اقبال کی فکر اپنے موضوعات اور اپنے مطالب کے لحاظ سے ان عنوانات کا احاطہ کرتی ہے، جو دراصل ہمارے عقائد و نظریات اور ہماری تاریخ و تہذیب سے متعلق ہیں اور یہ اپنی قوم اور ملّت کو اپنے بنیادی عقائد اور تاریخ و تہذیب سے قریب تر کرنے کے مقاصد کی حامل بھی ہے۔اس اعتبار سے اپنی فکر اور پیغام کے لحاظ سے اقبال بیسویں صدی میں دنیائے اسلام کی سب سے اہم اور مؤثر شخصیت ثابت ہیں جنھیں محض عالمِ اسلام ہی نہیں مغرب میں بھی شناخت و تسلیم کیاگیاہے۔ اگرچہ ان کے اوّلین مخاطب ایک حد تک جنوبی ایشیا کے مسلمان رہے اور ان کی فکر کے اثرات یہاں کے مسلمانوں پر زیادہ واضح بھی ہیں، لیکن دنیائے اسلام کے دیگر ممالک میں اور وہاں کے افکار و تحریکات پر بھی ان کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔
اقبال نہ صرف گذشتہ صدی میں دنیائے اسلام کے منفرد اور ممتاز مفکر ہیں، بلکہ اپنے عہد میں ملّتِ اسلامیہ کے معمار بھی ہیں کیوں کہ اپنے وقت کے فکری اور جذباتی رجحان کو تبدیل کرنے، فکرِ اسلامی کو جمود سے نکالنے اور اس کی تشکیلِ جدید میں ان کا حصہ سب سے نمایاں ہے۔ پھربحیثیتِ مفکربھی اقبال کی یہ ایک بڑی کامیابی تھی کہ انھوں نے اپنی فکر اور شاعری کے ذریعے اپنے عہد کی فکری اور جذباتی زندگی میں بیداری اور اضطراب پیدا کردیا۔ ان کی فکر میں دنیائے اسلام کے تقریباً تمام اہم افکار و تحریکات کی بازگشت یاان پر تنقید محسوس ہوتی ہے۔ جن مسائل نے ملّتِ اسلامیہ کو انتشار اور اضطراب میں مبتلا کردیا تھا اور جو اسے اپنے اسلامی تشخص سے دُور کررہے تھے، اقبال کی بھرپور تنقید کا نشانہ بنے اور جو افکار، تحریکیں اور شخصیات دنیائے اسلام کی فلاح، اصلاح اور تعمیر و ترقی کے لیے کوشاں ہوئیں، اقبال نے ان کی تائید و ستائش کی۔ اس طرح اپنے مقصد اور پیغام کے لحاظ سے اقبال نے احیائے اسلام کے لیے نہ صرف ایک مربوط اور مستحکم فکر کی تشکیل کی بلکہ ملّتِ اسلامیہ میں دنیائے اسلام کی آزادی، خودمختاری اور بہتر مستقبل کی تعمیر کا احساس بھی پیدا کیا۔
جنوبی ایشیا کے مسلمانوں پر بالخصوص ان کا احسان یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنی فکر اور شاعری کے توسط سے ان میں قومی و ملّی شعور بیدار کیا، ان میں آزادی کی تڑپ اور ایک آزاد اسلامی مملکت کے قیام کا جذبہ پیدا کیا اور عہدِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ایک مربوط اور مستقل نظامِ فکر تشکیل دیا تاکہ اس پر عمل پیرا ہوکر مسلمان اپنے انفرادی و اجتماعی کردار (یعنی خودی) کی تعمیر کرسکیں۔ اس لحاظ سے فکرِ اقبال کا مطالعہ دراصل ملّتِ اسلامیہ کے بنیادی عقائد و نظریات، اس کی تاریخ و تہذیب اور اس کے نشیب و فراز کا مطالعہ ہے، جو اگر جنوبی ایشیا کے تناظر میں کیا جائے تو اس کے توسط سے مسلمان اپنے جداگانہ ملّی و تہذیبی عناصر سے آگاہی اور ہندوستان کے سیاسی و معاشرتی ماحول میں اپنے علیحدہ قومی تشخص سے واقفیت حاصل کرسکتے ہیں، اور اپنے بنیادی عقائد و ملّی مقاصد کے تحت ایک آزاد اسلامی مملکت کے قیام اور اس میں ایک فلاحی و رفاہی اسلامی معاشرے کی تشکیل کے مراحل تک رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس اعتبار سے اقبال کی فکر اور شاعری کا مطالعہ، بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کو جہاں ایک طرف اپنی تاریخ و تہذیب سے قریب تر کرتا ہے، وہیں پاکستان میں ایک مکمل اسلامی معاشرے کی تشکیل کی بنیادیں بھی فراہم کرتا ہے۔ یوں اسے ایک مستقل حیثیت میں ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ بننا چاہیے۔
