مضامین کی فہرست


مئی۲۰۰۵

۱۵ اپریل ۲۰۰۵ء کا دن شاہ مراکش محمد السادس کے لیے خوشی کا دن تھا۔ آج اس کے پہلے اور اکلوتے بیٹے مولای الحسن کے ختنے کا جشن تھا۔ ’’خوشی‘‘ کے اس اہم موقع پر خزانے کا منہ تو کھلنا ہی تھا‘ جیلوں کے دروازے بھی کھول دیے گئے اور مراکش کی مختلف جیلوں سے ۱۷۹,۷ قیدی رہا کردیے گئے۔ پورے ملک میں مبارک سلامت کا شور اٹھا۔ بادشاہ سلامت اور نومختون ولی عہد کی خدمت میں تحائف دینے کے لیے خصوصی جلوس نکالے گئے اور مملکت مراکش میں امن‘ اخوت‘ انصاف‘ جمہوریت اور ترقی کے نئے باب رقم ہوگئے۔

خوشی اور اظہارِ خوشی ایک فطری امر ہے لیکن اپنی ہاشمی نسبت پر فخر کرنے والے مراکش کے شہنشاہ نے دنیا کو اسلام کے اعتدال اور حقوقِ انسانی کی پاسداری کی عملی تصویر دکھائی ‘کسی کو یہ   بے محل سوال نہیں کرنا چاہیے کہ اگر صاحبزادہ صاحب کا ختنہ نہ ہوتا تو یہ ۱۷۹,۷ قیدی مزید کتنا عرصہ جیلوں میں ہی سڑتے رہتے اور یہ کہ مزید کتنے ہزار قیدی کسی ایسی ہی ’’مبارک‘‘ تقریبِ ختنہ کے منتظر رہیں گے۔

امریکا بہادر اس وقت دہشت گردی کے خلاف اپنی عالمی جنگ کے اہم مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ عراق اور افغانستان کی طرح عسکری قبضہ بھی اس جنگ کا حصہ ہے اور نام نہاد     روشن خیالی و اعتدال پسندی کی وسیع لہر بھی اس جنگ کا لازمی جزو ہے۔ عراق میں اسے کیا فتوحات ملیں اس کا جائزہ ذراآگے چل کر‘ لیکن پہلے ذرا اس کی وسیع تر جنگ کی ایک جھلک۔ یہ جنگ سیاست‘ ثقافت‘ ذرائع ابلاغ اور تعلیم کے میدان میں لڑی جا رہی ہے۔ شرق اوسط اس کا مرکزی میدان ہے لیکن اس کی حدود مراکش سے ترکی اور برعظیم تک پھیلا دی گئی ہیں۔ پالیسی ساز امریکی اس پورے خطے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ ہر جگہ ایک ہی کلچر ہو‘ یکساں نظام تعلیم ہو جس میں کہیں ’’نفرت‘‘ کا پرچار نہ ہو۔ (جہاد کی فضیلت اور مشرکین و یہود کی اصل تصویر دکھانا نفرت پھیلانا ہے)۔ وسیع تر شرق اوسط میں سیاسی اصلاحات اس طور کی جائیں کہ ہر جگہ روشن خیال حکومتیں قائم ہوں۔ ان حکومتوں کے ذریعے عوام بالخصوص نوجوان نسل کے دل و دماغ تک رسائی حاصل کی جائے تاکہ امریکا کے خلاف نفرت کا تناسب کم ہو‘ کیونکہ اسی نفرت سے بالآخر دہشت گردی جنم لیتی ہے۔

وسیع تر اصلاحات کی ضرورت پر سب سے زیادہ زور اس وقت سعودی عرب‘ شام‘ ایران اور مصر پر دیا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب ’’القاعدہ‘‘ کا گڑھ اور اصل مسکن ہے۔ یہاں کا نظامِ تعلیم انتہائی بنیاد پرست ہے جس میں قرآنی آیات و احادیث نبویؐ کی بھرمار ہے۔ سعودی نوجوان براستہ شام عراق میں بھی دہشت گردی کر رہے ہیں۔ شام ان سے چشم پوشی کے علاوہ فلسطینی دہشت گرد تنظیموں حماس اور جہاد اسلامی کو پناہ دیے ہوئے ہے اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجوں کو نکال باہر کرنے والی ’دہشت گرد‘ تنظیم حزب اللہ کا پشتیبان ہے۔ شام کے تعلقات ایران سے بھی بہت مضبوط ہیں اور ایران ایٹمی اسلحہ بنارہا ہے ۔ اس سے دوستی بھی یکساں جرم ہے (البتہ عراق میں لائی جانے والی شیعہ حکومت سے ایران کے قریبی تعلقات اس وقت ہماری ضرورت ہیں‘ ان پر فی الحال کوئی اعتراض نہیں)۔ مصر نے شرق اوسط کے نقشے میں رنگ بھرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن ایک تو بوڑھا حسنی مبارک اب مفلوج ہوتا جا رہا ہے اور روسی صدر بورس یلسن کی طرح عوامی تقریبات میں لڑکھڑا چکا ہے۔ دوسرے‘ مصری عوام کی اکثریت اس کے ۲۴سالہ اقتدار سے تنگ آچکی ہے۔ مضبوط تر ہوتی ہوئی اسلامی تحریکیں تو پہلے ہی سے مخالف تھیں۔ اب وہ سیکولر اور خالص امریکی لابی کا اعتماد بھی کھوچکا ہے‘ اور پھر یہ کہ مسئلہ فلسطین میں مصر کا مطلوبہ کردار اب کولہو کے بیل کا سا رہ گیا ہے۔ مخصوص غلام گردشوں میں خدمات انجام دینے کے علاوہ وہ فلسطین و یہود تنازعے میں مزید کیمپ ڈیوڈ معاہدے کرنے کے قابل نہیں رہا۔

امریکی پالیسی ساز اور تنفیذی مراکز آئے روز بیانات دے رہے ہیں کہ ’’خطے میں تبدیلیوں کی ہوا چل پڑی ہے‘ اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اکلوتی عالمی قوت ہونے کے ناطے یہ اصلاحات امریکا کی ذمہ داری ہے‘‘۔ ’’افغانستان، عراق اور فلسطین میں ہونے والے انتخابات آغاز ہیں۔ اب پورے شرق اوسط میں ’آزادانہ‘ انتخابات ہوں گے‘‘۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ’’وسیع ترشرق اوسط میں اصلاحات ہماری دفاعی ضرورت ہیں‘‘۔ امریکا نے پٹرول کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے تمام خلیجی ریاستوں میں اپنے مستقل فوجی اڈے قائم کر دیے‘ عراق پر براہ راست قابض ہوگیا‘ لیکن اپنا دفاع یقینی نہ بنا سکا۔ امریکا کے خلاف عوامی نفرت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی نفرت کی لہر سے بالآخر ’دہشت گرد‘ گروہ جنم لیتے ہیں۔

عوامی نفرت کے عوامل کا جائزہ لیتے ہوئے امریکی پالیسی ساز یقینا کئی تلخ حقائق تک پہنچے ہوں گے لیکن اپنی اکثر تحریروں اور تجزیوں میں نصف سچ بولنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیونکہ ان عرب ممالک میں گھٹن ہے‘ عوام کی آزادیاں مسلوب ہیں‘ اور امریکا کے حواری  مسلم حکمرانوں نے اپنی اپنی ڈکٹیٹرشپ قائم کی ہوئی ہے‘ اس لیے ان کے خلاف عوامی نفرت کا بڑا حصہ خود امریکا کو بھی پہنچتا ہے۔ پھر نصف مرض کا نصف علاج یہ تجویز ہوتا ہے کہ ان ممالک میں اصلاحات لائی جائیں۔ یہ اصلاحات کیا ہیں؟ اہلِ پاکستان کے لیے انھیں سمجھنا دیگر اقوام کی نسبت کہیں آسان ہے۔ امریکا پاکستان میں جامع اصلاحات کا علم بردار ہے۔ ’روشن خیال اسلام‘ سے لے کر شان دار اقتصادی ترقی کے دعووں‘ انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی جیسے مخصوص میدانوں میں ٹکنالوجی کے فروغ‘ حقیقی جمہوریت کے فروغ اور ہمہ پہلو ثقافتی یلغار سمیت تمام اصلاحی اقدامات کا جادو پاکستان میں سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ میراتھن اور بسنت سے لے کر ایئرفورس کی پیشہ ورانہ تیاری تک‘ ہر جگہ اختلاط مرد و زن ہی کو ترقی و روشن خیالی کا لازمی جزو قرار دیا جا رہا ہے۔ فوجی وردی کو اقتدار و اختیار کا گھنٹہ گھر بنا دینے کے باوجو د دعویٰ و اصرار ہے کہ ملک میں مثالی جمہوریت کا دوردورہ ہے۔ آغا خان فائونڈیشن کی سرپرستی میں بے خدا تہذیب اور لامذہب نسلیں تیار کرنے کو تعلیمی انقلاب کا پیش خیمہ اور امریکی امداد کا ضامن ثابت کیا جا رہا ہے۔

