دسمبر ۲۰۱۹

فہرست مضامین

سود کی مخالفت اور مذہبی کتب

پروفیسر عبدالعظیم اصلاحی | دسمبر ۲۰۱۹ | نظامِ حیات

اگر دنیا کا ہر انسان اور دنیا کی ہر قوم، ظلم و استبداد کو ایک ہی انداز سے دیکھتی، اور اس پر ایک ہی طرح کا ردّعمل ظاہر کرتی، تو شاید انسانیت کبھی اتنی پریشان نہ ہوتی۔ ظلم سے بھی بڑھ کر انسانیت کو اُس وقت پریشانی ہوتی ہے، جب وہ تہذیب و تمدن کی دعوے دار قوموں کے اقوال و اَفعال میں شدید تضاد دیکھتی ہے، بالخصوص جب وہ انصاف کے علَم برداروں کو انصاف کا خون کرتے دیکھتی ہے۔
اگر انسانیت کو اس بات کا پوری طرح یقین ہوتا کہ انسان اب انسان نہیں رہا، بلکہ خوں خوار درندہ بن گیا ہے اور اس بنا پر اُس سے کسی خیر، بھلائی، شرافت اور انصاف کی توقع بیکار ہے تو وہ انسان سے، اُس کے مستقبل سے، اُس کے جذبۂ رحم اور انصاف سے یکسر مایوس ہوکر بیٹھ جاتی۔   مگر اسے کیا کہیے کہ مغربی قومیں؛ مسلم دُنیا اور مشرقی اقوام کو وہ سکون بھی نصیب نہیں ہونے دیتیں، جو انسان کو انتہائی مایوسی کے عالم میں ملتا ہے۔ اِن مظلوم اور مجبور اقوام کی حالت اہلِ مغرب نے اُس پیاسے کی سی بنا رکھی ہے، جو لق و دق صحرا میں پانی کی تلاش میں نکلتا ہے، مگر سواے سراب کے اُسے کوئی ایسی چیز ہاتھ نہیں آتی جو اُسے تسکین عطا کرسکے۔

سراب اور حقیقت

آپ ذرا اُس بدقسمت انسان کی حالت کا خود اندازہ لگائیں، جو پیاس سے نڈھال چلچلاتی دھوپ اور تپتی ہوئی ریت کے اندر طویل مسافت اس اُمید پر طے کرتا ہے کہ اُسے پانی کا ٹھنڈا چشمہ ملے گا، لیکن وہ سفر کی ساری دشواریاں برداشت کرنے کے بعد جب وہاں پہنچتا ہے تو اُسے یہ کرب ناک احساس ہوتا ہے کہ یہ تو محض فریب ِنظر تھا۔ کیا اس شخص کے حق میں یہ اچھا نہ تھا کہ اسے اس فریب میں مبتلا ہی نہ کیا جاتا اور وہ ایک غلط اُمید پر جینے کے بجاے سکون کے ساتھ موت کی آغوش میں چلا جاتا؟
انسان کو دو بڑی چیزیں ذہنی سکون اور قلبی اطمینان بخش سکتی ہیں: یہ اطمینان کہ وہ جس سمت بھی خلوص اور تدبر کے ساتھ قدم اُٹھا رہا ہے، اُس پر چل کر وہ گوہرِمقصود پا لے گا اور جن افراد اور اداروں پر وہ بھروسا کررہا ہے وہ اُسے کبھی دھوکا نہ دیں گے۔یا پھر یہ احساس کہ دنیا سراسر دھوکا ہے، یہاں کسی شخص یا قوم پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، عدل و انصاف یہاں کسی چیز کا نام نہیں ہے    اور آزادی و حُریت محض بے معنی الفاظ ہیں۔ اس دوسری صورت میں کم از کم یہ تو ہوگا کہ آدمی کو  کامل مایوسی ہوجائے گی، وہ اپنے عزائم اور ارادوں کے مدفن خود تیار کر کے ان کے گرد بیٹھ جائے گا اور اُمیدوں کا کوئی دیا جلاکر اپنے سکونِ خاطر کو درہم برہم کرنے کا سامان نہ کرے گا۔
مغربی اقوام نے مشرقی قوموں ، اور خصوصاً مسلمانوں پر، مختلف زمانوں میں جو گوناگوں مظالم کیے ہیں، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ جب ان کی طرف سے یکسر مایوس ہونے لگتے ہیں، تو یہ ’آزادی‘ اور ’حُریت‘ کے سراب دکھا کر انھیں پھر اس فریب میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ عدل و انصاف کی متاعِ گراں مایہ اُن کے ہاں سے ضرور حاصل ہوگی۔ وہ بے چارے پھر ان کی رکاب تھام کر  ان کے ساتھ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں اور ایک طویل سفر کی کلفتیں برداشت کرنے کے بعد جب حقائق ان کے سامنے آتے ہیں تو پھر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔

مغربی دُنیا کا طرزِ عمل

آپ کو اگر مسلمانوں کی اس حکایت ِ تشنہ و سراب کا دردانگیز منظر دیکھنا ہو تو ذرا مغربی برقی ذرائع ابلاغ کے اس طرزِعمل کو دیکھیں، جو اس نے مسلم ممالک کے معاملے میں اختیار کررکھا ہے۔ 
یہ ذرائع ابلاغ ایک طرف آزادی ، جمہوریت، رواداری، انسانی حقوق کے احترام اور عدل و انصاف کے اصولوں کی حمایت کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں۔ دوسری طرف ان کا حال یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان ملک میں کوئی ایسی حکومت قائم ہوجائے، جو اسلام کی براے نام بھی پاس داری کرتی نظر آتی ہو، تو اس کی ذرا ذرا سی غلطیوں کو یہ خوب اُچھالتے ہیں۔ اور یہ شور مچامچا کر زمین و آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں: ’’وہاں آزادیاں کچلی جارہی ہیں اور انصاف کا خون کیا جارہا ہے اور جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے‘‘۔
دوسری طرف جب کسی مسلمان ملک میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں اسلام کی بیخ کنی ہوتی نظر آئے اور اسلام کے لیے کام کرنے والوں پر ظلم توڑنے میں عدل و انصاف اور آزادی و جمہوریت کے سارے اصول پامال کر ڈالے جائیں ، تو یہی پریس اور جملہ ذرائع ابلاغ اپنے ان تمام دعوئوں کو قطعی فراموش کر دیتے ہیں اور اُلٹا ان لوگوں کی پیٹھ ٹھونکنے میں لگ جاتے ہیں، جو ان کی یہ منہ مانگی مراد پوری کررہے ہوں۔ اُس وقت انصاف اور انسانی حقوق کی کوئی مٹی پلید ہوتی ان کو نظر نہیں آتی، بلکہ مسلمان حکمرانوں کے اِن کارناموں پر ان کی باچھیں کھِلی پڑتی ہیں۔ حد یہ ہے کہ اگر کسی ملک میں اخلاق باختگی زور پکڑرہی ہو تو یہ لوگ ایسی حالت کو بطور ’روشن خیالی‘ بخوشی گوارا کرتے ہیں۔
یہ ہے وہ عام رجحان، جو مغرب اور مغرب کے زیراثر ذرائع ابلاغ میں نظر آتا ہے۔ ان کے ہاں انسانی آزادی، قانون کی برتری ، جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے بڑے شان دار تذکرے اور فیچر ملیں گے، اور یوں محسوس ہوگا کہ پوری دنیاے مغرب ان کی محافظ اور پاسبان ہے اور ان پر جب ذرا سی آنچ بھی آئے تو وہ سخت مضطرب ہوکر فوراً اُن قوتوں کے خلاف صف آرا ہوجاتی ہے، جو انھیں پامال کرنے کا ناپاک عزم رکھتے ہوں۔ ممکن ہے اپنے دائرے میں وہ انسانی بنیادی حقوق کے متعلق اتنی ہی حساس ہو جتنی وہ اس کی نمایش کرتی ہے۔لیکن یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں اُس کی روش انتہائی جانب دارانہ، افسوس ناک بلکہ شرم ناک ہے۔

اگر اسلام کو دبانے اور مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لیے انھی میں سے کوئی سفاک آمر یا سامراج نواز رجواڑہ قدم بڑھائے اور اِس مذموم مقصد کی تکمیل میں ایسی تمام اقدار کو روند ڈالے،   جن کے یہ بظاہر پرستار ہیں، تو جمہوری اقدار کے اِن علَم برداروں کے ضمیر میں قطعاً کوئی خلش پیدا نہیں ہوتی، بلکہ مغربی مراکز ِ دانش (Think Tanks)، مغربی ذرائع ابلاغ اور مغربی ممالک اس کے مظالم پر تحسین و آفرین کے نعرے بلند کرنے لگتے ہیں اور مظلوموں کے حق میں کوئی کلمۂ خیر تو درکنار، کلمۂ انصاف بھی ان کی زبان سے نہیں نکلتا۔
جب کسی مسلم ملک میں کوئی دین پسند تحریک، احیاے اسلام کا پاک اور مقدس عزم لے کر جدوجہد شروع کرے ، تو مغربی قوموں کو سخت ’خطرہ‘ لاحق ہوجاتا ہے، اور وہ ہر طرح سے اسے بدنام اور رُسوا کرنے اور اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس تحریک کے متعلق مغربی ذرائع ابلاغ طرح طرح کی بدگمانیاں پھیلاتے ہیں، اور اُن ملکوں میں برسرِاقتدار طبقوں کو اس بات پر اُکساتے ہیں کہ وہ اسے ختم کرنے میں پوری قوت سے کام لیں اور اس وقت تک چین نہیں لیا جاتا جب تک کہ اس تحریک اور اس کے خادموں کی بربادی کا پوری طرح سامان نہ ہوجائے۔
اگر محض حُسنِ اتفاق سے کسی جگہ کوئی ایسا فرد یا طبقہ برسرِاقتدار آجائے، جو اسلام کا علَم بردار نہ سہی، محض اس ضمن میں اچھے جذبات ہی رکھتا ہو، تو مغربی ذرائع ابلاغ اُس کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑجاتے ہیں۔ اس کی معمولی کوتاہیوں اور لغزشوں کو بڑی شدومد کے ساتھ اُچھالتے، اُسے ذلیل و خوار کرنے کے لیے طرح طرح کی خبریں گھڑتے ہیں اور اُس وقت تک دم نہیں لیتے، جب تک کہ غیراسلامی قوتیں اُس پر پوری طرح غالب آکر اُسے برباد نہیں کردیتیں۔

عالمِ اسلام کی زبوں حالی

مغربی ذرائع ابلاغ کے اس طرزِعمل کا اندازہ کرنے کے لیے عقل کی کوئی زیادہ مقدار درکار نہیں۔ آپ صرف گذشتہ چند عشروں کے واقعات پر نظر ڈالیں تو آپ کو حقیقت ِ حال معلوم ہوجائے گی۔
ایسے تمام واقعات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ مغربی قوموں کو جمہوریت، آزادی راے اور بنیادی انسانی حقوق کا غم بس اُسی وقت لاحق ہوتا ہے، جب دنیا میں کہیں اسلام کے لیے کوئی کام ہوتا نظر آئے۔ اسلام کی سربلندی کا ’خطرہ‘ سامنے آتے ہی ان کے پیٹ میں ’جمہوریت‘ اور ’انسانی حقوق‘ کے مروڑ اُٹھنے شروع ہوجاتے ہیں اور وہ اُن قوتوں کے خلاف مکروہ پراپیگنڈے کی ناپاک مہم شروع کردیتی ہیں، جو اس ’خطرے‘ کے پیچھے کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن اسلام کا راستہ روکنے اور اس کی اقدارِحیات کو پامال کرنے کے لیے خواہ کتنے ہی مظالم کیے جائیں، کتنی ہی صریح بے انصافیوں کا ارتکاب کیا جائے، کیسے ہی غیر جمہوری اور غیراخلاقی طریقے اختیار کیے جائیں،  ان کے ضمیر پر جوں تک نہیں رینگتی، نہ ان کے دلوں میں کوئی معمولی ارتعاش تک پیدا ہوتا ہے۔

مصر اور عراق کی مثال دیکھیے

اب اگر محض چند حالیہ سال ذہن میں تازہ کر لیے جائیں، کہ مصر میں کیا کچھ ہورہا ہے؟ مغرب نے قال اور حال سے اس ظلم، دھاندلی اور وحشیانہ طرزِعمل پر آفرین و صد آفرین کی صدائیں ہی بلند کی ہیں۔ اہلِ مغرب کے ہاں کوئی آنکھ اس اندوہناک صورتِ حال پر نم نہیں ہوئی۔ کسی دل میں یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ متاعِ حیات سے محروم ہونے والے اور مصری حکام کے ہاتھوں دردناک عذاب کی سختیاں جھیلنے والے الاخوان المسلمون کے مظلوم طرف دار، انسانی برادری ہی کے معزز ارکان ہیں، اور اُن کے لیے بھی آزادی اور انصاف کے تقاضے اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنے کہ خود اِن کے لیے۔ لیکن چوں کہ الاخوان المسلمون کے ختم ہونے سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہے، اس لیے مغربی قومیں جمال ناصر سے لے کر انورالسادات تک اور پھر حسنی مبارک سے لے کر غاصب جنرل سیسی کے اُن ظالمانہ اقدام پر بڑی مسرور ہیں، اور اس بات پر مطمئن ہیں کہ یہ سفاک اور غاصب حکمران ان کی ناپاک خواہشات کی تکمیل میں دانستہ یا نادانستہ طور پر ممدومعاون ثابت ہوتے رہے ہیں۔

بلاشبہہ عراق پر صدام حسین کی شکل میں ایک فوجی آمر برسرِ اقتدار تھا، جس نے اپنے ملک میں جبر کا ماحول تسلسل سے قائم کیے رکھا۔ لیکن اہلِ مغرب کے دل کبھی اس بات پر نہیں  دُکھے تھے۔ البتہ جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ وہ مسلم دُنیا کی ایک ناقابلِ تسخیر فوجی قوت بن چکا ہے اور خصوصاً مقبوضہ فلسطین پر غاصب صہیونیوں کے لیے خطرہ ہے تو پھر بہانے تراشے گئے۔ جھوٹی خبریں گھڑی اور پھیلائی گئیں، اور اسی جھوٹ کے بل پر پورے عراق کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ لاکھوں بے گناہوںکو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ عملاً عراق دوتین ٹکڑوں میں  تقسیم ہوچکا ہے اور بدامنی اور تباہی اس کا مقدر بنا دی گئی ہے۔ عبرت ناک پہلو یہ ہے کہ امریکی حملہ آوروں کی تائید اور عملاً جنگ میں تباہی مچانے والے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر اب یہ کہتے پھرتے ہیں: ’’ہم نے غلط معلومات کی بنیاد پر عراق پر حملہ کیا تھا، جس پر مَیں معذرت خواہ ہوں‘‘۔ یہ ہے وہ ’مہذب‘ مغرب کہ جو خود جھوٹ گھڑتا، اسی جھوٹ پہ کارروائی کرتا اور پھر ٹسوے بہاکر ’معذرت‘ کا ڈراما رچاتا ہے۔
’مہذب مغرب‘ کے دامن کولہو سے تر کرتی تین مثالیں یہ بھی پیش نظر رکھیے: اب سے ۲۵برس پیش تر روسی سلطنت نے جس طرح چیچنیا کے مسلمانوں کی آواز کو کچلا۔ پھر مشرقی یورپ میں بوسنیا اور کوسووا کے مسلمانوں کی نسل کشی کی اور غلامی کی بےرحم زنجیروں میں جکڑا، تو اس پر کہیں آہٹ نہ سنائی دی۔ مغرب اس کے باوجود ’مہذب‘ ہی رہا، جب کہ مسلم دنیا کی قابض مقتدرہ نے اسے تسلیم کرلیا۔

اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغرب کی یہ روش کوئی ایسا حادثہ نہیں ہے، جسے محض حادثاتی اتفاق پر محمول کرکے نظرانداز کیا جائے۔ اس کے اسلام دشمن طرزِعمل میں اتنی استواری، پایداری اور تسلسل ہے جس میں انسان یہی محسوس کرتا ہے کہ مغرب یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے اندازِ فکر، لگے بندھے منصوبے اور متعین مقاصد کی تکمیل میں کر رہا ہے۔ اس کا یہ طرزِعمل چند حکمرانوں، کچھ صحافیوں اور خبر رسانوں کے ذاتی ذوق یا رجحان کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ پوری پوری قوموں اور سلطنتوں کی پالیسی یہی ہے۔ یہ اہلِ مغرب کی مشترک بین الاقوامی پالیسی ہے، جس کے نفاذ کے لیے ذرائع ابلاغ ایک بڑے مؤثر آلۂ کار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کم از کم اسلام اور مسلمانوں کے معاملے میں پریس ایک خودمختار ادارہ نہیں ہے جو اپنی قوموں کی پالیسی سے ہٹ کر اپنی کوئی الگ پالیسی چلاتا ہو۔
یہ ہوسکتا ہے کہ مغربی پریس کے مختلف مکاتب ِ فکر ہوں اور مختلف مفادات کے محافظ و نگراں اور مختلف افکار و نظریات کے ترجمان کی حیثیت سے یہ پریس متعدد کیمپوں میں بٹا ہوا ہو۔ ان میں باہمی سرپھٹول اور چپقلش بھی ہوسکتی ہے، لیکن مسلمانوں کے معاملے میں اس سارے پریس کے قریب قریب یکساں طرزِعمل کو دیکھتے ہوئے یہ حقیقت نہایت واضح طور پر کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ خواہ اس کے اپنے اندر کتنے ہی اختلافات پائے جائیں، مگر اس ایک معاملے میں اس کے اندر مکمل یک جہتی اور اتحاد ہے، کہ وہ مسلمانوں کو مسلمان نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اسلام کو سر اُٹھاتے نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اسلام کے رشتے کی بنا پر مسلمانوں کو متحد ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ وہ کسی مسلمان قوم کو طاقت پکڑتے نہیں دیکھ سکتا۔ جہاں بھی اسے اسلام کے ایک زندہ طاقت کی حیثیت سے اُبھرنے کا ’اندیشہ‘ ہوتا ہے ، یہ پورا پریس اس کا راستہ روکنے کی جاں توڑ کوشش کرتا ہے۔ کبھی کبھی مغربی پریس میں کوئی نحیف سی آواز مسلمانوں کے حق میں اُٹھتی ہے، مگر حکمرانوں اور پریس کے مجموعی طرزِعمل میں کوئی تبدیلی رُونما نہیں ہوتی۔

مغرب زدہ طبقہ کی پشت پناہی

جب تک مغربی اقوام مسلمانوں پر براہِ راست مسلط رہیں، اُس وقت تک تو وہ خود اپنے ہاتھ سے آزادی، حُریت، انسانی بنیادی حقوق اور انصاف کا خون کرتی رہیں۔ اسلام اور اسلامی تحریکات اور مسلمانوں کی تحاریک ِ آزادی کو دبانے میں ہرقسم کے ظلم سے کام لیتی رہیں۔ اتنے پاپڑ بیلنے کے باوجود انھیں پوری طرح احساس تھا کہ وہ ان ممالک پر خود زیادہ دیر تک مسلط نہیں رہ سکیں گی، اور ایک نہ ایک دن ان ممالک کو آزاد ہی کرنا پڑے گا۔ اس لیے انھوں نے شروع ہی سے اس امر کا پوری طرح اہتمام کیا کہ اگرچہ اُن کے جسم تو بامر مجبوری یہاں سے نکل جائیں، اُن کی روح یہاں سے رخصت نہ ہونے پائے، بلکہ وہ مسلمانوں کے ایک طبقے کے اندر حلول کر کے اسے مغربی قوموں کے مقاصد کی تکمیل کا ایک مؤثر ذریعہ بنا دے۔
چنانچہ ان جارح قوموں نے اپنی ’بد روح‘ کا وارث بنانے کے لیے مسلمانوں کے اندر ایک ایسے طبقے کا انتخاب کیا، جسے وطن، دین، ایمان، اخلاق، الغرض دنیا کی ہرچیز کے مقابلے میں اپنے گھٹیا مادی مفادات عزیز تر تھے۔ اس بے ضمیر طبقے کو اپنا صحیح طور پر جانشین بنانے کے لیے اس کی بڑی تربیت اور سرپرستی کی گئی اور قوم کے اندر اس کے اثرورسوخ کو بڑھانے کے لیے مختلف چالیں چلی گئیں۔

سب سے پہلے اس مراعات یافتہ طبقے کے بلند درجاتی مقام کو تحفظ دینے کے لیے تعلیم و تربیت کے خاص انتظامات کیے گئے، تاکہ مسلم معاشرے اور اُن کے درمیان زیادہ سے زیادہ امتیاز اور بیگانگی پیدا ہو۔ وہ رنگ و نسل کے اعتبار سے مسلم معاشرے سے تعلق رکھنے کے باوجود افکار و نظریات اور احساسات و جذبات کے اعتبار سے غیرملکی ہوں، اور مغربی فرماں روائوں کے رخصت ہوجانے کے بعد وہ انھی جیسے جابرانہ طرزِفکر کے ساتھ مسلمانوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھ کر انھیں اُسی طرح ستائیں، جس طرح کہ مغربی قومیں اُنھیں دواڑھائی سو سال سے ستاتی چلی آرہی ہیں۔
تعلیم و تربیت کے ان ابتدائی مراحل سے گزارنے کے بعد اس مخصوص نسل کو مسلم عوام کی گردنوں پر اس طرح مسلط کیا گیا کہ وہ اپنے بھائی بند سے الگ تھلگ رہے اور اپنے آپ کو برتر اور اپنے بھائیوں کو کم تر مخلوق سمجھتے ہوئے اُن سے معاملہ کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم معاشرے کے بطن سے ایک ایسا طبقہ پیدا ہوگیا، جسے مسلم قوم، اُس کے مسائل، اُس کی تہذیب و تمدن، اس کی روایات، اور اُس کی قوت کے اصل محرکات سے قطعاً کوئی تعلق نہ تھا۔ 

حکمرانوں اور عوام میں کش مکش

یہ طبقہ عام مسلم معاشرے کے احساسات سے یکسر بیگانہ ہی رہا۔ اس کا تعلق خاطر اپنی  ملّت سے زیادہ دوسری جارح اور حاکم قوموں سے تھا۔ اس طبقے کو بدیسی حاکموں کے مقاصد ِ حیات،  اُن کے افکار و نظریات، اور اُن کے طرزِ زندگی زیادہ عزیز تھے۔ فکرواحساس کے اس غیرفطری نشوونما نے اس طبقے کے اندر بہت سے نفسیاتی عارضے پیدا کر دیے۔ ان بیماریوں میں سب سے بڑی بیماری احساسِ کہتری ہے۔ عام مسلم سوسائٹی چوںکہ انھیں اپنے ہاں عزت و احترام کا کوئی مقام دینے پر آماد ہ نہ تھی اور غیرملکی حکمران ایسے بے ضمیر طالع آزمائوں کو اپنے ناپاک مقاصد کی تکمیل کے سوا اور کسی دوسرے مصرف کے لیے مفید نہ سمجھتے تھے، اس لیے اس طبقے کے اندر بڑی شدت کے ساتھ یہ احساس پیدا ہوا کہ اُسے اگر دنیا میں عزت کے ساتھ رہنا ہے تو اس کے لیے بس ایک ہی راستہ ہے۔ وہ یہ کہ وہ کسی طرح مسند ِاقتدار کے ساتھ چمٹا رہے اور اقتدار کی قوت سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک طرف اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مادّی منافع حاصل کرے، اور دوسری طرف اپنی قوم کو کچلنے کے لیے ہرممکن تدابیر اختیار کرے، تاکہ پوری قوم مفلوج ہوکر  رہ جائے اور کوئی چیز بھی اس کی تکمیلِ ہوس کی راہ میں مزاحم نہ ہوسکے۔
اسی مقصد کے لیے مغربی سامراجی قومیں ان طبقوں کو ہرجائز و ناجائز طریقے سے مسلم ممالک میں مسلّط رکھنے پر مُصر تھیں اور آج بھی اسی نسل پر اعتمار کرتی ہیں۔ جہاں اِن مغربیوں کے قائم مقام حاکموں کے تسلّط پر کوئی سوال پیدا اور تنازع اُٹھ کھڑا ہوتا ہے، وہاں وہ جمہوریت، آزادیِ راے اور انسانی بنیادی حقوق کے سارے مواعظ و نصائح بھول جاتی ہیں، جو ان کے ہاں ’ایمان‘ کی حیثیت رکھتے ہیں، جنھیں اپنے ہاں تسلیم کروانے کے لیے وہ خود ایک طویل اور خونیں کش مکش سے گزر چکی ہیں۔

یہ مغربی اقوام اپنے اپنے ملکوں میں اِن حقوق کی زبردست حامی ہیں، مگر مسلم ممالک میں ان کی ساری ہمدردیاں اِن حقوق کے علَم برداروں کے ساتھ نہیں بلکہ ان حقوق کو پامال کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ ان ملکوں کے لیے وہ جمہوریت کے بجاے آمرانہ راجواڑہ کریسی کو زیادہ موزوں سمجھتی ہیں۔ ان ملکوں کے معاملے میں وہ اکثریت کی حکومت کا اصول ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، کیوںکہ جمہور کی حکمرانی لامحالہ مسلم قوم کے عزائم، اُمنگوں اور ارادوں کی ترجمان ہوگی۔ 
اس کے برعکس مغرب زدہ اقلیت کے تسلط کے قیام کے لیے ناپاک کوششیں ہوتی ہیں۔  ذہنی غلامی اور سامراجی چاکری پر خوش رہنے والی اس اقلیت کو آزادیِ راے کا خون کرنے اور عوامی احساسات و جذبات کو کچلنے پر اُکسایا جاتا ہے۔ جو بندگانِ زر اِس کام میں زیادہ جری اور بے باک ہوں اور زیادہ سفاکی کا مظاہرہ کریں، ان کی مدح و ستایش کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔ مغربی دانش، مغربی قیادت اورمغربی ذرائع ابلاغ ان کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں۔ اس کے برعکس قوم کے حقیقی بہی خواہوں اور اس کی اُمنگوں کی ترجمانی کرنے والے مخلص خادموں کو دُنیا میں رُسوا اور بدنام کرنے کے لیے ہرطریقہ اور حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔

’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘

مغربی قوموں کا یہ طرزِعمل سامراج پرستوں کے لیے بے شمار فوائد کا حامل ثابت ہوا ہے۔ مسلمان حکمرانوں اور عوام کے درمیان، اور پھر گاہے خود ان میں بھی باہم اتحاد کی جگہ زبردست سرپھٹول شروع ہوگئی۔ بھائی نے بھائی کے دُکھ درد میں شریک ہونے اور دست ِ تعاون بڑھانے کے بجاے اس کا گلا کاٹنا شروع کر دیا۔ اس طرح مسلم اقوام کے ذرائع و وسائل تعمیروترقی کی راہ پر صرف ہونے کے بجاے ایک دوسرے کو مٹانے اور برباد کرنے میں صرف ہونے لگے۔
مشرق سے مغرب تک اکثر و بیش تر مسلم ریاستوں کو اس باہمی نزاع نے جو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ لاکھوں نہیں اربوں ڈالر، ریال، درہم، دینار، روپے، خود اپنے ہم وطنوں کو دھول چٹانے اور کچلنے میں لگ گئے ہیں اور یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آرہا۔
عرب دُنیا کے معاشی منصوبوں اور قدرتی معدنی وسائل کے بارے میں اتنے بلندبانگ دعوے کیے جاتے تھے،مگر آج صورت یہ ہے کہ اُس کی معیشت بالکل برباد ہوکر رہ گئی ہے۔ اُن کے میزانیے کا ایک بہت بڑا حصہ حکمران طبقوں کی برتری کا نقش دلوں پر بٹھانے اور اُن کی غلط پالیسیوں کو حق بجانب ثابت کرنے اور اُن کی شخصیتوں کو مصنوعی طور پر اُبھارنے میں صرف ہورہا ہے۔ 

اس کے علاوہ ان حکمرانوں کو اکثر اوقات خود ایسے جھگڑے کھڑے کرنے پڑتے ہیں، جن سے قوم کی توجہ اُن کے اعمال و افعال اور اُن کے غلط طرزِعمل کے خطرناک نتائج سے ہٹ کر بعض دوسرے مسائل میں اُلجھ کر رہ جائے اور حکمران بے خوفی کے ساتھ عوام کو اپنی پالیسیوں کا تختۂ مشق بناتے رہیں۔ ایسی خودشکنی پر مشتمل مہم جوئی نے ’خوب بخت‘ (Prosperous) عرب ممالک کی معیشت کی کمرتوڑ کر رکھ دی ہے اور انھیں مالی اور فوجی لحاظ سے اس قابل نہیں چھوڑا ہے کہ وہ اسرائیل جیسی ناجائز ریاست کی دست درازی کی مزاحمت کرسکیں، بلکہ سات عشرے گزرنے کے بعد یہ حکمران طبقے حیلوں بہانوں سے مسلم اقوام کو مجبور کررہے ہیں کہ غاصب اور جارح اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کرلیا جائے۔ تسلیم و رضاکے اس قمارخانے میں ایک سے بڑھ کر ایک بدمست لپکا چلا آرہا ہے۔ ’کیمپ ڈیوڈ‘ سے شروع ہونے والا اور ’اوسلو‘ کی طرف رواں سفر کہیں تھمتا دکھائی نہیں دیتا۔     اِن حالات میں آئے دن داخلی سازشوں کے جو نت نئے افسانے گھڑے جاتےہیں اور ناکردہ گناہوں کی پاداش میں ہم وطنوں پر ظلم کے جو پہاڑ توڑے جاتے ہیں، اِس کے پیچھے یہ بیمار حاکمانہ ذہنیت کام کررہی ہے،کہ روز ایک نیا ہوّا دکھا کر لوگوں کو ان تباہ کن پالیسیوں کے نتائج سے غافل کیا جائے اور قومی احساسات کے برعکس محض قوت کے بل پر لوگوں کی گردنوں پر مرتے دم تک مسلط رہا جائے۔

اُردو شاعری کے زبانِ زدعام مصرعے ’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘ کو اگر مجسم دیکھنا ہو تو اسے صرف مسلم ممالک کے موجودہ حالات پر ایک نگاہ ڈال کر دیکھا جاسکتا ہے۔ معلوم ہوجائے گا کہ گھر کے چراغوں سے جب متاع زندگی جلتی ہے تو وہ منظر کتنا کرب ناک اور اس کے اثرات کتنے تباہ کن ہوتے ہیں۔ مغربی سامراج نے بڑی چالاکی اور عیاری سے اس امرکا انتظام کر دیا ہے کہ مسلمانوں کو برباد کرنے کے لیے خود انھیں کوئی سامان نہ کرنا پڑے، بلکہ ان کے اپنے ’چراغوں‘ سے یہ کام لیا جائے اور وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی گھر کو پھونک دینے کا تماشا دُنیا کو دکھائیں۔ آہ! ہم بدھو پن میں انھی چراغوں سے روشنی کی توقع رکھتے ہیں، لیکن یہ مسلمانوں کی شب ِ تاریک کو منور کرنے کی جگہ اُن کی متاعِ حیات کو ہی خاکستر کیے دے رہے ہیں۔

انتشارِ اُمت کا سبب

غور کیجیے کہ قدرتِ حق کا کون سا ایسا عطیہ ہے، جو مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔ قدرتی وسائل کے اعتبار سے یہ دُنیا کی قوموں میں ممیز اور ممتاز ہیں۔ تعداد کے لحاظ سے یہ کسی دوسری قوم سے پیچھے نہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے سواے بنگلہ دیش، مالدیپ، ملایشیا، برونائی اور انڈونیشیا کے،   تمام کے تمام مسلم ممالک آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پھر ان کے درمیان ایک ایسا رشتۂ اخوت موجود ہے، جس کی نظیر دُنیا کی دیگر اقوام میں نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ یہ اپنا ایک شان دار اور تابناک ماضی رکھتے ہیں۔ ان کی ملّی روایات نے ان کے اندر یگانگت اور یک جہتی کے احساسات پیدا کر رکھے ہیں۔

یہ اپنے سامنے ایک ایسا اُونچا اور مقدس نصب العین رکھتے ہیں، جس کی مقناطیسی کشش نے انھیں ماضی اور حال ہر عہد میں سرگرمِ عمل کیا ہے۔ جب بھی انھوں نے اس پاکیزہ مقصد کے حصول کے لیے کوئی کوشش کی تو اس کے حیرت انگیز نتائج ظاہر ہوئے۔ انتشار کی جگہ اتحاد و اتفاق نے لے لی۔ ملّت کے مضمحل اعضا میں آناً فاناً زندگی بخشنے والا لہو دوڑنے لگا۔ قوم کی خفتہ صلاحیتیں فوراً بیدار ہوئیں اور اس ملّت نے اس مقصد کی خاطر ایسے کارہاے نمایاں سرانجام دیے، جس پر پوری دُنیا حیران رہ گئی۔ یوں معلوم ہوتا کہ اسلام نے پارس کی طرح اس مسِ خاک کو کندن بناکر رکھ دیا۔ 
سوال یہ ہے کہ آخر یہ اُمت اس انقلاب انگیز نصب العین کو کیوں نہیں اپناتی؟ اس کے متعدد اسباب ہیں، لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مغرب کی غلامی نے ہمارے اندر ایک ایسے طبقے کو بااختیار بنادیا ہے، جو پولیس، خفیہ ایجنسیوں اور ذرائع ابلاغ، عسکری مراکز کی مدد سے مسلم عوام کی راے عامہ کو اُبھرنے نہیں دیتا۔ وہ ابھی تک اُسے کسی ایسی قیادت سے محروم رکھنے میں کامیاب ہے، جو اس کی دلی تمنائوں اور آرزوئوں کی ترجمان ہو۔ اسی بنا پر ہمارے ہاں کش مکش اور اضطراب ہے، مختلف طبقوں کے درمیان منافرت اور کشیدگی ہے، اور اسی بنا پر ہماری قومی صلاحیتیں تعمیروترقی کی راہ پر لگنے کے بجاے، باہمی آویزش میں صرف ہورہی ہیں۔ یہ قوم قدرت کی طرف سے بانجھ بناکر نہیں بھیجی گئی، بلکہ اس کی اس سرپھٹول نے اسے تخلیقی قوت سے محروم کرکے رکھ دیا ہے۔
اس احساسِ زیاں کو بیدار کرنا اور اس صدمے سے نکلنے کی اُمنگ پیدا کرنا، پہلا قدم ہے۔ اگرسستی نعرے بازی کی فصل کو آگ لگا کر، مسئلے کی حقیقی جڑوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی جائے، تو بہت تیزی سے زندگی میں روح پھونکی جاسکتی ہے۔ ان کانٹوں کو پہچاننے اور جھاڑ جھنکار سے نجات پانے کے لیے قرآن و سنت قدم قدم پر ہماری دست گیری کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ قرآن و سنت کو محض مقدس علامت سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں دی جاتی، اور نہ اسلام کی مطلوب اُمت بنانے اور مطلوب شخصیت تعمیر کرنے کی فکر ہی کی جاتی ہے!

