مضامین کی فہرست


اگست ۲۰۲۶

۵؍ اگست ۲۰۱۹ء صرف ایک آئینی تبدیلی کا دن نہیں تھا بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ہے جس نے مسئلۂ کشمیر کی نوعیت، ریاستی ڈھانچے، عوامی نفسیات اور علاقائی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ اس روز انڈین حکومت نے آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کو غیر مؤثر بنا کر جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی، ریاست کو دو وفاقی علاقوں میں تقسیم کیا حالانکہ یہ متنازع علاقے کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کی شرمناک کوشش ہے ۔

اگر گذشتہ تین عشروں کے انڈین سیاسی موقف کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آرٹیکل ۳۷۰ کا خاتمہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی وعدوں میں شامل تھا۔ اس لحاظ سے ۵؍ اگست کا فیصلہ کئی عشروں پر محیط ایک سیاسی منصوبے کی تکمیل کہا جا سکتا ہے۔ یقینا کسی بھی بڑی ریاستی حکمتِ عملی کی کامیابی کا فیصلہ چند برسوں میں نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے تاریخ، سیاست، معیشت، معاشرت اور عوامی نفسیات کو ایک ساتھ دیکھنا پڑتا ہے۔ یہی اصول ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

مودی حکومت نے آرٹیکل ۳۷۰  اور ۳۵-اے کی منسوخی کے بعد کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کیے۔ ان اقدامات کا مقصد کشمیری شناخت کو کمزور کرنا اور انڈیا کے ہندو نسل پرست ایجنڈے کو فروغ دینا تھا۔ نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت انڈیا کے دیگر علاقوں کے باشندوں کو کشمیر میں رہائش، ملازمت اور زمین خریدنے کی اجازت دی گئی۔ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر ۲۰۲۰ ءکے ذریعے ڈومیسائل کی نئی تشریح کی گئی، جس کے مطابق کشمیر میں تین سال تک ڈیوٹی دینے والے فوجی و نیم فوجی افسر اور سپاہی، پندرہ سال تک مقیم رہنے والے انڈین باشندے ،سات سال تک تعلیم حاصل کرنے والےیا دسویں اور بارھویں جماعت کا امتحان دینے والےطلبہ و طالبات ملازمت کے حق دار ہوں گے۔

ماضی میں آرٹیکل ۳۵-اے کے تحت ان قوانین کی تدوین کا اختیار جموں و کشمیر اسمبلی کو حاصل تھا۔ مگر منسوخی کے بعد یہ سارے اختیارات انڈین حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ نئے قانون کے تحت بھارتی حکومت کے اعلیٰ افسران، آل انڈیا سروسز کے اہلکار، نیم خود مختار اداروں، پبلک سیکٹر بنکوں اور یونی ورسٹیوں کے ملازمین کے بچے از خودکشمیر کی ملازمتوں کے اہل قرار پائے۔ 

۲۰۲۵ء تک لاکھوں غیر کشمیری ہندوؤں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حد بندی کمیشن کی ۲۰۲۲ ء کی رپورٹ نے واضح کیا کہ کشمیری مسلمانوں کو سیاسی طور پر بے وزن کرنے کے لیے غیر منصفانہ فیصلے کیےگئے۔ واد یٔ کشمیر کی آبادی (۶۸ء۸۸  لاکھ) کے مقابلے جموں (۵۳ء۷۸ لاکھ) کو غیر متناسب طور پر زیادہ نشستیں دی گئیںجس سے مسلم اکثریت کی سیاسی نمائندگی کم ہوئی۔

آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ اگست ۲۰۱۹ء کے بعد دنیا کی طویل ترین انٹرنیٹ بندش نافذ کی گئی جو کئی ماہ تک جاری رہی۔ ہزاروں نوجوانوں، کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ سابق وزرائے اعلیٰ جیسے محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ کو مہینوں نظر بند رکھا گیا۔ کشمیری صحافیوں کو ہراساں، گرفتار یا جلاوطن کیا گیا۔ گھروں پر چھاپوں، جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کی رپورٹس عام ہیں۔ پیلٹ گنز کے استعمال سے سیکڑوں نوجوان اپنی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔

سرکاری ملازمین کی برطرفی، زرعی زمینوں کی سرکاری تحویل، گرفتاریاں، ہلاکتیں، رہائشی گھروں کو نقصان اور بیوروکریسی سے کشمیری مسلمانوں کی منظم بے دخلی اس نظام کا حصہ ہے۔ جون ۲۰۲۵ءتک کم از کم ۱۱۰ سرکاری ملازمین کو ’دہشت گردی سے تعلق‘ یا دیگر انتظامی وجوہ کے بہانے برطرف کیا جا چکا ہے۔ 

جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ ۲۰۱۹ ءکے تحت زمین کے قوانین میں تبدیلیوں نے غیر مقامی افراد کو زمین خریدنے کی اجازت دی۔ اس سے زرعی زمینوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا عمل تیز ہوا۔ مقامی رپورٹس کے مطابق ہزاروں ایکڑ زرعی زمین ترقیاتی منصوبوں، فوجی تنصیبات اور صنعتی زونز کے لیے حاصل کی گئی۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دو لاکھ ایکڑ سے زائد زمین کشمیریوں سے چھینی جا رہی ہے، جس کا مقصد بے اختیار کشمیریوں پر باہر سے آباد کار لانا ہے۔ یہ پالیسی معاشی استحصال کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

لاک ڈاؤن اور فوجی محاصرے نے کشمیر کی معیشت کو تباہ کر دیا۔ سیاحت، قالین بافی، زراعت اور دیگر شعبوں کو شدید نقصان پہنچا۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق اگست ۲۰۱۹ءسے اگست ۲۰۲۰ءتک ۴۰ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ مسلسل کرفیو، خوف کی فضا اور مواصلاتی پابندیوں نے کشمیری عوام میں ڈپریشن، پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) اور دیگر نفسیاتی مسائل کو جنم دیا۔ ’میڈیسنز سانس فرنٹیئرز‘(MSF) کی رپورٹ کے مطابق کشمیری نوجوانوں میں خودکشی کے رجحانات بڑھے ہیں۔ اندازاً ۹ لاکھ افراد باقاعدگی سے منشیات استعمال کرتے ہیں۔ مئی ۲۰۱۹ءمیں میڈیسنز سانس فرنٹیئرز / ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘(DWB) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ وادیٔ کشمیر میں تقریباً ۱۸ لاکھ بالغ افراد (جو آبادی کا ۴۵ فی صد بنتے ہیں) شدید ذہنی دباؤ کی علامات کا شکار ہیں۔ ان میں سے ۴۱ فی صد افراد میں ڈپریشن، ۲۶فی صد میں بے چینی (اضطراب) اور ۱۹ فی صد میںبعد از صدمہ ذہنی دباؤ کی بیماری (پی ٹی ایس ڈی) کی علامات پائی جاتی ہیں۔

