’تحفظ ناموسِ رسالتؐاور ہماری ذمہ داری‘ (دسمبر ۲۰۱۰ء) میں ڈاکٹر انیس احمد نے موضوع کا حق ادا کردیا ہے۔ انھوں نے نہ صرف مغربی استعماری ایجنٹوں اور ان کے نام نہاد دعویِٰ انسانی حقوق اور مساوات کا پردہ چاک کیا ہے بلکہ اقبالؒ اور محمدعلی جناحؒ کے تصورِ اسلام اور پاکستان کو بھی واضح کردیا ہے۔ موجودہ حکومت نے توہینِ رسالتؐ کے قانون میں ترمیم کا بل پیش کر کے لادین عناصر کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے جس جسارت کا ارتکاب کیا ہے وہ یقینا قوم کے ایمان اور غیرت کا امتحان ہے۔
’معاشی بحران : نئے ٹیکس اور مہنگائی کا طوفان‘ (دسمبر ۲۰۱۰ء) میں معاشی بحران کے مختلف پہلوئوں بالخصوص نئے تجویز کردہ آر جی ایس ٹی پر مفصل اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ایک تجویز جاگیرداروں اور زمین داروں پر زرعی ٹیکس عائد کرنے کی بھی دی گئی ہے، جو کہ صریحاً زیادتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں ۵۷ فی صد کاشت کار صرف ۵؍ ایکڑ اراضی کے مالک ہیں، جب کہ ساڑھے بارہ فی صد ایکڑ کے مالکان صرف ۲۸ فی صد ہیں اور ۲۵؍ ایکڑ کے مالکان ۸ء۸ فی صد ہیں۔ یہ صوبائی حکومتوں کو ٹیکس بھی ادا کر رہے ہیں اور مالیہ آبیانہ بھی۔ اسی طرح اربوں روپے کی کھاد پر جی ایس ٹی ادا کر رہے ہیں۔ صرف ۹ء۳ فی صد کاشت کار ۵۰؍ایکڑ سے زائد اراضی کے مالک ہیں اور ۲ء۱ فی صد ۱۰۰؍ ایکڑ تک کے مالک ہیں۔ ان چند فی صد لوگوں کی خاطر پورے ۹۳ فی صد لوگوں کی معیشت پر کاری ضرب نہیں لگانی چاہیے۔ یہ لوگ تو پہلے ہی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ زرعی شعبہ وہ واحد شعبہ ہے جس سے متعلقہ صنعتوں نے لُوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ کھاد کی بوری پر قیمت پرنٹ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے کھاد مافیا مروجہ قیمت سے زائد قیمت وصول کرتا ہے اور ساتھ ہی ڈیزل کو پٹرول سے مہنگا کر دیا گیا ہے۔ ایک ملین سے زائد ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویل کاشت کاروں پر اضافی بوجھ ہیں۔
’سید علی الہجویریؒ، صاحب ِ فکروحکمت‘ (دسمبر ۲۰۱۰ء) میں ڈاکٹر حبیب الرحمن عاصم نے معرفت و شریعت، علم وعمل، صوفی کی پہچان، فقروغنا، توحید کامل، قیامِ شریعت اور تصوف کے عنوانات کے تحت کشف المحجوب کی تعلیمات کا خلاصہ پیش کیا ہے اور ساتھ ہی قرآن و سنت سے دلائل و لوازمہ بھی۔ دین کا یہ وہ تصور ہے جو عام طور پر اس طرح کی کتب میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
’وقت زندگی ہے!‘ (دسمبر ۲۰۱۰ء) ایک اہم تحریر ہے جس میں وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے زندگی گزارنے کے راہنما اصول بیان کیے گئے ہیں۔وقت اس کائنات میں انسان کی عزیز ترین اور بیش قیمت متاع ہے۔ زندگی کیسے گزاری جائے اور وقت کو کیسے بہتر طریقے سے استعمال میں لایا جائے، اس تحریر سے رہنمائی ملتی ہے۔
