مضامین کی فہرست


جنوری۲۰۰۷

فہم قرآن میں ایک اشکال

سوال : اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں قیامِ صلوٰۃ اور صیامِ رمضان کا حکم تو یا ایھا الذین امنواکہہ کر دیا گیا ہے‘ جب کہ حج اور زکوٰۃ کی فرضیت کے موقع پر ایسا نہیں۔ بالخصوص حج کے بارے میں تو جہاں بھی تذکرہ ہے وہاں لوگوں (ناس) کے حوالے سے ہے‘ مثلاً:۱- وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ (البقرہ۲:۱۲۵) ۲- وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ (الحج ۲۲:۲۷) ۳-  اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا (اٰل عمرٰن۳:۹۶) ۴- وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ (اٰل عمرٰن۳:۹۷) ۵-یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَھِلَّۃِ ط قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ط (البقرہ ۲:۱۸۹) ۶- وَاِذْ قَالَ اِبْرَاھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا  (البقرہ۲:۱۲۶)

بالفاظ دیگر مکہ میں رزق ایمان نہ لانے والوں کو بھی ملے گا جو مکہ میں موجود ہوں گے۔

۷- ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ (البقرہ ۲:۱۹۹)۸- جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ (المائدہ ۵:۹۷) ۹- وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ (التوبہ۹:۳)

ان تمام آیات سے محسوس ایسا ہوتا ہے کہ حج پر آنے سے کسی غیرمسلم بالخصوص حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کو نبی ماننے والوں یا اہلِ کتاب کو منع نہیں کیا گیا ورنہ وہ کون لوگ ہیں جن کو دنیاوی رزق ملتا رہے گا اور آخرت میں کچھ نہ ملے گا یا جو صرف دنیا طلب کرتے ہیں اور آخرت میں خسارے میں ہوں گے۔

اہلِ کتاب سے تعلق رکھنے والیوں سے نکاح کی اجازت ہے تو کیا مکہ میں قیام پذیر مسلم اپنی بیوی کو ساتھ نہ رکھ سکے گا؟ جہاں تک غیرمسلموں کو حدودِ حرم میں آنے سے منع کرنے کا تعلق ہے تو وہ بھی سورۂ توبہ کی آیت ۲۸ میں صرف مشرکوں کے لیے ہے اور صرف مسجد حرام کے پاس آنے سے منع کیا گیا ہے نہ کہ پورے شہر مکہ یا مدینہ سے اور اہلِ کتاب کو تو منع ہی نہیں کیا گیا۔ کیا حج کی ادایگی یا حج کی ادایگی کے مناظر غیرمسلم کو مسلمان بننے پر راغب نہیں کریں گے؟

اسی طرح زکوٰۃ کا معاملہ ہے۔ زکوٰۃ کی فرضیت سورئہ توبہ کی آیت ۶۰ سے ثابت ہوتی ہے اور اس میں نہ زکوٰۃ دینے کے لیے مومنوں سے خطاب ہے اور نہ فقرا‘ مساکین‘ عاملین‘ تالیف قلب کے قابل لوگ‘ غلام‘ قرض دار اور مسافر کا مسلمان ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ سے اگر اسلامی ریاست کے تمام باشندے فائدہ حاصل کریں گے تو وصول بھی سب سے کی جاسکتی ہے۔ نیززکوٰۃ کو اسلامی نظامِ معیشت میں دولت کی تقسیم کا ایک اہم عامل قرار دیا جاتا ہے۔ کیا غیرمسلم کو اسلامی ریاست میں بے حساب اور بلاتحدید دولت جمع کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟

جواب: اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا حاکم ہے‘ تمام انسان چاہے مسلم ہوں یا کافر اسلامی احکام کے مخاطب ہیں۔ کفار حکومت الٰہیہ کے باغی ہیں۔ جہاں تمام انسانوں کو کسی عبادت کا حکم ہے مثلاً حج اور حجاج کرام سے متعلق آیات جن کا حوالہ آپ نے دیا ہے تو ان کے یہ معنی نہیں ہے کہ انھیں صرف حج کا حکم ہے‘ بلکہ انھیں پہلا حکم ایمان کا ہے اور دوسرا حکم حج کا ہے‘ یعنی حج کرواور اس کے لیے میرے پہلے حکم اٰمِنوا (ایمان لے آئو) پر بھی عمل کرو۔

حج پر آنے سے کفار و مشرکین کو سورۂ توبہ آیت ۲۸ میں منع کیا گیا ہے۔ اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ … مسجد حرام سے مراد صرف مسجد حرام اور بیت اللہ شریف نہیں بلکہ پورا حرم ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۹ ہجری میں جب ابوبکر صدیقؓ حجاج کے امیر تھے حضرت علیؓ کو اس اعلان کے ساتھ بھیجا تھا: لاَیَحُجَّنَّ بَعْد الْعَامِ مُشْرِکٌ ’’مشرک اس سال کے بعد حج نہیں کریں گے‘‘۔ اور اس کے علاوہ دیگر اصلاحات کا اعلان بھی کیا تھا۔

زکوٰۃ عبادت ہے۔ کفار سے اس کا خطاب ہے لیکن ایمان کے بغیر معتبر نہیں ہے اور ان سے زکوٰۃ وصول نہیں کی جائے گی۔ ان سے مختلف قسم کے منصفانہ ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں اور ان کے عوض ان کی جان و مال کا تحفظ کیا جاتا ہے۔

