دسمبر ۲۰۱۶

فہرست مضامین

کتاب نما

| دسمبر ۲۰۱۶ | کتاب نما

حدائق الریحان، حسان بن ثابت، منظوم ترجمانی: پروفیسر رئیس احمد نعمانی۔ ناشر: گوشہ مطالعات فارسی، پوسٹ بکس ۱۱۴، علی گڑھ- ۲۰۲۰۰۱، بھارت۔ صفحات: ۶۲۔قیمت: درج نہیں۔

زمانۂ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں جن شعرا کو نعت ِ رسولؐ لکھنے کی سعادت نصیب ہوئی، ان میں نمایاں ترین نام حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہے۔

ڈاکٹر رئیس احمد نعمانی، مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے بلندپایہ اساتذہ میں سے ہیں۔ جو نہ صرف عربی اور فارسی ادبیات کے عالم اور محقق ہیں، بلکہ قادرالکلام شاعر بھی ہیں۔ انھوں نے حضرت حسانؓ کے قصائد سے سیرتِ پاکؐ پر اشعار کا انتخاب کرکے، انھیں اُردو اشعار میں ڈھالتے ہوئے ترجمے کے ساتھ عربی متن بھی پیش کیا ہے۔

یہ مختصر، مگر اپنی قدر کے اعتبار سے بڑے بڑے دیوانوں پر بھاری کتاب،حُسنِ خیال اور حُسنِ بیان کا مرقع ہے کہ رسولؐ اللہ سے محبت و شیفتگی جس کے حرف حرف پھوٹتی ہے۔

جنابِ نعمانی اس عشق و سعادت کی راہ پر چلتے ہوئے، ۱۹۹۹ء میں حضرت کعب بن زہیرؓ کے مشہور قصیدے بانت سعاد اور ۲۰۰۲ء میں محمد بوصیری کے قصیدۂ بردہ کا مکمل اور منظوم ترجمہ بھی کرچکے ہیں۔ (سلیم    منصور  خالد)


مصادرِ سیرتِ نبویؐ، ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی۔ ناشر: دارالنوادر، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۷۰۳۱۸-۰۴۲۔ صفحات: حصہ اوّل: ۶۴۰، حصہ دوم: ۶۶۶۔ قیمت سیٹ: ۲۰۰۰ روپے۔

سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا بنیادی مآخذ قرآن کریم ہے، پھر ازواجِ مطہراتؓ اور  صحابۂ کرامؓ۔ ازاں بعد محدثین اور سیرت نگاروں نے اس مقدس کام کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔

ڈاکٹر محمد یاسین مظہرصدیقی نے گذشتہ ۴۰برس سے سیرت نگاری کو اپنا میدانِ تحقیق بناکر، اُردو میں بہت سا ذخیرہ منتقل کیا ہے۔ اس دوران وہ جن مآخذ سے استفادہ کرتے رہے ، ان میں سے اکثر مصنفین کے احوال و آثار اور خصوصاً سیرت نگاری کے حوالے سے ان کے علمی ورثے پر بطور تعارف مظہرصاحب نے ایک منصوبے کے تحت مضامین لکھے۔ یہ کتاب انھی مفصل اور مختصر مضامین پر مشتمل ہے۔ انھوں نے بجاطور پر لکھا ہے: ’’سیرت نگاری کا ابتدائی رجحان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و فرامین اور تشریعی نوعیت کے واقعات و کوائف جمع کرنے کے اوّلین کارنامے کی شکل میں اُبھرا، جو حدیث و سنت کا ذخیرہ کہلایا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ابتدائی مؤلفینِ سیرتؐ اپنی اپنی جگہ ماہرین فنِ حدیث اور محققینِ کتاب و سنت تھے‘‘۔ (ص ۵۱)

انھوں نے قارئین کو امام عروہ بن زبیر (۲۲-۹۴ہجری) سے لے کر مولانا محمد ادریس کاندھلوی (۱۳۱۷-۱۳۹۴ہجری) تک (۲۵+۲۴) ۴۹ اہلِ علم و فن سے روشناس کرانے کی سبیل پیدا کی ہے۔ ان مضامین میں مؤلف نے محض حالات ہی نہیں لکھے، بلکہ جہاں ضروری تھا اختصار کے ساتھ تنقیدو تبصرہ بھی کیا ہے ، تاکہ قاری دوسرے پہلو سے بھی واقف ہوسکے۔