انڈین حکومت کے اقدامات نے کشمیری زبان، ثقافت اور تاریخ کو معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ ’ہندوتوا‘ کے حامی جیسے انوپم کھیر، کشمیری مسلمانوں کو ’’گھل مل جاؤ، مرجاؤ یا بھاگ جاؤ‘‘ کا پیغام دے رہے ہیں۔ یہ سوچ ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک نسل پرست اور فسطائی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ نعیمہ مہجور کے مطابق، کشمیری تارکین وطن اپنی جائیدادیں بیچ کر وادی چھوڑنے پر مجبور کیے جا رہے ہیں۔ ظلم، سیاسی جبر، حکومتی دباؤ اور سماجی انتشار نے ان کی زندگیوں کو بُری طرح مفلوج کر دیا ہے۔

کشمیر کی سرکاری تقرریوں میں تعصب واضح ہے۔ ممتاز صحافی افتخار گیلانی کے مطابق ۲۰۲۰ ءمیں ۲۴ سیکریٹریوں میں صرف پانچ مسلمان تھے۔ ۵۸ اعلیٰ سول سروس افسران میں ۱۲ اور ۶۶؍ اعلیٰ پولیس افسران میں صرف سات مسلمان تھے۔ ۲۰۲۵ ءتک صورت حال مزید خراب ہوئی۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے ۹۳؍ افسران میں صرف ۲۰ مسلمان ہیں ، جب کہ ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب ۳۱ء۶۸ فی صد ہے۔ سول سیکریٹریٹ میں ۳۶سیکریٹریوں میں صرف چھ مسلمان ہیں۔ یہ اعداد و شمار کشمیریوں کی منظم بے دخلی کو ظاہر کرتے ہیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں، گرفتاریاں اور تشدد معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم، ۵؍ اگست ۲۰۱۹ ءکو انڈین حکومت کی جانب سے ریاست کی آئینی حیثیت کے یک طرفہ خاتمے کے بعد عسکری اداروں کو ملنے والے غیر معمولی اختیارات نے ظلم و جبر کی نئی مثالیں قائم کر دیں۔ ان حالات کا چشم دید جائزہ لینے کے بعد ’پاکستان-انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی‘ اور ’جموں و کشمیر سالیڈیریٹی گروپ‘ نے ۱۹۶ صفحات پر مشتمل دل دہلا دینے والی رپورٹ The Siege شائع کی۔ اس رپورٹ میں عوامی جبر، گرفتاریوں اور ٹارچر کے واقعات کی تفصیلات کے ساتھ دیہات اور قصبات میں جاری انڈیا مخالف خاموش مزاحمت کو بھی اُجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پلوامہ کے ایک تاجر کے ساتھ فوجی بدسلوکی، نمازجنازہ میں شرکت پر افراد کو جیل بھیجنے، اور سیکڑوں کشمیری نوجوانوں کی یوپی اور آگرہ جیسی دور دراز جیلوں میں غیر قانونی نظربندی کے واقعات شامل ہیں۔ یہ افراد محض شبہ، اپنی رائے رکھنے یا کسی تقریر سننے کے ’جرم‘ میں گرفتار کیےگئے ہیں۔ خاندانوں کو اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے زمینیں بیچنی پڑیں۔ یہ رپورٹ بھارتی عدلیہ کی بے بسی، مقامی آبادی کی غربت اور سکیورٹی اداروں کی بدعنوانی کو بے نقاب کرتی ہے۔ حبسِ بے جا کی سیکڑوں پٹیشنز عدالتوں میں دائر ہوئیںمگر ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔ عوام  عدالتوں کے چکر لگانے یا وکلا کی فیس ادا کرنے کی استطاعت بھی کھو چکے ہیں۔

’فورم فار ہیومن رائٹس ان جموں اینڈ کشمیر ‘کی رپورٹ جو جموں و کشمیر کی تقسیم اور عوام کی بے اختیاری کی چھٹی سالگرہ پر جاری کی گئی، خطے کی سنگین صورتِ حال کو واضح کرتی ہے۔ اس میں سیاسی بے اختیاری، ادارہ جاتی زوال، سکیورٹی کا غیر ضروری استعمال اور جمہوری جمود کو خطے کو تاریک دور میں دھکیلنے والے اہم عوامل قرار دیا گیا۔ فورم کی سربراہی سابق سکریٹری داخلہ گوپال پلئی اور سابق مذاکرات کار رادھا کمار کر رہے ہیں،جب کہ اس میں سپریم کورٹ کے سابق ججز مدن لوکور، روما پال اور اے پی شاہ، سابق لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ اور سابق ایئر وائس مارشل کپل کاک، مؤرخ رام چندر گہا اور دیگر شامل ہیں۔

رپورٹ میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شا کے ریاستی درجہ بحال کرنے کے وعدوں سے پیچھے ہٹنے پر سخت تنقید کی گئی۔ سپریم کورٹ نے ۲۰۱۹ء کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے فوری ریاستی درجہ بحالی کی ہدایت دی تھی۔ جسٹس سنجیو کھنہ نے واضح کیا کہ کسی ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنا آئینی طور پر غلط ہے۔ تاہم، حکومت ’مرحلہ وار‘ اختیارات کی منتقلی کی بات کرتی ہےجسے فورم ناقابل قبول قرار دیتا ہے۔ 

ستمبر،اکتوبر ۲۰۲۴ ءمیں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی مگر یہ حکومت عملی طور پر بے اختیار ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر اور مرکزی وزارت داخلہ کے پاس پولیس، سول سروسز، استغاثہ اور مالیات جیسے اہم شعبوں کا کنٹرول ہے۔ ۱۲ جولائی ۲۰۱۴ءکو ریاستی کابینہ سے کلیدی اختیارات چھین لیے، حتیٰ کہ وزارتی قلمدانوں کی تقسیم بھی بیوروکریٹک جائزے کے تابع کردی گئی ہے۔

رپورٹ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی نشاندہی کرتی ہے جن میں نفرت انگیز تقاریر، ہجومی حملے، ۲۸۰۰ سے زائد افراد کی حراست اور ۱۰۰ سے زائد گرفتاریاں سخت قوانین جیسے پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے کے تحت کی گئیں۔ کم از کم چھ مکانات (مقامی میڈیا کے مطابق دس) کو دھماکوں سے تباہ کیا گیا، جسے فورم ’اجتماعی سزا‘ قرار دیتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ حکومت پر چھ سال سے اہل کشمیر کے حقوق سلب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ’آمریت‘ کہتے ہیں۔ رادھا کمار کہتی ہیں کہ کشمیری عوام نے بارہا ووٹ دیا، اب نئی دہلی کی باری ہے کہ وہ جبر کے بجائے مفاہمت کا راستہ اپنائے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ پچھلے چھ سالوں میں حکومتی اقدامات کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کو بے اختیار کرنا تھا۔ جانب دارانہ حدبندی، انتخابی فہرستوں کی ترتیب نو اور یوم شہداء (۱۳ جولائی) کو تعطیلات سے ہٹانا، اس کی واضح مثالیں ہیں۔ خصوصاً، ۱۳ جولائی ۲۰۲۴ءکو وزیراعلیٰ کو مزارشہدا میں فاتحہ خوانی سے روکا گیا اور انھیں دیوار پھاند کر داخل ہونا پڑاجو پابندیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ 