امریکی سامراج کی اُمت مسلمہ کے خلاف سازشوں کے مختلف حربوں میں سے ایک حربہ فرقہ واریت کو ہوا دینا اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ صوفیاے کرام کے مزاروں پر حملے اسی سازش کا شاخسانہ ہیں۔ امریکا کی اس سازش کو قومی یک جہتی سے ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کی قیادت چند بنیادی نکات پر اتفاق راے اور ملّی یک جہتی کا مظاہرہ کرے۔
اوّل روز سے ہم نے جماعت کے اندر روحِ تنقید کو بیدار رکھنے کی کوشش کی۔ تنقید ہی وہ چیز ہے جو ہر خرابی کی بروقت نشان دہی کرتی اور اس کی اصلاح کا احساس پیدا کرتی ہے۔ اجتماعی زندگی کے لیے اخلاقی حیثیت سے تنقید کی وہی اہمیت ہے جو مادّی حیثیت سے صفائی کی اہمیت ہے۔ جس طرح نجاست و طہارت کی حِس مٹ جانے اور صفائی کی کوشش بند ہوجانے سے ایک بستی کا سارا ماحول گندا ہو جاتا ہے اور اس کی فضا ہر طرح کے امراض کے لیے سازگار بن جاتی ہے، ٹھیک اسی طرح تنقیدی نگاہ سے خرابیوں کو دیکھنے والی آنکھیں، بیان کرنے والی زبانیں اور سننے والے کان اگر بند ہوجائیں تو جس قوم، سوسائٹی یا جماعت میں یہ حالت پیدا ہوگی وہ خرابیوں کی آماج گاہ بن کر رہے گی اور پھر اس کی اصلاح کسی طرح نہ ہوسکے گی۔ اس حقیقت سے ہم کبھی غافل نہیں ہوئے۔
ہم نے عالمِ انسانیت کی، اپنے ملک کی اور اپنی ملّت کی خرابیوں پر تنقید کرنے میں جو آزادی برتی، اُسی آزادیِ تنقید کو اپنی جماعت میں بھی برقرار رکھا تاکہ جماعت کے اندر جہاں جو خرابی بھی موجود ہو، اس کی بروقت نشان دہی ہوجائے اور اسے دُور کرنے کی کوشش کی جاسکے۔ جماعت کے ہرشخص کو محض تنقید کا حق ہی حاصل نہیں ہے بلکہ یہ اس کا فرض ہے کہ کسی خرابی کو محسوس کرکے خاموش نہ رہ جائے۔ یہ بات ہر رکنِ جماعت کے اجتماعی فرائض میں داخل ہے کہ اپنے ساتھی ارکان کی ذات میں، یا ان کے جماعتی کردار میں، یا اپنی جماعت کے نظم میں، یا جماعت کے لیڈروں میں اگر وہ کوئی نقص پائے تو اسے بلاتکلف بیان کرے اور اصلاح کی دعوت دے۔ اسی طرح جن لوگوں پر تنقید کی جائے ان کو بھی اس بات کا عادی بنایاگیا ہے کہ وہ نہ صرف تنقید کو برداشت کریں، بلکہ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کریں اور جس نقص کی نشان دہی کی گئی ہے وہ اگر واقعی موجود ہو تو اسے دُور کرنے کی طرف توجہ کریں ورنہ تنقید کرنے والے کی غلط فہمی رفع کر دیں۔ اس معاملے میں تنقید کے جائز حدود اور معقول طریقے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے بسااوقات غلطیاں بھی ہوئی ہیں اور ان کا کچھ نہ کچھ نقصان بھی ہمیں اُٹھانا پڑا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم نے کبھی جماعت میں روحِ تنقید کو خوابیدہ ہونے نہ دیا، اور اسی کا یہ فائدہ ہے کہ جماعت کا ہر فرد پوری جماعت کی تربیت اور تکمیل میں مدد دے رہا ہے اور اپنی تکمیل و تربیت میں اس سے مدد پا رہا ہے۔(’اشارات‘، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن، جلد۳۵، عدد۳،۴، ربیع الاول، ربیع الآخر ۱۳۷۰ھ، جنوری، فروری ۱۹۵۱ء، ص۸،۱۲۳)