مضامین کی فہرست


مارچ ۲۰۰۳

زر سے زر پیدا کرنے والی اسکیموں کی حیثیت

سوال: آج کل ایک اسکیم بزناس (Biznas) کے نام سے رائج ہے۔ جس میں لوگ بڑی دل چسپی لے رہے ہیں۔ اس کا طریقۂ کار حسب ذیل ہے:

انٹرنیٹ کے ذریعے سے ممبر اپنا اکائونٹ کھولتا ہے اور ۶ ہزار روپے کمپنی کو جمع کروا کر ممبرشپ حاصل کرتا ہے۔ وہ ممبر پھر مزید دو افراد کو ممبرشپ دلواتا ہے جو مزید چھ چھ ہزار روپے کمپنی کو جمع کرواتے ہیں۔ اسی طرح ہر فرد مزید دو افراد کو ممبر بنانے کا مکلف ہوتا ہے۔ جب نو افراد ممبر بن جاتے ہیں تو پہلے ممبر کو ۳ ہزار ۳ سو روپے کا چیک مل جاتا ہے۔ گویا ہر فرد ۵۴ ہزار روپے کمپنی کو جمع کروا کر ۳ ہزار ۳ سو روپے حاصل کرتا ہے۔ علاوہ ازیں کمپنی ہر ممبر کو ایک سال کے پیکج کے لیے جس کی لاگت ۳۰ ہزار سے ۴۰ ہزار ہوتی ہے loyalty کارڈ (۵ سے ۵۰ فی صدرعایت) فراہم کرتی ہے۔ اس اسکیم سے بہت سے لوگ وابستہ ہو رہے ہیں۔ کیا یہ اسکیم سود پر مبنی ہے؟

جواب:  جہاں تک معاشیات اور اسلامی معاشیات کے طالب علم کی حیثیت سے میرا مطالعہ ہے‘ میں بزناس اور اس نوعیت کے دوسرے کاروباری سلسلوں کو نہایت شک کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

اسلامی معاشیات کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ سرمایہ‘محنت اور قدرتی وسائل کا استعمال اس طرح کیا جائے کہ پیداواری صلاحیت اور اثاثوں کی تخلیق (asset creation) رونما ہو۔ اسی سے اضافۂ قدر (value added) کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور پیداواری صلاحیت (productivity) بڑھتی ہے‘ اشیا اور خدمات کی رسد بڑھتی ہے اور انسانوں اور معاشرے کی ضروریات پوری ہونے کا سامان کرتی ہے۔ یہی عمل ہے جسے پیدایش دولت (wealth creation)کہا جاتا ہے اور یہی وہ عمل ہے جو انسانوں کے لیے خیر اور فلاح کا باعث ہوتا ہے۔ اس نظام میں زر (money) کا کردار یہ ہے کہ وہ دو انسانی یا مادی (human or physical) وسائل کے درمیان تبادلے کا ذریعہ اور اس طرح حقیقی معاشی سرگرمی کو آگے بڑھانے کا وسیلہ بنتا ہے۔ اس طرح زر ایک زرِمبادلہ (medium of exchange) ہے‘ ایک معیارِ قدر ہے اور حال اور مستقبل کے معاشی لین دین کے لیے مرکزی حوالہ (reference point) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشیات میں زر خود ایک شے (commodity) نہیں ہے اور زر کی خرید و فروخت بحیثیت زر ممنوع ہے۔ زر صرف ایک ذریعہ ہے‘ خود اس سے مزید زر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بنیادی تصور ہے اور میرے علم کی حد تک ہر مذہب اور ہر اس تہذیب نے جس کی اخلاقی بنیادیں ہوں اس بنیاد کو تسلیم کیا ہے۔ ارسطو تک نے یہ بات کہی تھی کہ زر‘ زر پیدا نہیں کرتا ("money does not beget money") ۔

یہی وجہ ہے کہ سود (ربٰو) اسلام میں ہر شکل میں ممنوع ہے۔ اس کی اخلاقی‘ تہذیبی اور معاشی بنیاد یہ ہے کہ اگر زر مادی اثاثوں (physical assets) یا خدمات (services) کے فروغ کا ذریعہ بنتا ہے‘تو اس کے ذریعے سے جو نمو اور اضافہ (value creation) وجود میں آتا ہے ‘ اور جسے منافع کہا جاتا ہے وہ ایک جائز اضافہ ہے اور یہی وہ اضافہ ہے جو انسانی زندگی کو ضروریات کی تکمیل اور خوش حالی سے ہم کنار کرتا ہے۔ تجارت اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کو جائز اور مطلوب قرار دینے اور ربٰو سے حاصل ہونے والے اضافے کو خسارہ اور ظلم قرار دینے کی یہی بنیاد ہے۔ ہر وہ کاروبار جس کے نتیجے میں اثاثوں کی تخلیق ہو‘ خواہ اشیاے صرف کی شکل میں ہو یا اشیاے پیداوار یا خدمات کی ‘ مفید اور جائز ہے۔ اور صرف روپیہ کے لین دین سے اثاثوں کی تخلیق کے بغیر اضافہ ربٰوکی تعریف میں آتا ہے۔

جس کاروبار کا آپ نے ذکر کیا ہے اور جو تفصیل اس کی آپ نے بیان کی ہے اِس اصول کی روشنی میں اس کا ہدف بظاہر اثاثوں کی تخلیق نہیں بلکہ کسی کا پیسہ لے کر کسی دوسرے کو پیسہ دینا ہے۔ اس طرح اضافے اور آمدنی کو حقیقی پیداواری عمل کے بجائے محض روپیہ کے ہیرپھیر کی صورت میں استعمال کرنا اخلاقی اور معاشی دونوں اعتبار سے ان مقاصد کو پورا نہیں کرتا جو شریعت کا منشا ہے۔ جہاں تک loyalty کارڈ کا معاملہ ہے وہ ایک غیر متعلق چیز ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محض چاشنی کے لیے اسے اس اسکیم پر لگا دیا گیا ہے۔ اس طرح کا کارڈ آج مغربی دنیا میں عام چیز ہے اور اسے اس قسم کے سرمایے کے لین دین سے منسلک کرنا کوئی منطقی بات نہیں۔اس قسم کے کارڈ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک ہی سٹور سے خریدے اور ادارے سے تعلق کی بنیاد پر اور اپنی خریداری میں استمرار (continuity)کی وجہ سے اسے کٹوتی دی جائے۔ بظاہر اس پوری اسکیم میں یہ کارڈ ایک الگ چیز ہے اور پیسہ بٹور کر پیسہ دینا ایک دوسری چیز ہے۔