اس وقت ہمارے تعلیمی نصاب میں جہاں جہاں اقبال کی شخصیت اور ان کا پیغام اور ان کی فکر کو، چاہے کسی پیرائے (شاعری، خطبات، مقالات، مکاتیب) میں بھی پیش کرنے کی طرف توجہ دی گئی ہے، وہ پورے طور پر قابلِ اطمینان نہیں اور ایسی کوششیں ہمارے نصابوں میں فکرِ اقبال کی شمولیت کے تقاضوں کو کماحقہٗ پورا نہیں کرتیں۔ اس ضمن میں اور اس حوالے سے جو جائزے لیے گئے یا مطالعات کیے گئے ہیں ان سے بھی بے اطمینانی کی یہی صورت ظاہر ہوتی ہے۔
یہ صرف اقبال کے افکار و خیالات کی حد تک ہی نہیں، ہمارا نصابِ تعلیم اپنی مجموعی حیثیت اور بہت واضح صورت میں نظریۂ پاکستان کے بنیادی عناصر، جن میں حصول و قیامِ پاکستان کے اغراض و مقاصد، مسلمانوں کی ملّی و تہذیبی فکر و تاریخ اور عقائد و افکار شامل ہیں اور اپنے قومی و ملّی تقاضوں کے مطابق جدید دنیا کا حصہ رہتے ہوئے ایک نظریاتی و فلاحی معاشرے کی تشکیل و تعمیر کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی طرف نہ اپنے طلبہ کی مناسب رہنمائی کرتا ہے، نہ انھیں بہ حیثیت پاکستانی، مؤثر صورت میں ملّتِ اسلامیہ کے اجتماعی وجود کا ایک حصہ قرار دیتا ہے۔
ابتدائی و ثانوی درجات کے نصاب کی چند کتب میں، بعض اسلاف کے تذکروں کے ساتھ، اقبال کی کچھ نظموں یا ان کی شخصیت و سوانح کے سرسری تعارف کو شامل کرکے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ نصاب پاکستانی قوم اور معاشرے کے بنیادی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگیا! لیکن ایسی تمام ’مخلصانہ یا مصلحت آمیز‘ کوششوں کے باوجود ہمارا نصاب اپنے مذکورہ حقیقی مقاصد و مزاج اور اپنے مفید اثرات سے بڑی حد تک عاری ہے۔ ہم ہر صوبے اور علاقے کے نصابوں میں اس متعلقہ صوبے کے اکابر اور جغرافیائی و علاقائی موضوعات کو زیادہ حاوی دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے وفاقی نصابوں سے، اور خود ایسے صوبائی نصابوں سے بھی، جنھیں وفاقی حکومت تجویز یا مرتب کرتی رہی ہے یا کرتی ہے، زیادہ تر نصاب کے صوبائی یا علاقائی ہونے کا تاثر ابھرتا ہے، اور قومی و ملّی نقطۂ نظر سے یہی ہمارے نصاب کی بدقسمتی، محرومی یا کمزوری ہے۔ بعض تعلیمی سفارشات کے تجویز کردہ مناسب رہنما خطوط کے باوجود ذمہ دار وفاقی اور صوبائی نصابی مجلسیں اور ادارے ان خطوط سے ہم آہنگ موزوں و معیاری نصاب کی عدم موجودگی اور اس کی ترتیب میں مسلسل ناکامیابی اور اداروں اور ان سے منسلک افراد کی ایک حد تک بے نیازی، عدم آمادگی اور نااہلی کی طرف ذہن کو منتقل کرتی ہے، جب کہ دوسری جانب ایسے اداروں سے منسلک بیش تر افراد کا خلوص شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
