دسمبر ۲۰۱۶

فہرست مضامین

معاشرتی اور معاشی زندگی کی تنظیم

محمد بشیر جمعہo | دسمبر ۲۰۱۶ | تربیت

گھریلو، خاندانی اور معاشرتی زندگی کی تنظیم یا نظم و ضبط متوازن زندگی کا ناگزیر تقاضا ہے۔ اسی طرح معاشی سرگرمیوں: دفتر اور کاروبار کے اُمور کو کیسے مؤثر اورکامیاب بنایا جائے، نیز معاشرتی زندگی اور معاشی زندگی میں کیسے اعتدال و توازن اختیار کیا جائے کہ ایک خوش گوار اور پُرسکون زندگی گزاری جاسکے۔ اس ضمن میں ذیل میں چند گزارشات پیش ہیں۔

خاندانی یا گھریلو زندگی

   o          آپ خواہ کھانا پکا رہے ہوں، کوئی مضمون لکھ رہے ہوں، یا تقریر کر رہے ہوں، تمام متعلقہ چیزیں کام شروع کرنے سے پہلے اپنے پاس رکھ لیں تاکہ آپ کو بار بار اٹھنا نہ پڑے۔ اسے تیاری کہتے ہیں اور کسی بھی کام کے لیے یہ بڑی اہم چیز ہے۔

   o          اگر آپ کو کوئی کام ہو یا کہیں سے خریداری کرنی ہو تو تمام چیزیں ایک نوٹ بک، کارڈ یا کاغذ پر لکھ لیں اور اپنی سرگرمیوں کا پورا نقشہ تیار کر لیں تاکہ آپ کو دوبارہ سفر نہ کرنا پڑے اور کم سے کم فاصلہ طے کرکے آپ کا سارا کام مکمل ہو جائے۔

   o          خریداری ایک مرتبہ کیجیے۔ ایک ہفتے میں ایک بار سے زائد خریداری دور حاضر میں وقت کے ضیاع میں شمارہوگا۔

   o          سہولیات کے بل وقت پر ادا کردیجیے اور تاخیر کرکے آخری وقت میں مشکلات مت پیداکیجیے۔

   o          اپنی سالانہ چھٹیوں کو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہتر انداز سے گزارنے کی کو شش کریں۔

   o          ان چیزوں کی خریداری سے بچیں جو آپ کی خصوصی توجہ مانگتی ہیں، مثلاً نقش ونگار والی اشیا۔

   o          اگر چیزیں سستی مل رہی ہیں مگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو آپ انھیں مت خریدیں۔

   o          وہ چیزیں بھی نہ خریدیں جن کے لیے جگہ نہیں ہے،یا خصوصی جگہ کے اہتمام کی ضرورت ہوگی۔

   o          ہفتہ وار خوراک کا چارٹ بنالیں۔ مرغن اور مہنگی غذاؤں کی جگہ سادہ اور کم خرچ غذاؤں پر گزارا کریں۔

   o          ضروری نہیں ہے کہ آپ مشہور برانڈ والی چیزیں کھائیں۔ اس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو رائلٹی دینی پڑتی ہے۔ اس کے بجاے آپ اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ ہفتہ وار یا ماہانہ یا چھٹیوں کے دوران ’ون ڈش‘ پارٹی کرنے کی کوشش کریں۔

 معاشرتی    یا    قومی   زندگی

   o          کسی دوست کو اطلاع دیے یا رابطہ قائم کیے بغیر ہرگز نہ ملیے۔اسی انداز سے اپنے دوستوں میں اس کلچر اور عادت کوپروان چڑھانے کی کوشش کریں۔

   o          عام حالات میں بھی بغیر اطلاع کے کسی کے گھر اور دفتر نہ جائیں۔ یہ تہذیب اور شائستگی کے خلاف ہے۔ اگر آپ بغیر اطلاع کے جاتے ہیں تو اس شخص کوآپ آزمایش میں ڈالتے ہیں۔

   o          ایسے لوگوں سے بچیں جو بے مروت ہوں اور خواہ مخواہ وقت ضائع کرنے کی کوشش کریں۔