مثال کے طور پر ابنِ اسحاق کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’[انھیں] روایات کثرت سے  جمع کرنے کا شوق تھا…روایت و درایت دونوں لحاظ سے ابن اسحاق کی متعدد مرویات مشتبہ بھی ہیں اور بعض اوقات قابلِ ذکر رد بھی‘‘ (ص ۸۰، ۸۱، اوّل)۔ اسی طرح علّامہ واقدی کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’سیرت و تاریخ میں واقدی کی مہارت ہی نہیں بلکہ امامت مسلّم ہے‘‘ (ص ۱۴۹)، مگر اسی صفحے پر امام بخاری کا یہ قول بھی درج کرتے ہیں: ’’وہ [واقدی] متروک الحدیث تھے۔ ان کو امام احمد بن حنبل نے ترک کر دیا تھا۔ معاویہ بن صالح کا بیان ہے کہ واقدی کذّاب ہیں‘‘ (۱۴۹-۱۵۰)۔ پھر دونوں نقطہ ہاے نظر کاتجزیہ کرنے کے دورا ن بتاتے ہیں کہ دراصل: ’’واقدی کو غیرثقہ، ضعیف اور ناقابلِ اعتماد قرار دینے والے علما و محققین نے ناقدین کے عمومی بیانات پر زیادہ تکیہ کیا ہے۔ ابھی تک واقدی کی روایات و احادیث کا کوئی تجزیاتی مطالعہ نہیں کیا گیا ‘‘ (ص۱۵۰، ۱۵۱)۔ زیرنظر کتاب میں شامل ان مضامین میں ڈاکٹر صدیقی نے شخصیات پر بھی بحث کی ہے۔

جلداوّل کے شروع میں سیرتِ نبویؐ پر تحقیق و تحریر کے آغاز اور ارتقا پر مقدمہ تحریر کیا ہے۔ یہ مجموعہ سیرت نگاری کی روایت کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتا ہے اور قارئین کی معلومات میں اضافے کا ذریعہ بنتا ہے۔ (س     م       خ )


جناب غلام احمد پرویز کی فکر کا علمی جائزہ، مرتب: شکیل عثمانی۔ ناشر: نشریات، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۳۲۰۳۱۸-۰۴۲۔ صفحات: ۱۷۶۔قیمت: ۲۲۰ روپے۔

۲۰ویں صدی میں سنت اور حدیث کے منکرین میں ایک نام غلام احمد پرویز صاحب کا بھی تھا، جنھیں قیامِ پاکستان کے بعد بالخصوص حاکم طبقوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی۔ وہ دین کے مآخذ قرآن (حدیث، سنت اور پھر فقہ) پر تیشہ زنی کرتے ہوئے دین بے زار قوتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے اور نئی نسل کے اذہان میں شک اور تذبذب کی فصل بونے میں حصہ لیتے رہے۔

اس طرزِ فکر پر معاصر علما اور دانش وروں نے، بڑی مسکت اور مدلل گرفت کی۔ اس نوعیت کی منتخب تحریروں کا ایک مجموعہ شکیل عثمانی نے زیرنظر کتاب کی صورت میں مرتب کیا ہے۔ اگرچہ  اس میں حوالہ تو جناب پرویز کا ہے، مگر میڈیا کی لہروں کے سہارے یہ فکر آج بھی بہ ااندازِ دگر:  تجدد اور روشن خیالی زہرناکی پھیلا رہی ہے۔ ان حوالوں سے پرویز صاحب کو محض تاریخ کا موڑ  سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، بلکہ معاصر جدیدیت اور ’اسلام کی جدید کاری‘ کے شائقین کی حرکتوں کا مفہوم بھی اس آئینے میں پڑھا دیکھا جاسکتا ہے۔

 شکیل عثمانی نے اس مؤثر انتخاب کے لیے جن اہل فکرودانش سے تحریریں مستعار لی ہیں، ان میں شامل ہیں: سیّدابوالاعلیٰ مودودی، امین احسن اصلاحی، قمرعثمانی، ماہرالقادری، پروفیسر خورشیداحمد، ڈاکٹر محمد دین قاسمی، خورشید ندیم، وارث میر۔  (س     م       خ )