کچھ ترامیم کے ساتھ یہی ماڈل دیگر مسلم ممالک پر بھی مسلط کیا جا رہا ہے۔ امریکی   پالیسی ساز آنے والے دور میں ایران‘ عراق‘ مصر اور سعودی عرب کے علاوہ چھوٹی عرب ریاستوں کو بھی بے حد اہمیت دے رہے ہیں۔ امارات‘ قطر‘ بحرین‘ کویت‘ اُردن‘ عمان اور یمن سے     اہم ترین دفاعی معاہدے کیے جاچکے ہیں اور مزید کیے جا رہے ہیں۔ کچھ نہ کچھ اصلاحات ان ممالک میں بھی کی جارہی ہیں لیکن اس یقین دہانی کے ساتھ کہ کئی کئی عشروں سے برسرِاقتدار خاندانوں کا اقتدار باقی رہے گا۔ بلدیاتی ادارے اور نصف منتخب‘ نصف نامزد پارلیمنٹ دیکھنے کو ملیں گی۔ عوام کسی نہ کسی حد تک آزادی اظہار بھی پائیں گے۔ ذرائع ابلاغ صرف ریاستی کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔ امریکی وزارت دفاع اور وزارت خارجہ بھی اپنے ابلاغیاتی ادارے متعارف کروائیں گی۔ نوجوانوں کو مغربی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے خود ان ریاستوں میں امریکی و مغربی تعلیمی اداروں کی شاخیں قائم کی جائیں گی‘ اور امریکی ٹیکس دہندگان کو باور کروایا جائے گا کہ شرق اوسط میں آزادی و جمہوریت کا طوطی بول رہا ہے۔ رہے مصر‘ سعودی عرب اور ایران جیسے بڑے ممالک‘ تو ان میں سے ہر ملک کے لیے مختلف فارمولا وضع کرنا ہوگا۔ ایران میں اصلاحات کا اصل مقصد ایٹمی خطرے سے بچائو اور بنیاد پرستوں کے اختیارات میں کمی ہے۔ مصر میں تاریخی اور مقبول تحریک اخوان المسلمون اور سعودی عرب میں دین پسند طبقے کی بھاری اکثریت کی وجہ سے ادھوری جمہوریت کا سفر بھی امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس لیے جائزہ لیا جارہا ہے کہ کہاں کس خطرے کو برداشت کرلینا کم نقصان دہ ہے۔

شرق اوسط میں اصلاحات کے اس سفر میں جہاں حکومتوں پر دبائو‘ اپنی فوجی قوت کی نمایش‘ صدام حسین کی تصویریں دکھا دکھا کر اس کے انجام تک پہنچا دینے کی دھمکی اور ’’جو ہمارے ساتھ نہیں ہمارے خلاف ہے‘‘ کا فارمولا آزمایا جا رہا ہے‘ وہیں غیر حکومتی تنظیموں کے وسیع تر ہوتے ہوئے جال کو بھی کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے ذریعے حکومتی ایوانوں تک رسائی کے علاوہ ان ممالک میں پائے جانے والے ایسے عناصر کو مالی طور پر نوازا اور متحرک کیا جا رہا ہے جو گھر کے بھیدی ہونے کا مقام و مرتبہ پاسکیں۔ یہ عناصر صحافیوں‘ کالم نگاروں‘ دانش وروں اور یونی ورسٹی کے اساتذہ کے علاوہ بے روزگار و غیرمطمئن نوجوان بھی ہوسکتے ہیں۔

شرق اوسط میں اصلاحات کی راہ میں درپیش رکاوٹوں کی فہرست بھی مختصر نہیں ہے لیکن اس میں سرفہرست عراق کی بگڑتی ہوئی صورت حال ہے۔ فلسطین کے حالات بھی کم گمبھیر نہیں اور جب تک فلسطین‘ کشمیر‘ جنوبی سوڈان جیسے تنازعے اپنے یا اپنے حلیفوں کے مفادات کے مطابق حل نہیں کرلیے جاتے‘ نوجوانوں میں جہاد کا جذبہ سرد نہیں کیا جاسکتا۔ عراق میں اگرچہ ’’انتخابات کے انگاروں پر جمہوریت کا ماتم‘‘ کیاجاچکا ہے لیکن وہاں مزاحمت کا جِن واپس بوتل میں بند کرنا      فی الحال کسی دنیاوی طاقت کے بس کی بات نہیں ہے۔

لندن سے شائع ہونے والے ہفت روزہ رسالۃ الاخوان نے البصرہ نیٹ کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جو امریکی ریٹائرڈ فوجیوں کے ایک تحقیقی سنٹر نے تیار کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق عراق میں زخمی یا اپاہج ہوکر کسی فوجی خدمت کے لیے ناکارہ ہوجانے والے فوجیوں اور ’’فوجنوں‘‘ کی تعداد ۴۸ ہزار ۷ سو ۳۳ ہوچکی ہے‘ جب کہ مختلف نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوجانے والوں کی تعداد بھی ۱۲ہزار ۴ سو ۲۲ ہے۔ اس جنگ میں ہلاک ہوجانے والوں کی تعداد پینٹاگون نے ۱۵۰۰ بتائی ہے لیکن اس رپورٹ کے تیار کرنے والوں نے وزارت دفاع سے سوال کیا ہے کہ اگر دیگر ذرائع کے اصرار پر یقین نہ بھی کیا جائے کہ امریکی فوجیوں پر ہونے والے حملوں کی تعداد ۲۵۰ سے ۳۰۰ حملے روزانہ ہے اور آپ کی بات پر اعتبار کر لیا جائے کہ روزانہ حملوں کی تعداد ۸۰سے ۱۲۰حملے ہے‘ تب بھی ۱۵۰۰ کی تعداد‘ حقیقت سے کوسوں دُور ہے۔ ان سابق فوجیوں کے مطابق مرنے والے امریکیوں کی تعداد اب تک ۲۰ ہزار سے متجاوز ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی اقتصادیات کی صورت بھی دگرگوں ہے۔ ۱۹۷۱ء میں امریکی بجٹ میں خسارہ چھے ارب ڈالر کے قریب تھا جو ۱۹۹۳ء میں ۳۴۰ ارب ڈالر ہوگیا۔ کلنٹن کے دور میں عراق کویت جنگ کا اسلحہ خلیجی ریاستوں کے سرتھوپ دینے کے باعث یہ خسارہ ۶۰ ارب ڈالر رہ گیا لیکن بش جونیئر کے زمانے میں پھر یہ خسارہ ۳۰۰ ارب ڈالر تک جاپہنچا۔ عراق میں بڑھتے ہوئے جنگی اخراجات کے باعث یہ خسارہ آیندہ برس ۷۰۰ ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ (رسالۃ الاخوان‘ شمارہ ۴۰۹‘ یکم اپریل ۲۰۰۵ئ)

اس عراقی صورت حال کے تناظر میں خود امریکی تجزیہ نگار لکھ رہے ہیں کہ فی الحال امریکی اصلاحات کا سفر کسی کھلی شاہراہ کے بجاے اندھیاری پگڈنڈیوں پر ہی جاری رہے گا۔ البتہ گاہے بگاہے دنیا کو روشن خیالی اور عالمِ عرب میں جمہوریت و آزادیوں کی خبریں چھن چھن کر ملتی رہیں گی۔امریکا بہادر اعلان کرتا رہے گا کہ مراکش اور چھوٹی عرب ریاستوں کا سفرِ جمہوریت خوش آیند ہے۔ دوسروں کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔ اپنے عوام کو قید سے رہائی دینی چاہیے‘ خواہ ہزاروں لوگوں کی یہ رہائی ’’تقریبات ختنہ‘‘ ہی سے مشروط کیوں نہ ہو۔

کاروبار میں احتیاط کا پہلو

سوال: ہمارا آبائی کاروبار جنرل سٹور کا ہے۔ شہر کا سب سے بڑا کاروباری ادارہ ہے۔ جب میں تعلیم سے فارغ ہو کر کاروبار میں آیا تو کچھ عرصہ سٹور پر بیٹھنے کے بعد میں نے یہ کاروبار جاری رکھنے سے انکار کر دیا۔ خواتین سے بات چیت‘ دن رات کی مصروفیت اور صبح شام روپے پیسے کی آمدورفت انتہائی خطرناک کام محسوس ہوا۔ انتہائی سوچ سمجھ کر پرنٹنگ پریس کا انتخاب کیا کہ وقت بھی کھلا مل سکتا ہے‘ خواتین سے بھی واسطہ نہیں پڑے گا‘ لہٰذا سکون سے دال روٹی چلتی رہے گی۔ پریس لگ گیا اور ماشاء اللہ بہت کامیابی ملی‘ تاہم اس میں چند چیزیں ایسی ہیں جو غور طلب ہیں۔

