مضامین کی فہرست


ستمبر ۲۰۲۱

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب راقم سیّد مودودی ؒکی تصانیف و تالیفات کی وضاحتی فہرست تیار کر رہا تھا (یہ ’کتابیاتِ مودودی: ایک مطالعہ‘ کے عنوان سے تذکرۂ سیّد مودودی، سوم میں  شامل ہے اور الگ سے بھی شائع ہوئی)۔ اسی سلسلے میں تفہیم القرآن کے مختلف ایڈیشنوں کی تلاش تھی۔ ایک دن معلوم ہوا کہ ملک غلام علی صاحب کے کمرے میں تفہیم القرآن کے چند پرانے ایڈیشن رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے اِن اشاعتوں کے سنین و دیگر کوائف نوٹ کرنے وہاں چلا گیا۔ ملک صاحب کام میں مصروف تھے۔ معذرت چاہی اور مدّعا بیان کیا۔ انھوں نے اجازت دی۔ میں نے الماری سے تفہیم  کے نسخے نکالے اور دیکھنے لگا۔

 اسی دوران تفہیم سے ملک صاحب کا ذہن محمد فواد عبدالباقی [فروری ۱۸۸۲ء- فروری ۱۹۶۸ء] کے مرتب کردہ اشاریۂ قرآن المعجم المفھرس کی طرف منتقل ہوگیا۔ فرمایا: ’’مولانا محترم، ارض القرآن کے سفر پر گئے تو مصر سے میرے لیے قرآنِ پاک کا انڈکس لائے۔ محمدفواد عبدالباقی کا یہ انڈکس یہاں دستیاب نہ تھا۔ ابھی تک میرے پاس محفوظ ہے۔ یہ بڑا قیمتی تحفہ تھا، میرے لیے‘‘۔ یہ ۱۳۷۸ھ کا مطبوعہ نسخہ تھا۔ مولانا نے اسے ملک صاحب کو ان الفاظ میں ہدیہ کیا تھا:

ہدیہ برائے غلام علی صاحب، جو بلادِ عرب کے سفر کے دوران میں اُن کے لیے مصر سے خرید کیا گیا۔

ابوالاعلیٰ

۱۱جولائی ۶۰ء

مولانا کی مندرجہ بالا تحریر کے نیچے، ملک صاحب نے حسب ذیل عبارت رقم کی تھی:

بسم اللہ ہو الباقی

آج ۲۹ شوال ۹۹ھ (۲۲ستمبر ۱۹۷۹ء) کو صاحب ِہدیہ بان، میرے مرشد مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی انتقال فرما گئے بوقت ِشام مغرب و عشاء کے درمیان۔

اِنَّـا لِلّٰہِ    وَ  اِنَّـا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۝

تَغَمَّدَ اللہُ   بِغُفْرَانٍ   وَسَقٰی ضَرِیْحَہٗ   بِصَیِّبِ  الرِّضْوَانِ ۝

وہ جو بیچتے دیتے تھے دوائے دل، وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔

غم زدہ عاجز
غلام علی

میں نے عرض کیا: ملک صاحب آپ کا خط ِتحریر مولانا کے خط سے خاصا مماثل ہے۔

ملک صاحب کہنے لگے: ’’جی ہاں، ابتدا میں، جب میں نے مولانا کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تو میرا خط کچا تھا۔ میں جو کچھ لکھتا تھا، وہ بہت بدخط ہوتا تھا۔ میں نے کوشش سے اپنا خط بہتر بنایا ہے‘‘۔

قدرے توقّف سے فرمایا: ’’میرا خط بھی ٹھیک ہوگیا اور رفتہ رفتہ یہ ہوا کہ میری تحریر اور عبارت پر لوگوں کو یہ گمان گزرتا کہ مولانا کی ہے‘‘۔پھر کہنے لگے: ’’ایک بار مولانا نے فرمایا تھا: ’’اب تمھاری تحریر ایسی ہوگئی ہے کہ میں پڑھتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ میری تحریر ہے‘‘۔