اگر صورت حال کے بارے میں میرا تجزیہ صحیح ہے تو اس طرح کے اکائونٹ سے جو منافع حاصل ہوگا‘ اسے اسلامی معاشیات (اور خود جدید معاشیات) کی رُو سے منافع میں حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے کہ سرمایے میں اضافہ کسی پیداواری عمل سے مربوط نہیں ہے۔ میری نگاہ میں یہ زر ہی کے لین دین کی ایک نسبتاً ’تہذیب یافتہ‘ (sophisticated) اور پیچ در پیچ (round about) کوشش ہے جو معاشی اعتبار سے مخدوش اور اخلاقی اعتبار سے ناقابلِ دفاع ہے۔ اس سے ایک قسم کی حبابی معیشت (bubble economy) تو پیدا ہو سکتی ہے لیکن مادی اثاثوں کی وہ تخلیق رونما نہیں ہوتی جو اسلام اور خود معاشیات کا اصل ہدف ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے اور خالص شرعی پہلو کے لیے مناسب ہے کہ آپ صاحب ِنظر اور ثقہ علما سے رجوع کریں۔(پروفیسر خورشید احمد)


بنک کے سود کا استعمال

س: موجودہ بنک کاری نظام سودی ہے اور صہیونیت کے شکنجے میں پوری طرح جڑا ہوا ہے۔ اسلامی بنک کاری بھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ عام آدمی اپنی مختلف مجبوریوں‘ ضرورتوں اور تحفظ کے پیش نظر بنک میں پیسہ رکھنے پر مجبور ہے اور اسے اپنی رقم کے عوض سود لینا پڑتا ہے۔

میری تجویز ہے کہ جب تک کوئی متبادل میسر نہیں آتا اس سود کو حاصل کر کے خود استعمال کرنے کے بجائے غریب اور نادار افراد کی ضروریات پر خرچ کیا جائے‘ اور مفلوک الحال لوگوں کی حالت بدلنے پر صرف کیا جائے۔ کیا یہ تجویز شرعی نقطۂ نظر سے جائز ہے؟

ج : اس وقت بنکنگ کا جو صہیونی نظام ہے اس کے شکنجے سے نکلنے کی تدبیر وہ قیادت کرسکتی ہے جو ایمان اور علم و عمل سے سرشار اور امریکی عالمی استعمار کی ذہنی غلامی سے آزاد ہو۔ اس وقت تک اس نظام کے ظلم سے اپنے آپ کو کس طرح بچایا جائے؟ اس کے لیے متعدد تجاویز میں سے ایک تجویز وہ ہے جو آپ نے پیش کی ہے۔

مجھے آپ کی اس تجویز سے کہ سودی منافع بنک سے حاصل کر لیا جائے اور خود استعمال کرنے کے بجائے اپنے مفلوک الحال بھائیوں کو دے دیا جائے‘ سے اتفاق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سود لینا ظلم ہے اور سود دینا ظلم میں تعاون ہے۔بنک سود لیتا ہے‘ مقروض اشخاص اور ادارے اسے سود دیتے ہیں اور اس طرح وہ ظلم میں بنک سے تعاون کرتے ہیں۔ بنک ظلماً جو سودی رقمیں لیتا ہے اس کا بہت بڑا حصہ خود رکھ لیتا ہے اور اس کا تھوڑا سا حصہ کھاتہ داروں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ بنک مقروض اداروں کے ساتھ بھی ظلم کرتا ہے اور کھاتہ داروں کے ساتھ بھی۔ مزید یہ کہ وہ کھاتہ داروں کو اس ظلم میں اپنے ساتھ شریک بھی کرتا ہے۔

کھاتہ داروں کے لیے اس ظلم سے نکلنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ بنک سے سودی منافع وصول کر لیں اور ان لوگوں تک پہنچا دیں جن سے سود لیا گیا ہے۔ اصل حق دار وہی ہیں لیکن ان کا معلوم کرنا اور ان تک رقم پہنچانا ناقابل عمل ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ فقرا اور مساکین تک یہ رقم پہنچا دی جائے۔ یہی وہ صورت ہے جو آپ نے تجویز کی ہے۔ یہ قابل عمل ہے اور احادیث سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ گم شدہ رقم اور سامان کا حکم احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کے اصل مالک کو تلاش کیا جائے اور رقم اور سامان اس تک پہنچایا جائے۔ اگر سال دو سال تک اعلان اور تشہیر کے باوجود اصل مالک نہ ملے تو اس رقم کو فقرا اور مساکین میں تقسیم کیا جائے گا۔ اس کا ثواب اصل مالک کی طرف گم شدہ رقم اور سامان کو فقرا میں تقسیم کرنے والے کو ملے گا کہ اس نے رقم بے جا صرف کرنے کے بجائے حق دار پر صرف کی ہے۔ سودی منافع بھی گم شدہ رقم اور سامان کے حکم میں ہے کہ اصل مالکوں تک اس کا پہنچانا ناقابل عمل ہے۔ لہٰذا اسے بنک سے وصول کر لیا جائے اور فقرا اور مساکین میں تقسیم کر دیا جائے۔ فقرا ان رقوم کے حق دار ہیں جن کے مالک معلوم نہ ہو سکتے ہوں۔ آپ سودی منافع وصول کر کے اپنے رشتہ داروں یا معاشرے کے مفلوک الحال افراد تک پہنچا سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی اور دینی تحریکیں اس حل سے متفق ہیں۔ البتہ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ خود اس رقم کو استعمال نہ کریں تاکہ اس کا ناجائز ہونا ذہن میں مستحضر رہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو رزق حلال عطافرمائے۔ آمین! (مولانا عبدالمالک)

