افغانستان پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کس طرح سے حملہ کیا؟ اس کے بارے میں ٍمعروف ابلاغی مراکز بشمول بی بی سی ہمیں سچی کہانی نہیں سناتے۔ میڈابنجمن اور نکولس جے ڈویز نے افغانستان پر حملے سے متعلق ایک مضمون میں بیان کیا ہے کہ نائن الیون کے حملوں کے تھوڑی ہی دیر بعد پینٹاگون کے ایک محفوظ حصے میں، ڈونلڈ رمزفیلڈ نے اپنے رفقائے کار کے ساتھ ایک نشست میں کہا: ’’اس بات کا جائزہ لیں کہ عراقی صدر صدام حسین پر اسی وقت حملے کے لیے کافی معلومات موجود ہیں نہ کہ اسامہ بن لادن پر حملے کے لیے۔ یہ معلومات تیزی سے جمع کی جائیں خواہ وہ متعلقہ ہوں یا غیرمتعلقہ‘‘۔ چنانچہ نائن الیون کے چند ہی گھنٹوں بعد ملٹری لیڈر عالمی سطح پر جنگ کے جواز کے لیے متحرک ہوگئے۔
نیویارک میں نائن الیون حملوں کے بارے میں سچ کیا ہے؟ سی آئی اے کے ایک اندرونی کارکن سوسن لنڈیئر کے فراہم کردہ ثبوت کے مطابق، سی آئی اے عالمی تجارتی مرکز پر حملوں کی منصوبہ بندی سے اپریل ۲۰۰۱ء سے بھی قبل آگاہ تھا۔ لنڈیئر کے مطابق یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ عمارت سے جہازوں کے ٹکرانے سے یہ منہدم نہ ہوگی، اس لیے حادثے کو جانتے بوجھتے تباہ کن بنایا گیا اور امریکی خفیہ کارندوں نے دھماکے سے اُڑ جانے والے دھماکا خیز مادے کو نصب کیا۔
دیگر شہادتیں بھی لنڈیئر کے دعوے کی تائید کرتی ہیں۔ نیویارک میں بہت سے لوگوں نے عالمی تجارتی مرکز کی عمارت کے ٹکڑوں کو بطورِ نمونہ محفوظ کرلیا تھا۔ ان کے کیمیائی تجزیے سے ایک عنصر Nanothermite کی موجودگی کا ثبوت ملتا ہے، جو بڑی شدت سے حرارت پیدا کرتا ہے، اور مضبوط اور آسمان کو چھوتی عمارتوں کے سٹیل کے ڈھانچے کو پگھلانے میں استعمال کیا گیا۔ عمارت کے انہدام کی وڈیوز سے یوں دکھائی دیتا ہے، جیسے دونوں عمارتیں کسی ’کنٹرول سسٹم‘ کے تحت گرر ہی ہوں۔ وڈیوز میں عمارتوں سے پگھلا ہوا سٹیل باہر نکلتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے۔ مزید برآں کھنڈرات میں تازہ تازہ پگھلے ہوئے سٹیل کے تالاب بنے ہوئے پائے گئےمگر فی الفور عوام کو دیکھنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔عمومی آگ سے درجۂ حرارت اتنا زیادہ نہیں ہوتا کہ لوہا پگھل جائے۔ نیویارک فائرڈیپارٹمنٹ کے کارکنوں نے بتایا کہ ’’انھوں نے عالمی تجارتی مرکز کی عمارتوں کے انہدام سے قبل بہت سے دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں‘‘۔
اس طرح امرواقعہ ہے کہ نائن الیون کے بارے میں سرکاری موقف جھوٹ پر مبنی ہے اور امریکی حکومت نے خود آگے بڑھ کر تباہی کو بدترین بنایا، تاکہ ایک نہ ختم ہونے والی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے لیے جواز پیدا کیا جاسکے اور امریکا میں شہری آزادیوں پر قدغن لگائی جاسکے۔ حیرت کی بات ہے کہ عالمی تجارتی مرکز پر حملے کے سرکاری موقف کو بہت کم لوگ چیلنج کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور جو اسے چیلنج کرتے ہیں وہ ’لیفٹسٹ‘ہیں یا ’دہشت گردوں کے ہمدرد‘۔ جیساکہ امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا: ’’آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے مخالف ہیں‘‘۔
’’سٹیل فریم کی بنی ہوئی بلندوبالا عمارتوں کے مکمل انہدام کو ’کنٹرول سسٹم‘ کے ذریعے ہی ممکن بنایا گیا ہے۔ آگ سے کبھی بلندوبالا عمارتوں کا مکمل انہدام نہیں ہوتا، اگرچہ بلند عمارتوں میں بکثرت آگ لگنے کے واقعات ہوتے ہیں۔
’’اگر عالمی تجارتی مرکز کی عمارت نمبر ایک، دو اور ساتویں کی تباہی کا سبب آگ لگنا ہے تو یہ اس نوعیت کی بلندوبالا سٹیل فریم عمارتوں کے مکمل طور پر انہدام کا تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے (بشمول پہلی اور دوسری عمارت کو جہاز کے ذریعے پہنچنے والا نقصان)، جب کہ آگ لگنے سے انہدام کی کوئی علامت نہیں نظر آتی ہے۔
’’ایڈورڈ منیاک، آگ سے محفوظ رکھنے والا انجنیرکہتا ہے:انہدام کا واقعہ ہونا ہی غیرمعمولی ہے، لیکن تین واقعات کا ایک ہی دن میں رُونما ہوجانا سمجھ سے بالاتر ہے‘‘۔
’’ ایک دوسرے ادارے کی رپورٹ میں عالمی تجارتی مرکز کی عمارتوں کے تیزی سے انہدام (free fall) کی وضاحت صرف نصف صفحے پر مبنی تھی، جب کہ مکمل رپورٹ ۱۰ہزارصفحات پر مشتمل ہے جس کا عنوان: ’انہدام کی ابتدا سے متعلق واقعات‘ہے‘‘۔اس رپورٹ میں انہدام کی رفتار پر صرف یہ کہا گیا ہے: ’’نیچے کے فرش اسے نہ روک سکے۔ اس لیے ہم نے اس بات کا تعین کرنے کے لیے کوئی اعداد و شمار جمع نہیں کیے… عالمی تجارتی مرکز کی دوسری عمارت سے پگھلا ہوا لوہا نہ صرف نظر آرہا تھا بلکہ درجنوں عینی شاہدوں نے تینوں عمارتوں کے ملبے میں انھیں دیکھا‘‘۔