۱۹۳۱ءسے جولائی ۲۰۱۹ء ء تک کےدور کو اگر ہم ماضی کا نام دیں تو یہ درست ہوگا، کیونکہ اس عرصے میں انڈیا کا جابرانہ قبضہ اپنی پوری شدت و ظالمانہ اقدامات کے ساتھ جاری رہا لیکن اس دوران بھی انڈین آئین کی شق ۳۷۰، اور ۳۵-اے نے کشمیر کی منفرد شناخت کو کسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھا تھا۔ یہ شقیں کشمیریوں کے لیے ایک ڈھال تھیں جو ان کی زمین، ثقافت، اور مسلم تشخص کو تحفظ دیتی تھیں۔ مگر ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو نسل پرست حکمران جماعت بی جے پی نے ان شقوں کو منسوخ کرکے کشمیر کو انڈیا میں مکمل طور پر ضم کر لیا۔ بھارت کے اقدامات صرف جغرافیائی قبضے تک محدود نہیں رہے بلکہ اب وہ ایک منظم فکری، تعلیمی اور تہذیبی یلغار کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ نصابی کتب میں تبدیلی، تاریخ کی مسخ شدہ تعبیر، مذہبی علامات پر پابندیاں اور اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی شعوری کوششیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ ایک ’خاموش نسل کُشی‘ کا عمل ہے، جو بندوق سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس لیے آج ہم یہ برملا کہہ سکتے ہیں کہ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء وہ سیاہ دن تھا جب کشمیر کا حال اپنے ماضی سے بھی بدتر ہوگیا۔

معروف کشمیری صحافی نعیمہ احمد مہجور نے لکھا ہے کہ کشمیر اب وہ جنت نظیر وادی نہیں رہی بلکہ ایک ’کاسمیر‘ بننے کی طرف بڑھ رہی ہے ،ایک ایسی جگہ جہاں اس کی اصل شناخت ڈیڑھ ارب کی آبادی میں تحلیل ہو جائے گی۔ ان کے الفاظ میں ’ایک عشرے بعد کشمیر ’کاسمیر‘ ہو گا‘، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وادی کی روح کو چھین کر اسے ایک اجنبی سرزمین میں بدل دیا جائے گا۔آگے لکھتی ہیں ۔۔کہ ’’ کشمیر کے لوگ اپنا آبائی وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ غیر کشمیریوں کی آمد، زمینوں کی فروخت، اور آبادی کے تناسب کو بدلنے کے اقدامات نے وادی کو اجنبی بنا دیا ہے۔مقامی سیاست دانوں اور تاجروں کی ملی بھگت سے وادی کی زمینیں، جنگلات، اور معدنیات کا سودا ہو رہا ہے۔ غیر کشمیری سیاحت، زراعت، انتظامیہ اور عدلیہ پرچھا رہے ہیں اور لگتا ہے کہ ڈوگرہ دور جیسے واپس پلٹ آیا ہوجہاں کشمیری صرف بے روزگار یا جبری مزدور سمجھے جاتے تھے۔ آج لال چوک میں مہاراجا کی مورتیوں کو تاج پہنائے جا رہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ ’’کیا کشمیریوں کو اپنی آواز اٹھانے کی سزا دی جا رہی ہے‘‘ ۔نعیمہ مہجور کے بقول، میڈیا کی خاموشی اور مقامی قلم پر زنجیریں اس المیے کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ کشمیر کی ثقافت، زبان، اور شناخت اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ جب اپنی گلیوں میں چلنا مشکل ہو، زبان پر پہرے ہوں، اور اپنی زمین اجنبیوں کے ہاتھوں فروخت ہو رہی ہو تو کشمیری کیا کریں؟

زمینی حقائق یہ ہیں کہ مرکزی قوانین نافذ ہو چکے ہیں، نئی حلقہ بندیاں ہو چکی ہیں، ڈومیسائل اور زمین کے قوانین تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان اقدامات نے زمینی انتظامی حقیقت کو تبدیل کر دیا ہے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری عوام کے دلوں میں سیاسی قبولیت پیدا کرنا، ناممکن ہے۔ تاہم انڈین قیادت خفیہ مذاکرات اور امریکن کوششوں کی بنیاد پرتقسیم کشمیر کے منصوبے پر کام کر رہی ہے اورکنٹرول لائن کو مستقل سرحد بناکر ’اُدھر تم اور اِدھر ہم‘ کے فارمولے پر کام تیزی سے جاری ہے ۔اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو پھر کشمیر کو اندلس اور جامع مسجد سری نگر کومسجد قرطبہ بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اللہ رحم فرمائے۔

یہ باتیں تو تلخ حقیقت ہیں ہی، لیکن اب دو سال سے مقبوضہ کشمیر، انڈین حکومت اور فوج کی طرف سے یہاں کتابوں پر پے درپے حملوں کا ایک تسلسل پیش کر رہے ہیں۔ جولائی ۲۰۲۶ء میں سری نگر میں کتابوں کے میلے سے پہلے حکومت نے یہ پابندی عائد کی کہ انڈیا سے تمام ناشرین اپنی کتابوں کی جانچ کرائیں گے تاکہ حکومت کی اجازت اور جانچ پڑتال کے بغیر کوئی کتاب میلے میں شریک نہ ہوسکے۔ پھر علم دشمنی کی یہ بات اسی پر نہیں رکی، بلکہ لائبریریوں، گھروں تک جاپہنچی ہے جہاں کتابوں کو ضبط کیا جارہا ہے، اور اُٹھایا جارہا ہے۔

 _______________

ستمبر ۱۹۶۵ء کا ایک دن ہے۔ پاک بھارت جنگ چل رہی ہے۔ پاکستان ایئر فورس کے سابق سربراہ ایئر مارشل اصغر خان صدر پاکستان کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سےجکارتہ پہنچتے ہیں۔ صدر احمد نور سوئیکارنو انھیں فوراً ملاقات کا وقت دیتے ہیں اور جو جملہ کہتے ہیں، وہ آج پڑھیں تو یقین نہیں آتا۔ سوئیکارنو کہتے ہیں کہ ’’پاکستان کی مشکل انڈونیشیا کی مشکل ہے، بھارت کا پاکستان پر حملہ گویا انڈونیشیا پر حملہ ہے۔ اس ملک کو اپنا ملک سمجھیں اور جو چیز آپ کے کام آ سکتی ہے، اٹھا کر لے جائیں‘‘۔