۱- ہمارے کاروبار کا زیادہ دارومدار شادی کارڈوں کی اشاعت پر ہے۔ کیا ایسے شادی کارڈ بیچنا جائز ہیں جن پر تصاویر ہوتی ہیں؟ اس کو ایک بڑے اہلحدیث عالم نے جائز کہا تھا کہ یہ مصوری نہیں ہے۔ پھر یہ تصاویر آپ خود پرنٹ نہیں کرتے بلکہ چھپے چھپائے کارڈوں پر شادی کا مضمون لکھ دیتے ہیں۔ بہت سے جید علما ان تصاویر کو جائز بھی قرار دیتے ہیں۔ اگر یہ حرام ہے تو ایسی ہر چیز بیچنی حرام ہے جس پر تصویر ہو۔ مگر اب تو ہر چیز کی پیکنگ پر تصاویر ہیں۔

۲- ہمارے کام کا دوسرا بڑا حصہ حکومتی کاموں کا ہوتا ہے۔ کیا کسی ایسی حکومت کے کسی ادارے کا کام کیا جاسکتا ہے جو اللہ کی نافرمانی پر قائم ہو؟ مثلاً محکمہ اوقاف وغیرہ۔

۳- ہمارے کاروبار کا تیسرا بڑا حصہ پوسٹرز کی طباعت پر مبنی ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ایسے پوسٹر نہ شائع کیے جائیں جن پر شرکیہ جملے‘ فرقہ پرستی کی دعوت ہو‘ نیز فلمی پوسٹر اور میوزک سنٹر کے اشتہارات‘ دیگر چھاپ دیتے ہیں۔

۴- ہمارے علاقے میں ایصالِ ثواب کے لیے منعقدہ محافل‘ مثلاً قل خوانی‘ رسم چہلم کے کارڈ اس میں کوئی شرکیہ کلمہ نہیں ہوتا‘ چھاپتے ہیں۔ البتہ ہم ایسے دعوت نامے بھی احتیاطاً شائع نہیں کرتے جن کے بارے میں گمان ہو کہ یہاں خلافِ شریعت بات ہوگی۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں شائع کردہ کارڈوں اور پوسٹروں وغیرہ کے تحت ہونے والی محفلوں اور تقریبات میں جو خلافِ شریعت کام ہوں گے ان کے ہم بھی ذمہ دار ہوں گے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ کیا ہماری کمائی جائز ہے؟ ان حالات میں کیا کیا جائے؟

جواب: تجارت اور بالخصوص ایسی تجارت جس میں شعوری طور پر آپ نے محنت کے ساتھ حلال رزق کے حصول کے لیے کسی شعبے کا انتخاب کیا ہو لائقِ تحسین ہے بلکہ اگر اس انتخاب میں کم تر برائی کا فقہ کا قاعدہ بھی پیش نظر ہو‘ جب بھی اس کا اختیار کرنا شریعت کے اصولوں کی پیروی میں شمار کیا جائے گا۔ آپ نے آخر میں جو سوالات اٹھائے ہیں ان میں سے جن کا تعلق کمائی کی حیثیت اور اس کے استعمال سے ہے‘ ان کا جواب مندرجہ بالا اصول سے خود بخود سامنے آجاتا ہے۔

جہاں تک سوال ایسے مواد کی اشاعت کا ہے جس پر آپ نے آپ کے بقول جید     اہلِ حدیث علما سے فتویٰ حاصل کیا ہے اوروہ ایسے مواد کی اشاعت کو ناجائز یا حرام نہیں کہتے‘ تو پھر آپ کو چاہیے کہ بار بار اس پر غورکرنے کے بجاے ان علما کی رائے اور تفقہ فی الدین پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے وقت کو مثبت اور تعمیری فکر میں لگائیں‘ اور اپنے وقت کا استعمال معروف اور بھلائی کے پھیلانے اور برائی کو روکنے میں صرف کریں۔

ایسے مواد کی اشاعت جس میں ایسی تقریبات کی دعوت ہو جو آپ کے نقطۂ نظر سے مناسب نہیں ہیں لیکن بعض مخلص اور دینی علم رکھنے والے افراد کی تعبیر آپ سے مختلف ہے اور وہ اسے جائز سمجھتے ہیں‘ تو ایسے تمام معاملات کو بظاہر مشتبہ سمجھا جائے گا ۔ حدیث میں ایسے مشتبہ معاملات سے جہاں تک ممکن ہو بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ مشاعرہ ہو یا دنگل یا محفلِ نعت اور سیرت پاکؐ کا جلسہ‘ ان میں بظاہر کسی شریعت کے اصول کی تردید نہیں ہوتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خودکشتی میں حصہ لیا ہے اور سنت کی بنا پر اس کا جواز موجود ہے۔ ہمارے اسلاف علما نے اس پر عمل بھی کیا ہے۔ یہ ایک الگ سوال ہے کہ کشتی میں لباس کی شکل کیا ہو اور سترعورۃ کی پابندی کرائی جائے۔

البتہ جہاں معاملہ شرک اور کفر کا ہو وہاں آپ کو تجارتی اخلاقیات کے پیشِ نظر یہ حق حاصل ہے کہ بعض کاموں کے لیے ایک تحریری پالیسی بنا کر رکھ لیں کہ اس قسم کے کاموں کو قبول نہیں کریں گے اور اس میں کسی کو آپ سے شکایت نہیں ہوگی۔ ہاں‘ یہ خیال رہے کہ فقہی مذاہب میں اختلاف کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ آپ صرف اپنے مکتب فکر سے وابستہ افراد کو حق پر اور باقی سب کو گمراہ اور غیرحق پر سمجھتے ہوئے کسی اور مقام پر رکھ دیں۔ دین رواداری اور اختلاف کو برداشت کرتے ہوئے باہمی اخوت اور مواسات کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ اصول تجارت میں بھی استعمال کرنا ہوگا۔

اس گمان کی بنا پر کہ کسی محفل میں لازماً خلافِ شریعت بات ہی کہی جائے گی‘ محفل کا  دعوت نامہ چھاپنے سے انکار کرنا ایسا ہی ہے کہ وزیرآباد کے کاریگر چاقو بنانا اس لیے بند کر دیں کہ بعض عاقبت نااندیش اور گمراہ حضرات چاقو کو قتل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو ظاہری برائی سے پرہیز کیجیے اور اگر کہیں کوشش کے باوجود کوئی بھول ہو جائے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے استغفار کیجیے۔ وہ سب سے زیادہ رحیم و کریم اور عفو و درگزر کرنے والا ہے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)


حصولِ علم کے لیے خواتین کا سفر و قیام

س: ہم میڈیکل کی طالبات گرلز ہاسٹل میں رہتی ہیں۔ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عورت اپنے محرم کے بغیر تین دن اور رات کا سفر اکیلے نہیں کر سکتی۔ اس طرح تو ہم یہاں رہ کر جتنا بھی کام کریں‘ سب کا سب بغاوت یا حدود توڑنے کے ضمن میں آئے گا۔ کیا ایک بالغ عورت اپنے محرم کے بغیر دین یا دنیا‘ کسی بھی قسم کے علم کے حصول کے لیے گھر سے باہر رک سکتی ہے؟

ج: آپ نے اپنے سوال میں دو باتوں کو خلط ملط کر دیا ہے۔ جہاں تک کسی ایسے مقام تک سفر کا تعلق ہے جس میں تین دن رات کی مسافت درپیش ہو‘ حدیث میں بات کو واضح کر دیا گیا ہے۔ اور اگر معمولی سا غور کر لیا جائے تو اس کی حکمت سمجھ میں آجاتی ہے کہ ایسے سفر کے دوران ایک مسلمہ کو تنہا ہونے کی صورت میں ایسے ممکنہ حالات پیش آسکتے ہیں جن میں وہ محرم کے ساتھ ہونے کی شکل میں اپنے آپ کو تکلیف‘ پریشانی اور خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان کی سہولت اور آسانی کے پیشِ نظر اسلام کی سفری اخلاقیات میں نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کے لیے بھی یہ تجویز کیا گیا ہے کہ اگر وہ دو افراد بھی ہوں تو اپنے میں سے بہتر کو اپنا امیر بنالیں تاکہ سفر کے دوران نظم و ضبط برقرار رہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں خواتین کی نام نہاد حریت کے باوجود خود مغرب میں خواتین کو تنہائی کی بناپر جن خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ سفر کے حوالے سے اس ارشاد نبویؐ کی عملی تصدیق کرتے ہیں۔

دوسری بات جو آپ کے سوال میں اٹھائی گئی ہے وہ یہ کہ اگر ایک خاتون تین دن رات کی مسافت طے کرکے یا اس سے کم یا زاید مسافت طے کر کے کسی محفوظ مقام پر سکونت اختیار کرتی ہے‘ تو کیا اس سکونت پر سفر کا حکم لگے گا؟ اگر آپ اپنے سوال پر غور کریں تو طالبات کا ہاسٹل سکونت کی تعریف میں آئے گا جس پر کسی حدیث میں پابندی نہیں لگائی گئی۔ اسے یوں سمجھیے کہ اگر کوئی خاتون تنہا حج کے لیے جانا چاہے تو سوائے فقہ جعفریہ کے بقیہ فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ اس کے ساتھ  محرم ہونا چاہیے۔ اس کی حکمت واضح ہے۔ لیکن اگر ایک خاتون خواتین کی ایک جماعت کے ساتھ سفر کررہی ہو اور ان میں سے کسی کے ساتھ اس کا محرم ہو تو اکثر فقہا کو ایسے سفر پر کوئی اعتراض    نہیں ہے۔

