محتاط گفتگو
سوال: حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ جنگ اُحد میں ایک نوجوان شہید ہوا۔ جب دیکھا گیا تو بھوک کے سبب اس کے پیٹ سے پتھر بندھے ہوئے تھے۔ اُس کی ماں اُس کی لاش پر آئی اور اس کے منہ سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہنے لگی: بیٹا جنت مبارک ہو! حضور اکرمؐ نے پوچھا: تمھیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ شاید وہ بے فائدہ گفتگو کرتا ہو اوراس کا حساب اس کے ذمے باقی ہو۔ غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ شہیدبھی اُس وقت تک جنت میں نہیں جائے گا جب تک دنیا میں اُس نے جو گفتگو کی ہے اس کا حساب نہ دے دے۔ (از مولانا سفیر حسنؒ، آفات اللسان کیسٹ)
میں نے جب سے یہ کیسٹ سنا ہے بہت زیادہ پریشان ہوں۔ کچھ عرصے تک تو میں بالکل خاموش ہوگئی تھی مگر میرا تو کیا کسی بھی فرد کا بالکل خاموش رہنا ممکن نہیں ہے۔ دعوت کے میدان میں بھی یہ ہنر بہت کارآمد رہتا ہے مگر حدود کا پاس کرنا مشکل ہوتا ہے۔ میری گفتگو کا بنیادی مقصد دعوت ہی ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے اگر پہلے ہلکی پھلکی گفتگو کے ذریعے دوستی کرلی جائے تو آگے اپنی بات بہت جلد اثرات دکھاتی ہے۔ اب مجھے بہت زیادہ فکر نے گھیر رکھا ہے۔ واقعی زیادہ گفتگو کے چند ہی فائدے ہیں باقی سب نقصانات ہی نقصانات___ پوچھنا یہ ہے کہ معتدل راہ کیا ہے اور اب تک جو فضول گفتگو کرچکی، اُس کا تدارک کیسے کروں؟
جواب: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسان کو جن اہم صلاحیتوں سے نوازا ہے، ان میں لسان کے ساتھ بیان و ابلاغ، نصیحت اور کلمۂ حق کا اظہار کرنے کی نعمتیں شامل ہیں۔ قول بمعنی گفتگو اور قول بمعنی وعدہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انبیاے کرام کے حوالے سے قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ انھیں اپنی قوم کی زبان میں پیغام پہنچانے اور ابلاغ سے نوازا گیا، اور حضرت موسٰی ؑکی دعا سے قرآن ہرمسلمان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نہ صرف حق کے لیے سینے کو کشادہ کرنے اور آسانی پیدا کرنے کی دعا کرے، بلکہ ساتھ ہی یہ بات بھی کہے کہ اس کی زبان کی گرہ کو دُور کردیا جائے۔ لیکن گرہ دُور کرنے اور زبان درازی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قبیلے میں بچپن گزارا وہ اپنی فصاحت و بلاغت میں ممتاز تھا۔ اسی لیے آپؐ جب خطاب فرماتے تو مختصر ترین الفاظ میں وضاحت کے ساتھ اپنے مخاطب کی صلاحیت کے لحاظ سے اظہارِ خیال فرماتے۔ آپؐ کے تمام خطبات مختصر اور جامع ہوتے تھے۔ اس لیے آپؐ کی پیروی کرتے ہوئے ایک داعی کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ حق کا ابلاغ کرتے وقت بات غیرضروری طور پر طولانی نہ ہو۔
قرآن کریم نے انسانوں سے گفتگو کرنے کے حوالے سے ہدایت فرمائی ہے کہ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرۃ۲:۸۳)، یعنی انسانوں سے بھلی بات کہنا۔ بھلی بات کہنا اور حق کی دعوت دینا انبیاے کرام کا اُسوہ ہے۔ اس کام میں آسان زبان کا استعمال ہمیشہ میٹھا بول اور زبان کی بے احتیاطیوں سے اپنے آپ کو بچانا ہر داعی کا فرض ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زبان کے غلط استعمال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر اُمت مسلمہ کو متنبہ فرمایا۔ مشہور حدیث ہے کہ جس نے دو چیزوں کی احتیاط کا وعدہ کیا، یعنی زبان اور شرم گاہ، تو صادق و امین صلی اللہ علیہ وسلم اس سے جنت کا وعدہ فرماتے ہیں۔
زبان کی بے احتیاطیوں میں سب سے زیادہ مہلک چیز غیبت ہے۔ قرآن کریم نے سورۃ الحجرات میں اس طرف متوجہ کرتے ہوئے ایک ایسی مثال سے بات کو سمجھایا جسے کوئی صاحب ِ ایمان بھول نہیں سکتا، یعنی غیبت کرنا ایسا ہے جیسے اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا۔ ایک حدیث میں حضوؐر نے یہ بات بھی فرما دی : زانی کی توبہ تو قبول ہوسکتی ہے لیکن غیبت کرنے والے کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوسکتی جب تک وہ شخص جس کی غیبت کی گئی ہے، اسے معاف نہ کردے۔
زبان کی بے احتیاطیوں میںجھوٹی شہادت دینا حدیث پاک کی روشنی میں شرک کے برابر ہے۔ اسی طرح کسی کی تضحیک کرنا، نام بگاڑنا یا چغلی کھانا بھی زبان کی بے احتیاطیوں میں شامل ہیں۔ حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چغلی کھانے والاجنت میں داخل نہیں ہوگا (مسلم)۔ زبان سے غیرمہذب بات نکالنا، فحش گوئی کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔ حضرت ابودرداء ؓسے مروی ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا: سب سے وزنی چیز جو قیامت میں میزان میں رکھی جائے گی مومن کا حسنِ اخلاق ہے اور اللہ اُس شخص سے بُغض رکھتا ہے جو زبان سے بے حیائی کی بات نکالتا ہے اور بدزبانی کرتا ہے۔ (ترمذی)