شکوک و شبہات کو پرکھنا چاہیے:سیاسی قائدین عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بکثرت جھوٹ بولتے ہیں۔ ہم ہٹلر کے جھوٹ اور false flag واقعات کو جو دوسری جنگ ِ عظیم کے آغاز پر پولینڈ پر حملہ آور ہونے کے لیے پیش آئے یاد کرسکتے ہیں۔ پنٹاگون کی دستاویزات کو ڈینیل ایلزبرگ نے بڑی جرأت سے شائع کیا ہے، جن سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ ویت نام کی جنگ کی بنیاد بھی جھوٹ پر مبنی تھی۔ عراق پر مارچ ۲۰۰۳ء میں حملے سے قبل بھی جھوٹ بولے گئے۔ غالباً یہ درست ہے کہ عوام کو ہرجنگ سے قبل، جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد میں جھوٹ بول کر ورغلایاجاتا ہے۔ ہمیں اپنے سیاسی قائدین اور ذرائع ابلاغ کے پیدا کردہ شکوک و شبہات سے ضرور سبق سیکھنا چاہیے۔ (کاؤنٹر پنچ، ۲ستمبر ۲۰۲۱ء)
جدید معاشروں کی سرگرمیاں پانچ وسائل سے متعین ہوتی ہیں: جدید سائنس، ٹکنالوجی، سرمایہ، انسانی عقل اور خواہشاتِ نفس۔ جدید مغربی تہذیب کے یہی پانچ بڑے خدا ہیں۔ جدید تعلیم یافتہ انسان اپنے ہرمسئلے کے حل کے لیے انھی پانچ خدائوں کی طرف دیکھتا ہے ۔ان کے ہاں کوئی مسئلہ اسی وقت بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، جب یہ پانچ خدا اس کا حل دینے میں ناکام ہوجائیں۔ ایسی صورت میں جدید معاشرہ شدید خوف، گھبراہٹ اور مایوسی کاشکار ہوجاتا ہے۔
ایمان لانے والے فردکا معاملہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھلے مقصد کے لیے ان وسائل کو اپنے ایمانی نقطۂ نظر کے تحت دیکھے اور دین کی شرائط بندگی پر بروئے کارلائے۔ لیکن اس قابل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان پانچ وسائل کی پوشیدہ قباحتوں سے بخوبی واقف ہو اور ان کے امکانی شر سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے نفس کی نگرانی اورتزکیہ کرتا رہے۔ ایمانی تناظر میں مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب مسلمان کا بھروسا، اعتبار، یقین اور اُمیدیں ان پانچ اسباب پر قائم ہوجائیں اور وہ ان اسباب کے نفسیاتی، معاشرتی اور ماحولیاتی نقصانات سے لاعلم رہتے ہوئے ان کا استعمال کرتا رہے۔
چونکہ جدید مغربی تہذیب کی ترقی کی بنیاد خدائے واحد اور روح کے انکار کو قرار دیا جاتا ہے، لہٰذا اس کا تصورِ مسئلہ بھی مادی ہے اور اس کی تشخیص کے اسباب اور حل کی نوعیت بھی مادی ہے۔ وہ مسائل جو غیرمادی یاروحانی نوعیت کے ہیں،ان کی شناخت جدید سائنس نہیں کرپاتی اور اگر کسی وجہ سے وہ عیاں ہو بھی جائیں تو انھیں توجہ کے لائق نہیں سمجھا جاتا۔ جدید سائنس، مادی دنیا کے حوالے سے اپنی دانست میں جو مفروضے اوراندازے قائم کرتی ہے اور انکشافات اورایجادات ممکن بناتی ہے، وہ عموماً انسان کی مادی خواہشات ہی کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کی زندگی کی معنویت کا نہیں۔زندگی کی معنویت کا تعین کرنے والا نظام، الہامی ہدایت سے استفادہ کرکے ہی ممکن ہے۔
انسان کی زندگی کا بامعنی ہونا، اس کی زندگی میں آسایشوں کے ہونے سے کہیں زیادہ ضروری اوراہم ہے۔ جدید سائنس اور ٹکنالوجی نے کائنات میں فساد پیدا کرنے کے علاوہ انسان کو سرمایہ دارانہ نظام کی غلام گردشوں میں اُلجھا کر رکھ دیا ہے۔ مسلمان کی ذمہ داری یہ تھی (اور یہ ہے) کہ جدید سائنس اور ٹکنالوجی کی بنائی ہوئی دُنیا کااسیر بننے کے بجائے اس فساد کی نشان دہی کرے، جو ہوس کے نتیجے میں سائنس اور ٹکنالوجی نے پیدا کررکھا ہے اور جس سے مغربی دنیا کا عام آدمی ابھی تک ناواقف ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آج کا مسلمان اپنے ضعف ِ علم و ایمان کے باعث اس فرق کو نہیں پہچان پایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے، غالب مغربی تہذیب کے علمی اورعملی انکارکے بجائے اس کی مرعوبیت اورغلامی کا بُری طرح شکار ہیں اور ترجیحات کی لگ بھگ اُسی ترتیب میں اپنے معاملاتِ زندگی طے کر رہے ہیں، جو خدائے واحد کے انکار کرنےوالوں نے بنائی ہے۔
