مضامین کی فہرست


دسمبر ۲۰۲۱

دعوتِ دین اور کلمۂ حق بلند کرنے کی روایت، درحقیقت کلمۂ طیبہ اور کلمۂ شہادت سے وابستہ ہے۔ اس روایت پر عمل کرنے والے قابلِ قدر انسان ہرزمانے میں اور ہرعلاقے میں موجود رہے ہیں۔ افسوس کہ بہت سے مقامات پر ایسے عظیم محسنوں کی خدمات کو بھلا دیا گیا، یا پھر انھیں مسخ کرکے کچھ کا کچھ بنا دیا گیا۔

یہ مضمون بنگالی میں لکھی گئی نہایت اہم کتاب کی بنیاد پر لکھا گیا ہے، جو ۳۰سال قبل شائع ہوئی تھی، جو برصغیر پاک و ہند کی اسلامی تاریخ کے ایک روشن باب کی نایاب اور مفید جھلک پیش کرتی ہے۔ اس میں ہندستان کے ایک معروف صوفی مولانا حامد بنگالی کے حالاتِ زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ سولھویں صدی کی اس تاریخی سوانح اور تابندہ شخصیت کے مطالعے اور توجہ کا ایک سبب مولانا حامد کا دوسرے اسلامی ہزاریہ کے بہت اہم مصلح مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ (۹۷۱ھ - ۱۰۳۴ھ / ۱۵۶۴ء-۱۶۲۴ء) کے ساتھ خدمات انجام دینا ہے۔

آج بنگلہ دیش کے شہری علاقوں میں قوم کے بیش قیمت اسلامی ورثے کو اپنانا اور اس پر فخر کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے، جیساکہ بڑے پیمانے پر مذہبی رسوم کو بالخصوص ملک کے دیہی علاقوں میں ادا کیا جاتا ہے۔ انتہاپسند سیکولر اور ہندونواز بنگلہ دیشی انتظامیہ کی طرف سے برسوں پر پھیلے اسلام مخالف پروپیگنڈے نے قوم کے نوجوانوں کو تقریباً قائل کرلیا ہے کہ ’’ملک میں داخلی  قوم پرستی کے مقابلے میں اسلام کی حیثیت ایک بیرونی چیز کی سی ہے‘‘۔ بھارت کے بہت زیادہ اثرانداز ہونے کی بناپر بنگلہ دیش کی تاریخ کو اَزسرِنو مرتب کیا جارہا ہے، بالخصوص ان مسلمانوں کا نام و نشان اور حوالوں کو مٹایا جارہا ہے، جن عظیم مسلمانوں نے اس خطے کی تاریخ کا رُخ متعین کرنے میں غیرمعمولی کردار ادا کیا تھا۔

مولانا حامد بنگالی کی رُودادِ حیات کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے تقریباً پانچ سو سال قبل برصغیر میں اسلام پھیلانے اور مسلمانوں کی اصلاح کے لیے شان دار جدوجہد میں کردار ادا کیا۔ اگرچہ خطے کی مسخ شدہ تاریخ کے مقابلے میں اس عظیم شخصیت کی سرگزشت بیان کرنے کے لیے یہ کتاب ناکافی ہے، تاہم، ہم نے سوچا کہ اس مبارک کام کا آغاز ہوسکتا ہے۔ حامد بنگالی ان پُرعزم، نڈر اور بے باک لوگوں میں سے تھے، جن کی جدوجہد سے سرزمین بنگال و آسام یا آج کے بنگلہ دیش اور مشرقی ہندستان میں اسلام نے بڑے پیمانے پر جڑپکڑی، نشوونما پائی اور پھلا پھولا۔

مولانا حامد کی سرگزشت اس وقت تک بیان نہیں کی جاسکتی ،جب تک ان کے رہنما اور محب شیخ احمد سرہندی فاروقیؒ کی جدوجہد کی وضاحت نہ کی جائے، جنھیں احیائے اسلام کی جدوجہد میں ایسا بلند مقام ملا ، جو احیائے اسلام کی طویل جدوجہد میں کسی اور مصلح کو کم ہی حاصل ہوا۔

شیخ احمد سرہندیؒ کی اصلاحات کی وسعت اور عظمت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے، اب سے پانچ سو سال پہلے کی سیکولر یا ’روشن خیال‘ نئی نئی اختراعات و خرافات کو جاننا ضروری ہے، جو آہستہ آہستہ بڑے پیمانے پر مذہبی رسوم کے نام پر پھیل گئی تھیں۔ پھر اس زمانے کے حکمرانوں کی طرف سے کیے گئے اقدامات کو جاننا بھی ضروری ہے، جن کا مقصد اسلام کو ہندستان سے تقریباً مٹا دینا تھا۔

اس زمانے کے برصغیر میں اسلام فکری پیش رفت اور پھیلائو کو کھو رہا تھا۔ اگرچہ مسلم، عوام اسلام سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور مختلف رسوم سے وابستہ تھے، جن کی اسلام سے نسبت نہیں تھی۔ مثال کے طور پر صوفیا کے مزاروں اور درگاہوں کی غیرمعمولی تعظیم اور اس سے ملتی جلتی دیگر مذہبی رسمیں عام ہوگئی تھیں۔صوفیا کرام مختلف مکاتب ِ فکرسے تعلق رکھتے تھے۔ وہ خانقاہیں اور مراکز تعمیر کرنے میں مصروف تھے، جب کہ مسلم عوام اپنی محدود اسلامی تعلیم کی وجہ سے ایمانیات میں تحریف اور نئی نئی اختراعات کو پہچاننے کے اہل نہ تھے۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ مسلم اقلیت سماجی طور پر ہندو اکثریت کی توہمات اور غیر اسلامی رسوم و رواج کے رنگ میں رنگی جارہی تھی۔

برصغیر میں مسلم تاریخ کے اس پیچیدہ مرحلے پر، مغلیہ دورِ حکومت میں شہنشاہ اکبر [۱۵۴۲ء-۱۶۰۳ء] کی تخت نشینی [۱۵۵۶ء]نے اس خرابی میں اور اضافہ کردیا۔ اکبر کی تخت نشینی اس کی کم عمری میں بطور ایک صحیح العقیدہ مسلمان کے ہوئی تھی، لیکن یہ صورتِ حال زیادہ دیر تک قائم نہ رہی۔ ایک کم علم اور نوعمر کی طرح اس کی مذہبی فکر اور اعمال ایک سمت سے دوسری سمت کی طرف بدلتے رہتے تھے۔ مسلمانوں کے لیے یہ بات صدمے کا باعث اور پریشان کن تھی کہ کس طرح   وہ ایک مسلمان سے دین میں بڑے پیمانے پر بنیادی تحریفات اور نت نئی اختراعات کرنے والا، اصل عیسائی (Proto Christion)، خفیہ ہندو (Crypto Hindu)، ملحد اور مُرتد ہوگیا۔

اکبر کا ایک ہندو عورت سے شادی کرنا، عیسائیوں، یہودیوں، زردشتوں کے پیشوائوں کے ساتھ عموماً یک طرفہ مکالمہ عام سی بات تھی۔ پھر اس کا غیرمذہبی اور ملحدمشیروں پر انحصار بڑھتا گیا، جن میں ابوالفضل فیضی [م:۱۶۰۲ء] اور بے حد خوشامدی مُلّامبارک جیسے علما شامل تھے۔ مُلّامبارک نے رُسوائے عالم فتویٰ (رجب ۹۸۷ھ) دیا اور بعد میں اسے ایک شاہی فرمان قرار دیتے ہوئے اکبر کو ’امیرالمومنین‘ قرار دےدیا ، جس کے تحت اکبر اسلامی اُمور میں فیصلہ کن اختیار کا مالک بن گیا۔ اس طرح اس کو مذہبی اور ثقافتی اُمور میں بے راہ روی اور ارتداد میں مدد ملی۔

اکبر کی زندگی میں اس تباہ کن طرزِعمل کی رُودادکافی طویل ہے۔ منتخب التواریخ کے مطابق جو اس کے دورِحکومت کے احوال پر بحث کرتی ہے، اس میں اکبر کے اپنے درباری اور ہم عصر مؤرخ مُلّاعبدالقادر بدایونی [م:۱۶۰۵ء] نے لکھا کہ ’’اکبر نے زکوٰۃ پر پابندی لگا دی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کا تمسخر اُڑایا، دینی علوم کی تعلیم کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں (مثلاً، احمدؐ، محمدؐ اور مصطفےٰؐ) کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کچھ درباریوں کو کہا کہ وہ یہ نام بدل لیں، دربار میں اذان پر پابندی لگا دی، پنجگانہ نماز کی ادائیگی، رمضان کے روزوں، حتیٰ کہ حج کی ادائیگی سے روک دیا۔اس نے سورج کی پرستش کا آغاز کیا، سلام کرنے کے لیے ’السلام علیکم‘ اور جواب دینے کے لیے ’وعلیکم السلام‘ کو ’اللہ اکبر‘ اور ’جل جلالہ‘ سے تبدیل کر دیا۔ اس نعرے کا مطلب تھا ’اکبرخدا ہے‘ اور دوسرے حصے کے مطلب ’جلال‘ تھا۔ ایک ہزار ہجری کے اختتام پر اس نے اس نعرے کو سکّوں پر بھی نقش کروایا۔

