مغرب میں ایک بات بار بار دُہرائی جاتی ہے کہ ریاست اسرائیل کا قیام ایک خدائی منصوبہ ہے،اور اس کے ثبوت میں بائبل کی ایک آیت پیش کی جاتی ہے:’’میں نے تمھاری نسل کو یہ زمین دی دریائے مصر سے لے کر دریائے فرات تک‘‘۔(پیدائش ۱۵: ۱۸)
پہلی نظر میں بات سیدھی لگتی ہے۔ خدا نے زمین دی،تو پھر ریاست بھی بن سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔
آیت کیا کہتی ہے؟ ’’تمھاری نسل کو زمین دی‘‘۔
اور تعبیر کیا کہتی ہے؟’صرف ایک نسل‘ یعنی صرف اسحاق کی نسل کو۔ یہاں ایک چھوٹی سی تبدیلی پوری کہانی بدل دیتی ہے۔
اب ایک سادہ سوال: ابراہیم ؑکے کتنے بیٹے تھے؟
دو: اسحاق ؑاور اسماعیلؑ۔ اب میراث یا وراثت (inheritance ) کا اصول کیا کہتا ہے؟
جو چیز باپ کو دی جائے وہ اس کی اولاد میں برابر کی تقسیم ہوتی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ زمین صرف ایک کو کیوں؟
یہ وہ سوال ہے جو ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ اور پھر سمجھے بغیر ایک پوری کہانی مانتے گئے۔
اب ذرا اسماعیل علیہ السلام کی طرف دیکھیے۔ بائبل خود کیا کہتی ہے؟’’میں اسماعیل کو برکت دوں گا اسے بارآور کروں گا اور اس کی نسل کو بڑھاؤں گا‘‘۔ (پیدائش۱۷: ۲۰)
گویا اسماعیلؑ کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ انھیں بھی برکت دی گئی۔
اب یہاں ایک لمحے کو رک کر سوچیں: اگر برکت دی گئی تو زمین کیوں نہیں؟ یہاں اصل مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
متن کیا کہتا ہے: ’’اسماعیل کوقبولیت دی گئی، برکت دی گئی‘‘۔
اور تعبیر کیا کرتی ہے؟ مرکزی حیثیت صرف ایک نسل کو دے دیتی ہے۔
اسماعیلؑ کو نکالا نہیں گیا، مگر انھیں مرکز سے ہٹا دیا گیا۔ انھیں محروم نہیں کیا گیا، مگر خاموشی سے نظر انداز کر دیا گیا۔ اور یہی سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کسی چیز کو کھل کر رَد کرتے ہیں تو سوال اٹھتا ہے، لیکن جب آپ اسے خاموشی سے نظر انداز کرتے ہیں تو سوال پیدا ہی نہیں ہوتا، اور یہی خاموشی آہستہ آہستہ ایک نظریے کا رُوپ دھار لیتی ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو کہتا تو ہے کہ ہم متن پر ہیںلیکن حقیقت میں وہ اپنی تعبیر پر کھڑا ہوتا ہے___ گھڑی ہوئی تعبیر پر۔
اب ذرا قرآن کی طرف آئیں۔ قرآن ایک جملے میں پوری بحث بدل دیتا ہے: لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِــمِيْنَ۱۲۴ (البقرہ ۲:۱۲۴)یعنی’’میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچتا‘‘۔
اب یہاں ایک بہت بڑی تبدیلی آتی ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہتا کہ تم کس نسل سے ہو؟ سوال یہ ہو جاتا ہے:تم کیا کر رہے ہو؟
یعنی:وعدہ نسل سے نہیں عمل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کوئی ظلم کرے تو وہ ابراہیم ؑکی نسل میں ہوکر بھی اس وعدے کا حق دار نہیں رہتا۔اور اگر کوئی عدل پر ہو تو وہ اس وعدے کے قریب ہوجاتا ہے۔ گویا قرآن ہمیں بتاتا ہے: زمین ’میراث‘ (inheritance )میں نہیں ملتی بلکہ ذمہ داری سے ملتی ہے۔
اب یہاں ایک بہت اہم بات سمجھ آتی ہے۔ اگر خدا کا وعدہ اخلاق سے مشروط ہے، تو پھر ایک اصول نکلتا ہے: کوئی بھی ظلم کسی بھی دعوے کو باطل کر دیتا ہے۔
یعنی: صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ’’یہ ہمارا حق ہے‘‘۔
اصل سوال یہ ہے: کیا تم اس حق کے قابل بھی ہو؟
اور یہی وہ اصول ہے جو پوری سیاسی تعبیر کو چیلنج کرتا ہے۔
یہاں ایک اور چونکانے والی بات سنیئے :کیا آپ جانتے ہیں کہ خود یہودی مذہبی روایت اس مسئلے پر کیا کہتی ہے؟
’تلمود‘ میں ایک تصور آتا ہے،جسے تین قسموں یا (Three Oaths) سے تعبیر کرتے ہیں۔
یہ کیا ہیں؟ یہ وہ اصول ہیں جو بنی اسرائیل کے لیے طے کیے گئے، جب وہ اپنی سرزمین سے نکل گئے تھے: l اوّلاً: انھیں کہا گیا:تم زبردستی واپس نہیں جاؤ گے، یعنی طاقت کے زور پر ریاست قائم نہیں کرو گے۔lثانیاً: تم اقوام کے خلاف بغاوت نہیں کرو گے، یعنی سیاسی طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل نہیں کرو گے۔lثالثاً: اور تم انتظار کرو گے ماشیاح (Mashiach: مسیحا) کا۔
یعنی بات بہت صاف ہے کہ ریاست کا قیام انسان کا کام نہیں تھا، بلکہ اسے ایک الٰہی وقوعے کے طور پر ہونا تھا۔
اب یہاں ایک فطری سوال سامنے آتا ہے۔ اگر یہ اصول خود یہودی مذہبی روایت میں موجود ہے تو پھر یہ ریاست کیسے بنی؟ کیا مسیحا آ گئے تھے؟ یا پھر انسان نے خود وہ کام اپنے ذمہ لے لیا جسے اس کی اپنی روایت منع کر رہی تھی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب اور سیاست ٹکرا جاتے ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں کہانی ٹوٹ جاتی ہے۔
اب تاریخ کی طرف آئیے۔ انیسویں صدی میں یورپ میں یہودیوں پر ظلم ہو رہا تھا۔ ان کے خلاف بہت نفرت تھی، عدم تحفظ کا احساس تھا۔ یہ سب ایک مذہبی مسئلہ نہیں تھا۔ یہ ایک سماجی اور سیاسی بحران تھا۔ اس ماحول میں ایک شخص اٹھتا ہے، سامنے آتا ہے، اس کا نام ہے تھیوڈر ہرٹزل ۔ وہ ایک سوال اٹھاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ یہودیوں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ اور پھر خود ہی جواب بھی دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمیں ایک ریاست چاہیے لیکن یہاں ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ وہ تورات کا حوالہ نہیں دیتا، وہ اسے خدا کا حکم نہیں کہتا، وہ سیدھی بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ ایک مسئلہ ہے اور ہمیں اس کا سیاسی حل چاہیے۔
اب یہاں ایک چونکانے والی حقیقت سامنے آتی ہے۔ اس وقت فلسطین کا بھی حتمی طور پر تعین نہیں کیا گیا تھا۔ مختلف جگہیں زیر غور تھیں: یوگانڈا، ارجنٹائنا، مدگاسکر، قبرص یعنی زمین کا انتخاب کوئی آسمانی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ممکنہ انتخاب تھا۔ اب ذرا سوچیں اگر یہ واقعی خدا کا وعدہ ہوتا تو اتنے سارے آپشنز نہ ہوتے۔ جگہ نہیں بدلتی۔ کیا خدا کے وعدے آپشنز میں آتے ہیں؟ نہیں۔ لیکن چونکہ یہ وعدہ نہیں تھا، یہ ایک منصوبہ تھا، انسانی منصوبہ تھا، ایک ایسا منصوبہ جو ایک مسئلے کے حل کے لیے بنایا گیا تھا اور بعد میں اسے مذہب کا لباس پہنا دیا گیا۔
اب کہانی ایک اور رُخ لیتی ہے۔ یورپ میں ایک بڑا المیہ ہولوکاسٹ کی صورت میں پیش آتا ہے۔ لاکھوں یہودی قتل کیے جاتے ہیں۔ صدیوں کا ظلم ایک انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ یورپ کے ضمیر پر ایک بوجھ آ جاتا ہے، ایک احساس گناہ، ایک شرمندگی، ایک ندامت۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ظلم کا ازالہ کہاں ہونا تھا؟ کیا یورپ اپنی زمین دیتا یا وہ اپنے نظام کو بدلتا؟ بھئی ہونا تو یہی چاہیے تھا۔ لیکن اس نے ایک اور راستہ چنا۔ اس بوجھ کو اٹھایا اور اسے فلسطین کی سرزمین پر رکھ دیا۔
یہاں ایک فیصلہ ہوا ۱۹۱۷ء میں ’بالفور ڈیکلریشن‘ کے نام سے۔ برطانیہ نے کہا کہ ہم یہاں ایک ’جیوش ہوم لینڈ‘ (یہودی ریاست) کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ زمین کس کی تھی؟ ارے بھئی وہاں پہلے سے لوگ آباد تھے۔ ایک معاشرہ تھا، ایک تاریخ تھی، مگر ان سے پوچھا نہیں گیا۔ فی الحقیقت یہ ایک کولونیل ٹرانسفر تھا۔ بنیادی طور پر تو یہ ایک یورپی مسئلہ تھا، مگر یورپ کے اجتماعی گناہ کا بوجھ ایک عرب سرزمین پر منتقل کر دیا گیا۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے ایک کولونیل پروجیکٹ (سامراجی منصوبہ) شروع ہوا۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک سیاسی منصوبہ تھا تو اسے مذہب کا رنگ کیوں دیا گیا؟ جواب بہت سادہ ہے مگر ہم اکثر اسے نظرانداز کر دیتے ہیں، قانونی حیثیت (Legitimacy) کی خاطر۔ ’قانونی حیثیت‘ کا مسئلہ یعنی لوگوں کو یہ یقین دلانا کہ جو آپ کر رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ اب یہاں ایک بہت بڑی تبدیلی آتی ہے۔ اگر آپ کہیں کہ یہ ایک سیاسی منصوبہ ہے تو لوگ فوراً سوال کریں گے: کیوں؟ کیسے؟ اس کا اخلاقی جواز کیا ہے؟
