ياأيها الرجل المُحَوِل رَحله
هلا نَزِلت بآل عبد منافِ
الآخذون العهد من آفاقهم
والراحلون برحلة الإيلافِ
یہ جاہلی دور کے شاعر مطرود بن کعب الخزاعی کے اشعار ہیں۔ اس میں مطرود نے ایک ایسی اصطلاح کا ذکر کیا ہے، جس کے بارے میں ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ قرآنی آیت لِاِيْلٰفِ قُرَيْـــشٍ۱ۙ اٖلٰفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّـتَاۗءِ وَالصَّيْفِ۲ۚ [قریش ۱۰۶: ۱-۲]کا ایک جز ہے، اور قبل اسلام کے ایک بڑے اور تاریخی واقعے کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس واقعے کی حقیقت کیا ہے اور اس پر گفتگو کو تازہ کرنے کی افادیت کیا ہے؟
’ایلاف‘ پر گفتگو کے آغاز میں ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ان تاریخی حالات کا سرسری جائزہ پیش کر دیا جائے، جن حالات میں یہ نظامِ ’ایلاف‘ [اُلفت و محبت پر مبنی نظام]عمل میں آیا تھا۔ جزیرۂ عرب اس وقت سیاسی اعتبار سے تین حصوں میں بٹا ہوا تھا: جنوب میں مملکت حِمیَر تھی، جس پر، دَر آنے والے حبشیوں نے مکمل قبضہ کر لیا تھا۔ شمال کی جانب عراق میں بلادِ فارس کی تابع مملکت ’الحیرہ‘ اور بازنطینیوں کی مملکت غساسنہ تھی۔ جنوب اور شمال کے مابین وہ علاقہ تھا کہ جس میں وہ قبائل آباد تھے جو کسی ایک شاہی نظام یا بیرونی حکومت کے تابع رہنے پر مجبور تھے۔ مثال کے طور پر مکہ میں قریش کا قبیلہ تھا، مدینہ میں اوس اور خزرج وغیرہ کے قبائل تھے یا پھر بدؤوں کے وہ گروہ آباد تھے، جو تنگ حالی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور تنگ دستی نے ان میں سے بیش تر کو چوری، ڈکیتی اور قافلوں کی لُوٹ مار کے پیشے میں ملوث کر دیا تھا۔
جنوبی عرب حمیریوں اور حبشی حکومت (ایتھوپیا) کے درمیان جنگی کش مکش کی وجہ سے سلگ رہا تھا کیو ں کہ حبشہ، یمن پر حملہ آور تھا۔ شمالی عرب فارسیوں اور بازنطینیوں کے درمیان جاری جنگ کی آگ میں جھلس رہا تھا، جو دونوں کے درمیان یا تو براہِ راست ہو رہی تھا یا ان کے آلۂ کاروں، یعنی الحیرہ اور غساسنہ کے توسط سے جاری تھی۔ قطع نظر اس سے کہ تجارتی قافلوں پر اس صورتِ حال کے کیا منفی اثرات پڑ رہے تھے، اس صورتِ حال کی وجہ سے تجارت و خرید و فروخت کے سامان بعض علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہے تھے، کیو ں کہ کسی ایک جنگجو فریق نے اس کے راستوں پر تسلط حاصل کرلیا تھا۔ یہ صورتِ حال خاص طور سے ان سامانوں کے ساتھ تھی، جو ہندستان اور وسطی ایشیا سے آتے تھے۔ چنانچہ یہ ضروری تھا کہ کوئی ایسا فریق ہو، جو ان تمام فریقوں سے دوستی کے رشتے سے بندھ جائے تاکہ تجارتی نقل و حمل جاری رہنے کی ضمانت فراہم ہو سکے اوراس کش مکش کا مجموعی صورتِ حال پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ انھی حالات کے پیش نظر ’ پانچویں صدی عیسوی کے نصف میں نظامِ ’ایلاف‘ کا تصور عمل میں آیا۔
ہاشم بن عبد مناف بن قصی کو سرداری اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی۔ ان کے دادا قصی وہ پہلے شخص تھے، جنھوں نے مکہ پر قریش کی سرداری قائم کی تھی۔ قصی سے یہ سرداری مناف کو ملی اور مناف سے ہاشم کو ملی تھی۔ ہاشم مکہ کی محدود تجارت سے خوش اور مطمئن نہیں تھے جس کا انحصار ان مقامی بازاروں پر تھا، جو حُرمت کے مہینوں کے دوران لگا کرتےتھے۔ حُرمت کے مہینو ں کے دوران بازار لگنے کی وجہ یہ تھی کہ دشمنوں کے حملوں اور قبضے سے محفوظ رہ سکیں۔ ان بازاروں کی تجارت بازاروں میں شریک ہونے والے قبائل کی ذاتی مصنوعات تک ہی محدود رہتی تھی۔
یہ تو واضح تھا کہ مکہ کوئی صنعتی شہر نہیں تھا، لیکن اس کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ ’بیرونی تجارت کے لیے کارآمد شہر‘ بن جائے۔ اس کے بہت سے اسباب تھے، مثلاً: یہ شہر شمال اور جنوب کے تجارتی راستوں کے عین درمیان واقع تھا۔ ایک سبب یہ بھی تھا کہ حج کے ایام میں عربوں کا یہاں اجتماع ہوتا تھا اور اہل عرب قریش کو’اہل اللہ‘ ہونے کے ناتے ’بزرگ‘ مانتے تھے، کیوں کہ وہ کعبہ کے خادم تھے اور عربوں کے مقدس ترین قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔
ایک بار جب مکہ زبردست اقتصادی بحران اور غذا کی شدید کمی سے دوچار ہوا، تو ہاشم بن عبدمناف نے فیصلہ کیا کہ اپنے شہر (مکہ) کے حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہاشم کا معمول شام کے تجارتی اسفار پر جانے کا تھا۔ وہ ’غزہ‘ کے بازار میں بھی جاتے تھے اور کبھی کبھی شمال کے بازاروں، مثلاً ’بصرہ‘ کے بازاروں میں بھی جایا کرتے تھے۔ روایات میں ہے کہ ہاشم، شام کے بازاروں میں داخل ہوتے تو ہر روز ایک جانور ذبح کر کے ہر قافلے کے لیے کھانے کا بندوبست کیا کرتے تھے۔ ان کا یہ عمل عام لوگوں کی نگاہوں کو ان کی طرف متوجہ کرنے والا تھا۔ آخرکار ان کے اس عمل کی خبر قیصر روم تک پہنچی اور اس نے ہاشم کو حاضرکرنے اور ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ قیصر سے چند ملاقاتوں کے بعد، جن کے دوران قیصر ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا تھا، ہاشم نے بازنطینی حاکم کے سامنے تجویز پیش کی کہ وہ انھیں ایک خط لکھ کر دے، جو مکہ سے آنے والے تجارتی قافلوں کے لیے شام کے دروازے کھول دے اور شام کے جو علاقے بازنطینیوں کے ماتحت ہیں، ان سے مکی تاجروں کو آنے جانے کی سہولت بھی فراہم کر دے۔ اسی طرح ان پر جو ٹیکس عائد کیا جاتا ہے اس میں بھی رعایت دے اور بازنطینی لوگ بھی اپنے تجارتی سامان کے ساتھ عرب کے بازاروں میں اس ضمانت پر آنے جانے لگیں کہ ہاشم بن عبدمناف مکہ اور شام کے درمیانی راستوں کو ان بازنطینی تاجروں کے لیے مامون و محفوظ بنا دیں گے۔قیصر سے ہاشم بن عبدمناف کی گفتگو کے الفاظ یہ روایت ہوئے ہیں: ’’بادشاہ سلامت، میری قوم کے لوگ تجارت پیشہ ہیں۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ایک خط لکھ دیں، جو ان کی تجارت کو مامون بنا دے۔ اس کے بدلے میں وہ آپ کو حجاز کا بہترین چمڑا اور کپڑا پیش کریں اور آپ کے یہاں ا سے بیچا جائے۔ یہ آپ کے لیے بہت آسان ہوگا‘‘۔
ان روایات میں اختلاف سے قطع نظر کہ ہاشم نے براہِ راست قیصر سے ملاقات کی تھی یا اس کے کسی شامی گورنر سے؟ بہر حال، وہ یہ خط لے کر واپس آئے۔ یہ خط انھوں نے ان تمام قبائل کو دکھایا، جو شام اور مکہ کے درمیان تجارتی راستوں پر آباد تھے۔ انھوں نے ہر قبیلے کے سامنے یہ پیش کش رکھی کہ ’’شام کی طرف جانے والا [تجارتی] قافلہ ان کے زائد از ضرورت [سامانوں] کھجوروں اور کھالوں وغیرہ کو کوئی کرایہ لیے بغیر (شام کے بازاروں میں) لے جائے گا۔ اس سامان کو شام میں بیچے گا، پھر اصل سرمایے اور مکمل منافع کے ساتھ انھیں لوٹا دے گا۔ اس کے بدلے میں ان کے زیر اثر علاقوں سے گزرتے ہوئے ہر قبیلے کو [تجارتی] قافلے کی حمایت و خدمت کی ذمہ داری اپنے سر لینی ہوگی۔ اور اگر قبیلے کے پاس تجارت کرنے کے لیے کوئی سامان نہیں ہوگا، تو وہ قبیلہ مال کے بدلے اس قافلےکی حفاظت کرے گا۔‘‘
