سوال: ۱- اسلام کے قانون و اصول قطعی طور پر ناقابلِ تجزیہ ہیںیا کچھ گنجایش ہے؟ مثلاً اگر حکومت اجراے حدود کا قانون پاس کردے اور جج حضرات ان قوانین کے عملی نفاذ کے مجاز ہو جائیں لیکن معاشرے کی حالت یہی رہے جو اَب ہے اور اصلاح معاشرہ کے لیے کوئی قانون نافذ ہی نہ کیا جائے، تو اس صورت میں شرعی ثبوت کے بعد رجم اور حد کی سزا ظلم ہوگی یا نہیں؟...
۲-کیا حکومت کو اصلاح معاشرہ کے لیے اجراے حدود کو کچھ مدت کے لیے ملتوی رکھنا چاہیے اور احکامِ اسلامی کے اجرا میں کسی خاص ترتیب کو ملحوظ رکھنا چاہیے؟...
جواب: اس وقت اگر کوئی مسلمان حکومت اسلام کے تمام احکام و قوانین اور اس کی ساری اصلاحی ہدایات کو معطل رکھ کر اس کے قوانین میں سے صرف حدودِ شرعیہ کو الگ نکال لے اور عدالتوں میں ان کو نافذ کرنے کا حکم دے دے تو جو قاضی یا جج کسی زانی یا سارق یا شارب خمر پر حد جاری کرنے کا حکم دے گا وہ تو ظالم نہیں ہوگا، البتہ وہ حکومت ضرور ظالم ہوگی جس نے شریعت ِ الٰہیہ کے ایک حصے کو معطل اور دوسرے حصے کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں ایسی حکومت کو اُس آیتِ قرآنی کا مصداق سمجھتا ہوں جس میں فرمایا گیا ہے:
اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِیْ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِ (البقرہ ۲:۸۵) کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہوکر رہیں اور روزِ قیامت وہ شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں گے۔
میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ جو حکومت خود شراب بنانے اور بیچنے کے لائسنس دیتی ہو اور جس کی تقریبات میں خود حکومت کے کارفرما اور ان کے معزز مہمان شراب سے شغل کرتے ہوں ان کے قانون میں اگر شارب خمر کے لیے ۸۰ کوڑے لگانے کی سزا مقرر کر دی جائے تو ہم اُسے اسلامی قانون نافذ کرنے والی حکومت کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔ میں یہ نہیں مانتا کہ ایک طرف عورتوں اور مردوں کے آزادانہ اختلاط کو رواج دینا، لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ساتھ کالجوں میں پڑھانا، عورتوں سے سرکاری دفاتر میں مردوں کے ساتھ کام لینا، ننگی تصویروں اور عریاں فلموں اور فحش لٹریچر کی بے روک ٹوک اشاعت جاری رکھنا، ۱۶ سال سے کم عمر کی لڑکی اور ۱۸ سال سے کم عمر کے لڑکے کا نکاح قانوناً ممنوع ٹھیرانا، اور دوسری طرف زنا پر رجم اور کوڑوں کی سزا دینا فی الواقع اسلامی قانون کا اجرا ہے۔ مجھے یہ ہرگز تسلیم نہیں ہے کہ سود اور قمار کو حلال کرنے والی اور ان محرمات کو خود رواج دینے والی حکومت چوری پر ہاتھ کاٹنے کا قانون نافذ کر کے اسلامی قانون نافذ کرنے والی حکومت قرار دی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی عالمِ دین اس متضاد طرزِ عمل کے جواز کے قائل ہوں اور ان کے نزدیک شریعت کے ٹکڑے کرنا اور اس کے اجزا میں سے بعض کو ترک اور بعض کو اخذ کرلینا ظلم نہیں بلکہ ایک نیکی ہو تو وہ اپنے دلائل ارشاد فرمائیں۔
دراصل یہ مسئلہ محض اس سادہ سے قانونی سوال پر بحث کر کے حل نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ حالات میں شرعی حدود کا نفاذ جائز ہے یا نہیں۔
اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہم کو محض احکام ہی نہیں دیے ہیں بلکہ ان کے ساتھ کوئی حکمت بھی سکھائی ہے جس سے کام لے کر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ایک مدتِ دراز تک کفروفسق کی فرماں روائی کے تحت رہنے کے بعد ہمارے ملک میں جو حالات پیدا ہوچکے ہیں ان میں اقامت ِ دین کا کام اب کس طرح ہونا چاہیے۔ جہاں تک میں نے شریعت کو سمجھا ہے اس کے نظام میں اصلاح، سدِّباب ذرائع اور تعزیر کے درمیان ایک مکمل توازن قائم کیا گیا ہے۔ ایک طرف وہ ہر پہلو سے تزکیۂ اخلاق اور تطہیر نفوس کی تدابیر ہمیں بتاتی ہے، دوسری طرف وہ ایسی ہدایات ہمیں دیتی ہے جن پر عمل درآمد کر کے ہم بگاڑ کے اسباب کی روک تھام کرسکتے ہیں، اور تیسری طرف وہ تعزیرات کا ایک قانون ہمیں دیتی ہے تاکہ تمام اصلاحی و انسدادی تدابیر کے باوجود اگر کہیں بگاڑ رونما ہوجائے تو سختی کے ساتھ اس کا تدارک کر دیا جائے۔ شریعت کا منشا اس پوری اسکیم کو متوازن طریقے سے نافذ کر کے ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کے کسی جز کو ساقط اور کسی کو نافذ کرنا حکمت ِ دین کے بالکل خلاف ہے۔
