’حصولِ مقصد کے لیے دینی حکمت اور انتخابات میں ہماری ذمہ داری‘ (اپریل ۲۰۱۳ء) کے تحت ڈاکٹر انیس احمد نے معاشرے کو حقیقی معنوں میں اسلامی بنانے کے لیے حکمت عملی پر عمدہ خامہ فرسائی فرمائی ہے۔ ایک جگہ سورئہ بقرہ کی آیت ۲۴۷ کا مصداق حضرت دائود ؑ کو قراردیا گیا ہے، جب کہ اس کا مصداق ’طالوت‘ کو کہا جائے تو درست ہوگا۔مولانا مودودیؒ کے حوالے سے مولانا امین احسن اصلاحیؒ کا انٹرویو دونوں شخصیات کی عظمت آشکار کرتا ہے۔ تمباکونوشی کے معاشرے پر نقصان دہ اثرات اور فقہی نقطۂ نظر سے جواز اور عدم جواز پر ڈاکٹر عطاء الرحمن کا مضمون اور ووٹ کی شرعی حیثیت پر مفتی محمد شفیعؒ کا مضمون بہت معلومات افزا ہیں۔
’تفہیم القرآن: عصرِحاضر کی بے مثال تفسیر‘ (مارچ ۲۰۱۳ء) عمدہ تحریر ہے اور اس کے مطالعے سے تفہیم القرآن کی قدروقیمت دوچند ہوجاتی ہے، نیز مطالعے کے لیے تحریک ملتی ہے۔ مضمون میں فارسی اشعار بھی بہت قیمتی ہیں۔ اگر ترجمے کا اہتمام ہوتا تو سب لوگ مستفید ہوتے۔
’مولانا مودودیؒ میری نظروں میں‘ (اپریل ۲۰۱۳ء) نے تاریخی یادیں تازہ کردیں اور مولانا مودودیؒ اور مولانا امین احسن اصلاحیؒ دونوں اکابر کے علمی اختلاف کا پہلو ایک منفرد انداز سے سامنے آیا۔ اکابرین کی قربانیاں، عزم اور ایمان بھری داستانیں اپنا ہی ایک سبق اور تاثیر رکھتی ہیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کے بڑے احسان مانے جاتے ہیں۔ آج کل ووٹ کے حوالے سے ہم سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کا موضوع بنے ہوئے ہیں لیکن میری کہانی تو یہ ہے کہ پاسپورٹ تجدید کے لیے پانچ دن کا ارجنٹ کے لیے جمع کروایا، ۲۰ہزار رشوت بھی دی ہے۔ ابھی ساڑھے تین ماہ ہوئے ہیں، اور انتظار ہے!
ایک نشست میں شرکت کا موقع ملا جہاں میزبان نے یہ واقعہ سنایا کہ میرا بیٹا اپنی گاڑی ڈرائیو کرتا ہوا جا رہا تھا کہ سامنے سے ڈاکوئوں نے آکر روک لیا۔ اس کو والدہ کی نصیحت تھی کہ مشکل کے وقت آیت الکرسی پڑھا کرو۔ اس نے آیت الکرسی پڑھنا شروع کردی۔ ڈاکوئوں نے دائیں بائیں، پیچھے کی گاڑیوں کو سب کو لوٹا اسے چھوڑ دیا۔ یہ سامنے کھڑا ہے اس سے پوچھ لیں۔ دوسرا واقعہ انھوں نے اپنے ایک دوست کا سنایا کہ وہ گھر میں اہلیہ اور بچوں کو چھوڑ کر چلے گئے۔ بعد میں اہلیہ بھی ایک بیٹی کو لے کر کسی کام سے چلی گئی۔ان بچوں کو بھی والدہ نے یہ تعلیم دی تھی کہ مصیبت کے وقت ’آیت کرسی‘ پڑھا کرو۔ ڈاکو آگئے۔ یہ بچے کرسی کے نیچے چھپ کر ’آیت کرسی‘ کا ورد کرتے رہے۔ ڈاکوئوں نے آس پاس کے فلیٹوں کو لوٹا۔ ان بچوں تک نہ پہنچے۔ ڈاکو بعد میں پکڑے گئے تو پولیس نے پوچھا کہ کس کس فلیٹ سے کیا چرایا۔ جب اس فلیٹ کا ذکر آیا تو ڈاکوئوں نے کہا کہ یہ تو غیرآباد ہے۔ پولیس والے نے کہا کہ یہ ہماری beat (گشت کا علاقہ) اس فلیٹ میں فلاں صاحب رہتے ہیں۔ ڈاکوئوں کا کہنا تھا کہ ہم نے دروازہ کھولا تو پوراکمرہ کرسیوں سے بھرا ہوا تھا جیسے کسی ڈیکوریشن والے کا گودام ہو۔ جدید تعلیم کی وجہ سے ہمارے ذہین ان باتوں کو قبول نہیں کرتے، وزن نہیں دیتے، عمل کرتے ہیں تو آزمانے کے لیے کرتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقی واقعات آج تک صدیوں سے سامنے آرہے ہیں اس لیے کہ اس کائنات کا فرماں روا اللہ تعالیٰ ہے جس کی پوری دنیا میں کارفرمائی ہرسطح پر جاری ہے۔
سوال: مجھے آپ کی تحریک سے ذاتی طور پر نقصان پہنچ رہا ہے۔ میری ایک بہن آپ کی جماعت میں شامل ہوگئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جون بدل گئی۔ ہروقت نماز، تسبیح اور وعظ و نصیحت سے کام ہے۔ گھر کے افراد کو زبردستی آپ کا ترجمہ قرآن سناتی ہے۔ اگرچہ تعلیم یافتہ ہے لیکن خیالات کے اعتبار سے وہ موجودہ زمانے کی لڑکی نہیں رہی۔ لباس سادہ اور سفید پہننے لگی ہے۔ جس دن دل چاہے روزہ رکھ لیتی ہے۔ مَیں اس کے اِس طرز سے نہایت پریشان ہوں۔ رشتہ داروں میں جو سنتا ہے وہ اس لیے رشتہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا کہ دن رات وعظ کون سنے۔ پرسوں میری خالہ آئی تھیں اُن کو بھی یہی نصیحت کرنے لگیں۔ چند کتابیں اور ایک کیلنڈر آپ کے ہاں کا انھیں دے ہی دیا۔ کل اتوار تھا۔ ہم لوگ سیر کے لیے گئے تھے۔ اس سے بہت کہا لیکن وہ نہ گئی۔ بالکل ولیوں کی زندگی بسر کرنے کے لیے اس ماحول میں گنجایش آخر کس طرح پیدا کی جائے۔ نہ تو اس کی شادی اس طرح ہوسکتی ہے اور نہ اُس کے خیالات بدلنا میرے یا کسی کے بس میں ہے۔ اگر اس سے کچھ کہا سنا جائے تو وہ رنجیدہ ہوجاتی ہے۔ بتایئے میں کیا کروں؟
جواب: اس معاملے میں مَیں خود بھی بے بس ہوں۔ آپ اپنے طور پر ہی کوشش کریں کہ آپ کی ہمشیرہ اسلام سے توبہ کرلیں۔ (’رسائل و مسائل‘ ، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن، جلد ۴۰، عدد۲-۳ ،شعبان، رمضان، ۱۳۷۲ھ، مئی جون ۱۹۵۳ء، ص ۱۶-۱۷)