بقول محترم میاں طفیل محمد: ’’مولانا غلام علی مرحوم و مغفور ہمارے مرشد و راہ نما سیّدابوالاعلیٰ مودودی کا ہرپہلو سے عکس اور نمونہ تھے‘‘۔

نام وَر اخبار نویس مصطفےٰ صادق صاحب [۱۹۲۶ء-۲۱نومبر ۲۰۱۱ء]کو سفروحضر میں   ملک صاحب کے ساتھ ایک عرصہ گزارنے کا موقع ملا۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ملک غلام علی کے کردار، ان کی سیرت اور ان کی شخصیت، حتیٰ کہ اُن کی علمیّت پر مولانا مودودی کی گہری چھاپ تھی‘‘ (روزنامہ جسارت ، کراچی، ۸؍اکتوبر ۱۹۹۴ء)۔ یقینا اس لیے کہ ملک صاحب، سیّد مودودی کے فیض یافتہ تھے، جنھوں نے ایک طویل عرصہ مولانا مودودی  کی صحبت اُٹھائی تھی۔

خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا جائزہ کے حوالے سے مولانا نے فرمایا:’’تم نے بڑی محنت کی ہے۔ ایسے حوالے تلاش کیے ہیں کہ مَیں بھی نہیں کرسکتا تھا‘‘۔

ملک صاحب نے فرمایا: ’’ہمارے ایک کاتب تھے، محمد صدیق صاحب ایک مرتبہ کہنے لگے کہ بعض اہلِ حدیث حضرات نے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ مودودی صاحب خود لکھتے ہیں اور نام دوسروں کا دے دیتے ہیں___ تو میں نے کہا کہ میں ترجمان کا کاتب ہوں، اور مضامین خود لاتا ہوں، وہ مولانا کا نہیں بلکہ ملک غلام علی کا لکھا ہوا ہوتا ہے۔ خط ملتا جلتا ہے، اس لیے شبہہ پڑتا ہے‘‘۔

گفتگو جاری رکھتے ہوئے ملک صاحب نے بتایا: ’’بس جی، بات یہ ہے کہ یہ سب انھی کی صحبت کا نتیجہ ہے۔ شیخ سعدی نے گلستان میں کہا ہے:

گلے خوشبوے در حمام روزے
رسید از دستِ محبوبے بدستم
بدو گفتم کہ مشکی یاعبیری
کہ از بوے دلآویزے تو مستم
بگفتا من گلِ ناچیز بودم
و لیکن مدّتے با گل نشستم
جمالِ ہم نشیں در من اثر کرد
وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم

یہ مولانا مودودی کی صحبت کا فیضان ہے ___ یہ ’فیضان‘ والی بات اپنی جگہ بڑی اہم ہے۔ اقبال نے کہا ہے:

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی

کچھ رُک کر مولانا روم کا یہ شعر سنایا:

مولوی ہرگز نہ شُد مولائے رُوم
تا غلامِ شمسِ تبریز نہ شُد

پھر ایک سرد آہ بھر کر کہا: ’’تو یہ فیضان والی بات اہم ہے___ مگر وہ بات اب کہاں‘‘۔

میں خاموشی سے سُن رہا تھا ___ ملک صاحب کو جیسے کچھ یاد آگیا۔ کہنے لگے:

’’مکہ معظمہ میں فقہ کانفرنس ہونے والی تھی۔ مولانا کو دعوت نامہ آیا مگر ان کی صحت اچھی نہیں تھی۔ انھوں نے شرکت کے لیے مجھے بھیجا۔ یہ کانفرنس حج کے دنوں میں ہورہی تھی۔ میں گیا تو اس طرح مجھے حج کا موقع بھی مل گیا___ ‘‘

