تیونس میں دستور سازی کا مشکل مرحلہ مکمل ہوچکا ہے ۔ اتوار ۲۶ جنوری ۲۰۱۴ء کو رات گئے قومی اسمبلی میں اس پر راے شماری ہوئی اور ۱۲کے مقابلے میں۲۰۰؍ ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دے کر حتمی منظوری دے دی ۔ مصر کے حالیہ سیاسی بحران کے تناظر میں ہر طرف سے تیونس کے انقلاب ِ یاسمین کی کامیابی پر نہ صرف سوالات اٹھائے جا رہے تھے، بلکہ ملک دشمن عناصر مختلف تخریبی کارروائیوں کے ذریعے حالات کو وہی رخ دینے کی کوشش کر رہے تھے ۔کبھی امن وامان کا مسئلہ کھڑا کرکے اور کبھی دستور سازی کے عمل کو مشکوک قرار دے کرتیونس حکومت سے دست برداری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تاہم، تیونس کی لیڈرشپ نے بروقت اورحکیمانہ اقدامات کرکے حالات پر قابو پالیااور تین سال کی کش مکش کے بعد ملک کو ایک متفقہ آئین دینے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس ساری مدت میںاندرون اور بیرون ملک سے جلتی پر تیل کاکام کرنے والے مسلسل سازشیں کرتے رہے۔ اقتصادی ناکامی کا ڈراما رچایا گیا، انسانی حقوق کا واویلا مچایا گیا، ملک میں تخریبی کارروائیاںکی گئیںاور آخر میں دو اپوزیشن لیڈروں کو قتل کروایا گیا، تاکہ ان واقعات کی آڑ لے کر منتخب جمہوری حکومت کا دھڑن تختہ کیا جائے اور آزادی و جمہوریت کے سفرکو آغاز ہی میں ناکام بنایا جائے۔
۱۴ جنوری ۲۰۱۱ء کونصف صدی سے جاری آمریت سے نجات حاصل ہوئی تو ملک کے پہلے آزاد انتخابات میں عوام نے اسلامی تحریک پر اعتماد کیا اور ۲۱۷کے ایوان میں ۹۰ پر اسے کامیابی ملی۔دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی پارٹی کو ۳۰ نشستوں اور تیسرے نمبر پر آنے والی جماعت کو صرف ۲۱نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ۔تحریکِ نہضت چاہتی تو تنہا ہی حکومت بنالیتی لیکن اس نے ملکی وحدت اورقومی سلامتی کو پیش نظر رکھتے ہوئے بائیں بازو کی معتدل جماعتوں کو ساتھ ملا کر ایک قومی حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت ’کانگریس پارٹی‘ کو صدارت، اور تیسرے نمبر پر آنے والی پارٹی ’التکتل‘ کوا سپیکر شپ کی دعوت دی جو انھوں نے قبول کی اور خود وزارت عظمیٰ پر اکتفا کیا۔
حکومت کی یہ کامیابی اندرون و بیرون ملک اسلام دشمن عناصر کو ایک آنکھ نہ بھائی اور مخالفت کا ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا۔ سیکولر لابی نے اپنے آقاؤں کے اشارے پر واویلا شروع کیا کہ تحریکِ نہضت ملک میں خلافت نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اب لوگوں کے ہاتھ کٹیں گے اور ہرطرف اسلام کے سخت قوانین کو بالجبر نافذ کیا جائے گا۔ نام نہاد انسانی حقوق کے علَم برداروں نے شور مچایا کہ تحریکِ نہضت کی کامیابی سے مذہبی آزادی اور حقوقِ نسواں کو سنگین خطرہ لاحق ہوگیا۔ زین العابدین کی باقیات اور ان کے زیر اثر میڈیا نے آسمان سر پر اٹھایا کہ اسلام پسند ملک کو تاریک اندھیروںمیں ڈبونے جارہے ہیں۔بڑے سرمایہ داروں نے معیشت کی تباہی کی دہائی دی اور ایسا نقشہ کھینچا گیا کہ اگر تحریکِ نہضت کی حکومت کا خاتمہ نہ کیا گیاتو ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔یہ اور اس طرح کے دیگر نعروں سے عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی اور حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے۔
ایک کروڑ ۱۰ لاکھ کی مجموعی آبادی میں ۷لاکھ بے روزگاروںکو روزگار فراہم کرنا انقلاب کے بنیادی مقاصد اور مطالبات میں شامل تھا۔ ایک بالکل نئی حکومت کے لیے چند دنوں یا مہینوں میںیہ مسئلہ حل کرنا ممکن نہ تھا۔ وہ بھی ایسے وقت میںجب بن علی اور اس کا خاندان سرکاری خزانے کو مالِ مفت سمجھ کر ہڑپ کر گئے تھے۔ چنانچہ مخالفین نے اس مسئلے کوخوب اُچھالا اور اعلان کیا کہ حکومت انقلاب کے مقاصد کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ذرائع ابلاغ جن کی اکثریت دین بے زارسرمایہ دار وںاورمفرور صدر بن علی کے قریب ترین افراد کی ملکیت ہے، نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔گذشتہ دو سال کی قلیل مدت میں ۲۰نئے اخبار،چھے ٹی وی اور سات ریڈیو چینل وجود میں آئے اور روزِ اول سے اپنی توپوں کا رخ حکومت کی طرف کردیا۔ اس ساری کارروائی میں وہ جماعتیں پیش پیش تھیں جنھیں عوام نے انتخابات میں بُری طرح مسترد کردیا تھا۔ ان سب کا ایک نکاتی ایجنڈا یہ تھا کہ حکومت کو تحلیل کیا جائے اور نئے سرے سے انتخابات کرائے جائیں۔
۲۰۱۳ء انقلابِ یاسمین کے لیے آزمایشوں سے بھر پور سال رہا۔حکومت کی برطرفی اور نئے سرے سے انتخابات کا مطالبہ کامیاب نہ ہوا تومخالفین اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئے۔ ملک میں قتل وغارت اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست مزید تیز کردی گئی۔اپوزیشن کے ایک رہنما شکری بلعید کو قتل کرکے حکومت کو اس کا ذمہ دار قراردیا گیا۔ چنانچہ پُر تشدد مظاہروںکا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا اور حکومت کی برطرفی کا مطالبہ ایک دفعہ پھر زور پکڑ گیا۔ حکومت میں شامل جماعتوں کے پاؤں بھی لرزنا شروع ہوگئے اوردستور سازی کا عمل رک گیا۔ ایسے میں تحریک نہضت نے تاریخ کی انوکھی قربانی دی اورپارلیمنٹ میںسب سے زیادہ نشستیں ہونے کے باوجود وزارت عظمیٰ سمیت کئی اہم وزارتوں سے دست برداری کا اعلان کیا اور حکومت ایک غیرجانب دار فردکے حوالے کردی۔