  اس کے بعد ایئرمارشل اصغر خان کی ملاقات انڈونیشی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل رادن ایڈی مارتا دیناتا سے ہوتی ہے۔ ایڈمرل صاحب پوچھتے ہیں:’’ بس اتنا ہی چاہیے آپ کو؟‘‘ اصغر خان حیران ہو کر کہتے ہیں:’’ اس سے زیادہ آپ کیا کر سکتے ہیں؟‘‘ ایڈمرل نقشہ سامنے کھینچ لیتا ہے اور انگلی رکھ کر کہتا ہے: ’’کیا آپ نہیں چاہتے کہ ہم انڈمان جزائر پر قبضہ کر لیں؟ یہ جزائر تو دراصل سماٹرا کا تسلسل ہیں اور ویسے بھی مشرقی پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان پڑتے ہیں‘‘۔ اصغر خان نے کہا: ’’آپ اپنے صدر سے مشورہ کر لیجیے، اور یہ بھی کہ اگر انڈونیشیا ان جزائر پر قبضہ کر لے تو پاکستان کو کوئی افسوس نہ ہوگا، مگر ساتھ ہی انھیں یہ تلخ سچ بھی بتانا پڑا کہ اس کارروائی میں پاکستان انڈونیشیا کا ہاتھ نہیں بٹا سکے گا‘‘۔ 

 دراصل ہم دو محاذوں پر لڑ رہے تھے اور خلیج بنگال میں شریک ہونے کی سکت ہم میں نہیں تھی۔ دوست پیش کش لے کر کھڑا تھا، ہمارے پاس آگے بڑھنے کی ہمت نہیں تھی۔ 

میں نے یہ واقعہ پہلی بار پڑھا تو کچھ دیر کے لیے حیرت زدہ ہو کر بیٹھا رہا۔ ذرا تصور کیجیے۔ ایک ملک کا بحری سربراہ دوسرے ملک کے مہمان سے پوچھ رہا ہے کہ آپ کے دشمن کے جزائر پر ہم قبضہ کر لیں؟ یہ کوئی سفارتی خوش کلامی نہیں تھی۔ انڈونیشی بحریہ نے دو آبدوزیں، دو کومار کلاس میزائل بوٹس اور دو تارپیڈو بوٹس کراچی روانہ کیں۔ فضائیہ نے مگ پندرہ اور مگ انیس طیارے دینے کی ہامی بھر لی۔ 

  بھارتی وائس ایڈمرل ہیرانندانی نے بعد میں اپنی کتاب میں خود لکھا کہ اسی خطرے کی وجہ سے بھارتی بحری بیڑہ خلیج بنگال میں بندھا رہا اور مغربی محاذ پر وہ کچھ نہ کر سکا جو وہ کرنا چاہتا تھا۔ بھارتی پارلیمنٹ میں اراکین نے کھڑے ہو کر انڈمان اور نکوبار کی حفاظت پر سوال اٹھائے۔

 ساٹھ برس بیت گئے۔ اب ذرا اسی جکارتہ کا دوسرا منظر دیکھ لیجیے:

۷جولائی ۲۰۲۶ء: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جکارتہ کے سرکاری دورے پر ہیں۔ انڈونیشی صدر پرابوو سوبیانتو کے ساتھ ان کی بیٹھک ہوتی ہے اور جو معاہدہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے: انڈونیشیا بھارت سے براہموس سپرسانک کروز میزائل خریدے گا اور ساتھ آسٹرا میزائل بھی۔ مجموعی مالیت چھ سو ملین ڈالر سے زائد۔ فلپائن اور ویت نام کے بعد انڈونیشیا براہموس کا تیسرا برآمدی گاہک بن گیا۔

وہی انڈونیشیا جس کے ایڈمرل نے ۱۹۶۵ء میں بھارتی جزائر پر قبضے کی پیش کش کی تھی، آج بھارت سے میزائل خرید رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ درمیان میں ہوا کیا؟ جب سب کچھ ہمارے حق میں تھا؟

آزادی کے فوراً بعد پاکستان نے انڈونیشیا کی تحریک آزادی کی کھل کر حمایت کی۔ ڈچ استعمار کے خلاف انڈونیشی جدوجہد ہمارے ہاں اخبارات کی سرخیوں میں رہتی تھی۔ قائداعظم اور سوئیکارنو ایک دوسرے کے لیے احترام رکھتے تھے، اگرچہ قائداعظم ستمبر۱۹۴۸ء میں رخصت ہوگئے اور انڈونیشیا کو مکمل آزادی اس کے ایک سال بعد ملی۔

۱۹۵۵ء کی بنڈونگ کانفرنس میں پاکستان، بھارت اور انڈونیشیا تینوں ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ یہ وہ تاریخی اجتماع تھا جس نے ایشیا اور افریقہ کے نو آزاد ممالک کو پہلی بار ایک میز پر بٹھایا اور جسے بعد میں غیر وابستہ تحریک کی فکری بنیاد قرار دیا گیا۔ اس زمانے میں اگر کسی سے پوچھا جاتا کہ آنے والے پچاس برس میں انڈونیشیا کا قریب ترین شراکت دار کون ہوگا، پاکستان یا بھارت، تو جواب سو میں سے نوے بار پاکستان ہی ہوتا۔

دلائل بھی ٹھوس تھے۔ دونوں مسلم اکثریتی ملک، دونوں کے درمیان کوئی سرحدی جھگڑا نہیں، دونوں نوآبادیاتی نظام کے ستائے ہوئے۔ ۱۹۶۲ءکی چین بھارت جنگ نے سوئیکارنو کو بیجنگ کے اور قریب کر دیا اور نئی دہلی سے فاصلہ بڑھا دیا۔

پھر۱۹۶۵ء آیا، اور وہ سب کچھ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا۔یہ اس رشتے اور تعلق کا عروج تھا۔ اس کے بعد یہ نیچے ہی آیا۔ 

سوئیکارنو کی جگہ سہارتو نے لی تو بہت کچھ بدل گیا

۱۹۶۶ء میں جنرل سہارتو اقتدار میں آ گئے۔ سوئیکارنو کا انقلابی، جذباتی، نظریاتی مزاج رخصت ہوا اور اس کی جگہ ایک خشک، حساب کتاب والی سوچ نے لے لی۔ سہارتو کا فارمولا سادہ تھا: بیرونی سرمایہ کاری لاؤ،انڈسٹری لگاؤ، پڑوسیوں سے جھگڑا ختم کرو، معیشت بڑھاؤ۔ انڈونیشیا نے ملائیشیا کے ساتھ جو ’کنفرونتاسی‘ یعنی محاذ آرائی چل رہی تھی، وہ ختم کر دی۔ ۱۹۶۷ء میں آسیان بنی اور انڈونیشیا اس کا بانی رکن بنا۔

