مضامین کی فہرست


جولائی ۲۰۲۶

غزہ میں صرف معصوم بچّے ہی نہیں بلکہ اُمید بھی مر رہی ہے۔ غزہ محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیرالبرش کے مطابق: ’’نومبر ۲۰۲۵ء سے اپریل ۲۰۲۶ء کے درمیان غزہ میں بچوں کی شرح پیدائش ۶۷ فی صد تک کم ہوگئی ہے، جب کہ حاملہ خواتین میں خون کی کمی کی شرح تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ زچگی کے دائرے میں موجود خواتین بنیادی طبّی سہولتوں سے محروم ہیں، اورحمل ضائع ہونے کی شرح کئی گنا بڑھ کر، پورے معاشرے کے مستقبل پر تباہ کن حملہ بن چکی ہے‘‘۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نسل کے بچوں کا زندہ رہنے کا حق برباد کردیا گیا ہے اور اگلی نسل کی پیدائش کا امکان خطرے اور تباہی میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ چیز انسانی زندگی کا خوفناک المیہ ہے۔

’یادداشتِ اسلام آباد‘ پر مفاہمت کے بعد خلیج فارس میں توپیں بظاہر خاموش ہو گئی ہیں۔ ایران کی بحری ناکہ بندی میں نرمی کے بعد ایرانی عوام نے بھی کسی حد تک سُکھ کا سانس لیا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خطرات وقتی طور پر کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق لبنان بھی اس مفاہمت کا حصہ ہے اور ۱۴ جون کو صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے باز رہنے کی ہدایت دی۔ تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اسرائیل اس یادداشت اور امریکی ہدایات پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔

  • جنگ بندی اور لبنان کی تلخ حقیقت:لبنان میں ۱۶؍ اپریل سے بظاہرجنگ بندی نافذ ہوئی، لیکن لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے مطابق امن معاہدے کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر ۳۵۰۰ حملے کیے ہیں۔بمباری کے علاوہ ۴۰۰ سے زیادہ شہری و دیہی آبادی پر بلڈوزر پھیردیئے گئے۔یہی وجہ ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کا تصور کاغذی دستاویزات سے آگے بڑھ کر عوامی زندگی میں منتقل نہیں ہو سکا۔

اسرائیل، حزب اللہ کے نام پر لبنانی افواج کو بھی نشانہ بنارہا ہے، جس کی وجہ سے ۱۳جون کو جنوبی لبنان کے شہر نبطیحہ سے لبنانی فوج پسپا ہوگئی۔واپسی سے پہلے مقامی جرنیل نے کہا: ’’ہم اسرائیلی فوج سے تصادم نہیں چاہتے‘‘۔اسرائیل کی شدید بمباری اور ٹینک کے حملوں کے سامنے اپنے شہریوں کو نہتا چھوڑ کر فوج کا اس طرح فرارناقابلِ فہم ہے۔ 

بیروت، صور (Tyre) اور دریائے لیطانی کے اطراف بمباری، ڈرون حملوں اور گولہ باری کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اسرائیل شہری آبادی پر Fuel Bombگرارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی کچھ تصویروں میں نہتے شہری سڑک پر جابجا بھڑکتی آگ سے بچنے  کے لیے بھاگتے نظر آرہے ہیں۔ 

  • غزہ: جنگ ختم نہیں ہوئی: خلیج میں کشیدگی کم ہونے کے باوجود غزہ میں انسانی بحران بدستور جاری ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں، ناکہ بندی اور امدادی راستوں کی بندش نے مشکلات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ کریم سلام پھاٹک کی بندش کے بعد خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی شدید متاثر ہوئی۔

خان یونس اور جبالیہ میں بمباری کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ زخمیوں کے علاج کے لیے درکار سہولیات پہلے ہی ناکافی تھیں اور اب ہسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ غزہ کی تباہ حال گلیوں سے سامنے آنے والی تصاویر اس انسانی المیے کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں ایک کم سن لڑکا اپنے بیمار بھائی کو زنگ آلود ٹھیلے میں لے جاتا دکھائی دیا۔ یہ منظر محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے غزہ کی اجتماعی حالت کا استعارہ بن چکا ہے، جہاں بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ٹھیلا ہی ایمبولینس، ٹیکسی اور زندگی کی آخری امید ہے۔

  • سمندر بھی بند، زمین بھی تنگ: اسرائیلی پیش قدمی کے نتیجے میں غزہ کی آبادی ساحلی پٹی تک سمٹ آئی ہے اور ماہی گیری بہت سے خاندانوں کے لیے خوراک کا واحد ذریعہ بن چکی ہے۔ گذشتہ ہفتے بھوک سے مجبور ہوکر محمد ابوجیاب مچھلی پکڑنے ساحل پر آیا لیکن اسرائیلی بحریہ کی گولی نے اس مچھیرے کا کام تمام کردیا۔
  • غربِ اُردن : مسلسل بحران : اسی طرح غربِ اردن میں بھی کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ فلسطینی دیہات، زرعی زمینیں، دکانیں اور رہائشی مکانات مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ رام اللہ، قلقیلیہ، جنین اور دیگر علاقوں میں جائیدادوں کو نقصان پہنچانے، فصلیں جلانے اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ایک تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کی اس بم باری کا خصوصی نشانہ صحافی بن رہے ہیں۔

رام اللہ کے قصبہ بُرقہ میں مسجد النور کو آگ لگانے کی کوشش نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کی۔ خوش قسمتی سے مقامی خواتین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ ایسے واقعات صرف املاک کا نقصان نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

  • قیدیوں سے سنگین بدسلوکی اور انسانی حقوق کے سوالات: گذشتہ ہفتے الجزیرہ نے فلسطینی قیدیوں پر اسرائیلی حراستی مراکز میں جسمانی، نفسیاتی اور جنسی نوعیت کی سنگین بدسلوکی کی ایک روح فرسا رپورٹ شائع کی۔ سابق قیدیوں کے انٹرویو پر مشتمل اس رپورٹ میں نصب بصری تراشے اتنے بھیانک ہیں کہ انھیں دیکھنا بھی ممکن نہیں۔ رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے بعض ماہرین، انسانی حقوق کے اداروں اور سابق قیدیوں کے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کے مطابق یہ واقعات محض انفرادی زیادتیوں کے بجائے ایک وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔حسب توقع اسرائیلی حکام نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قراردیا لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ ان واقعات کی آزاد، شفاف اور غیر جانب دار بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ متاثرین کو انصاف ملے۔

تحقیق تو دُور کی بات یہاں یہ عالم ہے کہ اسرائیل کے وزیر اندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے تجویز دی ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقےسے حزب اللہ کی خواتین اور بچوں کو گرفتارکرلیا جائے۔ جنگی کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے کہا کہ بمباری اورجنگجوؤں کے قتل کے ساتھ ان کی عورتوں اور بچوں کو حراست میں لیاجائے۔یہ ان کے لیے موت سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں بمباری اور قتل کافی نہیں بلکہ مزاحمت کاروں کی آبرو پر ضرب لگانے کی ضرورت ہے۔

 _______________

جون ۲۰۲۶ء کو تیونس کی ایک عدالت نے النہضہ تحریک کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی راشد الغنوشی (۸۴سال) اور دیگر کئی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ تیونس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وکالۃ تونس افریقیا للانباء کے مطابق، تیونس کی ابتدائی عدالت کے دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ کرنے والے فوجداری بنچ نے ملزمان کو: ’’دہشت گرد گروہ تشکیل دینے اور جان بوجھ کر کسی بھی عنوان سے جمہوریہ کی سرزمین کے اندر دہشت گرد جرائم سے متعلق دہشت گرد گروہ میں شامل ہونے، دہشت گرد گروہ اور دہشت گرد جرائم سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے صلاحیتوں اور مہارتوں کو وقف کرنے، اور انسداد دہشت گردی قانون میں مذکور دیگر دہشت گرد جرائم‘‘ میں مجرم قرار دیا ۔

حکومتی پشت پناہی کی بنیاد پر درج کرائے گئے مقدمے ’خفیہ نیٹ ورک‘ میں انسداد دہشت گردی عدالت کے بنچ کے مطابق اس مقدمے میں سیاست دانوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔ اس فائل میں ۳۵ ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے کچھ اس مقدمے کی وجہ سے زیر حراست ہیں، کچھ دوسرے مقدمات میں گرفتار ہیں، ۱۱ ضمانت پر رہا ہیں، اور بقیہ مفرور ہیں۔ ان فیصلوں میں شامل نمایاں ترین نام درج ذیل ہیں:

راشد الغنوشی: نہضہ تحریک کے سربراہ، جنھیں ۳۰ سال کی اضافی قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، اور وہ دیگر مقدمات میں بھی زیرِ حراست ہیں۔