لیکن اگر آپ کہیں کہ یہ خدا کا وعدہ ہے تو کیا ہوتا ہے؟
سوال ختم ہو جاتے ہیں، تنقید رُک جاتی ہے اور مخالفت گناہ بن جاتی ہے۔ کیونکہ اب یہ سیاست نہیں رہی، یہ ایمان کا مسئلہ بن گیا۔
اب ذرا ایک اور مثال دیکھیں ۱۹۶۷ء کی بات ہے۔ عرب اسرائیل جنگ ہوتی ہے، جسے ہم ’چھے روزہ جنگ‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ صرف چھے دنوں میں ایک چھوٹی ریاست بڑی بڑی افواج پر غالب آ جاتی ہے۔ یہ کیسے ہوا؟ اور یہ تھا کیا؟ بنیادی طور پر یہ ایک فوجی کامیابی تھی۔ ایک اسٹرے ٹیجک برتری تھی اسرائیل کی۔
اصل کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں اس کامیابی کی تشریح کی جاتی ہے۔ اس کامیابی کو کیسے پیش کیا گیا؟ کہا گیا کہ یہ خدا کی مدد تھی۔ اب ذرا غور کریں کہ ایک انسانی پلاننگ، ایک فوجی اسٹرے ٹیجی، ایک عملی تنفیذ (ایگزیکیوشن ) اور اسے بدل دیا گیا ایک الٰہی مداخلت (ڈیوائن انٹرونشن) میں۔ یہاں ایک خطرناک تبدیلی ہوتی ہے۔ طاقت تقدس بن جاتی ہے۔ جو چیز انسان نے حاصل کی تھی اسے خدا کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ اور جب ایسا ہو جائے تو سوال ختم ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اب آپ حکومت سے نہیں خدا سے سوال کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں اخلاق بدل جاتا ہے، ظلم ظلم نہیں رہتا، وہ حق بن جاتا ہے۔ قبضہ قبضہ نہیں رہتا، وہ وعدۂ الٰہی بن جاتا ہے۔ طاقت طاقت نہیں رہتی وہ مقدس مشن بن جاتی ہے۔ اور جب طاقت مقدس مشن بن جائے تو اس کے خلاف کھڑا ہونا صرف سیاسی مخالفت نہیں رہتا بلکہ گناہ بن جاتا ہے۔
اب ایک اور کہانی بھی سن لیجیے۔ اس سے بات سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ اسی دوران امریکا میں بائبل کی ایک خاص تشریح عام ہونے لگتی ہے جسے ’اسکوفیلڈ ریفرنس بائبل‘ کہتے ہیں۔ یہ صرف بائبل نہیں تھی، یہ بائبل کی ایک مخصوص ریڈنگ تھی، اور اسی ریڈنگ سے ایک نظریہ پیدا ہوتا ہے جسے کہتے ہیں Dispensationalism [نظریہ اَدوارِ الٰہی]۔ یہ نظریہ کیا کہتا ہے؟ یہ تاریخ کو مختلف اَدوار میں تقسیم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں ہیں جہاں کچھ مخصوص واقعات لازمی ہیں۔ اور اگر یہ ہو جائیں تو مسیح کی واپسی قریب ہو جائے گی۔ یعنی ایک سیدھا فارمولا: اسرائیل بنے گا تو مسیح آئیں گے۔ اب غور کریں یہاں مذہب کیا بن گیا؟ ایک عقیدہ، ایک انتظار، ایک پروفیٹک ٹائم لائن۔
یہاں پر ایک اور اہم نکتہ سمجھیں۔ یہ اصل عیسائیت نہیں ہے بلکہ اس کی ایک جدید تعبیر ہے جو انیسویں اور بیسویں صدی میں سامنے آئی۔ یعنی یہ کلاسیکی مسیحی الٰہیات ( کلاسیکل کرسچین تھیولوجی) نہیں ہے بلکہ ایک خاص گروہ کی ریڈنگ ہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ امریکا میں لاکھوں لوگ اس نظریے پر ایمان لے آئے۔ اور پھر اسرائیل کی حمایت صرف سیاسی معاملہ نہیں رہی بلکہ ایک مذہبی فریضہ بن گئی۔ نتیجہ ؟ نتیجہ یہ نکلا کہ اربوں ڈالر کی فنڈنگ، اندھی سیاسی حمایت اور ایک ایسا مذہبی جوش جو سوال سے ماورا۔ کیونکہ جب کوئی چیز خدا کے منصوبے کا حصہ بن جائے تو اس پر سوال اٹھانا گناہ سمجھا جاتا ہے۔
اب یہاں ایک بہت اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ صرف باہر کے لوگ نہیں ہیں جو اس ریاست پر سوال اٹھاتے ہیں۔ خود یہودی مذہبی حلقوں کے اندر بھی اس پر شدید اختلاف موجود ہے۔ مثلاً نیتوری کارتا ایک مذہبی یہودی گروہ ہے جو کھل کر یہ کہتا ہے کہ یہ ریاست مذہبی طور پر غلط ہے۔ ہمیں اس ریاست کے قیام کا کوئی حق تھا ہی نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے نزدیک ریاست کا قیام انسان کا کام نہیں تھا بلکہ اسے ایک الٰہی وقوعے کے طور پر ہونا تھا۔ یعنی وہی بات جو ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ طاقت کے زور پر ریاست قائم کرنا خود ان کی مذہبی روایت کے خلاف ہے۔ اب صرف مذہبی حلقے ہی نہیں کچھ بڑے یہودی مفکرین بھی اس پورے معاملے پر سوال اٹھاتے ہیں، مثلاً مارٹن بوبر، یہ ایک بڑا نام ہے، اور دوسرے ابراہم جوشواہ حیشل۔ یہ لوگ ایک بنیادی اصول دیتے ہیں: زمین انصاف کے بغیر بے معنی ہے۔ یعنی اگر آپ کے پاس زمین ہے مگر انصاف نہیں ہے تو وہ زمین مذہبی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتی، کیونکہ خدا کا تعلق زمین سے نہیں انصاف سے ہوتا ہے۔ بندہ، خدا اور انصاف سے وابستہ ہوتا ہے، زمین سے نہیں۔
اب اس پوری تصویر کو ایک ساتھ دیکھیں جو میں نے کئی چیزیں ایک ساتھ آپ کے سامنے رکھیں، جستہ جستہ۔ اب اس کو ایک پورے تناظر میں دیکھیں۔ ہوا کیا؟ ایک آیت جس کی من پسند تعبیر کی گئی، ایک سیاسی منصوبہ جسے استعماری طاقتوں نے نافذ کیا اور پھر اس کے اوپر مذہب کا غلاف چڑھا دیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذہب ہے؟ نہیں، یہ مذہب نہیں تھا۔ مذہب کو استعمال کیا گیا تھا۔ اور جب مذہب استعمال ہوتا ہے تو وہ ہدایت نہیں رہتا ہتھیار بن جاتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہودیت نہیں بدلی، اس کے نام پر ایک نئی تعبیر گھڑی گئی، ایک ایسی تعبیر جو طاقت کو تقدس میں بدل دیتی ہے، جہاں ظلم حکمِ خدا بن جاتا ہے اور قبضہ وعدۂ الٰہی کہلانے لگتا ہے۔ اب یہاں آکر سوال اسرائیل کا نہیں رہتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم مذہب کو سمجھ رہے ہیں یا ہمیں مذہب کے نام پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ بے وقوف بنایا جا رہا ہے؟ اور اگر بے وقوف بنایا جا رہا ہے تو ذرا رُک کر سوچئے کہ یہ کھیل کون کھیل رہا ہے اور کیوں؟ اس مقام پر ایمان اور فریب ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔
سلطنتوں کے عروج و زوال کے مطالعے نے مؤرخین کو حیرتوں کے جہان کی سیر کرا ڈالی ہے۔ اس موضوع نے اہل دانش کو غور و فکر پر اُبھارا ہے۔ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف صدیوں میں دانش کے چراغ روشن کرنے والے مفکرین ابنِ خلدون [م:۱۴۰۶ء]، ایڈورڈگبن [م:۱۷۹۴ء]، آرنلڈ ٹائن بی [م:۱۹۷۵ء]، اوسوالڈ سپینگلر[۱۹۳۶ء]، پال کینیڈی [پ:۱۹۴۵ء]، ول ڈیورانٹ [م:۱۹۸۱ء] اور جدید دور کے ایرک ہوبسباوم [م:۲۰۱۲ء]اور جان میئرشہائیمر[پ:۱۹۴۷ء] ایک فکر انگیز نکتے پر متفق نظر آتے ہیں: ’’سلطنتیں عام طور پر محض اچانک کسی آفت یا بیرونی حملے کی وجہ سے نہیں گرتیں۔ بلکہ، وہ اپنی کامیابی سے پیدا ہونے والے سست اور مجموعی عمل کے ذریعے اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔ ’طاقت‘ توسیع کو جنم دیتی ہے، توسیع ذمہ داریوں میں اضافہ کرتی ہے۔ سماجی ہم آہنگی میں پیچیدگی، اداروں اور اخلاقی مقاصد کے اہداف کو کمزور کر دیتی ہے‘‘___ جیسا کہ ول ڈیورانٹ نے کہا تھا:’’ایک عظیم تہذیب باہر سے اُس وقت تک فتح نہیں ہوتی جب تک کہ وہ خود کو اپنے اندر سے تباہ نہ کر لے‘‘۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ کوئی اخلاقی کہاوت نہیں بلکہ ایک ساختیاتی قانون ہے۔
ابنِ خلدون کے ہاں ’عصبیت کا تصور‘ یعنی مشترکہ سختیوں سے پیدا ہونے والی سماجی یک جہتی، شاہی عروج و زوال کی اثر انگیز وضاحتوں میں سے ایک ہے۔ اپنی کتاب مقدمہ میں انھوں نے استدلال کیا کہ سیاسی اقتدار گروہی یک جہتی سے اُبھرتا ہے۔ یہ گروہی یک جہتی جو عام طور پر آباد مراکز کے بجائے سرحدی علاقوں میں پروان چڑھتی ہے۔ سلطنتیں اس وقت اُبھرتی ہیں، جب متحدگروہ زوال پذیر مراکز کو فتح کر لیتے ہیں، اور ان کا زوال تب شروع ہوتا ہے جب خوش حالی نظم و ضبط کو ختم کردیتی ہے، عیاشی سادگی کی جگہ لے لیتی ہے اور حکمران رضامندی کے بجائے جبر کا سہارا لیتے ہیں۔ قدیم ایرانی سلطنت اس متحرک عمل کی ایک مثال ہے۔ ’سائرس‘ اور ’دارا‘ کے دور میں، فارس (ایران) کی طاقت صرف فوجی فتوحات پر نہیں بلکہ ایک ایسی جامع شاہی اخلاقیات پر مبنی تھی، جو مقامی رسوم کا احترام کرتی تھی اور اشرافیہ کو شامل کر کے وسیع علاقوں میں وفاداری پیدا کرتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، درباری عیش و عشرت، شاہی سازشوں اور کرائے کے فوجیوں پر انحصار نے فارس کے اتحاد کو ختم کر دیا۔ جب سکندر اعظم فتوحات کرتا وہاں پہنچا، تو فارس کے پاس وسائل بلاشبہ بے پناہ تھے، لیکن ان کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے داخلی اتحاد اور اخلاقی عزم کی کمی تھی۔
