اُمت مسلمہ کے المیے سے نجات کے لیے پہلی ضرورت ایسے نوجوان تیار کرنے کی ہے، جو قرآن عظیم، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسلک ہوںاور ہم عصر علوم پر بھی دسترس رکھتے ہوں، نیز اہل مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت و قابلیت رکھتے ہوں۔ اگر ہم نے ایسے نوجوان پیدا نہیں کیے تو ایک لاکھ حفاظ اور قاری بنالینے سے وہ قوت پیدا نہیں ہوگی جو مطلوب ہے۔
دُنیا میں کمیونٹیز کلب بنائےجاتے ہیں۔ یہودیوں نے ایجوکیشنل کلب بنایا ہے جس کا یہ کام ہے کہ پوری یہودی دُنیا سے دس ایسے نوجوانوں کا انتخاب کیا جائے، جو ذہین ترین بچّے ہوں اور پھر پوری یہودی کمیونٹی ان کی تعلیم پر خرچ کی ذمہ دار ہے۔ جب یہ دس نوجوان آگے بڑھتے ہیں تو ان میں سے کوئی ایٹم بم بنانے والا نکلتا ہے اور کوئی ان میں سے چاندکی تسخیر کرنے والا نکلتا ہے۔ وہ کمیونٹی اپنے بچوں کو اس طرح تیار کرتی ہے کہ ’’یہی ہمارا مستقبل ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی ماہرِفن بن گیا تو پوری دُنیا پر حکومت کرے گا‘‘۔
کیا کبھی ہم نے اپنے معاشرے میں ذہین ترین مسلمان بچوں کی تعلیم کے بارے میں کچھ سوچا ہے؟ کیا ہم نے اجتماعی طور پر یہ ذمہ داری قبول کی ہے؟آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ علم ان کو دیا جن کا آپؐ سے دُور پرے تک کوئی رشتہ ناتا نہ تھا۔ مسجد نبویؐ میں صفہ کا چبوترہ قائم کیاگیا تو وہاں کون پڑھ رہے ہیں؟ سلمان فارسیؓ، بلال حبشیؓ اور صہیب رومیؓ وہاں پڑھ رہے ہیں۔ گویا وہ لوگ وہاں پڑھ رہے تھے، جن کا آپؐ سے کوئی خون، برادری، قبیلے کا رشتہ ناتا نہ تھا، جو مفلوک الحال تھے، جو اسلام لانے سے پہلے یہودیوں کے کھیتوں میں مزدوری کرتے تھے، مگر علم سب سے زیادہ ان کے حصے میں آیا۔ اس لیے کہ اجتماعی نظام ان کی تعلیم و تربیت کے لیے سرپرستی کر رہا تھا۔
آج میری اور آپ کی سوچ تعلیم کے سلسلے میں گھر کی ڈیوڑھی پہ آکر رُک جاتی ہے۔ مجھے اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجینیربناناہے۔ یہ میرے مقاصد ہیں، اس کے لیے میں دن رات ایک کردیتا ہوں کہ میرا بچہ ڈاکٹر یا انجینیر بن جائے۔ لیکن جو بچہ میرے اور آپ کے پڑوس میں ہے اور جو آپ کے بچّے سے زیادہ ذہین ہے، اس کی تعلیم کی کوئی ذمہ داری ہم نے اپنے سر نہیں لی ہوئی ہے۔ اس کے لیے اس کا باپ جانے یا اس کی ماں جانے۔ اگر اس کے باپ کے پاس تعلیم کے لیے پیسے نہیں ہیں تو یہ ہمارے مسلم معاشرے کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کومٹ جانا یا برباد ہوجانا چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ اس ذمہ داری کے لیے میں اور آپ کیا تعاون کرتے ہیں؟ ہم نے کتنے بچوں کی تعلیم کے لیے کبھی سوچا یا غور کیا ہے؟
ہماری اتنی محدود سوچ ہے کہ میرا بچہ وہ ہے جو میرے گھر میں پیدا ہوا ہے۔ یہ جو میرے پڑوس میں رہتا ہے، یہ میرا بچہ نہیں ہے۔ اگر میرے پاس دولت ہے تو میرا بچہ کسی اعلیٰ اسکول یا گرامر اسکول میں جائے گا۔ اگر پڑوس میں کوئی ڈرائیور رہتا ہے اور اس کا بچہ ذہین ترین بچہ ہے، تو اس کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ وہ بوٹ پالش کرے گا یا گاڑیوں وغیرہ کی صفائی کرے گا۔ اس لیے کہ وہ اُمت کا بچہ نہیں ہے۔ یہ تو ڈرائیور کا بچّہ ہے، وہ جانے اور اس کا کام۔
ہم ان قوموں کا کس طرح مقابلہ کرسکتے ہیں جو پورے قومی وسائل خرچ کرکے ایک ایک بچّے کو اعلیٰ ترین سطح تک تعلیم دلواتے ہیں؟ یہی نظام ہمارے ہاں اسماعیلیوں اور بوہریوں کے اندر چل رہا ہے۔ یہ جو چھوٹی چھوٹی کمیونیٹیز ہیں، یہ سال میں دس دس بچوں کا انتخاب کرتی ہیں اور انھیں آگے لے جارہی ہیں، اور جو ہمارے ہاں بھیڑ ہے، اس کی بنیاد پر ہم انگلیوں پر صرف تعداد گنتے رہتے ہیں کہ ہم ۹۰ فی صد ہیں یا ۱۰ فی صد ہیں۔ شام میں ۳ فی صد، دروزی ۹۷ فی صد آبادی پر حکومت کر رہے ہیں۔ وہ ۹۷ فی صد ریت کا ڈھیر ہیں یا ریت کے ذرّات کی مانند ہیں۔ وہ کیوں حکومت کر رہے ہیں؟اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اس لیے بہترین چیز جو آپ اُمت کو دے سکتے ہیں، وہ اُمت کے ذہین ترین بچوں کی تعلیم کی ضمانت ہے، براہِ کرم انھیں تعلیم کی اعلیٰ سطح پر لے جایئے۔ اگر ان میں سے ایک بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نکل آیا تو وہ ملک کو کہاں لے جاسکتا ہے۔ وہ ایٹمی پروگرام کے ساتھ سامنے آیا، اور ساری دُنیا اس کو تلاش کرتی رہی کہ اس کو اغوا کیسے کیا جائے؟ اس کو گولی کیسے ماری جائے اور اس کو کہاں سے اُٹھایا جائے؟ کبھی فرانسیسی سفیر اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا، اور کبھی کوئی دوسرا جاسوس۔ ان کی یہ کوشش رہی کہ کسی طرح اس اُمت سے یہ ایک ڈاکٹر عبدالقدیر چھین لیا جائے۔ اگر یہ اُمت دس عبدالقدیر خان پیدا کردے تو پھر اندازہ کیجیے اس کی قوت کا!
