مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۱۷

سیّد محمدحسنین(۲۳مارچ۱۹۱۷ء-۱۴جنوری۲۰۰۵ء)اکتوبر۱۹۴۱ء سے جماعت اسلامی ہند سے وابستہ ہوئے اور تادمِ مرگ یہ وابستگی قائم رہی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ پختہ تر ہوتی گئی۔ اس دوران انھوں نے مختلف جماعتی ذمہ داریاں اداکیں۔مشرقی ہند کے قیم،شمالی بہارکے امیرحلقہ اور کُل ہندجماعت مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔مزیدبرآںدرس گاہِ اسلامی دربھنگاکے ناظم بھی رہے۔جماعت اسلامی سے وابستگی کے سبب کئی بارپابندسلاسل بھی ہوئے۔بقول اے یو آصف: ’’ان کی پوری زندگی جماعت کے کازکے لیے وقف تھی‘‘۔ (دعوت دہلی، ۷مارچ۲۰۰۵ء)

ان کا آبائی تعلق صوبہ بہار(کورونی،بھپوڑا،دربھنگا)سے تھا۔ابتدائی تعلیم سوری ہائی اسکول مدھوبنی سے حاصل کی۔ حصولِ علم کا شوق انھیں کشاںکشاں دہلی لے آیا۔وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گھروالوں کو بتائے بغیر پڑھنے کے لیے آئے تھے۔شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین کی توجہ سے محمدحسنین کو اگست۱۹۳۴ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ثانوی سوم میں داخلہ مل گیا۔مئی۱۹۴۰ء میں جامعہ سے بی اے کیا۔ زمانۂ طالب علمی میںوہ ہمیشہ ہرکلاس میںاوّل رہے۔مزیدبرآںجامعہ کالج کے طلبہ کی تنظیم انجمن اتحادکے ناظم اورانجمن اتحاد کے ترجمان قلمی رسالے کے اڈیٹربھی رہے۔ علامہ اقبال پررسالے کاخاص نمبرجوہراقبال کے نام سے شائع ہوا۔ جامعہ میںاُن کاقیام بورڈنگ ہاؤس (اقبال ہال)میں تھا۔ وہ اس ہاؤس کے سینئرمانیٹرتھے۔روایت ہے کہ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒکسی موقعے پرجامعہ ملیہ گئے توسیّد محمد حسنین کے کمرے میں بھی تشریف لے گئے۔

 ڈاکٹر ذاکرحسین سے طالب علمی کے زمانے میں حسنین صاحب کا جو تعلق قائم ہوا، اسے اوّل الذکر نے ٹوٹنے نہیں دیا، عمر بھر قائم رکھااورآفرین ہے مؤخرالذکر پرکہ انھوں نے (باوجود گورنر صوبہ بہار اور    صدر جمہوریہ ہند ہو جانے کے) حسنین صاحب کویاد رکھا، بھلایانہیں۔ ذاکرصاحب فوت ہوئے تو حسنین صاحب نے حسب ذیل مضمون میں ذاکرصاحب سے اپنے تعلق کی ابتدا اور ان تعلقات میںنشیب وفراز کی تفصیل قلم بند کی۔یہ مضمون پٹنہ کے خدا بخش لائبریری جرنل میں شائع ہوا تھا۔

اس مضمون سے جہاں خود حسنین صاحب کے مزاج اوران کی شخصیت کااندازہ ہوتا ہے،خصوصاً ان کی دعوتی سرگرمیوںاوردعوتِ دین کے طریق کار کا پتا چلتاہے،وہیں ڈاکٹرذاکرحسین کی دل نواز مگر مصلحت پسند شخصیت کی جھلکیاں بھی سامنے آتی ہیں۔ وہ جماعت اسلامی کی دعوت کو سمجھتے تھے اور کانگریسی ہونے کے باوجود جماعت کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے جیسا کہ زیرِ نظر مضمون سے اندازہ ہوتا ہے۔(مرتب)

 

وہ ایک مرد قلندرتھے ___ مروّت حسن عالم گیرتھا،استادذاکرکا ___

  • پہلی ملاقات: استاد ذاکرحسین رحمۃ اللہ سے میری تین یادگار ملاقاتوںمیں سے پہلی ملاقات؛ اگست۱۹۳۴ء میں ہوئی۔ جب میں داخلے کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی پہنچا توداخلے کے آخری مرحلے پرمجھ کو استادرحمۃ اللہ کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ وہ میرے داخلے کے فارم پر دستخط کردیں۔ انھوں نے تعارف کے لیے میرے حالات دریافت کیے۔ میں ایک خط لکھ کر لے گیا تھا؛ جس میں مَیں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لینے کی غرض بتائی تھی اور یہ عرض کیاتھا کہ میں اپنی والدکی مرضی کے خلاف اپنے تعلیمی سلسلے کوچھوڑ کرجامعہ ملیہ اسلامیہ اس لیے آیاہوں کہ مجھ کو معلوم ہواہے کہ یہاں اسلامی اور دنیوی دونوں طرح کی تعلیم ساتھ ساتھ دی جاتی ہے۔ مدھونبی بہار کے جس اسکول میں،مَیں تعلیم حاصل کررہاتھا،اس میں اسلامی تعلیم کا کوئی موقع نہیں تھا اور میرے والد صاحب کا حوصلہ یہ تھاکہ وہ مجھ کو وکیل بنائیںاورمجھے وکیل بننے سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ دوسری بات یہ کہ میں چاہتاہوں کہ جب میں اپنے والد کی مرضی کے خلاف اپنے تعلیمی سلسلے کو چھوڑ کرجامعہ میں تعلیم حاصل کرنے آیاہوں ،توان پراپنی تعلیم کے مصارف کا بارنہ ڈالوں اورآپ سے یہ درخواست کرنا چاہتاہوں کہ اگرمیراداخلہ جامعہ میں ہوجائے تو تعلیمی اوقات کے علاوہ کسی وقت جامعہ کی کوئی خدمت مجھ سے لیں اوراس کے عوض اتنا معاوضہ دیں جس میں کسی طرح یہاں کا خرچ نکال سکوں۔ _میرے خط کوپڑھ کروہ خاموش رہے اورفارم پر دستخط کرنے سے پہلے فرمایا: ’’میں آپ سے ایک عہدلیناچاہتاہوں‘‘۔میں نے عرض کیا:وہ کیا؟ فرمایا: ’’عہدکیجیے کہ میں ہمیشہ سچ بولنے کی کوشش کروں گا‘‘۔ میں نے عرض کیا:’’الحمدللہ، میں شعوری طورپر پہلے سے اس پرعامل ہوں‘‘۔ انھوںنے میرے فارم پردستخط کردیے۔

[اے یوآصف راوی ہیں کہ ڈاکٹرذاکرحسین نے ان کے شوقِ تعلیم اورجستجو کو دیکھ کر داخلے کی منظوری تو دے دی لیکن وطن واپس جا کروالد سے اجازت لے کرآنے کاکہا۔ ان کے حکم کے مطابق وہ واپس آگئے اورپھراجازت حاصل کی۔]

ہاں، یہ بتا دوں کہ جب میں ان کے کمرے میں داخل ہواتوایک نہایت حسین ووجیہ پُروقار شخصیت سے سامناہواتھا۔اس وقت ان کی عمر۳۵-۴۰ کے قریب رہی ہوگی۔ سرخ،سفید چہرہ اور اس پر بھر پورسیاہ داڑھی،بقول حفیظ جالندھری: ع جلال بھی ہے جمال بھی ہے،یہ شخصیت کاکمال بھی ہے۔

انھوں نے ہنستے ہوئے گرمجوشی سے میرا استقبال کیااورمصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ وہ ایک نہایت سفیدفرش پربیٹھے تھے۔ فرش کے اوپرناریل کی چٹائی تھی۔ سامنے فرشی میز تھی جس پرہرچیزاپنی جگہ انتہائی سلیقے سے سجی ہوئی رکھی تھی۔ ان کی بائیں طرف دیوار پرشیشے کاایک فریم آویزاں تھا جس پریہ شعرخوش خطی کا بہترین نمونہ پیش کررہاتھا   ؎

آسایش دوگیتی تفسیر ایں دوحرف است

بادوستاں تلطّف ، بادشمناں مدارا

جب انھوں نے میرے فارم پر دستخط کردیے توان سے الوداعی مصافحہ کرکے کمرے سے باہر آیااوربہت خوش اورمسرورتھا۔

چند دنوں کے بعد جامعہ کے احاطے میں ان سے آمناسامناہوا۔انھوں نے مجھے روک کر فرمایا:’’تعلیم ختم ہوجانے کے بعددوگھنٹے صدرمدرس کے دفترمیں آپ کام کیاکریں گے۔ اس کے عوض آپ کو۸روپے ماہانہ ملا کریں گے جس سے آپ اپناجامعہ کا خرچ پورا کرنے کی کوشش کریں‘‘۔اس پرمیں نے ان کا شکریہ اداکیا۔