تمام معاشی برائیوں میں ’ربا‘ یا ’سود‘ کے نتائجِ بد، معیشت کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں۔ سود کا عمل صرف ایک دینی حکم کی خلاف ورزی اور اخلاقی برائی نہیں ہے، بلکہ اس کی کوکھ سے بہت سی سماجی و معاشی برائیاں جنم لیتی ہیں، مثلاً ظلم، استحصال، بے رحمی، بے مروتی، افراطِ زر، تقسیمِ دولت میں ناہمواری اور اقتصادی بحران وغیرہ۔ بڑے اور ترقی یافتہ ملکوں کے زیراہتمام کام کرنے والے بین الاقوامی مالی ادارے آسان شرطوں پر ’امداد‘ (Aid)کے نام پر سودی قرضے فراہم کرکے، ترقی پذیر اور کمزور ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اور ان کے عالمی تعلقات کو اپنے مفاد میں کنٹرول کرتے ہیں۔
اس وقت دنیا کی بیش تر آبادی قرضوں کے بوجھ تلے سسک سسک کر زندگی گزار رہی ہے۔ لاطینی امریکا میں پیدا ہونے والا ہر متنفس ۱۶۰۰ ؍ ڈالر کے قرضے کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ افریقہ جنوبی صحارا (Sahara) کے ممالک میں، پیدا ہونے والے ہربچے پر ۳۳۶ ڈالر کا قرضہ پہلے سے موجود ہوتا ہے، حالاں کہ سود کی شکل میں ان کے آبا و اجداد ان قرضوں کو بہت پہلے ادا کرچکے ہیں۔ اسی طرح ۱۹۸۰ء تک جنوبی افریقہ کے ممالک کے ذمے ۵کھرب اور ۶۷؍ارب ڈالر کا قرضہ تھا، جب کہ اس وقت تک وہ سود کی مد میں ۳۴کھرب اور ۵۰؍ارب ڈالر ادا کرچکے تھے۔ ۲۰۰۰ء تک وہ اصل رقم کا چھے گنا دے چکے تھے، مگر پھر بھی ان کے ذمے ۲۰کھرب اور ۷۰؍ارب  ڈالر کا قرض باقی تھا۔(www.henciclopedia.org.uy/autores/lagadelmundo/usury.htm [پاکستان میں صورتِ حال یہ ہے: ۲۰۰۸ء میں ہرپاکستانی شہری ۵۹۳ ڈالر کا مقروض تھا، جب کہ ۲۰۱۷ء میں وہ ۱۱۲۲ ؍ڈالر فی کس مقروض ہوگیا اور ۲۰۱۹ء میں یہ رقم اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ادارہ])
  یہ تو بڑے قرض داروں کا حال ہے۔ چھوٹے ساہوکاروں کے ظلم اور ان کے قرض داروں کی حالت ِ زار سے افسانے بھرے پڑے ہیں۔
قرآنِ کریم میں سود کے مرتکبین کے خلاف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اعلانِ جنگ کیا گیا ہے۔ 
ارشاد ِ الٰہی ہے:
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ ۝۰ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۝۰ۚ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ۝۲۷۹ (البقرہ ۲:۲۷۹) پس اگر تم (سود سے) باز نہ آئو تو اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے جنگ کے لیے تیار رہو۔ اور اگر تم اس سے توبہ کرلو تو تمھارے لیے تمھارا اصل سرمایہ ہے۔ نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔
ظاہر ہے کتابِ الٰہی میں جس برائی کے مرتکبین کے خلاف اعلانِ جنگ کیا گیا ہو، اس کی ممانعت کا سبھی آسمانی کتابوں میں پایا جانا عین قرین قیاس ہے۔ پیش نظر مضمون میں ربا سے متعلق قرآنی احکام کی وضاحت کے بعد، اس برائی سے متعلق بعض دیگر مذہبی کتابوں میں موجود احکام کا جائزہ لیا اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ تعلیمات اس بُرائی کے خلاف متحد پلیٹ فارم بنانے میں بنیاد ثابت ہوسکتی ہیں۔ بعض حکما و فلاسفہ کی آرا، نیز ماہرین معاشیات کے مثبت نتائجِ فکر ذکر کرنے سے یہ مقصود ہے کہ اس جدوجہد میںان کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے ۔ یوں مذہبی سوچ رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ سیکولر ذہنوں کو مطمئن کرنے میں مدد لی جاسکتی ہے۔

قرآنِ مجید میں سود کی ممانعت 

سود کی مذمت اور ممانعت جس شدت کے ساتھ قرآن میں آئی ہے ، شایدہی کسی اور مذہبی کتاب میں پائی جاتی ہو۔ سود سے متعلق قرآنی آیات بہت واضح، صریح اور قطعی ہیں۔ سود ہرزمانے اور ہرقوم میں موجود رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک مختلف فیہ قول کا سہارا لے کر بعض حیلہ جُو مصنّفین نے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ’’ اسلام میں سود کی کوئی تعریف ہی نہیں ہے‘‘۔(دیکھیے راقم کا مضمون: ’’کیا آیت رِبا قرآن کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت ہے؟‘‘ مجلہ علوم القرآن، علی گڑھ، جنوری- جون ۲۰۱۴ء، ص ۴۶-۲۷)
مصحفی ترتیب کے مطابق قرآنِ مجید میں سب سے پہلے سورۃ البقرہ میں سود کی ممانعت کا حکم مذکور ہے۔ اس میں فرمایا: ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ بالکل ایسے شخص کی طرح اُٹھیں گے، جسے شیطان نے چھوکر باؤلا کردیا ہو‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے پاگل پن کا اظہار کرتے ہوئے خریدوفروخت کو جس میں فریقین کا فائدہ ہوتا ہے ’ربا‘ کے مانند قرار دے دیا، جو کہ ایک فریق کے استحصال پر منتج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور ربا کو حرام قرار دیا ہے۔(ابن القیم، اعلام الموقعین، مکتبہ السعادۃ، قاہرہ، ج۲، ص ۱۳۵)  
اسی طرح سورۂ آل عمران میں سودخوری سے منع فرمایا کہ اس کا مزاج ہی یہ ہے کہ وہ دگنا چوگنا ہوتا رہتا ہے۔(علامہ ابن القیم کے مطابق ہر سود کی طبیعت میں یہ داخل ہے کہ وہ بڑھتا چڑھتا اضعافًا مضاعفۃ  رہے۔)
اللہ کے خوف سے سود سے پرہیز کرنے والوں کے لیے کامیابی اور فلاح کا وعدہ فرمایا گیا ہے اور سود خوری کے انجام، آتشِ جہنم سے خبردار کیا گیا ہے جو اس طرح کے ناشکروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔(اٰل عمرٰن ۳:۳۰-۳۱)
سود جس کا قرآنِ کریم میں اس بُرائی کے ساتھ ذکر ہے، اس کا حرام ہونا صرف اُمت محمدیہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ خود قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود پر سود حرام تھا جس کی حکم عدولی انھوں نے کی اور جس کے نتیجے میں انھیں ذلّت و رُسوائی سے دوچار ہونا پڑا (المائدہ ۵:۱۶)۔ اور جو سود اہلِ کتاب کے یہاں حرام تھا، وہی اسلام میں بھی حرام ہے۔ ہم ذیل میں اہلِ کتاب کے صحیفوں میں سود سے متعلق احکام کا جائزہ لیں گے:
حقیقت یہ ہے کہ ربا مکی دور سے حرام رہا ہے، جیساکہ احادیث ِمعراج سے معلوم ہوتا ہے۔(احمد بن علی بن حجر العسقلانی، فتح الباری، شرح بخاری، بیروت، ۱۳۷۹ھ، ج۴،ص۳۱۳-۳۱۵)
  سورئہ روم، مکّہ میں نازل ہوئی جس میں وارد ہے:
وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللہِ ۝۰ۚ(الروم ۳۰:۳۹) جو ربا بھی تم دیتے ہو کہ اس سے لوگوں کے مال میں اضافہ ہو تو اللہ کے نزدیک اس سے کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔
سورۃ المدثر، مکی دور کی ابتدائی سورتوں میں ہے۔ اس کی آیت وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۝۶۠ۙ     (المدثر ۷۴:۶) یعنی’’کسی پر احسان نہ کرو اس سے زیادہ کی طلب میں‘‘سے بعض مفسرین نے تحریم سود مراد لیا ہے۔(ابن تیمیہ، مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ،الریاض، ۱۹۸۳ء، ج۴،ص۲۲)
سود سے متعلق قرآنِ کریم کے مذکورہ بالا احکام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلام میں حتمی اور قطعی طور پر حرام ہے۔ سودی معاملہ ایک ظلم ہے جس سے قرآن نے منع کیا ہے۔ قرآن تجارت اور سود کی مشابہت کو رد کرتا ہے۔ علامہ ابن تیمیہؒ نے سود کی ممانعت کے معاملے میں اہلِ اسلام کے درمیان اجماع کی صراحت کی ہے، جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ باطل طریقے سے ایک دوسرے کے مال کھانے کا طریقہ ہے، جو تمام سودی معاملات میں پایا جاتا ہے۔  (مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ج ۲۹، ص ۴۱۹-۴۵۵)
پیداواری و غیرپیداواری قرضوں کا سود اور اسلام؟
عصرِحاضر کے کچھ نام نہاد دانش وروں نے بعض قوموں کی موشگافیوں سے متاثر ہوکر ’پیداواری‘ اور ’غیرپیداواری قرضوں‘ کے سود کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالاں کہ اگر اس طرح کا کوئی فرق ہوتا تو کتاب اللہ اور سنت ِ رسولؐ اللہ میں ضرور اس کی صراحت ہوتی۔ کیوں کہ قرآن ایسی قوم کے درمیان نازل ہوا، جو عام طور پر تجارت پیشہ تھی اور جس کے قرضے تجارتی اغراض کے لیے بھی ہوتے تھے۔ فضل الرحمٰن گنوری نے اس موضوع پر سیرحاصل بحث کی ہے اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ ’’عرب جاہلیت اور ابتداے اسلام میں مکہ اور طائف کے لوگوں کے درمیان پیداواری و تجارتی مقاصد کے لیے قرضوں کا رواج تھا۔ اس لیے ان لوگوں کا خیال  غلط ہے جو یہ کہتے ہیں کہ دورِ اوّل میں قرضے حاجت براری کے لیے حاصل کیے جاتے تھے، یا یہ کہ پیداواری قرضے دورِحاضر کے مظاہر میں سے ہیں، اس لیے ان کا حکم جدا ہونا چاہیے‘‘۔(فضل الرحمٰن، تجارتی سود، تاریخی و فقہی نقطۂ نظر، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، ۱۹۶۷ء، ص۸-۳۰)
تمام ہی علماے سلف اس بات کے قائل ہیں کہ اسلام میں پیداواری و غیرپیداواری یا تجارتی و غیرتجارتی قرضوں کے سود کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ ہر دو طرح کے قرضوں پر طلب کی جانے والی اضافی رقم ’ربا‘ یا ’سود‘ ہے۔
علّامہ حمیدالدین فراہیؒ نے خود قرآنی آیات کے الفاظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ دورِاوّل میں زیادہ تر قرض خواہ تونگر و اہلِ ثروت ہوا کرتے تھے۔ آیت: وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰى مَيْسَرَۃٍ ۝۰ۭ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۲۸۰ (البقرہ ۲:۲۸۰) ’’تمھارا قرض دار تنگ دست ہو، تو ہاتھ کھلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو صدقہ کردو، تو یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو‘‘ کی تفسیر میں آپ فرماتے ہیں:
یَلُوْحُ مِنْ ھٰذِہِ الْکَلِمَاتِ اَنَّھُمْ  کَانُوْا یَأْخُذُوْنَ الرِّبَا مِنْ ذِیْ مَیْسَرَۃٍ  وَالْقُرَیْشُ کَانَتْ تُجَّارًا وَاَصْحَابَ الرِّبَا فَلَا اَرَی فَرْقًا بَیْنَ حَالِھِمْ وَحَالِ اَبْنَاءِ زَمَانِنَا فِیْ الرِّبَا - وَاللہُ اَعْلَمُ!  ان الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تونگروں سے سود لیا کرتے تھے۔ قریش تجارت پیشہ قوم تھی اور سودی معاملات کرتے تھے۔ اس لیے مَیں نہیں سمجھتا کہ ’ربا‘ کے معاملے میں اُس وقت کے حالات اور ہمارے زمانے کے لوگوں کے حالات میں کوئی فرق ہے۔(عبدالحمید فراہی، تعلیقات فی تفسیر القرآن الکریم، سراے میر، ۲۰۱۰ء، ج۱،ص ۸۵)
پھر اس معنی کی وضاحت مولانا امین احسن اصلاحی نے تفصیل سے کی ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ: عربی زبان میں اِنْ  کا استعمال عام اور عادی حالات کے لیے نہیں ہوتا بلکہ بالعموم نادر اور شاذ حالات کے بیان کے لیے ہوتا ہے۔ عام حالات کے بیان کے لیے عربی میں اِذَا ہے۔ اس روشنی میں غور کیجیے تو آیت کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اس زمانے میں عام طور پر  قرض دار ذومیسرہ (خوش حال) ہوتے تھے۔ لیکن گاہ گاہ ایسی صورت بھی پیدا ہوجاتی تھی کہ قرض دار غریب ہو یا قرض لینے کے بعد غریب ہوگیا، تو اس کے ساتھ رعایت کی ہدایت فرمائی۔(امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، لاہور، ۱۹۸۵ء، ج ۱، ص ۶۳۸-۶۳۹)
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ زمانۂ قدیم سے مسلمان علما نہ صرف یہ کہ ہردو طرح کے قرضوں سے واقف، اور ان کے تکلیف دہ نتائج سے بھی آگاہ تھے۔ امام فخرالدین رازی نے تجارتی سود کو درست قرار دینے کی سوچ پر سخت تنقیدکی ہے۔ ایسے قرضوں کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:
رہی یہ بات کہ اس کا امکان ہے کہ قرض دہندہ نے اپنی رقم کی سرمایہ کاری کی ہوتی اور اس سے نفع کمایا ہوتا تو یہ ایک امرموہوم ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ نفع ہو یا نہ ہو (بلکہ خسارہ ہوجائے)۔ اب صرف اس امکان کی بنیاد پر قرض دی گئی رقم پر ایک متعین اور طے شدہ اضافی رقم کا مطالبہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ یہ تو ظلم و ناانصافی ہے کہ ایک وہمی و امکانی بنیاد پر ایک یقینی و لازمی چیز کا مطالبہ ہو۔(فخر الدین رازی، التفسیر الکبیر، قاہرہ، ۱۹۳۸ء، ج۵، ص ۹۱)
امام رازی کے مطابق اس اجازت کا ایک غلط معاشی اثر یہ ہوگا کہ ’’یہ چیز اہلِ سرمایہ کو صنعت ،تجارت و زراعت کے خطرات کے جوکھم میں پڑنے سے روکے گی اور وہ قرض دے کر یقینی و طے شدہ نفع کمانے کو ترجیح دیں گے، حالانکہ معاشی ترقی و فلاح اس کے بغیر ممکن نہیں ہے‘‘۔(التفسیر الکبیر، ج۵،ص۹۲)

سود کے احکام عہد نامہ قدیم میں

سود سے متعلق قرآنی احکام و تعلیمات کا جائزہ لینے کے بعد دنیا کی بعض دیگر مذہبی کتابوں کے حوالے سے سود کے احکام کا مطالعہ پیش ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے توریت کو دیکھتے ہیں۔  عہدنامہ قدیم کے باب لاویین یا احبار ۲۵، ۲۶: ۳۷ میں مذکور ہے:
اور اگر تیرا بھائی مفلس ہوجائے اور وہ تیرے سامنے تنگ دست ہو، تو اسے سنبھالنا۔  وہ پردیسی اور مسافر کی طرح تیرے ساتھ رہے تو اس سے سود یا نفع مت لینا۔ اپنے خداوند کا خوف رکھنا تاکہ تیرابھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کرسکے تو اپنا روپیہ اسے سود پر مت دینا اور اپنا کھانا بھی اسے نفع کے خیال سے نہ دینا۔(کتاب مقدس، یعنی پرانا اور نیا عہدنامہ، بائبل سوسائٹی ہند، بنگلور، ۱۹۲۵ء، ص ۱۱۹)
اسی طرح باب خروج ۲۲-۲۵ میں ہے:
اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہو، کچھ قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا۔
عہدنامہ قدیم کے باب استثناء ۲۰-۱۹:۲۲ میں بھی اسی طرح کی تعلیم ہے:
تُو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا، خواہ وہ روپے کا سود ہو یا اناج کا سود، یا کسی ایسی چیز کا سود ہو، جو سود پر دی جاتی ہے۔ تُو پردیسی کو سود پر قرض دے تو دے، اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا تاکہ خداوند تیرا اس ملک میں جس پر تو قبضہ کرنے جارہا ہے، تیرے سب کاموں میں جن کو تُو ہاتھ لگائے برکت دے۔
زبور ۵:۱۵ میں ہے: ’’اے خداوند! تیرےخیمے میں کون رہے گا؟ تیرے کوہِ مقدس پر کون سکون اختیار کرے گا؟ وہ جو اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھائے گا‘‘۔
حزقی ایل میں آیا ہے: ’’غریب سے دست بردار ہو اور سود پر لین دین نہ کرے۔ لیکن میرے احکام پر عمل کرے اور میرے آئین پر چلے‘‘۔ 
توریت کے مذکورہ بالا احکام پر عربی دائرۃ المعارف کے مؤلف لکھتے ہیں:
شریعت موسوی میں یہودیوں کو غریبوں سے سود لینے سے منع کیا گیا تھا، خواہ وہ کوئی اجنبی ہی کیوں نہ ہو، پھر اس ضمانت کو یہودیوں سے سود لینے تک محدود کر دیا گیا، خواہ وہ مال دار کیوں نہ ہو۔ انھیں حکم ہوا تھا کہ وہ غریبوں کو قرض دیں تاکہ انھیں قید اور فقروفاقہ سے نجات حاصل ہوسکے۔ اور انھیں سخت انتباہ دیا گیا تھا کہ کسی حیلے و حوالے سے سود نہ لیں…لیکن جب بازار میں وسعت ہوئی اور کاروبار میں ترقی آئی تو سود لینا اور رہن پر قرض دینا ان کے اندر بالکل عام ہوگیا۔ البتہ خود اپنے یہودی بھائیوں سے بھی سود لینے کا جواز ان کے یہاں بہت بعد میں ہوا‘‘۔(سلیم البستانی، دائرۃ المعارف، بیروت، ۱۸۸۴ء،ج ۸،ص۵۱۳) 
مذکورہ بالا سطور سے واضح ہے کہ قرآن کے علاوہ خود یہودی مآخذ سے معلوم ہوتا ہے کہ  بنی اسرائیل کے یہاں سود کی سخت ممانعت تھی مگر جیسا کہ قرآن کے بیان سے معلوم ہے، اس میں انھوں نے کافی ردوبدل کیا اور اس کی خلاف ورزی کی۔ ان سب کے باوجود اب بھی اگر ان تعلیمات پر غور کیا جائے، تو واضح ہوگا کہ توریت کی بنیادی تعلیم میں ہر طرح کے سود سے ممانعت ہے۔

انجیل میں سود کا تذکرہ

انجیل  یا عہد نامۂ جدید میں سود سے متعلق کوئی حکم ملنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ حضرت مسیح ؑکوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ توریت کی اصل تعلیمات ہی کو جاری و ساری کرنے آئے تھے۔ عہدنامۂ جدید میں مسیحؑ کا قول ہے کہ: ’’بغیر کسی بدلے کی اُمید رکھے ہوئے قرض دو‘‘۔ لوقا (۶:۳۵) میں ہے: ’’اور اگر تم ان کو قرض دو، جن سے وصول ہونے کی اُمید رکھتے ہو، تو تمھارا کیا احسان ہے؟ گنہ گار بھی گنہ گار کو قرض دیتے ہیں تاکہ پھر وصول کرلیں‘‘۔(عہدنامہ جدید،ص ۵۸)
اس سے یہ واضح ہے کہ بنیادی طور پر سود خوری مسیحیت کی روح کے منافی ہے۔
شروع کے مسیحی کلیسا نے سود کے خلاف نہایت سخت رویہ اپنایا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اُدھار پر روپے دینے کا کاروبار کرنے والوں کو معبد سے نکلوا دیا تھا۔ عیسائی پادریوں نے سود سے متعلق عہدنامہ قدیم میں پائی جانے والی تعلیمات کو ازسرنو زندہ کیا۔ ان نصوص کی بنیاد پر چوتھی صدی کے کیتھولک چرچ پادریوں کے گروہ نے کلیسا سے وابستہ افراد (Clergy ) کو سودی کاروبار کرنے سے منع کر دیا۔ پھر اسی حکم کو ایک صدی بعد عام آدمی (Laity) پر بھی لاگو کردیا گیا۔ آٹھویں صدی عیسوی میں شارلیمان (Charlemagne) کے حکم کے تحت ’ربا‘ کو ایک قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا۔ سود کے خلاف جنگ ۱۳۱۱ء میں اپنی انتہا کو پہنچ گئی، جب کہ پوپ کلیمنٹ پنجم نے ہرطرح کے سودی کاروبار پر مکمل پابندی عائد کر دی اور سود کے حق میں دی جانے والی ہرطرح کی دلیلوں کو خارج کر دیا۔(اے بیرنی، The History and Ethics of Interest, ، لندن، ۱۹۵۲ء)
یہ بات کہ سود ایک ظلم ہے، مسیحی اہلِ مدرسہ نے بہت تاخیر سے بارھویں صدی عیسوی میں بیان کیا، جس کو عیسائی معاشیات کے ایک مصنف اوبرائن (O'brien) نے بہت بڑا انکشاف قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق:الیگزنڈر سوم (م:۱۸۱۱ء) سود کے گہرے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ سود ایک ظلم کا ارتکاب ہے۔ سود میں اصلاً ظلم اورناانصافی پائے جانے کا اعتراف اس موضوع پر مطالعے کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، اور الیگزنڈر سوم اس کا مستحق ہے کہ سود کے علمی مطالعے میں اس کو سفرمینا سمجھا جائے۔(جارج اوبرائن، An Essay on Medieval Economic Teachings لندن، ۱۹۲۰ء، ص ۱۷۵)
اس بات سے ہم سب واقف ہیں کہ قرآن نے شروع ہی میں سودی لین دین کو ایک ظلم قرار دے دیا تھا: لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ۝۲۷۹  (البقرہ ۲:۲۷۹) ’’نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے‘‘۔ بعد کے عہد میں خود کلیسا کے صاحب ِسرمایہ بننے اور تجارت کے فروغ سے یوژری (usury) اور انٹرسٹ (interest) میں فرق کی بحث شروع ہوئی، جس میں بالآخر ’انٹرسٹ‘ کو ’یوژری‘ سے الگ ایک جائز طریقے کے طور پر اکثر مسیحی علما نے تسلیم کرلیا۔ اس کے باوجود چرچ آف اسکاٹ لینڈ نے ۱۹۸۸ء میں سرمایہ کاری اور بینکنگ پر اپنی رپورٹ میں اس بحث کو پھر پوری قوت سے اُٹھایا، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم اس کے قائل ہیں کہ کاروبار یا ذاتی قرضوں پر انٹرسٹ وصول کرنا بجاے خود چرچ کی اخلاقیات سے ہم آہنگ نہیں ہے، کیوں کہ یہ طے کرنا بہت مشکل ہے کہ جو ’انٹرسٹ‘ طلب کیا جارہا ہے، وہ مناسب ہے یا بہت زیادہ؟‘‘ (Church of Scotland Report of Special Commission on the Ethics of Investment and Banking ، ۱۹۸۸ء، بحوالہ: www.lariba.com/knowledge-center) 

سود کی مخالفت ، ہند کی مذہبی کتابوں میں

ایل سی جین نے اپنی کتاب Indigenous Banking in India میں سودی معاملات کی تاریخ تقریباً چار ہزار سال پرانی بتائی ہے اور ان کے مطابق اس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی سود کی مخالفت و مذمت کی۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ ’’سارے ہی بڑے مذاہب، ہندوازم، بدھ ازم، یہودیت، عیسائیت اور اسلام سود کے مخالف رہے ہیں‘‘۔(ایل سی جین ،Indigenous Banking in India ، لندن، ۱۹۲۹ء، ص ۳-۱۰)
قدیم ہند میں سود سے متعلق قدیم ترین حوالہ وید  کے اندر پایا جاتا ہے، جس کا زمانہ دوہزار سے چودہ سو سال قبل مسیح سمجھا جاتا ہے۔ بعد کے اَدوار میں سوترا (۷۰۰-۱۰۰ ق م) کے اندر اور بدھ مت کے جاتکا  (۶۰۰-۴۰۰ ق م) میں سودکا بکثرت ذکر آیا ہے۔ جس میں  سود سے متعلق نفرت آمیز بیان پایا جاتا ہے۔ جاتکا  میں ہے کہ ’’صرف منافق بھکشو ہی سودی کاروبار کرسکتا ہے‘‘۔ وسشتھا (Vasishtha) جیسے  قدیم ہندو مقنن نے خاص طور پر یہ قانون بنایا تھاکہ اعلیٰ ذات کے برہمن اور کھشتری سود کا کاروبار نہیں کرسکتے۔ البتہ دوسری صدی عیسوی سے ممنوع سود کی اصطلاح ایک ایسے مشروط معاملے کے لیے استعمال ہونے لگی، جو قانونی شرح سے زیادہ ہو۔(ایل سی جین ،Indigenous Banking in India ، لندن، ۱۹۲۹ء، ص ۳-۱۰)
ہمیں کوشش کے باوجود کوئی ایسی تحقیق نہیں مل سکی، جو ہندستانی مذہبی کتابوں کے اصلی حوالوں سے سود کی بابت، ان کتابوں میں موجود احکام پر روشنی ڈال سکے۔ اس لیے زیربحث اس خاص پہلو کے لیے ثانوی ذرائع پر اعتماد کرنا پڑا، جن میں بہت تسلی بخش تفصیلات نہیں مل سکیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سود سے متعلق ہندستانی مذاہب کے موقف اور دھارمک گرنتھوں میں موجود ہدایات کو تحقیق کا عنوان بنایا جائے۔ 

حکما و فلاسفہ کی تائید

یہاں یہ بات مختصراً عرض کر دینا مناسب ہے کہ مذہبی کتابوں میں سود کی ممانعت اور مذمت (جس کو مذہب کے مخالف افراد گھڑہی ہوئی باتیں قرار دیتے ہیں) کی تائید اہلِ فکر و فلسفہ کے بیانات سے بھی ہوتی ہے۔ رومی مفکرین سیسرو (۱۰۶- ۴۳ ق م) اور سینکا (۶۵-۴ ق م) نے سودخوری کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سے عاری عمل قرار دیا ہے۔ ان سے پہلے یونانی فلسفیوں افلاطون اور ارسطو نے بھی بڑی شدت کے ساتھ سود لینے کی مخالفت کی ہے۔ ان کے نزدیک یہ عمل عدل اور فطرت کے خلاف ہے کہ غیربارآور سکّے سے بڑھ کر رقم حاصل کی جائے۔(اے بیرنی، The History and Ethics of Interest, ، لندن، ۱۹۵۲ء،ص ۱۹۵)
ان فلاسفہ نے بھی پیداواری یا غیرپیداواری قرض میں کوئی فرق نہیں کیا ہے کہ اوّل الذکر پر سود کو جائز اور مؤخر الذکر پر سود کو ناجائز قرار دیں۔(جوزف الویس سچم پیٹر، History of Economic Analysis، لندن ۱۹۹۷ء، ص ۶۵)
عصرحاضر میں پیداواری اور غیرپیداواری قرضوں پر سود میں فرق کی بحث ایک فیشن بن گئی ہے۔ حالانکہ انجام کے اعتبار سے دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ نتائج کے لحاظ سے دونوں یکساں ہیں، کیوں کہ پیداواری قرضے کا بار بھی آخرکار عام صارفین ہی پر پڑتا ہے، جن کی اکثریت غریب ہوتی ہے۔ نیز کیا یہ مناسب ہے کہ صاحب ِ اصل زر [سرمایہ دار، ساہوکار]کو اس کے سرمایے پر طے شدہ فائدہ ملے، جب کہ اس سرمایے سے کام کرنے والے کو اس سے فائدے کی کوئی ضمانت نہ ہو؟کوئی بھی سلیم الفکر انسان اس طرح کی ناانصافی کو جائز قرار نہیں دے گا۔

سود کے منفی اثرات ، ماہرین معاشیات کی شہادت

سود کی بہت اُونچی شرح جو قانونی اور عام طور پر رائج شرح سے بہت بڑھ کر ہو، جس کو معاشیات کی اصطلاح میں یوژری (usury)کہتے ہیں۔ اس کی مخالفت، مذمت اور اس کے استحصالی ہونے میں علماے اخلاقیات کے علاوہ ماہرین معاشیات کے درمیان بھی شاید ہی کوئی اختلاف ہو۔ لیکن سود کی قانونی، اور معمولی شرح جس کو انٹرسٹ (interest) کا نام دیا جاتا ہے، اس کی تباہ کاریاں بھی کچھ کم نہیں۔ اسی لیے بہت سے حقیقت شناس اور سلیم الفکرماہرین معاشیات نے بھی سود کو معیوب سمجھا ہے اور اس کے نتائج بد سے پردہ اُٹھایا ہے۔ جس سے مذہبی کتابوں میں سود کی ممانعت کی تائید و تصدیق ہوتی ہے۔(افسوس کا مقام ہے کہ بعض مسلم شخصیات نے چلتے دھارے کی پیروی میں ’یوژری‘ اور ’انٹرسٹ‘ میں  فرق کرنے کی کوشش کی ہے۔ اوّل الذکر کو ’ربا‘ قرار دیا ہے اور مؤخر الذکر کے لیے ’فائدہ‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ حالاں کہ اسلام میں اس طرح کی کوئی تفریق ہوتی تو قرآن و حدیث میں اس کو ضرور واضح کر دیا گیا ہوتا۔ اب، جب کہ ’انٹرسٹ‘ کی خرابیاں واضح ہوتی جارہی ہیں، یہود و نصاریٰ کی پیروی میں ’یوژری‘ اور’انٹرسٹ‘ میں فرق کرتے ہوئے پہلے کو ناجائز اور دوسرے کو جائز قرار دینا حذو النعل بالنعل (قدم بہ قدم پیروی کرو گے) والی پیش گوئی کی تصدیق معلوم ہوتی ہے۔)مثلاً پروفیسر مارگریٹ کینڈی ( ہنوور یونی ورسٹی) اپنی کتاب Interest and Inflation Free Money, Okemos, 1995 میں تحریر کرتی ہیں کہ: سود ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں مثلِ سرطان ہے۔ انھوں نے سود اور افراطِ زر سے پاک نظامِ زر کی پُرزور وکالت کی ہے

اور یہ ثابت بھی کیا ہے کہ ۱۹۶۸ء سے ۱۹۸۹ء کے درمیان مجموعی قومی پیداوار (GNP) اور اُجرتوں میں ۴۰۰ فی صد اضافہ ہوا ہے، جب کہ اسی عرصے میں حکومت کی سود کی ادایگی ۱۳۶۰ فی صد بڑھی، جس کی وجہ سے افراطِ زرمیں زبردست اضافہ ہوا۔(ایم کینیڈی، Interest and Inflation Free Money، اوکیموس، ۱۹۹۵ء)
جدید سرمایہ دارانہ معیشت کے علَم بردار ایڈم اسمتھ، جسے اہلِ مغرب ’باباے معاشیات‘ کا لقب دیتے ہیں، اس نے ’یوژری‘ کی مخالفت کے ساتھ ’سود‘ کی اعلیٰ حد مقرر کرنے کی وکالت کی ہے۔(ایڈم اسمتھ ،An Inquiry into the Nature and Causes of the Wealth of Nations،نیویارک، ۱۹۳۷ء، ص ۳۳۹)

مشہور ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز کی راے بھی کچھ اس طرح کی ہے۔(جے ایم کینز، A General Theory of Employment, Interest and Money ، لندن ۱۹۳۶ء، ص ۳۵۱-۳۵۳)
جیسل (Gesell) کا سود پر خاص اعتراض یہ ہے کہ: یہ معیشت کے عدم استقرار کا سبب بنتا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت میں کبھی کساد، کبھی بے پناہ نشاط، کبھی گراوٹ، کبھی اُٹھان کے حالات ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔(گیسیل،Die Naturliche Wirtschaftsordnung، نورمبرگ، ۱۹۰۴ء) چنانچہ تجارتی چکر (Business Cycle) کا ایک مشہور نظریہ سود کے وجود پر منحصر ہے۔ شیخ محمد احمد کے مطابق سرمایہ دارانہ معیشت میں ایک بڑا مسئلہ بحرانوں کا پیدا ہونا ہے، جس کے پیچھے سود کا عمل کارفرما ہوتا ہے۔(ایس اے احمد، Economics of Islam (A

بھارت میں سودی قرضوں کا ایک قہر مقروض کسانوں کی خودکشی کی شکل میں برابر دیکھنے کو ملتا ہے، مثلاً ۲۳جولائی ۲۰۱۵ء کے روزنامہ انقلاب (نئی دہلی)کی شہ سرخی تھی: ’’۲۴گھنٹوں کے دوران کسانوں کی خودکشی کے سات واقعات پیش آئے‘‘۔ یہ واقعات وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ خبر ہے کہ ’’۲۰۱۴ء میں ملک بھر میں ۱۲ ہزار سے زائد کسانوں نے خودکشی کی تھی‘‘۔یہ وہ کسان ہیں، جنھوں نے کاشت کے لیے سودی قرضے لیے تھے اور فصلیں خاطرخواہ نہ ہونے کے سبب قرض اور سود کی رقم کی ادایگی سے اپنے کو عاجز پاکر یہ انتہائی قدم اُٹھانے پر مجبور ہوگئے۔ اگر سودی قرض کے بجاے پیداوار کے نفع و نقصان میں شرکت کی بنیاد پر سرمایہ فراہم کیا جائے تو یہ صورتِ حال نہ پیدا ہو۔

خلاصۂ  کلام

ان مباحث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید میں کس شدت کے ساتھ سود کی ممانعت آئی ہے۔ دوسری مذہبی کتابیں بھی سود کی ممانعت و مذمت سے خالی نہیں ہیں۔ سود کا حرام ہونا کوئی  عقل و فہم سے بالاتر شے نہیں ہے۔ حکما، فلاسفہ اور اہلِ دانش سبھی اس کے خلاف ہیں۔ سنجیدہ ماہرین معاشیات کے نزدیک بھی سود، معیشت کے لیے کوئی مفید چیز نہیں ہے۔ اس کے غیرموافق معاشی اثرات اور و اقعات و شواہد اس کے متقاضی ہیں کہ سود کا خاتمہ ہو۔ یہ ساری چیزیں اس بات کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں، کہ سود کے خلاف ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہو اور اس بُرائی کے خاتمے کے لیے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ربط و تعاون ہو۔ اس طرح کی کوششوں کے اچھے اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔

سود کا نعم البدل یہ ہے کہ کاروبار شراکت کی بنیاد پر ہو، جس میں دونوں فریق نفع و نقصان میں شریک ہوں۔ شراکت کی بنیاد پر مالیات کی فراہمی سے حقیقی معیشت کا نشوونما ہوتا ہے، جب کہ سودی مالیات سے زر کی بنیاد پر زر کا پھیلائو ہوتا ہے، جو افراطِ زر، معاشی بحران اور عدم استحکام کا سبب بنتا ہے۔ شراکت اور حصہ داری پر مبنی معاشی سرگرمیوں سے پیداوار میں اضافہ، معیشت میں استحکام، کارکردگی میں تیزی، معاشی ترقی اور عدل و انصاف کے فروغ میں مدد ملتی ہے۔لہٰذا، اس کو رواج دینے کی ضرورت ہے۔(محمد نجات اللہ صدیقی، Current Financial Crisis and Islamic Economics in: Issues in the International Financial Crisis from an Islamic Perspective، جدہ، ۲۰۰۹ء،ص ۶-۷۔ l محمد فہیم خان ، World Financial Crisis: Lesson form Islamic Economics   ایضاً، ۲۰۰۹ء، ص۲۱)

