سوال: رمضان میں جب حرم شریف سے نماز تراویح ٹی وی پر دکھائی جاتی ہے تو اس ایمان افروز منظر کو دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ میں کمرہ بند کرکے قبلہ رو ہوکر اُس امام کے پیچھے نفل نماز کی نیت باندھ لوں۔ اگر میرایہ فعل مجھ تک ہی محدود رہے تو کیا اس چیز کی کوئی گنجایش نکل سکتی ہے؟
جواب: اس صدی کو بجا طور پر ابلاغ اور برقی ترسیلی سہولیات کا دور کہا جاتا ہے کیونکہ پیغام رسانی ہو یا سفر، یا معاشی معاملات میں کاروباری معاہدات، ہر اہم سرگرمی برقی آلات کی مدد سے کم سے کم وقت میں دنیا کے کسی بھی گوشے میں ممکن ہے۔
عموماً رمضان کریم میں یا پھر نمازوں کے اوقات میں بعض ٹی وی چینل حرمِ مکہ مکرمہ یا حرمِ مدینہ منورہ سے براہِ راست نشریات دکھاتے ہیں، اور اس روح پرور منظر کو دیکھتے وقت انسان سوچتا ہے کہ جو لوگ حرم میں عبادت میں مصروف ہیں اور ہر عبادت کا ۷۰ گنا یا زیادہ ثواب کما رہے ہیں، گو میں دُور بیٹھا ہوں کیوں نہ ٹی وی کی امامت میں ان کے ساتھ شامل ہوکر اجر کا طلب گار بنوں! اس لیے آپ نے جس خواہش کا اظہار کیا ہے، وہ سمجھ میں آتی ہے۔ تاہم اس سوال کے کئی غورطلب پہلو ہیں۔
پہلی غور طلب بات یہ ہے کہ اگر رمضان کریم میں آپ کے قریب کی مسجد میں یا کچھ فاصلے پر ایک عظیم مسجد الجامع میں ایک اچھے قاری صاحب تراویح پڑھا رہے ہوں تو کیا ایسی صورت حال میں اُس مسجد میں جاکر بنفسِ نفیس شرکت اور بدنی عبادت کے اجر کے حصول کی کوشش افضل ہوگی یا ٹی وی کے سامنے کھڑے ہوکر نماز ادا کرنا؟ ایک زندہ، موجود اور معقول امام کی موجودگی میں دیگر افراد کے ساتھ جماعت میں شریک ہوکر نماز کی ادایگی، اور ایک ہزار میل کے فاصلے پر ہونے والی نماز کی شبیہہ کے پیچھے نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہوگا یا عملاً ایک مسجد میں دیگر افراد کے ساتھ شاملِ عبادت ہونا؟ گویا اگر دونوں شکلیں جائز ہوں، تب بھی ٹی وی کے پیچھے نماز اور بذاتِ خود مسجد میں نماز باجماعت میں کوئی مقابلہ نہیں کیا جاسکتا اور عقلاً بذاتِ خود مسجد میں نماز ادا کرنا ہرلحاظ سے افضل ہوگا۔
اب سوال کے دوسرے پہلو کی طرف آتے ہیں۔ کیا ٹی وی پر بننے والی شبیہہ کی حیثیت ایک حقیقی اور موجود امام کی ہوگی؟ اگر ایسا ہے تو کیا صرف حرم شریف میں امامت کرنے والے امام صاحب کی امامت میں نماز پڑھی جائے گی، جب کہ ایسی ہی شکل ایک ملک یا شہر میں بھی ہوسکتی ہے کہ پورے شہر یا پورے ملک کے نمازی ایک مرکزی امام صاحب کی امامت میں جن کی قرأت مثالی ہو، اپنے اپنے گھروں میں، یا مساجد میں محراب میں ٹی وی لگا کر اپنی اپنی نمازیں ادا کرلیں؟ اس میں مسجد کی شرط بھی نہیں ہوگی اور نہ گھر سے باہر کہیں جانا ہوگا ،بلکہ نہ صرف ایک شخص خود بلکہ تمام اہلِ خانہ بھی ٹی وی کی امامت میں گھر بیٹھے نماز ادا کرلیں گے۔
ممکن ہے میری بات میں آپ کو کافی مبالغہ نظر آئے لیکن اگر حرم شریف سے تلاوت کرنے والے یا امامت کرنے والے کی امامت میں نماز درست ہوسکتی ہے تو پھر جیسے اُوپر عرض کیا گیا ایسا کیوں نہ کیا جائے۔ گویا ایسا ممکن نہیں، اس لیے کہ ابلاغی آلات کی سہولت ایک مسلمان کو عبادات کے بدنی پہلو سے، اور نماز کے حوالے سے استقبالِ قبلہ، مسجد میں اجتماعیت اور شرکت کے احساس کا بدل نہیں ہوسکتی۔
یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اگر کوئی صاحب کھینچ تان کر کوئی گنجایش نکال بھی دیں تو جن امام صاحب کی اقتدا میں ایک شخص نماز پڑھ رہا ہوگا جب ٹی وی پر امام صاحب اس کے مخالف نظر آئیں گے تو کیا مقتدی اپنا رُخ پھیر کر ٹی وی کی پشت پر چلا جائے گا اور پھر دوبارہ ٹی وی کے سامنے آجائے گا تاکہ وہ امام کی پیروی کر رہا ہو؟
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ تراویح میں جماعت کے ساتھ شرکت کرنا بدنی عبادت کے ساتھ ساتھ سمعی عبادت بھی ہے۔ لیکن اگر کسی بنا پر ایک شخص تھک گیا ہو تو وہ مسجد میں بیٹھ کر امام کی تلاوت کو بغور سن سکتا ہے اور اس کا اجر بھی نماز میں شرکت سے کم نہیں ہوگا۔ اس لیے اگر آپ کو کسی خاص قاری کی تلاوت پسند ہے تو آپ بغیر نماز کی نیت کیے جب تک چاہیں بیٹھ کر تلاوتِ کلام عزیز سن سکتے ہیں اور مطالب پر غور کرسکتے ہیں لیکن ٹی وی کی امامت میں نماز کی گنجایش نظر نہیں آتی۔(ڈاکٹر انیس احمد)
