سوال: میں چاہتا ہوں کہ جنت میں جائوں ، اپنے نفس سے مجاہدہ کرنا چاہتا ہوں، شیطان اور خواہشاتِ نفس سے دُور ہونا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے قیامت کے دن ’ربانی بندہ‘ کا خطاب دے، میں اپنے مسلمان بھائیوں سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور یہ چاہتا ہوں کہ میرا ایمان مسلسل بڑھتا رہے۔ بتائیں میں کیا کروں؟
جواب: آپ نے جو سوالات کیے ہیں، وہ فطرتِ سلیمہ کے غماز ہیں۔ یہ عظیم تمنائیں ہیں جو پختہ ایمان سے ہی پوری ہوسکتی ہیں۔ حضرت سفیان ثوریؒ کا قول ہے کہ ایمان محض خواہشات اور چند رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایمان تو وہ ہے جو دل میں بیٹھ جائے اور عمل سے اس کی تصدیق ہو۔ عربی کا مقولہ ہے کہ جو بلندیوں کا طالب ہوتا ہے، اسے راتیں جاگ کر گزارنا پڑتی ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاضؒ کہتے ہیں: ’’تمھارے دل ایمان کی حلاوت اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک تم دنیا سے بے رغبتی اختیار نہیں کرلیتے‘‘۔ مزید کہتے ہیں: ’’اگر تمھیں قیام اللیل (رات کو اُٹھ کر عبادت کرنے) اور دن کو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں تو پھر جان لو کہ تم بھلائیوں سے محروم ہو‘‘۔ سچے مومن کا دل دہکتے انگارے کی طرح ہوتا ہے۔ اس لیے آپؐ نے فرمایا: تمھارے دل میں ایمان پرانا ہوجاتا ہے جیسے کپڑا پرانا ہوتا ہے، تم اللہ سے سوال کرتے رہو کہ وہ تمھارے دلوں میں ایمان کو تازہ کرتا رہے۔ (مستدرک، معجم الطبرانی)
مومن کے دل کو بعض اوقات معصیت کے بادل گہنا دیتے ہیں، اور اس کے نور کو ڈھانپ دیتے ہیں جس سے وہ اندھیرے اور وحشت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ اگر بندے نے اپنے ایمان میں اضافہ کرنے کی کوشش کی اور اللہ سے مدد طلب کی تو یہ کالے بادل چھٹ جاتے ہیں اور دل کا نور پھرسے بحال ہوجاتا ہے۔ لہٰذا رہ رہ کر ایمان کی طرف واپسی ضروری ہے۔ اگر آپ ایمان کی طرف لوٹ آئے اور اس کے تقاضے پورے کردیے تو آپ کی یہ تمنائیں پوری ہوسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اصول ہمیشہ مدنظر رہے جس سے آپ ایمان کے ہونے یا نہ ہونے کا خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔
امام ابن جوزی کہتے ہیں: ’’اے وہ کہ دروازے سے دھتکارے گئے ہو، اور جسے دوستوں کی ملاقات سے محروم کیا گیا ہے۔ اگر تم چاہتے ہو کہ بادشاہ کے ہاں اپنی قدرومنزلت کا اندازہ لگاسکو تو یہ دیکھ لو کہ اس نے تمھیں کن کاموں میں لگا دیا ہے، اور تم سے کون سے کام لے رہا ہے؟ کتنے ہی بادشاہ کے دَر پر کھڑے ہیں، مگر اندر جانے کی صرف ان کو اجازت ملتی ہے جنھیں بادشاہ چاہتا ہے۔ ہر دل تقرب حاصل کرنے کے قابل نہیں، ہرسینے کے اندر محبت نہیں، ہرنسیم نسیمِ سحر نہیں‘‘۔
اگر بندہ یہ جاننا چاہے کہ اللہ کے ہاں اس کی کیا قدرومنزلت ہے تو اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اللہ کے احکامات کی بجاآوری کس حد تک کر رہا ہے، اس کے اوقات کیسے گزررہے ہیں، اس کے مشاغل کیا ہیں۔ اگر وہ دین کی دعوت اور لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچانے میں لگا ہوا ہے، جنت کے حصول، کمزوروں اور ناداروں کی مدد اور دیگر نیک کاموں میں اس کی صلاحیتیں لگ رہی ہیں، تو اسے بشارت ہو کہ اسے بادشاہ کا تقرب حاصل ہے۔ اس لیے کہ اللہ بھلائی کی اس کو توفیق دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ دعوتِ دین کے کام سے دُور ہے، بھلائی کے کاموں سے محروم ہے، محض دنیا کمانے میں لگا ہوا ہے، قیل و قال اور باتیں زیادہ مگر عمل کچھ نہیں، یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے لگا ہوا ہے، تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ اللہ سے دُور ہے، جنت سے قریب کرنے والے اعمال سے محروم ہے: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَالَہٗ فِیْھَا مَا نَشَآئُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَھَنَّمَ (بنی اسرائیل ۱۷:۱۸) ’’جوکوئی (اس دنیا میں) جلدی حاصل ہونے والے فائدوں کا خواہش مند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسوم میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا، ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہوکر‘‘۔
اگر تم چاہتے ہو کہ بھلائی اور نیکی کے تمام کاموں میں تم سبقت حاصل کرتے رہو، ربانی بندہ، والدین کا فرماں بردار اور جنت کے طالب بنو، تو یہ کام کرو:
سمجھ لو کہ آدمی ’ربانی بندہ‘ تبھی بن سکتا ہے جب وہ ہرحال میں رب العالمین کا ہوکر رہے۔ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo (الانعام ۶:۱۶۲) ’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے‘‘۔ ربانیت تبھی حاصل ہوسکتی ہے جب عبادت کے وسیع مفہوم کے ساتھ اللہ سبحانہ کی عبادت کی جائے۔ زندگی اور موت بلکہ تمام حرکات و سکنات اللہ کے احکام کے تابع کردی جائیں۔ بولیں تو اللہ کی مرضی کے مطابق، کوئی کام کریں تو اللہ کی مرضی کے مطابق، ان اقوال و اعمال کے پیچھے ارادہ اور ہدف و مقصد اللہ کی ذات بن جائے۔ صرف یہ نہ ہو کہ بعض مخصوص اذکار و اوراد پڑھ لیں یا کبھی کبھار تھوڑی سی رقم اداکریں یا چند دن روزہ رکھ لیں۔ جس طرح زندگی کے شعبے لامحدود ہیں اور ہمارے تعلقات اور سرگرمیاں لامحدود ہیں، اسی طرح ہرجگہ جہاں آپ ہوں اور ہرلمحہ جو آپ کو میسر ہو، اس میں اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کرنے کے راستے تلاش کریں۔ اس فکر میں رہیں کہ جو کچھ وہ چاہتا ہے، کر گزریں۔ اس طرح آپ ’ربانی بندہ‘ بن سکتے ہیں۔(ڈاکٹرعبدالحی ابڑو)
س: میاں بیوی میں جھگڑا ہوگیا ۔ بیوی اپنے میکے چلی گئی۔ میکے والوں نے کڑی تحریری شرائط کے بغیر بیوی کو سسرال بھیجنے سے انکار کردیا۔ ایک معاہدے پر فریقین اور ثالثان نے دستخط کیے، اس کی اہم شرائط درج ذیل ہیں: ۱- اگر شوہر نے دوسری شادی کی یا پہلے سے کی ہوئی دوسری شادی ثابت ہوئی تو شوہر پہلی بیوی کو ۱۰ لاکھ روپے ادا کرے گا۔ ۲- شوہر نان نفقہ کے علاوہ بیوی کو ۱۰ہزار روپے ماہانہ بطورِ جیب خرچ ادا کرے گا۔۳- دوسری شادی کی صورت میں اپنا رہایشی مکان پہلی بیوی کے نام کردے گا۔۴- بیوی اور اس کے بچوں کے لیے علیحدہ کار اور ڈرائیور کا بندوبست کرے گا۔ ۵-بیوی کے لیے صرف یہ نصیحت درج کی گئی کہ وہ عائلی زندگی کے بابت شرعی احکامات کو پورا کرنے کی کوشش کرے گی۔
سوال یہ ہے کہ (ا) اللہ کا دین مرد کو قوام قرار دیتا ہے۔ کیا عائلی تنازعات کو حل کرنے کے لیے مذکورہ بالا شرائط منوانے سے دین کی بنیادی ترتیب درست رہ سکتی ہے؟ (ب)اسلام میں بیک وقت مرد کو چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے اور صرف ایک شرط باہم انصاف کرنے کی عائد کرتا ہے۔ کیا مذکورہ معاہدے میں شوہر کو دوسری شادی کرنے پر جس طرح مالی پابندی میں جکڑا گیا ہے، جائز ہے؟ کیا عدالت نبویؐ کا کوئی فیصلہ ملتا ہے کہ نبی کریمؐ نے کسی عائلی تنازعے میں مرد کو مالی شرائط میں جکڑا ہو؟
