مجھ سے بیش تر لوگ سوال کرتے ہیں کہ آپ نے اسلام کیوں قبول کیا؟ مجھے اس وقت اور بھی حیرت ہوتی ہے جب مسلمان مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں۔ عام طور پر میرا یہی جواب ہوا کرتا ہے کہ یہ واحد سچا مذہب ہے۔ مجھے کوئی ایسا حادثہ پیش نہیں آیا جس میں بال بال بچنے کے بعد میں نے اسلام قبول کرلیا۔ مجھے کوئی ایسی روشنی یا نور بھی نہیں دکھائی دیا جس کی وجہ سے میں نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کیا، حتیٰ کہ مجھے پوری طرح اس بات کا علم بھی نہیں ہے کہ میں نے کب مسلمان ہونے کا فیصلہ کیا۔ کچھ لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ فی الواقع مجھے خدا کی تلاش تھی، نہ زندگی کا کوئی خاص مقصد ہی میرے پیش نظر تھا۔ مجھے تو تاریخ، فلسفہ اور سوشیالوجی کے موضوع پر کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ اسی شوق کی تسکین کے لیے میں مختلف بک اسٹورز سے کتب تلاش کرتا رہتا تھا۔
یہ کوئی ۲۰۰۳ء یا ۲۰۰۴ء کی بات ہوگی۔ ایک روز میں ایک بک اسٹور میں داخل ہوا تو مجھے ایک سبز رنگ کی کتاب نظر آئی جس کا نام Islam: Values, Principles and Reality (اسلام: اقدار، اصول اور حقیقت) تھا۔ میں نے اسے اُٹھا لیا اور مجھے خیال آیا کہ اگرچہ میں کچھ مسلمانوں کو جانتا ہوں لیکن مجھے ان کے دین اور عقائد کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ یہ سوچ کر میں نے اس کتاب کو خرید لیا تاکہ یہ جان سکوں کہ اسلام کیا ہے؟ اس وقت مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کتاب کو خرید کر دراصل چار ساڑھے چار سال کی طوالت پر مبنی اُس سفر کا آغاز کر رہا ہوں جو بالآخر میرے قبولِ اسلام پر جاکر ختم ہوتا ہے۔
اسلام کے مطالعے سے قبل میرے ذہن میں اسلام کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں تھیں۔ مثال کے طور پر مجھے اس بات پر حیرت ہوتی تھی کہ ایک مسلمان اپنے آپ کو کیسے ایک نیک اور اچھا انسان سمجھتا ہے، جب کہ دوسری طرف وہ اپنی بیوی کے ساتھ بُرا سلوک کرتا ہو۔ مجھے اس بات پر بھی حیرت ہوتی تھی کہ مسلمان مکہ میں ایک چوکور پتھر (یعنی خانہ کعبہ) کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جب کہ مجسموں اور عمارتوں میں کوئی طاقت نہیں ہوتی اور نہ وہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں۔ اسی طرح میں یہ بھی نہ سمجھ سکا کہ مسلمان دوسرے مذاہب کو کیوں برداشت نہیں کرتے، بجاے اس کے کہ وہ یہ کہیں کہ سب لوگ اسی خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان باتوں کو ذہن میں رکھ کر میں نے اسلام پر مطالعہ شروع کیا۔
پہلی کتاب کے بعددوسری اور دوسری کے بعد تیسری کتاب میں پڑھتا چلا گیا۔ چند برسوں کے مطالعے کے بعد مجھے یہ پتا چلاکہ ہر وہ بات جسے میں اسلام کا حصہ سمجھتا تھا اور جس کی مخالفت کرتا تھا، درحقیقت اسلام بھی اس کی مخالفت کرتا ہے۔
میں اس نتیجے پر پہنچا کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ایک اچھا مسلمان وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہو۔ مجھے یہ معلوم ہوا کہ مسلمان خانہ کعبہ کی عبادت نہیں کرتے بلکہ وہ مجسموں اور اس نوعیت کی چیزوں کی عبادت کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ بات بھی میرے علم میں آئی کہ اسلامی تہذیب اپنی پوری تاریخ میں مذہبی برداشت کی کرئہ ارض پر بہترین مثال ہے۔
میں اسلامی تعلیمات اور اسلام کے اُن بنیادی اصولوں کو جان گیا جن سے اسلام کا مطالعہ کرنے سے قبل بھی مجھے اتفاق تھا۔ مطالعے کے دوران میں یہ راز منکشف ہوا کہ بہت سے موضوعات پر میرا نقطۂ نظر اسلام کے نقطۂ نظر کے عین مطابق ہے۔ اسلام کے متعلق میری معلومات کا بڑا ذریعہ کتابیں تھیں۔
میرے گردونواح میں کوئی ایسی دعوتی سرگرمیاں نہ تھیں جومیرے لیے معاون و مددگار ثابت ہوتیں، اور میرے رابطے میں ایسے لوگ بھی نہ تھے جو دعوت کا کام مؤثر انداز میں کرسکیں۔ مجھے جو تھوڑی بہت مدد ملی، وہ ان لوگوں سے ملی جو میرے ملنے جلنے والے تھے۔ اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہالینڈ میں دعوت کا کام کس حد تک منظم ہے۔