س: ہمارے ہاں کی فجر کی اذان مقررہ وقت (جو دائمی کیلنڈر میں دیا گیا ہے) سے شروع ہوکر تقریباً آدھ گھنٹہ تک جاری رہتی ہے۔ بعض مساجد میں تو مستقلاً یہ وقت مقررہ سے آدھ گھنٹہ بعد ہی ہوتی ہے۔ اس سے ذہن میں اُلجھن پیدا ہوتی ہے:
۱- کیا فجر کے اوقات میں واقعی اتنی گنجایش ہے؟ اگر یہ گنجایش درست ہے تو پھر رمضان میں اذانیں ایک ہی وقت پر کیوں ہوتی ہیں؟
۲- کیا پہلی اذان کے بعد فجر کی نماز پڑھ لینا درست ہے یا کچھ تاخیر سے پڑھنی چاہیے؟
۳- خیط الابیض اور خیط الاسود سے کیا یہ مراد ہے کہ ہم دو دھاگے لے کر صحن میں نکلیں، اور اس سے ختم سحری کا تعین خود کریں یا اس سے کچھ اور مراد ہے؟
۴- کیادرج بالا رویہ (اوقات میں تغیر) دین میں آسانی (یسر) کے مترادف ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر یسر سے کیا مراد ہے؟
ج: صبح کی نماز طلوعِ فجر سے لے کر طلوعِ شمس سے پہلے تک ادا کی جاسکتی ہے۔ اذان کے لیے بہتر تو یہ ہے کہ عین طلوعِ فجر کے متصل بعد دی جائے لیکن یہاں اس کی پابندی نہیں کی جاتی۔ اس لیے روزہ کے لیے اذان کو بنیاد بنانا صحیح نہیں ہے۔ جس نے روزہ رکھنا ہو وہ طلوعِ فجر اور غروبِ شمس کا کیلنڈر اپنے پاس رکھے اور اس کی بنیاد پر روزہ رکھنے اور افطار کرنے کو معمول بنائے۔ عام طور پر نمازوں کے اوقات کا دائمی کیلنڈر بھی شائع ہوتا ہے اور مساجد میں اسے آویزاں کیا جاتا ہے۔ ایسا کیلنڈر گھروں میں بھی منگوایا جاسکتا ہے۔ آپ کے پاس جو کیلنڈر ہے اس میں صبح کے طلوع اور سورج کے غروب کے اوقات مقررہ کا اندراج ہے تو آپ اس کیلنڈر کے مطابق روزہ رکھیں اور اس کے مطابق افطار کریں۔
صبح کی اذان میں ۳۰،۳۵ منٹ تاخیر کرنا خلافِ اولیٰ ہے۔ اولیٰ یہ ہے کہ صبح صادق کے متصل بعد مقررہ وقت پر اذان دی جائے۔ یسر کے پہلو کے تحت اذان میں پانچ دس منٹ تک تاخیر ہوسکتی ہے۔ خیط الابیض اور خیط الاسود سے سفید اور سیاہ دھاگے مراد نہیں بلکہ مشرقی اُفق پر سفید اور سیاہ دھاریاں مراد ہیں۔ سفید دھاری صبح کی اور سیاہ دھاری رات کی علامت ہے۔ (مولانا عبدالمالک)
س: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت بیان فرمائی ہے لیکن یہ نماز باجماعت ادا نہیں کی۔ آج کل صلوٰۃ التسبیح باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ خاص کر رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ہرجمعہ کچھ خواتین باجماعت صلوٰۃ التسبیح ادا کرتی ہیں۔ ایک خاتون پہلی صف کے شروع میں کھڑی ہوجاتی ہے اور پوری نماز باآواز بلند پڑھتی ہے۔ آیا اِس طرح صلوٰۃ التسبیح پڑھنا جائز ہے؟
ج: صلوٰۃ التسبیح اور کسی بھی نفل نماز کی جماعت باقاعدہ پروگرام کے تحت مکروہ ہے۔ نوافل میں سے صلوٰۃ الکسوف، صلوٰۃ الاستسقائ، صلوٰۃ الخسوف جائز اور مسنون ہیں۔ تہجد کی جماعت اتفاقاً بغیر کسی پروگرام کے پڑھی جائے تو وہ بھی بلاکراہت جائز ہے۔ خواتین کی جماعت بذات خود خلاف اولیٰ ہے، لہٰذا صلوٰۃ التسبیح کی باجماعت نماز بدرجہ اولیٰ مکروہ ہوگی۔ تعلیم مقصود ہو تو پھر خواتین کو ایک خاتون معلمہ بغیر جماعت کے جہراً نماز پڑھ کر تعلیم دے سکتی ہے۔ نماز کے بغیر بھی تعلیم دی جاسکتی ہے۔ خواتین اپنے گھروں میں صلوٰۃ التسبیح بغیر جماعت کے پڑھیں۔ شریعت میں یہی مطلوب ہے۔(ع - م)
س: آج کل مساجدمیں اجتماعی اعتکاف کیا جاتا ہے۔ اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد کے ایک طرف علیحدگی میں عبادت کرنے کو کہتے ہیں۔ اس سے مراد علیحدگی میں رب سے رازونیاز اور اُس کی عبادت کرنا لی جاتی ہے۔ اجتماعی اعتکاف میں درس و تدریس کا کام زیادہ ہوتا ہے جو کہ کسی دوسرے موقع پر بھی ہوسکتا ہے۔ کیا اِس طرح معتکف ہونا جائز ہے؟ نیز خواتین کا اعتکاف مسجد میں ہوتا ہے یا گھر میں؟