حالات نسبتاً معمول پر آئے تو دستور سازی کا عمل دوبارہ شروع ہوا۔ حکومت جلد سے جلد ملک کو ایک نیا آئین دے کر عام انتخابات کرانا چاہتی تھی لیکن سازشوں کے تانے بانے بُننے والے اپنے مذموم مقاصد سے بازنہ آئے ۔ جولائی ۲۰۱۳ء میں ایک اور اپوزیشن رہنما محمد البراہیمی کو قتل کردیا گیا۔ بین الاقوامی اور ملکی میڈیا نے ایک دفعہ پھر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ امن وامان کی صورت حال بگڑ گئی اور حکومت کی برطرفی اور پارلیمنٹ کی تحلیل کا مطابہ زور پکڑ گیا۔
یہی دن تھے جب مصر میں جمہوریت پر شب خون مارتے ہوئے منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور صدر محمد مرسی کو پابند سلاسل کردیاگیا۔ تیونس کے ناکام سیاست دان یہاں اسی تجربے کو دہرانے کے لیے سرگرم ہوگئے۔ حکومتی صفوں میں دراڑ پیدا کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ تحریکِ نہضت نے پارلیمنٹ کی بھر پور تائید کے باوجود ایک دفعہ پھر کمالِ حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکمل طور پر حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا اور باقی تمام وزارتیںبھی چھوڑدیں۔ملک میں غیر جانب دار ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کرنے کے لیے مہدی جمعہ کو وزارتِ عظمی کا قلم دان سونپ دیا۔یوں مخالفین کے منہ بند ہوئے اور سازشی عناصر کواپنے مذموم ارادوںمیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ قومی اسمبلی نے دستور سازی کا عمل جاری رکھااور آخر کارجنوری ۲۰۱۴ء میںیہ صبر آزما مرحلہ مکمل ہوگیا۔
جمعرات ۲۳ جنوری ۲۰۱۴ء کو قومی اسمبلی نے نئے دستورپر شق وارتفصیلی بحث کی جس کے بعدارکان اسمبلی نے اس کی بنیادی منظوری دے دی۔ ۲۶ جنوری کو حتمی منظوری کے لیے ایوان کے سامنے پیش کیا گیااورصرف ۱۲؍ ارکان نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔یہ ۱۹۵۹ء کے بعد ملک کا پہلا جمہوری آئین ہے۔
نئے آئین میں اسلام کو ریاست کا دین، عربی کواس کی زبان اور جمہوریت کو اس کا نظام قرار دیاگیا ہے، جب کہ شہریوںکو بشمول مذہبی آزادی، ہر قسم کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔ خواتین کے حقوق کا بھی خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے ۔نئے دستور کی رو سے فوج کے کردار کو واضح طور پر متعین کیا گیا ہے جو ملکی دفاع ،قانون کی پاس داری اور سیاست سے مکمل طور پر غیر جانب دار رہنے پر مبنی ہے۔موجودہ حالات میں یہ ایک متوازن دستور ہے ۔ بعض لوگ اسے ایک سیکولر آئین قرار دیتے ہوئے کہتے ہیںکہ اس میںقانون کو شریعت کا پابند نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم جو لوگ تیونس کی ۶۰ سالہ تاریخ اور اس سے پہلے ۷۵ سالہ استعماری دور سے واقف ہیںوہ جانتے ہیں کہ ایک ایسے ملک میں جہاں سر پر اسکارف لینے والی خاتون کے کسی بھی سرکاری دفتر، کالج اور یونی ورسٹی میںداخلے پر پابندی ہواور جہاں نوجوان مسجد میں نماز پڑھیں تو انھیں غائب کر دیا جائے، جہاں پر داڑھی رکھنا معیوب ہی نہیں جرم سمجھا جاتا ہواور جہاں اسلام پسندی کی سزا کال کوٹھریاں ہوں اور جہاں ۶۰ سال سے قانون حکمرانوں کے گھر کی لونڈی ہو، وہاں آزادی کے پہلے مرحلے میں اس سے مناسب اور متواز ن آئین لانا شاید سر دست ممکن ہی نہ ہو۔
اس تاریخی کامیابی کے بعد عبوری حکومت ایک غیر جانب دار الیکشن کمیشن کے قیام کے لیے مشاورت کر رہی ہے جو ملک میں شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنائے۔ توقع ہے کہ نئی حکومت تمام تر چیلنجوں کے باوجود اس مرحلے کو بھی طے کر لے گی۔
بیرونی اور اندرونی سازشیںمسلسل جاری رہیں۔مختلف حربے استعمال کیے گئے، کئی ایک دینی جماعتوں کو بھی استعمال کیا گیا، متشدد گروہوں نے حکومت کو بدنام کرنے کے لیے دہشت گردی کی کئی ایک کارروائیاں بھی کر ڈالیں،لیکن اسلامی تحریک ثابت قدم رہی اور دُوراندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے تمام لوگوں کو ساتھ لے کر یہ سارے مراحل طے کر لیے۔ اس پورے عرصے میں فوج غیر جانب دار رہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ برادر اسلامی ملک میں کامیابی کا یہ سفر کہاں تک جاری رہتا ہے۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی جس ابتلا و آزمایش سے گزررہی ہے، اس کی جڑیں سرزمینِ بنگلہ دیش میں نہیں بلکہ اس طوفانِ کرب و بلا کا مرکز سرحدپار موجود ہے۔ بنگلہ دیش میں اس نفرت کے سوداگر عوامی لیگ، بنگالی قوم پرست، مقامی ہندو اور سیکولر طبقات ہیں۔ حسب ذیل تحریر ملاحظہ کیجیے:
میں ذاتی سطح پر جماعت اسلامی کے بارے میں ۱۹۷۱ء کی مناسبت سے کوئی اچھی راے نہیں رکھتا۔ لیکن اس لمحے جب بنگلہ دیش میں دانش وروں اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد جماعت اسلامی پر سنگ باری کر رہی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ مجھے سچ کہنے میں بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