چنانچہ ہاشم کو اس معاہدے پر قبائلی سرداروں کی منظوری حاصل ہو گئی، جسے عربوں کی زبان میں ’حصل علی حبل منہم‘ کہا جاتا ہے۔ جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان ایک معاہدہ قائم ہو چکا ہے۔یہیں سے مکہ کے اس دور کا آغاز ہوا جس میں وہ جزیرۂ عرب کے اندر شامی تجارت کا اہم مرکز بن گیا، بلکہ بازنطینی تاجر مکہ کی طرف جوق در جوق آنے لگے اور مکہ کے سردار کو یہاں کے بازاروں میں اپنی تجارت اور حمایت و خدمت کے حصول کے بدلے میں دسواں حصہ ٹیکس کے طور پر ادا کرنے لگے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بازنطینی اس معاہدے کو محض تجارتی فائدے کی نظر سے ہی نہیں دیکھتے تھے، بلکہ بازنطینی حکومت نے جزیرۂ عرب کے عین درمیان اپنی تجارت کے راستے کھولنے کو ان جاسوسوں کے لیے بھی استعمال کیا، جنھیں وہ ان علاقوں کی خبریں حکومت تک منتقل کرنے کے لیے بھیجا کرتی تھی۔اس طرح وہ خاص طور سے فارسیوں [ایرانیوں]کی جانب سے پیش آنے والی تشویش کن حرکتوں سے آگاہ رہتی تھی۔
شہر ’غزہ‘ کی جانب اپنے ایک سفر کے د وران ہاشم کا انتقال ہو گیا تو ان کے بقیہ بھائیوں، بنو عبد مناف، یعنی عبد شمس، نوفل اور مُطَّلب نے ہاشم کے اس اہم منصو بے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اس سلسلے میں عبدشمس نے حبشہ کا رخ کیا اور نجاشی سے ملاقات کرکے اس کے سامنے وہی پیش کش رکھی، جو ہاشم نے قیصرِ روم کے سامنے رکھی تھی۔ نتیجے کے طور پر انھیں بھی اسی طرح کا معاہدہ حاصل کرنے میں کامیابی مل گئی اور مکی تاجروں کے لیے بازارِ حبشہ کے دروازے کھل گئے۔ نوفل نے بلادفارس کا سفر کیا اور کسریٰ اور ملوکِ ’الحیرہ‘ سے اسی طرح کا معاہدہ کرکے عراقی بازاروں کے دروازے کھول دیے۔ رہے مُطّلب، تو وہ یمن کے قبائلی سرداروں کے درمیان سرگرم تھے، اور اُن سرداروں نے مطلوبہ معاہدے پر اپنی رضامندی دے دی۔ مُطَّلب کے اس قدم میں یمن کے تغیرپذیر حالات کی مناسبت سے ان کے فہم و فراست کی جھلک نظر آتی تھی۔کیو ں کہ اس خطے میں مقامی سرداروں کے اثر ورسوخ کے مقابلےمیں مرکزی اقتدار ڈھل مل کی سی حالت میں تھا۔ ہربھائی نے جب پڑوسی ممالک کی حکومتوں سے معاہدہ کر لیا تو اس متعلقہ ملک اور مکہ کے درمیان پڑنے والے تجارتی راستوں پر قابض قبیلوں سے ملاقاتیں کرنے اور اسی طرح کا ’حبال‘ حاصل کرنے میں لگ گئے، جیسا اس سے پہلے ہاشم نے حاصل کیا تھا۔
یہیں سے قریش نے یہ رسوخ حاصل کرلیا تھا کہ تجارت کے لیے ان کے دو قافلے روانہ ہوتے تھے: ایک گرمیوں میں جس کا رخ شام کی طرف ہوتا تھا اور دوسرا سردیوں میں جس کا رخ یمن کی جانب ہوتا تھا۔اور انھی دو تجارتی اسفار کی طرف قرآنی آیت’رِحْلَۃَ الشِّـتَاۗءِ وَالصَّيْفِ‘ میں اشارہ کیا گیاہے۔چنانچہ بیرونی اموال تجارت مکہ میں آکر جمع ہوتے تھے۔ پھر وہیں سے وہ موسم کے لحاظ سے جنوب یا شمال کی جانب لے جائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ قریشیوں کے روایتی بازاروں مثلاً عکاظ میں بھی وہ سامان رکھا جاتا تھا۔ ایک تجارتی قافلہ ۱۵۰۰ سے ۲۵۰۰ اونٹوں پر مشتمل ہوا کرتا تھا، جو جزیرۂ عرب کے اندرونی سامان تجارت، مثلاً اون، کپڑے، اسلحے اور کھالیں یا باہر سے برآمد کیا ہوا سامان، مثلاً عطر، ہندستانی بخور، مصر کے بُنے ہوئے لائنن کے کپڑے اور شام کی شرابیں وغیرہ لے کر عراق، شام، یمن تک جایا کرتے تھے۔
اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان تمام بھائیوں نے اپنی مذکورہ کوششیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک ہی وقت میں انجام دی تھیں، یا ایک بھائی کی موت کے بعد دوسرے بھائی کو جب سرداری ملی تو اپنی سرداری کے زمانے میں ہر بھائی نے اپنے حصے کا کام انجام دیا تھا؟ بہرحال، اس نظامِ ایلاف نے جزیرۂ عرب میں تجارت کو ایک نئی بلندی سے ہم کنار کیا تھا۔ اس نظام نے یہ ضمانت فراہم کر دی تھی کہ جنگوں اور جھڑپوں کی وجہ سے سامانِ تجارت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا، کیو ں کہ مکہ باہم برسرپیکار تمام قوتوں کے درمیان مرکز (mediator) بن گیا تھا، جس کا کام سیاسی تغیرات سے متاثر ہوئے بغیر ایک کا مالِ تجارت، دوسرے تک پہنچانا تھا۔
اسی طرح تجارتی راستوں پر قابض قبائل نے بھی ’’اس ’رشتۂ معاہدہ‘ کی پاس داری کی، جس نے عبدمناف کو اپنے اندر پوشیدہ فائدوں سے مالا مال کیا، بلکہ اس کے پھیلائو اور سرمایے میں بھی اضافہ کیا، جس کی وجہ سے قافلوں میں شراکت سے حاصل ہونے والے منافع میں بھی اضافہ ہوا۔
اس کےعلاوہ جزیرۂ عرب میں یمنی، فارسی اور بازنطینی تجارت کی وجہ سے ان کی کرنسیاں رائج ہوگئیں، جس سے زرِمبادلہ کی سرگرمیاں بھی پروان چڑھیں۔ اس طرح اہل مکہ زرمبادلہ کے کاموں سے واقف ہوئے اور اس سے کافی کچھ سیکھا۔ اس چیز نے جزیرۂ عرب کے باہر سے آنے والے اموال تجارت کو یہاں کے بازاروں کے اندر رائج کرنے میں آسانی پیدا کر دی۔ چنانچہ مصر کے اموال تجارت، شام کے راستے سے آنے لگے، حبشہ کے اموال تجارت بحراحمر کے راستے سے آنے لگے، اور ہندستان سے آنے جانے والا مالِ تجارت یمن کے راستے سے پہنچنے لگا۔ اس طرح بحر احمر کی بندرگاہوں، مثلاً ینبع اور جدہ کی بندرگاہوں پر بھی تجارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں۔
بیرونی تجارت میں شرکت کے سلسلے میں اہل مکہ کی دلچسپی بھی بڑھ گئی تھی۔ چنانچہ بیرونی تجارت میں ان کی شرکت، مکہ کے اہل ثروت لوگوں تک ہی محدود نہیں رہی تھی، بلکہ وہ چھوٹے گروہ بھی اپنی جمع پونجی کے ساتھ، یا سود پر قرض لے کر اس میں حصہ لے رہے تھے، جو دولت مندی کے اعتبار سے بہت کم تر تھے۔ اس طرح یہ چیز سودخوروں کے منافع میں بھی اضافے کا سبب بن رہی تھی۔ بعض قبائل نظامِ ایلاف میں داخل ہونے کے لیے زور لگانے لگے، خواہ وہ ان راستوں پر آباد نہ رہے ہوں جو تجارت کے عام راستے تھے۔ اس کا محرک منافع حاصل کرنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ’ایلافی‘ خطوں سے اپنے قافلوں کے گزرنے کی صورت میں ان کی حمایت و حفاظت سے استفادہ کرنا تھا۔ اس کی وجہ سے تجارت کے نئے راستے اور نئے بازاروں کے دروازے کھلے۔ ان حالات میں قریشیوں کا اثر و رسوخ اس حد تک بڑھا کہ قافلے کے آگے چلنے والے کسی مسافر کے لیے یہ کہہ دینا کافی ہوتا تھا کہ اس کا تعلق ’اہل حرم‘ سے ہے یا راستے میں کسی بھی قسم کی پریشانیوں سے خود کو محفوظ رکھنے کےلیے یہ کافی ہوتا تھا کہ وہ اپنی گردن میں ایک قلادہ ڈال لے جس پر شہر حرم (مکہ) کے کسی درخت کا ٹکڑا لگا ہوا ہو۔