ج: اجتماعی اعتکاف کے معنی یہ ہیں کہ ایک دو نہیں بلکہ زیادہ لوگ بھی اعتکاف میں بیٹھ سکتے ہیں۔ یہ اعتکاف انفرادی ہی ہوتا ہے اگرچہ ایک مسجد میں ۵۰، ۷۰ لوگ بیٹھے ہوں۔ رہی یہ بات کہ اس میں درس و تدریس اور وعظ و تربیت اور مطالعہ کا پہلو زیادہ ہوتا ہے تو یہ اعتکاف کے خلاف نہیں بلکہ یہ اعتکاف کا مقصود ہے۔ اعتکاف کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ ایک آدمی اعتکاف میں ’’مراقبہ‘‘ میں مشغول ہو۔ رات کو کسی وقت مراقبہ بھی کیا جاسکتا ہے اور نماز میں مطلوب بھی یہ ہے کہ نماز اس طرح پڑھی جائے کہ گویا نمازی اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اگر دیکھ نہیں رہا تویہ تصور تو حقیقت ہے کہ اللہ نمازی کو دیکھ رہا ہے بلکہ ہر ایک کو ہرحال میں وہ دیکھ رہا ہے۔ خواتین کا اعتکاف گھر کی مسجد میں ہے۔گھر میں وہ جگہ جو خاتون نے نماز کے لیے مقرر کر رکھی ہو یا مقرر کرلے تو وہ اس کی مسجد ہے اور وہ وہاں معتکف ہوتی ہے۔ وہاں سے بغیر ضروری حاجات کے باہر نہ نکلے جس طرح مسجد میں معتکف مرد بغیر ضروری حاجت کے مسجد سے باہر نہیں نکل سکتا۔(ع-م)
س: پیس ٹی وی کے ایک پروگرام میں ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب نے کہا تھا کہ اسلام میں صرف نماز باوضو ہوکر پڑھنا ضروری ہے۔ اگر انسان کا جسم اور کپڑے پاک ہوں تو ہاتھ صاف کرکے قرآن مجید کی تلاوت کرسکتا ہے۔ کیا قرآن مجید بغیر وضو کے ہاتھ صاف کرکے پڑھا جاسکتا ہے؟
ج: ائمہ اربعہ امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک بے وضو آدمی قرآن پاک کو کسی رومال وغیرہ واسطے کے بغیر نہیں پکڑ سکتا۔ اس کے لیے دلیل کیا ہے؟ بعض فقہا نے اس کے لیے قرآن پاک کی ایک آیت لا یمسہ الا المطھرون(الواقعہ:۲۹) کو دلیل بنایا ہے۔ آیت کا معنٰی یہ ہے کہ ’’قرآن کو مَس نہیں کرتے مگر پاک کیے ہوئے لوگ‘‘۔
اور بعض نے کہا ہے کہ اس آیت کا تعلق فرشتوں سے ہے کہ وہ پاکیزہ نفوس ہیں جو قرآن پاک کو اپنے ہاتھوں میں پکڑتے ہیں۔ آیت مذکورہ سے اس مسئلے کے استنباط میں تو اختلاف ہے لیکن اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ قرآن پاک کو بے وضو آدمی مرد یا عورت مَس نہیں کرسکتے۔ یہ مسئلہ احادیث سے بھی ثابت ہے۔
امام مالک نے موطا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مکتوب گرامی نقل کیا ہے جو آپ نے عمر ابن حزم کو لکھا تھا، جس میں ایک جملہ یہ بھی ہے: لا یمس القراٰن الا طاھر، ’’قرآن پاک کو وہ شخص نہ چھوئے جو پاک نہ ہو‘‘۔ طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یمس القراٰن الا طاھر، ’’قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک آدمی‘‘۔ مفتی محمد شفیع صاحب اپنی تفسیر معارف القرآن میں سورئہ واقعہ آیت ۷۹ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’روایات مذکورہ کی بنا پر جمہور اُمت اور ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآن کریم کو ہاتھ لگانے کے لیے طہارت شرط ہے۔ اس کے خلاف گناہ ، ظاہر نجاست سے ہاتھ کا پاک ہونا، باوضو ہونا، حالتِ جنابت میں نہ ہونا سب اس میں داخل ہے۔ (معارف القرآن، ج۸، ص ۲۸۶-۲۸۷)۔ ذاکر نائیک صاحب نے جو مسئلہ بیان کیا ہے وہ دائود ظاہری اور ابن حزم کا مسلک ہے۔(ع-م)
س: میں تنگ دستی کا شکار ہوں۔ خاوند بھی ضروریات اور اخراجات پورا نہیں کرتے اور اگر مطالبہ کیا جائے تو ناراض ہوتے ہیں۔ بڑی مشکل سے گزربسر ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان حالات میں کیا میں زکوٰۃ لے سکتی ہوں؟ میرے پاس آٹھ تولے سونا بھی ہے لیکن میں اسے بیچ نہیں سکتی کہ کل نہ جانے حالات کیسے ہوں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
ج: آپ کے شوہر آپ کے ساتھ نامناسب رویہ رکھتے ہیں اور اس وجہ سے آپ تکلیف میں ہیں۔ نان و نفقہ تو شوہر کی ذمہ داری ہے اس میں کوتاہی کرنا خلافِ شرع ہے۔ آپ کے شوہر کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنا چاہیے۔ دوست احباب اور اہلِ خاندان کو بھی انھیں توجہ دلانا چاہیے کہ یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے، آمین۔
جہاں تک زکوٰۃ کا تعلق ہے تو جس مرد یا عورت کے پاس بنیادی ضروریات سے زائد آٹھ تولے سونا ہو یا اس مالیت کا زیور ہو تو وہ مستحق زکوٰۃ نہیں ہے بلکہ اس پر زکوٰۃ دینا واجب ہوجاتا ہے، یعنی فرض ہوجاتا ہے۔ آپ کے پاس اگر ساڑھے سات تولے سے کم کا زیور ہو، تو پھر آپ پر زکوٰۃ واجب (فرض) نہیں ہے اور آپ اپنی ضروریات کے لیے کسی سے زکوٰۃ لے سکتی ہیں۔ واللہ اعلم! (ع-م)