چنانچہ اقبال کے ساتھ بھی یہی المیہ رہا ہے۔ اگر فکرِ اقبال کو نصاب کا حصہ بنانے کی طرف توجہ دی بھی گئی ہے تومحض ٹالنے کے لیے، لہٰذا اس کا حق ادا نہ ہوسکا۔ یوں لگتا ہے کہ جہاں جہاں اور جس درجے میں اقبال کو نصاب میں شامل کیا گیا، محض ان کی معروف و دل چسپ نظموں یا اقبال کی شخصیت و سوانح کے سرسری تعارف کو شامل کرکے یہ سمجھ لیا گیا کہ نصاب یا موضوع کا حق ادا ہوگیا، اس طرح بات خانہ پُری سے آگے نہ بڑھی۔ ملّتِ اسلامیہ اور بالخصوص جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو درپیش قومی و سیاسی اور معاشرتی مسائل میں فکرِ اقبال سے جو رہنمائی حاصل ہوتی ہے یا تعمیر کردار اور ایک نظریاتی و فلاحی معاشرے کی تشکیل و تعمیر میں جس طرح اسے استعمال کیا جاسکتا ہے، ہمارا نصاب اس قسم کی مثال شاذ ہی پیش کرسکتا ہے۔ اور ایسی جو بھی اکّا دکّا مثالیں نظر آتی ہیں، وہ بعض اعلیٰ سطحی درجات یا استثنائی طور پر’ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی‘ کی چند نصابی کتب میں ملتی ہیں۔ جب کہ ابتدائی اور بالخصوص ثانوی درجات کے نصابات، جہاں طلبہ کی تعداد نسبتاً زیادہ ہوتی ہے اور ان کا ذہن قدرے سادہ و ناپختہ اور جذب و قبول کا اہل ہوتا ہے، فکرِ اقبال کی شمولیت بہت زیادہ توجہ چاہتی ہے۔ پھر اس کی شمولیت کا انداز و نہج اور معیار تمام متعلقہ نصابوں میں، صوبائی و علاقائی حوالے سے قطع نظر، یکساں اہمیت کے ساتھ ہونا چاہیے اور یہ لحاظ بھی رہنا چاہیے کہ مثلاً اقبال کی ایک نظم کسی نصاب میں ثانوی درجے میں شامل ہے تو وہ اسی جگہ یا کسی اور جگہ کسی اعلیٰ یا کم تر درجے میں شامل نہ رہے۔ موجودہ نصابوں میں یہ تعجب خیز صورت رابطے کی کمی کے باعث موجود ہے کہ کسی جگہ اقبال کی ایک نظم ثانوی درجے میں شامل ہے، وہی نظم خود اسی جگہ یا کسی اعلیٰ ثانوی نصاب میں بلکہ ایک اور جگہ ڈگری سطح کے نصاب میںبھی نظر آتی ہے۔ ان کی نثر بھی کم و بیش اسی صورتِ حال سے دوچار ہوئی ہے (اور یہ صرف اقبال کے ساتھ ہی نہیں، دیگر قدیم و جدید مصنّفین کے ساتھ بھی ہوا ہے)۔
ان سارے مسائل اور اس صورتِ حال کا مداوا یا تلافی میرے خیال میں درجِ ذیل صورتوں میں ممکن ہے:
۱- نصاب، بالخصوص وہ نصاب، جس کی نظریاتی و قومی اور معاشرتی اہمیت ہے یا جن میں متعلقہ موضوعات کو بہ آسانی پیش کیا جاسکتا ہے، صرف وفاقی سطح پر ترتیب دیا جائے اور پھر اسی کو سارے صوبوں میں رائج کیا جائے۔ محض مخصوص صورتوں میں جزوی موضوعات اور عنوانات ہر صوبے یا علاقے کی حد تک اضافی ہوں اور اس تمام نصاب کی ترتیب میں تمام صوبوں کو مناسب نمائندگی حاصل رہے۔
۲- نصاب میں اقبالیات سے متعلق موضوعات اور فکرِ اقبال پر مشتمل مضامین اور نظم و نثر کو مرحلہ وار شامل کیا جانا چاہیے۔
الف: پرائمری سطح تک اقبال کی ایسی منظومات شامل کی جائیں، جو سبق آموز ہوں اور جن سے انسانوں کے درمیان محبت و اخوت اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہوں۔
ب: ثانوی و اعلیٰ ثانوی سطح کے نصاب میں تعمیرِ سیرت، مسلمانوں کے شاندار ماضی، بہتر (اسلامی) معاشرے کے قیام میں فرد کے کردار اور اسلام کے قومی و تہذیبی تصورات جیسے موضوعات پر مؤثر اور دل چسپ تحریریں شامل ہوں۔