مکہ میں کفار کی رہایش کا جواز جو آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے نکالا ہے‘ وہ ابراہیم علیہ السلام کے دور کی بات ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور میں بھی یہ حکم باقی تھا‘ یہ حکم فتح مکہ کے بعد ۹ہجری میں ختم ہوگیا ہے۔ سورئہ بقرہ میں مسلمان حاجیوں کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ کافروں کے لیے تو کفر کے سبب آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ مسلمان حاجی اگر محض دنیاطلبی کے لیے حج کریں گے تو ان کو ان کے حج کا کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ قرآن پاک میں خطاب کا اختلاف دراصل مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ کسی جگہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم اور دین تمام انسانوں کے لیے ہے۔ ان پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام کو مانیں اور ان پر عمل کریں۔ تمام احکام کے دنیا اور آخرت میں معتبر ہونے کی شرط ایمان ہے۔ اس لیے خطاب کا اصل فائدہ اہلِ ایمان کو ہے۔ اس لیے اس پہلو کو مدنظر رکھنے کی خاطر   اہلِ ایمان کو خطاب کیا جاتا ہے۔

دنیا میں شریعت کے ایسے احکام جن پر عمل کرنے کا کفار کو فائدہ ہو اور وہ دنیا میں معتبر اور آخرت میں مؤثر ہوں‘ اسلام کا نظام معاملات اور عقوبات اور رفاہی کام ہیں۔ کفار کے معاملات اگر شریعت کے مطابق ہوں تو ان کو فائدہ ہوتا ہے اور وہ شرعاً معتبر ہیں۔ آخرت میں انھیں ان پر ایمان کے بغیر عمل کرنے کی صورت میں نجات تو نہ ہوگی لیکن عذاب میں تخفیف ہوگی۔ ظالم کافر کو زیادہ عذاب ہوگا اور اعتدال پسند اور خوش اخلاق‘ مسلمانوں کے ساتھ اچھے رویے سے پیش آنے والے‘ ان کی خدمت کرنے والے اور رفاہی کاموں میں حصہ لینے والوں کو تھوڑا عذاب ہوگا۔ لیکن ان کی عبادات‘ نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ‘ حج‘ نوافل‘ تلاوتِ قرآن پاک‘ ذکر و اذکار کا کوئی اعتبار نہیں اور ان کا انھیں ثواب بھی نہیں ملتا۔ اس لیے کہ عبادات کے لیے ایمان شرط ہے‘ اور عبادت کا خطاب تمام انسانوں سے ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ(البقرہ۲:۲۱) اے انسانو! اپنے رب کی عبادت کرو۔ عبادت میں نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ ‘حج اور تمام احکام شامل ہیں۔ اس کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ ایمان لائو اور عبادت کرو۔ ایمان کے بغیر اللہ تعالیٰ کا کسی عبادت کا حکم دینا سمجھ میں بھی نہیں آتا۔ باغیوں کو احکام نہیں دیے جاتے ہیں ان کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ بغاوت کو ترک کرو‘ مطیع بن جائو اور پھر تمام احکام بجا لائو۔

اسلام میں تعامل کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ سورئہ توبہ کے بعد سے اب تک کفار کا داخلہ حرم میں بند ہے۔ اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اگر کسی شخص کو کتابیہ سے شادی کرنا ہے تو اسے اس کی شرائط کی پابندی کرنا ہوگی جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسے حرم مکہ اور مدینہ میں نہیں رکھ سکتا۔ اسی لیے وہ دو کاموں میں سے ایک کرسکتا ہے: ۱-حرمین شریفین کی سکونت ترک کردے ۲-یا کتابیہ سے شادی نہ کرے بلکہ کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ کو تو جزیرۃ العرب کی شہریت نہیں مل سکتی‘ انھیں عارضی طور پر حرمین شریف کے مخصوص علاقے حرمِ مکہ و مدینہ کے علاوہ ضرورت اور حاجت کی صورت میں آنے کی اجازت تو ہے لیکن مستقل رہایش اور شہریت حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں ارشاد فرمایا: اَخْرِجُوْا الْمُشْرِکِیْنَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ ’’مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکالو‘‘ (بخاری‘ کتاب الجہاد والسیر‘ باب ھل یستشفع الٰی اھل الذمۃ‘ حدیث رقم ۳۰۵۳)۔ نیز یہ بھی فرمایا: لَاُخْرِجَنَّ الْیَھُودَ وَالنصارٰی مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ حَتّٰی لَا اَدَعُ اِلاَّ مُسْلِمًا ’’میں یہود و نصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکالوں گا یہاں تک کہ اس میں نہیں چھوڑوں گا مگر مسلمان کو‘‘۔ (مسلم‘ کتاب الجہاد والسیر‘ باب اخراج الیہودوالنصارٰی من جزیرۃ العرب‘ حدیث رقم ۱۷۶۷)

موجودہ دور میں سعودی عرب کے جلیل القدر اور عظیم المرتبت مفتیان کرام جناب شیخ عبدالعزیز بن باز اور شیخ عثیمین کے اس موضوع پر مفصل اور مدلل فتاویٰ جاری ہوچکے ہیں۔ (ملاحظہ ہو‘ فتاوٰی ارکان الاسلام‘ فتاوٰی العقیدہ‘ ص ۱۸۷‘ شیخ عثیمین‘ سوال نمبر ۹۸)۔ (مولانا عبدالمالک)

 

ابوالاعلیٰ مودودیؒ: علمی و فکری مطالعہ‘ (مرتبین) رفیع الدین ہاشمی‘ سلیم منصورخالد۔ ناشر:ادارہ معارف اسلامی‘ لاہور۔ صفحات: ۶۴۸۔ قیمت: ۵۰۰ روپے‘ اشاعت: ۲۰۰۶ء۔

سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ، اسلامی تاریخ کی اُن چند نادر شخصیات میں سے ہیں‘ جنھوں نے نہایت نامساعد حالات میں احیاے اسلام اور مسلمانوں کی بیداری کے لیے نہ صرف ایک وسیع علمی اور فکری لٹریچر مہیا کیا‘ بلکہ عملاً ایک ایسی تحریک برپا کی‘ جس کے اثرات پاک و ہند سے آگے عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بقول مرتبین‘ مولانا نے ’’غلبۂ اسلام اور بیداری اُمت کی ایک ایسی شمع روشن کی ہے‘ جس کی روشنی میں قافلۂ اُمت ایک بھرپور ایمان وایقان‘ بلندنگہی‘ عزمِ راسخ اور پورے ثبات و استقامت کے ساتھ منزل کی جانب رواں دواں ہے‘‘۔ پروفیسر خورشیداحمد نے کتاب کے مقدمے میں بجاطور پر مولانا کی تین صلاحیتوں کی نشان دہی کی ہے: انھوں نے احیاے فکرِاسلامی میں عقل اور سائنس کی بالادستی کے بت کو محکم دلائل کے ساتھ توڑا اور الہامی ہدایت کی بالادستی کا اثبات کیا‘ دوسری طرف مغربی سامراج کی سیاسی بالادستی کو چیلنج کیا اور شکست خوردہ ملّت کو روشن مستقبل کی امید دلائی۔ تیسری طرف انھوں نے عملی طور پر ایک ایسی اسلامی تحریک برپا کی‘ جو ان کی فکر اور اُن کے نقشۂ کار کے مطابق کام کر رہی ہے۔

مقالات کا یہ مجموعہ دو حصوں پر مشتمل ہے: ’سید مودودی: مطالعہ اور تجزیہ‘ اور ’سید مودودی: نقوشِ حیات‘۔

پہلے حصے میں ۱۴ مقالہ نگاروں (ڈاکٹر انیس احمد‘ ڈاکٹر محمد یاسین مظہرصدیقی‘ ڈاکٹر محمدعبدالحق انصاری‘ ڈاکٹر عرفان احمد خاں‘ سیدحامد عبدالرحمن الکاف‘ ڈاکٹر چارلس جے ایڈمز‘   ڈاکٹر محمدعمر چھاپرا‘ ڈاکٹر محموداحمد غازی‘ ڈاکٹر زینت کوثر‘ پروفیسر غلام اعظم‘ ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی‘ ڈاکٹرعمرخالدی‘ ڈاکٹر محمد کمال حسن‘ ڈاکٹر فتحی عثمان)‘ اور دوسرے حصے میں ڈاکٹر فضل الٰہی قریشی‘ آبادشاہ پوری‘ رفیع الدین ہاشمی اورسلیم منصور خالد کی تحریریں ہیں۔

ڈاکٹر انیس نے مولانا کے نزدیک ’شریعت کے حرکی تصور‘ پر گفتگو کی ہے۔ مولانا شریعت کو محض چند سزاؤں یا عبادات کی مخصوص صورتوں تک محدود نہیں رکھتے۔ اسلام کا ایک مجموعی مزاج  ہے‘ جو تقسیم ہوکر قائم نہیں رہ سکتا۔ ’علمِ کلام میں مولانا مودودی کے افادات‘ کے عنوان سے ڈاکٹرمحمدعبدالحق انصاری بتاتے ہیں کہ روایتی دینی تعلیم کے بعد مولانا نے مغرب کے عمرانی علوم کی طرف توجہ کی لیکن ان کی فکر کا مرکزِ حوالہ ہمیشہ قرآن مجید ہی رہا: ’’میری اصل محسن بس یہی ایک کتاب ہے‘ اس نے مجھے بدل کر رکھ دیا… ایسا چراغ میرے ہاتھ میں دے دیا کہ زندگی کے جس معاملے کی طرف نظرڈالتا ہوں‘ حقیقت اس طرح برملا مجھے دکھائی دیتی ہے کہ گویا اس پر کوئی پردہ ہی نہیں ہے…‘‘۔(ص ۱۰۳-۱۰۴)

سید حامد عبدالرحمن الکاف نے تفہیم القرآن اور سیدقطب کی فی ظلال القرآن کا تفصیلی تقابلی مطالعہ کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا نے مولانا کے ’اسلامی معاشیات‘ پر افکار پیش کیے ہیں۔ معاشرے میں ناہمواری دُور کرنے کے لیے ’’امیر… ابتدائی مسلم معاشرے کا طرزِ زندگی اختیار کریں‘ اور اپنی حقیقی ضروریات پوری کرکے باقی بچ جانے والی آمدنی (نہ کہ پوری دولت) غریبوں میں تقسیم کردیں‘‘۔(ص ۲۱۶-۲۱۷)

’خواتین کی خوداختیاریت اور سید مودودی‘ کے عنوان سے ڈاکٹر زینت کوثر نے سیدمودودی کے تصور خاندان‘ شادی اور خاوند بیوی کے تعلق پر روشنی ڈالی ہے‘ اگرچہ وہ ان کی فکر پر ’روایت پسندی کے اثرات کی نشان دہی بھی ضروری‘ سمجھتی ہیں۔ (ص ۲۸۳)

پروفیسر غلام اعظم‘ ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی اور ڈاکٹر عمرخالدی نے سید مودودی کی سیاسی فکر کا تجزیہ کیا ہے۔ ان کے علاوہ سید مودودی کی حیات و فکر اور عالمِ اسلام میں اس کے اثرات پر کئی وقیع مقالات ہیں۔ ’اسلام میں قانون سازی اور اجتہاد‘ کے عنوان سے سیدمودودی کا ایک اہم مقالہ اور اس سلسلے میں ڈاکٹر کینٹ ول اسمتھ کی مولانا سے خط و کتابت اس مجموعۂ مضامین کا ایک قیمتی حصہ ہے۔

مرتبین (رفیع الدین ہاشمی‘ سلیم منصور خالد) نے سید کی ’حیات و آثار‘ کے عنوان سے ان کی پیدایش (۱۹۰۳ء) سے آخری آرام گاہ کے سفر (۱۹۷۹ء) تک کے واقعات اختصار کے ساتھ جمع کردیے ہیں۔ ان کی دینی تعلیم کی اسناد اورپاکستان میں پہلی اسیری‘ نیو سینٹرل جیل ملتان سے   ۶ اکتوبر ۱۹۴۹ء کو بیگم کے نام لکھے ہوئے خط کی عکسی نقول اور ان کے فکری اور قلمی آثار کو نہایت سلیقے سے مرتب کر کے شامل کیا ہے۔ یہ کاوش سید مودودیؒ کے طالب علم اور محقق کے لیے یقینا مفید ثابت ہوگی۔(پروفیسر عبدالقدیرسلیم)


