مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۰۲

نمایش فقر کا مطالبہ

سوال:  اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنی جائز کمائی سے اپنے آرام و آسایش کے سامان مہیا کریں‘ اچھی غذائیں کھائیں‘ مگر کیا ایک ایسی سوسائٹی میں جہاں ہر طرف بھوک اور افلاس ہو‘ غریبی اور بے چارگی ہو‘ خصوصاً ایک داعی کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اچھے ملبوسات استعمال کرے‘ عمدہ غذائیں کھائے اور ایک پُرتکلف زندگی گزارے؟ کیا رسولؐ اللہ اور آپؐ کے صحابہؓ کی یہی روش تھی‘ جب کہ وہ اسلامی تحریک کو پھیلانے میں مصروف تھے؟ جماعت کے بعض لوگوں کے ایک حد تک متعیشانہ (luxurious) طرزِزندگی کو دیکھ کر میرے اندر یہ سوال پیدا ہوا ہے۔ براہ کرم میرے ذہنی خلجان کو دور کر دیں۔

جواب:  مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے جماعت اسلامی کے کن لوگوں کو دیکھا ہے اور ان کی زندگی میں کیا چیز آپ کو متعیشانہ (luxurious) نظر آتی ہے۔ اس لیے آپ کے سوالات کا ٹھیک ٹھیک جواب دینا میرے لیے مشکل ہے جب تک کہ آپ کسی شخص کا اور اس تعیش (luxury) کا ذکر نہ فرمائیں‘ جو آپ نے اس کی زندگی میں دیکھا ہے۔

رہا صحابہ کرامؓ اور نبی کریمؐ کی زندگیوں کا معاملہ جن کا آپ نے حوالہ دیا ہے‘ تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ انھوں نے کبھی اپنی زندگی میں مصنوعی درویشی پیدا کرنے کی کوشش نہیں فرمائی‘ اور نہ محض اس غرض سے اپنے لباس‘مکان اور خوراک کا معیار کم تر رکھا کہ دیکھنے والے ان کی فقیرانہ شان دیکھ کر داد دیں۔ وہ سب بالکل ایک فطری‘ سادہ اور معتدل زندگی بسر کرتے تھے‘ اور جس اصول کے پابند تھے وہ صرف یہ تھا کہ شریعت کے ممنوعات سے پرہیز کریں‘ مباحات کے دائرے میں زندگی کو محدود رکھیں‘ رزق حلال حاصل کریں اور راہِ خدا کی جدوجہد میں بہرحال ثابت قدم رہیں‘ خواہ اس میں فقروفاقہ پیش آئے یا اللہ کسی وقت اپنی نعمتوں سے نواز دے۔ جان بوجھ کر برا پہننا ‘جب کہ اچھا پہننے کو جائز طریقے سے مل سکے‘ اورجان بوجھ کر برا کھانا‘ جب کہ اچھی غذا حلال طریقے سے بہم پہنچ سکے ان کا مسلک نہ تھا۔ ان میں سے جن بزرگوں کو   راہِ خدا میں جدوجہد کرنے کے ساتھ حلال روزی فراخی کے ساتھ مل جاتی تھی وہ اچھا کھاتے بھی تھے‘ اچھا پہنتے بھی تھے اور پختہ مکانوں میں بھی رہتے تھے۔ خوش حال آدمیوں کا قصداً بدحال بن کر رہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پسند نہیں فرمایا‘ بلکہ آپؐ نے خود ان کو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کا اثر تمھارے لباس اور کھانے اور سواری میں دیکھنا پسند فرماتا ہے۔

میری سمجھ میں کبھی ان لوگوں کی ذہنیت نہیں آسکی جو خود اپنے لیے تو اللہ کی ساری نعمتوں کو مباح سمجھتے ہیں اور دوسرے کسی بھی شخص کا اچھا کھانا اور اچھا پہننا ان کی نگاہوں میں نہیں کھٹکتا‘ مگر جہاں کسی نے اللہ کے دین کی خدمت کا نام لیا‘ پھر اس کا سادہ لباس اور سادہ کھانا‘ معمولی درجے کا مکان اور فرنیچر بھی ان کی نگاہوں میں کھٹکنے لگتا اور ان کا دل یہ چاہنے لگتا ہے کہ ایسے شخص کو زیادہ سے زیادہ بدحال دیکھیں۔ شاید لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی نعمتیں صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو خدا کا کام کرنے کے بجائے اپنا کام کرتے ہیں۔ رہے خدا کا کام کرنے والے‘ تو وہ خدا کی کسی نعمت کے مستحق نہیں ہیں۔ یا پھر شاید ان کے دماغوں پر‘ راہبوں اور سنیاسیوں کی زندگی کا سکّہ بیٹھا ہوا ہے اور وہ دین داری کے ساتھ رہبانیت کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں‘ اس لیے کھاتا پیتا دین دار ان کو ایک اعجوبہ نظر آتا ہے …

میرے نزدیک ہر وہ جائز سہولت جو آدمی کو دین کا کام بہتر اور زیادہ مقدار میں انجام دینے کے قابل بنائے نہ صرف جائز ہے بلکہ اس سے فائدہ اٹھانا افضل ہے‘ اور اسے ترک کر دینا نہ صرف ایک حماقت ہے بلکہ اگر وہ اظہار درویشی کی نیت سے ہو تو ریاکاری بھی ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک شخص اگر موٹر استعمال کر کے کم وقت میں زیادہ کام کر سکتا ہو تو کیوں اسے استعمال نہ کرے؟ اگر وہ سیکنڈ کلاس میں آرام سے سفرکر کے دوسرے دن اپنی منزل مقصود پر پہنچتے ہی اپنا کام شروع کر سکتا ہو تو وہ کیوں تھرڈ کلاس میں رات بھر کی بے آرامی مول لے اور دوسرا دن کام میں صرف کرنے کے بجائے تکان دُور کرنے میں صرف کرے؟ اگر وہ گرمی میں بجلی کا پنکھا استعمال کر کے زیادہ دماغی کام کر سکتا ہو تو وہ کیوں پسینوں میں شرابور ہو کر اپنی قوتِ کار کا بڑا حصہ ضائع کر دے؟ کیا ان سہولتوں کو وہ اس لیے چھوڑ دے کہ خدا کی یہ نعمتیں صرف شیطان کا کام کرنے والوں کے لیے ہیں‘ خدا کا کام کرنے والوں کے لیے نہیں ہیں؟ کیا انھیں جائز ذرائع سے فراہم کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی خواہ مخواہ چھوڑ دینا اور کام کے نقصان کو گوارا کر لینا حماقت نہیں ہے؟ کیا معترضین کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کے سپاہی ہوائی جہاز پر چلیں اور خدا کے سپاہی ان کا مقابلہ چھکڑوں پر چل کر کریں؟ یا وہ چاہتے ہیں کہ کام ہو یا نہ ہو‘ ہم صرف ان کا دل خوش کرنے کے لیے اپنے آپ کو فقیر بناکر دکھاتے پھریں؟(سید ابوالاعلیٰ مودودی‘ رسائل و مسائل ‘ دوم‘ ص ۴۲۲-۴۲۴)