اکبر نے اپنے عجیب و غریب مذہب کو ’دین الٰہی‘ کا نام دیا، اور اپنی ذات کو زمین پر  ’خدا کا سایہ‘ قرار دیا اور دربار میں حاضر ہونے والوں کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں (اس رسم کو اس کے پوتے اورنگزیب نے ختم کیا)۔ مؤرخین خواہ ماضی کے ہوں یا حال کے، حتیٰ کہ وہ بھی جنھوں نے اکبر کی مذہبی پالیسیوں کا دفاع کرنے کی کوشش کی، اکبر کی ان بیش تر زیادتیوں سے انکار نہیں کرسکتے۔

معروف برطانوی مؤرخ ونسنٹ آرتھر اسمتھ [م: ۱۹۲۰ء] نے اپنی کتاب Akbar The Great Mogul میں لکھا ہے: ’’اکبر بادشاہ کے تمام اقدامات کا خلاصہ ہندو، جین اور پارسی مذہبی رسوم کو اپنانا تھا، جب کہ لازمی اسلامی رسوم و رواج کی حوصلہ شکنی اور ان پر پابندیاں لگانا تھا‘‘۔ انڈین مؤرخ ایشوری پرشاد [م: ۱۹۸۶ء] کہتے ہیں: ’’بادشاہ کے ہاتھوں محمد کے دین کی توہین،   اس کے جاری کردہ قوانین و ضوابط سے عیاں تھی،جو علما کو اشتعال دلانے اور مسلمانوں میں تشویش کا باعث بنی‘‘۔ حالات اس وقت بدترین صورت اختیار کرگئے، جب اسلامی ہجری کیلنڈر کے پہلے ہزارسال ۱۵۹۱ء میں اختتام کو پہنچ رہے تھے اور اس وقت اکبر کا دورِ حکومت۳۵ویں سال میں داخل ہورہا تھا۔ اکبر اپنے آپ کو اگلے ہزاریے کا مقتدر اعلیٰ تسلیم کروانے کی خواہش میں ناکام رہا۔

عبدالقادر بدایونی کے مطابق: ’’شہنشاہ کا یقین تھا کہ اسلام صرف ایک ہزار سال کی زندگی رکھتا ہے، جس کے بعد وہ اسلام سے مکمل طور پر دست بردار ہونے کے لیے آزاد ہوگا‘‘۔ اکبر کے  تاریخ نویس ابوالفضل کا دعویٰ تھا کہ ’’اکبر دوسرے اسلامی ہزاریہ کے افتتاح کے لیے پیدا ہوا ہے‘‘۔

اکبر کے ان سیاہ ترین اقدامات کے باوجود جلد ہی اسلام کی فطرت میں موجزن تحریک اور جذبے نے ان شرمناک اکبری اقدامات کو مسترد کر دیا۔ اسلام کی سچی روح بیدار ہوگئی اور ایک نیا اور ممتاز مسلم معاشرہ تعمیر کی راہ پر گامزن ہوگیا۔ اس پیچیدہ صورتِ حال میں اسلام کی یہ شان دار خدمت ایک شان دار تحریک کے ذریعے ممکن ہوئی، جس کا اجرا شیخ احمد سرہندی فاروقیؒ نے کیا۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ [م: ۱۹۹۹ء]کے بقول: ’’درحقیقت یہ ان [شیخ احمد سرہندی]کی کامیابی تھی کہ ان کی شہرت کی وجہ سے انھیں ’مجددالف ثانی‘ یا دوسرے ہزاریہ کا احیا کرنے والے کا لقب عطا کیا گیا، جس [نام] سے لوگ زیادہ واقف ہیں بہ نسبت ان کے ذاتی نام سے‘‘۔

کتاب مولانا حامد بنگالی ،حضرت مجدد الف ثانیؒ کی زندگی کی ولولہ انگیز رُوداد بیان کرتی ہے اور وہ غیرمتزلزل عزم کہ جس کے ساتھ انھوں نے جدوجہد کی اور جو مشکلات پیش آئیں ان پر شان دار فتح حاصل کی، اس کی یاد دلاتی ہے۔ حضرت مجدد ؒ کے ہاتھوں اکبرکے اسلام مخالف اقدامات اور ظالمانہ رجحانات کے خاتمے کی مہم نے عوام پر گہرے اثرات مرتب کیے، حتیٰ کہ شاہی دربار کے کچھ معززین بھی متاثر ہوئے۔ مجدد الف ثانیؒ نے ہندستان کے تمام حصوں اور گردونواح کے ممالک میں اپنے خلفا (نائب) مقرر کیے۔ اکبر کا جانشین شہنشاہ جہانگیر [م:۱۶۲۷ء] اس کامیابی پر چونک گیا اور اس بات سے ڈر گیا کہ غالباً شیخ احمد سرہندیؒ اس کے خلاف ایک بغاوت برپا کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی تزک جہانگیری میں جہانگیر نے لکھا ہے کہ ’’مجدد نے ہرشہر اور ملک میں اپنے شاگردوں کو بھیجا، جنھیں وہ نائب یا خلیفہ کہتا تھا‘‘۔ اور یہ کہ ’’میں نے مجدد کو قید کر دیا اس بات کی یقین دہانی کے پیش نظر کہ عوام کا جوش و جذبہ ختم کیا جاسکے‘‘۔

شہنشاہ جہانگیر نے شیخ احمد سرہندیؒ کو اپنے دربار میں پیش ہونے کے لیے کہا۔ دربار کے مفتی اور ولی عہد خرم (شاہجہان) [م: ۱۶۶۶ء]کی بار بار ہدایت کے باوجود حضرت مجددؒ نے شہنشاہ کے سامنے تعظیمی سجدہ کرنے سے انکار کر دیا (جو اکبر نے متعارف کروایا تھا)۔ جب شہنشاہ جہانگیر نے انکار کا سبب پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ’’میں اللہ اور اس کے رسولؐ کے بیان کردہ تعظیمی آداب کے سوا کسی کو تسلیم نہیں کرتا‘‘۔ جس پر جہانگیر نے برہم ہوکر انھیں حکم دیا کہ کچھ بھی ہو وہ اسے سجدہ کریں۔لیکن حضرت مجددؒ نے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ ’’میں اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کر سکتا‘‘۔ طیش میں آکر شہنشاہ نے گوالیار کے قلعے میں انھیں قید کرنے کا حکم دے دیا۔ حکومت نے ان کا گھراور پانی کا کنواں، پھل دار درخت اور کتابیں ضبط کرلیں۔ ان کے خاندان کے افراد کو زبردستی کسی دوسری جگہ منتقل کردیا گیا۔

تاہم، یہ قید اُن کے لیے باعث ِ رحمت ثابت ہوئی۔ انھوں نے اس موقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اورزیادہ روحانی استعداد حاصل کی اور دیگر قیدیوں میں تبلیغ کی۔ اس طرح بڑی تعداد میں غیرمسلم قیدی مسلمان ہوگئے تو انھوں نے مسلمان اور نومسلم قیدیوں کی اصلاح اور تعلیم و تربیت پر توجہ دی۔ جیل کی دیواروں کے باہر ان کی شہرت بڑے پیمانے پر پھیل گئی اور شہنشاہ پر دبائو اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ انھیں پورے احترام کے ساتھ رہا کیا جائے۔

مولانا حامد بنگالیؒ کو مجدد الف ثانی ؒنے بنگال میں اپنا خلیفہ مقرر کیا۔ دراصل حضرت مجددؒ کے دو شاگردوں کے نام ایک جیسے تھے: ایک حامد کا تعلق پنجاب سے تھا اور وہ حامد لاہوری کہلاتے تھے۔ چنانچہ مجدد نے ان کے ناموں میں فرق کرنے کے لیے ان کے نام کے ساتھ ان کے علاقے کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا، جسے انھوں نے بڑے احترام کے ساتھ اپنایا۔

مولانا حامد بنگالیؒ ۱۵۹۸ء کے دوران، مغربی بنگال کے ازانی منگل کوٹ، ضلع بردہامان کے معروف قاضی خاندان میں پیدا ہوئے۔ صدیوں سے نامور قائدین اس علاقے کے دورے کرتے رہے ہیں۔ ایک مرحلے پر ۱۶۲۲ء میں شہزادہ خرم نے اپنے والد شہنشاہ جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی اور ۱۶۲۴ء میں بنگال کو فتح کرلیا۔ اس دوران وہ شیخ حامد کے پاس حاضر ہوا اور حصولِ تخت میں کامیابی کے لیے دُعا کی درخواست کی۔ شب بھر کی ریاضت کے بعد اگلی صبح شیخ حامد نے شہزادے کو کہا کہ ’’ان شاء اللہ تخت اسی کو ملے گا‘‘۔ اس پیش گوئی کےچار سال بعد شہزادہ خرم نے اقتدارِشاہی حاصل کرلیا۔