   o          اپنے مشکل حالات میں اپنوں اور غیروں کو دیکھنے کی کوشش کیجیے۔

   o          ٹیلی فون کے استعمال میں احتیاط کریں۔ بسا اوقات بہت ہی غیر ضروری باتیں اور غیرمتعلقہ باتیں اور تفصیل بیان کی جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر حکمت سے کام لیتے ہوئے بات چیت کو مختصر کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

   o          فضول گوئی سے اجتناب کرکے بھی وقت بچایا جاسکتا ہے۔

   o          وقت کی پابندی کیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے گھر، دفتر، معاشرے میں اور تقریبات کے حوالے سے لوگوں کو پابندی وقت کی ترغیب دیجیے۔

   o          عام گفتگو اور لوگوں کے ساتھ بے تکلفانہ بات چیت کو پانچ منٹ تک محدور رکھیے۔

معاشی زندگی:دفتر  اور کاروباری  اُمور

معاشی مصروفیات، دفتری یا کاروباری معاملات میں درج ذیل اُمور پیش نظر رکھیے:

   o          جب آپ کوئی وقت مقرر کریں تو اس امر کا یقین کر لیں کہ دونوں فریق اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ صحیح وقت کیا ہے؟اسے دوبارہ دہرا کرتصدیق کرنا بہتر ہے۔

   o          مقررہ مقام پر پہنچنے کے لیے سفر میں آپ کو جو وقت لگے گا اسے اس فاصلے سے ہم آہنگ کرلیں، جو دونوں مقامات کے درمیان ہو۔ تاہم، ضروری ہے کہ کچھ نہ کچھ گنجایش غیر متوقع حالات کے لیے بھی رکھ لی جائے، تاکہ مقررہ مقام پر بر وقت پہنچنے میں آپ کو کوئی دشواری نہ ہو۔ٹریفک کا ہجوم اوروی وی آئی پی موومنٹ کو بھی پیش نظر رکھیں۔

   o          اگر آپ ایک خط لکھ کر یا ٹیلی فون کے ذریعے کوئی مقصد حاصل کرسکتے ہوں تو ذاتی طور پر متعلقہ لوگوں سے ملنے کی کوشش نہ کریں۔

   o          چھوٹے چھوٹے معاملات پر فیصلے جلد ہوجانے سے وقت بچایا جاسکتا ہے۔

   o          معاملات میں بے جا مداخلت سے پرہیز کیا جائے۔

   o          دوسروں کا وقت ضائع نہ کیجیے۔ دوسروں کو انتطار کی زحمت مت دیجیے۔

   o          تیزی سے کام کیجیے۔ اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مار دھاڑ کے ساتھ کام کریں بلکہ سست روی اور سست رفتاری سے بچتے ہوئے اسے مقررہ وقت میں کرنے کی کوشش کیجیے۔ امتحان کے تین گھنٹوں میں جس کیفیت سے کام کیا جاتا ہے، زندگی میں بھی اسے ضرور ملحوظ رکھیں۔

   o          خطوط کو دیکھ کر فوراً فیصلہ کرلیں کہ اس پر کیا اقدام کرنا ہے۔

   o          ای میل کا جواب تحریر کرکے اس پر غور کیجیے۔ اگر کوئی جذباتی بات یا غیر مناسب جواب تحریر کرلیا گیا ہے تو اسے بھیجنے سے پہلے اہتما م کے ساتھ بار بار دیکھیے۔ کوشش کیجیے کہ ایک رات گزرنے کے بعد جواب بھیجا جائے۔

   o          مناسب ہوگا کہ اپنی ای میل دن میں صر ف دو بار چیک کریں۔ فوری جوابات ضروری ہوں تو اس میں لچک پیدا کرلیں۔

   o          کئی غیرجواب شدہ کالز کو جمع کرکے ایک وقت میں باری باری فون کرنے کی کوشش کریں۔

   o          عام معاملات میں فون پر کوشش کریں کہ تین منٹ میں بات ختم ہوجائے ورنہ پانچ منٹ سے زائد بات کرنا وقت کے ساتھ ظلم ہے۔