وفاقی شرعی عدالت کی ججی کا موضوع چھڑ گیا۔

فرمایا: ’’یہ بھی مولانا کی وجہ سے ہے___ ایک روز صدرمحمد ضیاء الحق [م: ۱۷؍اگست ۱۹۸۸ء] کا فون آیا کہ وفاقی شرعی عدالت کے لیے تین ججوں کی ضرورت ہے۔ دو تو مَیں منتخب کرچکا ہوں اور تیسرا نام تمھارا دیا گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کن لوگوں کا انتخاب کیا ہے توضیاء الحق صاحب نے بتایا کہ ایک تو مولانا محمدتقی عثمانی صاحب اور دوسرے ___ ‘‘ [راقم نام بھول گیا ہے] خیر، میں نے کہا: ’’یہ تو آپ نے بہت اچھا انتخاب کیا ہے___ مگر میرا تو قانون کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور میں عالم بھی نہیں ہوں، پھر مجھ سے کچھ زیادہ کام بھی نہیں ہوتا‘‘۔

ملک صاحب کے پاس بی اے کی ڈگری بھی نہ تھی۔ یہ بہت معروف قصّہ ہے، جو ملک صاحب کی زندگی میں سب سے اہم ڈرامائی تبدیلی تھی۔ ۱۹۳۹ء میں جب وہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور میں بی اے کے آخری سال میں تھے۔ پرنسپل(غالباً ایم اے غنی) نے سیّدمودودی کو کالج میں اسلامیات کی تدریس کی دعوت دی۔ حبیبہ ہال میں سیّد صاحب کے لیکچروں نے متعدد طلبہ (بشیر آزری، جیلانی بی اے، شیخ فقیرحسین، بشیراحمد ساجد) کو متاثر کیا بلکہ چونکا دیا مگر ملک صاحب کہتے ہیں کہ مولانا کی ایک آدھ تقریر سن کر ہی میں تو دل دے بیٹھا۔ انھوں نے سیّد صاحب کی تحریریں پڑھ کر بی اے کو ادھورا چھوڑا۔ ان کے اساتذہ ڈاکٹر سعید اللہ اور پروفیسر حمیداحمد خاں مرحوم نے انھیں سمجھایا، مگر وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے، اور حینِ حیات مولانا اور جماعت سے وابستہ رہے۔

جملہ معترضہ قدرے طویل ہوگیا۔ ملک صاحب سے گفتگو کی طرف پلٹتے ہیں۔ ’’صدر ضیاء الحق صاحب اصرار کرنے لگے، تو مَیں نے کہا: اچھا، اس سلسلے میں مشورہ کرتا ہوں___ ساتھ ہی صدرصاحب سے یہ بھی کہا کہ آپ نے عائلی قوانین کی اصلاح نہیں کی___ وہ ہنس کرکہنے لگے: آہستہ آہستہ ہوجائے گا ___ یہ ’اپوا‘ والی عورتیں شور مچاتی ہیں___ اور آپ انکار کرتے ہیں‘‘۔

اب مولانا مرحوم کے آخری دور کا ذکر ہوا۔ ملک صاحب نے بتایا:

’’مولانا علاج کے سلسلے میں امریکا میں تھے۔ میں نے انھیں خط لکھا کہ مولانا، میں نے کافی عرصے تک آپ کے ساتھ کام کیا ہے۔ میرے کام میں جو کوتاہی ہوئی ہو یا کمی رہ گئی ہو، براہِ کرم درگزر فرمایئے اور مجھے بتا دیجیے کہ آپ مجھ سے خوش ہیں۔ مولانا کا جواب آیا، جس میں انھوں نے مجھ سے حُسنِ ظن کا اظہار کیا، حالانکہ میں اس کا مستحق تو نہیں تھا۔ بہرحال، مولانا نے لکھا: ’’مجھے تم سے جو محبت ہے، تم اس کا اندازہ ہی نہیں کرسکتے۔ اور اس طرح کی باتیں تھیں‘‘___

’’وہ خط آپ کے پاس محفوظ ہے؟‘‘ میں نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔

ملک صاحب نے فرمایا: ’’نہیں، وہ خط ملتے ہی میں نے ضائع کر دیا تھا‘‘۔

پھر فرمایا: ’’بس یہ اُن کا فیض ہے___ انھوں نے دین کی بڑی خدمت کی ، علمی اور عملی ہرلحاظ سے‘‘۔

اس نشست کے آخر میں عرض کیا: ’’ملک صاحب! میں نے آپ کا کافی وقت لیا ہے‘‘۔

ملک غلام علی صاحب نے جواب میں یہ شعر پڑھا اور گفتگو ختم ہوگئی :

غنیمت جان رَل مِل بیٹھنے کو
جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے


راقم نے ملک غلام علی صاحب کو سب سے پہلے ۱۹۶۲ء-۱۹۶۳ء میں دیکھا۔ اس زمانے میں ہم سرگودھا میں رہتے تھے۔ وہ اپنے گائوں کی سیاست کے حوالے سے ایک جھوٹے مقدمے میں ماخوذ ہوگئے تھے۔ مقدمہ سرگودھا کی عدالت میں چل رہا تھا۔ملک صاحب کو ہرپیشی پر لاہور سے سرگودھا آنا پڑتا۔ پیشی کے دن سے ایک روز پہلے شام کو وہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سرگودھا آجاتے اور شب میں ہمارے ہاں، میرے والد صاحب کے کمرے میں قیام کرتے۔ صبح ناشتہ کرکے عدالت پہنچتے اور پیشی بھگتا کر اُسی روز واپس لاہور چلے جاتے۔کئی ماہ یا سال دو سال کی پیشیوں کے بعد، ایک روز وہ عدالت سے لوٹے تو یہ خوش خبری سنائی کہ مقدمہ خارج ہوگیا اور وہ بَری ہوگئے۔

عام طور پر لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ ملک صاحب کچھ عرصہ دعوتی اور تنظیمی فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ قیامِ پاکستان کے چند سال بعد وہ جماعت اسلامی حلقۂ لاہور کے قائم مقام امیر منتخب ہوئے اور مصطفیٰ صادق صاحب قیم تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ حلقۂ لاہور صرف لاہور شہر تک محدود نہ تھا، بلکہ پتوکی، چونیاں، قصور، للیانی اور بعض دوسرے قصبات بھی اس میں شامل تھے۔ قصبات کے ساتھ ملحقہ گائوں بھی۔ ہم دعوتی کاموں کے سلسلے میں گلی گلی اور قریہ قریہ جاتے۔ ملک صاحب درسِ قرآن و حدیث دیتے۔ کسی طرح کی سواری ہمارے پاس نہیں تھی، اس لیے سفر ہم بسوں میں کیا کرتے۔

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی دفاتر، ۱۹۷۵ء میں اچھرہ سے منصورہ منتقل ہوگئے۔ عملے کے لیے چند مکانات بھی تعمیر ہوچکے تھے۔ ملک صاحب بھی اچھرہ سے منصورہ کے ایک کوارٹر میں منتقل ہوگئے۔ ملک صاحب مولانا کے معاونِ خصوصی تھے، اس لیے چند برس تک اچھرہ جاتے رہے، لیکن جب طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تو پھر منصورہ ہی سے اپنی ذمہ داری ادا کرتے رہے۔

۸۰ء کے عشرے میں ملک صاحب وفاقی شرعی عدالت کے جج بن کر اسلام آباد چلے گئے، اور تقریباً چار سال تک خدمات انجام دیں۔ اس دوران میں وقتاً فوقتاً لاہور آتے، ملاقات ہوجاتی۔ ۱۹۸۵ء میں ججی سے سبک دوش ہوکر لاہور آگئے۔ اور ادارہ معارف اسلامی، منصورہ کے ایک کمرے میں بیٹھ کر کام کرنے لگے۔

شوگرکے مرض نے ان کی صحت کو بُری طرح متاثر کر دیا تھا۔ چلنا بھی دشوار ہوگیا۔ اس کے باوجود حسب ِ توفیق کچھ نہ کچھ چل لیتے اور کسی نہ کسی طرح ادارے میں پہنچ جاتے۔ آخری زمانے میں نماز کے لیے مسجد نہ آسکتے تھے۔ ایک دوبار ان کے بیٹے ملک ابراہیم صاحب ، والدماجد کو ویل چیئر پر نمازِ جمعہ پڑھوانے کے لیے لائے۔ ۲۶ستمبر ۱۹۹۴ء کو اپنے ربّ سے جاملے___ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، آمین!