اسی حوالے سے مذاق میں غلط بیانی کرنا اور جھوٹ بولنا بھی شامل ہے کیونکہ جب ایسا کرنا ایک شخص کی عادت بن جاتا ہے تو پھر اس کے سچ اور جھوٹ میں تمیز نہیں کی جاسکتی۔ ایک حدیث صحیح میں منافق کی جو چار خصلتیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے تین کا تعلق زبان کی بے احتیاطی سے ہے، یعنی جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، اور جب کسی بات پر جھگڑا ہوجائے تو گالی پر اُتر آئے۔ (عن عبداللہ ابن عمرؓ، بخاری و مسلم)
ایک داعی کے لیے بہت ضروری ہے کہ جہاں وہ زبان کی ان بے احتیاطیوں سے بچے وہاں وہ مثبت طور پر زبان کی اچھائیوں کو اختیار کرے جن میں سب سے پہلی بات اللہ تعالیٰ کا ذکر اور دعوت دینے سے قبل اس کی حمدوتوصیف کے ساتھ یہ دعا کرنا کہ وہ حق بات کہنے کی توفیق دے۔ پھر بات کو اچھے انداز سے مختصر ترین پیرایے میں سادہ اور پُراثر الفاظ میں ادا کرنا دعوت کی حکمت کے اجزا ہیں۔
زورِ بیان اور زورِ تحریرکا مطلب نہ طوالت ہے، نہ مشکل الفاظ کا استعمال کرنا، نہ مقفّع و مسجّع گفتگو کرنا، بلکہ مخاطب کی صلاحیت کے مطابق اچھے انداز میں اپنی بات کا پہنچانا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی نسخہ ایسا نہیں ہے جس کے استعمال سے یہ صلاحیت ایک شخص میں پیدا ہوجائے۔ یہ خصوصیت صرف خلوصِ نیت سے، اللہ کو خوش کرنے کے جذبے کے ساتھ مسلسل کوشش ہی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ غیرضروری گفتگو سے احتراز سنت ہے اور جو شخص بھی دعوت الی اللہ کا کام کر رہا ہو، اسے الفاظ کے انتخاب اور استعمال میں فکروعقل کا استعمال کرنے کے بعد ہی کوئی بات کرنی چاہیے۔ ہروقت اور ہر بات پر بولنا، نہ حکمت کا تقاضا ہے، نہ دعوت کے لیے مفید۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’جو خاموش رہا، وہ سلامت رہا، اور جو سلامت رہا نجات پا گیا‘‘ (بخاری)۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ چپ سادھ لیں اور صرف کانوں کا استعمال کریں۔ اس کا واضح مفہوم قرآن کی اس آیت کی تشریح ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ وَلْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا (النسآئ۴:۹) یعنی حق بات کہنا۔
زمین پر ہونے والے بہت سے فسادات کی جڑ زبان ہی ہوتی ہے۔ زبان کے استعمال ہی سے ایک شخص دائرۂ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور اسی کے غلط استعمال سے کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ صحیح استعمال کے نتیجے میں ذمہ داری کا اقرار کرکے رشتۂ نکاح میں جڑ جاتا ہے اور غیرضروری اور نامناسب استعمال کر کے رشتے کے ٹوٹنے تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک قوم دوسری قوم کے خلاف تمسخر اور بے عزتی کی باتیں کرتی ہے تو بعض اوقات نوبت جنگ تک آجاتی ہے۔ اسی کا صحیح استعمال دلوں کو جوڑتا ہے، رشتوں کا احترام سکھاتا ہے، معاشرے میں محبت اور امن پیدا کرتا ہے۔ ایک بھائی کو دوسرے بھائی سے یوں وابستہ کردیتا ہے جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہو۔
اسی بنا پر نبی کریمؐ کا ارشاد ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔ زبان سے ایسی بات نکالنا جس سے اللہ کے بندوں کو تکلیف ہو، دعوت کے مقاصد کے منافی ہے لیکن ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، حق کا اظہار کرنا، دین کی دعوت دینے کے لیے موعظۂ حسنہ کا اختیار کرنا، حکمت کے ساتھ اپنی بات کا سمجھانا، ایک مومن اور تحریکی کارکن کے لیے فریضے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی بات دل میں اُترنے والی ہونی چاہیے، نہ کہ انسانوں کو دُور کرنے والی۔
برادرم مولانا امیر الدین مہر نے اس موضوع پر ایک کتاب گفتگو کا سلیقہ کے نام سے تحریر کی ہے، اس کا مطالعہ بھی مفید رہے گا۔(ڈاکٹر انیس احمد)
س : صدقے کا مفہوم کیا ہے؟ اگر اسلامی لٹریچر کی اشاعت اور ترسیل کے لیے رقم خرچ کی جائے تو کیایہ بھی صدقہ یا صدقۂ جاریہ ہوگا؟وضاحت فرما دیں۔