بہت سے مقامات پر، بہت سے لوگوں سے ملنے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ عوامی لیگ خود دہشت گردانہ کارروائیاں کرکے، ان جرائم کا الزام جماعت اسلامی پر دھر رہی ہے۔ مزید یہ کہ ، بے شمار تحریروں اور تصانیف کے مطالعے کے بعد، جب میں [بنگلہ دیش کے حوالے سے] بھارت کے موجودہ طرزِعمل کا جائزہ لیتا ہوں، تو مجھے صاف دکھائی دیتا ہے کہ ۱۹۷۱ء میں [مشرقی پاکستان پر مسلط کردہ] جنگ بھارت کی مسلط کردہ تھی، اور جو فی الحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ (RAW) کا پراجیکٹ تھا۔ اسی طرح جب میں عوامی لیگ اور ذرائع ابلاغ کو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، تو مجھے اس یلغار کے پسِ پردہ محرکات کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ بنگلہ دیش میں فی الواقع جماعت اسلامی ہی وہ منظم قوت ہے، جو بھارت کی بڑھتی ہوئی دھونس اور مداخلت کو روکنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گویا کہ ۱۹۷۱ء میں ہماری آزادی کے حصول کی جدوجہد کے دشمن، آج ہماری آزادی کے تحفظ کے بہترین محافظ ہیں۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی سیاسی جدوجہد کی مخالفت کرنے کے باوجود میں محسوس کرتا ہوں کہ اس پارٹی کا وجود ہماری آزادی کے تحفظ کے لیے اشد ضروری ہے۔ بھارت نے ہمارے صحافیوں، سیاست دانوں، قلم کاروں اور فوجیوں کو خرید رکھا ہے، لیکن میں واشگاف کہوں گا کہ وہ جماعت اسلامی کو خریدنے میں ناکام رہا ہے۔
یہ تحریر بنگلہ دیش کے سابق وزیر بیرسٹر شاہ جہاں عمر کی ہے، جو ایک ماہر معاشیات بھی ہیں اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے مرکزی رہنما اور خالدہ ضیا کے مشیر بھی ۔ پاکستان سے علیحدگی کی جدوجہد میں حصہ لینے کے اعتراف میں بنگلہ دیش نے انھیں دوسرے سب سے بڑے قومی اعزاز ’بیراتم‘ سے نوازا ہے۔ انھوں نے یہ احساسات اپنے فیس بک اکائونٹ پر ۱۸جنوری ۲۰۱۴ء کو مشتہرکیے۔ انھی بیرسٹر شاہ جہاں عمر نے عبدالقادر کی شہادت کے دو روز بعد ۱۴دسمبر ۲۰۱۳ء کو لکھا تھا:
وہ لوگ جو عبدالقادر کی شہادت پر مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے، ان کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ نہ تھی، اور یہ لوگ ایک غیرانسانی اور وحشیانہ عمل کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ لیکن ان ایک ہزار پاگلوں کے مقابلے میں ۱۰۰ سے زیادہ مقامات پر لاکھوں لوگوں نے عبدالقادر کی شہادت پر غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کرکے اس ابدی سچائی کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا کہ وہ ایک مظلوم انسان تھا، جسے انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی درحقیقت اُس نام نہاد ’امن کی آشا‘ کے سامنے ایک آہنی چٹان ہے، جسے ڈھانے کے لیے برہمنوں ، سیکولرسٹوں اور علاقائی قوم پرستوں کے اتحادِ شرانگیز نے ہمہ پہلو کام کیا ہے۔ اس ضمن میں ان کا حقیقی سرمایہ جھوٹا پروپیگنڈا اور اسلام کی تضحیک ہے۔ بھارتی کانگریس کے لیڈر اور گذشتہ ۱۰ برسوں سے حکمران وزیراعظم من موہن سنگھ اس مناسبت سے ایک دل چسپ کردار ہیں۔ جنھوں نے: بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو بے دست وپا کرنے، مولانا مودودیؒ کی کتابوں پر پابندی عائد کرنے اور دو قومی نظریے کی حامی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو دیوارسے لگانے کے لیے حسینہ واجد حکومت کی بھرپور سرپرستی کی۔ دوسری جانب خود بھارت میں مسلم نوجوانوں کو جیل خانوں اور عقوبت کدوں میں سالہا سال تک بغیر کسی جواز اور عدالتی کارروائی کے ڈال دینے کا ایک مکروہ دھندا جاری رکھا ہے۔ افسوس کہ پاکستانی اخبارات و ذرائع ابلاغ اس باب میں خاموش ہیں۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے اس بیان کو پڑھیے، جو انھوں نے بنگلہ دیش میں اپنے مجوزہ دورے سے قبل۳۰جون ۲۰۱۱ء کو نئی دہلی میں بنگلہ دیش اور بھارت کے ایڈیٹروں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا تھا:
بنگلہ دیش سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، لیکن ہمیں اس چیز کا لحاظ رکھنا پڑے گا کہ بنگلہ دیش کی کم از کم ۲۵ فی صد آبادی اقراری طور پر جماعت اسلامی سے وابستہ ہے اور وہ بہت زیادہ بھارت مخالف ہے۔ اس لیے بنگلہ دیش کا سیاسی منظرنامہ کسی بھی لمحے تبدیل ہوسکتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ عناصر جو جماعت اسلامی پر گرفت رکھتے ہیں، بنگلہ دیش میں کب کیا حالات پیدا کردیں۔
وزیراعظم من موہن سنگھ کی اس ’فکرمندی‘ اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو کچلنے کی خواہش کو معلوم نہیں پاکستانی وزارتِ خارجہ کس نظر سے دیکھتی ہے، تاہم عوامی لیگ، حسینہ واجد اور ان کے ساتھیوں کی حیثیت محض ایک بھارتی گماشتہ ٹولے کی سی ہے۔ جسے بنگلہ دیش کے مفادات سے زیادہ بھارتی حکومت کی فکرمندی کا احساس دامن گیر ہے۔ گذشتہ تین برسوں پر پھیلے ہوئے عوامی لیگی انتقام کو پاکستانی سیکولر طبقے ۱۹۷۱ء کے واقعات سے منسوب کرتے ہیں، حالانکہ بدنیتی پر مبنی اس یلغار کا تعلق حالیہ بھارتی پالیسی سے ہے۔ وہ پالیسی کہ جس کے تحت بھارت اپنے ہمسایہ ممالک میں نوآبادیاتی فکر اور معاشی و سیاسی بالادستی کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت یہ کام کھل کر ، کررہی ہے اور پاکستان میں یہ ظلم ’مادرپدر آزاد میڈیا‘ اور وفاقی حکومت میں گھسے کچھ عناصر انجام دے رہے ہیں جس کے تحت انجام گلستان صاف دیکھا جاسکتا ہے۔
لیکن یہاں اسی سلسلے میں اور بہت کچھ ہو رہا ہے۔ حکومت کی عین سرپرستی میں دیہات میں تہذیب اور کلچر کے فروغ کے لیے اورسوشل اصلاح و ترقی کے لیے نوجوان عورتوں اور مردوں کے مخلوط تربیتی مراکز کھول کر چپ چاپ ہمارے معاشرے کی بنیادوں کے نیچے ڈائنامیٹ رکھے جارہے ہیں۔ ان سنٹروں کے تربیتی کام کے اہم پہلو یہ ہیں: lعورتوں اور مردوں میں بے تکلفانہ میل جول بڑھانا lپردے اور اسلامی معاشرت کی دوسری قدروں کا خاتمہ lمذہب کی تضحیک کرنا اور اس سے تنفر اور گریز پیدا کرنا lمغربی آرٹ اور کلچر کا ذوق اُبھارنا.....