نظامِ ایلاف کے وسیلے نے قبیلوں اور خاندانوں کے درمیان باہمی تعامل اور بعض مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے دوسرے جزوی معاہدوں کی راہ آسان کر دی تھی۔ عرب کی قدیم تاریخ کے مطالعے سے اس بات کا ادراک ہوجاتا ہے کہ ’ایلاف‘ کا نظام ایک وسیع اُبھار کا سرچشمہ تھا، کیوں کہ اس کا آغاز فریقین کے درمیان ایک ایسے منصوبے کے طور پر ہوا تھا، جس کا ہدف ایک واحد ملک کے اندر، ایک واحد قبیلے کی خدمت تھا۔ پھر اس منصوبے نے ایک وسیع تجارتی نیٹ ورک اور ایک عظیم انسانی سرگرمی کی شکل اختیار کرلی، جس کا عمل دخل اقتصادیات، سیاسیا ت اور سماجی و ثقافتی زندگی میں بہت گہرا ہو گیا تھا۔ چنانچہ نظامِ ایلاف سے پہلے عرب زندگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ اور بعد کے حالات زندگی سے اس کا موازنہ ہمیں اس موقف تک پہنچا دیتا ہے کہ اس نظام کے اثرات بہت عظیم تھے، جنھیں ہم اس زمانے کے لحاظ سے اختراعی اور ایسا نظام کہہ سکتے ہیں جس نے مکہ کی ثقافت و تہذیب کو پورے علاقے تک پھیلا دیا تھا۔(انٹرنیٹ ویب: رصیف:۲۲)
غیرت یا عزت کے نام پر ہونے والا قتل کسی خاندان کے کسی فرد یا افراد کا قتل ہوتا ہے، جو عموماً اسی خاندان کے کسی فرد یا افراد کے ہاتھوں انجام پاتا ہے۔ ایسا قتل کرنے والے فرد یا افراد کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ مقتول کی کوئی حرکت، خاندان کی بے عزتی یا شرمندگی کا باعث بنی، یا اس نے خاندانی روایات سے بغاوت کی ہے۔ اس قتل کی عام طور پر جو وجوہ بتائی جاتی ہیں، ان میں طلاق، علیحدگی، جبری شادی سے انکار، خاندان سے باہر شادی کی خواہش، ناجائز جنسی تعلقات، ہم جنسیت، عصمت دری یا جنسی حملے کا نشانہ بننا وغیرہ شامل ہیں۔
مرد اور عورت دونوں ہی غیر ت کے نام پر قتل کا ارتکاب کرتے ہیں اوراس کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ جب اس جرم کا ارتکاب کوئی عورت کرتی ہے اور شکار مرد ہوتا ہے تو اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھتی، لیکن جب کسی مرد مجرم کے ہاتھوں کوئی عورت متاثر ہوتی ہے تو فیمنسٹ تنظیموں کی طرف سےالزام لگایا جاتا ہے کہ ’’یہ صنفی امتیاز کا نتیجہ ہے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ سب مرد ظالم ہوتے ہیں اور نہ سب عورتیں مظلوم۔ کچھ شقی القلب افرد ان مسائل کا سبب بنتے ہیں اور وہ دونوں اصناف میں پائے جاتے ہیں۔ شاید یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ مردوں میں ایسے افراد کی تعداد عورتوں کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے، لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسے افراد عورتوں میں پائے ہی نہیں جاتے۔مثلاً ۲۰۱۱ء میں کراچی میں ایک خاتون نے اپنے شوہر کی لاش کے سیکڑوں ٹکڑے کرکے سالن میں پکا کر ٹھکانے لگانے کی کوشش کی۔ ۲۰۱۸ء میں متحدہ عرب امارات میں ایک خاتون نے اپنے بوائے فرینڈ کو قتل کرکے اس کی لاش کے ٹکڑے ایک عرب پکوان میں پکا کر گھر کے قریب ورکرز کو کھلا یا۔ اسی طرح ۲۱ نومبر ۲۰۲۱ء کو بہاولنگر میں بیوی نے اپنے شوہر کو قتل کرکے لاش چھت پر لٹکا دی۔ ۲۲نومبر ۲۰۲۱ءکو جے پور، راجستھان میں ایک گرل فرینڈ نےلڑکے کو نشہ آور کھانا کھلایا اور اس کے بے ہوش ہونے کے بعد چھری سے اس کے اعضاء کاٹ ڈالے۔ ۱۰ دسمبر ۲۰۲۱ء کو کراچی صدر میں ایک خاتون نے اپنے شوہر کے ساتھ جھگڑے کے دوران اس کے سر پر لوہے کا راڈ مار کر زخمی کیا، پھر اس کے ہاتھ کاٹ کر کھڑکی سے باہر روڈ پر پھینک دیئے۔ پھر اس نے خاوندکو قتل کرکے اس کی لاش کے ٹکڑے مختلف کمروں میں چھپادئے۔ اسی طرح کے اور کئی واقعات بھی وقتاً فوقتاً اخبارات میں رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔
غیرت کے نام پر صرف پاکستان یا مسلم دنیا ہی میں قتل نہیں ہوتے بلکہ دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ (UNPF: ۱۹۶۹ء) کے ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں کم ازکم ۵ہزار خواتین سالانہ غیر ت و ناموس کے نام پر قتل کی جاتی ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر کا تعلق مشرق وسطیٰ، افریقہ یا جنوبی ایشیا سے ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کی وارداتیں بنگلہ دیش، برطانیہ، برازیل، ایکواڈور، مصر، بھارت، اسرائیل، اٹلی، اردن، پاکستان، مراکش، سویڈن، ترکی، یوگنڈا، ایران، عراق، شام، کویت، لبنان، فلسطین، یمن، افغانستان، یورپ کے کئی ممالک مثلاً البانیا، بلجیم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، ناروے، سوئٹزرلینڈ سمیت دنیا میں تقریبا ً پچاس سے زائد ممالک میں ہوتی ہیں۔
کینیڈا، آسٹریلیا اور امریکا جیسے ممالک بھی ان وارداتوں سے محفوظ نہیں، لیکن ان ممالک میں غیر ت کے نام پر ہونے والے قتل کی وارداتوں کا صحیح ریکارڈ بتانا آسان نہیں کیونکہ وہاں عام قتل اور غیر ت کے نام پر ہونے والے قتل میں واضح تمیز نہیں کی جاتی، اور عام طور پر حکام اس کا الگ ریکارڈ نہیں رکھتے۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مجموعی اعداد و شمار سے یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ وہاں ہرسیکنڈ میں ایک عورت کو پیٹا جاتا ہے۔ ۱۹۹۲ء میں امریکی سرجن جنرل نے ۱۵ سے ۴۴ سال کی خواتین کی جسمانی چوٹوں کی بڑی وجہ ان کے شوہروں اور بوائے فرینڈز کی طرف سے مارپیٹ کو قرار دیا۔ اسی طرح امریکا میں بے گھر بچوں اور خواتین میں سے ۵۰ فی صد گھریلو تشدد کی وجہ سے گھر سے بھاگ جاتے ہیں۔ سٹی یونی ورسٹی، نیویارک کے کالج آف کریمنل جسٹس کے پروفیسر رک کرٹس کی ایک تحقیق کے مطابق: ’’امریکا میں ہر سال ۲۳ سے ۲۷ خواتین کا قتل غیر ت کے نام پر ہوتا ہے‘‘۔
اقوام متحدہ کی ۲۰۱۲ء کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں غیرت کے نام پر قتل کے علاوہ جہیز کے نام پر بھی قتل ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر وینڈی براؤن کا کہنا ہے کہ ’’لاطینی امریکا میں اسی جرم کو Crime of Passion (جذباتی جرم)کہا جاتا ہے جس کے وہی محرکات ہوتے ہیں جو بھارت میں جہیز کے محرکات ہیں‘‘۔ اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق ہندستان میں وقوع پذیر ہونے والے اس نوعیت کے واقعات میں گذشتہ برسوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں وہاں ان جرائم کی تعداد ۴ہزار۸سو۳۴ تھی، جب کہ ۲۰۰۹ء میں بڑھ کر ۸ہزار۳ سو ۸۳ ہو گئی۔ حکومتِ ہند نے جہیز کےلین دین پر پابندی لگا دی اور قاتلوں کو مجرم قرار دیا جانے لگا مگر ان اقدامات کے باوجود ان جرائم کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہ ہوسکی۔