اسلامی معاشرے کی تعمیر میں خواتین کا حصہ، مولانا محمد یوسف اصلاحی۔ ناشر: البدر پبلی کیشنز، ۲۳- راحت مارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۲۵۰۳۰-۰۴۲۔ صفحات: ۲۴۰۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔

مولانا محمد یوسف اصلاحی نے زیرتبصرہ کتاب میں اسلامی معاشرتی زندگی کی اہمیت، اسلامی تہذیب و تمدن کی بنیادوں کا ذکر کیا ہے، جن سے اخلاصِ عمل، فکرِ آخرت اور اسلامی معاشرت اور اجتماعی زندگی پروان چڑھتی ہے۔ اسی طرح قرآن و حدیث کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ سے صحابہ و تابعین اور دیگر مستند واقعات پیش کیے ہیں، جو اصلاح و تربیت کے لیے عملی نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔معاشرے کی تعمیر میں خواتین کے کردار کو نمایاں کرتے ہوئے پُرمسرت، خوش گوار اور پُرسکون گھریلو زندگی کے لیے رہنمائی دی گئی ہے۔ میاں بیوی کے حقوق و فرائض، عورت کے اصل میدانِ عمل اور دیگر معاشرتی مسائل اور فقہی احکامات سے آگہی دی گئی ہے۔ (امجد عباسی)


تعارف کتب

Oتدریب المعلّمین، سیّد ندیم فرحت، سیّد متقین الرحمٰن۔ ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد۔ صفحات: ۳۰۸۔ قیمت: ۵۰۰ روپے۔[یہ کتاب بنیادی طور پر دینی مدارس کے اساتذہ کی رہنمائی کے لیے مرتب کی گئی ہے، جس میں: پروفیسر خورشیداحمد، مولانامحمد رفیق شنواری، مولانا معین الدین قریشی، ڈاکٹر محمد سلیم، مولانا عبدالقدوس محمدی اور سیّد ندیم فرحت کی جانب سے رہنما خطوط پر مشتمل تحریریں ہیں۔ ان تحریروں میں قرآن، حدیث، فقہ اور علمِ کلام کی تدریس کے ساتھ ہم نصابی سرگرمیاں اور عمومی خطبات سے متعلق عملی اُمور بیان کیے گئے ہیں۔]

O سعودی عرب، کل اور آج  ، رضی الدین سیّد۔ ناشر: راحیل پبل کیشنز، کراچی۔ فون: ۲۵۲۴۵۶۱-۰۳۲۱۔ صفحات:۲۲۴۔ قیمت: ۳۳۰ روپے۔ [سعودی عرب کی مختصر تاریخ بیان کی ہے، پھر زائرین عمرہ و حج کے لیے چھوٹے چھوٹے مضامین، جن کی حیثیت مفید ہدایت ناموں کی ہے۔ زائرین پڑھ لیں تو سفر آسان تر ہوگا۔  آخر میں پاکستانی بھائیوں سے گزارش کی گئی ہے کہ اپنے خوابوں اور آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سرزمین کو ایک بار دیکھنے کا جتن وہ ضرور کریں، کیوں کہ جس نے خانہ کعبہ اور روضۂ مبارک نہیں دیکھا، اس نے دنیا میں کچھ بھی نہیں دیکھا۔]

O ارقم ، شمارہ۵،۲۰۱۶ء، مدیر: ڈاکٹر ظفر حسین ظفر۔ ناشر: بزمِ ارقم۔ نزد نادرا آفس، راولاکوٹ، آزاد کشمیر۔ صفحات: ۳۸۴۔ قیمت: ۸۰۰ روپے۔ [اس مجلّے کے پہلے چار شمارے مقامی کالج سے شائع ہوتے رہے، جب کہ یہ شمارہ نجی انتظام میں شائع کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف ادبی و تحقیقی تحریروں کے ساتھ سیرتِ پاکؐ پر مولانا مودودی کا ایک مضمون (ص ۱۲-۲۰، اور یہ مضمون موجودہ اشاعت میں شامل ہے) اور کنور اعظم علی خاں خسروی کی  آپ بیتی (ص ۲۶۸-۳۲۲) بھی شائع کی گئی ہے۔ مشاہیر، کشمیریات، سفرنامہ، تحقیق، تبصرۂ کتب کے تحت مختلف حصوں میں دل چسپ تحریروں کو پیش کیا گیا ہے۔ ]