حافظ ابن القیم آٹھویں صدی ہجری کے ممتاز عالم دین اور علومِ عربیہ کے ماہر تھے۔ حافظ ابن رجب کی راے میں یوں تو اُنھیں جملہ علومِ اسلامیہ میں دخل تھا لیکن تفسیر میں اُن کی نظیر نہیں ملتی۔ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ اور علم الکلام میں بھی اُنھیں کمال حاصل تھا۔ وہ ابن تیمیہؒ کے صحیح اور وفادار جانشین تھے۔
ابن القیم نے کوئی جامع تفسیر قرآن نہیں لکھی مگر متعدد سورتوں اور آیات کی تشریح و تفسیر پر مبنی چند فاضلانہ تحریریں یادگار چھوڑی ہیں۔ مولانا عبدالغفار حسن (م: ۲۲ مارچ ۲۰۰۷ئ) نے ابن القیم کے تفسیری جواہر پاروں کو اُن کی مختلف تالیفات سے جمع کر کے اُن کا ترجمہ اور ترجمانی زیرنظر کتاب کی صورت میں پیش کر دی ہے۔ یہ کام اُنھوں نے اوائلِ عمر ہی سے اس وقت شروع کیا تھا، جب وہ مالیر کوٹلہ کے مدرسہ کوثرالعلوم میں مدرس تھے۔ اُس وقت تک امام ابن القیم کی التفسیر القیم بھی شائع نہیں ہوئی تھی۔ مولانا عبدالغفار حسن لکھتے ہیں: ’’ان تفسیری افادات کے مطالعے سے اچھا خاصا تفسیری ذوق پیدا ہوسکتا ہے اور سلف صالحین کے طریقۂ کار کے دائرے میں رہتے ہوئے فہمِ قرآن کا ذوق حاصل ہوسکتا ہے‘‘۔ (ص ۲۱)
حافظ ابن القیم کے اسلوبِ شرح نویسی کا اندازہ حسب ذیل مثال سے ہوگا: ’’اِِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍo (التکویر ۸۱:۱۹)، بے شک وہ بزرگ رسول کا قول ہے۔ یہاں رسول سے یقینی طور پر جبرئیل ؑہی مراد ہیں۔ بعد والی صفات اسی مراد کو معین کرتی ہیں۔ ہاں سورئہ الحاقہ میں رسولِ کریمؐ سے محمد رسولؐ اللہ مراد ہیں کیونکہ وہاں اس کے بعد دشمنوں کے اس قول کی تردید ہے کہ یہ قرآن شاعر یا کاہن کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نسبت کبھی تو رسول مَلَکی (جبرئیل ؑ) اور کبھی رسولِ بشری (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف فرمائی ہے۔ لیکن اس نسبت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان دونوں نے ازخود یہ قرآن بنا لیا ورنہ پھر تو آیات میں تناقض اور ٹکرائو نظر آئے گا بلکہ یہاں نسبت بلحاظ تبلیغ ہے۔ خود لفظ رسول اس معنی کی تائید کر رہا ہے۔ رسول وہی ہوتا ہے جو مرسل (بھیجنے والے) کے کلام کو پہنچائے، نہ کہ اپنے کلام کو۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ یہ کلام اُس ذات کا ہے جس نے محمدؐ اور جبرئیل ؑکو منصب ِ رسالت پر فائز فرمایا۔ اس آیت میں ان لوگوں کے لیے قطعاً گنجایش نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے متکلم بالقرآن ہونے کے منکر ہیں، بلکہ یہ آیت تو اس کے برعکس مضمون پر روشنی ڈالتی ہے کہ یہ کلامِ الٰہی ہے اور ان رسولوں نے صرف تبلیغ کا فرض انجام دیا ہے‘‘۔ (ص ۳۳۱- ۳۳۲)
ناشر نے کتابت و طباعت میں بڑا اہتمام کیا ہے۔ بعض الفاظ کا املا درست نہیں (گذشتہ صحیح ہے نہ کہ گزشتہ۔ پرواہ غلط ہے ، صحیح: پروا وغیرہ)۔ فہرست ڈھنگ سے نہیں بنائی گئی۔ ہر جگہ قمری سنین لکھے گئے ہیں۔ سہیل حسن صاحب نے اپنے ’پیش لفظ‘ میں قمری تاریخ کے ساتھ شمسی تاریخ بھی لکھ دی مگر حافظ ابن القیمؒ کی شمسی تاریخِ ولادت و وفات ندارد۔ جب ایک علمی کتاب موجودہ زمانے کے قارئین کے لیے پیش کی جارہی ہے تو موجودہ زمانے میں مروّج شمسی سنہ دینے سے اِحتراز کیوں؟ (رفیع الدین ہاشمی)
سیرتِؐ پاک لکھنا سعادت ہے، اعلیٰ ترین نیکی ہے، لیکن وہ جو اس کارِخیر کی انجام دہی کے لیے ایک ایک لفظ کی صحت پر دھیان دیں، ہرچیز کو پوری ذمہ داری سے پیش کریں، یقین کامل ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے گا۔ زیرنظر کتاب، اخلاقِ حسنہ اور اسوئہ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جھلکیوں پر مشتمل ایسی دستاویز ہے کہ ورق، ورق پر قاری اپنے آپ کو عہدِ سعادت سے جڑا محسوس کرتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ ان تجلیوں سے اپنے قلب و نظر کو منور کرتا چلا جائے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق العباد کی نزاکت کو واضح کرنے کے لیے اپنے قول اور عملِ مبارک سے ہزاروں نمونے پیش فرمائے۔ ان نمونوں کے مخاطب اور ان کے ثمرات سے فیض پانے والوں میں صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ غیرمسلم و مشرک بھی شامل تھے۔ ظاہر ہے کہ دین اسلام کوئی نسلی دین نہیں بلکہ دعوتی دین ہے۔ اس لیے کردار کی ان روشن قندیلوں نے کتنے ہی مُردہ دلوں کو اسلام کی روشنی سے منور کیا۔ یہ کتاب ان کرنوں کا ایک ہالہ پیش کرتی ہے۔