جب رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے سوچا کہ میں بھی روزہ رکھ کر دیکھوں۔ مجھے یہ خیال اس لیے بھی آیا کہ کسی کتاب کے مطالعے سے اُس کیفیت کا اندازہ نہیں ہوتا جو روزہ رکھ کر پیدا ہوتی ہے۔ میں نے اپنے مسلمان دوستوں سے تذکرہ کیا کہ میں بھی ان کے ساتھ روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے قرآن مجید کا ایک نسخہ حاصل کیا اور انٹرنیٹ سے ۳۰ دن میں قرآن پاک کے مطالعے کا پروگرام بھی حاصل کرلیا۔ جب میں نے ان سے کہا کہ میں مکمل قرآنِ مجید کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں اور رمضان کے بعد شوال کے روزے بھی رکھوں گا توان میں سے کچھ نے اس کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا تھا اور نہ انھوں نے کبھی شوال کے روزے رکھے تھے۔ میں نے کچھ دودھ اور کھجوریں بھی خرید لیں اور اپنے ساتھ کام پر لے گیا تاکہ روزہ کھول سکوں اور اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ یہ سنت ہے جس پر ہمیں عمل کرنا چاہیے۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ اگر انھوں نے روزانہ ایک پارہ نہ پڑھا تو قرآن کے مطالعے کے دوران اٹھنے والے سوالات کے جوابات میں کہاں سے حاصل کرسکوں گا۔ چنانچہ ہم نے ایک گروپ کی شکل میں قرآن کا اجتماعی مطالعہ شروع کر دیا۔ گھر کی خواتین کھانا تیار کرکے دے دیتی تھیں جو ہم اپنے کام کے دوران افطار کے بعد کھاتے تھے۔ اس طرح مجھے کچھ نئے قسم کے کھانوں کا تجربہ بھی ہوا۔ یوں ہمیں رمضان میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور بہت لطف آیا۔ اسی طرح میری زندگی کی پہلی عید بھی آئی۔
رمضان کے بعد میں اپنی زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے اپنے قصبے کی مسجد میں گیا۔ میرے نزدیک کسی اچھے کام کے لیے رقم خرچ کرنا، ایک صحیح بات تھی، اس لیے مسلمان نہ ہونے کے باوجود زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی میرے پاس کوئی وجہ نہ تھی۔ میں مسجد کے خازن سے ملا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں مسلمان ہوں؟ میں نے کہا کہ میں مسلمان نہیں ہوں، البتہ میں نے رمضان میں روزے بھی رکھے ہیں اور اب زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا کہ مسلمان ہونے کے لیے جلدی نہ کریں بلکہ اپنا اطمینان کرنے کے بعد اسلام قبول کریں۔
اس کے بعد کئی ماہ گزر گئے اور میں اسلام پر مطالعہ کرتا رہا۔ بیش تر کتب جو میرے زیرمطالعہ رہیں وہ غیرمسلموں کی لکھی ہوئی تھیں، مثلاً کِرن آرمسٹرانگ۔ میں نے کچھ وقت اسلام پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے مطالعے پر بھی لگایا۔ میں نے مذہبی بنیادوں پر انتہاپسندی اور دہشت گردی اور تہذیبوں کے تصادم جیسے موضوعات پر بھی مطالعہ کیا اور اسی طرح دیگر موضوعات بھی زیرمطالعہ رہے۔ اس تمام تر مطالعے کے نتیجے میں، میں نے جب بھی کوئی سوال اٹھایا تو اسلام کی طرف سے ہمیشہ اطمینان بخش جواب ملا۔ اطمینان بخش جواب کے حوالے سے یہ بھی واضح رہے کہ میں نے جب بھی مسلمانوں سے بات کی تو وہ مجھے مطمئن نہ کرسکے، البتہ اپنے مطالعے کے نتیجے میں جتنی معلومات بھی میں نے اکٹھی کیں، ان سے مجھے ہمیشہ اطمینان بخش جواب ملا۔
اگلے سال رمضان کے اختتام پر میں ایک بار پھر واپس اپنے قصبے کی مسجد میں گیا تاکہ اپنی زکوٰۃ ادا کرسکوں تو ایک دفعہ پھر میری ملاقات مسجد کے خازن سے ہوئی اور اس نے مجھے پہچان لیا اور مجھ سے دوبارہ پوچھا کہ کیا میں مسلمان ہوگیا ہوں؟ میں نے کہا کہ نہیں، میں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا، اور آپ ہی نے تو مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں جلدبازی نہ کروں۔ اس نے کہا کہ ہاں، میں نے جلدبازی سے منع کیا تھا لیکن اس فیصلے میں اتنی تاخیر بھی نہیں ہونی چاہیے۔
بطور غیرمسلم یہ میرا آخری سال تھا۔ اس سے قبل میں نے شراب پینا چھوڑ دی تھی۔ میں نے سگریٹ نوشی بھی ترک کر دی تھی۔ میں نے کوشش کی کہ میں آگے بڑھ کر نیکی کا کام کروں اور دوسروں کو بھی ترغیب دلائوں۔ اسی طرح خود برائی سے رُک جائوں اور دوسروں کو بھی برائی سے بچنے کی تلقین کروں۔ گویا میں نے ایک طرح سے دعوتِ دین اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا فریضہ ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔
ایک بار مجھے ترکی جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں کچھ تاریخی مساجد دیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں مجھے فطرت کی نشانیوں کو پہلی مرتبہ بغور دیکھنے کا موقع ملا۔ اس دوران اللہ تعالیٰ سے قرب کی عجب کیفیت تھی اور یہ بڑھتی چلی گئی۔ کبھی کبھار میں نے اپنے انداز میں نماز بھی ادا کی جو اس نماز سے مختلف تھی جس طرح میں آج بحیثیت مسلمان نمازادا کرتا ہوں۔ اس موقع پر جس طرح سے میں نے نماز ادا کی اور جو میری قلبی کیفیت تھی، اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے اندر کوئی انقلابی تبدیلی واقع ہورہی ہے۔ میں برابر اسلام کا مطالعہ کرتا رہا، تاہم اب میں نے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال بھی شروع کردیا۔
ہالینڈ کی سماجی امور سے متعلق ایک معروف ویب سائٹ ہائیوز (Hyves) ہے جس کے ذریعے میرا ایک ڈچ نومسلم خاتون سے رابطہ ہوا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں مسلمان ہوں تو میں نے اسے بتایا کہ میں ابھی تک مسلمان نہیں ہوا ہوں۔ اس نے مجھے دعوت دی کہ میں اس کے گھر آئوں اور اس کے شوہر سے ملوں جو کہ پیدایشی طور پر مسلمان ہے، اسلام پر عمل پیرا بھی ہے اور مصر میں پیدا ہوا تھا۔ میں ان کے گھر گیا اور ان کے ساتھ کھانا کھایا اور پھر اسلام کے بارے میں بات چیت بھی کی۔ جب دوسری مرتبہ میں ان سے ملا تو انھوں نے مجھے درست طریقے سے نماز ادا کرنا سکھائی جس کے لیے میں نے ان سے درخواست کی تھی۔ میں نے اپنے طور پر بہتر سے بہتر انداز میں نماز ادا کرنے کی کوشش کی اور وہ مجھے دیکھتے رہے۔ پھر انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں واقعی اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں؟ میں نے کہا: ہاں، میں اس کے لیے تیار ہوں۔
اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں تو پہلے ہی مسلمان ہوچکا ہوں، اگرچہ میں نے باضابطہ طور پر اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن پچھلے چند برسوں سے میں اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ اللہ جو کہ خالقِ کائنات ہے، اور سچا واحد خدا ہے، اس کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں اس بات پر بھی یقین رکھتا تھا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نہ صرف رسول ہیں بلکہ آخری رسول ہیں جنھوں نے دین کی تکمیل کی۔ میں روزہ رکھنا چاہتا تھا، زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا تھا، نماز ادا کرنا چاہتا تھا اور آج بھی حج کے لیے میرے اندر تڑپ موجود ہے۔
میرا قبولِ اسلام کا سفر مطالعۂ کتب کے ذریعے طے پایا۔ میں نے اسلام کے نظریے سے متاثر ہوکر اسے قبول کیا۔ میرا یہ فیصلہ کوئی جذباتی فیصلہ نہ تھا بلکہ سوچا سمجھا اورمنطقی فیصلہ تھا۔ میں نے اسلام کی ان تعلیمات تک رسائی حاصل کی جو بآسانی دستیاب نہ تھیں۔ پھر ان کا موازنہ کیا اور ان پر گہرا غوروفکر کیا۔ اسلام، میرے ہرسوال کا جواب تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں نے اپنے آپ کو مسلمان کہلوانا نہ شروع کیا تو پھر میں ایک منافق ہوں گا۔
ایک یا دو ہفتے بعد، میں اور میرا مصری دوست، دونوں ایک قریبی مسجد میں گئے۔ اس نے امام صاحب کو پہلے ہی سے میری آمد کا مقصد بتا دیا تھا۔ اس موقع پر میرے والدصاحب بھی موجود تھے۔ امام صاحب نے کلمۂ شہادت لفظ بہ لفظ پڑھا، اور میں نے بھی اسی طرح لفظ بہ لفظ ادا کیا۔ میرے قبولِ اسلام کے بعد امام صاحب نے استقامت کے لیے دعا بھی کی جس کا میرے مصری دوست نے ڈچ زبان میں ترجمہ کیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میں میلوں سے بھاگتا چلا آرہا تھا اور اب بالآخر منزلِ مقصود تک پہنچا ہوں۔ مجھے یوں لگا جیسے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی گئی ہو۔ میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھیں۔ آہستہ آہستہ میں نے اپنے اُوپر قابو پایا۔ اب میں پُرسکون اور مسرور تھا۔ اسی دوران مجھے خیال آیا کہ میں نے دین کا نور پالیا ہے، چنانچہ میں نے اپنا نام نور دین رکھنے کا فیصلہ کیا۔
قبولِ اسلام کے بعد میں اپنے قصبے کی مسجد میں واپس گیا۔ جیسے ہی میں مسجد میں داخل ہوا، مجھے وہی خازن ملا جس سے میری اس سے قبل ملاقات ہوئی تھی۔ اسی نے مجھ سے ایک دفعہ پھر پوچھا کہ کیا آپ مسلمان ہوچکے ہیں؟ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: جی ہاں، میں مسلمان ہوچکا ہوں اور میرا نام نوردین ہے۔ اس نے فوراً)کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ تلاشِ حق کے ایک طویل سفر کے بعد بالآخر آپ دین حق کی نعمت سے سرفراز ہوگئے! (بہ شکریہ ہفت روزہ ریڈینس، نئی دہلی، ۳۱؍اکتوبر ۲۰۰۹ئ)