یہیں سے ہمارا اور جکارتہ کا راستہ آہستہ آہستہ الگ ہونا شروع ہوا۔ تعلقات خراب نہیں ہوئے۔ سفارت خانے کھلے رہے، او آئی سی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا جاتا رہا۔ فوجی وفود آتے جاتے رہے، مگر دونوں نے ایک دوسرے کو اپنی طویل المدت قومی حکمت عملی کا حصہ نہیں بنایا۔ ہماری نظریں افغانستان، چین، امریکا اور مشرق وسطیٰ پر جمی رہیں۔ انڈونیشیا کی نظریں جنوب مشرقی ایشیا، جاپان اور مغربی سرمایہ کاری پر۔

میں سمجھتا ہوں کہ اصل غلطی نظر کی تھی۔ ہم نے انڈونیشیا کو ہمیشہ ایک برادر اسلامی ملک کے طور پر دیکھا۔ انڈونیشیائی قیادت نے پچھلے ۳۰،۴۰ برسوں میں خود کو اس عینک سے نہیں دیکھا۔ وہ خود کو ایک سمندری ریاست سمجھتا تھا جس کی بقا بندرگاہوں، تجارتی راستوں اور سرمایہ کاری سے وابستہ ہے۔ ہم رشتہ داری نبھا رہے تھے، وہ کاروبار کر رہے تھے۔

۱۹۹۱ء کا فیصلہ کن سال 

دسمبر ۱۹۹۱ء میں سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ عالمی معیشت کا نقشہ الٹ گیا۔ نئی دہلی میں وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ نے ایک اعلان کیا جسے اس وقت زیادہ تر لوگوں نے معمولی سی معاشی پالیسی سمجھا۔ اس کا نام تھا ’لُک ایسٹ پالیسی‘، یعنی مشرق کی طرف دیکھو۔

   بظاہر یہ تجارت بڑھانے کی بات تھی۔ حقیقت میں یہ بھارتی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا موڑ تھا۔ پہلی بار نئی دہلی نے تسلیم کیا کہ صرف جنوبی ایشیا کا چودھری بننے سے کام نہیں چلے گا۔ اگر بڑی طاقت بننا ہے تو ’ملاکا کی آبنائے‘، آسیان اور بحرِ ہند کے مشرقی کنارے تک پہنچنا ہوگا۔

  اسی دوران ایک اور بڑی تبدیلی رونما ہو رہی تھی۔ سرد جنگ کے بعد چین غیر معمولی معاشی رفتار سے اُبھر رہا تھا، عالمی تجارت کا مرکز بحرالکاہل کی طرف منتقل ہو رہا تھا اور سمندری راستے پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنتے جا رہے تھے۔ اب طاقت صرف فوجوں سے نہیں بلکہ بندرگاہوں، سمندری گزرگاہوں، سپلائی چینز اور بحری رسائی سے ناپی جانے لگی۔ یہیں انڈونیشیا کی اہمیت اچانک کئی گنا بڑھ گئی۔ بھارت نے بروقت یہ بھانپ لیا۔ 

   پاکستان کہاں پیچھے رہ گیا؟

یہ کہنا آسان ہے کہ بھارت آگے نکل گیا، مگر زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کہاں رکا؟

 پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے جنوب مشرقی ایشیا کو کبھی اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی دائرہ نہیں بنایا۔ ہماری سفارتی توجہ زیادہ تر تین سمتوں میں بٹی رہی: مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان اور شمال میں چین۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ سے مذہبی، معاشی اور افرادی قوت کے تعلقات ہماری ترجیحات میں شامل رہے۔

اس کے مقابلے میں بھارت نے ۱۹۹۱ء کے بعد ایک مستقل فیصلہ کیا کہ جنوب مشرقی ایشیا اس کی آئندہ خارجہ اور معاشی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہوگا۔ اس فیصلے پر حکومتیں بدلنے کے باوجود عمل جاری رہا۔ 

انڈونیشیا آخر ہے کیا؟

ہمارے ہاں انڈونیشیا کا تعارف ایک ہی جملے میں دیا جاتا ہے: ’’دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک‘‘۔ یہ بات ظاہر ہے کہ درست ہے، ۲۸ کروڑ کے قریب آبادی ہے۔ مگر عالمی طاقتیں اسے اس زاویے سے دیکھتی ہی نہیں۔ انٹرنیٹ پر سرچ کرتے ہوئے مجھے مغربی تھنک ٹینکس کی کئی رپورٹیں پڑھنے کو ملیں۔ ان سب میں انڈونیشیا کو ایک ہی لفظ سے پکارا گیا ہے، ’میری ٹائم سٹیٹ‘، یعنی سمندری ریاست۔ ۱۷ ہزار سے زائد جزائر پر پھیلا ہوا ملک جو بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے عین سنگم پر واقع ہے۔ ملاکا، سُنڈا اور لومبوک، تینوں بڑی آبنائیں اسی کے گرد ہیں۔

 ان میں سب سے اہم ’ملاکا‘ ہے۔ یہ وہ تنگ سمندری گزرگاہ ہے، جس سے چین، جاپان اور جنوبی کوریا کا تیل گزرتا ہے۔ اگر یہ راستہ چند ہفتے بند ہو جائے تو چین کی معیشت لرز اٹھے گی، اس کی سپلائی لائن بری طرح متاثر ہوگی۔ بعض ماہرین اسے دنیا کی شہ رگ کہتے ہیں اور یہ کوئی مبالغہ نہیں۔

سابق انڈونیشیائی صدر جوکو ویدودو نے ۲۰۱۴ء میں گلوبل میری ٹائم ترازو کا تصور پیش کیا۔ سادہ سا فارمولا کہ انڈونیشیا کو دو سمندروں کے بیچ محور بننا چاہیے۔ اس کے بعد بندرگاہوں، بحریہ اور ساحلی نگرانی پر پیسہ لگنا شروع ہوا۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے کیونکہ انڈونیشیا کی یہ نئی سوچ اور بھارت کی ’لُک ایسٹ پالیسی‘، دونوں ایک ہی سمت میں چل رہی تھیں۔ ان دونوں کا ملاپ ہونا ہی تھا۔ 

انڈونیشیا نےبراہموس میزائل کیوں خریدے ؟

ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر بعض لکھاریوں نے یہ تاثر پھیلایا کہ انڈونیشیا نے بھارت سے دوستی نبھانے کے لیے براہموس خریدا۔ یہ بات درست نہیں۔براہموس ایک سپرسانک اینٹی شپ کروز میزائل ہے۔ اس کا کام دور سے دشمن کے جنگی جہاز اور ساحلی اہداف کو تباہ کرنا ہے۔ جو معاہدہ ہوا ہے وہ زمین سے چلنے والے ساحلی دفاعی ورژن کا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے سترہ ہزار جزائر ہوں اور جس کے سمندری راستوں پر اس کی پوری معیشت کھڑی ہو، اس کے لیے ساحلی میزائل بیٹریاں لگانا کوئی انوکھا فیصلہ نہیں۔