ج: ’صدقہ‘ کسی انسان اور کسی مسلمان کی حاجت کو پورا کرنے کا نام ہے، چاہے وہ مال کی شکل میں ہو یا کسی بھی طرح کی اعانت کی صورت میں۔ جب کوئی شخص اپنا مال تعلیم و تبلیغ میں خرچ کرتا ہے تو وہ صدقہ کرتا ہے۔ جس طرح بھوکے کو کھانا کھلانے، پیاسے کو پانی پلانے، بے لباس کو لباس دینے میں صرف کرنا صدقہ ہے، اسی طرح انسانی ہدایت اور دعوت کی مد میں توسیع و اشاعت لٹریچر کے لیے صرف کرنا بھی صدقہ ہے۔ ہدایت انسان کی ضرورت ہے، بلکہ تمام ضروریات سے بڑی ضرورت ہے۔ انسان ہدایت سے محروم ہو تو اس کی آخرت برباد ہوتی ہے جو دائمی زندگی ہے۔ اس لیے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاے علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیاے علیہم السلام نے تکلیفیں برداشت کیں، مصیبتیں جھیلیں، دعوت و تبلیغ اور جہاد میں زندگیاں صرف کردیں، انسانوں پر سب سے زیادہ رحمت ان کے ذریعے ہوئی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے اپنی رحمت قرار دیا۔ اسلام کے غلبے نے بدامنی کی جگہ امن، بھوک وافلاس کی جگہ مال و دولت کی فراوانی اور ذہنی افلاس کی جگہ علمی بلندی عطا کی۔ دس بیس بھوکوں کوکھانا کھلانے کا اتنا فائدہ نہیں جتنا چند گمراہ لوگوں کو ہدایت دینے سے ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا: ’’تیرے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو ہدایت دے دے تو یہ تیرے لیے سرخ اُونٹوں سے بہتر ہے‘‘۔(بخاری)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی فوت ہوجائے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین کام جاری رہتے ہیں۔ صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے (مسلم)۔لٹریچر میں مال خرچ کرنا، مالی صدقۂ جاریہ بھی ہے اور علمی صدقۂ جاریہ بھی۔ اس لیے دوہرے اجرکا موجب ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا ایسا عمل اور نیکیاں جو اس کی موت کے بعد اسے پہنچتی ہیں، یہ ہیں: علم جس کی تعلیم دی اور اسے پھیلایا، نیک اولاد، قرآن جو وراثت میں چھوڑا، مسجد جسے تعمیر کیا تھا ،یا گھرجو مسافروں کے لیے تعمیر کیا تھا، یا نہر چلا دی تھی، یا صدقہ جس کے لیے زندگی میں صحت کی حالت میں مال نکالا تھا۔ یہ چیزیں اس کی موت کے بعد بھی اسے پہنچتی ہیں (ابن ماجہ)۔ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی ہر حاجت پورا کرنے اور ایسا کام کرنے جس سے انسانوں اور مسلمانوں کو نفع ہو، صدقہ قرار دیا ہے۔
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یارسول اللہ! مال دار لوگ سارا اجر لے گئے۔ وہ نمازیں پڑھتے ہیں جس طرح ہم نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں اور اپنے زائد مال کو صدقہ کرتے ہیں (اس طرح ان کا کام بڑھ گیا)۔ آپؐ نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے تمھیں موقع نہیں دیا کہ صدقہ کرو۔ ہر تسبیح صدقہ ہے (تسبیح کا فائدہ خود تسبیح کرنے والے اور دوسرے لوگوں کو پہنچتا ہے)، ہر تحمید صدقہ ہے، ہر لا الٰہ الا اللہ صدقہ ہے، بھلائی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ بیوی کے پاس جانا بھی صدقہ ہے (کہ گناہ سے بچ گیا، جس کا اسے اور معاشرے کو فائدہ پہنچا)۔
صحابہؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! ایک آدمی اپنی شہوت کی تسکین کا سامان کرتا ہے تو اس میں بھی صدقہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا: بتلائو اگر وہ اپنی شہوت کی تسکین ناجائز راستے سے کرتا تو اسے گناہ نہ ہوتا؟ فرمایا: کیوں نہیں؟ آپؐ نے فرمایا: اسی طرح صحیح راستے سے تسکین کرنے کا ثواب ہے۔ (مسلم)
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے: کُلُّ مَـعْرُوْفٍ صَـدَقَـۃٌ ، ’’ہر بھلائی صدقہ ہے‘‘ (مسلم)۔ ابن عمرؓ سے روایت ہے: مَنْ کَانَ لَـہٗ مَالٌ فَلْیَتَصَدَّقْ مِنْ مَّالِـہٖ وَمَنْ کَانَ لَـہٗ قُوَّۃٌ فَلْیَتَصَدَّقْ مِن قُوَّتِـہٖ وَمَنْ لَّـہٗ عِلْمٌ فَلْیَتَصَدَّقْ مِنْ عِلْمِہٖ (ابن مردویہ بحوالہ جامع العلوم والحکم شرح جوامع الکلم)’’جس کے پاس مال ہے وہ اس کا صدقہ کرے، جس کے پاس قوت ہے وہ قوت کا، اور جس کے پاس علم ہے وہ علم کا صدقہ کرے‘‘۔ حضرت حسن بصری کی مرسل روایت جس کو ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے: وَ اِنَّ مِنَ الصَّدَقَۃِ اَنْ تُـسْلِمَ عَلَی النَّاسِ وَاَنْتَ طَلِیْقُ الْوَجْہِ (شرح جوامع الکلم) ’’لوگوں کو خندہ پیشانی سے سلام کرنا صدقہ ہے‘‘۔ اس حدیث کی سندمیں اگرچہ کچھ ضعف ہے لیکن مسلم کی صحیح روایت کہ ’’ہربھلائی صدقہ ہے‘‘ جامع ہے جو اس حدیث کے مضمون پر بھی حاوی ہے اور اس مضمون کی دوسری بہت سی احادیث بھی ہیں۔ اس لیے یہ روایت بھی معتبر شمار ہوگی۔ ترمذی میں حضرت ابوذرؓ کی اسی روایت میں یہ بھی اضافہ ہے: ’’جنگل و بیابان میں ناواقف کو راستہ بتلا دینا بھی صدقہ ہے‘‘۔
ان احادیث سے یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے کہ تعلیم دینا، رہنمائی کرنا، بھلائی کا حکم کرنا، منکر سے روکنا صدقہ ہے۔ پس جو آدمی لٹریچر کے ذریعے خلقِ خدا کی تعلیم و تربیت، رہنمائی، غلبۂ اسلام کی کوشش کرے گا وہ صدقۂ جاریہ میں مال خرچ کرے گا۔ اسے مال خرچ کرنے کا ثواب بھی ملے گا کہ یہ مالی صدقہ ہے، اور تعلیم و رہنمائی کا اجر بھی ملے گا کہ یہ بھی صدقہ ہے۔ واللّٰہ اعلم!(مولانا عبدالمالک)