ہم دینی تعلیم میں تخصص اور کمال (ایکسی لینس) کی نفی نہیں کر رہے۔ہم نے دین اور دُنیا میں اپنے نظامِ تعلیم کو تقسیم کردیا ہے۔ ہمیں تو دس نہیں پچاس عبدالقدیر خان کی ضرورت ہے۔جب تک یہ لوگ میسر نہیں آئیں گے، ہم ایک قوت نہیں بن سکتے۔ پھر یہ وہ لوگ ہیں جو دین کا شعور بھی رکھتے ہوں اور تربیت بھی اور ملک و ملّت کا درد بھی رکھتے ہوں۔ روحانی اور مادی وسائل کی یکجائی کے بعد ہی ہمیں سربلندی حاصل ہوسکتی ہے۔
یہ کس قدر بدبختی اور بدنصیبی کی بات ہے کہ ہم ایک دن میں ۲۰۰ روپے کی آئس کریم کھاجاتے ہیں، ۱۰۰ روپے کے سگریٹ پی جاتی ہیں لیکن اگر کسی چیز پر ہم رقم صرف نہیں کرتے تو وہ قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کا مسئلہ ہے جس پر ہم رقم صرف نہیں کرتے۔ ہمیں کتاب مہنگی نظر آتی ہے، رسالے مہنگے نظر آتے ہیں، اخبار کا بل بہت بھاری دکھائی دیتا ہے، جب کہ وہیں بیٹھے بیٹھے ایک ہی محفل کے اندر کتنے ہی روپے کی کولڈ ڈرنک پی جاتے ہیں اور یہ سارے پیسے یہودیوں کی جیب میں ڈال دیتے ہیں اور ہم کو اس کا کوئی صدمہ نہیں ہوتا۔ صدمہ صرف علم کے نام پر خرچ ہونے والی رقم کا ہوتا ہے۔
یہ زوالِ علم ہے جو ہماری بربادی کا سبب ہے۔ جب علم کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس ’علم‘ میں دینی علوم اور ہم عصر علوم، سب کے سب شامل ہیں۔ علم ان دونوں پر محیط ہے۔ خدا کرے کہ یہ شعور عام ہو اور اُمت مسلمہ سربلند ہو۔
یہ جو آپ محلات کے محلات بناتے چلے جارہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے مدائن صالح کے محلات کی طرف جو اشارہ کیا ہے، مجھے تو یہ وہی نقشہ نظر آتا ہے۔ یہ محلات آپ کی قوت نہیں بلکہ آپ کی کمزوریاں ہیں۔ جب آپ ایک عالیشان عمارت بنا لیتے ہیں تو وہ آپ کو قوت بہم نہیں پہنچاتی بلکہ وہ آپ کو کمزور کردیتی ہے۔ یہ خوف محسوس ہوتا ہے کہ اگر جنگ چھڑگئی اور ایک گولہ بھی اسے آکر لگ گیا تو یہ عالیشان عمارت ملبے کا ڈھیر ثابت ہوگی اور برباد ہوجائے گی۔ یہ عمارات اور یہ سارا سازوسامان قوموں کے زوال کی علامت ہے، ان کی ترقی کی علامت نہیں۔
مثال کے طور پر اگر آپ پیدل چل رہے ہوں اور آپ کے کندھے پر ایک چھوٹا سا تھیلا رکھ دیا جائے تو آپ کی رفتار اگر پانچ کلومیٹر ہوگی توو ہ ڈھائی کلومیٹر فی گھنٹہ رہ جائےگی۔ اگر آپ کے ہاتھ میں دو تھیلے تھما دیئے جائیں تو آپ کی رفتار اور بھی کم رہ جائے گی۔ اسی طرح جب کسی قوم پر تمدن کا بوجھ بڑھتا ہے، تو اس میں ٹھیرائو آجاتا ہے۔ وہ سمٹنے لگتی ہے، غالیچے بچھنے لگتے ہیں اور بالآخر قومیں ختم ہوجاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیں بدویت اور سادگی مگر وقار کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔
ترقی کیا ہے؟ ہم نے اتنی عمارتیں بنالی ہیں، پچھلے سال اتنی تھیں___ عمارتیں، کاریں، فریج یا ٹیلی ویژن وغیرہ یہ کوئی قوت نہیں ہیں۔ یہ سب زوال کے اسباب ہیں۔ اگر آپ کے ملک میں چپل تیار کرنے والا کارخانہ لگ جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ترقی ہے۔ اگر ایک سوئی بنانے والا کارخانہ لگ گیایا پلاسٹک کا کھلونا بنانے والا کارخانہ لگ گیا تو یہ ترقی ہے۔لیکن اگر صنعتی پیداوار اور سائنسی ترقی نہیں ہے اور دُنیا بھر کے کھلونے آجائیں یا کاریں آجائیں تو یہ قوت نہیں کمزوری ہے۔ طاقت جس چیز کا نام ہے وہ ان عمارتوں میں ہے، نہ سازوسامان میں بلکہ اخلاقی قوت کی معراج اور مادی پیداوار میں عادلانہ، منصفانہ اور انسانیت دوست ترقی کو بڑھانے میں ہے۔ خدا کرے کہ ہم بحیثیت اُمت اس ذمہ داری کو پورا کرسکیں۔
اس وقت ہم ڈکیتی، لُوٹ مار ، جعل سازی، دھوکا دہی اور ٹیکس چوری وغیرہ کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بدنصیبی دیکھیے کہ جب امریکا سے بہت زیادہ ناراض ہوئے تو کہتے رہے کہ اس سے رسّہ تڑوائو، یہ ہمارا استحصال کررہا ہے اور روس کی طرف چلنے لگے۔ جب روس کے کمبل نے بہت زیادہ پریشان کیا تو اُسے اُتارنے کی کوشش میں امریکا کی طرف چلے گئے۔ مصر کا المیہ کیا ہے؟ ناصر کے دور میں ماسکو کے ساتھ ایک طویل عرصہ گزرا، لیکن جب سادات آئے تو کہا کہ ہم تو مارے گئے، برباد ہوگئے اور ہمارا ملک بھی چلا گیا۔بڑا زور لگایا لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ امریکا میں سجدئہ سہو ہوا اور کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہوگیا۔ مراد یہ ہے کہ ایک لعنت سے بچتے ہیں تو دوسری لعنت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں پر انحصار کے نشے میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ ہم کسی کے سہارے کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ جب تک ہم ان بیساکھیوں کو ترک نہیں کریں گے، ہم اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ سوال پیدا ہوگا کہ گاڑی اور پٹرول کہاں سے آئے گا؟ دشمن ملک سے لڑنے کے لیے اسلحہ کہاں سے آئے گا؟اپنی حفاظت کے لیے سازوسامان کہاں سے مہیا ہوگا؟ موجودہ صورتِ حال میں بہرحال ہمیں بھکاری ہی بن کر رہنا پڑے گا۔ کشکول لیے کبھی ایک کے دروازے پر اور کبھی دوسرے کے دروازے پر۔ جب تک یہ کشکول نہیں چھوٹے گا اور جب تک ہمارے ہاتھوں میں یہ قوت پیدا نہیں ہوگی کہ ہم ان چیزوں کو خود تیار کرسکیں جو ہم دُنیا سے مانگتے ہیں۔ اُس وقت تک ہمارے پاس قوت نہیں آئے گی اور عزّت کے ساتھ زندہ رہنے کا طریقہ سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے دینی ذوق اور فہم میں ترقی کے ساتھ جدید تعلیمی میدان میں شان دار پیش رفت ضروری ہے، جس کے لیے ہمارے معاشرے کو آگے بڑھ کر سرپرستی کرنا ہوگی۔
انسانوں کی شناخت، اجتماعیت پسند مخلوق کے طورپر کی جاتی ہے۔ وہ سماجی تعلقات کو قائم رکھتے ہوئے معاشروں کی صورت میں پروان چڑھتے ہیں۔ جوچیز انھیں دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے، وہ اخلاقی بنیادوں پر صحیح اور غلط کے درمیان تمیزکرنے کی صلاحیت ہے۔ انسان میں یہ اخلاقی صفت اس لیے ودیعت کی گئی ہے تاکہ اس میں کردار سازی کا عمل بتدریج نشوونماپاکر راسخ ہوجائے۔ جس سے ایک معاشرے کا قیام ممکن بنایا جاسکے، جہاں وہ مل جل کر رہ سکیں اور ترقی کرسکیں۔ لوگوں میں اس آگہی اور کردار سازی کا مقصد صرف انسان کی تشکیل نہیں ہے بلکہ انھیں گراں قدر کردار کا حامل بنانا بھی ہے۔ عصرِحاضر میں ’قابلِ قدر‘ (valuable)کی اصطلاح سے مراد عموماً مادی افادیت لی جاتی ہے۔ وہ تعلیمی ادارے جہاں ہم تعلیم پاتے ہیں، وہ یونی ورسٹیاں جہاں ہم تحصیلِ علم کرتے ہیں اور جو قابلیت حاصل کرتے ہیں، وہ ہمیں مالی وسائل اور مادی فوائد کے حصول کے ساتھ ساتھ اس دُنیا میں اپنے وجود کی بقا کے لیے صلاحیتوں سے آراستہ کرتے ہیں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم بنیادی طور پر مادیت پرستی کے مقاصد کے حصول کے ایک ذریعے میں تبدیل ہوگئی ہے، جس نے کردار سازی کے اپنے بنیادی مقصد کو دُنیوی مفادات کے حصول کی بے رحم جدوجہد میں پس پشت ڈال دیا ہے۔ معاشروں کے ارتقائی سفر کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ ان کا آغاز نامعلوم غیریقینی صورت حال اور خطرات سے بچنے کی خواہش سے ہوا تھا۔ جانوروں سے لاحق خطرات اور غیرمتوقع قدرتی آفات نے انسانوں کو معاشروں کی تشکیل پر مجبور کیا۔ اس کے برعکس، عصری منظرنامے سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے آباواجداد جن خطرات سے دوچار تھے وہ ختم ہوچکے ہیں، لیکن سب سے زیادہ اذیت ناک منظرنامہ یہ ہے کہ موجودہ دور کے انسان اپنے ساتھی انسانوں کے لیے اہم خطرہ بن چکے ہیں۔