اس کے جواز میں یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ جس جز کو ہم نافذ کر رہے ہیں اس کے نفاذ کا حکم قرآن میں موجود ہے۔ اس استدلال کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک حکیم کا مرتب کردہ نسخہ کسی اناڑی کے ہاتھ آجائے اور وہ اس کے بہت سے اجزا میں سے صرف دوچار اجزا نکال کر کسی مریض کو استعمال کرائے اور اعتراض کرنے والے کا منہ بند کرنے کے لیے یہ دلیل پیش کرے کہ جو اجزا میں استعمال کرا رہا ہوں وہ سب حکیم کے نسخے میں درج ہیں۔ اس کی اس دلیل کا جواب آخر آپ یہی تو دیں گے کہ بندئہ خدا حکیم کے نسخے میں جو مصلحات اور بدرقے [معاون ادویات] درج تھے ان سب کو چھوڑ کر تو صرف سمیّات [زہریلی چیزیں] مریض کو استعمال کرا رہا ہے اور نام حکیم کا لیتا ہے کہ میں اس کے نسخے سے علاج کر رہا ہوں۔ حکیم نے تجھ سے یہ کب کہا تھا کہ تو میرے نسخے میں سے جس جز کو چاہے چھانٹ کر نکال لے اور جس مریض کو چاہے کھلا دے۔
اس کے ساتھ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ شریعت آیا اپنے نفاذ کے لیے مومن و متقی کارکن چاہتی ہے یا فاسق و فاجر لوگ اور وہ لوگ جو اپنے ذہن میں اس کے احکام کی صحت کے معتقد تک نہیں ہیں؟ اس معاملے میں بھی محض جواز اور عدمِ جواز کی قانونی بحث مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ مجرد قانونی لحاظ سے ایک کام جائز بھی ہو تو یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ حکمتِ دین کے لحاظ سے وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ کیا حکمتِ دین کا یہ تقاضا ہے کہ احکامِ شرعیہ کا اجرا ایسے حکام کے ذریعے سے کرایا جائے جن کی اکثریت رشوت خور، بدکردار اور خدا و آخرت سے بے خوف ہے، اور جن میں ایک بڑی تعداد عقیدتاً مغربی قوانین کو برحق اور اسلامی قوانین کو غلط اور فرسودہ سمجھتی ہے؟ میرے نزدیک تو اسلام کو دنیا بھر میں بدنام کردینے اور خود مسلم عوام کو بھی اسلام سے مایوس کردینے کے لیے اس سے زیادہ کارگر نسخہ اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ ان لوگوں کے ہاتھوں احکامِ شریعت جاری کرائے جائیں۔ اگر چند بندگانِ خدا پر بھی جھوٹے مقدمے بناکر سرقے اور زنا کی حد جاری کردی گئی تو آپ دیکھیں گے کہ اس ملک میں حدودِ شرعیہ کا نام لینا مشکل ہوجائے گا اور دنیا میں یہ چیز اسلام کی ناکامی کا اشتہار بن جائے گی۔
اس لیے اگر ہم دین کی کچھ خدمت کرنا چاہتے ہیں، اُس سے دشمنی نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں پہلے اس امر کی کوشش کرنی چاہیے کہ ملک کا انتظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوجائے جو دین کی سمجھ بھی رکھتے ہوں اور اخلاص کے ساتھ اس کو نافذ کرنے کے خواہش مند بھی ہوں۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ اسلام کی پوری اصلاحی اسکیم کو ہرجہت سے ہمہ گیر طریقے پر نافذ کیا جائے اور اسی سلسلے میں حدودِ شرعیہ کا اجرا بھی ہو۔ یہ کام بڑا صبر اور بڑی حکمت چاہتا ہے۔ یہ ہتھیلی پر سرسوں جمانا نہیں ہے کہ آج مجلسِ قانون ساز میں ایک دو نشستیں ہاتھ آگئیں اور کل حدودِ شرعیہ جاری کرنے کے لیے ایک مسودۂ قانون پیش کر دیا گیا۔
اس سلسلے میں ایک بات اور بھی سمجھ لینی چاہیے۔ ایک حالت تو وہ ہوتی ہے جس میں پہلے سے ملک کے اندر اسلامی قانون نافذ چلا آ رہا ہو اور بعد میں بتدریج انحطاط رونما ہوتے ہوتے یہ نوبت آگئی ہو کہ شریعت کے بعض حصے متروک ہوگئے ہوں اور جن حصوں پر عمل ہو بھی رہا ہو، ان کو نافذ کرنے والے بدکردار لوگ ہوں۔ اس حالت میں حکمت ِ دین کا تقاضا یہ نہ ہوگا کہ شریعت کے جو حصے نافذ ہیں ان کو بھی چھوڑ دیا جائے بلکہ یہ ہوگا کہ عام اصلاح کی کوشش کر کے ایک طرف صالح عناصر کو برسرِاقتدار لایا جائے اور دوسری طرف شریعت کے باقی ماندہ حصوں کو نافذ کیا جائے۔ دوسری حالت وہ ہے جس میں کفروفسق کا سیلاب سب کچھ بہا لے گیا ہو اور اب ہم کو نئے سرے سے تعمیر کا آغاز کرنا ہو۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ بنیادوں سے تعمیر شروع کرنی ہوگی نہ کہ اُوپر کی منزلوں سے۔ (رسائل و مسائل، چہارم، ص ۲۶۹-۲۷۶)