ج: جب ایک آدمی ایک شرط کو اپنی مرضی سے قبول کرلے اور اس کا وعدہ کرے تو اس کا پورا کرنا اس پر لازم ہوجاتا ہے۔ شوہر کو ان شرائط کے بارے میں اس وقت سوچنا چاہیے تھا جب معاہدہ ہورہا تھا۔ شوہر کے ہمدرد جن کو اب ان شرائط پر اعتراض ہے، انھیں بھی اس وقت سوچنا چاہیے تھا جب یہ شرائط پیش کی جارہی تھیں۔ اگر اس وقت ان شرائط کو قبول نہ کرنے پر متوجہ نہ کیا تو اب شرائط کو پورا کرنے دیا جائے۔ اخلاقاً شوہر پر ان شرائط کو پورا کرنے کی پابندی ہے۔ البتہ شرعی عدالت میں مقدمہ کیا جائے، تو عدالت صرف نصیحت کرے گی۔ ان شرائط کی خلاف ورزی پر تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری نہ کرے گی۔ اس لیے کہ نکاح منعقد کرتے وقت یہ شرائط نہیں لگائی گئی تھیں، یہ بعد میں لگائی گئی ہیں اور وہ بھی لڑکی کے ماں باپ کی طرف سے لگائی گئی ہیں۔ اگر لڑکی شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہے، تب ان شرائط کا کیا جواز ہے۔ یہ شرائط تو ماں باپ نے اپنی اَنا کی تسکین کے لیے لگائی ہیں۔ بنابریں شوہر قانوناً ان شرائط کا پابند نہیں ہے لیکن باہمی نبھائو تو قانون نہیں کراتا، باہمی رضا مندی سے ہوتا ہے۔ اس لیے اگر بیوی ان شرائط کو لوجہ اللہ واپس لے لے تو اس کے لیے جائز بلکہ مستحسن ہے۔ کوشش کی جائے کہ یہ رشتہ نہ ٹوٹے اور حتی الامکان ایک دوسرے کی رعایت کریں تاکہ زندگی خوش گوار گزرے۔ دوسری شادی بیوی کو اطلاع دے کر کی جائے تاکہ پہلی بیوی ناراض ہوکر ماں باپ کے گھر نہ بیٹھ جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ شرط جو تمام شرطوں سے زیادہ پورا کیے جانے کی مستحق ہے، نکاح کی شرط ہے جس سے تم فرج کو حلال کرتے ہو‘‘(متفق علیہ)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ پورا کرنے کی اس قدر تاکید کی ہے کہ وعدے کی خلاف ورزی کو نفاق قرار دیاہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ایسی صورت حال پیش کی جاتی تھی کہ عورت شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور شوہر کے ساتھ رہنا اس کے لیے گراں ہوتا تو آپؐ شوہر کو مہر واپس دلا کر طلاق دلوا دیتے تھے۔ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت ثابت بن قیسؓ کی بیوی آپؐ کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ میں ثابتؓ کے اخلاق اور دین پر کوئی اعتراض نہیں کرتی لیکن میرے لیے ایک بیوی کی حیثیت سے اس کے ساتھ خوش دلی کے ساتھ رہنا ممکن نہیں ہے۔ میں کراہت کے ساتھ بیوی بن کر رہنے کو کفر (ناشکری)سمجھتی ہوں۔ اس پر آپؐ نے حضرت ثابت بن قیسؓ کو پوچھے بغیر فرمایا: کیا تو اسے اس کا باغ جو اس نے تجھے مہر میں دیا ہے واپس کرتی ہے؟ نبیؐ نے یہ بات اس لیے پوچھی کہ آپؐ سمجھ گئے کہ خاتون سچی مسلمان ہے، اسلام اور ایمان کے تقاضوں کو سمجھتی ہے اور اسے بزورِ رشتۂ نکاح میں باندھے رکھنا مناسب نہیں ہے۔ تب آپؐ نے حضرت ثابت بن قیسؓ کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو۔ چنانچہ انھوں نے طلاق دے دی۔ (بخاری)
آپؐ نے ایسا اس لیے کیا کہ اسلام ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے جس میں معاشرے کی پہلی اکائی اطمینان اور سکون اور پیارو محبت کی زندگی پر مبنی ہو تاکہ اقامت ِ دین کے لیے جدوجہد دل جمعی اور کسی پریشانی کے بغیر کی جاسکے۔ اگر ایک آدمی اپنے گھر میں پریشان ہوگا تو وہ کفار اور منافقین سے کیسے جہاد کرسکے گا۔ صحابہ کرامؓ نے جس جذبے اور جوش اور اطمینان سے جہاد کیا اور قربانیاں دیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے گھروں کے لیے فکرمند نہ تھے۔ ان کی بیویاں ان کے گھروں، ان کی اولاد اور ان کی امانتوں کی پوری طرح محافظ تھیں۔ آج اسی قسم کے معاشرے کی ضرورت ہے۔ جب محبت ہوتی ہے تو عسرت کی زندگی بھی قبول ہوتی ہے۔ شرائط مقرر کرنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ فریقین کو بزور باندھ کر رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ثالثوں کو چاہیے کہ وہ مذکورہ جوڑے کو محبت کے رشتے میں باندھنے کی کوشش کریں اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں محبت ہے تو لڑکی کے والدین کو چاہیے کہ جس طرح نکاح سے پہلے شرطیں نہیں لگائیں، اب بھی شرائط کو واپس لے لیں۔ لڑکی کو چاہیے کہ والدین کو شرطیں واپس لینے کی درخواست کرے۔ اگر میاں بیوی راضی ہیں، محبت سے رہنے کے لیے تیار ہیں تو پھر شرطوں کو مسئلہ نہ بنائیں۔ بنیادی بات باہمی رضامندی اور محبت ہے، اس پر توجہ دی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی روح کے مطابق رشتوں کو استوار کرنے اور قائم رکھنے کی صلاحیت اور جذبے سے نوازے، آمین۔(مولانا عبدالمالک)
Family Law in Islam: Theory and Application [عائلی قانون اسلام میں: اصول اور اطلاق]، ڈاکٹر محمد طاہر منصوری۔ ناشر: شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد۔ صفحات: ۲۶۳۔ قیمت: درج نہیں۔
اسلام میں خاندان، عیال کا تصور بہت وسیع ہے۔ قرآنِ مجید میں جہاں اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے، اس کے بعد ہی والدین کے ساتھ ’احسان‘ کی ہدایت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ایک زمانے سے ہمارے ہاں بھی (دوسرے لادینی معاشروں کی طرح) ’خاندان‘ یا ’عیال‘ سے مراد ’شوہر بیوی‘ سے تشکیل پانے والاادارہ ہی لیا جاتا ہے، حالانکہ family کے معنی ’ماں باپ اور اولاد پر مشتمل کنبہ‘ (دیکھیے: قومی انگریزی اُردو لغت،مرتبہ: ڈاکٹرجمیل جالبی) ہیں۔ بہرحال عائلی اور عیال کے اس محدود معنوں میں ڈاکٹر محمد طاہر منصوری کی پیش نظر کتاب اسلامی قوانین کی انگریزی زبان میں تذکیر و تفہیم میں ایک مفید اضافہ ہے۔
پہلے باب میں اسلام میں نکاح اور خاندان کے تصور پر گفتگو کی گئی ہے۔ حیرت انگیز افسوس کہ مسلم فقہا کی بیان کی ہوئی ’نکاح‘ کی تین تعریفوں میں مرد اور عورت کے درمیان ’جنسی تعلق‘ ہی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے، مگر مصنّف بجاطور پر کہتے ہیں کہ قرآنی تصورِ نکاح میں زوجین کے درمیان طویل رفاقت، باہمی محبت، ہمدردی اور ذہنی ہم آہنگی اہم ہیں، نہ کہ محض جنسی تعلق۔ تاہم نکاح کے وظائف کے ضمن میں وہ بھی جنسی خواہش کی تسکین ہی کو اوّلیت دے کر پہلے اسی کا تذکرہ کرتے ہیں، اور اس کے بعد نسلِ انسانی کی بقا، ذہنی سکون اور اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کا ذکر کرتے ہیں۔
زوجین کے حقوق و فرائض کے سلسلے میں قرآنی احکام واضح ہیں۔ بیویوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی ہدایت کی گئی ہے۔ اگرچہ مرد کو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت ہے، مگر شرط یہ ہے کہ سب کے ساتھ انصاف اور برابری کا سلوک ہو۔ معاشی ضروریات کی تکمیل، بڑی حد تک مردوں کے فرائض میں ہے اور اُمورِ خانہ داری کی نگہ داشت عورتوں کا فریضہ ہے۔
عہدِنکاح کے قانونی اور درست طریقوں میں مختلف فقہی مدارس، مالکی، شافعی، حنفی اور حنبلی کا ذکر ہے، اور مختلف مسلم ممالک (تیونس، عراق، شام، ایران اور مراکش) میں جدید قانون سازی کا مختصر جائزہ ہے۔ عہدِ طفلی کے نکاح کو بعض فقہی مدارس درست قرار دیتے ہیں، لیکن پاکستان میں مروج قانون کے مطابق لڑکی اور لڑکے کی عمر کم از کم ۱۸سال ہونی چاہیے۔ کم سنی کے نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار لڑکی کو دیاگیا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں مختلف مسلم ملکوں میں اختلافات ہیں۔ جہاں تک ’مہر‘ کا تعلق ہے، اِسے بہت سے لوگ عورت کی ’قیمت‘ یا ’معاوضے‘ کے طور پر لیتے ہیں، جو درست نہیں۔ مرد کا اپنی بیوی کو مہرادا کرنا دراصل نکاح کی ذمہ داریوں کی ادایگی کا ایک علامتی اظہار اور اس کی طرف سے تعلقِ خاطر کا ایک تحفہ ہے۔