عصری معاشروں میں بُرائیوں کی بھرمار ہے، اور قومیں غیراخلاقی تنازعات میںا ُلجھی ہوئی ہیں۔ ایک دوسرے کا خوف سماجی تعلقات میں بڑی گہرائی تک سرایت کرگیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ا نسانی ارتقا کی تاریخ میں کیا انحراف ہوگیا ہے؟ ہم جس طرح سے افراد کی تشکیل کرتے ہیں، اس مشق میں پوشیدہ اور پائی جانے والی خامی واضح طور پر عیاں ہے۔ جس کا تشویش ناک پہلو یہ ہےکہ ہمارا تعلیمی نظام جو ہماری نسلوں کو ڈھالتا ہے اور جو نتائج برآمد کرتا ہے بڑی بے بسی سے اس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ بات بڑے دُکھ کے ساتھ کہنا پڑتی ہے اور اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ تعلیمی ڈھانچہ افراد کے کردار کو مستحکم کرنے میں بُری طرح ناکام ہوا ہے، جس کے فطری نتیجے میں سماجی انتشار اور باہمی اختلافات نے جنم لیا ہے۔ تعلیم باہمی احترام کے لیے رہنمائی کرتی ہے۔ یہ محض روزگار کے تحفظ کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ روشن خیالی کے سرچشمے کی خدمت بھی انجام دیتی ہے۔ تعلیم سے پیدا ہونے والی اخلاقی، صبروتحمل اور برداشت کی قوت ایسی ہونی چاہیے کہ افراد اخلاقی اصولوں پر پوری ثابت قدمی سے جمے رہیں، یہاں تک کہ قانون کی خلاف ورزی کے نتائج سے بچنے کے واضح امکانات بھی موجود ہوں۔
اگر ہماراتعلیمی نظام اپنے اصل مقصد پر قائم رہتا تو شاید ہم ایک پُرسکون معاشرہ تشکیل دے پاتے۔ وسیع پیمانے پر پائی جانے والی معاشرتی خرابیاں اور بدعنوانی ایک روایتی عمل اور معمول بن چکا ہے۔ مگر اس میں بھی جو چیز پریشان کن ہے، وہ وسیع پیمانے پر پایا جانے والا ایسا تصور ہے کہ سماجی تعلقات میں باہمی انحصار تو بہت کم ہے، مگر اس کے باوجود یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہرفرد کردار کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھے۔ یہ تضاد واقعی حیران کن ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہم بدقسمتی سے ایسے واقعات دیکھتے ہیں جہاں خواتین اور بچوں کو شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے بہت سے واقعات کو میڈیا پر بڑے پیمانے پر پیش کیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود ظالموں کو ان کے بااثر حلقوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے خلاف جنسی زیادتی، بچوں کے ساتھ بدسلوکی، یا بے گناہ افراد کا بلاجواز قتل اور وسیع پیمانے پر ملاوٹ و جعل سازی اور تعمیراتی منصوبوں میں ناقص میٹریل کا استعمال جیسے واقعات کا ارتکاب دراصل سماجی حلقوں میں طاقت ور مجرموں کے اثرورسوخ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان مجرموں کو جو ہمارے درمیان رہتے ہیں، مثالی سزائیں نہیں دی جاتی ہیں، جس سے فائدہ اُٹھاکر وہ وحشیانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پھر اس سے بھی زیادہ پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ ایسے غیرانسانی رویے کے مرتکب لوگ بغیرکسی شرم کے، بڑی آن بان سے زندگی گزارتے ہیں۔ کیا ہم واقعی ایک پڑھے لکھے معاشرے میں رہ رہے ہیں؟ کیا تعلیم اس نوعیت کے افراد کو معصوم شہریوں کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنے کی اجازت دیتی ہے، جو ایک دن ان کے جرائم کا شکار ہوسکتے ہیں؟ دوسری طرف، ریاست کے لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ وہ تن دہی سے عوام کی خدمت کررہے ہیں، اس کے باوجود عوام نے سماجی اور سیاسی معیارات میں انحطاط دیکھا ہے۔ اگر قیادت کے نزدیک واقعی سب کچھ ٹھیک ہے، تو پھر ہم اُن کے دعوئوں اور وعدوں کے مطابق سہولیات کی فراہمی میں ناکامی کا مشاہدہ کیوں کرتے ہیں؟
بلاشبہہ، تعلیمی نظام افراد کو مؤثر رہنما بنانے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں قیادت کا خلا پیدا ہوا ہے۔ اگر نوجوانوں کی خواہشات کا جائزہ لیں، تو آپ کو بے پناہ دولت اور بے مثال شہرت کی مشترکہ خواہش ملے گی۔ کیا تعلیم کا وجود صرف ایسے افراد کی آبیاری کے لیے ہے، جو دولت اور شہرت کے حصول کو ترجیح دیتے ہیں؟ اس سے بھی زیادہ دل شکنی کی بات یہ ہے کہ بقائے باہمی، سب کے لیے انصاف، متنوع نقطۂ نظر کا احترام اور صحیح کی تعریف کرتے ہوئے غلط کام کی مذمت کرنے کی اخلاقی قوت جیسی خوبیوں کا موجودہ دور سے کوئی تعلق نہیں نظر آتا ہے۔
سماجی ترقی اور خوش حالی کے فروغ کے لیے کردار سازی پر مبنی تعلیم کو ترجیح اوّل قرار دینا ناگزیر ہے۔ یہ بات کوئی آئیڈیل ازم کی اپیل نہیں ہے۔ ایسے افراد کو پروان چڑھانا اور ان کی شخصیت کی تعمیر کرنا مکمل طور پر ممکن ہے، جن کی اعلیٰ اخلاقی اقدار انھیں معاشرے کا مثالی رکن بناتی ہیں۔ ایمان داری کو حصولِ تعلیم میں بنیادی قدم کے طور پر اُبھارنا چاہیے۔ باقی تمام خوبیاں کسی فرد کے کردار کی ایمان داری سے پیدا ہوتی ہیں، سماجی تعلقات میں انقلاب برپا کرتی ہیں اور انفرادی اور سماجی ترقی کو فروغ دیتی ہیں۔
کردار کی ایمان داری کی بنیاد، خامیوں کو تسلیم کرنے اور ذاتی ترقی کے لیے کوشش کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جس سے ہر ایک کو فائدہ ہوتا ہے۔ کردار سازی کے لیے تعلیم کا مقصد انصاف قائم کرنا ہے اور اس کا آغاز خاندان کے اندر سے ہوسکتا ہے۔ بچوں کو اپنے ساتھیوں کے حقوق کا احترام کرنے کی اہمیت سکھانا بہت ضروری ہے۔ والدین کو اس بات پر زور دینا چاہیے کہ ان حقوق کی خلاف ورزی کا نتیجہ اُن میں انسانیت کے خاتمے کا ہم معنی ہے۔