آزاد ہندوستان میں مسلم تنظیمیں‘ ایک جائزہ ‘ڈاکٹر سید عبدالباری۔ ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف آبجکیٹواسٹڈیز‘ نئی دہلی۔ صفحات: ۳۶۸۔قیمت: ۲۵۰ روپے۔

تقسیمِ ہند کے بعد بھارت کے مسلمان ایک ایسی انوکھی صورتِ حال سے دوچار ہوئے جو انھیں تاریخ میں اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آئی تھی۔ ۱۵اگست ۱۹۴۷ء کو بظاہر ’’جمہوریت کی نئی صبح‘‘ طلوع ہوئی تھی اور آزادی و مساوات کی بشارت دی گئی مگر حقیقت میں ہندو اکثریت کے غصّہ و انتقام کے ایک نئے دَور کا آغاز ہوچکا تھا۔

نئے حالات کے پیش نظر اور گوناگوں مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لیے گذشتہ ۵۰برسوں میں بھارت کے مسلمانوں اور مسلم جماعتوں اور تنظیموں نے طرح طرح کی حکمت عملیاں اختیار کیں۔ اس ضمن میں زیرنظر کتاب میں حسب ذیل مسلم تنظیموں کی کاوشوں اور کوششوں کا جائزہ لیا گیا ہے: جمعیت العلماے ہند‘ امارتِ شرعیہ بہار و اڑیسا‘ تبلیغی جماعت‘ جمعیت اہل حدیث‘ جماعت اسلامی‘ مسلم لیگ‘ کل ہند تعمیرملّت‘ مجلس اتحادالمسلمین‘ مسلم مجلس مشاورت‘ مسلم مجلس‘ آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ‘ اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا‘ انسٹی ٹیوٹ آف آبجکیٹواسٹڈیز‘ آل انڈیا ملّی کونسل۔

یہ کتاب ایک طرح سے مذکورہ بالا تنظیموں کا تعارف ہے‘ (مختصر تاریخ‘ طریق کار اور حکمت عملی کا تجزیہ)۔ مصنف نے صدر یار جنگ‘ سلیمان ندوی‘ مناظراحسن گیلانی‘ مولانا مدنی‘ مولانا لاہوری‘ ابوالکلام اور مولانا تھانوی کے نام لے کر‘ یہ سوال اٹھایا ہے کہ اتنے بڑے ذہن و دماغ کے انسان رکھنے والی اُمت آخر کیوں اپنے پیروں پر کھڑی نہ ہو سکی؟ ڈاکٹر سید عبدالباری کے نزدیک اس کا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے بیشتر علما نے مغرب کے اقتدار اور جبروت کے اسباب پر کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور اس کی ترقی کے اسباب کا تجزیہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور صرف انگریز دشمنی کو اپنا مذہب و مسلک بنا لیا۔ مزیدبرآں مغرب کے اُن فلسفوں کا توڑ کرنے کے لیے انھوں نے کوئی بڑا تحقیقی ادارہ قائم نہیں کیا جو پوری دنیا میں اتھل پتھل مچائے ہوئے تھے اور بعض عالی مرتبت علما ذہنی طور پر اشتراکیت سے مرعوب تھے اور مدارس کا ماحول عام طور پر دیگر مسالک کی تغلیط و تردید کا ہی رہا (ص ۵۰-۵۱)۔

مصنف نے جماعتوں اور تنظیموں کے انفرادی کردار‘ خدمات اور ان کے کارناموں کے ساتھ ان کی خامیوں‘ ناکامیوں اور کمزور پہلوئوں کی بھی نشان دہی کی ہے۔ مگر مصنف کی تنقید بہت معتدل اور محتاط ہے۔ تبصروں اور تجزیوں میں انھوں نے بہت کچھ سنبھل سنبھلا کر‘ اور پھونک پھونک کر قدم اٹھایا ہے‘ اور بالعموم اختلافی پہلوئوں کے ذکر سے گریز کیا ہے۔ مثلاً تبلیغی جماعت کا (مولانا محمد الیاس اور مولانا محمد یوسف کے دَور تک) فقط تعارف کرا دیا ہے مگر اب کیا صورتِ حال ہے؟ اس پر‘ ماسوا دو تین جملوں کے (ص ۱۴۳) کچھ کلام کرنے سے گریز کیا ہے--- جماعت اسلامی کی کمزوریوں کی طرف ہمدردانہ اشارے بھی کیے ہیں (ص ۱۹۹-۲۰۰)۔

ڈاکٹر سید عبدالباری ایک تجربہ کار معلّم اور اُردو کے معروف ادیب و شاعر اور نقاد ہیں۔ انھیں یہ علمی منصوبہ ‘ دہلی کے انسٹی ٹیوٹ آف آبجکیٹو اسٹڈیز کی طرف سے سونپا گیا تھا۔ ان کا کام بہت اہم مگر اتنا ہی نازک تھا۔ کتاب میں (’’اگرچہ‘‘…’’پھر بھی‘‘ کے اسلوب کے ذریعے) ترازو کے دونوں پلڑے برابر رکھنے کی سعی نظر آتی ہے۔ مجموعی طور پر ان کے ہاں اُمیدافزا پہلو غالب ہے۔ اس طویل تجزیے کا اختتام بھی ان سطور پر ہوتا ہے کہ ۵۰ سال کی طویل سیاہ رات کے بعد آفتابِ تازہ کا طلوع زیادہ دُور نہیں اور راقم کو اس صبحِ روشن کے قدموں کی آہٹ صاف طور پر سنائی پڑ رہی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