محض سرمایے کی محبت اور اس میں اضافے کی فکر اور اس سے اپنی توقعات کا وابستہ ہوجانا، مسلمان کے ایمان کے لیے انتہائی مہلک ہے۔مال اسی صورت میں اللہ کا فضل ہے، جب تک مسلمان کا دل اس کی محبت سے خالی ہے۔ بصورتِ دیگر یہ ایک بڑا فتنہ ہے۔ مسلمان کے پاس جتنی بھی دولت آجائے، اس کی اپنے مستقبل سے بے فکری کی بنیاد، سرمایے پر بھروسا یا انحصار نہیں بلکہ اللہ کی رزّاقی پریقین ہونا چاہیے۔ اسی طرح مسلمان کو تنگدستی میں بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے سرمایے کی تمنا کرنے کے بجائے اللہ کی مدد پر بھروسا کرتے ہوئے اپنے حصے کی کوششیں کرنی چاہییں۔
عقل اللہ کی دی ہوئی انتہائی اہم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ عقل کے تین بڑےامتیازات ہیں: پہلا یہ کہ عقل، حقیقت تک پہنچنے میں انسان کی مدد کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کا حقیقت تک پہنچنا اس کی روشن مثال ہے۔ دوسرا یہ کہ عقل ، علم نافع کی روشنی میں نفس کے میلانات اورداعیات کا محاسبہ کرتی ہے۔ تیسرا یہ کہ عقل، معاملاتِ زندگی کو سمجھنے اورمسائل کو حل کرنے میں انسان کی مدد کرتی ہے۔
انسان کی فطرت اسے فوری فائدے کی طرف للچاتی ہے اورعقل یہیں دھوکا کھاجاتی ہے۔ وہ بڑی تمکنت کے ساتھ چندروزہ زندگی کے فائدے کو ہمیشہ کی زندگی کے فائدے پر فوقیت دے کر یہ سمجھتی ہے کہ اس نے بڑا کمال کیا ہے۔ پھر غالب تہذیب کا تصورِ کامیابی اس کے ایمانی تصورِ کامیابی پر غالب آجاتا ہے۔ عقل کا دوسرا بڑا مسئلہ اس کا گھمنڈ اور اپنی استعداد پرناز ہے۔ عقل کی یہ ترنگ اسے وحی سے بے نیاز کردیتی ہے۔ انسان اس صورت میں اس زعم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ خیر اور حق کا تعین خود کرسکتا ہے۔ اس کا اپنی عقل پر یہ ایمان پیدا ہوجاتا ہےکہ میری عقل ہرمسئلے کا حل دے سکتی ہے۔ مجرد عقل کے ساتھ گمراہ ہونے کی بہت بڑی مثال ابوجہل کی ہے، جس کو اس کی قوم نے عقل میں بلند ہونے کی وجہ سے ابوالحکم کا خطاب دے رکھا تھا۔
ابلیس نے جب آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا، تو اس کی بنیاد عقل کی ایک منطق تھی کہ ’’مَیں جو آگ سے بنا ہوں، اس گارے سے بنی مخلوق کے آگے کیوں سر جھکا دوں‘‘۔ ابلیس نے اللہ کی اطاعت کو محض عقل کے تابع کرنے کی کوشش کی۔ دین کے تناظر میں عقل، منصف نہیں ہے۔ بلکہ بندگی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے وجود کو، جس میں عقل بھی شامل ہے، اللہ کا مطیع بنالے۔ سجدہ اسی بات کا علامتی اعتراف ہے کہ انسان اپنی عقل کو اللہ کے علم، حکمت، دانائی اورقدرت کے سامنے کچھ نہیں سمجھتا۔ اپنی عقل کے بھرپور استعمال کے باوجود اس کا اصل بھروسا اور یقین اللہ کے علم و حکمت پر ہے۔
یہی اس کا تصورِ عقل مندی ہے۔ بندۂ مومن کی عقل، اللہ کی اطاعت کرنے میں حیل وحجت نہیں کرتی۔ درحقیقت اسی عقل کو عقلِ سلیم کہتے ہیں۔ جدید مغربی تہذیب میں عقل کا بہت بڑا مصرف، نفسانی خواہشات کی تکمیل کے راستے تلاش کرنا اور ان پر چلتے رہنا ہے۔ ایمانی مناسبت سے عقل کا ایک بہت اہم مصرف ان خواہشات کا تجزیہ اور محاسبہ ہے۔ انسان کا اگر ہرلمحہ تزکیہ ہوتا رہے اور اسے نفسِ مطمئنہ حاصل ہوجائے تو اس کی خواہشات بہت نفیس اور پاکیزہ ہوجاتی ہیں۔
انسان کی بے پناہ خواہشات اسے نفس کی غلامی میں دھکیل دیتی ہیں۔ انسان کی خواہشات چپکے چپکے اس کا اِلٰہ بن جاتی ہیں۔ جھوٹے ربّ اور جھوٹے الٰہ کا فرق سمجھنا بھی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اگر انسان غیرمشروط طورپر اپنے دل کی خواہشات کے پیچھے چل رہا ہو یا اس کی پیروی کر رہا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ خواہشات اس کا الٰہ ہیں۔ اور اگر وہ یہ سمجھتا ہو کہ اس کی عقل سارے مسائل حل کردے گی تو اس کا مطلب ہے کہ عقل کو ربّ کادرجہ مل گیا ہے۔ ربّ اور الٰہ کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ مسلمان خود کو جھوٹے خدائوں کے پھندے سے نکال سکے۔ جدید مغربی تہذیب اور سرمایہ دارانہ نظام ان پانچ جھوٹے خدائوں کے گٹھ جوڑ کی کہانی ہے۔ جس نے اللہ کی نشانیوں کو نظر سے اوجھل کرکے سارے عالم کو بُت کدہ نما بنا دیا ہے۔انھی جھوٹے خدائوں نے آج مسلمانوں کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے۔
اس وقت کرونا وائرس کے نتیجے میں جو صورتِ حال پیدا ہوئی ہے اسے دنیا کچھ وقت کے لیے تو سمجھ ہی نہیں پائی کہ یہ مسئلہ کیا ہے اور اس کو کیسے سنبھالنا ہے۔ کچھ سمجھ میں نہ آنے والی کیفیت ، گھبراہٹ اور شدید خوف کا باعث بن گئی۔ ایسا خوف جو انسان کی نفسیاتی اور جسمانی صحت کے لیے مضر ہو،وہ ایمان کی کمی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور پھر ایمان کو مزید کمزور تر کر دیتا ہے۔ خوف کی ایسی صورتِ حال پیداہوجائے تو پھر اللہ کے سوا دنیا کی کوئی طاقت اسے انسان سے نہیں نکال سکتی۔ وہ لوگ جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں، انھیں بے خوف اور بے غم رکھنے کے لیے اللہ، فرشتوں کو خصوصی احکامات کے ساتھ نازل کرتا ہے:
جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا ربّ ہے، اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقینا اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اُن سے کہتے ہیں کہ ’’نہ ڈرو نہ غم کرو ، اور خوش ہوجائو اُس جنّت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اس دُنیا کی زندگی میں بھی تمھارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمھیں ملے گا اور ہرچیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمھاری ہوگی، یہ ہے سامانِ ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے۔(حٰم السجدہ ۴۱: ۳۰-۳۲)
جب انسان ایک اللہ کو چھوڑتا ہے تو اسے بہت سارے خدا بھی کافی نہیں ہوتے۔ مغربی نفسیات میں ’ذہن کا مادّے پر تصرف‘ کے عنوان سے ایک پورا نقطۂ نظر موجود ہے۔ جو بتاتا ہے کہ ’’اگرآپ کو چوٹ لگ جائے لیکن آپ کو ذہنی طور پر اس بات کا یقین دلوا دیا جائے کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے تو وہ واقعی کچھ بھی نہیں ہوتا‘‘۔ اسی طرح ’مصنوعی دوا‘(placebo medicine) کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ’’ذہن کی کیفیت اوردل کے یقین کی اہمیت کسی مرض کے علاج میں دوا سے کہیں زیادہ ہے‘‘۔مراد یہ ہے کہ اللہ کے نہ ماننے والے اس نظریے تک پہنچ گئے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اللہ کو نہ ماننے والوں کے لیے اللہ کو ماننے کا بہت بڑا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
خوف اور گھبراہٹ کا تسلسل اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ آپ کسی معاملے، مسئلے یا خطرے کو بہت بڑا جان لیں اور اپنے وجود کی گہرائیوں میں اس کی بڑائی کو محسوس کرنا شروع کردیں۔ خوف کی یہ صورت فرد کی ایمانی اور نفسیاتی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ ایک بندۂ مومن کو ہرلمحہ اس بات کا احساس اور یقین ہونا چاہیے کہ اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔ وہ کارسازضرور میری مشکل حل کر دے گا۔ مومن کے لیے صرف ایک ہی خوف جائز ہے اوروہ ہے روزِ آخرت اپنے عمل کی جواب دہی کا خوف۔ اسلام لانے اور اللہ کو اپنے معبود ہونے کا اقرار کرنے کا مطلب یہی ہے کہ اب دل میں کسی کی ایسی بڑائی اور عظمت قبول نہیں کی جاسکتی، جس سے اللہ کے ساتھ تعلق اور اس کی عظمت پر حرف آئے۔ خوف کا شدت اختیار کرجانا دراصل بندے اور اللہ کے درمیان تعلق کے تعطل کا سبب بن جاتاہے۔ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب دل صرف اور صرف اللہ کا ہوگیا ہے۔ اس میں کسی اور کے آنے کی گنجایش اللہ کے دیے ہوئے احکامات کی تعمیل کے حوالے سے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔
ایک عالمی ادارے Worldmeters کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ انسان ایک دن میں موت کا شکار ہوجاتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایک ماہ میں تقریباً ۴۵لاکھ اور تین ماہ میں تقریباً ایک کروڑ ۳۵ لاکھ انسان اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، جب کہ کرونا وائرس سے گذشتہ آٹھ ماہ، یعنی فروری سے ستمبر۲۰۲۰ء کے دوران تقریباً ۹لاکھ ۴۲ ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ لاکھوں لوگ روزانہ مر کر کہاں جارہے ہیں؟ ان کا کیا بن رہا ہے؟ بات یہ ہے کہ یہ لوگ زمان و مکان اور جسم و عمر کی قید سے باہر نکل جاتے ہیں اور درحقیقت واپس بلا لیے جاتے ہیں۔
ان لاکھوں مرنے والوں میں سے بہت بڑی تعداد کو اپنی موت سے چند منٹ پہلے تک بھی یہ پتا نہیں تھا کہ یہ ان کے اس دُنیا میں آخری لمحات ہیں۔ عقیدے اور ایمان کے تناظر میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کسی وائرس یا بیماری سے کیسے بچا جائے؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اپنی موت کی تیاری کیسے کی جائے؟ جب کہ ربِّ کریم نے موت سے ہمکنار کرنے کا ایک اور ذریعہ بھی انسان کو دکھا دیا ہے۔