حسن البنا کا گھر زہد و قناعت کی ایک زندہ مثال تھا۔ اس کالباس سادگی کی مثال تھا۔ آپ اس سے، اس کے معمولی سے کمرے میں ملاقات کرتے، جس میں پرانے طرز کا قالین بچھا ہوتا اور  جو کتابوں سے بھرا نظر آتا، تو آپ کووہ ایک عام آدمی سے مختلف نظر نہ آتا۔البتہ اس کی آنکھوں سے برآمد ہونے والی روشن و تابناک چمک آپ کو عام آدمی سے مختلف نظر آتی، جس کا سامنا کرنے کی سکت اکثر لوگوں کے اندر نہیں پائی جاتی تھی۔ آپ اس سے بات کرتے تو اس کی زبان سے جواب میں چند مختصر جملے سنتے اور یہ چند جملے ہی لمبے، چوڑے، گہرے اور اُلجھے مسائل کو واضح اور مبرہن کردیتے، جن کی وضاحت کے لیے کئی جلدیں درکار ہوتیں ۔ اس وسیع علم کے ساتھ ساتھ افراد کو سمجھنے پر بھی اسے قدرت حاصل تھی۔ وہ متضاد راے بیان کرکے آپ کو چونکاتا نہیں تھا، نہ ایسی بات کہتا کہ آپ صدمے سے دوچار ہوجاتے اور جو آپ کے مسلک سے ٹکراتی۔ نہیں،   وہ آپ سے اسی معاملے میں رابطہ رکھتا، جس کے سلسلے میں آپ اس سے اتفاق رکھتے۔جن اُمور میں آپ کے اور اس کے درمیان اختلاف ہوتا، اس پر وہ آپ کو ملامت نہیں کرتا تھا۔

وہ انتہائی وسیع النظر تھا۔ آزاد فضا کے لیے دل و دماغ کے دریچے کھلے رکھتا تھا۔ اسی لیے نہ تو آزادیِ راے سے اسے نفرت تھی اور نہ مخالف راے سے پریشان ہوتا تھا۔اس کے اندر یہ صلاحیت بے پناہ تھی کہ عوام کےسامنے نئی راے اس طرح پیش کر سکے کہ وہ اس سے بھڑیں گے نہیں۔ یہ نئی راے ایسی ہوتی تھی کہ اگر مہارت و خوش اسلوبی سے نہ پیش کی جاتی تو لوگ اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے اور اس کے خلاف آمادۂ جنگ ہو جاتے۔اس نے لوگوںکے دینی فہم کے رُخ کو تبدیل کیا۔ ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔انھیں واضح ہدف سے ہم کنار کیا اور ان کے دلوں کو ایمان و عمل اور حُریت و آزادی اور قوت و طاقت کے جوش سے بھر دیا۔

قائدانہ خصوصیات میں سے ایک خصوصیت اس کی وہ آواز تھی، جو جذبہ و قوت کے اظہار پر مبنی تھی۔ اس کی تقریریں عوام کے دلوں میں اُتر جاتی تھیں اور جن سے اہل دانش کا ذوق بے زار  نہیں ہوتا تھا۔اس کی خوش اسلوبی، بصیرت اور مہارت وہ خوبیاں تھیں، جنھیں وہ گفتگو اور لوگوں کو قائل کرنے کے لیے بروے کار لاتا تھا۔ ان جملہ صفات کی بدولت وہ مختصر سے وقت میں، اتنی بڑی تعداد میں اعوان و انصار کو جمع کرنے میں کامیاب رہا۔ ان کا نقطۂ نظر تبدیل کیا اور کسی تصادم یا کش مکش کے بغیر ان کے اندرمثبت طرزِ فکر منتقل کیا۔
اس کے سادہ خدوخال اور چھوٹی سی داڑھی نےاسے وقار و تمکنت سے مالامال کر رکھا تھا۔ حالانکہ اس حلیے میں آپ کو علما کا سا تکلف تو نظر نہ آتا، نہ کروفر دکھائی دیتا اور نہ بے جا اور بے چارگی پر مبنی سادگی نظر آتی تھی۔حسن البنا کی شخصیت ان تمام حوالوں سے لوگوں کے لیے نئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ جو اسے دیکھتا یا اس سے ملتا، اسے اس کی شخصیت بھا جاتی۔اس کے اندر پختہ کار سیاست دانوں کی بصیرت اور بہادر لیڈروں کی سی قوت تھی۔ اس میں فاضل علما کی دلیل و حجت ، صوفیہ کا ایمان، کھلاڑیوں کی ہمت و حوصلہ، فلاسفہ کے معیارات ، خطیبوں کی خوش بیانی اور اہل

قلم کی پختگی موجود تھی۔ان پہلوئوں میں سے ہر پہلو مناسب و قت پر ایک مخصوص چھاپ کے ساتھ نمایاں ہوجاتا تھا۔ 
مشرق کا یہ مقدر نہیں تھا کہ ان صفات کا حامل کوئی فرد زیادہ دن زندہ رہ سکے ، حالانکہ یہ وہ صفات ہیں جن کے بارے میں آپ محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] کے صحابہ و تابعین کی سیرتوں میں پڑھتے ہیں۔ ان صفات کے حامل کا لازمی انجام یہی ہونا تھا کہ وہ جلد موت سے ہم کنار ہوجائے۔ کیوں کہ ایسا شخص معاشرے کے مزاج و طبیعت کے لیے اجنبی تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ اگلے وقتوں کی باتیں ہیں یا ابھی ایسی باتوں کے سننے اور عمل کرنے کا وقت آیا ہی نہیں ہے۔
مغرب کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ ایسے شخص کے سامنے بے بسی سے کھڑا رہے، جس نے نئے انداز و اسلوب میں اسلام کا کلمہ بلند کیا تھا۔ عام انسان پر یہ واضح کر دیا تھا کہ اس کے وجود کی حقیقت کیا ہے اور اس کا انجام کیا ہے؟ اس نے لوگوں کو اللہ کے ایک کلمے پر متحد کردیا تھا، جس کی دعوت سے مغرب زدگی، جنس زدگی اور قومی رجحانات کی آندھی کا زور ٹوٹ گیا، اہلِ قلم کا لہجہ و اسلوب اعتدال سے ہم کنار ہوا ،اور ان میں کے بعض لوگ ’اسلامی قافلے‘ کے ہم سفر بننے لگے۔

گفتگو میں قابلِ رشک شائستگی 

مشرق یا مغرب کی ایسی کوئی قدیم یا جدید دعوت، نظریہ و رجحان یا پیغام و مشن نہیں ہے جس سے دنیا واقف نہ ہو، جس پر دنیا نے تحقیق نہ کی ہو، اسے پڑھا نہ ہو یا اس کے سورمائوں کا مطالعہ نہ کیا ہو۔ ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر بحث نہ کی ہویا ان سے وہ چیزیں اخذ نہ کی ہوں جو حسن البنا کے تجربات اور مشن کے لیے مفید ہوں۔

حسن البنا ہر بات کہہ جاتا تھا، لیکن آپ کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس نے آپ کا دل دکھایا ہے یا آپ کو مجروح کیا ہے۔وہ کہانی او رمثالوں کے ذریعے تنقید پیش کیا کرتا تھا۔دل چسپ بات یہ کہ وہ صرف خطوط وضع کرتا تھا اور اس کی تفصیلات اپنے پُرعزم ساتھیوں پر چھوڑ دیتا تھا۔ اسے اس بات پر قدرت حاصل تھی کہ ہر شخص سے اس کی زبان میں، اس کے من پسند موضوع پر، اس کے اسلوب میں اور اس کے شوق و مشغلے کی حدود میں رہ کر بات کر سکے۔
وہ ازہریوں [جامعہ ازہر سے فارغ]، یونی ورسٹی کے اساتذہ و محققین ، اطبا، انجینیروں،  اہل تصوف اور اہل سنت کی زبان و اسلوب سے واقف تھا۔وہ ساحلی اور صحرائی علاقوں کے لہجوں سے واقف تھا۔ بالائی مصر اور وسطی مصر کے لہجوں اور وہاں کی رسوم و رواج کا اسے علم تھا، بلکہ قصابوں اور غنڈا گردی کرنےوالوں کے لہجوں اور لفظوں کے استعمال سے بھی وہ آشنا تھا۔ 

قاہرہ کے ان مختلف اہل محلہ کے مخصوص لہجے بھی اسے آتے تھے، جن میں بعض نمایاں صفات پائی جاتی تھیں۔ ان سے بات کرتے وقت انھیں ایسے واقعات اور قصے سناتاتھا، جو ان کے ذوق و فہم سے مطابقت رکھتے تھے۔ حتیٰ کہ اسے چوروں، ڈاکوئوں اور قاتلوں کی زبان و بیان اور نفسیات سے بھی واقفیت تھی۔ ایک بار اس نے ان کے سامنے خطاب کیا۔ اپنے خطاب کا موضوع ان مشکلات، واقعات و حالات اور اختلافات کو بنایا، جو مختلف علاقوں اور شہروں کی سیاحت کے دوران اس کے سامنے آئے تھے۔ وہ ان واقعات و حالات کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنی دعوت سے مربوط کردیتا تھا اور اس کے نتیجے میں ایسی گفتگو سامنے آتی تھی، جو عقل کو حیرت زدہ کر دیتی تھی۔

وہ کسانوں سے بات کرتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ ’’ہمارے پاس دو فصلیں ہیں: ایک وہ ہے جو بہت جلد تیار ہو جاتی ہے، جیسے کھیرا، ککڑی وغیرہ۔ دوسری وہ ہے جو دیر میں تیار ہوتی ہے، جیسے کپاس کی فصل‘‘۔ اس نے کبھی محض خطابت و تقریر پراعتماد نہیں کیا، نہ کبھی عوام کو بھڑکانے کے لیے اس کا استعمال کیا اور نہ چیخ پکار کے انداز میں جذبات کو بھڑکانے کا طریقہ اختیار کیا، بلکہ اس کا اعتماد حقائق پر تھا۔ وہ عقل کو مطمئن کر کے جذبات کو ابھارتا تھا۔وہ روح کو سلگا دیتا تھا لیکن الفاظ کے ذریعے نہیں بلکہ معانی کے ذریعے، ہنگامہ خیزی کے ذریعے نہیں بلکہ نرمی کے ذریعے، اور لوگوں کو بھڑکا کر نہیں بلکہ حجت و دلیل کے ذریعے قائل کرکے!

بعض لوگوں کے نزدیک ان کا اندازِ گفتگو ان کی ایک بڑی علامت شمارکیا جاتا ہے۔ تاہم،  اس کے بعض ملنے والوں سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ یہ بھی اس کی شان دار صلاحیتوں میں سے ایک بہترین خداداد صلاحیت تھی کہ وہ لوگوں کو قائل کر لیتا تھا، افراد کو اپنا بنا لیتا تھا۔ انھیں نہ ٹوٹنے والے بندھن میں باندھ لیتا تھا۔ اس کے رفقا اسے اپنا خاص دوست سمجھتے۔ جو فرد بھی اس سے واقف ہوتا، اس کے درمیان خصوصی دوستی و رفاقت کا رشتہ قائم ہو جاتا۔ کبھی کبھی ان سے رازدارانہ گفتگو بھی کرتا۔ پھر یہ رشتہ دوستی سے آگے بڑھ کر ملازمت، کام ، گھر اور بچوں کے احوال تک سے واقفیت پہ پہنچ جاتا۔ یہ چیزیں اس کی عظمت و بلندی کے عظیم ترین مظاہر ہیں۔ 

وہ اگر اپنے رفقا کو ایک ساتھ اجتماعی طور پر اپنا گرویدہ نہ بنا سکتا ہو، تو انھیں فرداً فرداً اپنا گرویدہ تو بنا ہی سکتا تھا، اور ایک ایک روح کو ہدف بنا کر اس تک پہنچ سکتا تھا۔ اپنی دور اندیشی اور قوت و عظمت کی بدولت وہ یہ صلاحیت رکھتا تھا کہ انھیںان کے عقائد و افکار سے پھیر کر، اس طرح اپنے سیاسی و دینی مسلک میں لے آئے کہ وہ اپنا ماضی بھول جائیں بلکہ اس کے لیے اللہ سے مغفرت کے طالب ہوں۔ انھیں یہ لگنے لگے کہ وہ اب تک جس عقیدے اور فکر و مسلک پر قائم تھے وہ گناہ تھا، نادرست یا غلط تھا۔
اس شخص کا نمایاں ترین کام یہ ہے کہ اس نے وطن کو بت سمجھنے کے بجاے  محبت کے ایک روحانی شوق میں بدل دیا تھا۔ اس نے وطن کی قدر کو بلندی عطا کی اور آزادی کی قیمت کو تقویت بخشی۔غریب اور امیر کے درمیان حق کا رشتہ قائم کیا، نہ کہ احسان کا۔ سربراہ اور ماتحت کے درمیان تعاون کا رشتہ قائم کیا، نہ کہ سربراہی اور برتری کا۔ حاکم اور عوام کے درمیان ذمہ داری کا رشتہ قائم کیا، نہ کہ تسلط او رغلبے کا۔ یہ سارے کام اس نے قرآن کی رہنمائی سے کیے، اگرچہ اس نے اس کو ایک نئے انداز میں پیش کیا ہے، جو کہ اس سے پہلے عام طور پر واضح نہیں تھا۔

عالی ظرفی، سادگی اور نظم و ضبط

یہ مردِ قرآنی میرے علم کی حد تک کسی فتنے کے لیے کوشاں نہیں تھا، یا وہ اُچھل کود مچانے پر یقین نہیں رکھتا تھا، بلکہ وہ یہ چاہتا تھا کہ ایک صالح، مضبوط اور آزاد معاشرہ قائم کرے۔ وہ یہ چاہتا تھا کہ ایک ایسی نسل کی تشکیل کرے، جس کے اندر مشرقی تہذیب کی ہر خصوصیت موجود ہو۔
بیسویں صدی میں ہندستان، مصر، سوڈان اور شمالی افریقہ کے اندر بے شمار اصلاحی تحریکات ظاہر ہوئیں اور ان تحریکات نے بلاشبہہ زلزلے پیدا کر دیے، لیکن کوئی مستقل اور مثبت نتائج برپا نہ کر سکیں۔ان تحریکات کا یہ انجام اس وجہ سے ہوا کہ بعض مصلحین حوادث کا سامنے کرتے وقت اپنے اعصاب کو قابو میں نہ رکھ سکےاور تعمیر سے پہلے ہی اس حد تک چلے گئے کہ ان کی تحریکات مجروح ہو گئیں۔ ان تحریکات کا یہ انجام اس وجہ سے بھی ہوا کہ انھوں نے عوام سے جڑنے میں  عدم دل چسپی اور ایک شائستہ راے عامہ بنانے سے بے رغبتی کا مظاہرہ کیا۔
یہ تحریکات ماضی کے پردوں میں چھپ گئیں اور زبانوں پر صرف عبارتیں رہ گئیں اور الفاظ کتابوں کے صفحات میں بند ہو کر لائبریری کی الماریوں کی زینت بن کر رہ گئے۔آخرکار ان تمام سلسلوں سے ہٹ کر قدرت کا یہ فیصلہ ہوا کہ: نئے سرے سے ایک تحریک برپا کی جائے جو ان تحریکات کی تمام شرطوں اور نقوش کو پورا کرتی ہو۔جسے پختگی سے ہم کنار کرنے کے لیے پرورش و تربیت کا بھرپور موقع ملے۔ چنانچہ اس شخص نے اپنے پیش رئووں کے تجربات سے اور  ان قائدین، مفکرین اور لیڈروں کی تاریخ سے استفادہ کیا،جنھوں نے دعوتِ اسلام کا پرچم اُٹھا رکھا تھا۔ اس نے محض ان جیسا بننے پر ہی قناعت نہیںکی، بلکہ وہ خود کو آخری حد تک لے گیا ۔ اس کی خواہش ابوبکر، عمر، خالد (e) سے امداد طلبی کی تھی۔ چنانچہ اس نے ابوبکر سے عالی ظرفی،  عمر سے سادگی اور خالد بن ولید[e] سے نظم و ضبط اور تنظیم کی صفت حاصل کی۔

مغربی تہذیب کا جائزہ 

اس کی دعوت اور مشن یا اس کی زندگی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جو بھی تدبیریں اختیار کی گئیں، ان سب کے باوجود یہ شخص زمین کے اندر ایک نیا بیج ڈالنے میں کامیاب رہا۔ یہ بیج قرآن کا بیج تھا۔ یہ وہ بیج ہے کہ اگر اس کا درخت بظاہر مرجھا بھی جائے، تب بھی یہ مردہ نہیں ہوتا۔یہ شخص بھی دنیا سے اسی وقت رخصت ہوا،جب یہ درخت فضا میں بلند ہو گیا اور اس کی جڑیں زمین میں جڑ پکڑ گئیں۔
حسن البنا نے مصحف قرآنی ہاتھ میں اٹھایا اوران جدید مفکرین کے راستے میں کھڑا ہوگیا، جو تین الفاظ کا مذاق اڑایا کرتے تھے، یعنی:’ مشرق، اسلام اور قرآن‘___ حسن البنا کا کہنا  تھا:  ’’اب، جب کہ خود اہلِ مغرب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مغربی افکار وہ نہیں دے پائے جو ان سے مطلوب تھا، مشرق کے لیے وقت آ گیاہے کہ مغرب کے افکار کو گلے لگانے سے پہلے ان کو عیبوں اور نقائص سے پاک کر لے‘‘۔وہ کہا کرتا تھا کہ: ’’ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مغربی اقدار کو میزان میں رکھ کر دیکھیں۔ ہمیں یقین ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ اس سے کم نہیں ہے جو مغرب کے پاس ہے، یا کم از کم اس کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ مشرق پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ دنیا کے لیے ایک نئی تہذیب وجود میں لائے۔ ایسی تہذیب جو مغربی تہذیب سے زیادہ بہتر ہو۔ اس کے اجزاے ترکیبی روح او رمادے کے امتزاج اور زمین اور آسمان کے درمیان ربط سے وجود میں آئے ہوں۔ مغربی تہذیب کا کوئی بھی معاملہ تمھارے سامنے آئے تو ضروری ہے کہ تم اس سلسلے میں مشرقی تہذیب کے اوّلین مصادر ، یا یوں کہیے کہ قرآن و سنت اور تاریخ سے رجوع کرو‘‘۔
یہ مردِ قرآنی اس بات پر ایمان رکھتا تھا کہ ’’اسلام ایک روحانی، تہذیبی اور نفسیاتی قوت ہے، جو مشرق کے دل و ضمیر میں موج زن ہے۔ اس قوت کے اندر یہ بھرپور صلاحیت ہے کہ مشرق کو ایسی قوتِ حیات فراہم کردے، جو اسے زمین پر اقتدار بخش سکتی ہے اور اسے اپنی بنیادوں کی طرف پلٹنے اور اپنے حقوق و آزادی کوواگزار کرانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے‘‘۔اس کو اس بات کا یقین تھا کہ ’’مشرق ایک قائم بالذات وحدت ہے‘‘۔

بے خوف اور بے باک 

اپنی جادوئی گفتگو، جمالِ تکلم اور حُسنِ بیان سے حسن البنا نے اپنے چاہنے والوں کے ایک بڑے گروہ کے درمیان اُلفت و محبت اور ایک برادری پیدا کر دی تھی۔ یہ گروہ مختلف پارٹیوں، جماعتوںاور صوفی سلسلوں سے نکل کر ایک پرچم تلے جمع ہو گئے تھے ۔ اس پرچم پر انھیں اطمینان بھی تھا اور اعتماد بھی۔اس شان دار کامیابی نے بعض لوگوں کو حسن البنا سے حسد میں مبتلا کر دیا اور بعض اصحاب راے اس سے نفرت کی آگ میں جلنے لگے۔ یہ بے زر اور درویش صفت شخص، ان کے نزدیک اسی لائق تھا کہ اس سے کٹ کر رہیں اور اس کے لیے اپنے دل میں حسد رکھیں۔ کیوں کہ  وہ انتہائی سادہ و عام وسائل کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو اپنے گرد جمع کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ یہ سادہ وسائل اس کی خوش اسلوبی اور حُسنِ کلام تھا۔ وہ لوگوں کو ان مادی مرغوبات سے بلند کردیتا تھا، جن کی بنیاد پر بالعموم لوگ یک جا ہوا کرتے ہیں۔
بعض لوگوں کا اس کی شدید مخالفت کرنا اور اس کے متعلق سنسنی خیز باتیں مشہور کرنا ایک فطری امر تھا۔ اس لیے کہ ان کے دل کا کوئی کانٹا اس سے بڑا نہیں ہو سکتا تھا کہ کوئی ان سے ان کی وہ چودھراہٹ چھین لے، جو مدتو ں سے انھیں حاصل تھی۔ان کے دل پر اس سے زیادہ اثر کرنے والی کوئی بات نہیں ہو سکتی تھی کہ ایک شخص عوام کے درمیان سے نکل کر آئے، قرآن کے نام پر لوگوں کو اپنے گرد جمع کر لے،اور ان کے سامنے اس بات کا اعلان کرے کہ ’’اللہ نے حق کی بنیاد پر تمام انسانوں کے درمیان برابری رکھی ہے اور اپنے نزدیک فضیلت کے لائق صرف انھیں قرار دیا ہے، جن کے پاس عملِ صالح اور تقویٰ کی دولت ہے‘‘۔

اس شخص کی زندگی کی بساط عجیب طریقے سے لپیٹ دیے جانے کے بعد، جب اس کی زندگی پر غبار کی ایک کثیف پرت چڑھا دی گئی، تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ ایک دن حقیقت پسند تاریخ اس کی روداد سنائے گی اور انصاف پسند مؤرخ اس کا قصہ بیان کرے گا۔ لیکن اس وقت تک ایک طویل مدت گزر چکی ہوگی۔تاہم، مصر میں انتہائی سُرعت کے ساتھ تبدیلی آئی اور یہ ممکن ہو گیا کہ اخوان المسلمون کی دعوت اور مشن پر جو الزامات عائد کیے گئے تھے، وہ بعض تحقیقات کے نتیجے میں طشت از بام کر دیے جائیں اور اس شخص کا دامن ان الزامات سے پاک و بے داغ ہو جائے۔
میں اس شخص سے ۱۹۴۶ء میں قاہرہ میں ملا تھا۔پھر ۱۹۴۹ میںاس کی وفات کے بعد دوبارہ قاہرہ آیااور بعض ان حلقوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، جو اس سے واقف تھے۔ ان سے مجھے ایسی بہت سی باتیں سننے کو ملیں، جنھوں نے اس کے تعلق سے میرے سابقہ نقطۂ نظر کی تصدیق کی۔چنانچہ میں یہ بات جانتا تھا کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں اسے اپنی موت کا احساس ہونے لگا تھا۔ اس کے اکثر عقیدت مند اسے ہجرت کرنے یا یہاں سے فرار ہوجانے کا مشورہ دیتے تھے، یا یہ مشورہ دیتے تھے کہ چپکے سے یا خفیہ طور پر پناہ لے لے۔ لیکن جو لوگ اسے یہ کہانی سناتے، وہ ان پر مسکرا کر یہ اشعار پڑھا کرتا:

أَي يَومَيَّ مِنَ الْمَوتَ أفِر
يَومَ مَا قُدِّرَ أَم يَومَ قُدِر
يَومَ مَا قُدِّرَ لَا أرهَبُهُ
وَاِذَا قُدِّرَ المَقْدُوْرُ لَا يُنْجِی الْحَذَرَ

[میں اپنی زندگی کے دو دنوں سے موت سے فرار کیسے اختیار کروں؟ اس دن، جب کہ موت میرے مقدر میں نہ ہو یا اس دن جب موت میرا مقدر بن چکی ہو؟جس دن موت میرے مقدر میں نہیں ہے، اس دن کا مجھے کوئی ڈر نہیں، اور جب مقدر ہو گئی ہو، اس دن سے ڈرنے کا کچھ فائدہ نہیں۔ حضرت علیؓ]
اپنے رفقاکی رہائی کی کوششوں سے وہ ایک لمحے کے لیے بھی بیگانہ نہیں ہوا۔ اس معاملے میں اس کا حال انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ وہ راتوں کو اٹھ کر بیٹھ جاتا اور اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر پکارنے لگتا : ’’میں ان بچوں کی آہ و بکا سن رہا ہوں، جن کے باپ جیلوں میں بند کر دیے گئے ہیں‘‘۔ 

حرص اور لالچ سے بـے نیاز

’مردِ قرآنی‘ کی تاریخِ جہاد ایک طویل داستان ہے۔لیکن اس کی زندگی کے سب سے زیادہ سرسبز و شاداب ایام۱۹۳۶ء میں جیل سے رہائی کے بعد سےجنگ کے ایام ہیں۔اُس وقت، جب کہ جنگ نے پوری دنیا کو پارٹی بازیوں، سیاست اور ہر چیز سے بے گانہ کر دیا تھا، اس زمانے میں یہ شخص سوتا نہیں تھا۔ ایک ایک گائوں، محلے اور شہر کے چکر کاٹتا رہتا۔ یہاں سے وہاں دوڑتا رہتا۔ نوجوانوں کو ڈھونڈتا رہتا، بزرگوں سے گفتگو کرتا ، معززین اور علما سے صلاح مشورے کرتا۔ اس دن اس نے وزرا اور سیاست دانوں کو حیران کر دیا، جب ان میں سے بعض نے اس کے لہراتے ہوئے پرچم کے نیچے آنے اور اس کے لشکر جرار سے جڑنے کا اعلان کر دیا۔

تب انگریزوں نے اس کے سامنے بڑی بڑی مراعات رکھیں، لیکن اس نے خودداری سے ان تمام مراعات کو ٹھکرا دیا۔سیاسی پارٹیاں صلح کے انتظار میں رہیں، جن کی پروا کیے بغیر مضبوط اعصاب کا حامل یہ مردِ آہن بیس بیس گھنٹوں سے زیادہ کام کرتا تھا۔
اسے اپنی فکر اور نظریے سے جو محبت تھی، وہ بیان سے باہر ہے۔ اس کے دل میں ایسی کوئی چیز تھی ہی نہیں، جو اس دعوت کی راہ میں مزاحم ہو سکے۔ اسے اپنی فکر اور نظریے سے کسی حسینہ کی طرح عشق تھا۔ بے داری اسے تھکاتی نہیں تھی۔ سفر اسے تکان میں مبتلا نہیں کرتے تھے۔ اسے وہ عجیب عقل و دماغ ملا تھا جو معاملات کو سہل انداز میں انجام دے لیتا تھا۔ مشکلات میں سے تیزی کے ساتھ گزر جاتا تھا۔ آسانی کے ساتھ مشکلات کو حل اور ان کی پیچیدگیاں دُور کر لیا کرتا تھا۔  کسی بات کو سمجھنے کے لیے لمبی چوڑی گفتگو کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہر معاملے کے پہلو اس پر واضح ہیں۔ ابتدائی الفاظ اس کے سامنے آتے ہی تھے کہ وہ آپ کا مدعا سمجھ لیتا تھا، بلکہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ یہ تک پا لیتا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں اور جس مسئلے میں آپ اس سے مشورہ لیناچاہتے ہیں ، مشورہ دے دیتا۔وہ دوراندیش شخص تھا، ما وراے خیال بھی دیکھ لیتا تھا۔ اس معاملے میں اسرارِ الٰہی کی ایک چنگاری اس کے حصے میں آ گئی تھی۔

مومنانہ فراست

وہ ہر چیز اپنے اندر جذب کر لیتا تھا۔ کوئی علم، کوئی فکر، قانون، سماجیات ، سیاست و ادب کا کوئی ایسا معروف نظریہ نہیں تھا، جو اس نے پڑھا نہ ہو یا اس سے واقف نہ ہو۔اسی مردِ قرآنی سے جب میں نے مشرق کے اسلامی رنگ کے بارے میں اس کی راے جاننا چاہی تو اس نے کہا: ’’میں آپ کو ترکی کی ایک مثال دیتا ہوں۔ ترکی کی تاریخ اسلام سے وابستہ ہے اور اسلام کی طرف پلٹنے کے آثار و عوامل کا اب آغاز ہو چکا ہے‘‘۔ البنا اور میرے درمیان یہ گفتگو ۱۹۴۶ء میں ہوئی تھی اور آیندہ برسوں کے دوران میں نے نوٹ کیا کہ اس کی بات درست ثابت ہو چکی ہے۔ ۱۹۵۰ءمیں، جب کہ یہ شخص اپنے ربّ کے حضور پہنچ چکا تھا، مصطفےٰ کمال پاشا [م: ۱۰نومبر ۱۹۳۸ء]کی جماعت [ری پبلکن پیپلزپارٹی:CHP] شکست سے دوچار ہوئی اور وہ جماعت جیت گئی، جس کے بارے میں مصطفےٰ کمال یہ کہا کرتا تھا کہ ’’وہ رجعت پسند جماعت ہے‘‘۔

تصوف اور اسلام 

میں نے البنا سے تصوف اور صوفیہ کے سلسلوں پر بھی سوالات پوچھے کہ ’’کیا تصوف، اسلام کا جز ہے؟‘‘میرا یہ سوال اس تحریر کے سلسلے میں تھا کہ ’’تصوف کی اصل مغرب ہے، جو کہ ’شاذلی مسلک‘ کا پیرو ہے‘‘۔(تصوف کا وہ طریقہ جس کے بانی ابوالحسن الشاذلی [۱۱۹۶ء، مراکش- ۱۲۵۸ء، مصر]ہیں۔مترجم)
اس سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ ’’پیچیدگی سے پاک اور خالص تصوف اسلام کا ہی جز ہے۔ یہ اسلام کا وہ درجہ ہے، جس تک  مردِ حق ہی پہنچ سکتا ہے، اور یہ کہ اپنے اصل مفہوم میں تصوف انسانی فطرت کے لیے جہاد اور جدوجہدکی زندگی سے محبت پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے‘‘۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ’’مَیں نے اپنے رفقا کے لیے یہ لازمی کر رکھا ہے کہ وہ خود کو اسلام کے اس درجے تک لے آئیں۔ اخوان المسلمون کے لیے اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تصوف کے مظاہر میں پوشیدہ طاقت ور جذبے کو اخذ کرلیں اور اس مسلک کے قدیم لباس اور مظاہر کے بندھن میں قید ہوئے بغیر اسے اپنے دعوتی مشن میں اختیار کریں ، کیوں کہ اس کی ظاہری صورتیں اور قدیم طرز لباس موجودہ زمانے کی روح سے موافقت نہیں رکھتا‘‘۔ 

اختلافِ اُمت کی حقیقت 

پھر جب میں نے اپنے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ’’ لوگ ایک دعوتی مشن پر کیسے جمع ہوسکیں گے، خاص طور سے، جب کہ بعض اسلامی قوتیں (المواہب الاسلامیہ) ہی اس کے راستے میں حائل ہیں؟‘‘ تو اس نے جواب دیا: ’’یہ اختلافات مسلمانوں کو جوڑنے میں خلل نہیں ڈال سکتے۔ یہ اختلافات تومختلف زمانوں، ادوار اور صدیوں کے دوران اسلام کی قدرت و صلاحیت کا مظہر رہے ہیں۔ ہم تو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دین کے فروعی معاملات میں اختلاف ہونا ایک لازمی امر اور ایک لازمی ضرورت ہے۔جب خلیفہ ابوجعفر منصور [م:۷۷۵ء]نے امام مالک بن انس [م:۷۹۵ء] کو بلا کر یہ درخواست کی کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھ دیں جس پر تمام لوگ متفق و مجتمع ہوجائیں، تو امام مالک نے خلیفہ کو جواب دیا: مختلف شہروں میں آباد صحابہ کرام کے درمیان اختلافات واقع ہوئے ہیں۔ ہر قوم کے پاس علم ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آپ انھیں کسی ایک راے پر مجبور کریں گے، تو اس سے فتنہ پیدا ہوگا۔علاوہ ازیں یہ کہ کسی فتوے کا نفاذ ماحول اور حالات کے اعتبار سے الگ الگ ہوتا ہے۔امام شافعی [م:۸۲۰ء]نے (ایک ہی مسئلے پر ) مصر میں اس فتوے سے مختلف فتویٰ دیا، جو عراق میں دیا تھا۔ ان دونوں صورتوں میں امام شافعی نے وہی فتویٰ دیا، جومتعلقہ (حالات کے لحاظ سے) ان پر واضح ہوا۔اسی لیے فروعی مسائل میں اجماع و اتفاق ایک ناممکن الحصول خواہش ہے،جو اسلام کے مزاج کے بھی منافی ہے۔فروعی مسائل میں ہم سے جو لوگ اختلافات رکھتے ہیں، ہم ان کا عذر تسلیم کرتے ہیں اور یہ راے رکھتے ہیں کہ یہ اختلاف دلوں کو جوڑنے اور محبت بانٹنے میں حائل نہیں ہیں، جب کہ اخوانیوں کے دل اپنے مخالفین کے مقابلے میں زیادہ کشادہ ہیں‘‘۔ 

اسلام اور سیاست

اس کے بعد میں نے اسلام اور سیاست کے موضوع پر سوال کیا کہ میری راے یہ ہے کہ ’’اسلام اور سیاست کسی بھی حال میں یک جا نہیں ہو سکتے‘‘۔ اس کے جواب میں اس نے مجھ سے کہا:’’کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ اسلام سیاست کے بغیر صرف رکوع و سجود اور الفاظ کا مجموعہ بن کر   رہ جائے گا؟ حالانکہ اسلام درحقیقت عقیدہ، وطن، جنس و سیاست ، تہذیب و قانون سب کچھ ہے۔ اگر اسلام سیاست سے جدا ہو جائے تو وہ خود کو ایک تنگ ومحدود دائرے میں محصور کرلے گااور مسلمانوں کے لیے اوپری چھال اور ظاہری شکلوں کے سوا کچھ نہیں بچے گا‘‘۔ 
بہت سی باتو ںکے ساتھ اس نے مجھ سے یہ بات بھی کہی کہ ’’مغرب کے غلبے اور کامیابی کا راز اسلام ہی ہے‘‘۔میں نے حیرت سے پوچھا : ’’وہ کیسے؟‘‘ اس نےکہا: ’’دو پہلوئوں سے: ایک یہ کہ اسلام نے اپنے قدیم ورثے کو سنبھال کر رکھا ہے اور اس میں مزید اضافہ اس وقت ہو گیا تھا، جب اسلام نے اپنا یہ ورثہ قرطبہ اور قسطنطنیہ [استنبول] کے راستے سے یورپ کے حوالے کیا تھا۔ مغرب کو غلبہ مشرق کے اصول و اخلاق کو اختیار کرنے کی وجہ سے ہی حاصل ہوا ہے۔ زیرک و ہوشیار مغرب یہ بات جان چکا تھا کہ کس طرح مشرق ان اخلاق کے ذریعے بلندی پر پہنچا تھا، ا س لیے اس نے ایک عظیم الشان سلطنت تیار کی اور مشرق کے اخلاق مستعار لیے اور جب ان اخلاق واصول کا حامل مشرق خود اُن سے غافل ہو گیا، تو مغرب کامیاب ہو گیا اور مشرق پیچھے رہ گیا‘‘۔
اس نے مزید بتایا کہ:’’آپ مشرق میں اس وقت جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ اسلام نہیں بلکہ وہ نام کے اور موروثی مسلمان ہیں۔اگر ان لوگوں نے اپنی حقیقت کو سمجھ لیا ہوتا تو بلندی پر پہنچ جاتے‘‘۔ 
اس مردِ قرآنی کے بعض ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ ’’ارضِ حجاز کا دورہ کرتے وقت اس کے ساتھ کیا کیا پیش آیا تھا۔ جس مکان میں اس کا قیام تھا، اس پر کس طرح انڈونیشیا، جاوا، سری لنکا، ہندستان، مڈغاسکر، بورنیو، نائجیریا، کیمرون، ایران اور افغانستان سے آنے والے وفود کا تانتا لگا ہوا تھا۔ یہ وفود اس سے تعارف حاصل کرتے تھے، اس کی مجلس میں شریک ہوتے تھے اور وہ ہرگروہ کے ساتھ انھی امور پر گفتگو کرتا تھا، جو متعلقہ گروہ کی دل چسپی کا موضوع ہوتے تھے۔ ان کے مسائل و مشکلات پر بات کرتا تھا اور ان کو اس طرح حیران کر دیتا گویا یہ لوگ اس سے ملنے نہیں آئے ہیں، بلکہ یہی شخص سیدھا ان کے ملک سے (وہاں کے حالات سے آگاہی لے کر )آرہا ہے‘‘۔