شیخ حامد نے اعلیٰ تعلیم دہلی کی جامعہ میں حاصل کی، جب کہ تخصص کے لیے وہ لاہور تشریف لائے۔ اس زمانے میں شہزادہ خرم (شاہجہاں) بھی دہلی کی جامعہ میں ایک طالب علم تھا، جن دنوں شیخ حامد بنگالی، جامعہ سے تعلیم حاصل کررہے تھے۔ شیخ حامد کی شان دار علمی کامیابی علما میں معروف تھی۔ اسی بنا پر آگرہ کے مشہور مفتی عبدالرحمٰن سے ان کی دوستی ہوگئی۔  شیخ حامد، مفتی عبدالرحمٰن صاحب کے پاس حصولِ علم اور عالمانہ مباحث کے لیے ان کے گھر جایا کرتے تھے۔ یہیں پر ایک روز شیخ احمد سرہندیؒ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ ایک ماہر جوہرشناس کی طرح انھوں نے فوری طور پر جان لیا کہ شیخ حامد ان کی تحریک کے لیے بہت مفید ہوسکتے ہیں اور انھوں نے انھیں اپنی تحریک سے وابستہ ہونے کے لیے کہا۔

سرہند میں ایک سال تک حضرت مجددؒ کے ساتھ انھوں نے قیام کیا۔ پھر شیخ سرہندیؒ نے انھیں اپنا خلیفہ بناکر بنگال واپس جانے کی اجازت دی۔اجازت نامے پر مبنی خط کا عکس اور ترجمہ کتاب میں دیا گیا ہے۔ مجدد الف ثانیؒ نے مولانا حامدؒ کی غیرمعمولی علمی اور روحانی استعداد کی تحسین فرمائی ہے اور اسی بنا پر انھیں خلیفہ مقرر کیا گیا۔ صوفی حامد بنگالیؒ، مجدد الف ثانیؒ کے تمام خلفاء میں سرفہرست ہیں۔

منگل کوٹ میں مولانا حامد ؒ نے اپنے سابق مدرسہ میں بطورِ سربراہِ ادارہ ذمہ داریاں سنبھالیں اور اس کا معیار اس قدربلند کردیا کہ بنگال اور ملک کے دوسرے حصوں سے طلبہ ان کی زیرنگرانی حصولِ علم کے لیے جوق در جوق وہاں آنے لگے۔ تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ انھوں نے مجدد الف ثانیؒ کی اصلاحی تحریک میں مرکزی کردار ادا کیا اور بنگال کے مسلمانوں میں رائج غیراسلامی خرافات، اوہام اور بدعات کو دُور کرنے کے لیے جدوجہد کی۔ مولانا حامد بنگالیؒ کا انتقال ۱۰۵۰ھ [م: ۱۶۴۰ء] میں ہوا۔

اس کتاب مولانا حامد بنگالی: ایک مرشد اور  روحانی رھنما (بہ زبان بنگلہ) از اظہرالدین مُلّا (ناشر: اسلامک کلچرل سنٹر، ڈھاکہ، بنگلہ دیش) سے معلوم ہوتا ہے کہ شہنشاہ شاہجہان نے مولانا حامدؒ سے محبت و احترام کا رشتہ قائم رکھا۔ ۱۰۵۵ھ [۱۶۴۵ء] میں تخت نشین ہوتے ہی اس نے بنگال کے گورنر قتلوخان کو حکم دیا کہ وہ مولانا حامدؒ کے خاندان کی دیکھ بھال کرے۔ لیکن گورنر نے پیغام بھیجا: ’’ مولانا کا انتقال ہوچکا ہے اور مدرسہ کی حالت خستہ ہے‘‘۔ یہ پیغام ملتے ہی شاہ جہاں نے حکم دیا کہ ’’مولانا کی قبر کے قریب ایک مسجد تعمیر کی جائے‘‘۔ چنانچہ بارہ دری مسجد تعمیر کی گئی۔ اس قدیم مسجد کا کچھ حصہ اور چند مینار آج بھی قائم ہیں۔ سنگ بنیاد پر عربی میں کندہ تحریر یہ بتاتی ہے: شہاب الدین محمد شاہجہان بادشاہ نے اسے ۱۰۶۵ھ [۱۶۵۵ء]میں تعمیر کیا۔

جنوبی ایشیائی ممالک میں ہر سال کہیں خشک سالی، سیلاب، تپش، سمندری طوفان اور اب جاڑوں میں ہوائی آلودگی کی وجہ سے سیکڑو ں افراد لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔۲۰۰۹ء میں کوپن ہیگن میں ماحولیاتی کانفرنس سے قبل اس وقت بھارت کے وزیرماحولیات نے پاکستانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اقبال خان سے ملاقات کے بعد بتایا تھا کہ ’’دونوں ممالک ماحولیات سے متعلق مشترکہ موقف اپنائیں گے اور اشتراک کی راہیں ڈھونڈیں گے‘‘۔ مگر اس سمت میں ایک قدم بھی آگے بڑھ نہ سکا۔ بجائے کسی مشترکہ حکمت عملی کے، ۲۰۱۴ءکے بعد تو ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ مشترکہ دریاؤں کے پانی کو بھی روکنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

ماحولیاتی تباہی کے سوال پر بھارت اور پاکستان کے درمیان اشتراک اس لیے اشد ضروری ہے، کیونکہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریائوں کو پانی فراہم کرنے والے کشمیر اور لداخ کے پہاڑوں میں موجود گلیشیر تیزی کے ساتھ پگھل کر ختم ہو رہے ہیں۔ پچھلے دو عشروں سے کشمیر کے سب سے بڑے ’کلاہوئی گلیشیر‘ کی ناک ٹاپ۲۲میٹر سے زائد پگھل چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار ۲۰۰۷ء کے ہیں ۔ اس کے بعد تو مزید تباہی آچکی ہے۔ اس کے اطراف کے چھوٹے گلیشیر تو کب کے ختم ہوچکے ہیں۔ ہمالیہ خطے کے۱۵ہزار گلیشیر دنیا کے چاربڑے دریاؤں سندھ، گنگا، میکانگ اور برہم پترا کے لیے منبع کا کام کرتے ہیں۔ تقریباً تین ارب افراد کی زندگی ان کے پانیوں کی مرہون منت ہے۔

ایک بھارتی سائنس دان ایم این کول کے بقول ان ۱۵ہزار گلیشیروں میں ۶ہزار۵سو بھارت میں اور پھر ان میں۳ہزار ایک سو۳۶کشمیر اور لداخ خطے میں ہیں۔ پاکستان کا مرکزی دریا سندھ، تبت سے نکل کر لداخ اور پھر گلگت کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ اس کی ایک شاخ کارگل کے پاس الگ ہوکر سونہ مرگ کے راستے وادیٔ کشمیر کے ایک حصے کو سیراب کرتی ہوئی، گاندربل میں دریائے جہلم میں ضم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی تین چوتھائی آبادی سندھ طاس میں آباد ہے اور اس کی ۸۰فی صد خوراک کی ضروریات سندھ اور اس کی معاون ندیوں خاص طور پر جہلم اور چناب پر منحصر ہے۔

ان گلیشیروں کو سب سے زیادہ خطرہ پہاڑی علاقوں میں بلا روک ٹوک آمد و رفت اور ہندو مذہبی یاترائوں سے منسلک ہے۔ جنوبی کشمیر میں امرناتھ اور شمالی بھارت کے صوبہ اترا کھنڈ کے چارمقدس مذہبی مقامات بدری ناتھ ،کیدارناتھ، گنگوتری اوریمنوتری اس کی بڑی مثال ہیں۔ دوعشرے قبل تک کشمیر میں امرناتھ یاترا کے لیے محدودتعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے، لیکن اب ہندو نسل پرستوں کی مہم کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ سال بہ سال ان کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے۔ اس یاتراکو فروغ دینے کے پیچھے کشمیر کو ہندوئوں کے لیے ایک مذہبی علامت کے طور پر بھی ابھارنا ہے، تاکہ اس پر بھارت کے دعوے کو مزید مستحکم بنایا جاسکے۔

۱۹۹۶ء میں برفانی طوفا ن کی وجہ سے اس علاقے میں ۲۰۰ سے زائد ہندو یاتری مرگئے تھے۔ اس حادثے کی انکوائری کے لیے بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے مقرر کردہ ڈاکٹر نتیش سین گپتا کی قیادت میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے یاتریوں کو ایک محدود تعداد میں یاترا کرنے کی سفارش کی تھی۔اس سفارش کی بنیاد پر ریاستی حکومت نے یاتریوں کی تعداد کو محدود اور ضابطہ بند بنانے کی جب کوشش کی، تو ہندو دھرم کے علَم بردار لیڈروں نے اسے مذہبی رنگ دے کر حکومت کی کوششوں کو ناکام بنادیا۔ حدتو اس وقت ہوگئی جب ۲۰۰۵ء میں کشمیر کے اس وقت کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے اپنے دور میں گورنر جنرل (ر)ایس کے سنہا کی طرف سے یاترا کی مدت میں اضافے کی تجویز پر اعتراض کیا، تو ان کی کابینہ کے تمام ہندو وزیروں نے استعفے پیش کر دیئے۔