تزکیہ نفس کی حقیقت

س :  ۱- تزکیہ نفس کی صحیح تعریف کیا ہے؟ اس بارے میں رسولؐ اللہ کی تعلیم کیا تھی؟ صوفیوں کا اس سلسلے میں صحیح عمل کیا رہا ہے؟ نیز ایک مسلمان کو اپنی زندگی کے اس شعبے میں کیا صورت اختیار کرنی چاہیے؟

۲- کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آج کل کے صوفیا کی طرح تزکیہ نفس کیا کرتے تھے اورعالم بالا کے مشاہدات ہوتے رہتے تھے؟

ج : سوال کے پہلے جزو کے جواب میں یہ ذہن نشین کر لیجیے کہ عربی زبان میں ’’تزکیہ‘‘ کا لفظ    دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے‘ ایک پا ک صاف کرنا‘ دوسرے بڑھانا اور نشوونما دینا۔ اس لفظ کو قرآن مجید میں بھی انھی دونوں معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ پس تزکیہ کا عمل دو اجزا سے مرکب ہے۔ ایک یہ کہ  نفس انسانی کو انفرادی طور پر اور سوسائٹی کو اجتماعی طور پر ناپسندیدہ صفات اور بری رسوم و عادات سے پاک صاف کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ پسندیدہ صفات کے ذریعے سے اس کو نشوونما دیا جائے۔

اگر آپ قرآن مجید کو اس نقطۂ نظر سے دیکھیں اور حدیث میں اور کچھ نہیں تو صرف مشکوٰۃ ہی پر اس خیال سے نظر ڈال لیں تو آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں وہ کون سی ناپسندیدہ صفات ہیں جن کو اللہ اور رسولؐ دور کرنا چاہتے ہیں‘ اور وہ کون سی پسندیدہ صفات ہیں جن کو وہ افراد اور سوسائٹی میں ترقی دینا چاہتے ہیں۔ نیز قرآن و حدیث کے مطالعے ہی سے آپ کو ان تدابیر کی بھی پوری تفصیل معلوم ہو جائے گی جو اس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں اور اس کے رسولؐ نے استعمال کی ہیں۔

اہل تصوف میں ایک مدت سے تزکیہ نفس کا جو مفہوم رائج ہو گیا ہے اور اس کے جو طریقے عام طور پر ان میں چل پڑے ہیں وہ قرآن و سنت کی تعلیم سے بہت ہٹے ہوئے ہیں۔

دوسرے جزو کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ نے تو عالم بالا کے معاملے میں صرف رسولؐ کے اعتماد پر غیب کی ساری حقیقتوں کو مان لیا تھا۔ اس لیے مشاہدے کی نہ ان کو طلب تھی اور نہ اس کے لیے انھوں نے کوئی سعی کی۔ وہ بجائے اس کے کہ پردۂ غیب کے پیچھے جھانکنے کی کوشش کرتے‘ اپنی ساری قوتیں اس جدوجہد میں صرف کرتے تھے کہ پہلے اپنے آپ کو اور پھر ساری دنیا کو خداے واحد کا مطیع بنائیں ‘اور دنیا میں عملاً وہ نظامِ حق قائم کریں جو برائیوں کو دبانے اور بھلائیوں کو نشوونما دینے والا ہو۔ (ا-م‘ رسائل و مسائل‘ اول‘ ص  ۱۳۹-۱۴۰)

تدبر حدیث‘ شرح موطا امام مالک‘ جلد اول‘ مولانا امین احسن اصلاحیؒ، ترتیب و تدوین: خالد مسعود+ سعیداحمد+سید اسحاق علی۔ ناشر: ادارہ تدبر قرآن و حدیث‘ رحمن سٹریٹ‘ مسلم روڈ‘سمن آباد‘ لاہور۔ صفحات: ۵۴۴۔ ہدیہ:۳۶۰ روپے۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے پیرانہ سالی میں جب ان کی عمر ۸۰ سال سے متجاوز ہو چکی تھی‘ ۸۰کے عشرے میں‘ موطا امام مالک کا درس دیا۔ یہ اب ٹیپ سے اُتار کر تحریر کے اسلوب میں مرتب کرکے   شائع کیے جا رہے ہیں۔ اس جلداول میں کچھ منتخب ابواب‘ مثلاً: زکوٰۃ‘ بیوع‘ حدود‘ دیت اور دیگر شامل کیے گئے ہیں۔

موطا بنیادی طور پر فقہ کی کتاب ہے‘ اس لیے اس کی شرح میں فقہ کے متنوع مسائل زیربحث آئے ہیں اور چونکہ مولانا نے امام مالکؒ کے فتاویٰ اورآرا کا محاکمہ بھی کیا ہے‘ اس لیے فقہی مسالک کا تقابلی مطالعہ بھی ہو گیا ہے۔ اس بات نے اس کتاب کی قدر وقیمت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ کا حدیث کی شرح کرنے کا اپنا ایک انداز ہے۔ وہ سند کو روایت کی تحقیق کا صرف ایک ذریعہ سمجھتے ہیں‘ اسے غیر معمولی اہمیت نہیں دیتے اور متن کو فطرت اور عقل سے پرکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بعض روایات پر وہ صرف یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ’’یہ میری سمجھ میں نہیں آئی‘‘۔

سیرحاصل تبصرے کا تقاضا تو بہت کچھ ہے‘ مگر اس کی گنجایش نہیں‘ تاہم کچھ اقتباسات:

۱-  جھاڑ پھونک کے حوالے سے سات مرتبہ مسح کرنے کے سلسلے میں اعداد کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یہ سب بغیر حکمت کے نہیں‘ دین میں ان کا لحاظ ہے۔ اگر کوئی چیز قرآن مجید یا صحیح حدیث سے ثابت ہو تو ہرچند اس کی حکمت معلوم نہ ہو‘ اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ بلاحکمت بات ہے۔ ہاں اگر کسی ایرے غیرے کی بتائی ہوئی ہو تو اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ (ص ۴۱۹)

