مضامین کی فہرست


دسمبر ۲۰۰۸

والدہ کا نامناسب رویہ اور حق خدمت

سوال: میری دادی جان جب سے میرے والد صاحب کے ساتھ رہایش پذیر ہیں آج تک میری والدہ اور دادی کے درمیان کبھی بھی خوش گوار تعلقات نہیں رہے۔ پہلے صرف میری والدہ کے ساتھ ناچاقی رہتی تھی پھر ان کی اولاد یعنی ہمارے بہن بھائیوں کے ساتھ بھی معاملات خراب رکھنے لگیں۔خدا گواہ ہے کہ ہم نے کبھی آج تک دادی جان کے ساتھ نہ کوئی بدتمیزی کی اور نہ ہی کبھی ان کی کوئی چیز یا رقم وغیرہ نکالی۔ اب والدصاحب پر ڈیڑھ سال سے فالج ہوچکا ہے جس کی وجہ سے وہ محتاجی کی زندگی گزار رہے ہیں اور دوسری طرف دادی جان کی ٹانگ میں بھی ایک سال پہلے گرنے کی وجہ سے فریکچر ہوگیا تھا جس کی انتہائی شدید تکلیف تھی۔ دونوں مریضوں (والد اوردادی جان) کو میری والدہ نے انتہائی جاں فشانی سے سنبھالا جب کہ وہ خود بھی ہائی بلڈپریشر کی مریض ہیں لیکن میرے والدین کے اتنے نرم رویے کے باوجود دادی کا مزاج   ان کے لیے دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے۔ دونوں کے لیے انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتی ہیں اور بددعائیں دیتی ہیں۔

والد صاحب اپنی فالج زدہ زندگی کے ہاتھوں مجبور ہونے کے باعث کبھی کبھار دادی جان کے رویے کو دیکھ کر شدید غصے میں آجاتے ہیں۔ اس لیے اب ان کے لیے دادی جان کا گالم گلوچ اور بددعائوں والا رویہ برداشت کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ دادی جان کے مزاج سے تنگ آکر والد صاحب نے اپنی بہنوں سے کہا کہ آپ کی بھی والدہ ہیں، آپ ان کو سمجھانے کی کوشش کریں، یا پھر ہم اپنے بیٹے کے گھر چلے جاتے ہیں۔ پھوپھو دادی جان کو اپنے ہمراہ لے گئیں مگر اب دادی جان نے سب کو یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ میرے بیٹے نے اپنی بیوی کے کہنے میں آکر مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔ اب میں اپنی باقی زندگی میں کبھی وہاں واپس نہیں جائوں گی۔ والدصاحب وہاں ملنے جاتے ہیں تو دادی جان ان سے بات بھی نہیں کرتیں۔

دادی جان کے اس رویے اور ناراضی کی وجہ سے والدصاحب بہت پریشان ہیں اور رشتے دار بھی باتیںبنا رہے ہیں۔ کیاہماری پھوپھیوں پر دادی جان کی خدمت اور تیمارداری کرنا فرض نہیں یا پھر ان حالات میں بھی میرے والدین ہی اس کے مکلف ہیں، جب کہ والد صاحب تو دادی جان کی خدمت فالج کی وجہ سے نہیں کرسکتے، صرف والدہ ہی کرسکتی ہیں؟ ایسی صورت میں والدصاحب کے لیے کیا حکم ہے، جب کہ معافی مانگنے پر بھی دادی جان ابو کے گھر آنے کے لیے راضی نہیں اور نہ معاف کرنے پر ہی تیار ہیں، نیز ان کے اخراجات والدصاحب ہی اٹھاتے ہیں۔ کیا ایسی صورت میں میرے والد اور والدہ کے لیے دادی جان کی ناراضی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث تو نہیں، جب کہ والدین کی اطاعت معروف میں ہے نہ کہ منکر میں؟

جواب: یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ کے والد صاحب اور آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کی دادی صاحبہ کی بڑی مخلصانہ خدمت کی ہے، البتہ آپ کے بقول ،دادی صاحبہ اپنے مزاج کی بناپر پہلے آپ کی والدہ صاحبہ اور اب والد صاحب سے بھی ناراض ہیں اور آپ نے اس کی تفصیل بھی لکھی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ والدہ کا حق اس قدر زیادہ ہے کہ کبھی بھی آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے حق ادا کردیا ہے۔ والدین کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ھما جنتک ونارک، ’’وہ تمھاری جنت اور دوزخ ہیں‘‘، نیز جبریل ؑ نے بددعا کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر آمین فرمائی۔ پہلی بددعا یہ کہ ہلاک ہو وہ جو رمضان کو پائے اور اپنی مغفرت نہ کرائے۔ دوسری یہ کہ ہلاک ہو وہ جس کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم) اور وہ آپؐ پر درود شریف نہ پڑھے۔ تیسری یہ کہ ہلاک ہو وہ جو اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک کو بڑھاپے میں پائے اور وہ اسے جنت میں داخل نہ کردیں (بخاری)۔ پس ایسی دعا جو جبریل نے کی ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر آمین کہی ہو کسی بھی صورت ردّ نہیں ہوسکتی۔ اس لیے یہ تینوں آدمی ہلاکت سے دوچار ہوں گے۔ وہی بچ سکتا ہے جو اپنے گناہ کی تلافی کرکے اپنا بچائو کرلے۔