ایڈورڈ گبن نے، روم پر لکھتے ہوئے، اسی رجحان کو شہری فضیلت (Civic Virtue) کے خاتمے کے پس منظر میں بیان کیا۔ گبن کے نزدیک: ’’روم کا زوال کوئی اچانک حادثہ نہیں بلکہ بڑے شاہانہ کرّوفر کا فطری اور ناگزیر‘ نتیجہ تھا۔ جمہوری نظم و ضبط، شہری فوجوں اور عوامی فرض کے کلچر نے روم کے عروج کو ممکن بنایا تھا، لیکن شاہی حد سے تجاوز (Imperial Overreach) نے شہریوں اور سپاہیوں کو ’کرائے کے فوجیوں‘ میں بدل کر رکھ دیا۔ سلطنت کی سرحدیں اس کی مالی اور سماجی استطاعت سے زیادہ تیزی سے پھیلیں، جس نے اسے زوال کے گھاٹ اُتار دیا‘‘۔ پال کینیڈی نے کہا: ’’روم ایک لمحے میں نہیں گرا___ یہ صدیوں تک فوجی اخراجات، بیوروکریٹک جمود اور گرتے ہوئے عوامی اعتماد کے بوجھ تلے کھوکھلا ہوتا رہا‘‘۔
منگول سلطنت، ابنِ خلدون کے فکری دائرے کی ایک تیز رفتار شکل پیش کرتی ہے۔ اس کا عروج تاریخ کی شاید شدید ترین’عصبیت‘ پر مبنی تھا، جو قابلیت کے سختی سے کیے گئے اعتراف اور کرشماتی قیادت کے ذریعے پیدا ہوئی تھی۔ پھر چنگیز خان نے اس اتحاد کو فوجی لچک میں بدل دیا اور آگے بڑھ کر تیزرفتار منگول توسیع نے ہی اس کے استحکام کو نقصان پہنچایا۔ جب فتوحات کے بعد نظم و نسق کا وقت آیا، تو یہ اتحاد، خاندانی اور علاقائی تقسیم میں بکھر گیا۔ عیاشی نے سادگی کی جگہ لے لی اور سلطنت ایسی خانقاہوں میں تقسیم ہو گئی جن میں وہ اصل سماجی جڑاؤ (Social Glue) موجود نہ تھا۔ یہاں ٹائن بی کا نکتہ قابلِ غور ہے: ’’تہذیبیں اس لیے زوال پذیر نہیں ہوتیں کہ وہ شکست کھا جاتی ہیں، بلکہ اس لیے زوال آشنا ہوتی ہیں کہ وہ نئے چیلنجوں کا تخلیقی جواب دینے میں ناکام رہتی ہیں‘‘۔
عثمانی سلطنت نے ثابت کیا ہے کہ بقا کا انحصار ادارہ جاتی لچک پر ہے۔ اس کا عروج سرحدی یک جہتی، مذہبی جواز اور انتظامی جدت کا مجموعہ تھا، خاص طور پر متنوع آبادیوں کی لچکدار شمولیت اور ایک پیشہ ور بیوروکریسی کے ذریعے ممکن ہوا۔ صدیوں تک عثمانیوں نے بدلتی ہوئی فوجی، جغرافیائی اور سیاسی حقیقتوں کے ساتھ کامیابی سے مطابقت پیدا کی۔ لیکن ان کا زوال تب شروع ہوا جب ادارے جمود کا شکار ہو گئے، اصلاحات نے مقتدر اشرافیہ کو خطرے میں ڈال دیا اور اقتصادی طاقت بحرِ اوقیانوس کی دنیا کی طرف منتقل ہو گئی۔ ٹائن بی کا یہ انتباہ کہ ’’تہذیبیں قتل ہونے کے بجائے خودکشی سے مرتی ہیں‘‘ عثمانی سلطنت اس کی ایک درست مثال ہے۔
پال کینیڈی کا برطانوی سلطنت کا تجزیہ معاشی ڈھانچے کو سامنے لاتا ہے۔ برطانیہ بحری غلبے، صنعتی پیداوار اور نسبتاً جامع سیاسی اداروں کے ذریعے اُبھرا، جنھوں نے سرمائے اور جدت کو متحرک کیا۔ برطانوی سلطنت کا انحصار قبضے سے زیادہ تجارت، مالیات اور سمندری کنٹرول پر تھا۔ تاہم، اس کامیابی نے عالمی وعدوں کو جنم دیا، جو برطانیہ کی معاشی استطاعت سے بڑھ گئے۔ دوعالمی جنگوں اور عالمی نظام کو برقرار رکھنے کی لاگت نے اس کی مالی بنیاد اور ساکھ کو ختم کر دیا۔ جیساکہ پال کینیڈی نے خبردار کیا تھا: ’’فوجی طاقت معاشی بنیادوں کے ساتھ ابھرتی اور گرتی ہے۔ برطانیہ کا زوال اہلیت یا ہمت کی ناکامی نہیں تھی، بلکہ حساب کتاب (Arithmetic) کی ناکامی تھی‘‘۔
ایرک ہوبسباوم اس دلیل کو مزید گہرا کرتے ہوئے شاہی عروج و زوال کو سرمایہ داری کے طویل چکروں کے اندر سمو دیتے ہیں: سلطنتیں محض سیاسی اکائیاں نہیں ہوتیں، وہ مخصوص معاشی نظاموں کا اظہار ہوتی ہیں۔ انیسویں صدی کی یورپی سلطنتیں صنعتی سرمایہ داری اور شاہی طاقت کے ذریعے فعال عالمی منڈیوں سے لازم و ملزوم تھیں۔ ان کا خاتمہ محض اخلاقی زوال کے سبب نہیں ہوا، بلکہ اس معاشی نظام کی تھکن کی وجہ سے ہوا جس نے انھیں سہارا دیا تھا۔ ہوبسباوم کے نزدیک: ’’بیسویں صدی نے ایک ساختیاتی دراڑ پیدا کی۔ عوامی سیاست، قوم پرستی اور صنعتی جنگ نے سلطنت کو سیاسی طور پر غیر قانونی اور معاشی طور پر ناقابلِ برداشت بنا دیا۔ عالمی جنگیں کوئی اتفاقی واقعات نہیں بلکہ نظامی بحران کی علامات تھیں‘‘۔
یہ فریم ورک آج کی اندھی، بہری اور منہ زور امریکی طاقت کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکا سابقہ سلطنتوں سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ اس کی رسمی کالونیاں نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کی غیر رسمی سلطنت، ڈالر کی بالادستی، فوجی اڈوں، عالمی اداروں اور ثقافتی تسلط پر مبنی ہے، جو کسی نوآبادی سے کم نہیں۔ یہ امریکی برتری ایک غیر معمولی سنگم سے پیدا ہوئی: براعظمی پیمانے پر وسائل، صنعتی بالادستی، دوسری عالمی جنگ میں فتح اور حریف طاقتوں کی تباہی۔ ۱۹۴۵ء کے بعد دُنیا کا نظم و ضبط اس بات کی عکاسی کرتا ہے جسے ہوبسباوم نے سرمایہ داری کا ’سنہرا دور‘ کہا تھا، جب امریکی پیداواری صلاحیت، سماجی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی قیادت ایک ساتھ جمع تھے۔ ۱۹۷۰ء کے عشرے سے اس معاشی ماڈل کے کٹاؤ نے صنعتی زوال، مالیاتی استحصال (Financialisation) اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے ذریعے امریکی بالادستی کی مادی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے، اُمڈتا ہوا امریکی زوال بنیادی طور پر اقدار یا قیادت کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ تیزی سے نازک ہوتی ہوئی معاشی بنیاد پر شاہانہ وعدوں کو برقرار رکھنے کا نتیجہ ہے۔
جہاں ہوبسباوم نے تاریخی ڈھانچا فراہم کیا ہے، وہیں جان جوزف میئرشہائیمر نے طاقت کی سیاست کی سفاکانہ منطق فراہم کی ہے۔ اپنی کتابThe Treagedy of Great Power Politics میں میئرشہائیمر کا استدلال ہے کہ بین الاقوامی سیاست انارکی کے تابع ہے۔ کسی اعلیٰ اتھارٹی کی عدم موجودگی میں، بڑی طاقتیں بقا کو یقینی بنانے کے لیے غلبہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ تنازعہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ طاقت کی منتقلی کا ایک ساختیاتی نتیجہ ہے۔ چیلنجوں کا عروج لازمی طور پر غالب طاقت میں خوف پیدا کرتا ہے، قطع نظر یہ کہ اس کے ارادے کیا ہوں۔ ادارے اور اصول رویے میں اعتدال تو لا سکتے ہیں، لیکن وہ نظام کے بنیادی تضادات کو ختم نہیں کر سکتے۔
یہ حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر تھوسیڈائڈز (Thucydides) کی قدیم بصیرت کو مزید واضح کرتا ہے۔ چین کا عروج، ایتھنز یا جرمنی کے عروج کی طرح، حکمران طاقت میں خوف پیدا کرتا ہے، اس لیے نہیں کہ چیلنج منفرد طور پر جارحانہ ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں موجودہ عالمی نظامِ مراتب (Hierarchy) کے لیے خطرہ ہیں۔ چین کو روکنے کی امریکی کوششیں اور امریکی طاقت کو مشرقی ایشیا سے نکالنے کی چینی کوششیں محض پالیسی انتخاب نہیں ہیں، بلکہ یہ ساختیاتی ضرورتیںاور تقاضے ہیں۔
میئرشہائیمر ایک مکرر شاہی بیماری کو بھی بے نقاب کرتے ہیں: زوال پذیر طاقتیں اکثر نتائج کو کنٹرول کرنے کی اپنی صلاحیت کا غلط اندازہ لگاتی ہیں، چیلنجوں کے عزم کو کم سمجھتی ہیں، اور ایسی حکمتِ عملی اپناتی ہیں جو ان کے خلاف توازن پیدا کرنے کے عمل کو تیز کردیتی ہیں۔ اس لحاظ سے’حد سے تجاوز‘ نہ صرف معاشی بلکہ تزویراتی (Strategic) بھی ہوتا ہے۔
جب اس مشترکہ تاریخی اور حقیقت پسندانہ عینک سے دیکھا جائے، تو امریکی سلطنت کے لیے یہ آثار فکر انگیز ہیں۔ ابنِ خلدون اور فوکویاما کمزور ہوتی ہوئی اندرونی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی لچک کو نوٹ کریں گے، گبن بے پناہ بڑائی کے خطرات کو پہچانے گا، پال کینیڈی حد سے بڑھے ہوئے وعدوں کی نشاندہی کرے گا، ہوبسباوم مٹتی ہوئی معاشی بنیادوں پر زور دیں گے، اور میئرشہائیمر خبردار کریں گے کہ طاقت کی منتقلی فطری طور پر خطرناک ہوتی ہے۔ تاہم، برطانیہ کی طرح، ریاستہائے متحدہ امریکا کے اچانک گرنے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن اس بات کا امکان بھی کم ہے کہ وہ ایسی دنیا میں اپنی بلامقابلہ برتری برقرار رکھ سکے، جہاں معاشی غلبہ اور تزویراتی عزم مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