۲-  بخارمیں پانی کے چھینٹے ڈالنے کی روایت کے سلسلے میں لکھتے ہیں: ’’بیماریوں کے علاج کی روایتوں کو جمع کر کے لوگوں نے طب نبویؐ کو باقاعدہ مرتب کر کے پیش کر دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے ایک متقی آدمی دوسرا علاج کیوں کروائے گا۔ وہ اسے تقویٰ کے خلاف سمجھے گا۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی بیماریوں کے نہیں‘ بلکہ روحانی بیماریوں کے معالج ہو کر آئے تھے۔ (ص ۴۲۴)

۳-  داڑھی بڑھانے والی حدیث (اعفاء اللحی) کے حوالے سے: ظاہر مطلب تو یہ ہے کہ داڑھی کو بڑھنے دیا جائے‘ بالکل ہاتھ نہ لگایا جائے۔ لیکن ایک روایت میں آیا ہے کہ کان یاخذ عن یمینہ وشمالہ کہ آپ دائیں اور بائیں سے بال کاٹتے تھے۔ اگر دائیں اور بائیں سے بالوں کو کاٹ دیا جائے اور نیچے کی جانب بڑھنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو خدا جانے آدمی کیا بن جائے۔ لہٰذا روایت کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ داڑھی حسین ہو‘ بال دائیں بائیں اور طول و عرض میں کاٹے جائیں گے۔ اس کو ٹھیک کیا جائے گا… میرے نزدیک اعفا ء کا تقاضا یہ ہے کہ ڈاڑھی چہرے پر نمایاں ہو اور اس کو سنوار کر رکھا جائے ۔ اس کو دیکھ کر یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ شیو بڑھی ہوئی ہے ۔ (ص۴۲۸)

۴-  نرد بساط‘ مہروں اور پانسے کے دانے پر مشتمل کھیل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھیل کو اللہ اور رسولؐ کی نافرمانی قرار دیا ہے (ص ۴۴۹)۔ اس کی شرح میں لکھتے ہیں: شیطان نے وقت ضائع کرنے کے لیے ان سے زیادہ کارگر نسخے ایجاد نہیں کیے۔ اگر اس سے بھی زیادہ کوئی لغو کام ایجاد کیا ہے تو وہ کرکٹ کا کھیل ہے۔ (ص ۴۵۰)

کتاب کا مکمل مطالعہ یقینا قاری کو تفقہ فی الدین کی لذت سے آشنا کرتا ہے۔ مجلد کتاب بڑے سائز میں ہے اور نفیس کاغذ پر معیاری‘ صاف ‘روشن اور اجلی شائع کی گئی ہے۔ (مسلم سجاد)


۱- دریچۂ نگاہ ‘۲- خدنگ تحریر ‘ ابوالامتیاز ع-مسلم ۔ ناشر: القمر انٹرپرائزز‘ اردو بازار‘ لاہور۔ صفحات۱-:۱۹۰‘ قیمت : ۲۴۰ روپے۔ صفحات ۲-: ۱۹۰‘ قیمت: ۲۴۰ روپے۔

دونوں کتابیں مختصر اخباری مضامین اور ’کالمیات‘ کا مجموعہ ہیں۔ مجلد ہیں‘ دبیز کاغذ پر شائع کی گئی ہیں۔ ہر تحریر دل دردمند کی تڑپ کی تصویر ہے۔ بقول مصنف حالات کا زہر ان میں تلخی گھولتا گیا لیکن یہ تلخی اس سے کہیں کم ہے جو میرے اندر گھل رہی ہے۔ (ص ۲۳‘ خ ت)

خدنگ تحریر‘ تازہ تحریریں ہیں ‘جب کہ دریچہ نگاہ میں ۱۹۵۶ء اور بعد کی تحریریں ہیں لیکن ۴۶ سال قبل بھی حالات مختلف نہ تھے۔ فوجی حکومت کا تجربہ اس دور میں ہو گیا تھا۔ ’’پیچھے مڑ کر دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ۱۹۵۶ء میں ملک و معاشرے کی جو کیفیت تھی اور جس پر ہم اس قدر نالاں تھے‘ تقریباً نصف صدی کی ’ترقی یافتگی‘ اورترقی پذیری کے باوجود آج ہم اس سے بھی زیادہ پستی کی حالت میں نظر آتے ہیں‘ اس اضافے کے ساتھ کہ اس وقت امید‘حوصلے اور ولولے کی جو سوچیں اٹھ رہی ہیں‘ وہ بھی اب کہیں بکھر گئی ہیں۔ (ص ۲۰‘ د  ن)

یہ نہ سمجھیں کہ یہ وعظ ہیں۔ ہلکے پھلکے‘ مزاحیہ‘ حسن ادب کے نمونے‘ اشعار سے مزین (دل چاہتا ہے ہر صاحب ذوق پڑھے اور کچھ حاصل کرے) لیکن موضوعات: فوج کا آئینی کردار‘ آگرہ کی نوراکشتی‘ فی صد شماری کی طلسم کاری وغیرہ۔

مصنف شاعر ہیں۔ ان کے کئی مجموعۂ کلام بھی شائع ہو چکے ہیں۔ ۳۰ سے زائد تصنیفات کی فہرست دی گئی ہے۔ بچوں کے لیے بھی لکھتے ہیں۔ تجارت پیشہ ہیں۔ طویل مدت شارجہ میں رہے۔ایک بیٹے کی ذہنی معذوری کی وجہ سے ‘ اس میدان میں بہت مفید کام کیا۔ سائنوسا تنظیم بنا کر‘ اس کا رسالہ نکالا۔ کراچی میں دیوا اکیڈمی کتنے ہی معذور بچوں کا سہارا اور امیدوں کا مرکز ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں خوب نوازے۔ ان کے جذبے کو عام کرے۔ (م - س)


تاریخ محمدﷺ ،ایم ڈی فاروق ایڈووکیٹ۔ ناشر: ادارہ اشاعت قرآن و تاریخِ اسلام (ہسٹری سنٹر) ۱۱۳-سی‘ ماڈل ٹائون‘ لاہور۔ صفحات: ۵۷۶۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

سیرت‘ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و شخصیت اور اخلاق حسنہ کا نام ہے‘ جب کہ تاریخ‘  ماہ و سال کی واقعات نگاری ہے۔ فاضل مصنف کے خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس‘ پوری تاریخ کی آئینہ دار ہے۔ آپؐ کی تاریخ کا مطالعہ تاریخی تناظر میں کرنا چاہیے۔ مصنف نے اپنے خیال میں زیرنظر تصنیف کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ کے طور پر پیش کیا ہے‘ سیرت کی کتاب کے طور پر نہیں۔ لیکن کتاب کا مجموعی اسلوب‘ ترتیب و مباحث مروجہ سیرت نگاری ہی کے مشابہ ہے۔