تصویر حیات ‘پروفیسرڈاکٹر سعیداللہ قاضی۔ ناشر: تنظیم اساتذہ پاکستان‘ ۳-بہاول شیر روڈ‘ مزنگ‘ لاہور۔ صفحات: ۴۱۶۔ قیمت: ۱۰۲ روپے۔

یہ ایک ایسے معلّم اور مصنف کی آپ بیتی ہے جو ریاست دیر جیسے دُورافتادہ اور پس ماندہ علاقے میں پیدا ہوا۔ ریاست میں ایک بھی اسکول نہ تھا۔ لوگ چھپ چھپ کر یا باہر جاکر تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ نواب دیر اپنی رعیت کو تعلیم دینے کے خلاف تھا۔ کسی کو اسکول کھولنے کی اجازت نہ تھی مگر ان کے اپنے بیٹے بیرونِ ملک جاکر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ریاست میں کتوں کے لیے تو شفاخانہ موجود تھا مگر انسانوں کے لیے کوئی ہسپتال نہیں تھا (ص ۳‘۴)۔

مصنف نے غربت اور تنگ دستی کے عالم میں تکلیفیں برداشت کر کے اور محنت و مشقت کی زندگی گزارتے ہوئے‘ نہایت عزم و ہمت اور حوصلے کے ساتھ ریاست سے باہر جاکر تعلیم حاصل کی۔ کیمبرج یونی ورسٹی سے ایم‘لٹ اور پشاور یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ پشاور یونی ورسٹی میں لیکچرر ہوئے اور ترقی کرتے ہوئے ڈین کے عہدے تک پہنچ کر سبکدوش ہوئے۔

مصنف کی اس بات پر تو رشک ہی کیا جا سکتا ہے کہ دنیا میں بلامبالغہ کوئی ایسی نعمت نہیں جو اللہ نے مجھے نہیں دی اور کوئی ایسی آرزو نہیں کی جو اللہ نے پوری نہیںکی (ص ۳۰۷)۔ لیکن آپ بیتی پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ نہایت غریب گھرانے اور انتہائی پس ماندہ علاقے کے ایک شخص نے جو کچھ بھی ترقی کی ‘اس کے پسِ پردہ توفیقِ الٰہی کے ساتھ مصنف کی نیک نیتی‘ خلوص‘ عزم و ہمت اور دوسروں سے ہمدردانہ رویہ‘ اپنے فرائض کی دیانت دارانہ بجاآوری‘ وقت کی سختی سے پابندی‘ سخت کوشی‘ سحرخیزی اور رزق حلال جیسے عادات و معمولات اور عوامل و عناصر کارفرما رہے۔ کہتے ہیں کہ میں اسکول کے زمانے میں کبھی کبھی سارا سارا دن بھوکا رہتا تھا لیکن واپسی پر (دوسرے ہم جماعتوں کی طرح) بلااجازت کسی کھیت سے گنا نہیں توڑا (ص ۲۹)۔ ہمیشہ پہلا پیریڈ لیا اور صبح جاگنے کے لیے کبھی الارم کلاک کا استعمال نہیں کیا (ص ۱۵۳)۔

مصنف کے بیرونِ ملک اسفار کے تجربات دل چسپ ہیں ‘مثلاً: اوّل‘ کیمبرج کے ایک پروفیسرنے قادیانی سمجھ کر ان کی خوب حوصلہ افزائی کی لیکن جب پتا چلا کہ ’’میں قادیانی نہیں تو اس نے مجھ میں دل چسپی لینی چھوڑ دی‘‘ (ص ۷۳)۔ ہم کیمبرج کے پروفیسروں کی مہارتِ علمی اور رہنمائی سے بہت مرعوب ہیں مگر مصنف کا تجربہ مختلف ہے۔ ان کے نگرانِ مقالہ نے ان کی صحیح رہنمائی نہ کی اور نہ کوئی خاص مدد کی۔ البتہ مصنف نے پروفیسر آربری کی تعریف کی ہے کہ ان کا طرزِعمل سارے کا سارا ایک مسلمان کا تھا‘ بس کلمہ پڑھنے کی توفیق نہیں ملی۔ دوم: مصنف نے اپنے کچھ دیگر تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہودی پوری انسانیت کو بداخلاق بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور انھوں نے مسلمان ملکوں میں جاسوسی کے جال بچھا رکھے ہیں۔

آخری حصے میں ایک پورا باب تنظیم اساتذہ پاکستان پر ہے۔ قاضی صاحب نے تنظیم کی اہمیت و خدمات کے ساتھ اپنے اُوپر اس کے احسانات کا اعتراف کیا ہے لیکن تنظیم اور افرادِ تنظیم کی کمزوریوں‘ خامیوں اور اصلاح طلب پہلوئوں کا بھی بڑے کھلے اور واشگاف انداز میں ذکر کردیا ہے۔ یہ ایک طرح کا مکتوبِ مفتوح ہے۔

قاضی صاحب کا اسلوب رواں دواں اور آسان ہے۔ اگرچہ فنی اور ادبی اعتبار سے تو یہ خودنوشت کوئی بلندپایہ آپ بیتی قرار نہیں دی جا سکتی‘ لیکن مصنف نے جس خلوص‘ کھلے دل و دماغ‘ صاف گوئی اور بے لاگ انداز میں اسے لکھا ہے اس لحاظ سے یہ ایک دل چسپ‘ معلومات افزا‘ سبق آموز اور قابلِ مطالعہ آپ بیتی ہے۔

اگر اس کی تدوین کی جاتی اور تکرار یا غیر ضروری حصوں کو نکال دیا جاتا اور زبان و بیان میں بھی کچھ اصلاح کر دی جاتی تو یہ کہیں زیادہ خوب صورت اور عمدہ خود نوشت کا درجہ حاصل کرلیتی (ضخامت بھی کم ہو جاتی)‘ تاہم موجودہ صورت میں بھی اس میں ایک اچھی آپ بیتی کی بعض خوبیاں موجود ہیں‘ مثلاً مصنف کا خود احتسابی کا رویہ‘ اپنی غلطیوں اور شخصی کمزوریوں کا اعتراف‘ صاف گوئی اور اپنے شدید مخالفین سے براہِ راست مکالمے کا اہتمام اور ان کی خوبیوں کا اعتراف وغیرہ۔ (ر- ہ )