تخلیقِ انسان اور معجزاتِ قرآن، کیتھ مور‘ تلخیص و ترجمہ: ڈاکٹر محمد آصف۔ ناشر:   ادارہ اسلامیات‘ ۱۴- وینا  منشن‘ مال روڈ‘ لاہور۔ صفحات: ۱۰۸۔ قیمت: درج نہیں۔

جدید دور کے سائنسی انکشافات کی روشنی میں قرآن کا مطالعہ اہلِ علم کے لیے دل چسپی کا موضوع ہے۔ قرآن نے آیاتِ الٰہی کے عنوان سے جو کچھ بیان کیا ہے‘ وہی دراصل سائنس کا میدان ہے۔ بہت سی ایسی باتیں بیان ہوئی ہیں جن کا ۱۴‘ ۱۵ سو سال پہلے تصور نہیں کیا جاسکتا تھا‘ لیکن اب جدید تحقیقات ان کو سامنے لائی ہیں۔ لیکن اس کو اس انداز سے لینا کہ اس تصدیق سے قرآن کی حقانیت ثابت ہوتی ہے‘ ایک غلط نقطۂ نظر ہے۔ ’سائنسی حقائق‘ تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن قرآن نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اٹل اور تاابد درست ہے۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسلام آباد میں ایک بڑی عالمی کانفرنس ’قرآن اور سائنس‘ کے موضوع پر ہوئی۔ اس موقع پر ایک قیمتی ضخیم کتاب تقسیم کی گئی تھی جو بڑی محنت اور وسائل صرف کرکے یمن کے محترم عبدالمجید زندانی کے زیراہتمام‘ جو اب وہاں کی جامعہ ایمان کے رئیس ہیں‘  تیار کی گئی تھی۔ اس میں کینیڈا کے ایمبریالوجسٹ ڈاکٹر کیتھ مور اور ان کے رفقا نے رحم مادر میں انسانی جنین کی نمو کے بارے میں قرآن میںجو کچھ بیان ہوا ہے‘ ایمبریالوجی کی ایک درسی کتاب میں برموقع شامل کر کے پڑھنے والوں کو یہ بتایا ہے کہ جو سائنسی انکشافات اب ہوئے ہیں‘ ان کی بنیادیات اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بنا پر پہلے ہی بیان کردی ہیں۔ یہ امر بہت سے لوگوں کے لیے ہدایت اور ایمان کا باعث ہوتا ہے۔

تبصرے میں تفصیل میں جانے کا موقع نہیں۔ ڈاکٹر محمد آصف ماہر حیوانیات ہیں اور قرآن کے مطالعے سے شغف رکھتے ہیں‘ انھوں نے اس کتاب کی ایک تلخیص تیار کی ہے جس میںان آیات سے متعلقہ سائنسی معلومات کو وضاحت و تفصیل سے‘ اشکال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔  نطفہ‘ امشاج‘ مضغہ مخلقہ‘ غیرمخلقہ‘ عظٰماً ‘ پھرہڈیوں پر گوشت کا چڑھانا‘ تین پردوں میں نشوونما‘   پھر النشأۃ سب مراحل کا قرآن میں ذکر اور سائنسی تحقیقات کا اس سے تطابق حیران کردیتا ہے۔

ادارہ اسلامیات نے اسے معیاری انداز میں شائع کیا ہے۔ یہ کتاب سائنس خصوصاً میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ایک ضروری اور مفید کتاب ہے۔ اسے ہرمیڈیکل لائبریری میں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر محمد آصف صاحب اس غیرمعمولی کاوش پر مبارک  باد کے مستحق ہیں۔ (ڈاکٹر شگفتہ نقوی)


دنیاے اسلام میں سائنس اور طب کا عروج‘ پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن صدیقی۔  ناشر: نشریات‘ ۴۰-اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۳۵۲۔ قیمت: ۲۴۰ روپے۔

آج کی علم و سائنس کی دنیا میں مسلمان قائد نہیں‘ اس لیے ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو ان کی عظمت رفتہ سے شناسا کیا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ کامیابی اور کامرانی دیانت‘ امانت اور سخت محنت کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔

ہم سب برسوں سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ سائنس اور طب کی دنیا کم و بیش آٹھ صدیوں تک مسلمانوں کے کارناموں ہی سے عبارت رہی۔ پانچ صدیوں تک تو صرف مسلمان ہی نمایاں رہے۔ پروفیسر حفیظ الرحمن نے اپنی کتاب میں اس بارے میں سب تفصیلات کو وضاحت سے یک جا کردیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ معلومات ہیں کہ جب پوری اسلامی دنیا سائنس اور طب کی ایجادات سے جگمگا رہی تھی تو وہ یورپ کا تو تاریک دور تھا ہی‘ دیگر بڑے بڑے ممالک جیسے چین‘ بھارت اور دیگر ممالک میں سائنس دانوں کی تعداد کیا تھی اور ان کے موضوعات کیا تھے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ فی الوقت مسلمانوں کا جو غیرمطبوعہ علمی سرمایہ ہے وہ لاکھوں مخطوطات کی شکل میں کہاں کہاں ہے۔ انھوںنے پاکستان میں بھی ۸۸ہزار مخطوطات کے موجود ہونے کی خبر دی ہے۔

پروفیسر صاحب نے اس کتاب کو چھے ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے باب میں مسلمان سائنس دانوں کی علمی کارگزاریوں کو‘ دوسرے باب میں سائنس اور طب میں مسلمان کی کامرانیوں کو‘ تیسرے باب میں سائنس دانوں اور اطبا کی طبع زاد خدمات کو‘ چوتھے باب میں طب اور اطباے اسلام کے امتیازات اور غیرمسلم اطبا کے ساتھ فراخ دلانہ برتائو کو بیان کیا گیا ہے۔ پانچویں باب میں سائنس اور طب میں دنیاے اسلام اور ہم عصر دنیا کا موازنہ کیا گیا ہے۔ چھٹے باب میں بیان کیا گیا ہے کہ یورپ میں سائنس کی شمع اسلامی دنیا کی شمع ہی سے روشن کی گئی ہے۔