کتاب کے مباحث ایک مقدمے اور ۱۵ عنوانات پر مشتمل ہیں‘ جنھیں تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: اول: قبل از نبوت حالات (حضرت آدم ؑ تا آنحضرتؐ)‘ دوم: حضورِ اکرمؐ کے حالات (بہ ترتیب زمانی)‘ سوم: حضوراکرم ؐکا برپا کردہ انقلاب (تعلیمات کی اثرپذیری کے اعتبار سے)۔

مصنف کے خیال میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ انقلاب کو سمجھنے اور اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تاریخِ عالم کا ادراک ضروری ہے مگر چھٹی اورساتویں صدی عیسوی میں عرب کے حالات کوانھوں نے نہایت اختصار سے بیان کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ کے مآخذ کے ضمن میں تین اہم مآخذ (قرآن کریم‘ کتب احادیث اور کتب مغازی و سیرت) کا ذکر کیا ہے۔ فاضل مصنف نے ائمہ محدثین پر یہ اشکالات اٹھائے ہیں۔ اوّل:  حدیث کی جمع و تدوین کا کام عجمیوں (غیر عربوں) کے ہاتھوں سرانجام پایا اور یہ تمام حضرات تیسری صدی ہجری سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوم: انھوں نے لاکھوں حدیثوں میں سے بہت کم کو صحیح قرار دے کر اپنے مجموعوں میں درج کیا۔ سوم: یہ تمام احادیث لوگوں نے انھیں زبانی سنائیں اور ان کا کوئی تحریری ریکارڈ پہلے سے موجود نہ تھا۔ چہارم: محدثین کا انتخاب ان کی ذاتی بصیرت‘ غوروفکر اور فیصلے کا نتیجہ تھا۔ ان احادیث کے صحیح ہونے کے متعلق نہ تو ان کے پاس خدا کی سند تھی اور نہ اس کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائی تھی۔ اس طرح محض اپنی فہم و فراست اور تحقیق کے مطابق جن احادیث کو صحیح تصور کیا ‘اپنے مجموعوں میں داخل کر دیا ۔(ص ۱۵۷)

احادیث نبویؐ کے بارے میں شکوک و شبہات کا یہ رجحان کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ ڈاکٹر حمیداللہ کی الوثائق السیاسیۃ‘ ڈاکٹر مصطفی السباعی کی السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی اور مولانا مودودی کی سنت کی آئینی حیثیت کا مطالعہ کر لیا جائے تو یہ شکوک ازخود رفع ہوجاتے ہیں۔

فاضل مصنف نے کتاب میں متعدد مقامات پر معروف سیرت نگاروں مثلاً: ابن اسحاق‘ ابن ہشام‘ ابن سعد‘ امام سہیلی اور علامہ شبلی نعمانی وغیرہم کے برعکس ایک مختلف نقطۂ نظر اختیار کیا ہے‘ مثلاً: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسری عورتوں کے دودھ پلانے اور حلیمہ سعدیہ کے پاس چار سال تک قیام کی روایت مشکوک بلکہ غلط معلوم ہوتی ہے… اور فطرت کے خلاف ہے (ص ۲۰۲)۔ آپؐ پر پہلی وحی خواب کی حالت میں نازل ہوئی  (ص ۲۳۱)۔ مقاطعہ قریش بنی ہاشم اور بنی مطلب کے ساتھ نہ تھا بلکہ یہ محض مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ تھا (ص ۲۵۳)۔ جنگ خندق میں حضرت سلمانؓ فارسی کا مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا مشورہ دینا اور آپؐ کا قبول کرنا آپ کی جنگی مہارت اور دفاعی تدابیر کے خلاف ہے (ص ۳۸۴) وغیرہ‘ مگر تعجب ہے کہ فاضل مصنف نے سواے چند مقامات کے‘ کسی جگہ بھی حوالہ جات کی ضرورت نہیں سمجھی اور نہ آخر میں مصادر و مراجع کی فہرست دی ہے۔ اس لیے حوالوں اور دلیل و استدلال کے بغیر متذکرہ بالا آرا کی حیثیت قیاس آرائیوں سے زیادہ کچھ نہیں۔

پوری کتاب میں کہیں آیات قرآنی کا عربی متن نہیں دیا‘ محض تراجم پر اکتفا کیا ہے۔

کتاب میں پروف کی بھی خاصی اغلاط ملتی ہیں۔ مصنف نے محبت اور لگائو کے ساتھ کتاب تصنیف کی ہے اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی ذاتی طور پر کیا ہے۔ امید ہے کہ آیندہ ایڈیشن میں وہ بعض ضروری نکات پر نظرثانی کریں گے۔ (ڈاکٹر محمد عبداللّٰہ)


امریکہ: مسلم دنیا کی بے اطمینانی (۱۱ستمبر سے پہلے اور بعد)‘ پروفیسر خورشید احمد۔ مرتب: سلیم منصور خالد۔ ناشر: منشورات‘ منصورہ‘ لاہور۔ ۵۴۵۷۰۔ صفحات: ۳۰۸۔ قیمت غیر مجلد: ۱۲۵ روپے۔ مجلد: ۲۰۰ روپے۔

۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی اور ۷ اکتوبر کو افغانستان پر امریکی حملے کے نتیجے میں اُمت مسلمہ‘ خصوصاً پاکستان‘ ایک انتہائی تکلیف دہ صورتِ حال سے دوچار ہے۔ محض اسلحے اور قوت کے بل بوتے پر ظالم اور مظلوم کا مفہوم ازسرنو متعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکہ کے متکبرانہ رویے پر نہ صرف  عالم اسلام اور دنیا کی دیگر چھوٹی اقوام بلکہ خود امریکہ کے بعض حلیفوں (جرمنی‘ کینیڈا وغیرہ) کی طرف سے بھی ایک ردّعمل سامنے آ رہا ہے۔