ہمیں بتایا جائے کہ یہ سب کس اسلام کے کرشمے ہیں؟ کیا ان رنگ رلیوں کو اپنی سرپرستی سے نوازنے کی پالیسی قرار دادِ مقاصد کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ کیا یہ مساعی ایسی فضا تعمیرکرنے کے لیے ہیں جس میں مسلمان اپنی زندگیوں کو کتاب و سنت کے اُصولوں پر استوار کرسکیں؟
کیا یہ عوام کے معیارِ اخلاق کو بلند کرنے کا اہتمام ہے؟ کیا یہ زنا کو اُس کی ہرشکل میں ختم کردینے کی مہم ہے؟ کیا یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی اسکیم کا کوئی حصہ ہے؟
اِن چیزوں پر روپیہ صرف ہوتا ہے، وقت صرف ہوتا ہے، دماغی اور جسمانی قوتیں صرف ہوتی ہیں، لہٰذا قوم کو بتایئے تو سہی اس کے طے کردہ مقاصد میں سے یہ کس مقصد کی خدمت ہے؟
اس قوم کو دفاع کی قوت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، یہ تعلیمی اداروں کو توسیع دینے کی محتاج ہے، یہ صحت ِ عامہ کی سرگرمیوں کے معاملے میں سخت کوتاہ ہے، یہ اخلاقی بحالی کے لیے اکابر کی خدمات کی منّت کش ہے، یہ بے روزگاری کے چنگل سے نکلنے کے لیے سخت جدوجہد کی منتظر ہے___ ذرا بتایئے تو سہی کہ ان حقیقی قومی ضروریات کے لیے آپ نے کیا کچھ کیا؟ کیا آپ اِن ابتدائی فرائض سے فارغ ہوچکے ہیں کہ اب ’طائوس و رباب‘ کی سرمستیوں میں کھوجانے کا موقع نکل آیا ہے؟(’اشارات‘ ، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن،جلد۴۱، عدد۴-۵، ربیع الثانی ، جمادی الاول ۱۳۷۳ھ، جنوری، فروری ۱۹۵۴ء، ص۷، ۱۴-۱۵)
اُردو زبان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ سیرت النبیؐ پر سب سے زیادہ کتابیں اسی زبان میں لکھی جارہی ہیں۔ پروفیسر شاکر مرحوم کے قائم کردہ کتب خانے ’بیت الحکمت‘ میں دنیا کی ۲۵زبانوں میں ۵ ہزار سے زائد کتب ِسیرت موجود ہیں۔(ص ۸)
زیرنظر کتاب مصنف کی ریڈیائی تقریروں، رسائل میں شائع شدہ مضامین، مقالات اور چند خطبات پر مشتمل ہے۔ مندرجات ۴۰ عنوانات پر محیط ہیں، ان کے تحت سیرت النبیؐ کے مختلف پہلوئوں پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔چندعنوانات: سیرت النبیؐ کے اختیارات، نبی رحمتؐ صاحب ِ خلق عظیم، حضور اکرمؐ بحیثیت رہبر امورخارجہ، حضوؐر بحیثیت قانون ساز، حضوؐر بحیثیت پیغمبر انقلاب، خطبہ حجۃ الوداع، حضوؐر کی معلّمانہ حکمت عملی، ربیع الاول اور اس کے تقاضے، توہین رسالتؐ اور مغرب، سیدابوالاعلیٰ مودودی بحیثیت سیرت نگار۔
مصنف نے کوشش کی ہے کہ سیرت النبیؐ کے ان پہلوئوں کو اُجاگر کریں جن کے بارے میں مستشرقین نے حقائق کو مشکوک بنانے کی کوشش کی ہے۔ عہد نبویؐ کے ان مقامات کی اہمیت واضح کی ہے جو آج اپنی اصل حالت میں ہیں اور ان کا تذکرہ کتب سیرت کی زینت ہے۔ جدید عسکری علوم کی روشنی میں حضوراکرمؐ کی دفاعی حکمت عملی کی افہام و تفہیم کی کوشش کی ہے۔ رسولِؐ رحمت کے اسوئہ تعلیمی کے نقوش بحسن و خوبی واضح کیے ہیں۔ مصنف مدت العمر ایک معلم کی حیثیت سے ان تجربات و مشاہدات سے گزرے جو حضوؐر اکرم کی معلّمانہ حیثیت کی تفہیم میں معاون ثابت ہوئے۔
سیرت النبیؐ کا موضوع ایک بحرناپیدا کنار ہے۔ اس کی شناوری پروفیسر عبدالجبار شاکر جیسے مشاق اور صاحب ِعزم انسان ہی کرسکتے تھے۔ سیرت النبیؐ پر ان کی تحاریر و تقاریر کی یہ پہلی جلد ہے۔ مزید کام بھی پیش نظر ہے۔ پروفیسر صاحب موصوف کا اسلوبِ بیان علمی، تحقیقی اور معلوماتی ہے۔ ان کی تحریریں بھی ان کے خطاب کی مانند دل چسپ اور فکرانگیز ہیں۔(ظفرحجازی)
شاہ مصباح الدین شکیل سیرت النبیؐ کے موضوع پر ۱۱سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ سیرت النبیؐ البم مصنف کی منفرد کاوش ہے۔ اس میں سیرتِ رسولؐ کو ایک مختلف زاویے سے پیش کیا گیا ہے، اور تفہیم سیرت کے نئے دریچے کھول دیے گئے ہیں۔
سیرت النبیؐ البم کو ایک البم کی طرح ("۱۲x "۹ سائز) میں آرٹ پیپر پر تزئین و آرایش کے ساتھ خوب صورتی سے شائع کیا گیا ہے۔ البم کا آغاز تعمیرکعبہ کی تاریخ سے ہوتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ کی بنیاد حضرت آدم ؑ نے رکھی، اس میں نماز پڑھی اور اوّلین طواف کیا۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کے ۱۰مراحل، دیگر تاریخی پہلوئوں اور مسجدحرم کی توسیعِ جدید کا تذکرہ بھی ہے۔ بعدازاں انبیاے کرام ؑ (حضرت ابراہیم ؑ سے حضرت عیسٰی ؑ)کی دعوت، جدوجہد اور سیرت عہد بہ عہد ایک سرگذشت کے انداز میں دل چسپ پیرایے میں بیان کی گئی ہے۔ اس کے بعد نبی آخرالزماں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور انقلابی جدوجہد کو مرحلہ وار بیان کیا گیا ہے جو اختتامی مرحلے ، یعنی ’رفیق اعلیٰ کی جانب سفر‘ پر منتج ہوتی ہے۔