آپ کے نزدیک آپ کے والد صاحب اور آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کی دادی صاحبہ کی بڑی خدمت کی ہے لیکن یہ خدمت اس وقت معتبر ہوگی جب والدہ صاحبہ یعنی دادی صاحبہ بھی راضی ہوجائیں اور کہیں کہ اس کے بیٹے اور بہو، یعنی آپ کے والد اور والدہ نے ان کی خدمت کی ہے اس لیے ابھی دونوں مل کر خدمت کریں، والدہ کو راضی کریں۔ لوگوں کی باتوں کی طرف نہ دیکھیں۔ وہ آپ کے پاس واپس آجائیں یا آپ کی پھوپھی صاحبہ کے پاس رہیں، ان کی مرضی پر ہے لیکن راضی کرنا ضروری ہے۔ والدہ، یعنی دادی صاحبہ اگر سمجھتی ہیں کہ ان کے بیٹے نے ان کو اپنے گھر سے نکال دیا ہے تو والد صاحب کوشش کر کے اس تاثر کو زائل کریں۔ یہ بحث و مباحثے اور مناظرے کی بات نہیں ہے کہ پھوپھیوں پر بھی دادی کا حق ہے کہ نہیں۔ حق سب پر ہے لیکن عرف، شریعت اور دنیا کا رواج یہ ہے کہ ماں والد کے فوت ہوجانے کے بعد بیٹوں کے سپرد ہوتی ہے، بیٹیوں کے نہیں۔ آپ کے والد صاحب پر ان کی خدمت اور کفالت واجب ہے، آپ کی پھوپھیوں پر نہیں۔ ابھی آپ لوگوں نے اپنی دادی کا حقِخدمت ادا نہیں کیا اسی لیے وہ آپ کی خدمت کو تسلیم نہیں کرتیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نیکی کے نیکی ہونے اور کسی کے ساتھ نیکی کرنے نہ کرنے کا معیار بتلا دیا ہے۔ وہ یہ کہ نیکی اتنی زیادہ اور اس قدر کامل اور اس قدر مخلصانہ ہو کہ لوگ کہیں کہ اس نے نیکی کی ہے۔

ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! جب میں کسی کے ساتھ احسان کروں یا برائی کروں تو مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں نے احسان کیا ہے یا برائی کی ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا: جب آپ اپنے پڑوسیوں کو دیکھیں کہ وہ کہیں کہ آپ نے احسان کیا ہے تو پھر فی الواقع آپ نے احسان کیا ہے اور جب آپ کے پڑوسی کہیں کہ آپ نے بُرا کیا ہے تو سمجھ لیں کہ آپ نے بُرا کیا ہے۔ (ابن ماجہ، مشکوٰۃ، ج۲، ص ۴۲۴)

آپ کے والد صاحب بجا طور پر پریشان ہیں۔ وہ جس حالت میں بھی ہیں اپنی والدہ کو راضی کریں اور آپ اور آپ کی والدہ بھی اخلاص کے ساتھ اپنی آخرت سنوارنے کی خاطر ان کو راضی کریں۔ بدنامی کرنے والوں کو خوش کرنے کے بجاے والدہ کو راضی کریں تاکہ اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کی توفیق سے نوازے۔ آمین!نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماں باپ کی رضامندی اللہ کی رضامندی ہے اور ماں باپ کی ناراضی اللہ کی ناراضی ہے۔ (بحوالہ ترمذی،مشکٰوۃ)

اس کے ساتھ ساتھ دوسرا پہلو بھی پیش نظر رہے۔ وہ یہ کہ ہر طرح کی خدمت کے باوجود اگر والدہ صاحبہ محض اپنے مزاج کی وجہ سے راضی نہ ہوسکیں تو وہ بھی قصوروار ٹھیریں گی اور اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گی۔ والدہ صاحبہ کو معاملے کی اس نزاکت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ان کی ناراضی ان کے بیٹے کی آخرت برباد کرنے کا باعث بن سکتی ہے (بدسلوکی کو بھی معاف کردینا چاہیے کہ اولاد آخرت کی پکڑ سے بچ سکے)۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اندھیر نگری نہیں ہے کہ کوئی شخص بلاوجہ اپنی اولاد کی خدمت کو ٹھکرا دے تو اس سے بازپُرس نہ ہو۔ جہاں اولاد سے ماں باپ کے بارے میں سوال ہوگا، وہیں ماں باپ سے بھی اولاد کے بارے میں بازپُرس ہوگی۔ اگر والدہ صاحبہ کو یہ بات اب سمجھ میں آجائے تو بہتر ہے، اور اگر انھیں بات سمجھ میں  نہیں آتی تو پھوپھیوں اور رشتہ داروں اور برادری کو عدل و انصاف کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انھیں چاہیے کہ وہ والدہ کو سمجھائیںاور بھائی کا ساتھ دیں، اگر وہ حق پر ہیں۔ صلۂ رحمی    صرف یہ نہیں ہے کہ اولاد ماں باپ کا خیال رکھے بلکہ یہ بھی ہے کہ ماں باپ اولاد سے   شفقت سے پیش آئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت اور ہمارے عالِم کی قدر نہ کرے (مختصر الترغیب والترھیب)۔ (مولانا عبدالمالک)


بیوی کا شوہر کے بجاے خاندانی نام کا استعمال

س:  اگر کوئی مسلمان خاتون اپنے خاندانی نسب اور نام کو جو وجۂ شہرت ہے، قائم رکھنے کے لیے رشتۂ ازدواج میںمنسلک ہونے کے بعد اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام استعمال کرنے کے بجاے اپنے والد کے نام یا خاندانی نام سے منسوب ہونا پسند کرتی ہے تو شرعی حیثیت سے ایسا کرنا کس زمرے میں آئے گا اور اس کے لیے خاتون کو شوہر کی اجازت یا رضامندی کی ضرورت ہوگی یا نہیں!؟