اس وقت دُنیا بھر کے سات ارب انسان اپنے آپ کو کورونا وائرس سے اور اس کی اگلی لہر سے بچانے میں مصروف اور خوف زدہ ہیں۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا کیا ہوگا؟ کافر اور مومن کی نفسیات میں ایک بنیادی فرق یہی ہے کہ کافر موت سے ڈرتا اورمومن جواب دہی سے۔ کافر موت کا ذکر نہیں سننا چاہتا اور مومن اپنی موت کو یاد رکھنے کے لیے اس کا روزانہ ذکرکرتا ہے۔اس کے لیے کسی بھی جنازے میں شرکت اپنے دل کے زنگ کی صفائی، ایمان کی تجدید، اور جواب دہی کی فکر کے احساس کو تازہ کرنے کا ایک اہم موقع ہوتا ہے۔ اسی لیے جنازوں میں شرکت کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ اورنمازِ جنازہ کے بعد تدفین کے لیے قبرستان میں موجودگی پراور بھی زیادہ زور دیا گیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے مسلمان میں اپنی ایمانی کمزوری کے باعث موت کا خوف طاری ہوگیا ہے۔ اور اس خوف نے زندگی سے تقویٰ اور احساسِ ذمہ داری کو شدید صد مہ پہنچایا ہے۔
گذشتہ پانچ صدیوں میں اور سقوط غرناطہ کے تھوڑے ہی عرصے بعد دنیا نے بہت بڑی بڑی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے ۔اسی عرصے میں یورپ اپنے عافیت کدے سے نکلا اور عالمی وسائل پر قبضہ جمانے اور انھیں اپنے ہاں منتقل کرنے کے لیےاپنے وقت کی مہذب دنیا پر درندےکی مانند ٹوٹ پڑا۔ مسلم مشرق پر براہِ راست یہ حملہ دو عنوان سے تھا:صلیبی فوجی حملوں کا تسلسل اور عالمی تجارت پر غلبہ ۔ نئی جغرافیائی دریافتوں نے یورپ کو مہمیز دی اور استعماری قبضہ بڑھانے کے لیے انھی کو یورپ نے وجۂ جواز بھی بنایا ۔’نئی دنیا‘یعنی شمالی امریکا کی دریافت بھی دراصل مشرق (خصوصاً مسلم ہندستان) تک رسائی ہی کی ایک کوشش تھی۔یورپی اقوام میں سخت مقابلہ تھا کہ نئے دریافت شدہ خطوں کے وسائل پر تسلط جما کر انھیں اپنے ہم عصر وں اور پرانی دنیا پر اپنی دھاک، دھونس جمانے کے لیے استعمال میں لایا جائے۔
اس دوران مسلم دُنیا کے اوّلین دفاعی مورچے اور مشرق کی طرف یورپی اقوام کے پہلے پڑاؤ، شمالی افریقہ(تیونس ،الجزائر ،مراکش اور لیبیا) پر کیا گزری ؟ خطے کی تاریخ کا یہ عرصہ جن اہم حوادث اور واقعات سے پُر ہے، اسے سمجھے بغیر خطے کے موجودہ حالات کو سمجھنا مشکل ہے ۔
سقوط غرناطہ اور اندلس سے مسلمانوں کو کھرچ کر نکالنے کا سلسلہ کم و بیش ایک سو برس تک جاری رہا۔ اس دوران اسپین اور پرتگال کی فوجیں مسلسل شمالی افریقہ کے ساحلوں کو تاراج کرتی رہیں۔ مراکش کے شہر سبتہ سے ملیلہ تک ،الجزائر اور تیونس کے ساحلوں سے لے کر طرابلس الغرب، یعنی لیبیا کے ساحل تک، یہ سارا علاقہ ان ابھرتی ہوئی یورپی استعماری طاقتوں اور مقامی مسلمان حکمرانوں کے درمیان میدان جنگ بنا رہا ۔جلد ہی خطے کے مسلم حکمرانوں کو اندازہ ہوگیا کہ اس بڑھتے صلیبی حملے کو روکنا ان کے بس میں نہیں ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے بچاؤ کے لیے خلافت عثمانیہ سے مدد کی اپیل کی ۔خلافت کی مداخلت اور عملی فوجی مدد ہی کے نتیجے میں تیونس اور الجزائر اس ہلاکت خیز یورپی استعماری یلغار سے بچنے میں کامیاب رہے ۔ چنانچہ مراکش نے بھی عثمانیوں سے دفاعی معاہدہ کیا اور یوں شمالی افریقہ، یورپی سیلاب کے آگے بند باندھنے میں کسی حد تک کامیاب ہوگیا ۔مراکش کے صرف دو شہر سبتہ اور ملیلہ یورپیوں کے قبضے میں رہ گئے تھے ۔
اسپین اور پرتگال کے کمزور پڑجانے پر شمالی افریقہ کی صورت حال میں کچھ بہتری آئی اورانتظامِ حکومت مقامی لوگوں کے ذریعے چلایاجانے لگا۔ اس نئے انتظام کی سربراہی، سرپرست کے طور پر عملی یا رسمی خلافت عثمانیہ کرتی تھی۔
انقلاب فرانس کے بعد اور نپولین بونا پارٹ کے یورپ اور پوری دُنیا پر تسلط جمانے کے عزم نے مصر اور شمالی افریقہ کو ایک بار پھر فرانس کی سامراجی ریشہ دوانیوں کا شکار کردیا۔ ۱۹ویں صدی کےصنعتی انقلاب نے جارح یورپ کی طاقت میں بے تحاشا اضافہ کردیاتھا۔اب پورے شمالی افریقہ پر قبضہ کا پرانافرانسیسی خواب پھر انگڑائی لینے لگا۔ یوں ۱۸۸۱ءتک تیونس اور الجزائر، فرانسیسی قبضے تلے سسک رہے تھے ۔
یورپی سامراج نے دونوں ملکوں پر تسلط جمانے کے لیے دو مختلف انداز اختیار کیے تھے۔ تیونس اور پھر مصر کو بھی بیرونی قرضوں کے جال میں جکڑاگیا۔ سرکاری سطح پر بے تحاشا اسراف، اشرافیہ کی شاہانہ زندگی اور ظاہری نمود ونمایش پر بے اندازہ خرچ کرنے کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جاتی رہی، بلکہ ہر سطح پر اس کے فروغ میں فعال کردار اداکیا گیا ۔دونوں ملک جب مالیاتی دیوالیہ پن کا شکار ہوئے تو قرض خواہوں کے حقوق کے نام پر دونوں ملکوں کو مالیاتی حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا، جو آگے چل کر سیاسی غلبے اور پھر فرانس کےمکمل قبضے پر منتج ہوا ۔اس عرصے میں خلافت عثمانیہ پر جب بھی کڑا وقت آیا، ان قابض سامراجی طاقتوں نے اسے خطے میں اپنے اثر و نفوذ کو بڑھانے کے لیے سنہری موقعے کے طور پرلیااور اپنا استبدادی پنجہ محکوموں کی گردن پر گاڑتے چلے گئے ۔