دوسری طرف ہندو شدت پسند لیڈروں نے پورے ملک میںمہم شروع کرکے بڑے پیمانے پر ہندوؤں کو امرناتھ یاترا پر اُبھارنا شروع کردیا۔ اتراکھنڈ کے چار دھام کی طرح امرناتھ کو بھی سیاحت اور بھارت کی نسل پرست قومی سیاست کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کی گئیں۔ پروفیسر کول کے مطابق اگر اس علاقے میں اسی طرح ہزاروں یاتریوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہا تو ماحولیات اور گلیشیروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔لیکن اس مشورے پر کان دھرنے کے بجائے بھارتی حکومت زیادہ سے زیادہ یاتریوں کو بال تل کے راستے ہی امرناتھ بھیج رہی ہے۔

بھارتی حکومت نے بھارت کے بیش تر دریائوں اورندیوں کے منبع، یعنی گنگا کے گلیشیرو ں کی حفاظت کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، لیکن وادیٔ کشمیر اور پاکستان کو پانی فراہم کرنے والے ’سند ھ طاس گلیشیروں‘ کی تباہی پر وہ ذرا بھی فکر مند نہیںنظر آتی ہے۔۲۰۰۶ء ہی میں اتراکھنڈ صوبہ میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے وہاں پر ہندو قوم پرست بی جے پی حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا، جس کی رُو سے ہر روز صرف ۲۵۰ سیاح اور زائرین دریائے گنگا کے منبع ’گومکھ گلیشیر‘ جا سکتے ہیں۔  اس کا موازنہ اگر آپ سندھ طاس کو پانی فراہم کرنے والے کشمیر کے ’کلاہوئی گلیشیر‘ کے ساتھ کریں تو وہاں ہر روز اوسطاً۲۰ہزار افراد مئی اور اگست کے درمیان اسے روندتے ہوئے نظر آئیں گے۔

ماہرین ماحولیات کہتے ہیں کہ ’’ایسے وقت میں، جب کہ دنیا موسمیاتی تبدیلیوںکی وجہ سے ایک نئی آفت سے دوچار ہونے والی ہے اور اس مصیبت کو ٹالنے کے لیے دنیا کے بیش تر ممالک پہاڑی علاقوں میں سیاحوں کی آمد کو ریگولیٹ کررہے ہیں، بھارت کو بھی چاہیے تھا کہ کشمیر کے قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے امرناتھ میں یاتریوں کی تعدادکو ضابطے کا پابند بنانے کی تجویز پر مذہبی نقطۂ نگاہ کے بجائے سائنسی نقطۂ نگاہ سے غور کرتا‘‘۔ بھارت کے ایک اہم ادارے ’دی انرجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ (TERI) نے بھی اپنے ایک تحقیقی مطالعے میں دعویٰ کیا تھا کہ دریائے چناب کے طا س کے گلیشیروں میں ۲۱ فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

غیر سرکاری تنظیم ’ایکشن ایڈ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’نجوان اکل گلیشیر‘ تو پوری طرح پگھل چکا ہے۔ تھجواسن، زوجیلا اور ناراناگ کے گلیشیر بھی بُری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ امرناتھ مندر کے غار کے اوپر کا گلیشیر ، جس کی وجہ سے غار کے اندر برف کا ’شیولنگ‘ بنتا ہے، وہ بھی تقریباً ۱۰۰میٹر تک گھٹ چکا ہے۔ شمالی کشمیر کے سیاحتی مقام گلمرگ کے نزدیک ’افروئٹ گلیشیر ‘کا وجود ہی ختم ہو چکا ہے، جب کہ ایک وقت یہ ۴۰۰میٹر طویل ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح جنوبی کشمیر کے ناگی نند، ہانجی پورہ اور وندرنند کے گلیشیر بھی ختم ہو چکے ہیں۔۵۰سال قبل چناب طاس میں ۸ہزار مربع کلومیٹر کے قریب گلیشیر ہوتے تھے، جو اس وقت صرف ۴ہزار ایک سو مربع کلومیٹر تک رہ گئے ہیں۔ سیاچن گلیشیر پر فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے اس کی کیا حالت ہو چکی ہوگی، اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

خود بھارت میں گلیشیروں کا ڈیٹا حاصل کرنا بھی خاصا مشکل ہے، کیونکہ یہ سرحدی علاقوں میں آتے ہیں اور وزارت دفاع و فوج ان علاقوں کے سروے کی اجازت نہیں دیتی ۔ جے رام رمیش نے اپنی وزارت کے دوران گلیشیروں کے سروے اور ان کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا حکم صادر کیا تھا، مگر وزارت دفاع نے محققین کو ان علاقوں تک رسائی دینے سے انکار کر دیا۔ اب بھی بھارت میں گلیشیروں کے حوالے سے معتبر ڈیٹا موجود نہیں ۔

 گلیشیروں کے علاوہ کشمیر میں گھنا جنگلاتی رقبہ بھی ۳۷ فی صد سے گھٹ کر ۱۱فی صد رہ گیا ہے۔ پہلگام کے علاقے میں گھنے جنگلات کا رقبہ جو ۱۹۶۱ءمیں ۱۹۱مربع کلومیٹر تھا، ۲۰۱۰ء میں ۳ء۹  مربع کلومیٹر ریکارڈ کیا گیا، وہ اب اور بھی سکڑ گیا ہے۔ اسی طرح پانی کے سب سے بڑے ذخیرے ولر جھیل کی قسمت بھی کشمیریوں کی قسمت کی طرح سکڑ گئی ہے۔ اس کا رقبہ پچھلی تین دہائیوں میں ۱۵۷مربع کلومیٹر سے گھٹ کر ۸۶مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ دریائے جہلم کو پانی فراہم کرنے والا یہ ایک بڑا ماخذ اور سرچشمہ ہے۔

 فوجی کشیدگی یا سرحدی تنازعات کے خطرات تو ہیں، مگر ایسا لگتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں، خاص طور پر جب وہ جان بوجھ کر عمل میں لائی جاتی ہوں،ان سے بھی شدید ترین خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ اس جہالت، دھونس اور ظالمانہ غیر ذمہ داری کے نتیجے میں جنگوں سے بھی زیادہ افراد کی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔ بھارت اور پاکستان کو چاہیے کہ کم از کم اس معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ اشتراکِ عمل کرکے خطے کو ماحولیاتی تبدیلی کے ہلاکت انگیز طوفان سے بچائیں۔ دوسرا طریقہ ہے کہ سارک تنظیم کے ذریعے کوئی نظامِ کار ترتیب دیا جائے۔

سفارتی مؤرخ رچرڈ اولمین نے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کی تشریح پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہر وہ چیز جس سے عوامی زندگی یا اس کا معیار متاثر ہوتا ہے، سلامتی کے زمرے میں آتی ہے‘‘۔ بھارت اور پاکستان کو چاہیے کہ خطۂ کشمیر کو ماحولیاتی تباہی سے بچانے اور اس کے جنگلات، گلیشیر اور پانی کے ذخائر کو بچانے کا عہد کریں۔ اگر یہ ناپید ہوجاتے ہیں توہمالیہ، ہندو کش اور پھر نشیب میں ایک بڑی آبادی کی زندگی دائوپر لگ سکتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ خطرہ کسی ایٹمی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی سے کم نہیں ہوگا، کہ جس کی طرف ہم بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

عصرحاضر میں اسلامی نفسیات کے نظریہ ساز اور محقق پروفیسر ڈاکٹر مالک بدری، ۸ فروری ۲۰۲۱ء کے روز اللہ کو پیارے ہوگئے۔ پروفیسر بدری علمی دُنیا میں اسلامی نفسیات کے باوا آدم کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ نفسیات پر اپنی کتابوں، تحقیق اور علم نفسیات کو اسلامی فکر کی روشنی میں کمال کے درجے پر پہنچانے کی وجہ سے اپنے وطن سوڈان کی سرحدوں سے نکل کر عالمی اُفق پر چھا گئے۔  ان کی تحقیقات کو بین الاقوامی یونی ورسٹیوں اور اعلیٰ تحقیقی مراکز نے سراہا ہے۔ انھیں ذہانت، بصیرت اور نفسیات کے مطالعے میں خدمات کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جو لوگ انھیں ذاتی طور پر جانتے ہیں، انھیں معلوم ہے کہ وہ کھلا دل اور باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ انھوں نے روح اور دل کی تطہیر کے بارے میں نہ صرف اسلامی نفسیات کی تعلیم و تربیت بانٹی بلکہ وہ خود ایک نیک روح تھے۔