جن رشتوں کے حوالے سے نکاح کی ممانعت ہے، قرآنِ مجید میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی حج، عمرہ یا حالت ِ احرام میں نکاح فاسد ہوگا۔ غیرمسلم خواتین سے نکاح کے بارے میں مختلف فقہا اور مدارسِ فکر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ تاہم ایک اہم فقہی مسلک (امامیہ/جعفریہ) میں ’موقتی نکاح‘ یا متعہ کی اجازت اور دوسرے مسالک میں اس کی ممانعت کا ذکر نہیں، اگرچہ ایران کے حوالے سے ضمناً اس کا تذکرہ ہے۔ (ص ۵)
بیوی اور مطلقہ کے حقوق کے بارے میں بھی قرآن مجید کی آیات، مختلف علما کی آرا اور مسلم ملکوں کے قوانین کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ طلاق، خلع، ظہار، فسخ (عدالتی حکم پر علیحدگی)، عدت، اولاد کی کفالت کے سلسلے میں بھی فقہا کی آرا اور مختلف مسلم ممالک کے قوانین میں اختلافات ہیں۔ مصنف نے ان سب کا تفصیلی جائزہ تو لیا ہے، جو بلاشبہہ ایک مفید کوشش ہے، تاہم انھوں نے اپنی حتمی راے دینے سے گریز کیا ہے۔ قانون سازوں کو اِن تفصیلات سے یقینا آسانی ہوگی کہ انھیں ایک جگہ مختلف نقطہ ہاے نظر مل جائیں گے، مگر ایک عام قاری کی معلومات میں اس سے اضافہ تو ہوگا، لیکن اس طرح وہ انتشارِ فکری کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس راے میں اُسے سہولت نظر آئے، یا جو اُس کی خواہش کے مطابق ہو وہ اُسے اختیار کرے۔ بہتر ہوتا کہ مصنف، دلائل کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر بھی بیان کردیتے۔
پاکستان میں عائلی قوانین کی طرف ابتدا ہی سے توجہ کی گئی۔ ۵۰ کے عشرے میں حکومت نے ایک مجلس قائم کی، جس کی سفارشات پر مشتمل ۱۹۶۱ء میں حکومت ِ پاکستان نے مسلم فیملی لا آرڈی ننس نافذ کیا۔ اس کی تیاری میں علما، قانون دان اور سماجی رہنما (خواتین و حضرات) شامل تھے۔ تاہم بعض علما نے اس قانون کی بعض شقوں (یتیم پوتے کی وراثت، نکاح کے لیے لازمی رجسٹریشن، نکاحِ ثانی کے لیے خاندانی عدالت کی اجازت وغیرہ) سے اختلاف بھی کیا۔ مصنف نے اس سلسلے میں اپنی تفصیلی راے بھی دی ہے۔
کتاب میں ایک دل چسپ اضافہ The Disolution of Muslim Marriage Act 1939 (مسلم نکاح کی تنسیخ کا قانون ۱۹۳۹ء) ہے۔ یہ مفید قانون انگریزی حکومت کے دور کا ہے ، جو بعض حالات اور شرائط پر ایک خاتون کو نکاح کی تنسیخ کا عدالتی حق دیتا ہے۔
بظاہر کمرئہ جماعت کی تدریس میں تشکیل پانے والی اس مفید کتاب میں ناقص ’اشاریہ‘ (دیکھیے India، Psychological ) اور بعض نامکمل آیاتِ قرآنی کی اغلاط اور ترجمانی (ص ۱۰، ۷۸، ۸۸) کھٹکتی ہیں جو اُمید ہے کہ آیندہ اشاعت میں درست کرلی جائیں گی۔
ڈاکٹر محمد طاہر منصوری، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد میں شریعہ اور قانون کے پروفیسر ہیں۔ اُمید ہے کہ اُن کی یہ تالیف ہمارے قانون کے طلبہ اور قانون سازوں کے لیے مفید ثابت ہوگی۔(پروفیسر عبدالقدیر سلیم)
عبدالوحید خان، پاکستان ایئرفورس سے وابستہ رہے ۔ بین المذاہب موضوعات سے خصوصی دل چسپی رکھتے ہیں۔ ان کی ۱۱ کتب شائع ہوچکی ہیں۔ اس وقت ان کی چار کتب پیش نظر ہیں۔
۱- قرآنی معلومات:اس کتاب کے ذریعے مسلمان کے دل میں قرآن کی محبت کو بڑھانے اور مقاصدسے آشنا اور ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قرآن کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور اس کے مضامین سے روشناس کرانے کی کامیاب کوشش ہے۔