فاضل مؤلف نے ہرچیز کو اس کے مکمل حوالے اور صحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا ایک عکس پانے کے لیے یہ کتاب مددگار ہوسکتی ہے۔ (سلیم منصور خالد)
زیرنظر کتاب حج اور عمرے کے زائرین کے لیے ایک نہایت عمدہ راہ نما کتاب ہے۔ مصنف انگریزی زبان و ادب کے ایک ’وظیفہ یاب‘ (ریٹائرڈ کا اُردو مترادف ہے، جو یوپی اور دکن میں استعمال ہوتا ہے) استاد ہیں۔ انھوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں سفرِحرمین کی عملی مشکلات سے عہدہ برآ ہونے کی تراکیب بتائی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: حج نہایت مشکل اور جان جوکھوں کا کام ہے، اس لیے کسی مرحلے پر گھبرانا نہیں چاہیے۔ جدہ ہوائی اڈے پر اہل کاروں کے درشت اور بے لچک رویے کو محسوس نہ کریں کیوں کہ یہ تکلیف بھی عبادت ہے۔ زیادہ سامان ساتھ لے جانا پریشانی اور تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔ جدہ سے مکہ جانے کے لیے بس پر سوار ہوں تو پانی کم از کم پئیں اورجن لوگوں کو پیشاب کی تکلیف ہو وہ ایک بوتل ساتھ رکھیں کیونکہ مکّہ پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں اور راستے میں بس سے اُترنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
پھر یہ کہ کمزور اور بیمار لوگ ویل چیئر پر طواف اور سعی کریں۔ پیسہ بچانے کے لیے پیدل مت چلیں کیونکہ آپ کا اصل مقصد حج کرنا ہے اور ایک تھکا ہُوا اور مضمحل آدمی دل جمعی کے ساتھ مناسکِ حج ادا نہیں کرسکتا۔ کھانے پینے میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ مصنف کی ہدایت ہے کہ ترجیحاً سبزیاں اور دالیں استعمال کریں۔ دوپہر کو کھانا مت کھائیں، اس کے بجاے پھل استعمال کریں۔ مصنف نے نہایت تفصیل سے اور بہت جزئیات میں جاکر ہدایات دی ہیں جن کی بنیاد اُن کا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے۔ خوبی کی بات یہ ہے کہ کتاب کے آخر میں اشاریہ بھی شامل ہے۔
گمان ہے اگر کوئی زائر حج و عمرہ اس کتاب کو پڑھ کر مصنف کی ہدایات کو پلّے باندھ لے تو سفر کی بیش تر مشکلات سے محفوظ رہے گا اور یقینی طور پر مصنف کے حق میں دعاگو بھی ہوگا۔ (ر-ہ)
نیشنل اکیڈمی آف اسلامک ریسرچ کراچی کے زیراہتمام تالیف و شائع کردہ یہ ایک مختصر مگر جامع اور اپنے موضوع پر عمدہ کتاب ہے۔ مصنف نے خبروں، تجزیوں اور تبصروں کی مدد سے امریکا کی زوال پذیری کے اسباب (اخلاقی گمراہ روی، خاندانی نظام کی تباہی، شرح پیدایش میں خطرناک کمی، یہودی سازشیں، معیشت کا زوال وغیرہ) پر اعداد وشمار اور حقائق کی مدد سے بحث کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: امریکا کے معاملے میں سارے اسباب زوال جمع ہوکر اجتماعی طور پر اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ اس لیے اب ’’امریکا کا جانا ٹھیر گیا ہے ، صبح گیا یا شام گیا‘‘۔
اپنے موقف کی تائید میں مشرق و مغرب کے تجزیہ کاروں اور دانش وروں کی آرا بھی پیش کی ہیں۔ ضمیمے (مغرب میں بڑھتی ہوئی مسلم آبادی) میں گذشتہ ۴،۵ برسوں کی اہم خبریں اور اعداد و شمار درج کرنے کے بعد مصنف یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ’’مسلم آبادی میں اضافے کی وجہ سے مغرب میں عملی، دعوتی اور اسلام پسند نوجوانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا اور ان کے اثرات وسیع ہوں گے‘‘ (ص ۷۱)۔مصنف کا اسلوب تحقیقی ہے۔ آخر میں اُردو انگریزی کتابیات بھی شامل ہے۔ (ر-ہ)
یونی ورسٹیاں اپنی عمارتوں کے شکوہ اور فن تعمیر کی انفرادیت کے بل پر نہیں، بلکہ اپنے علمی کارناموں اور تحقیقی منصوبوں کی بنیاد پر پہچانی جاتی ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے سب سے کم عمر شعبے نے جب معیار کے نام سے علمی و تحقیقی مجلے کا اجراکیا تو اس کا پہلا شمارہ ہی اپنے نادر اور معیاری لوازمے اور پیش کش کی ندرت کے سبب اہلِ علم کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اندیشہ تھا کہ مجلے کے لیے اپنا معیار قائم رکھنا مشکل ہوگا، مگر مجلسِ ادارت کی پختہ فکری، علمی اُپج اور مسلسل محنت نے، ایک سے بڑھ کر ایک شمارہ پیش کیا۔ (اوّلیں شمارے پر تبصرہ دیکھیے: ترجمان، نومبر ۲۰۰۹ئ)۔ ہمارے ہاں رسائل پر کم ہی تبصرے شائع ہوتے ہیں، لیکن اس مجلے کا دامن علمی اتنا مالا مال ہے کہ تازہ شمارے کا تعارف ضروری محسوس ہوتا ہے۔
