویزات مل بھی جاتیں تو ہم مکمل ذمہ داری اور امانت کے ساتھ اسے نشر کرتے، لیکن یہ ساری کہانی ہی مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ جنرل سیسی، دراصل الجزیرہ کومصر میں ہونے والے مظالم کی خبر دینے سے روکنا چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ اس مقدمے میں سات افراد کو مجموعی طور پر ۲۴۰ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ان تمام غیر انسانی سزاؤں اور درندوں کے راج کے باوجود، ان بے گناہ قیدیوں کی اخلاقی و ایمانی کیفیات کیا ہیں؟ اس کا اندازہ حالیہ عدالتی ڈرامے کی اختتامی کاروائی سے ہی لگالیجیے۔ بدنام زمانہ جج فیصلہ سنانے لگا تو ملک کے قانونی صدر محمد مرسی کو ایک ساؤنڈ پروف پنجرے میں بند کرکے لایا گیا۔ فیصلے سے پہلے انھوں نے بات کرنے پر اصرار کیا تو جج نے پنجرے میں لگا مائیک کھلواتے ہوئے کہا: علی طول خش یا مرسی... خش یا مرسی’’ مرسی جلدی سے بات کرو .. مرسی جلدی کرو‘‘۔انھوں نے دو تین بار بات شروع کی، لیکن جج مسلسل ٹوکتا رہا۔

محمد مرسی نے کہا: میں عدالت کے فیصلے کے بارے میں ہی اپنے ساتھیوں سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں: ’’صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلے میں پامردگی دکھائو، حق کی خدمت کے لیے کمربستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم فلاح پاسکو‘‘ (اٰل عمرٰن ۳:۲۰۰)۔ اس پر جج نے طیش میں آکر بات کاٹی اور مختصر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت برخواست کردی۔

مصر کے معروف قانون دان ولید شارابی نے انھی دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیاہے کہ جنرل سیسی کی طرف سے صدر مرسی اور ساتھیوں سے رابطہ کرتے ہوئے سودے بازی کی کوشش کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا، اس ضمن میں ایک اعلیٰ سطحی ذمہ دار گرفتار اسپیکر ڈاکٹر سعد الکاتا کے پاس گیا اور معاملات طے کرنے کی پیش کش کی۔ قیدی اسپیکر نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا:  مصر کا قانونی اور منتخب صدر ایک ہی ہے اور وہ آپ کے پاس ہے، اگر کسی نے کوئی بات کرنا ہے تو انہی سے ہوسکتی ہے۔ اس رابطہ کار کے چلے جانے کے بعد اسپیکر ڈاکٹر سعد نے کہا کہ یہ لوگ میرے پاس اس لیے آئے ہیں کہ انھیں صدر مرسی سے بات کرکے کچھ ہاتھ نہیں آیا ہوگا۔

صدر مرسی کے اہل خانہ کے مطابق گذشتہ تین سالہ غیر قانونی قید کے دوران میں اہل خانہ کی صرف ایک ملاقات ہوسکی، جو چند منٹ سے زیادہ نہیں تھی۔ المیہ یہ بھی ہے کہ اس مصری ’گوانتا نامو کیمپ‘ سے پوری دنیا نہ صرف لاتعلق ہے ،بلکہ خاموش تماشائی بن کر جلاد کی پشتی بانی کررہی ہے۔ رہے مصر سمیت دنیا کی مختلف جیلوں میں گرفتار اہل ایمان، تو ان کا رب یہ پیغام اُمید دے رہا ہے: فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا وَ کَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ  (الروم۳۰: ۴۷) ’’پھر جنھوں نے جرم کیا ہم نے ان سے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں‘‘۔

پاکستان میں افغانستان کے متعین سفیر۴۸سالہ ڈاکٹر حضرت عمر ضاخیلوال کے بیانات گذشتہ چند دنوں میں بہت اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ چھے ماہ قبل جب ان کی تعیناتی عمل میں آئی تھی اور انھوں نے نسبتاً خاموش طبع جانان موسیٰ زئی کی جگہ لی تو اس وقت کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ شخصیت آنے والے دنوں میں دو برادر اور ہمسایہ پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات میں اتنا اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گی ۔

نئے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے، جو خود بھی ماہر اقتصادیات ہیں اور امریکا ہی سے کرزئی حکومت کے دور میں آئے تھے، ان کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ۔ انھوں نے اس چار ملکی امن گروپ (QCG)میں افغانستان کی نمایندگی کی جو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا ۔ اس میں افغانستان اور پاکستان کے علاوہ امریکا اور چین بھی شامل ہیں۔ اسی گروپ کی کوششوں سے گذشتہ سال پاکستان میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا اعلا ن کیا گیا تھا لیکن پھر طالبان کے سربراہ ملا عمر کی وفات کی خبر آئی یا لائی گئی اوران مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا گیا۔ اس سال پھر جب پاکستان نے امن مذاکرات کے لیے طالبان سے رابطے کیے تو اس پر افغان حکومت نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور پاکستان کو کسی قسم کے مذاکراتی عمل سے منع کر دیا جو  بڑا عجیب و غریب رویہ تھا۔ لیکن اب، جب کہ گذشتہ ماہ نوشکی میں طالبان رہنما ملا اختر منصور کو ڈرون حملے کے ذریعے مار دیا گیا اور اب طور خم میں افغان فورسز نے جارحانہ رویہ اختیا ر کیا تو صورت حال کچھ واضح ہوتی جا رہی ہے ۔ ماہِ اپریل میں افغان سفیر کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار ہو چکی ہے اور ہم بہت جلد افغان رہنمائوں کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات شروع کر دیں گے ، جب کہ قطر میں مقیم افغان طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد نعیم نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم کو اپنی قیادت کی جانب سے ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب انھی افغان سفیر کا تازہ ترین ارشاد ہے کہ اگر پاکستان نے طور خم سرحد پر گیٹ کی تعمیر کا کام ترک نہ کیا تو اس کو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے ۔ وہ پہلے بھی اس طر ح کے تندوتیز بیانات دے چکے ہیں۔

  •  ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ:  طورخم کے سرحدی تنازع پر بات کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ تھوڑا سا اس کا جغرافیائی اور تاریخی پس منظر بیان کر دیا جائے ۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ۲۶سو کلومیٹر لمبی سرحدہے ۔ جس میں بے شمار قدرتی اور بنائی ہوئی گزرگاہیں ہیں۔ ان میں سے ۷۸راستے معلوم اور مشہور ہیں جن میں سے ۱۶سرکاری طور پر طے شدہ سرحدی کراسنگ ہیں جن میں سے نوباقاعدہ بند کر دی گئی ہیں اور سات فعال ہیں۔ ان میں سے دوبہت مشہور ہیں جن میں بلوچستان میں چمن اور قبائلی علاقوں میں طورخم شامل ہے ۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد ی لکیر ڈیورنڈ لائن کہلاتی ہے جو برعظیم پاک و ہند میں انگریزراج کے دور میں ۱۸۹۳ء میں افغانستان کے والی امیر عبدالرحمن اور سرموٹمر ڈیورنڈ کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد طے ہوئی تھی ۔ بعد میں آنے والی افغان حکومتوں نے اس معاہدے کو ماننے سے انکار کیا تھا اور یہ تنازع ہنوز حل طلب ہے ۔ اسی بنیاد پر پاکستان بننے کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت پر افغانستان کے نمایندے نے اعتراض کیا تھا۔ اسی کو بنیاد بنا کر ایک طویل عرصے تک افغان حکومت پختونستان کا راگ الاپتی رہی اور پاکستان کے پختون قوم پرست ان کی میزبانی کے مزے لوٹتے رہے ۔ اب بھی کابل اور جلال آباد میں پختونستان چوک قائم ہیں، البتہ حکومتی سطح پر پختونستان کا قضیہ قصۂ پارینہ بن چکا ہے ۔ جہاد افغانستان نے اس علاقے پرجو دُوررس اثرات مرتب کیے ہیں، ان میں یہ بھی شامل ہے ۔