اصل وجہ جنوبی بحیرہ چین 

انڈونیشیا خود کو اس تنازع کا فریق نہیں کہتا، مگر چین کی نائن ڈیش لائن کے بعض دعوے ناتونا جزائر کے قریب انڈونیشیا کے خصوصی اقتصادی زون سے جا ٹکراتے ہیں۔ چینی کوسٹ گارڈ اور ماہی گیر جہاز وہاں آتے رہتے ہیں اور جکارتہ کا پارہ چڑھتا رہتا ہے۔

  ایک بات مگر سمجھنا ضروری ہے جسے ہمارے اکثر تجزیہ کار نظرانداز کر جاتےہیں۔ انڈونیشیا اپنے سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھتا۔ اس نے ۲۰۲۲ء میں فرانس سے ۴۲رافیل طیارے خریدے، ۸؍ ارب ڈالر سے زائد کے۔ ترکیہ سے اس کے ففتھ جنریشن فائٹر طیارے کان کا سودا کیا، ۴۸طیارے ۔ امریکا سے ایف-۱۵ ای ایکس پر بات چل رہی ہے۔ چین کے جے ٹین سی پر بھی غور ہوا۔ انڈونیشیائی اسے ’بیباس دان اکتیف‘ کہتے ہیں، آزاد اور فعال۔ نہ کسی کے اتحادی، نہ کسی کے تابع۔

بھارت انڈونیشیا تعلقات میں اسرائیل کا عنصر 

 آفیشل پوزیشن یہ ہے کہ انڈونیشیا نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ غزہ کا بھی پرجوش حامی ہے، تاہم کہیں کہیں افواہ نما خبر یا خبرنما افواہیں یہ سامنے آتی رہیں کہ خفیہ طور پر رابطے چل رہےہیں۔ ویسے اس افواہ کو نظرانداز بھی کر دیں تو یہ حقیقت ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات پچھلے دو تین عشروں میں غیر معمولی حد تک گہرے ہوئے۔ ریڈار، ڈرون، فضائی دفاعی نظام، الیکٹرانک وارفیئر، نگرانی کے آلات، ہر شعبے میں اسرائیل نے بھارت کی مدد کی اور بھارتی دفاعی صنعت کو جدید بنایا۔ جب بھارت جنوب مشرقی ایشیا میں دفاعی شراکت دار بن کر گیا تو اس کے ہاتھ میں صرف سیاسی تعلقات نہیں تھے، بیچنے کے لیے مال بھی تھا۔

  یہ ممکن ہے کہ انڈونیشیا اسرائیلی ٹکنالوجی کی وجہ سے بھارت کے قریب گیا ہو، تاہم زیادہ محتاط تبصرہ یہ ہوسکتا ہے کہ اسرائیل سے تعاون نے بھارت کی مجموعی صلاحیت بڑھائی اور اسی صلاحیت نے اسے اہم فروخت کنندہ بنا دیا۔

اب یہاں وہ تضاد سامنے آتا ہے جو ہمارے قاری کو کھٹک سکتا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک، جس نے فلسطینی ریاست کی حمایت کبھی نہیں چھوڑی، جس کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات تک نہیں، وہ اسی بھارت سے میزائل لے رہا ہے جو اسرائیل کا سب سے قریبی دفاعی شراکت دار ہے۔ ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ جکارتہ نے یہ سوال اٹھایا ہی نہیں اور اس نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ نئی دہلی کے تل ابیب سے کیسے مراسم ہیں؟ اس نے صرف یہ دیکھا کہ اس کے سمندری دفاع میں کون کیا دے سکتا ہے؟

گوادر اور سبانگ، اور ایک غلط فہمی

ہمارے ہاں جب بھی انڈونیشیا کا ذکر آتا ہے، فوراً گوادر اور سبانگ کا موازنہ شروع ہوجاتا ہے۔ سبانگ پُلاؤ وے نامی چھوٹے جزیرے پر واقع ہے۔ اس کی اصل اہمیت کا اندازہ یوں لگائیں کہ سبانگ بھارت کے نکوبار جزائر کے جنوبی سرے اندرا پوائنٹ سے سو بحری میل سے بھی کم فاصلے پر ہے، درحقیقت آبنائے ملاکا کے دہانے پر موجود۔ 

ہمارے ہاں تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ بھارت سبانگ میں جم کر بیٹھ چکا ہے۔ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ سبانگ کا معاہدہ ۲۰۱۸ءمیں ہوا تھا اور آٹھ سال تک فائلوں میں پڑا رہا۔ چین کے ردعمل کے خوف سے انڈونیشیا ٹال مٹول کرتا رہا۔ اسی ماہ ۷ جولائی کی ملاقات میں اسے دوبارہ زندہ کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

یعنی بھارت بھی ہر جگہ فتح یاب نہیں۔ یہ بات مجھے اس لیے اہم لگتی ہے کہ ہمارے ہاں دوانتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک وہ جو بھارت کو ناقابلِ شکست سمجھ کر مایوسی پھیلاتے ہیں، دوسرے وہ جو ہر بھارتی قدم کو مذاق سمجھتے ہیں مگر سچ درمیان میں کہیں پر ہے ۔ 

ہم نے آسیان کو اتنی اہمیت نہ دی 

پاکستان میں آسیان کا ذکر عموماً سفارتی بیانات تک محدود رہتا ہے، حالانکہ یہ دنیا کے متحرک ترین معاشی خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ پہلے دس اور اب تیمور لیستے کی شمولیت کے بعد گیارہ ممالک پر مشتمل یہ تنظیم عالمی مینوفیکچرنگ، الیکٹرانکس، شپنگ، پام آئل، ربڑ، سیمی کنڈکٹرز اور سپلائی چینز کا اہم مرکز بن چکی ہے۔ بھارت نے آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کیے، وزارتی سطح پر مستقل رابطے استوار کیے، جامع اقتصادی اور دفاعی مکالمے شروع کیے، یونی ورسٹیوں اور تھنک ٹینکس کے درمیان روابط بڑھائے اور کاروباری اداروں کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا۔

پاکستان کی موجودگی اس کے مقابلے میں محدود رہی۔ ہماری برآمدات کا رُخ اب بھی زیادہ تر چین، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا کی طرف ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کی وہ گہرائی پیدا نہیں ہو سکی جو ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے ضروری تھی۔