یہ بات معلوم ہے کہ حصول علم ایک دینی فریضہ ہے جس میں وہ علوم بھی شامل ہیں جو خواتین کی جان‘ دین‘ عقل اور نسل کے بقا و تحفظ کے لیے ضروری ہیں‘ مثلاً بعض خواتین کا طب کے عمومی شعبہ‘ بعض کے شعبۂ اطفال‘ بعض کے شعبۂ بصارت‘ بعض کے شعبۂ بچگان‘ بعض کا شعبۂ قلب میں تخصص حاصل کرنا ایک فرضِ کفایہ ہے۔ اسی طرح قرآنی علوم‘ علوم الحدیث‘ علم الفقہ وغیرہ کے حوالے سے بھی خواتین کو حصولِ علم سے بری الذمہ نہیں کیا گیا۔ ان تمام علوم کے حصول کے لیے سفر کرنا بمنزلہ عبادت ہے۔ اور اگر حصولِ علم کے لیے وہ گھر سے دُور بھی ہوں‘ لیکن سکونت محفوظ ہو تو اس میں کسی بھی پہلو سے کوئی غیرشرعی فعل صادر نہیں ہوتا۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ علم کا مجموعی حصول قرآن و سنت کے واضح مطالبات میں سے ایک مطالبہ ہے۔ اس لیے نہ یہ بغاوت ہے‘ نہ حدود کا توڑنا‘ نہ شریعت کی خلاف ورزی بلکہ مقاصد شریعہ کے حصول کے لیے ایسا کرنا بعض صورتوں میں فرضِ عین اور بعض میں فرضِ کفایہ‘ دونوں کی تعریف میں آتا ہے۔ حلال و حرام کا علم چاہے باب طہارت میں ہو‘ طب و جراحت میں یا معیشت و معاشرت میں‘ اس کا حصول فریضہ ہے‘ اور مصلحت عامہ کے پیشِ نظر خصوصی میدانوں میں چند افراد کا حصول علم فرضِ کفایہ۔ ظاہر ہے جو عمل اس نوعیت کا ہو وہ دین داری کا عمل ہے جسے شریعت کے منافی کہنا عقلی اور نقلی‘ دونوں حیثیت سے مناسب نہیں ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب! (ا-ا)


دھات سے بنی اشیا کا استعمال اور نماز

س: سونے ‘چاندی ‘ پیتل ‘ کانسی وغیرہ کی انگوٹھی یا بٹن یا گھڑی کی چین پہن کر مرد کا نماز پڑھنا درست نہیں ہے ۔ اس حوالے سے ایک پوسٹر مساجد میں آویزاں کیا جارہا ہے جس میں مختلف فتووں کو جمع کیا گیا ہے (پوسٹر منسلک ہے)۔آپ وضاحت فرمایئے کہ کیا دھات کی بنی اشیا پہن کر مردوں کا نماز ادا کرنا جائز ہے؟

ج: دھات سے بنی ہوئی گھڑی کی چین اور زنجیر کو پہننا ممنوع اور پہننے والے کی نماز اور امامت کو مکروہ تحریمی کہنا صحیح نہیں ہے۔ اشتہار میں جو احادیث ذکر کی گئی ہیں وہ انگوٹھی سے متعلق ہیں‘ گھڑی کی چین اور زنجیر سے متعلق نہیں۔ اگر لوہے اور دوسری دھاتوں سے بنی ہوئی چین یا زنجیر ممنوع ہوجائے تو اس سے لازم آئے گا کہ خود گھڑی بھی ممنوع ہوجائے‘ اس لیے کہ وہ بھی تو لوہے یا کسی دوسری دھات کی بنی ہوئی ہوگی۔ اسی طرح لازم آئے گا کہ لوہے اور دھاتوں سے بنی ہوئی تمام اشیا کا استعمال ممنوع ہوجائے جو قطعاً باطل ہے۔

شریعت کا اصول یہ ہے کہ حرام وہ چیز ہوگی جسے حرام کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ باقی چیزیں حلال ہوں گی۔ چونکہ گھڑی کی چین اور زنجیر جو لوہے یا دھات سے بنی ہوئی ہوں‘ کی حُرمت کا ذکر قرآن و حدیث میں نہیں آیا‘ اس لیے یہ حلال ہوں گی اور ان کو پہن کر نماز پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ رہی انگوٹھی توا س کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات سے حُرمت نکلتی ہے‘ جیسے کے اشتہار میں ذکر کی گئی روایات سے ثابت ہوتا ہے اور بعض سے لوہے کی انگوٹھی کا جواز بھی نکلتا ہے۔ مشکوٰۃ میں پہلے حضرت بریدہؓ کی اس روایت کا ذکر ہے جو اشتہار میں سب سے پہلے درج کی گئی ہے اور اس کے بعد فرمایا: وقال محی السنۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی وقد صح عن سھل بن سعد فی الصداق ان النبیؐ قال لرجل التمس ولو خاتمًا من حدید (مشکوٰۃ‘ باب الخاتم‘ ج ۴‘ ص ۳۰۱) ’’کہا ہے محی السنۃ رحمہ اللہ علیہ نے اور سہل بن سعد سے مہر کے بارے میں صحیح روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: تلاش کرو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو۔ اس روایت کو صاحب  مشکوٰۃ نے پہلی روایت کے بعد ذکر کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ لوہے یا دھات کی بنی ہوئی انگوٹھی پہننا حرام نہیں بلکہ مکروہ تنزیہی ہے‘‘۔ (مظاہر حق جدید‘ ج ۴‘ ص ۳۰۱)

اس لیے یہ پوسٹر بلاجواز ہے اور لوگوں کو بلاوجہ پریشان کرنے کا باعث ہے۔ اس کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ علامہ غلام رسول سعیدی شارح صحیح مسلم نے جو اہل السنت بریلوی مکتب فکر کے متبحر عالم دین ہیں‘ اپنے اکابر علما ‘اساتذہ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ علیہ کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ سونے اور چاندی کے علاوہ تمام دھاتوں کا چین‘ زنجیر‘ چمچ وغیرہ روز مرہ استعمال کی اشیا جائز ہیں۔ جب یہ جائز ہیں تو ان کو باندھ کر یا پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہوگا۔ (شرح صحیح مسلم‘ کتاب اللباس والزینۃ‘ ج ۶‘ ص۳۴۷-۳۵۰۔ بحوالہ فتاویٰ النوریہ رضویہ‘ ج ۱‘ ص ۵۲۱)۔ (مولانا عبدالمالک)

اللہ اور انسان ، حافظ مبشرحسین لاہوری۔ ناشر: مبشراکیڈیمی ‘ مکان نمبر ۱۱‘ گلی نمبر۲۱‘ مکھن پورہ‘ نزد نیوشادباغ‘ لاہور۔ صفحات: ۱۸۴ روپے۔ قیمت: ۹۰ روپے۔

’دریا کو کوزے میں بند‘ کرنے کی مثال غالباً اس کتاب پر صادق آتی ہے جس میں صرف ۱۸۴ صفحات میں ۲۰۰ سے زیادہ عنوانات کے تحت اللہ تعالیٰ‘ انسان اور اللہ تعالیٰ اور انسان کے تعلق کے موضوع پر تین ابواب میں عام فہم لیکن تحقیقی انداز سے تمام متعلقہ مباحث کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور انسان کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے ڈارون کے نظریۂ ارتقا پر صرف ۶صفحات میں مکمل ردّ پیش کر دیا گیا ہے۔

پہلے باب میں وجودِ باری تعالیٰ ‘ مختلف مذاہب کا تصورِ الٰہ اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں گمراہ کن نظریات کی تردید کی گئی ہے۔ اس حوالے سے وحدت الوجود‘ وحدت الشہود اور حلول کے نظریات کا بیان اور ردّ آگیا ہے۔ دوسرے باب میں انسان کی تخلیق‘ مراحلِ تخلیق‘ مقصدِ تخلیق اور نظریۂ ارتقا پر بحث کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں خالق اور مخلوق‘ عابد اور معبود اور محتاج اور غنی کا تعلق بیان ہوا ہے۔ اس ضمن میں زبانی عبادتوں کے حوالے سے انبیا علیہم السلام کی دعائیں‘ دل سے عبادت کے حوالے سے ایمان‘ محبت اور رجا‘ جسمانی عبادت کے حوالے سے نماز‘ حج اور مالی عبادات کے حوالے سے زکوٰۃ‘ صدقہ‘ نذر اور قربانی کا ذکر ہے۔ آخری حصے میں یہ بحث ہے کہ تکلیف اور پریشانی میں انسان کو کیا کرنا چاہیے؟ اس ضمن میں عام طور پر جو شرک کی صورتیں اختیار کی جاتی ہیں‘ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے درست وسیلے بتائے گئے ہیں‘ مثلاً: صدقہ خیرات‘ اعمالِ صالحہ‘ صبر و نماز اور خدمتِ خلق وغیرہ۔ (مسلم سجاد)