س : میرے زرعی رقبے میں ٹیلی فون ٹاور نصب ہوا ہے، شاید اس پر بھی زکوٰۃ ہو، مگر مجھے علم نہیں کہ اس پر زکوٰۃ کیسے ادا ہوگی؟ معاہدہ اس طرح ہوا ہے ۷۲ہزار سالانہ اور ہرسال ۶ فی صد اضافہ ہوگا اور اس میں اپنا خرچ اور گورنمنٹ کا ٹیکس وہ کاٹ لیں گے۔ اس دفعہ انھوں نے کٹوتی کے بعد۷۲ ہزار کے بجاے ۶۸ہزار روپے دیے ہیں۔ سردست میں مقروض بھی ہوں۔ اسی طرح دکانوں اور مکانوں کا کرایہ، یا ایسے پلاٹ جو بغرضِ کاروبار خریدے گئے ہوں، ان پر کب اور کس طرح زکوٰۃ ادا کی جائے؟
ج : ٹاور پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ اس سے آپ کو جو رقم ملے، اگر قرض سے زائد ہو تو اس پر زکوٰۃ دے دیں بشرطیکہ کرایے کی رقم قرض کی ادایگی کے بعد اس قدر زیادہ ہو کہ اس پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہو، یا مزید رقم جو آپ کے پاس بچی ہوئی ہو اُسے بھی ساتھ ملا دیا جائے، اور اگر مجموعی رقم پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہو تو ایسی صورت میں زکوٰۃ دی جائے گی۔ پلاٹوں کی سال بہ سال قیمت لگائی جائے اور پس انداز کی ہوئی رقم کے ساتھ ملا کر اس کی زکوٰۃ بھی ادا کی جائے۔(ع-م)
اُردو شعرا نے عام طور پر حصولِ برکت کے طور پر حمد باری تعالیٰ کو اپنے مجموعوں اور کلیات کی زینت بنایا ہے۔ اسی طرح نثر کی بعض کتابوں میں بھی اسے ذریعۂ خیروبرکت سمجھتے ہوئے شامل کیا گیا ہے۔ مجموعی نظر ڈالی جائے تو اُردو شاعری میں حمدیہ مجموعے انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ یہ مجموعہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت عمدہ کوشش کی ہے جو اُردو شاعری میں کئی لحاظ سے اہم قرار دی جاسکتی ہے۔ جناب مسلم کو ہندی، فارسی اور عربی زبانوں پر جو دسترس حاصل ہے اور جس خوب صورتی سے وہ مذکورہ زبانوں کے الفاظ کو نگینوں کی طرح جڑتے ہیں ان پر آتش کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا
حمد لکھنا بھی نعت کی طرح آسان نہیں،نعت نگار کو دو دھاری تلوار پر چلنا پڑتا ہے۔ جناب مسلم نے صراط مستقیم پر چلتے ہوئے قرآن و حدیث کو سامنے رکھا ہے اور اسی کی بدولت ان کا قلم کہیں ڈگمگانے نہیں پایا۔
اس حمدیہ مجموعے میں ڈاکٹر ریاض مجید کا مقالہ شامل ہے، اس سے نہ صرف اس صنفِ شاعری کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم ہوتی ہیں بلکہ اس سے ع س مسلم کی اس صنف سے دل چسپی اور خاص طور پر علم عروض پر ان کی گرفت کی پختگی بھی سامنے آتی ہے۔ انھوں نے اس مجموعے میں بعض نئی تراکیب وضع بھی کی ہیں۔ مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے نہ صرف حمد کہنے کی تحریک دلائی ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے، بلکہ اس کا ایک عمدہ نمونہ بھی ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ (محمد ایوب لِلّٰہ)
زیرتبصرہ کتاب السیرۃ النبویۃ کا اُردوترجمہ ہے، جس میں حضور اکرمؐ کی نبوی حیثیت کو نمایاں کرتے ہوئے مغربی فکری گمراہیوںکی تردید کی گئی ہے۔ ڈاکٹر محمدسعید رمضان البوطی شام کے مشہور عالم دین ہیں اور عصری مسائل کو دینی نقطۂ نظر سے جدید عام فہم اسلوبِ بیان میں پیش کرنے کی خداداد صلاحیت کے مالک ہیں۔
کتاب میں حیات النبی کے درخشاں واقعات کو اگرچہ روایتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنف کا زیادہ زور مستشرقین اوران کے ہم فکر مشرقی اہلِ علم کی ان گمراہ کن آرا کی تردید پر ہے، کہ جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حضور اکرمؐ صرف ایک مصلح انسان تھے۔ مصنف نے کتاب کے تمہیدی مباحث میں تاریخ نویسی کے اسلامی اسلوب کو واضح کرتے ہوئے تاریخ نگاری کے جدید نقطۂ نظر پر فاضلانہ بحث کی ہے اور مغربی فکر کے جدید اسلوب تجزیہ و تحلیل کی تردید کی ہے، جس میں حیات النبیؐ کے واقعات کو اس لیے شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ ان کی عقلی توجیہہ نہیں ہوتی اور یہ واقعات جدید سائنسی اصولوں پرپورے نہیں اُترتے (ص ۴۸)۔ اس طرزِ فکر کی مثال دیتے ہوئے مصنف نے محمدحسین ہیکل کا یہ دعویٰ پیش ہے: ’’میں اپنی اس کتاب میں سیرت اور حدیث کی کتابوں کا پابند نہیں ہوں، بلکہ میں نے بہتر سمجھا کہ اسے علمی انداز میں پیش کروں‘‘۔ (ص ۴۹)
کتاب میں اس نقطۂ نظر کی تردید کی گئی ہے۔اعتراضات کے جواب میں مصنف کا استدلالی اسلوبِ بیان، عالمانہ اور عام فہم ہے۔ عبارت سادہ اور لفظی و معنوی الجھائو سے پاک ہے۔ اُردو زبان میں اس انداز کی سیرت نگاری کا رواج ابھی عام نہیں ہوا۔ مترجم نے عربی سے اُردو ترجمہ مہارت سے کیا ہے۔ (ظفرحجازی)