قرآن اور علمِ جدید ‘ڈاکٹر محمد رفیع الدین (تلخیص: محمد موسٰی بھٹو)۔ناشر: سندھ نیشنل اکیڈیمی ٹرسٹ‘ ۴۰۰ بی‘ یونٹ ۴‘ لطیف آباد‘ حیدرآباد۔ صفحات: ۲۷۲۔قیمت: ۱۰۰ روپے۔

ڈاکٹر محمد رفیع الدین (۱۹۰۴ئ-۱۹۶۹ئ) ایک ممتاز فلسفی‘ اقبال شناس اور جدید علوم کے اسکالر تھے۔ ان کی عالمانہ تصنیف قرآن اور علمِ جدید بقول ڈاکٹر غلام مصطفی خان: ’’جدید نظریات کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھنے اور اسلام کے نظریۂ لاشعور‘ نظریۂ جبلت‘ نظریۂ فوقیت اور نظریۂ معاش اور اسلام کے نظریۂ قومیت کی تشریح کے سلسلے میں--- سب سے نمایاںاور منفرد نوعیت کی کتاب ہے‘‘۔ محمد موسٰی بھٹو نے بکثرت ذیلی سرخیوں کے اضافے کے ساتھ اصل کتاب کی تلخیص پیش کی ہے۔ شروع میںایک طویل مضمون میں بھٹو صاحب نے مصنف مرحوم کی فکر کے اہم پہلوئوں کا خلاصہ اور ان کی بعض کتابوں سے اقتباسات دیے ہیں۔ یہ سب مباحث فکری اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ مصنف کی علمیت مسلّمہ اور عالمانہ نقدوتبصرہ اورگرفت بہت عمدہ  اور برمحل ہے۔

اصل کتاب کے آخری سو صفحات (مارکسزم کی بحث) کی تلخیص شامل نہیں کی گئی کیونکہ کتاب کی ضخامت زیادہ ہو چلی تھی۔ تدوین شدہ موجودہ صورت میں آسانی سے پتا نہیں چلتا کہ مرتب کا مطالعاتی جائزہ کہاں ختم ہو رہا ہے اور اصل کتاب کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟ فہرست بھی رہنمائی نہیں کرتی۔ کاش اس نہایت مفید کتاب کو تدوین و تلخیص اور معیارِ اشاعت کے لحاظ سے بھی شایانِ شان طریقے سے پیش کیا جاتا۔ (ر-ہ)


تبلیغی جماعت کا جائزہ  ‘مولانا عامر عثمانی۔مرتبہ: سید علی مطہر نقوی امروہوی۔ ناشر: مکتبہ الحجاز پاکستان‘ اے ۲۱۹‘ بلاک سی‘الحیدری۔ شمالی ناظم آباد‘ کراچی۔ صفحات: ۲۸۸۔ قیمت: ۱۴۰ روپے۔

مولاناعامر عثمانی مرحوم نے بڑی پتے کی بات کہی ہے: ’’ہم یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے تمام گروہ‘ تمام باضابطہ جماعتیں اپنے اپنے گروہی خیالات و نظریات کو ایک طرف رکھتے ہوئے‘ اس طوفان ہلاکت کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہوں‘ جو ہم سب کو بہا لے جانے کے لیے گرجتا‘اُمڈتا چلا آرہا ہے‘ چلا نہیں آ رہا‘ ]بلکہ[کبھی کا آچکا ہے‘‘۔ (ص ۱۷۶-۱۷۷)

اس اپیل کے ساتھ وہ لکھتے ہیں: ’’تبلیغی جماعت کے اعمالِ خیرپر ہم کبھی معترض نہیں ہوئے‘ بلکہ موقع بہ موقع انھیں سراہا ہے‘‘ (ص ۲۷۰)۔ واقعہ یہ ہے کہ تبلیغی افراد ایثار و اخلاص اور تصوف کے ملے جلے جذبے سے سرشار گھروں سے نکلتے ہیں مگر اساطیری حوالوں اور ضعیف روایتوں کی آمیزش سے ان کے ’’راہبانہ ذہن‘‘ (ص ۱۶۶) تیار کیے جاتے ہیں‘ انھیں ہمدردانہ دعوتِ فکر سے درست کرنے کی سعی کرنا‘ ہر عالم‘ فاضل اور دین کے بہی خواہ پر واجب ہے۔ یہ امر بھی مشاہدے میں آتا ہے کہ ’’جہاں تبلیغی نصاب پڑھا جانے لگا‘ وہاں ایسا التزام کیا جانے لگا کہ کچھ اور پڑھنے کو عملاً ]ممنوع[ کر دیا گیا۔ اسی کا نام ہے غیرواجب کو واجب بنا لینا‘‘ (ص ۲۸۳)۔

تبلیغی جماعت کے اس صدقہ جاریہ میں ایسی افراط و تفریط کا در آنا ایمان‘ جستجو اور حریت کے پیمانوں کو ضعف پہنچانے کا باعث بنتا ہے جس پر نہ صرف جماعت کے بزرگوں کو بلکہ دوسرے راست فکر اہل علم حضرات کو بھی خلوصِ نیت کے ساتھ رہنمائی کرنا چاہیے‘ عامرعثمانی مرحوم نے یہی خدمت انجام دی ہے۔