The Provision For Akhirah[زادِ راہ] جلیل احسن ندوی‘ انگریزی ترجمہ: شمیم اے صدیقی۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی‘ ڈی ۳۵‘ بلاک ۵‘ فیڈرل بی ایریا‘ کراچی۔ صفحات:۳۷۱۔ قیمت: ۹۵.۱۴ امریکی ڈالر۔

زیرِنظر کتاب جلیل احسن ندوی مرحوم کی مرتب کردہ احادیثِ نبویؐ کی کتاب زادِ راہ کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہے۔ مترجم کی نظر میں: احادیثِ مبارکہ کے اس مجموعے کے ذریعے‘ اسلام کو جدید دنیا اور بالخصوص امریکی معاشرے میں‘ واحد طرزِ زندگی کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے‘ اور قارئین کو باور کرایا جا سکتا ہے کہ صرف اسلام ہی پریشان اور مصیبت زدہ انسانیت کو عدل و انصاف اور امن و امان مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہی آخرت میں نجات کی ضمانت دلاتا ہے۔

مترجم نے کتاب کے دیباچے میں اسلامی تحریکوں کی کامیابی اور ناکامی پر بحث کی ہے۔ (بظاہر ‘ یہاں اس بحث کا محل نہیں ہے) ان کا خیال ہے کہ اسلامی تحریکوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلوبِ دعوت اور طریق کار کو اپنانے میں کوتاہی کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اسوۂ حسنہ کی روشنی میں موجودہ اسلامی تحریکات کو بھی جاہلی معاشروں سے اسی سانچے میں ڈھلے ہوئے افراد نکالنے ہوں گے۔ اور یہ کام ان کی ترجیحات میں سرِفہرست ہونا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی مقصد کے  پیشِ نظر میں نے زادِ راہ کو منتخب کیا۔یہی جذبہ اسے انگریزی میں منتقل کرنے کا محرّک بنا ہے۔ انھیں امید ہے کہ معاشی‘ معاشرتی اور سیاسی بلکہ زندگی کے جملہ معاملات پر مشتمل‘ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کا یہ مجموعہ‘ امریکا میں کارکنانِ تحریک کی کردار سازی‘ ان کے اہل و عیال کی زندگیوں میں اسلامی اصولوں کو پروان چڑھانے اورانھیں ذمہ دار شہری بنانے میں مددگار ہوگا۔ نیز یہ مجموعہ دعوتی کام میں گرم جوشی پیدا کرے گا۔

مؤلف نے زادِ راہ کے اردو ترجمے اور تفسیر میں ترجمانی کا اسلوب اپنایا ہے۔ مترجم نے اسے محنت کے ساتھ انگریزی زبان میںمنتقل کرنے کی کوشش کی ہے‘ اگرچہ ترجمے کی زبان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

ترجمے میں عربی زبان کی متعدد اصطلاحات کو برقرار رکھاگیا ہے۔ ہمارے خیال میں ان اصطلاحات کے انگریزی مترادفات بھی دینا ضروری تھا۔ یا ان کی وضاحت دیباچے میں ہوجانی چاہیے تھی۔ (S) اور (R) جیسے تخفیفی حروف کی وضاحت کی بھی ضرورت تھی۔ (خدا بخش کلیار)


سلطان نورالدین زنگی، طالب الہاشمی۔ ناشر: طٰہٰ پبلی کیشنز‘ ۲۲- اے ملک جلال الدین وقف بلڈنگ‘ چوک اُردو بازار‘لاہور۔ صفحات: ۲۹۶۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

سلطان نورالدین محمود زنگی (۵۱۱ھ-۵۶۹ھ) بارھویں صدی عیسوی میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا پیش رو تھا۔ وہ ایک درویش منش‘ خدا ترس اور متقی شخص تھا۔ اس نے اپنے دور میں مسلم سلطنت پر صلیبیوں کی یلغار کا کامیاب دفاع کیا۔ عیسائی مؤرخین نے بھی اس کی صدق شعاری‘ عدل وا نصاف اور شجاعت و بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس نے بیت المال کو کبھی خوانِ یغما نہیں سمجھا بلکہ وہ بادشاہ ہوتے ہوئے بھی مالِ غنیمت میں سے اتنا ہی حصہ وصول کرتا جس قدر عام سپاہیوں کو ملتا۔ ایک دفعہ اس کی چہیتی ملکہ نے تنگیِ خرچ کی شکایت کی۔ نورالدین نے جواب دیا: ’’بانو! افسوس ہے تمھاری خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔ خدا کا خوف بیت المال کی طرف میرا ہاتھ بڑھنے نہیں دیتا‘ یہ مسلمانوں کا مال ہے۔ میں صرف اس کا امین ہوں اور اس میں سے ایک درہم کا بھی مستحق نہیں‘‘۔ (ص ۱۷-۱۸)

سلطان نورالدین وہی خوش بخت ہے جسے خواب میں ۳ بار رسولِ کریمؐ کی زیارت ہوئی اور آپؐ نے ہر مرتبہ دو آدمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے شر کا اِستیصال کرو۔ وہ  فی الفور مدینہ منورہ پہنچا اور اس نے زہد و تقویٰ کا لباس اوڑھے دو نصرانیوں کو پکڑ لیا جو ایک سُرنگ کھود کر نبی کریمؐ کا جسدِ مبارک وہاں سے نکال لے جانے پرمامور تھے۔ سلطان نے انھیں کیفرِکردار تک پہنچایا۔ پھر روضۂ نبویؐ کے گرد گہری خندق کھدوا کر اُسے پگھلے ہوئے سیسے سے پاٹ دیا۔

جناب طالب الہاشمی نے صلیبیوں کے خلاف سلطان کے جنگی محاربوں کی تفصیل بھی دی ہے‘ جس سے سلطان کی جنگی مہارت‘ دُور اندیشی اور بصیرت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ وہ ایک مثالی حکمران تھا۔ اس نے صرف جنگیں ہی نہیں لڑیں‘ مملکت کے نظم و نسق کو بھی بہتر بنیادوں پر استوار کیا۔

کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے سلطان نورالدین کے عہد کا تفصیلی پس منظر بھی (۱۰۰صفحات میں) پیش کردیا ہے۔ اس چوکھٹے میں سلطان کی تصویر زیادہ واضح اور نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے۔ دوسری خوبی یہ ہے کہ سوانح نگار نے جگہ جگہ نہایت مفید اور معلومات افزا حواشی دیے ہیں۔ بلاشبہہ فاضل مصنف موضوع پر ماہرانہ دسترس رکھتے ہیں۔ واقعات کی پیش کش‘ اسی طرح آیاتِ قرآنی کی صحت‘ عربی اشعار و عبارات کے تراجم‘ مختلف شخصیات و مقامات اور مشکل الفاظ کی صحت اور اِعراب کے ساتھ ان کے صحیح تلفظ کا اہتمام لائقِ تحسین ہے‘ بلکہ دیگر مصنفین اور اشاعتی اداروں کے لیے بھی دلیلِ راہ اور سبق آموز ہے۔ ایسی ہی محنت و کاوش‘ تحقیق و تدقیق اور اہتمام سے ہمارے علمی سرمائے کا معیار بلند ہو سکتا ہے۔ نئی نسل کو خاص طور پر ایسی کتابیں پڑھانے کی ضرورت ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


برہانِ قاطع، مولانا عامر عثمانی۔ مرتبین: محمد صالح انصر‘خادم حسین انصاری۔ ناشر: ۴۶ بلاک‘ ڈی یونٹ‘ ۸ شارع علم و ادب‘ لطیف آباد‘ حیدرآباد ‘ سندھ۔ صفحات: ۱۴۴۔ قیمت: ۴۰ روپے۔

اقامتِ دین کے لیے جدوجہد میں مولانا مودودی کو کئی قسم کے ناقدین کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں اپنے بھی تھے اور پرائے بھی‘ بالکل مخالف بھی تھے اور گئے وقتوں کے دوست بھی۔ اختلاف اور پھر اس میں ہنگامِ جنگ کا سماں کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ جب جنگ کا طبل بجا دیا جائے تو پھر حملہ آوروں کے ہاں سب کچھ مباح سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ ’سب کچھ‘ انصاف کے بھی منافی ہوتا ہے‘ اور اخلاقیات سے بھی کوسوں دُور۔