عالمی جامعات میں خصوصاً امریکا میں انڈر گریجوایٹ طلبہ کے لیے انسانی علوم میں تعارفی کورس لینے کا رواج ہے اور اکثر طلبہ مذہبیات، عمرانیات، نفسیات یا موسیقی بطور ایک مددگار کورس کے لیتے ہیں۔ شعبہ ہاے فلسفہ و مذہب طلبہ کی سہولت، ذہنی ترقی اور معلومات کے لیے اکثر ایسے کورس وضع کرتے ہیں اور طلبہ کی ایک اچھی خاصی تعداد ان میں دل چسپی لیتی ہے، جب کہ ہمارے ہاں اس کے بالکل برعکس اسلامیات ایک لازمی مضمون ہونے کے باوجود اساتذہ، لوازمہ اور طرزِ تدریس تینوں پہلوئوں سے عدمِ دل چسپی کی اعلیٰ مثال نظر آتا ہے۔
زیرنظر کتاب اسلام اپنی نگاہ میں دراصل انگریزی کتاب Vision of Islam کا ترجمہ ہے جو ۱۹۹۴ء میں طبع ہوئی۔ چیٹک اور مراتا اپنے پیش لفظ میں وضاحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب ان کے اسلام پر تعارفی کورس پڑھانے کے نتیجے میں وجود میں آئی اور اس میں طلبہ اور خصوصاً مغربی ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام کا ایک عمومی تعارف پیش کیا گیا ہے۔
کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس سے قبل اسلام کے تعارفی مطالعہ کے لیے جو کتب امریکا میں عموماًاستعمال کی جاتی رہی ہیں ان سے استفادہ کے ساتھ ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کوشش کی جائے کہ قرآن و حدیث اور خصوصاً امام غزالی کی احیا علوم الدین سے مدد لیتے ہوئے جابجا حوالے شامل کرلیے جائیں اور بڑی حد تک غیرمتعصبانہ انداز میں اسلام کا ایک تصور (vision) سامنے آجائے۔ اس سے قبل ایچ آر گب کی Mohammdanism (طبع اول ۱۹۴۹ء)، الفرڈ گیوم کی Islam (طبع اول ۱۹۵۴ء)، جان اے ولیمز کی Islam (طبع اول ۱۹۶۳ء)، کینٹ ول اسمتھ کی Islam in Modern History (طبع اول ۱۹۵۷ء)، فلپ کے ہٹی کی Islam: A Way of Life(طبع اول ۱۹۷۰ء)، فضل الرحمن کی Islam (طبع ۱۹۶۶ء)، کینتھ کریگ کی Islam from Within(طبع اول ۱۹۸۰ء) اور بعد میں آنے والی کتب میں وکٹر ڈینر کی The Islamic Tradition: An Introduction (طبع ۱۹۸۸ء)، گائی ایٹن کی Islam and The Destiny of Man(طبع ۱۹۸۵ء)، جان اسپوزیٹو کی Islam: The Straight Path (طبع ۱۹۸۸ء)، جے رینارڈ کی In the Footsteps of Muhammad (طبع ۱۹۹۲ء)، این میری شمل کی Islam: An Introduction (طبع ۱۹۹۲ء) مختلف جامعات میں اساتذہ کی اپنی ترجیحات کے پیشِ نظر بطور تعارفی کتب استعمال ہوتی رہی ہیں۔ ان سب کی موجودگی میں چیٹک جو اس سے قبل Imaginal World: Faith and Practice of Islam; The Sufi Path of Love; The Self Disclosure of God طبع کر چکے تھے، کا اس کتاب کو تحریر کرنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ جملہ کتب کی موجودگی میں طلبہ اور خصوصاً مغربی ذہن کی ضرورت کے پیش نظر ایک تعارفی کتاب کی مزید ضرورت تھی اور یہ ضرورت سابقہ کتب سے پوری نہیں ہو رہی تھی۔
کتاب ۴ حصوں میں اور ۹ ابواب پر مشتمل ہے جن میں ارکانِ دین، ایمان، توحید، نبوت، آخرت، مسلم فکر، احسان کی قرآنی بنیادیں اور اسلام، تاریخ اور تصورِ تاریخ شامل ہیں۔
کتاب کا مرکزی مضمون حدیث جبریل ؑ کے تین اہم نکات اسلام، ایمان اور احسان ہیں۔ مندرجہ بالا ابواب انھی تین بنیادوں کے گرد گھومتے ہیں۔ اس لحاظ سے مغربی طالب علم کے لیے یہ اسلام کا ایک مختلف نوعیت کا تعارف ہے۔ اپنے تمام تر متوازن اور ہمدردانہ طرزِبیان کے باوجود بعض فکری پہلو اختلاف اور اصلاح کی گنجایش رکھتے ہیں مثلاً تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے اللہ اور الٰہ کی بحث میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ’’اسلام میں ایمان کا پہلا رکن خدا ہے‘‘ (ص ۱۱۳)۔ آگے چل کر اس کی وضاحت کی گئی ہے: ’’الٰہ ہر وہ چیز ہے جسے پرستش، عقیدت اور اطاعت کا مرکز بنایا جائے‘‘ (ص ۱۱۴)۔ تفصیلی بحث کے بعد ’’الٰہ کو god یعنی جھوٹا خدا یا سچا خدا‘‘ اور ’’Godکو ازروے تعریف سچا خدا‘‘ (ص ۱۱۶) سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ بات بار بار کہی گئی ہے کہ انگریزی میں ’اللہ‘ کی اصطلاح مغربی ذہن کو پریشان کرتی ہے، جب کہ اللہ کی جگہ God کہنا زیادہ درست اور افضل ہے۔