ص ۲۴۰ تا ۲۶۴ ایک جدول دیا گیا ہے جس میں پانچ صدیوں کے نام ور سائنس دانوں کی فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے دی گئی ہے۔ ان کے مضامین اور ان کے بارے میں کچھ   اہم تفصیلات کو بیان کیا گیا ہے۔ اس فہرست پر سرسری نظر ڈالنے ہی سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ  کوئی اہم موضوع ایسا نہ تھا جس پر مسلمانوں نے بھرپور انداز میں کام نہ کیا ہو۔ دوسری جدول  (ص ۳۰۴ تا ۳۱۲) میں مسلمان سائنس دانوں کی ان کتابوں کی فہرست دی گئی ہے جن کے تراجم یورپ کی تمام اہم زبانوں میں کیے گئے۔ یہ فہرست کمیاب ہے‘ اس سے کتاب کی افادیت میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔

یہ کتاب ہماری علمی تاریخ میں ایک بیش بہا اضافہ ہے اور مصنف یقینا قابلِ مبارک باد ہیں۔ (ڈاکٹر وقار احمد زبیری)


اسلام کا خاندانی نظام ‘ خصوصی اشاعت ماہ نامہ ذکریٰ، نئی دہلی۔ مدیراعلیٰ: محمد یوسف اصلاحی۔ ۵۱-جوہری فارم‘ جامعہ نگر‘ نئی دہلی‘ بھارت۔ صفحات: ۲۵۶۔ قیمت: ۳۵روپے (بھارتی)۔

اسلام کے نظامِ رحمت نے اسلامی معاشرت کا بنیادی قلعہ خاندان کو قرار دیا ہے۔ قرآن‘ سنت اور اسلامی تاریخ کے اوراق اس امر پر متفق ہیں کہ خاندان کے نظام کو توازن‘ احترام اور مشاورت کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے معاشرے کے تمام اجتماعی اور انفرادی عناصر کو فعال کردار  ادا کرنا چاہیے۔ خاندان کا زوال معاشرتی انتشار اور بالآخر قومی زوال پر منتج ہوتا ہے۔ مغرب کا منتشر خاندان اور انتشارِ معاشرہ اس کا کھلا ثبوت ہے۔ مگر اس سے کوئی عبرت نہیں پکڑی جاتی۔

بدقسمتی سے مختلف معاصر محوری قوتوں نے اسلام کے خاندانی نظام ہی کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے جس نے بالخصوص جدید تعلیم یافتہ مسلم طبقے کو بلاسبب یا بے خبری کے سبب اپنا مُقتدی بنا رکھا ہے۔ اس بڑے چیلنج کا جواب دینے اور اعتماد و استدلال کی دولت فراہم کرنے کے لیے مولانا محمدیوسف اصلاحی (مصنف: آدابِ زندگی)نے بڑی محنت کے ساتھ یہ جریدہ مرتب کیا ہے‘   جس میں: اسلام کا خاندانی نظام l عورت اور اسلام l نکاح اسلام میں کفو‘ برادری اور جہیز   lتعددِ ازدواج l خاندانی منصوبہ بندی l طلاق‘ خلع اور عدت l نظامِ میراث l تعلیم و تربیت  اور lآزادیِ نسواں کے ابواب میں ۲۶ حضرات کے ۲۹ مضامین پیش کیے گئے ہیں۔

اختصار‘ جامعیت اور مقصدیت کے اعتبار سے یہ ایک قابلِ قدر دستاویز ہے‘ اور بہت سے رسائل کے لیے مثال بھی‘ کہ مختلف چیلنجوں سے نبٹنے کے لیے کیا ادارتی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ زبان آسان اور استدلال مؤثر ہے۔ (سلیم منصور خالد)


مغربی تہذیب کا چیلنج اور اسلام‘ خصوصی اشاعت سہ روزہ دعوت۔ ڈی-۳۱۴‘ ابوالفضل انکلیو‘ جامعہ نگر‘ اوکھلا‘ نئی دہلی ۱۱۰۰۲۵‘ بھارت۔ صفحات: ۳۱۰۔ قیمت: ۳۰ روپے (بھارتی)۔

بھارت کے معروف پرچے دعوت نے وقت کے اہم ترین موضوع پر نہایت محنت سے تیار کی گئی یہ اشاعتِ خاص کتابی سائز میں پیش کی ہے اور حق یہ ہے کہ حق ادا کردیا ہے۔ مغربی فکر‘ عقلیت پسندی‘ اسلام کے بارے میں عزائم‘ تصادم کے اسباب‘ مفاہمت کے امکانات‘ دہشت گردی‘ احیاے اسلام کی تحریکیں اور مغرب‘ حقوق نسواں‘ تہذیبی کش مکش اور دیگر اہم موضوعات پر ۲۱ پُرمغز مقالات میں اہل علم کے قلم سے سب پہلو زیربحث آگئے ہیں۔ خرم مراد (اُمت مسلمہ اور عصری چیلنج)  اور پروفیسر خورشیداحمد (دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ) کے مقالات بھی شاملِ اشاعت ہیں۔ فی الواقع دعوت نے اس اہم موضوع اور اُمت مسلمہ کو درپیش چیلنج کا علمی و فکری انداز میں بھرپور جواب دے کر غوروفکر کا سامان فراہم کیا ہے۔ اپنے موضوع پر ایک مفید علمی اضافہ ۔ (مسلم سجاد)


ماہنامہ آئین‘ لاہور‘ افغان نامہ‘ مدیر: مرزا محمد الیاس۔ فرسٹ فلور‘ اے-۱/۹‘ رائل پارک‘ لاہور۔ صفحات: ۱۵۴۔ قیمت: ۳۲ روپے۔