۲- پیغمبر آخرالزماں حضرت محمدؐکی شخصیت
۳- Life of Prophet Muhammad ، اُردو اور انگریزی میں یہ کتابیں، حضوؐر کی سیرت و شخصیت کا ایک عمدہ خاکہ ہیں۔ سیرت کے اہم واقعات کو سامنے لاکر عمل پر اُبھارا گیا ہے۔ موجودہ دور میں مغرب کی جانب سے حضوؐر کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس پروپیگنڈے کا توڑ بھی کیا گیا ہے۔ علمی استدلال پر مبنی یہ تحریریں حضوؐر سے محبت کو دوبالا کرتی اور عظمت ِ رسولؐ اور احترامِ رسولؐ کے جذبات بیدار کرتی ہیں۔
۴- Inter-Faith Essays and Other Articles،بین المذاہب ہم آہنگی اور دوسرے موضوعات پر مبنی ۲۱ مضامین پر مشتمل ہے۔ اس میں معاشرے کے بہت اہم اور حساس موضوعات پر قلم اُٹھایا گیا ہے۔ قرآن و سنت اور حالات کے تناظر میں ان پر بات کی گئی ہے، بالخصوص اہلِ مغرب نے اسلام سے جو ایک نام نہاد جنگ شروع کررکھی ہے اس پر اظہارِخیال کیا گیا ہے۔ مغرب این جی اوز کے ذریعے تعلیم و صحت کے میدان میں کام کر کے عیسائیت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے اور اسلام کو اپنا حریف سمجھ کر اسلام کے بارے میں نت نئے فتنے اُٹھا رہا ہے، اس کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ قرآن تو بس سیدھا راستہ دکھانے والی ایک کتاب ہے۔ مختصر انگریزی مضامین زبان و بیان کے اعتبار سے انتہائی سادہ اور عام فہم ہیں۔ (عمران ظہورغازی)
سرورق کے مطابق یہ کتاب مولانا ظفر علی خان کے ’غیرمطبوعہ خطوط کی روشنی میں‘ ان کا ایک شخصی مطالعہ ہے۔ زاہد منیرعامر پنجاب یونی ورسٹی اورینٹل کالج علامہ اقبال (اولڈ) کیمپس میں اُردو زبان و ادب کے پروفیسر ہیں۔ گذشتہ دو برس قبل شیخ الجامعہ نے انھیں نیوکیمپس بلاکر شعبۂ ابلاغ عامہ سے منسلک ’مسندِظفر علی خان‘ پر فائز کیا تھا۔ یہ کتاب مصنف کے زمانۂ مسند نشینی کا حاصل ہے۔
کوئی ۲۵سال پہلے موصوف نے مولانا ظفر علی خان کے مکاتیب کا پہلا (اور تاحال) آخری مجموعہ شائع کیا تھا، اب دوسرا مجموعہ پیش کیا ہے۔ اس دوسرے مجموعے کی نوعیت خطوں کے عمومی اور روایتی مجموعوں سے مختلف ہے، اور شاید اسی لیے انھوں نے کتاب کے نام میں خطوط و خیوط کی ترکیب شامل کی ہے (کاش مصنفِ علّام سرورق پر ایک حاشیہ دے کر ’خیوط‘ کے معنی بھی اس مبصر جیسے کم علم قارئین کو سمجھا دیتے۔ بہرحال ہم لُغت کی مدد سے بتائے دیتے ہیں کہ خیوط ’خیط‘ کی جمع ہے (خبط کی نہیں)، معنی ہیں: ’تاگہ‘)۔ اس لفظ کو کتاب سے مناسبت یہ ہے کہ مؤلف نے ان خطوں کی مدد سے مولانا ظفر علی خان کی زندگی کے کچھ خیوط ، یعنی نقوش یا پہلو دریافت کیے ہیں۔ خطوں کو تاریخ وار یا مکتوب الیہ وار ترتیب دینے کے بجاے چند عنوانات کے تحت مرتب کیا گیا ہے، مثلاً: ’خانگی زندگی پر کچھ روشنی، (اس حصے کے سارے خطوط مولانا کی بیگم کے نام ہیں)۔ عہدِشباب کے نقوش، پاکستان کا درزی، شہید گنج کا غم، کیا مولانا ظفر علی خان واقعی خط نہیں لکھتے تھے؟ وغیرہ۔ کتاب کے سرورق سے سوالیہ نشان لے کر قاری آگے بڑھتا ہے تو فہرست کے عنوانات دیکھ کر اسے خیال آتا ہے کہ مؤلف نے یہاں پھر کچھ ’گھنڈیاں‘ ڈال دی ہیں، مثلاً: ’پاکستان کا درزی‘ ایک گھنڈی ہے۔ یہ شمس الحسن اسٹیٹ سیکرٹری مسلم لیگ کے نام چند سطری خط ہے اور اس کے ساتھ مولانا ظفر علی خان کی نظم ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ سلطنت پاکستان کی قبا کو پاکستان کا درزی (قائداعظم) کب تک اور کیسے رفو کرے گا۔ اس کے بعد حسب ذیل دو شعر ہیں:
ندا آئی کہ مقصد تک پہنچ سکتی نہیں ملّت
نہ سیکھے گی وہ کرنا آبِ خنجر سے وضو جب تک
نہ آئے گا خدا کی راہ میں جب تک اسے مرنا
بہائے گی نہ اس رستے وہ اپنا لہو جب تک
