دسمبر ۲۰۱۸

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| دسمبر ۲۰۱۸ | مدیر کے نام

بدرحسین ، پشاور / ماریہ چودھری ، لاہور 

پروفیسر محمد سعودعالم کا مضمون ’قرآن اور علمِ نافع‘ (نومبر۲۰۱۸ء) زندگی اور علم کے بارے میں    فرد کے نقطۂ نظر کو وہ راہیں دکھاتا ہے ، جو اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ ہیں۔


شائستہ    نورین، شوپیاں، کشمیر

سری نگرسے میرے چچا ایک تحفے کے طور پر عالمی ترجمان القرآن کا شمارہ نومبر۲۰۱۸ء لائے، جسے مَیں نے دو نشستوں میں پڑھ ڈالا۔ہر مضمون کو پہلے مضمون سے بڑھ کر قیمتی پایا۔ خاص طور پر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے قرآنِ حکیم سے اقبال کی وابستگی کو بڑے خوب صورت انداز سے بیان کیا ہے، اور یہ چیز ہمیں قرآن سے تعلق جوڑنے پر اُبھارتی ہے۔ اسی طرح مولانا مودودی کی مختصر، مگر جامع تحریر ’توازن‘ نے بہت کچھ سوچنے کے لیے رہنمائی دی۔پروفیسر خورشید احمد کی تحریر ’حکومت کی کارکردگی اوردرپیش چیلنج‘ میں دردمندی اور ہمدردانہ بلکہ دوستانہ تنقید میں بھی گہرے سبق پوشیدہ ہیں۔ افتخار گیلانی نے جارحیت پسند بھارتی معاشرے میں مسلمانوں کی بے وزنی اور ظلم کی زیادتی کو جان دار انداز سے پیش کیا ہے۔ کاش! یہ رسالہ جموں و کشمیر کی ہربہن اور ہربھائی کے ہاتھ میں پہنچے۔


اصغر محمود ، راولپنڈی / ناد علی، ملتان 

’ریاست مدینہ‘ اگرچہ ہمارے ہاں ایک نعرہ ہے، لیکن سچی بات ہے کہ یادداشت کو تازہ کرنے اور تاریخ سے جڑنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔ سیّداسعدگیلانی نے بڑے مختصر انداز میں ہمیں ہماری گم شدہ جنت کی منزل بتائی ہے۔ پھر ڈاکٹر انیس احمد نے اسلامی تحریکوں کو آگے بڑھنے کے لیے رہنما اصول دیے ہیں۔


سعید عرفان ڈار ، سری نگر / غلام کبریا، برمنگھم

قادیانیوں کی عالمی سرگرمیوں میں اضافے کے بارے میں جاوید اقبال خواجہ کے مضمون نے گہری فکرمندی سے دوچار کیا اور اس سے زیادہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا سبق دیا۔ سچی بات یہ ہے کہ ایک صاحب ِ ایمان کی حیثیت سے ہمیں آگے بڑھ کر جھوٹے پروپیگنڈے کا تدارک کرنا چاہیے۔


حیدر عثمان، سکھر / سعید نوید، کراچی / صابرحسین، ریاض، سعودی عرب  

’بھارت میں ارتداد یا بدحالی‘ کے موضوع پر ہمیشہ کی طرح افتخارگیلانی کا محنت اور مہارت سے لکھا پیغام اور تجزیہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھارت میں، برہمنیت کی اس جارحیت پسندی اور مسلمانوں کی بے بسی کا کچھ بھی پاس و لحاظ رکھنے کی ہمت اور صلاحیت رکھتے ہیں؟ یہ کام نجی سطح پر بھی ہونا چاہیے، مگر اس سے زیادہ  مسلم ممالک کی حکومتوں کے دیکھنے کا ہے۔


راجا  محمد  عاصم ، کھاریاں، گجرات

نومبر ۲۰۱۸ء میں محمد بشیر جمعہ نے اپنی تحریر ’عملی زندگی میں تنظیم وقت‘ میں بڑے دل نشین انداز میں روزمرہ کے کاموں کی منصوبہ بندی کا نظام الاوقات دیا ہے۔ ان ہدایات کی روشنی میں ہم روزانہ کے اُمور کے ساتھ تحریکی کام اور عبادت کے لیے نہ صرف آسانی سے وقت نکال سکتے ہیں، بلکہ بہت سے فضول کاموں سے بھی بچ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ’رسائل و مسائل‘ میں ’فوجداری جرائم‘ تجارت میں شرکت اور مضاربت کا فرق پیش کر کے تجارت کے اہم اصول واضح کیے ہیں۔ خواتین کے چست لباس کے حوالے سے موجودہ حالات میں عورتوں کے لباس کے حوالے سے پیدا ہونے والی صریح غلط کاری کی طرف اشارہ کر کے لباس کے آداب کو بہتر انداز میں سمجھایا گیا ہے۔


شفقت حسین، گجرات

پروفیسر ابصارعالم کا مقالہ ’شیخ احمدسرہندی کے خلاف جہانگیری الزامات‘ (اکتوبر ۲۰۱۸ء) کو شیخ احمد سرہندی کے عقائد وحدت الشہور کے تناظر میں پرکھنا چاہیے، جو اسلامی عقائد سے بعدالمشرقین رکھتے ہیں۔