رفقا کو نصیحت

اس کے رفقا میں سے بعض لوگ اس کے پاس بھاگے ہوئے آتے اور اسے بتاتے کہ ’’بعض متشدد قسم کے لوگ کیا باتیں آپ کے بارے میں بنارہے ہیں‘‘۔ وہ ان کے جواب میں کہتا: ’’محبت کے بغیر اتحاد ممکن نہیں‘‘۔ انتہائی حیرت اس وقت ہوتی جب آپ اس کی ان باتوںکو سنتے جو وہ اپنے ساتھیوں سے کہا کرتا تھا۔ اس کی یہ باتیں خالص ایثار اور ایمان سے لبریز ہوتی تھیں:

  •   ’’اپنے اسلامی وطن تک پہنچنے کا راستہ ہم نے پہچان لیا ہے۔ یہ راستہ جہاد، قربانی اور شہادت سے طے ہوتا ہے۔ یہ واحد راستہ ہے، جسے ہر مقام اور ہر زمانے میں اہل ایمان نے اختیار کیا ہے‘‘۔ 
  •  ’’دنیا پوری کی پوری گمراہ اور بھٹکی ہوئی ہے۔ وہ حق اور اعلیٰ اقدار کی تلاش میں ہے۔ اس کے پاس جو نظام، فلسفے اور اصول ہیں ، ان کے اندر اسے یہ گمشدہ شے نہیں مل پا رہی ہے۔ انسانیت کے تعلق سے تمھارا عظیم مشن یہ ہے کہ تم دنیا کو آزاد کرو ، اسے نجات دلائو اور اسے خوشی سے ہم کنار کرو‘‘۔ 
  • ’’مسلم دنیا ایک بڑی بیداری کے لیے تیاری کر رہی ہےاور مغرب گھات لگائے کھڑا ہے۔ ہمارے لیے لازم ہے کہ انسانی تہذیب کا پرچم سنبھال لیں، تاکہ لوگوں کو خوشیوں سے ہم کنار کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے انھیں  مغرب کی انسانیت کش تہذیب اور اس کی کشش میں بائولا کرنے کی غلامی سے آزادی دلا سکیں‘‘۔ 
  • ’’دنیا پس وپیش میں مبتلا ہے، بھٹکی ہوئی اور غافل و بے خبر ہے۔ اس کی نظریں قیادت کو ڈھونڈ رہی ہیں اور اُس کا مقام خالی پڑا ہے۔ اس خالی جگہ کو تمھارے علاوہ کوئی پُر نہیں کرسکتا، تاکہ تم امن و سلامتی کے پیغام کو منوا سکو، معروف کا حکم دو ، منکر سے روکو، حق کا حق ہو نا ثابت کرو، اور آسمانی وحی کے اصولوں کی مدد سے انسان کو آزادی دلا سکو‘‘۔ 

اسلام کی حقیقت

اس مردِ قرآنی کی جس چیز نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا، وہ یہ ہے کہ اس نے ذاتی اختلافات اور نظریاتی اختلافات کے درمیان ایک حد مقرر کی۔ اس سلسلے میں اس کا کہنا تھا:’’ہمارے اور لوگوں کے درمیان ذاتی اختلاف کبھی نہیں رہا اور نہ کبھی رہےگا، بلکہ ہمارے درمیان جو اختلاف پایا جاتا ہے وہ فکرو نظام کا اختلاف ہے۔یہ لوگ اس امت کے لیے وہ اجتماعی نظام چاہتے ہیں جو حکومت و سیاست، عدالت و تعلیم اور معاشیات و ثقافت میں مغرب کی تقلید سے آلودہ ہے، اور ہم اسلامی تعلیمات و ہدایات اور اسلام کی رہنمائی سے حاصل کیا ہوا صحت مند نظام چاہتے ہیں‘‘۔ 
چنانچہ، جب ہم اسلام کی حقیقت سے خود کو اس طرح واقف کراتے ہیں جس طرح    حسن البنا نے اسے سمجھا تھا، تو معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص نے اسلام کو اسی طرح سمجھا تھا جس طرح  عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ)نے سمجھا تھا کہ ’’جب میں کوئی اچھا کام کروں تو میری مدد کرو اور بُرا کام کروں تو مجھے سیدھا کر دو‘‘۔ 

وہ اسلام کو اسی طرح سمجھتا تھا جس طرح اسے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے سمجھا تھا کہ ’’کمزور میرے نزدیک قوی ہے جب تک میں اسے اس کا حق نہ دلا دوں، اور قوی میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے (کمزور کا) حق نہ لے لوں۔ جب تک میں تمھارے معاملے میں اللہ کی اطاعت کرتا رہوں، میری بات مانو اور جب اللہ کی معصیت کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں‘‘۔ 
وہ یہ راے رکھتا تھا کہ مسلم حکمران شجاعت کے اس مقام پر فائز ہو کہ جب عمر (رضی اللہ عنہ)کے سامنے ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ ’’عمر! اللہ سے ڈرو‘‘۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے یہ سنا تو اس سے کہا کہ ’’کیا امیرا لمومنین کو تم ایسا کہتے ہو؟!‘‘ عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : ’’اسے یہ آزادی ہے کہ مجھےیہ نصیحت کرے‘‘۔  اگر تم یہ نصیحت نہ کرو تو تمھارے اندر کوئی خیر نہیں اور ہمارے اندر کوئی خیر نہیں اگر ہم اس نصیحت کو قبول نہ کریں‘‘۔ 
ایک مطلوب حکمراں کی ذمہ داری کو وہ عمر (رضی اللہ عنہ) کے اس قول کی روشنی میں دیکھتا تھا: ’’اگر فرات کے کنارے پر مجھے بھوک سے مری کوئی بکری بھی نظر آجائے، تو میں یہ سمجھوں گا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں مجھ سے سوال کرے گا‘‘۔ اس کا خیال یہ تھا کہ حاکم کے اندر نفس کے خلاف انصاف کرنے کی قدرت ہو نی چاہیے، جس طرح عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا تھا: ’’ایک عورت نے درست بات کہی اور عمر نے غلطی کی‘‘۔ 
قانون و عدالت کے سلسلے میں وہ عمر (رضی اللہ عنہ) کے نظام کو نافد کرنے کی یہ راے رکھتا تھا کہ: ’’لوگوں کو اپنی نظر میں برابر سمجھو۔ اللہ کے معاملے میں کوئی ملامت کرنے والا تمھیں ملامت نہ کرے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کا تمھیں والی بنایا ہے ، ان کے سلسلے میں ترجیحِ نفس اور  جانب داری سے بچو‘‘۔ وہ اکثر رسول[صلی اللہ علیہ وسلم] کے اس قول کو دہراتا تھا جو آپؐ نے اسامہ (رضی اللہ عنہ) سے کہا تھا کہ: ’’کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے سلسلے میں سفارش کر رہے ہو۔ اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو محمد اس کا ہاتھ کاٹ دیتا‘‘۔ وہ یہ کہتا تھا کہ مسلمان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی پر عمر (رضی اللہ عنہ) کی اس زندہ و جاوید عبارت کو  چسپاں کرلے : ’’مجھے وہ شخص پسند ہے کہ جب پر ظلم کیا جائے تو وہ اس ظلم کو قبول کرنے سے برملا انکار کردے‘‘۔ وہ شخص اسلامی تصورات کی مضبوط و مستحکم بنیادوں پر اپنی نسل کی تشکیل کر رہا تھا، اپنا لشکر تیار کر رہا تھا اور ایک ایسی ’بستی‘ تعمیر کر رہا تھا کہ اگر وہ معرضِ وجود میں آ گئی، تو مشرق میں اسلام اپنا کھویا ہوا کردار اور انسانیت کی اعلی قیادت وسرداری کا مقام حاصل کر لے گا۔ اس کے خیال میں اسلام کی اساسی بنیاد لاضرر و لا ضرار  تھی، یعنی نہ نقصان اٹھانا ہے اور نہ کسی کو نقصان پہنچانا ہے۔

مردِ قرآنی کے بارے میں مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اسلام کو اسی اسلوب میں انتہائی واضح اور سہل انداز میں سمجھتا تھا ، جس طرح محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] نے سمجھا تھا۔ اس سے گفتگو کے دوران یہ پہلو میرے سامنے آیا۔ وہ میری نظر میں ابوحنیفہ (۱)سے قریب تھا کہ انھوں نے عہدۂ قضا قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔امام مالک سے قریب تھا کہ جنھوں نے بیعت کے سلسلے میں اپنا فتویٰ دیا تھا۔(۲)

دل نواز شخصیت 

میں حسن البنا کو اس مقام پر پاتا ہوں کہ اس نے اپنی ذات کو عظمت و ناموری کی ناقص ترغیبات و محرکات اور جلد حاصل ہونے والی کامیابی کی کشش سے آزاد کر لیا تھا۔ اس قسم کی آزادیِ نفس ’ایمرسن‘ کی نظر میں غایت درجے کا کمال ہے۔ اسی لیے اس شخص کےسلسلے میں یہ بات عجیب ہے ہی نہیں کہ اس نے اس انوکھی شکل میں زندگی گزاری۔ یہ وصف تو اس کے اندر ایک دائمی صفت کے طور پر موجود تھا کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔
روایتی لیڈروں کے ماحول میں لوگوں کو یہ شخص اپنی چھاپ اور مزاج کی وجہ سے انوکھا نظر آتا تھا۔ چنانچہ اس کو موت آئی تو وہ بھی نہایت انوکھی تھی اور اس کی تدفین بھی نہایت انوکھی تھی۔ مسجد میں (اس کی میت کے پاس) اس کے والد کے علاوہ کوئی نہیں پہنچ سکا۔ گھر کی خواتین نے اسے کندھا دیا اور اس کے رفقا میں سے کوئی بھی اس کے جنازے کے پیچھےنہیں چل سکا، جن سے دنیا بھری پڑی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ریاستی جبر اور دہشت نے لوگوں کو آنے ہی نہ دیا۔
رات کی تاریکی میں اس کی نعش کو اہلِ خانہ کے حوالے کیا گیا۔ اس کے گھر والوں کو اس کی وفات کا اعلان کرنے سے روک دیا گیا۔ اس کے والد نے اسے غسل دیا۔ اس رات قاہرہ کے اوپر بھیانک اور ڈرائونے خواب نے خیمے گاڑ دیے تھے۔وہ اسی راستے کا اہل و مستحق تھا، جس پر ابوحنیفہ، مالک، ابن حنبل اور ابن تیمیہ [رحمہم اللہ]ظلم کا سامنا کرتے ہوئے اور باطل سے ٹکرلیتے ہوئے چلے تھے۔ 
یہاں تک کہ اس کی زندگی اس انوکھے اور دل کو رلا دینے والے انداز میں تمام ہوئی کہ آپ اس کا کسی بھی پہلو سے جائزہ لے لیں، وہ آپ کو انوکھی اور حیرت میں ڈال دینے والی نظر آئے گی۔ وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں لوگوں کو حیرت میں ہی ڈالتا رہا۔ اس لیے یہ تو ہونا ہی تھا کہ اس کی زندگی کے خاتمے سے بھی نسلیں حیرت میں پڑ جائیں۔ ہزاروں ہزار لوگ ان لوگوں کے ہم رکاب چل چکے ہیں جن کو مشرق نے جھوٹے ہیرو بنا دیا تھا۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ حسن البنا نے اس روایت کو ماننے سے انکار کر دیا تھا جس کا اختتام نفاق کے سوا کسی چیز پر ہوتا ہی نہیں ہے؟
تاریخ کے ساتھ دھوکا کرنے والوں اور اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ اخلاص برتنے والوں کے درمیان ازلی فرق پایا جاتا ہے۔اس شخص کی زندگی کا یہ انوکھا اختتام نسلوں تک اہل فکر و نظر کے دلوں میں روشنی کے چراغ جلاتا رہے گا اورجو اس کے ساتھ ایمان لے آئے تھے، ان کے اہلِ خانہ کے دلوں میں اس کا پیش کیا ہوا چشمۂ حق اُبلتا رہے گا، یہاں تک کہ وہ اسے غالب کر دیں گے۔
اس کی شہادت، شہادتِ حسین (رضی اللہ عنہ) سے ملتی جلتی تھی۔ مختلف عوامل تھے جو اس لیے جمع ہو گئے تھے کہ اس زندہ وجاوید فکر کے آگے بندھ باندھ دیں، جو سیلاب کی مانند سامنے کی جانب رواں تھی۔ اور جب ’عدالت‘ عاجز اور بے بس رہ جاتی ہے تو ’قدرت‘ اپنا حکم سنا دیتی ہے۔
ایک بات جس کے متعلق میں پوچھتا رہتا ہوں، لیکن مجھے اس کا جواب نہیں ملتا کہ کیا حسن البنا اسلام کو جس طرح سمجھتا تھا اور جس کی طرف دعوت دیتا تھا، اس میں اور اس کی زندگی کے خاتمے کےدرمیان کوئی تعلق ہے؟ بہت سے لوگ اسلام کی طرف بلاتے ہیں اور اسلام کا نام لیتے ہیں، توکیا حسن البنا کی دعوت اور ان لوگوں کی دعوت کے درمیان کوئی جوہری فرق ہے؟___  مجھے کیوں کہ اس کا درست جواب معلوم نہیں ہے، اس لیے میں اس کا جواب تاریخ پر چھوڑتا ہوں۔(مکمل)
_______________
حواشی
(۱)    امام ابوحنیفہ ؒ [م:۷۶۷ء]خود کو دنیوی مناصب سے دور رکھتے تھے، خاص طور سے اگر وہ مناصب حاکمِ اقتدار کی قربت سے مربوط ہوں تو ہر گز قبول نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ جب والی عراق ابن ہبیرہ نے آپ کو منصبِ قضا پیش کیا تو آپ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے کوڑوں اور قید کی سزا سے ڈرایا، لیکن امام ابوحنیفہؒ اپنے فیصلے پر اٹل رہے۔ آخر کار اس نے انھیں کوڑے لگوائے اور بدن پر پڑنے والا ہر کوڑا آپ کے فیصلے کو مزیدمستحکم کرتا چلا جاتا تھا۔اس واقعے سے لوگوں کی نظروں میں آپ کا مرتبہ کم ہونے کے بجائے اور بھی بڑھ گیا۔
(۲)    عباسی خلیفہ منصور کے زمانے میں امام مالکؒ نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جبری طلاق واقع نہیں ہوتی۔ اس پر خلیفہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں اس فتوے کی زد اس کی بیعت پر نہ پڑے، کیوں کہ اس نے عوام سے اپنے حق میں جبراً بیعت لی تھی۔ چنانچہ اس نے اس فتوے کی پاداش میں امام مالکؒ کو ستّر کوڑے لگوائے۔ پھر انھیں جس اونٹ پر سوار کرکے وہ شہر کے اندر گھمانا چاہتا تھا، اسی اونٹ کی پشت پر کھڑے ہو کر انھوں نے کہا کہ میں مالک بن انس، فتویٰ دیتا ہوں کہ جبری طلاق درست نہیں ہے۔‘‘ (مترجم)

ایودھیاتنازعے پر بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عام خیال یہ پھیلایا جارہا ہے کہ ’’عدالت نے ایک ایسے پیچیدہ تنازعے کا ہمیشہ کے لیے تصفیہ کردیا ہے، جس نے برسوں سے امن و سکون کو تہہ و بالا کر رکھا تھا ۔اور اب ملک میں مذہبی و نسلی منافرت کا خاتمہ ہوجائے گا‘‘۔ اس میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اس مقدمے کو جس انداز میں یک طرفہ طور پر فیصل کیا گیا ہے، اس نے مسلمانوں میں مایوسی اور نااُمیدی کے جذبات کو اُبھارا ہے اور انھیں شکست خوردگی کے احساس کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ ابھی زیادہ مدت نہیں گزری کہ ۲۰۱۹ء ہی میں تین طلاق پر یک طرفہ اور جابرانہ قانون سازی کرکے مسلمانوں کے پرسنل لا میں مداخلت کی گئی۔ جموں و کشمیر کے لیے دستور ہند کی دفعہ ۳۷۰اور دفعہ ۳۵-اے کا خاتمہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا اور اب ایودھیا تنازعے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ۔ اس کے بعد ’یکسا ں سول کوڈ‘ کا شوشہ بھی مسلمانوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کے لیے چھوڑا جارہا ہے ۔

اگر آپ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت کا جائزہ لیں، تو صاف محسوس ہوگا کہ اس حکومت نے ہر وہ کام انجام دیا ہے، جس سے ملک میں ہندو نسل پرستی کو فروغ حاصل ہو اور مسلمانوں کے بنیادی، آئینی اور انسانی حقوق پر کاری ضرب لگے ۔ جو لوگ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو ایودھیا تنازعے اور مندر مسجد سیاست کا خاتمہ تصور کررہے ہیں، وہ دراصل غلط فہمی اور لا علمی کا شکار ہیں۔ ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کی تحریک جن مقاصد کے تحت شروع کی گئی تھی، اس کا دائرہ محض مسجد اور مندر کے جھگڑے تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس تحریک کے پیچھے ملک میں جارحانہ ہندو قوم پرستی کے فروغ کا مقصد پوشیدہ تھا۔یہ تحریک گہری منصوبہ بندی سے نہایت سوچ سمجھ کر شروع کی گئی تھی، جس میں ’سنگھ پریوار‘ [یعنی راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ کی تنظیموں کا خاندان] کو۱۰۰ فی صد کامیابی حاصل ہوئی ہے۔اس تحریک کے نتیجے میں ملک کے اندر ایک ایسی ہندو لہر پیدا ہوئی ہے جس کےنتیجے میں ہندوؤںنے بی جے پی کو اپنا نجات دہندہ تصور کرلیا ہے ۔

ذرا ماضی میں دیکھیں:۲۳؍اپریل ۱۹۸۵ء کو جب ’شاہ بانوکیس‘ میں سپریم کورٹ نے اسلامی شریعت کے خلاف فیصلہ صادر کیا تھا، تو ملک میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے مسلمانوں نے ایک بے مثال تحریک اُٹھائی تھی ۔اس تحریک کے نتیجے میں حکومت کو پارلیمنٹ سے ’مسلم مطلقہ قانون‘ پاس کرنا پڑا تھا۔ مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی تحریک میں مسلمانوں کو حاصل ہونے والی کامیابی کا فسطائی عناصر پر گہرا منفی اثر ہوا۔ انھوں نے بڑی قوت سے یہ جوابی پراپیگنڈا شروع کردیا کہ ’’حکومت نے مسلم بنیاد پرستوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں‘‘۔
ہندو فرقہ پرست طاقتوں کے اس پراپیگنڈا کا توڑ کرنے کے لیے اس وقت بھارتی وزیر اعظم [۸۹-۱۹۸۴ء] راجیو گاندھی [م:مئی ۱۹۹۱] کی کابینہ کے بعض وزرا نے یہ مشورہ دیا کہ ہندوؤں کی ناراضی دُور کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ ایودھیا میں واقع بابری مسجد کا تالا کھول کر وہاں عام پوجا پاٹ کی اجازت دے دی جائے، جس کے لیے پہلے سے ہی ’راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ‘ کی سرپرستی میں ’رام جنم بھومی مکتی آندولن‘ چل رہا تھا ۔راجیو گاندھی کو اس پر راضی کرنے میں ان کے عزیز اور وزیر ارون نہرو کے علاوہ یوپی کے وزیر اعلیٰ ویر بہادر سنگھ نے اہم کردار ادا کیا۔ یکم فروری ۱۹۸۶کو فیض آباد کی ایک ذیلی عدالت کے حکم پر بابری مسجد کے دروازے عام پوجا پاٹ کے لیے کھول دیے گئے۔تالا کھلنے کے مناظر کی تشہیر سرکاری نشر یاتی اداروں اور سرکاری ٹیلی ویژن سے خوب کی گئی۔

بابری مسجد میں ۲۲ دسمبر ۱۹۴۹ءکو دیوار پھاند کر زبردستی رکھی گئی مورتیوں کی پوجا شروع ہوگئی، اور ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی اپنی انتہا تک پہنچ گئی ۔کہا جاتا ہے کہ بابری مسجد کا تالا کھولنا راجیو گاندھی کی ایک ایسی ہمالیا ئی غلطی تھی، جس کا خمیازہ کانگریس پارٹی آج تک بھگت رہی ہے۔ کانگریس کی اس غلطی کا بی جے پی کو غیر معمولی سیاسی فائدہ حاصل ہوا۔ اس طرح جس پارٹی کی پارلیمنٹ میں محض دو سیٹیں ہوا کرتی تھیں، وہ اچانک بڑھ کر ۸۰تک پہنچ گئیں ۔کانگریس پارٹی اقتدار سے محروم ہوگئی اور بی جے پی نے وزیر اعظم [۹۰-۱۹۸۹ء] وی پی سنگھ کو مدد دے کر ان کی حکومت بنوائی ۔ وی پی سنگھ نے ’منڈل کمیشن‘[۱۹۸۳ء] کی سفارشات نافذ کرکے ہندوؤں میں ذات پات کی جو خلیج پیدا کی تھی، اسے ختم کرنے کے لیے مذہبی جنون کا سہارا لیا۔ دوسری طرف بی جے پی کے لیڈر لال کرشن اڈوانی نے سومناتھ سے ایودھیا تک کی رتھ یاترا شروع کردی، جس کا واضح مقصد رام مندر کے لیے راے عامہ ہموار کرکے ’منڈ ل کمیشن‘ کے اثرات کوزائل کرنا تھا ۔ اڈوانی کی رتھ یاترا نے پورے بھارت میں فرقہ واریت کا جو آتش فشاں تیار کیا تھا، اس کی تپش آج تک برقرار ہے۔

اس رتھ یاترامیں جو نعرے بلند کیے گئے تھے، انھوں نے مسلمانوں میں زبردست سراسیمگی پیدا کردی تھی اور ایسا خوف بٹھا دیا تھا، جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے ۔اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کی نشستوں میں مزید اضافہ ہوا اور اترپردیش سمیت کئی صوبوں میں اس کی حکومت تشکیل پائی ۔ ۶دسمبر ۱۹۹۲ءکو جب ایودھیا میں بابری مسجد پر چڑھائی کی گئی تو مرکز میں کانگریس کے نرسمہا رائو اور اترپردیش میں کلیان سنگھ کی حکومت تھی ۔کانگریسی وزیراعظم نرسمہا راؤ [۹۶-۱۹۹۱ء]نے بی جے پی کی تمام تر بدنیتی کے باوجود کلیان سنگھ کی یقین دہانی پر بھروسا کیا اور بابری مسجد دن کے اُجالے میں زمیں بوس کردی گئی ۔کلیان سنگھ نے وزیر اعلیٰ کے طور پر سپریم کورٹ میں بابری مسجد کے تحفظ کا جو حلف نامہ داخل کیا تھا، اس کی دھجیاں اڑا دیں اور بابری مسجد کے تحفظ کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
بابری مسجد: قانون، دستور اور عدلیہ کی موجودگی کے باوجود منہدم کردی گئی ۔یہ مسلمانوں کے لیے اتنا بڑا صدمہ تھا، جسے وہ آج تک بھول نہیں پائے ہیں ۔اس جرم کی پاداش میں ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی ،کلیان سنگھ اور ونئے کٹیار سمیت ’سنگھ پریوار‘ کے ۳۲ لوگوں پر مجرمانہ سازش کا مقدمہ آج بھی لکھنؤکی ایک عدالت میں چل رہا ہے ۔

بابری مسجد کے انہدام کے بعد وزیر اعظم نرسمہاراؤ نے قوم کے نام اپنے خطاب میں یہ وعدہ کیا تھا: ’’ہم مسجد کو دوبارہ اسی جگہ تعمیر کرائیں گے‘‘۔لیکن اس وعدے کو وفا کرنے کے بجاے کانگریس پارٹی نے ’ہندوتوا‘ کے ایجنڈے کو بی جے پی کے ہاتھوں سے چھیننے کی کوشش کی اور اسی کوشش کے تحت ۹ نومبر ۱۹۸۹ءکو ایودھیا میں بابری مسجد کے رُوبرو رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھوا دیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ اس کے ٹھیک ۳۰سال بعد ۹نومبر۲۰۱۹ءکو سپریم کورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ رام مندر کے حق میں کیا ہے۔
سنگ ِ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقعے پر راقم نے رپورٹنگ کی غرض سے ایودھیا کا سفر کیا تھا ۔ وہاں ’سنگھ پریوار‘ کے لیڈروں نے دُنیا بھر کے سامنے بلند آواز میں یہ کہا تھا: ’’ہم نے محض رام مندر کی بنیاد نہیں رکھی ہے بلکہ ہندو راشٹر کی بنیاد ڈال دی ہے‘‘۔سنگھ پریوار کے لیڈروں کے تیور دیکھ کر اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ اس تحریک کے پیچھے کیا مقاصدکا رفرماتھے ۔اب،جب کہ سپریم کورٹ نے ایودھیا تنازعے پر اپنا فیصلہ صادر کرتے وقت رام مندر کی تعمیر کے لیے ٹرسٹ بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی ہے۔ آج اقتدار اسی پارٹی کے ہاتھوں میں ہے، جس نے اس مسئلے کا سب سے زیادہ سیاسی استحصال کیا ہے اور جس کا واحد مقصد ملک میں ’ہندو نسل پرستی‘ کا فروغ ہے ۔ 

حیر ت انگیز بات یہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک ہزار سے زائد صفحات کے فیصلے میں بابری مسجد میں نماز کی ادایگی کے حقوق تسلیم کرنے اور وہاں ۱۹۴۹ء میں رکھی گئی مورتیوں کو غیرقانونی قرار دینے اور بابری مسجد کے انہدام کی مذمت کرنے کے باوجود رام للا وراجمان کی وہ درخواست تسلیم کرلی ہے، جس میں پوری متنازعہ اراضی پر حق ملکیت کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے حق میں پیش کی جانے والی شہادتوں کو نہ جانے کیوںنظر اندازکردیا ہے؟ 
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایودھیا میں زیادہ عالی شان مندر بنانے کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ حکمران جماعت سمجھتی ہے کہ عالی شان مندر کی تعمیر کے بعد ’ہندو نسل پرستی‘ کو جو توانائی حاصل ہوگی، اس کے نتیجے میں کوئی طاقت بی جے پی کو مدتوں تک اقتدار سے بے دخل نہیں کرسکے گی۔

بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا ۹نومبر ۲۰۱۹ء کو جو فیصلہ آیا ہے، وہ فیصلہ   ہم سب کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور مایوسی کا باعث ہے۔سپریم کورٹ میں جس طریقے سے مقدمہ پیش کیا گیا تھا،جس قدرمضبوط دلائل و شواہد پیش کیے گئے تھےاورجس طرح سے ہمارے وکلا نے اس مقدمے کی پیروی کی تھی،اس سے ہم سب کو توقع اور غالب امید تھی کہ فیصلہ بابری مسجد کے  حق میں آئے گا،مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا ۔ 
یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں نے پہلے روز سے یہ بات کہی تھی کہ وہ عدالت کا فیصلہ تسلیم کریں گے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، کہ جو مسلمان ابھی کہہ رہے ہیں یا حکومت کی تبدیلی کے بعد سے یہ بات کہہ رہے ہیں۔ نہیں، بلکہ جب سے یہ مقدمہ چل رہا ہے ،اس وقت سے مسلمانوں کا موقف یہی ہے کہ ’’سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گا، اس کا احترم کریں گے ،اسے قبول کریں گے‘‘۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے احترام کی بات اس لیے کہی گئی ہے کہ رول آف دی لا (قانون کی حکمرانی) کی بڑی اہمیت ہے۔ کوئی بھی معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیرامن کے ساتھ نہیں  رہ سکتا۔ اسلام بھی فتنہ و فساد کو پسند نہیں کرتا اور ہم بھی پسند نہیں کرتے۔ قانون کی حاکمیت کے بغیر فتنہ و فساد کا تدارک نہیں ہو سکتا، نیز معاشرے میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے ہم نے یہ کہا تھا کہ ہم امن کے ساتھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، دلائل کے ساتھ، اپنی بات رکھیں گے اور سپریم کورٹ جو فیصلہ دے گا، اس کا احترام کریں گے۔ اس لیےسپریم کورٹ کے فیصلے کے احترام کی بات پر ہم آج بھی قائم ہیں۔حتمی طور پر جو فیصلہ ہوگا ، اس کا احترام کیا جائے گا۔

قانون کی بالادستی اور اختلاف رائے

تاہم، فیصلے کے احترام کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ ہم صدفی صد اس سے اتفاق بھی کریں۔ اس فیصلے میں جو غلط باتیں ہیں ، ان سے ہم اختلاف کریں گے اور اس اختلاف کا ہم اظہار بھی کریں گے۔یہ ہمارا جمہوری حق ہے۔سپریم کورٹ یا ملک کا قانون بھی یہ نہیں کہتا کہ آپ ہر حالت میں سپریم کورٹ کی باتوں پر ایمان لے آئیں ۔تاہم، فیصلے کے خلاف کوئی کام یا عملی اقدام آپ نہ کریں، یہ قانون کا مطالبہ ہے۔ ہم اس مطالبے پر عمل کریں گے، اور فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ لیکن اس فیصلے میں جو نقائص ہیں ، جو کمزوریاں ہیں ، ہم ان کم زوریوں پر اظہارِ خیال بھی کریں گے۔
سپریم کورٹ کے ایک سابق جج جناب ورما صاحب کا قول اس وقت میڈیا میں نقل کیا جارہا ہے کہ ’’سپریم کورٹ، سپریم ہے، لیکن غلطیوں سے پاک (infalliable) نہیں ہے۔غلطی اس سے ہو سکتی ہے‘‘۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے میں بہت سی غلطیاں اور بہت سی کم زوریاں ہیں۔ جس طریقے سے ٹائٹل سوٹ، یعنی مقدمۂ ملکیت کا فیصلہ کیا گیا ہے، وہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بحث اور فیصلے میں بہت سی باتیں ایسی بھی سامنے آئی ہیں، جو مسلمانو ں کے موقف کی تائید کرتی ہیں۔ خاص طور پر جو بحث اور گفتگو، اس طویل عرصے میں بابری مسجد کے حوالے سے چلی ہے اور جس کی بنیاد پر ایک تاریخی بیانیہ کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مسلمانوں کے موقف کی تائیدکی ہے۔ مثلاً اس پورے فیصلے کی سب سے اہم بات جو فرقہ پرستوں کے پورے موقف کو ڈھیر کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے بقول: ’’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ بابری مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی‘‘۔ 
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ غیر معمولی طور پر اہم بات ہے ۔ اس سےہم تاریخ کی بحث کا پورا دھارا موڑ سکتےہیں۔ عدالت نے فیصلہ دے دیا ہے ،لیکن ملک میں ضمیر کی عدالت کے سامنے آپ تفصیلات رکھ سکتے ہیں، اپنا موقف بیان کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بہت وضاحت کے ساتھ یہ بات کہی ہے کہ’’ مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی۔ اس کا کوئی ثبوت ،کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے‘‘۔  اس فیصلے کے مطابق ’’اس زمین کے نیچے سے اسٹرکچر ضرور برآمد ہوا ہے مگر وہ اسٹرکچر کیا ہے؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔اگرچہ وہ اسلامی اسٹرکچر نہیں ہے،لیکن اس کے بھی شواہد نہیں ہیں کہ وہ ہندو اسٹرکچر ہے‘‘۔ فیصلے میں یہ بات بھی واضح طور پر کہی گئی ہے کہ ’’یہ اسٹرکچر بارھویں صدی کا اسٹرکچر ہے، جب کہ بابری مسجد سولھویں صدی میں بنی ہے۔بارھویں سے سولھویں صدی کے درمیان ۴۰۰سال کے دوران یہاں کیا تھا ؟ اس کا کوئی تاریخی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے کہ مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی‘‘۔ میرے نزدیک یہ بہت اہم بیان ہے۔ اس سے وہ تاریخی موقف کہ جسے یہاں کے فسطائی اور فرقہ پرست عناصر کھڑا کرنا چاہتے تھے، اس کی پُرزور تردید ہوتی ہے۔ ہمیں اسے بھرپور طریقے سے ایک ایک فرد کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ 

اسی طرح ۱۹۴۹ء میں مورتیاں رکھنے کے عمل کے بارے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ    یہ ’’بالکل غلط عمل تھا ۔ یہ توہین آمیز اور مجرمانہ فعل تھا۔ اسی طرح ۱۹۹۲ء میں مسجد کو گرادینے کا  عمل بھی مجرمانہ عمل تھا‘‘۔ 
ایک بڑی اہم بات یہ کہ مذہبی عبادت کے مقدمات سے متعلق قانون The Places of Worship (Special Provisions) Act 1991  بھارتی پارلیمنٹ نے برسوں پہلے منظور کیا تھا۔ اس قانون کے تحت یہ بات کہی گئی ہے کہ ’’۱۹۴۷ءمیں مذہبی مقامات کی جو جو حیثیت تھی، وہی باقی رہے گی،سواے بابری مسجد کے‘‘۔ کیوں کہ بابری مسجد کا معاملہ اس وقت تک ایک اہم تنازعہ بن چکا تھا اور عدالت میں زیر غور تھا، اس لیے اس کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ لیکن باقی جومذہبی مقامات ہیں، ان کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ ’’۱۹۴۷ء کی پوزیشن باقی رہے گی۔ ۱۹۴۷ء میں جو مسجد تھی وہ مسجد رہے گی جو مندر تھا وہ مندر رہے گا۔ کوئی پرانا تاریخ کا دعویٰ لے کر مسجد کو مندر میں اور مندر کو مسجد میں تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا‘‘۔ 
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے اس قانون کو مضبوطی عطا کی ہے۔ اس کے نتیجے میں بنارس اور دیگر مقامات کے سلسلے میں ہندوانتہاپسند جو دعوے اُٹھا رہے ہیں،ان پر گویا سپریم کورٹ نے بند باندھا ہے۔ یہ بات بھی ہمیں بھارت کے عوام کے سامنے لانی چاہیے، کہ اب ان سارے دعووں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی، اور یہ کہ اب اس طرح کے تنازعات ختم ہوجانے چاہییں۔

ہماری ذمہ داری؟

بابری مسجد کے مقدمے کے سلسلے میں ہماری جوقانونی ذمہ داری ہو سکتی تھی، وہ ہم نے ادا کی ہے۔بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر یہ بات بھی کہہ رہے ہیں کہ ’’اگر ہم مصالحت کے ذریعے مسجد دے دیتے تو اچھا ہوتا۔ کیوں اتنا لمبا مسئلہ چھیڑا گیا؟اتنی لمبی عدالتی لڑائی لڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ نتیجہ تو وہی نکلا۔ اگر پہلے ہی عزت سے دے دیتے تو مسئلہ بہت پہلے ختم ہوجاتا‘‘۔ ایسی باتیں سوشل میڈیا پر جگہ جگہ چل رہی ہیں۔
 ہمیں یہ بات اچھی طرح سجھ لینی چاہیے کہ یہ عدالتی لڑائی اور جد وجہد کس لیے تھی ؟ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا صبروتحمل اور ہماری یہ لڑائی اور جدوجہد اصلاً ملک میں قانون کی حکم رانی کو یقینی بنانے کے لیے تھی۔ اگر کمزوروں پر دباؤ ڈال کر ان کے حقوق غضب کیے جاتے رہیں اور کمزور دب کر صلح کرتے رہیں، تو معاشرے میں انارکی اور لاٹھی کا راج مسلط ہوجاتا ہے۔ صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ ملک کے تمام شہریوں کو مسلمانوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ مسلمانوں نے ایک طویل جدوجہد کے ذریعے قانون کی حکم رانی کو یقینی بنایا ہے ۔طاقت کو قانون کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا۔ اگر مسلمان درمیان کے کسی مرحلے میں مصالحت کرلیتے تو ’ہجومی طاقت‘ (Mob Lynching)کی بالادستی بھارت میں قائم ہو جاتی۔ یہ بات طے ہو جاتی کہ کوئی بھی گروہ، مشتعل ہجوم اکٹھا کرکے من مانے طریقے سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔اس وقت جو فیصلہ آیا ہے، وہ غلط ہو یا صحیح، بہر حال سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ قانونی عمل مکمل ہوا ہے۔اس سے قانون کی حکم رانی مستحکم ہوئی ہے، جو ملک کے دستوری ڈھانچے اور ملک کے قانونی نظام کے لیے مسلمانوں کا بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے۔