گویا سیرتِ النبیؐ کے ساتھ ساتھ تاریخِ اسلام اور احیاے اسلام کی جدوجہد مرحلہ وار دل چسپ اور واقعاتی انداز میں ایک تسلسل سے سامنے آجاتی ہے۔ قاری اپنے آپ کو اس جدوجہد میں شریک پاتا ہے اور آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ واقعات کے ساتھ ساتھ خوب صورت رنگین تصاویر قاری کا ذوق و انہماک اور بڑھاتی چلی جاتی ہیں۔ البم کا بڑا حصہ نبی اکرمؐ کی سیرت پر مبنی ہے، جسے دیکھ کر، پڑھ کر جہاں حضوؐر سے محبت و عقیدت میں اضافہ ہوتا ہے وہاں مختلف آثار و مقامات کی تصاویر دیکھ کر قاری کے دل میں ان مقامات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی تمنا بھی تڑپنے لگتی ہے۔ اس تڑپ کو مزید مہمیز حسب موقع اشعار بالخصوص اقبال کے اشعار سے ملتی ہے جن کا عمدگی سے انتخاب کیا گیا ہے۔
یہ اس کتاب کا تیسرا اڈیشن ہے جسے نئے اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید کی حقانیت کا تازہ ثبوت (اَبرہہ کے لشکر پر ابابیل کے برسائے ہوئے کنکر کی دریافت)، پہلی صدی ہجری کے قدیمی قرآنی نسخے، اور آبِ زم زم پر سائنسی تحقیق کا تذکرہ بھی شاملِ اشاعت ہے۔ یہ خوب صورت کاوش اور پیش کش پی ایس او کے تعاون سے منظرعام پر آئی ہے۔ دوسرے سرکاری اور کاروباری اداروں کے لیے یہ ایک عمدہ مثال ہے۔(امجد عباسی)
اس سے پہلے فاضل مرتب آخری پارے اور سورئہ بقرہ کا مطالعہ اسی انداز سے پیش کرچکے ہیں۔ ان کے پاس تفسیر کی ۲۹ کتابیں موجود ہیں، بعض آٹھ دس جلدوں میں ہیں۔ ان سب سے استفادہ کرتے ہوئے انھوں نے جو بہتر سمجھا ہے حوالے کے ساتھ اس میں شامل کرلیا ہے۔ متن لکھنے کے بعد ترجمہ اور پھر عربی الفاظ کے معانی لکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے لُغات کی چھے کتب سے فائدہ اُٹھایا۔ اسی مفہوم کی دوسری آیت یا حدیث کو تفہیم بالقرآن اور تفہیم بالحدیث کے عنوان سے نقل کیا ہے۔ آخر میں آیت مبارکہ کی حکمت اور بصیرت کے عنوان سے اہم نکات درج کیے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ قاری عربی زبان کو سمجھ کر قرآن پڑھے۔ انھوں نے عربی کے ۱۵؍اسباق بھی دیے ہیں جن کی مشق کرنے سے ضروری فہم حاصل ہوجاتا ہے۔ قرآن کے طالب علم اور درس دینے والے اس تفسیر سے رہنمائی لے سکتے ہیں۔ اس ضخیم کتاب کی مرتب کوئی قیمت نہیں لیتے۔ چنانچہ جو گھر آکر لے وہ لے جاسکتا ہے۔ دوسرے شہروں کے شائقین ۵۰روپے کے ڈاک ٹکٹ ارسال کردیں تو انھیں کتاب بک پوسٹ کردی جائے گی۔(مسلم سجاد)
حُسن و جمال کے لیے پسندیدگی اور اس جانب رغبت انسانی فطرت کا خاصا ہے۔ مسلمانوں نے اس کی تسکین کے لیے خطاطی، نقّاشی، پچی کاری، ظروف سازی، معماری اور اسی طرح کے فنون ایجاد کیے یا ان کی آبیاری کی۔ ان میں خطاطی ایسا فن ہے جس کے لیے لمبے چوڑے اہتمام یا لوازمات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قریبی صدیوں میں عالمِ اسلام میں خطِ نسخ اور نستعلیق کی مختلف اقسام کے بیسیوں بلکہ سیکڑوں ماہر خطاط ہوگزرے ہیں۔ برعظیم پاک و ہند میں بھی بہت سے نام وَر خطاطوں نے شہرت حاصل کی جن میں محمد یوسف دہلوی، پرویں رقم، زریں رقم، حافظ محمد یوسف سدیدی، خلیق ٹونکی اور سیّدانور حسین نفیس رقم (المعروف: سید نفیس الحسینی، ولادت: ۱۹۳۳ء- وصال: ۲۰۰۸ء) کے نام نمایاں ہیں۔ زیرنظر کتاب کے مرتب محمد راشد شیخ کے بقول: مؤخرالذکر ’ایک جامع الکمالات‘ بزرگ تھے۔ ’’وہ ایک نام وَر خطاط‘ شیخ طریقت، محقق، مصنف، شاعر اور کئی دیگر حیثیتوں کے مالک تھے‘‘۔ ۱۹برس کی عمر میں وہ نواے وقت میں بطور خطاط ملازم ہوگئے تھے۔ چارسال کے بعد ۱۹۵۶ء میں استعفا دے دیا اور پھر پایانِ عمر آزادانہ خطاطی کی۔ نوادرِ خطاطی کی تخلیق کے ساتھ شاہ صاحب نے خطاط شاگردوں کے ایک وسیع حلقے کی تربیت بھی کی۔
راشد شیخ لکھتے ہیں: ’’یہ چشمۂ فیض ۵۰سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ ایک اندازے کے مطابق اس عہد میں آپ کے علاوہ کسی اور خطاط سے اس کثیرتعداد میں تلامذہ نے اکتسابِ فن نہ کیا۔ اس طرح شاہ صاحب سے زیادہ کسی خطاط نے کتب کے سرورق نہیں لکھے۔ اس کثرت کا اندازہ اس حقیقت سے کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی شاید ہی کوئی لائبریری ہوگی جس میں پاکستان کی مطبوعہ دینی و علمی کتب موجود ہوں، اور ان میں شاہ صاحب کے خوب صورت خط کا کوئی نمونہ نہ ہو‘‘۔ (ص ۱۷)