یہ اشعار بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ مولانا ظفر علی خان کی بصیرت کی داد دینی پڑتی ہے۔ انھوں نے اندازہ لگالیا تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد مملکت خداداد کی زمامِ کار سنبھالنے والے اکثر و بیش تر ذمہ داران اور اعیانِ حکومت خون دینے والے نہیں، دودھ پینے والے مجنوں ثابت ہوں گے۔ پاکستان کی ۶۵سالہ تاریخ مولانا ظفر علی خان کی خداداد بصیرت کی تصدیق کررہی ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیے تو معلوم ہوگا کہ تحریکِ حصولِ پاکستان کے دنوں میں اسی خدشے کا اظہار اور بھی کئی لوگوں نے کیا تھا اور کہا تھا کہ ہماری یہ مسلمان قیادت پاکستان میں اسلام دشمن اور وطن دشمن ثابت ہوگی۔ کیا پاکستان کی ۶۵سالہ تاریخ اس کی گواہی نہیں دے رہی؟
کتاب سے مؤلف کی محنت، مہارت اور سلیقہ مندی کا اظہار ہوتا ہے۔ بعض خطوں کے عکس، چند نایاب تصاویر اور محنت سے لکھے گئے حواشی و تعلیقات نے کتاب کی وقعت بڑھا دی ہے۔مولانا ظفر علی خان کی خوش قسمتی ہے کہ انھیں زاہد منیر ایسا محقّق ملا ہے ۔ کتاب کے آخر میں کتابیات اور مفصل اشاریہ بھی شامل ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
تزکیہ و تربیت اور تعمیر سیرت جہاں نبی اکرمؐ کے فرائضِ منصبی کا اہم ترین تقاضا تھا وہاں اُمت مسلمہ کی تشکیل اور اس کے مقصد وجود کے حصول کے لیے ناگزیر ضرورت بھی ہے۔ زیرتبصرہ کتاب میں مصنف نے اسی مقصد اور ضرورت کو پیش نظر رکھا ہے۔ اس میں جہاں قرآن و سنت کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنے، اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے اور سیرتِ نبویؐ کی اتباع کی بات ہے، وہاں رذائلِ اخلاق سے بچنے اور محاسنِ اخلاق کو اختیار کرنے کی ترغیب بھی پائی جاتی ہے۔ ان مضامین میں قرآنِ مجید، نبی اکرمؐ، اولین وحی، حدیث و سنت، محبت الٰہی کا حقیقی معیار، اُمت مسلمہ، دعوت و تبلیغ، ایمان و عملِ صالح، شیطان کی چالیں، جھوٹ، شراب، لہوالحدیث، سلام، حیا، امانت اور عہدوپیمان، شکر، تفکر، حسنِ نیت،بخل، صدق و سچائی جیسے موضوعات پر شرح و بسط کے ساتھ بحث کی گئی ہے۔ متفرق مضامین کا یہ مجموعہ حقیقت میں اسلامی تعلیمات کا خوب صورت مرقع ہے۔ حوالے، حواشی اور کتابیات کا اہتمام مصنف کی عرق ریزی پر دال ہے۔ زبان و بیان میں ادبی چاشنی، مضامین کی تیاری میں تحقیق کا رنگ اور تالیف و تسوید میں سلیقہ پایا جاتا ہے۔ تزکیہ و تربیت اور تعمیرسیرت کے لیے مفید کتاب۔ (حمیداللّٰہ خٹک)
یہ کتاب اسرائیل، امریکا اور اقوام متحدہ کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتی ہے۔ اگرچہ اس کتاب کا جذبۂ محرکہ فریڈم فلوٹیلا کے قافلے پر اسرائیلی فوج کا افسوس ناک اور سفاکانہ حملہ ہے، مگر اسی واقعے کی بنیاد پر اسرائیل کی تاریخ، قیام اور بے گناہ فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی انتہا، امریکا اور اقوامِ متحدہ کی اسرائیل کی بے جا حمایت اور مسلمان حکمرانوں کی بے حسی کو وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے۔
فلسطین کا جغرافیہ، تاریخ اور سیاسی منظرنامہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی چھے عشروں کی جدوجہد آزادی اور حماس کی تاسیس و ارتقا اور قربانیوں کی طویل داستان کو سلیس پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔ حماس کے رہنما خالدمشعل کا خصوصی انٹرویو ،فلسطین کی پُرعزم دختر شہیدوفا ادریس کا تذکرہ اور امریکا کی انسانی حقوق کی نمایندہ راشیل کوری کی لازوال قربانی کا بھی تذکرہ موجود ہے۔ایسے باضمیر یہودیوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جو اسرائیل کے غدار ٹھیرے ہیں مگر ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہونے کے لیے نئے نئے انکشافات کر رہے ہیں۔