ہماری نسل کو ایک ایسی تعلیم کی ضرورت ہے جو مستقبل کے لیڈروں میں اپنی ناکامیوں کا احتساب کرنے کی جرأت پیدا کرے اور اگر وہ ناکام ہوجائیں تو اقتدار سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہوجائیں۔ کردار کے لیے تعلیم خواتین کے احترام کو ترجیح دیتی ہے اور بچوں کے لیے محبت کی پرورش کرتی ہے۔ ان کے خلاف منفی رجحانات کو ختم کرتی ہے اور ایک محفوظ،زیادہ سازگارسماجی ماحول کو فروغ دیتی ہے۔ اخلاقی تعلیم ایسے معاشرے کو فروغ دیتی ہے،جہاں افراد اجتماعی طور پر بدسلوکی کے خصائل کو مسترد کرتے ہیں اور پاکیزگی و دیانت کو اپناتے ہیں، اور ہم آہنگی کے ساتھ بقائے باہمی کے لیے شمولیت کو فروغ دیتے ہیں۔کردار کے لیے تعلیم کو ترجیح دینے والے معاشرے میں نفرت، منفی تنقید اور بہتان تراشی جیسی بُرائیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ کردار سازی کے لیے تعلیم سے امن و سکون میسر آتاہے۔ لوگوں کو قناعت کی ترغیب ملتی ہے کہ جو کچھ ان کے پاس ہے، اس پر مطمئن رہیں۔ کردار سازی کی تعلیم ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرنے کی غیرصحت مند خواہش کو کم کرتی ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کو تبدیل کرنا ہوگا کیونکہ یہ وہ ماحول ہے جہاں ہمارے بچّے نشوونما پائیں گے، آگے بڑھیں گے اور جوان ہوں گے۔ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایک ایسا سماجی نظام قائم کریں جہاں انصاف، دیانت، کردار اور انسانیت سے محبت معیار بن جائے۔ اس کے بغیر، سماجی تانے بانے کا نازک ڈھانچہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ جیسا مکروہ قانون کے سامنے بے بس ہوجائے گا، جو معاشرے کو تباہ کرکے رکھ دے گا۔
پاکستان کے سرسبز و شاداب کھیتوں پر مبنی منظرنامہ جو اپنی پیداواری صلاحیت کے لیے معروف اور مسرت و سرشاری کا باعث ہے، آج ایک زبردست چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ زرعی فضلے کا تشویش ناک مسئلہ اور سموگ کے بڑھتے ہوئے بحران کا اہم سبب ہے۔ اس پیچیدہ مسئلے کی جڑیں روایتی کاشتکاری کے طریقوں، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور فضلہ کی تلافی کی مؤثر حکمت عملیوں کے فقدان سے جڑی ہوئی ہیں۔ چونکہ پاکستان کو زرعی فضلے کو جلانے سے سموگ کے بحران کا سامنا ہے، اس لیے ایسے پائیدار حل کی فوری ضرورت ہے، جو آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں درپیش چیلنج کا سامنا کرسکے۔
پاکستان میں کسان محدود متبادل ذرائع کی وجہ سے روایتی طریقوں کو اپنانے پر مجبور ہیں اور اکثر پائیدار طریقوں کے بارے میں فہم نہیں رکھتے۔ نتیجتاً زرعی فضلہ تلف کرنے کے لیے جلانے کے پرانے طریقہ کا سہارا لیتے ہیں۔ گنے، گندم اور چاول جیسی فصلوں کی باقیات کو جب آگ لگائی جاتی ہے تو فضا میں آلودگی کا ایک نقصان دہ کاک ٹیل خارج ہوتا ہے۔ سموگ دراصل دھوئیں اور دھند کا ایک خطرناک امتزاج ہے جو فضا اور صحت عامہ کے لیے شدید خطرہ ہے۔ سموگ کی تشکیل سے بہت سے مضر نتائج سامنے آ رہے ہیں، جن میں زمین کی زرخیزی کا متاثر ہونا، قیمتی غذائی اجزا کا نقصان اور کسانوں کی صحت کو لاحق خطرات براہِ راست سموگ اور اس فضا کا نتیجہ ہیں۔
پاکستان میں زرعی فضلہ کی صحیح مقدار کا تعین کرنا کاشتکاری کے مختلف طریقوں اور فصلوں کی پیداوار میں تغیر کی وجہ سے ایک مشکل کام ہے۔ تاہم، مختلف اندازوں کے مطابق سالانہ لاکھوں ٹن زرعی فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر صرف گندم کے بھوسے کی پیداوار کا تخمینہ ۳۵سے ۴۰ملین ٹن سالانہ ہے۔ فضائی آلودگی اور سموگ پاکستان میں خاص طور پر شہری اور صنعتی علاقوں میں ایک بڑی ماحولیاتی تشویش کا باعث بن چکے ہیں۔ گاڑیوں سے دھوئیں کا اخراج، صنعتی آلودگی اور زرعی فضلے کے جلانے سے زہریلے مرکبات سے فضا بہت زیادہ آلودہ اور زہرناک ہے۔ سموگ نہ صرف بینائی کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس سے سانس کے مسائل، دل کے امراض اور دیگر سنگین بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سموگ سے متعلقہ مسائل کا حل بائیو ریفائنریوں کے قیام سے ممکن ہے۔ اس سے مراد زرعی فضلہ کو مفید مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے حکمت عملی کے ساتھ ڈیزائن کی گئی سہولیات ہیں۔ اس نقطۂ نظر کا مقصد زرعی فضلہ کو قیمتی وسائل میں تبدیل کرنا ہے اور کسانوں کو فصلوں کی باقیات کو جلانے کے نقصان دہ عمل سے بچانے کے لیے معاشی طور پر قابلِ عمل متبادل فراہم کرنا ہے۔ بائیو ریفائنریاں ایک کیمیائی محلول پر کام کرتی ہیں جو زرعی فضلے میں موجود مفید سیلولوز اور سائیکلک مرکبات کی صلاحیت کو زیراستعمال لاتی ہیں۔ جدید ٹکنالوجی سے ان مرکبات کو صنعتی عمل میں ڈھال کر چپ بورڈز اور بائیومیٹریلز جیسی مصنوعات تیار کی جاسکتی ہیں۔ یہ ٹکنالوجی سموگ کے بحران کو کم کرتی ہے اور ایک پائیدار اور ترقی پذیر معیشت کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ڈنمارک کی ڈونگ انرجی ایک بائیور ریفائنری چلاتی ہے، جو زرعی باقیات، جیسے بھوسے کو بائیوایتھانول میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ عمل فضلہ کو استعمال کرکے نہ صرف کاربن کے اثرات کو کم کرتا ہے بلکہ بایوایندھن کو ایک پائیدار ذریعہ بناکر معاشی خوش حالی میں بھی حصہ ڈالتا ہے۔ اسی نوعیت کے پلانٹ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ’بائیوانرجی‘ تیار کرتے ہیں جو زرعی باقیات بشمول مکئی کے خالی سِٹوں کو سیلولوسک ایتھنول میں تبدیل کرتا ہے۔جنوبی افریقہ میں ساپی کی نگوڈوانا انرجی بائیو ریفائنری توانائی پیدا کرنے کے لیے جنگلات کی صنعت سے حاصل ہونے والے فضلہ کو استعمال کرتی ہے۔ قابلِ تجدید وسائل کو استعمال کرتے ہوئے، یہ بائیوریفائنریاں صنعت میں روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں اور روایتی ایندھن کے بہتر متبادل کی پیداوار کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے اور اقتصادی خوش حالی کو فروغ دینے میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔
کمپریسڈ مشینوں کے استعمال اورکیمیائی عمل سے ایک مکینیکل حل نکلتا ہے۔ یہ مشینیں زرعی فضلہ کی بڑی مقدار کو مربوط شکلوں میں تبدیل کرسکتی ہیں اور دوبارہ تیار کرنے میں سہولت فراہم کرتی ہیں، جسے بآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل بھی کیا جاسکتا ہے۔ کمپریسڈ باقیات جلانے کے روایتی عمل سے ہٹ کر ایک صاف اور مؤثر ایندھن کے طور پر کام کرسکتی ہیں۔ کمپریسنگ ٹکنالوجی نہ صرف سموگ کی فوری تشویش کو کم کرتی ہے، بلکہ ایک زیادہ پائیدار اور ماحول دوست طریقہ کی طرف منتقلی کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔ کمپریسڈ زرعی فضلہ کا ایندھن کے طور پر استعمال، فوسل ایندھن پر انحصار کو کم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سموگ کے بحران میں اضافہ کرنے والی نقصان دہ آلودگی کے اخراج کو بھی روکتا ہے۔