ترجمان القرآن میں صورت احوال پر پروفیسر خورشید احمد کے سیرحاصل اور چشم کشا تبصرے شائع ہوتے رہے ہیں۔ زیرنظر کتاب میں انھی اشاراتی تبصروں اور تجزیوں کو نظرثانی اور چند اضافوں کے ساتھ یک جا کیا گیا ہے۔ مذکورہ تجزیے پروفیسر سلیم منصور خالد نے تدوینی مہارت کے ساتھ مرتب کیے ہیں۔ پہلے چار مضامین ۱۱ستمبر سے پہلے کی صورت حال سے متعلق ہیں۔ ان کا زمانہ تحریر ۱۹۹۱ء‘ ۱۹۹۳ء اور ۲۰۰۰ء ہے‘ اور یہ ایک طرح سے موضوع اور کتاب کے پس منظر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ باقی مضامین کا تعلق ۱۱ستمبر کے بعد کے واقعات سے ہے۔ آخری مضمون کا عنوان ہے: ’’امریکہ میں دعوت اسلامی: امکانات‘ اہداف‘ مشکلات‘‘۔ اس طرح یہ کتاب ماضی‘ حال اور مستقبل کا احاطہ کرتی ہے۔

مرتب نے ہر مضمون کے متعدد ضمنی عنوانات قائم کر کے‘ اس کے مباحث کو واضح کر دیا ہے۔ مصنف نے ٹھوس اور وسیع مطالعے کی بنیاد پر اور ایک گہری بصیرت کے ساتھ مغربی استعمار کے عزائم اور اہداف کا تجزیہ کیا ہے۔

ان مقالات کو کتابی صورت میں پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ’’اہل پاکستان اور اُمت مسلمہ میں ان حالات‘ مسائل اور خطرات کا صحیح تصور پیدا ہو سکے‘‘ (ص ۱۵)۔ دشمن کے خطرناک عزائم کا ادراک ضروری ہے مگر اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں سے صرفِ نظر کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ بقول مرتب: ’’زیرنظر کتاب کا اصل پیغام یہ ہے کہ حالات کا صحیح شعور ہو‘ مقابلے کے لیے موثر حکمت عملی تیار کی جائے اور حالات کے دھارے کا رخ موڑنے کے لیے جدوجہد کی جائے۔ یہی زندگی‘ ترقی اور کامیابی کا راستہ ہے‘‘۔ (ص ۱۵)

کتاب انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز‘اسلام آباد کے زیراہتمام تیار اور شائع ہوئی ہے۔ اشاعت و طباعت معیاری ہے۔ اشاریہ بھی شاملِکتاب ہے ۔ (رفیع الدین ہاشمی)


بلاکم و کاست ‘مہدی علی صدیقی۔ ناشر: شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ‘ کراچی یونی ورسٹی‘ کراچی۔ صفحات: ۲۷۳۔ قیمت: اعلیٰ ایڈیشن‘ ۳۵۰ روپے‘ عام ایڈیشن: ۳۰۰ روپے۔

مہدی علی صدیقی ‘ اپنی ذات میں ایک تاریخ ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز سے کماحقہ آگاہ‘ اور  اللہ کے فضل و کرم سے اپنی زندگی کی ’’سینچری‘‘ مکمل کرنے سے صرف چار سال پیچھے ہیں۔ طویل عمری  بذات خود بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے لیکن اگریہ ملک و ملّت کے پردے پر وقوع پذیر ہونے والے  سیاسی‘ تہذیبی‘ معاشرتی اور نظریاتی واقعات اور اس کے اسرار و رموز پر گواہ بن جائے اور وہ بھی  ’’بلاکم و کاست‘‘--- تو کیا کہنا۔

مصنف پیشے کے لحاظ سے مملکت حیدر آباد دکن میں (۱۹۳۲ء تا ۱۹۴۸ء) سول سروس سے بطور سیشن جج وابستہ رہے۔ سقوط حیدر آباد کے بعد پاکستان آگئے اور ایک لمبے عرصے تک انصاف کے پرچم کو بلند کیے رکھا۔ انھوں نے سعادت حسن منٹو کے مشہور زمانہ مقدمے کی سماعت بھی کی۔ بلاکم و کاست پڑھنے والا اندازہ کر سکتا ہے کہ دریا کو کوزے میں بند کرنے کا مفہوم کیا ہے۔ صرف ۲۷۳ صفحات پر اتنی طویل بھرپور زندگی کی تصویر نقش کرنا کوئی مصنف سے سیکھے۔ اس کتاب میں آپ کو علی گڑھ یونی ورسٹی میں طلبا کے روز و شب‘ تحریک خلافت کی جاں فشانیاں‘ جنگ عظیم کی تباہ کاریاں‘ ہندوئوں کی چالیں‘ مسلمانان برعظیم پاک و ہند کی جدوجہد آزادی کی پوشیدہ کہانیاں‘ تقسیم ہند کی خونچکاں داستانیں اور سقوطِ حیدرآباد کے الم ناک واقعات کے ساتھ ساتھ دیہاتی اور شہری زندگی کی کی خوب صورت عکاسی اور چار دیواری کے اندر محبت و اخوت کے موتی بکھرے ہوئے ملیں گے۔

مشاہدات و واقعات پر مبنی یہ سفرنامہ ایوب خان‘ یحییٰ خان‘ ذوالفقار علی بھٹو اور ضیا الحق جیسے حکمرانوں کے تذکرے اور کارگزاریوں کے ساتھ ساتھ‘ تحریک اسلامی کے نامور اکابرین کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کا احاطہ بھی کرتا ہے۔ مہدی علی صدیقی ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں اس لیے زندگی کے اس حصے کا احاطہ کرتے ہوئے انھوں نے امریکی معاشرے کی خوبیوں اور خرابیوں کا بھی بلاتکلف جائزہ لیا ہے۔ بلاکم وکاست کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ جو ایک بار پڑھنا شروع کر دے تو آخری صفحے تک پڑھے بغیر رہ نہیں سکتا۔ طباعت و اشاعت کا معیار بھی نہایت اعلیٰ ہے۔ (نوراسلم خاں)


ارمغانِ شیرانی مرتبین: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی + ڈاکٹر زاہد منیر عامر۔ ناشر: شعبۂ اُردو‘ پنجاب یونی ورسٹی‘ اورینٹل کالج‘ علامہ اقبال کیمپس‘ لاہور۔ صفحات : ۳۲۸۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

حافظ محمود خاں شیرانی (۱۸۸۰ء-۱۹۴۶ء) کو اُردو تحقیق کا ’’معلم اول‘‘ مانا گیا ہے۔ انھوں نے  علم و تحقیق کے میدان میں جو کارہاے نمایاں انجام دیے ہیں‘ وہ آج بھی محققین اور علما کے لیے مشعل راہ ہیں۔ وہ ایک لمبے عرصے تک‘ شعبہ اُردو‘ جامعہ پنجاب‘ لاہور سے بطور استاد اور تحقیق کار وابستہ رہے‘ اسی تعلق کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے شعبۂ اُردو نے اُن کی یاد میں ایک علمی ارمغان پیش کیا ہے۔