   o          میٹنگز کم از کم کرنےکی کوشش کریں اور وہ بھی ایجنڈے کے مطابق۔ میٹنگز کو ادارے کے مفاد کے لیے استعمال کیجیے۔ بحث و مباحثہ سے ٹیلی ویژن کے ٹاک شوز کا نعم البدل مت بنائیے۔

   o          دوپہر کا کھانا سادہ رکھیں اور کھانے کے بعد چند لمحات آرام کرلیں۔یہ قوت عمل کا باعث ہوگا۔

   o          ہم ہر کام نہیں کرسکتے۔ ان مصروفیات پر توجہ دیجیے جو بہت اہم ہیں اور جن سے آپ کو  زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کم نفع مند کاموں کو مؤخر کرسکتے ہیں یا پھر کسی دوسرے فرد کے سپرد کرکے اس پر کچھ لاگت لگاکر بہتر طریقے سے کر اسکتے ہیں۔

   o          اپنے وقت کا ریکارڈ رکھیے اور جائزہ لیتے رہیے کہ کتنا کارآمد اور کتنا غیر کارآمد خرچ ہوا۔

   o          منا سب شیڈول تو بنایئے لیکن شیڈولنگ کے جال میں مت پھنسیں۔

   o          کام میں حارج ہونے والی باتوں اور مداخلت کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کیجیے۔

   o          اپنے قیمتی وقت [پرائم ٹائم] کی شناخت کیجیے اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھائیے۔

   o          اپنے اہم کاموں کو اس وقت کرنے کی کوشش کیجیے، جب آپ کے جسم میں قوت زیادہ ہو اور یہ آپ خود اپنا جائزہ لے کر معلوم کرسکتے ہیں۔

   o          وہ کام جن کو کرنےکو طبیعت نہیں چاہ رہی ہے (جائز کام)، انھیں کرنے کے لیے اپنے آپ پر جبر کرکے جلد ازجلد کرنے کی کوشش کیجیے۔

   o          غیر متوقع اُمور کے لیے بھی تیار رہیے اور ان کاموں کو بھی اپنے شیڈول کا حصہ بنائیے۔

   o          سفری اوقات کو استعمال کرنے کا فن سیکھیے۔ اس وقت کو بھی بہتر طورپر استعمال کرنے کی کوشش کیجیے اور دورِ حاضر کی ٹکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھائیے۔

   o          ۲۰؍ ۸۰ کے قاعدے کے مطابق کام کیجیے، یعنی وہ کام کریں جن میں محنت کم اور استفادہ یا نتائج زیادہ ہوں اور اسی کے مطابق ترجیحات کا تعین کیجیے۔

   o          جب بہت زیادہ کام آجائیں تو اپنے کاموں کو تقسیم کرنے کی کوشش کریں ۔ اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کارڈز لیں اور اپنے کاموں کے دو گروپ بنالیں: آج کے کرنے کے کام اور وہ کام جو کل ہو سکتےہیں ۔دو گروپ بنا کر کام کرنے کی کوشش کریں۔

   o          ہر ۴۵منٹ کے بعد آپ چند منٹوں کا وقفہ لینے کی کوشش کریں تاکہ آپ زیادہ توجہ اور توانائی کے ساتھ کام کرسکیں۔

   o          اپنے مسائل حل کرنے کےلیے اور اپنی سوچ کو منظم کرنے کے لیے آپ کاغذ اور قلم کے استعمال کی عادت ڈالیں۔ نوٹ بک ہو تو بہتر ہے۔اسمارٹ فون بھی معاون ہیں۔

   o          کاملیت پسند بننے کی کوشش نہ کریں بلکہ کام کو اپنی استعداد کے مطابق احسن طریقے سے کریں۔

   o          بعض اوقات غیرضروری سوچ اور بہت بڑی منصوبہ بندی بھی آپ کے کام میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ ایسی صورت میں فوری عمل بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔تساہل آپ کو کام شروع کرنے سے روکتا ہے اور کاملیت آپ کو کام ختم کرنے سے روکتی ہے۔

   o          اپنے رویّے کو معتدل رکھیے۔

   o          اپنے آپ میں اور اپنے رویے میں لچک رکھیے۔ اتنے سخت بھی نہ بن جائیے کہ ٹوٹنا پڑے۔اتنے نرم بھی نہ بنیں کہ لوگ آپ کو موڑ توڑ کے رکھ دیں۔