عزّت، ناموس، غیرت اور شرمندگی کے تصورات اور انھیں تشدد اور قتل کے لیے جواز کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان محض کسی ایک ثقافت یا کلچر سے نسبت نہیں رکھتا بلکہ دنیا کی تقریباً تمام ثقافتوں میں یہ رجحانات پائے جاتے ہیں۔ اور اس طرح کے واقعات کےثبوت نہ صرف اقوام عالم کی تاریخ بلکہ لٹریچر سے بھی مل جاتے ہیں۔ مثلاً برطانیہ میں، زنا کے الزام میں، ہنری ہشتم کی پانچویں بیوی کا سرقلم کر دیا گیا تھا۔ تمام بادشاہوں اور سورمائوں کے اعزازات کی بنیاد بھی عزت، ناموس اور غیرت ہی ہوتی تھی۔ شیکسپیئر کے کردار ڈیسڈمونا کو بے وفائی کے الزامات کے تحت ہلاک کیا گیا تھا۔ رومیو اور جولیٹ نے ایک قدیم خاندانی جھگڑے کو غیر ت کے نام پر تلاش کیا تھا۔
لاطینی امریکی معاشروں میں بھی اسی طرح کے تصورات پائے جاتے ہیں۔ پیرو کے ابتدائی ادوار میں، ان کے قانون کے تحت شوہروں کو اس بات کی اجازت تھی کہ وہ اپنی بیویوں کو زنا کے ارتکاب کی سزا کے طور پر اس وقت تک بھوکا رکھیں، جب تک ان کی جان نہ نکل جائے۔ میکسیکو میں اسی جرم کی سزا کے طور پر عورتوں کا گلا دبا کر انھیں مارا جاتا تھا۔ غیرت کے اسی تصور پر کئی جنگوں میں سب سے مشہور ’ٹروجن جنگ‘ ہے، جس کے آغاز کی وجہ ہیلن کی ناموس تھی۔
اسی طرح کی صورت حال پاکستان کے تعزیراتی ضابطے میں بھی پائی جاتی ہے، جو نوآبادیاتی ہندستان پربرطانیہ کی حکمرانی کے لیے برطانیہ سے درآمد کردہ ضابطہ ۱۸۶۰ء کے چربے پر مبنی ہے۔ اور اس قانون کے تحت ’’اگر کوئی شخص شدید اور اچانک اشتعال انگیزی کی وجہ سے اپنی بیوی کو قتل کر دیتا ہے تو اسے نرم سزا دی جائے گی‘‘۔
ان کے برعکس پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے ۱۹۹۰ء میں اس قانون میں اصلاح کرنے کے لیے کہا کہ ’’اسلام کی تعلیمات کے مطابق، اشتعال انگیزی، خواہ وہ کتنی ہی سنگین اور اچانک کیوں نہ ہو وہ قتل کے جرم کی شدت کو کم نہیں کر سکتی اور نہ نرمی کا جواز بن سکتی ہے‘‘ لیکن اس کے باوجود انگریز قانون سے متاثر بہت سے جج آج بھی غیر ت کے نام پر ہونے والے قتل کے سلسلے میں قاتل کو نرم سزا سناتے ہوئے مذکورہ برطانوی قانون کا حوالہ دیتے اور اسے جائز قرار دیتے ہیں۔
۱۹۴۸ء میں نائیجیریا میں برطانوی راج کے دوران، شرعی عدالت میں ایک مقدمہ لایا گیا، جس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے آشنا کو قتل کر دیا تھا۔ شرعی عدالت نے مجرم کو سزائے موت سنا دی، مگر آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ برطانوی عدالت عظمیٰ نے شرعی عدالت کے اس فیصلہ کو نامنظور قرار دیتے ہوئے یہ جواز پیش کیا کہ یہ ’’جرم برائے محبت‘‘ ہے، لہٰذا مجرم کو سزائے موت نہ دی جائے۔ یعنی شرعی عدالت اس ’جرم برائے محبت‘ سے بالکل متاثر نہ ہوئی، البتہ برطانوی عدالت عظمیٰ اس سے ضرور متاثر ہوئی چنانچہ شرعی عدالت کی تجویز کردہ سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا جاسکا۔
یورپ و امریکا کے سیاسی و مالیاتی اداروں کے دبائو اور حقوقِ نسواں کی تنظیموں کے زیراثر حکومت پاکستان نے غیر ت کے نام پرقتل کے جرائم پر پہلے سے موجود قوانین میں کئی تبدیلیاں کیں۔ ۸ دسمبر ۲۰۰۴ء کو پاکستان نے ایک ایسا قانون نافذ کیا، جس کے تحت غیر ت کے نام پر ہونے والے قتل کے سلسلے میں سات سال قید کی سزا اور انتہائی مقدمات میں سزائے موت کی سزا دی گئی۔ حقوقِ نسواں کی تنظیمیں اس سے خوش نہیں تھیں،کیونکہ اس قانون کے تحت اس بات کی اجازت تھی کہ مقتول کے ورثا قاتل سے صلح کرلیں، اور معاوضہ (خون بہا) لے کر معاف کردیں۔ چونکہ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کا مجرم اور مقتول عموماً ایک خاندان کے اندر ہی ہوتے ہیں، اس لیے زیادہ تر معاملات میں صلح ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ۲۰۰۶ء میں ’پروٹیکشن آف ویمن ایکٹ ۲۰۰۶ء‘ میں فوجداری ترمیم کی گئی، اور صلح کے اصول کو سرے سے ختم ہی کر دیا گیا۔
اس قانون میں عورت کو اس کی رضامندی کے بغیر اغوا کرنے یا شادی کے لیے آمادہ کرنے کی صورت میں عمر قید اور جرمانے کی سزا بھی رکھی گئی۔ اسی قانون میں تیسری ترمیم ۲۰۱۱ء میں کی گئی، جس میں عورت کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کرنے کے حوالے سے مزید سخت سزائیں تجویز کی گئیں۔ خواتین کے تحفظ کے نام پر ’پنجاب پروٹیکشن آف ویمن ایکٹ ۲۰۱۶ء‘ منظور کیا گیا جس میں خواتین کو تشدد کے خلاف تحفظ، وکالت کے اخراجات، امداد اور بحالی کا مؤثر نظام (یعنی میکے کا متبادل حکومتی نظام ) قائم کیا گیا۔ غیر ت کے نام پر جرائم سے متعلق ترمیمی ایکٹ ۲۰۱۶ء منظور کرتے ہوئے اس جرم کو اسٹیٹ کے خلاف جرم قرار دیا،اور فریقین کے درمیان معاوضہ دے کر صلح کرنے کا قصہ ہی ختم کر دیا اور اس قانون کو اسلامی قانون قصاص و دیت کی عملداری سے بالکل باہر کر دیا گیا، لیکن حقوق نسواں کے ادارے اور فیمنسٹ تنظیمیں اس پر بھی مطمئن نہ ہوسکیں۔
ان تنظیموں کے نزدیک قانونی اصلاحات تو ہو گئی ہیں، لیکن عوام اس جرم کے خلاف نفرت اور مذمت کااظہار نہیں کرتے۔ جب تک عوام ان جرائم کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوتے تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ لہٰذا، اس مسئلے کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے ان تنظیموں نے مہمات شروع کر دیں۔ رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے میڈیا پر بڑے منظم انداز سے ایسے ڈرامے اور فلمیں دکھائی جا رہی ہیں، جن کا موضوع صرف عشق و محبت، گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ، محرمات کے ساتھ جنسی تعلقات، جذباتی، ہیجانی اور جنسی ارتکاز ہیں۔ تعلیمی اداروں کا آزاد ماحول اس عمل کی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال ہورہا ہے۔
عدالتیں اور قانون ساز ادارے بھی اس ایجنڈے سے متاثر نظر آتےہیں۔ ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے کہ افراد خانہ کی طرف سے نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کے حوالے سے معمولی رکاوٹ و مزاحمت کا امکان بھی باقی نہ رہے۔ اور اگر کسی غیر اخلاقی حرکت پر کوئی بزرگ سرزنش کی بھی جرأت کر بیٹھے تو وہ المناک سزائوں کا مستحق قرار پائے۔ یعنی قانون کی نظر میں بے راہ روی اختیار کرنے والے تو معصوم تصور ہوں اور ان پر معمولی روک ٹوک کرنے والوں پر عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کڑی گرفت ہو۔ زنا کا مقدمہ اتنا پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ اب یہ ایس پی اورعدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر درج ہی نہیں ہوپاتا، لیکن اس کے مقابلے میں بچیوں پراہل خانہ کی طرف سے معمولی مزاحمت یا روک ٹوک کا مقدمہ فوراً درج ہو جاتا ہے۔