پاکستان میں سموگ کے بحران کے بنیادی اسباب سے نمٹنے کے لیے علاقائی بائیو ریفائنریوں کے قیام کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ فی الحال، متبادل ذرائع نہ ہونے اور عجلت پسندی کے سبب کسان بائیوفضلہ کو ٹھکانے لگانے کے لیے جلانے کو واحد قابلِ عمل حل سمجھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور پرائیویٹ سیکٹر بائیو ریفائنریوں کے فروغ اور معاونت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ کسانوں کو ایسے متبادل فراہم کرسکتے ہیں، جو فضلہ کے مسئلے کو حل کریں اور روزگار کی فراہمی میں مثبت کردارادا کریں۔ کاشت کاروں کو بائیو ریفائنریوں کے فوائدکے بارے میں آگاہ کرنا اور انھیں ضروری آلات اور وسائل سے آراستہ کرنا ایک پائیدار مستقبل کی جانب لازمی اقدام ہے۔ اس تبدیلی کے لیے ایک اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے، جس میں پالیسی ساز، زرعی ماہرین اور کسان برادری شامل ہوں۔ بائیو ریفائنری کے طریقوں کو اپنانے کے طویل مدتی فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کرنا، جلانے کے روایتی چکّر کو توڑنے اور زیادہ پائیدار اور ماحولیاتی نظام کی ابتدا کے لیے ناگزیر ہے۔
سموگ کے بحران کے پیش نظر، پاکستان کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینے اور ٹھوس کوششوں کا احیا ناگزیر تقاضا ہے۔ بائیو ریفائنریز کو اپنانا، آگاہی مہموں اور ایکسپورٹ پالیسی کے ساتھ، نہ صرف فوری مسائل کو کم کرنے ، بلکہ زرعی فضلے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کرنے اور ملک کے لیے صحت مند اور پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کی کلید ہے۔ حقائق پر مبنی اعداد و شمار اس مسئلے کی طرف فوری توجہ کا تقاضا کرتے ہیں، اور مقامی اور قومی سطح پر باہمی اور مؤثر حل کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
انصاف، حکومت کی روح ہے۔ ’انصاف تک رسائی‘ کی اصطلاح جن معنوں میں سمجھی اور استعمال کی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ کسی شخص اور اس کی ذات یا جائیداد کے ساتھ کی گئی نا انصافی کے ازالےکے لیے فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کی خاطر عدالتی اداروں سے رجوع کیا جائے۔
پاکستان کے آئین کے دیباچہ میں، جو بنیادی طور پر ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کی ’قرارداد مقاصد‘ پر مبنی ہے، جسے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے منظور کیا تھا، یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ آئین بنیادی حقوق کی ضمانت دے گا، جن میں حیثیت، مواقع اور قانون کے سامنے مساوات و برابری ہوگی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی عدل ہوگا۔ سوچ، اظہاررائے ، عقیدہ، ایمان، عبادت اور اجتماع اور تنظیم سازی کی آزادی ہوگی، بشرطیکہ وہ قانون اور اخلاقیات کے دائرے میں ہوں ۔
اس میں عدلیہ کی خود مختاری کا بھی وعدہ کیا گیا ہے، جو انصاف تک رسائی کے لیے ایک ناگزیر لازمہ ہے۔ آئین کا آرٹیکل ۳۷ ریاست کے لیے یہ ہدف متعین کرتا ہے کہ وہ سستا اور تیز تر انصاف کو یقینی بنائے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین، ریاست کی عدالتی طاقت کو استعمال کرنے والی عدالتوں اور دیگر ٹربیونلوں کے قیام کے لیے وسیع تر انتظامات کرتا ہے۔ عدالتی اہرام کی چوٹی پر سپریم کورٹ آف پاکستان ہے ،جو اپیل اور اصل دائرہ اختیار کا استعمال کرتی ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سمیت سترہ جج ہیں۔ پانچ ہائی کورٹ ہیں، چاروں صوبوں میں ایک ایک اور اسلام آباد دارالحکومت علاقے کے لیے ایک۔ صوبائی ہائی کورٹس میں ان کی بنیادی نشستوں کے علاوہ دیگر جگہوں پر بنچ ہوتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی، ملتان اور بہاولپور میں تین بینچ ہیں، جہاں ججوں کو ایک سال کے لیے نامزد کیا جاتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے بنچ سکھر میں اور سرکٹ بنچ حیدرآباد اور لاڑکانہ میں ہیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے بنچ سبی اور تربت میں ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد، ڈیرہ اسماعیل خان اور مینگورہ سوات میں بنچ ہیں۔ ہائی کورٹوں کے پاس آئینی، اپیل اور نظرثانی کا دائرۂ اختیار ہے۔ ان بنچوں کے قیام کا مقصد فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔
ریاست اور صوبے کی سطح پر درج بالا آئینی اور اپیلیٹ عدالتوں کے علاوہ، ضلع اور سیشن کی سطح پر صوبائی قوانین کے تحت دیوانی اور فوجداری عدالتیں بھی موجود ہیں۔ عدالتوں کی ایک بڑی تعداد خصوصی قوانین کے تحت بنائی گئی ہیں۔ مثلا: انسداد دہشت گردی کی عدالتیں، بنکنگ کورٹ، کسٹم کے لیے خصوصی عدالت، انسداد منشیات کی عدالتیں وغیرہ۔یہ تمام عدالتیں آئین کے تحت تین ضروری کام انجام دیتی ہیں: پہلا اور سب سے اہم مسئلہ افراد کے درمیان یا ریاست اور افراد کے درمیان تنازعات کا حل ہے۔ یہاں ریاست کا مطلب حکومت کی ایک شاخ ہے۔
دوسرا، عدالتیں حکومت کی ایگزیکٹو اور قانون ساز شاخوں کے خلاف، عوام کے بنیادی اور آئینی حقوق کو نافذ کرنے اور ان کی حفاظت کرنے کی پابند ہیں۔ یہ آئینی عدالتوں،ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ، کا دائرۂ کار ہے ، اور یہ عدالتی یا آئینی نظرثانی کے اختیارات انھیں آئین پاکستان کے آرٹیکل ۸، ۱۸۴ (۳) اور ۱۹۹ کے تحت حاصل ہیں۔
ان آئینی عدالتوں کا تیسرا اور سب سے مشکل کام آئین کا دفاع اور نفاذ ہے۔ چونکہ عدلیہ کے پاس نہ دولت ہے نہ ہتھیار، بلکہ صرف اخلاقی اختیار ہے، اس لیے یہ کام مکمل طور پر آزاد اور نڈر ججوں پر منحصر ہے۔ جو لوگ دوسروں کا فیصلہ کرنے بیٹھتے ہیں اور خودبھی چاہتے ہیں کہ عوام کی عدالت سے ان کا فیصلہ ہو تو یہ ضروری ہے کہ ان کا اپنا دامن صاف ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے حکومت کی دیگر شاخوں کی طرح عدالتی شاخ بھی احتساب سے اپنے پاؤں سمیٹ رہی ہے۔ گذشتہ ۷۵ برسوں میں ہائی کورٹوں کے صرف تین ججوں کو بددیانتی کے الزامات ثابت ہونے پر ہٹایا گیا۔