زیرنظر کتاب سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگہی کے لیے ایک منفرد کاوش ہے۔ بنیادی طور پر یہ امام بغویؒ کی عربی تالیف الانوار فی شمائل نبی المختار کا ترجمہ ہے۔ مؤلف نے سیرت کے روایتی اسلوب سے ہٹتے ہوئے سیرت و سوانح کے واقعات کو ایک ترتیب سے بیان کرنے کے بجاے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی سیرت اور آداب و شمائل کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کیا ہے، اور روز مرہ زندگی میں اسوئہ حسنہ سے عملی راہ نمائی دی ہے۔
ایک ہزار سے زائد احادیث کے اس مطالعے کو مختلف ابواب کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ نبی کریمؐ کے معجزات اور منفرد اوصاف و شمائل، آپؐ کا سراپا، رہن سہن، لباس، کھانا پینا اور اخلاقِ عالیہ اور طہارت و نظافت کا دل آویز تذکرہ ہے۔ اسلامی معاشرت اور ازدواجی زندگی کے پہلو کو بھی جامع انداز میں سمویا گیا ہے۔ ’ادعیۂ ماثورہ‘ کے تحت نبی کریمؐ کی دعائوں کا عمدہ انتخاب ہے جسے روزمرہ معمول بنانا حبِ رسولؐ کے ساتھ ساتھ خیروبرکت کا باعث بھی ہوگا۔ نبی کریمؐ کے مرض الموت اور رفیقِ اعلیٰ کو لبیک کہنا، زندگی کے آخری لمحات اور تدفین کے مناظر اشک بار کردیتے ہیں۔ آخری باب احیاے سنت، اتباع رسولؐ اور محبت مصطفی کے لیے راہ نمائی اور اسوہ پر مبنی ہے اور دعوتِ عمل دیتا ہے۔
نبی کریمؐ کی سیرت کا نمایاں ترین پہلو دعوت اور احیاے اسلام کی جدوجہد ہے، جسے ایک باب کے تحت بیان کیا جاتا تو بہت اچھا ہوتا۔ اس پہلو سے تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ تخریج کے ذریعے احادیث کی صحت و ضعف، حوالوں اور اعراب کے خصوصی اہتمام سے کتاب کی افادیت دوچند ہوگئی ہے۔ ترجمے کااسلوب دل نشیں اور عام فہم ہے۔ اپنے موضوع پر ایک مفید علمی اضافہ ہے۔ (امجد عباسی)
مشاہیرِاسلام یا اکابرِاُمت (بالخصوص محدثین اور علما و فقہا) کی سوانح نگاری فاضل مصنف کا خاص موضوع ہے۔ زیرنظر کتاب میں انھوں نے اُن ۱۰ نفوسِ قُدسی کے سوانح حیات کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے جن کو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے کر جنت کی بشارت دی تھی، یعنی حضرت ابوبکرصدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی مرتضیٰ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح، حضرت زبیر بن العوام، حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت سعید بن زید اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔
دراصل قرآن حکیم میں عمومی طور پر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سبھی صحابۂ کرامؓ کو جنت کا حق دار ٹھیرایا ہے (التوبہ ۹:۱۰۰، الانفال ۸:۷۴-۷۵) لیکن ان صحابہ میں ایک ایسی جماعت بھی تھی جو اپنی مہتم بالشان دینی خدمات، اپنے غیرمعمولی فضائل و مناقب اور بارگاہِ رسالت میں تقرب کی بنا پر خصوصی اہمیت اور مرتبے کی حامل تھی۔ اصحابِ عشرہ مبشرہ اسی مقدس جماعت کے معزز ارکان تھے۔ فاضل مؤلف نے ان بزرگوں کے سوانح حیات مستند حوالوں کے ساتھ بڑی تفصیل سے قلم بند کیے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے جو عرق ریزی اور تحقیق کی ہے، وہ لائقِ تحسین و ستایش ہے۔ ان کا اسلوبِ نگارش محققانہ ہونے کے ساتھ بہت سادہ، دل کش اور عام فہم ہے۔ اس سے پہلے اس موضوع پر دو تین اور کتابیں بھی ہماری نظر سے گزر چکی ہیں۔ یہ کتاب ان میں قابلِ قدر اضافہ ہے۔ کتاب میں کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں کھٹکتی ہیں (طالب ہاشمی)۔ [۱۶فروری ۲۰۰۸ء کو رحلت فرما گئے، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔آمین]
مغربی تہذیب کا طاقت ور مظہر سیکولرزم، ایک کثیرجہتی یلغار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وہی سیکولرزم جسے ڈاکٹر انیس احمد اپنے فاضلانہ تعارفی مضمون میں: ’ایک جعلی (pseudo) مذہب‘ (ص ۱-۲۰) قرار دیتے ہیں۔ اس لامذہبی کے مذہب نے خصوصاً اسلام کے خلاف انتہادرجے کا متعصبانہ رویہ اختیار کیا ہے، جس میں یہودیت، نصرانیت اور ہندومت ایک دوسرے کے اتحادی نظر آتے ہیں۔
عہدحاضر میں نام نہاد ’تہذیبی تصادم‘ (جو درحقیقت یک طرفہ مغربی، عسکری، معاشی، مذہبی، سماجی اور فکری یلغار ہے) کے احوال کو موجودہ عہد کے عظیم اسلامی مفکر سیدابوالاعلیٰ مودودی، ہر پہلو سے زیربحث لائے ہیں۔ انھوں نے دلیل، دانش، انصاف اورمنطق سے اس مسئلے کی اخلاقی و انسانی بنیادوں کو واضح کیا ہے۔ اگرچہ مولانا مودودی،مغربی تہذیب کے خودغرضانہ، لادینی اور اباحیت پسندانہ پہلوئوں کو موضوع بحث بناتے ہیں، لیکن وہ مغربی تہذیب کی ان ترقیات و مقدمات کا بھی کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں، جنھوں نے انسانی فلاح کے لیے کئی حیرت انگیز کارنامے انجام دیے ہیں۔ تاہم وہ برملا یہ بات واضح کرتے ہیں، کہ جب انسان آخرت کی جواب دہی کے احساس سے عاری ہوجاتا ہے تو پھر اس کے بہت سے تعمیری ارادوں پر بھی حیوانی جبلت غلبہ حاصل کرلیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیب مغرب کے نزدیک برتری کی معراج کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے والا ہی فاتح عالم ہے۔ گذشتہ دو صدیوں کے دوران میں مغرب پر اسی حیوانی جبلت کا پھریرا لہرا رہا ہے۔