   o          ایک جیسے کام ایک جگہ جمع کرلیں۔

   o          اپنے موجودہ طریقۂ کام کا جائزہ لیں اور اس میں حسب ضرورت تبدیلی کریں۔

   o          کام کرنے کے فنکار بنیے۔ محض محنت کافی نہیں بلکہ بہترین طریقے سے کام کیجیے۔

   o          اپنے کاموں اور معاملات کی چیک لسٹ بنائیے، یعنی یہ کہ کیا کیا کام کرنے ہیں۔

   o          بیک ورڈ شیڈول بنائیے، یعنی کام ختم کرنے کی مطلوبہ تاریخ سے پیچھے کی جانب منصوبہ بندی کیجیے۔

   o          چھوٹے چھوٹے کاموں کو ایک وقت میں نمٹائیے۔

   o          ہمیشہ اپنی ترجیحات پر توجہ دیں اپنی مصروفیات پر نہیں۔

   o          دوسروں کے اوقات کی قدر کیجیے۔

   o          فیصلے کرنے میں تاخیر نہ کیجیے۔

   o          اپنے دفتر یا تنظیم کے ساتھیوں کا وقت ضائع نہ کیجیے۔

   o          اپنی ذاتی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیتے رہیے اور اپنی اصلاح کرتے رہیے۔

   o          اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا سیکھیں۔

   o          اپنی تحریر کو بہتر بنائیے۔اپنے لہجے میں شیرینی لانے کی کوشش کیجیے اور تیکھے لہجے سے احتراز کیجیے۔

   o          اپنے کاموں کو اپنے لیے رکاوٹ مت بنائیے بلکہ معاون بنائیے ۔

   o          جو چیزیں اور معاملات عموماً تنگ کرتے ہیں ان کا حل نکالنے کی کوشش کیجیے۔

   o          ہمیشہ بیک اپ پلان رکھیں جیسے آپ لوڈ شیڈنگ کے پیش نظر یوپی ایس یا جنریٹر کا انتظام رکھتے ہیں۔

   o          اوقات کو پرائم اور نان پرائم ٹائم میں تقسیم کریں اور اس کا لحاظ رکھتے ہوئے کام کریں۔

   o          کاموں کے لیے وقت کے گروپ بنالیں اور اس وقت میں تیزی کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کریں۔

   o         جوکام کریں صحیح کریں۔

   o          جب کام ختم کرلیں تو پھر اسے ایک طرف رکھ دیں اور بار بار اس پر نظریں نہ دوڑائیں۔

   o          اپنی جیب میں ہمیشہ کھلے پیسےبھی رکھیں۔ بعض اوقات ریزگاری کی ضرورت پڑتی ہے۔

   o          اپنے معاونین کی ہمیشہ رہنمائی کرتے رہیں اور ان کی عزتِ نفس کا ہمیشہ خیال رکھیں۔ انسانوں کے ساتھ غرور اور تکبر کا رویہ آپ کو بہت جلد بغیر سیڑھیوں کے بغیر زمین پر پہنچا دےگا۔

   o          نشست سے پہلے ہمیشہ پچھلی نشست کی روداد اور اگلی نشست کا ایجنڈا بھیج دیں۔

   o          اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی صلاحیت کا خیال بھی رکھیں۔

   o          اپنے معاونین کو متحرک رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہیں۔

   o          باربار میٹنگوں کے بجاے کانفرنس کال کرلیں یا اسکائپ کال کرلیں۔

   o          جہاں ضرورت ہو دیگر ساتھیوں سے مدد طلب کرلیں۔

   o          اپنے کام سے لطف اندوز ہوں۔ کام کو اپنی پسند بنالیں اور اسے اس حق کے مطابق کرنے کی کوشش کریں۔زندگی کی جائز تفریحات سے فائدہ اٹھائیں۔

   o          اپنے کام کرنے کی جگہوں پر کنٹرول حاصل کریں۔

   o          ترجیحات کا تعین کریں اور ضبط ِ تحریر میں لائیں۔

   o          صحیح وقت پر کام کریں اور کام کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔

   o          مقا صد متعین کریں اور کام مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کریں اور خدا کا شکر ادا کریں۔

   o          بہتر طریقے سے کام دوسروں کو تفویض کریں۔

   o          معذرت کرنے کا فن استعمال کریں۔ جو کام نہیں کرسکتے اور جو کام آپ کے مقاصد کے مطابق نہیں ہے اس سے معذرت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی دنیا اور اپنی آخرت تباہ نہ کریں۔ اپنی نوکری بچانے کے لیے دوسروں کے کرپشن کا حصہ بن گئے تو دوسرے اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو تو بچالیں گے اور جیلیں آپ کاٹیں گے اور مقدمات کے اخراجات آپ کی نسلیں (وراثت سے) ادا کریں گی۔

   o          کاموں کا اور فاصلوں کا اندازہ لگائیں اور منصوبہ بنائیں تاکہ صحیح وقت پر کام ختم کر سکیں۔

   o          سفرعقل مندی اور منصوبہ بند ی کے ساتھ کریں۔مقصدِ سفر واضح ہو۔ کاموں کی فہرست پہلے سے تیار ہو۔ ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ کر لی گئی ہو۔ جن افراد سے ملنا ہے ان سے ملاقات کے اوقات طے ہوں۔ ان سے ملاقات کا ایجنڈا طے ہو۔ اس کےلیے آپ نے ہوم ورک کرلیا ہو۔

   o          بہتر کارکردگی کا مطالبہ کریں۔ اپنے ساتھیوں کو متحرک رکھیں۔ انھیں کام کے فوائد بتائیں۔ انھیں اس معاملے میں ان کے خوش گوار مستقبل کے بارے میں ترغیب دیں۔

   o          ’خدا حافظ‘ کہنے کا فن سیکھیں۔ کچھ کاموں کو ترک کرنا سیکھیں ۔ کچھ قربانیاں دینا سیکھیں۔

   o          تنظیم وقت اور گھر کے کام کاج کے لیے ٹولز [چیزیں] استعمال کریں۔ یہ کارآمد اور وقت بچانے کا اچھا ذریعہ ہیں۔جہاں ممکن ہو ٹولزکو اپنی ضرورت کے مطابق بنائیں۔

   o          اپنے آپ پر ذمہ داریوں کا بہت زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔ انسان خود بے وقوفی کرکے اپنے اوپر بوجھ لادتا ہے۔

   o          ایک وقت میں ایک چیز یا ایک کام کریں۔ بیل گاڑی یا ٹرانسپورٹ کنٹینر بننے کی کوشش نہ کریں۔

   o          جو کام شروع کریں اسے ختم بھی کریں۔ یہ ایک اچھی عادت ہے اور اس سےآپ کی کامیابی کا راز وابستہ ہے۔ اس عادت سے آپ کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔

   o          اپنی شخصیت اور رویے میں لچک پیدا کریں۔ ہٹ دھرمی انسانی تعلقات میں زیب نہیں دیتی۔

   o          کام کے بھوت نہ بنیں۔اچھے انداز میں کام کریں۔

   o          اچھی طرح سے اور غلطیوں سے پاک کام کرنے کی کوشش کریں۔احسن طریقے سے کام کریں کیونکہ یہ انسانوں سے مطلوب ہے۔

   o          ناممکن کاموں کو کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اپنے قد سے چھوٹے ہونا یا بونا بننا ناممکن ہے۔ لیکن ایک یا دو انچ قد بڑھ سکتا ہے۔

   o          کرنے کے کاموں کی فہرست کو اپنے ساتھ بلکہ اپنے سامنے بھی رکھیں۔

   o          افراد کی تربیت کریں اور انھیں زیادہ سے زیادہ اُمور سپرد کریں اور آگے بڑھنے کا موقع دیں۔

   o          مداخلتی چیزوں کا جائزہ لیں اور انھیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ اوقات کو ضائع کرنے والی چیزوں کا جائزہ لیں، مداخلتوں کا جائزہ لیں اور پھر انھیں دُور کرنے کی کوشش کریں۔