مجاہدین اور طالبان کے دور حکومت میں یہ موقع تھا کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ بھی باہم مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جاتا لیکن اس کے لیے دونوں جانب سے کوئی پیش رفت نہ کی گئی ۔ اب، جب کہ کابل میں افغان حکومت دوبارہ پختون قوم پرستوں کے ہاتھ میں آچکی ہے تو اس مسئلے پر بات چیت مشکل تر ہوگئی ہے ۔ یہ ہے اصل میں طور خم کے سرحدی تنازعے کا پس منظر جس پر کوئی بھی کھل کر بات نہیں کرتا۔ جب افغان سفیر حضرت عمر کے حوالے سے پاکستانی میڈیا نے یہ خبر نشر کی کہ وہ گیٹ کی تنصیب کے لیے آمادہ ہو گئے ہیں تو اسی وقت افغان میڈیا میں ان کے خلاف ایک شور سا اُٹھ گیا کہ عمر نے افغان ملت کے ساتھ دغا بازی کر کے امیر عبدالرحمن کی یاد تازہ کر دی ہے ۔ پاکستانی اداروں نے کہا کہ وہ ۱۰۰میٹر پاکستانی حدود کے اندر گیٹ کی تعمیر کے لیے تیار ہوئے تھے، جب کہ عملاً گیٹ ۳۷میٹر اندر بنایا جانے لگا جس پر افغان فوجیوں نے فائرنگ شروع کر دی، یعنی معاملہ صرف چند میٹر کا تھا۔ کئی قیمتی جانیں اس کی نذر ہو گئیں اور دو برادر ہمسایہ ملکوں کے درمیان ایک جنگی صورت حال پیدا ہو گئی ۔پاکستانی فوجی آفسر میجر علی جواد چنگیزی جو ایک خوب صورت انسان تھے ان میںشامل ہیں۔

مسئلہ صرف چند میٹر کا نہیں ہے بلکہ افغانستان کے mindsetکا ہے جو کسی بھی صورت گیٹ کی تعمیر کے لیے تیار نہیں اور اس کا اظہار اب افغان سفیر اپنے بیانات کے ذریعے کر رہے ہیں۔ پاکستان کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے اب جا کر یہ بیان دیا ہے کہ انھوں نے افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اور قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر کو دعوت دی ہے کہ وہ پاکستان آکر اس قضیے پر مذاکرات کریں اور اس کا کوئی حل نکالیں۔ صلاح الدین سابقہ افغان صدر اور جمعیت اسلامی افغانستان کے سربراہ استاد برہان الدین ربانی مرحوم کے صاحبزادے ہیں جنھوں نے روسی تسلط کے خلاف جہاد افغانستان کی قیادت پاکستان میں بیٹھ کر کی تھی اور بعد میں نجیب انتظامیہ کے خاتمے پر ایک معاہدے کے تحت صبغتہ اللہ مجددی کے بعد افغانستان کے صدر بن گئے تھے لیکن معاہدے کی پابندی نہ کی اور کئی سال تک افغانستان کے صدر رہے ۔ یہاں تک کہ طالبان نے آکر ان کی حکومت ختم کی ۔ حنیف اتمر کا پس منظر یہ ہے کہ وہ سابقہ کمیونسٹ کے طور پر مشہور ہیں۔ وہ ڈاکٹر نجیب اللہ کے ساتھیوں میں سے تھے اور جب نجیب انتظامیہ نے حضرت مجددی کو اقتدار منتقل کیاتو اس عمل میں حنیف اتمر شامل تھے ۔

  •  افغان حکومت: افغانستان کی موجودہ حکومت کی ۲۶رکنی کابینہ میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ گروپ اور ڈاکٹر اشرف غنی گروپ کے مساوی ارکان شامل ہیں۔ ان کے علاوہ معاونین کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ قومی وحدت کی خاطر بہت ساری تنظیموں اور گروپوں کو نمایندگی دی گئی ہے ۔ حکومت نے سیاسی قوت کے ساتھ ساتھ عسکری قوت کے حصول کے لیے بھی خاصی تگ و دو کی ہے۔ ۲لاکھ کے لگ بھگ افغان فوج اور ایک لاکھ کی تعداد میں افغان پولیس گذشتہ عرصے میں تیار کی گئی ہے جس پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے زر کثیر خرچ کیا ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار افغانستان میں اتنی بڑی سرکاری فوج بنائی گئی ہے ۔ امریکا نے ایک معاہدے کے تحت ۲۰۲۰ء تک اس کا خرچ اُٹھانے کی حامی بھری ہے ۔ البتہ فضائی فوج اس انداز میں نہیں بنائی گئی ہے جس طرح زمینی فوج تیار کی گئی ہے۔امریکا نے پانچ فضائی اڈے اپنی تحویل میں رکھے ہیں جس پر اس کی فضائی طاقت موجود ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر بارک اوباما نے ایک حکم نامے کے ذریعے امریکی فضائی افواج کی افغان فوج کی حمایت میں زیادہ بہتر استعمال کو یقینی بنایا ہے ۔ امریکا کی اسٹرائیک فورس میں بھی اضافے کی تجویز ہے جس کی موجودہ تعداد ۹۶۰۰ہے ۔ دوسری جانب طالبان کی جانب سے بھی مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف علاقوں میں افغان فوج پر ان کے حملوں اور علاقوں پر قبضے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ طالبان جنوبی صوبوں میں اپنے مضبوط گڑھ سے آگے بڑھ کر شمالی صوبوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ گذشتہ ایک افسوسناک واقعہ میں انھوں نے قندوز جانے والی دوبسوں کو روکا اور ان میں سے ۱۹مسافروں کو وہیں پر مار دیا، جب کہ باقی کو یرغمال بنا لیا۔ اس واقعے کی پورے افغانستان میں عوامی سطح پر مذمت کی گئی ۔
  • داعش:  طالبان کو ایک بڑی مشکل داعش کی صورت میں پیش آرہی ہے جو اب مختلف علاقوں میںاپنے قدم جما رہی ہے ۔ عالمی سطح پر داعش کی کامیابیوں کی وجہ سے جہادی ذہن رکھنے والے نوجوان افغان داعش کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔ لیکن افغانستان میں وہ حکومت کے لیے درد سر بننے کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کے لیے بھی ایک بڑی مصیبت بن چکے ہیں۔ اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے طالبان کے رہنما ملا اختر منصور نے داعش کے سربراہ البغدادی سے بہت پہلے اپیل کی تھی کہ وہ افغانستان میں تحریک طالبان ہی کو اپنا نمایندہ سمجھیںاور داعش کی علیحدہ تنظیم نہ بنائیں لیکن ان کی بات نہ مانی گئی اور اس کے اثرات کئی جگہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ننگر ہار کے ضلع اچین میں انھوں نے مضبوطی سے قدم جمالیے ہیں اور وہاں سے طالبان کا صفایا کر دیا ہے ۔ اب حکومت اپنی فضائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے اس مشکل پہاڑی علاقے میں داعش کے خلاف سرگرمیاں کر رہی ہے اور سیکڑوں افراد کو ہلاک کرنے کے دعوے کر رہی ہے۔ یہ علاقہ بھی پاکستان سے منسلک ہے ۔ طالبان کے نئے سربراہ ملاہیبت اللہ کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
  •  حزبِ اسلامی: افغانستان میں ایک اہم قوت انجینیر گل بدین حکمت یار کی حزب اسلامی ہے جس کی پڑھے لکھے نوجوانوں میںمؤثر حمایت موجود ہے ۔ ایک زمانے میں یہ تنظیم عسکری لحاظ سے افغانستان میں ممتاز ترین پوزیشن پر تھی لیکن اب اس کی وہ حیثیت نہیں رہی ہے اور اس کے کئی ارکان عسکریت چھوڑ کر کابل اور جلال آباد میں آباد ہو گئے ہیں۔ اس میں سے ایک گروپ اس وقت حکومت میں بھی شامل ہے جس کی قیادت مولوی سرفراز کر رہے ہیں۔ اب ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت نے حزب اسلامی کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کر کے حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے ۔ انجینیر حکمت یار کے نمایندے ڈاکٹر غیرت بہیر اور ان کے ساتھی مذاکراتی عمل میںشرکت کے لیے کابل میں موجود ہیں۔ ایک معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے جس کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ انجینیر حکمت یار کی جانب سے اب تک توثیق ہونے کا اعلان نہیں ہوا ۔ افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال میں اس اعلان کی بہت اہمیت ہے، البتہ اس کی مخالفت میں بھی کئی طاقت وَر عناصر پیش پیش ہیںجو حکومتی ایوانوں میںموجودہیں۔ یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا جس کی تنفیذ حکومت اور حزب اسلامی دونوں کے لیے بہت بڑا چیلنج ہوگا۔
  •  امریکا: افغانستان میں کابل حکومت کے ساتھ ساتھ امریکی انتظامیہ کاکردار بھی بہت اہم ہے جو بارک اوباما کی مدت صدارت میں خاتمے کے قریب ہونے کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہے ۔ یہ بات تو طے ہے کہ آیندہ دور میں امریکا کے نزدیک افغانستان کی وہ حیثیت نہیں رہے گی جو گذشتہ ۱۵سال میں رہی ہے ۔ امریکا نے افغانستان میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے  پیش نظر وہ چاہتا ہے کہ آیندہ بھی کلیدی کردار اس کا رہے لیکن خرچ کرنے کے معاملے میں اور افرادی قوت کے استعمال میں وہ محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے ۔ اس لیے اس کی خواہش ہے کہ افغانستان میں طالبان کی واپسی کو روکنے کے لیے اس کو قابل اعتماد پارٹنر دستیاب ہوں۔