پاکستان کے عدالتی نظام کے بارے میں مختلف اداروں کے جمع کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے۔ سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کا انبار معاملات کی افسوسناک حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ دیگر عدالتوں میں بھی ہزاروں مقدمات اور اپیلیں زیر التوا ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق عام طور پر کسی کیس کو اپنے آخری عدالتی مراحل مکمل کرنے میں ۲۰ سال لگتے ہیں۔
پاکستان میں انصاف تک رسائی تین بنیادی وجوہ کی بنا پر حاصل کرنا مشکل ہے: ایک، عدالتوں اور ججوں کی خاطر خواہ تعداد فراہم کرنے کے لیے ریاست کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔ سال ۲۰۰۰ء کے اوائل میں ۳۵۰ ملین ڈالر سے زیادہ کا قرضہ حاصل کیا گیا تھا۔ قرض، عدالتوں میں نوآبادیاتی ہارڈویئر اور فرنیچر کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے ذیلی عدالتی افسروں کی تربیت پر بہت ہی کم رقم خرچ کی گئی۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس اور ذیلی عدلیہ کے لیے مختص شدہ سالانہ بجٹ بنیادی طور پر تنخواہوں، پنشن اور دیگر مراعات پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اس طرح انصاف کی فراہمی کے نظام کی بہتری کے لیے بہت کم رقم رہ جاتی ہے۔
دوسرا، عدالتی نظام، جو کہ پہلے سے کمزور اور انتہائی غیر محتسب ہے، اسے انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فوجداری اور دیوانی مقدمات کی فہرست جھوٹے، فضول اور چھوٹے موٹے مقدمات سے بھری پڑی ہے۔ اس بڑے التوا کے لیے ہمارے بلا وجہ کے ’مخاصمتی رویے‘ بہت حد تک ذمہ دار ہیں، جو اصل حق داروں کو فوری انصاف تک رسائی سے محروم رکھتے ہیں۔
تیسرا، ریاستی ادارے بھی بنیادی طور پر ایگزیکٹو برانچ اور کسی حد تک قانون ساز اور عدالتی شاخیں، انصاف تک رسائی میں رکاوٹ کی ذمہ دار ہیں۔ اگر عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا سروے کرایا جائے، تو ایگزیکٹو برانچ، وفاقی اور صوبائی دونوں، پاکستان میں سب سے زیادہ مقدمہ چلانے والے ثابت ہوں گے۔ یہ بنیادی طور پر دو وجوہ کی بنیاد پر ہے: ایگزیکٹو طاقت پر اندرونی جانچ پڑتال کا کوئی سسٹم موجود نہیں ہے۔ چونکہ ریاستی عہدے داروں کو حاصل اختیارات زیادہ تر صوابدیدی ہیں، جس کے نتیجے میں بدعنوانی اور کرپشن ایک لامتناہی قانونی چارہ جوئی میں تبدل ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ لائسنس کلچر، پبلک کنٹریکٹس ، پولیس کی طاقت کا غلط استعمال اور کاروبار اور تجارت کے ضابطے سب وہ صوابدیدی اختیارات ہیں، جو قانونی چارہ جوئی کی بنیادی وجہ بنتے ہیں۔
مقننہ تو قوانین کم ہی غور و فکر کر کے پاس کرتی ہے۔ قانون سازی کے طریق کار پر عمل کیے بغیر راتوں رات دسیوں قوانین منظور کر لیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ تقریباً ہر قانون، اصول اور ضابطے کو عدالتوں میں چیلنج کیا جارہا ہوتا ہے۔ عدلیہ گذشتہ ڈیڑھ عشرے سے بر بنائے ’جوڈیشل ایکٹوازم‘ (عدالتی فعالیت)، سیاسی مسائل اور ’پالیسی ڈومین‘ میں اُلجھی ہوئی ہے۔ اسی ’عدالتی فعالیت‘ نے سیاسی اور پالیسی سازی کے عمل میں مداخلت کرکے عدلیہ کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔
فوری اور سستے انصاف تک رسائی، چند بنیادی تبدیلیاں کرکے اور کچھ عملی اقدامات اٹھا کر حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایک تو، پورے برصغیر میں جرگہ/پنچایت کے ادارے ہوا کرتے تھے، جو کامیابی سے فوری اور سستا انصاف فراہم کرتے تھے۔ تمام چھوٹے مسائل (بکری کی چوری، جائیداد کے چھوٹے موٹے جھگڑے وغیرہ) ان پنچایتوں میں جا سکتے ہیں۔ ہندستان میں، ان پنچایتوں کو آئینی شناخت اور تحفظ حصہ IX (نہم) ہندستانی آئین کے تحت دیا گیا ہے۔ اس سے سماجی ہم آہنگی اور سماجی اداروں کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ یہاں تک کہ خاندانی جھگڑے بھی ان اداروں کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔ ہمارا عائلی قانون، ثالثی کونسل کا انتظام کرتا ہے، لیکن ہمارے مخاصمتی رویوں کی وجہ سے یہ ناکام ہو چکا ہے۔ مندرجہ بالا سماجی اداروں کے علاوہ، ریاست کو تنازعات کے حل کے لیے متبادل طریقوں کی بھی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
عدالتوں کو ’حقیقی‘ اور ’مثالی اخراجات‘ دینا شروع کر دینے چاہییں۔ اخراجات کی گرانٹ کا کوئی رواج نہیں ہے۔ وکلا اور قانونی چارہ گر کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مغرب میں جہاں عدالتیں اصل اخراجات دیتی ہیں، وکلا اور مدعیان غریب نہیں مرتے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اخراجات کا سرٹیفکیٹ طلب کرنا شروع کر دیا ہے۔جلد ہی وہ ’اصل اخراجات‘ دینا شروع کر دیں گے۔ علاوہ اَزیں سپریم کورٹ نے بھی فضول قانونی چارہ جوئی پر اخراجات عائد کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اب اسے چاہیے کہ متاثرہ فریقوں کو ’اصل اخراجات‘ دینا شروع کردے۔
ریاست کو عدلیہ کے لیے مزید وسائل مختص کرنے کی ضرورت ہے۔ ججوں کی میرٹ پر شمولیت اور وسائل کی مناسب اور متناسب تقسیم، انصاف کی فراہمی کے نظام کو تیز تر اور سستا بنائے گی۔
عورت کے بغیر انسانی معاشرے کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا۔ گھر بنتا ہی عورت سے ہے۔ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ کوئی گھر بغیر عورت کے وجود میں آسکے، اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ کوئی معاشرہ عورت کی کوشش، دخل اور اثر کے بغیر بن یا بگڑ سکے۔
مردوں عورتوں کی تعداد تقریباً ہر زمانے میں برابر رہتی ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ عورت کمزور ہے اور مرد طاقت ور۔ اس لیے جب مرد اور عورت مل جل کر رہتے ہیں، تو مرد کی مرضی پوری ہوکر رہتی ہے۔ لیکن اگر حالات کو ذرا گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو معاملہ برعکس ہے۔ مرد باوجود طاقت ور ہونے کے ہرمعاملے میں بالکل بے بس ہے، جب تک یہ ’کمزور‘ مخلوق اپنا دلی تعاون پیش نہ کردے۔ گویا مرد کی مرضی نہیں بلکہ عورت کی مرضی پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ وہ سب پر چھا جاتی ہے اور سب کو اپنا مطیع وفرماں بردار بنا لیتی ہے۔
عورت میں سختی کے بجائے لچک ہے۔ ظاہر ہے کہ سخت چیزیں ٹوٹ جاتی ہیں لیکن لچک دار چیزیں عارضی طور پر جھک تو جاتی ہیں، لیکن ٹوٹتی نہیں۔ فرعون باوجود ’فرعون‘ ہونے کے حضرت آسیہ کو اپنی راہ سے نہ روک سکا، بلکہ خود اپنے لائولشکر سمیت غرق ہوگیا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے جب اپنی خوشی سے آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیکی اورپرہیزگاری کو قبول فرما لیا تو قوم اور خاندان کی مخالفت یا اپنے تمدن یا معاشی مرتبے کا خیال ان کی راہ میں کچھ بھی مزاحم نہ ہوسکا۔ اسی طرح کوئی عورت اگر بگاڑ پر تُل جائے تو پیغمبر ؑ تک اس کی اصلاح نہیں کرسکتے۔ حضرت نوح اور حضرت لوط علیہم السلام کی بیویوں نے غلط منصوبے باندھے اور غرق یا تباہ ہونے تک انھی پر اَڑی رہیں۔