ایمان کا تقاضا

مسلمان توکّل الی اللہ پر یقین رکھتے ہیں۔ توکّل، اسلامی فلسفے کا بنیادی اور اہم تصور ہے، جس کا براہِ راست تعلق ایمان سے ہے۔ توکّل کیا ہے ؟ توکّل کی دو شرطیں ہیں: ایک تو معقول تدبیر اختیار کرنا اور آخری حد تک کرنا۔ آپ ؐنے ارشاد فرمایا: ’’اونٹ کو باندھ کر توکّل کرو، کھلا چھوڑ کر نہیں‘‘۔ مطلب آخری ممکنہ حد تک تدبیر اختیارکرو۔ الحمد للہ ،مسلمانوں نے اس معاملے میں آخری حد تک کوشش کی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ گئے اور سپریم کورٹ میں گئے ۔ ملک کے ماہرترین قانون دانوں کی خدمات حاصل کیں ۔ میڈیا کے سامنے اپنا مقدمہ رکھا ۔ ملک کے عوام کے ضمیر کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا۔ مصالحت کے نام پر طرح طرح سے دباؤ ڈالے جاتے رہے ،لیکن کبھی اس دباؤ کا شکار نہیں ہوئے۔ استقامت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے، اور اپنی آخری کوشش جواللہ کے گھر کی حفاظت کے لیے ہو سکتی تھی، الحمدللہ اسے ہم مسلمانوں نے انجام دیا۔ اس پر ہم سب کو اطمینان ہونا چاہیے کہ الحمدللہ، ہم نے آخری حد تک کوشش کی ۔ اس طرح توکّل کی پہلی شکل ’ آخری حد تک تدبیر‘ کو ہم نے اپنے امکان کی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ ان کوششوں کو قبول کرے اور ان میں کوئی کسر رہ گئی ہو تو اسے معاف فرمائے۔
اب دوسری شرط کا مرحلہ ہے۔ توکّل کی دوسری شرط یہ ہے کہ آخری کوشش کے بعد جو فیصلہ ہو جائے ، جو نتیجہ نکلے ، وہ ہم اللہ پر چھوڑ دیں۔ہم یہ سوچیں کہ اللہ جو کرے گا، ہمارے لیے اچھا کرے گا ۔ اس میں کچھ نہ کچھ خیر ہوگا۔ بہ ظاہر شر نظر آتا ہے، مگر اس میں کوئی نہ کوئی خیر کا پہلو ہوگا۔  اللہ تعالیٰ سے یہ اُمید رکھیں ۔ یہ بھی توکل کی اہم شرط ہے۔ہم نے ممکنہ حد تک کوشش کی ۔ اب ہمارے وکلا دیکھ رہے ہیں کہ کیا اور بھی کسی کوشش کا امکان باقی ہے؟ ریویو پٹیشن وغیرہ کا امکان ہے؟ اگر ہے تو وہ بھی کر لیں گے۔ مگر ممکنہ حد تک جو کوشش ہوسکتی ہے، وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ہم کریں گے، کیوں کہ ہم اس کے مکلف ہیں۔ جب ہماری ذمہ داری اور ممکنہ حدتک کوشش پوری ہو جائے گی، تو پھر ہم اس مسئلے کو اللہ پر چھوڑ دیں گے اور سمجھیں گے کہ ان شاءاللہ اس سے کچھ نہ کچھ خیر ضرور برآمد ہوگا۔ پوری اسلامی اورانسانی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ بظاہر شر نظر آنے والے واقعات سے اوربظاہر نامناسب نظر آنے والے معاملات سے اللہ تعالی نے غیرمعمولی خیر پیدا کیا ہے۔ 
سیّدنا یوسف علیہ السلام کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحرا کے ایک تاریک کنویں کی وحشت ناک تنہائی کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مصر کے تخت وتاج کا پہلا زینہ بنایا ۔ پھر مصر کی جیل کی طویل قید کو دوسرا زینہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس میں خیر کیا ہے، لیکن ہم ان شاء اللہ اپنی ذمہ داری بھرپور طریقے سے ادا کریں گے، اور وہ ہم نے پہلے بھی کی ہے۔ اس کے بعد معاملے کو اللہ پر چھوڑدیں ۔

ہمارا نصب العین اور دعوتِ دین

 سوال یہ ہے کہ اس کے بعد ہماری کیا ذمہ داری ہے؟ 

اس سلسلے میں یہ بات ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہے کہ ہماری اصل ذمہ داری، اس ملک میں دعوتِ دین کی ہے،جواس ملک میں ہمارے بہت سے مسائل کا حل ہے۔ ہم اس ملک میں اپنے آپ کو خیرِ اُمت  سمجھیں ۔یہاں کے تمام انسانوں اور کروڑوں کی آبادی کواپنا مخاطب سمجھیں۔ انھیں اللہ کے بندے سمجھیں اور ان سے ربط و تعلق قائم کریں۔ ان سے برادرانہ رشتہ استوار کریں،ان کی غلط فہمیوں کو دُور کریں ، ان کے دل میں جو نفرت کے بیج ہیں، انھیں مٹائیں۔ ان کے دلوں کو جیتیں۔ عدل و انصاف اور اسلام کی تعلیمات ان کے سامنے پیش کریں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے، ہمارا فریضہ ہے ۔ یہ احساس امت مسلمہ کے اندر پیدا ہوجائے گا تو یہ مسئلہ بھی حل ہوگا اور اس جیسے مزید سیکڑوں مسائل بھی حل ہوں گے ۔ 
ہمارا طویل المیعاد ایجنڈا،اصل مقصد اور نصب العین یہ ہے کہ ہمیں خیرِ اُمت بننا ہے،  مثالی اُمت بننا ہے۔ انسانوں کے سامنے اللہ اور اس کے آخری رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچانا ہے۔ اپنے آپ کو اخلاق اور کردار سے طاقت ور بنانے کی کوشش کرنی ہے۔اس نصب العین پر ہماری توجہ رہے ۔اس عظیم نصب العین کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسی رکاوٹیں اس راہ میں آتی رہتی ہیں۔ہمیں ان رکاوٹوں کو دُور کرنے کی کوشش ضرور کرنی ہے، لیکن ان میں اُلجھ کر نہیں رہ جانا۔ بابری مسجد کےاس فیصلے سے جو تکلیف ہمیں پہنچی ہے وہ فطری بات ہے اور ایمان کا تقاضا ہے۔ لیکن اس تکلیف کے نتیجے میں ہم کو مستقل طور پر مایوس اور نااُمید نہیں ہونا ہے ۔ اپنے اصل کام کے سلسلے میں حوصلے اور ہمت کو نہیں ہارنا ہے۔ 
ہم اپنے اصل کام سے وابستہ رہیں گے تو ان شاءاللہ یہ مسئلہ بھی حل ہوگا اور ایسے اور بھی مسئلے حل ہوں گے اور ہمارا یہ سفراپنے نصب العین کی طرف جاری رہے گا۔ اس نازک گھڑی میں، مَیں یہی گزارش کروں گا کہ ہم سب اپنی اصل ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہوں، اور یکسوئی سے انھیں انجام دینے کی فکر کریں۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! 
[ویڈیو سے مرتب: محب اللہ قاسمی]

۶دسمبر ۱۹۹۲ء کو جب بھارت کے ایودھیا شہر میں بابری مسجد کو مسمار کیا جا رہا تھا، میں   ان دنوں صحافتی شعبے میں کام کا آغاز کرکے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک زیرتربیت فرد کے طورپر ایک ابلاغی ادارے وابستہ تھا ۔مجھے یاد ہے کہ دن کے گیارہ بجے تک رپورٹر ’ویشوا ہندوپریشد‘ اور ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ کی طرف سے منعقدہ پروگرام کی خبریں بھیج رہے تھے۔ پھر ایک دم سے ایودھیا سے خبروں کی ترسیل کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ رات گئے تک بس کانگریسی حکومتی ذرائع سے یہی خبر آرہی تھی کہ’’ انتظامیہ مسجد کو بچانے کے لیے مستعد ہے اور خاصی تعداد میں مرکزی فورس وہاں بھیجی گئی ہے‘‘۔ اس واقعے سے دودن قبل ہی ریاست اتر پردیش کے وزیرا علیٰ کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں مسجد کی حفاظت کی حلفیہ ضمانت دی تھی اور عدالت نے ایودھیا میں ہندوئوں کو تقریب کرنے کی اجازت دی تھی۔

ریڈیو سے ہم مسلسل بی بی سی کی نشریات سن رہے تھے۔ رات گئے بی بی سی نے اپنی معمول کی نشریات روک کر اعلان کیا کہ: ’’ سنڈے آبزرور کے نمایندے قربان علی ابھی ابھی ایودھیا سے فیض آباد پہنچے ہیں‘‘۔ ریڈیائی لہروں پر اگلی آواز قربان علی کی تھی۔ جن کا کہنا تھا کہ: ’’بابری مسجد کو مسمار کردیا گیا ہے۔ جس وقت میں ایودھیا سے بڑی مشکل سے جان بچا کر نکلا، اس وقت مسجد کے ملبے پر ایک عارضی مندر کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا تھا اور بھگوان رام کی مورتی کو ایک شیڈ کے نیچے اس جگہ منتقل کیا جا رہا تھا ، جہاں چند گھنٹے قبل مسجد کا مرکزی گنبد موجود تھا‘‘۔ اس کے بعد انھوں نے بتایا: ’’مسجد کی طرف چڑھائی کرنے سے قبل صحافیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مندر وں اور کئی مکانوں میں بند کر دیا گیا تھا۔ان کے کیمرے توڑدیے گئے تھے۔ کئی صحافیوں کے ساتھ مارپیٹ بھی کی گئی تھی‘‘۔ قربان علی اور بی بی سی کے شہرۂ آفاق نمایندے مارک ٹیلی کو ایک مندر کے بوسیدہ کمرے میں بند کردیا گیا تھا۔ قربان علی نے بتایا: ’’دوپہر کے بعد ہم کو ’ویشوا ہندو پریشد‘ کے لیڈر اشوک سنگھل کے دربار میں پیش کردیا گیا، جس نے ہماری رہائی کے احکامات صادر کر دیے۔ کھیتوں اور کھلیانوں سے ہوتے ہوئے ہم فیض آباد کی طرف روانہ ہوئے، کیونکہ ہندو انتہاپسندوں یا کار سیوکوں نے سڑکوں پر ناکے لگا رکھے تھے اور وہ کسی بھی صحافی کو باہر جانے نہیں دے رہے تھے‘‘۔فیض آباد پہنچ کر انھوں نے دنیا کو بتایا کہ: ’’۱۵۲۸ءمیں مغل فرماںروا ظہیر الدین بابر کے جنرل میر باقی کی تعمیر کردہ تاریخی بابری مسجد مسمار کر دی گئی ہے‘‘۔ 
دہلی میں ہماری رہایش گاہ سے متصل ایک معروف کیمرہ مین سلیم شیخ رہتے تھے۔ ان کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بس نام کا رشتہ تھا ۔ اس کے علاوہ شب برأت کے موقعے پر اپنی والدہ کو یاد کرکے نماز پڑھتے تھے۔ جونہی شب برأت ختم ہوتی تو وہ بوتل نکال کر شراب پینا شروع کردیتے تھے۔ سال بھر اسی طرح گزارتے اور پھر اگلی شب برأت سے ایک روز قبل و ہ بوتل الماری میں  بند کردیتے تھے۔ عید ہو یا کوئی اور دن، ان کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔ شب برأت کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ: ’’میرے بچپن میں، میری والدہ اس رات بڑے اہتمام سے اور پوری رات عباد ت میں مصروف رہا کرتی تھیں‘‘۔ اس لیے وہ اپنی والدہ کو یاد کرنے کے لیے کچھ گھنٹوں کے لیے مسلمان بن جاتے تھے۔ خیر جونہی بابری مسجد کی شہادت کی خبر نشر ہوئی، تو ہمارے کمرے کے دروازے پر بڑے زور زور سے دستک ہوئی۔ دروازہ کھولنے پر دیکھا کہ سلیم بھائی بوتل پکڑے خاصے غصے میں بھارتی حکومت اور اس کے آئین کو گالیوں سے نواز رہے تھے۔ میری کتابوں کے شیلف سے انھوں نے بھارتی آئین کی کتاب نکال کر اس کو پھاڑا اور پھر نیچے گلی میں لے جاکر آگ کے حوالے کردیا۔ ایک تو وہ پورا علاقہ ہندوؤں کا تھا، دوسرا مجھے کتاب کے تلف ہونے پر بھی افسوس ہو رہا تھا۔ خدشہ  یہ بھی تھا کہ ان کی حرکت سے فساد پھوٹ سکتا ہے۔ خیر ہوگئی کہ رات خاصی بیت چکی تھی اور لوگوں نے بھی ان کی حرکت کو دیکھ کر یہی سمجھا کہ نشے میں دھت وہ اپنی کوئی کتاب جلا رہے ہیں۔

اس موقعے پر یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سلیم شیخ جیسے فرد کو بھی اس دن ا پنی  مسلم شناخت یاد آگئی اور مسجد کی مسماری پروہ اس قدربے چین ہوگیا۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے ایک سابق لیڈر مرحوم جاوید حبیب نے مجھے ایک بار کہا تھا: ’’بابری مسجدکا سانحہ اس خطے کی جدید تاریخ کا یہ چھٹا بڑا واقعہ ہے: lپہلا ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی lدوسرا یہ کہ۱۹۲۰ء میںمہاتما گاندھی کی قیادت میں کانگریس کا نیا آئین اور سوراج کا مطالبہ lتیسرا یہ کہ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند اور آزادی  lچوتھایہ کہ ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کا وجود میں آنا lپانچواں یہ کہ ۱۹۸۴ء میں سکھوں کی مقدس عبادت گاہ گولڈن ٹمپل پرحملہ اور lچھٹا یہ کہ ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کا انہدام‘ جو دراصل اعتماد کا انہدام تھا‘‘۔ (اب اس میں ساتواں واقعہ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو ریاست جموں و کشمیر کو تحلیل کرکے اس کو مرکزی انتظام والا علاقہ بنانا، اور اس کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنا ہے)۔

  • بابری مسجد پر ہندوو ٔں کے دعوے کی حقیقت: بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی عدالتی بنچ نے اب ان زخموں کو مزید کرید کر انصاف، قانون و استدلال کے بجاے عقیدے کو بنیاد بناکرمسجد کی زمین، اساطیری و افسانوی شخصیت اور ہندو دیوتا رام للاکے سپرد کرکے، وہاں پر ایک مندر بنانے کے لیے راستہ صاف کردیا۔ تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے کو پڑھتے ہوئے ، مجھے محسوس ہورہا تھا ، کہ جیسے میں کشمیری نوجوان افضل گورو [م:۹ فروری ۲۰۱۳ء ]کو دی گئی، سزاے موت کا فرمان پڑھ رہا ہوں۔ اس فیصلے میں بھی کورٹ نے استغاثہ کے دلائل کی دھجیاں بکھیر دی تھیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی لکھا تھا کہ: استغاثہ، افضل گورو کے دہشت گردوں کے ساتھ روابط اور جیش محمد کے ساتھ اس کی قربت و رفاقت ثابت نہیں کر پایا ہے‘‘۔ جب لگ رہا تھا کہ شاید کورٹ اپنے ہی دلائل کی روشنی میں گورو کر بری کردے گی، کہ فیصلے کا آخری پیراگراف پڑھتے ہوئے، جج نے فرمان صادر کیا کہ:’’’ اجتماعی ضمیر‘ کو مطمئن کرنے کی خاطر، ملزم گورو کو سزاے موت دی جاتی ہے‘‘۔

بالکل اسی طرح بابری مسجد سے متعلق فیصلے میں بھی سپریم کورٹ نے ہندو فریقین کے دلائل کا پول کھول کر رکھ دیا۔ ان کی یہ دلیل بھی رد کردی کہ مسجد کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے اندر مورتیاں رکھنے اور مسجد کو منہدم کرنے کے واقعات کو بھی غیر قانونی اور مجرمانہ سرگرمی قرار دیا ۔ کورٹ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہاں بابری مسجد ایستادہ تھی، اور جبری طور پر نماز کا سلسلہ منقطع ہوجانے سے مسجد کا وجود ختم نہیں ہوجاتا۔عدالت نے مسجد کے نیچے کسی تعمیر کا تو اشارہ دیا ہے، لیکن یہ بھی کہا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ نے یہ نہیں بتایا کہ مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر کی گئی تھی۔   جج صاحبان نے دراصل ہندوئوں کی آستھا، یعنی عقیدے کو اپنے فیصلے کی بنیادبنایا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ’’ہندوئوں کا عقیدہ ہے کہ بھگوان رام کا جنم ’گربھ گرہ ‘، یعنی مسجد کے مرکزی گنبد کے نیچے، عین محراب و منبر کے پاس ہوا تھا ۔’’ایک بار اگر آستھا قائم ہوجائے تو عدالت کو معاملے سے دُور رہنا چاہیے اور عدالت کو عقیدت مندوں کی آستھا اور عقیدے کے معاملے میں مداخلت سے پرہیز کرنا چاہیے‘‘۔
اسی عدالت نے مقدمے کی سماعت سے قبل یہ واضح کیاتھا کہ’’ وہ اس مقدمے کا فیصلہ کسی  عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقِ ملکیت کی بنیاد پر کرے گی‘‘۔فیصلے کا دل چسپ پہلو یہ ہے، کہ عدالت نے فیصلہ ہندوئوں کے حق میں تو دیا، مگر مسمار شدہ مسجد کی زمین، ہندو فریقین کو دینے کے بجاے ، ’’بھگوان رام کے سپرد کرنے کے احکامات‘‘ صادر کر دیے۔ پھر یہ بھی بتایا کہ ’’چونکہ رام للا، نابالغ ہے، اس لیے اس کی سرپرستی کے لیے حکومت کو ایک ٹرسٹ بنانے کے لیے تین ماہ کا وقفہ دیا جارہا ہے‘‘۔ فریقین پر قانون و نظم کو برقرار رکھنے کی بھی ذمہ داری ڈالی گئی۔کورٹ نے بتایا:’’چونکہ رام للا کی مورتی بابری مسجد کی جگہ پر تعمیر کیے گئے عارضی مندر میں براجمان ہے، اس لیے وہ جگہ  ان کی ملکیت ہے‘‘۔ کورٹ نے رام للا کو یعنی معنوی و اعتباری لحاظ سے ایسی شخصیت قرار دیا ہے، جس پر قانون کے سبھی حقوق و فرائض کا اطلاق ہوتا ہے۔ 
ہندو فریقین ، کورٹ کے اس رخ سے خود بھی حیران ہیں، کہ رام مندر کی تعمیر میں اب وہ وزیر اعظم مودی کے دست نگر ہوں گے۔ٹرسٹ کے ممبران اور رام مندر کے نگرانوں کا تعین مودی کی مرضی سے ہوگا۔ نرموہی اکھاڑہ ، رام جنم بھومی نیاس ، ہندو مہاسبھا ا ور ویشوا ہندو پریشد سے تعلق رکھنے والے سادھو سنتوں اور پجاریوں کی نیند یں اُڑی ہوئی ہیں، جن کی عظیم الشان رام مندر کے کنٹرول اور وہاں زائرین کے چڑھاووں پر حق جمانے کی آس میں رال ٹپک رہی تھی۔

  • عدالتی فیصلہ، قانونی جائزہ:بھارتی سپریم کورٹ ایک آزاد اور خود اختیار اتھارٹی ہی سہی، مگر جب اس طرح کامعاملہ یہاں پہنچتا ہے تو انصاف کی دیوی حقیقت میں آنکھوں پر پٹی باندھ لیتی ہے۔ ۱۹۸۴ء کے آغاز میں معروف وکیل کپل سبل نے چیف جسٹس وائی پی چندرا چوڑ کی عدالت میں زور دار بحث کرکے دلیل دی تھی کہ: ’’جموں و کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ کے بانی مقبول بٹ کی، سزاے موت [۱۱فروری ۱۹۸۴ء] پر عمل درآمدنہیں ہوسکتا ہے، کیونکہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے سزاکی توثیق نہیں کی ہے‘‘۔ اس سلسلے میں انھوں نے ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی دستخط و مہر شدہ سند بھی پیش کی،مگر اٹارنی جنرل کے وکلا نے دلائل کا جواب دیے بغیر بس ایک سادہ ٹائپ شدہ کاغذ  چیف جسٹس کے حوالے کیا ، جس پر کسی کے دستخط نہیں تھے، اور دعویٰ کیا کہ یہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا توثیق نامہ ہے۔ چیف جسٹس نے اپیل مسترد کی اور بلیک وارنٹ کو مؤخر کرنے سے انکار کردیا۔

سپریم کورٹ کے سبک دوش جج جسٹس گنگولی نے بی بی سی ہندی سروس کو بتایا کہ: ’’ان کے لیے اس فیصلے کو تسلیم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ قانون کے ایک طالب علم کی حیثیت سے مَیں مانتا ہوں کہ یہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ بھارتی آئین کے وجود میں آنے سے پہلے وہاں کیا موجود تھا۔اگر اس کو عدالتی بحث کا موضوع بنایا جاتا ہے ، تو بہت سے مندروں، مساجد اور دیگر عمارتوں کو توڑنا پڑے گا۔ ہم افسانوی حقائق کی بنیاد پر عدالتی فیصلے نہیں کرسکتے۔‘‘ بھارت کے طول و عرض میں لاتعداد مندر تو بودھ مت اور جین مت کی عبادت گاہوں کو توڑ کر بنائے گئے ہیں۔ آٹھویں صدی میں آدی شنکر آچاریہ [م: ۸۲۰ء] نے جب ہندو مت کے احیا کی خاطر ملک کے طول و عرض کا دورہ کرکے بودھ بھکشووںکے ساتھ مکالمہ کیا، تو بودھ عبادت گاہوں کو مندروں میں تبدیل کرایا۔ اشوکا [زمانہ:۱۴۴-۱۲۰ءق م ]اور کنشکا [زمانہ: ۲۶۸-۲۳۲ ق م ]کے عہد حکومت میں تو بھارت کی کثیر آبادی بودھ مت اختیار کرچکی تھی، تو اس وقت بھارت میں بود ھ آبادی محض ۸۵لاکھ، یعنی کُل آبادی کا صفر اعشاریہ سات فی صد ہی کیوں ہے؟
جسٹس گنگولی نے کہا: ’’اقلیتوں نے نسلوں سے دیکھا ہے کہ وہاں ایک مسجد تھی۔ مسجد کو  توڑ دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وہاں ایک مندر تعمیر ہوگا۔ اس فیصلے نے میرے ذہن میں بہت سے شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ آئین کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے اس فیصلے کو قبول کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے‘‘۔ آئین کی دفعات کی روشنی میں تاریخی مسجد کی حفاظت کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک خطرناک نظیر پیش کر دی ہے کہ مسلم دور کی کسی بھی عمارت کو لے کر تنازع کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ پھر محکمہ آثار قدیمہ سے کھدائی کرا کے اس کے نیچے کوئی ہندو عمارتی ڈھانچا بتایا جاسکتا ہے۔

فیصلہ سنائے جانے سے چند روز پہلے جس طرح بڑی تعداد میں مسلمانوں سے امن وامان برقراررکھنے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ بسر و چشم قبول کرنے کی اپیلیں کی جارہی تھیں اور انھیں جس طرح صبر وتحمل سے کام لینے کے لیے کہا جارہا تھا۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ عدالت یقینا کوئی ایسا فیصلہ صادر کرنے والی ہے، جس پر مسلمانوں کو صرف اور صرف صبر ہی کرنا ہوگا۔ بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت دوول سے لے کر راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نفرت بھرے وہ لیڈر تک، جو مسلمانوں کو منہ تک نہیں لگاتے ہیں۔ وہ بھی مسلم لیڈروں ،دانش وروں اور اردوصحافیوں کو کہیں چائے پر اور کہیں کھانے پر بلا کر یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ’’مسلمانوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو بے چون وچرا قبول کرنا چاہیے‘‘۔

’آل انڈیا ملّی کونسل‘ کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم کا کہنا ہے: ’’فیصلہ لکھنے کے دوران جج حضرات نے حقائق کو سامنے نہیں رکھا ہے اور خاص طور پر ٹائٹل سوٹ (ملکیت کے مقدمے) کو انھوں نے بنیاد نہیں بنایاہے۔جہاں تک کورٹ کی طرف سے مسلمانوں کو معاوضے کے طور پر ایودھیا میں مسجد تعمیر کرنے کے لیے پانچ ایکڑ زمین دینے کا تعلق ہے، کئی مسلم گروپ اس کو پہلے ہی یہ کہہ کر مسترد کرچکے ہیں کہ خیرات کی زمین پر مسجد نہیں بنائی جاتی۔

عدالت کے فیصلے کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جس میں اس نے بابری مسجد کے انہدام کو ایک مجرمانہ فعل قرار دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ’’سیکولرزم، ہندستان کے آئین کی بنیادی روح ہے‘‘۔بابری مسجد انہدام سازش مقدمے کی تحقیقات کرنے والے جسٹس من موہن سنگھ لبراہن نے بھی اپنی رپورٹ میں ’’بابری مسجد انہدام کو ایک منصوبہ بند سازش‘‘ قرار دیا تھا۔  قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جس وقت سپریم کورٹ میں بابری مسجد کے مقدمے کی سماعت شروع ہونے والی تھی، تو جسٹس لبراہن نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ’’سپریم کورٹ کو حق ملکیت کا مقدمہ فیصل کرنے سے پہلے بابری مسجد انہدام سازش کیس کی سماعت کرنی چاہیے،کیونکہ یہ مقدمہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے‘‘۔اب،جب کہ سپریم کورٹ نے از خود ’’بابری مسجد کے انہدام کو ایک مجرمانہ سرگرمی‘‘ قرار دے دیا ہے، تو اسے ان لوگوں کے خلاف عدالت میں جاری مقدمے پر بھی غور کرنا چاہیے، جنھوں نے بابری مسجد شہید کی تھی۔

با بری مسجد انہدام کا مقدمہ کچھوے کی رفتار سے چل رہا ہے، جس میں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی ،اوما بھارتی ،کلیان سنگھ اور ونئے کٹیار سمیت سنگھ پریوار کے۳۲ لیڈروں کے خلاف فردِ جرم عائد کی جاچکی ہے۔مسلمان با بری مسجد تو کھو چکے ہیں، لیکن وہ ان لوگوںکے خلاف کارروائی ضرور چاہتے ہیں، جنھوں نے قانون ،دستور اور عدلیہ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بابری مسجد کو دن کے اُجالے میں شہید کیا تھا۔ 
ہندی کے ایک معروف صحافی اور سماجی کارکن شتیلا سنگھ نے اپنی ایک حالیہ تصنیف ایودھیا - رام جنم بھومی بابری مسجد وواد  کا سچ میں انکشاف کیا ہے کہ کس طرح تین عشرے قبل ان کی موجودگی میں پرم ہنس رام چندر داس کی قیادت میں فریقین نے ایک فارمولے پر اتفاق کیا تھا۔ ویشوا ہندو پریشد کے سربراہ اشوک سنگھل جب اس فارمولے پر مہر لگانے کے لیے ہندو انتہا پسندو ں کی مربی تنظیم آرایس ایس کے سربراہ بالا صاحب دیورس کے پاس پہنچے ، تو ان کو خوب پھٹکار لگائی گئی۔ دیورس کا کہنا تھا ’’ رام مندر تو ملک میں بہت ہیں، اس لیے اس کی فکر (یعنی رام مندر کی تعمیر) چھوڑ کر اس کے ذریعے ہندو وٗں میں آرہی بیداری کا فائدہ اٹھانا ہے۔‘‘ یعنی اگر معاملہ سلجھ جاتا ہے تو فرقہ وارانہ سیاست کی آگ سرد پڑ جائے گی اور اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بند ہوجائے گا۔

  • انصاف کی نفی اور ہندو ذہنیت: بابری مسجد کا معاملہ سب سے پہلے۱۸۵۳ء میں فیض آباد کی عدالت کے سامنے آیا، جب ایک ہندو مہنت نے دعویٰ کیا کہ ’’مسجد کے گنبداور محراب کے پاس کئی لاکھ سال قبل بھگوا ن رام پیدا ہوئے تھے‘‘۔ برطانوی جج نے کئی سماعتوں کے بعد اس دعوے کو خارج کر دیا۔ اس کے بعد ۱۹۴۹ء میں مقامی وقف بورڈ اور ایک شخص ہاشم انصاری نے کورٹ میں فریاد کی ، کہ ’’رات کے اندھیرے میں چند افراد نے دیوار پھلانگ کر محراب کے پاس ایک مورتی رکھ دی ہے، لیکن مقامی انتظامیہ نے مورتی کو ہٹانے کے بجاے خود مسجد ہی پر تالہ لگاکر مسلمانوں کی عبادت پر پابندی لگادی ہے۔ کورٹ سے درخواست ہے کہ اس جگہ کی ملکیت طے کی جائے‘‘۔ ضلعی عدالت میں کئی برسوں تک اس قضیے پر جب کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو اس کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سپردکر دیا گیا۔ جس نے ۲۰۱۰ء میں ایک ایسا عجیب و غریب فیصلہ سنایا کہ جس نے کسی بھی فریق کو مطمئن نہیں کیا۔ فریقین نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

بابری مسجدکی شہادت میں عدلیہ اور انتظامیہ نے بھرپور کردار ادا کرکے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کا پول کھول دیا ۔ اعتبار کی رہی سہی کسر ۳۰ دسمبر ۲۰۱۰ء کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے بنچ نے اس وقت پوری کر دی، جب برسوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد قانون اور شواہد کو بالاے طاق رکھ کر ایک فریق کے عقیدے اور یقین کو بنیاد بناتے ہوئے بابری مسجد پر حق ملکیت کا فیصلہ ہندوئوں کے حق میں سنا دیا۔ ایک جج نے زمین کے بٹوارے کی تجویز دی۔ بنچ نے ان نکات پر بھی فیصلہ دیا، جو شاملِ بحث ہی نہ تھے۔ یہ ایک سیدھا سادا سا ملکیتی معاملہ تھا۔ ۱۹۴۹ء کو جب مسجد کے منبر پر مورتی رکھی گئی اور مقامی انتظامیہ نے تالہ لگا کر مسلمانوں کی عبادت پر پابندی لگائی، تو مقامی وقف بورڈ اور ایک شخص ہاشم انصاری نے اس کے خلاف کورٹ میں فریاد کی کہ اس جگہ کی ملکیت طے کی جائے۔ جج صاحبان نے برسوں کی عرق ریزی کے بعد قانون اور آئین کی پروا کیے بغیر کہا کہ ’’ Law of Limitations کا اطلاق ہندو دیوی دیوتائوں پر نہیں ہوتا ہے اور نہ ان جگہوں ہی پر ہوتا ہے جہاں ان کی نشانیاں ہوں۔ دوسرے لفظوں میں کسی بھی جگہ پر کوئی شخص کوئی مورتی، چاہے وہ پتھرکا ٹکڑا یا کسی درخت کی شاخ یا پتا ہی کیوں نہ ہو، رکھ کر اس پر مالکانہ حقوق جتاسکتا ہے، چاہے اس جگہ کا مالک وہاں صدیوں سے ہی مقیم کیوں نہ ہو۔

اس فیصلے کا اعتبار اُس وقت اور بھی مضحکہ خیز ہو جاتا ہے جب جج صاحبان نے یہ تسلیم کرلیا کہ ’’بھگوان رام کا جنم اسی مقام پر ہوا تھا جہاں بابری مسجدکا منبر واقع تھا‘‘ اور یہ بھی کہا کہ ’’ان کے مطابق رام آٹھ لاکھ سال قبل مسیح میں اس جگہ پر موجود تھے‘‘۔ دنیا بھر کے تاریخ دان اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ’’جنوبی ایشیا میں اتنی پرانی آبادی کے کوئی آثارابھی تک نہیں ملے ہیں‘‘۔ ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے اپنے طویل فیصلے میں مسلم حکمرانوں کے خلاف بھی ایک لمبا چوڑا تبصرہ کیا اور ان کے ہاتھوں ہندو عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کے عمل کو بھی اپنے فیصلے کا جواز بنایا۔ اگر یہ بات درست ہے تو ہندو حکمرانوں کے ذریعے لاتعداد بودھ خانقاہوں کی بے حرمتی اور ان کی مسماری کس کے کھاتے میں ڈالی جائے؟ کشمیر کے ایک ہندو بادشاہ ہرش دیو نے اپنے خالی خزانوں کو بھرنے کے لیے جنوبی کشمیر کے مندروں کو لوٹا اور جب پجاریوں نے مزاحمت کی تو ان کو تہہ تیغ کر دیا۔ اگر ان تاریخی واقعات کا انتقام موجودہ دور میں لینے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، تو اس کا اختتام کہیں نہیں ہو گا کیونکہ ہر قوم نے، ماضی میں جب وہ غالب رہی، کوئی نہ کوئی ایسی حرکت ضرور کی جو کسی نہ کسی کو تکلیف پہنچانے کا سبب بنی۔ تاہم، اب آباواجداد کے گناہوںکی سزا ان کی اولادوں کو تو نہیں دی جا سکتی۔

  • بابری مسجد اور مسجد شہید گنج کی مثال:   بابری مسجد کے قضیے کا لاہورکی مسجد شہید گنج مقدمے کے ساتھ موازنہ کرنا بے جا نہ ہو گا۔ یہ مقدمہ اور اس پر پاکستانی مسلمان معاشرے کا رویہ ہندستان کے سیکولرزم او ر اس کے لبرل اقدار پر ایک زوردار طمانچا ہے۔ ۱۷۶۲ء میں لاہور پر سکھوں کے قبضے کے بعد اس مسجد پر ان کے فوجیوں نے ڈیرا ڈالا اور پھر اس کوگوردوارہ کے   طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ مسلمان ۱۸۵۰ء سے ۱۸۸۰ء تک قانون کے مختلف دروازوں پر دستک دیتے رہے، مگر ہر بار عدالتیں ان کی اپیلوں کو خارج کرتی رہیں۔ ۱۹۳۵ء میں انگریز گورنر نے اس عمارت کو محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کرنے کی تجویز دی تھی کہ سکھوں نے رات کے اندھیرے میں مسجد کی عمارت ڈھا دی۔ مسلم لیگ کے اراکین نے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے یہ جگہ مسلمانوں کے سپرد کرنے کی تجویز پیش کی۔ معروف قانون دان اے جی نورانی [پ:۱۹۳۰ء] کے بقول: ’’قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے رد کر دیا‘‘، اور پھر جناح صاحب نے اس قضیے کو کبھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیںکیا، بلکہ قانون کی عمل داری کا پاس کیا۔ پاکستان بننے کے ۷۲ سال بعد بھی یہ گوردوارہ لنڈا بازار میں آب و تاب کے ساتھ کھڑا ہے،حالانکہ کوئی سِکھ اب اسے عبادت کے لیے استعمال بھی نہیں کرتا۔ ۱۹۴۷ء کے بعدامکان تھاکہ اس کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، مگر کسی پاکستانی سیاست دان یا مذہبی شخصیت نے عدالت کا فیصلہ رد کرنے کی کوشش نہیں کی۔ 