دوسری طرف، چین کا عروج ان بہت سی خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے جو ابتدائی شاہی عروج سے وابستہ ہیں: معاشی تحرک، تکنیکی ترقی، مضبوط ریاستی صلاحیت، اور قومی استقلال و ترقیاتی کامیابی پر مبنی ’عصبیت‘ کی جدید شکل۔ تاہم، تاریخ احتیاط کا مشورہ دیتی ہے۔ جیسے جیسے چین امیر اور پیچیدہ ہوتا جائے گا، اسے عدم مساوات، داخلی سطح پر آبادیاتی دباؤ، ادارہ جاتی جمود اور حد سے تجاوز کے انھی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جنھوں نے تمام بڑی طاقتوں کے وجود کو جھنجھوڑا ہے۔
عالمی شاہی تاریخ کا دائمی سبق یہ نہیں ہے کہ زوال ناگزیر ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت اپنے اندر اپنے ہی کٹاؤ کے بیج رکھتی ہے۔ سلطنتیں یک جہتی، لچک اور جامع اداروں کے ذریعے ابھرتی ہیں، وہ تب زوال پذیر ہوتی ہیں، جب کامیابی اتحاد کو کھا جاتی ہے، ذمہ داریاں وسائل سے بڑھ جاتی ہیں، اشرافیہ اصلاحات کے خلاف مزاحمت کرتی ہے اور معاشرے نئی حقیقتوں کا تخلیقی جواب دینے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ جیسا کہ ابنِ خلدون، گبن، ٹائن بی ،ہوبسباوم اور میئرشہائیمر ہمیں مختلف انداز میں یاد دلاتے ہیں کہ سلطنتیں تاریخ سے فرار حاصل نہیں کرتیں ، وہ اس کے تابع ہوتی ہیں۔ المیہ یہ نہیں ہے کہ طاقت ختم ہو جاتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اکثر اپنی بنیادوں کی حدود کو تب پہچانتی ہیں، جب تبدیلی مشکل اور تنازعہ یقینی ہو جاتا ہے۔(ترجمہ: س م خ)
اہلِ غزہ کا تیسرا رمضان بارود اور دھماکوں کے سائے میں گزرگیا۔ افطار کے دسترخوان پر کھجوروں کے ساتھ خوف بھی تھا اور تراویح کی صفوں کے اوپر ڈرون طیاروں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی۔ ایسا محسوس ہوتا کہ اس خطے میں وقت بھی زخموں کے ساتھ بہتا رہا ہے۔اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس خونریزی کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ منظر نہایت ہولناک دکھائی دیتا ہے۔ نیوزایجنسی رائٹرز کے مطابق مارچ ۲۰۲۶ء کے پہلے پندرہ دنوں میں ایران کے ۱۲۷۰، لبنان کے ۴۸۸ اور غزہ کے ۳۶ فلسطینی اپنی جانیں ہار گئے۔ موت کے ماتم کے ساتھ بے گھری کا عذاب بھی کم نہیں۔ رہائشی علاقوں پر بمباری کے نتیجے میں تقریباً ۱۰ لاکھ لبنانی اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔
جنوبی غربِ اُردن ہی کے علاقے اُم الخیر میں ایک چھ سالہ فلسطینی بچی کو گاڑی تلے روند دیا گیا۔ڈرائیور کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے احتجاج کرنے والے مقامی افراد کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا۔ظلم کی یہ کہانی انسانوں تک محدود نہیں رہی۔ بیت اللحم کے قریب ایک فارم پر حملہ کرکے مرغیوں کے ڈربوں کو آگ لگا دی گئی، جس سے ہزاروں مرغیاں اور چوزے جل کر مرگئے۔
اسی دوران عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ (HRW) نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں سفید فاسفورس بم استعمال کیے گئے۔ یہ آتش گیر کیمیائی مادہ انسانی جسم کو جلا دیتا ہے اور شہری علاقوں میں اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے۔ اسرائیل اس سے پہلے غزہ میں بھی سفید فاسفورس کے بم استعمال کرچکا ہے۔ عالمی قوانین کی ان صریح خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ،عرب لیگ کی خاموشی افسوس ناک ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اس کے خلاف مظاہروں پربھی پابندی لگارکھی ہے۔ گذشتہ ہفتے تل ابیب میں نوجوانوں نے بے مقصد جنگوں کے خلاف جلوس نکالا۔ مظاہرین نیتن یاہو کی تصویر والے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر عبرانی میں لکھاتھا: ’نیتن یاہو کو جیل بھیجو‘۔پولیس نے پلے کارڈ چھین کر مظاہرین کی بڑی تعداد کو گرفتار کرلیا، جن پر غداری کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس آگ میں روز نئی قبریں کھودیں جارہی ہیں۔ اگر رمضان کی راتیں بھی بارود کی روشنی میں گزریں اور بچوں کے کھیل کے میدان قبرستان میں بدل جائیں تو پھر تہذیب کے اس سفر پر فخر کیسے کیا جائے؟ تاریخ آنے والی نسلوں سے ضرور پوچھے گی کہ جب ہرخبر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی تھی، تب انسانیت کی آواز اتنی مدہم کیوں تھی؟
۲۸ فروری ۲۰۲۶ء کی صبح ایران پر بلااشتعال اسرائیلی امریکی حملے کے نتیجے میں رہبر اسلامی جمہوریہ ایران علی خامنہ ای کے اہل خانہ اور ۱۸۰ طالبات کی شہادت پر جہاں دُنیا بھر میں احتجاج ہوا، وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی شدید احتجاج ہوا۔ کیونکہ یہ حقیقت سبھی کے سامنے بے نقاب ہے کہ انڈیا، اسرائیل کا طرف دار، حلیف اور سہولت کار ہے اور اس حملے سے دو روز قبل نریندر مودی نے اسرائیل میں صہیونی نسل پرست حکومت کے ساتھ گہرے تعاون کا اعلان اور ہرسطح پر تعاون کا وعدہ کیا تھا۔
اس پس منظر میں جموں و کشمیر میں احتجاج کی یہ لہر محض غم اور اشتعال کے ایک لمحے سے کہیں زیادہ گہری اہمیت رکھتی ہے۔ یہ درحقیقت اس مظلوم خطے کے نفسیاتی منظر نامے میں ایک خاموش مگر واضح تبدیلی کا پیغام ہے۔ ۲۰۱۹ء کے بعد سے، مقبوضہ کشمیر کی روزمرہ زندگی پر خوف کی ایک بھاری چادر تنی ہوئی تھی۔ وہ سڑکیں جو کبھی جدوجہدِ آزادی کے اظہار سے گونجتی تھیں، اب نگرانی، گرفتاریوں، قتل و غارت، تشدد کے زیرِ اثر ایک بے چین خاموشی میں ڈوب گئیں کہ اختلافِ رائے کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ تاہم، اب جو کچھ سامنے آیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ یہ فضا ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف دبا دی گئی تھی۔
اس احتجاج میں جو بات سب سے نمایاں دکھائی دی وہ محض اس کی وسعت نہیں، بلکہ اس کی نوعیت ہے۔ اگرچہ فوری اشتعال کشمیر سے دور الم ناک واقعات سے جڑا ہوا ہے، لیکن بین الاقوامی معاملات سے جڑے اس زمینی ردِعمل نے ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جو کہیں زیادہ مقامی اور پائے دار ہے۔ لوگ ایک اکائی کے طور پر باہر نکلے اور ان مسلکی تقسیموں سے بالاتر ہو گئے جو اکثر ان کی شناخت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ اتحاد بذاتِ خود ایک وزن رکھتا ہے۔ یہ اس جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو نچلی سطح پر برقرار رہا اور دوبارہ ظاہر ہونے کے لیے کسی موقعے کا منتظر تھا۔
اس میں سب سے زیادہ متاثر کن منظر سری نگر کے لال چوک میں ہجوم کا نمودار ہونا تھا۔ گذشتہ سات برس سے انڈیا اس جگہ کو ہندو توا غنڈوں اور مقامی کٹھ پتلیوں کے ذریعے اپنی فتح کی علامت کے طور پر استعمال کرتا آرہا تھا۔ عام لوگوں کا اس جگہ اچانک دوبارہ پوری قوت سے ظاہر ہونا دراصل یادداشت، جذبات اور عوامی آواز کی بحالی کا مظاہرہ تھا۔ جب ایسی جگہ دوبارہ زندہ ہوتی ہے، تو وہ ایک ایسا پیغام دیتی ہے جسے آسانی سے دبایا نہیں جا سکتا۔
اس لمحے کو محض 'احتجاج ' قرار دینا اس کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ یہ دراصل جمود توڑنے کا پیغام ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ خوف جب ذہنوں میں جڑ پکڑ لے تو وہ راتوں رات ختم نہیں ہوتا۔ لیکن جب لوگ اس کے باوجود قدم اٹھانا شروع کر دیں، تو یہ پہلے آہستہ آہستہ اور پھر اچانک مٹ سکتا ہے۔ یہی چیز اس لمحے کو اہم بناتی ہے۔ یہ بلاشبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاموش کرانے کے لیے بنائے گئے انڈین جابرانہ ریاستی ڈھانچے، کشمیریوں کے بنیادی عزم کو بجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