اس کتاب میں حافظ محمود شیرانی اور ان کی علمی دل چسپی کے موضوعات پر ۱۴ علمی و تحقیقی مضامین شامل ہیں۔ ’’منتخب القوافی‘‘ از عشقی عظیم آبادی، ’’یہاں‘وہاں کا ارتقائی سفر‘ ایک تحقیق‘‘ ، ’’حکیم احسن اللہ خاں‘‘، ’’مصحفی سے منسوب دو تذکرے‘‘، ’’ذخیرۂ شیرانی سے متعلق چند اہم دستاویزات‘‘ ، ’’ولادت و وفات کی تاریخیں‘‘، ’’قدیم تذکروں کی روشنی میں‘‘، ’’والہ داغستانی کے دیوان کا ایک معاصر مخطوطہ اور اس کا اُردو کلام‘‘ اور ’’محمود شیرانی سے میرے استفادات‘‘، اس کتاب کے اہم ترین مضامین ہیں‘ جن کے ذریعے‘ علم و ادب کے حوالے سے ‘ کئی حقائق منظرعام پر آئے ہیں اور مزید تحقیق کی راہیں کھلی ہیں۔ مقالہ نگاروں میں صف اوّل کے مندرجہ ذیل محقق اور عالم شامل ہیں: ڈاکٹر مختارالدین احمد‘ شان الحق حقی‘ رشید حسن خاں‘ حکیم محمود احمد برکاتی‘ ڈاکٹر گیان چند جین‘ ڈاکٹر حنیف نقوی‘ ڈاکٹر محمد انصاراللہ‘ ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی (نبیرۂ حافظ محمود شیرانی)‘ ڈاکٹر فریداحمد برکاتی‘ ڈاکٹر عارف نوشاہی‘ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار‘ ڈاکٹر معین الدین عقیل‘ افضل حق قرشی اور ڈاکٹر تبسم کاشمیری۔ آخر میں مرتبین نے مقالہ نگاروں کا مختصر تعارف نامہ بھی شامل کر دیا ہے جو نہایت مفید اور معلوماتی ہے۔

ارمغان شیرانی اپنے مشمولہ مضامین کے حوالے سے بھی اہم کتاب ہے اور جامعہ پنجاب کی تابندہ علمی روایت کے سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر بھی اہمیت کی حامل ہے۔ کتاب کی ترتیب کے ساتھ ساتھ طباعت و پیش کش عمدہ ہے۔ علمی و ادبی حلقوں میں اس کتاب کی ضرورت کا احساس اور اس سے استفادہ ہونا چاہیے۔ مرتبین اور ناشر اس ارمغان کی تیاری اور اشاعت پر لائق صد مبارک ہیں۔ (رفاقت علی شاہد)


اسلام: ہمارا انتخاب‘ ملک احمد سرور۔پتا: البدر پبلی کیشنز اور ادارہ مطبوعات سلیمانی‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات:۳۵۲۔ قیمت: ۱۵۰  روپے۔

اس میں شبہہ نہیں کہ ’’نومسلموں کا موضوع اپنی نوعیت کے اعتبار سے دینی لٹریچر کا شاید سب سے دل چسپ اور مفید موضوع ہے‘‘ (ص ۱۰)۔ اس لٹریچر کی مقبولیت کا ایک سبب غالباً یہ بھی ہے کہ مسلم قاری نومسلموں کے قبولِ اسلام کی داستانیں پڑھ کر ایک نفسیاتی تسکین محسوس کرتا ہے۔ سبب جو بھی ہو‘ قبولِ اسلام کی ان سچی کہانیوں کی دل چسپی میں کلام نہیں۔ ملک احمد سرور صاحب نے ایک مخلصانہ دعوتی اور تبلیغی جذبے کے تحت تقریباً ۵۰ نومسلموں کی رودادیں‘ انٹرویو اور مضامین مرتب کیے ہیں جن میں سے بہت سے خود اُن کے ترجمہ کردہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے ڈاکٹر عبدالغنی فاروق کی کتابوں:  ہم کیوں مسلمان ہیں؟ہمیں خدا کیسے ملا؟ نے اس راستے پر چلایا۔

دنیا کے مختلف ممالک اور براعظموں سے تعلق رکھنے والے بیشتر مرد و زن‘ قبول اسلام سے پہلے عیسائی تھے‘ کچھ ہندو اور بعض سکھ اور بُدھ۔ ان میں پارلیمنٹ کے رکن‘ فلمی اداکار‘ سفیر‘ صحافی‘ پروفیسر‘  دانش ور‘ ادیب‘ شاعر اور طالب علم شامل ہیں۔ کسی کو اوائل عمر میں ہدایت نصیب ہوئی تو کوئی حیاتِ مستعار کے آخری برسوں میں ایمان لایا۔

یہ رودادیں مؤلف کے بقول: قاری کے اندر بھی اسلام کے مطالعے اور اسلامی احکام پر عمل کرنے کا جذبہ اُبھارتی ہیں--- اصلاح کرتی ہیں--- ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں--- ذہن میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اسلام کے دین حق ہونے کے بارے میں جو سوالات اُبھرتے ہیں‘ ان کے جوابات دیتی ہیں۔ اس طرح یہ ایمان کی مضبوطی کا باعث ہیں۔ (ص ۱۷)

مصنف ایک معروف صحافی اور ادیب ہیں۔ بیش تر رودادیں ان کے ماہانہ جریدے بیدار ڈائجسٹ میں شائع شدہ ہیں۔اب ان رودادوں کو نہایت سلیقے سے ایک عمدہ ترتیب کے ساتھ مدون کیا گیا ہے۔ حسب موقع حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ (ر - ہ )