میں نے اپناداخلہ جامعہ میں غیرمقیم طالب علم(Day Scholar) کی حیثیت سے کرایا، کیوںکہ اس وقت جامعہ میں دارالاقامہ میں قیام وطعام کے مصارف۱۶ روپے ماہانہ تھے۔ اس وقت مَیں جامعہ ملیہ قرول باغ دہلی سے اُتر کی جانب سبزی منڈی کے ریلوے اسٹیشن کے احاطے میں ایک مسجد میں رہتاتھاجس کی دوری جامعہ قرول باغ سے دو (۲) میل سے کم نہ تھی۔ ایک روزپھر جامعہ میں میرا اُن سے آمناسامنا ہوااوریہ پوچھاکہ ’’آپ کہاں رہتے ہیں؟‘‘ میں نے بتایا کہ سبزی منڈی،ریلوے اسٹیشن کی مسجدمیں۔یہ سن کرخاموش ہوگئے۔ چنددنوں کے بعدپھر اسی طرح سرِراہ ملاقات ہوگئی۔ انھوں نے فرمایا:’’قرول باغ میںجامعہ سے متصل ہی ان کے عزیز، احمد خاں رہتے ہیں،جوطبیہ کالج میں پڑھتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھاہے،ان کے کمرے میں گنجایش ہے،آپ ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں‘‘۔ میں نے ان کا شکریہ اداکیااورچنددنوں میںسبزی منڈی سے قرول باغ منتقل ہوگیا۔ احمدخاںصاحب نے اپنے کمرے میںجگہ دی لیکن کرایہ قبول نہ کیا۔

ایک سال تک ان کے ساتھ رہا۔ نہایت مخلص اورشریف آدمی ثابت ہوئے۔۸ روپے جامعہ سے جو بطور معاوضہ کے ملتے تھے ،اس میں سوادوروپے میں نے جامعہ کی فیس تعلیم اداکی اورچارروپے میں جامعہ کے مطبخ سے دونمبرکھاناجاری کرالیاجس میں صرف دال اور چپاتیاں ملاکرتی تھیں۔ باقی پونے دوروپے ناشتہ اوراوپرکے خرچ کے لیے کافی ہوجایاکرتے تھے۔ کچھ دنوں بعد پھر ایک روز جامعہ میں سرِ راہ ملاقات ہوئی تواستاد علیہ الرحمہ نے مجھے روک کر فرمایا: ’’ڈاکٹرسلیم الزماں صاحب کے چھوٹے بچے کو شام کوایک گھنٹہ ان کی کوٹھی پر جاکر پڑھا دیاکریں۔دس روپے ماہانہ معاوضے کے طورپروہ دیاکریں گے‘‘۔ اس طرح جامعہ میں بہ سہولت تعلیم حاصل کرنے کا موقع میرے لیے پیداکرادیااورجب تک جامعہ میںقیام رہا، ان کی نوازشوں اورکرم فرمائیوں کاسلسلہ جاری رہا۔

ان ساری نوازشوں کا تذکرہ اس وقت نامناسب ہے لیکن ایک واقعے کا تذکرہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایک روز جامعہ لائبریری کے برآمدے میں اسٹینڈ پر جہاںروزنامہ اخبارلگے رہتے تھے، لوگ کھڑے ہو کر اخبارپڑھ رہے تھے،میں بھی اخبار دیکھ رہا تھا۔ بائیں طرف کے راستے سے استاد علیہ الرحمہ گزررہے تھے۔میں نے اپنی آنکھیں اٹھائیں توان سے آنکھیں چار ہوئیں اوربغیران کو سلام کیے میں دوبارہ اخبارپڑھنے میں مشغول ہوگیا۔ استادعلیہ الرحمہ چلتے چلتے رُک گئے اور پھرجب میں نے نظراُٹھا کر ان کو دیکھا توانھوں نے جھک کرمجھ کو فرشی سلام کیااورآگے بڑھ گئے۔ میں نے جواب تو دیالیکن سلام نہ کرنے کی کوتاہی پربڑی ندامت محسوس کی___ یہ تھا ان کا ایک اندازِ تربیت!

  •  دوسری ملاقات کا تاثر:۱۹۴۰ء میں جامعہ ملیہ سے فارغ ہوکر میںدربھنگا آگیا۔ [اے یوآصف لکھتے ہیں:’’۱۹۴۰ء میں مرحوم سیدصاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیم کی فراغت کے بعد،رخصت ہوتے وقت جب ذاکرحسین سے ملنے گئے تو انھوں نے ان سے برجستہ کہا: تمھارے لیے تو لائبریری میں ذمہ دار کا عہدہ میرے ذہن میں ہے۔ تم کہاںجارہے ہو؟ یہیں رہوتاکہ ہم سب مل کرجامعہ کی خدمت کریں۔ اس پر حسنین سید کہنے لگے: استاد محترم، آپ نے جو تعلیم وتربیت دی ہے،اس کاتقاضا ہے کہ میں پوری زندگی اسلام کے کاز میںلگادوں،لہٰذا معذرت خواہ ہوں اور دربھنگاواپس جا رہاہوں‘‘۔]

۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی کی تشکیل عمل میں آئی اورمیں اس سے وابستہ ہوگیا۔ جماعت اسلامی کا مرکزلاہورسے پٹھان کوٹ منتقل ہوگیا۔ ۱۹۴۴ء میں آل انڈیاجماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ میں رکن بنایاگیا۔ مجلس شوریٰ میں شرکت کے لیے پٹھان کوٹ آتے جاتے میں دہلی میں رک کر  احباب سے ملاقات اوراپنے اساتذۂ کرام کی خدمت میں حاضری دیاکرتاتھا۔ استاد علیہ الرحمہ جب علی گڑھ کے وائس چانسلرہوئے تب بھی دہلی آتے جاتے،ان کی خدمت میں حاضرہوتاتھا۔ جماعت کا لٹریچر ان کی خدمت میںپیش کرتااورجماعت کی سرگرمیوں سے ان کوواقف کراتاتھا۔  وہ ہمیشہ بڑی محبت اور شفقت سے پیش آتے تاآنکہ وہ۱۹۵۷ء میںبہارکے گورنرہوکے پٹنہ تشریف لائے۔ ان کاگورنری کاعہدہ قبول کرنامجھ کو پسند نہ آیا۔ میرے خیال میںیہ منصب ان کے مقام سے بہت فروترتھا۔ نہ میں اُن سے ملنے گیااورنہ ان کی خدمت میںخیرمقدم کاکوئی خط ارسال کیا۔ تقریباًچھے مہینے کے بعد انھوں نے پٹنہ کے کسی صاحب سے میرے متعلق تذکرہ کیاکہ’’یہاں بہار میں میرے ایک شاگردہیںحسنین۔وہ اب تک ملاقات کے لیے نہیں آئے،پتانہیں کیابات ہے۔کبھی کبھی وہ میراایمان تازہ کردیاکرتے تھے‘‘۔ ان صاحب نے پٹنہ میں محبی شبیراحمد (جو ان دنوں پٹنہ میں ایک سوڈافیکٹری کے منیجرتھے)سے میرے بارے میں استادعلیہ الرحمہ کی گفتگو دہرائی۔ ایمان تازہ کرنے کی بات یہ ہے کہ جب میں ان کی خدمت میں حاضری دیاکرتاتھاتوجماعت کی کوئی نہ کوئی کتاب ان کی خدمت میں پیش کیاکرتاتھا۔ محبی بشیر احمدصاحب نے مجھ کو پٹنہ سے ایک کارڈ لکھاکہ تم اب تک اپنے استادسے کیوں نہیں مل سکے اور استاد علیہ الرحمہ کی گفتگونقل کی۔ اُن کا خط ملنے پر میں نے استادؒکی خدمت میں ایک عریضہ ارسال کیا،بعد القاب وآداب میں نے عرض کیاتھا:

’’گورنر کی حیثیت سے آپ کو پٹنہ تشریف لائے ہوئے کافی دن ہو گئے،لیکن افسوس ہے کہ میں نہ تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکا اور نہ خیر مقدم کا کوئی خط ہی ارسال کیا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اس الجھن میں ہوں کہ آپ کے لیے گورنری ،قلندری سے کیسے افضل ہو گئی؟اور آپ نے اسے کیسے پسند فرما لیا؟ اخبارات میں یہ پڑھ کر خوشی ہو ئی کہ آپ اس ریاست کو نمونے کی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جس کے کار پردازوں کا طرزِعمل ظلم و جور کا ہو،اس کو نمونے کی ریاست بنانے میں آپ کو بہت دشواری پیش آئے گی۔جماعتِ اسلامی ہند سے توآپ بہت حد تک واقف ہیں ۔جماعت اسلامی کے سلسلے میں حکومتِ بہار کا جو رویہ ہے ،اس کے متعلق دعوت، اخبار میں میرا ایک بیان شائع ہوا ہے۔اس کا تراشا ارسالِ خدمت ہے‘‘۔(ان دنوں حکومتِ بہار نے جماعت اسلامی پرsubversive activities [تخریبی سرگرمیوں]کا الزام لگایا تھا اور ملازمین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ لوگ جماعت کی سرگرمیوں سے دور رہیں ورنہ Conduct Rule دفعہ ۳۳ کے تحت ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی)۔ دوسری بات میں نے یہ عرض کی تھی کہ ’’اب مجھ جیسا معمولی آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہونابھی چاہے تو کیسے حاضر ہو سکتا ہے؟اور جماعت کا کچھ تازہ لٹریچر بھی خط کے ساتھ رجسٹرڈ ڈاک سے استاد علیہ الر حمہ کی خدمت میں ارسال کر دیا لیکن پندرہ دنوں تک ان کی طرف سے نہ کوئی جوب آیا اور نہ خط کی رسید ہی ملی۔اس پر میں نے ڈاک سے دوسرا عریضہ ان کی خدمت میں ارسال کیااور اس میں عرض کیا کہ دو ہفتوں سے زائد ہوگئے آپ کی خدمت میں ایک عریضہ اور اور چند کتابیں ارسال کی تھیں۔ تعجب ہے کہ اس کے جواب میں نہ تو آپ کا کوئی گرامی نا مہ ملا اور نہ خط کی رسید ہی ملی۔اندیشہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں  آپ تک نہیں پہنچ سکیں ورنہ آپ سے ایسی توقع نہیں ہے کہ آپ میرے عریضے کا جواب نہ دیں گے۔میرے اس عریضے کے جواب میں رانچی سے ان کا گرامی نامہ ملا۔اس خط کا مضمون یہ ہے:

راج بھون -رانچی کیمپ ، ۱۰ستمبر ۱۹۵۷ء

عزیزم حسنین صاحب،السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

آپ کے دونوں محبت نامے ملے۔آپ کا بھیجا ہوا لٹریچر بھی ملا ۔معافی چاہتا ہوں کہ پہلے خط کے جواب میں اتنی دیر ہوئی کہ آپ کو یاد دہانی کرنی پڑی۔شاید آپ کو غلط فہمی ہو، اس لیے وجہ لکھے دیتا ہوں ۔میں ذاتی خطوط کے جواب لکھنے میں بہت کاہل ہوں۔ پھر اگر کوئی دوست یا عزیز اپنے خط میں کوئی ایسا سوال کر دیتا ہے،جو میری شخصی داخلی زندگی سے متعلق ہو تو مجھے اس کا جواب لکھنا اور دشوار ہو جاتا ہے۔آپ نے اپنے پہلے خط میں الجھن یہ بتائی کہ قلندری سے گورنری کیسے اور کب سے افضل ہو گئی اور میں نے گورنری کو قلندری پر کیسے ترجیح دی؟

پہلے تو عزیز ِمن !میں قلندر کب تھا ؟لیکن سوال کو اپنی ذات سے الگ کر کے ایک اصولی سوال سمجھوں تو اس کا بہت اچھا جواب حضرت مخدوم سیدّعلی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ المعروف داتا گنج بخش ؒنے اپنی کتاب کشف المحجوبمیں ایک جگہ دیا ہے___ اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھتا :

                [وہ فرماتے ہیں ]:استاد ابوالقاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ سے ہم نے سنا،فرمایا:فقیری اور مال داری کے سلسلے میں لوگوں نے بات کہی ہے اور ا س کو اختیار کیاہے، میں اس کو اختیار کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ میرے لیے پسند فرمائے اور مجھ کو اپنی نگاہ میں رکھے۔ اگر مال داری کی حالت میں رہوں تو اللہ سے غافل نہ ہونے پاؤں اور اگر غربت کی حالت میں رہوں تو حریص اور لالچی نہ بنوں۔ لہٰذا مال داری نعمت ہے اوراس حال میں اللہ سے غفلت آفت ہے۔ غریبی اور فقیری بھی نعمت ہے اوراس حال میں حرص آفت ہے۔

دوسری الجھن کا جواب سہل ہے۔ میں ابھی کوئی تین چارہفتہ یہاں ہوں۔ وسط اکتوبرسے ان شاء اللہ پٹنہ میںرہوں گا۔ آپ ایک کارڈ میرے سیکرٹری کو لکھ دیں ،وہ مجھ سے پوچھ کرآپ کے لیے وقت مقرر کردیں گے۔ ضرور تشریف لائیے۔ مفصل گفتگو کو بہت جی چاہتاہے۔خداکرے کہ آپ خیریت سے ہوں اورخوش بھی۔خیرطلب:ذاکرحسین

میں نے استادؒ کی ہدایت کے مطابق ان کے سیکرٹری کوخط لکھااوران سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ انھوں نے وقت مقررکرکے مجھ کو مطلع کیا۔ مقررہ وقت پر میں راج بھون پہنچا۔ ان کے ملٹری سیکرٹری نے میرااستقبال کیااوران کے کمرے تک میری رہ نمائی کی۔ میں کمرے کے اندر داخل ہوگیاتوانھوںنے دروازہ بند کردیا۔ استادؒ کو میں نے سلام کیااورمصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ انھوں نے کھڑے ہوکرمعانقے کے لیے کھینچ لیااور اسی حال میں ہنستے ہوئے فرمایا: ’’آپ لوگ حکومت پر بہت تنقید کرتے ہیں‘‘۔ پھر اپنے قریب کی کرسی پربیٹھنے کی ہدایت کی۔

میں نے جواب میں عرض کیا:’’جب ہم مجبور ہوتے ہیںتبھی حکومت پرتنقید کرتے ہیں‘‘۔

اس کے بعد دوسراسوال انھوں نے یہ کیا:’’کیا ابھی مولاناابواللیث صاحب امیرجماعت اسلامی ہندنے کہیں یہ کہا ہے کہ’’جماعت اسلامی پاکستان نہیں چاہتی تھی؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’کہاہوگا۔ جماعت اسلامی تو پوری دنیا میں اللہ کی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے،لیکن کچھ لوگوں نے ہندستان کے دوٹکڑوں پرہی قناعت کرلی ہے‘‘۔

انھوں نے فرمایاکہ’’حسنین صاحب! آپ لوگ حکومت الٰہیہ قائم کرناچاہتے ہیں لیکن  عام طورسے ہندستان کے مسلمان حکومتِ الٰہیہ نہیں چاہتے ہیں‘‘۔ میں نے ان سے کہا: یہ کم حوصلگی اور پست ہمتی ہے ورنہ مسلمان کی حیثیت سے:’’ہر ملک، ملکِ ماست کہ ملکِ خداماست‘‘۔ ہرملک میں حکومت الٰہیہ یا اللہ کا دین قائم ہوناچاہیے‘‘۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا:’’آپ کی حکومت نے جماعت اسلامی کو subversive [تخریبی]کیسے قراردے دیا، ہم لوگ توپُرامن طریقے پرلوگوں کو اللہ کے راستے پربلاتے ہیں ،کوئی توڑ پھوڑ، قتل وغارت گری کا طریقہ نہیں اپناتے ہیں‘‘۔ انھوں نے فرمایا:’’subversive ہونے کے لیے اتنا کافی ہوسکتاہے کہ حکومت کے دستور کوتسلیم نہ کیا جائے اور غیر پارلیمانی طریقے سے حکومت کوتبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔ دیکھیے! کمیونسٹوں نے ملک کے دستور کو مان کرکیرالا میں الیکشن میں حصہ لیااورالیکشن میں کامیاب ہونے پر وہاں حکومت بنائی۔ آپ لوگ بھی دستورکو مان کرپارلیمانی طریقے سے حکومت کو بدل سکتے ہیں‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ اگرsubversive سے یہ مطلب ہے توہم اقراری مجرم ہیں۔    یہ فرمائیے کہ کیا ہم آپ کی ریاست میں اللہ کا نام لے سکتے ہیں؟ انھوں نے فرمایاکہ اس سے آپ کو کون روک سکتاہے۔ میں نے عرض کیاکہ جب ہم لاالٰہ الا اللہ کی تشریح کریں گے تو پھر subversive آجائے گا۔اس پر آپ نے فرمایاکہ ایک چیز پھل ہے اور ایک چیزدرخت ہے۔ پھل سے اگر لوگوں کواختلاف ہے، قبل از وقت پھل کا تذکرہ مت کیجیے۔ درخت لگانے کی کوشش کیجیے۔ جب لوگ آپ کے میٹھے پھل کو چکھیں گے تومخالفت ترک کردیں گے۔ میں نے بہ ادب عرض کیا:درخت لگانے کا عمل چپکے سے اور اکیلے تو نہیں ہوگا،اس کی خوبیوںکو بتا کرکچھ لوگوں کو تواپنے ساتھ لینا ہی ہوگااوران کے تعاون ہی سے یہ کام انجام پاسکتاہے۔ میں نے جماعت اسلامی کی دعوت اورطریقۂ کار کا مختصراً تعارف کرایا۔ آپ نے توجہ اورصبرسے میری باتوں کو سنا اور فرمایا: ’’ٹھیک ہے جس بات کوآدمی حق سمجھے،اس کے لیے جدوجہدکرے‘‘۔ا س کے بعد میں نے عرض کیاکہ’’آپ کی حکومت میری ہمہ وقت نگرانی کیوں کرتی ہے؟ سی آئی ڈی کے دوآدمی سایے کی طرح میرے ساتھ رہتے ہیں؟‘‘ جواب میں انھوں نے فرمایا:’’یہ آپ کے لیے ہی مخصوص نہیں ہوگا، تمام سیاسی ورکروں کی نگرانی کی جاتی ہے،آپ کی بھی کی جاتی ہوگی۔ اس میں گھبرانے اور پریشان ہونے کی کوئی بات نہیںہے۔ وہ اپنا کام کرتے ہیں،آپ اپنا کام کیجیے۔راہِ حق میں دشواریاں توپیش آتی ہی ہیں‘‘۔