   o          ہر کام کے لیے ہدف مقرر کریں اور اس وقت میں اسے کرنے کی کوشش کریں۔

   o          اگر فون پر کام کیا جاسکتا ہے تو خط لکھنے اور ای میل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

   o          غیر ضروری چیزوں کا مطالعہ نہ کریں اور اسی انداز سے روزانہ آنے والی ای میلز کو چھانٹ لیا کریں۔

   o          پہیہ دوبارہ ایجاد نہ کریں ، جو چیزیں میسر ہیں ان سے فائدہ اٹھائیے۔

   o          اپنے کام کے سلسلے میں کسی سے معاونت کی ضرورت ہے تو اسے ضرور حاصل کریں۔

   o          جب کسی کام میں کامیابی ہوجائے تو اس کی خوشی منایئے۔رب کا شکر ادا کیجیے اور اپنے معاونین کو ان کی محنت پر حوصلہ افزائی کیجیے۔ انھیں کریڈٹ دیجیے۔ یقین کیجیے آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کے لیے یہ بہت اہم ہے۔

   o          غیر متوقع چیزوں اور واقعات کا اندازہ لگایئے اور ان کے لیے بھی وقت نکالنے کی منصوبہ بندی کرلیجیے۔

   o          اپنے تضیع اوقات کا عمومی طور سے جائزہ لیتے رہیے اور اس سلسلے میں اپنی اصلاح کرتے رہیے۔

   o          اپنے حافظے کے ساتھ مہربانی فرمایئے اور نوٹ بک کا استعمال کیجیے۔حافظے کو اہم چیزوں کے لیے رکھیے۔

   o          جب گھر یا دفتر سے خریداری کے لیے نکلیں تو مکمل فہرست کے ساتھ نکلیں، تاکہ ایک ہی چکر میں بہت سارے کام ہوجائیں۔ہمیشہ ماسٹر لسٹ اپنے پاس رکھیں۔

   o          دفتر کی عام گفتگو جسے چٹ چاٹ کہتے ہیں اور مزاحیہ چیزوں، کرکٹ اور واقعات پر تبصروں سے پرہیز کیجیے۔

   o          اپنے گھر اور معاشی مقام میں فاصلہ کم کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کے وقت کی بچت ہو۔

   o          دفتری زندگی میں جوابات کے عمومی خطوط (ٹیمپلیٹ ) بنالیں، تاکہ بار بار آپ کو لکھنا نہ پڑے اور آپ ایک ہی ڈرافٹ کی ایڈیٹنگ کرکے اپنا وقت بچانے کی کوشش کریں۔

   o          کام کی منصوبہ بندی کریں پھر کام کریں۔ گاڑی چلانے سے پہلے منزل متعین کرلیں۔

   o          کام کرنے سے پہلے منطق کے سوالات اپنے آپ سے کریں: کیا؟، کیوں؟ کیسے؟ اور کب؟

   o          خاص اور منتخب کام کریں، جن کے بغیر گزارا ہوسکتا ہے اسے چھوڑدیں۔

   o          وہ کام جو دماغی صلاحیت کا مطالبہ کرتے ہیں انھیں ان اوقات میں کریں جب آپ کا دماغ اس کام کے لیے تیار ہو۔

   o          ایک وقت میں ایک کام کریں۔

   o          اپنے یومیہ کاموں کے لیے ٹائم ٹیبل بنائیں۔

   o          قابلِ عمل مقاصد کا تعین کریں۔

   o          گھر پر کام مت لے جائیں اور گھر کو کام پر مت لائیں۔ جب کام پر آئیں تو گھر سے نشریاتی رابطہ کم از کم رکھیں اور جب گھر جائیں تو گھر والوں کے حقوق ادا کریں۔دفتر والوں سے نشریاتی رابطہ کم کردیں۔ شریک حیات اور بچے اور والدین آپ سے آپ کا وقت، آپ کی باتیں اور آپ کی مسکراہٹیں مانگتے ہیں۔ ان کےلیے اجنبی نہ بنیے۔

                (مجموعی طور پر زندگی کے روزمرہ اُمور میں بہتری کے لیے ہماری کتاب شاہراہِ   زندگی   پر کامیابی   کا   سفر کا مطالعہ مفید رہے گا)۔