تاہم، الجزائر کی مقامی حکومت نے شاہِ فرانس نپولین کے دور میں ہونے والےفرانس کے محاصرے سے فائدہ اٹھایا اور اپنے آپ کو اقتصادی طور پر کچھ مضبوط کرلیا ۔ مگر فرانس نے جنگ چھیڑنے کے لیے یہاں پر بھی بہانہ انھی پرانے قرضوں کو بنا یا، جو الجزائر کے ذمے واجب الادا تھے ۔جنگ بلقان کے دوران ایک ہی ہلے میں ایک طرف سربیا،یونان اور دوسری طرف الجزائر پر ہاتھ صاف کرلیے ۔یوں شمالی افریقہ کے یہ مسلم ملک طویل دور ظلمات میں دھکیل دیئے گئے۔ ایک ایسا تاریک عہد کہ جس میں استعمار ی قبضہ تھا،فرنچ تہذیب کا غلبہ تھا ،تیونس اور الجزائر کی اسلامی شناخت مٹانے اور جغرافیائی خدوخال بگاڑنے کے منصوبے تھے ۔
۱۹۱۴ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو شمالی افریقہ کی ان محکوم اقوام کو جنگ کی تپتی بھٹی میں جھونک دیا گیا ۔اس بھٹی میں الجزائر اور سینی گال جیسے بڑے ملکوں کے باشندے ایک بڑی تعداد میں جل مر ے ۔ مارے جانے والے کتنی بڑی تعداد میں تھے ؟ اس کا اندازہ تیونس جیسے چھوٹے ملک کے ہلاک شدگان کی تعداد سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ پہلی جنگ عظیم میں تیونس کے ۸۰ ہزار مسلمان، فرانسیسی پرچم کی سربلندی کے لیے اپنی جان کی بازی ہارگئے۔
جنگ کے خاتمے پر اور خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد ’انجمن اقوام‘ (League of Nations) کی چھتری تلے نوآبادیاتی یورپی طاقتوں نے ’انتداب‘ (mandate)کا ڈول ڈالا ۔ انتداب کے اس نام نہاد نظام کے تحت قابض طاقت ہی کو یہ قانونی حق دے دیا گیا کہ وہ مغلوب قوم پر اپنا سامراجی شکنجہ مضبوط کرے اور اس کی اجتماعی زندگی ،سیاسی اداروں اور جغرافیے کی تشکیلِ نو کرے۔ اقبالؒ بالادست یورپی طاقتوں کی ان چیرہ دستیوں کی بہترین تصویر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
آ بتاؤں تجھ کو رمز آیۂ ان الملوک
سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادو گری
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلادیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری
ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
مجلس آئین و اصلاح و رعایات و حقوق
طب مغرب میں مزے میٹھے، اثر خواب آوری
’نظام انتداب‘ کے بعد داخلی خود مختاری کا ڈول ڈالاگیا ۔مقصدتھا مقامی چہروں مہروں کے ساتھ استبداد ی نظام قائم رکھنا ۔ تیونس میں سیاسی ادارے اور سیاسی جماعتیں بھی تھیں، لیکن سب کا اختیار و اقتدار انتہائی محدود ۔ملک اقتصادی اور ثقافتی طور پر پوری طرح فرانس کا محکوم اور باج گزار بنادیا گیاتھا۔جس نے رفتہ رفتہ تیونس کی اپنی شناخت، عقیدے ، اصول ،اس کی تہذیب و ثقافت ، زبان و تمدن سب کچھ کو مکمل بدل کر رکھ دیا۔
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا درمیانی عرصہ نیشنل از م کے علَم برداروں کے لیے انتہائی مایوس کن تھا ۔ پہلی جنگ عظیم میں فرانس دنیا کی سپر پاور بن کر ابھرا تھا۔اس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی بَری فوج تھی ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا ظالموں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ رکھی ۔اس کی سنت اس میں ہر دم جاری و ساری رہتی ہے: وَلَوْ لَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ۰ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ(البقرہ ۲:۲۵۱) ’’اگر اس طرح اللہ، انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے ہٹاتا نہ رہتا، تو زمین کا نظام بگڑجاتا‘‘۔
دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوتے ہی نازی جرمنی کے ہٹلر نے فرانس پر قبضہ کرلیا ۔یہ فرانسیسی غرور اور نخوت کے لیے ذلت کا مقام تھا اور اسی سے فرانس کا اپنے طبیعی جغرافیائی حدود کی طرف واپسی کا سفر شروع ہوگیا۔ پھر فرانس کو ۱۹۵۴ء کی ویت نام جنگ میں بھی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ تھے وہ حالات جن میں الجزائر اور تیونس میں آزادی کی تحریک نے زور پکڑ ا ۔یوں خطے میں سیاسی ،انقلابی اور فوجی جدوجہد کا آغاز ہوگیا۔فرانس نے اپنے نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے سیاسی تدبیروں کا آغاز کیا ۔ سب سے پہلے محکوم قوموں کو داخلی خود مختاری کی نوید سنائی گئی۔ لیکن کس نخوت کے ساتھ ؟ اس کے لیے فرانسیسی وزیر اعظم کا وہ خطاب پڑھنے کے لائق ہے، جو تیونس کے محمد الامین کے سامنےکیا گیا تھا:’’تیونسی قوم جس حد تک ترقی کرچکی ہے، ہمیں اس پر خوشی منانے کا پورا حق ہے، خصوصاً اس لیے کہ ہم نے ہی تیونس کو ترقی دینے میں اصل کردار ادا کیا ہے۔ یہاں کی اشرافیہ کی بالغ نظری قابلِ تحسین ہے اورجواز فراہم کرتی ہے کہ تیونسی قوم اپنے امور خود سنبھالے ۔اس لیے ہم تیار ہیں کہ داخلی امور تیونسی افراد اور اداروں کے سپرد کردیں‘‘۔