اس میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ کسی تنظیم سازی یا کسی ایک بیانیے کی رہنمائی کے بغیر پروان چڑھا ہے۔ یہ جذبہ پہلے سے موجود تھا، جو عوام کے تجربات اور تلخ یادوں میں بسا ہوا تھا۔ جو چیز بدلی، وہ اس کا اُبھر کر سامنے آنا تھا، اور جب ایسا جذبہ نظر آنے لگے، تو یہ ان لوگوں کے لیے ناقابلِ انکار چیلنج بن جاتا جو اسے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سب کچھ بدل چکا ہے، کیونکہ زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ کشمیر ایک بے رحم فوجی قبضے تلے سانس لے رہا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود، اس طرح کے لمحات اپنے فوری سیاق و سباق سے کہیں آگے تک گونج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ان کی اجتماعی قوت اور اخلاقی و اصولی موقف کی یاد دلاتے ہیں، اور ایسا کرتے ہوئے، وہ اس تصور کو بدل دیتے ہیں کہ کیا کچھ کرنا ممکن ہے۔
اس لحاظ سے، یہ محض ایک عارضی واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کنٹرول اور خاموشی کی تہوں کے نیچے، کشمیر کے بنیادی سیاسی اور جذباتی دھارے پوری طرح زندہ ہیں۔
دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیری صحافی عرفان معراج کی رہائی کا پُرزور مطالبہ کیا ہے اور۲۰۲۰ء سے حراست میں لیے گئے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی رہائی کا بھی مطالبہ دُہرایا ہے۔
’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کی قیادت میں ۳۴ سول سوسائٹی تنظیموں کے ایک اتحاد بشمول ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘، ’ہیومن رائٹس واچ‘، ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘، ’ایشین فیڈریشن اگینسٹ ان وولنٹری ڈس ایپیئرنسز‘ اور دیگر نے ۱۹مارچ کو جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا: عرفان معراج کو ۲۰مارچ ۲۰۲۳ء کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے انڈین پینل کوڈ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حراست میں لیا تھا۔ سری نگر میں مقیم آزاد صحافی اور میگزین ایڈیٹر عرفان معراج نے کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل پر بڑے پیمانے پہ لکھا ہے اور انڈین ایکسپریس، الجزیرہ، ساؤتھ ایشین اور ڈوئچے ویلے سے قلمی تعاون کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے: جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی کے نزدیک دونوں کے خلاف الزامات ’سیاسی طور پر بنائے گئے‘ اور ’من گھڑت‘ ہیں۔ہماری تنظیمیں بھارتی حکام سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ یو اے پی اے اور پی ایس اے جیسے ظالمانہ قوانین کو ختم کریں اور جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی اور میڈیا کے لیے ایک سازگار ماحول قائم کریں تاکہ وہ آزادانہ اور خودمختار طور پر کام کر سکیں‘‘۔
مزید یہ کہا ہے:’’بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ انڈین حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے فرائض کی پاسداری کرے۔ عرفان معراج، خرم پرویز اور دیگر تمام حراست میں لیے گئے انسانی حقوق سے محروم کارکنوں کو رہا کرے‘‘۔
انڈیا کے معروف ڈیجیٹل نیوز نیٹ ورک دی وائر نے بہت پہلے رپورٹ کیا تھا کہ عرفان معراج کو ایک تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری کے دوران پہلے این آئی اے آفس بلایا گیا اور پھر حراست میں لے لیا گیا، جیسا کہ ان کے خاندان نے بتایا۔
ان کے والد عرفان معراج الدین بھٹ نے ۲۰۲۳ء میں گرفتاری کے ایک دن بعد اخبارنویسوں کو بتایا تھا: ’’میرا بیٹا ایک کہانی پر رپورٹنگ کر رہا تھا جب انویسٹی گیٹرز نے ان کے موبائل پر کال کی اور کہا کہ صرف پانچ منٹ کے لیے آفس آ جائو۔ بعد میں پتہ چلا کہ اسے گرفتار کرکے دہلی بھیج دیا گیا ہے‘‘۔
گرفتاری پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لاولور، ایمنسٹی انٹرنیشنل، پریس کلب آف انڈیا اور دیگر حقوق اور آزادیٔ اظہار کی تنظیموں نے اس لاقانونیت پر شدید تنقید کی تھی۔ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف یو اے پی اے کے استعمال پر بار بار تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ آزاد میڈیا کی رپورٹنگ میں کشمیر میں صحافیوں کو پولیس کی طرف سے طلب کرکے، پوچھ گچھ کرنے اور ہرایک سے ’اچھے رویے‘ کے پیشگی ضمانت ناموں پر دستخط کرنے کا مطالبہ کرنے کے متعدد واقعات دستاویزی طور پر سامنے آئے ہیں۔
’اسکرول ڈاٹ‘ کے مطابق: چار صحافیوں کو سری نگر میں پولیس اسٹیشنوں پر بلاکر دھمکایا گیا۔ نیوز لانڈری نے رپورٹ کیا ہے: گذشتہ سال میں تقریباً ۲۵کشمیری صحافیوں کو بار بار پوچھ گچھ کے دوران ہراساں کیا گیا۔
دی وائر سے وابستہ صحافی جہانگیر علی کا فون پولیس نے ضبط کرلیا۔ اس مقصد کے لیےنہ تو کوئی ایف آئی آر کاٹی گئی، نہ وارنٹ جاری ہوئے اور نہ کسی عدالت کا حکم سامنے آیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات اور الیکٹرانک آلات رکھنے کے عالمی تسلیم شدہ اصولوں کے برعکس یہ اقدام کیا گیا۔
۱۹مارچ ۲۰۲۶ء کو جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فری لانسرز اور مقامی اخبارنویس جموں و کشمیر میں نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کا شکار ہیں۔دوسری طرف لوگوں کے ذاتی فون اچانک اُچک کر انتظامیہ تفتیش شروع کر دیتی ہے۔ عوامی سطح پر اس چیز نے سخت اضطراب پیدا کردیا ہے۔
انڈیا اور جموں و کشمیر میں کالعدم تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھی خواتین کے لیے سزا کا حکم نامہ فوجداری قانون،اصولِ قانون (جیورس پروڈنس)،اور آئینی آزادیوں کے سنگم پر ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔۲۴مارچ ۲۰۲۶ء کو دہلی کی ایک عدالت نے محترمہ آسیہ اندرابی کو عمرقید اور ان کی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو تیس تیس سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ سیّدہ آسیہ اندرابی صاحبہ دُختر مرحوم ڈاکٹر سیّد شہاب الدین یاسین اندرابی (عمر۶۴سال) نے ہوم اکنامکس میں بی ایس سی کرنے کے بعد ایم اے عربی پاس کیا ہے۔ ناہیدہ نسرین صاحبہ دُختر مرحوم شیخ نورالدین (عمر ۵۸ سال) نے ایم ایس سی زوالوجی اور ایم اے اسلامیات کیا ہے، جب کہ فہمیدہ صوفی دُختر مرحوم محمد صدیق صوفی (عمر ۴۵ سال) بی ایس سی پاس ہیں۔
جج چندر جیت سنگھ کی عدالت کے جاری کردہ فیصلے کا گہرا مطالعہ، بالخصوص پیرا گراف ۱۰، ۱۱، ۱۲ اور ۱۶ ایک ایسی منطق کو ظاہر کرتے ہیں جو مسلّمہ قانونی اصولوں سے ہٹ کر غیر مذہبی، عصبیتی اور موضوعی (subjective) میدان میں داخل نظر آتی ہے۔
اس فیصلے کے مرکزی تصور میں دو شدید تر عوامل (Aggravating Factors) موجود ہیں: پہلا، اقامتِ دین‘ کی دعوت و تبلیغ اور دوسرا، ملزمان کا اپنی ان سرگرمیوں پر ندامت کا فقدان۔ ان دو عوامل پر فیصلے کی بنیاد استوار کرنا باریک بین جائزے کا متقاضی ہے۔
پہلے بات کرتے ہیں ’اقامتِ دین‘ پر۔ عدالت یہ درج کرتی ہے کہ سزا یافتہ خواتین سے وابستہ ’تنظیم دخترانِ ملت‘ (DeM) ’اقامت ِ دین کی علَم بردار‘ تحریک ہے۔ تاہم، اس دعوے سے قطع نظر، فیصلے میں اس تصور کی نہ تو کوئی بامعنی تعریف کی گئی ہے اور نہ اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پھر اس کی فکری تعبیر اور تاریخ سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا گیا، نہ مسلّمہ تشریحات کا کوئی حوالہ دیا گیا ہے، اور نہ عقیدے اور غیر قانونی طرزِ عمل کے درمیان فرق کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔
اس کے بجائے، عدالتی استدلال ایک متعصبانہ بنیاد پر کھڑا نظر آتا ہے۔ عدالت نے خود اس تصور کی گہرائی میں اترنے کے بجائے، قاضی عبدالودود (پی ایچ ڈی اسکالر) اور ڈاکٹر محمد معاویہ خان (اسسٹنٹ پروفیسر، اسلامیہ یونی ورسٹی بہاولپور، رحیم یار خان کیمپس، پاکستان) کے ایک مقالے بعنوان ’اقامت ِ دین کا مفہوم اور عصری عہد میں اس کا نفاذ‘ پر تکیہ کیا ہے جو ’الحیات ریسرچ جنرل‘ ۲۰۲۵ء میں شائع ہوا۔اس غیرمعیاری ماخذ پر انحصار کئی خدشات کو جنم دیتا ہے۔