علی العریض: سابق وزیر داخلہ اور سابق وزیر اعظم، جنھیں ۴۲ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، اور وہ دہشت گردی کی نوعیت کے دیگر مقدمات میں بھی حراست میں ہیں۔

فتحی البلدی: سابق سیکیورٹی کمانڈر اور متوازی سیکیورٹی نظام کے مرکزی ملزم، جنھیں ۵۰سال کی اضافی قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

کمال البدوی: ریٹائرڈ فوجی اور ’برآ   کـۃ الساحل‘ گروپ کے سابق رکن، جنھیں عمر قید اور ۳۲ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دفاعی کمیٹی نے ان کے کال ریکارڈ کا تعلق محمد البراہمی کے قتل کی رات مصطفیٰ خذر کے ساتھ جوڑا ہے۔

عبد العزیز الدغسنی: راشد الغنوشی کے داماد اور بن عروس میں نہضہ کے دفتر کے سابق سربراہ، جنھیں عمر قید اور ۳۷ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انھیں اس سے قبل ’بلیک روم‘ کیس میں بھی آٹھ سال قید کی سزا ہو چکی ہے۔

قیس بکار، بلحسن النقاش، علی الفرشیشی اور متعدد سابقہ سکیورٹی حکام: انھیں دہشت گردی کے الزامات اور خفیہ نیٹ ورک کو سیکیورٹی، سرحدوں اور غیر ملکیوں کے مفادات سے جوڑنے کے جرم میں ۳۴ سے ۴۸ سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

تین مفرور افراد، جنھیں بیرون ملک فرار ہونے کی حالت میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، ان میں درج ذیل افراد شامل ہیں:

مصطفیٰ خذر:اسے ’بلیک روم‘ (الغرفة السوداء) اور ’خفیہ نیٹ ورک‘ کے مقدمات کا مرکزی ملزم ٹھیرایا گیا ہے۔ اسے اس بار عمر قید کے ساتھ مزید ۹۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دفاعی کمیٹی اسے ’خفیہ نیٹ ورک کا پہلا فیلڈ انچارج‘ قرار دیتی ہے جو سیاسی قتل و غارت گری سے متعلق دستاویزات اور شواہد چھپانے میں ملوث تھا۔

رضا البارونی: یہ النہضہ تحریک کا سابق انتظامی اور مالیاتی ڈائریکٹر ہے، جسے عمر قید اور ۷۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

کمال العیفی: اسے اس متوازی نیٹ ورک کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کو بھی عمر قید اور ۷۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے تمام ملزمان کو پانچ سال تک انتظامی نگرانی میں رکھنے کا بھی حکم دیا۔

یہ مقدمہ ۲۰۲۲ء کے اوائل میں اس وقت سامنے آیا جب پبلک پراسیکیوشن اور سیاستدان شکری بلعید اور محمد براہمی کے فروری اور جولائی ۲۰۱۳ء میں قتل کے بعد ان کے وکلا نے مقدمہ درج کرایا۔وکلا نے اس وقت النہضہ کے نام نہاد ’خفیہ ڈیوائس‘ پر ان کے قتل میں ملوث ہونے، ’جاسوسی کرنے اور ریاستی اداروں میں دراندازی‘ کا الزام لگایا تھا۔

۱۹ جون ۲۰۲۶ءکو ’ریاست کی داخلی سلامتی کے خلاف سازش‘ کے اس مقدمے  میں نئے فیصلے سامنے آئے ہیں۔ تیونس کی اپیل کورٹ کے انسداد دہشت گردی کے مقدمات دیکھنے والے فوجداری ڈویژن کے خصوصی بینچ نے باجہ میں تحریک النہضہ کے علاقائی سیکرٹری جنرل کے حق میں ابتدائی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا، تاہم سزا میں تخفیف کرتے ہوئے ۱۰ سال قید کو کم کر کے چار سال  کر دیا۔

عدالت نے النہضہ تحریک کے رہنما عبدالفتاح الطاغوتی کو بھی ۱۰ سال قید بامشقت کی سزا سنائی جس پر فوری عمل درآمد ہوگا۔ اس کے ساتھ تین دیگر ملزمان کے حق میں دعویٰ نہ سننے کا فیصلہ کیا، جب کہ ایک خاتون ملزمہ کو دو سال قید کی سزا دی گئی۔

اسی تناظر میں، عدالت نے تین دیگر ملزمان کو بھی ۱۰ سال قید کی سزا سنائی، جن میں باجہ میں النہضہ تحریک  کے علاقائی دفتر کے ارکان شامل ہیں۔

یاد رہے کہ تیونس کی ابتدائی عدالت کے انسداد دہشت گردی مقدمات کے فوجداری ڈویژن نے پہلے باجہ میں تحریک النہضہ کے علاقائی سیکرٹری کو ۱۰سال قید، جربہ کے ایک مقیم ڈاکٹر کو ۱۲سال قید، اور دیگر ملزمان کو ۱۰ سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

اس سے قبل ۱۵؍ اپریل کو، تیونس کی ایک عدالت نے الغنوشی اور تحریک النہضہ کے تین دیگر رہنماؤں کو میڈیا میں المسامرۃ الرمضانیۃ کے نام سے مشہور مقدمے میں ۲۰ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف دیگر مقدمات میں بھی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

النہضہ تحریک کے سربراہ راشد الغنوشی کو عمر قید کی سزا ان کے خلاف جاری ہونے والا تیسرا ’عمر قید‘ کا فیصلہ ہے۔ان کے خلاف پہلی عمر قید کی سزا کا فیصلہ 'صدر بورقیبہ کے دور میں ستمبر ۱۹۸۷ء میں سنایا گیا۔ غنوشی اس وقت 'اسلامی رجحان تحریک(حرکۃ الاتجاہ الاسلامی) کے سربراہ تھے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ یہ عمر قید صرف ۱۵ ماہ ہی چلی کیونکہ صدر بورقیبہ کے خلاف ان کے وزیر اعظم زین العابدین بن علی نے سفید انقلاب (بغیر خون خرابے کے ) برپا کر دیا۔ چنانچہ بورقیبہ جیل میں ہی رہے ، جب کہ راشد الغنوشی اور ان کے ساتھ کئی دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا۔

 راشد الغنوشی کے خلاف عمرقید کا دوسرا فیصلہ ۱۹۹۲ء میں صدر زین العابدین بن علی کے دور میں سنایا گیا۔ اگرچہ یہ فیصلہ بظاہر تیونس کی ایک فوجی عدالت نے جاری کیا تھا، لیکن اس کا اصل محرک اور منبع خود صدر بن علی تھا، اور الزامات پہلے سے تیار شدہ تھے، یعنی ’ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش‘ اور’تیونس میں حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاری‘۔

لیکن اللہ کی عدالت سے اس وقت یہ فیصلہ ہوا کہ صدر بن علی کا انجام ان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا جو یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ فرعونِ وقت ہیں۔ اور جب اللہ کا فیصلہ آ جائے تو اس کے فیصلے کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا، لہٰذا اس کا انجام تمام صدور، حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کے لیے عبرت کا ایک نشان بن گیا۔ چنانچہ عرب اور یورپی فضائی حدود نے ان کے طیارے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور کسی بھی ملک نے ان کا استقبال نہیں کیا۔ تاریخ میں یہ بات محفوظ ہوگئی کہ انھیں بقیہ زندگی تیونس کی پاک سرزمین میں داخل نہیں ہونے دیا گیا، یہاں تک کہ وہ انسانی تاریخ کی بدترین موت مرے، اور انھیں تیونس میں دفن تک نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف راشد الغنوشی، جن کو صدر بن علی کے حکم سے ’عمر قید‘ کی سزا سنائی گئی تھی، وہ تیونسی عوام کے شاندار استقبال میں تیونس واپس آئے اور اس سفر کا اختتام اس وقت ہوا جب وہ تیونس کی پارلیمنٹ کے اسپیکر بنے۔

 راشد الغنوشی کے خلاف ’عمر قید‘ کی تیسری سزا ۲ جون ۲۰۲۶ء کو سنائی گئی ہے، جو آمرمطلق صدر قیس سعید کے جاری دور میں سامنے آئی ہے۔ یوں راشد الغنوشی کو سنائی گئی مجموعی سزائیں ۱۰۸سال بنتی ہیں، جو کہ تیونس کے طاغوت’قیس سعید اور ان کے گماشتوں‘ کی ہوسِ اقتدار کا ظالمانہ و مستبدانہ اظہار ہے۔

حرکۃ النہضہ اور ملکی صورتِ حال 

 راشد الغنوشی کی قائم کردہ النہضہ تحریک نے اپنی ۴۵ ویں سالگرہ پر ۶ جون ۲۰۲۶ء کوایک جامع بیان جاری کیا ہے جو تیونس کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتِ حال کو بیان کرتا ہے۔ یہاں اس کے اہم نکات درج کیے جاتے ہیں:

۱- ثابت قدمی، قربانی اور تعمیر کے ۴۵ سال

۶جون ۱۹۸۱ءکو النہضہ تحریک نے اپنی تشکیل کا اعلان کیا۔ یہ محض ایک عام سیاسی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ فکری، سیاسی اور وجودی طور پر ایک ایسے تہذیبی اور جامع منصوبے کی شروعات تھی جو اس بات پر یقین ہے کہ تیونس اپنی قدیم عرب اسلامی شناخت کے ساتھ ساتھ، جدت پسندی اور عقلی اقدار کے لیے بھی کھلا رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تحریک نے آغاز ہی سے آمریت کے سامنے پُرامن عوامی جدوجہد کا مشکل ترین اور بہترین راستہ چنا، جو جبر و تشدد کے رجحان کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔تحریک کا یہ ایمان ہے کہ جو قومیں جابرانہ نظاموں تلے دب کر زندگی گزار رہی ہیں، وہ صرف مضبوط ارادے، اجتماعی شعور، حق پر ثابت قدمی اور اس پر صبر و استقامت کے ذریعے ہی اپنی آزادی حاصل کر سکتی ہیں۔

 کارکنان تحریک نے اس اصولی موقف کی بھاری قیمت چکائی۔ ان میں سے ہزاروں کارکن،  ظالموں کے قید خانوں میں بند ہوئے، سیکڑوں شہید ہوئے، کچھ تشدد کے باعث دنیا سے رخصت ہوگئے، اور ہزاروں یورپ اور دنیا بھر میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے نتیجے میں خاندان اُجڑ گئے، منصوبے اور خواب تباہ ہوگئے، اور عمر کے بہترین سال ضائع ہو گئے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، تحریک میں انتشار پیدا نہیں ہوا اور نہ اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹی، بلکہ اس نے آزمائش کے برسوں کو فکری گہرائی، خود احتسابی، دوسروں کے لیے کشادگی، اور تجربات سے سیکھنے کے لیے استعمال کیا۔اس نے اسلام اور جمہوریت کے درمیان ہم آہنگی، سول ریاست کے اصولوں، اور ایک تکثیری معاشرے میں اسلامی پس منظر رکھنے والی سیاسی تحریک کے جمہوری عمل کی خصوصیات پر گہرائی سے غور کیا۔ اس نے زیادہ بالغ نظری، عقلی پختگی، حقیقت پسندانہ اور کھلی سیاسی فکر کی بنیاد رکھی۔

۲۰۱۱ءکی جنوری کی صبح جب نمودار ہوئی، تو النہضہ تحریک جمہوری تبدیلی کے موقع کو کامیاب بنانے کے لیے پہلی صفوں میں کھڑی تھی۔ اس نے اکتوبر ۲۰۱۱ء کے پہلے آزاد اور منصفانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی، اور ایک مشکل قومی مکالمے میں حصہ لیا جس نے ملک کو افراتفری کے گڑھے میں گرنے سے بچایا۔ تحریک نے ۲۰۱۴ء کے آئین کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا، جسے عرب دساتیر میں سب سے زیادہ ترقی پسند اور متوازن قرار دیا گیا،اور جب تحریک ۲۰۱۴ء کے انتخابات ہار گئی تو اس نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اقتدار کو منتقل کر دیا۔ اس نے عرب تبدیلیوں کے تناظر میں ایک نادر مثال قائم کرتے ہوئے، اعلیٰ ترین قومی مفاد کی خدمت کے لیے عارضی ذاتی فوائد کو قربان کر دیا۔ تحریک اس تاریخ کو کسی فخر یا دکھاوے کے طور پر پیش نہیں کرتی، بلکہ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ جمہوریت سے اس کی وابستگی کوئی عارضی حربہ یا نمائشی فیصلہ نہ تھا، بلکہ یہ روشن خیال اسلامی فکر کے مرجع سے جڑی ایک راسخ یقین دہانی تھی، جس کا اس نے مشکل ترین لمحات میں بھی پاس رکھا۔ 

 ۲- تشخیص اور تجزیہ

۲۵جولائی ۲۰۲۱ء کو، ہمارے ملک کا جمہوری تجربہ، جو تکلیفوں اور قربانیوں کے ساتھ پروان چڑھا تھا، ایک بڑے دھچکے کا شکار ہو گیا۔ جب صدرِ جمہوریہ[قیس سعیّد] نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے سے پہلے اس کی سرگرمیاں معطل کر دیں، منتخب حکومت کو برطرف کر دیا، اور قانون سازی، انتظامی اور عدالتی اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ انھوں نے ۲۰۱۴ء کے اس آئین کو پسِ پشت ڈال دیا جس کی حفاظت کا انھوں نے حلف اُٹھایا تھا، اور اس ادارہ جاتی توازن کے نظام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جسے تیونس کے عوام نے پورے ایک عشرے کے دوران بہت سی قربانیوں اور تحمل و برداشت سے تعمیر کیا تھا۔تحریک نے اس وقت جو کچھ ہوا اسے جمہوریت اور آئین کے خلاف ’بغاوت‘ قرار دیا تھا، اور آج یہ حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ سچ اور درست ثابت ہو چکی ہے۔ اب اس سچائی پر نہ صرف سیاسی مخالفین متفق ہیں، بلکہ انسانی حقوق کی بڑی تنظیمیں، ماہرینِ تعلیم کے خصوصی ادارے اور اقوامِ متحدہ کے اداروں کی رپورٹیں بھی اس کی تصدیق کر رہی ہیں۔

 اس راستے کے پانچ سال بعد، ہم اس نتیجے پر کھڑے ہیں:

  •   ریاست کی ناقص حکمرانی اور اداروں کی مفلوج حالت: اختیارات کسی حقیقی ادارہ جاتی نگرانی کے بغیر مکمل طور پر فردِ واحد کے ہاتھ میں مرکوز ہو چکے ہیں۔پارلیمنٹ ایک بے وزن، نمائشی ادارہ بن کر رہ گئی ہے، اور عدلیہ ایک انتظامی آلہ بن گئی ہے نہ کہ ایک آزاد اتھارٹی۔
  • قانون سازی اور انتظامیہ کی ابتر صورتِ حال: قانون سازی کے بجائے صدارتی فرامین جاری کیے جاتے ہیں، اور مقدمات کا فیصلہ قانون کے بجائے خواہشات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔وفاداری کو ترجیح دیتے ہوئے باصلاحیت افراد کو باہر کر دیا گیا، جس سے انتظامی ڈھانچا بُری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ 
  • سیاسی جمود اور منظم جبر: سیاسی قیدیوں کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں پارٹیوں کے سربراہان، جج، وکلا، صحافی، کاروباری شخصیات اور نوجوان کارکن شامل ہیں۔عدالتوں نے من مانے فیصلے جاری کیے جو عشروں پر محیط قید کو بیان کرتے ہیں۔ ان متاثرین میں سب سے نمایاں تحریک کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی ہیں، جن کو حال ہی میں عمر قید کے ساتھ ساتھ خالصتاً سیاسی نوعیت کے مقدمات میں کئی عشروں پر محیط قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان تمام اقدامات نے خوف کا ایک ایسا عمومی ماحول پیدا کر دیا ہے جو تیونس کے عوام کو خاموشی اور اطاعت پر مجبور کر رہا ہے۔
  • انسانی حقوق کی پامالی اور آمریت کی طرف گراوٹ: ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ کے آزادیِ صحافت کے انڈیکس میں تیونس ۱۸۰ ممالک میں ۱۲۹ویں نمبر پر گر گیا ہے۔انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے تیونسی لیگ اور دیگر تنظیموں کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک کارکن کو سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے سزائے موت سنادی گئی۔
  • اقتصادی اور مالیاتی تباہی: آج سرکاری قرضہ مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے ۸۰ فی صد سے تجاوز کر چکا ہے۔سنجیدہ اصلاحات کی عدم موجودگی اور نظریاتی تحفظات کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی آمد میں کمی آئی ہے، اور مناسب ادارہ جاتی ضمانتوں کی عدم موجودگی میں کئی بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے اپنی فنڈنگ کے دروازے بند کر دیے ہیں۔عام تیونسی شہری روزمرہ کی زندگی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عوامی خدمات کی ابتری کی صورت میں اس بحران کو جھیل رہا ہے۔
  • عالمی تنہائی اور بین الاقوامی ساکھ کا نقصان: تیونس نے انسانی اور عوامی حقوق کی افریقی عدالت کے چارٹر کے پروٹوکول سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، اور بین الاقوامی حقوق کے نظام کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ حکومت کے خلاف مذمتی رپورٹس کا سلسلہ جاری ہے۔ مزید براں، حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو اصلاحات کی سنجیدگی کے بارے میں قائل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے ضروری بیرونی فنڈنگ کا دائرہ تنگ ہو گیا ہے۔