حبیب بورقیبہ نےبطور سربراہ دستوری فریڈم پارٹی مجوزہ داخلی خود مختاری کے لیے فرانس تیونس مذاکرات کی فوری تائید کردی۔مجاہدین آزادی اور مزاحمت کاروں کو پہاڑوں سے اتر آنے اور ہتھیارسپرد کردینے کا مشورہ دیا ۔تاہم، سویزر لینڈ میں مقیم پارٹی کے سیکرٹری جنرل صالح بن یوسف نے کھل کر حبیب بورقیبہ سے اختلاف کیا اوراس پر وطن سے غداری کا الزام عائد کیا ۔ مسلح مجاہدین کو نہ صرف تیونس بلکہ پورے شمالی افریقہ کی مکمل آزادی تک مزاحمت جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
تاہم، جنگ عظیم میں زخم خوردہ فرانسیسی حکومت نے منصوبے کے مطابق مئی ۱۹۵۵ء میں داخلی خود مختاری کے قانون پر دستخط کردئیے ۔جلا وطن بورقیبہ واپس وطن لوٹ آئے اور انھیں آزادی کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا اورپھر مراکش کےبعد ۲۰ مارچ ۱۹۵۶ء کو تیونس کو بھی مکمل آزادی دے دی گئی۔
۲۵جولائی ۱۹۵۷ء کو پارلیمان کی تائید سے بورقیبہ نے بادشاہت ختم کردی اور خود تیونس کے صدر بن گئے ۔بورقیبہ نے اپنے اقتدار کے ابتدائی مہینوں سے ہی، تیونسی معاشرے کو فرانسیسی مقتدرہ کے حسب منشا ڈھالنے پر کام شروع کردیا تھا۔ اگست ۱۹۵۶ء کو سرکاری گزٹ میں ’نیاپرسنل لا‘ شائع ہوا، جس کے تحت دوسری اور تیسری شادی پر قانوناً پابندی عائد کردی گئی اور سول کورٹس کو طلاق کے معاملات پر نظرثانی کا اختیار دے دیا گیا۔اوقاف تحلیل کردئیے گئے اورشرعی عدالتوں کو ختم کرتے ہوئے فرنچ جوڈیشل سسٹم نافذ کردیا گیا ۔
۱۹۵۸ء میں جامعہ زیتونہ کے نظام تعلیم اور اس تاریخی اسلامی یونی ورسٹی کے زیر انتظام اداروں کو تعلیم کے عمومی سیکولر نظامِ تعلیم میں ضم کردیا گیا۔ اسی مہینے میں تیونس کی نیشنل آرمی تشکیل دی گئی اور اپریل ۱۹۵۶ء میں سکیورٹی سسٹم کو مکمل طور پر سیکولر تیونسی رنگ میں رنگ دیا گیا ۔
جون ۱۹۵۹ء میں جمہوریہ تیونس کا پہلا آئین نافذہوا اور اسی سال نومبر میں ایک مضحکہ خیز الیکشن میں بورقیبہ ۹۹ فی صد ووٹ لے کر پانچ برس کے لیے جمہوریہ کے پہلے صدر بن گئے اور ان کی فریڈم پارٹی نے پارلیمنٹ کی ۱۰۰ فی صد نشستیں حاصل کرلیں ۔
سیاسی محاذ پر صالح بن یوسف کے حامیوں کا گھیرا تنگ کیا جاتا رہا ۔ان کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں اور ان عدالتوں نے مخالفین کو پھانسیوں کی سزائیں سنانا شروع کردیں۔ حتیٰ کہ ۱۹۶۱ء میں صالح بن یوسف قتل کردئیے گئے۔
۱۹۶۲ء میں روزہ رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ سرکاری طور پر تجویز یہ کیا گیا کہ سرکاری ملازم اپنے روزوں کی قضا ریٹائرمنٹ پر ایک ساتھ یا دیگر مناسب اوقات میں اپنی مرضی سے پوری کرلے ۔بورقیبہ نے کوشش کی کہ تیونسی شہریوں کو مقدس مقامات کی زیارت خصوصاً حج بیت اللہ سے روکا جائے ۔دلیل یہ دی گئی کہ ’’حج پر جانے سے ملک کا قیمتی زر مبادلہ صرف ہوتا ہے‘‘۔ سرکاری سطح پر متبادل یہ تجویز کیا گیا کہ ’’حج کے بجائے اولیاء اللہ اور صالحین کے مقامی مزاروں سے خیر و برکت حاصل کرلی جائے ۔ابو زمعۃ البلوی یاابولبابۃ الانصاری کے مزار اقدس پر حاضری دے لی جائے ‘‘۔ یہ تجویز کسی ادنیٰ سرکاری ملازم کی نہیں تھی بلکہ جمہوریہ تیونس کے صدر حبیب بورقیبہ نے خود صفاقس شہر میں ۲۹؍اپریل ۱۹۶۴ء کو اپنے خطاب میں دی تھی ۔
جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فرانسیسی فوجیں ۱۹۶۳ء تک تیونس میں تھیں تو ہمیں پے درپے لوگوں کے عقیدے اور ایمان کے خلاف کیے گئے ان فیصلوں کی اصل وجہ سمجھ میں آنے لگتی ہے۔ فرانس کامنصوبہ تھا کہ کہ تیونس پر اس کا غلبہ کمزور نہ ہو، بلکہ مقامی باشندوں کے بھیس میں اس کا اثر و نفوذ برقرار رہے ۔یوں بظاہر تیونس آزاد توہوا لیکن بورقیبہ کی وحشت انگیز ڈکٹیٹر شپ کے زیر سایہ چلاگیا۔ ۳۰ برس بعد بورقیبہ ڈکٹیٹر شپ اس عوامی انقلاب کے نتیجے میں ختم ہوئی جسے آج روٹی کا انقلاب کہا جاتا ہے ۔ تاہم، اس انقلاب کے بعد بھی تیونس، فرانس کے پروردہ گماشتوں کے پنجہ سے نہ نکل سکا کہ نیا حکمران بن علی تھا، مکمل طور پر بورقیبہ کی فوٹو کاپی ۔