مولانا مودودی نے اپنے ناقدین کی قلمی نیش زنی کے جواب میں وقت صرف کرنے کے بجاے‘ اپنے اوقاتِ کار کو تعمیری سمت میں لگانے کو ترجیح دی۔ لیکن ایسی صورت میں متعدد احباب نے مولانا مودودی کے ناقدین کی تنقیدات کا جواب دیا۔ ایسے قابلِ قدر فاضلین میں‘ مولانا شبیراحمد عثمانی کے بھتیجے مولانا عامر عثمانی[م: ۱۹۷۴ئ] کا نام سرفہرست ہے۔

زیرِنظر کتاب بنیادی طور پر: مولانا عبدالماجد دریابادی‘ مولانا امین احسن اصلاحی اور کوثر نیازی کی بعض تنقیدوں کا جواب ہے‘ جو انھوں نے ۱۹۶۴ء کے (فاطمہ جناح بمقابلہ ایوب خاں) صدارتی انتخاب کے زمانے میں مولانا مودودی پر کی تھیں۔ ان مضامین میں عامر عثمانی مرحوم کا اسلوب‘ دلیل سے مرصّع ہے۔ کرم فرمائوں کی طنزیات کا جواب انھوں نے خوب خوب دیا ہے۔ یہ قندِمکرّر‘ نہ صرف گئے دنوں کی کش مکش سے روشناس کراتی ہے‘ بلکہ حالات کی نزاکت اور ماحول کے جبر کی بہت سی پرچھائیاں بھی پیش کرتی ہے۔

ممکن ہے کوئی شخص یہ کہے کہ: ’’کیا ضرورت تھی انھیںشائع کرنے کی‘‘ ؟لیکن ایسے ناصح کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے کہ مذکورہ حضراتِ گرامی نے اپنی زندگی میں‘ اور انتقال کے بعد ان کے فکری پس ماندگان نے‘ مولانا مودودی پر اس نوعیت کی تنقیدات کو شائع کرنے کا پے بَہ پے اہتمام کیا ہے۔ جب مولانا مودودی پر سنگ زنی کے یہ مظاہر پڑھنے والوں کو بآسانی دستیاب ہیں تو پھر مولانا مودودی کی پوزیشن واضح کرنے والی کسی تحریر کی اشاعت کا جواز آخر کیسے ختم ہو سکتا ہے؟ استغاثہ دائر کرنے کو حق و صواب اور تاریخ کا ریکارڈ کہنا‘ جب کہ وضاحت میں پیش کی جانے والی معروضات کو ’’کیا ضرورت تھی انھیں شائع کرنے کی‘‘ کہنا عدل نہیں‘ بے انصافی ہے۔ (سلیم منصور خالد)


ڈاکٹر عذرا بتول (سعادت کی زندگی‘ شہادت کی موت) مرتب: عباس اختر اعوان: ناشر: مکتبہ خواتین میگزین‘ نزد مین گیٹ‘ منصورہ‘ لاہور۔ صفحات:۴۰۰۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

انسانوں کی کثیر تعداد ہر روز ‘ دنیاے فانی سے منہ توڑ کر قبر کی تاریک آغوش میں جا سماتی ہے۔ لیکن کچھ خوش نصیب اپنے پیچھے روشنی کی ایسی کرنیں چھوڑ جاتے ہیں‘ جن سے خلقِ خدا تادیر فیض یاب ہوتی رہتی ہے۔ ڈاکٹر عذرا بتول ایسی ہی حیاتِ جاوداں پانے والی خاتون تھیں۔

پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ‘ تحریک اسلامی کی حد درجہ مخلص کارکن‘ خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار‘ دنیا میں باعمل اور متحرک مگر نظر‘ آخرت پر۔ ۶ستمبر ۲۰۰۳ء کو اوکاڑہ سے لاہور کے لیے روانہ ہوئیں اور بھائی پھیرو کے مقام پر ان کی کار اینٹوں کے ٹرالے سے ٹکرا گئی اور وہ موقع ہی پر جامِ شہادت نوش کر گئیں۔

صحیح معنوں میں ڈاکٹر عذرا بتول کا تعارف ان کی شہادت کے بعد ہی ہوا۔ اپنی ذات کی نفی کر کے دوسروں کو سکھ بہم پہنچانے کا رویّہ نفسانفسی کے اس دور میں بہت کم ملتا ہے۔ عذرا بتول نے شادی کے بعد اپنی ذاتی کمائی اپنے سسرال کا مکان بنانے‘ انھیں حج کروانے اور ان کی ہمہ پہلو اعانت میں لگا دی۔ ان کے چھے بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں‘ بحیثیت ماں ان کی اولین خواہش یہی تھی کہ میرے بچے دنیا کے بجاے دین کا علم حاصل کریں۔ کہا کرتی تھیں کہ بے شک میرے بچے موچی بنیں یا نائی یا ریڑھی لگائیں لیکن حلال کی روزی کمائیں اور باعمل انسان بنیں۔

ڈاکٹر عذرا کی زندگی ایک ایسے باعمل انسان اورمسلمان کی زندگی تھی‘ جس کا ایک ایک لمحہ ایمان افروز واقعات سے بھرپور ہوتا ہے‘انھیں دنیاوی آزمایشیں‘ مصائب اور مشکلات پیش آئیں‘ تو ان کے پاس ایک ہی حل تھا: وہ کہتیں: ’’جو اللہ کی مرضی‘‘--- مرحومہ کی پوری زندگی ہمارے لیے ایک مثال ہے اور سبق آموز بھی۔

عباس اختر اعوان صاحب نے مرحومہ کے بارے میں مختلف اصحاب و خواتین کی تحریروں کو یکجا کر کے‘ حیاتِ جاوداں کی ایک عمدہ تصویر بنائی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے خواتین کارکنوں کو ایک نیا حوصلہ اورتازگی ملتی ہے۔(قدسیہ بتول)


مقالاتِ تعلیم ، منیراحمد خلیلی۔ ناشر: حسن البنا اکیڈمی‘ علامہ اقبال کالونی‘ ٹنچ بھاٹہ‘ راولپنڈی۔ صفحات:۲۳۲۔ قیمت: ۱۰۰ روپے۔

اساتذہ‘ طلبہ اور والدین معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار انجام دیتے ہیں۔ یہ تینوں شعبے اگر ایک ساتھ آگے بڑھیں تو قوم اپنے مقاصد کے حصول میں کسی رکاوٹ کی پروا نہیں کرتی اور دنیا کو بڑی آسانی سے اپنے روشن مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے۔

مصنف نے اپنے ۲۳ پُرمغز مقالات میں تعلیم اور اس کے متعلقات پر تفصیلی بحث کی ہے۔ موضوعات مستقل نوعیت کے ہیں اور ان میں غوروفکر اور جدید دور کے تقاضوں کی بھی عکاسی کی گئی ہے۔ استاد‘ بچے کی شخصیت کی تعمیر‘ والدین کا احساسِ ذمہ داری‘ تعلیمی عمل کے معاونات‘ کوالٹی ایجوکیشن کی حقیقت‘ ہم نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں جیسے اہم موضوعات پر سیرحاصل تبصرے کے علاوہ ٹیوشن‘ سزا کا مسئلہ اور نائن الیون کے اثرات وغیرہ جیسے چبھتے مسائل پر بھی مصنف نے بوضاحت و دلائل بحث کی ہے۔ آج کی تعلیمی دنیا جس شدت کے ساتھ اصلاح کا تقاضا کرتی ہے‘ اس کی طرف مصنف نے بڑی دل سوزی سے ہماری توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔

آج کی ہرلحظہ پھیلتی تعلیمی دنیا میں کام کرنے والے ہر شخص کو (خواہ وہ کوئی ادارہ قائم کرنے والا ہو یا اس کا انتظام چلانے والا) یہ کتاب دعوتِ فکر دیتی ہے اور اس کی بھرپور رہنمائی بھی کرتی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ یہ احساس بھی پیدا کرتا ہے کہ ہمیں نونہالانِ وطن کو جدید اور تیزی سے ترقی کرتی دنیا کے تقاضوں سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ (پروفیسر سعید اکرم)


جریدہ‘ غیر مطبوعہ کتابیں نمبر‘ مرتبین: سید خالد جامعی‘ عمرحمید ہاشمی۔شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ‘ جامعہ کراچی۔ شمارہ ۲۹‘ ۳۰‘۳۱۔ ۳ شماروں کے صفحات: ۲۸۴۵۔قیمت: ۳۰۰ +۳۰۰+۲۰۰روپے۔

جریدہ کی غیرمعمولی متنوع علمی کارگزاری کا اظہار زیرنظر تین ضخیم کتابوں سے ہوتا ہے۔ ان میں نئی نادر غیرمطبوعہ کتابوں کے ساتھ کئی تازہ طبع زاد تحریریں بھی پڑھنے کو ملتی ہیں۔