۳- بڑے خطرات 

تحریک یہ انتباہ کسی تنگ نظر سیاسی دشمنی کی وجہ سے نہیں، بلکہ گہری قومی ذمہ داری کے احساس کے تحت کر رہی ہے۔ تیونس کسی حکومت کی ملکیت نہیں اور نہ یہ کسی ایک پارٹی کا ملک ہے۔ جو بھی اس کی یک جہتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے وہ بغیر کسی استثنا کے سب کو متاثر کرے گا۔ آج کے خطرات ماضی کے کسی بھی مرحلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہیں۔

  • ریاست کا زوال اور قانونی جواز کا خاتمہ: جب ریاست کے ادارے شہریوں کے حقوق اور مفادات کی حفاظت کرنے کے بجائے، کسی ایک فرد کی طاقت کی خدمت کا ذریعہ بن جائیں، تو ریاست اپنا بنیادی جواز کھو دیتی ہے۔ وہ شہری جو عدلیہ کو ناانصافی اور ظلم کا ہتھیار، پولیس کو دباؤ کا ذریعہ اور انتظامیہ کو عوامی خدمت کے بجائے حکومتی وفاداری کی بیوروکریسی سمجھتا ہے، وہ نفسیاتی اور جذباتی طور پر اپنی ریاست سے الگ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اگر یہ علیحدگی بڑھتی جائے، تو ایک ایسے آئینی و قانونی بحران (Crisis of Legitimacy) کا سبب بنتی ہے جسے محض انتخابات یا ظاہری طریقۂ کار سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
  • سماجی آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ: برسوں کے دوران شہریوں پر مظالم اور شکایات جمع ہوچکی ہیں، جن میں بڑھتی ہوئی قیمتیں، صحت اور تعلیمی خدمات کی تباہی، یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری میں اضافہ، اور عوامی آزادیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ یہ گھٹن زدہ معاشرہ کسی بھی لمحے ایک آتش فشاں کی طرح پھٹ سکتا ہے جو خدا نخواستہ کسی بھی مقتدرہ (حکومت) کے قابو سے باہر ہو گا۔
  • تشدد اور انتہا پسندی کی دلدل میں گرنے کا خطرہ: تاریخی تجربہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حدسے زیادہ استبداد، منظم محرومی اور بڑھتی ہوئی مایوسی بالآخر انتہا پسندی اور تشدد کو جنم دیتی ہے۔ اگر فردِ واحد کی حکمرانی پُرامن اظہار رائے اور شرکت کے دائروں کو ختم کرتی رہی، اور معاشرے کے اخلاقی و تعلیمی نظام کو نقصان پہنچاتی رہی، تو اس کے نتیجے میں ملکی سلامتی کو خطرہ ہے۔

۴-پُرامن جدوجہد کے عزم کا اعادہ

النہضہ تحریک جمہوری جدوجہد کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پُرامن جمہوری جدوجہد کا سفر جاری رکھنے کا پختہ عزم دُہراتی ہے۔ اس مرحلے پر عوام کے ساتھ رابطے، معیشت کی ترجیحات اور وسیع تر قومی اتحاد قائم کرنے میں درپیش کمزوریوں اور خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے:

۱-  تمام سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی لازمی ہے، اور یہ سب سے پہلا اور اہم ترین مطالبہ ہے۔ سیاسی موقف، جماعتی وابستگی، یا رائے کے اظہار کی وجہ سے قید کیے گئے تمام افراد کا مکمل وقار بحال کیا جانا چاہیے۔ عدلیہ کی آزادی کو بحال کیا جانا چاہیے، اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

۲- تحریک ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ حقوق و آزادیوں کے دفاع، جمہوری راستے کی بحالی، اور ایک نئے سماجی معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے متحدہ کوششیں کریں۔ یہ معاہدہ زیادہ منصفانہ اور آزادی، جمہوریت اور اقتدار کی پُرامن منتقلی کے اصولوں کو مزید پختہ کرنے والا ہونا چاہیے۔

۳- ایک حقیقی ڈھانچا جاتی اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کے نفاذ کی ضرورت ہے جو کاروباری ماحول میں اعتماد بحال کرے، سرمایہ کاری کے دروازے کھولے، اور ساتھ ہی سماجی انصاف کا سختی سے تحفظ اور معاشرے کے کمزور طبقات کی حفاظت کرے۔

اسی طرح ایک وسیع سماجی مکالمے کے دائرے میں عوامی قرضوں کے معاملے کا سنجیدہ حل،اور ملک چھوڑنے والے نوجوانوں کی واپسی، اور وطن میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مخصوص پالیسیاں،سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کرنا اور انتظامی کرپشن کا خاتمہ ملکی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

 _______________

قرآن پر ایمان لانے میں پہل کرنے والے اور اوّلین مخاطب صحابہ کرامؓ تھے۔ انھوں نے خود کو کس طرح قرآن کے حوالے کر دیا تھا، اس کا کچھ اندازہ ذیل کے واقعات سے ہو سکتا ہے:

احترامِ رسولؐ

  • سورۂ حجرات کی یہ آیات جب نازل ہوئیں:’’اے ایمان والو! اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ان کے ساتھ اُونچی آواز میں بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، ایسا نہ ہو کہ تمھارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں، درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے‘‘(الحجرات ۴۹: ۲-۳)، تو ان آیات کے نزول کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: ’’یارسولؐ اللہ! اللہ کی قسم، اب تومیں آپؐ سے اس طرح بات کیا کروں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے۔(مستدرک حاکم، ۲/۴۶۲، بحوالہ تفسیر ابن کثیر)
  •  ان آیات کے نزول کے بعد حضرت ثابتؓ بن قیس انصاری کئی دن تک حضورؐ کی مجلس میں دکھائی نہ دیے۔ آپؐ نے اہل مجلس سے ان کے بارے میں دریافت کیا تو ایک شخص نے کہا: یارسولؐ اللہ میں ان کے بارے میں آپؐ کو بتلائوں گا۔وہ صحابی حضرت ثابتؓ بن قیس کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ سرجھکائے بیٹھے ہیں۔ پوچھا: کیا حال ہے؟ جواب ملا:برا حال ہے۔میری آواز حضوؐر کی آواز سے بلند ہوتی تھی، میرے اعمال تو برباد ہو گئے اور میں جہنمی ہو گیا۔یہ صحابی حضوؐر کے پاس آئے اور ماجرا عرض کیا۔ حضوؐر نے فرمایا: تم واپس جائواور انھیں خوشخبری دو کہ تم جہنمی نہیں، جنّتی ہو‘‘۔(صحیح بخاری،کتاب التفسیر، مسنداحمد ۳/۱۳۷، بحوالہ تفسیر ابن کثیر، ۵ /۱۷۴)

انفاق فی سبیل اللہ

مال ہر انسان کو محبوب اور مرغوب ہے، اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ (العادیات ۱۰۰:۸) یہ انسان کو سہولتیں مہیا کرنے کا بھی ذریعہ ہے اور سماجی حیثیت (status) کے اظہار کا بھی۔ صحابہ بھی انسان تھے۔ انھیں بھی ان چیزوں کی ضرورت تھی لیکن جب قرآن کا حکم آیا تو انھوں نے خرچ کرنے سے دریغ نہ کیا:

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۝۰ۥۭ  (اٰل عمرٰن۳:۹۲) تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم اپنی وہ چیزیں (راہِ خدا میں) خرچ نہ کرو جنھیں تم محبوب رکھتے ہو۔

  • حضرت ابوطلحہ انصاریؓ مال دار صحابی تھے۔ مسجد نبویؐ کے سامنے بیرحا نام کا ان کا ایک باغ تھا جس کا خوش ذائقہ پانی نوش کرنے کے لیے حضوؐر بھی تشریف لے جایا کرتے تھے۔ جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوطلحہؓ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میرا سب سے زیادہ پیارا مال یہ باغ ہے۔ میں آپؐ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے راہِ خدا میں وقف کردیا۔ اللہ مجھے نیکی عطا فرمائے۔(بخاری و مسلم، کتاب الزکوٰۃ، مسنداحمد)
  • حضرت عمرفاروقؓ نے خدمت نبوی میں عرض کیا کہ مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیادہ محبوب و مرغوب چیز خیبر کی زمین کا قطعہ ہے، میں اسے راہِ خدا میں دینا چاہتا ہوں، فرمائیے کیا کروں؟

آپ نے فرمایا: ’’اسے وقف کردو‘‘۔(بخاری، مسلم، کتاب الوصایا)

  • حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس آیت کی تلاوت کرکے سوچا تو مجھے سب سےزیادہ پیاری چیز ایک لونڈی لگی۔ چنانچہ میں نے اس لونڈی کو راہ خدا میں آزاد کر دیا۔ اب تک بھی میرے دل میں اس کی ایسی محبت ہے کہ اگر کسی چیز کو اللہ کے نام پر دے کر واپس لے لینا جائز ہوتا تو میں کم از کم اس سے نکاح کرلیتا۔(مسند بزاز بحوالہ تفسیر ابن کثیر)
  •  ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَـنًا (الحدید۵۷: ۱۱) کون ہے جو اللہ کو قرض دے، بہترین قرض۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوالدحداح انصاریؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ حضورؐ نے جواب دیا: ہاں۔ ابودحداحؓ نے یہ سن کر عرض کیا: ذرا اپنا ہاتھ میری طرف کیجیے۔‘‘ آپؐ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تو انھوں نے آپؐ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما اور کہا: میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔‘‘ حدیث کے راوی حضرت عبداللہؓ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے چھ سو درخت تھے۔ اس میں ان کا گھر بھی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کرکے وہ سیدھے باغ میں پہنچے اور گھر کے دروازے پر کھڑے کھڑے بیوی کو پکار کر کہا: ’’اے دحدح کی ماں! بچے کو لے کر باہر نکل آئو۔ یہ باغ میں نے اللہ کو قرض دے دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر اس اللہ کی بندی نے بڑی خوش دلی سے کہا:’’اے دحدح کے باپ! تم نے بڑے نفع کا سودا کیا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے انھوں نے اپنے بچے اور سامان کو لیا اور باغ سے باہر نکل آئیں۔(ابن ابی حاتم، تفسیر ابن کثیر)

حیا و حجاب

اظہارِ حُسن کے لیے بنائو سنگھار کرنا عورت کی عمومی عادت ہے۔ہر دور میں مردوں کی نسبت عورتیں فیشن کی زیادہ دلدادہ رہی ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں عورتیں اپنے سینوں پر کوئی اوڑھنی نہ ڈالتی تھیں۔ گردن، بال، چوٹی اور بالیاں وغیرہ صاف نظر آتی تھیں۔

  • جب سورۂ نور کی آیت ۳۱: وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ۝۰۠ (اور وہ اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے سینوں پر ڈالے رہیں) نازل ہوئی تو خواتین نے اس پر کس طرح فوری عمل کیا، وہ حضرت عائشہ کے الفاظ میں سنئیے، فرماتی ہیں:’’اللہ تعالیٰ اوّلین مہاجر عورتوں پر رحم کرے کہ جب اللہ کا فرمان وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ  ۝۰۠  نازل ہوا تو انھوںنے اپنی بڑی بڑی چادروں کو پھاڑا اور انھیں اوڑھنیاں بنا لیا۔ بعض نے اپنے تہمد کے کنارے کاٹ کر ان سے سر ڈھانپ لیا‘‘۔(بخاری)

انصاری خواتین بھی قرآنی حکم پر من و عن عمل کرنے میں تاخیر کرنے والی نہ تھیں۔ حضرت عائشہؓ ہی فرماتی ہیں:’’بلاشبہ قریش کی عورتوں کے لیے بڑی فضیلت ہے اور اللہ کی قسم! میں نے انصار کی خواتین سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ کی کتاب کی تصدیق اور نازل شدہ احکام پر ایمان لانے والی نہیں دیکھی۔ اللہ نے سورۂ نور میں آیت: وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ  ۝۰۠  نازل فرمائی تو ان کے مرد گھروالوں کی طرف لپکے اور جو حکم نازل ہوا، وہ انھیں سنایا تو ہر عورت اپنے نقش و نگار والی بڑی چادر کی طرف لپکی اور اللہ نے اپنی کتاب میں جو نازل کیا تھا، اس کی تصدیق کرتے اور ایمان لاتے ہوئے اپنے سروں کو اوڑھنیوں سے ڈھانپ لیا۔ جب انھوں نے اگلی صبح رسول اللہ کے پیچھے نماز فجر ادا کی تو دیکھا گیا کہ سب عورتوں نے خود کو ڈھانپا ہوا ہے۔ وہ ایسی لگتی تھیں گویا ان کے سروں پر کوّے بیٹھے ہوئے ہیں۔(تفسیر ابن ابی حاتم، رقم: ۱۴۴۰۶)

  • سورۂ احزاب کی آیت ۵۹: يُدْنِيْنَ عَلَيْہِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِہِنَّ۝۰ۭ (اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں) نازل ہوئی تو خواتین مدینہ نے اس پر کیسے عمل کیا، اس بارے میں اُم المومنین حضرت اُم سلمہؓ فرماتی ہیں کہ اس آیت کے اترنے کے بعد انصاری خواتین جب گھر سے باہر نکلتی تھیں تو اس طرح سکون اور اطمینان سے چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ سیاہ چادریں اپنے اوپر اُوڑھ لیا کرتی تھیں۔(سنن ابوداؤد، کتاب اللباس، تفسیرابن کثیر)

ترکِ شراب نوشی 

لذت پرستی بالخصوص نشہ آوری کی لت سے جان چھڑانا بڑی قوت ارادی سے ہی ممکن ہے۔ شراب نوشی عرب کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے جب سورۂ مائدہ کی آیت ۹۰-۹۱  میں شراب سے اجتناب کا حکم دیا اور اس کی حرمت کی علّت بتاتے ہوئے ان سے سوال کیا: فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ(پس کیا اب تم اس سے باز آجائو گے؟)

  • حضرت عمرؓ نے فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ کے الفاظ سنے تو بے اختیار پکار اٹھے: انتھینا انتھینا ’’ہم باز آ گئے، ہم باز آ گئے‘‘۔(مسنداحمد،سنن ابی داؤد، ترمذی)

اس حکم پر کس قدر فوری عمل ہوا، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ انصاریؓ کے گھر پر میں ابوعبیدہؓ بن جراح، ابیؓ بن کعب، سہیلؓ بن بیضاء اور دیگر صحابہ کی ایک جماعت کو شراپ پلا رہا تھا۔ لذتِ شراب سے سب لطف اندوز ہو رہے تھے۔ قریب تھا کہ نشے کا پارا چڑھ جائے۔ اتنے میں کسی صحابی نے آکر خبر دی کہ تمھیں علم نہیں کہ شراب حرام ہو گئی ہے؟ یہ سنتے ہی ابو طلحہؓ نے کہا: انسؓ بس کرو اور جو باقی بچی ہے، اسے بہا دو۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ میں نے دیکھا کہ مدینہ کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے۔ (مسنداحمد، بخاری و مسلم،کتاب الاشربہ و کتاب التفسیر) 

  • سورۂ حشر کی آیت ۹ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۹ۚ  (جو بھی اپنے نفس کی حرص سے بچ جائیں تو وہی لوگ کامیاب ہیں) کی تفسیر میں امام ابن کثیرؓ نے ابن جریر کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت ابوالہیاج اسدیؒ فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک صاحب صرف یہی دُعا بار بار پڑھ رہے ہیں: اَللّٰہُمّ قِنِی شُحّ نَفِسْی(اے اللہ! مجھے میرے نفس کی حرص سے بچا لے)۔ آخر مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے انھیں کہا کہ آپ صرف یہی دعا کیوں مانگ رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ جب اس سے بچائو ہو گیا تو پھر نہ زنا کاری ہوسکے گی، نہ چوری اور نہ کوئی اور برا کام۔ اب جو میں نے دیکھا تو وہ حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف تھے۔

قسم سے رجوع

کسی بھلائی کے نہ کرنے کی قسم کھانا ایک اظہار ہوتا ہے کہ جس شخص کے ساتھ وہ بھلائی  نہیں کی جائے گی، اس سے آدمی کو حد درجہ نفرت ہے یا اس سے قسم کھانے والے کی سخت دلآزاری ہوئی ہے۔ صحابہ نے بھی ایسی قسمیں کھائیں۔ لیکن اگر قرآن میں اس کے برعکس حکم آگیا تو ان کی کیفیت کیا ہوتی تھی؟

  • اُم المومنین حضرت عائشہؓ پر جب منافقین نے تہمت لگائی تو ان کے پراپیگنڈے کے زیر اثر حضرت ابوبکرؓ کی خالہ زاد بہن کے بیٹے مسطحؓ بن اثاثہ بھی الزام لگانے والوں میں شامل ہو گئے۔ حالانکہ حضرت ابوبکرؓ مسطحؓ اور ان کی والدہ کی مالی کفالت کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب اللہ نے (سورۃ النور میں) میری برأت نازل فرما دی تو حضرت ابوبکرؓ نے قسم کھائی کہ آئندہ وہ مِسطحؓ بن اثاثہ کی مدد نہیں کریں گے کیونکہ انھوں نے نہ رشتہ داری کا لحاظ کیا اور نہ ان احسانات کی لاج رکھی جو ساری عمر ابوبکر ان پر اور ان کے خاندان پر کرتے رہے تھے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ..... اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَكُمْ۝۰ۭ (النور۲۴: ۲۲) ’’تم میں سے جو لوگ مال دار اور صاحب استطاعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھابیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انھیں معاف کردو اور درگزر کرو۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمھیں معاف کردے‘‘۔ یہ الفاظ سنتے ہی ابوبکرؓ نے کہا:  بَلٰی اَنَـا نُحِبُّ اَن تَغْفِرَلَنَا یَا رَبَّنَا، کیوں نہیں! واللہ ہم ضرور چاہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو ہماری خطائیں معاف فرما دے۔