مظفربیگ مرحوم کا یادگار رسالہ آئین مرزا محمد الیاس کی ادارت میں جاری ہے۔    طالبان کے ازسرنو عروج نے افغانستان کو سرفہرست کردیا ہے۔ زیرنظر شمارہ افغان مسئلے پر ایک خصوصی مطالعہ ہے جس میں سات غیرملکی مصنفین کے مقالات کے ترجمے دیے گئے ہیں۔ ایک مقالہ آپریشن پایدار آزادی (۲۷ صفحات) اور دوسرا خصوصی رپورٹ (۳۰ صفحات) مدیر کے اپنے قلم سے ہیں۔ اس افغان نامہ کا مطالعہ قاری کو افغانستان کے جدید ترین منظرنامے میں عالمی اور علاقائی طاقتوں کے کردار سے بخوبی آگاہ کرتا ہے۔(م - س )


اُردو کا دینی ادب‘ پروفیسر ہارون الرشید۔ ملنے کا پتا: بدر بک سینٹر‘ اُردو بازار‘ کراچی۔ صفحات: ۳۶۰۔ قیمت: ۳۵۰ روپے۔

اس کتاب کے پہلے حصے میں ۱۸۵۷ء تا ۱۹۰۰ء‘ ۱۹۰۱ء تا ۱۹۴۶ء اور ۱۹۴۷ء تا ۲۰۰۰‘ کے تین ادوار قائم کر کے دیوبند‘ ندوہ‘ علی گڑھ سے شروع کرکے اجمالی تاریخی جائزہ لیا گیا ہے اور    تفسیر و سیرت کے میدانوں میں جو کام ہوئے ہیں ان کا تعارف کروایا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں اکابر اہلِ قلم‘ ممتاز مصنفین‘ عہدساز مصنفین‘ محققین اور دورحاضر کے معروف اہلِ قلم کے عنوان سے پانچ باب قائم کرکے مختلف اہلِ قلم کی خدمات کے بارے میں تعارفی مضمون لکھے گئے ہیں۔ مصنف نے ایک نہایت وسیع موضوع کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے اور یوں قاری کو دینی ادب کے وسیع اُفق پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ دینی ادب کو اسلامی ادب کے معنی میں نہیں لیا گیا ہے۔(م - س)

تعارف کتب

  •  معلم القرآن اُردو ترجمہ القرآن الکریم‘ مرتبہ: قاری جاوید انورصدیقی۔ مرکز القادسیہ‘ لیک روڈ‘ چوبرجی‘ لاہور۔ صفحات: ۱۰۳۲۔ ہدیہ:درج نہیں۔ [قرآن پاک کے عربی متن کے نیچے پہلی سطر میں ہر لفظ کا الگ ترجمہ درج کیا گیا ہے لیکن یہ اس طرح ہے کہ آپ پڑھیں تو بامحاورہ محسوس ہوتا ہے‘ یہ اس کی منفرد خوبی ہے۔ تشریح کے لیے جہاں کچھ الفاظ یا جملے دیے گئے ہیں وہ دوسری سطر میں لکھے گئے ہیں۔]
  •  قرآن عظیم‘ اعجاز ‘ تاثیر اور پیغام‘ محمد افضل خان۔ ناشر: اذانِ سحر پبلی کیشنز ‘ منصورہ‘ ملتان روڈ‘ لاہور۔    صفحات: ۱۹۰۔ قیمت: ۸۰روپے۔ [اعجاز قرآن اور تاثیر قرآن کے حوالے سے نومسلموں کی گواہی بیان کی گئی ہے۔ ایک باب میں قرآن کے حوالے سے احادیث بھی دے دی گئی ہیں۔ ایک معیاری کاوش۔]
  •  حضوؐر بہ حیثیت سپہ سالار‘ محمد فتح اللہ گلن‘ ترجمہ: پروفیسر خالد ندیم۔ ناشر: کتاب سراے‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات:۱۶۰۔ قیمت:۱۰۰ روپے۔ [سیرت پاکؐ کے جہادی پہلو پر ایک ترک مصنف کی قابلِ قدر تصنیف کا اُردو ترجمہ جس میں اسلام کے تصور جہاد کا بیان بھی ہے اور غزوات اور جہاد کے ثمرات کا بھی۔]
  •  آب زم زم ‘ دکتور خالد جاد‘ ترجمہ: محمد طیب طاہر۔ نظرثانی: پروفیسر عبدالجبار شاکر۔ ادارہ نشریات‘ ۴۰-اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات:۱۰۴۔ قیمت: ۵۰ روپے۔ [آب زم زم کے بارے میں نہایت قیمتی‘ مستند اور پُراثر معلومات کے ساتھ ساتھ بے شمار ایمان افروز واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔]
  •  جمالِ نور‘ تالیف: عبدالقیوم حقانی۔ ناشر: القاسم اکیڈمی‘ جامعہ ابوہریرہ برانچ آفس خالق آبادہ‘ نوشہرہ‘ سرحد۔ صفحات:۲۹۸۔ قیمت:درج نہیں۔ [علامہ انور شاہ کاشمیری (م: ۱۹۳۳ء) کے اس تذکرے میں ان کی سوانح کے ساتھ ساتھ ان کے کارنامے کا بیان واقعات کی زبان میں کیا گیا ہے۔ قاری نہ صرف ان کی شخصیت کی کشش کو محسوس کرتا ہے بلکہ اس دور یعنی ۱۹ویں صدی کے اواخر اور ۲۰ویں صدی کے اوائل سے آگاہ ہوتا ہے۔]
  •  مسلمان کیوں پس ماندہ ہیں؟ ، فضل کریم بھٹی۔ناشر: اصلاح تعلیم سوسائٹی‘ چکلالہ سکیم نمبر۳‘ راولپنڈی۔ صفحات: ۳۰۳۔قیمت:۲۵۰ روپے۔ [مصنف نے ۲۱ مقالات میں مختلف جہتوں سے اپنے اس مرکزی خیال کو پیش کیا ہے کہ آج مسلمانوں کی اصلاح کے لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ تعلیمی نظام کی اس طرح اصلاح کی جائے کہ جدید و قدیم کی تفریق ختم ہو۔]
  •  مے یو کا مستقبل‘ ناشر: بین الاقوامی منشورات اتحاد‘ پوسٹ بکس نمبر ۸۶۷‘ چٹاگانگ‘ بنگلہ دیش۔ صفحات: ۳۲۔ قیمت: بلامعاوضہ۔ [مسلمانانِ اراکان (برما) کی جدوجہد آزادی کا ایک باب‘ ایک تاریخی دستاویز۔ ۴جولائی ۱۹۶۱ء کو ماؤنگڈو شہر میں حکومت برما کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت مجاہدین کی ہتھیار ڈالنے کی تقریب کی روداد اور حکومتی وعدوں اوریقین دہانیوں کا تذکرہ۔ مجاہدین اور حکمرانوں کے درمیان معاہدوں کی حقیقت جاننے کے لیے ایک اہم دستاویز۔]