عدالتوں سے، خاص طور پر حساس مذہبی یا نظریاتی تصورات سے نمٹتے وقت، یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستند اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ علمی کاموں سے استفادہ کریں۔ مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا صدرالدین اصلاحی، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اور پروفیسر خورشید احمد جیسے بلندپایہ مفکرین کی کتب میں اقامت ِ دین پر علمی ذخیرہ موجود ہے۔
یہ تحریریں اس تصور کو ایک وسیع تر اخلاقی، سماجی اور ریاستی و قانونی فریم ورک کے اندر پیش کرتی ہیں، جن کی بنیاد پر اکثر اخلاقی اصلاح، فلاحِ عامہ اور روحانی نظم و ضبط پر مبنی ایک ’طرزِ زندگی‘ کو پیش اور بیان کیا جاتا ہے۔مگر یہ فیصلہ اس بھرپور فکری روایت کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس، یوں لگتا ہے کہ ایک نسبتاً غیرمعروف اور نہایت ثانوی درجے کے تعلیمی مقالے کو آن لائن سرچ کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ سابقہ انڈین عدالتی نظائر کے ساتھ اس کا تضاد نمایاں ہے۔ ۱۹۹۵ء کے ’ہندوتوا‘ کے بارے فیصلے میں، چیف جسٹس جے ایس ورما کے ماتحت سپریم کورٹ نے ’ہندوتوا‘ کو ایک ’طرزِ زندگی‘ قرار دیا تھا، جس کے لیے مولانا وحید الدین خان جیسی معروف شخصیات سمیت تشریحات کے ایک وسیع حلقے سے استفادہ کیا گیا تھا، نہ کہ خود کو کسی محدود اور غیرمعروف مآخذ تک محدود رکھا گیا۔
تاہم، یہاں پر ’اقامت ِ دین‘ کو ایک خاص (مجرمانہ) نیت کی علامت کے طور پر برتا گیا ہے، بغیر یہ دیکھے کہ کیا واقعی یہ تصور بذاتِ خود لازمی طور پر غیر قانونی ہے؟ اس طرح کے تجزیے کی عدم موجودگی میں ایک وسیع مذہبی تصور کو محض استغاثہ کے بیانیے میں ضم کر دینے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ نکتہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب اسے فیصلے کے پیرا گراف ۱۰ تا ۱۲ میں استغاثہ کے ان دعوؤں کے ساتھ پڑھا جائے، جن میں پاکستان سے سازش، نظریاتی حرکیات اور غیر قانونی مقاصد کی تشہیر کے لیے میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ لیکن یہ محض دعوے ہیں، جن کے لیے غلط نیت کا ثبوت اور ان کے واضح نتائج کا پیش کیا جانا ضروری ہے۔ انھیں محض ایک موہوم مذہبی تصور کی بنیاد پر نہیں باور کیا جاسکتا، جو ابھی تک غیر واضح اور متنازع ہے۔
خواتین نے دفاع کرتے ہوئے اپنی تحریری گذارشات میں اس خلا کو بڑی درستگی کے ساتھ اجاگر کیا۔ یہ دلیل دی گئی کہ استغاثہ مبینہ افعال اور کسی حقیقی نقصان کے درمیان کوئی ٹھوس نتیجہ یا براہِ راست تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ موقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی نمایاں ضرر اور نقصان کی عدم موجودگی سزا کے تعین میں ایک اہم تخفیفی عنصر (Mitigating Factor) ہونی چاہیے۔
تاہم، فیصلے میں اصولی، قانونی اور منطقی بنیاد کے بجائے نظریاتی فریم ورک کو وزن دیا گیا ہے۔اس عدالتی استدلال کا دوسرا ستون کھڑا کیا گیا ہے ’ندامت کا فقدان‘ ۔یہ دلیل مساوی طور پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔
’انڈین تعزیری قانون‘ واضح ہے کہ سزا متناسب، انفرادی حالات کے مطابق اور معروضی عوامل پر مبنی ہونی چاہیے۔ عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سزا سناتے وقت عمر، صحت، پس منظر اور جرم کے اصل نتائج، جیسے تخفیفی حالات کو مدنظر رکھیں۔
خواتین نے اپنی دفاعی گذارشات میں اس بات کو دُہرایا کہ سزا دینا کوئی مشینی عمل نہیں ہے بلکہ اس میں انصاف اور تناسب کا عکس نظر آنا چاہیے۔
اس کے باوجود، فیصلے میں برملا ندامت کی عدم موجودگی کو سزا میں اضافے کے لیے ایک فیصلہ کن عنصر قرار دیا گیا ہے۔یہ سوچ اور فیصلہ کئی لحاظ سے تشویش ناک فکر کی نشان دہی کرتا ہے۔ ندامت فطری طور پر ایک موضوعی امر (Subjective Factor) ہے نہ کہ قانونی استدلال۔ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے جسے آسانی سے ناپا یا پرکھا نہیں جاسکتا۔ مگر اسے ایک مرکزی حیثیت دینا ملزم کو اس بات کی سزا دینے کے مترادف ہے جس پر وہ یقین رکھتا ہے یا جس کا اظہار نہ کرنے کا وہ انتخاب کرتا ہے، بجائے اس کے جو قانوناً ثابت ہو چکا ہے۔
یہ خود کو مجرم ٹھیرانے کے خلاف حق (Right Against Self-incrimination) اور اس وسیع تر اصول پر بھی سوالات اٹھاتا ہے کہ مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے فیصلے کا انحصار شواہد پر ہونا چاہیے، نہ کہ قیاس کردہ ظن و تخمین پر۔
فیصلے کا ایک اور تشویشناک پہلو کشمیر کی نسبت سے ملزمان کے سیاسی موقف کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔ استغاثہ نے مسئلہ کشمیر پر ان کے بیان اور نظریاتی کمٹمنٹ کو انڈیا کی خودمختاری کے خلاف ایک بڑی سازش کے طور پر پیش کیا ہے۔تاہم، فیصلے کے پیراگراف ۱۶ کے مطابق زیرحراست خواتین کی سیاسی رائے اور پُرتشدد طرزِ عمل کے درمیان تعلق متعین نہیں کیا جاسکا۔ وکلائے دفاع نے مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ان کی سرگرمیاں نظریاتی اظہار اور ایک دیرینہ قومی سیاسی متنازع مسئلے پر تبصرے تک محدود تھیں، نہ کہ براہِ راست پُرتشدد کارروائیوں سے منسوب۔
جمہوری نظامِ عدل میں، کسی سیاسی نظریے کو رکھنا یا اس کا اظہار کرنا، —خواہ وہ ریاست کے سرکاری موقف کو چیلنج ہی کیوں نہ کرتا ہو، —بذاتِ خود مجرمانہ فعل نہیں بن سکتا، جب تک کہ اس کا تعلق واضح طور پر اشتعال انگیزی یا غیر قانونی اقدام سے نہ جڑا ہو۔
کشمیر کے تناظر میں یہ بحث اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ہم اسے تاریخی اور سفارتی حقائق کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ کشمیر کو عشروں سے عالمی سطح پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تصفیہ طلب مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادیں، بالخصوص قرارداد نمبر ۴۷، اس مسئلے کے سیاسی حل اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق فیصلے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
انڈین قیادت کا اپنا ریکارڈ بھی اسی موقف کی تائید کرتا رہا ہے۔ تحریک آزادی کے لیڈر اور پہلے انڈین وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بین الاقوامی فورمز پر کیے گئے وعدوں سے لے کر، بی جے پی سے وابستہ انڈین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘ کے فلسفے تک، اور ۹جولائی ۲۰۱۵ء کے ’اوفا اعلامیے‘ (Ufa Declaration) تک، —جہاں انڈیا اور پاکستان نے تمام باہمی حل طلب مسائل پر بات چیت کے عزم کا اعلان کیا، —یہ سب اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ یہاں ایک سیاسی مسئلہ موجود ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت بھی جب آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان کو حاصل کرنے کی بات کرتی ہے، تو وہ بالواسطہ یہ بات ہی تسلیم کر رہی ہوتی ہے کہ جغرافیائی اور سیاسی حدود ابھی حتمی نہیں ہیں اور ایک باہم تنازع موجود ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست خود اسے ایک حل طلب مسئلہ تسلیم کرتی ہے، تو کسی شہری یا گروہ کی جانب سے اسی مسئلے پر ایک الگ سیاسی یا نظریاتی موقف رکھنا ’مجرمانہ سازش‘ کیسے بن سکتا ہے؟ جمہوری نظامِ عدل کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب تک کوئی نظریہ تشدد پر نہیں اکساتا یا اسے بزورِ شمشیر دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، محض اس سوچ یا نظریے کو رکھنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا ہے اور نہ اس کو ’ندامت کے فقدان‘ کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے۔
کشمیر کو حل طلب مسئلہ ماننے اور اقامت دین کے فلسفہ پر اعتقاد رکھنے سے بھلا کیسے کوئی مجرم بن سکتا ہے؟