ج: ڈگری اور اعلیٰ سطحوں پر فکرِ اقبال کے اہم نکات اور مضامین کو عالمی اور دنیائے اسلام کے تناظر میں اس طرح پیش کیا جاناچاہیے کہ یہ مسلمانوں کے لیے عصری تقاضوں کی موجودگی میں ایک فلاحی معاشرے اور اسلامی مملکت کے قیام میں رہنما ثابت ہوسکیں۔
۳- اگر نصاب کو محض وفاقی سطح پر مرتب کرکے نافذ کرنا قرینِ مصلحت نہ ہو تو اسے کم از کم مذکورہ بالا تجویز ۲ کے مطابق مرتب یا یکسانیت سے بچا جاسکتا ہے۔
یہاں یہ معروضات صرف اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر رائج نصابات کے تعلق سے پیش کی گئی ہیں، جب کہ اگر ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے مطالعات و تحقیقات موضوع بنیں تو ان کے لیے ظاہر ہے ایسے نصابی تکلفات کے بجائے اس سطح کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق موضوعات اور منصوبوں کی بابت سوچا جانا چاہیے اور ان سطحات کے موضوعات کوفکرِ اقبال کے تناظر میں قوم و معاشرے کی اصلاح و بہتری اورتعمیر و ترقی کے مقاصد کے تحت طے کیاجانا چاہیے۔اس سطح پر محض احوال و آثار اور سرسری و سطحی جائزوںکواختیارکرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے ۔ان سطحوں کے مطالعات میں اگرمقررہ نصابی تربیت اورسرگرمیوں کا کسی طرح کا التزام رکھا جاتا ہے اور مطالعات و تحقیقات کسی طرح سے اور کسی بھی حوالے سے فکرِ اقبال سے منسلک ہوں، تو ان کا نصاب اور لائحہ عمل اقبال کی فکر اور مقاصد کو مجروح کرنے کا سبب نہ بنیں بلکہ مطالعات ِ اقبال کے لیے معاون اوران کے فروغ کا سبب بنیں۔
اس صورتِ حال میں ہمیں نصاب کوقومی و ملی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے فوری طور پر اصلاح و ترمیم اور اہتمام کی ضرورت ہے۔ اس غرض سے نصاب، بالخصوص وہ نصاب، جس کی نظریاتی و قومی اور معاشرتی اہمیت ہے یا جن میں متعلقہ موضوعات کو بہ آسانی پیش کیا جاسکتا ہے، صرف وفاقی سطح پر ترتیب دیا جائے اور پھر اسی کو سارے صوبوں میں رائج کیا جائے۔ڈگری اور اعلیٰ سطحوں پر فکرِ اقبال کے اہم نکات اورمضامین کو عالمی اور دنیائے اسلام کے تناظر میں اس طرح پیش کیا جاناچاہیے کہ یہ مسلمانوں کے لیے عصری تقاضوں کی موجودگی میں ایک فلاحی معاشرے اور اسلامی مملکت کے قیام میں رہنما ثابت ہوسکیں۔
اگراقبالیات کے مطالعات و تحقیقات موضوع بنیں تو ان کے لیے ظاہر ہے ایسے نصابی تکلفات کے بجائے اس سطح کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق موضوعات اور منصوبوں کی بابت سوچا جانا چاہیے اور ان سطحوں کے موضوعات کوفکر اقبال کے تناظر میں قوم و معاشرے کی اصلاح و بہتری اورتعمیر و ترقی کے مقاصد کے تحت طے کیاجانا چاہیے۔اس سطح پر محض احوال و آثار اور سرسری و سطحی جائزوںکو اختیارکرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ان سطحوں کے مطالعات میں اگرمقررہ نصابی تربیت اورسرگرمیوں کا کسی طرح کا التزام رکھا جاتا ہے اور مطالعات و تحقیقات کسی طرح سے اور کسی بھی حوالے سے فکرِ اقبال سے منسلک ہوں، تو ان کا نصاب اور لائحہ عمل اقبال کی فکر اور مقاصد کو مجروح کرنے کا سبب نہ بنیں بلکہ مطالعات ِ اقبال کے لیے معاون اوران کے فروغ کا سبب بنیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد ہونے والی پہلی تعلیمی کانفرنس میں قائد اعظمؒ نے اس بات کا عزم کیاتھا کہ ملک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کی جائے گی۔ ۱۹۵۹ء میں نیشنل کمیشن برائے تعلیم نے ۱۰ سال تک کے بچوں کے لیے لازمی اور یکساں تعلیم کا اصولی اعلان کیا، اور ۱۹۷۰ء کی تعلیمی پالیسی نے جماعت دہم تک مفت تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔۱۹۷۳ء میں، یہ وعدہ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل۲۵-اے کی شکل میں ڈھل کر ریاست کی بنیادی ذمہ داری قرار پایا، جو ہرشہری کے لیے معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے۔
ہر تعلیمی پالیسی میں بنیادی اور معیاری تعلیم کو ریاست کا فریضہ قرار دیا گیا، اور اس اصول کو برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کے تعلیمی حقوق کا تحفظ کرنے کا عزم کیا گیا۔لیکن افسوس کہ یہ وعدہ صرف پالیسیوں اور قوانین کی حد تک محدود رہا، عملی اقدامات کے لحاظ سے ہمیشہ کمی رہی۔ حکومتوں نے آئین کے تقاضے پورے کرنے کی بجائے تعلیمی شعبے کو ترجیحات سے باہر رکھا اور تعلیمی اداروں کی بہتری کے بجائے ان کی نج کاری جیسی فرار کی راہیں اپنائیں۔ نج کاری کا یہ راستہ فوری مسائل کا عارضی حل تو دے سکتا ہے، مگر آنے والے دنوں میں یہ گھمبیر صورت حال کو جنم دے گا۔ اگر آج اس رویے کو روکا نہ گیا، تو ہماری آیندہ نسلیں اس کوتاہی کا خمیازہ بھگتیں گی۔
ترقی یافتہ قومیں تعلیم کو بنیادی حق سمجھ کر اپنے شہریوں کے لیے سہولیات فراہم کرتی ہیں، جب کہ ہماری حکومتیں تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کر کے ملک کو مزید تاریکی میں دھکیل رہی ہیں۔ یہ رویہ صرف تعلیمی بحران نہیں، بلکہ ہمارے مستقبل کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیلنے کا باعث بنے گا۔
۲۰۱۳ء میں ن لیگ کے دور حکومت میں نج کاری کا عمل پھر تیز ہوا،اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ۶ء۶؍ بلین ڈالر قرضے کے عوض ملک کی اہم صنعتوں کی نج کاری کی شرط قبول کی گئی۔ اس کے تحت پی آئی اے سمیت کئی سرکاری اداروں کی نج کاری کا منصوبہ عمل میں لایا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ۲۰۱۸ء میں اقتدار سنبھالتے ہی نج کاری کی پالیسی کو جاری رکھنے کا اعلان کیا اور آئی ایم ایف سے حاصل کردہ قرض کی شرائط کے تحت مختلف سرکاری اداروں کی نج کاری کا ارادہ ظاہر کیا۔ عمران خان حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز، پی آئی اے، اور چند دیگر اداروں کی نج کاری کی کوشش کی۔ حکومت نے نج کاری کے لیے کم از کم ۱۸؍ادارے منتخب کیے اور ان کے لیے مخصوص منصوبے تیار کیے۔تاہم، یہ منصوبہ عملی طور پر کامیاب نہ ہو سکا، کیونکہ سیاسی مخالفت، قانونی پیچیدگیاں اور نجی سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی جیسے عوامل رکاوٹ بنے۔