جب میں استادؒ سے ملاقات کے لیے پٹنہ پہنچاتوبرادرم سیدوسیم اللہ صاحب کے یہاں قیام کیا تھا،جو ان دنوںسیکرٹیریٹ میںملازم تھے اور کسی اونچے منصب پر فائز تھے۔ جماعت اسلامی سے ان کا تعلق’ہمدردی‘کاتھالیکن اس تعلق کی بنا پران کے خلاف کارروائی چل رہی تھی۔ استاد محترم سے پہلے جو گورنرصاحب تھے،انھوں نے کوئی آرڈیننس جاری کیاتھاکہ جو سرکاری ملازم کسی سیاسی سرگرمیوں میںملوث پایاجائے گا،اس کا compulsory retirement [جبری سبک دوشی] ہوسکتی ہے۔ اسی آرڈی ننس کے تحت وسیم اللہ صاحب کے خلاف کارروائی ہورہی تھی۔ حالاںکہ  اس آرڈی ننس کی مدت ختم ہوچکی تھی اورگورنرصاحب بھی تشریف لے جا چکے تھے۔میں نے وسیم اللہ صاحب سے اس آرڈی ننس کا نام اورنمبروغیرہ لے کر اسے استادؒ کی خدمت میں پیش کیا۔ انھوںنے چشمہ بدل کربغوراس کو پڑھا اور پوچھاکہ’’اس طرح کے کتنے آدمیوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے‘‘؟ میں نے عرض کیا: ’’بہار میں تقریباً ۲۰اشخاص کو جوجماعت اسلامی کے رکن تھے اور سرکاری ملازم بھی تھے،پرائمری سکول کے ٹیچرسے لے کرگزیٹیڈآفیسر تک کوجماعت اسلامی کی رکنیت کے جرم میں برطرف کیا جاچکاہے۔ ان لوگوں نے ملازمت سے برطرفی کو گوارا کیا اور جماعت سے تعلق کوبرقرار رکھا۔ لیکن وسیم اللہ صاحب جماعت کے رکن نہیں ہیں۔ ان پر جماعت کی رکنیت کاغلط الزام لگا کران کو پریشان کیاجارہاہے‘‘۔استادؒ نے اس پرزے کورکھ لیا۔

ہماری یہ ملاقات بہت زیادہ طویل ہوگئی تھی اوران کے پاس یاددہانی کی گھنٹی بار بار بجتی رہی۔ جب ہماری گفتگوختم ہوئی تووہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایاکہ مقررہ وقت سے زیادہ ہی وقت صرف ہوچکاہے اورلوگ انتظار میں بیٹھے ہوں گے۔باقی ان شاء اللہ آیندہ۔اس طرح ان سے مصافحہ کرکے رخصت ہوااوروہ دروازے تک پہنچاگئے۔

کچھ دنوں کے بعد جب وسیم اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی توانھوںنے بتایاکہ ان کے خلاف کارروائی ختم ہوچکی ہے اوران کی ترقی کے ساتھ ان کی تنخواہ میں بھی اضافہ کیاگیاہے اورمیرے ساتھ جوسی آئی ڈی کی نگرانی تھی،وہ بھی ختم ہوگئی۔ دربھنگا میں سی آئی ڈی کے ایک افسرنے آکراطلاع دی کہ ہمارے پاس آرڈرآگیاہے کہ اب آپ کی نگرانی نہ کی جائے۔

  • تیسری اور آخری ملاقات:جماعت اسلامی ہندنے مجھ کو۱۹۶۲ء میںجماعت کی دعوت کے تعارف کے سلسلے میںآسام کاامیرحلقہ بناکرگوہاٹی بھیجا۔ ۱۹۶۲ء سے۱۹۷۰ء تک میں گوہاٹی آسام میں رہا۔ ابتدامیں۱۹۶۷ء میں جماعت اسلامی ہندکے اجتماع میں شرکت کے لیے مجھ کو دلی جاناتھا۔ میں نے استاد محترم کی خدمت میں ایک عریضہ ارسال کیاکہ میں دلی حاضر ہورہا ہوں اور ان تاریخوں میںمرکزجماعت اسلامی میں مقیم رہوں گا۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں، اگر موقع ہوتووقت مقررفرماکرمرکزجماعت اسلامی کے پتےپرمجھے مطلع فرمائیں۔ ا س کے جواب میں استادؒ کاجلد ہی ایک گرامی نامہ ملاجس میں درج تھاکہ’’جن تاریخوں میں آپ دلی رہیں گے، ان تاریخوں میںافسوس ہے کہ میں دلی میں نہ رہ سکوں گا۔پہلے سے جنوب کا پروگرام بن چکاہے۔ ان شاء اللہ جلدملاقات ہوگی۔

اس کے کچھ ہی دنوںکے بعدگوہاٹی میں استاد کے پرائیویٹ سیکرٹری اورملٹری سیکرٹری کے خطوط ملے۔ جس میں درج تھاکہ استادؒ۲۵؍اپریل کو گوہاٹی پہنچ رہے ہیں۔ اس شام کوساڑھے پانچ بجے سرکٹ ہاؤس میں مجھ سے مل کروہ خوش ہوں گے۔ اس کے بعد دوسرے دن سی آئی ڈی کے ایک افسر میرے پاس آئے اور بتایاکہ پریسیڈنٹ ۲۵؍اپریل کوگوہاٹی پہنچ رہے ہیں۔ ان کے پروگرام میں آپ سے ملاقات بھی شامل ہے۔ مہربانی کرکے سی آئی ڈی آفس آیئے،آپ کو ایک پاس دیاجائے گا۔اس کولے کر ہی آپ ان سے مل سکتے ہیں۔چنانچہ میںسی آئی ڈی دفترپہنچ گیا۔سی آئی ڈی افسرنے مجھ سے پوچھاکہ صدرجمہوریہ ہند کس سلسلے میں آپ سے ملنا چاہتے ہیں اوران کاآپ سے کیاتعلق ہے؟ میں نے ان کو بتایاکہ وہ میرے استاد رہ چکے ہیں۔میں نے جامعہ ملیہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔۱۹۳۴ء سے ۱۹۴۰ء تک میں وہاں رہا۔ وہ ہمارے استاد بھی رہے اوروائس چانسلر بھی رہے۔ اسی تعلق سے اُن سے ملناہے۔چنانچہ مجھ کو ایک پاس دیاگیا،اس کولے کرمیں ان سے ملا۔ میری ملاقات سے پہلے گوہاٹی کے ایک بڑے میدان میںان کی تقریرتھی۔ پہلے میں جلسے میں شریک ہوا اوراُن کی تقریر سنی۔اس کے بعد مقررہ وقت سے چندمنٹ پہلے سرکٹ ہاؤس پہنچ گیا۔

مجھے ویٹنگ روم میں بٹھایاگیا۔ ان کے ملٹری سیکرٹری میرے پاس آئے اوربتایاکہ سب سے پہلے آپ کی ملاقات ہے اور آپ کی ملاقات کے لیے۵منٹ کاوقت دیا گیا ہے۔جب آپ کی طلبی ہوگی تومیںآپ کو کمرئہ ملاقات میں پہنچا دوں گااورکمرہ بند ہوجائے گا۔جب آپ کا وقت ختم ہوجائے تو میںدروازہ کھول کرکھڑاہوجاؤں گاتو مہربانی کرکے آپ اٹھ جائیے گا،ورنہ جب تک آپ بیٹھے رہیں گے،وہ بھی آپ سے باتیںکرتے رہیں گے اورآپ کے بعدآنے والوں کو موقع نہیں مل سکے گا۔ اس لیے کہ اس کے بعد نماز کا وقت ہوجائے گااوروہ نماز پڑھیں گے۔میں نے ان سے کہا کہ ٹھیک ہے ،مجھے کوئی عرض داشت نہیں پیش کرنی ہے اور نہ کوئی لمبی چوڑی گفتگو ہی کرنی ہے۔ ہم ایک دوسرے کی خیروعافیت دریافت کریں گے اوروقت ختم ہونے پر اُٹھ آئیں گے۔ ہماری یہ گفتگوملٹری سیکرٹری سے ہورہی تھی کہ استادؒ بی کے نہروکے ساتھ،جو اس وقت آسام کے گورنر تھے،سامنے آئے اور اُن سے جداہوکرملاقات کے کمرے میں گئے اور گھنٹی بجائی۔ مقررہ وقت سے پہلے ہی مجھے طلب کرلیا۔ میں اندر داخل ہوااورسلام عرض کیا۔وہ اٹھے،بڑھ کر گلے لگایا۔ خیریت دریافت کی اورپوچھاکہ’’ آپ آسام کیسے آگئے؟‘‘میں نے عرض کیاکہ’’آپ تو جانتے ہیں کہ ہم لوگوں نے جماعت اسلامی ہند بنائی ہے اور کچھ لوگوں نے اپنی زندگیاں جماعتی سرگرمیوں کے لیے وقف کردی ہیں۔میںبھی اُن میں سے ایک ہوں۔۲۲سالوں تک بہار، اڑیسہ، بنگال میں جماعت اسلامی ہند کی دعوت پیش کرتا رہا۔اللہ کے فضل وکرم سے وہاں کچھ کارکن تیار ہوگئے تو اب جماعت نے مجھ کو آسام بھیجا ہے تاکہ یہاں بھی جماعت اسلامی کی دعوت پیش کروں۔ساتھ ہی ساتھ آسامی زبان میں اسلامی لٹریچر تیار کرانے کا کام میرے سپرد ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ آسامی زبان میں اسلامی لٹریچرکی بڑی کمی ہے‘‘۔