دفاعی تعاون کے ساتھ تجارت بھی ناگزیر

یہ سب پڑھ کر شاید آپ کے ذہن میں مایوسی کا تاثر بن رہا ہو۔ ذرا ٹھہریے،چند ماہ پیچھے جاتے ہیں۔ ۸دسمبر ۲۰۲۵ء کو انڈونیشی صدر پرابوو سوبیانتو دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد آئے۔ صدر بننے کے بعد ان کا پاکستان کا پہلا دورہ۔ اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ ہمارے جے ایف ۱۷ طیاروں نے صدارتی طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی ایسکارٹ کیا۔ صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔ اور یہ سب اس سال ہوا جو ہمارے سفارتی تعلقات کی ۷۵ویں سالگرہ کا سال تھا۔

اس کے صرف ایک ماہ بعد، ۱۲ جنوری ۲۰۲۶ء کو، انڈونیشی وزیر دفاع اسلام آباد آئے اور پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملے۔ رائٹرز کے مطابق بات چیت کا موضوع تھا: تقریباً ۴۰جے ایف ۱۷ طیارے، حملہ آور ڈرون، فضائی دفاعی نظام اور انڈونیشی افسروں و انجینئروں کی تربیت۔ ریٹائرڈ ایئر مارشل عاصم سلیمان نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ سودا پائپ لائن میں ہے۔

 یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی اور خوش کن خبر تھی۔ مئی ۲۰۲۵ء کی جھڑپ کے بعد ہمارے جے ایف ۱۷ فائٹر طیارے کی عالمی ساکھ میں جو اضافہ ہوا، وہ کوئی معمولی بات نہیں۔ آذربائیجان سے ان طیاروں کا سودا ہو چکا، لیبیا کے ساتھ چار ارب ڈالر کا معاہدہ فائنل ہو رہا ہے، بنگلہ دیش سے بات چل رہی ہے، سوڈان اور اب انڈونیشیا۔ ہماری دفاعی صنعت پہلی بار ایک قابلِ ذکر برآمد کنندہ کے طور پر ابھر رہی ہے۔

  یہ سب خوب ہے لیکن صرف دفاعی تعاون کسی تعلق کو اسٹرے ٹیجک شراکت داری میں تبدیل نہیں کرتا۔بھارت نے دفاع کے ساتھ انڈونیشیا سے تجارت بھی بڑھائی۔تجارت کے ساتھ سرمایہ کاری بھی کی۔ سرمایہ کاری کے ساتھ صنعتی تعاون بھی جوڑا۔ ان سب کے ساتھ بحری حکمت عملی بھی شامل کر دی۔یہی وجہ ہے کہ آج نئی دہلی اور جکارتہ کے تعلقات ایک ہی ستون پر نہیں بلکہ کئی ستونوں پر کھڑے ہیں۔

  پاکستان نے انڈونیشیا کے ساتھ دوستی کو برقرار رکھا، مگر اسے نئی شکل نہ دے سکا۔ بھارت نے انڈونیشیا کے ساتھ دوستی کو ایک جامع پیکیج میں تبدیل کر دیا ۔بین الاقوامی سیاست میں یہی فرق ’اچھے تعلقات‘ اور ’اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ‘ کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔ یہی اس پوری کہانی کا سب سے اہم سبق بھی ہے۔

تعلقات میں بہتری کا دس نکاتی فارمولا 

  ہمیں انڈونیشیا سےاپنے تعلقات ہمہ جہت بنانےہوں گے، ان میں گہرائی اور وسعت لانا ہوگی۔ طیارے بیچنا ایک اہم سودا ہے مگر یہ شراکت داری نہیں۔ اس کے ساتھ تجارت، تعلیم، بندرگاہیں، تھنک ٹینکس اور مشترکہ صنعت نہ جڑی تو دس سال بعد ہم پھر وہیں کھڑے ہوں گے۔ پاکستانی منصوبہ سازوں کو اس حوالے سے دس اہم نکات یاد رکھنے چاہئیں:

۱-  خارجہ پالیسی میں تسلسل بہت اہم ہے۔ بھارت میں حکومتیں بدلتی رلیں مگر ’لُک ایسٹ‘ سے ’ایکٹ ایسٹ‘ تک سمت وہی رہی۔ اس کا انھیں فائدہ پہنچا۔ 

۲- اکیسویں صدی میں جغرافیہ صرف سرحدوں کا نام نہیں۔ بندرگاہیں، سمندری راستے، لاجسٹکس اور سپلائی چینز بھی جغرافیہ ہیں۔

۳- صرف اچھے سیاسی تعلقات کچھ نہیں دیتے۔ جب تک تجارت، سرمایہ کاری، جامعات اور کاروباری ادارے ان کے ساتھ نہ جڑیں۔

۴-  آسیان کو ہماری خارجہ پالیسی کے مرکزی معاشی دائرے میں لانا چاہیے۔ انڈونیشیا، ملائیشیا، ویت نام، تھائی لینڈ اور سنگاپور آنے والی عالمی معیشت کے ستون ہیں۔ اس دروازے پر ہمارا دوست ملائیشیا ہمارے لیے کھڑا ہے۔ یہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

۵- گوادر کو صرف عمارتوں اور سڑکوں کا منصوبہ سمجھنا بند کریں۔ بندرگاہیں خود سے آباد نہیں ہوتیں، انھیں تجارت اور بحری روابط زندہ کرتے ہیں۔

۶- انڈونیشیا اور ملائیشیا کے ساتھ دفاعی صنعت، ڈرون ٹکنالوجی اور مشترکہ تربیت کو ادارہ جاتی شکل دیں۔ ایک سودا الگ چیز ہے، ایک مستقل ڈھانچہ الگ۔

۷- یونی ورسٹیاں، پالیسی اداروں اور تھنک ٹینکس کے بغیر خارجہ پالیسی صرف پریس ریلیز رہ جاتی ہے۔ بھارت نے یہ خلا بڑی محنت سے پُر کیا۔

۸- ہماری بحری سوچ کراچی اور گوادر سے آگے نہیں بڑھتی۔ ملاکا کی آبنائے، مشرقی افریقہ، خلیج اور جنوب مشرقی ایشیا کو بھی اس نقشے میں شامل کرنا ہوگا۔

۹ ’جیو پولیٹکس‘ کے ساتھ ’جیو اکنامکس‘ بھی سیکھیں۔ سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ہوتی ہے جب اس کے ساتھ تجارت کے اعداد بھی بڑھیں۔

۱۰- اور آخری بات، جو شاید سب سے کڑوی ہے۔ انڈونیشیا کی آزاد اور فعال پالیسی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ وہ امریکا، چین، روس، جاپان، بھارت اور پاکستان، سب سے تعلق رکھتا ہے، مگر فیصلہ اپنا کرتا ہے۔ ہم نے اکثر یہ سمجھا کہ دوستی کا مطلب یک طرفہ وفاداری ہے۔ جکارتہ نے کبھی یہ نہیں سمجھا، اور شاید اسی لیے وہ آج ہر ایک کے لیے اہم ہے۔