اس کے برعکس بھارتی عدلیہ کی جانب داری کا عالم یہ ہے کہ ایک سابق چیف جسٹس جے ایس ورما نے ’ہندوتوا‘ کو مذہبی علامت کے بجاے بھارتی کلچرکی علامت اور ایک نظریۂ زندگی بتایا۔ انھوں نے ہندو انتہا پسندوںکے گورو ہیڈگیوار [م: ۱۹۴۰ء] ، ساورکر [م:۱۹۶۶ء] یا گولوالکر [م:۱۹۷۳ء]کی تصنیفات کے بجاے مولانا وحیدالدین خان کی تحریروںپر تکیہ کر کے ہندو انتہا پسندی کو ایک جواز فراہم کردیا۔ ۱۹۹۲ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس وینکٹ چلیا کے طریقۂ کار نے بھی مسجد کی مسماری کی راہ ہموارکی۔ وہ مسجد کو بچانے اور آئین و قانون کی عمل داری کو یقینی بنانے کے بجاے کار سیوکوں (مسجد کو مسمار کرنے والے) کی صحت کے بارے میں زیادہ فکرمند تھے۔ ۱۹۹۸ء میں بی جے پی حکومت نے انھیں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن کا سربراہ مقرر کر دیا۔

اے جی نورانی نے اپنی کتابDestruction of Babri Masjid: A National Dishonour میں کئی حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کے اندرا گاندھی کے دور اقتدارمیں ہی بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے لیے ویشوا ہندو پریشد کے ساتھ ایک سودے بازی ہوئی تھی۔اگرچہ پریشد نے اندرا گاندھی کی ہلاکت [۱۹۸۴ء] کے بعد اپنی تحریک روک دی، مگر راجیو گاندھی نے اس ڈیل کو پھر زندہ کیا۔ ان کے حواریوں نے ایک مسلم مطلقہ خاتون شاہ بانو کا قضیہ کھڑا کیا اور پارلیمنٹ سے ایک قانون پاس کروایا کہ مسلم پرسنل لا میں عدالت کوئی ترمیم نہیں کر سکتی۔ راجیو گاندھی کو مشورہ دیا گیا تھا کہ اس قضیے کو کھینچنے کا کو ئی فائدہ نہیں ہے، مگر وہ مسلمانوںکو بے وقوف بنانے پر تلے ہوئے تھے تاکہ پریشد کے ساتھ سودے بازی کو آگے بڑھایا جاسکے اور یہی ہوا۔کانگریس کے علاوہ دیگر جماعتوں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی، جن کی سانسیں ہی مسلمانوں کے دم سے ٹکی ہیں، ان کا رویہ بھی افسوس ناک رہا۔ ان دونوں پارٹیوں نے جو پچھلے ۲۰برسوں سے اتر پردیش میں حکومت کر رہی تھیں ، بابری مسجد کی مسماری کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں دکھائی۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے ۴۰روز تک مسلسل اس معاملے کی سماعت کی، جس کے دوران عدالت میں ۱۱ہزار۵ سو دستاویزات پیش کی گئیں۔ان میں کئی دستاویزات سنسکرت اور فارسی میں تھیں۔ اتر پردیش کے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جب اپیل کو سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کیا، تو الٰہ آباد سے ۱۵ بڑے ٹرنکوں میں دستاویزات دہلی پہنچا دی گئیں۔ ہائی کورٹ کا ٖفیصلہ ۸ہزار ایک سو ۷۰ صفحات پر مشتمل تھا اور اس کے ساتھ ۱۴ہزار ۳سو ۸۵ صفحات بطور ضمیمہ منسلک تھے۔ مسلم فریق کے وکلا نے باربار یہ دلیل دی کہ بابری مسجد کا معاملہ  ایک سیدھا سادہ ملکیتی معاملہ ہے۔ وہاں پر مندر یا مسجد طے کرنے کا معاملہ شاملِ بحث ہی نہیں ہے۔

میجر جنرل الیگزندر کنیگہم کے مطابق ۱۵۰۰ قبل مسیح میں اس شہر کو تباہ و برباد کردیا گیا تھااور پھر ۱۳۰۰برسوں تک یہ غیر آباد رہا۔تب تک نہ عیسائی اور نہ مسلمان ہی جنوبی ایشیا میں آئے تھے۔ اس دورا ن دریاے سورو نے بھی کئی رخ بدلے ہوں گے۔ آخر اب یہ کیسے طے ہوسکے گا کہ  بھگوان رام کئی لاکھ برس قبل اسی مسجد کے محراب کے پاس پیدا ہو گئے تھے؟ مسلم فریقین کے وکیل راجیو دھون نے کورٹ کو بتایا کہ صرف پچھلے ۵۰۰برسوں میں ہی دریا نے کئی رخ بدلے ہیں۔ بینچ کے ایک رکن جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے ہندو فریقین سے کہا کہ ’’دنیا کا ایک دستور ہے کہ تہذیبیں دریا کے کناروں پر بستی چلی آ ئی ہیں، اور برباد ہوئی ہیں۔اب آپ کیسے یہ ثابت کریں گے کہ مسجد کے نیچے کے کھنڈرات کسی عبادت گاہ کے ہی تھے اور وہ بھگوان رام کی رہایش گاہ بھی تھی‘‘۔ جب جج نے ہندو فریق نرموہی اکھاڑہ کو زمین کی دستاویزات فراہم کرنے کو کہا، تو ان کا جواب تھا: ’’یہ نزول زمین ہے، مگر ٹیکس ریکارڈ میں یہ اکھاڑہ کی جایداد ہے‘‘۔ جب جج نے ٹیکس ریکارڈ مانگا تو جواب ملا:’’ ۱۹۸۲ء میں ایک ڈکیتی کی واردات میں وہ ضائع ہو گیاہے‘‘۔

  • مصالحت کی کوششیں: سپریم کورٹ نے سماعت سے قبل معاملے کو ایک تین رکنی ثالثی کمیٹی کے حوالے کرکے عدالت کے باہر فریقین کو کسی تصفیے تک پہنچنے کی ہدایت کی۔سابق جج جسٹس خلیفۃ اللہ کی قیادت میں ہندو گورو سری روی شنکر اور ایڈووکیٹ سری رام پنچو پر مشتمل اس کمیٹی نے فریقین کے ساتھ کئی ملاقاتیں کی، جو بے سود رہیں۔ اس کمیٹی کی کارروائی خفیہ رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی اور میڈیا کو بھی اسے کور کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ تاہم، جو خبریں اب چھن چھن کر آرہی ہیں، ان کے مطابق ایک مسلم فریق ’سنی وقف بورڈ‘ نے بابری مسجد کے معاملے سے دست برداری کی پیش کش کی تھی اگر حکومت اور ہندو فریقین چند شرائط تسلیم کرتے ہیں۔ ان میں ایودھیا کی کچھ مسجدوں کی مرمت کے علاوہ محکمہ آثار قدیمہ کے زیر انتظام مسجدوں میں عبادت کی منظوری اور تمام مذہبی مقامات پر ۱۹۴۷ءسے پہلے والی صورت حال برقرار رکھنے کے قانون کے نفاذ کی شرط بھی شامل تھی۔ جس کو ۱۹۹۱ء میں وزیراعظم نرسمہا رائو حکومت نے تسلیم اور منظور کیا تھا۔ 

معروف صحافی معصوم مراد آبادی کے بقول: ’’ان میں آثارقدیمہ کے زیر انتظام سیکڑوں تاریخی مسجدوں میں نماز کی آزادی دینے کی شرط سب سے اہم تھی۔ دہلی سمیت ملک کے مختلف شہروںمیں موجود مسلم دورحکومت کی تعمیرشدہ یہ مساجد زبانِ حال سے اپنی بے کسی کا نوحہ بیان کررہی ہیں، جہاں سیاحوں کو جوتوں سمیت گھومنے کی تو آزادی ہے، لیکن مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔اس کے علاوہ وشوا ہندو پریشد نے تین ہزار مسجدوں کی فہرست بنارکھی ہے، جو اس کے خیال میں مندروںکو توڑ کر بنائی گئی ہیں۔ بابری مسجد کے بعد وہ ان مسجدوں کے معاملے کو اٹھا کر عوامی جذبات بھڑکا نے کے لیے پوزیشن بنائے بیٹھے ہیں۔ اکھاڑہ پریشد نے تو پہلے ہی دھمکی دی ہے کہ رام مندر کے بعد اب کاشی اور متھرا کے لیے بھی تحریک تیز کی جائے گی‘‘۔

بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ کمیٹی کے سامنے ایک اور تجویز یہ آئی تھی کہ ’’اگر حکومت آئین کی  دفعہ ۳۴۱ میں ترمیم کرکے عیسائیت یا اسلام اختیار کرنے والے دلتوںکے لیےکوٹہ برقرار رکھتی ہے، تو اس صورت میں بھی مسلمان مسجد سے دست بردار ہو سکتے ہیں‘‘۔ اس شق کی رُو سے ’’اگر کوئی دلت [شودر]، اسلا م یا عیسائیت اختیار کرتا ہے، تو وہ تعلیمی اداروں اور نوکریوں میں ریزرویشن [کوٹا]کا حق کھو دیتا ہے‘‘۔ یہ شق ہندو مذہب کے پس ماندہ طبقات اور نچلی ذاتوں کو تبدیلی مذہب سے روکنے کے لیے آئین میں رکھی گئی ہے۔ اس شرط کو ہندو فریقین نے خارج کردیا۔ ان کو خدشہ پیدا ہوا کہ اگرآئین کی اس شق میں ترمیم کی جاتی ہے، تو دلت اور دیگر نچلی ذاتوں کے ہندو عیسائیت یا اسلام کی طرف جوق در جوق رجوع کرسکتے ہیں۔ تاہم، معصوم مراد آبادی کے مطابق ’’اگر کسی بھی نوعیت کی وقتی شرطوں پر بابری مسجد طشتری میں سجا کرہندوؤں کو پیش کردی گئی، تو بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت خطرے میں پڑ جائے گی‘‘۔

بابری مسجد کے مقدمے میں مسلمانوں کی پیروی ایک ہندو وکیل راجیو دھون نے کی اور اس خدمت پر کوئی پیسہ وصول نہیں کیا ۔سپریم کورٹ میںسماعت کے آخری دن ایک ہندو فریق نے رام مندر کا ایک فرضی نقشہ پیش کر کے عدالت کو گمراہ کرنا چاہا تو راجیو دھون نے بھری عدالت میں اس نقشے کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور کہا: ’’بابری مسجد پر عدالت کا فیصلہ یہ طے کرے گا کہ کیا اصولِ حکمرانی میں عقیدے کو استدلال پر فوقیت حاصل ہے؟ استدلال کو عقیدے پر فوقیت دی جانی چاہیے‘‘۔ اپنی بحث سمیٹتے ہوئے راجیو دھون نے عدالت کے سامنے علامہ اقبال کے یہ شعر بھی پڑھے:

وطن کی فکر کر نا داں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندستاں والو
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

پاکستان اور عالم اسلام ،عوامی جمہوریہ چین کے بارے میں دوستانہ رجحان اور خوش گوار سوچ رکھتا ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چین کے بارے میں یہ تصور موجود ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے سیاسی معاملات میں عدم مداخلت اور توسیع پسندانہ طریقوں سے اپنے آپ کو بچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی معروف ہے کہ چین دوسرے ملکوں کے تعلقات میں ان کی قومی عزت نفس اور وقار کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر پاکستان سے چین کے اور چین سے پاکستان کے تعلقات کی ایک قابلِ قدر تاریخ ہے۔ ان تمام امور کی بنیاد پر ہم عوامی جمہوریہ چین کی تعمیر ، امن اور یک جہتی کو دوستی کا مرکزی نکتہ تصور کرتے ہیں۔ 
اسی طرح ہم یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ چین کی دور اندیش قیادت واقعات اور حوادث کو مدنظر رکھتے اور اپنی پالیسیاں تشکیل دیتے وقت چند پہلوئوں پر نظرثانی کرے۔ بلاشبہہ عمومی طور پر انھیں مذہب اور مذہبی جذبات سے کچھ نسبت نہیں، لیکن بہرحال، وہ انسانی تہذیب اورانسانی معاشرے میں مذہب کے گہرے اثرات سے واقف ہیں۔ 
اسی طرح باریک بین چینی حاکموں کو اس چیز کا بھی علم ہے کہ ستاون ،اٹھاون مسلمان حاکم، مسلم اُمت کے جذبات سے جتنے بھی دُور اور سامراجیوں کے قریب تر ہوں، وہ ایک الگ اکائی ہیں۔ حاکموں کے بر عکس مسلم امت کے دل ایک وجود کی حیثیت سے دھڑکتے ہیں۔ رنگ ونسل اور علاقے یا زبان کی تقسیم کو نظر انداز کرتے ہوئے، وہ ایک تہذیب ہیں۔ یہ بات بھی چین کے دُوراندیش حاکم جانتے ہیں اور پھر زمینی حقائق بھی یہ ہیں:چینی ترکستان ،وسطی ایشیا ، ترکی، جنوبی ایشیا، انڈونیشیا سے بوسنیا اور مراکش تک ایک جغرافیائی وحدت ،مسلم اُمہ کے نام سے منسوب ہے۔ یہ وحدت نہ امریکا کی ہمسایہ ہے اور نہ یورپ سے منسلک، بلکہ اس کی بڑی آبادیاں چین ہی سے متصل اور قریب تر ہیں (جیسے مسلمانوں کے تینوں بڑی آبادیوں کے ممالک ،انڈونیشیا ،پاکستان، بنگلہ دیش)۔ اس لیے ،ایک تو اس فطری ہمسائیگی کا تقاضا ہے کہ ہمسایے کے جذبات کا پاس ولحاظ رکھا جائے۔ اور دوسرا یہ کہ حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے مسلمان حاکموں کے بجاے کھیتوں، قصبوں، کہساروں،میدانوں اور صحرائوں میں بسنے والے مسلمانوں کے جذبات واحساسات کو سمجھنے کے لیے، جغرافیائی سرحدوں سے بالا تر ہوکر ، غور وفکر کی کوشش کریں۔
جیسا کہ اُوپر ذکر ہوا ہے، ہم چین کی جغرافیائی وحدت کا احترام کرتے ہیں۔اس کی ترقی پر خوشی محسوس کرتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی ہم کہنا چاہتے ہیں کہ: چینی حکومت ،چین سے منسلک سنکیانگ اور وہاں بسنے والے اویغور مسلمانوں کے ساتھ شفقت، احترام اور ان کی اقدار کے پاس ولحاظ کی راہ پر چلے، تو یہ قدم نہ صرف چین کے داخلی استحکام ،بلکہ خود مسلم امت سے چین کے خوش گوار تعلقات کے فروغ کا ذریعہ بنے گا۔ اس کے ساتھ ہی بعض مغربی ممالک کے اس پراپیگنڈے کا سدِّباب بھی ہوسکے گا جو وہ جدید چینی سلطنت میں پیدا ہونے والے تضاد کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔
گذشتہ دنوں ۴۰۳ صفحات پر مشتمل خود چین کے جو خفیہ سرکاری کاغذات The Xinjiang Papers  کے نام سے دنیا کے سامنے آئے ہیں ۔ ہم ان کی تفصیلات اور جزئیات پر بحث سے قطع نظر، یہاں پر پاکستان کے مؤقر روز نامہ Dawn  کا اداریہ پیش کر رہے ہیں، تاکہ معاملے کی گمبھیرصورتِ حال کا اندازہ ہو سکے:
’’یہ ۳۰۴ صفحات، بہت واضح الفاظ میں ایک ایسا ہوش ربا اور منجمد کر دینے والا منظر پیش کرتے ہیں، جس سے یہ نظر آتا ہے کہ چینی مسلمانو ں پر مشتمل اقلیت کی شناخت کو مٹادینے کا پروگرام پیش نظر ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر بدقسمتی کی بات یہ سامنے آ رہی ہے کہ انھیں نکال پھینکنے کی یہ حکمت عملی چینی حکومت کی پالیسی کا ایک مرکزی نکتہ ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی ان خفیہ دستاویزات کو ایک گم نام ذریعے نے نیویارک ٹائمز [۱۶نومبر ۲۰۱۹ء] کے ذریعے بے نقاب کیا ہے ، اور یوں اس سوچ اور اس عمل پر روشنی ڈالی ہے، جس کے تحت چینی مسلمانوں اور خاص طور پر اویغور مسلمانوں کو ’دوبارہ سبق سکھانے‘ [یا پڑھانے] کی غرض سے بڑے پیمانے پر نظر بند کیا گیا ہے اور انھیں وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کاغذات سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ چین، پُرامن باشعور مسلمانوں اور انتہا پسندوں سے متصادم ہے، جسے مذہبی حوالے سے جبر کی خالص ترین شکل کہا جا سکتا ہے۔ خفیہ صفحات میں ان تقاریر کے متن بھی شامل ہیں، جن میں مبینہ طور پر صدر ژی چن پنگ نے سنکیانگ میں انتہا پسندی کے خلاف قومی سلامتی کے اداروں کے ذریعے کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح کی ایک تقریر میں ’انتہا پسندی ‘ سے ’متاثر‘ افراد کی امداد کے لیے ’تکلیف دہ علاج معالجے ‘ کی حمایت کی جارہی ہے اور کہا جا رہا ہے ’ہرگز رحم نہیں کرنا ‘۔ منظر عام پر آنے والی دستاویزات کے مطابق سرکاری اہل کاروں کی رہنمائی کے لیے ایک گائڈ کا کردار سامنے آتا ہے کہ جب پریشان حال اور دکھی اویغور [مسلمان]اپنے خاندان کے لوگوں کی ’گم شدگی ‘ کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، تو وہ [گائڈ] بتاتا ہے کہ ’’سرکاری حکام کی ہدایت ہے کہ وہ لوگ اسلام پسندانہ وائرس اور ’انقلابیت‘ سے ’متاثر‘ ہو چکے تھے، اس لیے ان کی صحت کی درستی اور انھیں ٹھیک کرنے کے لیے ’قرنطینہ ‘[متعدی امراض سے بچائو کے مرکز ] میں رکھنے کی ضرورت تھی‘‘۔ مزید برآں ، نہ چاہنے کے باوجود اویغور افراد خانہ کے پاس، سرکاری اہل کاروں کے ان بیانات کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، کیونکہ اگر وہ زیادہ پریشانی واضطراب کا مظاہرہ کریں گے تو ان کے عزیزواقارب کی نظر بندی کا زمانہ زیادہ لمبا ہو سکتا ہے ۔
’’کچھ عرصے سے مغربی ذرائع ابلاغ پر یہ بات بڑے تسلسل سے سامنے آ رہی ہے کہ ’نظربندی‘ یا حراستی کیمپوں میں ۱۰ لاکھ اویغور قیدوبند سے دو چار ہیں۔ دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت [چین ] سے اعلیٰ معاشی مفادات وابستہ رکھنے والے ممالک ، ان اطلاعات کو عام طور پر پراپیگنڈا کہانیاں کہہ کر نظر انداز کرتے ہیں ، اور انھیں مسترد کر دیتے ہیں ۔ خود چین نے ان پیپرز کو ’بے نقاب‘ کرنے والے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ انتہا پسندی کے خلاف ہماری جدوجہد کو بدنام کرنے کی کوشش ہے، جسے سنکیانگ میں ہی بڑی کامیابی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے‘‘۔ جو دراصل رحم کی قدر سے مکمل طو ر پر خالی ہے۔ تاہم، اس میں اہم ترین بات یہ ہے کہ [چین نے ] ان دستاویزات کو متنازعہ کہنے سے گریز کیا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس نے چینی مسلمانو ں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے بے خبری ظاہر کرنے کو ایک مشکل کام بنا دیا ہے۔ دوسرے بہت سے ملکوں کی طرح اگرچہ خود پاکستان میں بھی انسانی حقوق کا باب داغ دار ہے، لیکن اس کے باوجود جب وہ کشمیریوں اور روہنگیا [مسلمانوں ] کے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف بات کر سکتا ہے، تو کیا وہ اویغور وں کے بارے میں خاموش رہ سکتا ہے ؟‘‘ (اداریہ روز نامہ Dawn، کراچی،۲۰ نومبر ۲۰۱۹ء ) 
’چینی دستاویزات‘ اور اس اداریے کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ چینی مسلمانوں اور اویغور مسلم آبادی ، دونوں ہی کے حوالے سے یہ دستاویزات، مخصوص ریاستی رجحان کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان دستاویزات میں ’سخت تادیبی کارروائی‘ اور ’دماغ درست‘ کرنے کا اسلوبِ بیان واضح ہے۔ تیسرا یہ کہ لفظ ’انتہا پسندی‘ کو مسلمانوں کے قائم مقام کے طور پر برتنے کا مغربی رجحان یہاں پر بھی موجود ہے۔چوتھا یہ کہ  دنیا کے ممالک اپنے مادی مفادات کو عزیز تر رکھتے اور انسانی مسئلے کو نظر انداز کرتے ہیں۔ پانچواں یہ کہ دنیا اور پاکستان کو اس معاملے میں تادیب اور تعذیب سے بچانے کے لیے ہمدردانہ کوششیں کرنی چاہییں۔ چھٹا یہ کہ چین نے ان دستاویزات کی مذمت تو کی ہے لیکن متنازعہ نہیں کہا۔
دنیا کے حالات اور خصوصاً ہمارے اس علاقے کے حالات جس رخ پر جا رہے ہیں ، ان کا تقاضا ہے کہ نہ صرف چین میں بقاے باہم کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے، بلکہ اویغور مسلمانوں کے داخلی وتہذیبی تشخص کا اعتراف واحترام کیا جائے۔ مبینہ طور پر اویغور مسلمانوں کی نسلی تطہیر اور غالب ’ہان چینی نسل‘ کی سنکیانگ میں آبادکاری، ممکن ہے کہ چند برسوں میں ممکن بناکر مقامی آبادی کا توازن تبدیل کردیا جائے، لیکن اس کاوش کے منفی اثرات بہت دُور رس ہوں گے۔ اس لیے ناگزیر ہے کہ اویغور آبادی کو ہمدردی سے اپنے مذہبی، ثقافتی اور معاشی معاملات چلانے کے لیے شریک ِ سفر بنایا جائے ، جس طرح کہ چین کی جرأت مند حکومت نے ’ایک ملک، اور دو نظام ‘ کا تجربہ کر کے    نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اسی طرح ضرورت یہ ہے کہ ’ایک ملک اور باہم احترام‘ کے راستے پر بھی چلاجائے۔ اس طرح چین زیادہ مضبوط ہو گا اور ان تضادات کو گہرا کرنے کی مغربی سازشوں کو ناکام بھی بنا یا جاسکے گا اور مسلم اُمت میں تشویش کو ختم کیا جاسکے گا۔
_______________
 

پاکستان کے ایک سابق سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں پاکستان کو کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے ایک متبادل راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ: ’’کشمیریوں کو اپنے حال پر چھوڑ کر ، سفارتی محاذ پر کوششیں جاری رہنی چاہییں‘‘۔ اور ساتھ ہی انھوں نے ان کاوشوں کو بے مصرف قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’’پاکستان میں  کئی حلقے اسی راستے کو اپنانے کی وکالت کرتے ہیں، تاکہ ملک کو کسی امکانی بحران سے بچایا جاسکے‘‘۔ ان کے مطابق: ’’حکومت کے اندر بھی کئی مقتدر حلقے اس پالیسی کی تائید کرتے ہیں‘‘۔
 اگر یہ محض کسی کالم نویس یا کسی ’تھنک ٹینک‘ کے دانش ور کی اختراع ہوتی، تو اس بات کو نظرانداز کیا جاسکتا تھا، یا اس کو قلم کار کے ذاتی خیالات سمجھ کر بے حیثیت قرار دیا جاسکتا تھا۔ تاہم، ایک زیرک سفارت کار ، جو بھارت میں انتہائی مخدوش حالات میں پاکستان کی نمایندگی کر چکا ہو اور  عالمی سفارت کاری میں بھی نام کما چکا ہو، کی طرف سے اس طرح کا مشورہ دینے سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کہ پسِ پردہ ضرور کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ جس پہ رد عمل دیکھنے کے لیے قاضی صاحب کو میدان میں لایا گیا ہے۔ سفارت کاری یا حکومتی معاملات میں جب بھی کوئی ایسا غیرمتوقع یا سخت فیصلہ لینا ہوتا ہے، تو ’باوثوق ذرائع‘ کے حوالے سے یا کسی ایسے ہی سابق سفارت کار یا فوجی افسر کے ذریعے میڈیا میں اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔ اگر رد عمل نا موافق ہوا، تو اس کو قلم کار کی ذاتی راے بتا کر حکومت کے ذمہ داران اپنا دامن چھڑا  لیتے ہیں۔ دوسری صورت میں اس کو پالیسی کا جز بنا لیا جاتا ہے۔

پاکستانی ہائی کمشنر ریاض حسین کھوکھر [۱۹۹۲ء-۱۹۹۷ء] کی ایک جارحانہ سفارت کاری کے بعد ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۲ء تک قاضی صاحب نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر [سفیر] کے طور پر تعینات رہے۔ نئی دہلی میں ان کی آمد بالکل ایسی تھی کہ جیسے ایک سوکلومیٹر کی رفتار سے دوڑتی گاڑی ایک دم ۲۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر آجائے۔ پاکستانی سفارت کاری میں ان کو سفارتی دستاویزات کی تدوین میں الفاظ کےبرتائو میں کمال حاصل ہے۔ ان کی دہلی آمد کے ایک سال بعد ہی اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پہلی حکومت معرض وجود میں آئی۔ جس وقت واجپائی کی پہلی حکومت ۱۳ماہ بعد پارلیمنٹ میں ایک ووٹ سے شکست سے دوچار ہوئی، تو اس وقت وہ بھارتی پارلیمنٹ میں سفارت کاروں کے لیے مخصوص گیلری میں موجود تھے۔ چونکہ سفارتی گیلری اور پریس گیلری متصل ہے، مجھے یاد ہے کہ وہ اس کے کنارے پر آکر صحافیوں سے پوچھ کر تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ’کیا واقعی واجپائی حکومت گر گئی ہے؟ ‘

جہانگیر قاضی کے دور میں بھارتی وزیراعظم واجپائی کا لاہور کا دورہ، کرگل جنگ اور پھر پاکستان میں وزیراعظم نواز شریف کی معزولی اور جنرل پرویز مشرف کی آمد، آگرہ مذاکرات اور بھارتی پارلیمنٹ پر ’حملے‘ جیسے اہم واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد ان کو بھارت چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ انھی کے دور میں حریت کانفرنس میں لیڈروں کے درمیان اختلافات شدید ہوگئے تھے، جو بعد میں اس کی تقسیم کا سبب بن گئے۔ مرحوم عبدالغنی لون ، اس کی ایک وجہ اشرف جہانگیر قاضی کو بھی قرار دیتے تھے۔

ریاض حسین کھوکھر کے برعکس حُریت کے لیڈروں سے ان کا برتاؤ ، روایتی افسرشاہی جیسا ہوتا، جو کئی مواقع پر لیڈروں کو ناگوار گزرتا تھا۔ ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ معروف صحافی کرن تھاپر کے ذریعے انھوںنے ان دنوں طاقت ور بھارتی لیڈر نائب وزیر اعظم لال کشن ایڈوانی تک رسائی حاصل کی تھی اور کئی بار کرن تھاپر کی گاڑی میں ان کی رہایش گاہ پر خفیہ ملاقاتیںکی تھیں۔ وہ شاید ایڈوانی کے ذریعے ایک بیک چینل بنانے کی کوشش کر رہے تھے ، کہ پارلیمنٹ پر حملے نے اس کو ناکام بنادیا اور یہ بیک چینل ان کے کسی کام نہ آیا۔ سب سے پہلے ان کو ہی ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ 

اشرف جہانگیر قاضی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ ’’میری آؤٹ آف بکس تجویز پر عمل کرکے، جس طرح واجپائی نے لاہور آکر دنیا کو حیران و پریشان کردیا تھا،  اسی طرح وہ بھی نئی دہلی جاکر دنیا کو ششدر کردیں اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کریں، جس میں ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصانات سے بچانے کی خاطر ایک مشترکہ لائحہ عمل کا تعین کرنا اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے حوالے سے عہد و پیمان باندھنا ، کشمیر پہ کسی حل پر بات چیت ، جو فریقین کو منظور ہو، میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف پراپیگنڈا کم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تجاویز میں ’لائن آف کنٹرول پر اعتماد سازی کے اقدامات، تجارت کی بحالی ، سرمایہ کاری اور باہم کانفرنسوں وغیرہ کا احیا‘ کا بھی ذکر ہے۔
 یہ معلوم نہیں کہ یہ تجاویز کسی ذریعے سے بھارت کو بھیجی گئی ہیں یا نہیں، مگر آثار و قرائن بتارہے ہیں کہ پاکستان کا پورا زور مذاکرات کے سلسلے کی بحالی پر لگا ہوا ہے۔ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو مودی حکومت نے جس طرح ریاست جموں و کشمیر کی ’خصوصی حیثیت‘ کو نہ صرف ختم کیا، بلکہ ریاست ہی تحلیل کردی، لگتا ہے کہ اسلام آباد میں حکمران طبقے اب اس کو تقریباً ’حقیقت حال‘ تسلیم کرنے لگے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے ممالک نے سرکاری طورپر بہت زیادہ رد عمل نہیں دکھایا، مگر غالباً ۱۹۹۰ء کے بعد پہلی بار کشمیر کو عالمی میڈیا اور سول سوسائٹی گروپوں نے خوب کوریج دی۔ 

حکومتوں کو چھوڑ کر ان ممالک میں موجود سول سوسائٹی گروپوں، خواتین اراکین پارلیمان اور بچوں سے متعلق حقوق کی تنظیموں پر کام کرکے ان کو فعال کیا جاسکتا تھا۔ مغربی ممالک میں  یہ بطور ایک مؤثر پریشر گروپ کے کام کرتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کا فائدہ اٹھاکر ان ممالک کو پس پردہ ثالثی کے کردار کے لیے آمادہ کیا جاسکتا تھا۔ کیونکہ جب بھی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو، تو بجاے اشرف جہانگیر قاضی کی متعلق اور غیرمتعلق تجاویز کے، یہ صرف اور صرف جموں و کشمیر کے تنازعے کے حتمی حل کے سلسلے میں ہی ہونے چاہییں۔ 

جہانگیر قاضی کا مزید کہنا ہے کہ ’’پاکستان کو اپنے اعصاب پر قابو رکھنے کی ضرورت ہے، اور اسے تمام محاذوں پر اپنے کام کو صاف کرنا ہوگا۔ استحکام اور خوش حالی کے حصول کے لیے اسے سیاسی، معاشی اور معاشرتی طور پر اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا ، تاکہ دنیا کے سامنے ایک مثبت تاثر پیش کرسکے، جس سے اس کے نقطۂ نظر کو دنیا میں وقعت ملے، مگر ان میں سے کچھ بھی نہیں ہورہا‘‘۔ 

دوسری طرف بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ تب ہی ممکن ہے ، جب پاکستان میں موجود مطلوب دہشت گرد اس کے حوالے کیے جائیں‘‘۔ انڈین ایکسپریس اخبار کی طرف سے منعقد ایک تقریب میں خطاب کے دوران اور بعد میں فرانسیسی اخبار لی موندے کو انٹرویو دیتے ہوئے، جے شنکر نے صاف کہا کہ ’’بھارت اب بدل چکا ہے۔ اس کی ترجیحات میں کشمیر سے علیحدگی کا رجحان ختم کرنا اور دہشت گردی کا مؤثر جواب دینا ہے۔دنیا کو جان لینا چاہیے کہ نومبر ۲۰۰۸ء کے ممبئی حملوں اور اوڑی میں ہوئے حملوں کے سلسلے میں بھارت کا رد عمل مختلف تھا۔ پچھلی حکومتوں نے امن کی خاطر بھارت کے لیے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی اسٹرے ٹیجک افادیت کو نظرانداز کر دیا تھا‘‘۔ شاید دبے لفظوں میں ان کا کہنا تھا کہ ’’آزاد کشمیر پر بھارت کسی بھی وقت اب کوئی عملی قدم اٹھانے والا ہے‘‘۔ بھارتی وزیرخارجہ نے تاسف کا اظہار کیا کہ ’’ایک اُبھرتی ہوئی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی بھارت ابھی تک اپنے سرحدی تنازعات کو سلجھا نہیں پا رہا ہے‘‘۔ 

بھارتی حکومت میں اس وقت اقتدار کے تین ستون، یعنی مودی ، امیت شا اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کا خیا ل ہے کہ: ۷۰ برسوں بعد یہ پہلا اور آخری موقع آگیا ہے کہ کشمیری عوام اور پاکستان کو باور کرایا جائے کہ ان کا مطالبہ ناقابلِ حصول ہے ۔اس کے علاوہ ان کا تسلیم کرنا ہے کہ کشمیر یوں کو اس حقیقت سے رو شناس کرانا ضروری ہے کہ ان کی تحریک یا مطالبے کو عالمی سطح پر کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہے اور پاکستان بھی ان کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس لیے ایسے اداروں اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنا اور حوصلہ شکنی کرنا ضروری ہے، جو ایسا تاثر دے رہے ہوں۔ پاکستان میں بلوچستان اور گلگت بلتستان پر ہاتھ ڈال کر، اس کو کشمیر سے باز رکھنا ہے۔ اور کسی بھی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر کشمیر پر فورسز کے ذریعے علاقائی برتری حاصل کرکے ، پاکستان اور کشمیری عوام کی سوچ تبدیل کروانا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نواز کشمیر ی پارٹیاں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو یہ احساس دلانا ہے، کہ وہ نئی دہلی کو بلیک میل کرکے او ر سیاسی حل پیش کرکے اب مزید سیاست نہیں کرسکتیں۔

دوسری طرف کشمیر میں بھی عوام نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ ’’جس چیز کو مودی اور اس کے حواری ناقابلِ حصول بتانا اور بنانا چاہتے ہیں، وہ اس کوحاصل کرکے ہی دم لیں گے‘‘۔ نئی دہلی کے کئی حلقوں میں اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان یا اس کی فوج کشمیر کی صورت حال کا اس طرح فائدہ نہیں اُٹھا رہی ہے، جس کا اندیشہ تھا۔ ورنہ حریت کو بے دست و پا کرکے، نیز پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کو بے وزن کرکے ایک انارکی کا ماحول تیار کرواکے حالات ۹۰-۱۹۸۹ء کی نہج تک پہنچ چکے ہیں۔ 
آخر کون امن نہیں چاہتا؟ اس کی سب سے زیادہ ضرورت تو کشمیریوں کو ہی ہے۔ اشرف جہانگیر قاضی سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ امن، قدرو منزلت ، انصاف و وقار کا دوسرا نام ہے، ورنہ امن تو قبرستان میں بھی ہوتا ہے۔ جن تجاویز پر آپ امن کے خواہاں ہیں، وہ تجاویز صرف قبرستان والا امن ہی فراہم کر سکتی ہیں۔ 

۸جولائی ۲۰۱۶ء کو ایک حُریت پسند رہنما،برہان مظفر وانی کو بھارتی مسلح افواج اور پولیس نے ایک دُور افتادہ کشمیری گائوں میں گولی مار کرشہید کر دیا، جس کے باعث یکایک مظاہروں اور احتجاجوں کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہو گیا،جو محض دنوں کے اندر ہی، بھارت کے تسلط کے خلاف ایک مقبول عام بغاوت میں تبدیل ہو گیا۔ بھارتی حکومت نے جواب میں شدید بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند ہفتوں میں ۹۰سے زائد افراد ہلاک کر دیے۔ اس سے بھی صدمہ انگیز اور ششدر کر دینے والی بات یہ ہے کہ ان غیرمسلح احتجاجی مظاہروں کو منتشرکرنے کی خاطر ’غیرمہلک‘ دھاتی گولیاں [چھر.ّے - pellets] استعمال کی گئیں، جن سے سیکڑوں کشمیری بچیاں اوربچے نابینا ہو گئے۔