ہمیں اس سے فکری بنیاد پر اختلاف ہے۔ اگر ہندوازم کو پڑھاتے ہوئے ایک امریکی غیرہندو استاد Brahma کو ہندو God نہیں کہتا بلکہ برہما ہی کہتا ہے اور یہودیت پڑھاتے ہوئے یہودیوں کے God کی جگہ Yahweh ہی کہتا ہے تو اسلام کے درس میں اللہ کیوں نہیں کہا جاسکتا۔ ایک پہلو جسے اکثر مسلم مفکرین نے بھی بغور نہیں دیکھا، یہ ہے کہ اللہ اسمِ ذات ہونے اور خود قرآن کے تجویز کردہ اسمِ باری تعالیٰ ہونے کے ساتھ عدد اور جنس کی قید سے آزاد اور اللہ کی صمدیت کی علامت ہے، جب کہ God چاہے بڑے G سے ہو چاہے چھوٹے g سے۔اس کی جمع اور تانیث، یونانی مذہب ہو یا ہندو ازم، دونوں جگہ عدد اور جنس کی شکل میں پائی جاتی ہے، چنانچہ Goddess اور Gods دونوں کا وجود تاریخِ ادیان کا حصہ ہے۔
دورِ حاضر میں اسلام سے بحث کرتے ہوئے مصنف نے جو خیالات ظاہر کیے ہیں ان میں سے بعض قابلِ غور ہیں۔ اس بات کی صداقت کے باوجود کہ دورِ حاضر میں اسلام، ایمان اور احسان کی تین جہات شاید تمام تحریکاتِ اسلامی میں بدرجۂ اتم نہ پائی جاتی ہوں، تحریکاتِ اسلامی کی اسلام کی تعبیر کو سیاسی اور اس بنا پر انھیں جدیدیت پرست کہنا محلِ نظر ہے (ص ۵۷۱- ۵۷۴)۔ ’’جدیدیت زدہ اسلام عمومی طور پر روایت کی عقلی تفہیم کو رد کر دیتا ہے مگر یہ کہ اسے سیاسی اصطلاحات کے لبادے میں پیش کیا جائے۔ اسلام کی سیاسی تعلیمات اپنی جگہ ایک چیز ہیں لیکن ان کی حیثیت ہمارے ہاں ثانوی اور غیراہم رہی ہے۔ ان سیاسی تعلیمات کو مرکزی حیثیت دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ اپنی روایت سے کٹ رہے ہیں۔ ہمارے زمانے کی اسلامی تحریکوں کے سیاسی منشور اور اس کی تہ میں کارفرما آئیڈیالوجی کا اسلام کی تعلیمات سے شاذ ونادر ہی اساسی تعلق ہوتا ہے۔ اس کی جگہ ان میں قرآن و حدیث کی ایک ایسی تعبیرِ نوملتی ہے جس کی بنیاد جمہوریت یا دوسری قسم کی ’اچھی‘ طرزِ حکومت کے متعلق جدید مفروضات پر رکھی جاتی ہے (ص ۵۷۴)۔ طویل تر لذیذ حکایت کے بعد یہ حاصلِ تحقیق کلمات بظاہر نہ معروضی کہے جاسکتے ہیں نہ مبنی برعدل۔
بعض اوقات حکایت کا تذکرہ حکایت سے زیادہ لذیذ ہوتا ہے جس کی زندہ مثال برادرعزیز سہیل عمر صاحب کا یہ ترجمہ ہے۔ ایک عرصہ بعد ایسا ترجمہ دیکھنے کا اتفاق ہوا جو ترجمہ بھی ہے اور ترجمانی بھی۔ کسی لمحے یہ احساس نہیں ہوتا کہ آدمی ترجمہ پڑھ رہا ہے، اس کے باوجود چند ایک مقامات پر اگر دوبارہ غور کرلیا جائے تو اچھا ہو۔ تلک اٰیات الحکیم کا اُردو ترجمہ ’’یہ آیات ہیں پکی کتاب کی‘‘ ( لقمان ۳۱:۲) ص ۱۲۱ اگرچہ مستعمل ہو، الحکیم کے مفہوم کو واضح نہیں کرتا بلکہ محکم کے مفہوم سے قریب تر ہے۔ بہترترجمہ ’’یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیات ہیں‘‘ ہوگا۔
مصنف نے دین کا مفہوم بیان کرتے وقت سیدابوالاعلیٰ مودودی کی معرکہ آرا کتاب قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں سے بھرپور استفادہ کے باوجود کہیں حوالہ دینا پسند نہیں کیا۔ ایسے ہی تنزیہہ کی بحث کرتے ہوئے ہم عصر مفکر اسماعیل الفاروقی الراجی کا تذکرہ نہ کرنا علمی معروضیت کے منافی نظر آتا ہے۔ اسلام پر کسی تعارفی کتاب میں خود علامہ اقبال اور علامہ مودودی کا تذکرہ نہ آنا اجنبی معلوم ہوتا ہے۔ علمی تحریرات مسلکی اور ذاتی تعصبات سے پاک ہوں تو وقعت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)
۱۸۵۷ء کے حادثے نے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح برعظیم کے اُردو شعروادب پر بھی اثرات مرتب کیے خصوصاً اُردو شاعری اور بطور خاص نظم کے میدان میں نئے نئے اسالیب اور ہئیتوں کے تجربات ہوئے۔ ۲۰ویں صدی کے ابتدائی ۴،۵ عشروں میں اس حوالے سے بہت سی چیزیں لکھی گئیں کیونکہ اس دور میں برعظیم کے عوام فرنگی قابضین کے خلاف ایک مسلسل جدوجہد سے گزر رہے تھے اور ان کے جذبات اُردو ادب، خاص طور سے اُردو نظم میں ظاہر ہو رہے تھے۔