کتاب کے پیش لفظ میں پروفیسر خورشیداحمد نے بتایا ہے: ’’ان مضامین میں مولانا مودودی نے مغرب کے اس تصور کا تجزیہ کیا ہے، جس کے تحت وہ معاشرے میں مذہب اور الہامی رہنمائی کو چیلنج کرتا ہے‘‘ (ص xi )۔ مولانا مودودی نے ایک جگہ لکھا ہے: ’’[مغربی تہذیب نے] نظام زندگی کے ہرشعبے سے مذہب کو عملاً بے دخل کردیا، اور اس کا دائرہ صرف شخصی عقیدہ و عمل تک محدود کرکے رکھ دیا۔ یہ بات تہذیب مغرب کے اصولوں میں داخل ہوگئی کہ مذہب کو سیاست، معیشت، اخلاق، قانون، علم فن، غرض اجتماعی زندگی کے کسی شعبے میں دخل دینے کا حق نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ
اس تہذیب کے رگ رگ میں خدا بیزاری اور لامذہبیت (سیکولرزم) کی ذہنیت پیوست ہوگئی ہے (اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات، ص ۴۳۷-۴۳۸)۔ مغربی تہذیب کے تجزیاتی مطالعے کے لیے مولانا مودودی نے ردعمل کا شکار ہونے کے بجاے توانا لہجے، مضبوط قلم، روشن ذہن اور کھلے ضمیر سے انسانوں کے دلوں پر دستک دی۔ معروف ترقی پسند دانش ور فیض احمدفیض نے درست کہا تھا: ’’تہذیب مغرب پر تنقید کے حوالے سے دیگر علما کے مقابلے میں سیدمودودی کا نقطۂ نظر زیادہ معتدل ہے۔ وہ اکثر و بیش تر استدلال عقلی توجیہہ سے کرتے ہیں، محض روایتی طریقے سے نہیں۔ انھوں نے تہذیب مغرب پر جذباتی انداز سے نہیں بلکہ غیرجذباتی اوراستدلالی انداز سے تنقید کی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ اس تہذیب کا ایک مرکزی ستون سیکولرزم ہے۔
فاضل مرتب و مترجم طارق جان نے مولانا مودودی کی دو معرکہ آرا کتب تنقیحات اور تفہیمات سے آٹھ مضامین کو منتخب کیا ہے۔ یہ انتخاب قابلِ داد ہے اور تدوین و ترجمے کا معیار اور اسلوب قابلِ رشک ہے۔ مرتب نے نہ صرف مولانا مودودی کی ان سدابہار تحریروں کا شُستہ اور رواں انگریزی ترجمہ کیا ہے، بلکہ مولانا مودودی کے استدلال اور مقدمے کی تائید کے لیے، اپنے حواشی میں ڈھائی سوسالہ انگریزی لٹریچر کو کھنگال کر مغربی دانش ور اور فلسفیوں کی تحریروں سے قیمتی حوالے پیش کیے ہیں۔ یہ تائید مزید مولانامودودی کی تنقید مغرب کی مؤثر معاونت کرتی ہے۔ مولانامودودی کے رفقا میں سے پروفیسر عبدالحمید صدیقی، خرم مراد اور پروفیسر خورشیداحمد نے تہذیب مغرب کے مطالعہ و تحقیق کی جس روایت میں کارہاے نمایاں انجام دیے ہیں، آج طارق جان نے اسی سلسلۃ الذہب کے ایک قابلِ ذکر دانش ور کی حیثیت سے یہ قیمتی خدمت انجام دی ہے۔
اسلام اینڈ دی سیکولر مائنڈ علمی، فکری، سماجی، تاریخی اور فلسفیانہ حوالے سے خاصے کی چیز ہے جس میں مولانا مودودی نے: ’’ذہنی غلامی، الٰہی اور لادینی قانون،اسلام پہ ’نظرثانی‘، عقل پرستی کے زعم، ڈاوینی ارتقا، مغربی تہذیب کو درپیش چیلنج وغیرہ کوموضوع بحث بنایا ہے۔ اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے فی الواقع اسے شایانِ شان طریقے سے شائع کیا ہے۔ عالمی سطح پر تو اس کتاب کی پذیرائی ہوگی ہی، لیکن خود پاکستان کے سیکولر دانش وروں تک اس کتاب کا پہنچایا جانا وقت کی ضرورت ہے۔ (سلیم منصور خالد)
مسلمان اور سائنس، سراج الدین ندوی۔ ناشر: ملت اکیڈیمی، ۲۳۳-سی، ابوالفضل انکلیو، ۱۱-شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی۔ صفحات: ۴۲۴۔ قیمت: ۱۴۰ بھارتی روپے۔
زیرنظر کتاب میں ۲۶۵ سائنس دانوں کے کوائف، خاندانی پس منظر ،ان کے کارنامے کسی قدر ان کے اور اس دور کی عمومی کیفیات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں موجودہ دور کے مسلمان سائنس دانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
مصنف نے مسلمان سائنس دانوں کی تصانیف کے بارے میں بہت اہم معلومات فراہم کی ہیں، یعنی یہ کہ وہ اب کہاں ہیں، یا کہاں طبع ہوئی ہیں جیسے حجاج بن مطر کی اقلیدس کو کوپن ہیگن میں،یا طبی انسائی کلوپیڈیا فردوس الحکمت، عربی کے علاوہ سریانی میں لکھی گئی اور اب اوکسفرڈ یونی ورسٹی کے کتب خانے میں محفوظ ہے۔
زیرنظر کتاب سے پتا چلتا ہے کہ ڈٹمار نے ۱۸۸۴ء میں ایک اہم تحقیق کے بعد سمندری پانی میں حل شدہ نمکیات کی تفصیل فراہم کی مگر ثابت بن قرۃ دانی نے سمندری پانی کے نمکین ہونے کے اسباب کا تذکرہ بہت پہلے کیا تھا۔ اسی طرح زلزلے کے اسباب، زمین کے قطر کا درست تعین، سیلاب روکنے کے آلات وغیرہ ایسی تمام تفصیلات کتاب کے آخری باب ’اہم ایجادات و انکشافات ایک نظر میں‘ میں فراہم کردیے گئے ہیں۔