نفیس شاہ صاحب کی شخصیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے خالو صوفی مقبول احمد کے زیراثر، اوائل ہی سے تصوف کی طرف راغب ہوگئے تھے اورعالمِ شباب میں مولانا شاہ عبدالقادرراے پوری کے حلقۂ ادارت میں داخل ہوئے۔
زیرنظر کتاب ان کی مختصر سوانح کے ساتھ ان کے فن اور ان کی خطاطی کے مختلف النوع نمونوں کا ایک خوب صورت مرقع ہے۔ اسے پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں سوانح اور فنِ خطاطی میں شاہ صاحب کے اجتہادات کی تفصیل ہے۔ دوسرے حصے میں نفیس رقم کی تحریرکردہ قرآنی آیات، ان کے تراجم اور احادیث نبویؐ،نیز اسماے حسنہ اور اسماء النبیؐ بھی شامل ہیں۔ تیسرا باب نفیس صاحب کی خطاطی میں اشعار اور اُردوفارسی منظومات پر مشتمل ہے۔ چوتھے باب میں شاہ صاحب کے تحریر کردہ مختلف کتابوں کے سرورق جمع کیے گئے ہیں۔ پانچویں حصے میں ان کے خط میں متفرق عبارات یک جا کی ہیں۔
محمد راشد شیخ پیشے کے اعتبار سے انجینیرہیں مگر عمرانی علوم و فنون کا نہایت عمدہ اور فراواں ذوق رکھتے ہیں جو کبھی تو کتابوں کی تصنیف و تالیف ، کبھی بلندپایہ کتابوں کی باسلیقہ اور معیاری اشاعت اور کبھی خطاطی کے ایسے مرقعے شائع کرنے میں اظہار پاتا ہے۔ اس سے پہلے وہ عالمِ اسلام کے نام وَر خطاطوں کے حالات، خدمات اور ان کے نوادر پر مشتمل ایک خوب صورت کتاب تذکرۂ خطاطین کے نام سے شائع کرچکے ہیں۔ (طبع اوّل اضافہ شدہ اڈیشن ۲۰۰۹ء)
ارمغانِ نفیس بلاشبہہ ایک نہایت خوب صورت اور نفیس مرقّع ہے جو راشدصاحب کی کم و بیش ۱۵برس کی محنت ِشاقہ کا حاصل ہے۔ اس کی تیاری میں مرحوم نفیس صاحب کی اجازت اور تائید شامل رہی، بعد میں ان کے فرزند حافظ سید انیس الحسن حسینی مرحوم نے بھی نوادر کی فراہمی میں راشدصاحب کی مدد کی۔ مرتب کے بقول: ’’شاہ صاحب کا کتابی ذوق انتہائی اعلیٰ اور نفیس تھا‘‘۔ زیرنظر مرقعے کی تیاری اور اشاعت میں راشدصاحب نے اسی اعلیٰ اور نفیس معیار کو پیش نظر رکھا ہے۔ کاغذ، طباعت، جلدبندی ، لے آئوٹ، غرض یہ کتاب ہمہ پہلو نفاست، سلیقے اور حُسن و جمال کا مرقع ہے۔ اس تبصرہ نگار کی ایک کتاب تصانیفِ اقبال کا سرورق بھی نفیس شاہ صاحب نے تحریر فرمایا تھا۔ وہ نمونہ اس مرقّعے میں نہیں آسکا تو مبصرکو اپنی محرومی کا احساس ہو رہا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
عہدنبویؐ میں صحابہ کرامؓ کی تعلیم وتربیت براہِ راست وحی الٰہی اور اسوئہ نبویؐ کے زیراثر رہی۔ بعد کے اَدوار میں مسلمانوں کے افکار و نظریات میں تغیر پیدا ہوا تو ان اختلافات نے فرقہ واریت کو جنم دیا۔یہ اختلافات دینی فکرونظر میں بھی تھے اور سیاسی اُمور میں بھی رُونما ہوئے۔ اہلِ علم میں اختلاف راے ممنوع نہیں، لیکن اس اختلاف راے کو مخالفانہ روش کی بنیاد نہ بنایا جائے۔ جب سے مسلمانوں نے اللہ کے اس واضح حکم کے خلاف اپنی اغراض کے تحت معاملات طے کرنے شروع کیے ہیں، تب سے مسلمانوں میں فرقہ واریت کا زہر سرایت کرگیا ہے۔ یوں رفتہ رفتہ متعدد فرقے قائم ہوگئے۔ مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ فرقہ واریت کے نتیجے میں، مسلمانوں میں دُوریاں پیدا ہوئیں۔
زیرنظر کتاب میں مصنف نے مسلمانوں میں فرقہ واریت کی تاریخ، مختلف اَدوار میں اس کی نوعیت، اسباب و محرکات اور نقصانات پر بحث کی ہے۔ انھوں نے صحیح تجزیہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے داخلی اور خارجی دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اختلافات نے مسلمانوں کے زوال کی راہ ہموار کی ہے۔ مصنف نے اختلاف راے کی حدود، اختلاف اور فرقہ واریت میں فرق اور اچھے مقاصد کے لیے جماعت سازی کی اجازت پر بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کی ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ اُمت کو قرآن و سنت کی بنیاد پر متحد و متفق رکھنے کی ذمہ داری علماے کرام پر عائد ہوتی ہے(ص۱۵۶)۔کتاب کے آخر میں مسلمانانِ پاک و ہند کے جید علما کی آرا دی گئی ہیں جو فرقہ واریت کو ختم کرنے میں معاون ہوسکتی ہیں۔ ( ظفرحجازی)
عزیمت کے راہی کا یہ چوتھا حصہ ہے جو ۲۳شخصیات کے حالاتِ زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تحریک تجدید و احیاے ملت کی تاریخ کا یہ ایک نمایاں اور روشن باب ہے۔ یہ ان لوگوں کا تذکرہ ہے جن کی پوری زندگیاں فریضۂ اقامت ِ دین کی جدوجہد میں گزریں۔ وہ عمربھر ثابت قدمی کے ساتھ اس راستے پر گامزن رہے۔