(نوردین ولڈیمن ہالینڈ کی ایک تنظیم اونٹڈک اسلام فائونڈیشن سے وابستہ ہیں اور دعوت و تبلیغ کی خدمات انجام دے رہے ہیں)
محسنِ عالم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ، انسانی زندگی کا وہ روشن سرچشمہ ہے جس میں واقعی انسانی زندگی گزارنے کے تمام قرینے پائے جاتے ہیں۔ اگر اس حیاتِ مقدسہ کو چھوڑ دیں تو انسانی زندگی، حیوانی زندگی کا حوالہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف اصحابِ ایمان نے اس حیاتِ طیبہ کو اپنی والہانہ وابستگی و محبت کا مرکز بنایا تو دوسری جانب وہ سعید روحیں بھی اس نور کی کشش سے دُور نہ رہ سکیں، جنھیں اگرچہ اسلام کی نعمت نہ مل سکی، مگر نورِ نبوت کی روشنی کا اعتراف انھوں نے بھی کیا۔ رومانیہ کے معروف ڈپلومیٹ اور مسیحیت سے وابستہ جیورجیو، ثانی الذکر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
زیرمطالعہ کتاب محمدؐ پیغمبرِاسلام جیورجیو کے اسی اعترافِ عظمت کی شہادت ہے، وہ ایسے فرد کی طرح سیرت کا مطالعہ پیش کرتے ہیں جس نے رسولؐ اللہ کو پیغمبر کے بجاے ایک عظیم ترین انسان کے طور پر دیکھنے، سمجھنے اور اپنے لفظوں میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جیورجیو نے ایک عجب جذب و مستی میں، سیرتِ پاکؐ کے مختلف پہلوئوں کو خالصتاً عقلی اور تجزیاتی رنگ میںپرکھا اور رواں اسلوب میں قلم بند کیا ہے۔ واقعات کو صحت کے ساتھ پیش کرنے کی حتی الوسع کوشش کی ہے اوریہ کوشش بھی کی گئی کہ مطالعہ کرنے والا فرد اگر انھیں پیغمبرؐ نہیں بھی تسلیم کرتا تو کتاب کی اختتامی سطروں پر پہنچ کر وہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہتا کہ انسانیت کا واحد بلند ترین حوالہ بھی بس یہی حیاتِ مقدسہ ہے۔
ترجمے کا اسلوب ایسا پُرکشش ہے کہ قاری، مصنف کی گرفت سے نکل نہیں پاتا۔ اسلوبِ بیان ایسا پُرتاثر ہے کہ کبھی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، تو کبھی قاری اپنے آپ کو ۱۴ سو برس پہلے مکہ و مدینہ کی فضائوں میں موجود پاتا ہے اور ان پیش آمدہ واقعات کا حصہ تصور کرنے لگتا ہے۔بلاشبہہ چند مقامات پر اختلاف کی گنجایش موجود ہے مگر اس میں اختلاف میں بدنیتی کا تاثر نہیں ملتا بلکہ معلومات تک رسائی کا مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جو بالخصوص غیرمسلم دوستوں میں بڑے پیمانے پر پھیلائے جانے کے قابل ہے۔ مرحوم مشتاق حسن میر ایڈووکیٹ (گجرات) نے ۷۰ کے عشرے میں اُسے اُردو میں منتقل کیا تھا۔ خوب صورت طباعت کے ساتھ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش نے اس کا نقشِ ثانی پیش کیا ہے، جسے اور زیادہ بامعنی بنانے کے لیے مشہور محقق محسن فارانی نے قیمتی نقشوںسے مزین کیا ہے۔ (سلیم منصور خالد)
اسلامی فقہ پر اب تک جو کام ہوچکا ہے، اس کا صرف خلاصہ لکھا جائے تو وہ بھی درجنوں جلدوں پر محیط ہوگا۔ بالکل اسی طرز پر عہدِحاضر میں کیا گیا کام معروف شامی عالمِ دین ڈاکٹر وہبہ الزحیلی کی تصنیف الفقہ الاسلامی وأدلتہ کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ عرب یونی ورسٹیوں میں اسلامی قانون کی تدریس کا وسیع تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر وہبہ کی یہ تصنیف ۱۱ جلدوں پر مشتمل ہے۔ متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے۔ اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے ادارہ تحقیقاتِ اسلامی نے اس کے اُردو ترجمے کی اشاعت کا بیڑا اُٹھایا ہے۔
ڈاکٹر وہبہ الزحیلی کی اس تصنیف کی پہلی جِلد کا ترجمہ زیرنظر ہے۔ فقہ کے بنیادی مباحث قریباً ۳۰۰ صفحات پر محیط ہیں۔ ان مباحث میں فقہ کا مفہوم اور اس کی خصوصیات، آٹھ بڑے فقہی مذاہب کے بانیوں کا تعارف، فقہا کے درجات اور فقہی کتب، فقہی اصطلاحات اور فقہی تالیفات، فقہا کے اختلافات کے اسباب کا مختصراً ذکر کیاگیا ہے۔ اس کے بعد بنیادی اور عمومی انداز کے اُن سوالات کا جواب دیا گیا ہے جو فقہ کے ہر طالب علم اور عام آدمی کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، مثلاً کیا صرف ایک مذہب کی پابندی ضروری ہے؟ مسئلہ کس درجے کے عالم سے پوچھا جائے؟ وغیرہ۔ ان بنیادی مباحث کا خاتمہ ’نیت‘ کی بحث پر ہوتا ہے۔ یہ بہت جامع بحث ہے۔ عبادات کے ذکر میں بھی اگرچہ اس پر بحث موجود ہے، تاہم یہاں الگ سے مفید بحث کی گئی ہے۔