ہے تو سب کچھ اللہ کے اختیار میں، کہ وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ لاریب، جب کسی قوم کے بھلے دن آتے ہیں تو اس کی عورتیں خدا پرست بن جاتی ہیں اور آخرکار مردوں کو بھی ویسا ہی بناکر چھوڑتی ہیں، اور جب کسی معاشرے کا زوال شروع ہوتاہے تو اس کی عورتیں خدا کے بجائے ادنیٰ چیزوں کی پرستش شروع کردیتی ہیں۔ جب عورت کا دل دُنیا میں اَٹک جائے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ اپنے شوہر، بچوں اور دوسرے مددگاروں کو بھی حصولِ دُنیا میں مشغول نہ کردے؟ اور جب کسی عورت کو آخرت کی فکر ہو تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے عزیزوں اور اپنے جگرگوشوں کو اپنی اس فکر میں شریک نہ کرے؟ اسے جب کوئی ہلکی سی مغموم کرنے والی خبر ملتی ہے تو وہ روپیٹ کر سب کو پریشان کردیتی ہے۔ پھر جب اسے دوزخ جیسی خوفناک چیز کا یقین ہو، اور وہ دیکھ رہی ہو کہ اس کے بچّے، شوہر، باپ، بھائی اس کی طرف اندھا دھند لپک رہے ہیں اور اس میں گرنے کے بالکل قریب ہیں تو وہ کیسے چپ بیٹھ سکتی ہے؟ وہ یہ کیسے گوارا کرسکتی ہے کہ جن جسموں کو لذیذ کھانوں، عمدہ لباسوں اور صاف سجے ہوئے گھروں میں آرام پہنچاتی رہی، پالتی رہی اور ان کے آرام و آسایش کی خاطر راتوں کی نیند اور دن کا آرام اپنے اُوپر حرام کرلیا۔ وہ جسم دوزخ میں جلنے کی تیاریاں کرنے لگیں۔ اور وہ بھی اس کی نظروں کے سامنے۔
عورت، مرد سے بڑھ کر دُور اندیش ہوتی ہے۔ بیٹی اور بیٹا جوان ہوجائے تو مرد سے بڑھ کر اس کو یہ فکر کہ اس کے لیے زیادہ جہیز تیار ہو، اچھی جگہ رشتہ ہو۔ مکان نہ ہو تو مرد سے بڑھ کر اسے حاصل کرنے کی دُھن سوار ہوتی ہے۔ گھر میں غلّہ ایندھن وغیرہ ختم ہوں تووہ پریشان۔ افراد کنبہ کے کپڑے پھٹ جائیں تو اس کو بے چینی۔ کوئی بچہ بیمار ہو تو اس کے دوا علاج کے لیے وہ سرگرداں، غرض کسی وقت وہ آرام سے نہیں بیٹھ سکتی۔ عورت کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ سب کا غم کھائے اور سب کو سُکھ پہنچائے۔ خصوصاً ان کو جو اس کے اپنے عزیز ہوں، یا کم از کم جن کو وہ اپنا عزیز سمجھتی ہو اور جن کی جان اس کو پیاری ہو،ان کے بھلے بُرے کی فکر تو اس کو اپنے سے بڑھ کر رہتی ہے۔
آپ دیکھتے نہیں، آج کل عورت ہی تو ہے جو مادہ پرستی کی سب سے بڑی مبلغ بنی ہوئی ہے۔ اس نے ادنیٰ چیزوں کو اپنا خدا بنا لیا ہے اور وہ انھی جھوٹے خدائوں کی بندگی پر باپ،بھائی، شوہر، بچوں اور دُور و نزدیک کے سب رشتے داروں، پڑوسیوں، ملنے والوں کو آمادہ کر رہی ہے۔ عورت کی زبان تو مشہور ہے کہ کسی وقت بیکار نہیں رہتی۔ بس جس چیز کو عورت سب سے بہتر خیال کرے، جس کی محبت اس کے دل میں بیٹھ جائے، چوبیس گھنٹے وہ اسی کی خوبیوں کے گن گاتی رہے گی۔ پھر ماں کا راگ بچوں کا راگ ہوگا اور بچوں کا راگ پوری قوم کا راگ بن کر رہتا ہے کیونکہ وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اور بالآخر وہی ہوتا ہے جو عورت چاہے۔
مگر افسوس کہ ان دنوں اس نے فکر ِ آخرت سے بے نیازی اختیار کرلی ہے۔ اسے جنّت کی نعمتوں اور دوزخ کی تکلیفوں کا یقین نہیں رہا، تو یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پوری قوم ہی اس یقین اور ایمان سے بے نیاز ہوگئی ہے۔ جب ماں نے اپنا مقصد ِ زندگی صرف کھانے، پہننے اور عیش کرنے کا بنالیا تو اس کے بچّے کیوں نہ یہی سبق سیکھتے؟ صدر اور وزیراعظم سے لے کر معمولی معاشی سرگرمی میں مصروف فرد تک، سب عورت ہی کے بچّے ہیں اور اس کے سکھائے ہوئے اسباق پر عمل کر رہے ہیں۔ اگر وہ، ان کو اپنے قول و عمل سے یہ سکھاتی کہ ’’اللہ تمھارا اصل مالک و حاکم ہے، تم اس دُنیا میں اپنے مالک و مختار نہیں ہو بلکہ اس آقا کے نوکر ہو‘‘ تو خدا فراموشی کے یہ مناظر آپ کو کیوں نظر آتے؟
آپ کی آنکھوں کے سامنے شراب چل رہی ہے، جوا چل رہا ہے، سود خوری ہورہی ہے، ظلم و بے انصافی کی کوئی حد نہیں۔ غریب بھوکے مر رہے ہیں اورقوم کے رہنما اپنے عیش میں مست ہیں۔ قتل، چوری، دھوکابازی، رشوت، غبن، کون سا جرم ہے جس کا ارتکاب نہیں ہورہا؟ عورتوں اور مردوں کو جو کچھ دیکھنا حرام تھا، آپ کے فرزندانِ ارجمند اور دخترانِ نیک اَطوار پیسے خرچ کرکے وہ کچھ دیکھ رہی ہیں۔ جو کچھ سننا ممنوع تھا، اسے سننے کے لیے بڑی سے بڑی قیمت ادا کی جاتی ہے۔ جو کچھ کھانا حرام تھا، اس کو کھلم کھلا کھایا جارہا ہے اور جس طرزِ لباس کو اختیار کرنے کی ممانعت تھی، اسی کو آپ کی بیٹیاں علی الاعلان اختیار کررہی ہیں۔ جو مشاغل مردوں کے لیے مخصوص تھے وہ عورتیں اختیار کرر ہی ہیں۔ اور جو صفات اور عادات و اَطوار عورتوں کا زیور تھے وہ مرد اپنا رہے ہیں۔
یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے؟ کیا صرف اس لیے کہ مرد نے ایسا کرنا چاہا؟ ہرگز نہیں! عورت نے خود ایسا کرنے کی اجازت اور بسااوقات حکم دیا تب ایسا ہوسکا۔ اب عورت ہی اپنا رُخ پلٹے گی، اپنا قبلہ بدلے گی۔ لندن، نیویارک اور ماسکو کی اندھی تقلید کے بجائے مدینہ منورہ کی ان رہنما خواتین کی پیروی اختیار کرے گی جن کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت دی تھی، تو قوم کی حالت بدل سکے گی، ورنہ نہیں۔
سوال : برادری کے نام پر ووٹ طلب کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے کیسا ہے؟قطع نظر اس کے کہ اُمیدوار بھلا ہو یا بُرا؟
جواب:اسلامی نقطۂ نگاہ سے اگر برادری کے نام پر ووٹ دینا یا لینا جائز ہوتا تو ظاہر بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قریش کے جو لوگ اسلام کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے تھے، وہ آپؐ کے رشتے دار ہی تو تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے برادری کے نام پر تعاون کی اپیل کرسکتے تھے۔ لیکن ووٹ لینے کا کیا سوال، آپؐ نے ان کے خلاف تلوارکھینچنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔
جماعت اسلامی سے قطع نظر، ووٹ دینے والے کا کام یہ ہے کہ وہ دیکھے کہ جسے وہ ووٹ دے رہا ہے وہ اسلام کے اصولوں کا پابند بھی ہے یا نہیں؟ اور وہ کامیاب ہونے کے بعد خدا کے دین کی خدمت کرےگا یا اپنے نفس کی خدمت میں لگ جائے گا؟ کیا اس کی ظاہری زندگی اس کے دعوئوں کی شہادت دے رہی ہے؟ جو آدمی اس کا اہل نظر آئے، ووٹ دینے والے کو چاہیے کہ وہ اس کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرے، اور جو آدمی اس کا اہل نہ ہو تو خواہ وہ ووٹر کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو، اسلام اس کے حق میں رائے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