پروفیسر مالک بدری نے اپنی زندگی اسلامی نفسیات کی ترقی کے لیے وقف کر دی تھی۔ ۸۹سال کی عمر میں اپنے آخری چند مہینوں تک وہ لیکچر دیتے، مشاورتوں میں حصہ لیتے اور اپنی آخری کتاب پر کام کرتے رہے۔ان کی علمی میراث ان کی بنیادی تصانیف، ان کے طلبہ اور اسلامی نفسیات کے شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے شروع کیے ہوئے کاموں کی صورت میں موجود ہے۔ انھوں نے بہت سے ممالک میں نفسیات کے شعبے قائم کیے اور نفسیات کی تعلیم دی۔ وہ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں نفسیات کے بانی پروفیسر تھے اور گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح کے نصابات میں اسلامی نفسیات /مسلم نفسیات کو متعارف کروانے کا محرک تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر مالک بابیکر بدری ۱۶ فروری ۱۹۳۲ء کو دریائے نیل کے کنارے پر واقع رفاعہ شہر میں پیدا ہوئے۔ آپ سوڈان کے ایک قابلِ احترام عالمِ دین شیخ بابیکر بدری کے بیٹے تھے، جنھوں نے سوڈان میں خواتین کی تعلیم کے کے لیے بہت دل جمعی سے کوششیں کیں، اور۱۹۶۶ء میں ’الاحفاد خواتین یونی ورسٹی، خرطوم‘ کی بنیاد رکھی۔

پروفیسر مالک بدری نے ۱۹۵۶ء میں امریکی یونی ورسٹی، بیروت سے نفسیات میں گریجویشن کی، اور اسی یونی ورسٹی سے ۱۹۵۸ء میں نفسیات و تعلیم میں ایم اے کیا۔ بعدازاں ۱۹۶۱ء میں لیسٹر یونی ورسٹی، برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، اور ۱۹۶۶ء میں پوسٹ ڈاکٹریٹ، مڈل سیکس ہسپتال اور میڈیکل کالج سے کی۔ ’جبا یونی ورسٹی اور خرطوم یونی ورسٹی کے شعبہ ہائے تعلیم میں ڈین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ۱۹۷۷ء میں برٹش سائیکالوجیکل سوسائٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ ۱۹۶۵ء میں اردن یونی ورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر اور صدرِ شعبہ ، ۱۹۶۷ء سے ۱۹۷۱ء تک یونی ورسٹی آف ریاض، امام محمد بن سعود یونی ورسٹی میں پروفیسر کے علاوہ رہنمائی اور نفسیاتی مشاورتی یونٹ کے ڈائریکٹر رہے۔ ملائشیا کی بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی میں ابنِ خلدون مسند کے ممتاز پروفیسر اور اسلامی نفسیات کی بین الاقوامی تنظیم کے بانی اور صدر رہے۔ افریقہ اور ایشیا میں متعدد شہروں میں کلینکل سائیکالوجی کے شعبے قائم کیے۔ انھوں نے ۲۰۱۷ء میں ’انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف اسلامک سائیکالوجی‘ (IAIP) کی بنیاد رکھی۔

ڈاکٹر بدری نے بہت سی کتابیں اور بلندپایہ تحقیقی مضامین عربی اور انگریزی زبانوں میں لکھے ہیں، جو ان کی متعدد کتابوں میں شامل ہیں:

lCulture and Islamic Adaptation Psychology, lThe Dilemma of Muslim Psychologists, lContemplation: An Islamic Psychospiritual Study, lThe AIDS Crisis: An Islamic Sociocultural Perspective.

آپ کے کام نے علم نفسیات میں تخصص کے ایک نئے شعبے کو متعارف کروایا، اور سوڈان، سعودی عرب، پاکستان، ملائیشیا، ترکی، پوری مغربی اور مسلم دنیا پر اس کا بہت اثر مرتب ہوا۔  آج دنیا بھر میں اسلامی نفسیات کے حوالے سے متعدد کانفرنسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے کورسوں، ورکشاپوں، کتابوں، نظریاتی اور کلینیکل ایپلی کیشنز ہیں، جو سبھی اسلامی نفسیات کے شعبے کی تعمیروترقی کے لیے وقف ہیں۔ ان سب کا نقطۂ آغاز ڈاکٹر بدری ہیں۔

ڈاکٹر مالک بدری درس و تدریس میں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو رول ماڈل قرار دیتے اور اس پر عمل کرتے تھے۔ اسی راستے پر چلتے ہوئے  انھیں جدید اسلامی نفسیات کی تحریک کو زندہ کرنے اور اسلامی روح کو نفسیات میں واپس لانے کی کوشش میں کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔

راقم کو پروفیسر مالک بدری نے ۲۰۱۲ء میں امام محمد یونی ورسٹی، ریاض میں ملاقات کے دوران بتایا کہ ’’۱۹۶۰ء کے عشرے کے وسط میں، مَیں نے کویت سے لے کر افغانستان اور پھر لاہور پاکستان تک کا سفر اپنی کار پر کیا تھا ۔ لاہور جانے کا واحد مقصد مولانا مودودیؒ سے ملاقات تھا‘‘ [تفصیلات دیکھیے: ’سیّد مودودیؒ: ایک مشاہدہ، ایک موازنہ‘، ترجمان القرآن، مئی ۲۰۰۴ء]۔ وہ مولانا مودودیؒ اور سیّدقطب شہیدؒ کی تعلیمات سے بہت متاثر تھے۔ اسلامی اصولوں کے فروغ کے لیے جنابِ مالک بدری مرحوم کا ٹھاٹھیں مارتا جذبہ، بے مثال اور قابلِ ستایش نمونہ تھا۔

بیرم بلچی نے اپنی کتاب Islam in Central Asia and The Caucasus Since the Fall of the Soviat Union [اشتراکی روس کے زوال کے بعد وسطی ایشیا اور قفقاز میں اسلام] میں اس خطے میں اسلامی تہذیب کے احیا کے امکانات کی نسبت سے مطالعہ پیش کیا ہے۔ گذشتہ ۳۰ برسوں کے دوران رُونما ہونے والی تبدیلیاں، جو ان ممالک کی آزادی کے بعد سامنے آئیں، ان کا ایک جائزہ پیش کیا ہے۔اشتراکی روس کے انہدام کے بعد روسی فیڈریشن اور نوآزاد مسلم ریاستیں اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھیں کہ دیگر مسلم ممالک مثلاً ایران، ترکی اور مصر وغیرہ کی نظریاتی تحریکیں کس طرح اس خطے پر اثرانداز ہوسکتی ہیں؟ پہلے عشرے میں ان کے رجحانات اور تجربات میں ایک تدریجی ارتقا پایا گیا۔ یہ ممالک پہلے تو اپنی کھوئی ہوئی پہچان حاصل کرنے کے لیے محتاط انداز سے آگے بڑھے، اور اسلامی احیائی قوتوں سے مزاحمت پر منتج ہوئے (ص ۱۸۸،۱۸۹)۔ ان مسلم ممالک کے حکمرانوں کے نزدیک مسلم شناخت ایک محدود زاویہ رکھتی ہے، ان کا یہ غلط مفروضہ ایک وہم کے سوا کچھ نہیں ہے (ص۲)۔

اپنی آزادی کے آغاز ہی سے وسطی ایشیا کی حکمران مسلم قیادت نے ایک جزئی اور محدود قسم کے رویے کو فروغ دیا، جو ان کی مفاداتی ترجیحات سے ہم آہنگ تھا۔ ازبکستان نے معاشرے کی تنظیم میں دینی رجحانات کو اپنی گرفت میں رکھا (ص ۱۸۸،۱۸۹)۔ یہ منہج صر ف ازبکستان تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ دیگر مسلم ریاستوں میں بھی کم وبیش ایسے ہی معاملات اور رویوں کو برتا گیا (ص۱۱۵)۔ ازبکستان تو ایک واضح مثال ہے کہ کیسے وہاں اشتراکی روس ہی کے تربیت یافتہ افراد کی موجودگی میں، کس طرح مذہبی اُمور سے نبٹنے کے لیے صف بندی کی گئی، جس سے ایک نیا قومی تشخص وجود میں آیا (ص ۱۱۴، ۱۱۵)۔

وسطی ایشیا کی سیاسی قیادت کی شروع سے یہ کوشش رہی کہ کس طرح اپنے عوام کو دینی رجحانات کے اثرات سے دُور رکھا جائے۔ عام طور پر اس حوالے سے ترکی کو مصطفیٰ کمال ماڈل کی نسبت سے دیکھا گیا، کہ ترکی نے اسلامی اثرات کو کھرچنے اور روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے تھے اور کس طرح اسلامی پیش قدمی کے سامنے مزاحمتیں کھڑی کی تھیں (ص۵۱)۔ یہ کتاب ان ریاستوں میں اجتماعی دینی میراث کو اَزسرنو مرتب کرنے کی منظم کاوشوں کو سامنے لاتی ہے، جس کے تحت خاص طور پر دین کے محدود مطالعے کے ساتھ، دین کی ایک بانجھ اور بے فیض تعبیر کو فروغ دیا گیا اور اس کی بنیاد خوف، ہیجان اور بسااوقات خیالی روایات پر رکھی گئی۔ ایسے قوانین اور ضابطوں کو بروئے کار لایا گیا، جو مذہب اسلام کے فروغ کے آگے بند باندھ سکیں (ص ۱۲۹)۔