حافظ محمد ادریس کی گفتگو ہو یا ان کی تحریر’ از دل ریزد بر دل خیزد‘ کی کیفیت پیدا کرنے اور دلوں کو زندگی بخش پیغام دینے والی ہوتی ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف مقصدیت سے آشنا کرتی ہیں بلکہ جذبہ اور جوشِ عمل پیدا کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ سیرت و سوانح ان کا خاص موضوع ہے۔ اس موضوع پر ان کی نصف درجن کتب آچکی ہیں ۔ زیرنظر کتاب میں تحریکِ اسلامی کے قائدین بالخصوص قاضی حسین احمد، نجم الدین اربکان، پروفیسر غفور احمد، علی طنطاوی، شیخ جعفرحسین، محترمہ مریم جمیلہ، عبدالوحید خان، شیخ عبدالوحید، ڈاکٹر پرویز محمود، حاجی فضل رازق، ڈاکٹر محمد رمضان، مولانا احمدغفور غواص، صاحبزادہ محمد ابراہیم اور شعیب نیازی شہید پر مفصل مضامین ہیں۔ عزیزوں میں میاں سخی محمد اور حافظ غلام محمد کا تذکرہ شامل ہے۔
تحریکِ اسلامی کے یہ وہ کردار اور روشن مثالیں ہیں جن کے تذکرے سے نیکی و بھلائی کا جذبہ فروغ پاتا ہے، اور قربِ الٰہی کی کیفیت حاصل ہوتی ہے۔ ان مثالی شخصیات کی حیات و خدمات نئی نسل کو تحریک کے ساتھ جوڑنے، روایات سکھانے اور تربیت کا عمدہ ذریعہ ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کی زندگی اسلام کے سانچے میں ڈھل کر قربانی و ایثار کا مرقع اور استقامت کا پیکر ہے۔ وابستگانِ تحریک کے لیے یہ زندگیاں منارۂ نور ہیں۔ تحریک کے کام کو اُسی جذبے، اخلاص، للہیت اور قربانی کے ساتھ آگے بڑھایا جاسکتا ہے، جس جذبے سے ان بنیاد کے پتھروں اور قرنِ اوّل کے لوگوں نے کیا۔ تحریک کے موجودہ وابستگان بھی ان حالات و واقعات سے کسی طرح بے نیاز نہیں ہوسکتے کہ یہی جذبے، ولولے اور اخلاص ہمارا اثاثہ ہیں۔ کتاب کا مطالعہ ایمان و یقین کو جلا دینے اور تحریک کے ساتھ وابستگی کو مضبوطی عطا کرنے والا ہے۔ (عمران ظہور غازی)
اس اشاعت ِ خاص میں پانچ ابواب کے اندر ایک جذباتی مگر ایمانیاتی مسئلے کو نہایت سلیقے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ عظمت ِ مصطفیؐ،عہدِوفاداری، تسلیم اور اسلام، آیت ِ صلوٰۃ و سلام کا زمانۂ نزول، زبان سے صلوٰۃ و سلام کی ادایگی، صلوٰۃ و سلام سے متعلق امام راغب اصفہانی، ابن منظور، مرتضیٰ الزبیدی اور ابن قیم و محب الدین جیسے اہلِ لغت کی لغوی بحثوں کو درج کیا گیا ہے۔ اُردو تفاسیر میں سے مولانا شبیراحمد عثمانی ، مفتی محمد شفیع، مولانا احمد رضا خان بریلوی، پیرمحمد کرم شاہ ازہری، مولانا امین احسن اصلاحی، سیدابوالاعلیٰ مودودی، حافظ صلاح الدین یوسف، سید صفدر حسین نجفی اور علامہ حسین بخش کی تفاسیر سے اقتباس دیے گئے ہیں۔ کتاب جلاء الافہام فی فضل الصلوٰۃ والسلام علٰی محمد خیرالانامؐ میں سے درود شریف پڑھنے کے ۴۰ محل و مقامات کا اندراج ہے۔ ’رسولِؐ رحمت کی رحمۃ للعالمینی کی پھوار اُمت پر‘ کا عنوان دے کر غزوئہ احزاب کے تناظر میں فضیلت صلوٰۃ و سلام کو سورئہ احزاب کی آیت ۵۶ کے پس منظر میں بیان کیا گیا ہے۔ آیات ۴۳اور۴۴ کی وضاحت بھی کردی گئی ہے۔ نور وظلمت کو بعثت و نبوتِ انبیا سے مربوط کر کے انسانی و حیوانی فرق و امتیاز کا تذکرہ، کتب ِ سماوی کے مشترکہ خاصے کے طور پر نور کا بیان، اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت کا مظہر، طہارت و تطہیر، نور اور پاکیزگی، نورِ ہدایت اور نورِقرآن، دعاے نور اور سیدنامحمدؐ اور سلام و تسلیم کا مطالبہ اور منافقین کے کردار کو باہم مربوط کرکے بیان کیا گیا ہے۔ نفاق کے مرض کو عہدحاضر کی صورت حال سے مربوط کر کے دعوتِ فکروعمل دی گئی ہے اور درود وسلام پر بات کو اختتام تک پہنچایا گیا ہے۔ مصنف نے جس تسلسل، ترتیب اور ربط کے ساتھ کڑی سے کڑی جوڑ کر ایمانِ مسلم کو احسانِ مصطفیؐ سے جوڑا ہے وہ لائق مطالعہ ہے۔ مروجہ روایات و رسومات سے ہٹ کر جذبۂ ایمانی کو عمل کے قالب میں ڈھالنے کی سعی دکھائی دیتی ہے۔(ارشاد الرحمٰن)
’عبدالقادر مُلّا کی شہادت: انصاف اور انسانیت کا قتل‘ (جنوری ۲۰۱۴ء)،بلاشبہہ ایک بے گناہ اور بے ضرر انسان کا قتل سیاسی انتقام ہے۔ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے اسلام دشمنی میں ایک ایسا گھنائونا اقدام کیا ہے جس کی تاریخ مثال پیش نہیں کرسکتی۔ عبدالقادر مُلّا ایک بے ضرر انسان تھے اور ان کا ماضی بے داغ تھا۔ پھانسی کی سزا کے اعلان پر ترکی کے وزیراعظم نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم کو ٹیلی فون کیا کہ ’’عبدالقادر مُلّا کو پھانسی تاریخی غلطی ہوگی اور یہ جمہوریت کی بھی موت ہوگی!‘‘ لیکن بنگلہ دیشی وزیراعظم اپنے موقف پر قائم رہیں اور اعلان کیا کہ ’’کوئی بڑی سے بڑی ٹیلی فون کال بھی ان افراد کو پھانسی دینے سے نہیں روک سکتی‘‘۔ وزیراعظم بنگلہ دیش کا یہ اقدام سراسر زیادتی و ظلم ہے۔ عبدالقادر مُلّا اسلام کی بالادستی کا علَم بردار تھا اسی جرم میں پھانسی پر چڑھایا گیا۔ ان شاء اللہ عبدالقادر مُلّا کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی اور بنگلہ دیش سپریم کورٹ کی پیشانی پر جو کلنک کاٹیکہ لگا ہے وہ رہتی دنیا تک ان کے لیے باعث عار وشرم رہے گا۔نیویارک ٹائمز نے صحیح لکھا ہے کہ ’’بنگلہ دیش میں انصاف کا تماشا بن چکا ہے‘‘۔