یہ بات کلی طور پر درست نہیں ہے کہ ’ترقی یافتہ اقوام کے اہلِ علم، اسپین کی اسلامی جامعات میں تعلیم حاصل کر کے مسلمانوں کے ورثے کواپنے ساتھ لے گئے اور سائنس کی اوجِ ثریا تک پہنچے۔ انھوں نے مسلمانوں کی ایجادات و انکشافات کو اپنی جانب منسوب کر کے مسلمان سائنس دانوں کی کاوشوں کا سہرا بھی اپنے سر باندھ لیا۔ جارج سارٹن کی تصانیف، یا ۱۵ جلدوں میں شائع ہونے والی اے ڈکشنری آف سائنٹفک بابو گرافیز میں مسلمان سائنس دانوں کی تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔ جابر بن حیان کو باباے کیمیا، ابن الہیثم کو باباے بصریات کا خطاب اہلِ مغرب ہی نے دیا تھا۔
سراج الدین ندوی نے نہایت محنت سے ایجادات کی تصاویر اور خود سائنس دانوں کی تصاویر حاصل کر کے شائع کی ہیں جو آیندہ کام کرنے والوں کے لیے ابتدائی مآخذ کا کام انجام دیں گی۔ پوری کتاب میں بہت سے دل چسپ اور عبرت ناک واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں جو کتاب کی افادیت میں اضافے کا سبب بنے۔ (ڈاکٹر وقار احمد زبیری)
محترم نعیم صدیقی کا جاری کردہ سیارہ گاہے بگاہے بعض ادبی رسالوں کی ضخیم اشاعتوں کی یاد دلاتا ہوا شائع ہوتا رہتا ہے۔ اسے پاکستان میں ادب اسلامی سے وابستہ اہلِ قلم کا نمایندہ رسالہ کہا جاسکتا ہے۔ اس اشاعت خاص میں حمدیہ اور نعتیہ کلام، مضامین، نظموں اور افسانوں کے ساتھ ایک خصوصی گوشہ بیاد اقبال ہے، اور دوسرا گوشۂ خاص بھارت کے مشہور دانش ور اور ادبی نقّاد ڈاکٹر عبدالمغنی کی یاد میں مرتب کیا گیا ہے۔ ۳۶ کتب پر تبصرہ لکھا گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ یہ رسالہ عام ادیبوں اور طلبہ اور طالبات کے مطالعے میں آئے، چند مخصوص لوگوں تک محدود نہ رہے۔(مسلم سجاد)
’کلام نبویؐ کی کرنیں‘ اور ’قناعت‘ (فروری ۲۰۰۸ئ) مؤثر تحریریں ہیں اور ذاتی اصلاح پر اُبھارتی ہیں۔ محترم عبدالغفار نے غزہ کو دورِحاضر کا ’شعب ابی طالب‘ قرار دے کر فلسطینی بھائیوں پر توڑے جانے والے مظالم، مصیبتوں اور آزمایش کی صحیح ترجمانی کی ہے۔
’نائن الیون: پردہ اُٹھ رہا ہے!‘(فروری ۲۰۰۸ئ) کے ضمن میں آپ کے قارئین کے لیے یہ امر دل چسپی کا باعث ہوگا کہ انھی دنوں جاپانی پارلیمنٹ میں اسی موضوع پر ایک چشم کشا مباحثہ ہوا جسے ساری دنیا نے سرکاری چینل این ایچ پر دیکھا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن یوکی ہی سافوتیجا نے وزیراعظم سے چبھتے ہوئے سوال کیے، پینٹاگون کی تصاویر دکھا کر بتایا کہ جہاز کے ٹکرانے سے نسبتاً بہت چھوٹا سوراخ ہوا، جب کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ سامنے کے لان میں جہاز کاکوئی ٹکڑا بھی نہیں ہے۔ یہ تصویر موقع پر موجودہ فائرمین نے کھینچی تھی۔ انھوں نے امریکی ایئرفورس کے ایک افسرکا یہ تبصرہ بھی دکھایا کہ میں نہیں مان سکتا کہ جو شخص پہلی بار ان جہازوں کو اڑا رہا ہو وہ ایسی کارروائی کیسے کرسکتا ہے۔ پینٹاگون میں ۸۰ سے زائد سکیورٹی کیمرے نصب ہیں مگر جہاز کے ملبے کی کوئی بھی تصویر دستیاب نہیں ہے۔ فوتیجا نے ایک فائرمین اور جاپانی ریسرچ ٹیم کے انٹرویو بھی پیش کیے جن کے مطابق عمارت بم دھماکوں سے اڑائی گئی ہے، جہاز ٹکرانے سے عمارت کا اس طرح گرنا ممکن نہیں (تفصیل کے لیے دیکھیے ویب سائٹ: truthnews.us/?p=1705)۔ اس طرح انھوں نے امریکی حکمرانوں کی بدنیتی اور حقائق چھپانے کی روش واضح کی۔ ممبران کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکی فوج کو تیل فراہم کرنے کے بجاے اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ افغان عوام امن کے ساتھ اور پریشانیوں سے محفوظ رہتے ہوئے زندگی بسر کرسکیں۔ کیا اب بھی وار آن ٹیرر میں شرکت کا کوئی جواز ہے؟
’احتجاج اور ردّعمل کا غیرمتوازن اظہار‘ (فروری ۲۰۰۸ئ) میں بجاطور پر توجہ دلائی گئی ہے کہ بے نظیر بھٹو کے سانحے کے بعد بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ، جلائوگھیرائو اور لوٹ مار ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تھی اور حکومت کو اس سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا، جب کہ انھیں متوقع ردّعمل کا اندازہ بھی تھا۔ معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کا تقاضا ہے کہ وسیع پیمانے پر اصلاح اخلاق اور رجوع الی اللہ کی مہم چلائی جائے۔
’انسانی وسائل کی ترقی‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) اُمت کی ضرورت، وقت کا تقاضا اور اہلِ علم کو غوروفکر کی دعوت ہے۔ کتنے ہی علوم اور مضامین ایسے ہیں جنھیں جدید دنیا کے علوم وفنون اور انکشافات سے بیان کیا جاتا ہے، جب کہ اسلام میں یہی مضامین کہیں تفصیل سے، کہیں اشارے و کنایے سے اور کہیں وضاحت و شرح سے بیان کیے گئے ہیں، البتہ زبان و الفاظ اور اصطلاحات مختلف ہیں۔