انھوں نے فرمایا کہ ’’آپ نے بڑے استقلال سے کام کیا‘‘۔میں نے عرض کیاکہ محض اللہ کی توفیق اور آپ لوگوں کی تعلیم وتربیت ہے کہ اس کام کی سعادت حاصل ہوئی۔آپ نے فرمایاکہ ’’آسامی زبان میںاسلامی لٹریچر کے تیار کرنے کرانے کاکام بھی بہت اہم ہے‘‘۔ انھوں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالااورایک سوروپے کا نوٹ نکال کرآسامی زبان میں اسلامی لٹریچر کے لیے دیا۔میں نے قبول کرنے میں تامّل کیاکہ آپ سفر کی حالت میں ہیں،فوری طور پر دیناکیا ضروری ہے۔انھوں نے میری جیب میںنوٹ ڈال دیا۔اس کے بعد فرمایاکہ:’’پچھلے دنوںآپ نے محسن انسانیت بھیجی تھی،سیرت پریہ کتاب مجھ کوبہت پسندآئی۔ سیرت پرمیں نے بہت ساری کتابیں پڑھی ہیں،حتیٰ کہ مولانا شبلی کی سیرت النبی ؐ   بھی دیکھی ہے مگرمحسن انسانیت    مجھ کو بہت پسند آئی۔

اس کے بعد وہ خاموش ہوگئے۔میں نے سوچاکہ اس مختصر ملاقات میں زیادہ ترانھی کے ارشادات سنوں گا اور اپنی طرف سے کوئی بات نہیں پوچھوں گالیکن وہ خاموش ہوگئے تو میں نے عرض کی کہ آج جمعہ کا دن ہے،اگرگوہاٹی کی کسی مسجد میںجمعہ کی نماز بھی آپ کے پروگرام میںشامل ہوتی تو اچھاہوتا۔ یہاں کے مسلمانوں کو توقع تھی کہ مسلمان صدرجمہوریہ ہند یہاں کی کسی مسجد میں نماز اداکریں گے توقریب سے انھیں دیکھنے کاموقع ملے گا۔اس سلسلے میں گوہاٹی کے مسلمانوں کو مایوسی ہوگی۔

انھوں نے فرمایاکہ’’میرے دونوں گھٹنوں میں تکلیف رہتی ہے اور فرش پرنمازاداکرنے میں تکلیف زیادہ محسوس ہوتی ہے۔میں چوکی پربیٹھ کرپاؤں لٹکا کے نمازپڑھتا ہوں۔ کبھی کبھی عید، بقرعیدکے موقعے پردہلی کی عیدگاہ میں چلا جاتاہوںتو بڑی تکلیف کے ساتھ نماز اداکرپاتاہوں‘‘۔ میں نے عرض کیا:یہ عذرمعقول ہے لیکن لوگوںکو اس کی خبرنہ ہوگی۔

اس کے بعد میں نے عرض کیاکہ’’آپ کے جوبھی ہوم منسٹر ہوتے ہیں،جماعت اسلامی کے خلاف غلط الزامات لگایاکرتے ہیں اور ہم لوگ ان کی صفائی میں جو کچھ کہتے ہیں،ان کا وہ کوئی نوٹس نہیں لیتے۔ ایک طرح کے الزامات بارباردہراتے رہتے ہیں‘‘۔

انھوں نے فرمایاکہ’’وہ اپنا کام کرتے ہیں۔ آپ اپناکام کیجیے۔ بات دراصل یہ ہے کہ آج کل سب لوگوں کواورسب جماعتوں کوخوش رکھنے کے لیے اورتوازن برقرار رکھنے کے لیے سیاسی لوگ ایسی بات کہتے ہیں اورایسی حرکتیں کرتے ہیں جو حقیقت اورصداقت کے خلاف ہوتی ہیں۔ پتا نہیںکہ خودچوہان جی کی(جو اس وقت ہوم منسٹرتھے) جماعت کے بارے میں اپنی رائے کیاہے۔ لیکن عام طورسے ایساہوتاہے کہ الیکشن میں کامیابی کی خاطر لوگ ایسا کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے الیکشن کا موجودہ طریقہ غلط ہے‘‘۔

اس موقعے پر میں نے عرض کیاکہ’’تب تو الیکشن میںجماعت اسلامی کا حصہ نہ لینا    حق بجانب ہے‘‘۔ اس کاانھوں نے خاموش مسکراہٹ سے جواب دیا۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ بھارت میں فسادات کا سلسلہ آخرکب ختم ہوگا؟ میرے اس سوال پروہ افسردہ ہوگئے اور کچھ دیر سکوت کے بعد فرمایا:’’ہم لوگ مسلمان ہیں اور فسادات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لہٰذا فسادات کوزیادہ محسوس کرتے ہیں،ورنہ حکومت کی کون سی کل سیدھی ہے؟ دیکھیے تلنگانہ میں کیا ہورہا ہے؟(اس وقت آندھراپردیش میں تلنگانہ کی پُرتشدد تحریک زوروں پرتھی)۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری لیڈرشپ بہت کمزورہے‘‘۔

یہ سن کرمیں حیرت میں مبتلا ہوگیاکہ اپنی ہی حکومت کے سلسلے میں صدرجمہوریہ کیا فرما رہے ہیں۔ بات یہاں تک پہنچی تھی کہ صدرکے ملٹری سیکرٹری دروازہ کھول کرنمودارہوئے اور میں ان کی ہدایت کے مطابق اُٹھ کھڑاہوا۔ استاد محترم بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں الوداعی سلام کرکے ہاتھ ملاکردروازے کی طرف بڑھا۔ وہ بھی میرے کاندھوں پرشفقت سے ہاتھ رکھے ہوئے دروازے تک یہ کہتے ہوئے آئے:’’اللہ آپ لوگوں کوکامیاب کرے،آپ لوگوں کی میرے دل میں بڑی قدرہے‘‘۔ اس آخری ملاقات کے بعد جب میں باہر نکلاتومیں بہت خوش اور مسرورتھاکہ انھوں نے میری سرگرمیوں کی تائید فرمائی اور دعادی۔ ان کی حوصلہ افزائی اوردعائیں میرے کانوں میں گونجتی رہیں اوراب تک گونج رہی ہیں،مگرافسوس کہ میری خوشی اورمسرت کے لمحات بہت عارضی ثابت ہوئے۔

ایک ہفتہ بعد۳ مئی ۱۹۶۹ء کو میرے ایک دوست نے آکرخبر دی کہ صدرجمہوریہ ہند ڈاکٹرذاکرحسین انتقال کرگئے ہیں،اِنَّـالِلّٰہِ وَاِنَّـااِلَیْہِ رٰجِعُوْن۔ یہ خبر سن کرمیں اس درجہ متاثر ہواکہ بستر پر جاکرلیٹ گیااوردیرتک روتارہا۔ جب کچھ سکون ملاتووہاں سے اپنے ایک عزیزکے یہاں چلا گیاجن کے پاس ریڈیو سیٹ تھا۔ بستر پرلیٹے لیٹے،اس وقت تک ریڈیو سنتارہاجب تک ان کی تجہیزوتکفین نہ ہوگئی۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اوراپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے___ آمین۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کی زندگی ان دوحرفوں کی تفسیرتھی:’’بادوستاں تلطّف، بادشمناں مدارا‘‘ یااقبالؒ کے اس مصرع کے مصداق تھے:’’مروت حسنِ عالم گیرہے مردانِ غازی کا‘‘___ یااللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق تھے:’’تم میں سے اچھا انسان   وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھاہو۔ اور اللہ نے مجھ کو اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا‘‘۔ اورارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اَ کْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰکُمْط(الحجرات ۴۹:۱۳)’’تم میں سب سے محترم ومکرم بندہ وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرکرزندگی گزارنے والا پرہیز گارہو‘‘۔

 

نوٹ: ڈاکٹر ذاکر حسین برعظیم کی سیاست ، دانش وَری اور تعلیم کے شعبوں میں ایک بڑا نام ہے۔ صدر جمہوریۂ ہند کے منصب پر فائز ہوکر وہ ترقی اور عروج کی انتہا کو پہنچ گئے۔ برعظیم میں کوئی شخص، خصوصاً ایک بھارتی مسلمان، اس سے بڑے عہدے کا تصور نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر ذاکرحسین کا سیاسی گراف تو بہت اُونچا چلا گیا مگر تعلیم (جو اُن کا اصل میدان تھا) یا دانش وَری کے بارے میں ان کی آدرشیں کیا ہوئیں؟

اُن کے قریبی رفیق اور دانش ور پروفیسر محمد مجیب نے ان کی سوانح عمری میں ان کی شخصی خوبیوں کے ساتھ ان کی مصلحت اندیشی کا ذکر بھی کیا ہے۔ علی گڑھ کے پروفیسر اور نامور ادبی شخصیت اسلوب احمد انصاری نے ذاکرصاحب کی وائس چانسلری کے زمانے میں انھیں قریب سے دیکھا۔ وہ لکھتے ہیں: ’’حکمت عملی اور مصلحت اندیشی ان کی زندگی کے دو بنیادی تشکیلی اصول تھے۔ اس کا نتیجہ ہمیشہ مفاہمت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور کسی طرح کے    تعہّد (commitment) کی نفی کرتا ہے۔ مصلحت اندیشی، حق شناسی اور حق گوئی کے راستے میں، ان کے لیے عمربھر زنجیرپا بنی رہی۔ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے انھوں نے بڑے قابلِ قدر   کام کیے [مگر] بعض اوقات صاحبانِ جاہ و منصب کے زیراثر اور ان کے دبائو میں آکر نامنصفانہ طورپر اور جانب داری کے ساتھ ایسے لوگوں کو آگے بڑھایا جو اس اعزازاور ترقی کے کسی طرح مستحق نہیں تھے۔ ذاکرصاحب کے ذہین اور فطین اور اعلیٰ فن کار ہونے میں کسی شک و شبہے کی گنجایش نہیں لیکن ان کا کوئی کارنامہ نہیں ہے‘‘۔