 

محمد اسلم سلیمی‘لاہور

ترجمان القرآن کے اشارات بہت تحقیقی اور حالاتِ حاضرہ کے صحیح اور بے لاگ تجزیے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے دل سوزی کے ساتھ حکومت کے اقدامات پر تعمیری تنقید کی جاتی ہے اور قارئین کو رہنمائی کا مفید مواد مل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزاے خیر عطا فرمائے اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے!آمین۔

’حدود اللہ کے خلاف اعلانِ جنگ‘ (دسمبر ۲۰۰۶ء) بہت خوب ہے۔ اس میں جنرل پرویز مشرف کے سیکولر ایجنڈے اور امریکی صدربش کے نام نہاد اصلاحِ اسلام کے کروسیڈ میں آلۂ کار بننے سے لے کر حدود قوانین کے نفاذ کی تاریخ‘ ان پر اعتراضات کی حقیقت‘ خواتین پر مظالم کے جھوٹے پروپیگنڈے کی حقیقت‘ بھارت اور پاکستان میں زنا کے اعدادوشمار‘ برطانیہ میں جرائم کے سروے کے اعدادوشمار‘ پروفیسر چارلس کینیڈی کی تحقیق پر مشتمل ان کی کتاب کے حوالہ جات اور نسواں بل میں حال ہی میں کی گئی قرآن و سنت کے صریحاً خلاف ترمیمات کا    بے لاگ جائزہ چشم کشا ہے‘ اور اس شرم ناک قانون کی منظوری کے خلاف احتجاج اور اس اقدام کو روکنے کے لیے مؤثر جدوجہد کرنے کے سلسلے میں مفید رہنمائی ملتی ہے۔

۷۹-۱۹۷۸ء کی نظریاتی کونسل کے اراکین کے ناموں میں قمرالدین سیالوی‘ فخرالدین شائع ہوگیا ہے‘ تصحیح کرلیں۔

اے ڈی جمیل‘ جھنگ

’جب مہلت ختم ہوجاتی ہے!‘ (دسمبر ۲۰۰۶ء) جہاں جابروں اور سرکشوں کے لیے تنبیہہ ہے کہ خدا کو غافل نہ سمجھو‘ بس ظالم اپنا پیمانہ خوب بھرلیں‘ وہاں ان بزدلوں کے لیے بھی کسی تازیانے سے کم نہیں جو ظلم و تعدّی کے خلاف اقدام سے گریز کرتے ہیں۔ درحقیقت ظلم کے خلاف خاموشی ظالم کی مدد کے مترادف ہے۔ اسلوبِ تحریر بھی بہت مؤثر ہے۔

محمد طاہر سلیم‘ اسلام آباد

’مساجد میں خواتین کی شرکت‘ (دسمبر ۲۰۰۶ء) پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ مساجد میں خواتین کی شرکت اس لیے بھی مفید ہے کہ دین کے مسائل سیکھنے کا ذریعہ مساجد ہی ہیں اور اگر ہم خواتین کو مساجد سے دُور رکھیں گے تو وہ دینی مسائل سے بے بہرہ رہیں گی اور اولاد کی صحیح تربیت بھی نہ کرسکیں گی۔ رہا فتنے کا مسئلہ‘ تو دورحاضر میں تقریباً سب ہی عورتیں اپنے گھریلو ضروریات کے لیے بازاروں میں جاتی ہیں۔ اگر وہاں وہ فتنے سے بچ سکتی ہیں تو مساجد میں کیوں نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے علماے کرام کو اجتہادی صلاحیتیں عطا فرمائے۔ آمین!

سید مصلح الدین احمد‘ کراچی

اخبارات کے مطابق پاکستان میں روزانہ کم از کم پانچ زنا بالجبر (rape) کے واقعات ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض توبین الاقوامی شہرت حاصل کرچکے ہیں۔ ان میں کمسن لڑکیاں بھی شامل ہیں لیکن کسی کو سزا نہیں دی جاتی۔ کوڑے لگانا‘ حد جاری کرنا تو دُور کی بات ہے۔ اب تحفظ حقوق نسواں بل کے ذریعے اسے مزید مشکل بنا دیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں ممبئی ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ چشم کشا اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔

ایک برہمن نوجوان بیوہ کو ایک جنکشن پر دوسری ٹرین کے انتظار میں پلیٹ فارم پر رات کے چند گھنٹے گزارنے تھے۔ ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل اس کو ورغلا کر اپنے کوارٹر میں لے گیا‘ اور وہاں چار آدمیوں :کانسٹیبل‘ پوائنٹس مین‘ اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر اور ٹکٹ کلکٹر نے رات بھر اپنا منہ کالا کیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس مقدمہ دائر کروایا گیا۔ مجسٹریٹ صاحب نے بہ لحاظ روداد مقدمہ ‘اس کانسٹیبل کو حبس بے جا کی علت میں چھے ماہ کی قید کی سزا سنائی اور باقی تین کو بری کردیا۔ گورنمنٹ نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جس پر ممبئی ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے فیصلہ سنایا: ’’روداد مقدمہ ظاہر کرتی ہے کہ ان چاروں نے جن کا فرض تھا کہ بیوہ کو ظلم سے بچاتے‘ اس پردرندگی اور ظلم ڈھایا۔ لہٰذا ہر ایک کو نو‘ نو سال قیدبامشقت کی سزا دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر ایک کو احاطۂ عدالت میں ۲۰‘ ۲۰ کوڑے مارے جائیں‘‘۔ ججوں نے فیصلے میں یہ ریمارکس بھی دیے: ’’قانون میں نہایت زبردست لزوم صواب دید اور ضمیر کا ہوتا ہے نہ کہ قانون کی پرستش کا‘‘۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب کی تنزلی کرکے ان کو عدالتی کام سے فارغ کردیا گیا۔ (ہفت روزہ صدق جدید‘ ۸ جنوری ۱۹۶۰ء)

دانش یار ‘ لاہور

گذشتہ دنوں برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی پاکستان آمد کے موقع پر فیصل مسجد میں ملکی تاریخ میں   پہلی بار ایسا ہوا کہ اسپیکر پر اذان ہی نہ دی گئی۔ روشن خیالی کے اس دور میں ہمیں یہ بھی دیکھنا تھا۔

دوسری طرف تاریخ کا ایک حوالہ یہ بھی ہے اورغوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم ۱۹۶۱ء میں پاکستان کے دورے میں متحدہ پاکستان ڈھاکہ بھی گئیں۔ رمنا میدان میں بلدیہ کے استقبالیے سے ان کے  خطاب کا جب حتمی پروگرام طے پایا تو اس میں نماز مغرب کا وقفہ نہ رکھا جاسکا۔ لیکن کمشنر ڈھاکہ نے رمنا میدان میں وضو اور نماز کا انتظام کیا اور جب خواجہ خیرالدین نائب صدر بلدیہ ڈھاکہ کی تقریر کا بنگالی سے انگریزی میں ترجمہ ہو رہا تھا اور مغرب کا وقت آگیا‘ توملکہ کے ملٹری سیکرٹری کو نماز کا بتاکر کہا کہ ۱۵منٹ کے وقفے کے بعد   ملکہ جوابی تقریر فرمائیں۔ چنانچہ ملکہ نماز کے دوران اسٹیج پر خاموشی سے بیٹھی رہیں اور سب حاضرین نماز کے لیے چلے گئے۔ (نقوشِ حیات‘ منصورکاظم‘ سابق چیف سیکرٹری آزادکشمیر)

 

قوموں کی یہ عجیب فطرت ہے کہ جب ان پر کوئی تباہی آتی ہے تو ہمیشہ اس کے اسباب اپنے اندر تلاش کرنے کے بجاے دوسروں کے اندر ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہیں‘ حالانکہ اس کے اسباب خود ان کے اندر موجود ہوتے ہیں‘ نہ کہ دوسروں کے اندر۔ لیکن جس طرح بعض آنکھیں بند کر کے چلنے والے کسی روڑے سے ٹھوکر کھاکر اپنے آپ کو الزام دینے کے بجاے روڑے کو گالیاں دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سارا قصور اسی روڑے کا ہے نہ کہ ان کی غفلت کا۔ اسی طرح قوموں کا بھی بالعموم یہی حال رہا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ اُس ظاہر ہونے والے طاقت ور ہاتھ کو دیکھا ہے جس کا طمانچا ان کے منہ پر لگا ہے‘ اس بزدلی اور اخلاقی کمزوری کی طرف ان کی نظر کبھی نہیں گئی جس نے دراصل اس طاقت ور ہاتھ کو ان پر حملہ کرنے کی جرأت دلائی اور جس کی اپنے اندر پرورش کرنے کی ۱۶ آنے ذمہ داری خود ان پر عائد ہوتی تھی نہ کہ دوسروں پر۔

قوموں کی اس برخود غلطی کی کھلی وجہیں دو ہیں: پہلی وجہ یہ ہے کہ ان کا قومی غرور اس امر کے  اقرار سے مانع ہوتا ہے کہ ان پر جو تباہی آئی ہے وہ خود ان کی کسی مذہبی و اخلاقی کمزوری کا نتیجہ ہوسکتی ہے… دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون مکافات اس دنیا میں ہمیشہ قوموں کو ان کی غلطیوں کی سزا دوسروں سے دلواتا رہا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ ان کے اعمال و کردار خود مجسم ہوکر ان کے سامنے آجاتے ہوں۔ اس وجہ سے وہ اپنے اعمال و اخلاق پر غصہ ہونے کے بجاے ساری غضب ناکی ان لوگوں پر ظاہر کرتی ہیں جن کا قصور اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کی کمزوریوں سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں جس کے لیے ان کی قوت تقاضا کرتی ہے…

مسلمان اگر دنیا میں ایک قوم کی حیثیت سے جینا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر وہ قومی کردار پیدا کریں جو کسی قوم کی قومی ہستی کا اصلی محافظ ہوتا ہے‘ اور اگر ایک جہانی طاقت بن کر رہنا چاہتے ہیں تو اس نظامِ زندگی کو اختیار کرنے کی ہمت کریں جو اللہ و رسولؐ کا بتایا ہوا ہے۔ ان دونوں چیزوں کے بغیر نہ وہ بحیثیت ایک قوم کے زندہ رہ سکتے نہ بحیثیت ملت کے برپا ہوسکتے۔ اس کے بغیر نہ کوئی زمین ان کو پناہ دے گی‘ نہ کوئی آسمان ان کو اپنے سایے کے نیچے لے گا۔… (’رسائل و مسائل‘، مولانا امین احسن اصلاحی، ترجمان القرآن‘ جلد ۳۰‘ عدد ۲‘ صفر۱۳۶۶ھ‘ جنوری ۱۹۴۷ء‘ ص ۶۶-۶۹)