جلد اول میں جدیدیت اور اسلام کی کش مکش کا حال پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے: ’’میں نے یہ جانا کہ گویا کہ یہ بھی میرے دل میں ہے‘‘۔ خالد جامعی اور عمرحمید ہاشمی کی کتاب: عالم اسلام--- جدیدیت اور روایت کی کش مکش کے بعد‘ اُردو حصے میں ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری نے مغربی فکروفلسفے کا محاکمہ کیا ہے۔’’تاریخ ہندستانی‘ ایک معروضی مطالعہ‘‘ (ڈاکٹر معین الدین عقیل) میں فرانسیسی مستشرق گارسین دتاسی کے کام کا جائزہ لیا گیا ہے۔عزیز حامد مدنی مرحوم کی ۱۶ غیرمطبوعہ خوب صورت غزلیں اور مائیکل ین کی تحریر ’’جمہوریت اور نسل کشی میں تعلق: ایک تحقیقی جائزہ‘‘ (اُردو ترجمہ اکرم شریف) اور پھر مولانا حسن مثنیٰ ندوی کے قلم سے پاکستان کی حصول آزادی کی ولولہ انگیز داستان پُرلطف انداز میں دو حصوں میں بیان کی گئی ہے۔

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی انگریزی کتاب Education in Pakistan کے ترجمے (از اکرم شریف) بہ عنوان: ’’پاکستان میں تعلیم‘‘کے بعد اقبال حامد نے ’’بلندوپست‘‘ میں روزنامہ جنگ کے مختلف ادوار کا جائزہ لیا ہے۔ علی محمد رضوی نے اپنے انگریزی مضمون میں ثابت کیا ہے کہ امام غزالیؒ نے یونانی فلسفے کے غلبے کے تاثر کو ختم کر کے‘ اسلامی تہذیب و فلسفے کے تناظر میں جو کام کیا‘ وہ اسلام کی احیاے نو کا کام تھا اور تاریخ‘ امام غزالی کے اس کام کو فراموش نہیں کرسکتی۔

جلد دوم کے مشمولات: بروشسکی زبان: بعض اہم مباحث۔ ہندستانی تناظر: ’تہذیب اسلامی مطالعات‘۔ ’ہندستان میں مسلم تمدن‘ (ڈاکٹر ریاض الاسلام)۔ ’بیدل عظیم آبادی پر اڑھائی سو صفحات کا سیکشن‘ نام ور اصحاب کے مقالات‘ بیدل کے کلام اور شخصیت کی ایک عمدہ تصویر۔ کلاسیکی مغربی ادب پر عزیزاحمد کے نو مقالات (مرتب: ابوسعادت جلیلی)

جلد سوم میں ڈاکٹر سہیل بخاری مرحوم کی اشتقاقی لغت شامل ہے اور اس پر مشفق خواجہ (م: فروری ۲۰۰۵ئ) کی راے بھی شامل ہے۔ مرتبین کہتے ہیں کہ اگر شعبے کو مشفق خواجہ کے ذخائر تک رسائی ہوگئی تو وہ آیندہ بہت کچھ پیش کریں گے۔

لسانی‘ تہذیبی‘ نظری اور فلسفیانہ پہلوئوں سے متنوع موضوعات پر یہ اہم عالمانہ تحریریں ہیں۔ ان جلدوں کا مطالعہ ہر اس فرد کو کرنا چاہیے جو اس دور میں  تہذیبی اور ثقافتی محاذوں پر جاری جنگ کو دیکھنا اور سمجھنا اوراسلام کی علمی سربلندی چاہتا ہے۔تینوں اشاعتوں کی پیش کش خوب صورت ہے‘ سفید کاغذ پر اچھی طباعت قابلِ تحسین بات ہے۔ (مرزا محمد الیاس)


تعارفِ کتب

  • فاتح سندھ (عظیم ہیرو محمد بن قاسم) محمد عبدالغنی حسن‘ ترجمہ: مولانا عبداللہ دانش۔ ناشر: مدرسہ تجویدالقرآن رحمانیہ‘ پونچھ روڈ‘ اسلامیہ پارک‘ لاہور۔ صفحات: ۲۰۶۔ قیمت: درج نہیں۔ [مترجم نے استاذ خلیل حامدی کے ایما پر بطل السند کا ترجمہ کیا‘ جسے اب شائع کیا گیا ہے۔ محمد بن قاسم کی کہانی مخصوص اسلوب میں___ یہ کہانی‘ اگر براہ راست اُردو میں لکھی جاتی تو شاید زیادہ مؤثر ہوتی۔]
  • برِصغیر ہند کی بعض ممتاز علمی شخصیتیں‘ مولانا عبدالماجد دریا بادی۔ مرتب: محمد موسیٰ بھٹو۔ ناشر: سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ‘ ۴۰۰ بی یونٹ نمبر ۴‘ لطیف آباد‘ حیدرآباد‘ سندھ۔ صفحات: ۹۶۔ قیمت: ۳۰ روپے۔[مولانا دریابادی کے سچ‘ صدق اور صدقِ جدید سے اخذ کردہ :شبلی نعمانی‘ محمد علی جوہر‘ مولانا شوکت علی‘ باباے اردو مولوی عبدالحق‘ سلیمان ندوی‘ ابوالکلام آزاد‘ مولانا مودودی اور ذاکر حسین پر تاثراتی تحریریں--- دل چسپ اور معلومات افزا‘ لائقِ مطالعہ۔]
  • صحابہؓ کرام کا اسلوبِ دعوت و تبلیغ‘ پروفیسر محمد اکرم ورک۔ مکتبہ جمالِ کرم‘ ۹ مرکز الاویس (سستا ہوٹل) دربار مارکیٹ‘ لاہور۔ صفحات: ۳۵۲۔ قیمت: ۱۳۵ روپے۔[مصنف کہتے ہیں: صحابہؓ کرام کے حالاتِ زندگی پر تو کافی تحقیقی کام ہوا ہے‘ اور ان کی دعوتی سرگرمیوں کا حال بھی کسی نہ کسی صورت ملتا ہے‘ تاہم صحابہ کرامؓ کے اسلوبِ دعوت پر ابھی تک کوئی تحقیقی کام نہیں ہوا۔ مصنف نے زیرِنظر کتاب اسی ضرورت کے تحت لکھی ہے۔ ان کی محنت کا اندازہ عنواناتِ ابواب سے ہوتا ہے۔ اسلوبِ دعوت کی اہمیت‘ تعلیماتِ نبویؐ کی روشنی میں۔ سیرتِ صحابہؓ سے داعیانِ اسلام کے چند راہ نما اصول۔ مکی دور اور پھر مدنی دور میں صحابہؓ کی دعوتی سرگرمیاں۔ دعوتی مراکز۔ عہدصحابہؓ میں فروغِ اسلام کی عمومی وجوہ۔ دعوتِ دین کا عملی اور تجرباتی اسلوب۔ ہر باب اور فصل کے اختتام پر بحث کا خلاصہ دیا گیا ہے۔ کتاب بہت توجہ‘ کاوش اور سلیقے سے لکھی گئی ہے‘ اندازِ تالیف تحقیقی ہے۔]
  • یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَـنُوْا، تالیف و ترتیب:پروفیسرڈاکٹر محمود الحسن عارف۔ الکتاب (ٹرسٹ)‘ مسلم موڑ‘ سمن آباد‘ لاہور۔ صفحات:۳۲۶۔قیمت: درج نہیں۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاسے شروع ہونے والی آیاتِ قرآنی کا متن‘ انگریزی میں نقلِ حرفی‘ اردو و انگریزی ترجمہ اور مختصر تشریح___ آیات کو موضوع وار مرتب کیا گیا ہے: مبادیاتِ اسلام‘ آدابِ نبویؐ، حلّت و حرمت کے مسائل‘ ارکانِ اسلام‘ جہاد و قتال‘ معاشرتی اور سماجی آداب‘ حدود و قصاص اور عدل و انصاف کی فراہمی‘ باہمی معاملات و تجارت‘ نکاح و طلاق۔]
  • مجلہ طوبیٰ، زیرسرپرستی: زبیدہ امین۔ ملنے کا پتا: جامعۃ البناتِ اہل حدیث‘ کھوکھرکی گوجرانوالہ۔ صفحات: ۱۵۲۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔ [جامعۃ البنات اہل حدیث کا ۲۰۰۵ء کا مجلہ‘ سرورق: ’’چادر اور چار دیواری کا    علم بردار‘ فکرِمحدثین کا ترجمان اور سلفی خواتین کا پسندیدہ مجلہ‘‘۔ جامعہ کا مفصل تعارف مع تصاویر۔ حج کا ایک سفرنامہ اور دینی موضوعات پر مضامین۔ جامعہ نے الگ سے ڈائری بھی چھاپی ہے۔]
  • خاندانی نظام‘ السید سابق مصری‘ ترجمہ و تخریج: حافظ محمد اسلم شاہدروی۔ ناشر: حدیبیہ پبلی کیشنز‘ رحمن مارکیٹ‘ غزنی سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات:۴۸۰۔ قیمت: ۱۷۰ روپے۔ [عنوان سے خیال ہوتا ہے شاید کتاب میں دورِ جدید میں خاندانی نظام اور اس سے متعلقہ مسائل اور ان کے حل پر بات ہوگی‘ مگر ایسا نہیں ہے۔ دراصل یہ مصنف کی تصنیف فقہ السنّہ کے ایک طویل حصے ’’نظام الاسرۃ‘‘ کا ترجمہ ہے جو منگنی‘ نکاح‘ طلاق‘ خلع‘ عدت‘ خرچہ‘ پرورش وغیرہ کے شرعی اور فقہی احکام پر مشتمل ہے۔ کل عنوانات ۳۸۔ حاشیے میں بعض مقامات کی تشریح۔]
  • مجاہد کا زادِ راہ، ڈاکٹر عبداللہ عزام شہید۔ ترتیب و تدوین: ڈاکٹر مفکراحمد۔ ناشر: القدس پبلی کیشنز‘ لاہور۔ ملنے کا پتا: کتاب سراے‘ الحمدمارکیٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۲۴۸۔ قیمت:۱۱۰ روپے۔ [معروف مجاہد اور عالم ڈاکٹر عزام کے خطبات کا انتخاب۔ ’’سلیس اور پُرکشش ترجمہ‘‘ از منہاج الاسلام فاروقی۔ راہِ حق میں لڑنے والوں کے لیے ہمہ پہلو قرآن و سنت کی روشنی میں شہید کی رہنمائی۔ جذبۂ جہاد‘ شوقِ شہادت اور ایمان و عمل کا والہانہ اظہار۔]