جیساکہ تبصرے کے آغاز میں ہم نے عامر عثمانی مرحوم کا قول نقل کیا ہے کہ اُمت کی مختلف جماعتوں کو اتفاق و ایمان کے ساتھ تعاون کی شاہراہ پر گامزن ہونا چاہیے۔ اسی جذبے کے تحت عامرعثمانی نے مختلف اوقات میں تبلیغی جماعت کے لٹریچر اور ان کے متعدد بزرگوں کی جانب سے‘ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی مرحوم پر ہونے والی تنقید کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ خود: ’’تبلیغی جماعت کے چھے اصولوں میں کسی جماعت کو مطعون کرنا‘ برا بھلا کہنا شامل نہیں ہے‘‘ (ص ۹۷)۔ لیکن مسلموں اور غیرمسلموں کی تمام تحریکوں کو نظرانداز کرتے ہوئے تبلیغی جماعت کے اکابرکے ہاں جماعت اسلامی ] اور مولانا مودودی[ کے خلاف ایک طرح کی ’’ذہنی جارحیت‘‘ نظر آتی ہے‘‘(ص ۱۴۹)۔ حالانکہ ایسے رویے کی بنیاد مولانا محمد الیاس مرحوم نے نہیں رکھی تھی۔

یہ کتاب مولانا شبیراحمدعثمانی ؒکے بھتیجے اور دارالعلوم دیوبند کے فاضل مولانا عامرعثمانی مرحوم کے شذرات پرمشتمل ہے‘ جو انھوں نے خداترسی‘ علمی شان‘ اور جرأت ایمانی کے ساتھ تحریر کیے ہیں۔ سید علی مطہرنقوی نے انھیں مرتب کر کے ایک اہم خدمت انجام دی ہے۔ یہ کتاب بالخصوص تبلیغی جماعت کے اکابر واصاغر اور ان کی جدوجہد میں دل چسپی رکھنے والوں کے لیے قابلِ مطالعہ ہے۔ (سلیم منصورخالد)


انسانیت کی تلاش  ‘ملک شیر علی۔ ناشر: علی ویلفیئر سوسائٹی‘ لاوہ‘ تلہ گنگ(ضلع چکوال)۔ صفحات: ۲۵۳۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

سفرنامہ واحد صنفِ ادب ہے جس میں داستان کا تحیّربھی ہے اور افسانے کی چاشنی بھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قارئین کی دل چسپی اور پسندیدگی کے پیش نظر گذشتہ ربع صدی میں سفرنامے بکثرت منظرعام پر آئے اور سند قبولیت حاصل کی ہے لیکن نگرنگر گھومنے والے سیاحوں میں بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جنھوں نے دنیا کے تین چوتھائی حصے میں سمندروں کے سفر کیے ہوں اور مشاہدات کو منظرعام پر لائے ہوں۔ (حجاج کے بحری اسفار ایک الگ موضوع ہے)۔

اس حوالے سے زیرنظر سفرنامہ بعض کمزوریوں کے باوجود قابلِ توجہ اور خاصا دل چسپ ہے۔ مصنف پاک بحریہ کے ایک سابق ٹیلی گرافسٹ ہیں۔ انھوں نے بعد میں نیوی مرچنٹ میں بطور ریڈیو افسرطویل عرصے تک مختلف جہازوں پر فرائض سرانجام دیے۔مصنف کو دنیابھرکے سمندروں میں سفر کرنے اور تمام اہم ملکوں کی بندرگاہوں پر جانے اور وہاں قیام کرنے کے مواقع ملے۔ کئی بار دیارِ غیر میں اُس کے آپریشن ہوئے اور طرح طرح کے مصائب کا سامنا بھی رہا اور دل کھول کر لطف بھی اٹھایا۔ مصنف نے تجربات و مشاہدات کو سیدھے سادے انداز میں پیش کیا ہے۔

متلاطم سمندروں میں جہازوں کے عملے (crew) کو کن کن مصیبتوں سے واسطہ پڑتا ہے اور ان مصائب سے ان کی صحت اور مزاج پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ڈوبتے جہازوںکی مدد کیسے کی جاتی ہے۔ کلبوں میں تفریح طبع کے کیا سامان میسر آتے ہیں۔ پھر وطن سے دُور پاکستانیوں کے کیا رویّے ہوتے ہیں؟ اسی طرح کے بہت سے پہلو سامنے لائے گئے ہیں۔

مصنف نے اس کتاب کے مرکزی کردار علی کی نجی زندگی کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے۔ محدود ماحول میں رہنے والے کسی فرد کی نجی زندگی عمومی دل چسپی کا باعث نہیں ہوتی۔  مگر یہاں ایک مخلص‘ فراخ دل اور جذباتی انسان کی آپ بیتی میں دل چسپی کے ساتھ عبرت کے کئی پہلو بھی نظر آتے ہیں۔

علمی و ادبی بڑے مراکز سے دُور ایک قصبے کے باسی مصنف کی یہ پہلی کاوش ہے۔ اس لیے پختہ قلم کاری کا عدمِ وجود تعجب خیز نہیں۔ واقعات کی زمانی ترتیب میں جھول ہے۔املا‘ رموزاوقاف‘ فقروں کی بندش اور تحریر کے دیگر کئی پہلونظرثانی کے مستحق اور توجہ طلب ہیں۔ ایک بھرپورنظرثانی کے بعد یہ کتاب ایک منفرد مقام حاصل کرسکتی ہے۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)