اودھ یونی ورسٹی (بھارت) کی پی ایچ ڈی اسکالر شائستہ نوشین نے آزادی اور جمہوریت کے موضوع پر اُردو کے ذخیرۂ منظومات کا تنقیدی جائزہ (۱۹۴۷ء-۱۹۰۱ء) لیا ہے۔ اُن کا یہ مقالہ کتابی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ ۵ ابواب پر مشتمل اس مقالے میں آزادی اور جمہوریت کا مفہوم، اُردو ادب میں آزادی و جمہوریت کی جھلک اور ۲۰ویں صدی کے اہم شعرا کے اُردو نظموں میں آزادی اور جمہوریت کے تصورات سے بحث کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں حالی و شبلی کے بعد شعرا کی دو درجہ بندیاں کی گئی ہیں۔ ایک درجے میں ترقی پسند شعرا اور دوسرے زمرے میں غیرترقی پسند شعرا کی کاوشوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ فیض، ساحر، مجاز، مخدوم، کیفی، علی سردار جعفری ایسے شعرا کو اس لیے پہلے درجے میں جگہ ملی ہے کہ وہ ترقی پسندوں کے زمرے میں شامل ہیں، جب کہ اقبال، اکبر الہ آبادی، ظفر علی خاں، اور چکبست وغیرہ کو غیرترقی پسند شعرا کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ ایک مضحکہ خیز صورت ہے۔ مزیدبرآں اکبر الہ آبادی اور ظفر علی خاں ایسے شعرا کو ۴،۴صفحات میں سمیٹا گیا ہے اور تلوک چند محروم اور ساغر نظامی کو ان سے زیادہ صفحات کا مستحق سمجھا گیا ہے، حالانکہ اس سلسلے میں اکبر اور ظفرعلی خاں کی خدمات کسی طور تلوک چندمحروم اور ساغر نظامی سے کم نہیں۔
مجموعی جائزے میں بجا طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ آزادی اور جمہوریت کے تصورات کی ترجمانی اور عوامی بیداری کے فروغ میں اُردو نظم نے تاریخ ساز اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے اور اس ضمن میں شعرا حضرات کی خدمات کسی سیاسی کارکن سے کسی طور کم نہیں۔
کتاب کے سرورق پر موجود بھارت کے نقشے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آزادی اور جمہوریت کی جدوجہد فقط انھی علاقوں میں ہوتی رہی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ آزادی و جمہوریت کے ضمن میں بنگال اور پنجاب کے شعرا اور عوام کی خدمات بھی برعظیم کے دیگر علاقوں کے باشندوں سے کم نہیں۔ اس اعتبار سے یہاں صرف بھارت کے بجاے پورے برعظیم کا نقشہ دینا زیادہ قرینِ انصاف ہوتا۔مجموعی طور پر کتاب اپنے موضوع پر ایک اچھی کاوش ہے، تاہم اس موضوع پر مزید کام کی گنجایش موجود ہے۔ (ساجد صدیق نظامی)
۱۹ ویں صدی میں انگریزی سامراج نے ہندستان میں پنجے گاڑے تو اس نے مختلف سطحوں پر اپنے اقتدار کے جواز کے لیے کام کیا۔ مثال کے طور پر جنگی میدان میں، تعلیمی محاذ پر، ثقافتی پہلو سے اور مذہبی دنیا کے اندر۔ ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مسلمان اس کافرانہ حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے، اس لیے انھوں نے اسلام کی من مانی تعبیر کے لیے مختلف حلقوں کو اُبھارا۔ اس مہم میں مرزا غلام احمد آف قادیان انگریزوں کے ہم سفر اور رفیق بنے اور اسلام کی ایک نئی تعبیر پیش کی، جو بہت سے لوگوں کی گمراہی اور ارتداد کا سبب بنی۔ مسلمانوں نے اس چیلنج کا ہر سطح پر مقابلہ کیا اور بالآخر پاکستان کی پارلیمنٹ نے کھلے مباحث کے بعد قادیانیوں کو کافر قرار دے دیا۔
محمد متین خالد قادیانیت پر لکھنے والوں میں ایک معروف نام ہے۔ آپ قادیانیت کے تضادات اور اس کے باطل ہونے اور اسلام کی حقانیت پر بہت سی کتب، ٹھوس دلائل اور کھلے کھلے شواہد کے ساتھ لکھ چکے ہیں۔ اسلام چونکہ صراطِ مستقیم اور راہِ اعتدال کی دعوت کا علَم بردار ہے، لہٰذا ایسی کتاب کی ضرورت بھی محسوس ہو رہی تھی جس میں نہایت دل سوزی کے ساتھ قادیانیوں کو اسلام اور نجات کی راہ کی طرف دعوت دی جائے۔ زیرتبصرہ کتاب اسی ضرورت کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔
مصنف نے دلیل اور ثبوت کے ساتھ دردمندی سے ’احمدیوں‘ [قادیانیوں] کو یہ دعوتِ فکر دی ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا بشیرالدین صاحبان کی اصل تحریروں کو پڑھ کر کسی نتیجے پر پہنچیں، اور ظاہر ہے وہ نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ جس چیز کو مرزا صاحب نے پیش کیا ہے وہ فکری پراگندگی ہے، اسلام نہیں۔ کتاب کا اسلوب مناظرانہ نہیں، تحقیقی اور داعیانہ ہے۔ اس میں بڑے مرزا صاحب کی ۴۷ اور بشیرالدین صاحب کی ۱۰ کتب کے صفحات سے اصل عکس پیش کرکے اسلام اور قادیانیت کا مقدمہ پیش کیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے یہ کتاب قادیانی حضرات کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینے اور تحفے میں پیش کرنے کے قابل ہے۔ (سلیم منصور خالد)