اس کے علاوہ ان اداروں کے ملازمین اور یونینز کی طرف سے بھی شدید مزاحمت کا سامنا رہا۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے اور اس کی بہتری میں سرکاری اسکولوں کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مذکورہ صورت حال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیم کی نج کاری کے بجائے اس کے معیار اور رسائی میں اضافہ کرے تاکہ ہر بچہ، چاہے وہ کسی بھی سماجی، معاشی یا مذہبی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو، معیاری تعلیم حاصل کر سکے۔تعلیم کا شعبہ تمام شعبوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،اسے سرسری نہ لیا جائے، بلکہ اسے ایک قومی ذمہ داری سمجھیں۔ ایک مضبوط اور مستحکم تعلیمی نظام ہی وہ بنیاد ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کو روشن مستقبل کی ضمانت فراہم کرے گا۔ اس لیے ہمیں ایک ایسے تعلیمی نظام کی تعمیر میں حصہ ڈالناہے، جو نہ صرف طلبہ کی ذہنی، معاشرتی، اور ثقافتی ترقی کا باعث بنے بلکہ ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے اورہمیں چاہیے کہ مل جل کر اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کام کریں، تاکہ پاکستان کا مستقبل روشن ہو، اور ہر بچے کو اس کا بنیادی تعلیمی حق مل سکے۔
’سالگرہ‘ کا لفظ دو الفاظ ’سال‘ اور ’گرہ‘ کا مرکب ہے۔ ’سال‘ کا مطلب ’سال‘ یا ’سالانہ‘ اور ’گرہ‘ کا مطلب ہے ’گرہ باندھنا‘ یا ’منسلک ہونا‘۔ اس طرح، سالگرہ کا مطلب ہے کسی کی زندگی کا ایک سال مکمل ہونے کی خوشی منانا۔سالگرہ منانا دراصل اس دن کی یاد منانا ہے، جب کوئی شخص پیدا ہوا تھا۔ ہر سال اس دن کو خوشی اور تقریب کے ساتھ منایا جاتا ہے۔البتہ اس کی شرعی حیثیت کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
حضرت عمرؓ کے اس اقدام سے یہ سبق ملتا ہے کہ برائی یا شرک کے آثار کو جنم دینے والی کسی بھی چیز کو ختم کرنا ضروری ہے، چاہے وہ چیز بظاہر کتنی ہی محترم کیوں نہ ہو۔
جو والدین اپنے لاڈلوں کی سالگرہ مناتے ہیں، وہ یہ بات اپنے ذہن میں تازہ رکھیں کہ بچے اللہ کی طرف سے نعمت ہیں۔ والدین کو ہر لمحہ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے انھیں ان معصوم تحفوں سے نوازا۔ وہیں اس بات کا اِدراک بھی ہونا چاہیے کہ اولاد کو نعمت کے ساتھ ساتھ فتنہ اور آزمائش بھی کہا گیا ہے۔ان کی پرورش، تعلیم و تربیت، اور ان کی شخصیت سازی ایک ذمہ داری ہے۔ ہم ایسا کوئی کام نہ کریں، جس کا غلط اثر بچوں کی تربیت پر پڑے۔
کسی تنظیم، جماعت، یا ادارے، خاص کر کسی دینی و اسلامی جماعت کی سالگرہ منانے کا مطلب یہ قطعی نہیں ہوتا جو کسی فرد کی سالگرہ کا منانا ہوتا ہے۔ کسی جماعت کے لیے یہ دن اس کے مقاصد، کارکردگی اور وابستگی کی تجدید کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کی سالگرہ یا یومِ تاسیس منانے کا مطلب جماعت کی تشکیل کے دن کو یادگار کے طور پر منانا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد جماعت کے قیام کی یاد تازہ کرنا، اس کی خدمات، جدوجہد اور مقاصد کو اُجاگر کرنا ہے۔
جواب :اس اعتراض کے جواب میں، مَیں دو چیزوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں: یہ ’ترقی یافتہ‘ اور ’ضروریات‘ کے الفاظ ہیں۔