معارفِ سیرتؐ، مرتبہ: محمدسعد خالد۔ ناشر: دارالکتاب، یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۴۷۴۷۶۷۱-۰۳۳۳۔ صفحات: ۵۸۴۔ قیمت: ۹۰۰ روپے۔

برصغیر پاک و ہند کی مجلاتی تاریخ میں ماہ نامہ معارف   ، اعظم گڑھ (اجرا: ۱۹۱۶ء) ایک سدابہار لہلہاتا شجرِ علم و فضل ہے، جس کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا:’’ معارف   ، ایک ایسا رسالہ ہے، جس کے پڑھنے سے حرارتِ ایمان میں ترقی ہوتی ہے‘‘ ، اور ڈاکٹر محمد حمیداللہ کے بقول: ’’ساری دُنیائے اسلام میں، عرب ہو کہ عجم، کوئی رسالہ اسلامیات پر، معارف   کے معیار کا نہیں‘‘۔ بلاشبہہ مختلف اوقات میں اس کے معیار میں اُتارچڑھائو آتے رہے ہیں، لیکن جس جاںفشانی سے اس کے مدیران نے اس کو باقاعدہ رکھا کہ وہ خود تاریخ کا روشن باب ہے۔

فاضل مرتب نے اس علمی مجلّے سے سیرتِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر ۳۱مقالات کا انتخاب مرتب کرکے پیش کیا ہے۔ سبھی عناوین اور مباحث دل نواز ہیں اور ایمان افروز۔(س م خ)


مکاتیب ِ صدر یارجنگ ، مرتب: سفیراختر۔ ناشر: قرطاس ، فلیٹ نمبر ۱۵، اے، گلشن امین ٹاور، گلستانِ جوہر، بلاک۱۵، کراچی۔ صفحات: ۲۱۲۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔

ابوالکلام آزاد کی غبارِخاطر کے مکتوب الیہ مولانا حبیب الرحمٰن خان شیروانی ’صدریار جنگ‘ کے نام سے بھی معروف ہیں۔ ڈاکٹر سفیراختر نے ۳۸ نام وَر شخصیات (الطاف حسین حالی، مولوی عبدالحق، عبدالعزیز میمن،امتیاز علی خان عرشی، سیّد سلیمان ندوی اور مسعود عالم ندوی وغیرہ) کے نام نواب صاحب کے خطوط مرتب کیے ہیں۔ پاورق میں حواشی و تعلیقات بھی شامل ہیں، اور آخر میں خطوں کے مآخذ اور اشاریہ۔ کتاب تدوین کی ایک خوب صورت مثال ہے۔

 خطوں کی اہمیت کا اندازہ ’پیش لفظ‘ نگار ڈاکٹر سیّد عبداللہ کے اس جملے سے لگایا جاسکتا ہے: ’’میں اسے دیکھ کر اتنا مسرور ہوا کہ کیفیتِ مسرت کو الفاظ کے قالب میں ڈھالنے سے قاصر ہوں‘‘۔ پھر سیّدصاحب نے ان خطوں کی خوبیاں گنوانے کے بعد بجاطور پر لکھا ہے کہ ’’اخترراہی [سفیراختر] نے یہ مکاتیب جمع کرکے بڑی خدمت انجام دی ہے‘‘۔(رفیع الدین ہاشمی)