جناب محمد سرور رجا طویل عرصے سے دُور دیس (برطانیہ) میں مقیم ہیں تاہم اُردو زبان و ادب، پاکستان اور علامہ اقبال سے ان کا رشتہ و رابطہ، وطن عزیز میں رہنے والے اہلِ قلم ہی کی طرح قائم و استوار ہے۔ اس تعلق کا سب سے اہم پہلو علامہ اقبال اور ان کے افکار و تصورات سے ان کی دلی وابستگی ہے۔ چنانچہ انھوں نے علامہ کے فارسی کلام کا بہت سا حصہ منظوم اُردو میں منتقل کرکے اس کا ثبوت مہیا کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی متعدد کتابیں چھپ چکی ہیں۔ زیرنظر کتاب منّتِ ساقی ایک تازہ کڑی ہے جو پیامِ مشرق کے تقریباً تین چوتھائی منتخب کلام کا منظوم اُردو ترجمہ ہے۔
اقبال کا فارسی کلام اور اس کا منظوم اُردو ترجمہ آمنے سامنے (باہم بالمقابل) دیے گئے ہیں۔ اس کا کچھ حصہ قبل ازیں ہالۂ نور کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ بقول مترجم: ترجمے میں التزام ملحوظ رکھا گیا ہے کہ ترجمہ بھی اسی بحر میں ہو جس میں فارسی غزل ہے۔ اور جہاں ممکن ہو، قوافی بھی اصل کے مطابق لائے گئے ہیں۔ اسی طرح فارسی اور اُردو دونوں زبانوں میں جو حسین مطابقت ہے، اسے اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کلامِ اقبال کا زیرنظر ترجمہ اُردو اور فارسی دونوں زبانوں اور فنِ شاعری پر مترجم کی دسترس کا ثبوت ہے۔ متعدد فاضل اہلِ قلم نے رجاصاحب کی زیرنظر کاوش کو سراہا ہے۔ مجلسِ اقبال لندن کے ناظم جناب محمد شریف بقا لکھتے ہیں: ’’اکثر مقامات پر آپ نے علامہ اقبال کے فارسی اشعار کا اتنا مناسب، برمحل اور عمدہ ترجمہ کیا ہے کہ بے اختیار آپ کی شعری مہارت اور خوبی ٔترجمہ کی داددینا پڑتی ہے‘‘۔
جلی کتابت، پایدار کاغذ، اُجلی طباعت اور مضبوط جِلد کے ساتھ کتاب اچھے معیار پر شائع کی گئی ہے۔ ہمیں امید ہے اقبالیات کے شعبۂ تراجم میں یہ مجموعہ ایک قابلِ قدر اضافہ قرار پائے گا۔(رفیع الدین ہاشمی)
یہ کتاب ایک کارکن کے تاثرات و مشاہدات ہیں جس میں مؤلف نے اپنے مشاہدے میں آنے والے، جماعت کے مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی رہنمائوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ان میں سے بعض حضرات گرامی فرضِ بندگی ادا کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور پہنچ گئے ہیں، اور دوسرے حقِ بندگی ادا کرنے میں کوشاں ہیں۔ میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسن، پروفیسر غلام اعظم، چودھری رحمت الٰہی، پروفیسر عبدالغفور، حافظ محمد ادریس، لیاقت بلوچ، میاں مقصود احمد، ڈاکٹر نذیر احمد شہید، محمد باقر خان کھرل، چودھری نذیر احمد، مولانا خان محمد ربانی، مرزا مسرت بیگ، مولانا معین الدین، شیخ عبدالمالک، سیدنصرشاہ، محمد عقیل صدیقی، ملک وزیرغازی، حکیم عبدالکریم جاذب، ڈاکٹر محمداعظم صاحبان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
جماعت کے ابتدائی کارکنان کی زندگیوں کا یہ تذکرہ، نئے آنے والوں کے لیے جہاں جذبے اور ولولے کا باعث ہے وہیں تاریخ کی جھلکیاں پیش کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس اعتبار سے اس میں متعدد دل چسپ معلومات یک جا ہوگئی ہیں۔(عمران ظہور غازی)
’رُکو نہیں، تھمو نہیں کہ معرکے ہیں تیز تر‘ (مئی ۲۰۰۹ء) محترم امیر جماعت سید منور حسن کی تحریر جذبوں کو مہمیز بخشنے والی تھی۔
’مغرب اور اسلام کی کش مکش ___ ایک مغربی نقطۂ نظر‘ (مئی ۲۰۰۹ء) ہر باشعور مسلمان کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ صلیبی جنگوں سے لے کر اب تک، مغرب کے اہلِ دانش نے اسلام اور اسلامی تحریکوں کے خلاف کیا کیا منصوبہ بندی کی ہے؟ اسی منصوبہ بندی کے ثمرات تو آج کل عالمِ اسلام دیکھ رہا ہے۔ حد یہ ہے کہ خود مسلمان ممالک کے اندر سے اسلامی تحریکوں پر فکری حملے ہونے لگے ہیں اور ’معتدل اسلام‘ کے نام پر باطل سے سمجھوتہ کرنے پر نہ صرف فخر کیا جاتا ہے بلکہ اسے مسلمانوں کی آزادی کا ذریعہ بتایا جاتا ہے۔ علامہ اقبال تو پہلے ہی فرما گئے ہیں ؎
دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
’مفاہمت کے نام پر‘ـ تبصرہ صحیح معنوں میں اس کتاب کا پوسٹ مارٹم ہے۔ یہ تبصرہ بروقت، مدلّل اور سچائی پر مبنی ہے۔
’مفاہمت کے نام پر‘ مضامین (مارچ-اپریل ۲۰۰۹ء) شاہ کار ہیں۔ انھیں قرآن و سنت کے دلائل سے مزید مزین کیا جاسکتاہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بے نظیر جیسے لوگ اسلام اور اسلامی تحریکوں کا فہم کن کتابوں سے حاصل کرتے ہیں، اور اُس کے انسانی ذہن پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ قرآن وسنت کے راست علم کی دانش مختلف ہوتی ہے۔مصلحت پسند سیاسی سوچ رکھنے والوں کی عقل پر حیرت اور افسوس ہے۔
’مفاہمت کے نام پر‘ (مارچ-اپریل ۲۰۰۹ء) وقت کی آواز ہے۔ وطنِ عزیز کی سیاست کی طرح یہاں کی سیاسی تاریخ کے ساتھ میکیاولی کے پیروکار سیاست دانوں نے جو سلوک کیا ہے، اسے ’تاریخ کی آبروریزی‘ سے بہتر نام نہیں دیا جاسکتا۔ ایسے لوگ جب اپنے ہی پیدا کردہ فساد کی نذر ہو جاتے ہیں تو انھیں اُوتار بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو معاشرے کے سامنے بے نقاب کرنا ترجمان جیسے جریدے کی وقعت میں کمی نہیں، اضافے کا باعث ہے۔
ایک اور اہم معاملہ بھی توجہ کا محتاج ہے۔ بجلی کی کمی کے اسباب اور پٹرولیم کی خرید اور فروخت میں قیمتوں کے تفاوت کے اصل اعداد و شمار پوری قوم کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ بڑے بڑے وقیع ادارے اور تنظیمیں بھی اصل حقائق سامنے نہیں لاسکیں۔ حد سے حد، سیاسی بیان بازی، مطالبات یا چند غیرمصدقہ اعداد وشمار ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اہلِ علم کو توجہ دلائی جائے کہ پوری باریک بینی سے مصدقہ اور مستند حقائق قوم کے سامنے پیش کیے جائیں۔
اپریل ۲۰۰۹ء کا ترجمان کھولا تو ۶۰ سال پہلے کے تحت ’ایک وقت آئے گا…‘ نظرافروز ہوا۔ بے اختیار زبان سے سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ خاص سے، سیدابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کو فراستِ مومن کے خزانوں میں سے وافر مقدار میں مالامال کیا تھا۔ انھوں نے اسلام پر اور مستقبلِ اسلام پر اپنے غیرمتزلزل ایمان کی روشنی میں اُن دنوں کو دیکھ لیا تھا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچائو کے لیے پریشان ہوگا، سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ہوگی۔ یہ سنہری سرمدی کلمات ان کے جادو اثر قلم سے اس وقت نکلے___ مارچ ۱۹۴۷ء___ جب ان دونوں باطل نظاموں کا چاردانگ عالم میں طوطی بول رہا تھا۔ اس وقت کوئی ایسی بات سوچنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتا تھا، کجا ہ وہ اس کو تحریر میں لے آئے اور شائع کرنے کی جسارت بھی کرے۔ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌo (المائدہ ۵:۵۴)
اللہ تعالیٰ کا ہم پر بھی فضلِ خاص ہے کہ اس نے ہم کو ۱۹۹۱ء کے آخری ایام میں اپنی چشم سر سے کمیونزم کو خود ماسکو میں نیست و نابود ہوتے دیکھنے کا موقع عنایت فرمایا، اور اب واشنگٹن میں سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی کو حالیہ معاشی بحران سے اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام دیکھ رہے ہیں۔
یہ وقت جس سے ہم آج گزر رہے ہیں، ہماری قومی و ملّی تاریخ کے نازک ترین اوقات میں سے ہے۔ اس وقت ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں اور ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارے سامنے جو دو راستے کھلے ہیں، اُن میں سے کس کی طرف بڑھیں۔ اس موقع پر جو فیصلہ بہ حیثیت قوم ہم کریں گے، وہ نہ صرف ہمارے مستقبل پر، بلکہ نہ معلوم کتنی مدّت تک ہماری آیندہ نسلوں پر اثرانداز ہوتا رہے گا۔ ہمارے سامنے ایک راستہ تو یہ ہے کہ ہم ان اصولوں پر اپنے نظامِ زندگی کی بنیادیں کھڑی کریں جو اسلام نے ہم کو دیے ہیں۔ ہماری ساری کی ساری زندگی___ ہماری معاشرت، ہماری معیشت، ہمارا تمدن، ہماری سیاست، غرض سب کچھ ان اصولوں پر استوار ہو جو اسلام نے مقرر کر دیے ہیں۔ دوسرا راستہ ہمارے سامنے یہ ہے کہ ہم کسی مغربی قوم کے نظامِ زندگی کو قبول کرلیں خواہ وہ اشتراکیت ہو، لادینی جمہوریت ہو یا کوئی اور نظامِ زندگی ہو۔