چین اور بھارت یہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چین افغانستان کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا، البتہ اقتصادی اور ترقیاتی منصوبوں میں دل چسپی رکھتا ہے ۔ جلال آباد سے کابل تک دو رویہ ہائی وے کی تعمیر ایک چینی کمپنی کر رہی ہے ۔ البتہ بھارت کا افغانستان میں کردار بہت اہم ہے اور وہ آیندہ بھی افغانستان میں اور اس سے آگے بڑھ کر وسط ایشیا میںاپنے لیے تجارتی منڈیوں کا حصول چاہتا ہے ۔

  •  بہارت: بھارت نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے ۔ ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے باوجود اس نے دوبلین ڈالر کی خطیر رقم سے بڑے منصوبے افغانستان میں مکمل کیے ہیں۔ ان میں دلآرام ذارنج ہائی وے شامل ہے جو افغانستان کو ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے ملاتی ہے ۔ قندہار سے سپین بولدک روڈ کا ٹھیکہ بھی بھارت کے پاس ہے ۔ اسی طرح سلمہ ڈیم، بجلی کی فراہمی کے بڑے منصوبے سڑکوں کی تعمیر ، ٹرانسپورٹ کی سہولتیں ، تعلیمی وظائف ، افغان سول بیوروکریسی  اور فوجی افسران کی تربیت وغیرہ منصوبے روبہ عمل ہیں۔ اس سال ماہ اپریل میں بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی نے کابل میں پارلیمنٹ ہائوس کا افتتاح کرنے کے بعد اچانک لاہور کا دورہ کیا اور وزیر اعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی کی مبارک باد کے لیے رائے ونڈ پہنچ گئے اور پھر وہاں سے دہلی روانہ ہوئے ۔ وہ اس مختصر لیکن ذو معنی دورے سے کیا پیغام دینا چاہ رہے تھے اس کا ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے ۔ افغانستان کا الیکٹرانک میڈیا مکمل طور پر بھارت کے مرہون منت ہے۔ ۵۰سے زائد افغان ٹی وی چینلز بھارتی دور درشن کے خلائی جہاز سے سگنل وصول کر تے ہیں اور ان نشریات کا معاوضہ بھارت نے بہت کم رکھا ہے ۔ اس لیے اب جب پاکستانی سیاست دان بیان دیتے ہیں کہ افغان میڈیا بھارت کا حامی ہے تو اس کے پیچھے بھارتی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری ہے ۔ امریکا اور بھارت میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں طالبان کی واپسی نہیں چاہتے ۔ ایران بھی افغانستان کا ایک اہم تزویراتی پارٹنر ہے ۔ پہلے حامد کرزئی حکومت اور اب ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کو ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔
  •  ایران:  ایران نے بھی افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے ۔ اس نے خاص طور پر تعلیمی میدان میں بڑے بڑے ادارے اور جامعات قائم کی ہیں۔ افغانستان کی شیعہ آبادی اور ہزارہ قوم کو اس کی مکمل تائید حاصل ہے ۔ کابل کی خاتم النبین ؐ یونی ورسٹی میں ان کے طالبعلموں کو بڑی آسانی سے پی ایچ ڈی کی اعلیٰ ترین ڈگری مل جاتی ہے ۔ یہ افغانستان میں مشینی ڈگری کے نام سے مشہور ہے ۔ سستی تعلیم کی وجہ سے سے سنی طلبہ بھی یہاں داخلہ لیتے ہیں۔ ایران بھی افغانستان میں طالبان حکومت کی واپسی نہیں چاہتا ۔البتہ اس نے تحریک طالبان کی قیادت سے رابطہ رکھا ہوا ہے اور تہران میںمنعقدہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں میں ان کی شرکت بھی نظر آتی ہے ۔
  •  پاکستان: پاکستان کا معاملہ افغانستان میں خاصا متنازع ہے ۔ ایک طرف اس کے مثبت پہلو میں جن میں دونوں کی اکثریتی آبادی کا سنی مسلم ہونا، مشترکہ ہمسائیگی ، مشترکہ ثقافت ، زبان ، قبائل شامل ہیں۔ پاکستان کی بندرگاہ کراچی افغانستان کے لیے بھی اسی طرح استعمال ہوتی ہے جس طرح پاکستان کے لیے۔ ہر سال تقریباً ۵۰ہزار کنٹینر سامان یہاں سے جاتا ہے ۔ پاکستان کا سب سے بڑا کارنامہ ان لاکھوں پناہ گزینوں کی مہمان نوازی اور خدمت ہے جنھوں نے ۸۰کے عشرے میں افغانستان پر روسی جارحیت کے دوران پاکستان میں پناہ لی اور ۳۵لاکھ کے لگ بھگ مہاجرین اس وقت بھی یہاں موجود ہیں ۔ پاکستان کے خلاف نکات میں تاریخی ڈیورنڈ لائن کا تنازع ہے اور اس وقت طالبان کی حمایت کا الزام ہے ۔ ایک اور مسئلہ تزویراتی گہرائی (Strategic Depth)کا بھی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بھارت کے مقابلے میں افغانستان پاکستان کو اگر اپنی سرزمین اور فضا استعمال کرنے دے تو پاکستان کو دفاعی طور پر آسانی ہو گی ۔ سنہ ۶۰کے زمانے سے یہ اصطلاح استعمال میں آئی اور بھارتی پروپیگنڈے کا موضوع بنی لیکن موجودہ دور میں اس کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے ۔ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ البتہ زیادہ گمبھیر اور پیچیدہ ہے اور دونوں ممالک کسی بھی مرحلے پر اس موضوع پر بات کرنے سے کتراتے رہے ہیں۔ پاکستان کی یقینا خواہش رہی ہے کہ اس پر بات کی جائے اور اس کو حل کر لیا جائے لیکن افغان قیادت کبھی بھی اس پوزیشن میںنہیں رہی کہ اس مسئلے پر دو ٹوک بات کر سکے اور اب بھی ایسا ہی ہے ۔ زمینی حقیقت کے طور پر اس کو تسلیم کیا جا چکا ہے لیکن رسمی طور پر کوئی معاہد ہ نہیں ہوا۔ شاید آیندہ بھی ایسا رہے ۔ اب بھی جب طورخم پر گیٹ کی تنصیب کا تنازع اُٹھا ہے تو افغانستان کی جانب سے اس طرف کوئی اشارہ تک نہیں کیا گیا ہے لیکن پس منظر میں یہی مسئلہ ہے ۔ طالبان کی حمایت کا الزام اب پرانا ہوچکاہے لیکن پھر بھی دہرایا جاتا ہے۔ طالبان کی کسی بھی کارروائی کو پاکستان کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ افغان صدر براہِ راست پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف خود چھے مرتبہ افغانستان جا چکے ہیں۔ آئی ایس آئی کے سربراہ جاچکے ہیں۔ خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا جارہا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی و کاروباری تعلقات کسی بھی اور ملک کے مقابلے میں بڑھ کر ہیں۔ کئی معاہدے بھی ہو چکے ہیں۔ مشترکہ چیمبر آف کامرس بھی ۲۰۱۰ء میں بناہے۔ افغانستان کی درآمد میں پاکستان کا حصہ ۹ئ۲۵فی صد ہے، جب کہ برآمدات میں ۳ئ۲۳ فی صد ہے۔ دونوں کے درمیان APTTAکا نیا تجارتی معاہدہ بھی ہواہے ۔ باہمی تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کا کل حجم ۲۵۰۹ ملین ڈالر سے بڑ ھ چکا ہے اور پاکستان کے حق میں ہے ۔

پاکستان نے افغانستان کی تعمیر نو میں بھی اپنا حصہ ڈالا ہے ۔ پاکستان نے اس مد میں ۳۳۰ملین ڈالر خرچ کیے ہیں جو بھارت کے ۲بلین ڈالر کے مقابلے میں بہت کم ہیں ۔ جلال آباد طورخم روڈ کی تعمیر پاکستان کا منصوبہ تھا ۔ تعلیم کے میدان میں پاکستان کے منصوبوں میں کابل میں رحمن بابا اسکول ، کابل یونی ورسٹی میں علامہ اقبال فیکلٹی ، جلال آباد میں سر سید فیکلٹی اور بلخ میں  لیاقت علی خان فیکلٹی کی تعمیر شامل ہے ۔ اسکولوں کے طلبہ کے لیے کتب اور کاپیوں کی فراہمی، ۵۰؍ایمبولینس گاڑیاں، ۲۰۰ٹرک اور ۱۰۰بسیں بھی عطیہ کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی تیل ، گیس، معدنیات او ربجلی کے منصوبوں میں پاکستان نے امداد بہم پہنچائی ہے ۔ مستقبل میں پاک افغان باہمی تعلقات اور تجارت کے فروغ کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ پاک چائنا کاریڈور کے مغربی روٹ کو افغانستان سے منسلک کرنے کا آپشن موجود ہے ۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ریلوے کا نظام جو ۱۱ہزار۷ سو ۷۸ کلومیٹر طویل انگریز دور کا تعمیر کردہ ہے پہلے ہی طور خم تک پہنچایا گیا تھا ۔ اس کو اگر افغانستان تک پہنچا دیا جائے اور پھر اس سے آگے وسط ایشیا کے ریلوے نظام سے جوڑ دیا جائے تو اس پورے خطے کی تقدیر بدل سکتی  ہے ۔ چین اس عظیم منصوبے میں بھی دل چسپی لے رہا ہے ۔