۲۰۱۱ءمیں پھر تیونس کے دبے ہوئے ،زیر دست ،مفلوک الحال عوام میں سے ایک، ریڑھی بان ،بوعزیزی کی خود سوزی نے ایک اور عوامی انقلاب کو جنم دیا۔بوعزیزی کے راکھ میں دبے شراروں سے اٹھے اس انقلاب نے جلد ہی پوری عرب دنیا کو ربیع عربی (عرب بہار ) کی لپیٹ میں لے لیا اور عشروں سے جمے عرب آمروں کے تخت الٹ گئے ۔
تیونس کا پھر ایک اور دستور بنا۔ اس نئے دستور اورنئے انتظام کے تحت ملک بظاہر جمہوری دور میں داخل ہوچکا تھا، لیکن صدر قیس سعید کے حالیہ ا قدامات سے ایسے لگتا ہے کہ تیونس پر ایک نیا بورقیبہ مسلط ہوچکا ہے ۔جو اگرچہ فصیح عربی بولتا ہے لیکن اپنے حقیقی خیالات کا اظہار اپنے آقاؤں کی زبان فرانسیسی میں کرتا ہے ۔ ایمرجنسی لگانے اور دستور کو معطل کرنے کے اقدامات سے دراصل یہ زمانے کے پہیے کو پھر سے الٹاگھمانے کا خواہش مند ہے ۔چاہتا ہےملک کو پھر سے واپس فرانسیسی دور میں لے جائے ۔
اگرچہ تیونس میں یہ بحث ابھی جاری ہے کہ صدر کا اقدام بغاوت تھی یا صحیح راستے کی طرف واپسی؟ تاہم، اطلاعات ہیں کہ امریکا کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ نے فون کرکے مطالبہ کیا ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل اور معطل پارلیمنٹ کو بحال کیا جائے ۔ باالفاظ دیگر صدر کے نام مغربی آقائوں کا پیغام یہ ہے کہ تم نے ایمرجنسی لگاکر اچھا کیا ہے لیکن ہمیں تمھاری کامیابی کا یقین نہیں ہے۔
تیونس میں لگی حالیہ ایمرجنسی کے دوران قصر صدارت میں یہ واقعہ بھی پیش آیا ہے کہ یہاں کے دورے پر آئے ہوئے چند امریکی صحافی گرفتار ہوئے۔پھر انھیں صدارتی مہمان بناکر شرف ملاقات بخشا گیا۔ ملاقات میں صدر تیونس یقین دلاتے رہے کہ ’’میں ڈکٹیٹر نہیں ہوں‘‘ اور مہمانوں کو فرانسیسی زبان میں امریکی دستور کے اقتباسات سناتے رہے۔آخر میں جب ان صحافیوں نے اپنے سوالات صدر کے سامنے رکھنا چاہے تو انھیں نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کردیا گیا ۔
غالباً یہ صدارتی مہمان اپنے میزبان سے وہی سولات کرنا چاہتے تھے، جو آج کل تیونس میں زبان زد عام ہیں: کیا واقعی فرانس تیونس سے دست بردار ہوچکا ہے یا ہمیں آزاد ہونے کا صرف وہم لاحق ہے ؟
اس زمانے میں اسلامی نظام کو جو چیز نافذ ہونے سے روک رہی ہے اور جو رجحانات اور نظریات اس کے راستے میں سدِّراہ ہیں، ان کا اگر تجزیہ کرکے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ انھیں مسلمان ملکوں پر مغربی قوموں کے طویل سیاسی غلبے نے پیدا کیا ہے۔
مغربی قومیں جب ہمارے ملکوں پر مسلّط ہوئیں تو انھوں نے ہمارے قانون کو ہٹا کر اپنا قانون ملک میں رائج کیا۔ ہمارے نظامِ تعلیم کو معطل کرکے اپنا نظامِ تعلیم رائج کیا۔ تمام چھوٹی بڑی ملازمتوں سے اُن سب لوگوں کو برطرف کیا جو ہمارے تعلیمی نظام کی پیداوار تھے اور ہرملازمت ان لوگوں کے لیے مخصوص کردی جو اُن کے قائم کردہ نظامِ تعلیم سے فارغ ہوکر نکلے تھے۔ معاشی زندگی میں بھی اپنے ادارے اور طور طریقے رائج کیے اور معیشت کا میدان بھی رفتہ رفتہ اُن لوگوں کے لیے مخصوص ہوگیا جنھوں نے مغربی تہذیب و تعلیم کو اختیار کیا تھا۔ اس طریقہ سے انھوں نے ہماری تہذیب اور ہمارے تمدن اور اس کے اصولوں اور نظریات سے انحراف کرنے والی ایک نسل خود ہمارے اندر پیدا کردی، جو اسلام اور اس کی تاریخ، اس کی تعلیمات اور اس کی روایات ہرچیز سے علمی طور پر بھی بیگانہ ہے اور اپنے رجحانات کے اعتبار سے بھی بیگانہ۔
یہی وہ چیز ہے جو دراصل ہمارے اسلام کی طرف پلٹنے میں مانع ہے۔جن لوگوں کو ساری تعلیم اور تربیت غیراسلامی طریقے پر دی گئی ہو وہ آخر اس کے سوا اور کہہ بھی کیا سکتے ہیں کہ اسلام قابلِ عمل نہیں ہے ۔ جس نظامِ زندگی کے لیے وہ تیار کیے گئے ہیں اسی کو وہ قابلِ عمل تصور کرسکتے ہیں۔ اب لامحالہ ہمارے لیے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: یا تو ہم من حیث القوم کافر ہوجانے پر تیار ہوجائیں اور خواہ مخواہ اسلام کا نام لے کر دُنیا کو دھوکا دینا چھوڑ دیں۔ یا پھر خلوص اور ایمان داری کے ساتھ (منافقانہ طریق سے نہیں) اپنے موجودہ نظامِ تعلیم کا جائزہ لیں اور اس کا پورے طریقہ سے تجزیہ کرکے دیکھیں کہ اس میں کیا کیا چیزیں ہم کو اسلام سے منحرف بنانے والی ہیں اور اس میں کیا تغیرات کیے جائیں جن سے ہم ایک اسلامی نظام کو چلانے کے لیے قابل لوگ تیار کرسکیں۔ (’رسائل و مسائل‘ ، ترجمان القرآن، جلد۵۷،عدد ۱،اکتوبر ۱۹۶۱ء، ص۵۰-۵۱)