ہرچند کہ ایران اپنے شمالی پڑوسیوں میں خاص دل چسپی رکھتا تھا، لیکن ایران کے حوالے سے ایک عمومی سلبی تاثر کی وجہ سے ایران کو ان ممالک میں نفوذ کے ضمن میں کوئی قابلِ ذکر کامیابی نہ مل سکی۔ جن لوگوں کے فکروخیال اور شخصیتوں کی آبیاری اشتراکی روس کےدورمیں ہوئی تھی، وہ آج تک بیرونی اثرات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے آئے ہیں اور ان کے لیے اب بھی سیکولرزم، الحاد یا لادینیت ہی سب سے پسندیدہ نظریہ ہے، جس کی ڈھال کے پیچھے وہ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں (ص۹۱)۔

کتاب کے مصنف نے عربوں کے حوالے سے عموماً اورسعودی عرب کے حوالے سے خصوصاً ایک تاریخی تجزیہ پیش کیا ہے، جس سے اس کا مقصد ’سلفی اثرات‘ کے فروغ کے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہے اور لکھا ہے کہ ازبکستان میں سعودی اثرات کے حوالے سے کافی منفی رویے پائے جاتے ہیں، کیونکہ وہ سعودی عرب کی دینی روایات کو ’رجعت پسندی‘ اور قبائلی معاشرے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان وسطی ایشیائی مسلم ممالک نے حج کے سفرپر پابندی لگارکھی ہے۔ اس کا مقصد اپنے عوام کے آزاد انہ سفر پر پابندی ہے، تاکہ ان کے شہریوں کی آزادانہ آمدورفت کے نتیجے میں دینی و تحریکی خیالات اور نظریات کے آنے اور ان کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ یوں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ سے نسبت رکھنے والے تمام نظریات اور دینی رجحانات کے فروغ کو ناممکن بنایا جاسکے (ص ۱۰۷)۔

 ان وسطی ایشیائی مسلم حکمرانوں کو یہ بھی خوف لاحق رہا ہے کہ ’’حاجی مکہ سے اسلام کی نشاتِ ثانیہ کے احساسات سے سرشار ہوکر لوٹیں گے، اور یہی فکر اپنے دیگر ہم وطن لوگوں میں بھی منتقل کردیں گے، جس سے وسطی ایشیا میں پائی جانے والی ازبک اکائی بتدریج منتشر ہوجائے گی اور بالآخر ازبک حکام اس مزاحمتی سوچ کے سامنے بے اثر ہوجائیں گے‘‘ (ص ۱۴۰)۔

اس طرح وسطی ایشیا کی ریاستیں ’اسلامی شدت پسندی‘ کا خطرہ کھڑا کرکے دینی رویوں کے فروغ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے زیادہ تر ادارے نہ صرف شدت پسندی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں بلکہ اس کے مقابلے میں ایک غیرسیاسی اور معتدل مذہبی تعبیر کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ کتاب وسطی ایشیا اور قفقاز کے خطے میں، ۱۹۹۱ء میں آزادی کے بعد سے دینی رویوں اور رجحانات میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطالعے کے لیے ایک مفید ماخذ ہے۔ مصنف نے اپنے مشاہدات،علمی حقائق اور تجزیات بیان کیے ہیں، جن سے وسطی ایشیا کی قیادت کے اقدامات اور اپنے خطے کی دیگر قوتوں سے تعلقات کے بارے میں ان کی سوچ اور ترجیحات سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔یہ کتاب ہرسٹ اینڈ کمپنی لندن نے شائع کی ہے، جو ۲۴۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ (مسلم ورلڈ بک ریویو، جلد۴۲،شمارہ۱، ص ۴۴)

اسلامی گھریلو زندگی کی بنیادی خصوصیات

سوال : نمونے کی اسلامی گھریلو زندگی کی بنیادی خصوصیات کیا ہیں؟ کیا ہمارے معاشروں میں موجودہ گھریلو زندگی، اسلامی ہے؟ کیا شہر اور گائوں میں ایک طرز کی گھریلو زندگی ہوگی؟ موجودہ گھریلو زندگی میں پرانی ہندستانی روایات کا کتنا دخل ہے؟

جواب :ہماری گھریلو زندگی کی بنیادی خصوصیات اسلام کی رُو سے چار ہیں:

  • ایک تحفظ نسب، جس کی خاطر زنا کو حرام اور جرم قابلِ تعزیر قرار دیا گیا ہے، پردے کے حدود قائم کیے گئے ہیں اور زن و مرد کے تعلق کو صرف جائز قانونی صورتوں تک محدود کردیا گیا ہے، جن سے تجاوز کا اسلام کسی حال میں بھی روادار نہیں ہے۔
  • دوسرے تحفظ نظامِ عائلہ جس کے لیے مرد کو گھر کا’قوام‘ بنایا گیا ہے، بیوی اور اولاد کو اس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور اولاد پر خدا کے بعد والدین کا حق سب سے زیادہ رکھا گیا ہے۔
  • تیسرے حُسنِ معاشرت، جس کی خاطر زن و مرد کے حقوق معین کردیئے گئے ہیں، مرد کو طلاق کے اور عورت کو خلع کے اورعدالتوں کو تفریق کے اختیارات دیئے گئے ہیں، اور الگ ہونے والے مرد و زن کے نکاحِ ثانی پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہےتاکہ زوجین یا تو حُسنِ سلوک کے ساتھ رہیں، یا اگر باہم نہ نباہ سکتے ہوں تو بغیر کسی خرابی کے الگ ہوکر دوسرا بہتر خاندان بناسکیں۔
  • چوتھے صلہ رحمی، جس سے مقصود رشتہ داروں کو ایک دوسرے کا معاون و مددگار بنانا ہے اور اس غرض کے لیے ہرانسان پر اجنبیوں کی بہ نسبت اس کے رشتہ داروں کے حقوق مقدم رکھے گئے ہیں۔

افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس بہترین نظامِ عائلہ کی قدر نہ پہچانی اور اس کی خصوصیات سے بہت کچھ دُور ہٹ گئے ہیں۔ اس نظامِ عائلہ کے اصولوں میں شہری اور دیہاتی کے لیے کوئی فرق نہیں ہے۔

رہے طرزِ زندگی کے مظاہر ، تو وہ ظاہر ہے کہ شہروں میں بھی یکساں نہیں ہوسکتے، کجا کہ شہریوں اور دیہاتیوں کے درمیان کوئی یکسانی ہوسکے۔ فطری اسباب سے ان میں جو فرق بھی ہو، وہ اسلام کے خلاف نہیں ہے، بشرطیکہ بنیادی اصولوں میں ردو بدل نہ ہو۔(ترجمان القرآن، مارچ ۱۹۵۹ء)


اللہ تعالیٰ کے حقوق اور والدین کے حقوق

سوال :  میںجماعت کا ہمہ وقتی کارکن ہوں اور اس وجہ سے گھر سے دُور رہنےپر مجبور ہوں۔والدین کا شدید اصرار ہے کہ میں ان کے پاس رہ کر کاروبار شروع کروں۔ وہ مجھے بار بار خطوط لکھتے ہیں کہ تم والدین کے حقوق کو نظرانداز کر رہے ہو۔ میں اس بارے میں ہمیشہ تشویش میں مبتلا رہتا ہوں۔ ایک طرف مجھے والدین کے حقوق کا بہت احساس ہے، دوسری طرف یہ محسوس کرتا ہوں کہ اقامت ِدین کی جدوجہد میں  ذمہ داری ادا کرنا ضروری ہے۔ پھر یہ بھی جانتا ہوں کہ خیالات کے اختلاف کی وجہ سے گھر میں میری زندگی سخت تکلیف دہ ہوگی۔ لیکن شرعاً اگر ان کا مطالبہ واجب التعمیل  ہے تو پھر بہتر ہے کہ میں اس تکلیف کو خوشی سے برداشت کروں کہ میرے والد صاحب  میری ہر بات کو موردِ اعتراض بنا لیتے ہیں۔آپ مجھے مشورہ دیں کہ میں کیا کروں؟

جواب :والدین کی اطاعت اور دین کی خدمت کے درمیان توازن کا مسئلہ بالعموم ان سب نوجوانوں کے لیے وجۂ پریشانی بنا رہتا ہے، جن کے والدین جماعت اسلامی اور اس کے مقصد سے ہمدردی نہیں رکھتے۔ میں نے عموماً یہ دیکھا ہے کہ ایک بیٹا اگر سرکاری ملازمت میں ہو یا کسی اچھے کاروبار میں لگا ہوا ہو، تو والدین اس کے ہزاروں میل دُور رہنے کو بھی برداشت کرلیتے ہیں اور اس سے کبھی نہیں کہتے کہ تو ملازمت یا روزگار چھوڑ دے اور آکر ہماری خدمت کر۔ بیٹے کے اطوار اگر فاسقانہ بھی ہوں تو اعتراض کی زبان کھولنے کی ضرورت انھیں بالعموم محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اپنے سارے حقوق انھیں صرف اسی وقت یاد آجاتے ہیں، جب کوئی بیٹا اپنے آپ کو خدمت ِ دین کے لیے وقف کردیتا ہے، حتیٰ کہ اگر جماعت اسے معقول معاوضہ دے تب بھی وہ یہی ضد کرتے ہیں کہ بیٹا گھر میں بیٹھ کر ان کے ’حقوق‘ ادا کرے بلکہ حقوق ادا کرنے پر بھی ان کا دل ٹھنڈا نہیں ہوتا، اس کی ہربات انھیں کھٹکتی ہے اور اس کی کسی خدمت سے بھی وہ خوش نہیں ہوتے۔ یہ صورتِ حال میں ایک مدت سے دیکھ رہا ہوں اورجماعت کے بکثرت نوجوانوں کو اس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کرنا پڑرہا ہے۔