ڈاکٹر اشرف غنی نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد نومبر ۲۰۱۴ء کو پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کے لیے نیک خواہشات اور اچھے و مثبت جذبات کا اظہار کیا ۔ پاکستانی قیادت نے بھی بھر پور جواب دیا اور پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف نے افغان حکومت کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی ۔ افغانستان میں امن کا قیام اور اس کی سلامتی پاکستان کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ روسی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان جس بری طرح سے باہمی جنگ وجدل اور شکست وریخت سے دو چار ہوا، امریکی انخلا کے بعد اس کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے ۔ افغانستان میں متحارب گروپوں کے درمیان انٹرا افغان مذاکرات اور اس کے نتیجے میں جنگ کا خاتمہ اور امن و سلامتی کا قیام جتنا افغانستان کے لیے لازمی ہے اتنا پاکستان کی بھی ضرورت ہے ۔ ایسے موقعے پر طورخم سرحد پر خونچکاں واقعہ ناقابلِ برداشت اور خطرناک مضمرات کا حامل ہے ۔

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے عارضہ قلب اور سرجری کے دوران اور بعد میںملکی انتظام اور انصرام چلانے والی کوئی شخصیت نظر نہیں آئی جو بہت بڑا قومی مسئلہ ہے ۔ وفاقی وزیر جنرل عبدالقادر بلوچ نے ایک اخباری بیان میں طورخم واقعے کو بھارت کی سازش قرار دیا لیکن اس کا توڑ کیا ہے اور کون کرے گا؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ۔ افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں لیکن سیاسی قیادت کا کردار مختلف اور دوسرے انداز میں ہوتا ہے ۔ سفارتکاری کی اہمیت دنیا میں ایک مسلّمہ حقیقت تسلیم کی جاتی ہے ۔ بین الاقوامی مسائل کا حل حکمت عملی اور لچک دار رویے سے ہی ممکن ہوتا ہے ۔

 اس دور میں مسلم اُمت ایک کرب اور تکلیف سے دو چار ہے ۔ ہر جانب خون خرابہ اور تباہی و برباد ی کی خبریں ہیں۔ عراق و شام میں ایک خوف ناک صورت حال پیدا ہو چکی ہے ۔ اس موقعے پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تصادم ایک اور المیہ کو جنم دے سکتا ہے ۔ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔ اس لیے پاکستان اور افغانستان دونوں اطراف کی قیادت کو ان خطرات کے سد باب کے لیے سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ ضروری ہے کہ فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ پاکستان اور افغانستان کا مفاد ایک ہے اور ہم سب اس کے امین ہیں۔

قیامت کی آمد __ایک حدیث کی وضاحت

سوال : ایک حدیث کا مفہوم سمجھنے میں دشواری ہورہی ہے ۔ براہِ کرم اس کی وضاحت فرمادیں: اِنْ یَعِشْ ہٰذَا لَا یُدْرِکْہُ الْہَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ عَلَیْکُمْ سَاعَتُکُمْ ’’اگر یہ شخص زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے تم پر تمھاری قیامت برپا ہوجائے گی‘‘۔

جواب:  بخاری اور مسلم میں یہ حدیث ام المومنین حضرت عائشہؓ سے مروی ہے ۔ وہ فر ما تی  ہیں:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بدّو حاضر ہوتے تھے اور وہ آپؐ سے سوال کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی ؟ تو آپؐ ان میں سب سے کم عمرشخص کی طرف دیکھتے تھے اور فرماتے تھے: ’’اگر یہ شخص زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے تم پر تمھاری قیامت برپا ہوجائے گی‘‘۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب سکرات الموت ۶۵۱۱ ، مسلم:۲۹۵۲)

قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ اس نے یہ علم اپنے کسی بندے ، حتی کہ مقرب فرشتوں اور پیغمبروں کوبھی نہیں بخشا ہے ۔ اس لیے دانش مندی کا تقاضا ہے کہ ہرشخص یہ فکر کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جوزندگی عطا کی ہے اورجومہلت عمل دی ہے ، اس میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمالے۔ موت آتے ہی اعمال کا رجسٹر بند ہوجائے گا ۔ اس وقت تک اس نے اچھے یا بُرے جواعمال کیے ہوں گے ان کے مطابق اسے جزا یا سزا دی جائے گی ۔ اسی بات کو بعض احادیث میں اس انداز سے کہا گیا ہے کہ ہر شخص کی موت ہوتے ہی اس کی قیامت برپا ہوجاتی ہے۔

اس روایت کی سندمیں بعض کمزور راوی ہیں۔ اس لیے سند کے اعتبار سے محدثین نے اسے ضعیف یا موضوع قرار دیا ہے، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے یہ صحیح ہے ۔ اس کا ثبوت حضرت عائشہؓ سے مروی یہ حدیث ہے جس کی تشریح چاہی گئی ہے ۔ اس مضمون کی متعدد احادیث امام مسلم ؒ نے روایت کی ہیں ۔ حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: قیامت کب آئے گی ؟ اس مجلس میں انصار کا ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا۔ آپؐ نے اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: اس بچے کے بوڑھا ہونے سے پہلے قیامت آجائے گی‘‘ (۲۹۵۳)۔دوسری روایت میں حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ بچہ ازدشنوء ہ قبیلے (یمن )سے تعلق رکھتا تھا اور میرا ہم عمر تھا۔ (اس وقت حضرت انسؓ کی عمر ۱۶،۱۷سال تھی)(۲۹۵۳)۔ایک اور روایت میں اس بچے کو  حضرت مغیرہ بن شعبہؓکا غلام بتایا گیا ہے (۲۹۵۳)۔ امام نووی ؒ نے شرح مسلم میں قاضی عیاض کا یہ قول نقل کیا ہے:یہ تمام روایات پہلی روایت کے معنیٰ میں ہیں ۔ اس میں ساعۃ (قیامت) سے مراد موت ہے ۔ (شرح مسلم للنووی، دارالکتب العلمیۃ بیروت ،۱۹۹۵ئ، ج۹، جز ۱۸،ص ۷۱)

ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے :’’(قیامت ِ) صغریٰ سے مراد انسان کی موت ہے ۔ گویا ہرانسان کی قیامت اس کی موت سے شروع ہوجاتی ہے (فتح الباری بشرح صحیح البخاری)۔ انھوںنے شارحِ بخاری کرمانی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب  حکیمانہ اسلوب پر دلالت کرتا ہے ، یعنی قیامت ِ کبریٰ کب آئے گی؟ یہ سوال نہ کرو ، اس لیے کہ اس کا علم اللہ کے سوا کسی کونہیں ہے ، بلکہ یہ جاننے کی کوشش کرو کہ تمھارا زمانہ کب ختم ہوجائے گا ۔ تمھارے لیے بہتر یہ ہے کہ نیک اعمال کرلو، اس سے پہلے کہ تمھارے لیے اس کی مہلت ختم ہوجائے، کیوںکہ کسی شخص کونہیں معلوم کہ کون دوسروں سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہوجائے گا ۔ (فتح الباری) (ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)


بدلے کی شادی

س : میرا ایک لڑکا اورایک لڑکی ہے ۔ میں نے لڑکی کا نکاح اپنے ایک دوست کے لڑکے سے کرنے کا ارادہ کیا۔ پہلے تو انھوںنے آمادگی ظاہر نہیںکی، لیکن پھر اس شرط پرتیار ہوگئے کہ ان کی لڑکی کا نکاح میں اپنے لڑکے سے کردوں ۔ اس سلسلے میں مَیں نے اپنے بعضـ دوستوں سے مشورہ کیا توایک صاحب نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی شادیوں سے منع فرمایا ہے ۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ کیا ایسی شادی اسلامی شریعت کی رُو سے جائز نہیں ہے؟

ج: عہد ِ جاہلیت میں نکاح کا ایک طریقہ یہ رائج تھا کہ آدمی دوسرے سے کہتا تھا:تم اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے کردو ، میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تم سے کردوںگا اور دونوں کا مہر معاف ہوجائے گا۔ اسے نکاحِ شغار کہاجاتا تھا ۔ اللہ کے رسولؐ نے اس طریقۂ نکاح سے منع فرمایا ہے۔

 حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع کیا ہے‘‘۔دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : ’’اسلام میں شغار جائز نہیں ہے ‘‘۔ بعضـ روایات میں شغار کا مطلب بھی بتایا گیا ہے:’’شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی سے دوسرے آدمی کا نکاح (اس شرط پر )کردے کہ دوسرا اپنی بیٹی سے اس کا نکاح کردے اوران میں سے کسی کے ذمے اپنی بیوی کا مہر نہ ہو‘‘۔

یہ حدیث بخاری (۵۱۱۲، ۶۹۶۰)مسلم (۱۴۱۵)کے علاوہ ابوداؤد، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ، احمد، بیہقی اور دیگر کتبِ حدیث میں مروی ہے ۔ محدثین کے نزدیک شغار کی یہ تشریح حضرت ابن عمرؓ کے آزاد کردہ غلام نافع نے کی ہے ۔علامہ شوکانی نے نکاح شغار کی دو علّتیں قرار دی ہیں:ایک یہ کہ اس میں ہر لڑکی کوحقِ مہر سے محروم کردیا جاتا ہے ۔ دوسری یہ کہ اس میں ہر نکاح دوسرے نکاح سے مشروط اوراس پر موقوف ہوتا ہے ۔ (نیل الاوطار)

اگراس طریقۂ نکاح میں دونوں لڑکیوں کا مہر تو مقرر کیا گیا ہو، لیکن دونوں نکاح ایک دوسرے سے مشروط اورمعلّق ہوں توبھی وہ ناجائز ہوں گے۔روایات میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے بیٹے عباس نے عبدالرحمن بن الحکم کی لڑکی سے اورعبدالرحمن نے عباس بن عبداللہ کی لڑکی سے نکاح کیا اور دونوں لڑکیوں کا مہر بھی مقرر کیا گیا ، لیکن حضرت معاویہ ؓ کواس نکاح کی خبر پہنچی توانھوں نے مدینہ کے گورنر حضرت مروانؒ کولکھا کہ اس نکاح کوفسخ کردیا جائے ، اس لیے کہ یہ وہی نکاحِ شغار ہے ، جس سے اللہ کے رسول ؐنے منع فرمایا ہے ۔(ابوداؤد: ۲۰۷۵)

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے نکاح شغار کی تین صورتیں بتائی ہیں اورتینوں کو ناجائز قرار دیا ہے۔ایک یہ کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو اس شرط پر اپنی لڑکی دے کہ وہ اس کوبدلے میں اپنی لڑکی دے گا اوران میں سے ہر ایک لڑکی دوسری لڑکی کا مہر قرار پائے ۔دوسرے یہ کہ شرط تووہی ادلے بدلے کی ہو، مگر دونوں کے برابر مہر(مثلاً ۵۰،۵۰ ہزار روپیہ )مقرر کیے جائیں اورمحض فرضی طورپر فریقین میں ان مساوی رقموں کا تبادلہ کیا جائے اوردونوں لڑکیوں کوعملاً ایک پیسہ بھی نہ ملے ۔ تیسرے یہ کہ ادلے بدلے کا معاملہ فریقین میں صرف زبانی طور پر ہی طے نہ ہو ، بلکہ ایک لڑکی کے نکاح میں دوسری لڑکی کا نکاح شرط کے طور پر شامل ہو۔(رسائل ومسائل،دوم، ص۲۰۲)

بدلے کی شادیوں میں عموماً تلخی اورناخوش گوار ی کا اندیشہ رہتا ہے اوردونوں خاندانوں پر خانہ بربادی کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہتی ہے ۔ اگرایک خاندان میں شوہر نے جایا بے جابیوی کی پٹائی کردی یا دونوں کے درمیان تعلق میں خوش گواری باقی نہیں رہی یا اس نے طلاق دے دی تو دوسرے خاندان میں لڑکے پر اس کے والدین یا دوسرے رشتے دار دباو ڈالیں گے کہ وہ بھی لازماً وہی طرزِعمل اپنی بیوی کے ساتھ اختیار کرے۔ تاہم، اگر دونوں رشتوں کی مستقل حیثیت ہو، دونوں لڑکیوں کا مہر طے کیا جائے اوران کوادا کیا جائے اورایک رشتہ کسی بھی حیثیت میں دوسرے رشتے کو متاثر کرنے والا نہ ہو تو ایسے رشتوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)


امانت میں خیانت

س : ایک صاحب نے مجھے ۵۰ ہزار روپے یہ کہہ کر دیے کہ اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کردوں۔ ہوایہ کہ مجھے کچھ روپیوں کی بہت سخت ضرورت پیش آگئی۔ چنانچہ میں نے اس میں سے ۲۰ہزار روپے استعمال کرلیے اور سوچاکہ جب میرے پاس پیسوں کاانتظام ہوجائے گا تو اس رقم کو بھی ضرورت مندوں میں تقسیم کردوں گا۔ ذاتی استعمال کے لیے میں نے ان صاحب سے اجازت حاصل نہیں کی، بلکہ ان کو بتائے بغیر بطور قرض اسے استعمال کرلیا۔ کیامیرے لیے ایسا کرنے کی گنجایش تھی یا میں نے غلط کیا؟

ج:آدمی اپنا مال ضرورت مندوں میں خود بھی تقسیم کرسکتاہے اور کسی دوسرے کو بھی یہ   ذمہ داری دے سکتاہے ۔ جو شخص یہ ذمہ داری قبول کرلے اسے پوری امانت و دیانت کے ساتھ اسے انجام دینا چاہیے۔ جس شخص کو مذکورہ مال تقسیم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ، اس کے پاس  یہ مال امانت ہے۔ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر اس میں ادنیٰ سا تصرف بھی اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ صاحبِ مال نے جن کاموں میں خرچ کرنے یا جن افراد کو دینے کی صراحت کی ہو، انھی میں مال خرچ کیاجائے۔ ذمہ داری لینے والے کو اپنے طورپر فیصلہ کرنے اور مدّات میں تبدیلی کرنے کاحق نہیں ہے ۔

اسی طرح اگر وہ ذمہ دار اس مال کومستحقین تک پہنچانے میں ٹال مٹول سے کام لے یا بلاوجہ تاخیر کرے تو یہ بھی خیانت ہے۔ وہ مال کا کچھ حصہ اپنے ذاتی کام میں استعمال کرلے، پھر کچھ عرصے کے بعد اس کے پاس مال آجائے تو اسے بھی ضرورت مندوں میںتقسیم کردے۔ اس صورت میں وہ مال میںخیانت کرنے کامرتکب تو نہ ہوگا، لیکن بغیر صاحب ِ مال کی اجازت کے ، مستحقین تک اس کے پہنچانے میں تاخیر کرنے کا قصور وار ہوگا۔ اس لیے ایسا کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اب اگر ایسی کوتاہی ہوگئی ہے تواستغفار اور آیندہ احتیاط کا عہد کرنا چاہیے۔(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)

سیّدابوالاعلیٰ مودودی کے دروسِ قرآن، مرتب: حفیظ الرحمن احسن۔ ناشر: اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۲۵۲۵۰۱- ۰۴۲۔صفحات: ۲۸۲۔ قیمت:۲۸۰روپے

رسالہ ترجمان القرآن (مدیر: سیّدابوالاعلیٰ مودودی) کا نام بہت معنی خیز ہے۔ اس لیے کہ سیّدمودودی کی عمربھر کی جدوجہد کا مقصد قرآنِ حکیم کے پیغام کی ترویج تھا اور اس کے لیے انھوں نے مختلف طریقے اختیار کیے۔ تفہیم القرآن کی تالیف، قرآنِ حکیم کی روشنی میں مختلف معاشرتی، اقتصادی اور عمرانی مسائل کی وضاحت اور دروسِ قرآن کے ذریعے سامعین کی تعلیم وتربیت۔ دروس کا یہ سلسلہ حیدرآباد دکن، دارالاسلام (پٹھان کوٹ) اور آخر میں لاہور میں ۷ستمبر ۱۹۶۷ء تک جاری رہا۔ اِن دروس کو بعض اصحاب نے فیتہ بند( ٹیپ )کیا اور اب انھی ٹیپ کردہ بعض دروس کو زیرنظر کتاب میں مرتب کیا گیا ہے۔ اِن میں سے چند ایک ترجمان القرآن کے گذشتہ شماروں میں شائع ہوچکے ہیں۔

دروسِ قرآن کی یہ پہلی کتاب، ۱۵ درسوں پر مشتمل ہے۔ دروس کی ترتیب قرآنی نہیں موضوعاتی ہے۔(تفسیر تعوذ و تسمیہ، دُعا اور جوابِ دُعا، ایمان اور اطاعت، ہارجیت کے فیصلے کا دن، ایمان اور آزمایش، نفاق سے پاک غیرمشتبہ اخلاص، اللہ سے تجارت، بعثت ِ رسولؐ اور حکمت ِ دین، نمازِجمعہ: حکمت اور تربیت، منافقین کا طرزِعمل، اسلامی معاشرت اور طلاق، نبیؐ کی خانگی زندگی، تہجد اور تربیت ِ نفس)