چنانچہ آپؓ نے مسطحؓ بن اثاثہ کی مدد بحال کر دی اور ان پر پہلے سے بھی زیادہ احسان کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ یہ قسم بعض دیگر صحابہ نے بھی کھائی تھی کہ جن جن لوگوں نے اس بہتان میں حصہ لیا ہے، ان کی وہ مدد نہ کریں گے۔ اس آیت کے نزول کے بعد ان سب نے اپنی قسم سے رجوع کر لیا۔(تفسیر ابن کثیر، ۳/ ۵۹۹، تفہیم القرآن ۳/ ۳۷۲)

  • حضرت حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں کہ حضرت معقلؓ بن یسار نے بیان کیا کہ:میں نے اپنی بہن کی شادی ایک شخص سے کرائی جس کے بعد اس نے اسے طلاق دے دی۔ یہاں تک کہ جب عدت ختم ہو گئی تو وہ پیغامِ نکاح لے کر پھر آگیا۔ میں نے اسے کہا: میں نے تو تیری شادی کرائی تھی اور اپنی بہن کو تیرے لیے بستر بنا دیا تھا، تیری عزت کی تھی لیکن تم نے اسے طلاق دے دی۔ اب تم اسے نکاح کا پیغام دینے آئے ہو۔ اللہ کی قسم! اب میری بہن تمھاری زوجیت میں کبھی نہیں آئے گی۔ البتہ وہ اپنی محبت میں سچا تھا۔ اس شخص میں کوئی عیب بھی نہیں تھا۔ میری بہن بھی لوٹنا چاہتی تھی ( معقل ہی رکاوٹ تھے)۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی:

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰ۭ (البقرہ۲: ۲۳۲)جب تم عورتوں کو طلاق دے دو، پھر وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو پھر انھیں اپنی پسند کے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو، جب کہ معروف طریقے سے وہ باہمی نکاح پر راضی ہوں۔

معقلؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ میں اللہ کے حکم پر ضرور عمل کروں گا۔  چنانچہ انھوں نے نئے نکاح کے ساتھ اپنی بہن کی شادی اسی آدمی سے کر دی۔(صحیح بخاری)

عفوو درگزر

  •  حضرت حسینؓ کا غلام اُن کے دسترخوان پر کھانے کا پیالہ لایا، اس کے ہاتھ سے پیالہ چھوٹ گیا۔ آپ کا لباس شوربے میں لتھڑ گیا۔ آپؓ نے غضبناک نظروں سے غلام کی طرف دیکھا۔ اس نے سورۂ آل عمران کی آیت۱۳۴ کا ایک حصہ پڑھا: وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ (غصہ پی جانے والے مومنین)۔ آپؓ نے فرمایا: میں نے غصہ پی لیا۔ خادم نے آیت کا اگلا حصہ پڑھا: وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ (لوگوں کو معاف کرنے والے)۔ سیدنا حسینؓ نے کہا: میں نے تجھے معاف کیا۔ اس نے آیت کا آخری حصہ پڑھا: وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ‌ (اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔) آپؓ نے فرمایا: جائو میں نے تمھیں آزاد کیا۔  (سیرتِ حسینؓ، ص:۱۳۱)
  • حرؓ بن قیس کو امیر المومنین حضرت عمرؓ کے ہاں قدرومنزلت حاصل تھی۔ ان کا بھائی عُیَینہ بن حِصن ایک بدّو سردار تھا اور اکھڑ مزاجی اس کی طبیعت کا حصہ تھی۔عُیینہ اپنے بھائی حرؓ کے ہمراہ امیرالمومنینؓ کے ہاں پہنچے تو عُیینہ نے کرخت لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا:’’آپؓ ہمیں کچھ بھی مال نہیں دیتے۔ آپؓ ہمارے ساتھ عدل سے فیصلہ نہیں کرتے۔‘‘ حضرت عمرؓ کو اس کی بات بہت بُری لگی اور ممکن تھا کہ وہ اسے سزادیتے۔ حضرت حرؓ بن قیس نے اپنے بھائی کی اس کی بے ہودہ گوئی پر امیر المومنین کی ناراضی کو بھانپ لیا اور یہ آیت پڑھی: خُذِ الْعَفْوَوَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ                عَنِ الْجٰہِلِيْنَ۝۱۹۹ (اعراف۷: ۱۹۹)’’نرمی و در گزر کا طریقہ اختیار کرو، بھلائی کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں سے نہ اُلجھو‘‘۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ کا غیض و غضب فوراً کافور ہو گیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر)

لذّتِ تلاوت

قرآن کتابِ الٰہی کے سننے سے اہلِ ایمان کے بدن کےرونگٹے کھڑے ہونے، دلوں کے نرم پڑنے اور یادالٰہی کی طرف متوجہ ہونے کی خبر دیتا ہے:تَــقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ۝۰ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللہِ۝۰ۭ    (الزمر ۳۹: ۲۳) ’’اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے ربّ سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر اُن کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں‘‘۔

  •  ایک غزوہ سے واپسی پر حضورؐ نے ایک گھاٹی میں رات کو پڑائو کیا۔ حضرت عمار بن یاسرؓ اور عبادؓ بن بِشر انصاری گھاٹی کے سرے پر پہرے دار مقرر ہوئے۔ رات کے پہلے حصے کے لیے عبادؓ بن بِشر کا جاگنا طے ہوا اور عمار بن یاسرؓ سو گئے۔ عبادؓ بن بِشر کھڑے ہو کرنفل پڑھنے لگے۔ اس دوران ایک تیر عبادؓ بن بِشرکی پسلی میں آ کر لگا۔ انھوں نے اسے کھینچ کر نکال دیا اور نماز جاری رکھی۔ کچھ دیر بعد ایک اور تیر ان کے پہلو میں آ کر لگا لیکن انھوںنے نماز توڑے بغیر تیرنکال دیا۔ اب تیسرا تیر آکر لگا، انھوں نے نماز مکمل کی تو ان کا کافی خون بہہ چکا تھا۔ انھوں نے اپنے ساتھی عمار بن یاسرؓ کو جگا کر اپنی صورت حال بتائی۔ 

عمار بن یاسرؓ نے انھیں خون آلود دیکھ کر کہا:’’سبحان اللہ! آپ نے مجھے اسی وقت کیوں نہ بتایا جب آپ کو پہلا تیر لگا تھا؟ حضرت عبادؓ بن بِشرنے کہا:میں اس وقت نماز میں سورۂ کہف کی تلاوت کر رہا تھا۔ میں نے گوارا نہ کیا کہ میں اسے درمیان میں چھوڑ دوں۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بکثرت خون بہنے سے میری موت واقع ہو سکتی ہے اور تمھیں جگا کر مورچہ سنبھالنے کا فرض ادا نہ کیا تو میں ایک بڑی خیانت کا مرتکب ہوں گا، تو میں کبھی سورۂ کہف کی تلاوت نہ چھوڑتا، خواہ میری جان ہی چلی جاتی۔(سیرۃ ابن ہشام، ص ۷۴۹، ابن قیم، زاد المعاد، ۲/۱۱۲ )

قرآن سے تعلق کی لذت نے صحابۂ رسولؐ کو ہر دکھ اور تکلیف سے بے نیاز کر دیا تھا۔

  •  براءؓ بن عازب سے روایت ہے کہ حضرت اُسیدؓ بن حضیر سورۂ کہف کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا قریب ہی دو مضبوط رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔ اچانک ان پر بادل چھا گئے۔ آہستہ آہستہ وہ بادل قریب ہونے لگے اور گھوڑا اُچھل کود کرنے لگا۔ اُسَیدؓ بن حضیر دیکھنے کے لیے باہر نکلے لیکن انھیں کچھ نظر نہ آیا۔ جب صبح ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: إقراء فلان فانّها السَّكِینَةُ نزلَتْ للقُرْآنِ، ’’اے فلاں! قرآن پڑھو۔ بے شک یہ وہ سیکنت تھی جو قرآن کی قرأت کے وقت نازل ہوتی ہے‘‘۔(بخاری، کتاب المناقب)