تعارف کتب

  •  آخری صلیبی جنگ حصہ سوم ‘ عبدالرشید ارشد۔ النور ٹرسٹ‘ جوہر پریس بلڈنگ‘ جوہر آباد۔ صفحات: ۲۳۰۔ قیمت: ۱۰۰روپے۔ ] ۱۱ ستمبر کے بعد سے برپا صلیبی جنگ کے حوالے سے ۲۷ اخباری مضامین اور کوفی عنان وغیرہ کو بھیجے گئے خطوط کا مجموعہ جو کچھ اُمت مسلمہ کے ساتھ کیا جا رہا ہے ‘ اس کا بیان اُمت کو بیدار کرنے کے لیے اُس وقت مفید ہے جب سوئے ہوئے لوگوں تک اسے پہنچانے کا انتظام بھی کیا جائے۔ ہمیں یہود سے کچھ منصوبہ بندی وغیرہ سیکھنی چاہیے۔ بیدار لوگ کیا کچھ کر رہے ہیں اور کیا کچھ انھیں کرنا چاہیے‘ اس کی تشنگی باقی ہے۔ بھرا ہوا آدھا گلاس بھی دیکھنا چاہیے۔[
  •  آپا حمیدہ بیگم‘ مرتبہ: پروفیسر فروغ احمد۔ ناشر: حرا پبلی کیشنز‘ فضل الٰہی مارکیٹ ۲/۱۴ اُردو بازار‘ لاہور۔ صفحات: ۳۱۱۔ قیمت: ۹۰ روپے۔ ]جماعت اسلامی کے ابتدائی دور کی بے لاگ‘ مخلص اور فعال کارکن اور حلقۂ خواتین کی قیمہ‘ جو تاحیات تحریک سے وابستہ رہیں۔ میاں طفیل محمد صاحب کے بقول: ’’رائے کی پختگی اور مزاج میں‘ فہم و فراست میں‘ اعتدال و توازن میں‘ خواتین میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا عکس تھیں‘‘--- مرحوم پروفیسر فروغ احمد کا مرتبہ یہ مجموعۂ مضامین پہلی بار ۱۹۸۸ء میں اور اب چوتھی مرتبہ چھپا ہے۔[

ضمیر احمد  بن یامین  ‘  لاہور

’’۱۱ستمبر کی ستم کاریاں‘‘ (ستمبر ۲۰۰۲ء) میں آپ نے کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا۔ معلوم نہیں امریکہ کو کب اور کس طرح عقل آئے گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ساری دنیا کو خصوصاً مسلمانوں کو اپنا ایسا دشمن بنا رہا ہے کہ شاید امریکی عوام کئی نسلوں تک اس کے نتائج بھگتیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری قیادتیں خوابِ غفلت میں مبتلا ہیں۔ اگر ملّت اسلامیہ منصوبہ بندی کرے اور امریکہ اور مغرب میں مقیم لاکھوں مسلمان اسلام کی صحیح تصویر بن جائیں تو امریکہ اور مغرب کے عام انسان کی رائے میں تبدیلی بالکل ممکن ہے۔ خودہلاکتی کی جس راہ پر بش اپنی قوم کو لے جا رہا ہے اس کا توڑ یہی ہے کہ وہاں کے میڈیا اور عوام کی آنکھیں کھلیں اور وہ یہود کے پنجے سے آزاد ہوں۔ اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو بہت کچھ دیکھ سکتے ہیں‘ سیکھ سکتے ہیں پھر جو کرنا چاہیے وہ واقعی کریں بھی۔ یہ دنیا تو عالم اسباب ہے۔

سلیم منصور خالد‘ گوجرانوالہ

’’مولانا مودودی: زندگی کا ایک پُرآشوب دور‘‘ (ستمبر ۲۰۰۲ء) بلاشبہہ معلومات افزا مضمون تھا‘ تاہم اگر اس کا عنوان ’’ترجمان القرآن کا ایک پُرآشوب دور‘‘ ہوتا تو زیادہ موزوں تھا۔ اس مضمون میں اعجاز الحق قدوسی صاحب کے مضمون ’’وہ ایک شمع کہ جس کے دم سے‘‘ کی بنیاد پر‘ حامد عبدالرحمن الکاف صاحب نے جو اقتباس دیا تھا‘وہ ادھورا نقل ہوا۔ جس سے قرض کی واپسی کے مسئلے میں کوتاہی سامنے آئی۔ یہاں پر میں قدوسی صاحب کے مضمون سے اصل پیرا نقل کر رہا ہوں جس سے مذکورہ ابہام دور ہو جائے گا۔اعجاز الحق قدوسی صاحب لکھتے ہیں:

میں نے سرور خاں صاحب کو ]نعیم صدیقی صاحب کے دستخط والا[ مولانا ] مودودی[ کا خط سُنا دیا۔ پھر سرور خاں صاحب نے بھی کچھ نہیں کہا۔ جب جماعت اسلامی قائم ہو گئی اور مولانا جنوبی ہند کانفرنس مدراس میں شریک ہونے کے لیے حیدرآباد میں فروکش ہوئے تو میں مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ملاقات کے بعد پوچھا کہ آپ سرور خاں صاحب کا روپیہ بھی لائے ہیں۔ مولانا نے اٹیچی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ روپیہ اس میں ہے۔ سرور خاں صاحب کو نظام آباد تار دو کہ وہ آکر اپنا روپیہ لے لیں۔ سرور خاں صاحب تشریف لائے تو مولانا ] مودودی[ نے قرض کی ادایگی میں ]بوجوہ [ تاخیر پر بڑی معذرت کی اور ایک ہزار روپے سرور خاں صاحب کے حوالے کیے۔ سرور خاں صاحب نے ان میں سے دو سو روپے جماعت اسلامی کے چندے میں دے دیے اور آٹھ سو روپے اپنی جیب میں رکھے۔ (ملاحظہ کیجیے: تذکرہ سید مودودی‘ جلد سوم‘ ‘ ص ۳۰۲‘ ۱۹۹۸ء)

 عبدالرحمٰن عزیز ‘ لاہور

ترجمان القرآن میں ایک عرصے کے بعد افغانستان پر کوئی تحریر پڑھنے کو ملی۔ڈاکٹر محمد ساعد نے ’’افغانستان: امریکی جارحیت اور خانہ جنگی کے چنگل میں‘‘ (ستمبر ۲۰۰۲ء) اعداد و شمار اور حالات و واقعات کے ذریعے بڑی عمدگی سے افغانستان کی صورت حال کو واضح کیا ہے اور ایک بھرپور تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس سے افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بہت سے سوالات کے جواب سامنے آتے ہیں۔

معروف شاہ شیرازی ‘ اسلام آباد

دو منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ Constitutional Law شائع ہونے والی ہے۔ یہ انگریزی میں مولویانہ کاوش ہے۔ چار جلدوں میں Legal Study of Sunnah پر کام کر رہا ہوں۔ تیسری جلد لکھ رہا ہوں۔ اگرچہ انگریزی کمزور ہوگی مگر بین الاقوامی طور پر احادیث سے استنباط احکام پر سادہ زبان میں کوئی کتاب نہ تھی۔ اس کے علاوہ The Story of the Quranلکھ رہا ہوں۔ ۴۰ سورتوں کی تلخیص ہو چکی ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ پوری دنیا اسلام کی طرف متوجہ ہو گئی ہے۔ ان کے لیے ایک مختصر تشریح کے ساتھ ترتیب نزولی کے مطابق قرآن کی تعلیمات کو پیش کیا جائے تاکہ ایک نظر میں قرآن‘ سیرت اور اسلامی تعلیمات قاری کے سامنے آجائیں۔ قبل اس کے کہ کارکردگی کی قوت جواب دے دے‘ میں ان منصوبوں کو مکمل کرنا چاہتا ہوں۔