سیّد مودودی کے یہ دروس اِس لیے اہم ہیں کہ تفہیم القرآن کے مقابلے میں مولانا نے یہاں نسبتاً تفصیل سے بات کی ہے، مثلاً :سورئہ فاتحہ کا درس ۲۲صفحات پر مشتمل ہے ، جب کہ تفہیم کے حواشی مختصر ہیں۔ ایک اور اعتبار سے بھی دروس کا مطالعہ دل چسپ ثابت ہوگا، مثلاً: ایک ہی سورہ یا بعض آیات کی تفہیمی تشریحات اور دروسی تقاریر میں ۲۰،۲۰ سال کا وقفہ ہے۔ یقینا اِس عرصے میں سیّدمودودیؒ کے ذہن میں کچھ نئے نکات بھی مرتب ہوتے رہے جن کا اظہار زیرنظر دروس میں ہوا ہوگا۔

قرآنِ حکیم کے درس و تدریس کے لیے بھی یہ دروس نہایت معاون اور مددگار ہیں جیساکہ مرتب نے دیباچے میں بتایا ہے۔ زیرنظر کتاب مجموعۂ دروس کی ’کتابی تشکیل اور تدوین‘ میں مرتب کو سلیم منصور خالد اور امجد عباسی کا خصوصی تعاون حاصل رہا ہے۔ ہدیہ مناسب ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


کعبہ میرے آگے، مولانا عبدالقیوم حقانی۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ، خالق آباد، نوشہرہ، صفحات: ۴۱۶۔ قیمت: درج نہیں۔

اس کتاب میں مصنف کے حج اور عمروں کے اسفار کی رُودادیں جمع کی گئی ہیں۔ مولانا حقانی کے یہ سفرنامے ان کی ڈائریوں اور ماہنامہ قاسم میں محفوظ تھے۔ مصنف نے حرمین شریفین میں بیتے ہوئے لمحات کو ’حاصلِ زندگی‘ قرار دیا ہے۔

زیرتبصرہ کتاب میں جہاں قلب و نظر کی کیفیات بیان کی گئی ہیں وہاں شرع کے اصول و قواعد بھی بیان ہوئے ہیں۔ پردے کے بارے میں مصنف نے نہایت دردمندی سے حکومت ِ سعودیہ سے التماس کی ہے کہ کوئی ایسا ضابطہ بنایا جائے جو حجاج کرام پر قانوناً نافذ ہو۔  بے پردگی گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہے۔ بھرپور اور جرأت مندانہ اقدام ہی سے ایسے منکرات کا خاتمہ ہوسکتا ہے (ص ۲۴۲)۔ ایک اور کبیرہ بلکہ اکبر الکبائر گناہ کا ارتکاب اس طرح ہو رہا ہے گویا یہی کارخیر ہے۔ خواتین، بوڑھوں، نوجوانوں کے ہاتھ میں تختی نما بڑے بڑے موبائل ہیں۔ ریاض الجنۃ میں پوری نماز فوٹو کھنچوانے کے لیے پڑھی جارہی ہے۔ لاکھوں کے مصارف اور سفری صعوبتیں برداشت کر کے حج کے لیے حرمین شریفین پہنچ تو جاتے ہیں مگر مسائل سے ناواقفیت کی بناپر نہ ان کے حج صحیح ہوپاتے ہیں اور نہ عمرے۔ (ص ۳۹۰)

کتاب میں تاریخِ اسلام کے متعدد واقعات، آثارِ قدیمہ کے مشاہدات اور عصرحاضر کے بعض اجتماعی مسائل پر مصنف نے اظہارخیال کیا ہے۔ دسمبر۲۰۱۳ء کے عمرے کے دوران مسجدالحرام کے امام ڈاکٹر سعود الشریم کے جمعۃ المبارک کے خطبے کا خلاصہ بھی دیا گیا ہے جس میں خطیب نے فرمایا: فرزندانِ اسلام آلام و مصائب سے مایوس نہ ہوں، اچھی اُمید رکھیں....

حضور اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ خوش گمانی اور پُرامیدی کی خوب صورت علامت ہے۔ انتہائی مایوس کن حالات، جنگوں اور ہر طرف سے ناکہ بندیوں کے عالم میں بھی محبوب آقاؐ نے اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ آپؐ ہی کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ (ص ۳۳۳-۳۳۴)


کتاب علم و عرفان کا خزینہ ہے۔ مصنف کا اسلوبِ بیان بے تکلف، علمی اور شگفتہ ہے۔(ظفرحجازی)

انسائی کلوپیڈیا مدینۃ النبیؐ، تحقیق و تالیف: مولانا محمد اسحاقؒ، ڈاکٹر رانا خالد مدنی۔ ناشر: یو ایم ٹی پریس، یونی ورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹکنالوجی، C-II ، جوہر ٹائون، لاہور۔ فون: ۳۵۲۱۲۸۱۹-۰۴۲۔ صفحات: (بڑی تقطیع): ۴۶۴،رنگین تصاویر آرٹ پیپر:۱۵۰ صفحات۔ قیمت: ۳ہزار روپے۔

کبھی کبھی آپ کے ہاتھوں میں ایسی کتاب آتی ہے کہ آپ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ اس کی کتنی تعریف کریں، کس طرح کریں۔ ظاہری لحاظ سے بہترین پیش کش،جِلد، کاغذ و طباعت بے مثال اور لوازمہ دیکھنا شروع کریں تو جیسے موضوع کا ایسا حق ادا کیا گیا ہو کہ اس سے بہتر ممکن نہیں، فللّٰہ الحمد۔

انسائی کلوپیڈیا واقعی انسائی کلوپیڈیا ہے۔ مدینہ منورہ کے بارے میں کون سی بات ہے جو بہترین انداز سے اس کتاب میں موجود نہیں ہے اور پھر ۱۵۰صفحات پر تصاویر چہاررنگی اور ایسی جیسے آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں بلکہ اگر آپ مدینہ چلے جائیں تو بھی اتنا کچھ نہیں دیکھ سکتے۔

فہرست سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس شہر کی قدروبرکات اور رسولؐ اللہ کے نزدیک اس کی عظمت آیات و احادیث کے حوالے سے بیان کی گئی ہے۔

کتاب شروع ہوتے ہی مدینے کے سو (۱۰۰)ناموں کی تفصیل ۲۷صفحات میں بیان کی گئی ہے۔ پھر قرآن میں ذکر کیے جانے والے آپؐ کے نام بیان ہوئے ہیں۔ اس کے بعد قرآن اور حدیث میں بیان کیے گئے صفاتی ناموں کی تفصیل ہے۔ حدودِ حرم کے بارے میں ۱۳ اور  فضائلِ مدینہ کے بارے میں ۳۲ احادیث بیان کی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہجرت کی داستان پس منظر سے شروع ہوتی ہے اور غارِ ثور، مسجدقبا اور مدینہ میں آمد کا بیان۔ پھر مسجدنبویؐ کا ذکر ۱۵۰ صفحات تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی تعمیر کے مراحل اور ہرتفصیل تصویر کے ساتھ درج ہے۔ آخر میں روضۂ رسولؐ کی زیارت کے بارے میں ۳۴؍ احادیث کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

مدینے کی مساجد، وادیاں، مشہور پہاڑ، ڈیم اور زراعت، حتیٰ کہ مدینے کے زلزلوں کا بھی ذکر ہے۔ مارکیٹوں کے تحت ۱۲ قسم کی معروف مارکیٹوں کا ذکر ہے۔ یہاں کی لائبریریاں، مدینہ یونی ورسٹی، تعلیمی ادارے، خواتین کالج، شادی کے رسوم و رواج، حتیٰ کہ مدینہ کے شادی گھروں کے نام بھی موجود ہیں۔ آخر میں آیات و احادیث اور اشعار کا اشاریہ درج ہے۔ مراجع و مصادر بشمول ویب سائٹس کی فہرست میں ۳۷۵ اندراجات ہیں۔ کتاب کی کمپوزنگ صحت اور اجر کے نقطۂ نظر سے خالد رانا صاحب نے خود کی ہے۔ کتاب تحقیق کے اعلیٰ معیار کے مطابق ہے۔ آیات، احادیث پر اور بڑی حد تک عربی عبارات پر اعراب لگائے گئے ہیں۔

اس کتاب کا خیال سوچنے، مرتب کرنے، پیش کش کے لیے تیار کرنے، طباعت کے مراحل سے گزارنے والوں کے لیے تحسین اور دُعائیں۔ قلب و نظر کے لیے دل کش تحفہ فراہم ہوگیا ہے۔ منشورات سے رعایتی قیمت پر صرف ۲ہزار روپے میں دستیاب ہے۔