اقامت ِ دین کے تصور کو مجرمانہ رنگ دینا بھی قانونی تضادات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف انڈیا میں ہندو راشٹرا یا ہندو دیش بنانے کی مہمات کو بعض اوقات حکومتی سرپرستی یا آشیر واد حاصل ہوتا ہے اور اسے ایک ’تہذیبی حق‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف اقامتِ دین جیسے مذہبی و اخلاقی تصور کو —جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک مکمل نظامِ زندگی اور اخلاقی اصلاح کا نام ہے، اسے کیسے انڈین —ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے؟
قانون کی نظر میں یہ دوہرا معیار، عدل کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر ’ہندوتوا‘ کو ایک طرزِ زندگی (Way of Life) کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے، تو اقامت ِ دین کو، جو کہ اپنی اصل میں روحانی بالیدگی اور سماجی بہبود کا داعی ہے، محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر مجرمانہ نیت سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ جب تک استغاثہ یہ ثابت نہ کر دے کہ اس نظریے کے تحت براہِ راست کسی پُرتشدد کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی، اسے سزا کی بنیاد بنانا دراصل ’فکری آزادی‘ کو قید کرنے کے مترادف ہے۔ کسی سیاسی تنازعے پر سرکاری موقف سے ہٹ کر رائے رکھنا ’اختلافِ رائے‘ (Dissent) تو ہوسکتا ہے، لیکن اسے ’غداری‘ یا ’دہشت گردی‘ سے وابستہ کرنا آئینی حقوق کی روح کے خلاف ہے۔
دفاعی گذارشات میں کئی تخفیفی عوامل ریکارڈ پر لائے گئے: سزا یافتہ افراد کی ڈھلتی عمر، ان کا تعلیمی پس منظر، ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور یہ حقیقت کہ وہ پہلے ہی تقریباً آٹھ سال قید کاٹ چکی ہیں۔ یہ کوئی معمولی انحرافِ عدل و اخلاق کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ مذکورہ عوامل اس اصولِ تناسب (Principle of Proportionality) کی روح ہیں جو جدید نظامِ سزا کی بنیاد ہے۔
پھر کسی واضح نقصان کا ثبوت نہ ہونے کا مسئلہ بھی اس میں موجود ہے۔ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ ریکارڈ سے بھی مبینہ افعال اور کسی حقیقی بدامنی یا تشدد کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ فوجداری قانون میں، خاص طور پر سنگین جرائم میں، ایسا تعلق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے مجموعی طور پر، یہ فیصلہ بنیادی اور تشویش ناک سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کیا کوئی عدالت ایک پیچیدہ مذہبی تصور کی تشریح کے لیے کسی محدود اور گمنام علمی مآخذ پر بھروسا کر سکتی ہے؟ کیا اقامتِ دین جیسے وسیع مذہبی نظریے کو اس کے مسلّمہ معانی پر غور کیے بغیر مجرمانہ نیت کا ثبوت مانا جا سکتا ہے؟ اور کیا ’ندامت کی عدم موجودگی‘ عمر، صحت اور واضح نقصان کی کمی جیسے معروضی تخفیفی عوامل پر بھاری پڑ سکتی ہے؟
ایک آئینی جمہوریت میں، عدالتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کے نفاذ اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے درمیان ایک باریک توازن برقرار رکھیں۔ لیکن جب عدالتی استدلال عقیدے اور جرم، یا ثبوت اور تشریح کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتا ہے، تو وہ توازن خطرے میں پڑجاتا ہے۔
اس فیصلے سے پیدا ہونے والے خدشات اور مابعد اثرات صرف ایک کیس تک محدود نہیں ہیں۔ یہ اس بات کے مرکزی نکتے سے بحث کرتے ہیں کہ عدالتیں نظریات کی تشریح کیسے کرتی ہیں؟ ملزمان کی نیت کا اندازہ کیسے لگاتی ہیں؟ اور انصاف و تناسب کے اصولوں کا اطلاق کس طرح کرتی ہیں؟ اور تعصب اور عدل شکنی کی راہ پر چلتے چلتے عدل کو قتل کرنے کی آلۂ کار بن کر رہ جاتی ہیں؟
میری والدہ، سیّدہ آسیہ اندرابی کو تین بار عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، جو درحقیقت موت کی سزا کے مترادف ہے۔ یہ سزا ان دفعات کے تحت دی گئی ہے، جنھیں انڈیا کے نافذ کردہ سیاہ ترین قوانین (UAPA) میں شمار کیا جاتا ہے (یہ قانون کشمیر میں عوامی رائے کچلنے کے لیے بنایا گیا ہے)۔ کشمیر میں یہ پہلی مثال ہے کہ تحریکِ خود ارادیت میں شمولیت کی پاداش میں کسی کشمیری خاتون کو عمرقید کی سزا دی گئی ہے۔
میری والدہ کے ساتھ ان کی دو ساتھیوں، ناہیدہ نسرین اور صوفی فہمیدہ کو بھی تیس تیس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان تینوں کو۲۰۱۸ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور یہ مقدمہ آٹھ سال تک جاری رہا ہے۔ میری والدہ نے اپنی زندگی کی ۱۵ سال سے زائد مدت مختلف بھارتی جیلوں میں گزاری ہے۔ جس میں سے زیادہ تر وقت ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ (PSA) کے تحت گزارا گیا۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ میں اس کرب سے گزر رہا ہوں۔ دو عشرے قبل، اسی طرح کے ایک کمرۂ عدالت میں، ایک چھوٹے بچے کی حیثیت سے میں نے اپنے والد، ڈاکٹر قاسم فکتو کے خلاف عمرقید کی سزا کا حکم سنا تھا (وہ ۳۳ برس سے مسلسل قید میں ہیں)۔ انھیں ایک جھوٹے مقدمے میں الجھایا گیا، لیکن حقیقت میں یہ سزا تحریک حقِ خود ارادیت میں ان کی شمولیت کی وجہ سے تھی۔ میرے والد، جو اطالوی سوشلسٹ دانشور گرامچی (Gramsci)کے الفاظ میں ایک ’نامیاتی دانشور‘ (Organic Intellectual) ہیں، اب تک ۳۳سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار چکے ہیں۔ انھوں نے جیل کی کوٹھری سے۲۰ سے زائد کتابیں لکھیں اور وہیں سے اسلامک اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
میرے والدین اب اپنے گھر، اپنے بچوں اور ایک دوسرے سے سیکڑوں کلومیٹر دور دوالگ الگ جیلوں میں قید ہیں۔ میری والدہ کے خلاف سزا کا حکم نامہ روایتی عدالتی لفاظی اور ان مبینہ جرائم کی قانونی دفعات سے بھرا ہوا ہے، جو ان تینوں خواتین پر عائد کی گئی ہیں۔ یہ کیسی خون کے آنسو رُلانے والی بات ہے کہ نئی دہلی حکومت کے پاس کشمیری زندگیوں کے لاتعداد برس چھین لینے کا اختیار ہے، جیسے ان کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ وہ کیسے ہمارے گھر اُجاڑ دیتے ہیں، ہمارے خاندانوں کو بکھیر دیتے ہیں، اور پھر خود اپنے گھروں میں سکون کی نیند سو بھی لیتے ہیں؟
ہمارے گھر میں والد صاحب کے لیے ایک کمرہ ہے، ایک ایسا گھر کہ جس میں وہ ایک دن بھی نہیں رہے۔ عشروں پر پھیلی ان کی قید کے بعد، اب ہمارے گھر میں ایک لائبریری موجود ہے، جو ہماری زندگیوں میں ان کی موجودگی اور غیر موجودگی، دونوں کی علامت ہے۔
اردو میں ’شریکِ حیات‘ کا مطلب ہے کہ جس کے ساتھ زندگی بانٹی اور گزاری جائے۔ میری والدہ نے اپنے ایمان اور اپنی ہمت کے ساتھ کہا کہ اب وہ صحیح معنوں میں میرے والد کی ’شریکِ حیات‘ بن گئی ہیں، کیونکہ اب وہ دونوں عمر قید کی زندگی ایک ساتھ گزار رہے ہیں۔
بھارت کس طرح سرگرمی (Activism) کو جرم قرار دیتا ہے؟
میری والدہ کو عمر قید کی سزا سنانا ان تمام زمروں کی فضولیات کو بے نقاب کرتا ہے، جس کے تحت کہا جاتا ہے: تشدد پسند، یا عدم تشدد پسند،جنگجو یا غیر جنگجو،عسکریت پسند یاسرگرم کارکن۔ یہ وہ تفریق ہے جسے لبرل دنیا بڑے اعتماد کے ساتھ وضع کرتی ہے، لیکن جب اسے نوآبادیاتی ریاستوں کے ظالمانہ نظام کے سامنے پرکھا جائے تو یہ ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے، اور سامنے خونخوار آنکھوں والا گدھ (Vulture)نظر آتا ہے۔
میری والدہ نے کبھی زندگی بھر ہتھیار نہیں اٹھایا۔ اس لیے عدالت نے انھیں جنگ اور عسکریت پسندی کی مالی معاونت کے الزامات سے بری کر دیا۔ مگر ان کے الفاظ، ان کی وابستگیوں اور ان کے نظریات کی پاداش میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
تشدد اور عدم تشدد کی وہ حدیں جن پر لبرل دنیا اصرار کرتی ہے، ایک نوآبادیاتی ریاست کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ مگر میری والدہ کو ملنے والی سزا کسی مسلح جنگجو سے کم نہیں، بلکہ برابر ہے۔ کیونکہ سزا کا ہدف مزاحمت کا طریقہ کار نہیں، بلکہ خود ’مزاحمت‘ ہے۔ یہ عشروں تک، عوامی سطح پر، برملا اور سچ کی بولنے سزا ہے۔ سزا کے حکم نامہ میں لکھا گیا ہے کہ میری والدہ کے ساتھ نرمی برتنا: ’’ایک ایسی روح میں نئی جان ڈالنے کے مترادف ہوگا جس کا مقصد انڈیا کے اٹوٹ انگ کی علیحدگی ہے‘‘۔