تعارف کتب

  • قرآنی عربی کا پہلو‘ پہلا‘دوسرا‘ تیسرا قاعدہ۔ ناشر: ادارہ تعمیرانسانیت‘ کراچی۔ صفحات: ۷۱‘ ۱۱۴‘ ۱۳۰۔ قیمت: ۳۰ روپے‘ ۴۶ روپے‘ ۵۴ روپے۔]قرآنی عربی آسان اور فطری طریقے سے سکھانے کا قاعدہ تین حصوں میں۔ ان قاعدوں کا بیشتر ذخیرئہ الفاظ قرآن و حدیث سے اخذ کردہ ہے۔[
  • گفتگو کا چراغ (اسلم انصاری‘ شخصیت اور فن۔ مصنف: جاوید اصغر‘ ناشر: فکشن ہائوس‘ ۱۸- مزنگ روڈ‘ لاہور۔ صفحات: ۱۹۲۔ قیمت: ۱۲۵روپے۔] ملتان سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر‘ ادیب اور ناقد‘ پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری کی شاعری اور اقبال شناسی کا تجزیہ و تبصرہ۔ ایم اے اُردو کا ایک امتحانی مقالہ۔ بقول خورشید رضوی : ’’ہمارے دَور کی ایک اہم شخصیت کے علمی‘ ادبی اور فکری کمالات کو متعارف کرانے کے لیے یہ محنت قابلِ قدر‘‘ ہے مگر سوانحی حالات کا حصہ مختصر اور تشنہ ہے۔[
  • فقہ حضرت امام حسن بصری‘ ڈاکٹرمحمد روّاس‘ قلعہ جی‘ (ترجمہ: مولانا عبدالقیوم)۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی‘ منصورہ‘ لاہور۔صفحات: ۸۵۰۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔] فقہ انسائی کلوپیڈیاکے سلسلے کی نئی کتاب۔ قبل ازیں خلفاے راشدین ‘ عبداللہ بن مسعودؓ، عبداللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن عباسؓ کی کتب فقہ شائع ہوچکی ہیں۔ حسن بصری(م: ۱۱۰ ہجری) اپنے عہد کے ممتاز فقیہ‘ محدث اور مفسر تھے۔ لوگ ان کی محبت سے فیض یاب ہوتے اور زیارت سے روحانی آسودگی پاتے ۔[
  • The Zakat Law ] قانونِ زکوٰۃ[ خالد نذیر‘ ناشر: عمّارپبلی کیشنز‘ اسلام آباد‘ فون: ۲۲۵۶۰۹۶۔ صفحات: ۲۶۱۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔] زکوٰۃ اور عشر کیا ہے؟ ۱۹۸۰ء کا زکوٰۃ و عشر آرڈی ننس‘ اس میں ہونے والی ترامیم۔ مسلم ممالک میں قوانینِ زکوٰۃ۔ نظامِ زکوٰۃ کی اصلاح و بہتری کے لیے تجاویز۔[

سلیم منصور خالد‘گوجرانوالہ

پردے کی بحث میں محترمہ رخسانہ جبیں کے مدلل مقالے ’’آیاتِ حجاب و ستر اورموڈریٹ اسلام‘‘ اور ’’رسائل و مسائل‘‘ (فروری ۲۰۰۳ئ) میں پروفیسرخورشید احمد صاحب کے متوازن جواب نے دلیل‘ یکسوائی اور عدل پر مبنی نقطۂ نظر اختیار کرنے کی راہ سجھائی‘ تاہم مضمون کو ’’عالم نسواں‘‘ کے حصے سے منسوب کرنا مناسب دکھائی نہیں دیتا۔ سماجی علوم کی مردانہ‘ زنانہ تقسیم کو ایک غیرفطری اور غیرمحتاط رویہ کہا جاسکتا ہے۔ مقالات کو اپنے موضوع کے اعتبار سے سماجیات‘ معاشیات‘ سیاسیات‘ نفسیات وغیرہ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ’’پردے‘‘ کو عالم نسواں کا مسئلہ قرار دینا درست نہ ہوگا۔ یہ صرف عورتوں کا نہیں بلکہ معاشرے اور تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔


ڈاکٹر منصور علی‘ لاہور

ازراہِ کرم ترجمان القرآن میں قرآنی آیت / آیات لکھتے وقت اختصار اور جگہ کی کمی کو دل میںجگہ نہ دیں۔ پوری آیت یا آیات لکھا کریں۔ اس کے بے شمار فائدے ہیں۔


شمس الاسلام‘ پشاور

علامہ یوسف القرضاوی کی تحریر ’’انسانی کلوننگ‘‘ (فروری ۲۰۰۳ئ) اپنے موضوع پر ایک جامع اور مفید مضمون ہے۔ خدشہ ہے کہ فرائیڈ کے پیروکار ’’کلوننگ‘‘ کے نتیجے میں بننے والے انسانوںکو اخلاق اور احترامِ انسانیت کا جنازہ نکالنے کے لیے استعمال کریں گے۔ اس کی فکر کی جانی چاہیے۔


نیراقبال ‘ لاہور کینٹ

ترجمان القرآن کی تمام تحریروں میں اصلاحی‘ اخلاقی اور دینی رنگ غالب ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے ہر ماہ پرچے کا انتظار رہتا ہے۔ خدا کرکے اپنی مقصدیت اور روایات کے ساتھ یہ اِسی طرح روشنی بکھیرتا رہے۔ ’’دل کی زندگی: اعمال کا مدار‘‘ (جنوری ۲۰۰۳ئ) میں حدیث کی تشریح جس طرح سلیس زبان مگر عالمانہ انداز میں کی گئی ہے تعریف کی محتاج نہیں ۔ ’’موڈریٹ اسلام کی تلاش‘‘ (جنوری ۲۰۰۳ئ) سے اندازہ ہوا کہ مغرب کی چال بازیاں کتنی منظم ہیں اور ہم کتنے بے خبر! ’’تحریک اسلامی سینیگال‘‘ (جنوری ۲۰۰۳ئ) پڑھ کر اندازہ ہوا کہ تعلیم کا میدان کتنا اہم ہے مگر ہم اس کو وہ اہمیت نہیں دے رہے جو اس کا تقاضا ہے۔


اے - مراد لعل ‘ چترال

’’موڈریٹ اسلام کی تلاش‘‘ (جنوری ۲۰۰۳ئ) میں اغیار کی سازش سے بروقت متنبہ کیا گیا ہے۔ ایف بی آئی کے نام پر معزز شہریوں کو تنگ کر کے چنگیزی دَور کی یاد تازہ ہوگئی۔ اللہ جانے آیندہ یہ کیا کیا گل کھلائے گی۔ شذرات کے ذریعے بروقت گرفت ہوئی۔