مصنف ادارہ اشاعت اسلام کے سربراہ ہیں۔ اس ادارے کی ۷۳ مطبوعات کی فہرست آخر میں درج ہے۔ اس سے ادارے کی غیرمعمولی کارکردگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مستند احادیث کا انسائی کلوپیڈیا عربی اُردو میں ۱۵۰ جلدوں میں طباعت کے لیے تیار ہے۔ جو تحقیقی ادارے کتابچے چھاپنے لگے ہیں، وہ نوٹ کریں۔(مسلم سجاد)


تجلیاتِ رسالتؐ، تفاخر محمود گوندل۔ ناشر: ماورا پبلشرز، ۶۰- شاہراہ قائداعظم، لاہور۔ فون:۴۰۲۰۹۵۵-۰۳۰۰۔ صفحات: ۴۱۳۔ قیمت: ۸۰۰ روپے

سیرتِ سرور کونینؐ ہر زمانے، علاقے اور زبان میں لکھی گئی اور لکھنے والوں نے اپنی محبت و عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔ حضور ختمی مرتبتؐ کے ساتھ ایک مسلمان کا رشتہ و تعلق ایمان و عقیدے، اتباع و اطاعت کا ہے۔ اس رشتے کو نبھانے میں وہ ساری زندگی لگادے تب بھی اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ تجلیاتِ رسالتؐ کے نام سے پروفیسر تفاخر محمود گوندل نے عقیدت و محبت کے پھول ایک نئے، اچھوتے اور نرالے انداز میں نچھاور کرنے کے لیے مروجہ طریق سے ہٹ کر نئی طرح ڈالی کی ہے۔ زبان و قلم کی جولانیاں اپنے بانکپن اور عروج پر نظر آتی ہیں۔ انھوں نے ۶۰عنوانات کے تحت ایسے قیمتی موتی اور جواہر جمع کر دیے ہیں۔ ہرعنوان کسی شعر سے ماخوذ ہے اور خوب ہے۔ کتاب کی زبان کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی دل و دماغ کو معطر اور آنکھوں کو نم کردینے والی ہے۔ الفاظ کا چنائو، زبان و بیان کی شیرینی ادبی خوشہ چینی سے معمور اور رنگ لیے ہوئے ہے۔ سیرت کے معتبر، ثقہ اور معروف واقعات کو کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے لیکن لکھنے والے نے تحقیقی انداز اختیار کرنے کے بجاے ایسا انداز اختیار کیا ہے جو قاری کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور ایک عنوان کا لوازمہ ختم کر کے دوسرے عنوان کو شروع کرنے کو جی چاہتا ہے۔ گل دستۂ سیرت میں سجنے والا یہ پھول نہایت عمدہ اور دیدہ زیب ہے جو تفاخر کا تفاخر ہے۔

کتاب کا لوازمہ عمدہ، زبان نہایت خوب صورت ، جملے مرصّع مسجّع، طباعت معیاری، عمدہ کاغذ، سرورق اور نام دونوں پُرکشش اور دیدہ زیب۔سرورِ کونینؐ کے عشق و محبت کے رنگ کو چوکھا کرنے اور دل و دماغ میں بسا لینے پر آمادہ کرنے والی ایک خوب صورت کتاب جسے پڑھ کر حضوؐر کے ’اسوئہ حسنہ‘ سے وابستگی کروٹیں لیتی ہے۔(عمران ظہور غازی)


ارکانِ اسلام، پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی۔ ناشر: نیشنل بک فائونڈیشن، ۴/۸-G، اسلام آباد۔ فون: ۲۲۵۵۵۷۲-۰۵۱۔صفحات [بڑی تقطیع]:۲۲۸۔ قیمت: ۲۲۰ روپے

حدیثِ رسولؐ میں پانچ چیزوں کو عمارتِ اسلام کی بنیادیں قرار دیا گیا ہے۔ یہ بنیادیں دینی اَدب میں ارکانِ اسلام کے نام سے معروف ہیں۔ ہر عہد کے علماے دین نے ان ارکان کی تشریحات قلم بند کی ہیں۔ سیّد ابوالاعلیٰ مودویؒ نے پٹھان کوٹ میں دیے گئے اپنے خطبات میں ان پر بہت مؤثر گفتگو کی ہے۔

زیرنظر کتاب ارکانِ اسلام کا مقصد یہ تھا کہ خالص تحقیقی اور علمی انداز سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بالکل عام فہم سادہ زبان اور اُسلوب میں توحید، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے بارے میں آگاہی دی جائے۔ پانچ ارکان کو پانچ ابواب میں بیان کیا گیا ہے۔ ۲۳۰ صفحات کی کتاب کا نصف نماز کے مسائل سے متعلق ہے اور دوسرا نصف توحید، روزہ، حج، زکوٰۃ پر مختصر روشنی ڈالتا ہے۔ ’نماز‘ کے عنوان کے تحت آٹھ فصلوں میں نمازی کے لیے ضروری ہدایات، جماعت کے بارے میں ضروری ہدایات، نماز کی اہمیت، نماز پڑھنے کا طریقہ، نمازِ جمعہ کے بارے میں ضروری باتیں، دونوں عیدوں کی نماز کے بارے میں ضروری باتیں، جنازہ کی نماز اور جنازہ کے مسائل پر بہت تفصیل سے رہنمائی دی گئی ہے۔ (ارشاد الرحمٰن)


دعوت الی اللہ ، اہمیت ، امکانات و وسائل، خاص نمبر ماہنامہ راہِ اعتدال، مدیر: حبیب الرحمن اعظمی عمری۔ ناشر: جمعیت ابناے قدیم، جامعہ دارالسلام، عمرآباد- ۶۳۵۸۰۸، جنوبی ہند۔ صفحات: ۲۱۸، قیمت: ۷۰ روپے بھارتی۔ سالانہ زرتعاون: ۲۰۰ روپے بھارتی، فی شمارہ: ۲۰ روپے۔

افتتاحی اور اختتامی نشست کے علاوہ، موضوع کے مختلف پہلوئوں پر ۱۴، ۱۵، ۱۶ نومبر ۲۰۱۵ء کو منعقدہونے والی سات نشستوں کے سیمی نار کے مقالات پر مشتمل ہے۔ ہر نشست میں کلیدی خطاب کے بعد چار مقالات پیش کیے گئے۔ سات موضوعات ہیں: ۱-مزاجِ دعوت اور اُمت مسلمہ ۲- دعوتِ دین اور عربی مدارس ۳-دعوت کے امکانات اور وسائل ۴-دعوت کا ملکی منظرنامہ ۵- دعوت و اصلاح میں توازن ۶- دعوت کے لیے عملی تیاری ۷-نومسلموں کے مسائل۔

خطاب کرنے والے بیش تر ہمارے پاکستانی قارئین کے لیے اجنبی نام ہیں، تاہم مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مسعود عالم قاسمی، ڈاکٹر محمد منظور عالم، محمد سفیان قاسمی، حذیفہ دستانوی،   خلیل الرحمن سجاد نعمانی، ایچ عبدالرقیب، محمد اقبال مُلّا معروف ہیں۔ بعض موضوعات کی نشان دہی کر رہا ہوں، تفصیل کا تبصرہ متحمل نہیں ہوسکتا۔ دعوت کے لیے علاقائی زبان کی اہمیت، دعوت سے غفلت کے اسباب و نتائج، موجودہ دور میں دعوتِ دین کے امکانات، میدانِ دعوت اور حالات کے تقاضے، دعوتِ دین کے لیے افراد سازی، دعوتِ دین کے عملی تقاضے، نومسلموں کی تعلیم و تربیت___ مقالات عموماً مختصر ہیں۔ غالباً مکمل نقل نہیں کیے گئے ہیں۔ ۲۱۸صفحات میں ۵۰ مقالات! سب سے جامع خطاب افتتاحی نشست میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا ۲۰ صفحات پر مشتمل ہے۔

بہت کارگر عملی تدابیر تجویز ہوئی ہیں۔ بہت دل چسپ دعوتی تجربات کا ذکر آیا ہے، مثلاً ’محمدؐ: امن کی تعلیمات‘ پر مضمون نویسی کا مقابلہ کروایا۔ یہ صرف غیرمسلموں کے لیے تھا۔ کالج کی ایک لڑکی اوّل آئی۔ اس نے انعام لینے سے انکار کر دیا کہ یہ غیرمسلموں کے لیے ہے لیکن آج میں الحمدللہ مشرف بہ اسلام ہوں۔ مقابلے میں شریک ہوکر، اسلام کی دولت مل گئی۔ اس سے بڑا انعام کیا ہوسکتا ہے (ص۶۹)۔ ایک مسئلہ سامنے آیا ہے جو ہمارے ناشرین کے لیے بھی قابلِ غور ہے۔ بہت ساری ویب سائٹس معمولی قیمت پر یا مفت کتابیں فراہم کرتی ہیں۔ Newshunt.com کے ذمہ دار نے مضمون نگار کو بتایا کہ سب سے زیادہ مانگ ترجمۂ قرآن اور اسلامی لٹریچر کی ہے۔ اگر انھیں کاپی رائٹ کی قید سے آزاد کر دیا جائے تو اشاعت لاکھوں میں ہوسکتی ہے۔ عیسائی مشنری ادارے سب کچھ بلامعاوضہ فراہم کرتے ہیں لیکن ہمارے ناشرین ہزار دو ہزار چھاپ کر خوش ہوجاتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ دعوتی مقاصد کی خاطر ’جملہ بحق حقوق ناشر‘ کے خول سے باہر نکلا جائے۔ (ص۱۲۵)