چارماہ کے دوران ۱۷ہزار بڑے اور بچے زخمی ہوئے اور تقریباً ۵ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ساتھ ہی موسم گرما کے دوران کشمیر میں طویل کرفیونافذ کردیا گیا(اور پھر اس کے بعد ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو تاریخ کا طویل ترین کرفیو مسلط کیا گیا)۔
یہ سب کچھ دو ماہ بعد بھلایا جا رہا تھا کہ اسی دوران ۱۸ ستمبر کو جنگجوئوں کی چھوٹی سی ٹولی نے شمالی کشمیر میں اُڑی کے مقام کے قریب ایک بھارتی فوجی پڑائو پر چھاپامار حملہ کیا، جو گذشتہ دو عشروں کے دوران کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز پربڑا سخت حملہ تھا۔اس کے نتیجے میں ۱۹بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے،ا ور حسب معمول بھارت نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی۔ 

اس کے بعد سے دونوںممالک کے درمیان تعلقات کی خرابی میں اس حد تک اضافہ ہو گیا کہ دونوں ممالک،ایک دوسرے کے ’سفارتی مشنوں‘میں جاسوس تلاش کرنے میں مصروف ہوگئے۔  ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی روز کا معمول بن گیا۔ وہ لفظی جنگ جو اُڑی میں شب خون کے بعد شروع ہوئی تھی، اس میں بھارتی افواج کے اس بے رحمانہ ظلم وستم کو بڑی حد تک نظرانداز کردیا گیا۔ بھارتی حکومت نے ایک نیم عسکری ٹی وی نیوزمیڈیاکی معاونت سے اُڑی حملے اور اس کے مابعداثرات کو استعمال کرکے عالمی جاری چپقلش کے باعث بڑے پیمانے پر لوگوں کی ہلاکتوں، زخمی ہونے کے بے شمار واقعات اور کشمیری عوام کو نابینا کرنے جیسے حقائق کو چھپایا۔

برہان وانی نے ۲۰۱۰ء میں عسکریت کا راستہ اختیار کیا، تب اس کی عمر محض ۱۵ برس تھی۔ اس راستے پر چلنے کا فوری سبب اس کے والد کے ساتھ بھارتی فوجیوں کا انتہائی تحقیرآمیز سلوک اور حد سے بڑھا ظلم تھا۔آیندہ چند برسوں میں وہ جنگلوں میں رُوپوش اور متحرک رہ کر معروف کشمیری کمانڈر بن گیا اور اس نے نوجوان طبقے کی حمایت حاصل کر لی۔ اس طرح بھارتی غلبے اور تسلط کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھا جانے لگا۔ وہ عسکریت پسندوں کی نئی نسل کا نمایندہ تھا۔۱۹۹۰ءکے عشرے میں کشمیری حُریت پسندوں کی پہلی نسل کے برعکس،وہ سرحد عبور کر کے پاکستان نہیں گیا تھا۔ اس نے کبھی فرضی نام بھی استعمال نہیں کیا تھا اور اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر اپنے حمایتی پیدا کرلیے تھے۔ یہ کوئی حیران کن امر نہیں کہ وانی کے آبائی علاقے ترال،میں اس کی تجہیزوتکفین میں ہزاروں افراد نے شرکت کی،اور جو لوگ جنازے میں نہیں پہنچ سکے، انھوں نے کشمیر بھر میں اس کی غائبانہ نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

جب کشمیری سڑکوں پر نکل آئے،تو پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد پوری وادی کی ہربستی میں اُمڈ آئی۔ ردعمل میں ہزاروں کشمیری نوجوان مظاہرین نے آزادی کے نعرے بلند کرتے ہوئے پتھروں کے ساتھ بھارتی مسلح افواج کی مزاحمت کی۔بھارتی مسلح افواج نے جواب میں مہلک ہتھیار استعمال کیے،گولیاں چلائیں اور سی ایس گیس پھینکی۔ صرف پہلے تین دنوں میں،تقریباً ۵۰؍افراد ہلاک، جب کہ ہزاروں زخمی ہوگئے۔ پھر ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کے لیے مزید لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔بھارتی فوجیوں اور پولیس نے ان میں سے زیادہ تر کو ہلاک اور زخمی کردیا،  حتیٰ کہ ہلاک شدگان کے جنازوں پر بھی بھارتی فوج نے گولیاں برسائیں۔ پھر بھارتی فوج کی جانب سے دھاتی گولیوں کے استعمال کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد نابینا ہوگئی۔اس طرح بھارت کو کشمیر بھر میں ایک بھرپور مقبول عام بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔

ان ہلاکتوں میں ایک کشمیری کالج کا طالب علم بھی شامل تھا،جس کو بھارتی فوجیوں نے پتھر مارمار کرہلاک کر دیا تھا۔ پھر ایک گیارہ سالہ لڑکے کو بھی ستمبر کے وسط میں ا س طرح ہلاک کیا کہ اس کا پورا بدن دھاتی چھر.ّوں سے چھلنی تھا۔ اس دوران اکثر نوجوان وہ تھے، جنھیں دھاتی چھر.ّوں سے ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ دھاتی چھر.ّے ان بندوقوںکے لیے بنائے جاتے ہیں، جو سیکڑوں کی تعداد میں چھوٹی چھوٹی دھاتی گولیاں خارج کرتی ہیں، یا پھر ایک ایسی چھوٹی سی شاٹ گن استعمال کی جاتی ہے، جس میں سے خارج ہونے والی یہ دھاتی گولیاں آنکھیں چیر دیتی ہیں۔
بھارتی مسلح افواج نے اعتراف کیا کہ ’’صرف ڈھائی ماہ میں ان کی طرف سے ان مظاہرین پر تقریباً ۴ہزار کارتوس چلائے گئے‘‘۔ حالانکہ نہتے مظاہرین، سیکورٹی فورسز کی طرف سے کیے گئے بے رحمانہ سلوک کے خلاف محض احتجاجی نعرے بلند کر رہے تھے۔ گویا ایک تخمینے کے مطابق مسلح افواج نے عوامی اجتماعات کومنتشر کرنے کی خاطر ۳۱ لاکھ دھاتی گولیاں (چھر.ّے) استعمال کیں۔

اس وقت سے لے کر آج تک چار اور پانچ برس کے بچوں کی آنکھوں پر بے شمار دھاتی گولیاں برسائی جا رہی ہیں۔ ستمبر کے آغاز پر کشمیر کے مرکزی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ ۹جولائی ۲۰۱۶ء کے بعد سے ہر روز ہر نصف گھنٹے بعد ان کے پاس ایسے مریض آئے، جن کی آنکھیں دھاتی گولیوں سے زخمی تھیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہرروز آنکھوں کے ۱۲ آپریشن کیے جاتے رہے۔ اس پر حکومت نے یہ شرم ناک بیان دیا: ’’جب تک ہمیں کوئی متبادل غیرمہلک ہتھیار نہیں مل جاتا، اس وقت تک ہم انھی [دھاتی چھر.ّوں کو] استعمال کریں گے‘‘۔ دراصل یہ بھارتی حکومت کی وضاحت تھی کہ ’’ہمارے پاس اس کے سوا کوئی دوسر اراستہ نہیں کہ کشمیری عوام کی آنکھوں پر گولیاں چلائیں اور انھیں اندھا کریں‘‘۔ ریاستی سطح پر دانستہ لوگوں کی آنکھوں پر دھاتی گولیاں برسا کر انھیں نابینا کرنا عصرحاضر کا ایک ایسا خونیں واقعہ ہے، جس کی مثال نہیں ملتی۔ صرف جولائی اور پھر اگست ۲۰۱۶ء کے اواخر میں،بھارتی قومی اخبارات سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق، ۶ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے، جن میں سے ۹۷۲؍ افراد کی آنکھوںپرگو لیاںبرساکر انھیںزخمی کیا گیا تھا۔ زخمیوں کی زیادہ تعداد مظاہرین یا اپنے گھر کی کھڑکیوں سے مظاہرے دیکھنے والی عورتوں اور بچوں کی تھی۔ لیکن ان میںسے کوئی بھی ایسا نہیں تھا کہ اسے اس کی بینائی سے زندگی بھر کے لیے محروم کر دیا جاتا۔

کشمیر میں بھارتی راج کے خلاف عوامی بغاوت پر ظلم وستم اور بے رحمانہ طرزِعمل ایک وحشیانہ تسلسل ہے۔ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں وادیِ کشمیر میں وسیع پیمانے پر پھیلی شورش کے خلاف بھارت نے سخت کارروائی کی، جس کے دوران ہزارو ںکشمیریوں کو ہلاک کیا گیا۔ انھیںاذیت کا نشانہ بنایا گیا ، اور پھر انھیںحراست میں بھی لے لیا گیا اور انھیں لاپتا کیا گیا۔ ایک تخمینے کے مطابق ۱۹۸۹ء سے آج تک ہلاک شدگان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔تقریباً۱۰ہزار نہتے شہریوں کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ انھیں غائب کردیا گیا ہے۔ ۸ہزار کے متعلق یہ بات زبان زدعام ہے کہ انھیں اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہزاروں افراد کے حوالے سے یہ معلوم ہوا کہ انھیں اذیت رسانی، پانی میں غوطہ زنی،تیزدھارآلے سے جگہ جگہ سے جسم کاٹنے اور مقعدمیں پٹرول اُنڈیلنے جیسے اذیت ناک ہتھکنڈوں کا شکار بنایا گیا۔ اخبار گارڈین  کی طرف سے۲۰۱۲ءکی  ایک اطلاع کے مطابق،بھارتی حکومتی دستاویزات کے مطابق: بھارتی سیکورٹی ایجنٹوں کے ایک دستے نے مشکوک افراد کے ہاتھ پیرکاٹ دیے اور انھیں اپنے ساتھیوں کا گوشت کھانے پر مجبور کیا گیا۔
۱۵سالہ عائشہ اس وقت اپنے گھر کے باورچی خانے میں تھی، جب کھڑکی سے داخل ہونے والی دھاتی گولیوں کی ایک اچانک بوچھاڑ نے اس کا چہرہ چھلنی کر دیا اور یوں ہمیشہ کے لیے اس کی بینائی چلی گئی۔جنوبی کشمیر میں چارلڑکیاں،جن کی عمریں ۱۳-۱۸ کے درمیان تھیں،کے چہروں پر یہ دھاتی گولیاں برسائی گئیں۔ ایک ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق ان میں سے سب سے کم عمر تیرہ سالہ عرفہ جان کی حالت تشویش ناک ہے۔ یہ بھلا کیسے ممکن تھا کہ اپنے گھر میں بیٹھی یہ کم عمربچیاں ۷لاکھ بھارتی فوج کے لیے خطرے کا باعث تھیں۔
دُنیا بھر کے ذرائع ابلاغ جانتے ہیں کہ جب مظاہرین پر دھاتی گولیوں کی بوچھاڑشروع ہوئی،راہگیر اور گھروں میں مقیم طلبہ اور نوعمرزخمی بچے، عظیم جنگوں کا منظر پیش کرنے لگے۔آنکھوں پر پٹیاں بندھے لڑکے اور لڑکیاں قطار اندر قطار بستروں پر موجود ہیں،جب کہ ان کے والدین بے چینی سے ان کے علاج کے منتظرہیں۔اس موقعے پر پولیس اور سرکاری جاسوس بھی ہسپتال کے کمروں میں گھس آتے ہیں تاکہ زخمیوں کے کوائف جمع کیے جائیں، اور رہائی کے بعد ان کی نگرانی کرنے میں آسانی ہو۔
کشمیر میں طویل عرصے سے موجود مبصروں کے لیے بھی یہ سب کچھ ناقابلِ فہم ہے۔  اس کرۂ ارض پر موجود ایک بہت بڑی فوجی قوت، نہتے ہجوم پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے، جب کہ  اس کے شکار شہریوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور زخمی آنکھوں کی تصویریں موبائل فون اور کمپیوٹرز کی سکرینوں پر حرکت کر رہی ہیں۔ چونکہ طاقت ور جنونی حاکم ،جو دہلی سے کشمیر پر حکومت کرتے ہیں، انھوں نے بچوں کو نابینا کرنے کے متعلق کسی افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ چند ہزار بچوں کی بینائی چھیننے کا عمل،کشمیریوں کو ان کی حد میں رکھنے کی ایک ’معقول قیمت‘ ہے۔شاید بھارتی ریاست نے بدمستی پر مبنی غرور کے ذریعے خود کو اندھا کر لیاہے۔ ایسا پاگل پن قابض قوتوں کی بددماغی کی علامت ہوتا ہے۔
’رقصِ بسمل‘ کا محاورہ جسے فارسی شاعری میں ایک معشوق کے جذبات ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،کو ایک ’زخمی کا رقص‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔وادیِ کشمیر ایک مذبح خانہ (Slaughter House) ہے، جہاں نہتوں کی آنکھیں دھاتی چھر.ّوں سے اندھی کی گئی ہیں اور ان کے ہاتھ پیر توڑ دیے گئے ہیں۔ ہم نے کچھ ایسے مریضوں کو دیکھا جن کی انتڑیوں کی چیرپھاڑ کی گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہ یہی کہہ رہے تھے:’’ہم کب اس قابل ہوں گے کہ واپس جا کر احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوسکیں‘‘۔ یہ بات ایک ڈاکٹر نے نم آنکھوں کے ساتھ بتائی۔
بھارت کے طاقت ور ٹیلی ویژن چینل حکومت کو اُکساتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ جارحانہ رویہ اپنایا جائے، جب کہ یہی ٹی وی چینل، کشمیر سے آمدہ خبروں کو مسخ کرتے یا انھیں توڑمروڑ کر  پیش کرتے ہیں۔ایک ممتاز اخبار کی طرف سے آنکھوں کو اندھا کردینے والی بندوقوں کے استعمال کے متعلق ایک آن لائن جائزہ لیا گیا۔ اس جائزے میں حصہ لینےوالے بھارتیوں کی ایک واضح اکثریت نے اس ظلم کے حق میں اپنی راے کا اظہار کیا۔ممتازکالم نگار مظاہرین کے خلاف بے رحم طرزِعمل کی توجیہہ پیش کرتے ہیں۔اور پھر حکومتی اقدام کے متعلق ٹویٹر اکائونٹ، ڈیجیٹل انڈیا،نے ایک نظم چسپاں کی، جس میں فوج سے کہا گیا ہے: ’’کشمیریوں کا قتل عام اس وقت تک جاری رکھا جائے، جب تک وہ شکست تسلیم نہیں کر لیتے‘‘۔کشمیر کے تصویری مناظر انٹرنیٹ پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کو بندکرنے کی کوششوں کے باوجود ان درجنوں زخمیوں کی تصاویر آئی ہیں، جن میں سے اکثر اس طرح کی ہیں، جیسے قصاب کی دکان پر پڑا گوشت۔ 

مظاہرین پر قابو پانے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا مقصد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ٹانگوں کونشانہ بنایا جائے اور کم سے کم نقصان کرکے مظاہرین کو منتشر کیا جائے۔ لیکن یہاں پر بھارت کے نیم فوجی دستوں اور پولیس نے دانستہ طور پر بچوں اور بچیوں کے چہروں پر دھاتی چھر.ّوں کی بوچھاڑ کو وتیرا بنارکھا ہے۔مظاہرین پر یہ بے رحمانہ حملے ہمیں ایک سوال پوچھنے پر مجبور کرتے ہیں: کیا بھارتی ریاست کشمیریوں کو نابینا کرنے میں خوشی محسوس کرتی ہے؟‘‘
نئی دہلی کی حکومت یا کشمیر میں موجود ان کے مشیر ’چھر.ّے بکھیرتی بندوقوں ‘ کی تباہ کن قوت سے بے خبر نہیں ہیں۔ انٹرنیشنل نیٹ ورک آف سول لبرٹیز آرگنائزیشنزاور فزیشنز فار ہیومن رائٹس نے ۱۰۲ صفحوں کی ایک رپورٹ Lethal in Disguise  میں یہ بیان کیا ہے:’’دھاتی گولیاں، بارود کی اندھادھند پھوار خارج کرتی ہیں، جو بہت دُور تک پھیل جاتی ہے اور ان سےکسی واحد چیز کو ہدف نہیں بنایا جاسکتا___ اس لیے یہ نہ صرف قریبی فاصلے پر مہلک ہو سکتی ہیں بلکہ طویل فاصلے پر بھی اندھادھند نقصان کی حامل ہو سکتی ہیں۔ متعددممالک نے تو پرندوں کے شکار کے لیے بھی ان کے استعمال کی ممانعت کر دی ہے کہ ان دھاتی چھر.ّوں کا پھیلائو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ مگر دنیا کی ’بڑی جمہوریت‘ اس سے معصوم بچوں اور بچیوں کو شکار کر رہی ہے اور عالمی ضمیر لمبی تان کر سویا ہوا ہے!
اسرائیل میں سیکورٹی فورسز اکثر فلسطینی مظاہرین کے خلاف براہِ راست فائرنگ کے علاوہ ربڑ کی گولیوں کا استعمال کرتی ہیں۔ ۲۰۱۴ء میں امریکی ریاست کیلے فورنیا کے ہسپانوی علاقے میں ان ربڑ کی گولیوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
۲۰۱۱ء میں،تحریرچوک، قاہرہ میں مصری آمر حسنی مبارک کے خلاف مظاہروں نے حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا۔ ان مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ایک نوجوان لیفٹیننٹ محمد الشناوی نے اس لحاظ سے بدنامی مول لی کہ اس نے مظاہرین کی آنکھوں پر گولیاں چلائی تھیں جس سے اس کی عرفیت’آنکھ کا شکاری‘ مشہور ہو گئی تھی، اور وہ ظالمانہ ریاستی ظلم وستم کی علامت بن گیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ کیا بھارت ’آنکھوں کے شکاریوں‘ کے ہاتھ روکے گا، یا ان کو سزا دے گا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ دنیا اس ’آنکھوں کے شکاری‘ بھارت کو لگام دے گی یا اپنی تجارت پر نظر رکھتے اور ظلم کو نظرانداز کرتے ہوئے دنیا کو ’پُرامن‘ بنانے کے خواب دیکھتی رہے گی؟
بھارت اس وقت جس نوعیت کے کٹر نسل پرستی کے جنون میں مبتلا ہے، اس میں حقِ خودارادیت مانگنے والے کشمیری، ناپاک ملیچھ دلت،گائے کا گوشت کھانے والے مسلمان غدار، اور اس وحشت ناک قوم پرستی کے مخالف صحافی قربانی کے بکرے تصور کیے جاتے ہیں۔کوئی بھی آواز جو کشمیر میں ان ’پیلٹ بندوقوں‘پر پابندی کا مطالبہ کرتی ہے،اس کو یقینی طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

کشمیری خود پر ڈھائے گئے مظالم اور تشدد کے عادی ہو چکے ہیں___اور پھر اسی طرح  وہ دنیا کی بے رحمانہ لاتعلقی اور بے حسی کے بھی عادی ہو چکے ہیں۔ ۲۰۱۰ءکے موسم گرما میں کشمیری مسلمان مظاہرین پر پہلی دفعہ یہ چھر.ّوں والی گولیاں چلائی گئیں،تو بہت سے لوگوںنے اسے محض ایک وقتی بدقسمتی کے سوا کچھ نہ سمجھا۔ تاہم، حالات پر نظر رکھنے والوں نے اسے کشمیر میں جنگ کے ایک نئے عنصر کا داخلہ قرار دیا تھا۔اگر کوئی یہ چاہے کہ گذشتہ عشروں میں کشمیریوں کے جسموں پر ڈھائے گئے ظلم وستم کا خاکہ کھینچے،تو پھر اسے بمشکل ہی بدن کا کوئی حصہ ملے گا جو زخمی نہ ہوا ہو۔ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں جب تشدد اپنی بدترین شکل میں عروج پر تھا،آنکھوں کو نقصان نہیں پہنچایا جاتا تھا، لیکن اب معلوم ہوتا ہے کہ بھارتیوں کے نزدیک آنکھیں ایک آسان اور پسندیدہ ہدف بن چکی ہیں۔ 
 میں ۱۹۸۰ء اور۱۹۹۰ء کے عشروں کی تاریکی میں پلا بڑھا ہوں۔ ہم نوعمر لڑکے جبلی طور پر یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے ساتھ غیرانسانی سلوک ہوتا ہے،راہ چلتے ہوئے ہم پر بلاوجہ تھپڑوںکی بارش کی جاتی ہے،اور بندوق کے بٹ سے پیٹا جاتا ہے۔ لیکن ایک بھارتی فوجی کے نزدیک یہ سب کچھ محض ایک مذاق ہوتا ہے۔ ہم لاشوں، جنازوں اور تابوتوں کو گزرتے وقت کی یادگارکے طور پر ذہن میں نقش کرتے، اور ان واقعات کو ’قتلِ عام‘ اور ’شہادت‘ کی اصطلاحوں میں یاد رکھتے۔ 

اس پوری مدت میں مَیں نے انتہائی بے رحم اور بے لطف زمانے کو دیکھا۔  کیونکہ شورش کو کچلنے کی خاطر بھارت کی طرف سے’پکڑو اور مار دو‘کی وحشیانہ حکمت عملی اپنائی گئی تھی۔ جس کے تحت مسلح اور ’ناپسندیدہ‘ نہتے افراد،دونوں کو فوری طور پر ہلاک کر دیا جاتا ہے، یا انھیں عبرت ناک اذیت دے کر ہلاک کیا جاتا ہے۔ دہلی کی جانب سے غیرمعمولی ہندو نسل پرستی پر مبنی حکمت عملی سے شہ پا کر بھارتی سیکورٹی فورسز یہ سوچتی ہیں کہ انھیں زیادہ سے زیادہ ظلم اور بے رحمی کا طرزعمل اختیار کرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔
۲۰۱۳ءمیں نیویارک ٹائمز کے وقائع نگار زاہدرفیق نے اپنے ایک مؤثر مضمون میں ان چند افراد کی رُودادیں بیان کیں، جنھیں دھاتی گولیوں سے اندھا کر دیا گیا تھا___ حالانکہ اس وقت کشمیریوں کی بینائی چھیننے پر مبنی طرزعمل نے کچھ زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل نہیں کی تھی۔ صدافسوس کہ آج اس وقت بھی بھارتی سول سوسائٹی یا انسانی حقوق کی کسی تنظیم نے بمشکل ہی اس امر کو اپنی توجہ کا موضوع بنایا ہے کہ نابینا کرنے کے عمل کو ایک گھنائونے جرم کے طور پربیان کیا جائے۔ اس کے برعکس کشمیری مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلا کر بھارت کی کچھ میڈیا تنظیمیں بہت خوشی محسوس کرتی ہیں۔ ہندو قوم پرستی کے جنون میں مبتلا ہزاروں بھارتی نوجوان، سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کی ہلاکتوں ، انھیں زخمی کرنے اور پھر نابینا کرنے کی کارروائیوں پر جشن مناتے ہیں۔

کشمیر کے ایک مرکزی ہسپتال کے ماہرامراض چشم نے جولائی میں انڈین ایکسپریس کو بتایا: ’’پہلی بار بے ترتیب تیزدھار کونوں پر مشتمل چیزوں کو استعمال کیا جا رہاہے، جو جس وقت آنکھوں سے ٹکراتی ہیں تو بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں‘‘۔بے ترتیب تیز دھار کونے؟میں نے یہ سمجھا تھا کہ ربڑیا پلاسٹک کی گولیوں کے مانند مظاہرین پر چلائی گئی دھاتی گولیاں،یا قرص نما چیزیں ہیں۔ لیکن معلوم ہوا کہ یہ کوئی مختلف قسم کی گولیاں ہیں اور۲۰۱۶ء سے بھارتی فورسز دندانے دار گولیاں استعمال کر رہی ہیں، جو گوشت اور آنکھوں کو، بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں اور جن کے متعلق  ڈـاکٹر کہتے ہیں کہ ’’زخمی بدن سے انھیں نکالنے میں بہت مشکل پیش آتی ہے‘‘۔

سوال یہ ہے کہ بھارت یہاں تک کیسے پہنچا کہ اپنے زیرتسلط علاقے کے ہزاروں مکینوں کو نابینا کردے؟ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے، کہ اقوام متحدہ کا ایک رکن،ایسی فسطائیت میں ملوث ہو؟ درحقیقت اقوام متحدہ طاقت ور ملکوں کی لونڈی کے رُوپ میں ایسا ادارہ ہے، جو کم زور ملکوں پر پابندیاں لگاتی اور طاقت ور یا بڑے ملکوں کا پٹہ کھلا رکھتی ہے۔

یہ قطعی بات ہے کہ بھارت کے حکمرانوں کی نظر میں کشمیری ان کی محکوم رعایا ہیں، برابر کے  شہری نہیں ہیں، کیو نکہ کشمیریوں نے بھارتی راج تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اگر وہ اس کے شہری ہیں تو وہ ان پر اس قسم کی گولیوں کی بوچھاڑ نہیں کر سکتے جو اندھا بنادے۔ اس وقت بھارتی حکومت، کشمیری بچوں کی بینائی چھین کر فیصلہ کن انداز میں اعلان کر رہی ہے:’’تمھیں ہرقیمت پر سرجھکانا ہوگا،اور اگر تم انکار کر وگے،ہمارا غضب اور قہر تم پر نازل ہوتا رہے گا، کیونکہ ہم ایک بڑی منڈی ہیں‘‘۔
 نوبیل انعام یافتہ بھارتی ماہرمعیشت،امرتاسین نے اس صورتِ حال پر کہا تھا:’’کشمیری احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنوں کا استعمال اور شدید ظلم وستم،بھارتی جمہوریت پر کلنک کا ٹیکہ ہے‘‘۔
بھارت کے ظالمانہ طرزِ حکمرانی کی تائید کرنے والوں کی بڑی تعداد کے باوجود بھارت میں کچھ ایسے لوگ، صحافی، دردِ دل رکھنے والے طالب علم، حتیٰ کہ کچھ سیاست دان بھی موجود ہیں، جنھوں نے اس روش کی مخالفت کی ہے، بھارتی وحشیانہ کارروائی کے متعلق مضامین میں حکومت سے استدعا کی ہے کہ اس ظلم وستم کا سلسلہ بند کیا جائے،کشمیریوں کے ساتھ شفقت پر مبنی سلوک کیا جائے اور بات چیت کی جائے۔لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت اس جنگجویانہ پاگل پن اور ووٹوں کی بھوک میں مبتلا ہے۔ اگست میں سرینگر میں بھارتی افواج نے اے ٹی ایم پر تعینات ایک اکیس سالہ محافظ کو مختصر فاصلے سے ۳۰۰ دھاتی گولیاں مارکر شہید کر دیا۔

اس سے قبل کہ یہ سب کچھ فراموش کر دیا جائے،اور ظلم کی داستانیں تہہ در تہہ ظلم کے پہاڑ بنتے جائیں، ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ان زخمیوں میں سے کچھ نہ کچھ مظلوموں کی آنکھوں کا آپریشن ہو، اور وہ کم از کم ایک آنکھ کی بینائی دوبارہ حاصل کر لیں۔دنیا بھر میں آنکھوں کے سرجنوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا چیلنج منتظر ہے۔ لیکن اسی قوت کے ساتھ بھارتی حکمرانوں کو روکنے کے لیے بھی عالمی سطح پر ڈاکٹروں اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ممکن ہے کہ موت اور خون کی اس لہر کے نتیجے میں کشمیر میں بظاہر خاموشی چھا جائے ___ لوگ خریداری کریں، بچوں کی شادیاں کریں،کرفیو کی پابندی کے بغیر عید منائیں اور اپنی مرجھائی ہوئی سرزمین پر سیاحوں کو خوش آمدید بھی کہیں۔لیکن آزادی پسندوں کی یہ نئی نسل،پرورش پاتے ہوئے کب نابینا ہوئی، اور کس روز ہوگی،کب اسے زخمی کیا جائے گا؟ ہمارے گنہ گار ضمیر کے لیے ہروقت پھن پھیلائے یہ سوال موجود رہے گا۔ یہ نابینا بچے ساری زندگی یقینااس ملک کو یاد رکھیں گے، جس نے ان کے ساتھ یہ درندگی کی۔ (The Guardian،لندن،انگریزی سے ترجمہ: ادارہ)

رات کا کوئی پہر تھا، کمرے میں گھپ اندھیرا تھا، اچانک ٹیلفون کی گھنٹی بجی۔ جمیل سمجھا کہ یہ فائر الارم کی آواز ہے، جو وہ خواب میں سن رہا ہے۔جمیل ٹیلی فون ٹٹولنے لگا کہ اسی دوران   آواز بند ہوگئی۔تھوڑی دیر بعد پھر گھنٹی بجی، اب وہ بیدار ہوچکا تھا، آنکھیں ملتے ہوئے اس کی  زبان پر دعا تھی، یا اللہ! خیر کر، اتنی رات گئے کون فون کررہا ہے؟ یا اللہ! میرے والدین خیریت کے ساتھ ہوں۔ یااللہ! ان کی حفاظت فرما۔
اس نے سوچا: یہ آوارہ نوجوانوں کی حرکت لگتی ہے، جو دن میں سوتے ہیں، اور رات میں جاگ کر شر پھیلاتے ہیں۔ موسم سرد تھا، اس لیے وہ پھر سونے کے لیے لیٹ گیا۔ ابھی وہ سونے کی کوشش کررہا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی پھر بجنے لگی۔
اب کی بار وہ غصّے میں تیزی سے اٹھا اور ریسیور اٹھاکر سخت لہجے میں کہا: ’’کون ہے؟‘‘
ادھر سے درد بھری دھیمی سی آواز آئی: ’’مجھے ایسے شخص کی تلاش ہے جو میرا غم اور میرا درد بانٹ سکے‘‘۔
جمیل نے کہا: شاید آپ نے غلط نمبر ملادیا ہے۔
ادھر سے آواز آئی: نہیں ، نمبر درست ہے، تمھارا نام جمیل ہے؟
اپنا نام سن کر وہ حیران ہوا، اور آواز پر غور کرنے لگا، لیکن وہ آواز پہچان نہیں سکا۔
اس نے کہا: تم کون ہو؟
ادھر سے آواز آئی: میں ایک اجنبی ہوں، مجھے ایسے آدمی کی تلاش ہے، جس سے میں اپنے من کی بات کہہ سکوں اور وہ مجھ سے اپنے من کی بات کہہ سکے، تاکہ میرے غم کچھ ہلکے ہوجائیں، مجھے اس سے بات کر کے کچھ تسلی ہو۔ اسی لیے میں نے تمھیں فون کیا، اگر تمھیں ناگوار گزرا ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔ میں تمھیں بات کرنے پر مجبور نہیں کروں گا۔
جمیل نے کہا: ٹھیک ہے، آپ بات بتایئے۔
(ادھر سے درد میں ڈوبی آواز آئی): میں حوصلہ ہوں، اسلامی تحریک کے کارکنوں کا حوصلہ، داعیان اسلام کا حوصلہ، جو اَب غم واندوہ میں ڈوبا ہوا ہے۔ کیونکہ وہ اب کمزور ہوچلا ہے۔
جمیل: تو کیا تمھیں لگتا ہے کہ میرا حوصلہ کمزورہوگیا ہے؟
حوصلہ: اگر تمھارا حوصلہ کمزور ہوگیا ہوتا، تو میں تمھیں اپنے غم میں شریک نہ کرتا۔ میں نے اپنا درد بیان کرنے کے لیے صرف تمھیں منتخب کیا ہے، کیونکہ تمھارے حوصلے ابھی بھی بلند ہیں۔
جمیل: ایک سوال مجھے بھی پریشان رکھتا ہے، کہ حوصلے کمزور کیسے ہوجاتے ہیں؟
حوصلہ: اس کے کچھ اسباب ہیں۔ بعض کا تعلق داعی کی ذاتی شخصیت سے ہے، اور بعض کا تعلق اس ماحول سے ہے جہاں وہ گزر بسر کرتا ہے۔
جمیل:داعی سے متعلق اسباب کیا ہیں؟
حوصلہ: وہ بہت سے ہیں، میں کچھ بتاؤں گا:

  • پہلا سبب تو یہ ہے کہ کہ بعض کارکن اس مشن کی حقیقت اور اس کے راز سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کام کے حوالے سے ان کی چلت پھرت ایسی ہوتی ہے، گویا کوئی جز وقتی مصروفیت ہو، یا بچپن کا کوئی تفریحی مشغلہ انجام دے رہے ہوں۔
  • دوسرا سبب یہ ہے کہ بعض کارکنوں کے دل میں ایمان کمزور رہ جاتا ہے، یا یوں کہیں کہ آخرت کی کامیابی کا سچاشوق نہیں بیدار ہوپاتا ہے۔ ان کی سرگرمیاںدوسرے دنیاوی مشاغل کی طرح ایک دنیاوی مشغلہ ہوتی ہیں۔ ان میں رضاے الٰہی پالینے کی دھن نہیں پائی جاتی۔
  •  تیسرا سبب یہ ہے کہ بعض کارکن اپنے آپ کو دنیا کے فتنوں سے محفوظ نہیں رکھ پاتے، اور زندگی کی چمک دمک سے مسحور ہونے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک لمبی دعوتی زندگی گزارنے کے بعدان کے دلوں میں کمزوری آنے لگتی ہے، اور وہ راستے ہی میں پڑاؤ ڈال دیتے ہیں۔ 

جمیل:تمھاری باتیں درست لگتی ہیں، خاص طور سے دوسرا سبب تو میرے اندر بھی موجود ہے۔ یہ بتاؤ کہ دوسرے مشاغلِ زندگی سے تمھاری کیا مراد ہے؟ کیا یہ مطلب ہے کہ تعلیم یا نوکری حوصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے؟
حوصلہ: نہیں، بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ باہر کی صورت حال کئی طرح سے کارکنوں کے حوصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے، جیسے:

  •    پہلی چیز: اللہ کے دشمن مل کر اسلام اور اسلامی تحریکات کو ختم کرنے کے درپے ہیں، آزمایشیں شدید ہیں اور اللہ کی مدد صبر  کا امتحان لے رہی ہے۔ ایسے میں کچھ کارکنان اپنی سرگرمیوں سے اُکتا جاتے ہیں، اور ان کے حوصلے پست ہوجاتے ہیں۔
  •   دوسری چیز: کہیں ایسا ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ اسلامی جماعتیں میدان میں کام کررہی ہوتی ہیں۔ ان میں بسا اوقات ٹکراؤ کی نوبت آجاتی ہے، یا ایک ہی جماعت کے افراد میں گروہ بندی اور باہمی رسہ کشی کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کا منفی اثر بہت سے کارکنوں پر پڑتا ہے، اور وہ دل گرفتہ ہوکر، میدانِ دعوت ہی سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں۔
  •   تیسری چیز: کارکن جس میدان میں اصلاحی کوششیں کرنا چاہتا ہے، اس میدان میں بگاڑ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ان کے حوصلے جواب دے جاتے ہیں۔