مولانا ایاز احمد حقانی ‘ پشاور

’’اشارات‘‘ کے ساتھ شذرات کا اضافہ خوش آیند ہے۔ یہ سلسلہ جاری رکھیں۔ اس سے حکومت کے اقدامات سے آگہی بھی ہوگی اور گرفت اور تنقید بھی۔


راجا محمد ظہور ‘ ساہیوال

ترجمان کی طرزِ ادا مزید سہل بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ایف اے تک کے تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے بھی سمجھنا آسان ہو۔ اب وہ پہلا سا دور تو نہیں۔ علم کی سطح کافی نیچے چلی گئی ہے۔ اس سلسلے میں مدیر کا حق تغیروتبدل (معنوی نہیں لفظی) تو اپنی جگہ مسلمہ ہے۔


عبدالغفار عزیز ‘ لاہور

اشارات (فروری ۲۰۰۳ئ) میں strategy کا ترجمہ تزویر اور اس سے تزویری کیا گیا ہے۔ عربی اور اُردو میں عام طور پر انگریزی لفظ ہی کو الاستراتیجیۃ اور اسٹرے ٹیجی میں بدل جاتا ہے۔ تزویر لفظ زُور سے مشتق ہے۔ قول زور اور زور و بہتان اُردو میں بھی مستعمل ہے۔ تزویر میں بھی یہی معانی پنہاں ہیں۔ تزویر تو خاص طور پر جعل سازی اور دھوکا دہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ’’العملۃ المزوّرۃ‘‘ نقلی سکے کو کہا جاتا ہے۔ انتخابات و معاملات میں دھاندلی کے لیے بھی لفظ تزویر عام استعمال ہوتا ہے۔ اسٹرے ٹیجی اور تزویر میں کوئی بھی قدر مشترک دکھائی نہیں دیتی۔ اس تحریر میں تو structural کا ترجمہ بھی تزویری کر دیا گیا ہے۔ structural  اور strategical میں فرق تو ظاہر وباہر ہے۔پھر ان دونوں الفاظ اور تزویر میں بہت نمایاں فرق ہے۔ اگر عربی ترجمہ ہوتا توstructural  کے لیے ہیکلی استعمال ہوسکتا تھا۔ اُردو میں ہیئت سے مشتق کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح pluralism کا ترجمہ تکثر کیا گیا۔ میری رائے میں تکثرکے بجائے تعدّد زیادہ بہتر ہوتا۔ تکثر میں بڑھوتری اور تکاثر کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

دعوتِ اسلام کیا تبدیلی لائی ہے

اس دعوت کا اثر جہاں جہاں بھی پہنچا ہے‘ اس نے مُردہ ضمیروں کو زندہ اور سوتے ہوئے ضمیروں کو بیدار کیا ہے۔ اس کی اوّلین تاثیر یہ ہوتی ہے کہ نفس اپنا محاسبہ آپ کرنے لگے ہیں۔ حلال اور حرام‘ پاک اور ناپاک‘ حق اور ناحق کی تمیز‘ پہلے کی محدود مذہبیت کی بہ نسبت اب بہت زیادہ وسیع پیمانے پر زندگی کے تمام مسائل میں شروع ہو گئی ہے۔ پہلے جو کچھ دین داری کے باوجود کر ڈالا جاتا تھا وہ اب گوارا نہیں ہوتا بلکہ اس کی یاد بھی شرمندہ کرنے لگی ہے۔ پہلے جن لوگوں کے لیے کسی معاملے کا یہ پہلو سب سے کم قابل توجہ تھاکہ یہ خدا کی نگاہ میں کیسا ہے ان کے لیے اب یہی سوال سب سے زیادہ مقدم ہو گیا ہے۔ پہلے جو دینی حس اتنی کُند ہوچکی تھی کہ بڑی بڑی چیزیں بھی نہ کھٹکتی تھیں اب وہ اتنی تیز ہوگئی ہے کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی کھٹکنے لگی ہیں۔ خدا کے سامنے ذمہ داری و جواب دہی کا عقیدہ اب احساس بنتا جا رہا ہے اور بہت سی زندگیوں میں اس احساس سے نمایاں تبدیلی ہو رہی ہے۔ لوگ اب اس نقطۂ نظر سے سوچنے لگے ہیں کہ دنیا کی زندگی میں جو کچھ سعی و عمل وہ کر رہے ہیں وہ آیا خدا کی میزان میں کسی قدر و وزن کی حامل ہو سکتی ہے یا محض ھَبَأً مَنْثُورًا بن جانے والی ہے۔ پھر بحمداللہ اس دعوت نے جہاں بھی نفوذ کیا ہے بے مقصد زندگیوں کو بامقصد بنایا ہے اور صرف ان کے مقصدِزندگی ہی کو نہیں بلکہ مقصد تک پہنچنے کی راہ کو بھی ان کی نگاہوں کے سامنے بالکل واضح کر دیا ہے۔ خیالات کی پراگندگی دُور ہو رہی ہے۔ فضول اور دورازکار دلچسپیوں سے دل خود ہٹ رہے ہیں۔ زندگی کے حقیقی اور اہم تر مسائل مرکز توجہ بن رہے ہیں۔ فکرونظر ایک منظم صورت اختیار کر رہی ہے اور ایک شاہ راہِ مستقیم پر حرکت کرنے لگی ہے۔ غرض بحیثیت مجموعی وہ ابتدائی خصوصیات اچھی خاصی قابلِ اطمینان رفتار کے ساتھ نشوونما پا رہی ہیں جو اسلام کے بلند ترین نصب العین کی طرف پیش قدمی کرنے کے لیے اولاً و لازماً مطلوب ہیں۔ (’’اشارات‘‘، ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن‘ جلد۲۲‘ عدد۳-۴‘ ربیع الاول و ربیع الآخر‘ ۱۳۶۲ھ‘ اپریل ۱۹۴۳ئ‘ ص ۶۸-۶۹)