ج: شریعت میں تو اسی بات کو رواج حاصل رہا ہے کہ خاتون ہو یا مرد، دونوں اپنے     نام کے ساتھ بطور تعارف اپنے والد، دادا یا پردادا وغیرہ جتنوں کو ذکر سکتے ہیں، کریں۔ کتب   اسما الرجال اور احادیث مبارکہ میں خواتین کے نسب کا ذکر کیا جاتا ہے۔ رہا شوہر، تو اسے بطور تعارف ذکر کرنے کا رواج بعد کے ادوار میں شروع ہوا ہے، مثلاً حضرت عائشہؓ اور حضرت اسماؓ کے ساتھ بنت ابی بکر کا ذکر ہوتا ہے۔ حضرت عائشہؓ کے اُم المومنین ہونے کا الگ سے ذکر آتا ہے۔ اس لیے کہ ازواجِ مطہراتؓ کا اِسی حیثیت سے یہ تعارف قرآن پاک نے کرایا ہے اور یہ ان کے لیے بہت بڑا شرف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کے بارے میں فرمایا: ’’اگر فاطمہ محمدؐ کی بیٹی بھی چوری کرتی (اللہ نے ان کو اس سے بچائے رکھا) تو میں ان کے ہاتھ کو بھی کاٹتا‘‘(بخاری)۔ لہٰذا باپ کا ذکر تو ایک شرعی روایت ہے، اس کے جواز میں کوئی شک نہیں۔ آج کل چونکہ خاتون کے ساتھ اس کی شادی کے بعد اس کے شوہر کا تذکرہ کیا جاتا ہے کہ یہ فلاں کی زوجہ ہے تو یہ تعارف بھی قابلِ اعتراض نہیں ہے لیکن اصل تعارف تو باپ، دادا ہوتے ہیں۔ تعارف میں ان کا ذکر اس بنا پر بہتر ہے کہ شرعی روایت کی پیروی ہے۔ شوہر سے اجازت کی حاجت نہیں۔ شوہر کو اس پر ناراض نہیں ہونا چاہیے بلکہ خوش ہونا چاہیے۔ واللّٰہ اعلم! (ع - م)

انسان کی تخلیق، ترتیب و تدوین: پروفیسر شہزاد الحسن چشتی۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ۳۵-ڈی، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی-۷۵۹۵۰۔ فون: ۶۸۰۹۲۰۱-۰۲۱۔صفحات: ۲۲۱۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

اہلِ مغرب کو داد دینی پڑتی ہے کہ جتنی بڑی گمراہی ہو، اس کے حق میں اتنے ہی کثیر   علمی دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں۔ انسان جیسی اشرف المخلوقات کو بندروں کی نسل سے وابستہ کرنے جیسی مضحکہ خیز بات پر کتابوں پر کتابیں لکھیں اور صورت یہ بنا دی کہ اللہ کی انسان کی تخلیق جیسی درست، عقلی اور سچی بات دفاعی انداز میں پیش کی جائے۔ ڈارون نے نہ صرف انسان، بلکہ اس کائنات کے تمام مظاہر حیات کے لیے ارتقا کا نظریہ پیش کیا جو پچھلے ۲۰۰ سال سے علمی اور سائنسی دنیا پر چھایا ہوا ہے اور جس نے صرف حیاتیات ہی نہیں، علوم کے دوسرے دوائر پر بھی اثر ڈالا ہے۔ انسان اور کائنات کی تخلیق کے بارے میں  تفہیم القرآن میں متعلقہ آیات کی تشریح کرتے ہوئے سید مودودیؒ نے جو غیرمعمولی تحریریں لکھی ہیں حیاتیات کے پروفیسر شہزاد الحسن چشتی نے اس کتاب میں  وہ سب یک جا کردی ہیں۔ ان سے، قدرتی بات ہے، ڈارون ازم کا ابطال ہوتا ہے اور انسان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی ہستی اپنی صفتِ تخلیق کی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے، صاحب ِ تفہیم القرآن کی دوسری کتابوں سے، جہاں ڈارون ازم پر سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں، وہ بھی جمع کر کے ایک باب میں (۱۷ صفحات) پیش کردیے ہیں۔ اتنا کام بھی اس کتاب کو ایک وقیع کتاب بنا دیتا، لیکن انھوں نے اس پر مزید محنت یہ کی ہے کہ ۳۵ صفحات کے پیش لفظ میں ڈارون ازم کے حق میں پیش کیے جانے والے شواہد کی حقیقت بھی بیان کردی ہے۔


کتاب میں کائنات کی تخلیق پر ۴۵ صفحات کا ایک باب ہے۔انسان کی تخلیق پر باب دوم سے ہفتم تک ۱۱۰ صفحات ہیں۔ اسی میں انسان کی تخلیق کے مقصد پر ۳۲ صفحات ہیں۔

مؤلف خود حیوانیات کے پروفیسر رہے ہیں اس لیے ان پر ان کے طالب علموں کا، بلکہ اس اُمت کا یہ حق ہے کہ وہ صرف ۳۵ صفحات کے پیش لفظ ہی میں نہیں، بلکہ ۳۵۰ صفحات کی ایک پوری کتاب میں، اس باطل نظریے کی تائید میں درسی کتابوں میں طلبہ و طالبات کو جو نام نہاد شواہد پڑھائے جاتے ہیں ان کا کچا چٹھا کھول کر بیان کریں۔ اس کتاب کا ہم انتظار کریں گے۔