اقتدار کی مجبوریاں، جنرل (ر)مرزا اسلم بیگ (مرتبہ: کرنل اشفاق حسین)۔ ناشر: ادارہ مطبوعاتِ سلیمانی، غزنی سٹریٹ،اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۳۲۷۸۸-۰۴۲۔ صفحات:۳۴۹۔ قیمت: ۶۵۰ روپے۔

طاقت کے سرچشموں پر ذمہ داریاں ادا کرنے والوں کی زندگی اور اُن کے ذاتی مشاہدات و واقعات سے واقفیت حاصل کرنا، عام اور خاص لوگوں کا فطری تقاضا ہے۔ زمانۂ وسطیٰ سے لے کر آج تک ایسے بہت سے مقتدر حضرات نے خود نوشت تحریر کیں، یا اُن کی سوانح عمریاں لکھی گئیں۔ جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ صاحب نے پاکستانی مسلح افواج کی قیادت ایک بڑے کٹھن دور میں کی۔ ان کی زندگی، مشاہدات اور تاثرات پر مشتمل یہ ایک دل چسپ اور معلومات افزا کتاب ہے۔

کتاب میں جنرل صاحب نے پاکستان کے ابتدائی زمانے کی فوجی زندگی اور خاص طور پر جہادِ افغانستان، ایٹمی پروگرام، جمہوریت کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ، وغیرہ پر بہت سی نئی معلومات فراہم کی ہیں۔ اس کتاب کے مبصرین نے عام طور پر مختلف سیاسی رہنمائوں کے حوالے ہی سے کتاب کو اہمیت دی ہے، لیکن اس کا نہایت اہم حصہ مشرقی پاکستان کے المیے سے متعلق ہے۔ یہاں اسی پہلو پر چند حوالے پیش کیے جارہے ہیں۔

جنرل صاحب نے بتایا ہے کہ مغربی پاکستان کے سیاست دانوں اور مقتدر طبقوں کی تمام تر ناانصافیوں کے باوجود مشرقی پاکستان میں نفرت کی آنچ تیز نہ ہوسکی۔ اہلِ فکرونظر اس بے رحمی سے باز آنے کے لیے بار بار توجہ بھی دلاتے رہے۔مذکورہ کمزوری سے دشمن ملک نے بہ سہولت فائدہ اُٹھایا۔ وہ بتاتے ہیں: ستمبر ۱۹۶۵ء کی جنگ نے مشرقی پاکستانی بھائیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی کہ تین طرف سے بھارت سے گھرے مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے صرف ایک ڈویژن فوج، فضائیہ کا ایک سکواڈرن اور بحریہ کے محض چند جہاز تھے (ص۸۱)۔ ازاں بعد شیخ مجیب الرحمٰن کی شعلہ بار خطابت اور عبدالحمید بھاشانی کے ’’جالن جالن، آگن جالن‘‘ [جلائو جلائو، آگ جلائو] کے نعروں نے مشرقی پاکستان میں آگ لگادی (ص۸۳)۔ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے انتخابات (دسمبر ۱۹۷۰ء) میں دو کے علاوہ مشرقی پاکستان سے تمام نشستیں جیت لیں۔ صدر جنرل یحییٰ خاں نے ۳مارچ ۱۹۷۱ء کو اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا، مگر فروری کے وسط میں مغربی پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے اجلاس ملتوی کرنے کے لیے دبائو بڑھایا اور ۲۸فروری کو دھمکی دی کہ ’’مغربی پاکستان سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والوں کی ٹانگیں توڑی دی جائیں گی‘‘ (ص۸۵) اور جنرل یحییٰ خان نے اجلاس ملتوی کر دیا۔ امیرجماعت اسلامی مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی نے اس اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’’اکثریتی پارٹی کو نئے آئین کا مسودہ پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، اور دوسروں کو اعتراض ہو تو دلائل کے ساتھ اپنی تجاویز پیش کریں.... صورتِ حال اتنی نازک ہے کہ غلط سمت میں اُٹھایا جانے والا ایک قدم بھی پاکستان ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے‘‘ (ص۸۴)۔ بھٹو، یحییٰ غیردانش مندانہ اقدام نے مشرقی پاکستان میں عدم تعاون کی خونی تحریک کو راستہ دیا، اور’’سول انتظامیہ مفلوج ہوکر رہ گئی۔ تمام احکامات عملاً عوامی لیگ کے سیکرٹریٹ سے جاری ہونے شروع ہوئے....پاکستان کے صوبوں کے مابین سیاسی توازن بحال رکھنے میں ناکام ہوگیا‘‘۔ (ص۸۵)