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ’ترقی‘ کا مفہوم کیا ہے؟ لفظ ’ترقی‘ کا تجزیہ کرنے کے بعد ہم یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ کوئی خاص غایت (goal) ہمارے پیش نظر ہو، جس تک ہم پہنچنا چاہتے ہوں، تو اس گول کی طرف بڑھنے کا نام ’ترقی‘ ہے اور اس سے مخالفت سمت کو جانا ’رجعت‘ اور ترقی سے محرومی ہے۔ اب اگر ہم اپنے لیے کوئی ایسا گو ل مقرر کرلیں، جو باطل ہو تو اس کی طرف پیش قدمی کرنا ترقی نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں انسان کا جو گول مقرر کیا گیا ہے، کیا انسانی زندگی کا حقیقی مقصد اور غایت اُولیٰ وہی ہے جو جدید تہذیب نے قرار دی ہے؟ ظاہر بات ہے کہ کوئی شخص اس کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ خود مغرب میں اس وقت کثیرتعداد ایسے مفکرین کی موجود ہے، جنھیں اب اس بات کا یقین نہیں ہے کہ اس تہذیب نے انسان کا جو گول مقرر کیا تھا ، وہ صحیح ہے۔ اب وہ بھی اس پر متفق ہیں کہ اس غلط گول کی طرف پیش قدمی ہی اس دور کے سب مصائب اور مسائل کی اصل جڑ ہے۔
اس کے برعکس اسلام نے جو گول (goal) انسان کے لیے مقرر کیا ہے، ہم اسی کو برحق سمجھتے ہیں اور اسی کی طرف بڑھنا ہمارے نزدیک ’ترقی‘ ہے اور اس ’ترقی‘ کے لیے اسلامی قانون ہی برحق اور ضروریات کے مطابق ہے۔ اس دور میں جو ’ترقی‘ ہوئی ہے، مَیں اس کو ایک مثال کے ذریعے سمجھاتا ہوں۔ مثلاً انسان کو شیر پر قیاس کیجیے اور دیکھیے کہ شیر پہلے اپنے پنجوں سے شکار مارتا تھا۔ پھر اس نے بندوق بنانا سیکھ لی تو وہ بندوق سے شکار کرنے لگا۔ اس کے بعد اسے توپ کا استعمال آگیا، اور آج اس نے ایٹم بم جیسے مہلک ہتھیار بنا لیے ہیں اور اسے بیک وقت ہزاروں لاکھوں جانوں کو ختم کرنے کی قدرت حاصل ہوگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے انسانیت کی کیا ترقی ہوگی؟
اب اس اعتراض کے دوسرے پہلو کی طرف آیئے ۔ جب ہمارے نزدیک موجودہ زمانے کی ترقی کا گول ہی غلط ہے تو پھر اس کی ضروریات بھی اسی طرح غلط ہیں۔ اس صورت میں ہم اس زمانے کی ضروریات کو حقیقی ضروریات کیوں کر سمجھ سکتے ہیں۔ اس زمانے کی ’ضرورت‘ تو مثال کے طور پر بدکاری بھی ہے اور بدکاری بھی ایسی کہ عورت گناہ تو کرے، لیکن اسے حمل کا خطرہ نہ ہو۔ ظاہر ہے اسلام اس ’ضرورت‘ کو ضرورت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ پہلے آپ اس دور کی وہ حقیقی یعنی genuineضروریات بتایئے، جو واقعی ضروریات ہیں تو پھر مَیں آپ کو بتائوں گا کہ اسلام ان کے لیے کیا قانون دیتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اس وقت موجودہ تہذیب کی بدولت دُنیا کی تباہی اور خرابی کا واحد سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے بہت سی ایسی چیزوں کو ’ضروریات‘ ٹھیرا لیا ہے، جو حقیقت میں اس کی ضروریات نہیں، اور یہ نتیجہ ہے انسان کے لیے ایک غلط گول مقرر کرنے اور ترقی کے نام پر اسے ہلاکت و تباہی کے جہنم کی طرف دھکیلنے کا۔(ہفت روزہ آئین، لاہور، ۲۲نومبر ۱۹۶۷ء)