ایک تہائی صفحات کے بعد ’طہارت‘ اور ’نماز‘ کا بیان ہے۔ یہاں بھی باب اول: طہارت کتاب کے قریباً ۵۰۰ صفحات پر محیط ہے۔ یہ بیان طویل ضرور ہوگیا ہے مگر مسئلے کی کماحقہ توضیح و تشریح جب سامنے آتی ہے تو یہ طوالت اکتاہٹ کے بجاے دل چسپی کا باعث بن جاتی ہے۔ اس باب کو سات حصوں میں تقسیم کر کے پہلے طہارت کے مفہوم کے بعد پانی کے حوالے سے جملہ مسائل کا ذکر ہے۔ پھر وضو، غسل، تیمم اور خواتین کے مسائل پر اس باب کی تکمیل ہوتی ہے۔ آخر میں نماز کے باب کو بھی پہلے باب کی طرح متعدد حصوں میں تقسیم کیا گیاہے۔ چار حصوں میں تقسیم کی گئی اس بحث میں نمازوں کے اوقات، اذان و اقامت کے مسائل، اور نماز کی شرائط کو مفصل و مبرہن طور پر بیان کیا گیا ہے۔
یہ کتاب بہت سی اسلامی جامعات میں اسلامی علوم کے اعلیٰ درجات کے طلبہ کو بطور نصاب پڑھائی جاتی ہے۔ اس کا اُردو ترجمہ یقینا اُردو خواں لوگوں کے لیے ایک قابلِ قدر تحفہ ہے۔ ڈاکٹر وہبہ نے اسلامی فقہ کا یہ انسائی کلوپیڈیا تیار کر کے نہ صرف اسلامی فقہ کے طلبہ و اساتذہ پر بلکہ موضوع کا مطالعہ کرنے والے عام قاری کے اُوپر بھی احسان کیا ہے۔ (ارشاد الرحمٰن)
عظیم مصلح امام ابن تیمیہ (۱۲۶۲ئ- ۱۳۲۷ئ) نے اپنی اصلاحی کاوشوں کا علَم ایک ایسے تاریک دور میں بلندکیا جب تاتاری غارت گر مسلمان قوموں کو دریاے سندھ سے فرات کے کنارے تک پامال کرچکے تھے۔ مسلسل ۵۰ برس کی ہزیمتوں اور علم و دانش کے مراکز کی تباہی نے مسلمانوں کو انتہائی زوال و اِدبار سے دوچار کر دیا تھا۔ تاتاریوں کے قبولِ اسلام کے بعد بھی نومسلم تاتاری حکمرانوں کے زیراثر عوام، علما اور فقہا و مشائخ سبھی کی اخلاقی سطح بدستور ویسی ہی رہی۔ تقلید جامد کا دور دورہ تھا۔ کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنا گویا گناہ بن گیا تھا۔ عوام الناس جاہل، غیرمنظم تھے اور پست ہمت۔ ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ دنیا پرست تنگ نظر علما اور ظالم حکمرانوں کے باہمی اشتراک کے خلاف اصلاح کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔ صحیح الخیال علما اور حق پرست صوفیہ کی کمی نہ تھی مگر اس تاریک زمانے میں اصلاح کی آواز بلند کرنے کا شرف جس عظیم حق گو کو حاصل ہوا وہ امام ابن تیمیہ تھے۔ بلاشبہہ تمام علوم پر انھیں گہری دسترس حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے فلسفہ و کلام، تزکیہ و احسان، تصوف و معرفت، عقائد و احکام، دین و شریعت، غرض تمام موضوعات پر تنقیدی بحثیں کیں۔ امام کی ان کاوشوں کی وجہ سے کتاب و سنت کی اصل روح نکھر کر سامنے آئی۔ تقلید و اجتہاد پر بھی امام ابن تیمیہ نے بے مثل کام کیا۔ مشرکانہ رسوم، بدعات اور اعتقادی و اخلاقی گمراہیوں کے خلاف امام نے جہاد کیا اورکئی بار پابندِ سلاسل ہوئے لیکن تنقید و تنقیح میں انھوں نے کسی سے رعایت روا نہیں رکھی۔ بڑے بڑے نام بھی امام کی تنقید سے بچ نہ سکے۔ اس آزاد اور جرأت مندانہ تنقید کی وجہ سے ایک دنیا اُن کی دشمن ہوگئی جس کا تسلسل آج بھی قائم ہے۔
امام ابن تیمیہ کی زندگی کے حالات و واقعات کے متعلق زیرنظر کتاب میں مستند حوالوں اور مصادر سے معلومات جمع کی گئی ہیں۔ امام کی ابتدائی زندگی، پیدایش، تعلیم اور مسند درس پر مختصراً روشنی ڈالی گئی ہے۔ بعدازاں تاتاری جنگوں کے کچھ حالات بیان کیے گئے ہیں۔ تاتاریوں کے ان حملوں اور جنگوں کے مقابلے میں امام ابن تیمیہ نے جو جہادی کردار ادا کیا، اُسے بھی بیان کیاگیا ہے۔ یہ اگرچہ بہت مختصر بیان ہے مگر امام کی زندگی میں اس باب کی بہت اہمیت ہے۔ بہت سے لوگ امام ابن تیمیہ کی زندگی کے اس گوشے سے ناواقف بھی ہیں۔ شرک و بدعت کے خلاف امام کے جہاد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور یہ باب امام کی زندگی کا گویا حاصل ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ امام کی ساری زندگی اسی جہاد میں گزری۔ یہ باب امام کے خلاف جعلی صوفیہ کے ہتھکنڈوں اور امام کی تجدیدی و اصلاحی کاوشوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ امام متعدد ابتلائوںسے دوچار بھی دکھائی دیتے ہیں۔