اس طرح مشرقی پاکستان عملاً انارکی کا شکار ہوکر اگلے ساڑھے آٹھ ماہ کے دوران بغاوت اور بھارتی جارحیت میں گھِر گیا۔ امن و امان کی بحالی کے لیے پاکستانی فوج کی تائید کرنے کی سزا کےطور پر مشرقی پاکستان سے جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتروشنگھو ( اسلامی جمعیت طلبہ) کے نیک اور صالح لوگوں پر جھوٹے مقدمات قائم کرکے انھیں آج تک پھانسی کی سزائیں سنائی جارہی ہیں، مگر ’’پاکستان کی طرف سے سرکاری سطح پر ان اقدامات کے خلاف کوئی آواز نہیں اُٹھائی گئی‘‘ (ص۸۴)۔

جنرل صاحب دل گرفتگی سے لکھتے ہیں: ’’ان نامساعد حالات میں بھی ہماری فوج نے بڑی ہمت اور جاں فشانی کا مظاہرہ کیا اور قربانیاں دیں، جنھیں ہم نے بھلا دیا۔ کتنے آفیسر اور جوان شہید ہوئے، جنھیں ہم یاد بھی نہیں کرتے‘‘ (ص ۹۴)۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’بھارت کی ایسٹرن کمان کے چیف آف سٹاف جنرل جیکب لکھتے ہیں کہ ’’پاکستانی سپاہی ایک ایک انچ زمین کے لیے لڑے۔ پانی میں اور دلدلی علاقوں میں مسلسل چل چل کر ان کے پائوں گل چکے تھے، نیند سے بے حال تھے، لیکن پھر بھی کوئی [پاکستانی]سپاہی بھاگا اور نہ ہی پیچھے ہٹا، بلکہ آخری دم تک لڑتا رہا‘‘ (ص۹۵)۔

یوں جنرل بیگ نے متعدد تفصیلات بڑے واشگاف لہجے میں بیان کی ہیں۔ بلاشبہہ اس کے باوجود کئی گوشے ایسے ہیں کہ جن پر اختصار کے بجائے تفصیل سے لکھنے اور بتانے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ کتاب اپنی نوعیت کے اعتبار سے بھی خاصی منفرد ہے، یعنی ایک میں تین: کہیں کتاب کے فاضل مرتب کرنل (ر) اشفاق حسین کا بیان ہے، کسی جگہ محترم جنرل صاحب کی تحریر ملتی ہے، اور پھر درمیان میں سوال و جواب شروع ہو جاتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس شان دار کتاب کو مختلف خلا پُر کرکے، ہموار انداز سے شائع کیا جائے۔ محترم مرتب اور ناشر اس خدمت پر قابلِ تحسین ہیں۔ (س م خ)


مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف ، حیات و خدمات -۲، مرتب: ڈاکٹر زاہداشرف، مکتبہ المنبر، عبدالرحیم اشرف ٹرسٹ،فیصل آباد۔ ملنے کا پتا: کتاب سرائے ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۴۱۶۔ قیمت: درج نہیں۔