اسلام، دوستی اور برادری کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کرتا بلکہ حق اور باطل کی بنیاد پر دوٹوک فیصلہ دیتا ہے۔(سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ہفت روزہ ایشیا، لاہور، ۵؍اکتوبر ۱۹۷۰ء)
ہماری قوت کا سرچشمہ بہ حیثیت اُمت قرآن کریم ہے۔ قرآن پاک اور سنت ِ رسولؐ اور سیرتِ رسولؐ کے ذریعے ہی مسلمانوں نے دُنیا میں عزت پائی ہے۔ علمائے اُمت نے اس راز کو پاکر ہمیشہ قرآن پاک کے ترجمہ و تفسیر اور سیرتِ رسولؐ کو اہمیت دی ہے۔ ماضی قریب میں برعظیم میں حضرت شاہ ولی ؒ اللہ کے خاندان نے قرآن پاک کے ترجمہ و تفسیر کا آغاز کیا اور اس راہ میں تکالیف بھی برداشت کیں۔ شیخ الہند مولانا محمودحسن رحمۃ اللہ علیہ نے مالٹا کی قید سے واپسی کے بعد ایک اجتماع میں فرمایا: میں نے مالٹا کی اسیری کے دوران غور کیا تو مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ مسلمانوں کے زوال کا ایک سبب قرآن پاک سے دُوری ہے اور دوسرا سبب تفرقہ اور باہمی تنازعات ہیں۔ میں نے اب فیصلہ کیا ہے کہ ان دو بیماریوں کا علاج کیا جائے۔ چنانچہ انھوں نے اس کے لیے قرآن پاک کا ترجمہ کیا اور تفسیر مولانا علامہ شبیراحمدؒ عثمانی نے کی۔
خدمت ِ قرآن کے سلسلے میں ایک اہم خدمت معلم القرآن ہے۔ یہ کوشش پروفیسر قاری جاویدانور صدیقی صاحب نے کی ہے، تاکہ آسانی کے ساتھ ایک شخص محض قرآن پاک کے تحت اللفظ ترجمے کے ساتھ بین السطور بریکٹ میں مختصر تفسیری نکات کے ذریعے قرآن پاک کو مطالعے کے دوران سمجھ سکے۔ فاضل مترجم کی یہ کوشش بھی قابلِ قدر ہے۔ تاہم، اس کی افادیت کو پرکھنے کے لیے لوگوں میں اس کا مطالعہ کرنے اور قرآن پاک کو سمجھنے اور پڑھنے کے قابل ہونے سے ہوگا۔ ان شاء اللہ یہ خدمت مترجم کے لیے اجروثواب کا باعث ہوگی۔(مولانا عبدالمالک)
ہرزمانہ کسی نہ کسی فکر کے غالب دھارے میں اپنا سفر جاری رکھے ہوتا ہے۔ بہرحال، زیادہ تر ’جاہلیت کی فکر‘ ہی کی فرماں روائی رہی ہے، جسے تبدیل کرنے کے لیے انبیاؑ و رُسلؑ آئے، اور پھر یہ سلسلہ خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد صلحائے اُمت سے منسوب ہوا۔
علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے معروف استاد جناب عبیداللہ فہد فلاحی نے اسلامی فکر کی ٹھوس بنیادوں کو اُجاگر کرتے ہوئے، زیرنظر کتاب میں خاص طور پر عہد حاضر کو پیش نظر رکھا ہے۔ اس طرح انھوں نے اسلامی تحریکوں کے سامنے یلغار کرتے ہوئے مغربی اور تجددپسندانہ افکار کی ماہیت کو متعین کیا ہے۔ پھر حقیقی چیلنجوں کو سامنے رکھتے ہوئے معاصر اسلامی مفکرین اور محققین اور میدانِ عمل میں سرگرم افراد کے قول، فعل اور فکر کا تجزیہ کیا ہے۔
اسلامی فکر آج دو بڑے مسائل سے دوچار ہے۔ ایک طرف روایتی طرزِفکر ہے تو دوسری جانب خود دینِ اسلام کو عصرحاضر کے مطابق ڈھالنے کا خبط دندنا رہا ہے۔ اس عمومی رواج کے بارے میں وہ مولانا مودودی کا قول درج کرتے ہیں: ’’وہ ہرشخص جو نیا طریقہ نکالے اور اس کو ذرا زور سے چلا دے، اور اپنے زمانے کی برسرِ عروج جاہلیت سے مصالحت کرکے اسلام اور جاہلیت کا نیا مخلوطہ تیار کردے، یا فقط نام باقی رکھ کر اس قوم کو پوری جاہلیت کے رنگ میں رنگ دے، ان کو ’مجدد‘ کے خطاب سے نواز دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ ’مجدد‘ نہیں ’متجدد‘ ہوتے ہیں، اور ان کا کام تجدید نہیں، ’تجدد‘ ہوتا ہے‘‘ (تجدید و احیائے دین، ص۴۳)۔ یوسف القرضاوی کہتے ہیں: ’’یہ لوگ ’مبدّدین‘ (دین کو ملیامیٹ کرنے والے) ہیں، مجددین نہیں‘‘(ص۱۷۶)۔ اس پس منظر میں وہ ایک جگہ جاوید احمد غامدی صاحب کی فکری پرواز پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’انھوں نے اپنے تفردات کے لیے نئی زمینوں کی تلاش شروع کی‘‘ (ص۱۷۸)۔
جناب فہد نے اس کتاب میں نہ صرف اس سے ملتی جلتی صورتوں کو پیش کیا ہے، بلکہ خود اسلامی تحریکوں میں، اسلامی فکر کے جدید چیلنجوں کی مناسبت سے جواب دینے میں کمی کو بھی نمایاں کیا ہے۔(س م خ)
پورا معاشرہ توحید کی بنیاد پر قائم ہوجائے اور اس میں اخلاق، تمدن، تہذیب، تعلیم، مذہب، قانون، رسم و رواج، سیاست، معیشت، غرض ہرشعبۂ زندگی کے لیے وہ اصول اعتقاداً مان لیے جائیں اور عملاً رائج ہوجائیں، جو خداوند ِ عالم نے اپنی کتاب اور رسولؐ کے ذریعے سے دیئے ہیں۔ خدا کا دین جس کو گناہ کہتاہے، قانون اسی کو جرم قراردے،حکومت کی انتظامی مشین اسی کو مٹانے کی کوشش کرے، تعلیم وتربیت اسی سے بچنے کے لیے ذہن اور کردار تیارکرے، منبرومحراب سے اسی کے خلاف آواز بلند ہو، معاشرہ اسی کو معیوب ٹھیرائے اور معیشت کے ہرکاروبار میں وہ ممنوع ہوجائے۔ اسی طرح خدا کا دین جس چیز کو بھلائی اور نیکی قرار دے، قانون اس کی حمایت کرے، انتظام کی طاقتیں اسے پروان چڑھانے میں لگ جائیں، تعلیم و تربیت کا پورا نظام ذہنوں میں اس کو بٹھانے اور سیرتوں میں اسے رچا دینے کی کوشش کرے، منبرومحراب اسی کی تلقین کریں، معاشرہ اسی کی تعریف کرے اور اپنے عملی رسم و رواج اُس پر قائم کردے، اور کاروبارِ معیشت بھی اسی کے مطابق چلے۔ یہ وہ صورت ہے جس میں انسان کو کامل داخلی و خارجی اطمینان میسر آجاتا ہے اورمادّی و روحانی ترقی کے تمام دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں، کیونکہ اس میں بندگی ٔربّ اور بندگی ٔ غیر کے تقاضوں کا تصادم قریب قریب ختم ہوجاتا ہے۔
اسلام کی دعوت اگرچہ ہرہر فردکو یہی ہے کہ بہرحال وہ توحیدہی کو اپنا دین بنالے اور تمام خطرات و مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اللہ کی بندگی کرے۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام کا آخری مقصود یہی صورت پیدا کرنا ہے، اور تمام انبیا علیہم السلام کی کوششوں کا مدّعا یہی رہا ہے کہ ایک اُمت ِ مسلمہ وجود میں آئے، جو کفر اور کفّار کے غلبے سے آزاد ہوکر ’من حیث الجماعت‘ اللہ کے دین کی پیروی کرے۔ کوئی شخص جب تک قرآن و سنت سے ناواقف اور عقل سے بے بہرہ نہ ہو، یہ نہیں کہہ سکتا کہ انبیاعلیہم السلام کی سعی و جہد کا مقصود صرف انفرادی ایمان و طاعت ہے، اور اجتماعی زندگی میں دین حق کو نافذ و قائم کرنا سرے سے ان کا مقصود ہی نہیں رہا ہے۔(’تفہیم القرآن ‘، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۱، عدد۴، جنوری ۱۹۶۴ء، ص ۲۴-۲۵)