خوفِ آخرت

  •  حضرت مجاہد تابعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس جا کر یہ واقعہ بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرؓ نے اس آیت: وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ يُحَاسِبْكُمْ بِہِ اللہُ۝۰ۭ (البقرۃ۲ : ۲۸۴) (تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کر و یا چھپائو، اللہ اس کا حساب تم سے لے لے گا) کی تلاوت کی تو بہت روئے۔ ابن عباسؓ نے فرمایا: اس آیت کے نزول پر یہی حال دیگر صحابہ کا بھی ہوا تھا۔ وہ سخت پریشان ہوئے۔ حضورؐ سے عرض کیا کہ دل کے خیالات پر بھی پکڑے گئے تو بڑی مشکل ہوگی کیونکہ دلوں پر تو اختیار نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا کہو۔ انھوں نے جب یہ کہا تو آیت: لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝۰ۭ (البقرۃ۲ :۲۸۶) نازل ہوئی۔ اس آیت نے طے کردیا کہ عمل پر تو پکڑ ہوگی لیکن دل کے خیالات اور نفس کے وسوسوں پر پکڑ نہ ہوگی۔ (صحیح بخاری، کتاب العتق، صحیح مسلم، کتاب الایمان، مسنداحمد، تفسیر ابن کثیر)
  •  عبد الله بن شداد کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نماز فجر کی امامت میں یہ آیت پڑھ رہے تھے: اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ   اِلَى اللہِ (یوسف۲۱: ۸۶) ’’میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں‘‘۔اس آیت کی تلاوت کے وقت ان کے رونے کی آواز میں سن رہا تھا حالانکہ میں اس وقت سب سے آخری صف میں تھا۔(بخاری، رقم : ۷۱۵، ابن ابی شیبہ ۷ / ۲۲۴)
  •  تمیم داری پوری رات تہجد میں سورئہ جاثیہ کی یہ آیت پڑھتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی: اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ……   (الجاثیہ۲۱:۴۵) ’’کیا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے، یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم انھیں اور ایمان لانے والوں کو اور نیک عمل کرنے والوں کو برابر کر دیں گے۔ ان کا جینا اور مرنا سب یکساں ہو جائے گا؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لگاتے ہیں‘‘۔(طبرانی بحوالہ ابن کثیر ۵ / ۸۴)
  •  جُبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ میں نے نماز مغرب میں حضورؐ سے سورۂ طورسُنی جب حضوؐر آیت ۳۵، اور اس سے اگلی آیات پر پہنچے تو میری حالت یہ ہو گئی کہ: کادَقلبی اَن یَّطِيرَ (قریب تھا کہ میرا دل اڑ جاتا)۔ اس موقع پر ایمان میرے دل میں جا گزیں ہو گیا۔(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، حدیث: ۴۰۲۳، ۴۸۵۴)

قرآنی رنگ

صحابہ کرامؓ نے قرآن کے رنگ میں اس طرح خود کو رنگ لیا تھا، کہ انھوں نے کوئی عمل کیا تو اس کی تعریف خود اللہ نے مختلف مواقع پر فرمائی۔

  • بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے رسولؐ کے پاس آیا اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! سخت ضرورت مند ہوں مجھے کچھ کھلوائیے۔ آپؐ نے اپنے گھروں کی طرف آدمی بھیجا لیکن تمام گھروں سے جواب ملا کہ کھانے کی کوئی چیز موجود نہیں۔ اب آپؐ نے صحابہ سے کہا: ہے کوئی جو آج اس مسافر کی مہمان نوازی کرے؟ 

ایک انصاری نے کہا کہ حضوؐر میں اس کی مہمان نوازی کروں گا۔ وہ مہان کو گھر لے گئے اور بیوی کو کہا کہ یہ اللہ کے رسولؐ کے مہمان ہیں۔ آج ہمیں چاہے کھانے کو کچھ نہ ملے لیکن یہ بھوکے نہ رہیں۔ بیوی نے کہا کہ آج گھر میں صرف اتنا کھانا ہے کہ بچے سیر ہو سکیں۔ انصاری نے کہا کہ بچوں کو تو بہلا پھسلا کر سُلا دو اور ہم دونوں بھی فاقے سے رات گزار لیں گے، اور کھانے کے وقت چراغ بجھا دینا تاکہ مہمان کو پتہ نہ چلے کہ ہم کھا رہے ہیں یا نہیں، تاکہ وہ سیر ہو کر کھا لے۔ چنانچہ کھانا رکھتے ہی بیوی نے چراغ کو درست کرنے کے بہانے اسے بجھا دیا۔ مہمان نے کھانا کھایا اور سارے خاندان نے رات بھوک سے گزاری۔

صبح جب یہ انصاری مہمان کے ساتھ خدمتِ نبویؐ میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: اس شخص اور اس کی بیوی کے رات کے عمل سے اللہ خوش ہوا اور ہنس دیا۔‘‘ انھی کے بارے میں سورۂ حشر کی آیت : يُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ كَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ۝۰ۭۣ (الحشر ۵۹:۹) ’’وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے خود انھیں کتنی ہی سخت حاجت ہو‘‘، نازل ہوئی۔(بخاری، کتاب التفسیر)

  • حضرت صہیب رومیؓ مکے سے ہجرت کرنے لگے تو کفارِ مکہ کو اس کی خبر ہوگئی۔ تعاقب کرکے انھوں نے انھیں گھیر لیا اور کہا: اے صہیبؓ! تم مکے میں مفلس آئے تھے، تم نے یہاں دولت کمائی۔ اب تم اس دولت کو یثرب لے جا کر عیش کرو، یہ ہمیں گوارا نہیں۔ صہیب رومیؓ نے تیر کمان سیدھے کرکے دھمکی دی کہ اگر تم مال و دولت چاہو تو وہ تمھیں دے دیتا ہوں بشرطیکہ میرا راستہ چھوڑ دو اور اگر مجھے گرفتار کرنا چاہتے تو یہ ممکن نہیں۔ تم جانتے ہو کہ میں کتنا اچھا تیرانداز ہوں۔ میں تیروں سے تمھارا بڑا جانی نقصان کروں گا۔ تیر ختم ہو گئے تو آخر دم تک تم سے تلوار سے لڑوں گا۔ جانی نقصان کے خوف سے کافروں نے صہیب رومیؓ کی پیش کش قبول کر لی۔ وہ متاعِ ایمان بچانے کی خاطر متاع دنیا کافروں کو سونپ کر خالی ہاتھ مدینے چل دیئے۔

قبا کی بستی میں جب حضورؐ سےملاقات ہوئی تو رسولؐ اللہ نے انھیں مبارکبا دی کہ تم نے بہت ہی نفع بخش سودا کیا ہے اور پھر یہ آیت پڑھی:وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَہُ ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللہِ۝۰ۭ  لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان کا بھی سودا کر دیتا ہے‘‘ (البقرہ۲:۲۰۷)۔(مستدرک حاکم، ۳  /۳۹۸  ، ابن ہشام، ص۱۰، طبقات ابن سعد، ۳/ ۱۶۲)

 _______________

تاریخ اگر بقول ایمرسن بڑے آدمیوں کا سایہ ہے تو برصغیر کے گذشتہ کئی عشروں کی فکری اور علمی تاریخ، مولانا مودودیؒ کے سائے کا نام ہے۔ حالات ایک رخ پر سفر کرتے ہیں، لمحوں کے بعد لمحے آتے جاتے رہتے ہیں اور ان کی ایک زنجیر سی بنتی رہتی ہے۔ عام انسان اس زنجیر میں جکڑے ہوئے اسی طرف بہتے رہتے ہیں جدھر زمانہ ان کو لے جانا چاہتا ہے۔ لیکن وقت کی آغوش میں تقدیر الٰہی سے ایک ایسا انسان پیدا ہوتا ہے اور تاریخ کی زنجیر جبراً ٹوٹ جاتی ہے۔ عہد کہن اپنے آثار کو سمیٹ کر رخصت ہونے لگتا ہے اور مستقبل کی نئی عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں۔ ماضی وحال کے دھندلکوں میں بھٹکنے والے انسان سفر حیات کی نئی جہتوں اور نئی منزلوں سے آشنا ہوتے ہیں۔ تب ہم اس انسان کو انسان نہیں کہتے ایک علامت کہتے ہیں اور اس کا زمانہ اس کی علامت سے پہچانا جاتا ہے۔ مولانا مودودی بھی ایک ایسے انسان، ایک ایسی ہی علامت تھے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا زمانہ مولانا مودودی کا زمانہ ہے۔