اگر خدانخواستہ ہم نے دوسرے راستے کو پسند کیا، تو ہم اپنے اسلام کی بہ حیثیت قوم نفی کریں گے، اور اپنے ان تمام اعلانات سے منحرف ہوں گے جو ایک مدت سے ہم خدا اور خلق دونوں کے سامنے کرتے رہے ہیں اور اس اجتماعی وعدہ خلافی کی وجہ سے خدا و خلق دونوں کے سامنے ہمیں رسوا ہونا پڑے گا، پھر اس راستے پر چلنے کا سب سے زیادہ افسوس ناک نتیجہ یہ ہوگا کہ ہندستان میں اسلام کی تاریخ کا قطعی خاتمہ ہوجائے گا۔ بخلاف اس کے اگر ہم پہلا راستہ انتخاب کریں اور خالص اسلامی اصولوں پر اپنی قومی زندگی کو قائم کریں تو ہم دنیا میں بھی سرفراز ہوں گے اور آخرت میں بھی ہمارے لیے کامیابی ہوگی، ہم خدا کے حضور بھی سرخ رو ہوں گے اور خلق کے سامنے بھی ہمارا وقار قائم ہوسکے گا۔ ہم اسلامی نظامِ زندگی کے علَم بردار بن کر پھر اسی مقام پر کھڑے ہو جائیں گے جس پر ہزاروں برس پہلے جب ایک قوم کھڑی ہوئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اسے مخاطب کرکے ارشاد فرمایا تھا کہ اِنِّی فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ، یعنی تمھیں دنیا کی ساری اقوام پر فضیلت دی جاتی ہے۔ پھر اس کے بعد جب اسی مقامِ عظمت پر ایک دوسری قوم کھڑی ہوئی تو اسے کہا گیا: کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اور کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا ، یعنی تم بہترین اُمت ہو اور تمھیں مرکز اُمت بنایا گیا ہے۔ (’مطالبۂ نظامِ اسلامی‘، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن، جلد ۳۲، عدد۱، رجب ۱۳۶۸ھ، جون ۱۹۴۹ء، ص ۱۲-۱۳)
انبیا کا طریقۂ تبلیغ کوئی جامد طریقہ نہیں ہے بلکہ انسان کی علمی و ذہنی ترقیوں کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی اور ترقی ہوتی رہی ہے جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ سائنس اور تمدن کی ترقی سے انسان کے وسائل کار اور ذرائع معلومات میں جو اضافے ہوئے ہیں ان سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا حق داعیانِ حق کو ہے۔ مثلاً آج پریس اور ریڈیو وغیرہ نے انسان کی قوتِ ابلاغ کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا ہے۔ ایک بڑی سے بڑی تقریر چند منٹوں کے اندر دنیا کے ایک گوشے سے لے کر دوسرے گوشے تک پہنچائی جاسکتی ہے، کسی وسیع سے وسیع تحریک سے چند دنوں کے اندر اندر دنیا کے تمام پڑھے لکھے انسانوں کو آشنا کیا جاسکتا ہے، مشکل سے مشکل باتیں بہت معمولی محنت سے عوام اور خواص سب کے ذہن نشین کی جاسکتی ہیں۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ آج حق کی تبلیغ کے لیے ان ذرائع پر قبضہ کیا جائے۔
اگر اہلِ حق یہ خیال کر کے ان چیزوں کو نظرانداز کردیں کہ انبیا نے تبلیغ دین کے کام میں ان چیزوں کو استعمال نہیں کیا ہے بلکہ دروازے دروازے پر پہنچ کر ایک ایک شخص پر تبلیغ کی ہے، اس وجہ سے ہمارے لیے بھی اولیٰ یہی ہے کہ ہم ان چیزوں کو ہاتھ نہ لگائیں بلکہ گھر گھر پہنچ کر لوگوں کو تبلیغ کریں، تو یہ انبیا کے طریقے کی پیروی نہیں ہے بلکہ شیطان کا ایک بہت بڑا دھوکا ہے، جو وہ اس لیے دے رہا ہے تاکہ جب تک آپ اپنے ’دین دارانہ‘ طریقے پر چل کر دو آدمیوں سے کوئی بات کہیں، اس وقت تک وہ ان سائنٹی فک وسائل سے کام لے کر ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں تک اپنی دعوتِ باطل نہایت مؤثر طریقہ پر پہنچا دے۔ شیطان نے یہی دھوکا دے کر اکثر اہلِ حق کی کوششوں اور قابلیتوں کو نقصان پہنچا دیا ہے اور ان کے مقابل میں خود اپنا پلّہ بھاری رکھا ہے۔ یہاں تک آہستہ آہستہ اب زندگی کے ہرمیدان میں یہ پیچھے ہیں اور وہ آگے ہے اور دونوں کی کوششوں کے نتائج میں سرے سے کوئی نسبت ہی باقی نہیں رہ گئی ہے، اور یہی صورت حال اس وقت تک باقی رہے گی جب تک اہلِ حق ان زبردست قوتوں کو حق کی خدمت میں استعمال کرنے کا ڈھنگ نہ سیکھ جائیں جو آج ۱۰۰ فی صد شیطان کے تصرف میں ہونے کی وجہ سے باطل کی خدمت میں صرف ہو رہی ہیں۔ (’دعوت کے طریقے‘، مولانا امین احسن اصلاحی، ترجمان القرآن، جلد ۳۰، عدد ۵،جمادی الثانی ۱۳۶۶ھ، اپریل ۱۹۴۷ء، ص ۱۹-۲۰)