ڈارون کے نظریے کے بارے میں مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ ’’یورپ نے جو اس وقت تک اپنے الحاد کو پائوں کے بغیر چلا رہا تھا، لپک کر یہ لکڑی کے پائوں ہاتھوں ہاتھ لیے اور نہ صرف اپنے سائنس کے تمام شعبوں میں بلکہ اپنے فلسفہ و اخلاق اور اپنے علومِ عمران تک میں ان کو نیچے سے نصب کرلیا‘‘ (ترجمان القرآن، جنوری فروری ۱۹۴۴ئ)۔ یہ گمراہ کن نظریہ یورپ میں پیش ہوا تو عیسائی اہلِ ایمان نے بھی اس کی خوب خبرلی اور آج تک لے رہے ہیں۔ اپنے تعلیمی اداروں میں اس کے مقابل تخلیق سائنس (Creation Science) کی ترویج کے لیے تحریک چلاتے ہیں۔ لیکن مسلم دنیا کا المیہ یہ ہے کہ مسلمان سائنس دانوں اور حیوانیات کے اساتذہ نے سائنسی بنیادوں پر اس کے تاروپود نہ بکھیرے بلکہ علماے دین ہی عقیدے کی بنیاد پر اس کی تردید کرتے رہے۔ گذشتہ کچھ برسوں سے ترکی کے ہارون یحییٰ نے اس عقیدے کے خلاف منظم مہم چلائی ہے، استدلال سے مزین دل کش اسلوب میں باتصویر کتابیں پیش کی ہیں۔ ۷۰، ۸۰ وڈیو سی ڈی کا ایک سلسلہ ہے جس کا ان کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی ۸۰زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ یہ ان کی ویب سائٹ پر موجود ہیں(haroonyahya.com)٭۔ لیکن آزادی کے بعد ہماری بھی نصف صدی گزر گئی ہے۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں طلبہ نے حیوانیات کی کتابوں میں آمنا وصدقنا کہتے ہوئے اسے پڑھا ہے اورمسلمان اساتذہ نے معلوم نہیں کس طرح اپنا عقیدہ محفوظ رکھتے ہوئے اسے پڑھایا ہے لیکن انگریزی میں ہر طرح کا مواد موجود ہونے کے باوجود اُردو میں ۱۰، ۲۰ کتب اور


٭ یہ کتاب بھی دستیاب ہے۔ نظریۂ ڈارون کی تردید ، ہارون یحییٰ، ترجمہ: محمد صادق۔ ناشر:طاہر سنز پبلشرز، ۴۰-بی، اُردو بازار، لاہور۔صفحات: ۳۶۸، قیمت: ۳۵۰ روپے۔

۵۰، ۱۰۰ مقالے بھی اس پر نہیں لکھے گئے (ڈارون کی ۲۰۰ ویں سالگرہ پر محترم خرم مراد ؒنے     مسلم ورلڈ بک ریویو میں اس پر ایک قیمتی مقالہOn Evolutionism لکھا، نمبر۳، ۱۹۸۴ئ)۔

شہزاد چشتی صاحب نے ایک اچھا آغاز کیا ہے جو طالب علموں کے ذہن صاف کرنے میں اکسیر ہوگا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ حیوانیات کی درسی کتب میں اس نظریے کو بطور ایک عقیدہ نہ پڑھایا جائے اور ساتھ ہی اس کے شواہد پر جو جائز سائنسی تنقید ہے اس کو بھی پڑھایا جائے اور سالانہ امتحان میں اس تنقید کو ہی موضوعِ سوال بنایا جائے۔ اب ہم انسان اور گھوڑے کے شجرے پڑھاتے ہیں، رینگنے والے جانوروں سے اڑنے والے پرندوں کا وجود میں آنا ثابت کرتے ہیں، بصارت جیسے کام کے لیے، آنکھ جیسے پیچیدہ عضو کا بننا محض موروثی تبدیلیوں کے ذریعے ارتقا سے ثابت کرتے ہیں اور معلوم نہیں کیا کیا لطیفے پڑھاتے ہیں۔ ہمارے منہ پر یہ ’غیرسائنسی‘ لیکن عقلی بات نہیں آتی کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس بنیادی بات سے زندگی کا پورا تصور بدل جاتا ہے۔ تہذیب بدل جاتی ہے۔ ہم تو اس پر بھی بحثیں ہی پڑھاتے ہیں کہ بے جان مادے سے جان دار وجود کیسے پیدا ہوا اور تُکے لگاتے ہیں لیکن کلاس روم میں کھڑے ہوکر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ نے زندگی پیدا کی ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے دینی مدارس میں لاکھوں طلبہ پڑھتے ہیں لیکن ان کے ذمہ داروں کو بھی یہ توفیق نہ ہوئی کہ ان کے لیے سائنس کی کوئی ایسی کتاب مرتب کروائیں جس کی بنیاد الحاد پر نہ ہو تاکہ ان کے طلبہ سائنسی علوم میں ضروری شُدبُد رکھتے ہوں لیکن الحاد کی جہالت و جاہلیت سے مبرا ہوں۔ (مسلم سجاد)


روایاتِ سیرت کا تنقیدی جائزہ، محمدناصر الدین البانی، ترجمہ و تلخیص: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی۔ ناشر: اسلامک فائونڈیشن، ۱۷۸۱ سوئی والان، دہلی، بھارت۔ صفحات: ۱۶۸۔ قیمت: ۹۵ روپے۔

سیرت پاکؐ کا مطالعہ نوعِ انسانی کے لیے روشنی کا مینار اور مسلمانوں کے لیے ایمان کی رفعتوں کا وسیلہ ہے۔ سیرت پاکؐ  کا سب سے بنیادی ماخذ قرآن عظیم ہے، اور پھر احادیث مقدسہ۔ تاہم حدیث پاک کے باب میں روایات، سند اور درایت کی کسوٹی بحث و تمحیص کے در کھولتی اور قرآن وسیرت کے جملہ پہلوؤں کی وضاحت اور جزئیات کی تفصیلات فراہم کرتی ہے۔