مولانا مودودی ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئے جب روشنیاں اور تاریکیاں ایک دوسرے کو کاٹ رہی تھیں۔ مسلمان بحیثیت مجموعی بہت اِدبار [پستی و ذلت]کا شکار تھے۔ لادینی علوم اور جاہلی فکری تبلیغ و اشاعت نے مسلمانوں کو ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیا تھا۔ ایمان اور یقین کے چراغ جھلملا رہے تھے، دلوں میں شکوک اور اوہام کی آندھیاں چل رہی تھیں۔ اہل علم میں اسلام کا نام لینا باعثِ خفت تھا۔ مغربی تہذیب کے زیر اثر طرح طرح کے فتنے مسلمانوں میں پھیل رہے تھے۔ لوگوں کی زندگی سے مقصدیت کی روشنی غائب ہو گئی تھی۔ پڑھا لکھا طبقہ خداشناسی اور خودشناسی کو بھول کر گمراہی اور بے یقینی کے راستوں پر بھٹک رہا تھا۔ اقبالؒ کی آواز بلند ہو چکی تھی مگر اس کے سننے والے اور سن کر سمجھنے والے خال خال تھے۔

بحیثیت مجموعی یہ ایک ایسے خلفشار کا زمانہ تھا، جس کی تہہ سے تاریکی ہی تاریکی ابل رہی تھی۔ ایسے میں مشیت الٰہی نے ایک چراغ روشن کیا، حق کی آواز بلند ہوئی اور مولانا مودودی نے اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کا ایک نیا خواب دیکھا۔ ایسا خواب جو کفر و الحاد کی فضا کو بدل دے۔ ایک ایسا انقلاب جو اسلام کو زندہ کر دے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ ایک ایسا انقلاب جو ہمارے دروازوں اور دلوں پر دستک دے رہا ہے۔ یقیناً اس انقلاب کی تعمیر میں بہت سی قوتیں بہت سی توانائیاں، بہت سی آوازیں شامل ہیں، مگر دیکھو ان سب میں سب سے بلند، سب سے روشن اور سب سے نمایاں آواز کس کی ہے؟ تمھارا جواب صرف ایک ہی ہو گا سیّد مودودی کی آواز، مولانا مودودی کی آواز!

مولانا مودودی نے جب اپنے کام کا آغاز کیا، تب حالات آج جیسے نہیں تھے، پہاڑ جیسی مشکلات مولانا کے راستے میں حائل تھیں۔ وہ خدا کی وسیع دنیا میں اپنے مقصد کے ساتھ یکتا و تنہا تھے۔ ان کا کام آسان نہیں تھا۔ یہ اندھیرے میں چراغ جلانے بلکہ آفتاب ڈھالنے کا کام تھا۔ مولانا مودودی اس کام کی مشکلات سے واقف تھے کہ چراغ جلاؤ تو ہوا کتنی تیز ہو جاتی ہے۔ مولانا مودودی کے خلاف آندھیاں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ جس وقت تک وہ سطریں لکھی جا رہی تھیں تو لاکھوں درد مند دل ان تیروں سے زخمی ہوئے جو مولانا مودودی کی طرف اس جرم میں پھینکے گئے کہ وہ حق کی سربلندی کیوں چاہتے تھے؟

میں یہ نہیں کہتا کہ مولانا سے غلطیاں نہیں ہوئیں، ضرور ہوئی ہوں گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مولانا سے اختلاف نہیں کرنا چاہیے، یقیناً اتفاق کی طرح اختلاف بھی ہر شخص کا حق ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مولانا پر نکتہ چینی گناہ ہے، مولانا بھی انسان تھے تنقید اور نکتہ چینی سے بلند نہیں تھے۔ لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ مولانا اس دور میں اسلام کی ایک ایسی آواز تھے جس کو کفر و الحاد کی سب قوتیں خاموش کر دینا چاہتی تھیں۔ گمراہی کی ہر تلوار مولانا پر اٹھتی تھی، کفر کی ہر توپ کا رخ مولانا کی طرف تھا۔ دنیا کی ہر وہ قوت جو اسلام کی دشمن تھی، مولانا کی بھی دشمن تھی۔ پھر اس کا کیا سبب ہے کہ مودودی دشمنی میں اسلام کے دشمن اور اسلام کے نام نہاد دوست ایک ہو جائیں؟ یقیناً مولانا بیگانوں کے تیر سہہ سکتے تھے، دشمنوں کے وار برداشت کر سکتے تھے، مگر ذرا اس قلب کی حالت پر غور کرو، جس پر زخم لگانے والوں میں غیروں کے ساتھ اپنے بھی پیش پیش تھے۔

  •  غلبۂ اسلام کا ہدف اور تین ناگزیر تقاضے: غلبۂ اسلام مولانا کا مقصد تھا، اور یہ کام جیسا کہ ظاہر ہے تین بنیادی باتوں کا تقاضا کرتا ہے: (۱) علم و فکر یعنی اسلام کے ابدی حقائق کی ایک ایسی تعبیر جو عہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ (۲) عمل و کردار یعنی صاحبِ پیغام خود ان تعلیمات کا عملی نمونہ بنے جو وہ دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔ (۳) تربیت و تنظیم یعنی ایک ایسی جماعت کی تشکیل جو صاحبِ پیغام کے ساتھ اس پیغام پر عمل کرے اور اپنے اجتماعی کردار سے پورے معاشرے کو بدلنے کی کوشش کرے۔

اس میں سے پہلا کام جس کا تعلق علم و فکر سے ہے، تین شرائط کی تکمیل چاہتا ہے:

۱۔ دین کا معتبر اور مستند علم اور اس کی روح اور جسم، یعنی ظاہر و باطن کی ایسی تفہیم جس کی بنیاد بصیرت پر ہو۔ صاحبِ پیغام اصول و فروع کو جانتا ہو، ان کے موقع و محل سے واقف ہو۔ عقل، وجدان اور استدلال کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہو۔

۲۔ عہد حاضر کا علم، یعنی اسے علم ہو کہ عہد حاضر کا علمی و عملی چیلنج کیا ہے اور وہ کون سے افکار و مسائل ہیں جو انسانوں کو اجتماعی اور انفرادی اعتبار سے متاثر کر رہے ہیں؟ پھر اسے یہ معلوم ہو کہ ان تقاضوں کی روشنی میں اسلام کے اصول کس طرح بروئے کار آ سکتے ہیں اور حکمت و تدبیر کے اعتبار سے انھیں بروئے کار لانے کا طریقہ کیا ہے؟

۳۔ ترسیلِ علم کی صلاحیت، یعنی صاحبِ پیغام اپنے علم اور فکر کو تحریر و تقریر کے ذریعے مؤثر انداز میں دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اسی طرح دوسرا کام جس کا تعلق عمل و کردار سے ہے، اس کی بھی تین شرائط ہیں:

(۱)ایمان کامل: صاحبِ پیغام کو یقین ہو کہ وہ جو کچھ پیش کر رہا ہے وہ حق ہے اور حق کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ (۲) ملت صالح: صاحبِ پیغام کا مقصد غلبۂ حق ہو اور غلبۂ حق کے سوا کوئی ذاتی، جماعتی، گروہی، نسلی، وطنی، قومی مقصد اس کے پیش نظر نہ ہو۔ (۳) عمل صالح: صاحبِ پیغام جو کچھ کہتا ہو اس کا ہر عمل اس کے علم و فکر کی تصدیق کرتا ہو۔

تیسرا کام جس کا تعلق تربیت و تنظیم سے ہے، اس کی بھی تین شرائط ہیں:

(۱) اتفاق و اتحاد: صاحبِ پیغام جو جماعت تیار کرے وہ اس کے پیغام پر مکمل طور پر متفق و متحد ہو۔ (۲) نظام مراتب: جماعت کے افراد کو ان کے ایمان، صلاحیت اور کردار کے اعتبار سے اس طرح منظم کیا جائے کہ ان میں ان کا مقام اور اہلیت کی مکمل درجہ بندی ہو جائے اور درجوں کے خلط ملط سے انتشار اور فساد نہ پیدا ہو۔ (۳) نظام کار: جماعت کے افراد میں ان کی درجہ بندی کے اعتبار سے ہر درجہ کے لوگوں کو واضح طور پر معلوم ہو کہ ان کا دائرۂ کار کیا ہے، اور اس دائرہ کے مطابق ان کے فرائض اور پروگرام کی تشکیل لفظوں میں ہو۔

یہ تمام شرائط پانچ موضوعات کے تحت آ جاتی ہیں:

(۱) علم و فکر (۲) کردار و عمل (۳)تحریر و تقریر (۴) تربیت و تنظیم (۵) سیاسی اثر و نفوذ۔

اب ذرا ان موضوعات کے اعتبار سے غور کرو کہ برصغیر کی گذشتہ ڈھائی سو سالہ تاریخ میں مولانا مودودی کے سوا وہ کون فردِ واحد ہے، جس میں یہ پانچوں خصوصیات موجود ہوں اور کس کا نام ہے جسے تم مطلوبہ معیار اور مقدار کے مطابق پاتے ہو؟