'پہلے فیمنسٹ تحریک کے ایکٹوسٹ ہمیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ غیرت کے نام پر قتل، رشتہ داروں کی طرف سے تشدد اور جنسی پارٹنرکے ساتھ جرائم ایک ہی نوعیت کے جرائم ہیں، لیکن اب جنسی تشدد کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے بعد حقوقِ نسواں کے فعال علَم برداروں نے اپنے سابقہ موقف پر بالکل منافقانہ خاموشی اختیارکر لی۔ اب وہ اس جرم کو غیرت کے نام پر ہونے والا جرم نہیں کہتے۔ وہ معصوم خواتین جنھوں نے حقوقِ نسواں تحریک کے لیے جدوجہد کی اوراس ثقافت کواپنانے میں اپنا خاندان اورسب کچھ دائو پر لگایا، انھیں بالکل اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان خواتین کو اب نہ صرف جان کا خطرہ ہے بلکہ وہ ہر روزجنسی تشدد کا بھی سامنا کرتی ہیں۔ (دی نیشنل پوسٹ، ۲۹؍اگست ۲۰۲۱ء)
باربرا کے نے جس منافقت کا ذکر یورپ اور امریکا کی حقوقِ نسواں تنظیموں کے حوالے سے کیا ہے، اس سے زیادہ گھمبیر صورتِ حال پاکستان میں ہے۔ یہاں کی حقوقِ نسواں لیڈران، بیورو کریسی اورکچھ ممبران پارلیمنٹ، روشن خیالی اور خواتین کی خود اختیاریت کے نام پر عالمی اداروں کی طرف سے ملنے والے اربوں روپے کے فنڈز آپس میں بانٹ لیتے ہیں اور آئے روز نئے قوانین بنا کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ انھوں نے آقائوں کے ایجنڈے پر کام مکمل کر لیا۔ یہ قانون سازی اسلام، نظریۂ پاکستان، آئین اور قومی ضروریات و تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتی، بلکہ عجلت میں تیار کیے گئے پلندے امریکی قوانین کےچربے ہوتے ہیں۔ ان قوانین میں جس ’سماجی انقلاب اور تبدیلی‘ کی نوید سنائی جاتی ہے عملی طور پر وہ پاکستانی معاشرے میں کہیں نظر نہیں آتی۔
پاکستانی معاشرہ علاقائی رسم و رواج کے ساتھ ساتھ مجموعی طورپر اسلامی روایات سے بھی نسبت رکھتا ہے۔ یہاں رہنے والے غیر مسلم بھی روایتی معاشرتی اقدار کے حامی ہیں۔ حقوق نسواں تنظیموں کے پُرکشش نعروں سے متاثر ہونے والی بے خبر ماڈرن خواتین روایات سے بغاوت کرکےاپنے لئے کئی مشکلات پیدا کر لیتی ہیں۔ وہ جب بھی کوئی انتہائی قدم اٹھاتی ہیں تو ان کے خاندان کے لوگ روایتی معاشرتی اقدار کی پاس داری کرتے ہوئے ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ دوسری طرف فیمنسٹ لیڈر بھی اس وقت تک ان کی مدد نہیں کرتے جب تک ان کے نام پر کچھ فنڈز ملنے کی توقع نہ ہو۔ ایسی صورت حال میں وہ بیچاری خواتین قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شیلٹر ہومز کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ پرورش کرنے والے والدین اور خاندان کے جان نچھاور کرنے والے پیاروں کو چھوڑ کر، اپنے آپ کو پولیس کے کرپٹ افراد اورمافیا کے حوالے کرنا کس قدر نادانی ہے!
حقوقِ نسواں کی لیڈران کے جھانسے میں آنے والی یہ نادان خواتین سمجھتی ہیں کہ وومن ایمپاورمنٹ یا ’خواتین کی خود اختیاریت‘ کے حوالے سے بنائے جانے والے قوانین، قوانین نافذ کرنے والے ادارے اورفیمنسٹ تنظیمیں ان کی آزادی کے محافظ ہیں۔ یہ ادارے شایدانھیں سابقہ خاوندوں اور خاندان کے بزرگوں کی کارروائی سے تو بچا لیتے ہیں، لیکن ان اہلکاروں کی طرف سے ہونے والے بے رحمانہ سلوک سےانھیں کوئی نہیں بچا سکتا۔ پولیس افسران کی سفاکی اور فیمنسٹ لیڈران کی بے حسی دیکھ کر انھیں اپنے رشتہ داروں کی یاد بری طرح ستانے لگتی ہے۔ ان خواتین کے دردبھرے خطوط اور ای میلز جب اداروں تک پہنچتے ہیں تو پاکستانی فیمنسٹ تنظیموں سے جواب طلبی ہوتی ہے۔ یہ جواب میں کہہ دیتے ہیں کہ آپ کے حکم کے مطابق قوانین بنوا دیئے گئے ہیں، ا ن پر عمل درآمد کرنے والے ادارے بھی موجود ہیں لیکن عوام ان پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔ اس پر حکم آتا ہے کہ ’کچھ اور کرو‘۔ چنانچہ کچھ نئے قوانین بنائے جاتے ہیں، فنڈز کی بندربانٹ ہوتی ہےاور یہ سلسلہ جاری ہے۔
اس حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے:پاکستان میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی وارداتوں کو نہ روک سکنے کی سب سےبڑی وجہ پاکستان کا بدعنوان سیاسی نظام ہے۔ سیاسی، انتظامی، تحقیقاتی اور عدالتی ادارے اس حوالے سے ہونے والی ہلاکتوں کو روکنے اور مجرموں کو سزائیں دلانے کے سلسلے میں بُری طرح ناکام ہیں اور موجودہ سیاسی، انتظامی اور عدالتی نظام کی ناکامی کی وجہ سے ایک بحران کی کیفیت ہے، جس میں شہری مجبور ہو کر روایتی قبائلی نظام، جرگہ اور دوسرے متبادل ماڈلز کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
جو سادہ لوح خواتین این جی اوز کو خواتین کے حقوق کی ضامن سجھتی ہیں وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سول سوسائٹی، کرپٹ حکومتی عہدے داروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز (حصے دار)کے بدعنوان عناصر پرمشتمل بدعنوانی کی ایک مثلث بن چکی ہے، جو ’انسانی حقوق‘ اور ’خواتین کے حقوق‘ کے نام پر ایک معاشرتی دہشت گردی کو جنم دے رہی ہے۔ این جی اوز فنڈز کے استعمال کی اصل معلومات ظاہر نہیں کرتیں اور جو معلومات ان کی ویب سائٹس پر جاری کی جاتی ہیں وہ گمراہ کن ہوتی ہیں۔ ان اُمور سے متعلقہ پاکستانی حکام جان بوجھ کر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور اس طرح ملی بھگت سے یہ عطیات دینے والوں کو بھی دھوکا دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
پیشہ ورانہ مالی شماریاتی خدمات سے منسوب عالمی تنظیم KPMG انٹرنیشنل کے سروے کے مطابق این جی اوز کی دھوکا دہی سے متعلق ۷۷ فی صد تحقیقات کبھی عوامی سطح پر نہیں پہنچتیں اور ۵۴ فی صد تحقیقات کے بارے میں تو داخلی طور پر بھی اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا۔
حقوقِ نسواں کی تنظیموں کے وسیع لٹریچر اور بیانات کے تناظر میں عام لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس جرم کا ارتکاب صرف روایتی مذہبی رجحانات رکھنے والے غیر تعلیم یافتہ لوگ ہی کرتے ہیں، لیکن جولائی ۲۰۰۸ء میں ترکی کے کرد علاقہ، اناطولیہ میں غیرت کے نام پر ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ڈیکل یونی ورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس جرم کا تعلق صرف جاگیردارانہ معاشرتی ڈھانچے سے نہیں بلکہ اس میں ایسے مجرم بھی ہیں جو بہت پڑھے لکھے اور یونی ورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں اور ان میں سے ۶۰ فی صد وہ لوگ ہیں جنھوں نے کم ازکم ہائی اسکول یا اس سے زیادہ تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔
حقوقِ نسواں کی تنظیمیں عام طور پر الزام لگاتی ہیں کہ مسلم ممالک میں ہونے والے یہ واقعات وہاں کے نرم قوانین کی وجہ سے ہیں۔ خاص طور پر مراکش، کویت، لبنان، شام، یمن، عمان اور متحدہ عرب امارات کے قوانین اس حوالے سے بہت نرم ہیں اور وہ مجرم کو معمولی سزا یا جرمانہ وغیرہ تک ہی محدود ہیں، لیکن ان قوانین کی وجہ سے مسلمانوں یا اسلام کو مورد الزام ٹھیرانا قطعی طور پر درست نہیں کیونکہ ان علاقوں میں جابرانہ حکومتیں بھی استعمار کی طرف سے مسلط کی گئی ہیں اور قوانین بھی استعمار کے ہی دیئے ہوئے ’تحفے‘ ہیں اور ان قوانین کا اسلامی شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔
غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے بارے میں اسلامی شرعی قانون کا موقف بہت واضح ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم کردہ ہے، جس کا مفہوم یہ ہے:’’اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو اوراس کے آشنا کو زنا کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھ کر قتل کیا تو اس کو قتل ہی مانا جائے گا اور مجرم کو وہی سزا دی جائے گی جو ایک قاتل کو دی جاتی ہے‘‘۔ اس اصول کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر قائم ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شوہر نے اپنی بیوی کو زنا کا ارتکاب کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ آپؐ نے جواب دیا کہ وہ شخص اپنی بیوی کو قتل نہیں کر سکتا اور مزید یہ کہ کسی کو بھی اس وقت تک قابل سزا نہیں ٹھیرایا جاسکتا جب تک چار گواہ نہ پیش کیے جائیں جنھوں نے اس گھنائونے فعل کو اپنی آنکھوں سے ہوتا ہوا دیکھا ہو۔
قرآن مجید ان افراد کے لیے بھی ایک عملی طریقہ پیش کرتا ہے، جن کو اپنے شوہر یا بیوی پر بے وفائی کا شک ہوتا ہے یا پھر وہ ان کو رنگے ہاتھوں دھوکا دیتے ہوئے پکڑ لیتے ہیں، مگر کوئی گواہ پیش کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کا بتایا ہوا طریقہ یہ ہے کہ ایسا جوڑا جج کے سامنے پیش ہو۔ الزام لگانے والا پانچ دفعہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ اس نے جو الزام لگایا ہے وہ درست ہے۔ اگر ملزم میاں یا بیوی بھی پانچ دفعہ اللہ کی قسم کھا کر اپنی بے گناہی کا یقین دلا دے تو طلاق واقع ہوجائے گی اور کوئی فرد بھی قابل سزا نہیں ٹھیرایا جائے گا۔ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے قدیم وجدید علما کا ان تعلیمات کی تعبیر و تشریح پر کوئی اختلاف نہیں۔
انیسویں صدی کے مشہور یمنی فقیہہ امام شوکانی تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ ’’جو مرد عورتوں پر غیرت کے نام پر تشدد کرتے ہیں، وہ سزائے موت کے مستحق ہیں‘‘ اور وہ مزید لکھتے ہیں: ’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس قتل کے بدلے میں ملنے والی سزائوں میں سختی نہ ہونے کی وجہ سے عورتوں کی زندگی تباہی کا شکار ہو جاتی ہے‘‘۔ تمام بڑے علما خواہ ان کا تعلق کسی بھی مکتبۂ فکر سے ہو، اسی موقف کے قائل ہیں۔
قابلیت کا تعلق انسان کی وراثت اور پیدایش سے ہے، یعنی یہ ’ودیعتی‘ ہے، جب کہ مہارت کا تعلق انسان کے سیکھنے سے ہے،یہ ’کسبی ‘ہے۔ ہماری زبان میں ’قابلیت‘ اور ’مہارت‘ اس قدر گڈ مڈ ہوگئے ہیں کہ دونوں کے لیے ’صلاحیت‘ کا لفظ استعمال ہوجاتا ہے۔خلاصہ یہ ہے:
ترقی، اپنے نصب العین کی جانب مقاصد کے حصول میں پیش رفت کا نام ہے۔ اس میں عقل، فہم اور مسلسل کوشش شامل ہوتی ہے۔ دین نے کوشش کی ترغیب دی ہے۔ اس محنت اور کوشش میں رفتار کے جائزے کا نام ’احتساب‘ ہے۔ کامیابی کے لیے حکمت عملی، منصوبہ بندی، محنت اور جائزے کے ساتھ دعا اور استعانت ِخداوندی بھی شامل ہے۔
فریضہ اقامت دین کے لیے ، ہمارے دین نے جو تعلیم اور ترغیب دی ہے، اس میں ان صلاحیتوں ، قابلیتوں اور مہارتوں کی بڑی اہمیت ہے۔انسان اگر قابل ہوں اور انھوں نے دورِ حاضر میں جینے اور ترقی کرنے اور اقامت دین کا کام کرنے کی مہارتیں حاصل کرلی ہوں، تو وہ ان مشترکہ عناصر کے ساتھ دین کے لیے مفید فرد ثابت ہوسکتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگ سونے، چاندی کی کانوں کی طرح مختلف کانیں ہیں۔ { FR 896 } جو کفر میں اعلیٰ تھے وہ اسلام میں بھی اعلیٰ ہیں، جب کہ عالم بن جائیں۔(مسلم)
عمومی طور پر قابلیتوں اور مہارتوں کو تین بڑی اقسام میں تقسیم کرکے ان کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے:
ہم نے اس انداز کی تقسیم سے قطع نظر، اہمیت اور ضرورت کےحوالے سے ان صلاحیتوں کو ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔
گفتگو، رابطہ، اظہار خیال یا مواصلات
(رابطے کے لیے:basheerjuma@gmail.com)
بچے کی پیدایش کے بعد اس کے اردگرد کا سماجی ماحول، اس کی تعلیمی کامیابی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ماہرین سماجیات نے عشروں اس تحقیق پر صرف کیے ہیں کہ وہ عناصر جو طالب علموں کے اختیار میں نہیں بشمول نسل، دولت اور والدین کا سماجی حوالہ کس طرح سے ان کے تعلیمی مواقع اور کامیابیوںپر اثرانداز ہوتے ہیں؟
سماجی ماحول کا ایک پہلو جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے وہ مذہب ہے۔ مثال کے طور پر امریکا ایک دولت مند مغربی جمہوریت ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا وہاں پر مذہبی ماحول میں پرورش پانے والے نوجوانوں کے تعلیمی نتائج پر یہ چیز اثرانداز ہوتی ہے؟
گذشتہ ۳۰ برس میں سماجی ماہرین اور اقتصادی ماہرین نے متعدد تحقیقی مطالعوں میں اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ مذہب اور تعلیمی کامیابیوں میں ایک مثبت تعلق ہے۔ اس تحقیق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مذہبی طالب علم، زیادہ بہتر گریڈ حاصل کرتے ہیں۔کم مذہبی رجحان رکھنے والے طالب علموں کی بہ نسبت ان میں سکول جانے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ لیکن ماہرین اس بات پر بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ ان نتائج کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ کیا مذہب کے اثرات کے نتیجے میں طالب علموں کی کامیابی کا سبب مذہب ہی ہے یا اس میں کچھ اور عناصر کارفرماہیں؟