ترکی واحد ملک ہے جس نے اسرائیلی ناجائز ریاست کے خلاف عالمی سطح پر پُرزور آواز بلند کی ہے۔ فریڈم فلوٹیلا کے واقعے کی پُرزور مذمت کے واقعات اور ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوگان کا ورلڈ اکانومک فورم میں سابقہ اسرائیلی صدر شمعون پیریز کے سامنے فلسطینی مسلمانوں کے بارے میں جرأت مندانہ موقف کااظہار اور اُس کی سنسنی خیز تفصیلات بھی موجود ہیں۔
فلسطین پر یہ کتاب ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ پروفیسر خورشیداحمد کے الفاظ میں ’’یہ کتاب ان شاء اللہ انسانیت کے ضمیر کو بیدار کرنے اور مسلمان اُمت کو اس کی ذمہ داریوں کا شعور دلانے کی مفید خدمات انجام دینے کا ذریعہ بنے گی اور مصنف کے لیے دنیا اور آخرت میں اجرعظیم کا وسیلہ بنے گی‘‘۔ اُمت مسلمہ کا درد رکھنے والے ہرمسلمان کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ (طاہرآفاقی)
فلسفۂ الحاد نے جس برق رفتاری سے دنیا میں ترقی کی، اس کی بڑی وجہ لبرلزم (Liberalism) ہے.... مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس آزاد خیالی نے ذہنی انارکی کی شکل اختیار کرلی اور اب روشن خیالی کے یہ معنی قرار پاگئے ہیں کہ انسان کو ہرقسم کی پابندی سے آزاد ہونا چاہیے، خواہ وہ مذہب کی عائد کردہ ہو یا سماج کی....۔
تہذیب ِ الحاد کا دوسرا عنصر ترکیبی مادیت (Materialism) ہے۔ اسے مختصر الفاظ میں یوں کہاجاسکتا ہے کہ دنیا میں مادے کے سوا کوئی چیز نہیں.... حتیٰ کہ انسان بھی صرف برقیہ اور سالمیہ ہی کی کرشمہ سازی ہے۔ اسے اس دنیا میں اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ صرف مادی احتیاجات کی تسکین ہے۔ اس نکتے تک پہنچنے کے لیے کافی مدت صرف ہوئی۔ یورپ کی نشاتِ ثانیہ کے بعد کچھ مدت تک مادی زندگی اور مسیحی اعمال و رسوم کو جمع کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ مذہب کی پیروی سے وہ پوری طرح آزاد ہونا نہیں چاہتے تھے، اور اس بات کے آرزومند تھے کہ وہ کسی نہ کسی طرح کم از کم زندگی کے پرائیویٹ معاملات میں مذہبی رسوم کی ضرور پابندی کریں۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے قوم کے افراد کے درمیان ربط قائم رہ سکے گا اور اس طرح ملک اجتماعی انتشار اور اخلاقی ابتری سے محفوظ رہے گا۔ لیکن مادی تہذیب کا ریلا اتنا تیز تھا کہ اس کے سامنے مذہب اس کمزور حیثیت میں کھڑا نہ رہ سکا، اور وقت کے دھارے کی نذر ہوکر رہ گیا، اور اس کی جگہ مادہ پرستی نے لے لی۔ مصنفین، اہلِ قلم اور اہلِ دماغ گروہوں نے اپنی جادوبیانی، سحرطرازی اور زورِ خطابت سے قدیم مذہبی رسوم اور قیود کے خلاف ملک میں ایک عام بغاوت برپا کردی۔ انھوں نے دنیا پرستی کو نہایت ہی دل فریب بناکر پیش کیا۔ جو چیز اس کی راہ میں حائل ہوئی، اس کے خلاف غیظ و غضب کا جذبہ بھڑکایا اور اس طرح طبیعتوں کو ہرقسم کی قیدوبند سے آزاد کردیا۔ انھیں زندگی سے بھرپور تمتُع، مطالباتِ نفس کی بے عنان تکمیل اور لذت پرستی کی علانیہ دعوت دی۔ حرص و ہویٰ کی اس زندگی کی اہمیت جتانے میں بڑے غلو سے کام لیا گیا۔ نقد لذت اور ظاہری اور محسوس مادی نفع کے سوا ہرچیز کا ابطال کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپ کا موجودہ مذہب صرف مادہ پرستی ہے۔ (’انسانیت کی تعمیرنو اور اسلام‘، عبدالحمید ایم اے، ترجمان القرآن، جلد۴۰، عدد ۴،۵، شوال، ذیقعد ۱۳۷۲ھ، جولائی اگست ۱۹۵۳ء، ص ۸۶-۸۷)