میں نہیں کہہ سکتا کہ آپ کے ہاں فی الواقع کیا صورتِ حال ہے۔ اگر وہی کچھ ہے جو آپ کے بیان سے سمجھ میں آرہی ہے تو یہ آپ کے والدین کی زیادتی ہے۔ آپ جہاں کام کر رہے ہیں، وہیں کرتے رہیں۔ جو کچھ مالی خدمت آپ کے بس میں ہو،و ہ بھی کرتے رہیں، بلکہ اپنے اُوپر تکلیف اُٹھا کر اپنی مقدرت سے کچھ زیادہ ہی بھیجتے رہیں، اور حسب ضرورت وقتاًفوقتاً ان کے پاس ہو آیا کریں۔ لیکن اگر صورتِ حال اس سے مختلف ہو اور فی الواقع آپ کے والدین اس بات کے محتاج ہوں کہ آپ کے لیے ان کے پاس رہ کر ہی خدمت کرنا ضروری ہو، تو پھر مناسب یہی ہے کہ آپ ان کی بات مان لیں۔ (ترجمان القرآن، جنوری ۱۹۵۶ء)


صلہ رحمی کا مفہوم

سوال :  ’صلہ رحمی‘ کا مفہوم کیا ہے اور اسلامی شریعت میں اس کی اہمیت کس حد تک ہے؟

جواب : ’صلہ رحمی‘ کا مفہوم رشتہ داری کے تعلق کی بنا پر ہمدردی، معاونت، حُسنِ سلوک، خیرخواہی اور جائز حدودتک حمایت کرنا ہے۔ اس کی کوئی حد نہ مقرر ہے، نہ کی جاسکتی ہے۔ دراصل یہ عام معروفات میں سے ہے، جنھیں لوگ خود ہی جانتے ہیں۔ اور صلہ رحمی میں کوتاہی کرنا یا قطع رحمی کرنا، ان بڑے گناہوں میں سے ہے، جن کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔(ترجمان القرآن، اپریل ۱۹۴۶ء)

معلّم القرآن ،اردو ترجمہ :قرآن مجید ،مترجم :پروفیسر قاری جاوید انور صدیقی۔ ناشر: دارالقرآن پبلشرز، غزنی مارکیٹ، اردو بازار لاہور۔فون :۳۷۳۶۱۴۸۸-۴۲۔ صفحات: ۱۰۳۱۔قیمت ایک ہزار روپے ۔

صدیقی صاحب ایک عرصے سے دینی مدارس اور انجینئرنگ یونی ورسٹی میں تدریس کرتے رہے ہیں ۔قرآن پاک کا ترجمہ سکھاتے اور پڑھاتے ہوئے انھیں ایک سوال کا سامنا کرنا پڑتا تھا کہ ’’ترجمہ، متنِ قرآن کے ہر لفظ کے نیچے ہو، ساتھ ہی ترجمہ بامحاورہ بھی ہو اور دو دو سطروں میں بھی نہ ہو‘‘۔

اس سوال کو حل کرنے کے لیے انھوں نے بعض علمائے دین (مثلاً: مفتی شیر محمد مدنی، جامعہ اشرفیہ لاہور؛ حافظ عبدالمنان، گوجرانوالہ؛ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر سرفراز نعیمی، لاہور؛ مولانا عبدالمالک، منصورہ ) کے مشوروں اور ہدایات کے بعد خود ہی ذمہ داری اُٹھائی اور برسوں کی محنت کے بعد اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ لکھتے ہیں: ’’میں نے اس ترجمے کے لیے شاہ رفیع الدین ، حافظ فتح محمد جالندھری، پیر محمد کرم شاہ ، شیخ محمود حسن [محمودالحسن درست نہیں]،سیّد شبیر احمد ،حافظ نذر محمد اور خاص طور پر شیخ التفسیر مولانا عبدالفلاح کے مجموعۂ تفاسیر ، تفسیر اشرف الحواشی سے بہت استفادہ کیا ہے‘‘۔

 قاری صدیقی صاحب کہتے ہیں کہ ہم وہ خوش قسمت اور بد قسمت قوم ہیں جو قرآن کو اپنی انفرادی و اجتماعی اور ملکی وعالمی ہر مرض کا علاج (فِیْہِ شِفَاءُ لِلْنَّاسِ) مانتے ہیں لیکن بد قسمت ہیں کہ اس پر عمل نہیں کرتے ۔( رفیع الدین ہاشمی )

را اور بنگلہ دیش، محمدزین العابدین ۔ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی ،ڈی ۔۳۵، بلاک ۵،فیڈرل بی ایریا، کراچی ۔فون :۳۶۸۰۹۲۰۱-۰۲۱۔ صفحات ۲۸۸،قیمت :ایک ہزار روپے ۔

متحدہ پاکستان سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کے اسباب ،واقعات اور نتائج پر مبنی اردو اور انگریزی میں بیسیوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ زیر نظر کتاب اسی سلسلے کی ایک آنکھیں کھولنے والی کتاب ہے۔

محمد زین العابدین نے سقوطِ مشرقی پاکستان سے پہلے مکتی باہنی میں شامل ہو کر بھارت جاکر مار دھاڑ کی تربیت حاصل کی، پھر بھارتی فوجوں کے ہمراہ مشرقی پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں میں شریک رہے۔ کہتے ہیں کہ ۱۹۷۱ء سے پہلے ایک بزرگ نے مجھے سمجھایا کہ بھارت مسلمانوں کا کبھی مخلص اور سنجیدہ دوست نہیں ہو سکتا، مگر میری آنکھوں پر پاکستان دشمنی کی پٹی بندھی ہوئی تھی اور ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کے بعد جب ’’بھارتی فوجیوں نے بڑے پیمانے پر لوٹ مار شروع کی، بھارتی فوجیوں کے ہاتھ جو کچھ لگا وہ بھارت لے گئے۔ لوٹ مار میں آسانی کے لیے چھوٹے بڑے شہروں،قصبوں، تجارتی مراکز، بندر گاہوں اور صنعتی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ بھارتی فوجی صرف ہتھیار ہی نہیں بلکہ پنکھے اور نل تک نکا ل کر لے گئے ۔ بھارتی فوج کی ہزاروں گاڑیوں میں لوٹا ہوا مال بھارت پہنچادیا گیا اور یہ ساری لوٹ مار بھارت کی طرف سے اعلیٰ ترین سطح پر دی جانے والی اجازت کے بغیر ممکن نہ تھی، تب میری آنکھوں پر بندھی پٹّی کھلی‘‘۔

مصنف نے چشم دید واقعات ،تجربات اور تحقیقات کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ سقوطِ مشرقی پاکستان میں بنیادی کردار بھارت کے خفیہ جاسوسی ادارے ’را‘ کا ہے۔ ’را‘ کی بنیاد کو ٹلیہ کی ارتھ شاستر ہے۔ ’را‘ بھارت کا سب سے طاقت ور ادارہ ہے۔ چند سال پہلے تک اس کا بجٹ ۱۵ ہزار کروڑ تھا۔ اس کا ہدف پاکستان، سری لنکا ، بھوٹان، نیپال وغیرہ کو بھارت کا حصہ بنا دینا ہے۔ مصنف نے ’را‘ کے طور طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اہلِ پاکستان (عوام اور حکومت) اس کا ادراک کر کے اپنے دفاع کی تدابیر کریں۔

 کتاب کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کی ضرورت ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی )


داستانِ عزم ،خودنوشت ،ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ ناشر :قلم فائونڈیشن ،یثرب کالونی ، بنک سٹاپ، والٹن روڈ، لاہور۔ فون:۴۳۹۳۴۲۲-۰۳۲۳۔ صفحات :۱۴۶+۵۶ ۔قیمت :پندرہ سو روپے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا تعلق برعظیم کی مردم خیز ریاست بھوپال سے ہے۔ ان کے جدِّ امجد شہاب الدین غوری کی فوج کے ایک کمانڈر تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے والد بھوپال میں مقیم ہو گئے تھے۔

عبدالقدیر خان بھوپال سے میٹرک کرنے کے بعد ۱۹۵۲ء میں پاکستان چلے آئے۔ کراچی سے بی ایس سی کیا۔ ۱۹۶۱ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی چلے گئے ۔ ہالینڈ میں بھی زیر تعلیم رہے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد انھوں نے یورپ کے بعض تحقیقی اداروں میں کام کیا اور اپنے فن پر پوری طرح دسترس حاصل کرلی۔ بعض غیر ملکی اداروں کی جانب سے پُر کشش پیش کشوں کو نظر انداز کرکے وہ پاکستان آ گئے اور یہاں اٹامک انرجی کمیشن میں جوہری بم بنانے کا پروگرام شروع کیا۔