زیرتبصرہ کتاب شیخ محمد ناصر الدین البانی (۱۹۱۴ئ-۱۴۹۹ئ) کی جانب سے اس نقدو جرح پر مبنی ہے، جو انھوں نے سیرت کی دو کتب: فقہ السیرۃ از شیخ محمد الغزالی اور فقہ السیرۃ النبویہ از ڈاکٹر محمد سعید رمضان البوطی پر تحریر کی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے مصنفین نے ایسی روایات کو بھی سیرتی کتب میں  پے درپے نقل کرکے، عمومی سطح پر قارئین کے حافظے کا حصہ بنا دیا ہے، کہ جن پر ابتدائی اور وسطانی عہد کے محققین و محدثین نے واضح طور پر جرح وتعدیل کے بعد لکھا تھا کہ فلاں فلاں روایت ضعیف ہے یا موضوع!

اگرچہ زیرتبصرہ کتاب قدرے تلخ لہجے میں لکھی گئی تھی، لیکن محمدالغزالی نے شیخ البانی کی پوری تحریر کو اپنی کتاب کے ضمیمے میں اس نوٹ کے ساتھ شامل کیا: ’’استاذ محدث ناصرالدین البانی نے میری نقل کردہ احادیث نبویؐ پر تعلیقات پیش کی ہیں، اور انھیں رضاکارانہ طور پر لکھ کر علمی حقیقت کو نمایاں کرنے اور تاریخی حقائق کو صحیح انداز میں پیش کرنے میں تعاون کیا ہے۔ کسی حدیث کی سندوں کی تحقیق کے بعد شیخ ناصر فرماتے ہیں کہ ’’یہ ضعیف ہے‘‘۔ حدیث میں رسوخ و مہارت کے باعث انھیں یہ راے ظاہر کرنے کا حق ہے، لیکن میں اس حدیث کے متن کو دیکھتا ہوں، تومجھے اس کی روایت میں کوئی حرج دکھائی نہیں دیتا،اور اسے نقل کرنے کو کچھ نقصان دہ خیال نہیں کرتا… بیش تر علما نے ضعیف اور صحیح مرویات کے قبول ورّد میں یہی طریقہ اپنایا ہے کہ ضعیف حدیث اگراسلام کے عام اصول اور جامع قواعد سے ہم آہنگ ہو تو وہ قابلِ قبول ہے‘‘۔ (ص ۱۰۷-۱۰۹)

شیخ البانی کی کلاسیکی بحث نے ذخیرۂ حدیث کے مطالعے کو نیا رُخ دیا ہے جس میں انھوں نے قدیم کتب کے نظائر سے بات کی ہے، جب کہ اسی زمانے میں مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم نے سند اورروایت سے بڑھ کر خود متن حدیث، الفاظ اور استدلال کو قرآن و سنت اور عقل و نقل کی بنیاد پر دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ درایت حدیث کے اس باب میں شیخ البانی کا طریق کار زیادہ محتاط ہے۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے اس مجموعے کا طبع زاد ترجمہ کیا ہے، جس میں نہ عربی لفظیات کا بوجھ ہے اور نہ اسلوب میں بے جاپیچیدگی۔ (سلیم منصورخالد)


نام وَر مغربی سائنس دان، پہلا دور (بیکن سے نیوٹن تک)، پروفیسر حمیدعسکری۔ ناشر:مجلس ترقی ادب، ۲-کلب روڈ، لاہور۔ صفحات: ۳۵۹۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

عہدِحاضر کی سائنسی ترقی کے پس منظر میں قدیم سائنس دانوں کی ایک لمبی قطار نظر آتی ہے جن کے کارناموں کی بدولت آج یہ سب کچھ ممکن ہوپایا ہے۔ مسلمانوں کے عہد ِ زریں میں خصوصاً عہد ِ عباسی میں مسلم سائنس دانوں نے بہت کام کیا اور اس کام کی بنیاد پر اہلِ یورپ نے تحریک احیاے علوم کی نیو ڈالی۔ ایک عرصے تک یورپ کے تعلیمی اداروں میں سائنس سے متعلق مسلمانوں کی کتب پڑھائی جاتی رہیں۔

مسلم اُمہ کے زوال کے بعد تیرھویں صدی میں علم کی یہ قندیلیں یورپ میں روشن ہوئیں۔ زیرتبصرہ کتاب کا آغاز بھی اسی صدی کے ایک نام ور سائنس دان راجر بیکن (۱۲۱۴ئ-۱۲۹۴ئ) سے ہوتا ہے۔ کوسٹر اور گوٹن برگ، کوپرنیکس، گلیلیوگلیلی، ولیم ہاروے، رابرٹ بوائل اور آئزک نیوٹن سمیت ۱۳سائنس دانوں کی حیات و خدمات کو ۱۳ الگ الگ ابواب میں پیش کیا گیا ہے۔ ضمیمے میں مزید ۱۲ سائنس دانوں کی خدمات کا تذکرہ ہے۔ یہ تذکرہ گو مختصر ہے مگر اس طرح مصنف نے سترھویں صدی میں یورپ کے تقریباً تمام نام ور سائنس دانوں کے احوال شاملِ کتاب کردیے ہیں۔

یہ کتاب اُردو کے سائنسی ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ اس سے قبل بھی مصنف مسلم سائنس دانوں کے بارے ایک کتاب نام ور مسلم سائنس دان تحریر کرچکے ہیں۔ عموماً سائنسی مباحث خشک قسم کے ہوتے ہیں مگر مصنف نے کوشش کی ہے کہ مذکورہ کتاب کا طرزِ نگارش اور اس کی زبان ادبی معیار کے مطابق ہو اور مصنف اس میں کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ ان کا اسلوب دل چسپ اور عام فہم ہے۔ سائنس دانوں کے اس تذکرے میں کہیں کہیں کہانی کا سا انداز پیدا ہوگیا ہے جو تحریر کی تاثیر میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