کمزوری کے یہ اسباب ہیں، اور میرے غم کی و جہ یہ ہے کہ یہ اسباب اہل دعوت کے درمیان پائے جاتے ہیں، لیکن پھر یہ سوچ کر تسلی ہوتی ہے کہ اللہ کا کام ہے تو وہ ضرور مدد بھیجے گا۔ دعوت وعزیمت کی راہ کے راہی امید کا بڑا مرکز ہیں، وہی انسانیت کا جمال ہیں۔
جمیل: تمھاری بات درست ہے، اور دل نشین بھی۔ اب میں سمجھ گیا کہ تمھارے غم کا سبب کیا ہے۔ لیکن اتنی رات مجھے فون کرنے کا مقصد ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا۔
حوصلہ: بات دراصل یہ ہے، مجھے لگا کہ تمھارے حوصلے ابھی بلند ہیں، تمھارے سر میں بڑے کاموں کا سودا سمایا ہوا ہے، تمھیں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، تمھارے پہلو میں ایک درد مند دل ہے۔ میں نے سوچا کہ تمھارے ذریعے میری بے چینی اور فکرمندی دوسرے کارکنوں تک پہنچ سکتی ہے۔
جمیل: میں تمھارا پیغام ہر کارکن تک پہنچاؤں گا، لیکن یہ تو بتاؤ کہ کارکنوں کے دلوں میں حوصلہ کس طرح بڑھایا جاتا ہے؟
حوصلہ:اس سلسلے میں دو باتیں بہت اہم ہیں: 
پہلی بات یہ کہ کارکن اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کی تخلیق کا مقصد، اور اس کے وجود کا اعلیٰ ترین ہدف یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف بلانے والا بن جائے، دل میں یہ شعور ہر وقت بیدار رہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس کا دل سوز وتپش سے تڑپ اٹھے۔ جب وہ ایک طرف بڑھتے ہوئے بگاڑ کو دیکھے، اور دوسری طرف مسلمانوں کی بدحالی اور کمزوری کو دیکھے، یہ سب دیکھ کر وہ بے چین ہو اٹھے، اور اصلاح ودعوت کے کام میں سرگرم ہوجائے۔
گویا اس کا شعور بیدا ر رہے، اور اس کا دل بے تاب رہے۔ شعور کی پختگی اور جذبے کی بے تابی کے ساتھ کارکن ہر وقت اصلاح وتعمیر کے کاموں میں سرگرم رہ سکتا ہے۔
جمیل: کارکنوں کے حوصلے ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں، یہ کیا چیز ہے؟
حوصلہ: تم نے میری دکھتی ہوئی رگ پر انگلی رکھ دی ہے۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف یہ دیکھ کر ہوتی ہے کہ اونچے حوصلے والے کارکن پست حوصلے والے کارکنوں سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ اس طرح وہ بھی ہمت ہار جاتے ہیں، اورپڑاؤ ڈال دیتے ہیں۔
جمیل: یہ کیسے ہوجاتا ہے؟ ہمارے ہاں محاورہ مشہور ہے کہ پستی میں بھونکنے والے کتے اونچائی پر اڑنے والے بادلوں کا راستہ نہیں روک پاتے ہیں۔
حوصلہ: یہ صحیح ہے، لیکن یہاں معاملہ ذرا مختلف ہے۔ جب زمین کی پستیوں میں رینگنے والوں کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے، تو وہ آسمانی عزائم رکھنے والوں کو بھی متاثر کردیتے ہیں۔ اسی لیے بعض بزرگ کہا کرتے تھے: ’’کسی کند ذہن کی نشو ونما اگر اہل علم کے درمیان ہوئی ہو، تو وہ اس ذہین سے زیادہ قابل اعتماد ہے جس نے نادانوں اور جاہلوں کے بیچ رہ کے پرورش پائی ہو‘‘۔
اس سے سمجھ سکتے ہو کہ صحبت ورفاقت کا کتنا اثر ہوتا ہے۔
جمیل: کارکنانِ دعوت پر یہ بات کیسے صادق آتی ہے؟
حوصلہ: یوں سمجھو کہ دو کارکن ہیں۔ ایک کا حوصلہ آسمان کی بلندیوں کو چھوتا ہے، اور دوسرے کا حوصلہ زمین کی پستیوں میں قید ہے۔ یا تو آسمانی حوصلے والا اپنے دل کی تپش سے اپنے ساتھی کے حوصلوں کو بھڑکادے گا، اور وہ اس کے شانہ بہ شانہ سرگرم ہوجائے گا، یا پھر زمینی حوصلے والا اپنے دل کا جمود اپنے ساتھ والے کے دل میں منتقل کردے گا، اور اپنے دل کی طرح اس کے دل کی آگ بھی ٹھنڈی کردے گا۔
جمیل: اچھا، مجھے اعلیٰ حوصلے اور بھرپور سرگرمی کی کوئی مثال دے کر سمجھاؤ۔
حوصلہ: تم کو خود لوگوں کے لیے مثال بننا ہے، پھر بھی میں تمھیں ایک مثال دوں گا۔تصور کرو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین میں پانی کے پاس پہنچے، وہاں لوگ اپنے اپنے مویشیوں کو پانی پلارہے تھے، اور دو لڑکیاں الگ کھڑی انتظار کررہی تھیں۔ حضرت موسٰی کے پوچھنے پر انھوں نے کہا: جب تک سب لوگ پانی پلاکر ہٹ نہیں جائیںگے، ہم پانی نہیں پلاسکیں گی، اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہوگئے ہیں۔اس بارے میں سیدقطب شہیدؒ لکھتے ہیں: 
’’دیکھو موسیٰ علیہ السلام کو، تھکے ماندے، لمبا سفر کر کے پہنچے ہیں، سفر بھی ایسا کہ نہ کوئی سامان اور نہ کوئی تیاری، پیچھے سے بے رحم دشمنوں کے تعاقب کا اندیشہ۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ، لیکن انسانیت ، بھلائی، ہم دردی، حق کی ادائیگی اور مدد کے جذبوں نے آواز دی تویہ سب کچھ ذرا رکاوٹ نہ بنا، اور انھوں نے آگے بڑھ کردونوں لڑکیوں کے مویشیوں کو پانی پلادیا‘‘۔
جمیل: اللہ اکبر! یہ تو بڑے حوصلے کی بات ہے، اتنا تھکا ہونے کے باوجود اللہ کی خاطر اتنی سرگرمی!! واقعی یہ بہت خوب صورت مثال ہے۔ اب ایک مثال اس زمانے کی بھی دیجیے۔
حوصلہ: میں تمھیں ایک تحریکی بزرگ شیخ محمد محمود صواف کے بارے میں بتاتا ہوں۔ وہ خود لکھتے ہیں: ’’ ایک مرتبہ میرے کم سن بیٹے مجاہد نے مجھ سے شکایت کے لہجے میں پوچھا: ابوجان، آپ ہمارے ساتھ کب کھانا کھائیں گے؟
میں اسے کیا جواب دیتا، اللہ جانتا ہے، میں تحریک کے نوجوانوں اور بزرگوں کے ساتھ کس طرح ہر وقت مشغول رہتا ہوں۔ تحریک میں اگر زیر تربیت افراد سے مسلسل ملاقاتیں، اور مسلسل رابطے نہ رکھے جائیں تو رجال سازی اور مردان کار کی تیاری کا کا م نہیں ہوسکتا‘‘۔
داعی کی یہی شان ہے۔ اسے بلند حوصلہ ہونا چاہیے، نہ غفلت کا سایہ پڑے، اور نہ رفتار سست پڑے۔ کیونکہ شیخ محمد احمد راشد کے بقول: ’’داعی کی غفلت بڑی مصیبت ہے۔ اس سے    فتح ونصرت کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، کیونکہ یہ دروازے جہد مسلسل سے کھلا کرتے ہیں۔ دوسری طرف اُخروی اجر وثواب سے محرومی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اس کے لیے محنت ضروری ہے‘‘۔
جمیل: یہ بہت خوب صورت تصویریں ہیں۔ دین کے داعیوں اور دینی تحریک کے کارکنوں کو اسی طرح طاقت ور جذبے اور بلند حوصلے سے آراستہ ہونا چاہیے۔
حوصلہ: بلا شبہہ، اور اسی لیے شیخ عبد اللہ علوان کہتے تھے: ’’جب ایک داعی اپنے مشن، اپنے معاشرے اور مسلم امت کی اتنی ہی فکر کرنے لگے، جس قدر فکر وہ اپنی روزی، اپنے گھر اور اپنے بیوی بچوں کی کرتا ہے، تو پھر ہم کہیں گے کہ اسلامی دعوت کا مشن اس کے فہم وشعور کے مرکز میں جاگزین ہوگیا، اور اس کے وجدان کی گہرائی میں اتر گیا‘‘۔
جمیل:(فجر کی اذان سنتے ہوئے) میں تمھارا احسان مند ہوں، تم نے مجھے بہت اہم سبق یاد دلائے ہیں۔ اب مجھے نماز کی تیاری کرنا ہے ، آخری نصیحت اور کردو۔
حوصلہ: میں تمھیں ایک قصہ سناتا ہوں۔اپنے حوصلوں کی انگیٹھی دہکانے میں تمھیں اس سے مدد ملے گی۔
 کہا جاتا ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو کچھ پونجی دے کر تجارتی سفر پر روانہ کیا، مقصد یہ تھا کہ اسے آگے کے لیے تیار کرے۔
وہ سفر پر نکلا تو راستے میں دیکھا ایک لاغر سی لومڑی ایک طرف پڑی ہوئی ہے۔ اس نے سوچا کہ یہ بے چاری لومڑی کہاں سے روزی حاصل کرتی ہوگی؟ وہ رک کر سوچنے لگا۔ پھر اس نے دیکھا کہ ایک شیر اپنا شکار اٹھاکر لایا اور اسے پیٹ بھر کھایا اور باقی چھوڑ کر چل دیا، تب لومڑی نے آگے بڑھ کر اس بچے کھچے شکار میں سے کچھ حصہ کھالیا۔
 نوجوان نے دل میں سوچا کہ جب اللہ نے سب بندوں کے رزق کی ذمہ داری لے رکھی ہے تو میں کیوں خود کو تھکاؤں۔ وہ واپس گھر لوٹا اور اپنے باپ کو پوری بات بتائی۔ باپ نے کہا:
 ’’ بیٹامیں نے سوچا تھا کہ تم ایک شیر بنو گے کہ جس کی محنت سے لومڑیاں بھی اپنا پیٹ بھرسکیں گی،نہ کہ تم لومڑی بن کر شیروں کے بچے کھچے کی راہ تکو گے‘‘۔
(حوصلے نے ایک لمحے کا توقف کیا اور پھر کہا): بلند حوصلہ کارکن خود آگے بڑھ کر سرگرمی اور جدوجہد کی ذمہ داری اپنے سر لے لیتا ہے۔ وہ سرگرم کارکنوں کے قدم سے قدم ملا کر چلتا ہے۔
 وہ دوسرے ساتھیوں کی سرگرمیوں پر اپنا گزارا نہیں کرتا ہے۔ وہ کم پر راضی نہیں ہوتا۔     وہ پست ہمتی کو پسند نہیں کرتا۔وہ جمود کو گوارا نہیں کرتا۔لوگ اسے دیکھ کر اپنی رفتار بڑھاتے ہیں۔ وہ اپنی رفتار طے کرنے کے لیے لوگوں کو نہیں دیکھتا۔
اس کی دعا ہوتی ہے: وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا ۝ (الفرقان ۲۵:۷۴) ’’اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا‘‘۔
جمیل: اللہ تم پر اپنی برکت نازل کرے، مجھے آئندہ بھی یاد کرتے رہنا۔ 
جمیل نے فون رکھ دیا، اورنئے جوش کے ساتھ کہا: امت کی تعمیر حوصلوں کی بلندی سے ہوگی۔
وہ نماز کے لیے نکلا، اس کے لبوں پر دعا تھی: اللّٰھُمَّ اجْعَلْنِي لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَاماً،یا اللہ! مجھے متقیوں کا امام بنادے۔ آمین!

یہ ایک معمّا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے مرکزی مسلم خطے سے انتہائی دُور واقع جنوبی ایشیا میں، بنگالی مسلمان کس طرح دنیا بھر میں ’دوسری سب سے بڑی نسلی آبادیـ‘ بن گئے۔ محمودالرحمان نے اپنی کتاب The Political History of Muslim Bengal(کیمبرج، برطانیہ، ۲۰۱۹ء) میں اس موضوع پر مطالعہ پیش کیا ہے۔ محمود الرحمان نے اس سوال کا جواب، سرتھامس واکر آرنلڈ [م:۱۹۳۰ء ] کے ہاں تلاش کیا ہے۔ آرنلڈ نے ۱۸۹۶ء میں تبلیغِ اسلام کے موضوع پر ایک کتاب The Preaching of Islamلکھی تھی، جس میں انھوں نے بتایا: ’’تاہم،یہ بنگال ہی ہے، جہاں ہندستان کے مسلم تبلیغی اداروںنے دعوتی اعتبار سے عظیم ترین کامیابی حاصل کیـ‘‘۔

محمود الرحمان کی یہ کتاب انتہائی باریک بین تحقیق اور بھرپور غوروفکر پر مبنی ہے۔ یہ ان لوگوں کی تاریخ ہے،جو،ملک میں بھاری اکثریت کے حامل ہونے کے باوجود، اپنی تاریخ، میراث اور شناخت کھودینے کے گمبھیر خطرے سے دوچار ہیں۔ انجینیر محمود الرحمان ایک مصنف اور اخبار کے مدیر کی حیثیت سے زیادہ وسیع تعارف رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق اور اظہار راے کی آزادی کے علَم بردار کی حیثیت سے ان کا پختہ موقف ہے: ایک صحافی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پُرآشوب حالات میں بھی سیاسی طور پر فعال رہے۔ سچائی کا پرچم اُٹھانے کی انھوں نے بھاری قیمت ادا کی اور بنگلہ دیش کی حسینہ واجد حکومت کے زمانے میں قید اور اذیت برداشت کی۔قید کے دوران انھوں نے اپنی قوم کو کامیابی اور خوشی کے نغمے میں شریک کرنے کا فیصلہ کیا۔ مصنف کے نزدیک یہ نغمۂ جاں فزا ’اسلام کی سربلندی کے لیے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ‘ ہے۔
متعدد جدید اور قدیم حوالہ جات دیتے ہوئے، مصنّف نے یہ بات ثابت کی ہے کہ ملک کے نام،زبان اور آزادانہ شناخت کے سبھی آثار یہاں مسلم دورِ سلاطین ہی میں ملتے ہیں۔ ایک ممتاز ہندو مؤرخ، ڈاکٹر نہار رنجن راے نے اعتراف کیا ہے: ’’بنگال میں ہندو راج کے تمام عہد میں، ــ’بنگلہ‘ کا نام بھی تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، اور اسے دوسرے، تیسرے درجے کی ادنیٰ زبان سمجھا جاتا تھا‘‘۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ:’’مسلم پٹھان (افغان )راج کے دنوں میں ’بنگلہ‘ کو عزت کا مقام ملا اور یہ احترام اکبر بادشاہ کے دور میں اپنے کمال کو پہنچا، جب تمام بنگال کو صوبہ بنگال کی حیثیت دی گئی‘‘۔ (دیکھیے: رنجن راے، History of Bengal:The Early Period، ۱۹۴۹ء)

جہاں تک بنگلہ زبان اورادب کاتعلق ہے،مصنف نے اظہارِ افسوس کیا ہے: ’’بدقسمتی سے بنگلہ دیشی حکومت نے بنگالی زبان کی ترقی کے لیے بنگال میں مسلمان حکمرانوںکی عظیم خدمات کو زیادہ تر نظرانداز کر دیا ہے‘‘ (ص۱۵)۔ حالاںکہ بنگالی زبان کو تو برہمن حکمران طبقے ہی نے مکمل طور پر نظرانداز کیا تھا۔ ان کے نزدیک سنسکرت قابلِ احترام تھی، جب کہ بنگالی زبان کو وہ ’کسانوں اور ماہی گیروں‘ کی زبان سمجھتے تھے اور اس کا مذاق اُڑاتے ہوئے اس کو ’پکھی بھاشا‘ یا پرندوں کی زبان کہتے تھے۔ اعلیٰ طبقوں میں بنگلہ کا استعمال گناہ سمجھا جاتا تھا، جس کی سزا ’روراوا‘(Rourava)   جہنم میں جلنے کی اذیت ہے (ص ۱۵)۔ محمود الرحمان نے بنگالی زبان کے ماخذ تلاش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ممتاز مؤرخین مثلاً ڈاکٹردینش چندر سین اورسکومر سین کے موقف کے مطابق: ’’مسلمانوں کی طرف سے بنگال کی فتح، دراصل بنگالی زبان کی خوش بختی اور بنگالی زبان کے ارتقا کا ایک مرکزی ذریعہ بنی‘‘۔ مصنّف ’چریاپد‘ نے متنازعہ مسئلے کا ذکر کیا ہے، لیکن مفصل طور پر یہ نہیں بتاتا کہ کس طرح بنگال میں مسلم دورِحکمرانی کو ’بنگالی ادبی سرمایے کا تاریک دور‘ قرار دے ڈالا؟ 
اس تمام مسلم دورِ حکومت کو ’بنگلہ کے لیے تاریک دور‘ قرار دینے کا آغاز اس وقت ہوا، جب ڈھاکا یونی ورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ہرپرشاد شاستری نے افسانہ گھڑتے ہوئے کہا:  ’’۱۲۰۳ءمیں پہلے مسلمان حکمران اختیارالدین محمدبختیارخلجی [م:۱۲۰۶ء]کے ہاتھوں فتح بنگال کے نتیجے میں یہاں بہت تباہی واقع ہوئی۔ یہاں تک کہ شاعر اور فنکار اپنی شاعری اور ادبی شاہکاروں کے ساتھ نیپال کی جانب فرار ہوگئے‘‘۔ شاستری صاحب نے یہ دعویٰ کردیا، اور ہندوئوں کے علاوہ ترقی پسند مسلم یا بنگلہ قوم پرستی کے حامل مسلمان اہلِ قلم نے اس دعوے کو کسی نہ کسی شکل میں مان لیا۔ تاہم، اس دعوے کی تائید میں کوئی ٹھوس ادبی ثبوت نہیں پیش کیا جاسکا۔

دراصل اڑھائی سو سالہ مسلم راج محض بنگال کے شمال مغربی علاقے تک ہی محدود رہا۔  اس عرصے میں اگر  مسلم حکمرانوں نے کسی چیز کواپنی غارت گری اور مذمت کے قابل سمجھا ہوتا، تو وہ   بت پرستی ہوتی،لیکن اس ضمن میں قطعی طور پر کوئی ثبوت دستیاب نہیں کہ اس دور میں کسی بھی غیرمسلم عبادت گاہ کو تباہ کیا گیا یا اس کی بے حرمتی کی گئی ہو۔اس کے برعکس اس امر کا معقول ثبوت موجود ہے کہ مسلم حکمرانوں نے غیرمسلم عبادت گاہوں کی تزئین وآرایش کے لیے بھاری سرکاری امدادی رقوم فراہم کیں۔مذہبی رسوم، تہوار اور سماجی تقریبات بلاروک ٹوک جاری رہیں۔مسلم حکمران بنگالی ادب (مختلف قسم کی تحریریں، نثر اور شاعری) کے سرپرست تھے۔ ایک ممتاز ہندو مؤرخ راکھل داس بندو پاڈے کے مطابق،علاء الدین حسین شاہ نے کبندرا پرمیشورکو ہندومذہبی کتاب، مہابھارت کا بنگالی زبان میں ترجمہ کرنے کا کام سونپا تھا۔بنگالی زبان کے متعدد ابتدائی شاعر مسلمان تھے، جن میں سے الول، دولت قاضی، محمدساگر اور مگن صدیقی ٹھاکر ممتاز حیثیت کے مالک تھے۔ بلاشبہہ مسلم دورِ حکومت بنگلہ ادب کی ترویج و اشاعت کا بھی سنہرا دور تھا۔ تاہم، مسلم تاریخ اور مسلم دورِحکمرانی کو بدنام کرنے اور بنگالی قوم پرستی کو گہرا کرنے کے لیے پورا زور لگایا جارہا ہے کہ بنگلہ زبان کی نظموں میں استعمال شدہ ذخیرۂ الفاظ کو کھینچ تان کر مشرقی ہندستانی زبانوں، مثلاً آسامی، اُڑیا، ہندی اور مراٹھی سے مشابہ کہا جارہا ہے، جو دانستہ طور پر بنگالی زبان کی تاریخ کو مسخ کرنے کی سازش ہے۔ 

بنگال کی ابتدائی تاریخ کے بارے محمود الرحمان نے لکھا ہے کہ کس طرح بودھ مت نے سرزمین بنگال میں بے روک ٹوک شاہی اختیارات استعمال کیے۔۷ ویںصدی میں ہندو بادشاہ ششنکاکے سوا،بدھوں کی پالاخاندانی سلطنت نے ۵۰۰ برس سے زائدعرصے تک حکومت کی اور پھر بودھ پالا بادشاہوں کے دربار میں موجود ہندو سرکاری افسران نے گیارھویں صدی میں بودھ اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ ہندوسینا بادشاہ ہوںنے برہمنیت کا شدت سے نفاذکیا اور بودھ مت کے پیروکاروں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے۔ اسی طرح نچلی ذات کے ہندوئوں کے خلاف وسیع پیمانے پر متعصبانہ کارروائیاں کیں،جس کے نتیجے میں ان میںسے بہت سے نیپال کی سرحد سے ملحقہ علاقوں کی طرف فرار ہوگئے۔  پھر انسانی مساوات کے علَم بردار اسلام کے پیغام کوان مظلوم بنگالیوں نے ایک خوش آیند تبدیلی کی حیثیت سے دیکھا، جس نے بختیارخلجی کی فتح کا راستہ ہموار کیا۔
اس طرح سارا عظیم تربنگال بتدریج مسلم راج کے تحت آ گیا،نتیجہ یہ کہ بے مثال امن اور خوش حالی سامنے آئی۔ اس نظریے یا دعوے کی تصدیق متعدد سفرناموں سے ہوتی ہے جو غیرملکی سیاحوں کی طرف سے تصنیف کیے گئے۔دیگر فاتحین، جنھوںنے اپنے پیچھے لُوٹ مار اور غارت گری کے آثار چھوڑے، ان کے برعکس تمام مسلم فاتحین نے بنگال کو اپنے وطن کی حیثیت سے اپنا لیا۔ مسلمان سلطانوں،بادشاہوں اور نوابوں کی خاندانی سلطنتوںنے خدمت اور انصاف کے جذبے کے تحت حکومت کی۔ مسلم راج میں بنگال عملی طور پر آزاد اور خودمختار تھا۔ بنگال میں ۲۵۰برس کے مسلم راج کا اختتام ۲۳جون۱۷۵۷ء کو اس وقت ہوا، جب نواب سراج الدولہ [م: ۲جولائی ۱۷۵۷ء]کو جنگ پلاسی میں برطانوی گورنر رابرٹ کلائیو[م: ۱۷۷۴ء] سے شکست ہوئی۔پلاسی کی شکست کے بعد جو کچھ ہوا،اس کے متعلق مصنّف نے لکھا ہے: ’’استعماری قوت کی طرف سے جبری فاقہ کشی کے ذریعے بنگالیوں کا اجتماعی قتل عام ہوا‘‘۔ جواہر لعل نہرو [م: ۱۹۶۴ء] کے بقول: ’’یہ ایک خالص لُوٹ مارتھی کہ انتہائی بھیانک قحط (Famine) نے بنگال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا‘‘۔ دوانگریز مؤرخین ایڈورڈ تھامسن اورجی ٹی گیرٹ نے بھی اس امر کی تائید کی:’’یہ ایک ایسی عظیم تباہی تھی، جس کا اس پاگل پن سے بھی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا‘‘ جس نے ہسپانوی جرنیل اور نواب، پیزارو [م:۱۵۴۱ء] اور کورتیس [م: ۱۵۴۷ء] کے زمانۂ حکمرانی میں ان کے زیرانتظام علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ دو سو برس کے دوران برطانوی راج کی بنیادی حکمت عملی، ہندوآبادی کی سرپرستی اور مسلم بغاوت کو کچل دینے پر مشتمل تھی‘‘۔ (ص ۳۹)

مسلمانوں کوکچلنے کے لیے انگریزوں کو ہندوئوں کی معاونت کی ضرورت تھی، جنھوں نے استعماری حکمرانوں سے مکمل تعاون کیا(ص ۴۹)۔حتیٰ کہ نہرونے بھی اعتراف کیا ہے: ’’نیا انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ،جس میں ہندو قابل ذکر ہیں، انگلینڈ کی طرف تعریفی انعام حاصل کرنے کی نظروں سے دیکھ کر اُمید کر رہا تھا کہ وہ ان کی مدد اور تعاون سے ترقی کرے گا‘‘۔ نراد سی چودھری نے اعتراف کیا ہے کہ ’’پڑھے لکھے ہندو طبقے،دانش وروں، شاعروں، مصنّفین اور فنکاروںنے بھی فعال اور دانستہ وہ راستہ اپنایا کہ مسلمانوں کوسماجی منظرنامے سے باہر دھکیل دیا جائے، حد یہ کہ ان کی بنگالی شناخت سے بھی انکار کردیا گیا۔ مراد یہ کہ نام نہاد بنگالی نشاتِ ثانیہ،ایک واضح مسلم مخالف خصوصیت کی حامل تحریک تھی‘‘۔(ص ۴۸-۵۰)
برطانوی سامراجیوں کے ساتھ بنگالی ہندوئوں کا تعاون ۱۹۰۳ء میں اس وقت یکایک  بحران کا شکار ہوگیا، جب برطانویوں نے بنگالی مسلمانوں کے خلاف ہندوئوں کے معاندانہ اقدامات اور کارروائیوں کا بتدریج اعتراف کرنا شروع کر دیا۔ پھر اس وقت کے وائسرائے [۱۸۹۹ء- ۱۹۰۵ء] لارڈکرزن نے [۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۵ء کو] انتظامی وجوہ کی بنا پر فیصلہ کیا کہ بنگال پریذیڈنسی کے غیرمعمولی بڑے صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے: پہلا مسلم اکثریتی مشرقی بنگال اور آسام، ڈھاکا   بطور دارالحکومت، جب کہ مغربی بنگال،چھوٹا ناگ پور،بہار اور اُڑیسہ کا دارالحکومت کلکتہ ہو۔لیکن ہندو نفسیات میں کوئی بھی مسلم اکثریتی صوبہ، نفرت انگیزشے سے کم نہیں تھا، اس لیے وہ ہندوئوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ اس طرح برہمن، مسلم اکثریت پر معاشی اور ثقافتی غلبے سے محروم ہوجاتے، جنھیںوہ ہمیشہ اپنے غلام سمجھتے تھے۔

مشہور بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور[م: ۱۹۴۱ء]سمیت ہر قسم کے ہندوئوںنے اس تقسیم پر شدیدر دعمل کا اظہار کیا اور اس فیصلے کے خلاف ایک مسلح جدوجہدشروع کر دی۔ دسمبر۱۹۱۱ءمیں برطانوی بادشاہ [۱۹۱۰ء- ۱۹۳۶ء] جارج پنجم ہندستان کے دور ے پر آیا۔ اس موقعے پر اس نے دہلی دربار میں بنگال کی تقسیم کی منسوخی کااعلان کیا۔وائسرائے [۱۶-۱۹۱۰ء] لارڈ چارلس ہارڈنگزنے بنگالی مسلمانوں کو پہنچنے والے معاشی و سماجی نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے [۲فروری ۱۹۱۲ء کو] ڈھاکا یونی ورسٹی کی پیش کش کی تھی۔لیکن ہندئووں نے ڈھاکا یونی ورسٹی کے قیام تک شدید مخالفت کی، حالانکہ یہ محض مسلمانوں کے لیے نہیں تھی۔ لیکن چونکہ یہ مسلم اکثریتی علاقے میں قائم ہورہی تھی،  اس لیے برہمن کو قبول نہیں تھی۔ ہندوئوں کے نزدیک،مشرقی بنگال کے کسانوں کے لیے تعلیم تک رسائی کا نظریہ اشتعال انگیزتھا۔ سخت مخالفت کے بعد۱۹۲۱ءمیں بالآخر ڈھاکا یونی ورسٹی کا قیام عمل میں آگیا۔

بنگال اورہندستان میں ہندو مسلم تعلقات سمجھنے کے لیے یہ کتاب بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ ہندو رہنما ہر شعبۂ زندگی میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی میں مصروف تھے۔ ہندئووں کے اس طرزِعمل کی مزید تصدیق سابق بھارتی وزیرخارجہ [۱۹۹۸ء-۲۰۰۲ء] جسونت سنگھ نے ان الفاظ میں کی ہے: بانی ِ پاکستان محمدعلی جناح ۱۹۳۷ء تک پاکستان جیسی ایک الگ ریاست کے متعلق نہیں سوچ رہے تھے اور وہ ایسی متحدوفاقی حکومت کے حق میں تھے، جہاں اقلیتی مسلمانوں کے حقوق اور ان کا تحفظ ہو‘‘۔ تاہم،یہ کانگریسی رہنماہی تھے، جنھوں نے جناح کو مجبور کیا کہ وہ طویل عرصے سے اپنے اس مطالبے سے دست بردار ہو جائیں کہ متحدہ ہندستان ہی اس مسئلے کا حل ہے۔(ص ۶۲-۶۴)
پاکستان کی تخلیق،جس کے لیے برعظیم کے مسلمانوں کی طر ف سے غیرمعمولی اور عدیم المثال قربانی دی گئی تھی،روزاوّل ہی سے بعض گمبھیر مسائل کے باعث کمزور بنیادوں کی حامل ریاست نظرآتی تھی۔ دونوں حصوں کے درمیان طویل فاصلہ،زبان کے اختلاف،جمہوری قدروں کے فقدان اور اس سے بھی اہم ، سیاست دانوں کی ہوسِ اقتدار اور استحصال کے رجحانات مشرقی پاکستان کے سقوط کا اہم سبب بنے۔ بھارت نے پاکستان توڑنے کے لیے اس فضا کو پوری قوت سے استعمال کیا جس نے بنگال کے عوام کو خود مسلمان بھائیوں ہی سے آزادی حاصل کرنے کی خواہش سے آلودہ کردیا۔ ۱۶دسمبر۱۹۷۱ء کو پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے سے ایک نئی بنگلہ دیشی قوم وجود میں آئی۔ ہندوئوں کے لیے لفظ ’بنگلہ دیشی‘ ناقابلِ قبول ہے کہ یہ متحدہ بنگالی قوم پرستی سے الگ تشخص کا مظہر ہے۔اس پورے منظرنامے میں مایوسی کی بات یہ اُبھر کر سامنے آئی ہے کہ آزادی کی یہ دوبارہ خواہش بھی، خوشامد،موقع پرستی اور ذاتی مفاد کی خاطر اقتدار کے لالچ جیسی بیماریوں کا علاج نہ کرسکی۔
محمود الرحمان کی کتاب کا مطالعہ موجودہ بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے’بھارت کے حق میں خودسپردگی پر مبنی حکمت عملی‘کے پس منظر میں کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش کی مسلم میراث کو ختم، مسخ اور تباہ کر کے بھارت کی خوش نودی حاصل کی جارہی ہے۔ [کتاب دیکھیے: The  Political History of Muslim Bengal: An Unfinished Battle of Faith کیمبرج اسکالرز پبلشرز، کیمبرج، برطانیہ، صفحات: ۳۹۲، ۲۰۱۹ء]۔(مسلم ورلڈ بک ریویو، خزاں، لسٹر، برطانیہ، ۲۰۱۹ء۔ انگریزی سے ترجمہ: ادارہ)

بلال ظفر   ، اسلام آباد

ڈاکٹر محمد حمیداللہ مرحوم کا سیرتِ پاکؐ پر مضمون، مطالعہ سیرت اور پھر سیرتِ مطہرہ پر غوروفکر کی راہیں دکھاتا ہے۔ بالخصوص نوجوانوں کی تربیت اور ان کی حوصلہ افزائی کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ ایک خوش آیند کوشش ہے کہ ہمارے عہد کے بڑے علما و فضلا کی تحریروں سے آپ وقتاً فوقتاً نئی نسل کو جوڑتے ہیں۔ اس طرح جہاں علم پھیلتاہے،وہیں مرحومین کے لیے دُعائیں، صدقۂ جاریہ بن کر، ان کے نامۂ اعمال کو باوزن بناتی ہیں۔


عرفان گیلانی  ، ڈنمارک

’حسن البنا، ایک مردِ قرآنی‘ (نومبر ۲۰۱۹ء ) ایسا مضمون ہے کہ جسے بار بار پڑھنے اور ساتھ ہی ساتھ، باربار اپنی ذات کا احتساب کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ہمارے ان داعیانِ کرام کی زندگی، خدمات اور محنت و جدوجہد سے تحریک ِ اسلامی کے کارکنان عملی اور گہری فکری رہنمائی لے سکتے ہیں۔ اللہ کرے، اس مضمون کا مطالعہ بڑے پیمانے پر رفقاے تحریک کی گفتگوئوں کا موضوع بنے۔


ڈاکٹر طاہر سراج  ، ساہیوال

نومبر کا شمارہ اس لحاظ سے بہت جامع اور مؤثر ہے کہ کئی معلومات افزا تحریریں مطالعے کے لیے ملیں۔ خصوصاً پروفیسر خورشیداحمد صاحب، ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کے علامہ اقبال پر مضامین بہت شان دار ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کے مضمون: ’اقبال، جناح اور مذہبی کارڈ‘ سے تاریخ کے ایک بڑے نازک دور میں بانیانِ پاکستان کی فکرمندی، دُوراندیشی اور مستقبل کے لیے دینی رہنمائی کا انداز قابلِ مطالعہ بھی ہے اور قابلِ توجہ بھی۔ یہ سوچ کر افسوس ہوتا ہے کہ ایسی سبق آموز اور چشم کشا تحریروں سے وطن عزیز کا بڑا حصہ محروم رہتا ہے۔ کاش! ترجمان القرآن کے دائرۂ اشاعت میں وسعت آئے۔


شمیم اختر  ، ملتان

مقبوضہ جموں و کشمیر ایک دہکتا ہوا انگارہ ہے ، جس کی تپش سے افسوس کہ مسلم اُمہ کی قیادت لاتعلق ہے۔ ترجمان میں جس تسلسل کے ساتھ، وہاں کی صورتِ حال پر مضامین شائع کیے جاتے ہیں اور ان میں بھی خاص طور پر افتخارگیلانی صاحب، جس محنت سے مظلوموں کی آواز ہم تک پہنچاتے ہیں، اس خدمت کے لیے ہم سب ان کے شکرگزار ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ِ وقت کو ان نکات کی روشنی میں عملی اقدامات اُٹھانے کے لیے کشمیر پالیسی بنانے کی طرف توجہ دلائی جائے۔


سجیلہ حسین  ، کراچی

ڈاکٹر محمد واسع ظفر کا مضمون: ’عہدے امانت ہیں، خیانت نہ کریں‘ (نومبر ۲۰۱۹ء) وقت کی آواز ہے۔ دینی متن اور حکمت ِ دین کی مدد سے ڈاکٹر صاحب نے متوجہ فرمایا ہے کہ عہدوں کو دھونس اور شہرت کے لیے نہیں، بلکہ آخرت کی جواب دہی اور خدمت ِ خلق کے لیے بروے کار لانا چاہیے۔ درحقیقت ہمارے قومی اور سماجی بحران کا یہ ایک بڑا سبب ہے کہ سرکاری عہدے دار، سیاسی عہدے دار، مذہبی عہدے دار اور ابلاغ و تعلیم کے مناصب پر فائز عہدے دار اپنی ذمہ داریوں کی جواب دہی سے بے خبر یا لاتعلق ہیں۔ یہ مضمون اس بھولے ہوئے سبق کی یاد تازہ کرتا ہے۔


زاہد عمر  ، فیصل آباد

بڑی تیزی سے ہمارے قوانین اور ضابطوں کو اسلامی شریعت اور ہماری تہذیب سے کاٹنے کا عمل جاری ہے۔ عبداللطیف گنڈاپور نے خیبرپختونخوا میں زیربحث ’گھریلو تشدد بل‘ پر نہ صرف جان دار تنقید و تبصرہ کیا ہے بلکہ اسے بہتر بنانے کے لیے تجاویز اور رہنمائی بھی دی ہے۔ افسوس کہ لوگ تنقید تو کرتے ہیں، مگر راستہ نہیں بتاتے، لیکن یہ مضمون اس ادھورے طرزِعمل کی خوش گوار نفی کرتا ہے۔