آخری بات، ایک تاثر، کاش کوئی پاکستانی اسلامی تحقیقی ادارہ، کوئی تھنک ٹینک، کوئی رسالہ، کوئی دینی تحریک اس نوعیت کا سیمی نار پاکستانی تناظر میں کروائے۔ میدانِ دعوت کے کارکن اور قائد بہت کچھ اس نمبر سے بھی حاصل کر کے اپنی جدوجہد کو مفید اور نتیجہ خیز بناسکتے ہیں۔(مسلم سجاد)


تیرے نام، تیری پہچان، تالیف: ساجدہ ناہید، بشریٰ تسنیم۔ ناشر: مسلم پبلی کیشنز، ۲۵-ہادیہ حلیمہ سنٹر،غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۱۰۰۲۲۔صفحات:۵۵۲۔ قیمت: درج نہیں۔

خالق کائنات ہی سبھی محبتوں کا مرکز ہے اور اسی کو زیبا ہے کہ وہ تمام عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز بنے۔ اسی نے ہمیں تخلیق کیا، وہی پالنے والا ہے اور اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔

زیرنظر کتاب اسی ابدی محبت کو الفاظ کے پیرایے میں بیان کرنے کی ایک منفرد اور کامیاب کوشش ہے، جسے دو خواتین نے بڑی ذمہ داری، احتیاط اور محنت سے قلم بند کیا ہے۔ اگرچہ اس کتاب کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے اسماء الاحسنیٰ ہیں، مگر ان اسماے پاک کی تفہیم و تشریح، دعوت اِنذار اور محبت و شیفتگی کا انداز بالکل نیا، جدا اور انوکھا ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے فرد اسماء الاحسنیٰ کی لاکھوں پرتوں میں سے چند پرتوں کی جھلک دیکھتا اور بے اختیار سجدے میں گر جاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اسلوب نہ افسانوی ہے اور نہ ڈرامائی، بلکہ اس طرزِ بیان کا استشہاد براہِ راست قرآن و سنت اور حدیث پاک سے کیا گیا ہے۔

کتاب کی ترتیب و تدوین میں تو داخلی حسن ہے ہی، مگر ناشر نے بھی اشاعت کی پیش کش میں حُسنِ نظر کا سامان مہیا کردیا ہے۔ یقینا یہ کتاب تعلیم و تربیت کا ایک ماخذ ہے۔ (سلیم منصور خالد)


تعارف کتب

o  القرآن: بحیثیت اسکول نصابی کتاب ، (حصہ دوم)، مرتب: پروفیسر ڈاکٹر محمداسحاق منصوری۔    ناشر: اسلامی نظامت ِ تعلیم پاکستان، منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ فون: ۳۵۲۵۲۳۹۱-۰۴۲۔ صفحات:۲۳۶۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔[بقول مرتب: ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے مروجہ تعلیمی اداروں میں قرآن اسکول نصابی کتاب کی حیثیت سے پڑھایا جائے۔ چھٹی تا دسویں جماعت کے طلبہ و طالبات کو مکمل قرآن مجید کا ترجمہ، ہررکوع کے بعد چند آسان سوالوں کے جواب کے ساتھ پڑھایا جائے‘‘۔ یہ کتاب اسی ضرورت کے پیش نظر مرتب کی گئی ہے۔ ساتویں جماعت کے لیے سورئہ مریم تا سورئہ جِنّ کا نصاب مرتب کیا گیا ہے اور ہر رکوع کے آخر میں سوالات اور معروضی مشقیں دی گئی ہیں، تاکہ آیاتِ قرآنی کے اہم مضامین ذہن نشین ہوجائیں۔ سرکاری اور نجی اداروں کو طلبہ و طالبات کی تعلیم و تربیت اور قرآن فہمی کے لیے اس اہم علمی خدمت سے استفادہ کرنا چاہیے ۔]

o  اقبال کے مکالمات اور اقوالِ زریں ، تحسین ادیب۔ناشر: راحیل پبلی کیشنز، توکل اکیڈمی، ۳۱-نوشین سنٹر، نیواُردو بازار ، کراچی۔ صفحات:۱۶۷۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔[’اقبال کے مکالمات‘ میں اقبال کی ۲۷منتخب نظموں کے مطالب نثر میں۔ ’اقوالِ زریں‘ کے تحت ۵۶موضوعات (خدا، انسان، تحریر و تقریر، عقل، نگاہ و دل، حُسن، عشق، مرض، آفتاب، خودی، نماز، سینما وغیرہ) پر اقبال نے جو کچھ شاعری میں کہا، اس (ایک شعر یا ایک مصرع) کی نثران ایک ایک جملوں کو اقبال کے ’اقوال‘ کے طور پر پیش کیا ہے، مگر یہ اقبال کے اقوال نہیں ہیں۔ خیال اقبال کا ہے اور الفاظ مؤلف کے۔]


 

عمران ظہور غازی ، لاہور

پروفیسر خورشید احمد کی تحریر ’بنگلہ دیش کی سیاست اور مطیع الرحمن نظامی کی شہادت‘ (جون ۲۰۱۶ئ) اپنے موضوع پر منفرد ہے۔ مولانا مطیع الرحمن نظامی کی شخصیت، دین کے لیے ان کی خدمات اور پھر اس راہ میں جان کی قربانی، نیز ان کے اہلِ خانہ کا صبرواستقامت__ عزیمت کی داستان ہے، جو اہلِ ایمان کے لیے ولولہ تازہ لیے ہوئے ہے۔ اس سے قبل انھوں نے ایم کیو ایم اور پانامہ لیکس پر بھی سیرحاصل تجزیہ کیا۔اسلامی نظریۂ حیات پر تبصرہ تشنہ محسوس ہوا۔


حاجی انور اللّٰہ ، مدین، سوات

’بنگلہ دیش کی سیاست اور مطیع الرحمن نظامی کی شہادت‘ (جون ۲۰۱۶ئ) میں پروفیسر خورشید احمد صاحب نے ایک طرف ظالم حکمرانوں اور نام نہاد عدالتوں کا کردار بے نقاب کیا ہے تو دوسری طرف مطیع الرحمن نظامی مرحو م و مغفور کی پوری زندگی اور اُن کے اہل و عیال کے صبرواستقامت کی تصویر کشی کی ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رفقا نے عصرحاضر میں عزیمت کی تاریخ کو تازہ کر دیا۔


عبداللّٰہ ، پتوکی

’رسائل و مسائل‘ کے تحت ’خاوند کا ناروا سلوک اور حقوق‘ (جون ۲۰۱۶ئ) میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک پر متوازن رہنمائی دی گئی ہے۔ ایک طرف خاندان کے تحفظ کے پیش نظر مرد کی قوامیت کی بناپر برتری کی توجیہہ کی گئی ہے اور دوسری طرف اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ نام نہاد مردانگی کے نام پر دھونس اور چودھراہٹ اسلام کی تعلیم کا حصہ نہیں ہے۔ اسلام میں فضیلت اس خاوند کے لیے ہے جو خدا سے ڈر کر معاملات کرتا ہو۔ ہمارے معاشرے میں مردوں کا اپنی بیویوں سے ناروا سلوک دراصل اسلام کی تعلیمات سے غفلت کی بناپر ہے۔ اس غفلت کو دُور کرنے کی ضرورت ہے۔ ذرائع ابلاغ خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔  ایک دوسرے سوال کے جواب میں حضرت ابوسفیانؓ کی بیوی کا نام ’ہندہ‘ لکھا گیا ہے، جب کہ درست نام ’ہند‘ ہے۔


ڈاکٹر فضل عظیم ، بونیر

’حقوقِ نسواں اور چند معاشرتی حقائق‘ (مئی ۲۰۱۶ئ) ڈاکٹر انیس احمد کی اپنے موضوع پر جامع تحریر ہے۔ مضمون کا خلاصہ یہ فقرہ ہے: ’’شریعت کا دائرہ نہ قیدوبند پر مبنی ہے نہ مادر پدر آزادی پر۔ یہ وہ حدود ہیں جو معروف پر مبنی ہیں۔ یہ معروف وہ ہے جو خالق کائنات نے خود متعین کیا ہے‘‘۔