ان خواتین کے اسی پختہ یقین نے انڈین انتظامیہ کو خوف زدہ کر رکھا ہے۔ انڈیا کے نزدیک میری والدہ، ان کی ساتھی، میرے والد اور سیکڑوں دیگر قیدی محض انسان نہیں، بلکہ وہ ’عبرت کے نشان‘ اور عام لوگوں کے لیے ’انتباہ‘ ہیں، جنھیں پوری کشمیری آبادی تک پہنچانے کی بھونڈی حرکتیں کی جارہی ہیں۔ پیغام واضح ہے: ’’اگر ہم۶۴ سالہ ایک بیمارخاتون کو تین بار عمر قید سنا سکتے ہیں، تو تمھیں کون بچائے گا؟‘‘
کنیائی دانشور نگوگی وا تھیونگو (م:۲۰۲۵ء)، جو خود ایک ایسی ریاست میں قید رہے، جس نے نوآبادیاتی طریقے سیکھ رکھے تھے، اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے۔ اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتابWrestling with the Devil: A Prison Memoirمیں انھوں نے لکھا کہ قید صرف سزا نہیں بلکہ ایک ڈرامائی تماشا ہوتی ہے۔ سیاسی قید کا کام ایک ’رسمی علامت‘ کے طور پر ہوتا ہے۔ ریاست قید سے صرف مزاحمتی وجود کو معاشرے سے ختم نہیں کرنا چاہتی، بلکہ وہ اسے اندر سے توڑنا چاہتی ہے اور پھر اس ٹوٹ پھوٹ کی چاروں طرف نمائش کرنا چاہتی ہے۔
اگر نوآبادیاتی ریاست ایسے لوگوں کو جیل میں اپنی جرأت کے برعکس معذرت اور معافیاں مانگتے ہوئے اور اپنے مقصد سے دست بردار ہوتے ہوئے لوگوں کے سامنے پیش کر سکے، تو حکمران سمجھتے ہیں کہ ہم نے طاقت کے ذریعے قید سے بڑھ کر حاصل کر لیا ہے کہ اس نے ’اعترافِ جرم‘ کر لیا، اور ماضی کے تمام جبر کو جواز فراہم کرکے مستقبل کے لیے بھی راستہ صاف کر دیا ہے۔ ٹوٹا ہوا قیدی پھر ایک ’’اصلاح یافتہ پیغام بر‘‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، یا انسانی ملبے کے طور پر دکھایا جاتا ہے، تاکہ آنے والے انقلابی دیکھ لیں کہ کوئی بھی اتنا فولادی نہیں کہ یہ سب سہہ سکے۔
عدالت نے خواتین کے لیے سزا میں سختی کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان تینوں خواتین میں اپنے طرزِ عمل پر کسی پشیمانی کا اظہار نہیں ملتا۔ انھیں اپنی جدوجہد پر فخر ہے اور وہ دوبارہ یہی کریں گی۔ عدالت نے اس پختہ ارادے کو ان کے ’خطرناک‘ اور ’ناقابلِ اصلاح‘ ہونے کے ثبوت کے طور پر لیا۔ میری والدہ نہیں ٹوٹیں۔ وہ سبق جو ریاست سکھانا چاہتی تھی، وہ الٹا پڑ گیا۔ اسی لیے ریاست نے وہ آخری حربہ استعمال کیا، جو اس کے پاس تھا: ایک ہی زندگی میں تین بار عمر قید!
گھر میں اُگے ہوئے پودینے کی خوشبو میری والدہ کی خوشبو کی مانند ہے۔ مَیں آج بھی انھیں گھر میں پودینے کے پودوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں۔ ان کے ہاتھ ہر پتّے کی پرورش کرتے ہوئے نہایت نرم مگر پُرعزم ہوتے تھے۔ ریاست، میری والدہ کو ’موت کا فرشتہ‘ کہتی ہے، کیونکہ وہ اس عزم و ایمان سے مزاحمت کرتی ہیں، جو کبھی کمزور نہیں پڑتا۔ برسوں کی قید کے بعد بھی وہ کشمیر کی جدوجہد حق خود ارادیت پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ میں اپنی والدہ سے ان کی مکمل ہستی، ان کی انسانیت، ان کے جاہ و جلال اور ان کی شفقت کی وجہ سے محبت کرتا ہوں۔ وہ ظلم کے سامنے آہنی دیوار ہیں، مگر اپنے بچوں، اپنے خاندان، اپنے لوگوں اور ہاں، اپنے پودینے کے پودوں کے لیے بے حد مہربان ہستی ہیں۔ وہ انھیں پیار سے ’میرا پودینہ‘ کہا کرتی تھیں۔
کاش! میری امّی جلد اپنے گھر میں اپنے پودینے کے پودوں کی دیکھ بھال کر سکیں۔ پودینے کی خوشبو سے رچی فضا میں اپنے ’پودینہ بچوں‘ سے پیار کرکے دل کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک دے سکیں۔(انگریزی سے ترجمہ: س م خ)
سوال : عورت کے محرم کے بغیر حج پر جانے کے بارے میں علمائے کرام کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ آپ براہِ کرم مختلف مذاہب کی تفصیل سے آگاہ فرمائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کے نزدیک قابلِ ترجیح مسلک کون سا ہے؟
جواب : عورت کے بلامحرم حج کرنے کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔اس معاملے میں چار مسلک پائے جاتے ہیں جنھیں مختصراً یہاں بیان کیے دیتا ہوں:
۱- عورت کو کسی حال میں شوہر یا محرم کے بغیر حج نہ کرنا چاہیے۔ یہ مسلک ابراہیم نخعیؒ، طاؤسؒ، شعبیؒ اور حسن بصریؒ سے منقول ہے اور حنبلی مذہب کا یہی فتویٰ ہے۔
۲- اگر حج کا سفر تین شبانہ روز سے کم کا ہو تو عورت بلامحرم جاسکتی ہے، لیکن اگر تین دن یا اس سے زائد کا سفر ہو، تو شوہر یا محرم کے بغیر نہیں جاسکتی۔ امام ابوحنیفہؒ اور سفیان ثوریؒ کا یہی مذہب ہے۔
۳- جو عورت شوہر یا محرم نہ رکھتی ہو وہ ایسے لوگوں کے ساتھ جاسکتی ہے جن کی اخلاقی حالت قابلِ اطمینان ہو۔ یہ ابن سیرینؒ، عطاءؒ، زہریؒ ، قتادہؒ اور اوزاعیؒ کا مسلک ہے اور امام مالک ؒ اور امام شافعیؒ کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام شافعیؒ نے ’قابلِ اطمینان رفیقوں‘ کی مزید تشریح اس طرح کی ہے کہ اگر چند عورتیں بھروسے کے قابل ہوں اور وہ اپنے محرموں کے ساتھ جارہی ہوں، تو ایک بے شوہر اور بےمحرم عورت ان کے ساتھ جاسکتی ہے۔ البتہ صرف ایک عورت کے ساتھ اُسے نہ جانا چاہیے۔
۴- ان سب کے خلاف ابن حزمؒ ظاہری کا مسلک یہ ہے کہ بے محرم عورت کو تنہا ہی حج کے لیے جانا چاہیے۔ اگر وہ شوہر رکھتی ہو اور وہ اُسے نہ لے جائے تو شوہر گناہ گار ہوگا، مگر عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اُس کے بغیر حج کو چلی جائے۔
میں ان چاروں مسالک میں سے تیسرے مسلک کو ترجیح دیتا ہوں، کیوں کہ اس میں ایک دینی فریضے کو ادا کرنے کی گنجائش بھی ہے اور اس فتنے کا احتمال بھی ہے جس کی وجہ سے حدیث میں عورت کے بلامحرم سفر کرنے کو منع کیا گیا ہے۔ ( ستمبر ۱۹۵۲ء)
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ اصولی ہدایت دی کہ جب کوئی اہمیت رکھنے والی خبر، جس پر کوئی بڑا نتیجہ مترتب ہوتا ہو، تمھیں ملے، تو اس کو قبول کرنے سے پہلے یہ دیکھ لو کہ خبر لانےوالا کیسا آدمی ہے؟ اگر وہ کوئی فاسق شخص ہو، یعنی جس کا ظاہر حال یہ بتا رہا ہو کہ اس کی بات اعتماد کے لائق نہیں ہے، تو اس کی دی ہوئی خبر پر عمل کرنے سے پہلے تحقیق کرلو کہ امرواقعہ کیا ہے؟
اس حکم ربانی سے ایک اہم شرعی قاعدہ نکلتا ہے جس کا دائرۂ اطلاق بہت وسیع ہے۔ اس کی رُو سے مسلمانوں کی حکومت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی شخص یا گروہ یا قوم کے خلاف کوئی کارروائی ایسے مخبروں کی دی ہوئی خبروں کی بنا پر کرڈالے جن کی سیرت بھروسے کے لائق نہ ہو۔ اسی قاعدے کی بنا پر محدثین نے علمِ حدیث میں جرح و تعدیل کا فن ایجاد کیا، تاکہ اُن لوگوں کے حالات کی تحقیق کریں، جن کے ذریعے سے بعد کی نسلوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پہنچی تھیں، اور فقہا نے قانونِ شہادت میں یہ اصول قائم کیا کہ کسی ایسے معاملے میں جس سے کوئی شرعی حکم ثابت ہوتا ہو، یا کسی انسان پر کوئی حق عائد ہوتا ہو، فاسق کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے۔
البتہ اس امر پر اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ [روز مرہ کے]عام معاملات میں یہ قاعدہ جاری نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ کسی کے ہاں جاتے ہیں اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں، اندر سے کوئی آکر کہتا ہے کہ آجائو، آپ اس کے کہنے پر اندر جاسکتے ہیں، قطع نظر اس سے کہ صاحب ِ خانہ کی طرف سے اِذن کی اطلاع دینے والا فاسق ہو یاصالح۔ اسی طرح اہل علم کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ جن لوگوں کا فسق جھوٹ اور بدکرداری کی نوعیت کا نہ ہو، بلکہ فساد عقیدہ کی بناپر وہ فاسق قرار پاتے ہوں، [روز مرہ کے معاملات میں] ان کی شہادت بھی قبول کی جاسکتی ہے اور روایت بھی۔ (تفہیم القرآن، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۵، عدد۲،اپریل ۱۹۶۶ء،ص۲۵)