زیرنظر شمارہ متعدد حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ ممتاز محقق عارف نوشاہی کے ’مطالعاتِ تخصیص‘ (ص ۱۱-۲۵۴) ان کی تحقیق و جستجو کی عمدہ مثال ہیں، خصوصاً ’مجالس جہانگیری‘ (ص۴۳-۸۶) تو خاصّے کی چیز ہے۔ جناب اکرام چغتائی (ص ۲۷۳) اور حکیم محمود احمد برکاتی (ص ۲۵۵) کے مضامین بھی معلومات افزا ہیں۔ ’دریافت و انکشاف‘ (ص ۲۸۹-۳۳۱) کا گوشہ شاید پاکستانی کلچر کی بحث کو تیسری مرتبہ برپا کرنے کا ذریعہ بن جائے، جس میں کلچر پر جناب فیض احمد فیض کے ایک خصوصی لیکچر اور سوال و جواب کی نشست کو پہلی مرتبہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ لیکچر ۱۹۷۴ء میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جناب فیض کا لیکچر اپنے موضوع کے اعتبار سے خاصا سرسری ہے، تاہم ایک بڑے ادیب کی گفتگو کے حوالے سے غورطلب ہے۔ اس سے اگلے مضمون میں محمد حمزہ فاروقی نے فیض کے ترجمہ اقبال (پیامِ مشرق) کا غیر جذباتی، مگر لسانی، لغوی اور سخن ورانہ اُپج سے مطالعہ پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’فیض کی فکر، تصورات اقبال سے متناقض تھی، چناں چہ انھوں نے ترجمے میں جابجا ٹھوکر کھائی اور اصل مفہوم کو اُردو میں منتقل نہ کرسکے… اقبال نے اگر چھوٹی بحروں میں دریا سے معانی کو غزل یا رباعی کے کوزے میں بند کیا تھا تو فیض صاحب نے طویل بحروں میں الفاظ کا گورکھ دھندا پیش کر کے مفہوم مسخ کیا‘‘ (ص ۳۰۹)۔ اس کے بعد حمزہ فاروقی نے کلامِ اقبال، ترجمہ فیض اور شائع شدہ ترجمہ فیض کا چارٹ پیش کر کے تقابلی مطالعے کی سہولت فراہم کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اکثر مقامات پر نئی ترامیم پائی جاتی ہیں، جو شاید صوفی تبسم کی تراوش فکر کا نتیجہ تھیں‘‘۔ (ص ۳۰۹)
بصیرہ عنبرین نے اُردو تضمین نگاری کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ نجیبہ عارف نے ’ادب کا نومزاحمتی رجحان‘ میں ’نائن الیون‘ کے حوالے سے مسلم دنیا کے آشوب پر لکھی گئی افسانوی تحریروں کا جامع تجزیہ پیش کیا ہے۔ یہ مقالہ ملّی درد اور تنقیدی شعور کا عمدہ نمونہ ہے۔
پروفیسر فتح محمد ملک نے جسونت سنگھ کی متنازع کتاب جناح: اتحاد سے تقسیم تک کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب میں تاریخ اور اصل حقائق کو مسخ کر کے برہمنی سوچ کو جس ’مہارت‘ سے پیش کیا گیا ہے، مبصر نے بڑی عمدگی سے اس پر گرفت کی ہے۔ اس طرح قائداعظم کے لیے تحسینی کلمات کی مٹھاس میں لپٹی کڑواہٹ کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ تبصرے کی حسب ِذیل آخری سطور مقالے کے موڈ اور زیرتبصرہ کتاب کی روح کو بڑی خوبی سے پیش کرتی ہیں: ’’درج بالا سطور (زیرتبصرہ کتاب کے ص ۴۹۸) میں ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا گیا ہے کہ پنڈت نہرو کی سیکولر ملائیت اور جسونت سنگھ کی ہندو احیائیت، ہردو اُس وقت طبلِ جنگ پر چوٹ لگاتی رہیں گی، جس وقت تک پاکستان جداگانہ مسلم تقویت کی نظریاتی اساس پر قائم ہے۔ بھارت سے دوستی کی فقط ایک ہی شرط ہے کہ پاکستان اپنی نظریاتی بنیاد منہدم کردے۔ پاکستان کی محکوم اشرافیہ تو شاید اس شرط کو قبول کرلینے پر آمادہ ہو، مگر آزادپاکستان کے غیور عوام کے نزدیک: ’ایں خیال است و محال است و جنوں‘ (ص ۴۲۶)‘‘۔ (س- م- خ )