ذاکرصاحب کی اس مثال سے یہ واضح ہے کہ انسان کی ذہانت و فطانت، اگر مصلحت کوشی کو راہ نما بنالے تو حاصلِ حیات کیا ہوتا ہے۔ (مرتب)

روح الامین کی معیت میں کاروانِ نبوتؐ، ڈاکٹر تسنیم احمد۔ جلد اوّل تا جلد پنجم۔ ناشر: دعوت الحق، ۹۳-اے، اُٹاوا سوسائٹی، احسن آباد، کراچی- ۷۵۳۴۰۔ فون: ۲۱۲۰۸۶۸- ۰۳۱۴۔ صفحات: (علی الترتیب): ۱۷۵، ۲۵۶، ۲۸۸، ۲۸۸،۳۰۴۔ قیمت: (علی الترتیب):۲۵۰ روپے، ۲۵۰ روپے، ۳۰۰ روپے، ۳۵۰ روپے، ۳۵۰ روپے۔

زیرنظر سیرت النبیؐ، سیرت کی عمومی کتابوں سے خاصی مختلف اور منفرد ہے۔ مصنف نے کتاب کے دو کلیدی موضوعات بتائے ہیں: نزولِ قرآن اور سیرت النبیؐ۔ ان کی وضاحت کے لیے انھوں نے متعدد تصاویر، نقشے، جدولیں اور اشاریے شامل کیے ہیں۔

باب اوّل کا عنوان ہے: ’محمدؐ کے جدِّ اعلیٰ ابراہیمؑ،۔ اس میں حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ مکہ اور یثرب کی مختصر تاریخ کا ذکر ہے۔ دوسرے باب میں بعثت ِ محمدی سے قبل اہلِ ایمان کی آزمایش (اصحابِ کہف ، اصحاب الاخدود وغیرہ)۔ آیندہ ابواب میں آں حضوؐر کا خاندان، ولادت، پرورش، آغازِ نبوت، دعوت کا آغاز، کاروانِ نبوت میں شامل ہونے والی اوّلین اور مابعد شخصیات کا تذکرہ، واقعات کےمتوازی زمانوں میں اُترنے والی آیات، ان کے مطالب اور قرآن کے انھی حصوں سے صحابہؓ کی تربیت کا ذکر۔ جلد دوم میں واقعات کے حوالے سے کاروانِ نبوت آگے بڑھتا ہے۔ راہِ حق میں آں حضوؐر اور صحابہ کرامؓ کی مشکلات اور آزمایشوں پر علمی بحثیں بھی ہیں اور تفصیلی واقعات بھی۔ ساری پانچوں جلدیں پاورق حوالوں اور تعلیقات سے مزین ہیں۔

مختصر یہ کہ کاروانِ نبوتؐ  سیرت النبیؐ پر (مکی زندگی تک محدود) ایک مستند اور مفصل کتاب ہے۔ اسے آپ قافلۂ دعوتِ حق کی تاریخ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ضمناً اس میں بہت سے تبصرے اور بہت سی معلومات آگئی ہیں۔ مصنف لکھتے ہیں: ’’مؤلف کو رسولؐ اللہ اور آپؐ کے لائے ہوئے دین اسلام سے جو محبت ہے اس کی خاطر یہ کتاب صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے لکھی اور شائع کی گئی ہے‘‘ (جلد۲، ص۹)۔ بلاشبہہ یہ پانچ جلدیں مصنف کے خلوص، لگن، تحقیق ، محنت اور عزمِ صمیم کا حاصل ہیں۔

مصنف کا اسلوب سادہ اور آسان ہے۔ کتاب خوب صورت اور طباعت و اشاعت معیاری ہے۔ درحقیقت یہ ایک مستقل زیرمطالعہ رکھنے والی کتاب ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


 حیاتِ انبیا ؑ، تالیف: محمد اقبال مرزا۔ ملنے کا پتا: دارِحمزہ، CB-18/1 سرسیّد کالونی،نیو گدوال،  واہ کینٹ۔ فون: ۴۹۰۹۲۳۸-۰۵۱۔ صفحات: ۲۲۴۔ قیمت: ۲۵۰ روپے ۔

مؤلف کو اپنی ملازمت کے دوران لندن میں کچھ عرصہ قیام کا موقع ملا۔ وہاں عیسائیوں سے بحث مباحثے کے دوران انھیں محسوس ہوا کہ عیسائیت کے بارے میں اِن کا علم محدود ہے،  جب کہ عیسائی بھی اسلام کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے قرآن، بائبل اور جدید سائنس کی روشنی میں مطالعہ و تحقیق کے بعد مذکورہ کتاب مرتب کرنے کا فیصلہ کیا۔یہ کتاب حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت اسماعیلؑ و حضرت اسحاق ؑ تک کے تذکرے پر مبنی ہے۔ قرآن اور بائبل کے حوالوں اور تقابلی مطالعے کے ساتھ ساتھ جدید سائنس اور آثارِ قدیمہ کے شواہد بھی پیش کیے گئے ہیں۔ اس طرح یہ جہاں اسلام اور عیسائیت کے حوالے سے تقابل ادیان کے لیے مفید مطالعہ ہے، وہاں جدید معلومات نے اس کتاب کو مزید دل چسپی کا باعث بنا دیا ہے۔ تقابل ادیان کے ساتھ ساتھ دعوتی مقاصد کے لیے مفید کتاب۔(امجد عباسی)


فکرِ سیاسی کی تشکیلِ جدید، ڈاکٹر معین الدین عقیل۔ ناشر: مکتبہ تعمیر انسانیت، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار ، لاہور۔فون: ۳۷۲۳۷۵۰۰- ۰۴۲ ۔صفحات : ۹۳۔ قیمت (مجلد): ۱۸۰ روپے۔

قوموں کی تعمیر و تخریب تخت نشینوں کے ہاتھوں ہوتی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہربرسرِاقتدار گروہ نے راج تو کیا سیاست کی بساط پر، مگر جو تخت کی بارہ دری سے باہر ہے اسے کہا: ’’سیاست گندا کھیل ہے‘‘ یا ’’تمھارا کیا کام سیاست سے؟‘‘

ڈاکٹر معین الدین عقیل نے اس مختصر سی کتاب میں، ہماری قومی زندگی کے حوالے سے  اہم فکری، سیاسی اور تہذیبی لوازمہ فراہم کیا ہے۔ انھوں نے اس مطالعے کو سرسیّداحمد خاں اور     علّامہ اقبال کے افکار سے منسوب کیا ہے، جو اس حد تک درست ہے کہ سرسیّد کا خطبہ (ص ۴۱-۴۹) اور اقبال کا خطبہ (۵۶-۷۲) شامل ہے۔ یہ دونوں خطبات کسی تشریح کے محتاج نہیں کہ یہ اپنی جگہ فکرودانش کی دستاویزات ہیں۔ معین صاحب کے حواشی نے ان کی افادیت دوچند کردی ہے۔  تاہم، اس قیمتی فکری اثاثے کی روح وہ مقالہ ہے، جو ڈاکٹرمعین الدین نے ’سیّد احمد خاں اور اقبال‘ (ص۱۰-۳۵) تحریر کیاہے۔ ہند میں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ روایت کے فکری، عملی، سیاسی اور مذہبی اُتارچڑھائو، بلکہ تضادات و امکانات کے دَر وَا کرتا ایسا جان دار بہی کھاتہ، اس انداز سے کبھی پہلے نظر سے نہیں گزرا۔ اس تخلیقی مضمون اور تاریخ و تہذیب پر نقد کے حوالے سے معین صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ البتہ اتنی عام فہم کتاب کا عنوان اتنے تکلف کی نذر کرنا ضروری نہیں  تھا۔ (سلیم منصور خالد)


ڈاکٹر ابن فرید، علمی و ادبی خدمات، ڈاکٹر زبیدہ جبیں۔ ناشر: ادارہ ثقافت اسلامیہ، ۲-کلب روڈ، لاہور۔ فون:۳۶۳۰۵۹۲۰-۰۴۲۔ صفحات(مجلد): ۳۴۶۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