سائنس دانوں کی حیات و خدمات کے ساتھ ساتھ اُن کی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں مگر یہ تصاویر پرانی اور غیرواضح ہیں۔ مناسب ہوتا کہ نئی اور واضح تصاویر شامل کی جاتیں۔ مجلس ترقی ادب اور مصنف دونوں اس علمی کارنامے پر بجاطور پر فخر کرسکتے ہیں۔ (ساجد صدیق نظامی)


۱- انسان اور جادو، جنات (جادو و جنات کا توڑ اور روحانی علاج معالجہ) ۲-انسان اور کالے پیلے علوم (خرابیِعقائد کا ذریعہ بننے والے ماورائی علوم کا جائزہ وتحقیق)۔ تالیف:   حافظ مبشرحسین، ناشر: مبشراکیڈمی، لاہور- فون: ۴۶۰۲۸۷۸-۰۳۰۰۔ ملنے کا پتا: مکتبہ قدوسیہ /  کتاب سراے، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات علی الترتیب: ۲۲۲، ۲۲۸۔ قیمت: درج نہیں۔

پہلی کتاب میں فاضل مؤلف نے جادو اور جنات کے بارے میں قرآن وسنت کی روشنی میں اسلام کا موقف واضح کیا ہے۔ انھوں نے متعدد اعتقادی گمراہیوں کی نشان دہی کے ساتھ جنات اور جادو کے توڑ کے لیے مسنون علاج بھی تجویز کیے ہیں۔ مؤلف کے عملی تجربات اور مشاہدات بھی کتاب میں شامل ہیں۔ روحانی علاج سے متعلقہ چند اصولی مسائل، نظرِ بد کا علاج اور متعدد جسمانی بیماریوں کے روحانی علاج بھی کتاب کا حصہ ہیں۔

دوسری کتاب میں قرآن و سنت کی روشنی میں دست شناسی، علم جفر، علم عدد، علم اسرار الحروف، علمِ نجوم، علمِ رمل، ریکی، یوگا، ٹیلی پیتھی، ہپناٹزم اور مسمریزم کی حقیقت اور پوزیشن واضح کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بدشگونی، نحوست اور فالناموں کا جائزہ بھی لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں صحیح اسلامی موقف پیش کیا گیا ہے۔ مراقبوں اور چِلّہ کشی کی شرعی حیثیت، خوابوں سے متعلقہ مسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں، اور قیافہ شناسی کی شرعی حیثیت بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ اسی طرح الہام، وسوسہ، کشف اور فراست میں فرق کو واضح کرتے ہوئے، اسلام میں ان کی حیثیت بھی بیان کردی گئی ہے۔ کتاب کے آغاز میں وحیِ الٰہی اور وحیِ شیطانی، اور کہانت و عرافت پر بھی عمدہ مباحث بطور تمہید شامل ہیں۔ (خالد محمود)