ایٹم بم بن گیا، اس کا تجربہ بھی ہو گیا۔ بعد ازاں خان صاحب نے سماجی اور دینی خدمات کے سلسلے میں متعدد ادارے قائم کیے۔ جنرل مشرف نے خان صاحب کی کردار کشی اور تذلیل کی مگر مشرف کی رخصتی کے بعد انھیں اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’نشانِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک منجھے ہوئے قلم کار بھی تھے۔ ادبی اور شعری ذوق بھی رکھتے تھے۔ سات آٹھ کتابیں ان سے یاد گار ہیں۔انھوں نے روز نامہ جنگ میں مستقل کالم لکھنا شروع کیا۔ ان کا لموں میں وہ اپنی آپ بیتی بھی لکھتے رہے۔ اس آپ بیتی میں ایٹم بم بنانے تک کے مراحل کے ساتھ کہوٹہ لیبارٹری کے سائنس دانوں اور عام کارکنوں میں مثبت اور منفی کرداروں کی سرگرمیوں کا تذکرہ بھی آ گیا ہے۔ یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ملک کی سا لمیت سے متعلق معاملات میں بھی کرپشن دخل اندازی کرتی ہے مگر سابق صدر غلام اسحاق خان جیسے محب وطن نے ممکنہ حد تک ڈاکٹر عبدالقدیر کی پشت پناہی کی۔ انھوں نے معروف صحافی زاہدملک کے نام ایک خط میں خان صاحب کی شخصیت وکارکردگی اور ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں ان کی کاوشوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

خط کے آخر میں غلام اسحاق خان لکھتے ہیں:ڈاکٹر عبدالقدیر خان حقیقتاً ایک اچھے اور عظیم انسان ہیں۔ اس لیے کہ اپنے ملک کی ترقی اور اپنی قوم کی فلاح وبہبود سے زیادہ عظیم کوئی مقصد ہو نہیں سکتا اور اسی مقصد کی خاطر وہ جیے اور جیتے ہیں۔ انھوں نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا اور جو بھی کارنامے انجام دیے، وہ اپنی گواہی خود دیتے ہیں اور یہ کارنامے ایسے ہیں کہ ان الفاظ سے کہیں زیادہ بلند آواز سے یہ اپنا اعلان خود کرتے ہیں جو الفاظ ان کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکیں ۔ ان کی زندگی کا آئینہ یہ مشہور فارسی مقولہ ہے: مُشک آنست کہ خود ببوید، نہ کہ عطّار بگوید (مشک وہ ہے جو خود خوشبو دیتا ہے ، نہ کہ وہ جس کا دعویٰ عطار کرے )۔ (رفیع الدین ہاشمی)


دنیا میرے آگے ،افشاں نوید ۔ناشر :ادارہ بتول ۱۴، ایف سید پلازہ ، ۳۰ فیروز پور روڈلاہور، فون: ۳۷۴۲۴۴۰۹-۰۴۲۔صفحات :۲۲۴۔قیمت :۴۴۰ روپے ۔

محترمہ افشاں نوید کے ۴۱ ،اخباری مضامین پر مشتمل یہ ان کا تیسرا مجموعہ ہے، جو ان کی ’قلبی واردات‘ کا لفظی اظہار ہے۔ ’’میں نے جو دیکھا ، سوچا، محسوس کیا ، اس قلبی واردات کو قلم کی زبان دے دی‘‘۔ چند عنوانا ت دیکھیے :عصر کی قسم۔ فتنوں سے آگاہی۔ میدان کربلا ۔ہماری تاریخ کا چوراہا۔ ماہِ صیام کل اور آج۔ علامہ اقبال اور آداب فرزندی ۔ بات ہے اقدار کی۔ تمھی سے اے مجاہدو! جہاں میں ثبات ہے۔ قانونِ تحفظ نسواں اور بی آپا۔ ۱۶ دسمبر ، یومِ سقوطِ ڈھاکا۔ نصاب اور استاد ، اسٹیفن ہاکنگ ، سڈنی ائر پورٹ، یومِ کشمیر ، شرمین چنائے عبید ، آپ کے نام ۔

کتاب کا ہر کالم لکھنے والے کے حسّاس دل ودماغ کا آئینہ دار ہے۔ ان کے جذبات لفظوں کے قالب میں ڈھل کر کالم بن گئے ہیں۔ ایک کالم میں فلم ساز شرمین عبید چنائے کے حوالے سے لکھا ہے:’’شرمین صاحبہ، آپ نے کیمرے کے توسّط سے ساری دنیا کو پاکستانی عورت کا جھلسا ہوا چہرہ دکھایا اور یہ ڈاکو منڑی آسکرایوارڈ کے لیے منتخب ہو گئی۔ آپ آسیہ اندرابی کے دُکھ کو بھی محسوس کیجیے۔ غلام احمد مسعودی کی صاحبزادی آمنہ مسعودی کو ضرور دکھایئے، جس نے بھارتی اہل کار کے سامنے مزاحمت کی اور شور مچایا تو ظالم نے آمنہ کا گلا دبا کر اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ آپ پر کشمیر اور پاکستان کا یہ فرض ہے کہ آپ آسکر ایوارڈ کی اگلی نامزدگی کے لیے اپنی ڈاکومنٹری کا عنوان: ’کشمیر کی مظلوم عورت ‘ کو بنائیں‘‘۔

افشاں نوید ہر واقعے اور ہر سانحے کو اسلامی نظریۂ حیات کی روشنی میں دیکھتی اور اس پر رائے ظاہر کرتی ہیں ۔ شاہ نواز فاروقی لکھتے ہیں:’’بلا شبہہ افشاں نوید صاحبہ کے کالم پڑھ کر خیال آتا ہے کہ ان کے لیے کالم نگاری ایک مشن ہے۔ ان کے کالموں پر ادبی مطالعے اور ادبی ذوق کا گہرا سایہ ہے، جس کی وجہ سے ان کے کالموں میں پختگی، گہرائی اور سنجیدگی کی خوبیاں پیدا ہو گئی ہیں‘‘۔ (رفیع الدین ہاشمی )

اجتہاد کا دروازہ کھولنے سے کسی ایسے شخص کو انکار نہیں ہوسکتا، جو زمانے کے بدلتے ہوئے حالات میں ایک اسلامی نظام کو چلانے کے لیے اجتہاد کی اہمیت و ضرورت اچھی طرح سمجھتا ہو۔ لیکن اجتہاد کا دروازہ کھولنا جتنا ضروری ہے، اتنا ہی احتیاط کا متقاضی بھی ہے۔

اجتہاد کرنا ان لوگوں کا کام نہیں ہے، جو ترجموں کی مدد سے قرآن پڑھتے ہوں۔ حدیث کے پورے ذخیرے سے نہ صرف یہ کہ ناواقف ہوں، بلکہ اس کو دفترِ بے معنی سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہوں۔ پچھلی تیرہ صدیوں میں فقہائے اسلام نے اسلامی قانون پر جتنا کام کیا ہے اس سے سرسری واقفیت بھی نہ رکھتے ہوں اور اس کو بھی فضول سمجھ کر پھینک دیں۔ پھر اس پر مزید یہ کہ مغربی نظریات واقدار کو لے کر ان کی روشنی میں قرآن کی تاویلیں کرنا شروع کر دیں۔ اس طرح کے لوگ اگر اجتہاد کریں گے، تو اسلام کو مسخ کرکے رکھ دیں گے اور مسلمان، جب تک اسلامی شعور کی رمق بھی ان کے اندر موجود ہے، ایسے لوگوں کے اجتہاد کو ہرگز ضمیر کے اطمینان کے ساتھ قبول نہ کریں گے۔

اس طرح کے اجتہاد سے جو قانون بھی بنایا جائے گا، وہ صرف ڈنڈے کے زور سے ہی قوم پر مسلط کیا جاسکے گا ،اور ڈنڈے کے ساتھ ہی وہ رخصت ہوجائے گا۔ قوم کا ضمیر اس کو اس طرح اُگل کر پھینک دے گا، جس طرح انسان کا معدہ نگلی ہوئی مکھی کو اُگل کر پھینک دیتا ہے۔

مسلمان اگر اطمینان کے ساتھ کسی اجتہاد کو قبول کرسکتے ہیں، تو وہ صرف ایسے لوگوں کا اجتہاد ہے، جن کے علمِ دین اور خدا ترسی اور احتیاط پر ان کو اطمینان اور بھروسا ہو، اور جن کے متعلق وہ یہ جانتے ہوں کہ یہ لوگ غیر اسلامی نظریات و تصورات کو اسلام میں نہیں ٹھونسیں گے۔

جو اجتہادی اصول آج سے ہزار سال پہلے بنائے گئے تھے وہ صرف اس لیے رَد کردینے کے قابل نہیں ہیں کہ وہ ہزار سال پرانے ہیں۔ معقولیت کے ساتھ جائزہ لے کر دیکھیے کہ وہ اصول تھے کیا اور اِس [زمانے] میں ان کے سوا اور کچھ اصول ہو بھی سکتے ہیں یا نہیں؟ (’رسائل و مسائل‘، ابوالاعلیٰ مودودی،  ترجمان القرآن، جلد۵۷،عدد ۳،دسمبر ۱۹۶۱ء، ص۵۷-۵۸)