طلال خاں ‘اسلام آباد

یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے کسی امریکی ادارے کی رپورٹ کی جو جامع تلخیص آپ نے دی ہے (اپریل ۲۰۰۵ئ)‘ اس سے تمام پہلو سامنے آگئے ہیں۔ لیکن یہ خیال بھی آتا ہے کہ ہم نے اپنے جائزوں کا کام بھی غیروں کے سپرد کر دیا ہے۔ ترجمان جیسے رسالے کو بھی نقل کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے ادارے‘ ہمارے اہلِ علم‘ ہمارے محققین مخطوطات اور قدیم شخصیات کے بجاے آج کے جدید مسائل پر داد تحقیق کیوں نہیں دیتے؟ ہم تو مسلم دنیا کے بارے میں بھی اندھیرے میں ہیں۔ غیروں کی دی ہوئی خبریں ہی ہمارا نقطۂ نظر تشکیل دیتی ہیں۔ مصر‘ انڈونیشیا‘ نائیجیریا‘ ملایشیا‘ وسط ایشیا کے ممالک کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟ وہاں کی معاشرت‘ معیشت‘ تعلیم‘ ذرائع ابلاغ… کوئی مغربی ادارہ ہی بتائے تو پتا چلتا ہے۔


سید گوہر خضر ‘ کراچی۔ عبدالخالق محمود‘ لاہور

’’بنک کاری نظام:ایک تاریخی جائزہ‘‘ (اپریل ۲۰۰۵ئ) میں معاشیات کے طالب علم کے لیے بڑی رہنمائی ہے۔ اس لیے کہ ہماری درسی کتب میں یہ معلومات نہیں دی جاتیں۔ اسٹیٹ بنک کو تو قائداعظمؒ نے ۱۹۴۸ء میں عادلانہ اسلامی نظام معیشت کی تشکیل کا کام سپرد کیا تھا لیکن وہ مغربی نظام کا آلہ کار بن کر رہ گیا۔ کمیونزم ناکام ہوچکا ہے‘ سرمایہ داری سے انسانیت عاجز ہے‘ موقع ہے کہ اسلامی نظام پر عمل کر کے رہنمائی کی جائے تو دنیا اس کی طرف لوٹ آئے۔


لیاقت علی ‘ لاہور

’’نظریہ پاکستان اور سیکولر تعلیم‘‘ (اپریل ۲۰۰۵ئ) میں مدلل انداز سے نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ جس طرح اسلام دشمن اپنے ایجنڈے پر سرگرمی سے عمل کر رہے ہیں‘ ہم اس سے زیادہ مستعدی سے ان کی اسلام دشمن پالیسیوں سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ عالمی استعمار نے ہماری تعلیم کو بجاطور پر ہدف بنایا ہے‘ کاش!   ہم ان کی سازشوں کو سمجھیں‘ اور ان کا مناسب توڑ کریں۔ کم سے کم تعلیمی اداروں کو تو چھائونیاں اور قلعے بنا دیں۔


میاں طفیل محمد ‘ لاہور

’’تابناک مستقبل اور ہماری ذمہ داری‘‘ (اپریل ۲۰۰۵ئ) میں آپ نے دنیابھرکے مسلمانوں کو جو روشنی فراہم کی ہے اور جس راہِ عمل کی طرف رہنمائی فرمائی ہے‘ اس سے آپ نے صرف برعظیم کے مسلمانوں ہی کو نہیں‘ بلکہ ساری ملّت اسلامیہ اور اُس کے رہنمائوں کو احیاے اسلام کی صحیح راہ دکھا دی ہے۔

فطری تقویٰ اور شرعی تقویٰ

اب آیئے شرعی تقویٰ کی حقیقت پر غور کیجیے۔ ظاہر ہے کہ شریعت فطرت کے برخلاف نہیں بلکہ عین فطرت ہے۔ فطرۃ اللّٰہ التی فطر الناس علیھا۔ اس وجہ سے شریعت کی نسبت یہ گمان کرنا تو کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا کہ وہ کسی ایسے تقویٰ کا مطالبہ کرے گی جو انسان کی زندگی میں کسی طرح کا تعطل پیدا کرے‘ یا اس کی جائز رغبتوں کی نفی کرے‘ خواہ ان کا تعلق ابتدائی ضروریات سے ہو یا کمالیات سے‘ یا اس کا حصول زندگی کی شاہراہ سے الگ ہو کر کسی ایسے بعید گوشے اور دُور دراز جزیرہ ہی میں ممکن ہو جہاں حرکت کے بجاے صرف سکون اور زندگی کی جگہ صرف موت ہو‘ یا اس کی شناخت کے لیے وہ کوئی ایسی علامت ٹھیرائے جو رد و قبول‘ ترک و اختیار‘ اور ہدایت و ضلالت کے اس قانون ہی کو یکسر باطل کردے جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جاری فرمایا ہے اور جو انسان کی فطرت اور خدا کی حکمت کا عین مقتضٰٰی ہے۔ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی اگر تسلیم کرلی جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ شریعت اور فطرت میں کامل توافق کی جگہ ایک مستقل نزاع اور جنگ کی حالت قائم ہو حالانکہ ایسا سمجھنا خود شریعت کی تکذیب ہے۔ شریعت کا اعلان تو یہ ہے کہ اس نے فطرت پر نہ سرمو اضافہ کیا ہے نہ اس میں کوئی کمی کی ہے البتہ انسان کی فطرت جو کچھ مطالبہ کرتی اس کو اس نے بالکل مبرہن اور آشکارا کردیا ہے۔ فطرت کے اشارات مخفی تھے ان کو شریعت نے بالکل روزِ روشن کی طرح نمایاں کر دیا تاکہ ان کے خفا کی وجہ سے انسان کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ فطرت کے صحیح مقتضیات کے تعین میں انسان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے اختلاف پیدا ہو سکتا تھا۔ شریعت نے مقتضیات کو معین کر کے اس اختلاف کا خدشہ دُور کردیا۔ اس سے زیادہ شریعت کسی بات کی مدعی نہیں ہے۔ اس وجہ سے جبلی اور فطری تقویٰ اور شرعی تقویٰ میں جو کچھ فرق ہوسکتا ہے وہ نفس تقویٰ کی حقیقت اور اس کے مقصد میں نہیں ہو سکتا‘ البتہ اس کے محرک میں ہوسکتا ہے۔

جبلت میں صرف ذات کی حفاظت کا جذبہ مخفی ہوتا ہے‘ فطرت میں حفاظت نفس کے ساتھ مذاق سلیم اور انجام بینی کا پہلو بھی نمایاں ہوجاتا ہے‘ اور شریعت میں آکر صاف صاف ایک خداے منعم و دیان کا خوف اور رجاب اور عدل الٰہی کا ڈر ہے جو انسان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ اس کی زندگی کے لیے جو سیدھی راہ متعین کر دی گئی ہے اس پر چلے اور بے راہ روی اور گمراہی سے اس کو بچائے‘ جو حدود شریعت نے قائم کر دیے ہیں ان سے تجاوز کرنے کی جسارت نہ کرے۔ پس شرعی تقویٰ کی حقیقت یہ ہونی چاہیے کہ آدمی اپنی زندگی کو خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر رکھے اور دل کی گہرائیوں کے اندر اس بات سے ڈرتا رہے کہ جہاں اس نے خدا کی قائم کی ہوئی کسی حد کو توڑا‘ تو اس کو خدا کی سزا سے بچانے والا خدا کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ (’’اشارات‘‘، مولانا امین احسن اصلاحی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۶‘ عدد ۳-۶‘ ربیع الاول تا جمادی الثانی ۱۳۶۴ھ‘ مارچ تا جون ۱۹۴۵ئ‘ ص ۱۰۳)