۱۹۶۲ء میں جاری ہونے والے ماہ نامہ سیارہ کا ۵۷واں خاص شمارہ شائع ہوا ہے۔ حمد، نعت، داناے راز،(اقبالیات)، مقالات، منظومات، بازیافت، مراسلت، غزلیات، یادِرفتگاں، افسانے، مطالعہ خصوصی (کتب کا مطالعہ) اور تبصرۂ کتب اس پرچے کے مستقل سلسلے ہیں۔ زیرنظر شمارے کے ’گوشۂ جلیل عالی‘ میں دورِحاضر کے ایک نام وَر اُردو شاعر کے فکروفن پر ۱۳مضامین اور ان کا مکمل کوائف نامہ بھی شامل ہیں۔ داناے راز میں دو مضامین ’علامہ اقبالؒ اور سید مودودیؒ کا خواب‘ از ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور ’اسلامی ادب کی ترویج میں اقبال کا کردار‘ از ڈاکٹر تحسین فراقی نہایت اہم ہیں۔ ڈاکٹر مقبول الٰہی کے مضمون ’مصورانہ خطاطی اور تحریفِ قرآن‘ میں مصورانہ خطاطی کے اس رجحان پر اچھا محاکمہ کیا گیا ہے جس میں قرآنی آیات کے الفاظ کی صورت بگڑ جاتی ہے۔ ’یادِ رفتگاں‘ کے تحت ڈاکٹر وحید عشرت، ڈاکٹر آفتاب نقوی شہید، جعفربلوچ، پروفیسر نذیراشک اور عبدالعزیز خالد کی وفات پر تعزیتی مضامین و منظومات ہیں۔ سیارہ کی مجلسِ ادارت خصوصاً حفیظ الرحمن احسن کی محنت و کاوش قابلِ داد ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ شمارہ ایک معتبر ادبی دستاویز اور ادبِ اسلامی کی ترجمانی کا عمدہ نمونہ ہے۔ (قاسم محمود احمد)
سیدنا محمد رسول اللّٰہa (جلد اوّل و دوم، کُل ضخامت: ۱۳۵۰ صفحات) دیدہ زیب طباعت کے ساتھ شائع ہوگئی ہے۔ ان خواتین و حضرات کی خدمت میں تحفتاً پیش کی جارہی ہے، جو شب و روز دعوت اور خدمت ِدین میں مصروف ہیں۔ اسکولوں، کالجوں، یونی ورسٹیوں سے متعلق افراد متعلقہ ادارے کے سربراہ کا تصدیقی خط ، جب کہ تحریک سے وابستہ حضرات امیرضلع کا تصدیق نامہ لاکر کتاب دستی وصول کریں۔ آنے سے قبل ٹیلی فون پر رابطہ کریں۔
شیخ عمر فاروق: جامعہ تدبر القرآن، 15-B ، وحدت کالونی، لاہور- فون: 37585960
’سفینہ حریت اور اسرائیل کا مستقبل‘ (جولائی ۲۰۱۰ئ) حوصلہ افزا تحریر ہے۔ نفرت کی علامت، اسرائیلی ریاست ظلم کی انتہائی بلند چوٹیوں کو چھو رہی ہے۔ خود مغربی مفکرین کی راے میں ۲۰۲۰ء کے بعد دنیا میں اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہ رہے گی۔ عالمِ عرب کے مشہور مفکر، ڈاکٹر سفر بن عبدالرحمن الحوالی کا کہنا ہے کہ ’’نفرت کی ریاست کا اختتام یا اختتام کے آغاز کا زمانہ ۲۰۱۲ء کے آس پاس بنتا ہے‘‘۔تاہم، پیش آمدہ حالات کے تناظر میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ارضِ فلسطین کی آزادی اور صہیونی ریاست کی بربادی اب بہت قریب اور یقینی ہے۔
’تعلیمی شعبہ منفی تجربات‘ (جولائی ۲۰۱۰ئ) میں حکومت ِ پنجاب کی تعلیم دشمن پالیسی کو جس طرح بے نقاب کیا گیا ہے، وہ قابلِ تعریف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت ِ پنجاب عالمی طاقتوں کے ایجنٹ کاکردار ادا کرکے ہمارے شہروں اور دیہی علاقوں میں رہنے والے مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے نوجوانوں کو دانستہ زیورِتعلیم سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔ سرمایہ دارانہ ذہنیت کی عکاس یہ تعلیمی پالیسی پاکستان کے مستقبل کے لیے تباہ کن ہے۔ وطن کے ہمدرد افراد کو حکومت کے اس ظالمانہ قدم کے سامنے بند باندھنا چاہیے۔
’علوم کو اسلامیانے کے نام پر‘ (جون ۲۰۱۰ئ) میں محمد رضی الاسلام نے بجا گرفت کی ہے۔ ڈاکٹر سید وقاراحمد حسینی جس فکر کو فروغ دے رہے ہیں وہ اسلام کی خدمت نہیں ہے۔ اس کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے، اور متعلقہ یونی ورسٹی کو بھی اس طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ اس تحریر میں دیگر اہلِ علم کے لیے بھی توجہ ہے کہ وہ اسلام کے نام پر کی جانے والی ایسی کوششوں سے اجتناب کریں۔
تراویح کے دوران روزانہ پڑھے جانے والے قرآن کریم کے حصے کا خلاصہ مع بنیادی عقائد و دیگر معلومات اور قرآنی و مسنون دعائیں مع آسان ترجمہ دستیاب ہیں۔ خواہش مند خواتین و حضرات کم از کم 15 روپے کے ڈاک ٹکٹ بنام ڈاکٹر ممتاز عمر، 473-T، کورنگی نمبر2، کراچی- 74900 کے پتے پر روانہ کرکے کتابچے بلامعاوضہ حاصل کرسکتے ہیں۔
’ہم نے کشمیر کیسے کھویا!‘ (جولائی ۲۰۱۰ئ) ایک چشم کشا تحریر ہے۔ علامہ محمداسد کی تحریر سے انکشاف ہوا کہ برطانیہ کے دبائو پر قادیانی وزیرخارجہ کی یقین دہانی اور نہرو کے استصواب راے کے وعدے پر بھروسا کرکے کس طرح جیتی بازی ہار دی گئی: پاکستانی فوج کے حملے کا خطرہ ٹلتے ہی بھارتی وزیراعظم نہرو فوری استصواب راے کے وعدے سے منحرف ہوگیا اور یہ مسئلہ کشمیر غیرمعینہ عرصے کے لیے معرضِ التوا میں ڈال دیا گیا (ص ۸۵)۔ آج بھی امریکی دبائو پر بے مقصد مذاکرات میں وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ مسئلۂ کشمیر کا واحد حل استصواب راے یا پھر ہندو جارحیت کے خلاف جہاد ہے۔