اس کتاب کے حصّۂ اوّل پر تبصرہ ترجمان القرآن ستمبر ۲۰۱۸ء میں شائع ہوا تھا۔اِسی تسلسل میں زیرنظر جلد بارہ مصاحبوں اور عربی مضامین (بعض کے تراجم) پر مشتمل ہے۔ جن حضرات سے مصاحبے کیے گئے، اُن میں نام وَر بزرگ عبدالغفار حسن، مصطفیٰ صادق، جسٹس محمد افضل چیمہ، راجا محمد ظفرالحق، حکیم سیّد ظلّ الرحمٰن اور بیگم مولانا عبدالرحیم اشرف شامل ہیں۔ ان گفتگوئوں میں زاہد اشرف صاحب اپنے والد مرحوم سے بارہ شخصیات کے تعلق اور ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہیں اور قارئین کے لیے اُن کا تعارف بھی پیش کرتے ہیں۔ اِن گفتگوئوں میں مولانا عبدالرحیم اشرف کی شخصیت کے علاوہ اسلامی تحریکات، پاکستان میں نظامِ اسلامی کے امکانات، اُمت مسلمہ کے مسائل وغیرہ بھی زیربحث آئے ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)

تعارف کتب

  • ترکی جو میں نے دیکھا  ، ڈاکٹر اعجازفاروق اکرم۔ ناشر: مثال پبلشرز، رحیم سنٹر، امین پور بازار، فیصل آباد۔ صفحات: ۱۹۲۔ قیمت: ۵۰۰ روپے۔ [مصنف نے جمہوریہ ترکیہ میں اپنے حالیہ ایک سفر کی رُوداد لکھی ہے، اور قارئین کو مختلف مقامات کے بارے میں اپنے مشاہدات اور دلی کیفیات کا شریکِ سفر بنایا ہے۔]
  • آس کے دیپ ، شاہدہ سحر۔ ناشر: ماورا پبلشرز، ۶۰-شاہراہ قائداعظم، لاہور ۔ صفحات: ۲۵۵۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔ [حریم ادب پاکستان کی شاعرہ شاہدہ سحر کا پہلا مجموعۂ کلام مشتمل بر حمدونعت، غزلیات اور منظومات۔  سیاسی تحرک اور سماجی خدمات سے تعلق کی بناپر ان کی شاعری خصوصاً نظمیں زیادہ بامعنی اور پُرمطالب ہیں۔ فنی اعتبار سے انھیں نظموں کی مختلف اقسام پر بخوبی دسترس حاصل ہے۔]

انکارِ سنت کا فتنہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اُٹھا تھا اور اس کے اُٹھانے والے ’خوارج‘ اور ’معتزلہ‘ تھے:

’خوارج‘ کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنت حائل تھی، جس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا۔ اور اس کی راہ میں حضوؐر کے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں’ خوارج‘ کے انتہاپسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔ اس بنا پر انھوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔

’معتزلہ‘ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے، انھیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح انھیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔ انھوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر ’عقل‘ کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلام کے عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے، جس سے وہ ان نام نہاد ’عقلی تقاضوں کے مطابق‘ ہوجائیں۔ اس راہ میں پھر وہی حدیث و سنت مانع ہوئی۔ اس لیے انھوں نے بھی ’خوارج‘ کی طرح ’حدیث‘ کو مشکوک ٹھیرایا اور ’سنت‘ کو حجت ماننے سے انکار کیا۔

ان دونوں فتنوں کی غرض اور ان کی تکنیک مشترک تھی۔ ان کی غرض یہ تھی کہ قرآن کو اس کے لانے والے کی قولی و عملی تشریح و توضیح سے، اور اُس نظام فکروعمل سے جو خدا کے پیغمبرؐ نے اپنی رہنمائی میں قائم کر دیا تھا۔ الگ کرکے مجرد ایک کتاب کی حیثیت سے لے لیا جائے اور پھر اس کی من مانی تاویلات کرکے ایک دوسرا نظام بنا ڈالا جائے جس پر اسلام کا لیبل چسپاں ہو۔ (منصب رسالت نمبر، ترجمان القرآن، جلد۵۶،عدد ۶،ستمبر ۱۹۶۱ء، ص ۹-۱۰)