ادب و تحقیق اور تاریخ و صحافت کے میدان میں لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ لیکن ذہن اور قلم کو اعلیٰ قدروں اور اخلاقی ضابطوں کی ترویج کے لیے استعمال کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے، اور اس چھوٹی سی تعداد میں بھی مؤثر ابلاغ کرنے والے تو مزید کم ہیں۔ ڈاکٹر ابن فرید (۱۹۲۵ء- ۲۰۰۳ء) اسی کم یاب تعداد سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے اسلامی ادبی تحریک کے خدوخال نمایاں کرنے اور تنقیدی اصولوں کو مرتب کرنے میں قابلِ لحاظ کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر ابن فریدایک نام وَر نقّاد، بلندپایہ افسانہ نگار اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں سماجیات کے معلّم تھے۔ انھوں نے ادب کے عمومی موضوعات کے علاوہ بچوں اور خواتین کے سماجی مسائل پر بھی بطور ایک سماجی مصلح کے قلم اُٹھایا ہے۔ انھوں نے افسانوی ادب کا قابلِ قدر قلمی اثاثہ چھوڑا ہے۔ ان کی اسی خوبی نے زیرنظر کتاب کی مصنفہ کو اس چیز پر آمادہ کیا کہ وہ ان کے علمی و قلمی آثار کا تحقیقی مطالعہ کریں۔ اس کوشش میں وہ کامیاب بھی رہی ہیں۔ علی گڑھ کے پروفیسر اصغر عباس کے بقول: وہ اُردو کے معتبر ادیبوں میں سے تھے لیکن ان کی ادبی عظمت کا ابھی تک اعتراف نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر زبیدہ جبیں نے پہلی بار بڑی کاوش سے ابن فرید کی بڑی مربوط تصویر پیش کی ہے… اس لیے یہ [پی ایچ ڈی کے] روایتی تحقیقی مقالوں میں منفرد ہے‘‘۔

اگرچہ، ابن فریدمرحوم کی کئی تحریریں ہمارے زیرمطالعہ رہی رہیں، لیکن اس کتاب نے مرحوم کی علمی وفکری قدرومنزلت کے باب اس مہارت اور محنت سے کھولے ہیں کہ انھیں دوبارہ پڑھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی اُمنگ پیدا ہوئی ہے۔(س م خ )


نارمل زندگی، ترجمہ: خالد لطیف، تدوین ڈاکٹر شائستہ خالد: ناشر: اعزاز کامران پبلی کیشنز، لاہور۔ فون: ۶۲۳۹۳۲۹- ۰۳۰۰۔ صفحات: ۲۵۶۔ قیمت (مجلد): ۳۰۰ روپے۔

سواے چند مستثنیات کے، اللہ تعالیٰ انسانوں کی عظیم اکثریت کو نارمل زندگی عطا فرماتا ہے۔ لیکن کہیں پر خانگی اور سماجی ماحول، یا پھر خود فرد کے غیرمعتدل رویے اس کی زندگی کو ناہنجار اور ابنارمل بنا دیتے ہیں۔ اس طرح وہ فرد اپنی ذات اور معاشرے کے لیے بھی آزمایش کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

زیرنظر کتاب میں محنت سے دنیا کے معروف ماہرین نفسیات کے مشاہدات و تجربات کو یک جا کیا گیا ہے۔ اس طرح ارادی اور غیرارادی محرکات کا سراغ لگاکر، ان نفسیاتی صدمات اور نقصانات سے بچنے کی تدابیر بیان کی ہیں۔ ایک سائنسی موضوع ہونے کے باوجود زبان عام فہم اور پُراثر ہے۔ (س م خ )


شوگر کو شکست دیجیے، مرتبہ: محمد متین خالد۔ ناشر: علم و عرفان ، الحمدمارکیٹ، ۴۰-اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۲۳۵۸۴- ۰۴۲۔ صفحات : ۳۱۸۔ قیمت (مجلد): ۶۰۰ روپے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو صحت ، صلاحیت اور ذہن کی اَنمول نعمت عطا فرمائی ہے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ صحت اور صلاحیت ِ کار میں ضُعف و اضمحلال پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔ عصرِحاضر کے بہت سے مفاسد میں چند بیماریاں اتنی عام اور مہلک ہیں کہ مریض ان کا نام سن کر ہی ہمت چھوڑ دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک عام بیماری شوگر یا ذیابیطس ہے۔

محمد متین خالد نے زیرنظر کتاب میں ایسے اکیاون مضامین مرتب کرکے پیش کیے ہیں، جو اس بیماری کے خوف سے آزادی، پنجہ آزمائی اور زندگی کو کارآمد بنا کر گزارنے کے گُر سکھاتے ہیں۔ یہ کتاب دل چسپ بھی ہے اور معلومات افزا بھی۔ (س م خ )

دانش یار ، لاہور

ماہِ ستمبر کے شمارے میں مولانا مفتی سیاح الدین کاکاخیل ؒ کا مضمون پڑھا تو یاد آیا کہ مفتی صاحبl ، دارالعلوم دیوبند سے سند ِ فراغت حاصل کرنے والے سب سے فائق طالب علم تھے۔ حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنیl نے اِن کو اپنے طلبہ پر علمی فضیلت کے باعث قابلِ فخر قرار دیا تھا۔ قیامِ پاکستان سے ایک عشرہ پہلے  مولانا مودودیؒ کی کتاب قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں چھپ چکی تھی،اور مفتی صاحبؒ نے      جن اعتراضات کا جواب دیا ہے، اِسی زمانے سے سنے جارہے تھے۔ یاد رہے، اس  کتاب کا پہلامضمون ہی   اِلٰہ پر ہے___ حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ نے اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد فرمایا: ’’یہ شخص (یعنی مولانا مودودیؒ) مُلْھِمْ مِنَ اللہِ معلوم ہوتا ہے‘‘۔ مجھ سے اس تبصرے کا ذکر میرے مرحوم کرم فرما بزرگ قاری محمد عبداللہ (اوکاڑہ والے) نے کیا تھا۔ اصل میں یہی مفہوم و معنی دعوتِ اسلامی کی بنیاد ہے اور اسی کو ہمارے قائدین اور ذمہ داران کو اپنے خطبات اور گفتگوئوں میں مسلسل واضح کرتے رہنا چاہیے۔


خِرقہ پوش صحافی ، میرپور،آزاد کشمیر

ستمبر ۲۰۱۷ء کا شمارہ زیرمطالعہ ہے۔ ’چند قرآنی اصطلاحات کی تعبیر کا مطالعہ‘ میں مفتی سیّد سیاح الدین کاکاخیل نے تفصیل اور قرآنی حوالہ جات سے جو جواب دیا ہے، اس سے ہرباشعور پاکستانی کی آنکھیں کھل جانی چاہییں۔ جن لوگوں نے مولانا مودودی کے ’طاغوت‘ کے معنی اور تشریح پر اعتراض کیا ہے،بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ آج بھی شیطانی طاغوت کے آلۂ کار بنے بیٹھے ہیں ۔ یہ طاغوتی قوت کو سہارا دینے والے، مولانا مودودی جیسے لوگوں کے خلاف ہی دندناتے رہیں گے؟ اللہ انھیں ہدایت دے، آمین!


محمد حسین  عارف، گوجرانوالہ

مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب اور مولانا زاہد الراشدی صاحب کی تحریریں ترجمان القرآن کے قارئین کے لیے اپنے موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے نہایت قیمتی اضافہ ہیں۔


اسما معظم ، کراچی

ستمبر کے شمارے میں ’۶۰ سا ل پہلے‘ میں انوکھی شان کے حوالے سے واقعتاً جامع انداز میں بہت بڑا سبق سمجھادیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا مودودیؒ کو غریقِ رحمت فرمائے کہ کس خوب صورتی سے اتنی اہم بات سمجھا دی۔ ’اشارات‘ میں ڈاکٹر انیس احمد صاحب نے ’اقامت ِ دین اور عملی تقاضے‘ میں دعوت وتربیت کے کام کی وسعت واضح کی ہے، ورنہ ہمارے ذہنوں میں یہ تصور انتہائی محدود ہوکر رہ گیاہے۔ اس مضمون کو کارکنوں میں خوب پھیلانا چاہیے۔ پھر مولانا مودودیؒ کی تقریر سے ’انقلاب کا راستہ اور دعوت‘ بھی بہت جامع تحریر ہے۔ زراعت اور صحت کے ساتھ خارجہ تعلقات پر تحریروں نے معلومات میں خوب اضافہ کیا۔


ڈاکٹر افضل عظیم ، نورورسک، راجا محمد عاصم، موہری ،کھاریاں

اشارات ’اقامت ِ دین اور عملی تقاضے‘ ایک جامع تحریر ہے۔ اقامتِ صلوٰۃ کی طرح اقامت ِ دین کی جدوجہد ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ یہ بڑی اہم توجہ ہے کہ: ’’تحریک ِ اسلامی کی کامیابی محض سیاسی کامیابی اور نشستوں کی تعداد سے نہیں ناپی جاسکتی۔ اس کا اصل پیمانہ افراد کا خلوص اور دین سے عملی وابستگی ہے‘‘۔


ڈاکٹر علیم احمد نیازی ، راولپنڈی

اگست اور ستمبر کے شمارے تازہ ہوا کا جھونکا ہیں۔ ستمبر کے شمارے میں ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری ؒپر مختصر اور مؤثر مضمون نے طبیعت کو اداس کر دیا اور باربار احساس ہوا کہ ہم نے اتنی بڑی شخصیت کو نہ سمجھا اور   نہ اس سے فیض پایا۔ اسی طرح ڈاکٹر انوار احمد بگوی نے پاکستان کی صحت پالیسی کی حالت ِ زار پر نہایت جامع تحریر لکھی ہے۔ پھر ڈاکٹر مسعوداحمد شاکر نے زرعی صورتِ حال کے بارے میں آنکھیں کھول دی ہیں۔