حافظ محمد ایوب ، اسلام آباد
مولانا معین الدین خٹک سے ایک بار پوچھا کہ تحریک کے ابتدائی کارکنان کے بارے میں کچھ بتائیں۔ کچھ سوچ کر بولے۔ ۱۹۵۲ء کراچی میں جماعت ِ اسلامی کا اجتماعِ عام منعقد ہوا۔ رفقا کے قافلے بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے جوق در جوق کراچی کی طرف چل پڑے۔ موضع شیخ سلطان ٹانک (سرحد) کے تین ساتھیوں نے جو بے انتہا غریب تھے، اجتماع میں شرکت کا ارادہ کرلیا۔ کسی دوسرے ساتھی سے نہ مالی تعاون لیا اور نہ جماعت کے بیت المال ہی پر بوجھ بنے۔ یہ مذکورہ تینوں ساتھی کراچی کی جانب پیدل چل پڑے۔ ایک آنہ کی دو روٹیاں اور جی ٹی روڈ پر ایسے ہوٹل بھی ہوا کرتے تھے جہاں آنہ روٹی دال مفت بھی مل جایا کرتی تھی۔ دن بھر سفر کرتے، رات کسی مسجد میں نمازِ عشاء کے بعد آرام کرتے اور نماز فجر پڑھ کر سفر جاری رکھتے۔ استقبالیہ کیمپ سہراب گوٹھ لبِ سڑک تھا۔ ناظم استقبالیہ نے آمدہ قافلہ سے دریافت کیا کہ جناب آپ کہاں سے اور کیسے پہنچے؟ جواب سن کر کیمپ میں موجود کارکنان حیران رہ گئے۔ اجتماع گاہ میں قائد تحریک سیدمودودیؒ کو اطلاع دی گئی۔ مولانا استقبالیہ میں تشریف لائے اور اس قافلے کا خود استقبال کیا۔ اِس قافلے کو قافلۂ سخت جان کا نام سیدصاحب نے دیا۔ ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھ گئے۔ سب کی آنکھوں سے موتی چھلک پڑے: ’’یااللہ! یہ تیرے بندے صرف تیری رضا اور تیرے دین کی بقا کے لیے جوتکالیف اُٹھا رہے ہیں ان کی قربانیوں کو قبول فرما، آمین!
_______________
ایک گرتی ہوئی قوم کو بہترین حالات فراہم کر کے ایک زریں موقع بہم پہنچایا جاتا ہے۔ اگر وہ فی الواقع سنبھلنا چاہتی ہے تو سنبھل لے۔ دوسرے لفظوں میں اس کے پاس راہِ حق پر مستقیم نہ ہوسکنے کے جتنے عذرات ہوتے ہیں ان کو ختم کردیا جاتا ہے کہ لو اب تم اپنی نیتوں اور عزائم کا پورا پورا مظاہرہ کرلو۔ اس طرح کی آزمایشِ نعمت میں گھرنے والی قوم اگر خوش نصیب ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے موقع سے پورا پورا فائدہ اُٹھاتی ہے اور نہ صرف خود پستی سے اُبھر آتی ہے بلکہ وہ دوسری اقوام کو بھی سہارا فراہم کرتی ہے۔ لیکن اگر اس کے اعمال کی نحوست اس پر بالکل مسلط ہی ہوگئی ہو اور وہ خداداد موقع کو ضائع کر دے اور یہ ثابت کر دے کہ اس کی ساری عذر تراشیاں جھوٹی تھیں، کوئی ارادۂ اصلاح ان کے پیچھے موجود ہی نہیں تھا، تو پھر جتنی بڑی نعمت دی گئی ہوتی ہے اتنا ہی بڑا عذاب اس کی اُوٹ میں سے برآمد ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ انگریز کی غلامی اتباعِ اسلام میں حائل ہے اور ہمیں ایک الگ خطہ ٔ ارضی اگر مہیا ہوجائے تو ہم خدا کی کتاب کے ایک ایک شوشے کو زمین پر قائم کرکے دکھا دیں گے۔ ہمیں آزادی ملے تو سہی پھر ہم ہوں گے اور اسلام ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان دعاوی اور اعلانات کو کسوٹی پر رکھنے کے لیے مطلوبہ خطۂ ارضی بھی فراہم کر دیا ہے اور انگریزی اقتدار کی سِل کو بھی ہمارے سینوں سے ہٹا لیا ہے۔ اب یہ ہمارے ذمے ہے کہ ہم اپنے آپ کو سچا ثابت کریں یا جھوٹا؟ اور ہماری کوششیں اسی کو پیدا کرنے کے لیے وقف ہیں، تو نہ صرف ملّتِ پاکستان خود سنبھل جائے گی اور اللہ کی مزید نعمتوں کی مستحق ہوگی بلکہ دوسری مسلم اور غیرمسلم اقوام کے لیے اُبھرنے کا سہارا بنے گی۔ اور اگر بدقسمتی سے تذکیر کی ساری کوششیں ناکام ہوگئیں اور اللہ کی نعمت سے اجتماعی طور پر مذاق کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو پھر کون کہہ سکتا ہے کہ کیا کچھ نہ ہوگا۔
جس صورتِ حالات میں ہم گھرے ہوئے ہیں اس کا ٹھیک ٹھیک تقاضا یہ ہے کہ دل و دماغ کی ایک ایک رمق، دوڑ دھوپ کا ایک ایک لمحہ اور جیب کی ایک ایک کوڑی اصلاح کی منظم جدوجہد میں جھونک دی جائے ورنہ بڑے بڑے متقی کا حشر فاسقین کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ (’رسائل و مسائل‘، ادارہ، ترجمان القرآن، جلد۳۴، عدد۳، رمضان ۱۳۶۹ھ، اگست ۱۹۵۰ئ، ص ۱۹۲-۱۹۳)