میری تحقیق یہ ہے کہ طالب علم پر مذہب کا طاقت ور لیکن ملا جلا اثر ہوتا ہے۔ وہ نوجوان جو بہت زیادہ مذہبی ماحول میں پرورش پاتے ہیں اور جنھیں کچھ محققین Abiders (مذہبی طلبہ)بھی کہتے ہیں، وہ اوسط طلبہ کے مقابلے میں زیادہ نمبر (GPAs) حاصل کرتے ہیں اور کالج تک اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ میرے نزدیک مذہبی شدت پسندی سے مراد وہ لوگ ہیں جو مذہبی عبادات ہفتہ میں کم از کم ایک بار انجام دیتے ہیں، دن میں کم از کم ایک مرتبہ دُعا کرتے ہیں، اور خدا پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔ محض مذہبی اعتقاد اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ بچے کا رویہ کیا ہے بلکہ اس کے لیے کسی مذہبی برادری کا حصہ ہونا بھی ضروری ہے۔ وہ اُبھرتے ہوئے نوجوان جو بہتر تعلیمی نتائج دیتے ہیں، وہ خدا پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی مذہبی حلقوں سے وابستگی بھی ہوتی ہے۔
وہ مذہبی طلبہ جو شان دار تعلیمی ریکارڈ رکھتے ہیں عموماً معروف کالجوں میں داخلہ لینے کا رجحان کم رکھتے ہیں، بہ نسبت کم مذہبی رجحان رکھنے والے طلبہ کے جو مقابلتاً بہتر سماجی پس منظر کے حامل ہوتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج ان خصوصیات کی نشان دہی کرتے ہیں، جو مذہبی رجحان رکھنے والے طلبہ کی کامیابی میں معاون ہوتی ہیں۔ نیزان خصوصیات کی نشان دہی ہے، جنھیں اسکولوں کو اپنے طلبہ میں پروان چڑھانا چاہیے۔
کسی بھی مذہب کے پیروکار گہری مذہبی وابستگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں لیکن میں نے اپنی کتاب: God, Grades and Graduation: Religion's Surprising Impact on Academic Success میں تحقیق کی بنیاد عیسائیت کو بنایا ہے کیونکہ امریکا میں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ تقریباً ۶۳فی صد امریکیوں کی شناخت عیسائیت ہے۔
زیادہ مذہبی رجحان رکھنے والے نوجوانوں کے مقابلتاً مختلف تعلیمی نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ طلبہ تین اُمور پر توجہ مرکوز کرتے ہیں: سیکنڈری سکول نمبروں کا حصول، کالج کی تعلیم کی تکمیل کو پسند کرنا، اور کالج کا انتخاب۔سب سے پہلے میں نے نیشنل اسٹڈی آف یوتھ اینڈریلجن (NSYR) کے سروے کا جائزہ لیا، جس میں ۲۰۰۳ء سے ۲۰۱۳ء تک ۳ہزار ۲سو ۹۰ نوجوانوں کا جائزہ لیا گیا۔ سب سے پہلے شرکا کی گہری مذہبی وابستگی اور ان کے تعلیمی نتائج کے پیش نظر گروپوں کا تعین کیا گیا۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ عموماً مذہبی رجحان کے حاملین کو دیگر طلبہ پر ۱۰ فی صدفوقیت حاصل ہے۔ مثال کے طور پر ورکنگ کلاس کے نوجوان میں ۲۱ فی صد مذہبی طلبہ نے A گریڈ حاصل کیا، اور ان کے مقابلے میں غیرمذہبی رجحان رکھنے والوں میں سے ۹ فی صد نے Aگریڈ حاصل کیا۔
اس پس منظر میں نسل، لڑکے اور لڑکیاں، علاقائی فرق اور خاندانی پس منظر شامل ہیں۔ اس سروے کے لیے National Longitudinal Study of Adolescent to Adult Health کے اعداد و شمار کا بھی جائزہ لیا تاکہ یہ جانا جاسکے کہ کس طرح سے یکساں خاندان سے تعلق رکھنے والے مذہبی نوجوان، کارکردگی دکھاتے ہیں۔ ہمارے تجزیے کے مطابق زیادہ مذہبی نوجوان اپنے حقیقی بہن بھائیوں کے مقابلے میں ہائی اسکول میں زیادہ نمبر (GPAs )حاصل کرتے ہیں۔
سماجی ماہرین جن میں کرسچین اسمتھ شامل ہیں، ان کا خیال ہے کہ مذہبی رجحان کا بڑھنا نوجوانوں کو پُرخطر رجحانات سے روکتا ہے اور دیگر نوجوانوں سےان کے رابطے کا ذریعہ بنتا ہے اور قیادت کے زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے۔
اس بات کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے میں نے National Study of Youth and Religions ( NSYR) کا ازسرنو مطالعہ کیا اور تقریباً ۲۰۰ نوجوانوں کے ۱۰برسوں پر محیط انٹرویوں کا تجزیہ کیا اور انفرادی طور پر ان سے کیے گئے سوالات کا جائزہ لیا۔مذہبی رجحانات کے حامل طالب علموں نے بتایا کہ وہ خدا کی خوشنودی کے لیے مسلسل کوشش کرتے ہیں اور وہ دیانت دار، فرض شناس اور بااصول بننے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ یہ بات گذشتہ تحقیق کی تائید کرتی ہے کہ مذہبیت ان خصوصیات کے ساتھ مثبت طور پر وابستہ ہے۔
اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرض شناسی اور دیانت داری اور دوسروں کے ساتھ تعاون کرنا جیسی صفات کا تعلیمی کامیابی کے ساتھ کتنا تعلق ہے، اور پھر اس میں اساتذہ کا کردار بھی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ خصوصیات ایسے اسکول کے نظام میں معاون و مددگارہیں، جو ان لوگوں کو انعامات سے نوازتے ہیں، جو اخلاقی و روحانی اصولوں کی پاس داری کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ میں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ کالجوں میں ان نوجوانوں کی کیا کارکردگی رہتی ہے؟ اس کے لیے NSYR کے اعداد و شمار کا Naitional Student Clearing House کے ساتھ موازنہ کیا تاکہ یہ جانا جاسکے کہ کتنے طلبہ نے امتحانات دیئے اور کامیابی حاصل کی۔ مذہبی رجحان رکھنے والوں نے اوسطاً گریجوایشن کی سند حاصل کرنے کے لیے زیادہ کوشش کی، بہ نسبت غیرمذہبی رجحان کے۔ اس کی ایک وجہ ہائی اسکول میں ان کی کامیابی کالج میں بھی ان کی کامیابی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔معاشی آسودگی سے بھی ان نتائج میں فرق تو پڑتا ہے، لیکن ورکنگ کلاس اور متوسط طبقے کے مذہبی نوجوان گریجوایشن کی سند کے حصول کے لیے ڈیڑ ھ سے دو گنا زیادہ کوشش کرتے ہیں بہ نسبت غیر مذہبی رجحان والوں کے۔
مذہبی رجحان رکھنے والے یا متوسط طبقے کے طلبہ گریجوایشن کی زیادہ کوشش کرتے ہیں۔ NSYR اور نیشنل اسٹوڈنٹس کلیرنگ ہائوس کے اعدادد و شمار کے مطابق ایک جائزہ پیش ہے:
غریب طبقہ: غیرمذہبی ۱۵ فی صد مذہبی ۱۹ فی صد
محنت کش طبقہ : غیرمذہبی ۱۶ فی صد مذہبی ۳۲ فی صد
متوسط طبقہ: غیرمذہبی ۲۹ فی صد مذہبی ۴۷ فی صد
پروفیشنل کلاس: غیرمذہبی ۶۲ فی صد مذہبی ۶۵ فی صد
تعلیمی اداروں میں کامیابی کے جائزے کا ایک اور پہلو کالجوں میں طلبہ کی کامیابی ہے، جس کا عام طور پر طلبہ کی جانب سے کالج کے انتخاب سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ طلبہ جس قدر معیاری تعلیمی اداروں کا انتخاب کرتے ہیں، اتنا ہی اپنی سند کے حصول کے لیے زیادہ کوشش کرتے ہیں ۔ اس طرح ان کے لیے زیادہ تنخواہ کی حامل معیاری ملازمتوں کے حصول کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ اوسطاً مذہبی رجحانات کے حامل طالب علم جو Aگریڈ پاتے ہیں اور نسبتاً کم معیاری کالجوں کا انتخاب کرتے ہیں، ان کا SAT نتیجہ ۱۱۳۵ ہے، جب کہ غیرمذہبی طلبہ کا نتیجہ ۱۱۷۶ ہے۔ ان کے انٹرویو میں مذہبی طالبات باربار والدین کی ذمہ داری، ایثار و خلوص اور خدا کی عبادت کا تذکرہ کرتی ہیں،بالخصوص بالائی متوسط طبقہ خاندانوں کی طالبات کے بارے میں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ معیاری کالجوں کا انتخاب کم کرتی ہیں اور معروف کالجوں کو اپنا کیریئر بنانے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتی ہیں۔