تعارف کتب

  • جواہر البیان فی تفہیم القرآن (تلخیص مضامینِ قرآن) مؤلف: محمد سرور ارشد۔ نظرثانی: مولانا محمد وسیم میواتی۔ ناشر: الجنت پرنٹنگ پریس، ایم اے جناح روڈ، کراچی- ۲۷۴۱۲۳۷-۰۲۱۔ صفحات: ۴۹۱۔ قیمت: درج نہیں۔[یہ کاوش معروف معنوں میں نہ تو قرآن کا مکمل باقاعدہ ترجمہ ہے اور نہ تفسیر ہے بلکہ مفاہیمِ قرآن کا مختصر بیان ہے۔ ان لوگوں کے لیے ہے جو عربی سے نابلد ہیں اور قرآن پاک کے معانی اور مفاہیم کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ہر سورہ کا مختصر خلاصہ اور وجۂ تسمیہ، سورہ سے متعلق احادیث میں وارد فضائل، ہر سورہ کی منتخب آیات کا عام فہم مفہوم اور مختصر تشریح اور آخر میں اہم نکات۔]
  • ماہنامہ رُشد لاہور (حُرمتِ رسولؐ نمبر) ،مدیر: حافظ انس نصر مدنی۔ رابطہ دفتر: ۹۹-جے، ماڈل ٹائون، لاہور۔ صفحات: ۲۲۴۔ قیمت (خصوصی اشاعت): ۳۰ روپے۔ [تحفظ ناموسِ رسالتؐ پر یہ اشاعتِ خاص کئی حوالوں سے منفرد ہے۔تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کا علمی جائزہ، توہین آمیز خاکوں کی نوعیت، توہینِ رسالتؐ کے بارے میں استفسارات، مغرب کے نقطۂ نظر کا جائزہ، اُمت مسلمہ کی ذمہ داریاں اور مسلمانوں میں اہانتِ رسولؐ کے مختلف پہلو زیربحث آئے ہیں۔ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت (ستمبر ۲۰۰۵ئ- مارچ ۲۰۰۸ئ) پر ردعمل کی تاریخ وار مختصر روداد کے ساتھ ساتھ آخر میں ۱۹۷۳ء سے تاحال توہینِ رسالتؐ کے موضوع پر رسائل میں شائع شدہ مضامین کا اشاریہ بھی شاملِ اشاعت ہے۔]
  • مکاتیب الکریم ، مولانا عبدالقیوم حقانی۔ ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ، خالق آباد، نوشہرہ۔ صفحات:۳۱۱۔ قیمت: درج نہیں۔[القاسم نے گیارھویں خصوصی اشاعت میں قاضی عبدالکریم صاحب کے تقریباً ۳سو خطوط بنام حقانی شائع کیے ہیں۔یہ خطوط کیا ہیں: اکابرین دیوبند کے مشاہدات و تجربات کا نچوڑ، احسان و سلوک کا عطر، علم و ادب، امثال و اشعار اور لطائف و ظرائف کا مرقع، فقہ اور فتاویٰ کی نادر مثالیں، حکومت و سیاست اور فِرقِ باطلہ کا بھرپور تعاقب، اخلاص و للہیت اور روحانی معمولات۔]
  • ڈاکٹر انعام الحق کوثر: حیات و خدمات ،مرتبہ: ڈاکٹر محمد احتشام الحق۔ ناشر: ادارہ تحقیق و تصنیف بلوچستان، ۲۷۲-اے، بلاک او-III ، سیٹلائٹ ٹائون، کوئٹہ۔ صفحات: ۲۶۲۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔ [اُردو اور فارسی زبان و ادب کے نام وَر محقق، مصنف اور معلم ڈاکٹر کوثر عرصۂ دراز سے بلوچستان کی سنگلاخ سرزمین میں ایک عزمِ صمیم کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں۔ بعمر۷۷ سال بایں پیرانہ سالی، اُن کی ہمت قابلِ داد ہے۔ اُن کی خدماتِ علمی و ادبی کے اعتراف میں اُن کے دوستوں، قدردانوں، رفقاے کار اور شاگردوں کے مضامین کا     یہ مجموعہ قدرافزائی کی قابلِ ستایش کوشش ہے جس سے ان کی طویل جدوجہد کا کچھ اندازہ ہوتا ہے۔]
  • اسلامی طرزِمعاشرت ، تالیف: محمد بن جمیل زینو، ترجمہ: خبیب احمد سلیم۔ ناشر: حدیبیہ پبلی کیشنز،      رحمن مارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۷۲۴۲۶۰۴۔ صفحات: ۳۰۴۔ قیمت (مجلد): ۱۴۰ روپے۔       [اپنے موضوع پر ایک مفیدکتاب جس میں صرف عبادات، یعنی نماز،روزے ، حج کا ذکر نہیں ہے بلکہ بچوں کی تعلیم و تربیت، اخلاق وعادات،اسلامی معاشرت اور عورت کا مقام جدید دور کے پس منظر میں زیربحث آئے ہیں۔ مشہور بدعات کا تذکرہ ہے۔ موسیقی اور تمباکو نوشی پر بھی بحث ہے۔ جہاد کے موضوع پر جدید مباحث ہیں۔ تقلید کے حوالے سے ائمہ اربعہ کا نقطۂ نظر دیا گیا ہے۔ آخر میں دعائوں کا عمدہ انتخاب ہے۔]
  • حدیث کہانی، نگہت سیما۔ ناشر: المجاہد پبلشرز، چوتھی منزل، دین پلازا، جی ٹی روڈ، گوجرانوالہ۔ فون: ۸۲۰۴۱۷۷-۰۵۵۔ صفحات: ۸۰، قیمت:۴۰ روپے۔[کتاب میں فرموداتِ رسولؐ اور اسلام کی اخلاقی تعلیمات سے آگہی دی گئی ہے۔ اسلوبِ بیان ایسا عمدہ اور دل چسپ کہ بچہ کہانی پڑھتاچلا جائے اور حدیث کا مفہوم ذہن پر نقش ہوجائے۔ زیادہ مؤثر ہوگا کہ کہانی کے آغاز میں حدیث دینے کے بجاے آخر میں دی جائے۔ بچوں کی احادیث سے آگہی کے لیے مفید کاوش۔]

احمد علی محمودی ‘ حاصل پور

’پاکستان اور دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ‘ (نومبر ۲۰۰۸ئ) میں قومی و ملّی اُمنگوں کے برعکس فردِ واحد کی غلط اور ناکام پالیسی، اس کے مضمرات اور نئی آزاد خارجہ پالیسی کے حوالے سے مدلل تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ ’دہشت گردی‘ کے خلاف جاری یہ جنگ ہماری نہیں، بلکہ یہ ایک گھنائونا سامراجی کھیل ہے جس نے ہمیں دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ اس جنگ سے ہم نے ۱۰ ارب ڈالر حاصل کیے، جب کہ ۵ئ۳۴ ارب ڈالر کا نقصان کیا۔ غیروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کے عوام کے خلاف لشکرکشی کرناکہاں کی دانش مندی ہے؟


آئی اے فاروق ‘لاہور

’عالمی غذائی بحران اور پاکستانی زراعت‘ (نومبر ۲۰۰۸ئ) ایک اچھی تحریر ہے۔ ملکی زراعت کی بہتری کے لیے جو مفید تجاویز پیش کی گئی ہیں، حکومت بھی ان سے باخبر ہے لیکن اصل رکاوٹ وسائل کی کمی اور ہاری اور کسان کو سودی نظام کی وجہ سے عملاً مشکلات کا درپیش ہونا ہے۔ اسی وجہ سے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر اس میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا۔ موجودہ نظام میں بلیک اکانومی کو بھی تحفظ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم وسائل کی کمی سے دوچار ہیں اور سودی نظام کے نفاذ کی وجہ سے خدا کی رحمت سے بھی دُور ہیں۔ خود مضمون نگار نے بھی اپنی تجاویز ۱۲ اور ۱۳ میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ ان تجاویز پر عمل درآمد صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ ہمارے ہاں سود سے پاک زرعی نظام نافذ کیا جائے۔ اس کے لیے عملی خاکہ موجود ہے۔ ضرورت صرف عمل درآمد اور سرپرستی کی ہے۔