’عبدالقادرمُلّا کی شہادت: انصاف اور انسانیت کا قتل‘(جنوری ۲۰۱۴ء) میں پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے جس طرح سے حقائق پیش کیے، ان سے مسئلے کی نوعیت پوری طرح اُجاگر ہوئی ۔ یقینا عبدالقادر مُلّا کی شہادت انصاف اور انسانیت کا قتل ہے۔ انھیں بے بنیاد الزامات کے تحت پھانسی دی گئی اور جس جانب داری اور صریح ناانصافی کے ساتھ مقدمے کی کارروائی کی گئی اس پر عالمی ردعمل بھی سامنے آیا۔ تاہم پاکستان جو ۱۹۷۴ء کے سہ فریقی معاہدے میں ایک فریق تھا اس نے سیاسی، سفارتی اور عالمی سطح پر جو کردار ادا کیا وہ یقینا شرم ناک ہے۔
عبدالقادر مُلّا کی شہادت ایک سانحے سے کم نہیں۔ اس پر پاکستان کی حکومت کا رویہ قابلِ مذمت ہی نہیں شرم ناک بھی ہے۔ خدا شہید کی قربانی کو قبول فرمائے اور اس کے ثمرات سے اُمت مسلمہ کو نوازے اور مظلوم خانہ نشینوں کی بحالی کی بھی کوئی صورت نکالے جو ایک مدت سے اس کی راہ تک رہے ہیں۔
مصر میں دستور پر ریفرنڈم (جنوری ۲۰۱۴ء) کے بارے میں جناب عبدالغفار عزیز نے اہم تجزیہ پیش کیا ہے۔ اخوان کی لازوال اور بے مثال قربانیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ لیکن فوجی آمریت بے انتہا ظالمانہ اور مکارانہ اقدامات کے ذریعے اپنی آمرانہ حاکمیت کو دوام بخشنے کے لیے کوشاں ہے۔ غیرقانونی اور غیرآئینی ہتھکنڈوں کے ذریعے جنرل سیسی اپنے مفادات کے حصول کے لیے ریفرنڈم کا سہارا لے رہا ہے اور ہمیشہ ڈکٹیٹروں کی طرح تاحیات حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ یہاں مغربی جمہوریت کی دل دادہ بین الاقوامی طاقتیں بھی نہ صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں بلکہ جنرل سیسی کا کندھا تھپتھپا رہی ہیں۔ ان ظالموں کو نہ جمہوریت سے مطلب ہے نہ آمریت سے غرض، بلکہ اسلام دشمنی میں اندھے ہوکر اپنے ہی اصولوں اور ضابطوں کو قتل کر رہے ہیں۔ اِن حالات میں اخوان المسلمون اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
’نماز اور صحت‘ (دسمبر ۲۰۱۳ء) پڑھا، آگاہی کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ مقالہ نگار نے کوئی پہلو اُدھورا نہیں چھوڑا۔ ہرشخص کو یہ مضمون پڑھنا چاہیے اور ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ میرے ایک دوست ڈاکٹر پروفیسر نورالدین نور مرحوم نے ایک بار اپنے تبلیغی لیکچر میں کہا تھا کہ وہ امریکا گئے وہاں انھوں نے امریکی ڈاکٹروں کے سامنے خود یا کسی نے نماز پڑھنے کی پوری ترکیب کا عملاً مظاہرہ (demostration) کیا، تو انھوں نے کہا کہ یہ تو پوری exercise ہے۔ لیکن اس مضمون میں مقالہ نگار نے تو ایک ایک اعضا پر مفصل بیان دیا ہے اور وہ مفید بھی ہے اور عقل افزا بھی۔
جنوری ۲۰۱۴ء کا شمارہ اپنی روایتی آب و تاب و پُرمغز مضامین سے بھرپور تھا۔ عبدالقادر مُلّا کی شہادت، یقینا اس خطے میں تحریکِ اسلامی کے مزید عروج کا سبب بنے گی۔ افغانستان سے امریکی افواج کے ممکنہ انخلا کے بعد کے پی کے اور قبائلی پٹی میں پختون عوام اور افغان عوام کا دل جیتنے کے لیے ایک ہمہ گیر، مؤثر اور مخلصانہ خارجہ اور داخلہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ سیرت النبیؐ پر ’منتخب مضامین‘ شائع کرنے کے بجاے تحریکی رہنمائوں کے عصرِحاضر کے تناظر میں پیغامِ مصطفیؐ کے موضوع پر مضامین ہوتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کا مضمون چشم کشا ہے، واقعتا مغربی حکمت عملی کو پوری قوت سے نافذ کیا جارہا ہے۔ کراچی کے حالات پر زاہد عسکری صاحب نے خوب تجزیہ کیا ۔ مصر اور افغانستان کی صورت حال پر مضامین معلومات افزا اور خوب تھے۔ شام کے حوالے سے مضمون پڑھ کر تشنگی برقرار رہی۔ شامی حزبِ اختلاف کے مختلف گروپوں (عسکری، سیاسی) ، اُن کی باہمی چپقلش، اخوان کے کردار اور القاعدہ کے عمل دخل کے حوالے سے کوئی تفصیلی مضمون درکار ہے۔