جائز اور صحیح نوعیت کی ’خلافت‘ کا حامل کوئی ایک شخص یا خاندان یا طبقہ نہیں ہوتا بلکہ اہل ایمان کی جماعت کا ہرفرد ’خلافت‘ میں برابر کا حصہ دار ہے۔ کسی شخص یا طبقے کو عام مومنین کے اختیاراتِ خلافت سلب کرکے انھیں اپنے اندر مرکوز کرلینے کا حق نہیں ہے، نہ کوئی شخص یا طبقہ اپنے حق میں خدا کی خصوصی خلافت کا دعویٰ کرسکتا ہے۔
یہی چیز ’اسلامی خلافت‘ کو ملوکیت ، طبقاتی حکومت اور تھیاکریسی (Theocracy)سے الگ کرکے اسے جمہوریت کے رُخ پر موڑتی ہے۔ لیکن اس میں اور مغربی تصورِ جمہوریت میں اصولی فرق یہ ہے کہ مغربی تصور کی جمہوریت عوامی حاکمیت (Popular Sovereignty) کے اصول پر قائم ہوتی ہے، اور اس کے برعکس اسلام کی جمہوری خلافت میں خود عوام، خدا کی حاکمیت تسلیم کرکے اپنے اختیارات کو برضا و رغبت، قانونِ خداو ندی کے حدود میں محدود کرلیتے ہیں۔
اس نظامِ خلافت کو چلانے کے لیے جو ریاست قائم ہوگی، عوام اس کی صرف اطاعت فی المعروف کے پابند ہوں گے، معصیت (قانون کی خلاف ورزی) میں نہ کوئی اطاعت ہے اور نہ تعاون۔
’منتظمہ‘ کے اختیارات لازماً حدود اللہ سے محدود اور خدا اور رسولؐ کے قانون سے محصور ہوں گے، جس سے تجاوز کرکے وہ نہ کوئی ایسی پالیسی اختیار کرسکتی ہے، نہ کوئی ایسا حکم دے سکتی ہے جو معصیت کی تعریف میں آتا ہو۔ کیونکہ اس آئینی دائرے سے باہر جاکر اسے اطاعت کے مطالبہ کا حق ہی نہیں پہنچتا۔ علاوہ بریں یہ منتظمہ لازماً شوریٰ، یعنی انتخاب کے ذریعے سے وجود میں آنی چاہیے اور اسے شوریٰ، یعنی باہمی مشاورت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ لیکن انتخاب اور مشاورت، دونوں کے متعلق قرآن قطعی اور متعین صورتیں مقرر نہیں کرتا بلکہ ایک وسیع اصول قائم کرکے اس پر عمل درآمد کی صورتوں کو مختلف زمانوں میں معاشرے کے حالات اور ضروریات کے مطابق طے کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔
’مقننہ‘ لازماً ایک ’شورائی ہیئت‘ (Consultative Body) ہونی چاہیے، لیکن اس کے اختیاراتِ قانون سازی بہرحال ان حدود سے محدود ہوں گے۔ جہاں تک ان اُمور کا تعلق ہے جن میں خدا اور رسولؐ نے واضح احکام دیئے ہیں یا حدود اور اصول مقرر کیے ہیں۔ یہ مقننہ ان کی تعبیروتشریح کرسکتی ہے، ان پر عمل درآمد کے لیے ضمنی قواعد اور ضابطۂ کارروائی تجویز کرسکتی ہے، مگر ان میں رَدّوبدل نہیں کرسکتی۔ رہے وہ اُمور جن کے لیے بالاتر قانون ساز نے کوئی قطعی احکام نہیں دیئے ہیں، نہ حدود اور اصول معین کیے ہیں، ان میں اسلام کی اسپرٹ اور اس کے اصولِ عامہ کے مطابق مقننہ ہرضرورت کے لیے قانون سازی کرسکتی ہے، کیونکہ ان کے بارے میں کوئی حکم نہ ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ شارع نے ان کو اہل ایمان کی صواب دید پر چھوڑ دیا ہے۔
’عدلیہ‘ ہر طرح کی مداخلت اور دبائو سے آزاد ہونی چاہیے، تاکہ وہ عوام اور حکام سب کے مقابلے میں قانون کے مطابق بے لاگ فیصلہ دے سکے۔ اسے لازماً ان حدود کا پابند رہنا ہوگا۔ اس کا فرض ہوگا کہ اپنی اور دوسروں کی خواہشات سے متاثر ہوئے بغیر، ٹھیک ٹھیک حق اور انصاف کے مطابق معاملات کے فیصلے کرے۔(’قرآن کی سیاسی تعلیمات‘،سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۲، عدد۳-۴، نومبر، دسمبر ۱۹۶۴ء، ص۶۸، ۷۲-۷۴)