محمد سعید کھوکھر ، گوجرانوالہ

متحدہ پاکستان کے پہلے اور آخری نام نہاد آزاد انہ الیکشن کی انتخابی مہم کے سلسلے میں مولانا مودودی مرحوم کے ٹی وی خطاب کو ترجمان القرآن (ماہِ اگست) میں پڑھ کر اس پُرآشوب دور کی بہت سی تلخ و شیریں یادیں تازہ ہو گئیں۔ میں اُس وقت اسلامی جمعیت طلبہ کا رفیق اور بی اے کا طالب علم تھا۔ اس انتخابی مہم کے ابتدائی دنوں میں ہونے والے دو جلسہ ہاے عام کے نقوش آج تک ذہن میں تازہ ہیں۔ یہ جمعے کا دن تھا۔ نمازِجمعہ کے بعد مولانا مرحوم و مغفور نے شیرانوالہ با غ گوجرانوالہ میں عوام سے خطاب کیا ۔ مولانا مودودی مرحوم نے ۱۹۴۷ء سے لے کر اس روز تک کی تاریخ اور جدو جہد پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ اگرحصولِ آزادی کے ساتھ ہی اسلامی اقدار کے فروغ اورترقی کی طرف توجہ دی جاتی تو پاکستان بہت سے بحرانوں اورخلفشارسے بچ جاتا۔ انھوں نے جماعت اسلامی پاکستان کے منشور اور پروگرام کی وضاحت کے ساتھ تجویز دی کہ دستورساز اسمبلی کے انتخاب کے بجاے، ملک میں ۱۹۵۶ء کے دستور کے تحت مقننہ کاانتخاب کرایا جائے اور آئینی مسا ئل آیندہ منتخب پارلیمان پر چھوڑ دیے جائیں۔ اس خطاب کے ٹھیک ایک ہفتے بعد جمعے ہی کے دن جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے نیشنل اسٹیڈیم گوجرانوالہ میں ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کیا اور مولانا کی اس تجویز کا خاکہ اُڑاتے ہوئے کہا کہ: ’’کیا چھپن چھپن کی رٹ لگا رکھی ہے، آئین چپلی کباب نہیں جوغریب کے بچے کاپیٹ بھرتا ہے، آئین اسپتال نہیں جہاں غریب کا علاج ہو تا ہے، آئین اسکول نہیں جہاں غریب کے بچے کو تعلیم ملتی ہے، لوگوں کو آئین نہیں، روٹی کپڑا مکان دو‘‘ ۔ظاہر ہے کہ یہ بات ایک سیاسی نعرے بازی کے سوا کچھ نہ تھی۔

جماعت اسلامی نے ان انتخابات میں بھر پور حصہ لیا۔ اس کے نا مزد اُمیدواروں کا تعلیمی معیار اور صحتِ کردار دوسری پارٹیوں کے اُمیدواروں کے مقابلے میںمثالی تھی۔ تعلیم، سوجھ بوجھ، وقار اور متانت میں سب سے بہتر تھے۔ اگرچہ جماعت ان انتخابات میں خاطر خواہ نشستیں نہ لے سکی، لیکن اس کا ووٹ بنک بہترین تھا۔ وابستگان جماعت کی وابستگی (کومٹ منٹ) خالص نظریاتی تھی۔ ووٹ کے استعمال کا تصور، امیدوار کی عملیت پسندی کے اعتراف، سچی شہادت اور حق دار کی امانت سے منسوب تھا۔ سیاسیات کے طلبہ اور علماکے لیے تحقیق کا    ایک دل چسپ موضوع یہ بھی تھا کہ کُل پاکستان امیر جماعت سے لے کر نچلی سطح تک حلقے کے ذمہ دار کے بیان میں کوئی تضاد اور بے پَرکی نعرے بازی یا سوقیانہ الزام تراشی نہیں تھی۔ وحدت فکر و نظر اور حُسنِ گفتار وبیان کا    یہ بے مثال مظا ہرہ جماعت اسلامی کی پہچان تھا۔


عبدالرزاق ، کوہاٹ

ماہِ اگست کے ’اشارات‘ میں مولانا مودودی مرحوم کی جامع تقریر اور اس پر پروفیسر خورشیداحمد صاحب کی تعارفی سطور پڑھ کر ایمان تازہ اور نشانِ منزل بھی واضح ہوا۔ اس اثاثے سے واقفیت عطا کرنے پر ماہنامہ ترجمان القرآن مبارک باد کا مستحق ہے۔


عمران احمد خان ، مردان

اگست کا شمارہ پڑھا۔ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ یہ دین اور دنیا میں رہنمائی کے لیے ایک جامع پرچہ ثابت ہوا۔ بہترین لکھنے والوں کی ایک کہکشاں ہے۔ اس چمکتے دمکتے اور علم و نُور کی کرنیں بکھیرتے ہوئے رسالے میں تحریک ِ پاکستان کے حوالے سے ہرپہلو کا جائزہ ہے۔ اس شمارے کے کسی بھی مضمون کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، تمام ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ امام سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تقریر پر مشتمل ’اشارات‘ نئی نسل کے لیے  ایک زبردست تحفہ ہے۔ ۵۰، ۶۰ سال پہلے کہی گئی باتیں آج حرف بہ حرف سچ ثابت ہورہی ہیں۔ یہ تقریر بھی اُن کی لکھی ہوئی تحریر کی طرح تروتازہ لگنے کی اصل وجہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ، سیّد مودودی قرآن و سنت کی روشنی میں لکھتے تھے۔ اسی طرح دیگر مضامین کا بہترین گلدستہ پیش کرنے پر ہم مدیر محترم کے تہ دل سے شکرگزار ہیں۔

اصلاحِ معاشرہ اور انتخابات

ہم جس لائحۂ عمل پر برسوں سے کام کر رہے ہیں، اس کے چار میں سے تین اجزا اصلاحِ معاشرہ ہی کی تدابیر پر مشتمل ہیں۔ یہ ہمارا دائمی پروگرام ہے جس پر ہمیں سال کے ۳۶۵ دن کام کرنا ہے، خواہ انتخابات ہوں یا نہ ہوں۔ اس لیے یہاں اصل بحث یہ نہیں ہے کہ آیا تبدیلیِ قیادت کے لیے اصلاحِ معاشرہ کا کام کیا جائے یا صرف انتخاب لڑے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا اصلاحِ معاشرہ کی یہ ساری کوشش جاری رکھنے کے ساتھ انتخابات میں بھی حصہ لیا جائے یا نہیں؟ ہماری اسکیم یہ ہے کہ یہ دونوں کام ایک ساتھ ہونے چاہییں.... [ایک] غلط بات یہ فرض کی گئی ہے کہ انتخاب صرف ووٹ لینے اور دینے کا کام ہے،  معاشرے کے بنائو اور بگاڑ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ حالاں کہ دراصل معاشرے کو بنانے اور بگاڑنے میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اور کوئی ایسا شخص جو ’اصلاحِ معاشرہ‘ کا محض لفظ ہی نہیں بلکہ اس کے معنی بھی جانتا ہو، اُن اثرات کو نظرانداز نہیں کرسکتا، جو انتخابات سے معاشرے پر پڑتے ہیں.... کیوں کہ معاشرے کا ہربالغ شخص اس میں ووٹر ہوتا ہے۔ ان ووٹروں سے اگر روپے کے عوض ووٹ خریدے جائیں، یا طرح طرح کے دبائو ڈال کر، یا لالچ دے کر ان کے ووٹ حاصل کیے جائیں، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے گردوپیش ایک ضمیرفروش، لالچی اور دَبُّو معاشرہ تیار ہورہا ہے، اور ساتھ کے ساتھ اسی معاشرے میں اُن دلالوں، غنڈوں اور بدکردار طالبینِ اقتدار کی تربیت بھی ہورہی ہے، جو اپنی قوم کی اِن اخلاقی کمزوریوں سے ناجائز فائدہ اُٹھانے والے ہوں۔

دوسری طرف اگر ان ووٹروں سے برادریوں اور قبیلوں اور [علاقوں، نسلوں] کے نام پر بھی ووٹ لیے جائیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے معاشرے کو تنگ نظری، جاہلانہ تعصبات اور افتراق و انتشار کی تربیت بھی دی جارہی ہے،اور اس کے ساتھ آپ ہی کی قوم کے کچھ ذہین اور بااثر عناصر کو یہ تعلیم مل رہی ہے کہ اپنی ذاتی ترقی کے لیے وہ یہ ہتھکنڈے بھی استعمال کریں۔تیسری طرف اگر معاشی مفادات کے نام پر یا کچھ دوسرے لادینی اصولوں اور نظریات کی تبلیغ کرکے بھی ووٹ لیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پورے معاشرے کو مادہ پرستی ، دنیا پرستی اور لادینی نظریۂ حیات کے حق میں راے دینے کے لیے بھی تیار کیا جارہا ہے۔ ان عناصر کو اس تخریب معاشرہ کے لیے کھلی چھٹی دے دینا اور یہ کہنا کہ ہم تو انتخابات کو چھوڑ کر صرف اصلاحِ معاشرہ کریں گے، آخر کیا معنی رکھتا ہے؟ (’اشارات‘ ،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۴۹، عدد۱-۲، محرم، صفر ۱۳۷۷ھ، اکتوبر، نومبر ۱۹۵۷ء، ص ۱۱-۱۲)