اس سے اگلے باب میں امام کے ایک خط الرسالۃ القبرصیۃ کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے جس میں امام نے ایک عیسائی حکمران کو مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کی طرف توجہ دلائی اور اسلام کی تعلیمات کی بھی وضاحت کی ہے۔ چھٹا باب امام کے خلاف بُغض و عناد کی شدت کے بیان پر مشتمل ہے، اور یہیں امام کی زندگی کا باب بھی مکمل ہوجاتا ہے۔ ساتویں باب میں امام کے اخلاق و اوصاف، ہم عصر علما کے بیانات کی روشنی میں مرتب کیے گئے ہیں۔ آخری باب میں امام ابن تیمیہ کے نام وَر شاگردوں کا بیان ہے جن میں حافظ ابن قیم، حافظ ابن عبدالہادی، حافظ ابن کثیر اور امام الذہبی کے نام نمایاں ہیں۔ اسی باب میں امام کی تصانیف کا تعارف بھی کرا دیا گیا ہے۔ تجدیدی، اصلاحی اور تحریکی و انقلابی ذہنوں کوامام کی زندگی کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کرنے کے لیے یہ کتاب مفید کام دے سکتی ہے۔ (ا- ر)
شہزادوشیخ کو اندرون و بیرونِ ملک اہم مناصب پر کام کرنے کا موقع ملا۔ ایک اہم سرکاری افسر کی حیثیت میں اُنھیں نہ صرف حالات و واقعات کو جانچنے کا بھرپور موقع ملا بلکہ اُن کی یہ کوشش بھی رہی کہ مسائل کی تہہ تک پہنچیں اور اُس مقام کا سراغ لگائیں جہاں سے پوری قوم کو زندگی و توانائی سے معمور کیا جاسکتا ہے۔
کتاب میں علم و حکمت، تہذیب و ثقافت، تاریخ، قانون، تہذیبی کش مکش، جدیدیت، بنیادپرستی، فقہ، اجتہاد، جہاد و قتال، سول سوسائٹی اور دیگر اہم موضوعات پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ اِن مضامین کی خوبی یہ ہے کہ کتاب وسنت سے بھی استفادہ کیا گیا ہے اور قدیم و جدید مغربی مفکرین کی آرا کو اپنے دلائل کے ہمراہ پیش بھی کیا گیا ہے۔مغربی افکار کے حُسن و قبح کو بھی واضح کیا گیا ہے۔
اس کتاب کا ایک مقصد یہ ہے کہ قاری کے سامنے شُستہ انگریزی میں بنیادی نکات رکھ دیے جائیں اور پھر اُسے یہ راہ دکھائی جائے کہ ان کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کرے۔ شہزادوشیخ کا خیال ہے کہ علم، اطلاعات میں گم ہوچکا ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان اُمت مسلمہ کو پہنچا ہے۔ دوسرے باب میں وہ تحریر کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا طرزِعمل جو کچھ بھی رہا ہو، شریعت ِ حقہ کی تعلیمات بتمام و کمال موجود ہیں۔ وہ اس پر فخر کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے اپنے دورِ عروج میں کیمیا، طبیعات، فلکیات کے میدانوں میں جو ترقی کی، اُسی کی بنا پر یورپ، تاریکی کے دور سے نکلا اور آج دنیا بھر کی زمامِ کار اُنھی کے ہاتھ میں ہے۔
مطالعہ تاریخ اور تاریخ نویسی کے حوالے سے اُن کا مشاہدہ یہ ہے کہ تاریخ سے ’عالم گیریت‘ کو ختم کیا جا رہا ہے۔ حقائق کو اس قدر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے کہ کبھی ایک قوم ظالم بن جاتی ہے اور کبھی وہی قوم محسن بن کر سامنے آتی ہے۔ اصل حقیقت گرداب میں گم ہوچکی ہے۔
کتاب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں مغربی فکر اور مغربی اقدامات سے آگاہی اور اُن کے منفی اقدامات پر متوازن تنقید ہے۔حکومتِ پاکستان کے افسران، یونی ورسٹی و کالجوں کے اساتذہ اور اُمت سے ہمدردی و محبت رکھنے والا ہر فرد اس کتاب کو ایک اہم دستاویز پائے گا۔ (محمد ایوب منیر)
یہ کتاب ۶۵ نومسلموں کی آپ بیتیوں کا مجموعہ ہے جنھوں نے آج کے دور میں اسلام قبول کیا ہے۔ یہ آپ بیتیاں پروفیسر خالد حامدی فلاحی کے زیرادارت بھارت کے ماہنامے اللّٰہ کی پکار میں قسط وار شائع ہوتی رہی ہیں۔ ہر آپ بیتی دل چسپیوں کا نیا جہاں سامنے کھول دیتی ہے۔ ہر واقعہ اسلام کی عظمت و حقانیت پر دلیل بن جاتا ہے۔ اسلام قبول کرنے والی یہ سعید روحیں حق کی متلاشی تھیں اور ان کے گذشتہ مذاہب ان کی روحانی تسکین سے قاصر تھے۔ اللہ کے بے پایاں رحمت نے ان کو قرآنِ مجید دینی کتب اور چند ایسے نیک داعیانِ حق تک پہنچایا جہاں سے ایمان اور جنت کا مبارک سفر شروع ہوا۔ آج کے مسلم معاشرے میں آٹے میں نمک سے بھی کم نظر آنے والے داعیانِ حق کی تعداد بڑھ جائے تو اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں سیکڑوں گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔
مقدمے کے بعد پروفیسر ڈاکٹر بھارتی دیوی کی تحریر ’کوتاہی کس کی ہے؟‘ سمیت کئی جگہوں پر مسلمانوں سے شکوہ موجود ہے کہ نہ تو ان کا کردار قرآن و سنت کے مطابق داعیانہ کردار ہے اور نہ وہ شہادتِ حق کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ بیش تر واقعات تو ہندستانی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن امریکا کے عبدالعزیز (مائیکل جیکسن کے بھائی) اور سارہ، روس سے لیلیٰ، انگلینڈ سے سودہ بیگم، ڈنمارک سے نور، یوگنڈا افریقہ سے محمد طٰہٰ، نیپال کے محمداسجد اور پاکستان کے شیخ بشیر کے اسلام میں آنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ اسلام ہی انسانیت کو اپنے جلو میں پناہ و سکون دے سکتا ہے اور ہررنگ و نسل، برادری، ملک، براعظم کے افراد کے لیے کشش رکھتا ہے۔ واقعات کے انتخاب نے قاری کو وسعتِ فکر بخشی ہے۔ یوں ہر واقعہ انوکھا ہے لیکن ہندو، سیکھ، عیسائی، پارسی، قادیانی پس منظر سے تعلق رکھنے والی دس خواتین کی داستان قیمتی ہی نہیں، انسانیت کے لیے قابلِ فخر ہے۔ ایک مسلمان بچی حرا کی داستان جو عبداللہ نے بیان کی ہے حیران کن استقامت کی نظیر ہے۔ اسی طرح مردوں میں اسلام لانے سے پہلے بابری مسجد کو ڈھانے میں حصہ لینے والے ماسٹر محمد عامر ہیں۔ گجرات کے قتلِ عام میں حصہ لینے والے سہیل صدیقی، جرائم پیشہ پس منظر سے عبداللہ، ہندو پجاری عبدالرحمن، انتہائی تعلیم یافتہ محمد قاسم، عبدالواحد، محمدعمر، ڈاکٹر سعیداحمد، ڈاکٹر حذیفہ، محمد خالد، محمداسد، عبداللہ، اے کے عادل، ڈاکٹر محمدعبداللہ، اَپ پڑھ محمدسلیم، محمد لیاقت، غریب محمداحمد اور محمدشفیع شامل ہیں۔
کتاب ضخیم ہونے کے باوجود ایک ہی نشست میں مکمل کرنے کو جی چاہتاہے۔ بعض مقامات پر ایمانی کیفیت کو مہمیز ملتی ہے اور اہلِ ایمان آنسوئوں کے ساتھ اپنے نئے ہم مذہبوں کا استقبال کرتے ہیں۔ مغرب میں عیسائیوں کے قبولِ اسلام پر بہت کتابیں چھپی ہیں۔ عراق اور افغانستان میں اتحادی افواج کے سپاہیوں اور مغربی صحافیوں نے بھی اسلام قبول کیا ہے لیکن ہندو معاشرے میں قبولِ اسلام پر یہ پہلی بڑی دستاویز ہے۔ شہادتِ حق کے فریضے پر اُبھارنے والی اس کتاب کو پڑھے لکھے مسلمان خاص طور پر، ہر داعیِ حق کے مطالعے میں ضرور آنا چاہیے۔ (ڈاکٹر معراج الھدیٰ صدیقی)
۲۰۰۵ء میں پہلی بار متعارف ہونے والی یوٹیوب ویب سائٹ ایک حیران کن ویب سائٹ ہے جو دن بدن مقبول ہوتی چلی جارہی ہے۔ اس کے ذریعے وڈیو کلپس (وڈیو فلم) بآسانی دنیا بھر میں دیکھے جاسکتے ہیں اور لاکھوں لوگوں تک مؤثر انداز میں اپنی بات پہنچائی جاسکتی ہے۔ اس طرح انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک نیا کلچر متعارف ہوا ہے جو مؤثر ابلاغ کا ذریعہ بھی ہے۔ اس میں خرابی یہ ہے کہ غیرمعیاری اور اخلاق باختہ وڈیو کلپس بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔
یوٹیوب کے ایک بہتر متبادل جو مختلف قباحتوں سے پاک ہو کی تلاش میں ہی نقا ٹیوب کو متعارف کروایا گیا ہے۔ عربی زبان میں نقاء کے معنی خالص اور صاف ستھرے کے ہیں۔ ویب سائٹ کا سلوگن ہی یہ ہے کہ ایک نقی، یعنی صاف ستھری ویب سائٹ کے لیے ہمارے ساتھ شریک ہوجائیں۔ نقا ٹیوب کا ایک ہدف یوٹیوب کے ناظرین کو ایک بہتر متبادل دینا ہے۔ اس سائٹ میں کلپس لوڈ کرنے سے قبل سنسر کیے جاتے ہیں۔ موسیقی اور خواتین پر مبنی کلپس ممنوع ہیں۔ سائٹ پر مختلف علماے کرام، اسکالرز اور دانش وروں کے نقطۂ نظر کو جاننے کے ساتھ ساتھ مختلف چینل بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ انگریزی کے علاوہ کئی زبانوں میں سائٹ دیکھنے کی سہولت ہے۔ نقا ٹیوب جو کہ چند ماہ قبل متعارف ہوئی ہے تیزی سے مقبول ہورہی ہے، تاہم سروس کے حوالے سے ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے۔(امجد عباسی)
’پاکستان کا تصور‘ (مارچ ۲۰۱۰ئ) پروفیسر فتح محمد ملک کا ایک قابلِ توجہ اور چشم کشا تبصراتی مقالہ ہے جس میں دو قومی نظریے اور پاکستان کے اساسی تصورات کو ایک بار پھر مدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ پاکستان اسلامی دنیا میںواحد اسلامی ریاست ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی۔ ابتدا ہی سے امریکا اور بھارت پاکستان کی نظریاتی اساس اور جغرافیائی حدود پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کبھی مغرب سے درآمد ’روشن خیالی‘ کا نعرہ لگایا جاتا ہے اور کبھی بھارت کے ساتھ ’امن کی آشا‘ کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ ڈرون حملے ہوں یا پانی کا بحران ، سب اسی شیطانی چال کی کڑیاں ہیں۔ ان کے مکروہ عزائم کی تکمیل میں ہمارے اپنے ان کے مؤید ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں دشمن کے شیطانی ہتھکنڈوں کو سمجھ کر اور پاکستان کی نظریاتی اساس کو مدنظر رکھ کر اپنا لائحہ عمل ترتیب دیں اور عوام کی درست سمت میں رہنمائی کریں۔