عبداللّٰہ ‘ لاہور

’قرآن اور یہ کائنات‘ (نومبر ۲۰۰۸ئ) اپنے موضوع پر ایک مفید اور ایمان افروز تحریر ہے جو غوروفکر کی دعوت دیتی ہے۔ البتہ فطرت کو اللہ کہنامناسب نہیں۔ یہ تو نیچری نقطۂ نظر کی تائید ہے۔ آخر میں مختلف   اعداد وشمار اور آیات کی تعداد اور تناسب کے حوالے سے کائنات کے بعض حیران کن اتفاقات کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور اس طرح قرآن کی حقانیت کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح کے حسابی ثبوت تلاش کرنا مناسب نہیں۔ قرآن کو اس سے بالا ہی رکھیں۔


محمد آصف عباسی ‘ دھیرکوٹ، آزادکشمیر

مولانا مودودیؒ کی تحریر ’رسموں کی بیڑیاں‘ (اکتوبر ۲۰۰۸ئ) پڑھ کر ایک عجیب تاثر اور تحرک پیدا ہوا۔ مولانا نے فرمایا ہے کہ ان رواجوں کے بوجھوں سے لوگوں کی کمریں ٹوٹ رہی ہیں مگر پیش قدمی نہیں کرسکتے۔  یہ پہل اور پیش قدمی کرنا اور سادگی کو رواج دینا تحریک کے وابستگان خصوصاً قائدین کا فرض ہے۔


حکیم محمد عبد السمیع ‘ کراچی

’فہم دین کا مسئلہ‘ (اکتوبر ۲۰۰۸ئ) نظر سے گزرا۔ تحریر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دین کے نام پر انتہاپسندی اور تشدد کے جو بھی واقعات سامنے آرہے ہیں ان کے پیچھے طالبان کا ہاتھ ہے۔ ’دہشت گردی‘ کا کوئی واقعہ پیش آجائے، لڑکیوں کے اسکول جلا دیے جائیں تو ہمارے چینل اور ملکی و بین الاقوامی این جی اوز، سب اس کا الزام طالبان پر دھرتے ہیں۔یہ پہلو نہیں دیکھا جاتا کہ اسلام کو بدنام کرنے کے لیے طالبان کے روپ میں امریکی، اسرائیلی یا بھارتی ایجنٹ یہ کام دکھا رہے ہیں؟ ہمارے حکمران بھی بلاسوچے سمجھے، یا قصداً امریکا کی ’دہشت گردی‘ کی اس جنگ کو جو دراصل اسلام کے خلاف صلیبی جنگ ہے اپنی جنگ قرار دے رہے ہیں اور پاکستان فرنٹ لائن اتحادی بن کر ہرطرح سے تعاون کر رہا ہے۔ پاکستان کی خودمختاری روز پامال ہورہی ہے۔ مگر ہماری سرکار اپنے مضحکہ خیز اعلانات میں شرم محسوس نہیں کرتی۔

 

اختلاف کے باوجود احترام

میں تمام بزرگانِ دین کا احترام کرتا ہوں، مگر پرستش ان میں سے کسی کی نہیں کرتا، اور  انبیا کے سوا کسی کو معصوم بھی نہیں سمجھتا۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ میں بزرگانِ سلف کے خیالات اور کاموں پر بے لاگ تحقیقی و تنقیدی نگاہ ڈالتا ہوں، جو کچھ ان میں حق پاتا ہوں اسے حق کہتا ہوں اور جس چیز کو کتاب و سنت کے لحاظ سے یا حکمت عملی کے اعتبار سے درست نہیں پاتا اس کو صاف صاف نادرست کہہ دیتا ہوں۔ میرے نزدیک کسی غیرنبی کی راے یا تدبیر میں خطا پائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کی عظمت و بزرگی میں کوئی کمی آئے۔ اس لیے میں سلف کی بعض رایوں سے اختلاف کرنے کے باوجود ان کی بزرگی کا بھی قائل رہتا ہوں اور میرے دل میں ان کا احترام بھی بدستور باقی رہتا ہے۔ لیکن جو لوگ بزرگی اور معصومیت کو ہم معنی سمجھتے ہیں اور جن کے نزدیک اصول یہ ہے کہ جو بزرگ ہے وہ خطا نہیں کرتا اور جو خطا کرتا ہے وہ بزرگ نہیں ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بزرگ کی راے یا طریقے کو نادرست قرار دینا لازمی طور پر یہ معنی رکھتا ہے کہ ایسا خیال ظاہر کرنے والا ان کی بزرگی کا احترام نہیں کرتا اور ان کی خدمات پر قلم پھیرنا چاہتا ہے۔ پھر وہ اس مقام پر بھی نہیں رُکتے بلکہ آگے بڑھ کر اس پر یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ان سے بڑا سمجھتا ہے۔ حالانکہ علمی معاملات میں ایک شخص کا دوسرے کی راے سے اختلاف کرنا اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ وہ جس سے اختلاف کر رہا ہو اُس کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا بھی سمجھے اور بہتر بھی۔ امام محمد اور امام ابویوسف نے بہ کثرت معاملات میں امام ابوحنیفہ کی راے سے اختلاف کیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اختلاف یہی معنی رکھتا ہے کہ وہ مختلف فیہ معاملات میں اپنی راے کو صحیح اور امام صاحب کی راے کو غلط سمجھتے تھے، لیکن کیا اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ یہ دونوں حضرات امام ابوحنیفہ کے مقام میں اپنے آپ کو افضل سمجھتے تھے؟ (’رسائل و مسائل‘، مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن، جلد۲۹، عدد ۱، رجب ۱۳۶۵ھ، جون ۱۹۴۶ئ، ص۵۷-۵۸)