اصولوں کی پابندی کرنے والے طلبہ بہتر تعلیمی نتائج دیتے ہیں، لیکن ایسا مختلف رجحان رکھنے والے بھی کرسکتے ہیں۔ہماری تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملحد طلبہ متجسس مزاج کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ خدا کی خوشنودی کے لیے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنے کے بجائے تنقیدی نقطۂ نظر سے غوروفکر کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس مزاج کی وجہ سے مذہبی رجحان رکھنے والوں کے مقابلے میں معروف یونی ورسٹیوں میں ملحدین کو زیادہ نمایندگی دی جاتی ہے۔
اُردو زبان میں سیرتِ پاکؐ پر بہت قیمتی کتب لکھی گئی ہیں، لیکن کاروانِ نبوت اپنی ترتیب، اسلوب اور پیش کش کے اعتبار سے ایک منفرد حیثیت کی حامل ہے۔ یہ اس کتابی سلسلے کی بارھویں کڑی ہے، جس میں صلح حدیبیہ، غزوئہ تبوک، ہمسایہ سلاطین کے نام خطوط، غزوئہ خیبر، عمرئہ قضا، معرکۂ موتہ اور فتح مکہ کی تفصیلات پر ابواب کے ساتھ قریشِ مکہ اور یہود کی مخالفت کے اجمالی جائزے پر دو معلوماتی اور فکرانگیز ابواب بھی کتاب میں شامل ہیں۔
سیرتِ رسولؐ کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے حالاتِ حاضرہ کی مناسبت سے متعدد بصیرت افروز نکات بیان کیے ہیں۔ اسی طرح جہاں عہد ِ نبوی میں جاہلیت سے کش مکش کا ذکر ہے، وہاں عصرحاضر کی جہالتوں کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ کتاب کا طرزِ بیان عام فہم ہے۔ عبارت کی سلاست اسے قاری کے لیے دل چسپ بناتی ہے اور کتاب کا مطالعہ قاری کو عمل پر اُبھارتا ہے۔ کتاب کی ٹائپ کاری اور مطالعے کے مرکزی نکات کو نمایاں کرنے کا انداز، انفرادیت کا حامل ہے۔ (ادارہ)
جناب حافظ محمدادریس ایک عالم، مترجم، خطیب اور منفرد ادیب ہیں۔ وہ بہ یک وقت اسلامی تاریخ، قومی و ملّی اُمور، افسانہ اور وفیات پر دلی لگن کے ساتھ لکھتے ہیں۔ عزیمت کےراہی سلسلے میں یہ ان کی آٹھویں کتاب ہے۔ اس سلسلے میں وہ عصرحاضر کے اُن رفقائے تحریک اسلامی کے احوال، واقعات اور یادداشتوں کو مرتب کرتے ہیں، جو اس دُنیا میں اپنا رول ادا کرکے اپنے ربّ کے حضور پیش ہوجاتے ہیں۔
زیرنظر مجموعہ، تحریک اسلامی کی مرکزی شخصیات کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ جن میں چودھری غلام محمد، سیّد منور حسن، عبدالغفار عزیز، حاجی عبدالوہاب (امیر تبلیغی جماعت)، شیخ ظہوراحمد، ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی، ڈاکٹر سیّد وسیم اختر، ڈاکٹر محمد مرسی شہید، جسٹس فدا محمد خاں، حفیظ الرحمٰن احسن، نعمت اللہ خاں ایڈووکیٹ، مسعود احمد خاں وغیرہ سمیت ۲۷ سعادت مند زندگیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
یہ کتابی سلسلہ، دعوت و عزیمت کے چراغ روشن کرتا ہے۔ سچ پوچھیے تو احباب میں مطالعے کی زبوں حالی کا حوالہ دیکھ کر دل رنجیدہ ہوا، کہ صرف چھے سو کی تعداد میں کتاب شائع ہوئی ہے، کیا یہ بات خود باقی زندہ رہ جانے والوں کے لیے ایک تازیانہ نہیں؟ (ادارہ)
حکیم محمد یوسف حضروی (۱۸۵۵ء۔۱۹۵۹ء )حضرو (ضلع اٹک) ایک ماہر طبیب کے علاوہ بہت اچھے پختہ قلم ادیب بھی تھے۔ تقریباً دس کتابوں کے مصنف تھے۔ سیرِ سوات ان کی ’’ایک ماہ [جون ۱۹۴۴ء]کی سیاحت ِ سوات کا خوش نماآئینہ ہے۔ اس آئینے میں حکیم صاحب کے احوالِ سفر کی رنگا رنگ تصویریں ،ان کے مشاہدے کی دل پذیر جھلکیاں ہیں‘‘۔(ص ۳۱)
حکیم صاحب کا اسلوبِ نگارش دیکھیے: ’’ان [پہاڑوں]کی آغوش میں ملک کے اندرونی حصے ہر طرف تختہ ہائے گلاب، گلِ مہتاب، گلِ لالہ ویاسمین کے شاداب اور رنگین ندیم عشرت پھولوں کے ایسے چمن کھلے ہوئے ہیں، جن پر انسانی نگاہ فردوس ارضی کا دھوکا کھاتی اور شب کو چاند اور تاروں کی لطیف روشنی مسکراتی ہے۔ صبح کے دھند لکے میں نسیم خوش گوار کا ایک ہلکا سا جھونکا ان پھولوں کو چھیڑ کر مسکرانے پر آمادہ کرتا ہے، کلیاں بنتی ہیں اور خوشبو سے تمام فضا معطر ہو جاتی ہے‘‘۔(ص۵۳)
ڈاکٹر ناشاد نے ۳۰صفحات پر مشتمل سیرحاصل مقدمے میں حکیم صاحب کے حالاتِ زندگی کے ساتھ، ان کے آباواجداد کے اَحوال ،تصانیف اور مہارتِ طب پر روشنی ڈالی ہے۔ متن کی صحت کے ساتھ مختصر حواشی اور اشاریے کا اہتمام بھی کیا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
ترجمان کی گذشتہ اشاعتوں (فروری ۲۰۱۴ء، اپریل ۲۰۱۵ء، اپریل ۲۰۱۶ء) میں ہم نے انجینئر مختار فاروقی مرحوم کی تصانیف اور رسالے پر تعارف و تبصرہ شائع کیا تھا۔ مختار صاحب ۱۳ستمبر ۲۰۲۱ء کو اپنے ربّ سے جاملے۔ ان کی وفات پر درجنوں اہلِ قلم نے مرحوم کی شخصیت، علم و فضل اور تصنیفی و تالیفی کارناموں پر قلم اُٹھایا اور انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ زیرنظر مجموعۂ مضامین مرحوم سے لکھنے والوں کی ملاقاتوں، گفتگوئوں اور باتوں کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ اوریا مقبول جان کہتے ہیں: ’’میں ان کے رسالے کا مدتوں مستقل قاری رہا۔ وہ بہت نیک اورسادہ انسان تھے۔ جب بولتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ ان کے اندر سے علم آرہا ہے اورعلم بھی دین کا علم‘‘ (ص ۲۲۳)۔
کسی معاشرے میں مختارفاروقی جیسے لوگوں کا وجود اور دین کے لیے ان کی کاوشیں اس معاشرے پر ربِّ کریم کی عنایات کے مترادف ہے۔ آخر میں بہت سے اہلِ علم کے تعزیتی پیغامات شامل ہیں۔ (رفیع الدین ہاشمی)
سوال: کیا’عائلی قوانین‘ کے نفاذ کے بعد کوئی شخص اگر شریعت کے مطابق کسی قسم کی طلاق دے تو وہ واقع ہوجائے گی؟ متذکرہ قوانین کی رُوسے تو طلاق کے نافذ ہونے کے لیے کچھ خاص شرائط عائد کردی گئی ہیں؟
جواب: کسی حکومت کے قوانین سے نہ تو شریعت میں کوئی ترمیم ہوسکتی ہے، اور نہ وہ شریعت کے قائم مقام بن سکتے ہیں۔ اس لیے جو طلاق شرعی قواعد کی رُو سے دے دی ہو، وہ عنداللہ اور عندالمسلمین نافذ ہوجائے گی، خواہ ان [حکومتی] قوانین کی رُو سے وہ نافذ نہ ہو۔ اور جو طلاق شرعاً قابلِ نفاذ نہیں ہے، وہ ہرگز نافذ نہ ہوگی، خواہ یہ [عائلی] قوانین اس کو نافذ کریں۔
اب مسلمانوں کو خود سوچ لینا چاہیے کہ وہ اپنے نکاح و طلاق کے معاملات، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق کرنا چاہتے ہیں یا ان عائلی قوانین کے مطابق؟ (’رسائل و مسائل‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۵۸، عدد۲، مئی ۱۹۶۲ء، ص ۵۹)