عبدالخالق بٹ ‘ کراچی

ایک طویل عرصے سے اخبارات و رسائل میں یا مختلف ٹی وی چینلوں پر جب بھی القدس کے حوالے سے کوئی خبر پیش کی جاتی ہے تو ایک سنہرے گنبد والی خوب صورت عمارت کو بطور مسجداقصیٰ پیش کیا جاتا ہے۔ اس تصویر کو بڑے پیمانے پر دنیا بھر میں پھیلایا بھی گیا ہے جسے مسلمان بخوشی اپنے ڈرائنگ روم یا دفتر کی زینت بناتے ہیں۔ اس ہمہ گیر مہم کا نتیجہ ہے کہ دنیا کی ایک بڑی تعداد بشمول مسلمان سنہرے گنبد والی اس عمارت کو مسجد اقصیٰ سمجھتی ہے اور فلسطین سے متعلق شائع ہونے والی کتب کا سرورق یہی عمارت ہوتی ہے۔ یہ عمارت مسجد اقصیٰ نہیں بلکہ مسجد صخرہ ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک حضورؐ نے معراج کا آغاز اسی مقام سے کیا تھا۔ حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں جب بیت المقدس فتح ہوا اور ہیکل سلیمانی کے شکستہ کھنڈرات پر مسجد اقصیٰ تعمیر ہوئی تو صخرہ پر بھی مسجد تعمیر کی گئی۔ اسے مسجد صخرہ یا مسجد عمرؓ بھی کہتے ہیں۔ سب سے پہلے پانچویں اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے صخرہ پر ایک شاندار گنبد تعمیر کروایا تھا۔ مسجد صخرہ دراصل مسجد اقصیٰ نہیں ہے۔ یہودیوں نے ایک سازش اور جعل سازی کے تحت مسجد صخرہ کو مسجد اقصیٰ کے طور پر متعارف کروایا ہے تاکہ کسی بھی وقت جب وہ اصل مسجد اقصیٰ کو شہید کریں تو لوگ اسی دھوکے میں رہیں کہ مسجد اقصیٰ قائم ہے۔ اس طرح وہ عالمی ردعمل سے بھی بچنا چاہتے ہیں اور اپنی خواہش کی تکمیل بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اس یہودی سازش کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔

 

متشابہات: وہ جن کے مفہوم میں اشتباہ کی گنجایش ہے--- یہ ظاہر ہے کہ انسان کے لیے زندگی کا کوئی راستہ تجویز نہیں کیا جا سکتا جب تک کائنات کی حقیقت اور اس کے آغاز و انجام اور اس میں انسان کی حیثیت اور ایسے ہی دوسرے بنیادی امور کے متعلق کم سے کم ضروری معلومات انسان کو نہ دی جائیں۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جو چیزیں انسان کے حواس سے ماوراء ہیں‘ جو انسانی علم کی گرفت میں نہ کبھی آئی ہیں نہ آسکتی ہیں‘ جن کو نہ اس نے کبھی دیکھا‘ نہ چھوا‘ نہ چکھا‘ اُن کے لیے انسانی زبان میں نہ ایسے الفاظ مل سکتے ہیں جو انہی کے لیے وضع کیے گئے ہوں اور نہ ایسے معروف اسالیب ِ بیان مل سکتے ہیں جن سے ہر سامع کے ذہن میں اُن کی صحیح تصویر کھنچ جائے۔ لامحالہ یہ ناگزیر ہے کہ اس نوعیت کے مضامین کو بیان کرنے کے لیے الفاظ اور اسالیب ِ بیان وہ استعمال کیے جائیں جو اصل حقیقت سے قریب تر مشابہت رکھنے والی محسوس چیزوں کے لیے انسانی زبان میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ مابعد الطبیعی مسائل کے بیان میں قرآن میں ایسی ہی زبان استعمال کی گئی ہے‘ اور متشابہات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں یہ زبان استعمال کی گئی ہے۔ لیکن اس زبان کا زیادہ سے زیادہ فائدہ بس اتنا ہی ہو سکتا ہے کہ آدمی کو حقیقت کے قریب تک پہنچا دے یا اس کا ایک دھندلا سا  تصور پیدا کر دے‘ ورنہ اس کے مفہوم کو متعین کرنے کی جتنی زیادہ کوشش کی جائے گی اتنے ہی زیادہ   اشتباہات و احتمالات سے سابقہ پیش آئے گا حتیٰ کہ انسان حقیقت سے قریب تر ہونے کے بجائے اور زیادہ دُور ہوتا چلا جائے گا۔ پس جو لوگ طالب حق ہیں اور ذوقِ فضول نہیں رکھتے وہ تو متشابہات سے حقیقت کے اُس دھندلے تصور پر قناعت کرلیتے ہیں جو کام چلانے کے لیے کافی ہے اور اپنی تمام تر توجہ محکمات پر صرف کرتے ہیں‘ مگر جو لوگ بوالفضول یا فتنہ جو ہوتے ہیں ان کا تمام تر مشغلہ متشابہات ہی کی بحث وتنقیب ہوتا ہے۔

یہاں کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ جب وہ لوگ متشابہات کا صحیح مفہوم جانتے ہی نہیں تو ان پر ایمان کیسے لے آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کو قرآن کے کلام اللہ ہونے کا یقین محکمات کے مطالعہ سے حاصل ہوتا ہے نہ کہ متشابہات کی تاویلوں سے۔ اور جب آیات محکمات میں غوروفکر کرنے سے اس کو یہ اطمینان حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ کتاب واقعی اللہ ہی کی کتاب ہے تو پھر متشابہات اس کے دل میں کوئی خلجان پیدا نہیں کرتے۔ جہاں تک ان کا سیدھا سادہ مفہوم اس کی سمجھ میں آجاتا ہے اس کو وہ لے لیتا ہے ‘اور جہاںپیچیدگی رونما ہوتی ہے وہاں کھوج لگانے اور موشگافیاں کرنے کے بجائے وہ اللہ کے کلام پر مجمل ایمان لا کر اپنی توجہ کام کی باتوں کی طرف پھیر دیتا ہے۔ (’’تفہیم القرآن‘ ‘،ابوالاعلیٰ مودودی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۲۱‘ عدد ۳-۴‘ رمضان و شوال ۱۳۶۱ھ‘ اکتوبر‘ نومبر۱۹۴۲ء‘ ص ۱۴-۱۵)