             آخری بات

آنے والے بیس برسوں میں بحرِ ہند اور بحرالکاہل دنیا کی سب سے اہم معاشی فضا بن جائیں گے۔ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، سمندری کیبلز، توانائی کی نئی راہداریاں، سب کا بڑا حصہ اسی خطے میں مرتکز ہوگا۔ انڈونیشیا اپنی آبادی، معدنیات اور محلِ وقوع کی وجہ سے دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے جا رہا ہے۔

ہمارے پاس وقت ابھی ہے۔ اگرچہ زیادہ نہیں، مگر ہے ضرور۔ اگر پاکستان آنے والے ۱۰سے ۱۵برسوں میں جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیمی تعاون، بحری روابط اور سفارتی موجودگی کو منظم انداز میں بڑھاتا ہے تو وہ اس اُبھرتے ہوئے خطے میں اپنی جگہ مضبوط کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم پرانی ترجیحات کے دائرے میں ہی محدود رہے تو یہ فاصلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

  پاکستان کے لیے اس پوری کہانی کا سب سے بڑا سبق بھی یہی ہے کہ خارجہ پالیسی میں دوستیاں ضرور اہم ہوتی ہیں، مگر ان سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ وقت کے بدلتے ہوئے جغرافیے کو بروقت پہچانا جائے۔ جو قومیں نئی شاہراہوں پر وقت سے پہلے سفر شروع کر دیتی ہیں، وہی آگے نکل جاتی ہیں۔ 

 _______________

سوال : سیّدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے عالموں کے لیے رحمت کہا جاتا ہے اور اس کے ثبوت میں یہآیت پیش کی جاتی ہے: وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۱۰۷ (الانبیاء۲۱:۱۰۷)(اور ہم نے تم کو بھیجا ہے تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر) مگر عقل اس بات کو ماننے میں تذبذب کا شکار ہے۔اس لیے کہ زمین کی حیثیتکائنات میں ایسی ہے جیسے کسی صحرائے اعظم میں ایک کنکرکی یا بحرالکاہل میں پانی کے ایک قطرے کی۔ اس کے علاوہ آپؐ کی رسالت تو صرف دومخلوق جِنّ و انس تک محدود ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو جو ربّ العالمین کہا جاتا ہے یعنی سارے عالموں کا حاکم اعلیٰ تو یہ بات عین عقل کے مطابق معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ وہ تمام عالموں کا ربّ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تمام عالموں کے لیے رحمت ہوں گے؟

جواب :پہلی بات یہ سمجھیے کہ ’العالمین‘ کا لفظ قرآن میں تمام جہانوں یعنی پوری کائنات کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، جیسے ’ربّ العالمین‘ اور صرف اس دُنیا کے لیے بھی استعمال ہوا ہے جس میں ہم اور آپ رہتے بستے ہیں۔ اس محدود معنی کے لیے یہاں صرف تین مثالیں پیش کرتا ہوں: 

​l​ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسانات بتاتے ہوئے فرمایا ہے: يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ۝۴۷ (البقرہ ۲:۴۷)  ’’اے بنی اسرائیل، میرے اس احسان کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیا تھا اور اس بات کو کہ میں نے تمھیں دُنیا بھر کی قوموں پر فضیلت عطا کی تھی‘‘۔ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کو اسی عالم کے لوگوں پر فضیلت عطا کی گئی تھی نہ کہ پوری کائنات اور اس کے باشندوں پر۔

​l​حضرت مریم ؑ کے بارے میں کہا گیا ہے: وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَـۃُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰىكِ وَطَہَّرَكِ وَاصْطَفٰىكِ عَلٰي نِسَاۗءِ الْعٰلَمِيْنَ۝۴۲ (اٰل عمرٰن۳:۴۲) ’’اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم ؑ! اللہ نے تمھیں برگزیدہ کیااور پاکیزگی عطا کی اور تمھیں دُنیا بھر کی عورتوں پر ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چُن لیا‘‘۔

​l​سورئہ حجر میں ہے: قَالُوْٓا اَوَلَمْ نَــنْہَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ۝۷۰ (الحجر۱۵:۷۰) ’’وہ بولے کیا ہم نے تمھیںدُنیا بھر کے لوگوں کی حمایت سے منع نہیں کیا تھا‘‘۔

آپ نے سوال میں سورئہ انبیاء کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے، اس میں اکثر مفسرین نے ’العالمین‘ کا لفظ اسی عالم کے محدود معنی میں لیا ہے، پوری کائنات کے معنی میں نہیں لیا ہے۔اُردو میں بھی قرآن کے جو مستند تراجم موجود ہیں ان میں میری نظر سے ’تمام عالموں کے لیے‘ کا ترجمہ نہیں گزرا ہے۔ مسلمان عام طور سے حضوؐر کو ’رحمۃ للعالمین‘ رحمت عالم ہی کےمعنی میں کہتے ہیں، یعنی حضوؐر اس عالم کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے ہیں،جس میں ہم اور آپ رہتے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے آپ کے عقلی تذبذب کے لیے کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ اللہ نے اپنے آخری رسول کو تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا تھا، تو ہماری عقل کو یہ تسلیم کرلینے میں تذبذب کیوں ہوگا؟ کیا صرف اس لیے کہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ آپ دوسرے عالموں کے لیےکس طرح رحمت ہوں گے؟ تذبذب کی یہ معقول وجہ نہیں ہے۔ دیکھیے، ہم اور آپ منقول و معقول دلائل کی بنیاد پر اللہ کو تمام کائنات کا ربّ مانتے ہیں۔ لیکن کیا ہمیں یہ معلوم ہے کہ پوری کائنات کے لیے اس کے ربّ ہونے کینوعیت کیا ہے؟

انسان تو ابھی کائنات کی وسعت بھی ناپ نہیں سکا ہے۔ دوسرے عالموں کی مخلوقات کے ساتھ اللہ کی ربوبیتکی نوعیت کا ابھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی اللہ کو پوری کائنات کا ربّ ماننے کے لیے یہ جاننا ضرورینہیں ہے کہ ہرہرعالم کے ساتھ اس کی ربوبیت کی نوعیت کیا ہے؟ اسی طرح اگر ہم یہ مان لیں کہ اللہ نے سیّدنامحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالموں کے لیے رحمت بناکر بھیجا تھا تو ہمارے لیے یہ جاننا ضرورینہ ہوگا کہ دوسری دُنیائوں کے لیے آپؐ کے رحمت ہونے کی نوعیت کیا ہے؟ یہ بات اللہ کے علم میں ہے جس نے آپ کواپنی کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اس لیے اس معنی کے لحاظ سے بھی آپ کی عقل کو تذبذب کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ (سیّداحمد عروج قادری)