آج دنیا بھر میں جو معرکۂ حق و باطل جاری ہے، اس کے ہر محاذ کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ مارچ کے شمارے میں مصر اور بنگلہ دیش کی مسلمان حکومتوں کے ہاتھوں اہلِ حق کی آزمایش کا جو نیا دور شروع ہوا ہے اس کی تفصیلات معلوم ہوئیں۔ پاکستانی میڈیا اس طرح کی خبروں کو سامنے نہیں لا رہا۔ ان کی دل چسپی کے اور بہت سے میدان ہیں۔ ان حالات میں ترجمان کا دم غنیمت ہے۔
’عالمِ عرب کی اسلامی تحریکیں‘ (فروری ۲۰۱۰ئ) معلومات سے پُر تھا۔ مضمون کے آخر میں اسلامی تحریک کے لیے حکمت عملی کے حوالے سے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی گئی ہے: تفصیلی تجزیے کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ موجودہ حالات میں کسی بھی ملک میں تحریکِ اسلامی کا تنہا اقتدار سنبھالنا نہ صرف اس کے لیے بلکہ متعلقہ ملک کے مفاد میں بھی نہیں خواہ ووٹوں کی اکثریت کی بنا پر تنہا حکومت کرنا اس کا حق ہی کیوں نہ ہو۔ تحریکِ اسلامی میں یہ کوشش ہونا چاہیے کہ وہ مختلف معاہدوں کے ذریعے اقتدار میں شریک ہوکر معاشرے میں بنیادی تبدیلی لائے اور دیگر حکومتی امور سرانجام دے۔ بتدریج تبدیلی ہی زیادہ مؤثر اور دیرپا انقلاب کا باعث ہوتی ہے‘‘۔ کیا پاکستان کی تحریکِ اسلامی کے لیے اس میں غوروخوض کا کوئی پہلو موجود نہیں ہے!
آپ نے عوام کی اصلاح سے مایوسی کا فتویٰ دینے سے پہلے کاش کہ اتنا غور کیا ہوتا کہ اب تک آخر اصلاح کا کام ہُوا کیا ہے؟___ کیا یہ چند وعظ، چند تقریریں، چند درس اس بات کے لیے کافی ہیں کہ شہادتِ حق اتمامِ حجت کی منزل کو پہنچ جائے! یہ وعظ اور درس اتنی بڑی قوم کی اصلاح کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ یہ قوم جس کو چاروں طرف سے شیاطین نے گھیر رکھا ہے، یہ جس کو ’آئمہ ضلالت‘ پوری طرح گھیرے ہوئے ہیں، جس کی صحافت الحاد و لادینی کا طوفان اُٹھا رہی ہے، جس کے علما نے خود دین کی حقیقت کو اُن پر مشتبہ بنا رکھا ہے، جس کے لیڈروں نے مختلف بولیاں بول بول کر اسے ایک انتشار میں مبتلا کر رکھا ہے، جس پر سرمایہ اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے، جس پر جدید فلسفے کا طوفان لٹریچر کی صورت میں ٹوٹا پڑتا ہے، اس میں آپ کے چند وعظ کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں تو مساعیِ صلاح میں اگر عمریں کھپ جائیں تو بھی نہیں کہاجاسکتا کہ شہادتِ حق کا حق ادا ہوگیا!
کسی داعیِ حق کو اُس وقت تک مایوسی کا اظہار کرنے کا حق نہیں جب تک ایک ماحول میں اس کا وجود کسی درجے میں بھی گوارا کیا جاتا ہے، اور جب تک بچہ بچہ اس کی دعوت کو علانیہ رو دَر رو ہوکر ٹھکرا نہیں دیتا، بخلاف اس کے یہاں تو حالات انتہائی اُمیدافزا ہیں۔ لوگ آپ کی بات سنتے ہیں، بعض اثر لیتے ہیں، بعض قبول کرتے ہیں، بعض عملی تعاون پر تیار ہوجاتے ہیں، بعض دین حق کے لیے ہمہ تن ایثار بن جاتے ہیں___ آہستہ آہستہ کوشش کرنے والوں کی کوششوں کے نتائج برابر نکل رہے ہیں! کجا وہ حال کہ لوگ مکہ میں خدا کا نام نہیں لے سکتے تھے، پِٹتے تھے، لہولہان کردیے جاتے تھے، دو سال تک شعب ابی طالب میں نظربند رکھے گئے، جب بھی انھوں نے اُس وقت سے پہلے قنوطیت کے جذبوں کو دلوں میں جگہ نہ دی، جب تک کہ ان کے قتل اور اخراج کے منصوبے نہ بن گئے، اور جب تک ان کو یہ یقین نہ ہوگیا کہ اب مکہ کی سرزمین، ان کا وجود ایک لمحے کے لیے بھی گوارا نہیں کرسکتی! لیکن ہزار طرح کی سہولتوں اور آسانیوں میں ہوتے ہوئے آپ کون ہوتے ہیں کہ قوم کی اصلاح کے ناممکن ہونے کا فتویٰ دیں؟ آپ کی قنوطیت ایک خطرناک بزدلی اور فرض ناشناسی کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ براہِ کرم اسی کے علاج کی طرف توجہ فرمایئے ۔(’ہمارا معاشرہ، چندخطرناک نفسیاتی وبائیں، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۳۳، عدد ۵، جمادی الاول ۱۳۶۹ھ، اپریل ۱۹۵۰ئ، ص ۴۳-۴۴)