ڈی این اے پر مضمون (جنوری ۲۰۰۸ئ) رسالے میں آنا اور اس کا عام کرنا قابلِ ستایش ہے۔ یہ مضمون بڑا چشم کشا اور معلوماتی ہے۔ اس کے مطالعے کے بعد تقدیر کا مسئلہ خودبخود حل ہوجاتا ہے اور بہت سی پیچیدگیاں سلجھ جاتی ہیں۔ایسے معرکہ آرا مضامین شائع کرنے پر مبارک باد دینے کو جی چاہتا ہے۔
’چہرے نہیں نظام بدلیں‘ (جنوری ۲۰۰۸ئ) پڑھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے مولانا مودودی نے موجودہ دور کے لیے ہی لکھا ہے۔ بلاشبہہ اس نظام کے بدلنے کی سعی لازم ہے لیکن طریقۂ کار سمجھ میں نہیں آتا۔ کیا ’انتخابی تماشا‘ میں شرکت کرکے اور اسمبلیوں تک پہنچ کر کچھ کرسکتے ہیں، یا بائیکاٹ کرکے اِس باطل نظام کو ختم کرسکتے ہیں؟ پوری قوم پریشان ہے۔
’وفاقی شرعی عدالت کا ایک تاریخی فیصلہ‘ اور ’نظریۂ ضرورت: قانون اور انصاف کا خون‘ (جنوری ۲۰۰۸ئ) جیسے مضامین عام آدمی کے علم میں اضافے کا موجب ہیں۔ ایسی باتیں اُمید دلاتی ہیں کہ کہیں روشنی بھی ہے، اتنی مایوسی نہیں۔ ’ڈی این اے، تخلیق الٰہی کا کرشمہ‘ نے تو جیسے ایمان ہی تازہ کردیا۔
نام ور مغربی سائنس دان (جنوری ۲۰۰۸ئ) پر تبصرہ نظر سے گزرا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایجادات اور کلیات کو حل کرنے کا سہرا صرف مغربی سائنس دانوں کے ہی سر نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے مسلمان سائنس دان یہ کرچکے ہیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ سائنس ایک مشترکہ میراث انسانیت ہونے کے سبب مسلمان اپنی ان علمی کاوشوں کے ہوتے ہوئے دُور کیوں ہوگئے؟ اس کا ایک سبب یہی ہے کہ مسلمان حکومتوں نے ناانصافی، ظلم و تعدی کا بازار گرم کیا اور اغیار ہم پر قابض ہوگئے۔ آج بھی ظلم وستم اور اہلِ علم کی بے توقیری کی روش عام ہے۔ اگر ہم نے ایک مسلم سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر کو پروان چڑھایا ہے تو اس پر ظلم وستم ڈھا کر اس کی زندگی کو ہی اجیرن بنادیا گیا ہے۔ کیا اسی کا نام علم دوستی ہے!
۱- اسلام موجودہ زمانے کی جمہوریت سے سیکڑوں برس پہلے عورتوں کے حق راے دہی کوتسلیم کرچکاہے۔ اسلامی حکومت میں ہر بالغ عورت کو ووٹ کا حق اسی طرح حاصل ہوگا جس طرح ہربالغ مرد کو یہ حق دیاجائے گا۔
۲- اسلام عورتوں کو وراثت اورمال وجایداد کی ملکیت کے پورے پورے حقوق دیتا ہے۔ ان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے روپے کو تجارت و صنعت میں لگائیں اور اس سے جو نفع ہو، اس کی بلاشرکت غیرے مالک ہوں، بلکہ اگر ان کے پاس وقت بچتا ہو تو ان کو اس کا بھی حق ہے کہ بطور خود کوئی کاروبار یا کوئی محنت مزدوری کریں۔ اس کی آمدنی کی ملکیت پوری طرح انھی کو حاصل ہوگی۔ ان کے شوہروں اور باپوں کو ان کے املاک پر کسی قسم کے اختیارات ازروے شرع حاصل نہیں ہیں۔
۳- اسلامی حکومت میں یہ ناقص ازدواجی قانون، جو انگریزی دور میں یہاںرائج رہا ہے اور جس نے بہت سی مسلمان عورتوں کے لیے دنیا کی زندگی کو دوزخ کی زندگی بنا رکھا ہے، بدل دیا جائے گا اور اسلام کا حقیقی قانون ازدواج جاری کیا جائے گا جو عورتوں کے حقوق اور مفاد کی پوری حفاظت کرتا ہے۔
۴- اسلامی حکومت میں عورتوںکو تعلیم سے محروم نہیں رکھا جائے گا جیساکہ غلط فہمیاں پھیلانے والے لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے، بلکہ اُن کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم کا انتظام کیا جائے گا۔ یہ انتظام یقینا آج کل کے گرلز اسکولوں اور گرلز کالجوں کے طرز پر نہ ہوگا اور مخلوط تعلیم کے اصول پر تو ہرگز نہیں ہوگا، بلکہ اس میں اسلامی حدود کی پوری پابندی کی جائے گی مگر ہرصورت ہر شعبے میں اُونچے معیار کی زنانہ تعلیم کے انتظامات ضرور کیے جائیں گے۔
۵- ہم مسلمان عورتوں کو ضروری فوجی تعلیم دینے کا بھی انتظام کریں گے اور یہ بھی ان شاء اللہ اسلامی حدود کو باقی رکھتے ہوئے ہوگا۔ انسان درندگی کی بد سے بدتر شکلیں اختیار کر رہا ہے۔ ہمارا سابقہ ایسی ظالم طاقتوں سے ہے جنھیں انسانیت کی کسی حد کو بھی پھاند جانے میں تامل نہیں ہے۔ کل اگر خدانخواستہ کوئی جنگ پیش آجائے تو نہ معلوم کیا کیا بربریت ان سے صادر ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی عورتوں کو مدافعت کے لیے تیار کریں اور ہرمسلمان عورت اپنی جان، مال اور آبرو کی حفاظت کرنے پر قادر ہو۔انھیں اسلحے کا استعمال سیکھنا چاہیے، انھیں تیرنا آتا ہو، سواری کرسکتی ہوں، سائیکل اور موٹر چلا سکیں، فسٹ ایڈ جانتی ہوں۔ پھر وہ صرف اپنی ذاتی حفاظت ہی کی تیاری نہ کریں، بلکہ ضرورت ہو تو جنگ میں مردوں کا ہاتھ بھی بٹاسکیں۔ ہم یہ سب کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اسلامی حدود کے اندر کرنا چاہتے ہیں۔ ان حدود کو توڑ کر نہیں کرنا چاہتے۔ (’اسلام اور اس کے تقاضے‘، ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد ۳۱، عدد۳، رمضان ۱۳۶۷ھ، جولائی ۱۹۴۸ئ، ص ۲۶-۲۹)